پی اے سی نے پاکستان اسٹیل ملز کی اراضی پر قبضے کا نوٹس لے لیا

20 فروری 2025

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے اپنے حالیہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔

ان فیصلوں میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی کی تشکیل، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سی ای او کو کی گئی غیر مجاز ادائیگیوں کی تحقیقات، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی زمین کے واجبات کا معاملہ ایک ماہ میں حل نہ ہونے کی صورت میں ایف آئی اے کو بھیجنے، کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر قبضے کے کیس کو نیب کے حوالے کرنے اور دو ماہ میں رپورٹ طلب کرنے، اور پاکستان اسٹیل ملز کے بجلی کے بل میں ہونے والے نقصان کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔

کمیٹی نے سرکاری اداروں میں مالی بے ضابطگیوں اور خامیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے سخت اقدامات کی تجویز دی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس جنید اکبر خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزارت صنعت و پیداوار، پاکستان اسٹیل ملز اور این ٹی ڈی سی کے مالی معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کئی اہم آڈٹ پیراز پر بحث کی گئی اور کمیٹی نے متعدد کیسز مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اور نیب کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کو دی گئی 50.4 ارب روپے کی گرانٹ سے متعلق ایک آڈٹ پیرا زیر بحث آیا، جس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ گرانٹ کے اخراجات میں 40 ملین روپے کا فرق پایا گیا۔ اس پر کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ای ڈی بی کے سی ای او کو وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر ادائیگیاں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق، دو سال میں ای ڈی بی کے سی ای او کو 950 ملین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ ان تنخواہوں اور مراعات کی منظوری وزیراعظم سے نہیں لی گئی ۔

اس پر کمیٹی نے آڈٹ پیرا ملتوی کر دیا اور وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ اگلے اجلاس میں متعلقہ قواعد و ضوابط پیش کریں۔

اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کی اراضی کی واجبات سے متعلق 2.82 ارب روپے کے آڈٹ پیرا پر بھی غور کیا گیا۔

آڈٹ حکام نے آگاہ کیا کہ پاکستان اسٹیل ملز اور این ٹی ڈی سی کے درمیان مالی سال 2022-23 میں معاہدے کے تحت 75.5 ایکڑ اراضی دی گئی تھی؛تاہم این ٹی ڈی سی نے بالترتیب 3 اور 5 سال کیلئے رائٹ آف وے چارجز، لیز منی اور گراؤنڈ کرایہ ادا نہیں کیا۔

اس پر کمیٹی کے رکن بلال احمد خان نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے والد کے مال کو اپنی مرضی سے خرچ کرنے جیسا ہے جبکہ رکن جنید انور نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے سے کرائی جائے۔

کمیٹی کے چیئرمین نے اس آڈٹ پیرا کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی اور وزارت صنعت و پیداوار کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو حل کر کے ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے؛ ورنہ یہ کیس ایف آئی اے کو بھیج دیا جائے گا۔

میٹنگ میں مزید یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے بجلی کے بل کی ادائیگی کے باعث قومی خزانے کو ایک ارب روپے کا نقصان ہوا۔

آڈٹ حکام کے مطابق، پاکستان اسٹیل ملز 2015 سے بند ہیں، لیکن جولائی 2022 سے جون 2023 تک مہنگی بجلی اسٹیل ملز کو فراہم کی گئی۔ مزید یہ کہ اسٹیل ملز کی انتظامیہ نے صنعتی اور تجارتی میٹرز کو رہائشی میٹرز میں تبدیل نہیں کیا جس کی وجہ سے غیر ضروری اخراجات ہوئے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری نے وضاحت دی کہ اسٹیل ملز کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں گیس کی فراہمی، سبسڈی اور تنخواہوں میں بچت شامل ہیں۔ تاہم، کمیٹی کے چیئرمین نے سختی سے ہدایت کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور نااہلی اور ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ایک رپورٹ پیش کی جائے۔

اجلاس میں گلشن حدید کالونی کراچی میں 176 پلاٹوں کے قبضے کے باعث 7.5 ملین روپے سے زائد کے نقصان کے آڈٹ پیرا پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان اسٹیل ملز کے حکام نے انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے چار افراد کو 56 ایکڑ اراضی دی تھی۔

اس پر چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ “کیا یہ معاملہ نیب کی نظر میں نہیں آیا یا نیب سیاست دانوں سے آزاد ہو چکا ہے؟ اس پر میٹنگ میں ہنسی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

کمیٹی کے رکن سید امین الحق نے کہا کہ یہ کارروائی بہت منظم انداز میں کی گئی جبکہ سینیٹر افنان اللہ خان نے مطالبہ کیا کہ موجودہ قابضین کی لیز معطل کی جائے۔

پی اے سی کے دیگر ارکان نے بھی کہا کہ جو لوگ ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔

چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا ہم سی ای او کی تنخواہ روکنے کا حکم جاری کر سکتے ہیں؟

کمیٹی نے پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر قبضے کا معاملہ نیب کو بھجوانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نیب سے دو ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Read Comments