کم شرح کے باوجود مہنگائی کا دبائو برقرار

04 اپريل 2025

شہ سرخی میں مہنگائی نچلی ترین سطح پرہے— مارچ 2025 میں صرف 0.7 فیصد اضافہ، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 20.7 فیصد تھا۔ یہ دسمبر 1965 کے بعد سب سے کم سطح ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کا کوئی مطلب نہیں۔ یہ محض ایک عدد ہے۔ مہنگائی میں کمی کی رفتار گزشتہ چند سالوں میں اس کے اضافے کی رفتار سے مماثلت رکھتی ہے، اور مجموعی طور پر قیمتیں اب بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 0.7 فیصد زیادہ ہیں۔

غریب اور سکڑتے ہوئے متوسط طبقے کے لیے کوئی حقیقی ریلیف نہیں ہے، کیونکہ وہ ابھی تک قوتِ خرید میں کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما انتظار ہوگا، خاص طور پر جب معیشت کی شرحِ نمو آبادی کے اضافے سے کم ہے۔

مارچ میں مہنگائی میں کمی متوقع تھی، لیکن ماہانہ بنیادوں پر 0.9 فیصد اضافہ درحقیقت سالانہ اضافے سے زیادہ ہے— یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ زیادہ تر بلند بنیادی اثرات (بیس ایفیکٹ) کی کہانی ہے۔ مہنگائی میں کمی کا رجحان یکساں نہیں ہے: گزشتہ سال کے دوران خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں کمی ہوئی، خوراک کی مہنگائی منفی 5.1 فیصد رہی، جب کہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے اشاریے میں 2.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی مہنگائی 1.2 فیصد کم ہوئی۔

خوراک کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر قیمتوں میں گراوٹ اور گندم کی امدادی قیمت (سپورٹ پرائس) کا نہ ہونا ہے— گندم کی قیمتیں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 30 فیصد سے زائد کم ہو چکی ہیں۔ اس کے زراعتی معیشت پر سنگین اثرات ہیں، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، اور شرحِ سود میں کمی اور شہری علاقوں کی نسبتاً بہتر کارکردگی کے باوجود معیشت میں وسیع پیمانے پر بحالی کو روک رہی ہے۔

دوسری طرف، خوراک کی قیمتوں میں مارچ کے دوران گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جو زیادہ تر رمضان کے دوران مخصوص اشیاء کی سیزنل طلب کی وجہ سے تھا۔ شہری علاقوں میں ٹماٹر کی قیمت 36 فیصد، تازہ پھل 18.7 فیصد، انڈے 14.9 فیصد، چینی 11.5 فیصد اور مرغی 10.9 فیصد مہنگی ہو گئی۔ ان اضافوں کے باوجود، مارچ میں سالانہ خوراک کی مہنگائی منفی 5.1 فیصد اور مالی سال 25-2024 کے پہلے نو مہینوں میں منفی 0.9 فیصد رہی۔

شہری متوسط طبقے کے لیے، مہنگائی میں کمی اتنی زیادہ نہیں جتنا کہ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مارچ میں 9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ کئی شعبے دوہرے ہندسوں میں اضافے کے ساتھ نمایاں ہیں— تعلیم (مارچ میں 11.9 فیصد، (مالی سال 25 کے 9 ماہ میں 11.7 فیصد)، صحت مارچ میں 13.8 فیصد، (مالی سال 25 کے 9 ماہ میں میں 14.5 فیصد)، اور کپڑے و جوتے مارچ میں 13.5 فیصد،( مالی سال 25 کے 9 ماہ میں میں 15.0فیصد)۔

یہ شعبے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں کم اہمیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا اثر مجموعی مہنگائی کے اعداد و شمار پر محدود ہے۔ مثال کے طور پر، تعلیم سی پی آئی میں صرف 3.8 فیصد وزن رکھتی ہے، حالانکہ یہ ایک عام شہری نوجوان خاندان کے اخراجات میں کہیں زیادہ حصہ رکھتی ہے۔ صحت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں تعلیم اور صحت کی سہولتیں زیادہ تر نجی ہیں، ان شعبوں میں مہنگائی نوجوان آبادی کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہے۔

آئندہ مہینوں میں، بنیادی اثرات (بیس ایفیکٹ) کی وجہ سے بنیادی مہنگائی (ہیڈ لائن انفلیشن) مئی سے دوبارہ بڑھنے کی توقع ہے، اگرچہ اپریل میں یہ تقریباً ایک فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ حالیہ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی سے مہنگائی کا دباؤ کچھ حد تک کم ہونے کی توقع ہے، اور کسی بھی دوبارہ اضافے کی شدت محدود رہ سکتی ہے۔

تاہم، یہ اسٹیٹ بینک کو مانیٹری پالیسی میں نمایاں نرمی پر آمادہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ شرح سود میں پہلے ہی ایک سال سے کم عرصے میں 1,000 بیسز پوائنٹس کی کمی کی جا چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک ممکنہ طور پر دیکھو اور انتظارکرو کی پالیسی اختیار کرے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اس سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے— خاص طور پر، کیا یہ درآمدات اور کرنسی پر دباؤ کا باعث بنتا ہے؟ اسٹیٹ بینک نے حالیہ پالیسی جائزے میں توقف اختیار کیا ہے اور ممکنہ طور پر جون تک ”انتظار کرو اور دیکھو“ کی پالیسی جاری رکھے گا۔

Read Comments