<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 11:03:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 08 Aug 2026 11:03:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کانگریس اے آئی صنعت کو ’کاروبار سے باہر‘ کرنے کے درپے ہے، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس اے آئی صنعت کو ’’کاروبار سے باہر کرنے‘‘ کے لیے ضوابط نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو شائع ہونے والے پنچ باؤل نیوز کے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بیان سے واشنگٹن میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اے آئی صنعت کو کس حد تک سخت ضوابط کا پابند بنایا جائے، اس پر جاری بحث میں شدت کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ صنعت بڑی حد تک نئے وفاقی قوانین کے بغیر ہی کام کرتی رہی ہے۔ قانون سازوں نے اس حوالے سے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، تاہم وہ تاحال آگے نہیں بڑھ سکیں۔ ان میں ایک ایسا بل بھی شامل ہے جس کے تحت جدید ترین اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کا آزادانہ سکیورٹی آڈٹ کرانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی ریگولیشن سے متعلق بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس وقت مزید اہم ہوگئی جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے بتایا کہ سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ان کے اے آئی سسٹمز قابو سے باہر ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹ نے ایک ہیک شروع کیا جس کے نتیجے میں اے آئی اسٹارٹ اپ ہگنگ فیس کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ہگنگ فیس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ڈویلپرز اے آئی ماڈلز کے لیے کوڈ محفوظ کرنے کے ساتھ اس پر باہمی تعاون بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے سے ظاہر ہوا کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں پہلے ہی وہ سکیورٹی خطرات پیدا کر رہی ہیں جن کا ماہرین طویل عرصے سے خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو بھی ان خامیوں کا اچانک سامنا ہوسکتا ہے جنہیں ان کے ماڈلز خود استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، محکمہ تجارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) نے جمعہ کو اے آئی سسٹمز کی جانچ کے لیے رہنما اصولوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے عوام سے رائے طلب کی۔ این آئی ایس ٹی کا بنیادی کام سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے معیارات وضع کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این آئی ایس ٹی کے مطابق یہ رہنما اصول ان اداروں کے لیے ہیں جو ’’اپنے اے آئی سسٹمز کے اثرات کی پیمائش‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن ڈی سی میں قائم اے آئی اور قومی سلامتی پر توجہ مرکوز کرنے والے غیر منافع بخش ادارے فرنٹیئر سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئیک ہیرس نے کہا کہ یہ رہنما اصول ’’وفاقی حکومت اور اس کے ٹھیکیداروں کی جانب سے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے طریقہ کار کو معیاری بنانے کی جانب پہلا قدم ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس اے آئی صنعت کو ’’کاروبار سے باہر کرنے‘‘ کے لیے ضوابط نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو شائع ہونے والے پنچ باؤل نیوز کے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے بیان سے واشنگٹن میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اے آئی صنعت کو کس حد تک سخت ضوابط کا پابند بنایا جائے، اس پر جاری بحث میں شدت کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ صنعت بڑی حد تک نئے وفاقی قوانین کے بغیر ہی کام کرتی رہی ہے۔ قانون سازوں نے اس حوالے سے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، تاہم وہ تاحال آگے نہیں بڑھ سکیں۔ ان میں ایک ایسا بل بھی شامل ہے جس کے تحت جدید ترین اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کا آزادانہ سکیورٹی آڈٹ کرانا ہوگا۔</p>
<p>اے آئی ریگولیشن سے متعلق بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس وقت مزید اہم ہوگئی جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے بتایا کہ سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ان کے اے آئی سسٹمز قابو سے باہر ہوگئے تھے۔</p>
<p>اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹ نے ایک ہیک شروع کیا جس کے نتیجے میں اے آئی اسٹارٹ اپ ہگنگ فیس کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ہگنگ فیس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ڈویلپرز اے آئی ماڈلز کے لیے کوڈ محفوظ کرنے کے ساتھ اس پر باہمی تعاون بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>اس واقعے سے ظاہر ہوا کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں پہلے ہی وہ سکیورٹی خطرات پیدا کر رہی ہیں جن کا ماہرین طویل عرصے سے خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو بھی ان خامیوں کا اچانک سامنا ہوسکتا ہے جنہیں ان کے ماڈلز خود استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، محکمہ تجارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) نے جمعہ کو اے آئی سسٹمز کی جانچ کے لیے رہنما اصولوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے عوام سے رائے طلب کی۔ این آئی ایس ٹی کا بنیادی کام سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے معیارات وضع کرنا ہے۔</p>
<p>این آئی ایس ٹی کے مطابق یہ رہنما اصول ان اداروں کے لیے ہیں جو ’’اپنے اے آئی سسٹمز کے اثرات کی پیمائش‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن ڈی سی میں قائم اے آئی اور قومی سلامتی پر توجہ مرکوز کرنے والے غیر منافع بخش ادارے فرنٹیئر سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئیک ہیرس نے کہا کہ یہ رہنما اصول ’’وفاقی حکومت اور اس کے ٹھیکیداروں کی جانب سے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے طریقہ کار کو معیاری بنانے کی جانب پہلا قدم ہیں۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289700</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 00:02:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/072356548d2d91b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/072356548d2d91b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹلی کا اسپین پر عائد سفری پابندیاں سکیورٹی خطرات ختم ہونے تک برقرار رکھنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹلی نے جمعہ کو کہا کہ وہ اسپین کی جانب سے دی جانے والی ’’دھمکیوں یا مسلط کردہ شرائط‘‘ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اسپین سے آنے والے مسافروں پر کم از کم 15 اگست تک سرحدی کنٹرول برقرار رکھے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین نے جمعہ کو اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر روم نے اتوار تک گزشتہ ہفتے عائد کیے گئے سرحدی کنٹرول ختم نہ کیے تو وہ اٹلی سے آنے والے مسافروں پر جوابی پابندیاں عائد کر دے گا۔ یہ اقدام مراکش سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخلے کے بعد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی صرف اس وقت کرے گی جب اسے یقین ہو جائے کہ سکیورٹی یا دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں، مہاجرین کی نئی لہر نہیں آرہی اور غیر قانونی تارکین یورپی سرزمین کا رخ نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹلی نے جمعہ کو کہا کہ وہ اسپین کی جانب سے دی جانے والی ’’دھمکیوں یا مسلط کردہ شرائط‘‘ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اسپین سے آنے والے مسافروں پر کم از کم 15 اگست تک سرحدی کنٹرول برقرار رکھے گا۔</strong></p>
<p>اسپین نے جمعہ کو اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر روم نے اتوار تک گزشتہ ہفتے عائد کیے گئے سرحدی کنٹرول ختم نہ کیے تو وہ اٹلی سے آنے والے مسافروں پر جوابی پابندیاں عائد کر دے گا۔ یہ اقدام مراکش سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں ہسپانوی علاقے سیوٹا میں داخلے کے بعد کیا گیا تھا۔</p>
<p>اطالوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی صرف اس وقت کرے گی جب اسے یقین ہو جائے کہ سکیورٹی یا دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں، مہاجرین کی نئی لہر نہیں آرہی اور غیر قانونی تارکین یورپی سرزمین کا رخ نہیں کر رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289703</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 00:30:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/08002523cfb6346.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/08002523cfb6346.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے، پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی، مزید حملوں کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289667/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر کیے گئے حملے میں 11 شہری زخمی ہوگئے، جبکہ ریاض نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں اور ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی شہری تنصیبات پر مزید مربوط حملوں کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعہ کو بتایا کہ نجران صوبے میں ہونے والے حملے میں سات سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں چار سالہ ایک بچہ بھی شامل ہے، جو دوسری درجے کے جلنے کے زخموں کا شکار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی المالکی نے حوثیوں پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اتحاد شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ دوسری جانب حوثیوں یا ایران کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کی نگرانی میں حوثی اور ایران نواز عراقی ملیشیائیں جلد ہی سعودی عرب کے توانائی کے مراکز، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت شہری تنصیبات پر مشترکہ حملے کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنا رہا ہے، تاہم وہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی حل کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملوں کا مقصد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دو علاقائی ذرائع کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان جمعہ کو ریاض میں ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی بھی جمعہ کو آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، حوثیوں نے منگل کو نجران ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور جمعرات کو یمن کے صوبوں ماریب اور حضرموت میں حملوں کے دوران 30 سے زائد یمنی سرکاری فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب نے اپنے تیل کے مراکز پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے عراق میں ایران نواز گروپوں پر حملے کیے تھے، جس کے بعد عراقی ملیشیاؤں نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر کیے گئے حملے میں 11 شہری زخمی ہوگئے، جبکہ ریاض نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں اور ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی شہری تنصیبات پر مزید مربوط حملوں کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعہ کو بتایا کہ نجران صوبے میں ہونے والے حملے میں سات سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں چار سالہ ایک بچہ بھی شامل ہے، جو دوسری درجے کے جلنے کے زخموں کا شکار ہوا۔</p>
<p>ترکی المالکی نے حوثیوں پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اتحاد شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ دوسری جانب حوثیوں یا ایران کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>ایک سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کی نگرانی میں حوثی اور ایران نواز عراقی ملیشیائیں جلد ہی سعودی عرب کے توانائی کے مراکز، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت شہری تنصیبات پر مشترکہ حملے کر سکتی ہیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنا رہا ہے، تاہم وہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی حل کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملوں کا مقصد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر دو علاقائی ذرائع کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان جمعہ کو ریاض میں ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی بھی جمعہ کو آمد متوقع ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، حوثیوں نے منگل کو نجران ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور جمعرات کو یمن کے صوبوں ماریب اور حضرموت میں حملوں کے دوران 30 سے زائد یمنی سرکاری فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب نے اپنے تیل کے مراکز پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے عراق میں ایران نواز گروپوں پر حملے کیے تھے، جس کے بعد عراقی ملیشیاؤں نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289667</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 09:00:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0708571436732f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0708571436732f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی کی ضمانت ملے تو وطن واپس آکر مقدمے کا سامنا کروں گا، شکیب الحسن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289695/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شکیب الحسن نے کہا ہے کہ اگر حکومت انہیں مکمل سیکیورٹی کی ضمانت دے تو وہ دو سالہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپس آنےاور قتل سمیت تمام مقدمات کا سامنا کرنے اور الوداعی بین الاقوامی سیریز کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;39 سالہ سابق کپتان اور سابق رکنِ پارلیمان شکیب، شیخ حسینہ کی حکومت کے اگست 2024 میں خاتمے کے بعد سے امریکا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف اپنے ملک میں الوداعی سیریز کھیلنا چاہتے ہیں بلکہ 2027 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں بھی بنگلہ دیش کی نمائندگی کے خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکیب کا مقدمہ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عوامی لیگ کے متعدد رہنما اور اتحادی فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شکیب کی ممکنہ واپسی اس بات کا امتحان بھی ہوگی کہ وزیرِاعظم طارق رحمان کی حکومت سابق حکمران جماعت سے وابستہ شخصیات کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شکیب الحسن نے کہا ہے کہ اگر حکومت انہیں مکمل سیکیورٹی کی ضمانت دے تو وہ دو سالہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپس آنےاور قتل سمیت تمام مقدمات کا سامنا کرنے اور الوداعی بین الاقوامی سیریز کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔</strong></p>
<p>39 سالہ سابق کپتان اور سابق رکنِ پارلیمان شکیب، شیخ حسینہ کی حکومت کے اگست 2024 میں خاتمے کے بعد سے امریکا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف اپنے ملک میں الوداعی سیریز کھیلنا چاہتے ہیں بلکہ 2027 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں بھی بنگلہ دیش کی نمائندگی کے خواہاں ہیں۔</p>
<p>شکیب کا مقدمہ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں عوامی لیگ کے متعدد رہنما اور اتحادی فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شکیب کی ممکنہ واپسی اس بات کا امتحان بھی ہوگی کہ وزیرِاعظم طارق رحمان کی حکومت سابق حکمران جماعت سے وابستہ شخصیات کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289695</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 19:52:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/071949364e9733e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/071949364e9733e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ جلد ختم ہوجائے گی، ٹرمپ کا دعوی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289677/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افواج کو بعض ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اوول آفس میں کہا کہ میرے خیال میں یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ زیادہ دیر تک اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکی فوج نے انتہائی درست نشانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے اپنے عالمی ذخیرے کا بڑا حصہ استعمال کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ملک کے پاس بعض ہتھیاروں کی تقریباً لامحدود مقدار موجود ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دیگر ہتھیاروں کے ذخائر محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس بعض اقسام کے انتہائی طاقتور ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر تقریباً لامحدود ہیں۔ تاہم کچھ دیگر ہتھیار ایسے ہیں جن کے ذخائر نسبتاً محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی دفاعی کمپنیاں مزید پیداواری پلانٹس قائم کررہی ہیں جن میں پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائلوں کی تیاری کے لیے قائم کی جانے والی تنصیبات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افواج کو بعض ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اوول آفس میں کہا کہ میرے خیال میں یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ زیادہ دیر تک اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ پانچ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکی فوج نے انتہائی درست نشانے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے اپنے عالمی ذخیرے کا بڑا حصہ استعمال کرلیا ہے۔</p>
<p>جب ان سے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ملک کے پاس بعض ہتھیاروں کی تقریباً لامحدود مقدار موجود ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دیگر ہتھیاروں کے ذخائر محدود ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس بعض اقسام کے انتہائی طاقتور ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر تقریباً لامحدود ہیں۔ تاہم کچھ دیگر ہتھیار ایسے ہیں جن کے ذخائر نسبتاً محدود ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی دفاعی کمپنیاں مزید پیداواری پلانٹس قائم کررہی ہیں جن میں پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائلوں کی تیاری کے لیے قائم کی جانے والی تنصیبات بھی شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289677</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 12:46:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/07124240afd57b3.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/07124240afd57b3.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھائی نوجوان نے گھر اور اسکول میں فائرنگ کرکے 8 افراد کو ہلاک کرنے کے بعد خود کشی کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنکاک کے قریبی علاقے بنگ کروائے میں ایک 14 سالہ تھائی نوجوان نے شدید فائرنگ کرکے کم از کم 6 افراد کو ہلاک کرنے کے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزم نے اسکول جانے سے قبل اپنے دادا دادی کو گولی مار کر قتل کیا۔ 2022 کے بعد تھائی لینڈ میں یہ سب سے بڑا اجتماعی قتل کا واقعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ دبسیرین نونتھابوری اسکول میں پیش آیا، جہاں سے زخمیوں کو ایمبولینسوں میں منتقل کیا گیا جبکہ خوفزدہ طلبہ اور اساتذہ ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے دادا کا لائسنس یافتہ پسٹل استعمال کیا، جس سے کم از کم 26 گولیاں چلائی گئیں جبکہ اس کے پاس سے مزید 34 کارتوس برآمد ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی پولیس کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ترائیرونگ فوپھان کے مطابق اسکول میں ہلاک ہونے والے 7 افراد میں حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ اس واقعے میں 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنکاک کے قریبی علاقے بنگ کروائے میں ایک 14 سالہ تھائی نوجوان نے شدید فائرنگ کرکے کم از کم 6 افراد کو ہلاک کرنے کے بعد خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق ملزم نے اسکول جانے سے قبل اپنے دادا دادی کو گولی مار کر قتل کیا۔ 2022 کے بعد تھائی لینڈ میں یہ سب سے بڑا اجتماعی قتل کا واقعہ ہے۔</p>
<p>یہ واقعہ دبسیرین نونتھابوری اسکول میں پیش آیا، جہاں سے زخمیوں کو ایمبولینسوں میں منتقل کیا گیا جبکہ خوفزدہ طلبہ اور اساتذہ ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے رہے۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے دادا کا لائسنس یافتہ پسٹل استعمال کیا، جس سے کم از کم 26 گولیاں چلائی گئیں جبکہ اس کے پاس سے مزید 34 کارتوس برآمد ہوئے۔</p>
<p>قومی پولیس کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ترائیرونگ فوپھان کے مطابق اسکول میں ہلاک ہونے والے 7 افراد میں حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ اس واقعے میں 15 افراد شدید زخمی ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289678</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 12:51:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0712461401d27f9.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0712461401d27f9.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی، ترک اور پاکستانی قیادت کا جدہ میں سربراہی اجلاس آج ہوگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی حکومت کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے رہنما جمعہ کو جدہ میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایجنڈا فوری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی حکومت کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے رہنما جمعہ کو جدہ میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔</strong></p>
<p>سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایجنڈا فوری طور پر جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>تاہم یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289668</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 09:05:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/07090347a1fb066.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/07090347a1fb066.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کو باز رکھیں ورنہ شدید ترین جواب کا سامنا کرنا پڑیگا ، ایران کی خلیجی ریاستوں کو تنبیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289658/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مربوط سفارتی پیش رفت کی ہے، جس میں انہیں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر امریکی حملے روکنے اور اس کے بجائے مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر آمادہ نہ کیا  تو تہران ان کی تیل، بجلی اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق اس تنبیہ میں واشنگٹن کے قریبی عرب اتحادیوں کی توانائی کی تنصیبات، آئل فیلڈز، ریفائنریز، پاور گرڈز، واٹر انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور دیگر اہم اسٹریٹجک اثاثوں پر حملوں کی دھمکی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیغام خلیج بھر میں شدید معاشی تباہی کے خدشات کو بڑھا کر مزید امریکی فوجی کارروائی کو روکنے کی ایک وسیع ایرانی کوشش کا حصہ تھا، جو 28 جولائی کو ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے نیٹ ورک اور انفرااسٹرکچر پر حملے کی دھمکی کے بعد اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کے ذریعے پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سینئر ایرانی حکام خلیج کے دو ذرائع اور بات چیت سے آگاہ ایک سینئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی، ترکیہ اور قطری ہم منصبوں کے علاوہ پاکستان کے آرمی چیف سے بھی بات کی۔ معاملہ انتہائی حساس ہونے کے باعث تمام افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر سفارت کار نے بتایا کہ عراقچی نے واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں دوبارہ حملے شروع کرنے سے باز رکھیں اور خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کے نتیجے میں خلیج بھر میں موجود امریکی اثاثوں اور اہم انفرااسٹرکچر کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت کار کے مطابق ان کا پیغام ہر گفتگو میں ایک جیسا تھا کہ ”ہم جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں، لیکن سفارتی حل تلاش کرنا ہی پورے خطے میں وسیع تر کشیدگی اور تباہی سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج کے ایک ذریعہ نے کہا ایرانی تنبیہ بالکل واضح تھی: اگر امریکہ نے ایران کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو وہ خلیجی توانائی کی تنصیبات اور دیگر علاقائی ہدفوں پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سفارتی مہم اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ایران کس طرح خلیجی ممالک کی کمزوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور علاقائی حکومتوں کو اس خدشے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نئی تصادم سے ان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ براہ راست نشانہ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر سفارت کار اور خلیجی ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائی ملتوی کریں، مذاکرات کی طرف لوٹیں، جنگ بندی یقینی بنائیں اور سفارتی تصفیے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج کے ایک اور ذریعہ نے بتایا کہ یہ تنبیہ تمام خلیجی ریاستوں کے لیے تھی، لیکن بنیادی طور پر سعودی عرب اور قطر کے ذریعے پہنچائی گئی۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے خلیجی پڑوسیوں، بشمول سابق علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے ایرانی اہلکار نے بتایا کہ قطر، عمان اور سعودی عرب سبھی نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرے اور نئی کشیدگی سے گریز کرے، کیونکہ ایرانی تنبیہ کے مطابق امریکی حملوں کا ایک اور دور  خطے کو آگ کے گولے میں بدل سکتا ہے۔ 2 اگست کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر حملے کی منسوخی کے لیے اس شرط پر تیار ہوئے ہیں کہ ”تیزی سے کوئی معاہدہ طے پا سکے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی اہلکار کے مطابق یہ تمام باتیں وسیع علاقائی کشیدگی کی دھمکیوں کا حصہ ہیں۔خلیج کے پہلے ذریعہ نے کہا سعودی عرب کا ماننا ہے کہ مزید کشیدگی صرف مزید تباہی لائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری کو موقع دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں ریاض نے واشنگٹن پر سفارت کاری کا راستہ اپنانے پر زور دیا، وہیں اس نے یہ بھی واضح کیا کہ خطرہ محسوس ہونے پر وہ اپنا دفاع کرے گا۔ خلیج کے دوسرے ذریعہ نے کہا کہ سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کا ملٹری کی سطح پر جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہی محل کے قریب سمجھے جانے والے سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے کہا کہ مملکت کا اندازہ ہے کہ مزید کشیدگی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ شہابی نے کہا کہ مملکت کا ماننا ہے کہ متناسب فوجی ردِعمل اور آبنائے ہرمز میں ایران پر مسلسل دباؤ کا امتزاج ایک عملی سفارتی تصفیے کی طرف سب سے مضبوط راستہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی مذہبی قيادت نے خلیج میں امریکی فوجی اڈے بند کرنے کا بار بار مطالبہ کیا ہے اور خلیجی عرب ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ بند کریں، جس کے بارے میں تہران کا ماننا ہے کہ اس کا استعمال اس کے خلاف حملوں میں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی سعودی عرب کی آرامکو کو یاد کرتے ہیں، ان کا اشارہ ستمبر 2019 میں ابقیق اور خریص کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی طرف تھا، جس نے عارضی طور پر مملکت کی خام تیل کی نصف سے زیادہ پیداوار کو ٹھپ کر دیا تھا اور خلیجی توانائی کے انفرااسٹرکچر کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور گرڈز اور ریفائنریز سمیت ہدف کی فہرست کا حوالہ دینے والے ایرانی اہلکار نے مزید کہا دشمن ایرانی انفرااسٹرکچر کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ اگر ایران کو نقصان پہنچا تو وہ بدلے میں کہیں زیادہ بڑا نقصان پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ تہران کے نقطہ نظر سے ٹرمپ کو اب دو ناگوار انتخاب کا سامنا ہے: ایسی کشیدگی کو بڑھانا جو پورے خلیج کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی کو مفلوج کر سکتی ہے، یا پھر کسی ایسے مذاکراتی نتیجے کو قبول کرنا جو واشنگٹن کی فیصلہ کن فتح کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر علاقائی سفارت کار کے مطابق کسی بھی معاہدے کی راہ میں بنیادی رکاوٹوں میں سے ایک واشنگٹن کا تہران کو فتح کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت کار نے کہا کہ امریکا کچھ ایسا چاہتا ہے جسے وہ اس ثبوت کے طور پر پیش کر سکے کہ اس نے جنگ جیت لی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مربوط سفارتی پیش رفت کی ہے، جس میں انہیں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر امریکی حملے روکنے اور اس کے بجائے مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر آمادہ نہ کیا  تو تہران ان کی تیل، بجلی اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔</strong></p>
<p>ایک سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق اس تنبیہ میں واشنگٹن کے قریبی عرب اتحادیوں کی توانائی کی تنصیبات، آئل فیلڈز، ریفائنریز، پاور گرڈز، واٹر انفرااسٹرکچر، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور دیگر اہم اسٹریٹجک اثاثوں پر حملوں کی دھمکی شامل تھی۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیغام خلیج بھر میں شدید معاشی تباہی کے خدشات کو بڑھا کر مزید امریکی فوجی کارروائی کو روکنے کی ایک وسیع ایرانی کوشش کا حصہ تھا، جو 28 جولائی کو ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی کے نیٹ ورک اور انفرااسٹرکچر پر حملے کی دھمکی کے بعد اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کے ذریعے پہنچایا گیا۔</p>
<p>دو سینئر ایرانی حکام خلیج کے دو ذرائع اور بات چیت سے آگاہ ایک سینئر علاقائی سفارت کار نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سعودی، ترکیہ اور قطری ہم منصبوں کے علاوہ پاکستان کے آرمی چیف سے بھی بات کی۔ معاملہ انتہائی حساس ہونے کے باعث تمام افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔</p>
<p>سینئر سفارت کار نے بتایا کہ عراقچی نے واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں دوبارہ حملے شروع کرنے سے باز رکھیں اور خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کے نتیجے میں خلیج بھر میں موجود امریکی اثاثوں اور اہم انفرااسٹرکچر کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>سفارت کار کے مطابق ان کا پیغام ہر گفتگو میں ایک جیسا تھا کہ ”ہم جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں، لیکن سفارتی حل تلاش کرنا ہی پورے خطے میں وسیع تر کشیدگی اور تباہی سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔“</p>
<p>خلیج کے ایک ذریعہ نے کہا ایرانی تنبیہ بالکل واضح تھی: اگر امریکہ نے ایران کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو وہ خلیجی توانائی کی تنصیبات اور دیگر علاقائی ہدفوں پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کریں گے۔</p>
<p>یہ سفارتی مہم اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ایران کس طرح خلیجی ممالک کی کمزوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور علاقائی حکومتوں کو اس خدشے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نئی تصادم سے ان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ براہ راست نشانہ بن سکتا ہے۔</p>
<p>سینئر سفارت کار اور خلیجی ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائی ملتوی کریں، مذاکرات کی طرف لوٹیں، جنگ بندی یقینی بنائیں اور سفارتی تصفیے کی کوشش کریں۔</p>
<p>خلیج کے ایک اور ذریعہ نے بتایا کہ یہ تنبیہ تمام خلیجی ریاستوں کے لیے تھی، لیکن بنیادی طور پر سعودی عرب اور قطر کے ذریعے پہنچائی گئی۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے خلیجی پڑوسیوں، بشمول سابق علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا ہے۔</p>
<p>دوسرے ایرانی اہلکار نے بتایا کہ قطر، عمان اور سعودی عرب سبھی نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرے اور نئی کشیدگی سے گریز کرے، کیونکہ ایرانی تنبیہ کے مطابق امریکی حملوں کا ایک اور دور  خطے کو آگ کے گولے میں بدل سکتا ہے۔ 2 اگست کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر حملے کی منسوخی کے لیے اس شرط پر تیار ہوئے ہیں کہ ”تیزی سے کوئی معاہدہ طے پا سکے“۔</p>
<p>ایرانی اہلکار کے مطابق یہ تمام باتیں وسیع علاقائی کشیدگی کی دھمکیوں کا حصہ ہیں۔خلیج کے پہلے ذریعہ نے کہا سعودی عرب کا ماننا ہے کہ مزید کشیدگی صرف مزید تباہی لائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری کو موقع دیں۔</p>
<p>جہاں ریاض نے واشنگٹن پر سفارت کاری کا راستہ اپنانے پر زور دیا، وہیں اس نے یہ بھی واضح کیا کہ خطرہ محسوس ہونے پر وہ اپنا دفاع کرے گا۔ خلیج کے دوسرے ذریعہ نے کہا کہ سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کا ملٹری کی سطح پر جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>شاہی محل کے قریب سمجھے جانے والے سعودی تجزیہ کار علی شہابی نے کہا کہ مملکت کا اندازہ ہے کہ مزید کشیدگی سے مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ شہابی نے کہا کہ مملکت کا ماننا ہے کہ متناسب فوجی ردِعمل اور آبنائے ہرمز میں ایران پر مسلسل دباؤ کا امتزاج ایک عملی سفارتی تصفیے کی طرف سب سے مضبوط راستہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ایران کی مذہبی قيادت نے خلیج میں امریکی فوجی اڈے بند کرنے کا بار بار مطالبہ کیا ہے اور خلیجی عرب ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ بند کریں، جس کے بارے میں تہران کا ماننا ہے کہ اس کا استعمال اس کے خلاف حملوں میں کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وہ اب بھی سعودی عرب کی آرامکو کو یاد کرتے ہیں، ان کا اشارہ ستمبر 2019 میں ابقیق اور خریص کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی طرف تھا، جس نے عارضی طور پر مملکت کی خام تیل کی نصف سے زیادہ پیداوار کو ٹھپ کر دیا تھا اور خلیجی توانائی کے انفرااسٹرکچر کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا تھا۔</p>
<p>پاور گرڈز اور ریفائنریز سمیت ہدف کی فہرست کا حوالہ دینے والے ایرانی اہلکار نے مزید کہا دشمن ایرانی انفرااسٹرکچر کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ اگر ایران کو نقصان پہنچا تو وہ بدلے میں کہیں زیادہ بڑا نقصان پہنچائے گا۔</p>
<p>سینئر ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ تہران کے نقطہ نظر سے ٹرمپ کو اب دو ناگوار انتخاب کا سامنا ہے: ایسی کشیدگی کو بڑھانا جو پورے خلیج کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی کو مفلوج کر سکتی ہے، یا پھر کسی ایسے مذاکراتی نتیجے کو قبول کرنا جو واشنگٹن کی فیصلہ کن فتح کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔</p>
<p>ایک سینئر علاقائی سفارت کار کے مطابق کسی بھی معاہدے کی راہ میں بنیادی رکاوٹوں میں سے ایک واشنگٹن کا تہران کو فتح کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہ دینا ہے۔</p>
<p>سفارت کار نے کہا کہ امریکا کچھ ایسا چاہتا ہے جسے وہ اس ثبوت کے طور پر پیش کر سکے کہ اس نے جنگ جیت لی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289658</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 19:55:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06194322d76c052.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06194322d76c052.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی صحافی ترون تیج پال کو زیادتی کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ایک عدالت نے معروف جریدے کے سابق مدیر ترون تیج پال کو 12 سال قبل اپنی خاتون ساتھی سے زیادتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی۔ اس ہائی پروفائل مقدمے نے بھارتی دفاتر میں خواتین کے تحفظ سے متعلق بحث کو ایک بار پھر جنم دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;62 سالہ ترون تیج پال کو ممبئی ہائی کورٹ کے گوا بینچ کے دو رکنی بینچ نے زیادتی کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے 2021 میں گوا کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائے گئے بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترون تیج پال نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوا کے ایڈووکیٹ جنرل دیویداس پانگم نے سزا سنائے جانے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے ترون تیج پال کو چار ہفتوں کے اندر متعلقہ حکام کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترون تیج پال نومبر 2013 میں ”تہلکہ“ میگزین کے مدیر تھے، جب ایک خاتون ساتھی نے گوا میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران ان پر جنسی ہراسانی اور زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی قانون کے تحت متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی، اس لیے ان کی جانب سے فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترون تیج پال ”تہلکہ“ میگزین کے شریک بانی تھے، جس نے اعلیٰ سرکاری اور بااثر حلقوں میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق کئی اہم انکشافات کے ذریعے شہرت حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ایک عدالت نے معروف جریدے کے سابق مدیر ترون تیج پال کو 12 سال قبل اپنی خاتون ساتھی سے زیادتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی۔ اس ہائی پروفائل مقدمے نے بھارتی دفاتر میں خواتین کے تحفظ سے متعلق بحث کو ایک بار پھر جنم دیا۔</strong></p>
<p>62 سالہ ترون تیج پال کو ممبئی ہائی کورٹ کے گوا بینچ کے دو رکنی بینچ نے زیادتی کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے 2021 میں گوا کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائے گئے بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔</p>
<p>ترون تیج پال نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں۔</p>
<p>گوا کے ایڈووکیٹ جنرل دیویداس پانگم نے سزا سنائے جانے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے ترون تیج پال کو چار ہفتوں کے اندر متعلقہ حکام کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>ترون تیج پال نومبر 2013 میں ”تہلکہ“ میگزین کے مدیر تھے، جب ایک خاتون ساتھی نے گوا میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران ان پر جنسی ہراسانی اور زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔</p>
<p>بھارتی قانون کے تحت متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی، اس لیے ان کی جانب سے فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>ترون تیج پال ”تہلکہ“ میگزین کے شریک بانی تھے، جس نے اعلیٰ سرکاری اور بااثر حلقوں میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق کئی اہم انکشافات کے ذریعے شہرت حاصل کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289655</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 17:37:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06173223a736b4f.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06173223a736b4f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے سعودی ٹینکر پر حملے کے دعوے کے بعد خلیجی بحری ٹریفک میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289639/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شپنگ ڈیٹا کے مطابق خلیج کے اہم بحری راستوں، آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں بدھ کو گزشتہ روز کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے صرف دو بحری جہاز گزرے جن میں ایک پاناما کے پرچم والا کوئلے سے لدا جہاز آبنائے میں داخل ہوا جب کہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم والا ایک مال بردار جہاز وہاں سے باہر نکلا۔ ایک روز قبل 8 جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے قبل عام طور پر روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق آبنائے باب المندب سے بدھ کو صرف ایک مال بردار جہاز گزرا جو بہاماس کے پرچم والا ڈرائی بلک کیریئر تھا جب کہ ایک روز قبل 20 جہازوں نے آبنائے عبور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا جبکہ خلیج عدن میں بھی ایک سعودی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی جانب سے دونوں واقعات کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے گزشتہ ماہ سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ اقدام یمن کے خلاف سعودی محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا تاہم ریاض نے اس الزام کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شپنگ ڈیٹا کے مطابق خلیج کے اہم بحری راستوں، آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں بدھ کو گزشتہ روز کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>کیپلر کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے صرف دو بحری جہاز گزرے جن میں ایک پاناما کے پرچم والا کوئلے سے لدا جہاز آبنائے میں داخل ہوا جب کہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم والا ایک مال بردار جہاز وہاں سے باہر نکلا۔ ایک روز قبل 8 جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزر کیا تھا۔</p>
<p>28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے قبل عام طور پر روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے۔</p>
<p>کیپلر کے ڈیٹا کے مطابق آبنائے باب المندب سے بدھ کو صرف ایک مال بردار جہاز گزرا جو بہاماس کے پرچم والا ڈرائی بلک کیریئر تھا جب کہ ایک روز قبل 20 جہازوں نے آبنائے عبور کیا تھا۔</p>
<p>یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا جبکہ خلیج عدن میں بھی ایک سعودی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا۔</p>
<p>سعودی عرب کی جانب سے دونوں واقعات کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
<p>حوثیوں نے گزشتہ ماہ سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ اقدام یمن کے خلاف سعودی محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا تاہم ریاض نے اس الزام کی تردید کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289639</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 12:55:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06125359f3e104e.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06125359f3e104e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا اسلحے کی کمی کی خبروں کی تردید، امریکا کے پاس بھاری مقدار میں گولہ بارود موجود ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289656/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے اس کے برعکس دعویٰ کرنے والوں کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی، جبکہ ایران سے جنگ کے معاملے پر ان کی برہمی کھل کر سامنے آگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسلحے کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ”خصوصاً بعض اقسام کے گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے“، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مزید کہا، ”ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں گولہ بارود تیار کرکے امریکا بھیجا جا رہا ہے۔ دفاعی کمپنیاں ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ نئے پلانٹس اور کارخانے قائم کر رہی ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس پر وضاحت طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ سے کہا کہ ان کے خیال میں گولہ بارود کی قلت کا مسئلہ ”حل ہو چکا تھا“۔ اخبار نے یہ دعویٰ اس گفتگو سے آگاہ دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ”ان غداری پر مبنی بیانات لیک کرنے والوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے“ اور ”ان کے لیے طویل المدتی قید کی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سی این این نے رپورٹ کیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی قلت نے ایران سے متعلق ٹرمپ کی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنے تھاڈ ( ٹی ایچ اے اے ڈی) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے مزید رپورٹ کیا کہ اسی قلت کے باعث ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا منصوبہ منسوخ کر دیا، حالانکہ اس سے قبل وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ”انتہائی سخت“ حملوں کی دھمکی دے چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ٹرمپ اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا کوریج کو ”فیک نیوز“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں موجود تھی۔ ایسا کوئی واقعہ ہرگز پیش نہیں آیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے بھی ٹرمپ اور ہیگستھ کے درمیان مبینہ تلخ کلامی اور گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس کو ”یکساں طور پر من گھڑت“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات جاری نہیں، حالانکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے اس کے برعکس دعویٰ کرنے والوں کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی، جبکہ ایران سے جنگ کے معاملے پر ان کی برہمی کھل کر سامنے آگئی ہے۔</strong></p>
<p>ریپبلکن صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسلحے کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ”خصوصاً بعض اقسام کے گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے“، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے مزید کہا، ”ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں گولہ بارود تیار کرکے امریکا بھیجا جا رہا ہے۔ دفاعی کمپنیاں ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ نئے پلانٹس اور کارخانے قائم کر رہی ہیں۔“</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس پر وضاحت طلب کی تھی۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ سے کہا کہ ان کے خیال میں گولہ بارود کی قلت کا مسئلہ ”حل ہو چکا تھا“۔ اخبار نے یہ دعویٰ اس گفتگو سے آگاہ دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ”ان غداری پر مبنی بیانات لیک کرنے والوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے“ اور ”ان کے لیے طویل المدتی قید کی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے گا۔“</p>
<p>دوسری جانب سی این این نے رپورٹ کیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی قلت نے ایران سے متعلق ٹرمپ کی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنے تھاڈ ( ٹی ایچ اے اے ڈی) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال کر چکی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے مزید رپورٹ کیا کہ اسی قلت کے باعث ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا منصوبہ منسوخ کر دیا، حالانکہ اس سے قبل وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ”انتہائی سخت“ حملوں کی دھمکی دے چکے تھے۔</p>
<p>ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ٹرمپ اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا کوریج کو ”فیک نیوز“ قرار دیا۔</p>
<p>کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں موجود تھی۔ ایسا کوئی واقعہ ہرگز پیش نہیں آیا۔“</p>
<p>پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے بھی ٹرمپ اور ہیگستھ کے درمیان مبینہ تلخ کلامی اور گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس کو ”یکساں طور پر من گھڑت“ قرار دیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات جاری نہیں، حالانکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289656</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 19:01:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06185229aaddfc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06185229aaddfc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی لبنان میں جھڑپیں، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289635/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی فوج نے جمعرات کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جوابی حملوں میں کم از کم ایک شخص مارا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حملوں کا آغاز کیا جسے اس نے جنگ بندی کی حزب اللہ کی جانب سے خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے ردعمل میں کارروائی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران دھماکا خیز ڈیوائس پھٹنے سے دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی وزارتِ صحت نے بتایا کہ جنوبی قصبے طیبنین پر اسرائیلی حملے میں ایک شخص ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد میں یہ تازہ اضافہ روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے تازہ دور کے دوران ہوا ہے، دونوں ممالک نے جون میں امریکا کی ثالثی میں ایک سیکیورٹی انتظام پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد سرحد پر کشیدگی اور دشمنی میں کمی لانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھے گا تاکہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خطرے کا خاتمہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی فوج نے جمعرات کو بتایا کہ جنوبی لبنان میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جوابی حملوں میں کم از کم ایک شخص مارا گیا۔</strong></p>
<p>بدھ کو اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حملوں کا آغاز کیا جسے اس نے جنگ بندی کی حزب اللہ کی جانب سے خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کے ردعمل میں کارروائی قرار دیا۔</p>
<p>اسرائیلی مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران دھماکا خیز ڈیوائس پھٹنے سے دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔</p>
<p>لبنانی وزارتِ صحت نے بتایا کہ جنوبی قصبے طیبنین پر اسرائیلی حملے میں ایک شخص ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوگئے۔</p>
<p>تشدد میں یہ تازہ اضافہ روم میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے تازہ دور کے دوران ہوا ہے، دونوں ممالک نے جون میں امریکا کی ثالثی میں ایک سیکیورٹی انتظام پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد سرحد پر کشیدگی اور دشمنی میں کمی لانا تھا۔</p>
<p>تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھے گا تاکہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خطرے کا خاتمہ کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289635</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 11:30:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/061127465cbd3f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/061127465cbd3f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تہران کے ساتھ مذاکرات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، ٹرمپ پر امید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289625/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کافی اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایران جنگ سے متعلق مذاکرات کے بارے میں اپنا مثبت مؤقف دہرایا، تاہم بات چیت کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فاکس 5 لاس ویگاس کے صحافی ٹام ڈوریان کو دیے گئے فاکس 5 ون-آن- ون پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا کہ میں نے سنا ہے کہ بات چیت بہت اچھی چل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایران جنگ اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں فریق اب تک تنازع کے مستقل خاتمے پر متفق نہیں ہو سکے، تاہم ٹرمپ مسلسل ان مذاکرات کو مثبت انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جسے جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے توانائی کی ترسیل کے اہم راستے کے طور پر بند کر دیا تھا، اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ جلد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ میرا مقصد لوگوں کو ہلاک کرنا یا ہر چیز کو مکمل طور پر تباہ کرنا نہیں ہے، حالانکہ صورتحال اسی طرف جا رہی تھی۔ وہ مذاکرات کرنا چاہتے تھے اور ہم یہی کر رہے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کافی اچھے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے ماہرین نے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ان دھمکیوں پر عمل کیا تو تہران خطے کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کافی اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایران جنگ سے متعلق مذاکرات کے بارے میں اپنا مثبت مؤقف دہرایا، تاہم بات چیت کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے فاکس 5 لاس ویگاس کے صحافی ٹام ڈوریان کو دیے گئے فاکس 5 ون-آن- ون پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہا کہ میں نے سنا ہے کہ بات چیت بہت اچھی چل رہی ہے۔</p>
<p>اگرچہ ایران جنگ اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں فریق اب تک تنازع کے مستقل خاتمے پر متفق نہیں ہو سکے، تاہم ٹرمپ مسلسل ان مذاکرات کو مثبت انداز میں پیش کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جسے جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے توانائی کی ترسیل کے اہم راستے کے طور پر بند کر دیا تھا، اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدہ جلد متوقع ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ میرا مقصد لوگوں کو ہلاک کرنا یا ہر چیز کو مکمل طور پر تباہ کرنا نہیں ہے، حالانکہ صورتحال اسی طرف جا رہی تھی۔ وہ مذاکرات کرنا چاہتے تھے اور ہم یہی کر رہے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کافی اچھے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کے ماہرین نے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ان دھمکیوں پر عمل کیا تو تہران خطے کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289625</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 09:07:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0609040697f22d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0609040697f22d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو خطے میں اہم تنصیبات نشانے پر ہوں گی، ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289633/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران خطے کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام امریکا کے قریبی اتحادی خلیجی ممالک کو پہنچایا ہے تاکہ واشنگٹن کے لیے فوجی کارروائی کی قیمت بڑھائی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 28 جولائی کو ایران کے توانائی نیٹ ورک اور انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تہران نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے شروع کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، ترکی، قطر کے وزرائے خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے بھی رابطے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علاقائی سفارت کار کے مطابق عباس عراقچی نے امریکا کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں ایران کے خلاف نئے حملوں سے روکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب خلیج میں امریکی تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا کر دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پیغام کے حوالے سے سفارت کار نے کہا کہ تہران جنگ میں توسیع نہیں چاہتا اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم ایران کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بعد ازاں صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور انہیں فوجی کارروائی مؤخر کرنے، مذاکرات بحال کرنے، جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوشش کرنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، بجلی کے نظام، پانی کے منصوبوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے 2019 میں سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی توانائی انفرااسٹرکچر پہلے بھی خطرات کا سامنا کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا مقصد امریکا اور عرب اتحادیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے خطے میں اقتصادی اور اسٹرٹیجک نقصانات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران خطے کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام امریکا کے قریبی اتحادی خلیجی ممالک کو پہنچایا ہے تاکہ واشنگٹن کے لیے فوجی کارروائی کی قیمت بڑھائی جا سکے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 28 جولائی کو ایران کے توانائی نیٹ ورک اور انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تہران نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے شروع کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، ترکی، قطر کے وزرائے خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے بھی رابطے کیے۔</p>
<p>ایک علاقائی سفارت کار کے مطابق عباس عراقچی نے امریکا کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں ایران کے خلاف نئے حملوں سے روکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب خلیج میں امریکی تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا کر دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ایرانی پیغام کے حوالے سے سفارت کار نے کہا کہ تہران جنگ میں توسیع نہیں چاہتا اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم ایران کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بعد ازاں صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور انہیں فوجی کارروائی مؤخر کرنے، مذاکرات بحال کرنے، جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوشش کرنے پر زور دیا۔</p>
<p>ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، بجلی کے نظام، پانی کے منصوبوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تہران نے 2019 میں سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی توانائی انفرااسٹرکچر پہلے بھی خطرات کا سامنا کر چکا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا مقصد امریکا اور عرب اتحادیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے خطے میں اقتصادی اور اسٹرٹیجک نقصانات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289633</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 10:18:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06101601d6b1188.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06101601d6b1188.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم لیڈر سے رابطہ کرنا فی الحال بہت مشکل ہے، ایرانی صدر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289626/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ موجودہ حالات میں رابطہ کرنا بہت مشکل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای  سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک کہیں عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لی، جو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ابتدائی حملوں میں سے ایک میں شہید ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ موجودہ حالات میں رابطہ کرنا بہت مشکل ہے۔</strong></p>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای  سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک کہیں عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لی، جو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ابتدائی حملوں میں سے ایک میں شہید ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289626</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 09:12:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/060910351da2e32.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/060910351da2e32.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا آبنائے ہرمز کے نئے بحری راستے پر عمان سے معاہدے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289618/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے بحری راستے پر متفق ہو گئے ہیں اور اس آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام سے متعلق حتمی امور طے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز عملاً ایران کے کنٹرول میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ تہران بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اس حوالے سے آبنائے ہرمز کے دوسری جانب واقع اپنے ہمسایہ ملک عمان کے ساتھ انتظامات کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ”دونوں ممالک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی محلِ وقوع پر متفق ہو چکے ہیں، اور اگر بعض تیسرے فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالیں تو دونوں ممالک کا مشترکہ اعلامیہ، جس میں بنیادی نکات اور باہمی اتفاق رائے شامل ہوگا، حتمی جائزے اور مسودہ سازی کے مرحلے میں ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم اگر کوئی مفاہمت طے بھی پا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کے اسباب اب بھی امریکہ کی جانب سے موجود ہیں، خصوصاً ایران اور اس کے مفادات کے خلاف بحری ناکہ بندی اور دیگر جارحانہ و دھمکی آمیز اقدامات۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھیں۔ اس آبی گزرگاہ پر تنازع شروع ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بارہا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے اس بحران کے خاتمے کے لیے واشنگٹن پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے بحری راستے پر متفق ہو گئے ہیں اور اس آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام سے متعلق حتمی امور طے کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز عملاً ایران کے کنٹرول میں ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ تہران بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اس حوالے سے آبنائے ہرمز کے دوسری جانب واقع اپنے ہمسایہ ملک عمان کے ساتھ انتظامات کرے گا۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ”دونوں ممالک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی محلِ وقوع پر متفق ہو چکے ہیں، اور اگر بعض تیسرے فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالیں تو دونوں ممالک کا مشترکہ اعلامیہ، جس میں بنیادی نکات اور باہمی اتفاق رائے شامل ہوگا، حتمی جائزے اور مسودہ سازی کے مرحلے میں ہے۔“</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم اگر کوئی مفاہمت طے بھی پا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہو گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کے اسباب اب بھی امریکہ کی جانب سے موجود ہیں، خصوصاً ایران اور اس کے مفادات کے خلاف بحری ناکہ بندی اور دیگر جارحانہ و دھمکی آمیز اقدامات۔“</p>
<p>جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھیں۔ اس آبی گزرگاہ پر تنازع شروع ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بارہا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے اس بحران کے خاتمے کے لیے واشنگٹن پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289618</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 21:26:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0521223967a3096.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0521223967a3096.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کا اپنی جماعت پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289616/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بدھ کو اپنی جماعت عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ دسمبر میں اپنے وطن واپس جائیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد نے یہ باتیں 2024 میں اپنی حکومت کے خاتمے کی دوسری برسی کے موقع پر نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ سے توقع تھی کہ وہ اس تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی، تاہم انہوں نے صرف آڈیو پیغام جاری کیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے ویڈیو کے ذریعے شرکت کیوں نہیں کی، جبکہ ان سے قبل ان کی جماعت کے دیگر رہنما اور ان کے صاحبزادے نے ویڈیو کے ذریعے خطاب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معزولی کے بعد میڈیا کے ساتھ یہ ان کی پہلی براہِ راست گفتگو تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالی ویڈیو اسکرین کے پیچھے سے آڈیو پیغام دیتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا، ”میں اپنے عوام کے پاس واپس آؤں گی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وطن واپسی کی حتمی تاریخ اور دیگر تفصیلات مناسب وقت آنے پر بتائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”وہ میرے خلاف من گھڑت مقدمات قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن خوف میرے عوام کے لیے میری ذمہ داری، میری زندگی یا میرے فیصلوں کا تعین نہیں کر سکتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;78 سالہ حسینہ واجد نے گزشتہ ماہ رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک بنگلہ دیش واپس جا کر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال قبل ڈھاکہ میں حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں مختلف ادوار پر محیط ان کی 20 سالہ وزارتِ عظمیٰ کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے الزام میں عدم موجودگی میں انہیں سزائے موت سنائی تھی، تاہم انہوں نے جلاوطنی کے دوران ان الزامات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وزیراعظم طارق رحمان کی قیادت میں فروری میں اقتدار میں آنے والی نئی بنگلہ دیشی حکومت نے منگل کو ملکی ذرائع ابلاغ کو خبردار کیا کہ وہ شیخ حسینہ کے بیانات شائع یا نشر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا 2024 کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوگا، جس کے تحت ان کی تقاریر اور بیانات کی اشاعت اور نشریات پر پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ حسینہ کے تازہ بیانات پر بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈھاکہ حکومت متعدد بار بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اسے یہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بدھ کو اپنی جماعت عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ دسمبر میں اپنے وطن واپس جائیں گی۔</strong></p>
<p>حسینہ واجد نے یہ باتیں 2024 میں اپنی حکومت کے خاتمے کی دوسری برسی کے موقع پر نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔</p>
<p>شیخ حسینہ سے توقع تھی کہ وہ اس تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی، تاہم انہوں نے صرف آڈیو پیغام جاری کیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے ویڈیو کے ذریعے شرکت کیوں نہیں کی، جبکہ ان سے قبل ان کی جماعت کے دیگر رہنما اور ان کے صاحبزادے نے ویڈیو کے ذریعے خطاب کیا تھا۔</p>
<p>معزولی کے بعد میڈیا کے ساتھ یہ ان کی پہلی براہِ راست گفتگو تھی۔</p>
<p>خالی ویڈیو اسکرین کے پیچھے سے آڈیو پیغام دیتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا، ”میں اپنے عوام کے پاس واپس آؤں گی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وطن واپسی کی حتمی تاریخ اور دیگر تفصیلات مناسب وقت آنے پر بتائی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”وہ میرے خلاف من گھڑت مقدمات قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن خوف میرے عوام کے لیے میری ذمہ داری، میری زندگی یا میرے فیصلوں کا تعین نہیں کر سکتا۔“</p>
<p>78 سالہ حسینہ واجد نے گزشتہ ماہ رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک بنگلہ دیش واپس جا کر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔</p>
<p>دو سال قبل ڈھاکہ میں حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں مختلف ادوار پر محیط ان کی 20 سالہ وزارتِ عظمیٰ کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے الزام میں عدم موجودگی میں انہیں سزائے موت سنائی تھی، تاہم انہوں نے جلاوطنی کے دوران ان الزامات کی تردید کی ہے۔</p>
<p>ادھر وزیراعظم طارق رحمان کی قیادت میں فروری میں اقتدار میں آنے والی نئی بنگلہ دیشی حکومت نے منگل کو ملکی ذرائع ابلاغ کو خبردار کیا کہ وہ شیخ حسینہ کے بیانات شائع یا نشر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا 2024 کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوگا، جس کے تحت ان کی تقاریر اور بیانات کی اشاعت اور نشریات پر پابندی عائد ہے۔</p>
<p>شیخ حسینہ کے تازہ بیانات پر بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>دوسری جانب ڈھاکہ حکومت متعدد بار بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اسے یہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289616</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 21:02:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/052054382bfb443.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/052054382bfb443.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مجوزہ آبنائے ہرمز معاہدے سے ایران کو آنے والی بحری آمدورفت کا کنٹرول مل جائے گا، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289612/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر ایرانی ذریعے اور خطے کے دو عہدیداروں نے بدھ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کا کنٹرول تہران کو دیا جا سکتا ہے، جو ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ قریب الوقوع ہے۔ ان کے بقول کئی اہم نکات پر اب بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ذرائع میں سے ایک نے رائٹرز کو بتایا، ”آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں ایران کے کنٹرول سے متعلق رعایت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے علاقائی ذریعے کے مطابق اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ”کنٹرول“ کی عملی نوعیت کیا ہوگی۔ خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی علاقائی ممالک کریں، جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ زیر غور معاہدے کے مسودے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر ایران کو اختیار حاصل ہوگا، جبکہ سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے بحری جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ معاہدے سے متعلق ان انکشافات پر واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے انتظام کو قبول نہیں کریں گے جس کے تحت دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ تک رسائی کا اختیار ایران کو مل جائے۔ تاہم ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام حالیہ دنوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی ووٹروں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" href="#بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بحیرہ احمر میں حملے کے بعد تیل مہنگا&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یمن میں ایران نواز حوثی تحریک نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں پر ہونے والا تازہ حملہ ہے جس نے عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عالمی خام تیل کی قیمتیں اب بھی جولائی کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب ہیں، کیونکہ گزشتہ دو روز کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے روکنے اور مذاکرات شروع ہونے کے دعوے کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ایران عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے عمان کی ایک سابقہ تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ اس میں اسے بہت کم اختیارات دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" href="#ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ: مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات ”اچھی پیش رفت کر رہے ہیں“ اور منگل کو ”پورا دن مذاکرات جاری رہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ اگر وہ ایک بار پھر پیچھے ہٹے تو انہیں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی ٹرمپ نے ایران پر ”بڑے پیمانے کے حملے“ روکنے کے فیصلے کی وجہ یہی مذاکرات قرار دی تھی، اور جنگ کے دوران وہ متعدد مرتبہ یہی مؤقف دہراتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سینئر ایرانی ذریعے نے جلد معاہدہ طے پانے کے امکان کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت تعطیلات پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ”مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ایرانی ذریعے نے کہا، ”اصل معاملہ تفصیلات کا ہے۔ ٹرمپ کی ایک ہی ٹویٹ پورا معاہدہ سبوتاژ کر سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز تک رسائی پر ایران کو کسی بھی نوعیت کا اختیار مل جاتا ہے تو یہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر کھلی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ”آپریشن ایپک فیوری“ ایران کی ”غیر مشروط ہتھیار ڈالنے“ پر ختم ہوگا اور ایران کی قیادت کے بارے میں بھی فیصلہ وہ خود کریں گے، اب ایسی جنگ سے نکلنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جس کی امریکی ووٹروں کی دو تہائی اکثریت مخالفت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کے مال بردار سامان کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد بطور فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز پر بات کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کسی بھی قسم کی فیس کے سخت خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، فیس کی ادائیگی کو کم از کم بظاہر رضاکارانہ قرار دینا تعطل ختم کرنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے، تاہم ایران کی ممکنہ کارروائیوں کے خدشے کے باعث جہاز راں کمپنیاں فیس ادا کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی کئی ماہ پر محیط فوجی کارروائیاں، جن میں جولائی کے دوران دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری بھی شامل ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کمزور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ امریکی فوجی کمانڈروں نے جولائی میں ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بعض اہم ہتھیاروں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً تمام جدید میزائل استعمال کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوجی دباؤ میں ہر وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادیوں نے مزید سخت ردعمل دیا، جن میں یمن کے بڑے حصے اور بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک اور اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے والے حوثی جنگجو بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو حوثیوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی تیل بردار ترسیل روکنے کے لیے نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کا حصہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے پر قائم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بھارتی حکام کے مطابق منگل کو یمن کے قریب بھارتی پرچم بردار ایک بحری جہاز ایک گولے کی زد میں آ کر ڈوب گیا۔ جہاز کے تمام 14 عملہ ارکان، جن میں 13 بھارتی شہری شامل تھے، کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ یمن میں حوثیوں کے مخالف اور ملک کے جنوبی حصے میں قائم حکومت نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر ایرانی ذریعے اور خطے کے دو عہدیداروں نے بدھ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کا کنٹرول تہران کو دیا جا سکتا ہے، جو ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ قریب الوقوع ہے۔ ان کے بقول کئی اہم نکات پر اب بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔</p>
<p>علاقائی ذرائع میں سے ایک نے رائٹرز کو بتایا، ”آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں ایران کے کنٹرول سے متعلق رعایت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔“</p>
<p>دوسرے علاقائی ذریعے کے مطابق اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ”کنٹرول“ کی عملی نوعیت کیا ہوگی۔ خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی علاقائی ممالک کریں، جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔</p>
<p>سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ زیر غور معاہدے کے مسودے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر ایران کو اختیار حاصل ہوگا، جبکہ سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے بحری جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہوگا۔</p>
<p>مجوزہ معاہدے سے متعلق ان انکشافات پر واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>امریکی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے انتظام کو قبول نہیں کریں گے جس کے تحت دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ تک رسائی کا اختیار ایران کو مل جائے۔ تاہم ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام حالیہ دنوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی ووٹروں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے۔</p>
<h3><a id="بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" href="#بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بحیرہ احمر میں حملے کے بعد تیل مہنگا</h3>
<p>بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یمن میں ایران نواز حوثی تحریک نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں پر ہونے والا تازہ حملہ ہے جس نے عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>تاہم عالمی خام تیل کی قیمتیں اب بھی جولائی کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب ہیں، کیونکہ گزشتہ دو روز کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے روکنے اور مذاکرات شروع ہونے کے دعوے کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔</p>
<p>اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ایران عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے عمان کی ایک سابقہ تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ اس میں اسے بہت کم اختیارات دیے گئے تھے۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" href="#ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ: مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں</h3>
<p>ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات ”اچھی پیش رفت کر رہے ہیں“ اور منگل کو ”پورا دن مذاکرات جاری رہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ اگر وہ ایک بار پھر پیچھے ہٹے تو انہیں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔“</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی ٹرمپ نے ایران پر ”بڑے پیمانے کے حملے“ روکنے کے فیصلے کی وجہ یہی مذاکرات قرار دی تھی، اور جنگ کے دوران وہ متعدد مرتبہ یہی مؤقف دہراتے رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم سینئر ایرانی ذریعے نے جلد معاہدہ طے پانے کے امکان کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت تعطیلات پر ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ”مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔“</p>
<p>ایک اور ایرانی ذریعے نے کہا، ”اصل معاملہ تفصیلات کا ہے۔ ٹرمپ کی ایک ہی ٹویٹ پورا معاہدہ سبوتاژ کر سکتی ہے۔“</p>
<p>اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز تک رسائی پر ایران کو کسی بھی نوعیت کا اختیار مل جاتا ہے تو یہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر کھلی ہوئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ”آپریشن ایپک فیوری“ ایران کی ”غیر مشروط ہتھیار ڈالنے“ پر ختم ہوگا اور ایران کی قیادت کے بارے میں بھی فیصلہ وہ خود کریں گے، اب ایسی جنگ سے نکلنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جس کی امریکی ووٹروں کی دو تہائی اکثریت مخالفت کر رہی ہے۔</p>
<p>سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کے مال بردار سامان کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد بطور فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز پر بات کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کسی بھی قسم کی فیس کے سخت خلاف ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، فیس کی ادائیگی کو کم از کم بظاہر رضاکارانہ قرار دینا تعطل ختم کرنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے، تاہم ایران کی ممکنہ کارروائیوں کے خدشے کے باعث جہاز راں کمپنیاں فیس ادا کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں گی۔</p>
<p>امریکہ کی کئی ماہ پر محیط فوجی کارروائیاں، جن میں جولائی کے دوران دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری بھی شامل ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کمزور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ امریکی فوجی کمانڈروں نے جولائی میں ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بعض اہم ہتھیاروں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً تمام جدید میزائل استعمال کر چکی ہے۔</p>
<p>امریکی فوجی دباؤ میں ہر وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادیوں نے مزید سخت ردعمل دیا، جن میں یمن کے بڑے حصے اور بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک اور اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے والے حوثی جنگجو بھی شامل ہیں۔</p>
<p>بدھ کو حوثیوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی تیل بردار ترسیل روکنے کے لیے نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کا حصہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے پر قائم کی گئی ہے۔</p>
<p>ادھر بھارتی حکام کے مطابق منگل کو یمن کے قریب بھارتی پرچم بردار ایک بحری جہاز ایک گولے کی زد میں آ کر ڈوب گیا۔ جہاز کے تمام 14 عملہ ارکان، جن میں 13 بھارتی شہری شامل تھے، کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ یمن میں حوثیوں کے مخالف اور ملک کے جنوبی حصے میں قائم حکومت نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289612</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 18:27:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/051819548366413.webp" type="image/webp" medium="image" height="359" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/051819548366413.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہاجر بچوں کی بڑھتی آمد کے بعد سیوٹا نے 'ناقابلِ برداشت' صورتحال سے خبردار کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289611/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپین کے شمالی افریقی خودمختار شہر سیوٹا کے سربراہ نے بدھ کو کہا کہ گزشتہ ہفتے مہاجرین کی غیر معمولی آمد کے بعد وہاں موجود مہاجر بچوں کی تعداد اب ”ناقابلِ برداشت“ حد تک پہنچ چکی ہے، اور انہوں نے مرکزی حکومت سے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے مطابق 30 جولائی سے 72 ہزار مہاجرین سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، جن میں سے 70 ہزار کو واپس ہمسایہ ملک مراکش بھیج دیا گیا ہے۔ مہاجرین کی اس غیر معمولی آمد نے یورپی یونین کے ان رکن ممالک کو بھی برہم کر دیا ہے جو غیر قانونی ہجرت کے خلاف مزید سخت پالیسیوں کے حامی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سیوٹا میں اب بھی موجود تقریباً 2,500 مہاجرین میں سیکڑوں ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو کسی سرپرست کے بغیر آئے ہیں اور خوراک، پینے کے پانی، رہائش اور صفائی جیسی بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کے باعث انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیوٹا کے سربراہ خوان جیسس ویواس نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ اس وقت 1,100 نابالغ مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہی ہے، جبکہ اس کی گنجائش صرف 90 بچوں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویواس نے کہا، ”یہ صورتحال مکمل طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے،“ اور خبردار کیا کہ استقبالی مراکز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جانے کے باعث امنِ عامہ اور عوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیوٹا میں ہسپانوی حکومت کے اعلیٰ نمائندے میگوئل اینخل پیریز نے بھی بدھ کو اعتراف کیا کہ ”اب بھی نابالغ بچے ہماری سڑکوں پر موجود ہیں، اور یہی ہماری اولین ترجیح اور شدید تشویش کا باعث ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویواس نے کہا، ”ہم مرکزی حکومت کے ذریعے اسپین کے دیگر علاقوں سے مدد اور تعاون کے طلبگار ہیں،“ اور بحران سے نمٹنے میں بائیں بازو کی حکومت کے ردعمل کو ایک بار پھر ”تاخیر کا شکار اور واضح طور پر ناکافی“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق سیوٹا میں اب بھی موجود مہاجرین میں تقریباً ایک ہزار ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو مناسب تحفظ سے محروم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ قانونی ضوابط کے تحت ان بچوں کو اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کی کوششوں کو قدامت پسند پاپولر پارٹی (پی پی) اور امیگریشن مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سوشلسٹ نائب وزیراعظم کارلوس کوئرپو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر زور دیا کہ پاپولر پارٹی اور اس کی علاقائی حکومتوں کو بھی دوسروں کی طرح قانون پر عمل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وزارتِ نوجوانان و اطفال نے منگل کو 2 کروڑ 50 لاکھ یورو (2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا، تاکہ 84 ہزار آبادی والے اس چھوٹے سے علاقے کو نابالغ مہاجرین کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق بغیر سرپرست آنے والے نابالغ مہاجرین، خصوصاً لڑکیوں، کی رہائش کے لیے دو اسکولوں کو عارضی استقبالی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپین کے شمالی افریقی خودمختار شہر سیوٹا کے سربراہ نے بدھ کو کہا کہ گزشتہ ہفتے مہاجرین کی غیر معمولی آمد کے بعد وہاں موجود مہاجر بچوں کی تعداد اب ”ناقابلِ برداشت“ حد تک پہنچ چکی ہے، اور انہوں نے مرکزی حکومت سے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔</strong></p>
<p>اسپین کے مطابق 30 جولائی سے 72 ہزار مہاجرین سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، جن میں سے 70 ہزار کو واپس ہمسایہ ملک مراکش بھیج دیا گیا ہے۔ مہاجرین کی اس غیر معمولی آمد نے یورپی یونین کے ان رکن ممالک کو بھی برہم کر دیا ہے جو غیر قانونی ہجرت کے خلاف مزید سخت پالیسیوں کے حامی ہیں۔</p>
<p>تاہم سیوٹا میں اب بھی موجود تقریباً 2,500 مہاجرین میں سیکڑوں ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو کسی سرپرست کے بغیر آئے ہیں اور خوراک، پینے کے پانی، رہائش اور صفائی جیسی بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کے باعث انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>سیوٹا کے سربراہ خوان جیسس ویواس نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ اس وقت 1,100 نابالغ مہاجرین کی دیکھ بھال کر رہی ہے، جبکہ اس کی گنجائش صرف 90 بچوں کی ہے۔</p>
<p>ویواس نے کہا، ”یہ صورتحال مکمل طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے،“ اور خبردار کیا کہ استقبالی مراکز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھر جانے کے باعث امنِ عامہ اور عوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p>سیوٹا میں ہسپانوی حکومت کے اعلیٰ نمائندے میگوئل اینخل پیریز نے بھی بدھ کو اعتراف کیا کہ ”اب بھی نابالغ بچے ہماری سڑکوں پر موجود ہیں، اور یہی ہماری اولین ترجیح اور شدید تشویش کا باعث ہے۔“</p>
<p>ویواس نے کہا، ”ہم مرکزی حکومت کے ذریعے اسپین کے دیگر علاقوں سے مدد اور تعاون کے طلبگار ہیں،“ اور بحران سے نمٹنے میں بائیں بازو کی حکومت کے ردعمل کو ایک بار پھر ”تاخیر کا شکار اور واضح طور پر ناکافی“ قرار دیا۔</p>
<p>فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق سیوٹا میں اب بھی موجود مہاجرین میں تقریباً ایک ہزار ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو مناسب تحفظ سے محروم ہیں۔</p>
<p>موجودہ قانونی ضوابط کے تحت ان بچوں کو اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کی کوششوں کو قدامت پسند پاپولر پارٹی (پی پی) اور امیگریشن مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سوشلسٹ نائب وزیراعظم کارلوس کوئرپو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر زور دیا کہ پاپولر پارٹی اور اس کی علاقائی حکومتوں کو بھی دوسروں کی طرح قانون پر عمل کرنا ہوگا۔</p>
<p>ادھر وزارتِ نوجوانان و اطفال نے منگل کو 2 کروڑ 50 لاکھ یورو (2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا، تاکہ 84 ہزار آبادی والے اس چھوٹے سے علاقے کو نابالغ مہاجرین کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کی جا سکے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق بغیر سرپرست آنے والے نابالغ مہاجرین، خصوصاً لڑکیوں، کی رہائش کے لیے دو اسکولوں کو عارضی استقبالی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289611</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 18:15:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/05180214f5e3f10.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/05180214f5e3f10.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی تجارتی پابندیوں کے بعد چین کا جوابی اقدامات کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289614/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین نے بدھ کو امریکہ کو ڈرونز کی برآمدات پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے جبری مشقت اور قومی سلامتی کے خدشات کے تحت عائد تجارتی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکہ نے چین سمیت 59 دیگر ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کیے تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی اقدامات کی فہرست مزید طویل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی اقدامات ”چین کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”چین اس کے جواب میں صرف ضروری جوابی اقدامات ہی کر سکتا ہے، جن میں امریکہ کو ڈرونز، ان کے اہم پرزہ جات اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر مزید سخت پابندیاں شامل ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق بیجنگ نے چینی سرٹیفکیشن اداروں کی جانب سے فیکٹریوں کے فالو اپ معائنے بھی معطل کر دیے ہیں، متعدد امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جبکہ دفتری پرنٹرز اور فوٹو کاپی مشینوں کی درآمدات کے حوالے سے قومی سلامتی کی بنیاد پر تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے چھ امریکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں بایو ٹیکنالوجی کمپنی اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز اور ارضیاتی تحقیقاتی ادارہ اسٹریٹم ریزروائر شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت چین کے اندر کسی بھی ادارے یا فرد کو ان کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین، تعاون یا دیگر سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت نے کہا کہ ان چھ کمپنیوں نے سنکیانگ سے متعلق امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں میں معاونت اور حمایت کی، اور ان کے اقدامات کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ سنکیانگ میں زیادہ تر مسلمان ایغور اقلیت کے خلاف ممکنہ انسانیت کے خلاف جرائم کی نشاندہی کر چکی ہے، تاہم چین ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے اعلیٰ تجارتی عہدیدار ہے لی فنگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران حالیہ امریکی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے رپورٹ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے چین نے امریکہ پر چینی کمپنیوں کو ”دبانے“ کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا تھا، جب واشنگٹن نے نئے ٹیرف سے الگ ایک فیصلے میں بیرونِ ملک تیار کیے گئے انسانی شکل (ہیومنوئیڈ) اور چار ٹانگوں والے (کواڈروپیڈ) روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اور امریکہ گزشتہ سال کے بیشتر عرصے تک بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ میں الجھے رہے، تاہم گزشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں پر امریکہ کے حالیہ ٹیرف نے اس جنگ بندی کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ بیجنگ نے واشنگٹن کو تجارتی جنگ سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین نے بدھ کو امریکہ کو ڈرونز کی برآمدات پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چھ امریکی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے جبری مشقت اور قومی سلامتی کے خدشات کے تحت عائد تجارتی پابندیوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکہ نے چین سمیت 59 دیگر ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کیے تھے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی اقدامات کی فہرست مزید طویل ہو گئی۔</p>
<p>چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی اقدامات ”چین کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”چین اس کے جواب میں صرف ضروری جوابی اقدامات ہی کر سکتا ہے، جن میں امریکہ کو ڈرونز، ان کے اہم پرزہ جات اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر مزید سخت پابندیاں شامل ہیں۔“</p>
<p>وزارت کے مطابق بیجنگ نے چینی سرٹیفکیشن اداروں کی جانب سے فیکٹریوں کے فالو اپ معائنے بھی معطل کر دیے ہیں، متعدد امریکی کمپلائنس ٹیسٹنگ کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے، جبکہ دفتری پرنٹرز اور فوٹو کاپی مشینوں کی درآمدات کے حوالے سے قومی سلامتی کی بنیاد پر تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>چین نے چھ امریکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں بایو ٹیکنالوجی کمپنی اپلائیڈ ڈی این اے سائنسز اور ارضیاتی تحقیقاتی ادارہ اسٹریٹم ریزروائر شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت چین کے اندر کسی بھی ادارے یا فرد کو ان کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین، تعاون یا دیگر سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>وزارتِ تجارت نے کہا کہ ان چھ کمپنیوں نے سنکیانگ سے متعلق امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں میں معاونت اور حمایت کی، اور ان کے اقدامات کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ سنکیانگ میں زیادہ تر مسلمان ایغور اقلیت کے خلاف ممکنہ انسانیت کے خلاف جرائم کی نشاندہی کر چکی ہے، تاہم چین ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>چین کے اعلیٰ تجارتی عہدیدار ہے لی فنگ نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران حالیہ امریکی پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے رپورٹ کی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے چین نے امریکہ پر چینی کمپنیوں کو ”دبانے“ کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا تھا، جب واشنگٹن نے نئے ٹیرف سے الگ ایک فیصلے میں بیرونِ ملک تیار کیے گئے انسانی شکل (ہیومنوئیڈ) اور چار ٹانگوں والے (کواڈروپیڈ) روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی۔</p>
<p>چین اور امریکہ گزشتہ سال کے بیشتر عرصے تک بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ میں الجھے رہے، تاہم گزشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>تاہم چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں پر امریکہ کے حالیہ ٹیرف نے اس جنگ بندی کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ بیجنگ نے واشنگٹن کو تجارتی جنگ سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289614</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 19:18:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/05191618c73392f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/05191618c73392f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کا سعودی تیل بردار جہاز پر بحیرۂ احمر میں حملے کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289590/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر ینبع کے ساحل کے قریب ایک سعودی تیل بردار جہاز پر میزائل حملہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکام کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کب ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے بندرگاہی شہر ینبع کے ساحل کے قریب ایک سعودی تیل بردار جہاز پر میزائل حملہ کیا۔</strong></p>
<p>سعودی حکام کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملہ کب ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289590</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 13:19:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/05131506f89d04e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/05131506f89d04e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی پارلیمانی پینل کا مودی کی ویڈیو ہٹانے پر میٹا سے جواب طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289610/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بدھ کو میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں میٹا کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں کروڑوں افراد فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 جولائی کو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ سے خطاب پر مشتمل مودی کی ویڈیو کو میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے کچھ دیر کے لیے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کا کہنا ہے کہ ویڈیو ہٹانا ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نشی کانت دوبے نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے کا ذمہ دار میٹا کو قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ دوبے نے کہا، ”وزیراعظم کی ویڈیو حذف کرنا کسی ثالث (انٹرمیڈیری) کا نہیں بلکہ ایک پبلشر کا عمل تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”مارک زکربرگ کو تین دن کے اندر معافی مانگنا ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور سرکاری حکام یا کمپنیوں کے عہدیداروں کو وضاحت کے لیے طلب کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کمیٹیوں کو خود جرمانے عائد کرنے، قانونی تحفظ واپس لینے یا کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف کوئی بھی کارروائی موجودہ قوانین کے تحت حکومت یا عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبے نے بتایا کہ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”اگر زکربرگ نے معافی نہ مانگی تو ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حاصل تمام ’سیف ہاربر‘ قانونی تحفظات ختم کر دیے جانے چاہییں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ میٹا کے حکام کو ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے کی وضاحت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر میٹا نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے 23 جولائی کو، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے عروج کے دوران، براہِ راست کیمرے سے خطاب پر مشتمل یہ عمودی (ورٹیکل) ویڈیو پوسٹ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج، جو نئی دہلی سے شروع ہوئے، ابتدا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف تھا، تاہم بعد ازاں یہ روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور ناقدین کے بقول مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سرگرم صارف مودی نے نوجوانوں تک رسائی کے لیے پہلی مرتبہ انسٹاگرام پر ورٹیکل ویڈیوز کا سہارا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں مودی نے طلبہ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) کے خلاف مزید سخت قوانین اور سخت سزائیں متعارف کرائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بدھ کو میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں میٹا کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں کروڑوں افراد فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>23 جولائی کو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ سے خطاب پر مشتمل مودی کی ویڈیو کو میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے کچھ دیر کے لیے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔</p>
<p>میٹا کا کہنا ہے کہ ویڈیو ہٹانا ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔</p>
<p>تاہم پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نشی کانت دوبے نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے کا ذمہ دار میٹا کو قرار دیتی ہے۔</p>
<p>حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ دوبے نے کہا، ”وزیراعظم کی ویڈیو حذف کرنا کسی ثالث (انٹرمیڈیری) کا نہیں بلکہ ایک پبلشر کا عمل تھا۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”مارک زکربرگ کو تین دن کے اندر معافی مانگنا ہوگی۔“</p>
<p>بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور سرکاری حکام یا کمپنیوں کے عہدیداروں کو وضاحت کے لیے طلب کر سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم ان کمیٹیوں کو خود جرمانے عائد کرنے، قانونی تحفظ واپس لینے یا کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف کوئی بھی کارروائی موجودہ قوانین کے تحت حکومت یا عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔</p>
<p>دوبے نے بتایا کہ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”اگر زکربرگ نے معافی نہ مانگی تو ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حاصل تمام ’سیف ہاربر‘ قانونی تحفظات ختم کر دیے جانے چاہییں۔“</p>
<p>بھارتی میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ میٹا کے حکام کو ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے کی وضاحت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر میٹا نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>مودی نے 23 جولائی کو، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے عروج کے دوران، براہِ راست کیمرے سے خطاب پر مشتمل یہ عمودی (ورٹیکل) ویڈیو پوسٹ کی تھی۔</p>
<p>یہ احتجاج، جو نئی دہلی سے شروع ہوئے، ابتدا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف تھا، تاہم بعد ازاں یہ روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور ناقدین کے بقول مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہو گیا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سرگرم صارف مودی نے نوجوانوں تک رسائی کے لیے پہلی مرتبہ انسٹاگرام پر ورٹیکل ویڈیوز کا سہارا لیا۔</p>
<p>ویڈیو میں مودی نے طلبہ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) کے خلاف مزید سخت قوانین اور سخت سزائیں متعارف کرائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289610</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 17:31:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0517282486fc7cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0517282486fc7cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل نے امریکی حمایت یافتہ غزہ منصوبے کی منظوری نہیں دی، نیتن یاہو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289609/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقبوضہ یروشلم میں اپنے ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کا ماننا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح اور غزہ کو فوجی صلاحیت سے پاک کر سکتے ہیں، تاہم اسرائیل نے اس امریکی مسودے پر اپنے تحفظات اور تجاویز ارسال کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی بورڈ آف پیس کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی کہ اسرائیلی فوج حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی غزہ کے موجودہ مواضع سے پیچھے ہٹے گی، لیکن اس کے باوجود نتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کے دو وزراء نے منصوبے پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق لیکوڈ پارٹی کے اندرونی سیاسی ماحول اور آئندہ انتخابات کے باعث یہ دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے باعث اسرائیل کے لیے اس امریکی منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ دریں اثناء امریکی دباؤ کے بعد اسرائیلی فوج کو حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کی ہدایات دی گئی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی کارروائی کے لیے چیف آف اسٹاف کی اجازت درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقبوضہ یروشلم میں اپنے ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے۔</strong></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کا ماننا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح اور غزہ کو فوجی صلاحیت سے پاک کر سکتے ہیں، تاہم اسرائیل نے اس امریکی مسودے پر اپنے تحفظات اور تجاویز ارسال کی ہیں۔</p>
<p>امریکی بورڈ آف پیس کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی کہ اسرائیلی فوج حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی غزہ کے موجودہ مواضع سے پیچھے ہٹے گی، لیکن اس کے باوجود نتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کے دو وزراء نے منصوبے پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق لیکوڈ پارٹی کے اندرونی سیاسی ماحول اور آئندہ انتخابات کے باعث یہ دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے باعث اسرائیل کے لیے اس امریکی منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ دریں اثناء امریکی دباؤ کے بعد اسرائیلی فوج کو حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کی ہدایات دی گئی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی کارروائی کے لیے چیف آف اسٹاف کی اجازت درکار ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289609</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 17:08:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/051702595a2e84a.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/051702595a2e84a.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران کے درمیان بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289583/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ منگل کو ہونے والے طویل مذاکرات میں بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بیان کے بعد بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ جلد کسی معاہدے کے ذریعے بند آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فاکس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ پورے دن مذاکرات ہوئے اور آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ پیچھے ہٹا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس میں عمان کا کردار اہم ہوگا۔ بعض ذرائع کے مطابق واشنگٹن بدھ کو اس حوالے سے اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جب تک امریکا ایران کو دھمکیاں دیتا رہے گا، عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ تاخیر کا شکار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ٹرمپ کے درمیان فون پر گفتگو میں واشنگٹن اور تہران کے اختلافات کم کرنے کی کوششوں پر بات ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے قیام سے متعلق مذاکرات مثبت اور جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر بحری آمدورفت روک رکھی ہے، جبکہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نے تیل کی ترسیل کے راستوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے آبنائے ہرمز میں مختلف واقعات میں کم از کم 17 بحری اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ منگل کو ہونے والے طویل مذاکرات میں بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے بیان کے بعد بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ جلد کسی معاہدے کے ذریعے بند آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے فاکس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ پورے دن مذاکرات ہوئے اور آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران دوبارہ پیچھے ہٹا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس میں عمان کا کردار اہم ہوگا۔ بعض ذرائع کے مطابق واشنگٹن بدھ کو اس حوالے سے اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جب تک امریکا ایران کو دھمکیاں دیتا رہے گا، عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ تاخیر کا شکار رہے گا۔</p>
<p>قطر نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ٹرمپ کے درمیان فون پر گفتگو میں واشنگٹن اور تہران کے اختلافات کم کرنے کی کوششوں پر بات ہوئی۔</p>
<p>ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے قیام سے متعلق مذاکرات مثبت اور جاری ہیں۔</p>
<p>ادھر ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر بحری آمدورفت روک رکھی ہے، جبکہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نے تیل کی ترسیل کے راستوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے آبنائے ہرمز میں مختلف واقعات میں کم از کم 17 بحری اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289583</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 12:11:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0512101727d0447.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0512101727d0447.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران مذاکرات کی جانب پیش رفت ہوئی ہے، قطر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289580/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر نے منگل کو کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے بیان کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جس نے پیر کی بڑی گراوٹ کو مزید بڑھا دیا۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ جلد کسی معاہدے کے ذریعے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال ہو سکتی ہے۔ تاہم فی الحال یہ اہم بحری راستہ تقریباً بند ہے اور ایک اور جہاز کو بھی اس وقت حملے کا سامنا کرنا پڑا جب وہ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت شروع ہو چکی ہے اور تہران کے پاس معاہدے کے لیے آخری موقع ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق بات چیت جاری ہے، جو مثبت رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ راستے مقرر کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا۔ مارکو روبیو نے کہا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایران کے ساتھ معاہدہ منگل یا بدھ تک ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ سفارتی رابطے بہت مثبت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق قطر، پاکستان اور عمان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہے ہیں اور واشنگٹن و تہران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں مدد دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بحری خطرات بدستور برقرار ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر بحری آمدورفت روک رکھی ہے، جبکہ امریکا ایران سے متعلق جہاز رانی اور بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یمن کے حوثی گروپ نے بھی بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بحری جہاز کو عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں نامعلوم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عملے نے جہاز چھوڑ دیا جبکہ ایک ملاح لاپتہ بتایا گیا۔ دوسری جانب بھارت کے وزیر جہاز رانی نے بتایا کہ یمن کے قریب ایک بھارتی جہاز بھی حملے کا شکار ہوا، تاہم اس پر سوار 14 افراد کو بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی کوششوں سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ بدستور غیر یقینی کا شکار رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطر نے منگل کو کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔</strong></p>
<p>قطر کے بیان کے بعد عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جس نے پیر کی بڑی گراوٹ کو مزید بڑھا دیا۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ جلد کسی معاہدے کے ذریعے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال ہو سکتی ہے۔ تاہم فی الحال یہ اہم بحری راستہ تقریباً بند ہے اور ایک اور جہاز کو بھی اس وقت حملے کا سامنا کرنا پڑا جب وہ آبنائے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت شروع ہو چکی ہے اور تہران کے پاس معاہدے کے لیے آخری موقع ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔</p>
<p>ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق بات چیت جاری ہے، جو مثبت رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ راستے مقرر کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دیا۔ مارکو روبیو نے کہا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایران کے ساتھ معاہدہ منگل یا بدھ تک ممکن ہے۔</p>
<p>قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ سفارتی رابطے بہت مثبت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق قطر، پاکستان اور عمان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہے ہیں اور واشنگٹن و تہران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں مدد دے رہے ہیں۔</p>
<p>ادھر بحری خطرات بدستور برقرار ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے زیادہ تر بحری آمدورفت روک رکھی ہے، جبکہ امریکا ایران سے متعلق جہاز رانی اور بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یمن کے حوثی گروپ نے بھی بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ایک بحری جہاز کو عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں نامعلوم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عملے نے جہاز چھوڑ دیا جبکہ ایک ملاح لاپتہ بتایا گیا۔ دوسری جانب بھارت کے وزیر جہاز رانی نے بتایا کہ یمن کے قریب ایک بھارتی جہاز بھی حملے کا شکار ہوا، تاہم اس پر سوار 14 افراد کو بچا لیا گیا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی کوششوں سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ بدستور غیر یقینی کا شکار رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289580</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 10:40:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/05103806568c358.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/05103806568c358.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں ملبے سے نکالی گئی 112 لاشوں کی اجتماعی تدفین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان ایک خالی جگہ پر منگل کو 112 فلسطینیوں کی تدفین کی گئی، جن کی لاشیں طویل عرصے بعد ملبے سے نکالی گئی تھیں۔ تدفین کے موقع پر درجنوں تابوتوں اور باقیات پر فلسطینی پرچم رکھے گئے، جبکہ سینکڑوں افراد نے جنازے میں شرکت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق 2023 کے آخر میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہ افراد ملبے تلے دب گئے تھے، جن کی باقیات حالیہ دنوں میں نکالی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خاندان کے رکن احمد ابو شریہ نے کہا کہ یہ تدفین اہل خانہ کے لیے ایک طویل انتظار کے بعد سکون کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شہدا، بچوں، خواتین اور بزرگوں کا سوگ منانے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال کے مطابق جولائی میں دو ہفتوں کے دوران نکالی گئی لاشوں میں 44 بچے شامل تھے، اور یہ تمام ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ سول ڈیفنس کے آپریشنز ڈائریکٹر محمد المغیر نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے 17 روز تک مسلسل کام کرتے ہوئے 112 لاشیں اور انسانی باقیات ملبے سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر کارکنوں نے اپنے ہاتھوں سے کنکریٹ اور مڑی ہوئی لوہے کی سلاخیں ہٹائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمود بسال کے مطابق اب بھی 8 ہزار سے زائد لاشیں غزہ کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی نے اس ریسکیو آپریشن میں دو دستیاب کھدائی مشینیں فراہم کیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان ایک خالی جگہ پر منگل کو 112 فلسطینیوں کی تدفین کی گئی، جن کی لاشیں طویل عرصے بعد ملبے سے نکالی گئی تھیں۔ تدفین کے موقع پر درجنوں تابوتوں اور باقیات پر فلسطینی پرچم رکھے گئے، جبکہ سینکڑوں افراد نے جنازے میں شرکت کی۔</strong></p>
<p>غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق 2023 کے آخر میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہ افراد ملبے تلے دب گئے تھے، جن کی باقیات حالیہ دنوں میں نکالی گئیں۔</p>
<p>متاثرہ خاندان کے رکن احمد ابو شریہ نے کہا کہ یہ تدفین اہل خانہ کے لیے ایک طویل انتظار کے بعد سکون کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شہدا، بچوں، خواتین اور بزرگوں کا سوگ منانے آئے ہیں۔</p>
<p>سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال کے مطابق جولائی میں دو ہفتوں کے دوران نکالی گئی لاشوں میں 44 بچے شامل تھے، اور یہ تمام ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔</p>
<p>غزہ سول ڈیفنس کے آپریشنز ڈائریکٹر محمد المغیر نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے 17 روز تک مسلسل کام کرتے ہوئے 112 لاشیں اور انسانی باقیات ملبے سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر کارکنوں نے اپنے ہاتھوں سے کنکریٹ اور مڑی ہوئی لوہے کی سلاخیں ہٹائیں۔</p>
<p>محمود بسال کے مطابق اب بھی 8 ہزار سے زائد لاشیں غزہ کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔</p>
<p>ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی نے اس ریسکیو آپریشن میں دو دستیاب کھدائی مشینیں فراہم کیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289584</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 12:23:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/051215010ae70c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/051215010ae70c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی حکومت کو ہلا دینے والی جنریشن زی تحریک کاکروچ پارٹی کا انتخابی سیاست سے انکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289594/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم جنریشن زی کاکروچ جنتا پارٹی نے فوری طور پر انتخابی سیاست میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کی ترجیح فی الحال نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ایک مضبوط عوامی تحریک کو آگے بڑھانا ہے، نہ کہ سیاسی جماعت بنا کر انتخابات لڑنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپکے نے کہا کہ بدھ سے دو روزہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے آنے والے نوجوان اس بات پر مشاورت کریں گے کہ تنظیم آئندہ کن مسائل پر توجہ دے اور اپنی تحریک کو کس طرح آگے بڑھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جنریشن زی خود طے کرے کہ ہماری ترجیحات کیا ہوں۔ اگر عوام کی اکثریت چاہے گی تو مستقبل میں سیاسی جماعت بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت بھارت کو نئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرے اور جوابدہی کو فروغ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپکے کی قیادت میں گزشتہ ماہ نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج پورے بھارت میں پھیل گیا تھا، جس میں ہزاروں نوجوان شریک ہوئے۔ احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے 25 جولائی کو استعفیٰ دے دیا، جبکہ حکومت نے امتحانی نظام کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کرنے اور پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپکے جو امریکا سے تعلیم مکمل کرکے جون میں بھارت واپس آئے تھے، احتجاج کے دوران ٹائیفائیڈ کا شکار بھی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر سیاسی جماعت اس لیے نہیں بنانا چاہتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت اس کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات شروع کر کے تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرے گی، اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تحریک مستقبل میں سیاسی جماعت میں تبدیل ہوتی ہے اور نوجوانوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتی رہتی ہے تو 2029 کے عام انتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپکے کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں ملنے کے بعد ان کے گھر کے باہر پولیس تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی سلامتی سے زیادہ اپنے والدین کی فکر ہے، تاہم حکومتی سکیورٹی ملنے کے بعد وہ پُرامید ہیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم جنریشن زی کاکروچ جنتا پارٹی نے فوری طور پر انتخابی سیاست میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے رائٹرز کو انٹرویو میں بتایا کہ ان کی ترجیح فی الحال نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ایک مضبوط عوامی تحریک کو آگے بڑھانا ہے، نہ کہ سیاسی جماعت بنا کر انتخابات لڑنا۔</p>
<p>دیپکے نے کہا کہ بدھ سے دو روزہ اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ملک بھر سے آنے والے نوجوان اس بات پر مشاورت کریں گے کہ تنظیم آئندہ کن مسائل پر توجہ دے اور اپنی تحریک کو کس طرح آگے بڑھائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جنریشن زی خود طے کرے کہ ہماری ترجیحات کیا ہوں۔ اگر عوام کی اکثریت چاہے گی تو مستقبل میں سیاسی جماعت بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت بھارت کو نئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرے اور جوابدہی کو فروغ دے۔</p>
<p>دیپکے کی قیادت میں گزشتہ ماہ نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج پورے بھارت میں پھیل گیا تھا، جس میں ہزاروں نوجوان شریک ہوئے۔ احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے 25 جولائی کو استعفیٰ دے دیا، جبکہ حکومت نے امتحانی نظام کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی قائم کرنے اور پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کا اعلان کیا۔</p>
<p>دیپکے جو امریکا سے تعلیم مکمل کرکے جون میں بھارت واپس آئے تھے، احتجاج کے دوران ٹائیفائیڈ کا شکار بھی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر سیاسی جماعت اس لیے نہیں بنانا چاہتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت اس کے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات شروع کر کے تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرے گی، اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تحریک مستقبل میں سیاسی جماعت میں تبدیل ہوتی ہے اور نوجوانوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتی رہتی ہے تو 2029 کے عام انتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔</p>
<p>دیپکے کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں ملنے کے بعد ان کے گھر کے باہر پولیس تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی سلامتی سے زیادہ اپنے والدین کی فکر ہے، تاہم حکومتی سکیورٹی ملنے کے بعد وہ پُرامید ہیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289594</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 13:47:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/051344375bb66a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/051344375bb66a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے کے بعد امریکا ایران مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289551/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کی جانب سے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی صورتحال پر متضاد بیانات نے منگل کو غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر تازہ حملے نے عالمی توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاس ایک اچھا معاہدہ کرنے کا آخری موقع ہے۔ تاہم ایران نے مذاکرات کے انعقاد یا کسی ملاقات کے شیڈول کی تردید کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور یہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے ایک آخری موقع ہے کہ وہ ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران پر بڑے حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا، حالانکہ وہ اس سے قبل ایسے حملوں کی منظوری دینے کا دعویٰ کر چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کسی ملاقات کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران کا آئندہ دنوں میں کسی غیر ملکی وفد کی میزبانی یا مذاکرات کار بیرون ملک بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ تمام مذاکرات کار ملک میں موجود ہیں، جبکہ عباس عراقچی مذہبی زیارت کے لیے عراق میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل بقائی نے کہا کہ صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر خلیج میں بحری سرگرمیاں بھی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز نے اطلاع دی کہ اسے نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپلر کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے صرف 6 بحری جہاز گزرے، جن میں 3 آئل ٹینکرز اور 3 بلک کیریئرز شامل تھے، جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 7 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کے باعث عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھا گیا۔ پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 7 فیصد کم ہو کر 83.77 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ڈاؤ جونز انڈیکس ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں اور تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایران واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں، بحری گزرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر مائیکل نائٹس کے مطابق ایران کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ علاقائی ممالک اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر ایران کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے اور مستقبل قریب میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کا تنازع اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف کا مرکز ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو یہ آبی راستہ کھولنا تھا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں بحری آمدورفت پر اس کے اختیار کو برقرار رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کی جانب سے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی صورتحال پر متضاد بیانات نے منگل کو غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر تازہ حملے نے عالمی توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاس ایک اچھا معاہدہ کرنے کا آخری موقع ہے۔ تاہم ایران نے مذاکرات کے انعقاد یا کسی ملاقات کے شیڈول کی تردید کر دی۔</p>
<p>اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور یہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے ایک آخری موقع ہے کہ وہ ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرے۔</p>
<p>یہ بیان ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران پر بڑے حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا، حالانکہ وہ اس سے قبل ایسے حملوں کی منظوری دینے کا دعویٰ کر چکے تھے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کسی ملاقات کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران کا آئندہ دنوں میں کسی غیر ملکی وفد کی میزبانی یا مذاکرات کار بیرون ملک بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ تمام مذاکرات کار ملک میں موجود ہیں، جبکہ عباس عراقچی مذہبی زیارت کے لیے عراق میں ہیں۔</p>
<p>اسماعیل بقائی نے کہا کہ صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>ادھر خلیج میں بحری سرگرمیاں بھی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز نے اطلاع دی کہ اسے نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>کپلر کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے صرف 6 بحری جہاز گزرے، جن میں 3 آئل ٹینکرز اور 3 بلک کیریئرز شامل تھے، جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 7 تھی۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کے باعث عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھا گیا۔ پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 7 فیصد کم ہو کر 83.77 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ڈاؤ جونز انڈیکس ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں اور تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>خلیجی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایران واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں، بحری گزرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر مائیکل نائٹس کے مطابق ایران کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ علاقائی ممالک اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر ایران کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے اور مستقبل قریب میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کا تنازع اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف کا مرکز ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو یہ آبی راستہ کھولنا تھا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں بحری آمدورفت پر اس کے اختیار کو برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289551</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 11:24:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/04112129875f7f0.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/04112129875f7f0.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شیخ حسینہ کے نئی دہلی میں مجوزہ خطاب پر بنگلہ دیش کا بھارت سے وضاحت کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289553/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی دہلی سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے مجوزہ ورچوئل خطاب کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ ڈھاکا نے خبردار کیا ہے کہ ایک مفرور سیاسی رہنما کو بھارت کی سرزمین سے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کے مجوزہ خطاب پر پہلا باضابطہ ردعمل ہے، جو 5 اگست کو نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا (ایف سی سی ایس اے) کے زیر اہتمام ایک تقریب میں ویڈیو لنک کے ذریعے متوقع ہے۔ یہ تقریب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی اس تحریک کے دو سال مکمل ہونے پر منعقد کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش مسلسل بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، جو اگست 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت میں مقیم ہیں۔ حسینہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شمع اوبید اسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاکا بھارت کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ یہ پیش رفت متاثر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنے مؤقف کے بارے میں واضح ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف سی سی ایس اے کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ تقریب میں اپنے بیٹے سجیب واجد جوئے اور دیگر مقررین کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمع اسلام نے کہا کہ بنگلہ دیش نے متعدد بار بھارت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے کہ حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے دیگر رہنما بھارتی سرزمین سے سیاسی بیانات دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نہیں چاہتا کہ مفرور ملزمان کے بیانات سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں جانب سے تعلقات بہتر بنانے کے اشارے دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی دہلی سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے مجوزہ ورچوئل خطاب کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ ڈھاکا نے خبردار کیا ہے کہ ایک مفرور سیاسی رہنما کو بھارت کی سرزمین سے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینا دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کے مجوزہ خطاب پر پہلا باضابطہ ردعمل ہے، جو 5 اگست کو نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا (ایف سی سی ایس اے) کے زیر اہتمام ایک تقریب میں ویڈیو لنک کے ذریعے متوقع ہے۔ یہ تقریب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی اس تحریک کے دو سال مکمل ہونے پر منعقد کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔</p>
<p>بنگلہ دیش مسلسل بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، جو اگست 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت میں مقیم ہیں۔ حسینہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شمع اوبید اسلام نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈھاکا بھارت کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ یہ پیش رفت متاثر ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنے مؤقف کے بارے میں واضح ہونا ہوگا۔</p>
<p>ایف سی سی ایس اے کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ تقریب میں اپنے بیٹے سجیب واجد جوئے اور دیگر مقررین کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی۔</p>
<p>شمع اسلام نے کہا کہ بنگلہ دیش نے متعدد بار بھارت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے کہ حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے دیگر رہنما بھارتی سرزمین سے سیاسی بیانات دے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نہیں چاہتا کہ مفرور ملزمان کے بیانات سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں۔</p>
<p>بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم حالیہ عرصے میں دونوں جانب سے تعلقات بہتر بنانے کے اشارے دیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289553</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 11:44:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/041141162ad673a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/041141162ad673a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاہدے کا بدھ تک امکان ہے، امریکی وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289565/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ بدھ  تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر پہنچ سکتا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ آج یا کل تک آبنائے کو کھولنے اور اس تنازع میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہمارا کوئی معاہدہ ہو جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول (ٹیکس) وصول کرنے کی اجازت ہوگی تو بیسنٹ نے کہا کہ   میرا خیال ہے کہ یہ آمد و رفت کی مکمل آزادی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکاٹ بیسنٹ کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کو دیے گئے بیانات کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کے بعد اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ آبی گزرگاہ چند گھنٹوں میں دوبارہ کھل سکتی ہے۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے، جبکہ منگل کو ایک نامعلوم میزائل/پروجیکٹائل آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز سے ٹکرا گیا، جو امریکہ ایران تنازع میں کشیدگی کا ایک اہم نقطہ بنا ہوا ہے۔بیسنٹ نے آبنائے کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے توانائی کی قیمتوں پر مثبت اثرات کی امید ظاہر کی، جہاں ان کے بقول سینکڑوں بحری جہاز نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔بیسنٹ نے  کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند دنوں میں وہاں صورتحال اب بھی کچھ غیر یقینی (پریشان کن) رہی ہے، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اس وقت بھی کافی بحری جہاز باہر آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے مجھے توقع ہے کہ توانائی کی قیمتیں واپس نیچے آ کر مستحکم ہو جائیں گی ۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ بدھ  تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر پہنچ سکتا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔</strong></p>
<p>اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ آج یا کل تک آبنائے کو کھولنے اور اس تنازع میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہمارا کوئی معاہدہ ہو جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول (ٹیکس) وصول کرنے کی اجازت ہوگی تو بیسنٹ نے کہا کہ   میرا خیال ہے کہ یہ آمد و رفت کی مکمل آزادی ہوگی۔</p>
<p>اسکاٹ بیسنٹ کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کو دیے گئے بیانات کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کے بعد اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ آبی گزرگاہ چند گھنٹوں میں دوبارہ کھل سکتی ہے۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے، جبکہ منگل کو ایک نامعلوم میزائل/پروجیکٹائل آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز سے ٹکرا گیا، جو امریکہ ایران تنازع میں کشیدگی کا ایک اہم نقطہ بنا ہوا ہے۔بیسنٹ نے آبنائے کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے توانائی کی قیمتوں پر مثبت اثرات کی امید ظاہر کی، جہاں ان کے بقول سینکڑوں بحری جہاز نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔بیسنٹ نے  کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند دنوں میں وہاں صورتحال اب بھی کچھ غیر یقینی (پریشان کن) رہی ہے، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اس وقت بھی کافی بحری جہاز باہر آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے مجھے توقع ہے کہ توانائی کی قیمتیں واپس نیچے آ کر مستحکم ہو جائیں گی ۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289565</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 18:59:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0418531518bed38.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0418531518bed38.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
