امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 75 سال سے زائد پرانے عالمی تجارتی نظام کو ختم کرتے ہوئے تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 10 فیصد کا نیا بنیادی امریکی ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ ان ممالک کے لیے جو امریکی درآمدات پر زیادہ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، اس سے بھی زیادہ جوابی نرخ مقرر کیے گئے ہیں۔
یہاں نئے ٹیرف نظام کی کچھ اہم خصوصیات پر ایک نظر ہے، جیسا کہ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔
بڑے تجارتی شراکت داروں پر زیادہ ٹیرف
یہ جوابی نرخ ان پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیے گئے ہیں جن میں کرنسی میں ردوبدل، نرم ماحولیاتی اور لیبر قوانین، اور وہ ضوابط شامل ہیں جو امریکی مصنوعات کی غیر ملکی منڈیوں تک رسائی کو مشکل بناتے ہیں۔
یورپی یونین پر 20 فیصد امریکی ٹیرف عائد ہوگا جبکہ ویتنام پر 45 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد اور بھارت پر 26 فیصد ٹیرف ہوگا۔ تائیوان پر 32 فیصد اور تھائی لینڈ پر 36 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
چین، جو 2024 میں امریکہ کے ساتھ سب سے زیادہ 295 ارب ڈالر کے تجارتی اضافے والا ملک تھا، 34 فیصد کے جوابی ٹیرف کا سامنا کرے گا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، فروری میں عائد کیے گئے 20 فیصد کے اضافی ٹیرف کے ساتھ چین پر مجموعی طور پر 54 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا۔ ٹرمپ نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں چینی اشیاء پر 60 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
برطانیہ، برازیل اور سنگاپورپر جو 2024 میں امریکہ کے ساتھ تجارتی خسارے میں تھے، صرف 10 فیصد کا بنیادی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، روس اس فہرست میں شامل نہیں ہے، حالانکہ اس کا 2024 میں امریکہ کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس تھا۔
میکسیکو اور کینیڈا کیلئے چھوٹ
کینیڈا اور میکسیکو کی اشیاء فی الحال جوابی ٹیرف سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان پر پہلے ہی فینٹینائل سے متعلقہ 25 فیصد ٹیرف اور کینیڈین توانائی و پوٹاش پر 10 فیصد ٹیرف نافذ ہے۔ تاہم، جو مصنوعات امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدے (یو ایس ایم سی اے) کے مطابق ہوں گی، انہیں غیر معینہ مدت تک استثنیٰ حاصل رہے گا، جو امریکی آٹو مینوفیکچررز کے لیے خوش آئند اقدام ہے۔
دھاتیں، آٹو ٹیرف ایک مختلف چیز ہے
کچھ ٹیرف جوابی نرخوں کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔ 1962 کے ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 232 کے تحت پہلے سے 25 فیصد ٹیرف میں شامل اشیاء، جیسے گاڑیاں، آٹو پارٹس، اسٹیل اور ایلومینیم، مستثنیٰ ہوں گی۔
اس میں کاپر، لکڑی، سیمی کنڈکٹرز اور دواسازی کے شعبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جلد ہی ایک ضمیمہ جاری ہوگا جو ان دیگر اشیاء کی فہرست فراہم کرے گا جو اس استثنیٰ میں شامل ہوں گی، جیسے کہ کچھ اہم معدنیات، توانائی اور توانائی سے متعلقہ مصنوعات۔
عمل درآمد اور اختیار
10 فیصد کا بنیادی ٹیرف 5 اپریل بروز ہفتہ، صبح 12:01 (ای ڈی ٹی) پر نافذ ہوگا، جبکہ جوابی ٹیرف 9 اپریل بروز منگل، صبح 12:01 (ای ڈی ٹی) پر نافذ ہوں گے۔
ٹرمپ نے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای ای پی اے) کا استعمال کیا، جو عام طور پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا لیکن اس بار ٹیرف لگانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ کے عالمی تجارتی خسارے کو ”بڑا اور مسلسل جاری قومی ہنگامی بحران“ قرار دیا ہے، جو 2024 میں 40 فیصد اضافے کے ساتھ 1.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
چین کے چھوٹے پیکج کا استثنیٰ ختم
ٹرمپ نے ایک الگ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت چین اور ہانگ کانگ سے آنے والے 800 ڈالر سے کم مالیت کے پیکجوں پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا گیا۔ چینی ای کامرس کمپنیوں جیسے شین اور ٹیمو نے اس استثنیٰ کا فائدہ اٹھا کر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے اشیاء براہ راست صارفین کو بھیجی تھیں۔
اس چھوٹ کو ختم کرنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بتائی گئی کہ فینٹینائل کیمیکلز ان پیکجوں کے ذریعے بغیر جانچ کے امریکہ میں داخل ہو رہے تھے۔ امریکی حکومت نے پہلے اس پابندی کو مؤخر کر دیا تھا کیونکہ ایئرپورٹس پر لاکھوں پیکجوں کی اسکریننگ اور کسٹمز ڈیوٹی جمع کرنے کے لیے درکار انفراسٹرکچر موجود نہیں تھا۔
ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی سے عالمی تجارتی نظام پر بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے امریکہ میں مینوفیکچرنگ کو فروغ مل سکتا ہے لیکن ساتھ ہی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔
یورپی یونین، چین، جاپان، بھارت اور دیگر بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے یہ ایک بڑا اقدام ہے، لیکن اس کے دور رس نتائج عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔