وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومت اور ایس او ایس چلڈرنز ولیجز کے درمیان مستقل تعاون کے اعتراف میں کراچی، خیرپور اور جامشورو میں اراضی فراہم کرنے کا اعلان کیا، ساتھ ہی تعلیمی انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے 437 ملین روپے کی مالی امداد کی بھی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایس او ایس چلڈرنز ولیجز کی سندھ میں خدمات کے چالیس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور تنظیم کے مشن کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جس کا مقصد صوبے کے تمام کمزور بچوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ اہم مصروفیات کے باعث تقریب میں شرکت نہ کرسکے جس کے باعث وزیر بلدیات سعید غنی جو اس تقریب میں ان کی نمائندگی کررہے تھے نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔تقریب میں ممتاز حاضرین نے شرکت کی جن میں ایس او ایس چیلڈرن ولیجز انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر ڈیریجے ورڈوفا، ایس او ایس پاکستان کے منتخب صدر شاہد حمید، ایس او ایس سندھ کے چیئرمین جاوید جببار، ایس او ایس سندھ کی سیکرٹری نرگس حمید، ایس او ایس انٹرنیشنل کے صدر کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ پیٹر سیفر، ساتھ ہی سفارتکار، کاروباری رہنماؤں، فلاحی اداروں کے نمائندوں، رضا کاروں اور ایس او ایس ویلیجز میں رہائش پذیر بچوں نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے ایس او ایس ماڈل کی انسان دوستی پر مبنی روایت اور اس کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو ایسے بچوں کو خاندان جیسا پیار اور سہارا فراہم کرتا ہے جنہیں والدین کی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ایس او ایس چلڈرن ویلیجز کا خاص انداز یہ ہے کہ ایک ہمدرد خاتون 8 سے 10 بچوں کی ماں بن کر انہیں پیار، تحفظ اور گھر جیسا ماحول فراہم کرتی ہے، جو ایک مکمل خاندان کا احساس واپس لے آتا ہے۔
یہ زندگی کی ایک نہایت تکلیف دہ حقیقت کا بے حد ہمدردانہ اور انسان دوست جواب ہے۔
مراد علی شاہ نے آسٹریا میں قائم ایس او ایس انٹرنیشنل کی عالمی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا، جس نے گزشتہ 75 برس کے دوران اس ماڈل کو کامیابی کے ساتھ 132 ممالک تک وسعت دی۔ انہوں نے سوریہ انور کو خصوصی طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا، جو ایس او ایس چلڈرن ولیجز پاکستان کی بانی اور اس تحریک کی معمار ہیں، جنہوں نے 1975 میں اس کی بنیاد رکھی۔
وزیراعلیٰ نے ایس او ایس چلڈرن ویلیجز سندھ کو 40 سالہ شاندار خدمات مکمل کرنے پر مبارکباد دی، جن کا آغاز 1985 میں کراچی میں پہلے ایس او ایس ویلیج کے قیام سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تب سے یہ تنظیم جامشورو اور خیرپور تک پھیل چکی ہے اور سیکڑوں بچوں کی زندگیاں مثبت انداز میں بدل چکی ہے۔
تنظیم کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے لانڈھی میں قائم ایس او ایس ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا ذکر کیا جو ہر سال 1200 سے زائد نوجوانوں کو 12 مختلف فنی شعبوں میں تربیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ایس او ایس اسکولوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی معیاری اور قابلِ استطاعت تعلیم کو سراہا اور نوجوانوں کو خودمختار زندگی کے لیے تیار کرنے کے لیے ’یوتھ ہومز‘ کے موثر کردار کی بھی تعریف کی۔
وزیراعلیٰ نے دردمند عطیہ دہندگان، محنتی عملے اور پرعزم رضاکاروں کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی مسلسل حمایت اور مشن کی بقاء کے لیے کی جانے والی انتھک کاوشوں پر دلی شکریہ ادا کیا۔
وزیراعلیٰ نے ایس او ایس کے ساتھ حکومت کی دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے کراچی، خیرپور اور جامشورو میں اراضی کی الاٹمنٹ اور تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے مالی معاونت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سندھ حکومت نے پرم نگر، اسلام کوٹ، تھرپارکر میں ایک نئے ایس او ایس ویلیج کے فیز-ون کے لیے 43 کروڑ 70 لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے لیے زمین وانکوانی خاندان نے اپنی سماجی فلاحی پہل کے تحت فراخدلی سے عطیہ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تھرپارکر میں پہلا ایس او ایس ویلیج ہوگا اور ایک انتہائی پسماندہ علاقے کے بچوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوگا ۔
یہ پناہ، تعلیم اور مواقع فراہم کرے گا، جو نادار بچوں کو روشن اور باوقار مستقبل کی طرف گامزن کرے گا۔
وزیراعلیٰ نے ایس او ایس مشن میں شامل تمام افراد اور تنظیموں کے لیے اپنی گہری عزت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کی کوششیں صرف زندگیوں کو بدل نہیں رہیں، بلکہ ایک زیادہ ہمدرد، مساوات پر مبنی اور پرامید معاشرہ بھی بنا رہی ہیں۔
اللہ کرے ہم سب مل کر کام کرتے رہیں تاکہ ہر بچہ، چاہے اس کے حالات جو بھی ہوں، محبت، موقع اور وقار کا حق حاصل کرے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس او ایس چلڈرن ولیجز انٹرنیشنل کے صدر ڈاکٹر ڈیریجے ورڈوفا نے تقریب کے انعقاد اور ایس او ایس چلڈرن ولیجز کی مسلسل حمایت پر وزیراعلیٰ سندھ کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر ورڈوفا نے تنظیم کی 132 سے زائد ممالک میں موجودگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایس او ایس نہ صرف ضرورت مند بچوں کو پناہ فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی تعلیم اور ہمہ جہت ترقی کو بھی یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے تمام اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کیا جو ایس او ایس کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کی شراکت کو اس عظیم مشن کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے خصوصاً سندھ حکومت کی کوششوں کی تعریف کی، جو صوبے بھر میں ایس او ایس گاؤں کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اسے ایک مثال قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت پر بھی انہیں مبارکباد دی۔
تقریب میں پریم نگر، تھرپارکر میں آئندہ ایس او ایس گاؤں کی ڈیجیٹل نقاب کشائی بھی کی گئی۔
خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر جاوید جببار اور محترمہ نرگس حامد شامل تھے۔
قبل ازیں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی جانب سے ڈاکٹر دیرجے وردوفا سے ملاقات کی۔ چیف سیکریٹری نے وزیر اعلیٰ کا خصوصی پیغام پہنچایا، جس میں انہوں نے ڈاکٹر وردوفا کی غیر معمولی خدمات کی تعریف کی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ ذاتی طور پر تقریب میں شرکت نہیں کر سکے۔ اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے ایس او ایس کے صدر کو یقین دلایا کہ مستقبل میں ان سے ملاقات کی جائے گی تاکہ سندھ میں ایس او ایس چلڈرن ولیجز کے منصوبوں کی مزید توسیع پر بات چیت کی جاسکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ حکومت کی جانب سے وفد کی میزبانی کررہے ہیں۔
ثقافتی مہمان نوازی کے طور پر، صوبائی وزیر سعید غنی نے ڈاکٹر وردوفا کو وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک روایتی اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی۔