امریکہ کو توانائی تنصیبات پر یوکرین کے حملوں کے بارے میں آگاہ کردیا، روس

02 اپريل 2025

روس نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ سے یوکرین کی جانب سے اس کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بارے میں شکایت کی ہے، چند گھنٹے بعد جب کیف نے اطلاع دی کہ ایک روسی حملے نے دسیوں ہزار افراد کو بجلی سے محروم کر دیا ہے۔

دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر توانائی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، حالانکہ باضابطہ معاہدہ طے نہیں پایا اور یہ واضح نہیں کہ کس فریق نے کیا وعدے کیے ہیں۔

امریکی حکام کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں کے بعد، وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یوکرین اور روس دونوں نے توانائی تنصیبات پر حملے نہ کرنے کے معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے منگل کو ایک اعلیٰ سیکیورٹی اجلاس میں یوکرین کی مبینہ ”خلاف ورزیوں“ پر تبادلہ خیال کیا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس کے بعد کہا کہ ہم نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو خلاف ورزیوں کی فہرست دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے یہ فہرست امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھی دی ہے۔

روسی وزارت دفاع نے اس سے قبل کیف پر روسی علاقے بیلگوروڈ اور جزوی طور پر ماسکو کے زیر کنٹرول یوکرینی علاقے زاپوریزیا میں روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔

یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب چند گھنٹے قبل یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیگا نے کہا کہ روسی حملے کے باعث جنوبی خیرسون علاقے میں دسیوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔

مقامی حکام نے بعد میں کہا کہ بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے۔

روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے یوکرینی بجلی گھروں اور گرڈ پر منظم فضائی حملے کیے ہیں۔

پیوٹن نے گزشتہ ماہ امریکہ اور یوکرین کی جانب سے غیر مشروط اور مکمل جنگ بندی کی مشترکہ تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

سیبیگا نے یہ بھی کہا کہ کیف اور واشنگٹن ایک معدنیات کے معاہدے پر نئی بات چیت کر رہے ہیں، جس کے تحت امریکہ کو یوکرینی قدرتی وسائل تک رسائی ملے گی اور اس کے بدلے یوکرین کو مزید مدد فراہم کی جائے گی۔

دونوں ممالک نے فروری میں یوکرین کی اسٹریٹجک طور پر اہم معدنیات کے نکالنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن وائٹ ہاؤس میں ایک براہ راست نشر ہونے والی بحث کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان کشیدگی کے باعث معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز زیلنسکی کو خبردار کیا کہ اگر کیف نے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کیا تو اسے ”بڑی مشکلات“ کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم اس تجویز کی تفصیلات دونوں فریقوں کی جانب سے ابھی تک شائع نہیں کی گئیں۔

Read Comments