انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.14 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر قدر 40 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 280 روپے 56 پیسے پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلےروپیہ 10 پیسے یا 0.03 فیصد کی بہتری سے 280.16 پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر میں وسیع پیمانے پر کمی آئی اور یورو مستحکم ہوا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تجارتی شراکت داروں کے خلاف توقع سے زیادہ سخت ٹیرف کا اعلان کیا، جس سے مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی اور سرمایہ کاروں نے ین اور سوئس فرانک جیسے محفوظ پناہ گاہوں کی طرف رخ کیا۔
جوابی ٹیرف کے اعلان نے مارکیٹس میں ہلچل مچادی دی جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاکز ڈوب گئے اور سرمایہ کاروں نے بانڈز اور سونے جیسے محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی طرف دوڑ لگادی۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام درآمدات پر امریکہ میں 10فیصد بنیادی ٹیرف عائد کریں گے اور کچھ بڑے تجارتی شراکت داروں پر اضافی محصولات لگائیں گے۔ یہ ٹیرف 9 اپریل سے نافذ ہوں گے جو تقریباً 60 ممالک کو ہدف بناتے نظر آتے ہیں۔
نئے محصولات نے تجارتی جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے جس کا آغاز ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی پر کیا جس سے مارکیٹ میں بے چینی پھیل گئی ہے کیونکہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ ایک مکمل تجارتی جنگ عالمی اقتصادی سست روی کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ پہلے ہی ایلومینیم، اسٹیل اور آٹو پر محصولات عائد کرچکے ہیں، ساتھ ہی چین سے آنے والی تمام اشیا پر محصولات میں بھی اضافہ کرچکے ہیں۔
آسٹریلوی ڈالر 0.4 فیصد گر کر 0.6274 ڈالر جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.12 فیصد گر کر 0.5738 ڈالر پر آگیا۔
نئے محصولات نے سرمایہ کاروں کو روایتی محفوظ پناہ گاہوں، یعنی جاپانی ین اور سوئس فرانک کی طرف دوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ین تقریباً 1فیصد مضبوط ہو کر 147.99 فی ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ سوئس فرانک بھی مضبوط ہو کر 0.87815 فی ڈالر پر آ گیا۔
ڈالر انڈیکس، جو چھ حریفوں کے مقابلے میں امریکی کرنسی کا موازنہ کرتا ہے، 103.13 پر تھا، جو اکتوبر کے وسط کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔
ڈالر انڈیکس 103.13 پر ریکارڈ کیا گیا جو کہ اکتوبر کے وسط کے بعد اس کی سب سے کم سطح ہے۔