پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان ہفتے کے روز اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلامو فوبیا پر مبنی بیانیہ، نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں، مساجد اور مقدس علامتوں پر حملے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان، جو عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے خلاف جدوجہد میں ایک نمایاں آواز ہے، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کی تاریخی قرارداد منظور کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے بعد پاکستان نے ایک اور قرارداد منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں تمام ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسلامو فوبیا کو جرم قرار دینے کے لیے قوانین نافذ کریں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ایک خصوصی ایلچی مقرر کرنے کی درخواست کی۔
اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امتیازی قوانین میں اصلاحات کرے، نفرت انگیز تقاریر کا سدباب کرے اور حقیقی بین المذاہب مکالمے کو فروغ دے تاکہ باہمی احترام کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور نفرت پھیلانے والوں کو جوابدہ بناتے ہوئے ایسا مواد ہٹانا چاہیے جو اسلامو فوبیا کو تقویت دیتا ہے۔
وزیر خارجہ نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم تعصبات کو ختم کرنے اور زیادہ جامع اور ہمدردانہ رویہ اپنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس دن کو ایک مضبوط پیغام کے طور پر لینا چاہیے کہ تمام مذاہب کے ماننے والے امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں، جہاں خوف کے بجائے سمجھ بوجھ اور باہمی احترام کو فروغ حاصل ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025