خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ معمولی سہ ماہی خسارے کی طرف بڑھ رہی ہیں، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر انہیں یہ محسوس ہوا کہ ماسکو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے تو وہ روسی تیل خریدنے والوں پر اضافی محصولات عائد کر سکتے ہیں۔“
جون میں برینٹ کروڈ فیوچر 30 سینٹ یا 0.4 فیصد کی کمی سے 72.46 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 33 سینٹ یا 0.5 فیصد کی کمی سے 69.03 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیا گیا۔
فرنٹ-ماہ برینٹ، جو 26 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 73.36 ڈالر پر تھا، پیر کو ختم ہو جائے گا۔ دونوں بینچ مارکس ماہ کے آخر تک معمولی کمی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دو سہ ماہیوں میں پہلی بار سہ ماہی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ناراض ہیں اور اگر انہیں محسوس ہوا کہ ماسکو یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی ان کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہا ہے تو وہ روسی تیل خریدنے والوں پر 25 فیصد سے 50 فیصد ثانوی ٹیرف عائد کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ماہ کے اندر نئے تجارتی اقدامات عائد کرسکتے ہیں۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور نے کہا کہ ہیڈلائنز اور قیمتوں میں کمی کو پڑھنے کے کچھ طریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ مارکیٹ ٹرمپ کی دھمکیوں کو نہیں مان رہی اور اس پر یقین نہیں کر رہی۔
دوسرا یہ ہے کہ اگر ٹرمپ کی دھمکیاں عمل میں آئیں تو یہ تجارتی جنگ کی طرف ایک اور قدم ہوگا، جو عالمی ترقی اور خام تیل کی مانگ پر بوجھ ڈالے گا۔
اتوار کو ٹرمپ نے ایران کو بھی دھمکی دی کہ اگر تہران اپنے ایٹمی پروگرام پر واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا تو وہ بمباری اور ثانوی ٹیرف عائد کر دیں گے۔ اس دوران، اوپیک پلس گروپ، جو اوپیک اور روس کی قیادت میں اتحادیوں پر مشتمل ہے، اپریل سے تیل کی پیداوار میں ماہانہ اضافہ کرنے کا اپنا پروگرام شروع کرنے والا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ گروپ ممکنہ طور پر مئی میں تیل کی پیداوار میں اضافہ جاری رکھے گا۔
نومورا سیکیورٹیز کے ماہر اقتصادیات یوکی تاکاشیما نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ڈبلیو ٹی آئی فی الحال 65 سے 75 ڈالر کی حد میں رہے گا کیونکہ مارکیٹ ٹرمپ کی طرف سے عائد کردہ تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہی ہے، اس کے ساتھ ہی امریکی اوراوپیک پلس کی سپلائی کی صورتحال بھی زیر غور ہے۔
تاجروں کے مطابق، سعودی عرب جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، مئی میں ایشیائی خریداروں کے لیے اپنے خام تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر لے آ سکتا ہے، کیونکہ اس مہینے میں بینچ مارک قیمتوں میں زبردست کمی آئی ہے۔
دوسری طرف، ایران نے اپنے ہلکے خام تیل کی قیمت کو ایشیائی خریداروں کے لیے اپریل کے لیے عمان/دبئی اوسط سے 3.95 ڈالر فی بیرل کم کر دیا ہے۔