جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی آئی ہے اور یہ 2021 میں وبا کے دوران کی سب سے کم سطح پر پہنچنے کی سمت میں بڑھ رہی ہیں کیونکہ چین نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا دیے جو کہ عالمی تجارتی جنگ میں سب سنگین ترین صورتحال ہے اور سرمایہ کاروں کو بھی تشویش میں مبتلا کررہی ہے۔
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 10 اپریل سے تمام امریکی مصنوعات پر 34 فیصد اضافی محصولات عائد کرے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے محصولات کو ایک صدی سے زائد عرصے میں بلند ترین سطح پر لے جانے کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے جوابی کارروائی کی تیاری کر لی ہے جس کی وجہ سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں گراوٹ آئی ہے۔
جمعے کو برینٹ کروڈ کے سودے 5.55 ڈالر یا 7.9 فیصد کمی کے ساتھ 64.59 ڈالر فی بیرل پر ہوئے۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے معاہدے 5.87 ڈالر یا 8.8 فیصد کی کمی سے 61.04 ڈالر پر بند ہوئے۔ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی بالترتیب 64.15 ڈالر اور 60.81 ڈالر فی بیرل پر گر گئے جو چار سال کی کم ترین سطح ہے۔
دونوں بینچ مارک دو سال سے زیادہ عرصے میں فیصد کے لحاظ سے اپنے سب سے بڑے ہفتہ وار نقصانات کی راہ پر گامزن ہیں۔
بی او کے فنانشل میں ٹریڈنگ کے سینئر نائب صدر ڈینس کسلر نے کہا کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا دو طرفہ محصولات سامنے آئیں گے اور تیل کی عالمی طلب کو دھچکا پہنچائیں گے (جس کی مارکیٹ اب قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے) یا یہ ٹرمپ ٹیم کی طرف سے ایک اور مذاکراتی حربہ ہے۔
کسلر نے مزید کہا کہ ایک بات یقینی ہے کہ غیر یقینی صورتحال اگلے چند کاروباری دنوں تک خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔
سرمایہ کاری بینک جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک عالمی معیشت کے کساد میں داخل ہونے کے امکانات 60 فیصد ہیں جو پہلے 40 فیصد تھے۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور گروپ اب مئی میں مارکیٹ میں 411،000 بیرل یومیہ (بی پی ڈی) واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو پہلے سے طے شدہ 135،000 بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔
قیمتوں پر ایک اور منفی اثر ڈالتے ہوئے، کیسپین پائپ لائن کنسورٹیم (سی پی سی) نے جمعہ کو کہا کہ روسی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ اس کے بحیرہ اسود برآمدی ٹرمینل کی سہولتوں کو معطل نہیں کیا جانا چاہیے، یہ فیصلہ قازقستان کے تیل کی پیداوار اور سی پی سی کے ذریعے سپلائی میں ممکنہ کمی کو روک سکتا ہے۔
تیل، گیس اور ریفائنڈ مصنوعات کی درآمدات کو ٹرمپ کے نئے محصولات سے استثنیٰ دیا گیا تھا لیکن پالیسیاں افراط زر، سست معاشی ترقی اور تجارتی تنازعات کو تیز کر سکتی ہیں جس سے تیل کی قیمتوں پر بوجھ پڑ سکتا ہے۔
گولڈمین ساکس کے تجزیہ کاروں نے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے دسمبر 2025 کے ہدف میں 5 ڈالر کی کمی کی، جس کے بعد یہ بالترتیب 66 اور 62 ڈالر پر آگئے۔
بینک کے تیل کے تحقیقاتی سربراہ، ڈان سٹرائیوین نے ایک نوٹ میں کہا، “ہم نے جو تیل کی قیمت کی پیش گوئی کی ہے اس میں مزید کمی کا امکان ہے، خاص طور پر 2026 کے لیے، کیونکہ کساد بازاری کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور اوپیک پلس کی سپلائی میں اضافے کا اثر بھی کچھ کم ہے۔
ایچ ایس بی سی نے ٹیرف اور اوپیک پلس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے 2025 کی عالمی تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کو 1 ملین بی پی ڈی سے کم کرکے 0.9 ملین بی پی ڈی کردیا۔