یوریا کھاد : مالی مشکلات کے باعث وزارت خزانہ کا سبسڈی بڑھانے سے انکار

14 مئ 2024

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے مالی مشکلات کی وجہ سے یوریا کھاد پر سبسڈی دینے سے انکار کردیا کیونکہ ایس این جی پی ایل پر مبنی دو فرٹیلائزر پلانٹس کو رعایتی نرخوں پر آر ایل این جی کی فراہمی کے نتیجے میں ماہانہ 3.8 ارب روپے کی سبسڈی ملے گی۔

واضح رہے کہ 7 مئی کو وزارت صنعت و پیداوار (ایم او آئی اینڈ پی) نے ایس این جی پی ایل پر مبنی یوریا کھاد کے دو پلانٹس کو سبسڈی گیس کی فراہمی میں مزید 6 ماہ کی توسیع کی تجویز پیش کی تھی۔ تجویز منظور ہونے کے بعد دونوں پلانٹس کو 30 ستمبر 2024 تک سبسڈی گیس ملنے کا امکان تھا۔

اس حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق دو فرٹیلائزر پلانٹس کو سبسڈی والے نرخوں پر آر ایل این جی کی فراہمی سے ماہانہ 3.8 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنے پڑتا۔

خیال رہے کہ ایف آر سی نے مندرجہ ذیل سفارشات کی تھی: (i) وزارت ایس این جی پی ایل پر مبنی پلانٹس کے آپریشنز میں 31 مارچ 2024 سے آگے توسیع کے لیے سمری بھیجے گی؛ (ii) پیٹرولیم ڈویژن یوریا/ڈی اے پی کھاد کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف بی ایل) کو زیادہ سے زیادہ گیس پریشرفراہم کرنے کو یقینی بنائے گا۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 7 فروری 2024 کے اپنے فیصلے میں ایس این جی پی ایل پر مبنی دو پلانٹس کو ایک ہزار 239 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے گیس ریٹ پر چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

Read Comments