وزیراعظم نے حال ہی میں غریب خاندانوں اور پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کی تعلیم تک رسائی میں کمی پر بجا طور پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 26 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ملک میں ایسے بچوں کی کل تعداد کا تقریباً 36 فیصد ہے۔ اسکول سے باہر بچوں کا اتنا بڑا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
ایسے بچوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں موجود ہے۔ ایسے 70 فیصد بچے دیہات میں رہتے ہیں اور باقی 30 فیصد قصبوں اور شہروں میں۔ یہ واضح طور پر اسکولوں تک محدود رسائی کا عکاس ہے۔ اس کے علاوہ 58 فیصد بچیاں اسکول سے باہر ہیں۔ یہاں زیادہ تر ترجیح لڑکوں کو تعلیم دلوانے کو دی جاتی ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مختلف سروے، خاص طور پر معیار زندگی اور سماجی پیمائش کے سروے گھریلو آمدنی کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیم تک رسائی کی تفریق کو نمایاں کرتے ہیں۔
بچوں کے داخلے کی شرح زیادہ آمدنی والوں میں 150فیصد سے زیادہ ہے جو کم آمدنی والوں سے دوگنا ہے، اس شرح کا انحصار پرائمری سے ہائی اسکول تک تعلیم کی سطح پر ہے۔
لہٰذا تعلیم تک رسائی کا فقدان ایک اہم عنصر ہے جو پاکستان میں نسل در نسل عدم مساوات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسکول جانے والوں بچوں کی تعداد میں اضافہ زیادہ بہتر لیبر فورس بھی فراہم کریگا۔
مرکزی مسئلہ یہ ہے کہ کیا ملک میں اسکولوں کے پھیلائو کی رفتار اسکول جانے والی عمر کے بچوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ پاکستان میں تعلیمی اعدادوشمار کا ایک شاید کم معروف ذریعہ وفاقی وزارت تعلیم میں اکیڈمی آف ایجوکیشن پلاننگ ہے۔
یہ 90 کی دہائی کے آخر سے 2020-21 کی تازہ ترین اشاعت کے ساتھ ہر سال پاکستان کے تعلیمی اعدادوشمار شائع کر رہا ہے۔ اس اشاعت میں دی گئی معلومات مؤثر طریقے سے ملک میں تعلیمی اداروں کی سالانہ مردم شماری پر مبنی ہیں۔
اکیڈمی بالترتیب حکومتی سیکٹر، پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر میں اداروں، اساتذہ اور انرولمنٹ کی تعداد کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتی ہے۔
پرائمری سے یونیورسٹی کی سطح تک پاکستان کے تعلیمی نظام کی جامع کوریج موجود ہے۔ اکیڈمی نے اسکول کی سطح پر پاکستان کے تعلیمی نظام کی ترقی کا ایک طویل المدتی سلسلہ تیار کیا ہے۔
1990-91 سے 2020-21 تک گزشتہ تین دہائیوں کے نتائج درج ذیل ہیں:
(i) 90 کی دہائی میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کی مشترکہ شرح نمو 4.3 فیصد سالانہ تھی۔ یہ ملک میں اسکول جانے والی عمر کے بچوں کی شرح نمو 2.4 فیصد سے زیادہ ہے۔
تاہم، 1999-2000 سے 2020-21 تک، اسکولوں کی تعداد میں سالانہ صرف 1.4 فیصد تک اضافہ ہواہے۔ اسکولوں کے نیٹ ورک کی توسیع کی رفتار میں کمی کے ساتھ، اساتذہ کی تعداد میں سالانہ اضافہ صرف 2.8 فیصد رہا ہے۔ درحقیقت، 2017-18 سے 2020-21 تک سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد میں 30,000 سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔
(ii) 90 کی دہائی میں اسکولوں میں اندراج کا عمل شاندار تھا۔ تینوں سطحوں کو ملا کر سالانہ ترقی کی شرح 6.4 فیصد تک زیادہ تھی۔ تاہم، اسکولوں کا پھیلائو سست تھا، جس کی شرح نمو 4 فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں، استاد اور طالب علم کے تناسب میں تیزی سے کمی آئی ہے، جس کا اثر تعلیمی معیار پر پڑا ہے۔
تعلیمی نظام تیز رفتاری سے ترقی کرنے میں ناکام رہا، خاص طور پر اسکول نیٹ ورک، اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ خالص داخلوں کی شرح کیوں مناسب طور پر نہیں بڑھی ہے اور اسکول سے باہر بچوں کی تعداد غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے۔
یو این ڈی پی کی عالمی انسانی ترقی کی 2022-23 کی رپورٹ نے پاکستان کے تعلیمی نظام کی ناکامی کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے۔ ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں اوسطاً حاصل کیے جانے والے اسکول کے سالوں کے تازہ ترین تخمینوں کا ایک موازنہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔
Actual Mean Expected Mean Years Years
ان دونوں اشاریوں میں پاکستان کی کارکردگی بہت خراب ہے۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان انسانی ترقی کے درمیانے درجے سے نچلی سطح تک گر گیا ہے اور اب افریقہ کے صحارا ممالک کے ساتھ منسلک ہے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کم از کم ہائی سکول کی سطح تک بچوں کو تعلیم دینے میں اتنی خراب کارکردگی کیوں دکھائی ہے؟ جواب کا پہلا حصہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے تعلیم کے لیے فنڈز کے مجموعی طور پر مختص کرنے کے رجحان میں مضمر ہے۔
وفاقی وزارت خزانہ کے تخمینے کے مطابق، تعلیم پر کل حکومتی اخراجات 2017-18 میں 829 ارب روپے سے بڑھ کر 2021-22 میں 1102 ارب روپے ہو گئے۔
اس سے جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر اخراجات میں 2017-18 میں 2.1 فیصد سے 2021-22 میں 1.6 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے لئے اسی طرح کی ترقی بالترتیب جی ڈی پی کا 4 فیصد اور 2.2فیصد ہیں۔
پی بی ایس نے پہلی بار جی ڈی پی میں تعلیمی شعبے، سرکاری اور نجی، کی شراکت کا تخمینہ لگایا ہے۔ یہ بھی 2017-18 میں 2.9 فیصد سے کم ہو کر 2022-23 میں جی ڈی پی کے 2.6 فیصد پر آ گیا ہے اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ نجی شعبے کی شراکت میں بہتری نہیں آئی ہے۔
کیا تعلیم پر سرکاری اخراجات میں کمی جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر کل سرکاری اخراجات میں مجموعی کمی کی عکاسی ہے یا اس کے حصہ میں کمی کا نتیجہ ہے؟ یہ بظاہر صوبائی حکومتوں کی طرف سے کم ترجیح کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ تعلیم کا حصہ کل عوامی اخراجات میں 11.6 فیصد سے کم ہو کر 10.7 فیصد رہ گیا ہے۔
اس معاملے پر وزیر اعظم کو چاروں وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کی جانب سے وسائل کو متحرک کرنے کی بھرپور کوششوں کے آغاز اور ترجیحات میں مناسب تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
پراپرٹی ٹیکس، زرعی انکم ٹیکس اور سروسز پر سیلز ٹیکس کے دائرے میں ترقی پسند اصلاحات سے ٹیکس کی پیدوار میں اضافہ کرکے پاکستان میں سکولوں کے نظام میں بڑے پیمانے پر توسیع اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد لینی چاہیے۔ اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے مدد اور ترغیب فراہم کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،