معیشت وینٹیلیٹر پر، اعتماد کومے میں

03 اپريل 2025

پاکستان کی معیشت اس وقت وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کی طرح ہے، جو مردہ جسم سے زیادہ مستحکم تو ہو سکتا ہے، لیکن زندگی کی رمق سے خالی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے مطابق، مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو محض 1.54 فیصد رہی، جو کم از کم گزشتہ دس برسوں میں سب سے کم ترین ششماہی شرح ہے۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ حکومت اور اس کے حامی گزشتہ ایک سال سے مسلسل معاشی بحالی کے دعوے کرتے رہے ہیں۔

پی بی ایس کے جاری کردہ معاشی اعدادوشمار تشویش ناک ہیں، لیکن سب سے زیادہ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر مالی سال کے اختتام تک 3 فیصد کی متفقہ شرح نمو حاصل کرنی ہے تو دوسری ششماہی میں معیشت کو 4.46 فیصد کی رفتار سے ترقی کرنی ہوگی۔ بظاہر یہ زیادہ معلوم نہیں ہوتا، لیکن یہ پہلی ششماہی کی تین گنا رفتار ہے۔ پچھلی دہائی میں، دوسری ششماہی کی شرح نمو اوسطاً 1.35 گنا زیادہ رہی ہے، اور صرف ایک بار یہ 3 گنا سے تجاوز کر سکی ہے، وہ بھی 2021 میں جب معیشت کورونا کے بعد غیر معمولی رفتار سے بحال ہوئی تھی۔

لیکن 2025 کا مالی سال کسی معجزے کی امید نہیں رکھتا۔ پہلی ششماہی میں زرعی شعبہ جمود کا شکار رہا، صنعتی شعبہ مفلوج اور سروسز سیکٹر بے جان رہا۔ اگر کسی معجزے یا اعدادوشمار کے کرشمے کو چھوڑ کر حقیقی صورتحال دیکھی جائے تو پاکستان ایک اور کمزور معاشی سال کی طرف بڑھ رہا ہے، جسے حکومت کے ماہرینِ تشہیر خوشنما بیانات کے ذریعے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پہلے ہی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ گندم کی پیداوار 10 فیصد تک کم ہو سکتی ہے، جو دوسری ششماہی میں زرعی سرگرمیوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ شرح سود 12 فیصد کے آس پاس برقرار رہے گی، کیونکہ آئی ایم ایف مرکزی بینک سے سخت مالیاتی پالیسی کی توقع رکھتا ہے۔ ٹیکسٹائل اسپننگ اور کپڑے کی پیداوار، جو کبھی بڑی صنعتوں کے انڈیکس کی بنیاد ہوا کرتی تھیں، منفی زون میں رہیں گی اور بحالی کے آثار نہیں۔ چینی کی پیداوار بھی منفی شرح پر جانے کا امکان ہے۔ ان تمام عوامل کو دیکھ کر، پورے سال کی جی ڈی پی زیادہ سے زیادہ 2.25 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کی 2.5 فیصد شرح سے بھی کم ہوگی، اور گزشتہ 15 سالوں میں دوسری کمزور ترین شرح ہوگی، اگر 2020 (کورونا) اور 2022 (سیلاب) کے معاشی گراوٹ کے سالوں کو نکال دیا جائے۔

بڑی صنعتیں (ایل ایس ایم) بدترین بحران کا شکار ہیں۔ سات ماہ کے دوران مجموعی ترقی منفی 1.8 فیصد رہی، جو 2021 کے بعد سب سے کمزور کارکردگی ہے۔ ایل ایس ایم پچھلے 10 میں سے 8 سہ ماہیوں میں سکڑ چکی ہے۔ صنعتی شعبے کے 22 میں سے 12 ذیلی شعبے آج اس مقدار سے بھی کم پیداوار دے رہے ہیں جو وہ ایک دہائی پہلے دے رہے تھے، جب پاکستان میں صنعتی سرگرمی بہتر حالت میں تھی اور اسمارٹ فونز میں ہیڈ فون جیک ہوتے تھے۔

تیار شدہ ملبوسات (ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات کی بدولت) اور آٹو سیکٹر (کمزور بنیاد سے بہتری) کچھ امید کی کرنیں پیش کرتے ہیں، لیکن ان کی شراکت اتنی معمولی ہے کہ مجموعی اقتصادی صورتحال پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال سکتی۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ذیلی انڈیکس مسلسل 28 ماہ سے 100 پوائنٹس سے نیچے ہے۔ اگر آپ کو ایک بصری استعارہ درکار ہو، تو اسے بیڑیوں میں جکڑے ایک لنگڑے دیو کی مانند سمجھیں۔

دوسری طرف، دواسازی، پیٹرولیم مصنوعات، گھریلو برقی آلات، اور تعمیرات سے متعلق صنعتیں جمود کا شکار ہیں— یا بدتر، تنزلی کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ درست ہے کہ فروری میں صنعتی پیداواری صلاحیت میں کچھ بہتری دیکھی گئی، لیکن ایک مثبت ڈیٹا پوائنٹ کو مکمل بحالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ایک معمولی جھلک ہے، کوئی حقیقی بہتری نہیں۔

اصل مسئلہ صرف معاشی بدحالی نہیں بلکہ اعدادوشمار میں حیران کن بہتری دکھانے کی کوشش بھی ہے۔ بڑی صنعتوں کی منفی 1.9 فیصد، کان کنی منفی 5.7 فیصد، تعمیرات منفی 9.3 فیصد، اور کاٹن جننگ منفی 10.7 فیصد پر ہونے کے باوجود، یوٹیلیٹیز کے شعبے کی نمو حیران کن طور پر 4.1 فیصد رہی۔ تھوک اور پرچون کاروبار 0.4 فیصد سکڑ گیا، لیکن سروسز سیکٹر نے کسی معجزے کے تحت 2.4 فیصد کی شرح نمو حاصل کر لی، یہ الہی مداخلت ہے یا ڈیٹا جمناسٹکس؟۔

اگر مویشیوں کے شعبے میں حیرت انگیز 5.5 فیصد اور گوشت کی صنعت میں 7.4 فیصد کی غیر متوقع ترقی نہ ہوتی تو پاکستان کی اقتصادی نمو مالی سال کی پہلی ششماہی میں منفی ہو جاتی۔ اگر یہ شعبے صرف اپنی دہائی کی اوسط رفتار سے ترقی کرتے، تو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ منفی زون میں چلا جاتا۔ اس کے بجائے، پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے ایک ایسا ترقیاتی عدد پیش کیا جو مفروضوں پر مبنی مویشیوں کے معجزات اور مذبح خانوں کی غیر معمولی کارکردگی سے بھرپور تھا۔

پھر چھوٹی صںعتوں (ایس ایس ایم) کی کہانی بھی کسی دیومالائی داستان سے کم نہیں، جس کی ترقی 9.5 فیصد ریکارڈ کی گئی— جو ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب بڑی صنعتیں (ایل ایس ایم) اور تھوک و پرچون کا شعبہ شدید بحران میں ہیں، تو چھوٹی صنعتوں میں یہ غیرمعمولی اضافہ کیسے ممکن ہوا؟ یہی معاملہ لاجسٹکس (نقل و حمل اور ذخیرہ کاری) کا بھی ہے، جو اس وقت ترقی کرتی دکھائی دے رہی ہے جب مجموعی صنعتی معیشت جمود کا شکار ہے۔

اگر پی بی ایس کے دعووں پر یقین کر لیا جائے، تو پاکستان برکس ممالک سے بھی زیادہ ترقی کر چکا ہوتا اور ایشیائی ٹائیگرز کو پیچھے چھوڑ چکا ہوتا، بس مسئلہ یہ ہوا کہ بڑی فصلیں اور بڑی صنعتیں ہماری راہ میں آ گئیں۔

وہ شعبے جہاں پی بی ایس کے پاس براہِ راست ڈیٹا نہیں، جیسے لائیو اسٹاک، چھوٹی صنعتیں اور سلاٹرنگ، وہاں یہ پرانے ان پٹ آؤٹ پٹ ماڈلز اور تاریخی اوسطوں پر انحصار کرتا ہے۔ اس بار، یہ اوسط امیدوں اور خوش فہمیوں سے بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ لائیو اسٹاک کی ترقی 5.5 فیصد دکھائی گئی، جبکہ تاریخی اوسط 3 فیصد ہے۔ چھوٹی صنعتیں 9.5 فیصد بڑھی، جو گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ تاریخی اوسط 7 فیصد ہے۔ پبلک ایڈمنسٹریشن کی نمو 6.7 فیصد دکھائی گئی، جبکہ لمبے عرصے کی اوسط 3.3 فیصد ہے۔

پی بی ایس کو چاہیے کہ وہ اپنے اعدادوشمار کے ”بلیک باکس“ کو عوام کے سامنے کھولے تاکہ اصل حقائق واضح ہو سکیں۔ کیونکہ چاہے معیشت وینٹی لیٹر پر ہو، عوام کا سرکاری ڈیٹا پر اعتماد ختم نہیں ہونے دینا چاہیے۔

Read Comments