<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 22:58:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 22:58:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران حملے کی صورت میں مزید سخت جوابی کارروائی کیلئے تیار، سفارتی کوششوں کی کامیابی کے امکانات کم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291984/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران امریکا کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جانے کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع جوابی کارروائی کی تیاری کررہا ہے، تاہم تہران سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین سینئر ایرانی حکام اور مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نئے امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ مضبوط ردعمل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی حکام ممکنہ اہداف کا دائرہ امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات سے بڑھا کر ان ممالک تک کرنے پر غور کررہے ہیں جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ سے باہر اہداف بھی زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے گزشتہ ہفتے نیویارک سے واپسی کے بعد جوابی کارروائی کے دائرہ کار اور وقت پر غور تیز کردیا گیا ہے۔ تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے دوسری جانب مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی، جس میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے، لڑائی روکنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، کم از کم 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر پابندیاں ختم کرنے کی شرائط شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا لیکن ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے منگل کو قطر کے ذریعے اپنا جواب تہران کو بھجوا دیا، جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ جوہری مذاکرات اس کی سات شرائط پوری ہونے کے بعد ہی شروع ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگ اور امریکی ناکہ بندی ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کو داخلی بے چینی اور احتجاج کے دوبارہ ابھرنے کا بھی خدشہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنگ کے دوران حکومت نے اختلاف رائے کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران امریکا کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جانے کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع جوابی کارروائی کی تیاری کررہا ہے، تاہم تہران سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔</strong></p>
<p>تین سینئر ایرانی حکام اور مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نئے امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ مضبوط ردعمل دیا جائے۔</p>
<p>فوجی حکام ممکنہ اہداف کا دائرہ امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات سے بڑھا کر ان ممالک تک کرنے پر غور کررہے ہیں جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ سے باہر اہداف بھی زیر غور ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے گزشتہ ہفتے نیویارک سے واپسی کے بعد جوابی کارروائی کے دائرہ کار اور وقت پر غور تیز کردیا گیا ہے۔ تاہم کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p>ایران نے دوسری جانب مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی، جس میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے، لڑائی روکنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، کم از کم 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر پابندیاں ختم کرنے کی شرائط شامل تھیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا لیکن ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا نے منگل کو قطر کے ذریعے اپنا جواب تہران کو بھجوا دیا، جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔</p>
<p>ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ جوہری مذاکرات اس کی سات شرائط پوری ہونے کے بعد ہی شروع ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق طویل جنگ اور امریکی ناکہ بندی ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کو داخلی بے چینی اور احتجاج کے دوبارہ ابھرنے کا بھی خدشہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنگ کے دوران حکومت نے اختلاف رائے کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291984</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 17:58:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011729465abcb6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011729465abcb6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کا فلائی دبئی طیارے پر حملے کی مکمل تحقیقات کا عزم، محرکات کا علم نہ ہوسکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل جانے والی مسافر پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے، تاہم ابتدائی جائزے کے مطابق طیارے کے شریک پائلٹ نے کپتان پر حملے میں اکیلے کارروائی کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق بدھ کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ شریک پائلٹ نے کپتان کو چاقو مار دیا اور طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی۔ زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد مسافروں نے حملہ آور کو قابو کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے میں موجود متبادل عملے نے کنٹرول سنبھالتے ہوئے اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا۔پرواز میں 170 سے زائد افراد سوار تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور سے سعودی عرب میں تفتیش کی جارہی ہے اور امکان ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں شریک پائلٹ کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیل کے متحدہ عرب امارات میں سفیر یوسی شیلی نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے اور واقعے کا محرک ابھی طے نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرواز کے دوران طیارہ سعودی عرب کی حدود میں تقریباً 30 سیکنڈ میں 14 ہزار فٹ نیچے آیا، تاہم عملے اور مسافروں کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل تحقیقات میں ممکنہ طور پر حصہ لے گا۔ ایرانی مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، تاکہ اس کے محرکات، ممکنہ دہشت گردی، پیشگی منصوبہ بندی یا کسی بیرونی ہدایت کا تعین کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل جانے والی مسافر پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے، تاہم ابتدائی جائزے کے مطابق طیارے کے شریک پائلٹ نے کپتان پر حملے میں اکیلے کارروائی کی۔</strong></p>
<p>اطلاعات کے مطابق بدھ کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ شریک پائلٹ نے کپتان کو چاقو مار دیا اور طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی۔ زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد مسافروں نے حملہ آور کو قابو کرلیا۔</p>
<p>طیارے میں موجود متبادل عملے نے کنٹرول سنبھالتے ہوئے اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا۔پرواز میں 170 سے زائد افراد سوار تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور سے سعودی عرب میں تفتیش کی جارہی ہے اور امکان ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا۔</p>
<p>دو اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں شریک پائلٹ کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیل کے متحدہ عرب امارات میں سفیر یوسی شیلی نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے اور واقعے کا محرک ابھی طے نہیں ہوا۔</p>
<p>پرواز کے دوران طیارہ سعودی عرب کی حدود میں تقریباً 30 سیکنڈ میں 14 ہزار فٹ نیچے آیا، تاہم عملے اور مسافروں کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔</p>
<p>نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل تحقیقات میں ممکنہ طور پر حصہ لے گا۔ ایرانی مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، تاکہ اس کے محرکات، ممکنہ دہشت گردی، پیشگی منصوبہ بندی یا کسی بیرونی ہدایت کا تعین کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291987</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 19:07:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0119040969d187a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0119040969d187a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کا فرانس اور جرمنی سے ڈیزل ذخائر کم کرنے کا مطالبہ، برآمدی پابندی کا بھی انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291988/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سے ہنگامی ڈیزل ذخائر میں کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے، بصورت دیگر امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمد پر ممکنہ پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ بات مذاکرات سے باخبر تین ذرائع نے بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ڈیزل برآمدات پر ممکنہ پابندی پر غور کے باعث یورپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک یورپی یونین کے عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی کمیشن، جرمنی، فرانس، اٹلی، آئرلینڈ اور برطانیہ نے جمعرات کو ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی ممکنہ ضرورت پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کو خاص طور پر فرانس اور جرمنی سے شکایت ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہنگامی تیل اور پٹرولیم ذخائر جاری کرنے کے سابقہ وعدوں پر مکمل عمل نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’’امریکا کے ساتھ تعاون کرنا یورپ کے بہترین مفاد میں ہے، تاکہ ریفائن شدہ مصنوعات کی فراہمی بڑھانے اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاسکیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی دارالحکومت میں موجود ایک دوسرے ذریعے کے مطابق امریکا نے یورپی یونین سے آئندہ چھ ماہ کے دوران 12 کروڑ بیرل ڈیزل جاری کرنے کو کہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سے ہنگامی ڈیزل ذخائر میں کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے، بصورت دیگر امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمد پر ممکنہ پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ بات مذاکرات سے باخبر تین ذرائع نے بتائی۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ڈیزل برآمدات پر ممکنہ پابندی پر غور کے باعث یورپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>ایک یورپی یونین کے عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی کمیشن، جرمنی، فرانس، اٹلی، آئرلینڈ اور برطانیہ نے جمعرات کو ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی ممکنہ ضرورت پر بات چیت کی۔</p>
<p>امریکی حکام کو خاص طور پر فرانس اور جرمنی سے شکایت ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہنگامی تیل اور پٹرولیم ذخائر جاری کرنے کے سابقہ وعدوں پر مکمل عمل نہیں کیا۔</p>
<p>ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’’امریکا کے ساتھ تعاون کرنا یورپ کے بہترین مفاد میں ہے، تاکہ ریفائن شدہ مصنوعات کی فراہمی بڑھانے اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جاسکیں۔‘‘</p>
<p>یورپی دارالحکومت میں موجود ایک دوسرے ذریعے کے مطابق امریکا نے یورپی یونین سے آئندہ چھ ماہ کے دوران 12 کروڑ بیرل ڈیزل جاری کرنے کو کہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291988</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 19:21:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011915139e4898e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011915139e4898e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہمالیہ میں کوہ پیماؤں کے کیمپ کی تیاری کے دوران برفانی تودہ گرنے سے 15 نیپالی کارکن جاں بحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291990/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وسطی نیپال میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے پہاڑی کیمپ تیار کرنے والے کم از کم 15 نیپالی کارکن برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام کے مطابق رواں ماہ ختم ہونے والے موسم خزاں کے کوہ پیمائی سیزن کا یہ سب سے ہلاکت خیز واقعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے آخر میں شمالی ضلع منانگ میں 7,126 میٹر بلند ہملنگ ہمال کے بیس کیمپ پر برفانی تودہ گر گیا، جہاں نیپالی کارکن خیمے نصب کرنے اور رسیاں باندھنے میں مصروف تھے۔ ایک کارکن تاحال لاپتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے صدر تل سنگھ گرونگ کے مطابق ریسکیو اہلکار اب تک جائے وقوعہ سے 15 لاشیں نکال چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو برف تلے سے 8 لاشیں نکالی گئیں جبکہ 7 لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں برآمد ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرونگ نے رائٹرز کو بتایا کہ آج ملنے والی لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق لاپتا کارکن کے زندہ ملنے کے امکانات کم ہیں اور ریسکیو آپریشن جلد ختم کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برفانی تودہ گرنے کے وقت غیر ملکی کوہ پیما جائے وقوعہ تک نہیں پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وسطی نیپال میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کے لیے پہاڑی کیمپ تیار کرنے والے کم از کم 15 نیپالی کارکن برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔</strong></p>
<p>ریسکیو حکام کے مطابق رواں ماہ ختم ہونے والے موسم خزاں کے کوہ پیمائی سیزن کا یہ سب سے ہلاکت خیز واقعہ ہے۔</p>
<p>ہفتے کے آخر میں شمالی ضلع منانگ میں 7,126 میٹر بلند ہملنگ ہمال کے بیس کیمپ پر برفانی تودہ گر گیا، جہاں نیپالی کارکن خیمے نصب کرنے اور رسیاں باندھنے میں مصروف تھے۔ ایک کارکن تاحال لاپتا ہے۔</p>
<p>نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے صدر تل سنگھ گرونگ کے مطابق ریسکیو اہلکار اب تک جائے وقوعہ سے 15 لاشیں نکال چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جمعرات کو برف تلے سے 8 لاشیں نکالی گئیں جبکہ 7 لاشیں رواں ہفتے کے آغاز میں برآمد ہوئی تھیں۔</p>
<p>گرونگ نے رائٹرز کو بتایا کہ آج ملنے والی لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق لاپتا کارکن کے زندہ ملنے کے امکانات کم ہیں اور ریسکیو آپریشن جلد ختم کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>برفانی تودہ گرنے کے وقت غیر ملکی کوہ پیما جائے وقوعہ تک نہیں پہنچے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291990</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 19:36:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01192315a06406a.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="713">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01192315a06406a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلائی دبئی پرواز کو حادثے سے بچانے والے بھارتی پائلٹ ہیرو بن گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو حادثے سے بچانے پر ہیرو قرار دیے جانے والے بھارتی پائلٹ اسمت مچھھر کیلئے ہوا بازی کبھی بچپن کا خواب نہیں تھی۔ ان کی توجہ خاندان کے ٹیکسٹائل کاروبار کو سنبھالنے پر تھی، تاہم 19 سال کی عمر میں ہوا بازی سے دلچسپی پیدا ہوئی، جس پر ان کی والدہ بھی خوفزدہ ہوگئی تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کیپٹن اسمت مچھھر ایک ہیرو ہیں۔ ان کے مطابق شدید خطرے اور زخمی ہونے کے باوجود پائلٹ نے دوسروں کی جانیں بچانے کیلئے غیر معمولی حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی انہیں حقیقی ہیرو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام کے مطابق مچھھر اس وقت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں بدھ کو پرواز کا رخ موڑا گیا تھا۔ طیارے میں 174 افراد سوار تھے اور مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے دوران پرواز مچھھر پر حملہ کرکے طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ممبئی سے تعلق رکھنے والے اسمت خون میں لت پت کاک پٹ کے فرش پر گر گئے تھے، تاہم انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کا نظام فعال کردیا، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے شریک پائلٹ پر قابو پالیا۔ دو فلائی دبئی پائلٹس، جو بطور مسافر سفر کررہے تھے، نے طیارہ بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 15 سالہ کیریئر میں 9,750 گھنٹے پرواز کا تجربہ رکھنے والے اسمت نے اسپائس جیٹ میں 11 سال کام کیا اور 2022 میں فلائی دبئی سے وابستہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسمت کے مطابق وہ طیارے سے باہر نکلنے کے بعد ہوا بازی پر بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وردی پہن کر وہ صرف اپنا کام مکمل کرنے پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ کاک پٹ سے باہر آکر ان کیلئے خاندان اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اہم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو حادثے سے بچانے پر ہیرو قرار دیے جانے والے بھارتی پائلٹ اسمت مچھھر کیلئے ہوا بازی کبھی بچپن کا خواب نہیں تھی۔ ان کی توجہ خاندان کے ٹیکسٹائل کاروبار کو سنبھالنے پر تھی، تاہم 19 سال کی عمر میں ہوا بازی سے دلچسپی پیدا ہوئی، جس پر ان کی والدہ بھی خوفزدہ ہوگئی تھیں۔</strong></p>
<p>بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کیپٹن اسمت مچھھر ایک ہیرو ہیں۔ ان کے مطابق شدید خطرے اور زخمی ہونے کے باوجود پائلٹ نے دوسروں کی جانیں بچانے کیلئے غیر معمولی حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی انہیں حقیقی ہیرو قرار دیا۔</p>
<p>اسرائیلی حکام کے مطابق مچھھر اس وقت سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں بدھ کو پرواز کا رخ موڑا گیا تھا۔ طیارے میں 174 افراد سوار تھے اور مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے دوران پرواز مچھھر پر حملہ کرکے طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>حکام کے مطابق ممبئی سے تعلق رکھنے والے اسمت خون میں لت پت کاک پٹ کے فرش پر گر گئے تھے، تاہم انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کا نظام فعال کردیا، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے شریک پائلٹ پر قابو پالیا۔ دو فلائی دبئی پائلٹس، جو بطور مسافر سفر کررہے تھے، نے طیارہ بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔</p>
<p>تقریباً 15 سالہ کیریئر میں 9,750 گھنٹے پرواز کا تجربہ رکھنے والے اسمت نے اسپائس جیٹ میں 11 سال کام کیا اور 2022 میں فلائی دبئی سے وابستہ ہوئے۔</p>
<p>اسمت کے مطابق وہ طیارے سے باہر نکلنے کے بعد ہوا بازی پر بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وردی پہن کر وہ صرف اپنا کام مکمل کرنے پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ کاک پٹ سے باہر آکر ان کیلئے خاندان اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنا اہم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291968</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:07:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01140420999ca6b.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01140420999ca6b.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلائی دبئی طیارہ تباہ کرنے کی ناکام کوشش، اسرائیل معاملے کی تہہ تک پہنچے گا، نیتن یاہو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو کہا ہے کہ اسرائیل دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے شریک پائلٹ کے بارے میں تحقیقات کی تہہ تک پہنچے گا اور ممکنہ طور پر تحقیقات میں بھی حصہ لے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوکس نیوز کے پروگرام ہینٹی میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے گا کہ حملہ آور کے کوئی ساتھی تھے یا نہیں اور آیا ایران اس واقعے کے پیچھے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہت جلد حقائق سامنے آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام کے مطابق پرواز ایف زیڈ 1073 میں شریک پائلٹ کی جانب سے طیارہ تباہ کرنے کی مبینہ کوشش کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور پائلٹ اس وقت سعودی عرب میں زیر تفتیش ہے اور ممکنہ طور پر اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا، جہاں سے وہ پرواز پر سوار ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے مسافروں اور عملے نے شریک پائلٹ کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی۔ واقعے کے دوران شریک پائلٹ نے طیارے کے پائلٹ کو چاقو مارا، جس کے بعد طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسافروں اور عملے نے کاک پٹ میں داخل ہوکر شریک پائلٹ کو قابو کیا، جبکہ پرواز میں موجود فلائی دبئی کے دو دیگر پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلائی دبئی نے کہا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات تاحال معلوم نہیں اور قبل از وقت قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو کہا ہے کہ اسرائیل دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے شریک پائلٹ کے بارے میں تحقیقات کی تہہ تک پہنچے گا اور ممکنہ طور پر تحقیقات میں بھی حصہ لے گا۔</strong></p>
<p>فوکس نیوز کے پروگرام ہینٹی میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے گا کہ حملہ آور کے کوئی ساتھی تھے یا نہیں اور آیا ایران اس واقعے کے پیچھے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بہت جلد حقائق سامنے آسکتے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی حکام کے مطابق پرواز ایف زیڈ 1073 میں شریک پائلٹ کی جانب سے طیارہ تباہ کرنے کی مبینہ کوشش کے محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور پائلٹ اس وقت سعودی عرب میں زیر تفتیش ہے اور ممکنہ طور پر اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا، جہاں سے وہ پرواز پر سوار ہوا تھا۔</p>
<p>حکام کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے مسافروں اور عملے نے شریک پائلٹ کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی۔ واقعے کے دوران شریک پائلٹ نے طیارے کے پائلٹ کو چاقو مارا، جس کے بعد طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے چلا گیا۔</p>
<p>مسافروں اور عملے نے کاک پٹ میں داخل ہوکر شریک پائلٹ کو قابو کیا، جبکہ پرواز میں موجود فلائی دبئی کے دو دیگر پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا۔</p>
<p>فلائی دبئی نے کہا ہے کہ واقعے کی اصل وجوہات تاحال معلوم نہیں اور قبل از وقت قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291945</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:36:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/010934249851704.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/010934249851704.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی فضائی حملوں میں کیف، اوڈیسا میں 2 افراد زخمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291970/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی فضائی حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک شخص زخمی ہوگیا جبکہ بحیرہ اسود کی بندرگاہی شہر اوڈیسا میں بھی ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ یوکرین کی ہنگامی خدمات اور اوڈیسا شہر کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو ٹیلی گرام پیغام رسانی کی ایپ پر بتایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کی انتظامیہ کے سربراہ سرہی لیساک نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اوڈیسا میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ روس یوکرین کی برآمدی آمدنی کو روکنے کی کوشش کے تحت اوڈیسا پر اکثر حملے کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روسی فضائی حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں ایک شخص زخمی ہوگیا جبکہ بحیرہ اسود کی بندرگاہی شہر اوڈیسا میں بھی ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ یوکرین کی ہنگامی خدمات اور اوڈیسا شہر کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو ٹیلی گرام پیغام رسانی کی ایپ پر بتایا۔</strong></p>
<p>شہر کی انتظامیہ کے سربراہ سرہی لیساک نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اوڈیسا میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ روس یوکرین کی برآمدی آمدنی کو روکنے کی کوشش کے تحت اوڈیسا پر اکثر حملے کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291970</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:11:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0114102804f990e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0114102804f990e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی کوریا کے صدر لی کی شمالی کوریا سے مذاکرات بحال کرنے کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291971/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جمعرات کو شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اعتماد کی بحالی اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں تعاون کرے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب بارودی سرنگ کے واقعے پر دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کی فوج اور اقوام متحدہ کی کمان نے اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے یومِ مسلح افواج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے لی میونگ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ شمالی کوریا طویل تعطل کے بعد اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی بحالی کے راستے پر ساتھ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دونوں کوریاؤں کے درمیان فوجی کشیدگی کم کرنے کیلئے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے غیر فوجی علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہوئے تھے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیول پر نتائج گھڑنے کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لی میونگ نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا 2030 کی دہائی کے وسط تک جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بنانے اور میزائل دفاعی صلاحیتیں جدید بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جمعرات کو شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ اعتماد کی بحالی اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں تعاون کرے۔ ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب بارودی سرنگ کے واقعے پر دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کی فوج اور اقوام متحدہ کی کمان نے اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔</strong></p>
<p>جنوبی کوریا کے یومِ مسلح افواج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے لی میونگ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ شمالی کوریا طویل تعطل کے بعد اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی بحالی کے راستے پر ساتھ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دونوں کوریاؤں کے درمیان فوجی کشیدگی کم کرنے کیلئے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے غیر فوجی علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہوئے تھے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیول پر نتائج گھڑنے کا الزام عائد کیا تھا۔</p>
<p>لی میونگ نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا 2030 کی دہائی کے وسط تک جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بنانے اور میزائل دفاعی صلاحیتیں جدید بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291971</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:16:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01141400bde6551.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01141400bde6551.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ تحلیل، نومبر کے سخت مقابلے والے انتخابات کیلئے مہم شروع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291975/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ جمعرات کو تحلیل کردی گئی، جس کے ساتھ ہی اگلے ماہ ہونے والے قومی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ انتخابات میں حکمران سینٹر رائٹ اتحاد اور لیبر پارٹی کی قیادت میں بائیں بازو کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ کا آخری اجلاس 23 ستمبر کو ہوا تھا، جبکہ عام انتخابات 7 نومبر کو ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی، معاشی انتظام اور عوامی خدمات کو مرکزی موضوعات بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے جاری ہونے والے ون نیوز ویریان کے سروے کے مطابق لیبر کی قیادت میں بائیں بازو کا ممکنہ اتحاد 65 نشستیں حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتا ہے، جبکہ موجودہ نیشنل، ایکٹ اور نیوزی لینڈ فرسٹ کے اتحاد کو 59 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ میں جرمن طرز کے مخلوط متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کے باعث گزشتہ تین دہائیوں سے اتحادی حکومتیں معمول بن چکی ہیں، جس سے چھوٹی جماعتوں کو حکومت سازی میں اہم کردار ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ سروے کے مطابق ایک دہائی پرانی سینٹرسٹ اپرچیونٹی پارٹی اس بار فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ بیرون ملک ووٹنگ 21 اکتوبر جبکہ قبل از وقت ووٹنگ 26 اکتوبر سے شروع ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ جمعرات کو تحلیل کردی گئی، جس کے ساتھ ہی اگلے ماہ ہونے والے قومی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ انتخابات میں حکمران سینٹر رائٹ اتحاد اور لیبر پارٹی کی قیادت میں بائیں بازو کے اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔</strong></p>
<p>پارلیمنٹ کا آخری اجلاس 23 ستمبر کو ہوا تھا، جبکہ عام انتخابات 7 نومبر کو ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی، معاشی انتظام اور عوامی خدمات کو مرکزی موضوعات بنایا ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے جاری ہونے والے ون نیوز ویریان کے سروے کے مطابق لیبر کی قیادت میں بائیں بازو کا ممکنہ اتحاد 65 نشستیں حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتا ہے، جبکہ موجودہ نیشنل، ایکٹ اور نیوزی لینڈ فرسٹ کے اتحاد کو 59 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>نیوزی لینڈ میں جرمن طرز کے مخلوط متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کے باعث گزشتہ تین دہائیوں سے اتحادی حکومتیں معمول بن چکی ہیں، جس سے چھوٹی جماعتوں کو حکومت سازی میں اہم کردار ملتا ہے۔</p>
<p>کچھ سروے کے مطابق ایک دہائی پرانی سینٹرسٹ اپرچیونٹی پارٹی اس بار فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ بیرون ملک ووٹنگ 21 اکتوبر جبکہ قبل از وقت ووٹنگ 26 اکتوبر سے شروع ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291975</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:43:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011441300d4de0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011441300d4de0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کی ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو، بھارت امریکا سے عبوری تجارتی معاہدے کا خواہاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291934/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی دہلی نے بدھ کو بتایا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارتی وزیر تجارت امریکا میں عبوری تجارتی معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران مودی اور ٹرمپ نے تجارت، دفاع، توانائی اور اہم ٹیکنالوجیز سمیت دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ’’دونوں رہنماؤں نے بھارت۔امریکا جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں سمیت علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے اور عبوری انتظام سے متعلق مذاکرات کے لیے 29 ستمبر سے 5 اکتوبر تک امریکا کے دورے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی نے رواں ہفتے کے اوائل میں بتایا تھا کہ گوئل بھارت اور امریکا کے درمیان ’’متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی‘‘ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں اپنے امریکی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت تجارت کے مطابق گوئل منگل کو جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملواکی پہنچے، جہاں انہوں نے نیشنل ایسوسی ایشن آف مینوفیکچررز کی میزبانی میں ہونے والے گول میز اجلاس میں امریکی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کی دعوت پر وسکونسن میں ہونے والے جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں بھی شرکت کرنا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے باوجود اب تک اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا، جبکہ نئی دہلی مجوزہ معاہدے میں بہتر شرائط کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے کہا تھا کہ اس نے واشنگٹن کو آگاہ کردیا ہے کہ روسی تیل کی بھارتی خریداری سے متعلق امریکا کے نئے ٹیرف اقدامات دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی دہلی نے بدھ کو بتایا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارتی وزیر تجارت امریکا میں عبوری تجارتی معاہدہ طے کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>بھارتی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران مودی اور ٹرمپ نے تجارت، دفاع، توانائی اور اہم ٹیکنالوجیز سمیت دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ’’دونوں رہنماؤں نے بھارت۔امریکا جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘‘</p>
<p>بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں سمیت علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے اور عبوری انتظام سے متعلق مذاکرات کے لیے 29 ستمبر سے 5 اکتوبر تک امریکا کے دورے پر ہیں۔</p>
<p>نئی دہلی نے رواں ہفتے کے اوائل میں بتایا تھا کہ گوئل بھارت اور امریکا کے درمیان ’’متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی‘‘ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں اپنے امریکی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>بھارتی وزارت تجارت کے مطابق گوئل منگل کو جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملواکی پہنچے، جہاں انہوں نے نیشنل ایسوسی ایشن آف مینوفیکچررز کی میزبانی میں ہونے والے گول میز اجلاس میں امریکی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔</p>
<p>انہیں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کی دعوت پر وسکونسن میں ہونے والے جی 20 کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں بھی شرکت کرنا تھی۔</p>
<p>بھارت اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے باوجود اب تک اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا، جبکہ نئی دہلی مجوزہ معاہدے میں بہتر شرائط کا خواہاں ہے۔</p>
<p>رواں ماہ کے اوائل میں بھارت نے کہا تھا کہ اس نے واشنگٹن کو آگاہ کردیا ہے کہ روسی تیل کی بھارتی خریداری سے متعلق امریکا کے نئے ٹیرف اقدامات دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291934</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 19:58:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30195337d663cf8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30195337d663cf8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیتن یاہو کا دعویٰ: مسافروں نے فلائی دبئی کی پرواز تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے کو پائلٹ کو قابو کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291940/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کو کہا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے معاون پائلٹ نے پائلٹ کو چاقو مارنے کے بعد طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مسافروں نے اسے قابو کرلیا جبکہ دیگر پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے اس واقعے کو ’’انتہائی سنگین سکیورٹی واقعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو کے مطابق مبینہ حملہ آور، جس کی شناخت ایک اسرائیلی عہدیدار نے عمانی شہری کے طور پر کی ہے، طیارے کے سعودی عرب میں اترنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں کہا کہ ’’تمام مسافر محفوظ ہیں‘‘، اور بتایا کہ ان میں تقریباً سبھی اسرائیلی شہری تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیراعظم نے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ طیارے کے ’’اچانک بے قابو ہوکر غوطہ لگانے‘‘ کے بعد مسافروں اور عملے کے ایک رکن نے کاک پٹ میں داخل ہوکر معاون پائلٹ کو ’’طیارے کے نظام میں تخریب کاری کی کوشش کرتے‘‘ دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’انہوں نے بہت سی جانیں بچائیں۔ انہوں نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ طیارے سے ہنگامی سگنل بھیجے گئے تھے۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے ہنگامی سگنل بھیجے جانے سے قبل طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اچانک اور تیزی سے تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے کی سعودی عرب میں لینڈنگ کے وقت اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے رائٹرز کو بتایا کہ واقعے کو طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش نہیں سمجھا جارہا، بلکہ اسے ’’ایک مختلف نوعیت کا واقعہ‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی عہدیداروں نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کے موجودہ جائزے کے مطابق یہ واقعہ ’’دہشت گرد حملے‘‘ کی کوشش تھی اور اس کا تعلق دونوں پائلٹس میں سے کسی کے ذہنی صحت کے مسئلے سے نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کو کہا کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے معاون پائلٹ نے پائلٹ کو چاقو مارنے کے بعد طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مسافروں نے اسے قابو کرلیا جبکہ دیگر پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب میں بحفاظت اتار لیا۔</strong></p>
<p>نیتن یاہو نے اس واقعے کو ’’انتہائی سنگین سکیورٹی واقعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کریں گے۔</p>
<p>نیتن یاہو کے مطابق مبینہ حملہ آور، جس کی شناخت ایک اسرائیلی عہدیدار نے عمانی شہری کے طور پر کی ہے، طیارے کے سعودی عرب میں اترنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔</p>
<p>نیتن یاہو نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں کہا کہ ’’تمام مسافر محفوظ ہیں‘‘، اور بتایا کہ ان میں تقریباً سبھی اسرائیلی شہری تھے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیراعظم نے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ طیارے کے ’’اچانک بے قابو ہوکر غوطہ لگانے‘‘ کے بعد مسافروں اور عملے کے ایک رکن نے کاک پٹ میں داخل ہوکر معاون پائلٹ کو ’’طیارے کے نظام میں تخریب کاری کی کوشش کرتے‘‘ دیکھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’انہوں نے بہت سی جانیں بچائیں۔ انہوں نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔‘‘</p>
<p>اسرائیلی عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ طیارے سے ہنگامی سگنل بھیجے گئے تھے۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق طیارے کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے ہنگامی سگنل بھیجے جانے سے قبل طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اچانک اور تیزی سے تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آیا۔</p>
<p>طیارے کی سعودی عرب میں لینڈنگ کے وقت اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے رائٹرز کو بتایا کہ واقعے کو طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش نہیں سمجھا جارہا، بلکہ اسے ’’ایک مختلف نوعیت کا واقعہ‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>اسرائیلی عہدیداروں نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کے موجودہ جائزے کے مطابق یہ واقعہ ’’دہشت گرد حملے‘‘ کی کوشش تھی اور اس کا تعلق دونوں پائلٹس میں سے کسی کے ذہنی صحت کے مسئلے سے نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291940</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 00:01:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3023542053c9e75.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3023542053c9e75.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تازہ ترین تجویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا، واشنگٹن عراق سے انخلا کر رہا ہے، ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسے خلیج میں ختم ہوجانے والی جنگ بندی بحال کرنے کی اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے کہ انہوں نے تہران کی یہ تجویز مسترد کردی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اتحادیوں نے بدھ کو امریکا کی جانب سے پڑوسی ملک عراق سے اپنے آخری فوجیوں کے انخلا کے بعد جشن منایا، جہاں رواں صدی کی امریکا کی سب سے بڑی جنگ میں 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 2003 میں امریکی افواج کی جانب سے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران اس انخلا کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل ’’محورِ مزاحمت‘‘ کی فتح اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا کے اپنے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی جنگ کو اب آٹھواں ماہ شروع ہوچکا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران سات روز کے اندر متاثرہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انہوں نے یہ تجویز مسترد کردی ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کو امریکا کی جانب سے باضابطہ طور پر مسترد کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے بدھ کو ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ عراقچی نے ایرانی حکومت کو امریکا کا جواب پہنچا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ایک عبوری معاہدے کو بحال کرنا ہے، جو جون میں ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخطوں کے چند ہفتے بعد ہی ختم ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے قطری ثالث نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان پیغامات لے کر آتے جاتے رہے۔ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں متحارب فریقوں کے درمیان یہ پہلی بالواسطہ بات چیت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات چیت سے باخبر ایک عہدیدار نے، جو ایرانی نہیں اور جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کی، بتایا کہ عراقچی نے نیویارک سے واپسی پر منگل کو دوحہ میں مختصر قیام کے دوران قطری حکام سے امریکی جواب حاصل کیا۔ عہدیدار کے مطابق دونوں فریق بڑی حد تک ان اقدامات پر متفق ہیں جو ضروری ہیں، تاہم انہیں کس ترتیب سے کیا جائے، اس پر اب بھی اختلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران چاہتا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہو، جو دنیا کی اہم ترین تیل ترسیلی گزرگاہ ہے اور ایرانی ساحل کے ساتھ واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے اور حملوں کے خطرے کے باوجود سفر کرنے والے جہازوں سے بھاری فیس وصول کی جا رہی ہے۔ تاہم خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور قدرتی گیس کی ترسیل اب بھی نمایاں طور پر متاثر ہے۔ تازہ ترین واقعات میں برطانیہ کے بحری سلامتی کے ادارے یوکے ایم ٹی او نے بدھ کو بتایا کہ ایک روز قبل دو بحری جہازوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="عراق-میں-امریکی-انخلا-کو-واشنگٹن-کی-شکست-قرار-دیا-گیا" href="#عراق-میں-امریکی-انخلا-کو-واشنگٹن-کی-شکست-قرار-دیا-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;عراق میں امریکی انخلا کو واشنگٹن کی شکست قرار دیا گیا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور عراقی حکام نے بدھ کو عراق کے فوجی اڈوں سے آخری امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا۔ یہ انخلا 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پانے والے منصوبے کے تحت ہوا، جس پر ٹرمپ انتظامیہ نے عمل درآمد کیا، جبکہ اسی دوران وہ پڑوسی ملک ایران کے خلاف جنگ بھی لڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی انخلا کا خیرمقدم کیا۔ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘‘ کے ایک کمانڈر ابو مجتبیٰ الیاسیری نے اسے ’’عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں اور محب وطن عراقیوں کی تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کی فیصلہ کن شکست‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کرکے قبضہ کیا تھا، جبکہ تہران نے وہاں وسیع سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ قائم کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق اکثر امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ جنگ کا میدان بنتا رہا ہے۔ فروری میں ٹرمپ کی جانب سے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ شروع کیے جانے کے بعد سے ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں مارے گئے۔ واشنگٹن عراق میں موجود گروہوں پر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتا ہے، جنہوں نے حال ہی میں تین ہفتے قبل سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن کو بھی ناکارہ بنا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بغداد میں مقیم سیاسی تجزیہ کار احمد یونس نے کہا کہ امریکی انخلا سے ’’اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مغربی فوجی موجودگی نہ ہونے کے باعث ایران کے اتحادی مزید بااختیار محسوس کریں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’یہ گروہ ریاستی پالیسیوں کی تشکیل میں اپنا کردار بڑھانے اور اہم اداروں میں اپنی موجودگی مستحکم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ابتدا ہی سے غیر مقبول رہی ہے۔ عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو بھی متاثر کیا ہے، جو پانچ ہفتے بعد ہونے والے قانون ساز انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ کے اتحادیوں کو انتخابات میں شکست دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب نے امریکی ووٹروں کے نام 26 صفحات پر مشتمل خط میں کہا، ’’ان بدعنوان، دھوکے باز اور پرتشدد سیاست دانوں کو اقتدار سے ہٹائیں جو امریکا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ خط میں مزید کہا گیا، ’’یقینی بنائیں کہ آپ کے سیاست دان سمجھ جائیں کہ دنیا بدل چکی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ نے ایران میں جاری معاشی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، تاہم تہران نے اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی اور ایران بالآخر ہتھیار ڈال دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں، لیکن وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ وہ بہت بری حالت میں ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسے خلیج میں ختم ہوجانے والی جنگ بندی بحال کرنے کی اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے کہ انہوں نے تہران کی یہ تجویز مسترد کردی تھی۔</strong></p>
<p>ایران کے اتحادیوں نے بدھ کو امریکا کی جانب سے پڑوسی ملک عراق سے اپنے آخری فوجیوں کے انخلا کے بعد جشن منایا، جہاں رواں صدی کی امریکا کی سب سے بڑی جنگ میں 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ 2003 میں امریکی افواج کی جانب سے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی مارے گئے تھے۔</p>
<p>تہران اس انخلا کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل ’’محورِ مزاحمت‘‘ کی فتح اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا کے اپنے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیتا ہے۔</p>
<p>ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی جنگ کو اب آٹھواں ماہ شروع ہوچکا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران سات روز کے اندر متاثرہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انہوں نے یہ تجویز مسترد کردی ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کو امریکا کی جانب سے باضابطہ طور پر مسترد کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے بدھ کو ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ عراقچی نے ایرانی حکومت کو امریکا کا جواب پہنچا دیا ہے۔</p>
<p>ایران کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ایک عبوری معاہدے کو بحال کرنا ہے، جو جون میں ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخطوں کے چند ہفتے بعد ہی ختم ہوگیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے قطری ثالث نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان پیغامات لے کر آتے جاتے رہے۔ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد دونوں متحارب فریقوں کے درمیان یہ پہلی بالواسطہ بات چیت تھی۔</p>
<p>بات چیت سے باخبر ایک عہدیدار نے، جو ایرانی نہیں اور جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کی، بتایا کہ عراقچی نے نیویارک سے واپسی پر منگل کو دوحہ میں مختصر قیام کے دوران قطری حکام سے امریکی جواب حاصل کیا۔ عہدیدار کے مطابق دونوں فریق بڑی حد تک ان اقدامات پر متفق ہیں جو ضروری ہیں، تاہم انہیں کس ترتیب سے کیا جائے، اس پر اب بھی اختلاف ہے۔</p>
<p>ایران چاہتا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہو، جو دنیا کی اہم ترین تیل ترسیلی گزرگاہ ہے اور ایرانی ساحل کے ساتھ واقع ہے۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا ہے اور حملوں کے خطرے کے باوجود سفر کرنے والے جہازوں سے بھاری فیس وصول کی جا رہی ہے۔ تاہم خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور قدرتی گیس کی ترسیل اب بھی نمایاں طور پر متاثر ہے۔ تازہ ترین واقعات میں برطانیہ کے بحری سلامتی کے ادارے یوکے ایم ٹی او نے بدھ کو بتایا کہ ایک روز قبل دو بحری جہازوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<h3><a id="عراق-میں-امریکی-انخلا-کو-واشنگٹن-کی-شکست-قرار-دیا-گیا" href="#عراق-میں-امریکی-انخلا-کو-واشنگٹن-کی-شکست-قرار-دیا-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>عراق میں امریکی انخلا کو واشنگٹن کی شکست قرار دیا گیا</strong></h3>
<p>امریکی اور عراقی حکام نے بدھ کو عراق کے فوجی اڈوں سے آخری امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا۔ یہ انخلا 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پانے والے منصوبے کے تحت ہوا، جس پر ٹرمپ انتظامیہ نے عمل درآمد کیا، جبکہ اسی دوران وہ پڑوسی ملک ایران کے خلاف جنگ بھی لڑ رہی ہے۔</p>
<p>ایران اور اس کے اتحادیوں نے امریکی انخلا کا خیرمقدم کیا۔ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘‘ کے ایک کمانڈر ابو مجتبیٰ الیاسیری نے اسے ’’عراقی اسلامی مزاحمتی گروہوں اور محب وطن عراقیوں کی تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کی فیصلہ کن شکست‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>امریکا نے 2003 میں عراق پر حملہ کرکے قبضہ کیا تھا، جبکہ تہران نے وہاں وسیع سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ قائم کرلیا ہے۔</p>
<p>عراق اکثر امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ جنگ کا میدان بنتا رہا ہے۔ فروری میں ٹرمپ کی جانب سے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ شروع کیے جانے کے بعد سے ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں مارے گئے۔ واشنگٹن عراق میں موجود گروہوں پر پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتا ہے، جنہوں نے حال ہی میں تین ہفتے قبل سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن کو بھی ناکارہ بنا دیا تھا۔</p>
<p>بغداد میں مقیم سیاسی تجزیہ کار احمد یونس نے کہا کہ امریکی انخلا سے ’’اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ مغربی فوجی موجودگی نہ ہونے کے باعث ایران کے اتحادی مزید بااختیار محسوس کریں گے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’یہ گروہ ریاستی پالیسیوں کی تشکیل میں اپنا کردار بڑھانے اور اہم اداروں میں اپنی موجودگی مستحکم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔‘‘</p>
<p>امریکا میں رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ابتدا ہی سے غیر مقبول رہی ہے۔ عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو بھی متاثر کیا ہے، جو پانچ ہفتے بعد ہونے والے قانون ساز انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ کے اتحادیوں کو انتخابات میں شکست دیں۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب نے امریکی ووٹروں کے نام 26 صفحات پر مشتمل خط میں کہا، ’’ان بدعنوان، دھوکے باز اور پرتشدد سیاست دانوں کو اقتدار سے ہٹائیں جو امریکا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔‘‘ خط میں مزید کہا گیا، ’’یقینی بنائیں کہ آپ کے سیاست دان سمجھ جائیں کہ دنیا بدل چکی ہے۔‘‘</p>
<p>جنگ نے ایران میں جاری معاشی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، تاہم تہران نے اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی اور ایران بالآخر ہتھیار ڈال دے گا۔</p>
<p>انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں، لیکن وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ وہ بہت بری حالت میں ہیں۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291930</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 19:16:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3018315193bbac1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3018315193bbac1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین نے امریکا کے خلاف تجارتی رکاوٹوں سے متعلق 2 تحقیقات کی مدت 27 دسمبر تک بڑھا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291936/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کی وزارتِ تجارت نے مارچ میں شروع کی گئی امریکا کی تجارتی پالیسیوں سے متعلق دو تحقیقات کی مدت مزید تین ماہ بڑھا کر 27 دسمبر تک کردی ہے۔ وزارتِ تجارت کے بیانات میں یہ بات سامنے آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے 27 ستمبر کو جاری کیے گئے دو الگ الگ بیانات میں کہا کہ تحقیقات کے معاملات کی پیچیدگی کے پیش نظر ان کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلانات چین اور امریکا کے درمیان نئے تجارتی مذاکرات کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں، جن میں دونوں ممالک نے تجارتی جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 10 جنوری تک برقرار رکھنے اور 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد محصولات میں کمی پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی رکاوٹوں سے متعلق دونوں تحقیقات کا آغاز ابتدائی طور پر 27 مارچ کو کیا گیا تھا، جن میں امریکا کی ان تجارتی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جارہا تھا جو ’’عالمی رسد اور صنعتی سلسلوں میں خلل‘‘ ڈالتے ہیں اور ’’ماحولیاتی مصنوعات کی تجارت میں رکاوٹ‘‘ بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیقات امریکا کی جانب سے جبری مشقت اور صنعتی گنجائش میں اضافے سے متعلق سیکشن 301 کے تحت کی جانے والی تحقیقات کے جواب میں شروع کی گئی تھیں۔ ان تحقیقات کو ابتدائی طور پر چھ ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا، تاہم ان کی مدت میں توسیع کی گنجائش رکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کی وزارتِ تجارت نے مارچ میں شروع کی گئی امریکا کی تجارتی پالیسیوں سے متعلق دو تحقیقات کی مدت مزید تین ماہ بڑھا کر 27 دسمبر تک کردی ہے۔ وزارتِ تجارت کے بیانات میں یہ بات سامنے آئی۔</strong></p>
<p>وزارت نے 27 ستمبر کو جاری کیے گئے دو الگ الگ بیانات میں کہا کہ تحقیقات کے معاملات کی پیچیدگی کے پیش نظر ان کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>یہ اعلانات چین اور امریکا کے درمیان نئے تجارتی مذاکرات کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں، جن میں دونوں ممالک نے تجارتی جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 10 جنوری تک برقرار رکھنے اور 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد محصولات میں کمی پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>تجارتی رکاوٹوں سے متعلق دونوں تحقیقات کا آغاز ابتدائی طور پر 27 مارچ کو کیا گیا تھا، جن میں امریکا کی ان تجارتی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جارہا تھا جو ’’عالمی رسد اور صنعتی سلسلوں میں خلل‘‘ ڈالتے ہیں اور ’’ماحولیاتی مصنوعات کی تجارت میں رکاوٹ‘‘ بنتے ہیں۔</p>
<p>یہ تحقیقات امریکا کی جانب سے جبری مشقت اور صنعتی گنجائش میں اضافے سے متعلق سیکشن 301 کے تحت کی جانے والی تحقیقات کے جواب میں شروع کی گئی تھیں۔ ان تحقیقات کو ابتدائی طور پر چھ ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا، تاہم ان کی مدت میں توسیع کی گنجائش رکھی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291936</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 22:03:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30215610a612097.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30215610a612097.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پائلٹس میں جھگڑا، اسرائیل جانے والی پرواز سعودی عرب پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291905/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی حکام کے ایک عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ دبئی سے اسرائیل جانے والی ایک پرواز ہائی جیکنگ کے بجائے پائلٹوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے ہنگامی سگنل جاری کرنے کے بعد سعودی عرب کی طرف موڑ دی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 نے اردن کی فضائی حدود کے اوپر سے اپنا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ لیا۔ پرواز نے پہلے عمومی ہنگامی سگنل بھیجا جس کے چند منٹ بعد ایک اور ہنگامی سگنل بھیجا گیا جو ممکنہ غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویب سائٹ کے مطابق بوئنگ 737 طیارے نے بعد ازاں دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل بھیجا اور شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ خیال ہے کہ یہ واقعہ طیارہ اغوا کیے جانے کا نہیں تھا۔ فلائی دبئی سے فوری طور پر تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ پائلٹس کے درمیان ہاتھا پائی کے بعد انہوں نے ہنگامی سگنلز بھیجے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا دونوں پائلٹس میں سے کسی ایک نے جان بوجھ کر ہنگامی سگنل بھیجا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فوج کے سربراہ ایال زامیر نے فضائیہ کے کمانڈر اور دیگر فوجی حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلائی دبئی دبئی اور تل ابیب کے درمیان روزانہ پروازیں چلاتی ہے جو اسرائیلی شہریوں میں مقبول فضائی روٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی حکام کے ایک عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ دبئی سے اسرائیل جانے والی ایک پرواز ہائی جیکنگ کے بجائے پائلٹوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے ہنگامی سگنل جاری کرنے کے بعد سعودی عرب کی طرف موڑ دی گئی۔</strong></p>
<p>ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 نے اردن کی فضائی حدود کے اوپر سے اپنا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ لیا۔ پرواز نے پہلے عمومی ہنگامی سگنل بھیجا جس کے چند منٹ بعد ایک اور ہنگامی سگنل بھیجا گیا جو ممکنہ غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>ویب سائٹ کے مطابق بوئنگ 737 طیارے نے بعد ازاں دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل بھیجا اور شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ خیال ہے کہ یہ واقعہ طیارہ اغوا کیے جانے کا نہیں تھا۔ فلائی دبئی سے فوری طور پر تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہوسکا۔</p>
<p>ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ پائلٹس کے درمیان ہاتھا پائی کے بعد انہوں نے ہنگامی سگنلز بھیجے تھے۔</p>
<p>فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا دونوں پائلٹس میں سے کسی ایک نے جان بوجھ کر ہنگامی سگنل بھیجا تھا۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فوج کے سربراہ ایال زامیر نے فضائیہ کے کمانڈر اور دیگر فوجی حکام کے ساتھ صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔</p>
<p>فلائی دبئی دبئی اور تل ابیب کے درمیان روزانہ پروازیں چلاتی ہے جو اسرائیلی شہریوں میں مقبول فضائی روٹ ہے۔</p>
<p>سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291905</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 13:00:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301509063f0c4cb.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301509063f0c4cb.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30124926a18234c.webp" type="image/webp" medium="image" height="715" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30124926a18234c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کو اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو منگل کو دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کی جانب سے سات روزہ منصوبے سے متعلق ردعمل موصول ہوا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی ہے، تاہم فریقین کے اقدامات کی ترتیب اب بھی بنیادی اختلاف کا باعث بنی ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو ایک ایسے عہدیدار نے بتایا جو ایرانی نہیں تاہم مذاکرات سے آگاہ ہے کہ عباس عراقچی بدھ کو تہران میں امریکی ردعمل پر بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے گزشتہ ہفتے سات روزہ تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جاسکتی ہے اور سمندری آمدورفت معمول پر لائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اس تجویز کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد قطر نے ثالثی کی کوششیں مزید تیز کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق قطری ثالثوں نے پیر کو واشنگٹن سے موصول ہونے والا ردعمل ایران کو پہنچایا۔ انہوں نے امریکا سے واپسی کے دوران عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے بتایا کہ زیر گردش دستاویز میں اعتماد سازی کے لیے سات روزہ مدت تجویز کی گئی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کو جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے بہتر ورژن کی جانب واپس لانا ہے۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق اختلاف منصوبے کے اجزا پر نہیں بلکہ ان اقدامات پر عمل درآمد کی ترتیب پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے تحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، جس میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقیں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو منگل کو دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کی جانب سے سات روزہ منصوبے سے متعلق ردعمل موصول ہوا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی ہے، تاہم فریقین کے اقدامات کی ترتیب اب بھی بنیادی اختلاف کا باعث بنی ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>رائٹرز کو ایک ایسے عہدیدار نے بتایا جو ایرانی نہیں تاہم مذاکرات سے آگاہ ہے کہ عباس عراقچی بدھ کو تہران میں امریکی ردعمل پر بات کریں گے۔</p>
<p>ایران نے گزشتہ ہفتے سات روزہ تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جاسکتی ہے اور سمندری آمدورفت معمول پر لائی جاسکتی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اس تجویز کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد قطر نے ثالثی کی کوششیں مزید تیز کردیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق قطری ثالثوں نے پیر کو واشنگٹن سے موصول ہونے والا ردعمل ایران کو پہنچایا۔ انہوں نے امریکا سے واپسی کے دوران عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔</p>
<p>عہدیدار نے بتایا کہ زیر گردش دستاویز میں اعتماد سازی کے لیے سات روزہ مدت تجویز کی گئی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کو جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے بہتر ورژن کی جانب واپس لانا ہے۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق اختلاف منصوبے کے اجزا پر نہیں بلکہ ان اقدامات پر عمل درآمد کی ترتیب پر ہے۔</p>
<p>قطر تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے تحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔</p>
<p>جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، جس میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقیں شامل تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291910</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 14:03:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30140143db45715.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30140143db45715.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اسپتال داخل، طبی نگرانی جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے، ان کے دفتر نے بدھ کو بتایا، یہ پیش رفت ان کی اہلیہ سیتی حسما محمد علی کے انتقال کے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;101 سالہ مہاتیر محمد کو منگل کی رات کوالالمپور کے نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں طبی نگرانی کے لیے داخل کیا گیا، تاہم ان کے معاون صوفی یوسف کے مطابق تشخیص سامنے آنے تک ان کے اسپتال میں داخلے کی وجہ واضح نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی دو مختلف ادوار میں 20 سال سے زائد عرصے تک قیادت کرنے والے مہاتیر محمد کو دل کے عوارض لاحق رہے ہیں اور وہ بائی پاس سرجریاں بھی کراچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ حالیہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ اسپتال میں داخل ہوچکے ہیں، جبکہ جنوری میں بھی گرنے کے بعد کولہے میں فریکچر کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی اہلیہ سیتی حسما، جو  ڈاکٹر اور صحت عامہ کے شعبے میں سرگرم کارکن تھیں اور جن سے مہاتیر محمد کی 70 سال تک شادی رہی، پیر کو 100 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے، ان کے دفتر نے بدھ کو بتایا، یہ پیش رفت ان کی اہلیہ سیتی حسما محمد علی کے انتقال کے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>101 سالہ مہاتیر محمد کو منگل کی رات کوالالمپور کے نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں طبی نگرانی کے لیے داخل کیا گیا، تاہم ان کے معاون صوفی یوسف کے مطابق تشخیص سامنے آنے تک ان کے اسپتال میں داخلے کی وجہ واضح نہیں تھی۔</p>
<p>جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی دو مختلف ادوار میں 20 سال سے زائد عرصے تک قیادت کرنے والے مہاتیر محمد کو دل کے عوارض لاحق رہے ہیں اور وہ بائی پاس سرجریاں بھی کراچکے ہیں۔</p>
<p>وہ حالیہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ اسپتال میں داخل ہوچکے ہیں، جبکہ جنوری میں بھی گرنے کے بعد کولہے میں فریکچر کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کی اہلیہ سیتی حسما، جو  ڈاکٹر اور صحت عامہ کے شعبے میں سرگرم کارکن تھیں اور جن سے مہاتیر محمد کی 70 سال تک شادی رہی، پیر کو 100 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291911</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 14:07:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30140612ecd355b.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30140612ecd355b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں ایک دہائی سے زائد عرصے کی کم ترین مون سون بارشیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291927/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون سیزن کے دوران ایک دہائی سے زائد عرصے کی کم ترین بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جس کی بڑی وجہ ایل نینو موسمیاتی رجحان کے باعث بارشوں میں کمی رہی۔ محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کو رائٹرز کو یہ بات بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری محکمہ موسمیات کے عہدیدار کے مطابق ملک میں اس مون سون سیزن کے دوران معمول کی اوسط کے مقابلے میں 12.6 فیصد کم بارش ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون سیزن کے دوران ایک دہائی سے زائد عرصے کی کم ترین بارشیں ریکارڈ کی گئیں، جس کی بڑی وجہ ایل نینو موسمیاتی رجحان کے باعث بارشوں میں کمی رہی۔ محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کو رائٹرز کو یہ بات بتائی۔</strong></p>
<p>سرکاری محکمہ موسمیات کے عہدیدار کے مطابق ملک میں اس مون سون سیزن کے دوران معمول کی اوسط کے مقابلے میں 12.6 فیصد کم بارش ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291927</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 16:36:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30163100086e541.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30163100086e541.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی فضائی حملے، کیف اور گرد و نواح میں ایک ہلاک، 5 افراد زخمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291917/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکام نے بتایا کہ بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح میں روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ مزید 5 افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر وٹالی کلیچکو نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ کیف میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے نجی مکانات کے ساتھ ایک دکان اور گودام بھی متاثر ہوئے اور 2 افراد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے شہر میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ علاقے میں روسی میزائل اور ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک اور مزید 3 افراد زخمی ہوئے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات، مکانات، گوداموں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکام نے بتایا کہ بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح میں روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ مزید 5 افراد زخمی ہوگئے۔</strong></p>
<p>میئر وٹالی کلیچکو نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ کیف میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے نجی مکانات کے ساتھ ایک دکان اور گودام بھی متاثر ہوئے اور 2 افراد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے شہر میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔</p>
<p>کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ علاقے میں روسی میزائل اور ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک اور مزید 3 افراد زخمی ہوئے، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات، مکانات، گوداموں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291917</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 15:15:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30151343e572988.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30151343e572988.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران، سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291918/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے بدھ کے روز دو افراد کو سزائے موت دے دی، جنہیں جنوری 2026 میں شمال مشرقی شہر مشہد میں ہونے والے احتجاج کے دوران 4 سکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورکس کے مطابق ایران کی سپریم کورٹ نے دونوں افراد کی سزائے موت برقرار رکھی، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر سزاؤں پر عمل درآمد کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے بدھ کے روز دو افراد کو سزائے موت دے دی، جنہیں جنوری 2026 میں شمال مشرقی شہر مشہد میں ہونے والے احتجاج کے دوران 4 سکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورکس کے مطابق ایران کی سپریم کورٹ نے دونوں افراد کی سزائے موت برقرار رکھی، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر سزاؤں پر عمل درآمد کردیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291918</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 15:18:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301516466002c7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301516466002c7c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں ایک دہائی سے زائد عرصے کی کم ترین مون سون بارش ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون سیزن کے دوران ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے کم بارش ریکارڈ کی گئی جس کی ایک بڑی وجہ ایل نینو موسمی پیٹرن کے باعث بارشوں میں کمی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باتمحکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے بدھ کو رائٹرز کو بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ادارے انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مون سون سیزن کے دوران بھارت میں اوسط سے 12.6 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون سیزن کے دوران ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے کم بارش ریکارڈ کی گئی جس کی ایک بڑی وجہ ایل نینو موسمی پیٹرن کے باعث بارشوں میں کمی تھی۔</strong></p>
<p>یہ باتمحکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے بدھ کو رائٹرز کو بتائی۔</p>
<p>ریاستی ادارے انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مون سون سیزن کے دوران بھارت میں اوسط سے 12.6 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291925</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 16:11:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30161036086e541.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30161036086e541.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب نے پائپ لائن کی بحالی کے بعد ینبع سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291877/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہونے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار جہازوں پر تیل لادنے کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے۔ تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق یہ پیش رفت ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے اوائل میں پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی تھی۔ پیر کو ینبع سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا، کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کی ایک ریفائنری کے ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے پیر کی شام صارفین کو ینبع سے اکتوبر میں تیل کی ترسیل کا شیڈول جاری کردیا۔ ریفائنری نے گزشتہ ہفتے کے اواخر میں ینبع سے تیل کی ایک کھیپ بھی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈرون حملوں کے باعث، جن کا الزام سعودی عرب نے عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا، مملکت کو 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کرنا پڑی تھی، جس کے نتیجے میں ینبع سے خام تیل کی برآمدات رک گئی تھیں۔ پائپ لائن کی سرگرمیاں گزشتہ منگل کو دوبارہ شروع کردی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرامکو نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز نے منگل کو ایکس پر جاری پوسٹ میں لکھا، ’’27 ستمبر کو بحیرہ احمر کے اوپر سے حاصل کی گئی یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کو ینبع اور المعجز سے تقریباً 10 ملین بیرل خام تیل جہازوں میں لادتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المعجز، ینبع کے جنوب میں واقع ایک ٹرمینل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا، ’’ہم نے ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بھی دیکھی ہے۔ مجموعی طور پر ہم نے 40 تیل بردار جہازوں کی بصری طور پر شناخت کی، خواہ ان کی سرگرمی کچھ بھی ہو یا وہ ان ٹرمینلز کے قریب ہوں یا نہ ہوں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو تجارتی ذرائع نے الگ الگ اندازے میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے سے ینبع سے خام تیل کی ترسیل تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کے ایک ذریعے کے مطابق پائپ لائن سے اس وقت تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزارا جارہا ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق یہ مقدار تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ یہ پائپ لائن کی 70 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش سے کہیں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے مطابق آئندہ چند روز میں پائپ لائن سے تیل کی ترسیل بڑھ کر 30 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی۔ ادارے نے پیر کو جاری ایک نوٹ میں کہا کہ حملے سے پہلے کی تقریباً 55 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر مکمل بحالی میں مزید ایک ماہ لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے مطابق 22 ستمبر کو ینبع ٹرمینل میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 10 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا، جو حملے کے بعد ذخائر میں پہلا اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ینبع سے خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں، جس سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات میں بھی بحالی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر نے اپنے نوٹ میں کہا کہ مصر کی بندرگاہ سیدی کریر سے خام تیل کی ترسیل 22 ستمبر کو 10 روزہ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی، تاہم بحری جہاز اب بھی سمندر میں اپنی باری کے منتظر ہیں کیونکہ پابندیوں کے باعث تجارتی بیڑے کے بڑے حصے کو بندرگاہ تک رسائی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہونے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار جہازوں پر تیل لادنے کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے۔ تجارتی ذرائع اور بحری جہازوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق یہ پیش رفت ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>رواں ماہ کے اوائل میں پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد ینبع سے تیل کی ترسیل معطل کردی گئی تھی۔ پیر کو ینبع سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا، کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ایشیا کی ایک ریفائنری کے ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے پیر کی شام صارفین کو ینبع سے اکتوبر میں تیل کی ترسیل کا شیڈول جاری کردیا۔ ریفائنری نے گزشتہ ہفتے کے اواخر میں ینبع سے تیل کی ایک کھیپ بھی حاصل کی تھی۔</p>
<p>ڈرون حملوں کے باعث، جن کا الزام سعودی عرب نے عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا، مملکت کو 11 ستمبر کو پائپ لائن بند کرنا پڑی تھی، جس کے نتیجے میں ینبع سے خام تیل کی برآمدات رک گئی تھیں۔ پائپ لائن کی سرگرمیاں گزشتہ منگل کو دوبارہ شروع کردی گئی تھیں۔</p>
<p>آرامکو نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔</p>
<p>بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز نے منگل کو ایکس پر جاری پوسٹ میں لکھا، ’’27 ستمبر کو بحیرہ احمر کے اوپر سے حاصل کی گئی یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کو ینبع اور المعجز سے تقریباً 10 ملین بیرل خام تیل جہازوں میں لادتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔‘‘</p>
<p>المعجز، ینبع کے جنوب میں واقع ایک ٹرمینل ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا، ’’ہم نے ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل بھی دیکھی ہے۔ مجموعی طور پر ہم نے 40 تیل بردار جہازوں کی بصری طور پر شناخت کی، خواہ ان کی سرگرمی کچھ بھی ہو یا وہ ان ٹرمینلز کے قریب ہوں یا نہ ہوں۔‘‘</p>
<p>دو تجارتی ذرائع نے الگ الگ اندازے میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے سے ینبع سے خام تیل کی ترسیل تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ رہی ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کے ایک ذریعے کے مطابق پائپ لائن سے اس وقت تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل گزارا جارہا ہے، جبکہ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کیپلر کے مطابق یہ مقدار تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہے۔ یہ پائپ لائن کی 70 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش سے کہیں کم ہے۔</p>
<p>کیپلر کے مطابق آئندہ چند روز میں پائپ لائن سے تیل کی ترسیل بڑھ کر 30 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی۔ ادارے نے پیر کو جاری ایک نوٹ میں کہا کہ حملے سے پہلے کی تقریباً 55 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر مکمل بحالی میں مزید ایک ماہ لگ سکتا ہے۔</p>
<p>کیپلر کے مطابق 22 ستمبر کو ینبع ٹرمینل میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 10 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا، جو حملے کے بعد ذخائر میں پہلا اضافہ تھا۔</p>
<p>ینبع سے خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں اضافے کے مزید آثار سامنے آئے ہیں، جس سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات میں بھی بحالی ہوئی ہے۔</p>
<p>کیپلر نے اپنے نوٹ میں کہا کہ مصر کی بندرگاہ سیدی کریر سے خام تیل کی ترسیل 22 ستمبر کو 10 روزہ وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی، تاہم بحری جہاز اب بھی سمندر میں اپنی باری کے منتظر ہیں کیونکہ پابندیوں کے باعث تجارتی بیڑے کے بڑے حصے کو بندرگاہ تک رسائی محدود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291877</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 21:42:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29212555820fee5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29212555820fee5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’خصوصی استثنیٰ‘ ملنے کے بعد عراقی ایئرویز اکتوبر میں ایران پروازیں بحال کرے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291875/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عراقی ایئرویز اکتوبر میں ایران کے لیے پروازیں بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عراق کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے منگل کو بتایا کہ ایران کی ایئرلائنز کے لیے خدمات محدود کرنے والی امریکی پابندیوں کے باعث پروازوں کی معطلی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ عراق نے خصوصی استثنیٰ حاصل کرلیا ہے، جس کے تحت عراقی ایئرویز ایران کے لیے پروازیں چلا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق نے جمعہ کو امریکی پابندیوں کے تحت ایران کے لیے اور وہاں سے پروازیں معطل کردی تھیں، جبکہ حکومت نے زیارت، طبی علاج اور تعلیم سے متعلق سفری سہولت کے لیے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق اگلے ماہ پروازوں کا آغاز ابتدائی طور پر شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر نجف سے کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے ضابطہ جاتی اور تکنیکی تقاضے مکمل کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ استثنیٰ امریکی محکمہ خزانہ نے دیا ہے اور اس کی مدت ایک ماہ ہوگی۔ ذریعے کے مطابق اس استثنیٰ کے تحت کتنی پروازوں کی اجازت ہوگی، اس کا ابھی تعین نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان رائٹرز کی پیر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے عراقی ایئرویز کو ایران اور نجف کے درمیان پروازیں چلانے کی اجازت دینے کے لیے ایک ماہ کی رعایت دینے والی ہے، جبکہ بعد ازاں زیادہ مستقل نوعیت کا استثنیٰ بھی دیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے براہِ راست واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ بغداد نے مسافروں کی اسکریننگ اور معلومات کے تبادلے سمیت متعدد حفاظتی اقدامات کی پیشکش کی تھی، جبکہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے تھے کہ ان پروازوں کو ہتھیاروں، پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عراقی ایئرویز اکتوبر میں ایران کے لیے پروازیں بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عراق کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے منگل کو بتایا کہ ایران کی ایئرلائنز کے لیے خدمات محدود کرنے والی امریکی پابندیوں کے باعث پروازوں کی معطلی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارت نے کہا کہ عراق نے خصوصی استثنیٰ حاصل کرلیا ہے، جس کے تحت عراقی ایئرویز ایران کے لیے پروازیں چلا سکے گی۔</p>
<p>عراق نے جمعہ کو امریکی پابندیوں کے تحت ایران کے لیے اور وہاں سے پروازیں معطل کردی تھیں، جبکہ حکومت نے زیارت، طبی علاج اور تعلیم سے متعلق سفری سہولت کے لیے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق اگلے ماہ پروازوں کا آغاز ابتدائی طور پر شیعہ مسلمانوں کے مقدس شہر نجف سے کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے ضابطہ جاتی اور تکنیکی تقاضے مکمل کرنا ہوں گے۔</p>
<p>عراقی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ استثنیٰ امریکی محکمہ خزانہ نے دیا ہے اور اس کی مدت ایک ماہ ہوگی۔ ذریعے کے مطابق اس استثنیٰ کے تحت کتنی پروازوں کی اجازت ہوگی، اس کا ابھی تعین نہیں کیا گیا۔</p>
<p>یہ اعلان رائٹرز کی پیر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے عراقی ایئرویز کو ایران اور نجف کے درمیان پروازیں چلانے کی اجازت دینے کے لیے ایک ماہ کی رعایت دینے والی ہے، جبکہ بعد ازاں زیادہ مستقل نوعیت کا استثنیٰ بھی دیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>معاملے سے براہِ راست واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ بغداد نے مسافروں کی اسکریننگ اور معلومات کے تبادلے سمیت متعدد حفاظتی اقدامات کی پیشکش کی تھی، جبکہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے تھے کہ ان پروازوں کو ہتھیاروں، پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291875</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 19:29:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/291926102c4763a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/291926102c4763a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کو 'بڑا جھوٹا' قرار دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291874/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ”بڑا جھوٹا“ قرار دیتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی عوام سے ایران کے جوہری پروگرام اور خلیج سے توانائی کی ترسیل کی ناکہ بندی کے حوالے سے حقائق چھپا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف محاذ آرائی کی وجوہات میں ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسین محبی نے کہا، ”دشمن (امریکہ) جانتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے درپے نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ ان کا مسئلہ جوہری پروگرام نہیں بلکہ اس کی وسعت اور طاقت ہے جسے وہ تباہ کرنا چاہتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکہ کے ان دعووں کو بھی چیلنج کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ یا اختیار کمزور پڑ گیا ہے—جس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ امریکی فوج خلیج سے تیل لے جانے والے کچھ ٹینکروں کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محبی نے کہا، ”اگر امریکی بھاری اخراجات، شدید مشکلات اور زیادہ خطرات مول لے کر، اندھیرے کی آڑ میں کسی چھوٹے جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے اور مثلاً 100 یا 200 بیرل تیل برآمد کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آبنائے (عام آمدورفت کے لیے) کھلی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات کی بحالی دیکھی گئی ہے، جو تقریباً 10 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا نصف ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ”بڑا جھوٹا“ قرار دیتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی عوام سے ایران کے جوہری پروگرام اور خلیج سے توانائی کی ترسیل کی ناکہ بندی کے حوالے سے حقائق چھپا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایران کے خلاف محاذ آرائی کی وجوہات میں ٹرمپ نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔</p>
<p>حسین محبی نے کہا، ”دشمن (امریکہ) جانتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے درپے نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ ان کا مسئلہ جوہری پروگرام نہیں بلکہ اس کی وسعت اور طاقت ہے جسے وہ تباہ کرنا چاہتے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے امریکہ کے ان دعووں کو بھی چیلنج کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ یا اختیار کمزور پڑ گیا ہے—جس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ امریکی فوج خلیج سے تیل لے جانے والے کچھ ٹینکروں کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔</p>
<p>محبی نے کہا، ”اگر امریکی بھاری اخراجات، شدید مشکلات اور زیادہ خطرات مول لے کر، اندھیرے کی آڑ میں کسی چھوٹے جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے اور مثلاً 100 یا 200 بیرل تیل برآمد کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آبنائے (عام آمدورفت کے لیے) کھلی ہے۔“</p>
<p>کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات کی بحالی دیکھی گئی ہے، جو تقریباً 10 ملین بیرل یومیہ تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا نصف ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291874</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 19:12:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29182514cf0240f.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29182514cf0240f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی افواج دو دہائیوں بعد عراق سے نکل گئیں، ایران کے لیے اثر و رسوخ بڑھانے کی گنجائش پیدا ہوگئی، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291872/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی افواج بدھ تک عراق میں اپنے آخری اڈوں سے بھی انخلا مکمل کرنے والی ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادی اس اقدام کو فتح قرار دے رہے ہیں، جنہیں اب عراق میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ دو دہائیوں سے زائد جنگ کے دوران عراق میں 4,500 امریکی شہری ہلاک ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انخلا، جس پر 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں اتفاق ہوا تھا اور جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران بھی آگے بڑھایا، تہران اور اس کے طاقتور اتحادیوں کو زیادہ آزادی دے سکتا ہے، جبکہ داعش سمیت دیگر امریکی مخالف گروہوں کو بھی دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی سکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی نے کہا کہ امریکی اتحاد کی روانگی سے ایران کو اسٹریٹیجک فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے وہ فوجی موجودگی ختم ہوجائے گی جو کئی برسوں سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے لیے ایک توازن کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایران نواز ملیشیا گروپ اس انخلا کو اپنی تحریک کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سیاسی فیصلہ سازی میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق میں اسلامی مزاحمت کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلا کو عراقی اسلامی مزاحمتی گروپوں اور محب وطن عراقیوں کی تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کی فیصلہ کن شکست قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ 30 ستمبر کو عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے خاتمے اور ملک پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے میں قبضے کی ناکامی کا جشن منایا جائے گا۔ ان کے بقول عراق نے ثابت کیا ہے کہ اس کی خودمختاری غیر ملکی افواج سے نہیں بلکہ مزاحمت اور عوام کی مرضی سے محفوظ بنائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عراق ابھی تیار نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی افواج کا حتمی انخلا مجموعی طور پر عراقی عوام میں مقبول ہے، تاہم ایران نواز گروہوں کی طاقت پر تشویش رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ انخلا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوجہ کے رہنما عبدالرحمن الزبائی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے خیال میں عراق اس وقت سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں اور اس پر کسی کو اختلاف نہیں لیکن امریکی قیادت میں اتحاد کا اس انداز میں انخلا اور پیدا ہونے والا خلا وہ چیز ہے جس سے تمام عراقی خوفزدہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی افواج نے 2003 میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا اور بعد ازاں ملک پر قبضہ برقرار رکھا۔ امریکی فوج 2011 کے اختتام پر عراق سے نکل گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وہ تین سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ عراق پہنچ گئی اور 2014 سے 2017 کے دوران عراقی افواج کی داعش کے خلاف جنگ میں مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد افغانستان میں ہونے والی متوازی جنگ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی، جو 2021 میں اچانک امریکی انخلا کے ساتھ ختم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں عراق واحد ملک رہا ہے جس کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی سیاسی اور فوجی تعلقات رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے 2020 میں بغداد ایئرپورٹ پر حملے کے ذریعے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کیا تھا۔ ایران کے اتحادیوں نے متعدد مرتبہ امریکی اڈوں پر حملے کیے، جن کے جواب میں امریکا نے بھی کارروائیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف رواں سال کی جنگ میں ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں موجود تھے۔ آخری ہلاک ہونے والا فوجی جولائی میں اربیل کے قریب ایک اڈے پر ڈرون کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کے دوران مارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے مزاحمتی محور کی فتح&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا کہنا ہے کہ اس کا حتمی مقصد پورے مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔ تہران عراق سے امریکی انخلا کو خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل ’’مزاحمتی محور‘‘ کی فتح قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات مقدم نے کہا کہ امریکی افواج کے عراق اور خطے سے نکلنے کے بعد عراق میں پائیدار سکیورٹی قائم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایرانی پارلیمانی نیوز سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا خیرمقدم کرتا ہے اور یقینی طور پر اس کی حمایت کرے گا۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروپ اس وقت کارروائیاں کررہے ہیں اور بعض اوقات امریکی فوجیوں کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے ایران نواز عراقی ملیشیا گروپوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کی ہدایت پر پڑوسی ممالک پر حملے کرکے وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کردار ادا کررہے ہیں۔ رواں ماہ ان گروہوں نے سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا۔ بغداد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا داعش دوبارہ سرگرم ہوسکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی وفاقی حکومت اور نیم خودمختار شمالی کرد خطے کے بعض سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا سے داعش کو بھی دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل اپنی خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے باوجود داعش کے پاس اب بھی خفیہ سیلز کا نیٹ ورک موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرد کمانڈر سیرون بارزانی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس،لاجسٹک معاونت اور ڈرونز کی عدم موجودگی داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ستمبر کے اختتام تک بین الاقوامی اتحاد کے عراق سے باضابطہ انخلا کے اعلان کے بعد دو ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران داعش کے خفیہ سیلز کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، جس سے ان کے بقول جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ داعش کا ایک مشتبہ سیل امریکی انخلا کے موقع پر خودکش حملوں کی تیاری کررہا تھا۔ چار عراقی سکیورٹی اور فوجی حکام کے مطابق اس منصوبے نے اس تشویش کو نمایاں کیا ہے کہ کئی فوجی شکستوں کے باوجود داعش سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکک کے اہم تیل شہر میں ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار کرنل خالد البیاتی نے کہا کہ داعش یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اب بھی طاقتور ہے اور خونریز حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی افواج بدھ تک عراق میں اپنے آخری اڈوں سے بھی انخلا مکمل کرنے والی ہیں۔ ایران اور اس کے اتحادی اس اقدام کو فتح قرار دے رہے ہیں، جنہیں اب عراق میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ دو دہائیوں سے زائد جنگ کے دوران عراق میں 4,500 امریکی شہری ہلاک ہوئے۔</strong></p>
<p>عراقی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انخلا، جس پر 2024 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں اتفاق ہوا تھا اور جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران بھی آگے بڑھایا، تہران اور اس کے طاقتور اتحادیوں کو زیادہ آزادی دے سکتا ہے، جبکہ داعش سمیت دیگر امریکی مخالف گروہوں کو بھی دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔</p>
<p>عراقی سکیورٹی تجزیہ کار جاسم البہدلی نے کہا کہ امریکی اتحاد کی روانگی سے ایران کو اسٹریٹیجک فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے وہ فوجی موجودگی ختم ہوجائے گی جو کئی برسوں سے عراق میں تہران کے اثر و رسوخ کے لیے ایک توازن کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایران نواز ملیشیا گروپ اس انخلا کو اپنی تحریک کی فتح کے طور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور سیاسی فیصلہ سازی میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>عراق میں اسلامی مزاحمت کے کمانڈر ابو مجتبیٰ الیسیری نے امریکی انخلا کو عراقی اسلامی مزاحمتی گروپوں اور محب وطن عراقیوں کی تاریخی فتح اور امریکی منصوبے کی فیصلہ کن شکست قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ 30 ستمبر کو عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے خاتمے اور ملک پر اپنا فیصلہ مسلط کرنے میں قبضے کی ناکامی کا جشن منایا جائے گا۔ ان کے بقول عراق نے ثابت کیا ہے کہ اس کی خودمختاری غیر ملکی افواج سے نہیں بلکہ مزاحمت اور عوام کی مرضی سے محفوظ بنائی جاسکتی ہے۔</p>
<p><strong>عراق ابھی تیار نہیں</strong></p>
<p>اگرچہ امریکی افواج کا حتمی انخلا مجموعی طور پر عراقی عوام میں مقبول ہے، تاہم ایران نواز گروہوں کی طاقت پر تشویش رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ انخلا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>فلوجہ کے رہنما عبدالرحمن الزبائی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے خیال میں عراق اس وقت سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تمام عراقی مکمل خودمختاری چاہتے ہیں اور اس پر کسی کو اختلاف نہیں لیکن امریکی قیادت میں اتحاد کا اس انداز میں انخلا اور پیدا ہونے والا خلا وہ چیز ہے جس سے تمام عراقی خوفزدہ ہیں۔</p>
<p>امریکی افواج نے 2003 میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا اور بعد ازاں ملک پر قبضہ برقرار رکھا۔ امریکی فوج 2011 کے اختتام پر عراق سے نکل گئی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں وہ تین سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ عراق پہنچ گئی اور 2014 سے 2017 کے دوران عراقی افواج کی داعش کے خلاف جنگ میں مدد کی۔</p>
<p>’’آپریشن عراقی فریڈم‘‘ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد افغانستان میں ہونے والی متوازی جنگ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی، جو 2021 میں اچانک امریکی انخلا کے ساتھ ختم ہوئی۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں عراق واحد ملک رہا ہے جس کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی سیاسی اور فوجی تعلقات رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا نے 2020 میں بغداد ایئرپورٹ پر حملے کے ذریعے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کیا تھا۔ ایران کے اتحادیوں نے متعدد مرتبہ امریکی اڈوں پر حملے کیے، جن کے جواب میں امریکا نے بھی کارروائیاں کیں۔</p>
<p>ایران کے خلاف رواں سال کی جنگ میں ہلاک ہونے والے 18 امریکی فوجیوں میں سے 7 عراق میں موجود تھے۔ آخری ہلاک ہونے والا فوجی جولائی میں اربیل کے قریب ایک اڈے پر ڈرون کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنانے کے دوران مارا گیا۔</p>
<p><strong>ایران کے مزاحمتی محور کی فتح</strong></p>
<p>ایران کا کہنا ہے کہ اس کا حتمی مقصد پورے مشرق وسطیٰ سے امریکی افواج کا انخلا ہے۔ تہران عراق سے امریکی انخلا کو خطے میں اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل ’’مزاحمتی محور‘‘ کی فتح قرار دیتا ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب چیئرمین امیر حیات مقدم نے کہا کہ امریکی افواج کے عراق اور خطے سے نکلنے کے بعد عراق میں پائیدار سکیورٹی قائم ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے ایرانی پارلیمانی نیوز سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا خیرمقدم کرتا ہے اور یقینی طور پر اس کی حمایت کرے گا۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروپ اس وقت کارروائیاں کررہے ہیں اور بعض اوقات امریکی فوجیوں کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن نے ایران نواز عراقی ملیشیا گروپوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران کی ہدایت پر پڑوسی ممالک پر حملے کرکے وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازع میں کردار ادا کررہے ہیں۔ رواں ماہ ان گروہوں نے سعودی عرب کی ایک بڑی تیل پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا۔ بغداد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کررہی ہے۔</p>
<p><strong>کیا داعش دوبارہ سرگرم ہوسکتی ہے؟</strong></p>
<p>عراقی وفاقی حکومت اور نیم خودمختار شمالی کرد خطے کے بعض سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انخلا سے داعش کو بھی دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل اپنی خود ساختہ خلافت کے خاتمے کے باوجود داعش کے پاس اب بھی خفیہ سیلز کا نیٹ ورک موجود ہے۔</p>
<p>کرد کمانڈر سیرون بارزانی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس،لاجسٹک معاونت اور ڈرونز کی عدم موجودگی داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ستمبر کے اختتام تک بین الاقوامی اتحاد کے عراق سے باضابطہ انخلا کے اعلان کے بعد دو ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران داعش کے خفیہ سیلز کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، جس سے ان کے بقول جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھا ہے۔</p>
<p>عراقی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ داعش کا ایک مشتبہ سیل امریکی انخلا کے موقع پر خودکش حملوں کی تیاری کررہا تھا۔ چار عراقی سکیورٹی اور فوجی حکام کے مطابق اس منصوبے نے اس تشویش کو نمایاں کیا ہے کہ کئی فوجی شکستوں کے باوجود داعش سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>کرکک کے اہم تیل شہر میں ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار کرنل خالد البیاتی نے کہا کہ داعش یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اب بھی طاقتور ہے اور خونریز حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291872</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 16:49:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29163124c8f5771.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29163124c8f5771.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی حملے میں حماس کا سینئر کمانڈر شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291844/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ منگل کو اسرائیلی فضائی حملے میں شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدین البیک شہید ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے عزالدین البیک کو نشانہ بنایا جو ان کے بقول حملوں کی منصوبہ بندی اور جنگجوؤں کی بھرتی میں ملوث تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی عملے اور حماس ذرائع نے بھی عزالدین البیک کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فضائی حملہ علی الصبح غزہ سٹی کے نصر محلے میں واقع ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی اور فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ منگل کو اسرائیلی فضائی حملے میں شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدین البیک شہید ہوگئے۔</strong></p>
<p>اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے عزالدین البیک کو نشانہ بنایا جو ان کے بقول حملوں کی منصوبہ بندی اور جنگجوؤں کی بھرتی میں ملوث تھا۔</p>
<p>طبی عملے اور حماس ذرائع نے بھی عزالدین البیک کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فضائی حملہ علی الصبح غزہ سٹی کے نصر محلے میں واقع ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291844</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 12:12:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2912054854f68db.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2912054854f68db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کو جوہری رعایتوں کے بدلے پابندیوں میں ریلیف کی پیشکش نہیں کی، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ جوہری رعایتوں کے بدلے پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی تردید کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ غلط ہے، میں نے انہیں کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ وہ ایکسِیوس کی اس رپورٹ پر ردعمل دے رہے تھے جس میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے پر آمادہ تھے۔ ایکسِیوس کی رپورٹ میں امریکی حکام کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این نے بھی ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ حتمی معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت کی شرط پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ کے حوالے سے اپنے اہداف اور ٹائم لائنز میں تبدیلی کی ہے۔ جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے ہوا، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے حکام کے مطابق جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کے تحت امریکی اور ایرانی حکام نے پیر کو ثالثوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیت کمزور کرنے کو جنگ کے مقاصد میں شامل کیا ہے۔ ایران، جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں، انہیں حاصل کرنے کی کوشش کی تردید کرتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے فریق کی حیثیت سے اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ جوہری رعایتوں کے بدلے پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی تردید کردی۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ غلط ہے، میں نے انہیں کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ وہ ایکسِیوس کی اس رپورٹ پر ردعمل دے رہے تھے جس میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے پر آمادہ تھے۔ ایکسِیوس کی رپورٹ میں امریکی حکام کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔</p>
<p>سی این این نے بھی ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ حتمی معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت کی شرط پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار تھے۔</p>
<p>ٹرمپ نے 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ کے حوالے سے اپنے اہداف اور ٹائم لائنز میں تبدیلی کی ہے۔ جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے ہوا، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے۔</p>
<p>امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔</p>
<p>دونوں ممالک کے حکام کے مطابق جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کے تحت امریکی اور ایرانی حکام نے پیر کو ثالثوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔</p>
<p>ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیت کمزور کرنے کو جنگ کے مقاصد میں شامل کیا ہے۔ ایران، جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں، انہیں حاصل کرنے کی کوشش کی تردید کرتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے فریق کی حیثیت سے اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حق حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291853</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 13:26:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29132339f13d5cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29132339f13d5cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمالی کوریا روس میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291856/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا ہے کہ روسی سرزمین پر 8 ہزار سے زائد شمالی کوریائی فوجی موجود ہیں جبکہ مزید 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی تیاریاں جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیلنسکی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں شمالی کوریائی فوجیوں کی روس میں تعیناتی سے متعلق نئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مزید فوجیوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں تربیت دی جائے اور بعد ازاں روس بھیجا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی صدر نے اگست میں کہا تھا کہ روس کی جانب سے لڑنے کے لیے 50 ہزار تک شمالی کوریائی فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا سے یوکرین کے فضائی دفاع کے لیے معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا نے جولائی میں یوکرین کے لیے 100 ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا، تاہم اس میں مہلک ہتھیار شامل نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیلنسکی کے پیر کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ہفتے یوکرین کی جانب سے گرفتار کیے گئے دو شمالی کوریائی فوجیوں کو جنوبی کوریا منتقل کرنے کے اعلان پر سیول اور کیف کے درمیان اختلاف سامنے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا نے خفیہ منتقلی کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے زیلنسکی کے اعلان پر افسوس کا اظہار کیا۔ سیول نے یوکرینی صدارتی دفتر کے اس بیان پر بھی احتجاج کیا جس میں ایسے رازداری کے معاہدے کی موجودگی سے انکار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین اور جنوبی کوریا کے اندازوں کے مطابق شمالی کوریا نے 2024 سے روس کی جنگ میں مدد کے لیے 14 ہزار سے 15 ہزار فوجی بھیجے ہیں، جن میں زیادہ تر کرسک کے علاقے میں یوکرینی دراندازی کو روکنے کے لیے تعینات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین اور آزاد ذرائع کے جائزوں کے مطابق پیانگ یانگ نے روس کو لاکھوں توپ اور مارٹر گولے، بیلسٹک میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کے نظام اور متعدد راکٹ لانچ سسٹم بھی فراہم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا ہے کہ روسی سرزمین پر 8 ہزار سے زائد شمالی کوریائی فوجی موجود ہیں جبکہ مزید 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی تیاریاں جاری ہیں۔</strong></p>
<p>زیلنسکی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں شمالی کوریائی فوجیوں کی روس میں تعیناتی سے متعلق نئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مزید فوجیوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں تربیت دی جائے اور بعد ازاں روس بھیجا جائے۔</p>
<p>یوکرینی صدر نے اگست میں کہا تھا کہ روس کی جانب سے لڑنے کے لیے 50 ہزار تک شمالی کوریائی فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا سے یوکرین کے فضائی دفاع کے لیے معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>جنوبی کوریا نے جولائی میں یوکرین کے لیے 100 ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا، تاہم اس میں مہلک ہتھیار شامل نہیں تھے۔</p>
<p>زیلنسکی کے پیر کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ہفتے یوکرین کی جانب سے گرفتار کیے گئے دو شمالی کوریائی فوجیوں کو جنوبی کوریا منتقل کرنے کے اعلان پر سیول اور کیف کے درمیان اختلاف سامنے آیا تھا۔</p>
<p>جنوبی کوریا نے خفیہ منتقلی کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے زیلنسکی کے اعلان پر افسوس کا اظہار کیا۔ سیول نے یوکرینی صدارتی دفتر کے اس بیان پر بھی احتجاج کیا جس میں ایسے رازداری کے معاہدے کی موجودگی سے انکار کیا گیا تھا۔</p>
<p>یوکرین اور جنوبی کوریا کے اندازوں کے مطابق شمالی کوریا نے 2024 سے روس کی جنگ میں مدد کے لیے 14 ہزار سے 15 ہزار فوجی بھیجے ہیں، جن میں زیادہ تر کرسک کے علاقے میں یوکرینی دراندازی کو روکنے کے لیے تعینات کیے گئے۔</p>
<p>یوکرین اور آزاد ذرائع کے جائزوں کے مطابق پیانگ یانگ نے روس کو لاکھوں توپ اور مارٹر گولے، بیلسٹک میزائل، طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کے نظام اور متعدد راکٹ لانچ سسٹم بھی فراہم کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291856</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 13:38:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29133703c169cb2.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29133703c169cb2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران جنگ بہت جلد جیت جائے گا، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291832/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکا کے حکام نے واشنگٹن اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ثالثوں سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ بہت جلد جیت جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے، ہم جیتنے والے ہیں، کسی نہ کسی طرح یہ جنگ ہمارے حق میں ختم ہوگی۔ یہ کافی تیزی سے ختم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کے جنگ جیتنے کے بعد گیس کی قیمتیں تیزی سے کم ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکا کے حکام نے واشنگٹن اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ثالثوں سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ بہت جلد جیت جائے گا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے، ہم جیتنے والے ہیں، کسی نہ کسی طرح یہ جنگ ہمارے حق میں ختم ہوگی۔ یہ کافی تیزی سے ختم ہوجائے گی۔</p>
<p>ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کے جنگ جیتنے کے بعد گیس کی قیمتیں تیزی سے کم ہوجائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291832</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 08:58:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29085722fd1b5d0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29085722fd1b5d0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی چین کے صدر شی جن پنگ کو ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کی تردید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291833/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے امریکی ہتھیار خریدنے کے بارے میں پوچھا تھا۔ یہ بیان ان کے اپنے سفیر کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ نے چینی صدر کو ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سفیر برائے چین ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے شی جن پنگ کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران یہ پیشکش کی تھی۔ تاہم اوول آفس میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی اور انہیں سفیر سے اس بارے میں پوچھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے چین امریکی ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہو کیونکہ امریکا بہتر فوجی سازوسامان تیار کرتا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر بات نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکی قانون چین کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت نہیں دیتا اور چین کو ہتھیار فروخت کرنے کی نہ کوئی پیشکش ہے اور نہ منصوبہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارت خارجہ نے براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ چین اپنی ضروریات کے مطابق دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور چین کے درمیان تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت طویل عرصے سے تنازع کا باعث ہے۔ واشنگٹن نے دسمبر میں تائیوان کے لیے 11.1 ارب ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دی تھی، جبکہ مئی میں 14 ارب ڈالر کی خریداری روک دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے امریکی ہتھیار خریدنے کے بارے میں پوچھا تھا۔ یہ بیان ان کے اپنے سفیر کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ نے چینی صدر کو ہتھیار فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی۔</strong></p>
<p>امریکی سفیر برائے چین ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے شی جن پنگ کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران یہ پیشکش کی تھی۔ تاہم اوول آفس میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی اور انہیں سفیر سے اس بارے میں پوچھنا ہوگا۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے چین امریکی ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہو کیونکہ امریکا بہتر فوجی سازوسامان تیار کرتا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر بات نہیں ہوئی۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امریکی قانون چین کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت نہیں دیتا اور چین کو ہتھیار فروخت کرنے کی نہ کوئی پیشکش ہے اور نہ منصوبہ۔</p>
<p>چین کی وزارت خارجہ نے براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ چین اپنی ضروریات کے مطابق دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرتا رہے گا۔</p>
<p>امریکا اور چین کے درمیان تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت طویل عرصے سے تنازع کا باعث ہے۔ واشنگٹن نے دسمبر میں تائیوان کے لیے 11.1 ارب ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دی تھی، جبکہ مئی میں 14 ارب ڈالر کی خریداری روک دی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291833</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 09:05:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29090358288684a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29090358288684a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران کے ثالثوں سے پیر یا منگل کو الگ الگ مذاکرات کا امکان، عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطری ثالث پیر یا منگل کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اور الگ سے امریکی حکام سے مذاکرات کریں گے،  یہ بات مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتائی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے یہ ایک نئی سفارتی کوشش ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد بدستور نیویارک میں موجود ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں امریکی فریق کی نمائندگی کون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی ایس این اے‘ نے بعد ازاں تصدیق کی کہ عراقچی پیر کی صبح امریکی وقت کے مطابق نیویارک میں ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس این اے نے مزید کہا کہ دونوں فریق ”موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین تجاویز اور مؤقف کا جائزہ لیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سات روزہ تجویز میں ملک اور لبنان میں تمام دشمنانہ کارروائیاں ختم کرنے، اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا عمل ختم کرنے، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اجازت دے گا، جبکہ دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بھی دوبارہ شروع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی تجویز مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو درپیش شدید معاشی دباؤ کے باعث ایران فوری معاہدہ چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ نے اتوار کو ’ایکسیوس‘ کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید مذاکرات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ثالثوں نے تہران کو باضابطہ طور پر امریکی تجویز مسترد کیے جانے سے آگاہ نہیں کیا اور ایران اپنے آئندہ اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہماری شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی بھی پیش رفت ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس تعطل کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطری ثالث پیر یا منگل کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اور الگ سے امریکی حکام سے مذاکرات کریں گے،  یہ بات مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتائی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے یہ ایک نئی سفارتی کوشش ہے۔</strong></p>
<p>نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
<p>عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد بدستور نیویارک میں موجود ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ثالثوں کے ساتھ مذاکرات میں امریکی فریق کی نمائندگی کون کرے گا۔</p>
<p>ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی ایس این اے‘ نے بعد ازاں تصدیق کی کہ عراقچی پیر کی صبح امریکی وقت کے مطابق نیویارک میں ثالثوں سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>آئی ایس این اے نے مزید کہا کہ دونوں فریق ”موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین تجاویز اور مؤقف کا جائزہ لیں گے۔“</p>
<p>ایران کی سات روزہ تجویز میں ملک اور لبنان میں تمام دشمنانہ کارروائیاں ختم کرنے، اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا عمل ختم کرنے، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>اس کے بعد تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اجازت دے گا، جبکہ دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بھی دوبارہ شروع کریں گے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی تجویز مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو درپیش شدید معاشی دباؤ کے باعث ایران فوری معاہدہ چاہتا ہے۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ نے اتوار کو ’ایکسیوس‘ کو بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید مذاکرات کریں گے۔</p>
<p>عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ثالثوں نے تہران کو باضابطہ طور پر امریکی تجویز مسترد کیے جانے سے آگاہ نہیں کیا اور ایران اپنے آئندہ اقدامات کا فیصلہ کرنے سے قبل واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہماری شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوئی بھی پیش رفت ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس تعطل کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291826</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 21:06:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28205605a117eba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28205605a117eba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
