سیاسی افرا تفری مسترد، کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار ریکارڈ 97 ہزار پوائنٹس کی سطح سے اوپر بند
- کھاد کے شعبے نے 1100 پوائنٹس کا اضافہ کرکے مرکزی کردار ادا کیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو ریکارڈ سازی کا سلسلہ جاری رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1782 پوائنٹس کے اضافے سے تاریخ میں پہلی بار 97 ہزار سے اوپر بند ہوا۔
حالیہ مہینوں میں خریداری کے رجحان نے کے ایس ای 100 انڈیکس ریکارڈ بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
جمعرات کے روز کاروباری سیشن کے ابتدائی گھنٹوں میں محدود فروخت دیکھی گئی اور انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 95,300.21 پوائنٹس پر آگیا۔ تاہم دن کے آخر میں خریداری کی زبردست لہر کی بدولت انڈیکس اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,781.94 پوائنٹس یا 1.87 فیصد اضافے کے ساتھ 97,328.40 پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ایک نوٹ میں کہا کہ یہ غیر معمولی کارکردگی 2024 کے آغاز کے بعد سے اب تک 55.9 فیصد اضافے اور ماہانہ بنیادوں پر 9.5 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزرز، فارماسیوٹیکل اور ریفائنری کے شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ این آر ایل، حیسکول، پی ایس او، ای ایف ای آر ٹی، ایچ بی ایل اور این بی پی سمیت کمپنیوں کے حصص میں مثبت کاروبار ہوا۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے تجزیہ کار سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی خاص طور پر فرٹیلائزر سیکٹر میں مرکوز رہی، جسے دفاعی اسٹاک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے اور ساتھ ہی یہ دہری عددی منافع کی شرح بھی پیش کرتے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں مثبت معاشی اشاریوں اور بنیادی شرح سود میں مزید کمی کے تخمینوں کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کو ہونے والے سیاسی احتجاج کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی کے باعث یہ خریداری دیکھنے میں آئی۔
انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مثبت رجحان جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ موجودہ تیزی کے اہم محرکات یعنی شرح سود میں کمی، آئی ایم ایف پروگرام کا کامیابی سے چلنا اور سیاسی استحکام برقرار ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مارکیٹ کے لیے اہم چیک پوائنٹ 24 نومبر سے شروع ہونے والا پی ٹی آئی کا احتجاج ہوگا۔
یاد رہے کہ بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 310 پوائنٹس کی کمی سے 95,546.45 پر بند ہوا۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ اور بٹ کوائن کی قدر میں ریکارڈ اضافے کے بعد جمعرات کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
اس ہفتے کے اوائل میں یوکرین میں بڑھتے تنازع کے بعد موجودہ جغرافیائی سیاسی خدشات کی وجہ سے سونے اور سرکاری بانڈز سمیت محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رحجان بڑھا ہے۔
تاہم سب کی توجہ دنیا کی سب سے قیمتی فرم اینویڈیا کی آمدنی پر ہے، جس نے سات سہ ماہیوں میں اپنی آمدنی میں سست ترین نمو کا تخمینہ لگایا تھا، جس کی وجہ سے اس کے حصص میں کمی واقع ہوئی ۔
نیسڈیک فیوچرز میں 0.47 فیصد جب کہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی آئی۔
جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک کے حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.23 فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ تائیوان کے بھاری حصص میں 0.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ جاپان کا نکی انڈیکس 0.7 فیصد گرگیا۔
امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق ایک اور اہم پیش رفت میں بھارتی گروپ اڈانی گروپ کے ارب پتی چیئرمین اور دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک گوتم اڈانی پر نیویارک میں 265 ملین ڈالر کی رشوت ستانی اسکیم میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ڈالر 8 پیسے کے اضافے کے بعد 277 روپے 96 پیسے پر بند ہوا۔
آل شیئر انڈیکس کا حجم بدھ کے روز 1,138.41 ملین سے کم ہو کر 969.91 ملین رہ گیا۔
حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 37.48 ارب روپے سے گھٹ کر 35.17 ارب روپے رہ گئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 95.56 ملین حصص کے ساتھ سرفہرست رہی۔ اس کے بعد پیس (پاک) لمیٹڈ 51.50 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور کوہ نور اسپننگ 48.26 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعرات کو 457 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 249 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 167 میں کمی جبکہ 41 میں استحکام رہا۔
Comments