حبکو نے مذاکرات کے ذریعے معاہدے پر عملدرآمد شروع کردیا

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2024

پاکستان کی سب سے بڑی انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی) حب پاور کمپنی لمیٹڈ (حبکو) نے حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کے معاہدے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ لسٹڈ کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو اپنے نوٹس کے ذریعے اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے دفتر کے تحت تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کی درخواست پرحبکو نے قومی مفاد میں اپنے 1292 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے سے متعلق معاہدوں کے جلد اختتام کے حوالے سے ایک مذاکراتی تصفیہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو یکم اکتوبر 2024 کو اختتام پذیر ہوں گے، جبکہ یہ معاہدے مارچ 2027 میں ختم ہونے والے تھے۔ یہ منصوبہ موزہ کند، پوسٹ آفس گڈانی، ضلع لسبیلہ، بلوچستان میں واقع ہے۔

حبکو نے اس بات پر زور دیا کہ پاور پلانٹ نے 1996 میں کمرشل آپریشنز ڈیٹ (سی او ڈی ) حاصل کی تھی۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق، حکومت پاکستان اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے جی) نے کمپنی کے واجبات 1 اکتوبر 2024 تک ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بورڈ نے تصفیے کی شرائط کو منظور کر لیا ہے اور اس کے مطابق ایک حتمی معاہدے پر عملدرآمد کی اجازت دی ہے

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت مالی چیلنجز سے نمٹنے اور بجلی کے شعبے کو ہموار کرنے کے لئے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ یا بات چیت ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

اس سے قبل آئی پی پی کی ایک اور لسٹڈ لال پیر پاور لمیٹڈ نے بتایا کہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز (بی او ڈی) آنے والے دنوں میں حکومت کے ساتھ کمپنی کے معاہدوں کو جلد ختم کرنے کی مجوزہ شرائط کو منظوری کے لئے شیئر ہولڈرز کے سامنے رکھیں گے۔

بزنس ریکارڈر نے منگل کو خبر دی کہ وفاقی حکومت کے مختلف آئی پی پیز پر کام کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ چار آئی پی پیز ، میسرز اٹلس پاور ، میسرز صبا پاور ، میسرز روس پاور اور لال پیر پاور نے معاہدوں کو قبل از وقت ختم کرنے کا آغاز کیا ہے جب کہ حبکو کا منگل یا بدھ کو اس پر عمل کرنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر سے متعلق ٹاسک فورس جس میں دو سینئر سیکیورٹی افسران کے علاوہ بورڈ میں وکلاء اور ایس ای سی پی، پی پی آئی بی، سی پی پی اے جی اور نیپرا کے ماہرین بھی شامل ہیں، نے 1994، 1994 اور 2002 سے قبل کی پاور جنریشن پالیسیوں کے تحت قائم آئی پی پیز کو دوبارہ مذاکرات کے لیے قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بیان میں بتایا گیا کہ تین آئی پی پیز حبکو پاور، روس پاور اور لال پیر پاور نے آخر تک لڑائی لڑی لیکن بالآخر بجلی کی خریداری کے معاہدوں (پی پی اے) کو قبل از وقت ختم کرنے پر نرمی کا مظاہرہ کیا۔

تاہم حبکو اور حکومتی ٹیم کے درمیان ایک ارب روپے کی رقم پر اختلافات ہیں۔

Read Comments