شہریوں کے معاوضے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا، لاہور ہائیکورٹ

03 اپريل 2025

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی طریقے سے شہریوں کے معاوضے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت معاوضہ وصول کرنے کا حق محض عدم ادائیگی یا تاخیر سے دعویٰ کرنے پر ختم نہیں ہوتا۔

یہ فیصلہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی درخواست پر دیا گیا، جس میں نچلی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت این ایچ اے کو غلام علی کے قانونی ورثا کو معاوضے کی رقم ادا کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ ایکٹ کے سیکشن 31 کے مطابق زمین کی قیمت ابتدائی مرحلے میں ہی ادا کی جانی چاہیے، اور کسی بھی جگہ یہ ذکر نہیں کہ عدم ادائیگی یا تاخیر سے دعویٰ کرنے پر معاوضے کا حق ختم ہو جائے گا۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ درخواست گزاروں نے زمین کے مالکان کو جزوی ادائیگی ضرور کی مگر بقیہ ادائیگی کے وعدے کرتے رہے اور وقت گزارتے رہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ عملدرآمد کی درخواست وقت کی حد سے باہر ہے اور وہ باقی رقم ادا کرنے کے پابند نہیں، تو کیا وہ موٹروے کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی زمین واپس کرنے کو تیار ہیں؟ چونکہ زمین کی واپسی ممکن نہیں، اس لیے انہیں وقت کی حد کا سہارا لینے کا حق نہیں پہنچتا۔

عدالت نے ریاستی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ تکنیکی نکات کے پیچھے چھپنے کے بجائے انصاف کے اصولوں پر عمل کریں۔ عدالت نے افسوس کا اظہار کیا کہ جس زمین پر موٹروے جیسا میگا پروجیکٹ تعمیر ہوا، اس کے مالکان کو دس سال گزرنے کے باوجود ان کا جائز حق نہیں ملا۔

عدالت نے این ایچ اے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ نچلی عدالت کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی یا بددیانتی نہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Read Comments