<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 08:10:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کے برآمدات بڑھانے کے باعث خلیجی تیل بردار جہازوں کے کرایے تقریباً دوگنا ہو گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287877/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل بردار جہازوں کے آپریٹرز رواں ہفتے غیر معمولی منافع کما رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز اور وسیع خلیجی خطے سے گزرنے والے جہازوں کے کرایوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ شپنگ ڈیٹا اور ذرائع کے مطابق ٹریفک میں بتدریج بحالی کے ساتھ طلب میں اضافہ ہوا ہے جس سے شرحیں بلند ہو گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ 60 روزہ جنگ بندی پر رضامندی کے بعد گزشتہ ہفتے عائد کی گئی موثر ناکہ بندی ختم ہونے کے باوجود اب بھی محدود ہے، جبکہ مستقل امن معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اس جنگ سے قبل یومیہ اوسط 125 کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔ اندازوں کے مطابق 100 کے قریب آئل ٹینکرز خلیج کے اندر کارگو سمیت پھنسے ہوئے ہیں، جس سے دستیاب جہازوں کی کمی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات میں اضافہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپ بروکرز اور صنعتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر ٹینکر کے کرائے ایک ہفتے میں بڑھ کر 1 لاکھ 90 ہزار 500 ڈالر یومیہ ہو گئے ہیں، جو اس سے قبل ایک لاکھ 6 ہزار 500 ڈالر یومیہ تھے، جبکہ خلیج سے باہر کے چارٹر ریٹس میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے خام تیل بردار جہازوں ( وی ایل سی سیز) کی یومیہ آمدن خلیج کے اندر ان کارگو کے لیے جو آبنائے ہرمز سے گزرنا ضروری رکھتے ہیں، تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار ڈالر یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ شپ بروکرز اور صنعتی ذرائع کے اندازوں کے مطابق یہ آمدن ایک ہفتے کے دوران 50 ہزار ڈالر سے زائد بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپ بروکریج ادارے کلارکسنز کے مطابق ٹینکر مالکان آئندہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے کی تیاری کر رہے ہیں، اور انہیں اس بات سے بھی تقویت ملی ہے کہ امریکی ایران کشیدگی کے آغاز کے باوجود اسپاٹ ٹائم چارٹر ایکویویلنٹ (ٹی سی ای) آمدن اوسطاً ایک لاکھ ڈالر یومیہ سے اوپر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلارکسنز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹینکرز کی دستیابی پہلے ہی انتہائی محدود ہے، اور اگر آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھلتی ہے تو اس سے گنجائش پر مزید دباؤ بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک، بالخصوص ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی)، اس ماہ بڑی تعداد میں خام تیل کے ٹینڈرز جاری کر رہے ہیں اور خریداروں کو خلیج کے اندر سے لوڈنگ کی ترغیب دے رہے ہیں، جس سے ٹینکرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنی سنوکار، جو دنیا کے بڑے سپر ٹینکر آپریٹرز میں شمار ہوتی ہے — نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ کمپنی کا ایک بیلجیم بی سپر ٹینکر پیر کے روز خلیج میں داخل ہوا، جو اس گروپ کے ان جہازوں میں سے تازہ ترین ہے جو لوڈنگ کے لیے بھیجے گئے ہیں، اور منگل کو شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق عراق کے ٹرمینلز کی جانب رواں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹینکر ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم انشورنس ذرائع کے مطابق جنگی خطرات کے پریمیم میں گزشتہ پانچ دنوں کے دوران کمی آئی ہے اور یہ ایک ہفتہ قبل تقریباً 5 فیصد سے کم ہو کر اب جہاز کی مجموعی مالیت کے تقریباً 3 فیصد تک آ گیا ہے، جس میں ڈسکاؤنٹس شامل نہیں۔ اس کمی سے جہازوں کے لیے انشورنس لاگت میں لاکھوں ڈالر کی بچت ممکن ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے خریدار، جن میں اس کا سب سے بڑا ریفائنر ریلائنس بھی شامل ہے، کئی ماہ سے سپلائی میں تعطل کے بعد اس خطے سے خام تیل کی خریداری کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ریلائنس نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل بردار جہازوں کے آپریٹرز رواں ہفتے غیر معمولی منافع کما رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز اور وسیع خلیجی خطے سے گزرنے والے جہازوں کے کرایوں میں تقریباً دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ شپنگ ڈیٹا اور ذرائع کے مطابق ٹریفک میں بتدریج بحالی کے ساتھ طلب میں اضافہ ہوا ہے جس سے شرحیں بلند ہو گئی ہیں۔</strong></p>
<p>آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ 60 روزہ جنگ بندی پر رضامندی کے بعد گزشتہ ہفتے عائد کی گئی موثر ناکہ بندی ختم ہونے کے باوجود اب بھی محدود ہے، جبکہ مستقل امن معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اس جنگ سے قبل یومیہ اوسط 125 کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔ اندازوں کے مطابق 100 کے قریب آئل ٹینکرز خلیج کے اندر کارگو سمیت پھنسے ہوئے ہیں، جس سے دستیاب جہازوں کی کمی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات میں اضافہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>شپ بروکرز اور صنعتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر ٹینکر کے کرائے ایک ہفتے میں بڑھ کر 1 لاکھ 90 ہزار 500 ڈالر یومیہ ہو گئے ہیں، جو اس سے قبل ایک لاکھ 6 ہزار 500 ڈالر یومیہ تھے، جبکہ خلیج سے باہر کے چارٹر ریٹس میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>بڑے خام تیل بردار جہازوں ( وی ایل سی سیز) کی یومیہ آمدن خلیج کے اندر ان کارگو کے لیے جو آبنائے ہرمز سے گزرنا ضروری رکھتے ہیں، تقریباً 4 لاکھ 70 ہزار ڈالر یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ شپ بروکرز اور صنعتی ذرائع کے اندازوں کے مطابق یہ آمدن ایک ہفتے کے دوران 50 ہزار ڈالر سے زائد بڑھ چکی ہے۔</p>
<p>شپ بروکریج ادارے کلارکسنز کے مطابق ٹینکر مالکان آئندہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافے کی تیاری کر رہے ہیں، اور انہیں اس بات سے بھی تقویت ملی ہے کہ امریکی ایران کشیدگی کے آغاز کے باوجود اسپاٹ ٹائم چارٹر ایکویویلنٹ (ٹی سی ای) آمدن اوسطاً ایک لاکھ ڈالر یومیہ سے اوپر رہی ہے۔</p>
<p>کلارکسنز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹینکرز کی دستیابی پہلے ہی انتہائی محدود ہے، اور اگر آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھلتی ہے تو اس سے گنجائش پر مزید دباؤ بڑھے گا۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک، بالخصوص ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی)، اس ماہ بڑی تعداد میں خام تیل کے ٹینڈرز جاری کر رہے ہیں اور خریداروں کو خلیج کے اندر سے لوڈنگ کی ترغیب دے رہے ہیں، جس سے ٹینکرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنی سنوکار، جو دنیا کے بڑے سپر ٹینکر آپریٹرز میں شمار ہوتی ہے — نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ کمپنی کا ایک بیلجیم بی سپر ٹینکر پیر کے روز خلیج میں داخل ہوا، جو اس گروپ کے ان جہازوں میں سے تازہ ترین ہے جو لوڈنگ کے لیے بھیجے گئے ہیں، اور منگل کو شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق عراق کے ٹرمینلز کی جانب رواں تھا۔</p>
<p>اگرچہ ٹینکر ریٹس میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم انشورنس ذرائع کے مطابق جنگی خطرات کے پریمیم میں گزشتہ پانچ دنوں کے دوران کمی آئی ہے اور یہ ایک ہفتہ قبل تقریباً 5 فیصد سے کم ہو کر اب جہاز کی مجموعی مالیت کے تقریباً 3 فیصد تک آ گیا ہے، جس میں ڈسکاؤنٹس شامل نہیں۔ اس کمی سے جہازوں کے لیے انشورنس لاگت میں لاکھوں ڈالر کی بچت ممکن ہو گئی ہے۔</p>
<p>بھارت کے خریدار، جن میں اس کا سب سے بڑا ریفائنر ریلائنس بھی شامل ہے، کئی ماہ سے سپلائی میں تعطل کے بعد اس خطے سے خام تیل کی خریداری کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ریلائنس نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287877</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 23:35:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/232324123d24f3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/232324123d24f3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا دعویٰ: ایران جوہری معائنے پر رضامند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287873/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا ہے کہ ایران نے طویل مدت تک جوہری معائنوں کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ”ایران نے مکمل طور پر اور اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنے طویل مدت کے لیے (یہاں تک کہ لامحدود مدت تک!!!) مان لیے ہیں۔ یہ ‘جوہری شفافیت’ کو یقینی بنائے گا۔ اگر وہ اس پر راضی نہ ہوتے تو مزید مذاکرات نہ ہوتے!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شروع نہیں کی اور نہ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز برقرار رکھے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کی جا سکے، تاہم ان کے مطابق یہ امکان “اس وقت انتہائی کم” ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے 1.9 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پیر سے ایران پر امریکی پابندیوں میں 60 دن کی نرمی کی گئی ہے، جو ابتدائی امن معاہدے کے بعد کی گئی بات چیت کے تحت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والی رقوم ایک ایسکرو اکاؤنٹ میں امریکی کنٹرول کے تحت رکھی جائیں گی اور یہ صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہوں گی، جو امریکہ سے حاصل کیے جائیں گے، جن میں مکئی، گندم اور سویا بین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے لکھا: ”یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ایران کو شدید ضرورت ہے۔ یہ ایک انسانی بحران ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ مدد کرنا ضروری ہے، ابھی — اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا ہے کہ ایران نے طویل مدت تک جوہری معائنوں کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ”ایران نے مکمل طور پر اور اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنے طویل مدت کے لیے (یہاں تک کہ لامحدود مدت تک!!!) مان لیے ہیں۔ یہ ‘جوہری شفافیت’ کو یقینی بنائے گا۔ اگر وہ اس پر راضی نہ ہوتے تو مزید مذاکرات نہ ہوتے!“</p>
<p>دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شروع نہیں کی اور نہ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز برقرار رکھے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ ناکہ بندی نافذ کی جا سکے، تاہم ان کے مطابق یہ امکان “اس وقت انتہائی کم” ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے 1.9 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پیر سے ایران پر امریکی پابندیوں میں 60 دن کی نرمی کی گئی ہے، جو ابتدائی امن معاہدے کے بعد کی گئی بات چیت کے تحت ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والی رقوم ایک ایسکرو اکاؤنٹ میں امریکی کنٹرول کے تحت رکھی جائیں گی اور یہ صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہوں گی، جو امریکہ سے حاصل کیے جائیں گے، جن میں مکئی، گندم اور سویا بین شامل ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے لکھا: ”یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ایران کو شدید ضرورت ہے۔ یہ ایک انسانی بحران ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ مدد کرنا ضروری ہے، ابھی — اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287873</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 18:23:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/23181850dbecea6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/23181850dbecea6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران، امریکہ تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر ، ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287851/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل ہوگئے اور اب جوہری امور اور پابندیوں پر مذاکراتی گروپس تشکیل دیے جائینگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارنا نیوز ایجنسی نے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ چار ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے جس میں پابندیوں کا خاتمہ، جوہری امور، تعمیر نو و اقتصادی ترقی اور نگرانی و نفاذ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے۔</strong></p>
<p>ایران کے سرکاری میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل ہوگئے اور اب جوہری امور اور پابندیوں پر مذاکراتی گروپس تشکیل دیے جائینگے۔</p>
<p>ارنا نیوز ایجنسی نے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ چار ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے جس میں پابندیوں کا خاتمہ، جوہری امور، تعمیر نو و اقتصادی ترقی اور نگرانی و نفاذ شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287851</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 12:12:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/23115455ab4e50a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/23115455ab4e50a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل نے غزہ میں بچوں کو نشانہ بناتے ہوئے نسل کشی کی ہے، اقوام متحدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287867/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سرزد ہوئے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی جنگی جرائم کیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی بیت المقدش، اور اسرائیل نے تیار کی ہے، جس میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا پے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق غزہ میں شہید ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ستمبر میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھی کمیشن نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے اور اعلیٰ اسرائیلی حکام، بشمول وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، نے ان اقدامات پر اکسانے کا کردار ادا کیا، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو ”سنگین اور بے بنیاد“ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا میں اسرائیل کے مشن نے اس نئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے کمیشن کی ”دوسری ہتک آمیز اور جانبدارانہ رپورٹ“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی مشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسرائیل اس جھوٹے اور بے بنیاد الزام کو مسترد کرتا ہے“، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”ہر بچے کو تحفظ کا حق حاصل ہے“، جبکہ رپورٹ میں حماس کے ”وحشیانہ طریقوں“ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران فلسطینی بچوں کو نہ صرف دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا بلکہ 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں جاری رہیں۔ کمیشن کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کے اہم شواہد فراہم کرتا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے فلسطینی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے کارروائیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مورالی دھر نے رپورٹ کے ساتھ جاری بیان میں کہا ہے کہ ”شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور قتل کیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بچوں کی شہادتوں کا تناسب ماضی کے تنازعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20,179 بچے شہید ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً 30 فیصد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں 2008-09 اور 2014 کی غزہ جنگوں میں بچوں کی شہادت کی شرح تقریباً 24 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گنجان آباد شہری علاقوں میں مسلسل بھاری ہتھیاروں اور وسیع اثر رکھنے والے بموں کا استعمال جاری رکھا، باوجود اس کے کہ بچوں کی شہادتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسے حملے، جن میں بڑی تعداد میں بچے شہید ہوئے، دانستہ نوعیت کے تھے۔ کمیشن کے مطابق بچوں کو اجتماعی طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز شہری آبادی کو مجموعی طور پر حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے وابستہ سمجھتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا میں اسرائیل کے مشن کی جانب سے جاری کیے گئے جواب میں کہا گیا کہ اسرائیل “مسلسل کوشش کرتا ہے کہ تنازع کے دوران بھی بچوں کو کم سے کم نقصان پہنچے” اور اس نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ وہ جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے رکن سری نواسن مورالی دھر نے کہا کہ بچوں کو نشانہ بنانے کے ذریعے اسرائیل فلسطینی عوام کی اس صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے کہ وہ بطور قوم موجود رہ سکیں اور اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عائد کی گئی پابندیاں، وسیع پیمانے پر حملے، بار بار جبری نقل مکانی، اور امداد، خوراک و ادویات کی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والی بھوک و افلاس نے بچوں کی صحت اور نشوونما کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں قابلِ تدارک اموات اور گہرے نفسیاتی صدمات سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ صحت کے نظام اور تولیدی مراکز پر حملوں نے نومولود بچوں کی بقا کو متاثر کیا، اسقاطِ حمل کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور غزہ کے تقریباً تمام بچوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت لاحق ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی جواب میں کہا گیا کہ رپورٹ میں ان اقدامات کو نظرانداز کیا گیا ہے جن کے تحت اسرائیل نے ویکسینیشن مہمات میں سہولت فراہم کی، طبی عملے کے داخلے کی اجازت دی، اور فیلڈ ہسپتال قائم کیے۔ اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ انسانی امداد اور اسپتالوں کے لیے فراہم کردہ ایندھن کو منظم طریقے سے ہڑپ کرتی ہے، تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے کی صورتحال&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس( یروشلم) کے حوالے سے کمیشن نے فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراست کے دوران تشدد، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد سمیت سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے مطابق فلسطینی بچوں، خصوصاً لڑکوں کو حراست کے دوران منظم بدسلوکی کا سامنا رہا، جس میں کپڑے اتروانا، مارپیٹ اور خوراک سے محرومی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ طرزِ عمل انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے، جن میں تشدد اور ایسے غیر انسانی افعال شامل ہیں جو شدید اذیت اور سنگین جسمانی و ذہنی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے سے متعلق رپورٹ کے نتائج میں ”مسلسل دہشت گردی کے خطرے“ کے اس تناظر کو شامل نہیں کیا گیا جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز اسی کا سامنا کرتے ہوئے کارروائیاں کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سرزد ہوئے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی جنگی جرائم کیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی بیت المقدش، اور اسرائیل نے تیار کی ہے، جس میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی بچوں کے خلاف ہونے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا پے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق غزہ میں شہید ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد بچے تھے۔</p>
<p>اس سے قبل ستمبر میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھی کمیشن نے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے اور اعلیٰ اسرائیلی حکام، بشمول وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، نے ان اقدامات پر اکسانے کا کردار ادا کیا، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو ”سنگین اور بے بنیاد“ قرار دیا تھا۔</p>
<p>جنیوا میں اسرائیل کے مشن نے اس نئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے کمیشن کی ”دوسری ہتک آمیز اور جانبدارانہ رپورٹ“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی مشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسرائیل اس جھوٹے اور بے بنیاد الزام کو مسترد کرتا ہے“، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”ہر بچے کو تحفظ کا حق حاصل ہے“، جبکہ رپورٹ میں حماس کے ”وحشیانہ طریقوں“ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے کمیشن نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران فلسطینی بچوں کو نہ صرف دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا بلکہ 2025 میں جنگ بندی کے بعد بھی ہلاکتیں جاری رہیں۔ کمیشن کے مطابق یہ طرزِ عمل اس بات کے اہم شواہد فراہم کرتا ہے کہ اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے فلسطینی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے کارروائیاں کیں۔</p>
<p>کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مورالی دھر نے رپورٹ کے ساتھ جاری بیان میں کہا ہے کہ ”شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دانستہ طور پر نشانہ بنایا اور قتل کیا ہے۔“</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بچوں کی شہادتوں کا تناسب ماضی کے تنازعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 20,179 بچے شہید ہوئے، جو مجموعی اموات کا تقریباً 30 فیصد بنتے ہیں۔</p>
<p>اس کے مقابلے میں 2008-09 اور 2014 کی غزہ جنگوں میں بچوں کی شہادت کی شرح تقریباً 24 فیصد تھی۔</p>
<p>کمیشن نے مزید کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گنجان آباد شہری علاقوں میں مسلسل بھاری ہتھیاروں اور وسیع اثر رکھنے والے بموں کا استعمال جاری رکھا، باوجود اس کے کہ بچوں کی شہادتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایسے حملے، جن میں بڑی تعداد میں بچے شہید ہوئے، دانستہ نوعیت کے تھے۔ کمیشن کے مطابق بچوں کو اجتماعی طور پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز شہری آبادی کو مجموعی طور پر حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے وابستہ سمجھتی تھیں۔</p>
<p>جنیوا میں اسرائیل کے مشن کی جانب سے جاری کیے گئے جواب میں کہا گیا کہ اسرائیل “مسلسل کوشش کرتا ہے کہ تنازع کے دوران بھی بچوں کو کم سے کم نقصان پہنچے” اور اس نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ وہ جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔</p>
<p>کمیشن کے رکن سری نواسن مورالی دھر نے کہا کہ بچوں کو نشانہ بنانے کے ذریعے اسرائیل فلسطینی عوام کی اس صلاحیت کو کمزور کر رہا ہے کہ وہ بطور قوم موجود رہ سکیں اور اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں عائد کی گئی پابندیاں، وسیع پیمانے پر حملے، بار بار جبری نقل مکانی، اور امداد، خوراک و ادویات کی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والی بھوک و افلاس نے بچوں کی صحت اور نشوونما کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں قابلِ تدارک اموات اور گہرے نفسیاتی صدمات سامنے آئے۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ صحت کے نظام اور تولیدی مراکز پر حملوں نے نومولود بچوں کی بقا کو متاثر کیا، اسقاطِ حمل کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور غزہ کے تقریباً تمام بچوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت لاحق ہو گئی۔</p>
<p>اسرائیلی جواب میں کہا گیا کہ رپورٹ میں ان اقدامات کو نظرانداز کیا گیا ہے جن کے تحت اسرائیل نے ویکسینیشن مہمات میں سہولت فراہم کی، طبی عملے کے داخلے کی اجازت دی، اور فیلڈ ہسپتال قائم کیے۔ اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ انسانی امداد اور اسپتالوں کے لیے فراہم کردہ ایندھن کو منظم طریقے سے ہڑپ کرتی ہے، تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>مغربی کنارے کی صورتحال</p>
<p>مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس( یروشلم) کے حوالے سے کمیشن نے فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور حراست کے دوران تشدد، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد سمیت سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے ہیں۔</p>
<p>کمیشن کے مطابق فلسطینی بچوں، خصوصاً لڑکوں کو حراست کے دوران منظم بدسلوکی کا سامنا رہا، جس میں کپڑے اتروانا، مارپیٹ اور خوراک سے محرومی شامل ہے۔</p>
<p>تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ طرزِ عمل انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے، جن میں تشدد اور ایسے غیر انسانی افعال شامل ہیں جو شدید اذیت اور سنگین جسمانی و ذہنی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے سے متعلق رپورٹ کے نتائج میں ”مسلسل دہشت گردی کے خطرے“ کے اس تناظر کو شامل نہیں کیا گیا جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز اسی کا سامنا کرتے ہوئے کارروائیاں کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287867</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 15:57:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2315362675ff5d8.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2315362675ff5d8.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان طالبان وفد کی برسلز میں یورپی یونین حکام سے ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287876/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے طالبان کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد نے منگل کے روز برسلز میں یورپی کمیشن کے حکام سے ملاقات کی ہے، جہاں قونصلر امور پر ابتدائی بات چیت کا آغاز کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان عبدالقہار بلخی کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں یورپی یونین میں افغان شہریوں کے لیے قونصلر خدمات کی ممکنہ بحالی، قونصلر موجودگی کے ساتھ ساتھ ”اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت“ شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالقہار بلخی  نے کہا کہ اس ملاقات نے ”بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں کے قونصلر حقوق کے تحفظ کے لیے مثبت پیش رفت کی امید کو تقویت دی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ یورپی یونین کی جانب سے طالبان کی واپسی کے بعد پہلی مرتبہ اس گروپ کی میزبانی تھی، جو پانچ سال قبل افغانستان میں ان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے طالبان کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد نے منگل کے روز برسلز میں یورپی کمیشن کے حکام سے ملاقات کی ہے، جہاں قونصلر امور پر ابتدائی بات چیت کا آغاز کیا گیا۔</strong></p>
<p>ترجمان عبدالقہار بلخی کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں یورپی یونین میں افغان شہریوں کے لیے قونصلر خدمات کی ممکنہ بحالی، قونصلر موجودگی کے ساتھ ساتھ ”اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت“ شامل تھی۔</p>
<p>عبدالقہار بلخی  نے کہا کہ اس ملاقات نے ”بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں کے قونصلر حقوق کے تحفظ کے لیے مثبت پیش رفت کی امید کو تقویت دی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ یورپی یونین کی جانب سے طالبان کی واپسی کے بعد پہلی مرتبہ اس گروپ کی میزبانی تھی، جو پانچ سال قبل افغانستان میں ان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی باضابطہ ملاقات ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287876</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 21:13:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2320535246dac5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2320535246dac5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور امریکہ 60 دن میں حتمی معاہدے پر پہنچنے پر متفق،پاکستان قطر مشترکہ اعلامیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287838/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید تکنیکی مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔ یہ بات پیر کو پاکستان اور قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیک وقت جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، ثالث ممالک کی معاونت سے، فریقین اور جمہوریہ لبنان کے درمیان ایک ڈی کنفلیکشن سیل قائم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق، ہفتے کے بقیہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں تمام امور پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ ایم او یو کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو ثالثی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطح کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے تاکہ ایم او یو اور دیگر اتفاقات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں اختتام پذیر ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دو ثالث ممالک، ریاست قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیک لوسرن سمٹ مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کے دوران حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی، جس میں مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کی تشکیل بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کے حادثات یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے، ایم او یو کی شق 5 میں بیان کردہ مدت کے دوران فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثالث ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھتے رہیں اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے تنازع کے پُرامن حل اور سفارتی عمل کے لیے امریکہ اور ایران کے مسلسل عزم کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ثالث ممالک نے دوست اور برادر ممالک کی جانب سے جاری مذاکرات کے لیے فراہم کی جانے والی حمایت اور مثبت کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطح تکنیکی مذاکرات میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی دوراندیش قیادت اور انتھک کوششوں پر مبارکباد پیش کی، جن کے نتیجے میں یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکہ نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید تکنیکی مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔ یہ بات پیر کو پاکستان اور قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیک وقت جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کہی گئی۔</strong></p>
<p>فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، ثالث ممالک کی معاونت سے، فریقین اور جمہوریہ لبنان کے درمیان ایک ڈی کنفلیکشن سیل قائم کیا جائے گا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق، ہفتے کے بقیہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں تمام امور پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔ ایم او یو کی بنیاد پر ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جو ثالثی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔</p>
<p>چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطح کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے تاکہ ایم او یو اور دیگر اتفاقات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں اختتام پذیر ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دو ثالث ممالک، ریاست قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>لیک لوسرن سمٹ مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کے دوران حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی، جس میں مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کی تشکیل بھی شامل ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کے حادثات یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے، ایم او یو کی شق 5 میں بیان کردہ مدت کے دوران فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ثالث ممالک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھتے رہیں اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p>ریاست قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے تنازع کے پُرامن حل اور سفارتی عمل کے لیے امریکہ اور ایران کے مسلسل عزم کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ثالث ممالک نے دوست اور برادر ممالک کی جانب سے جاری مذاکرات کے لیے فراہم کی جانے والی حمایت اور مثبت کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
<p>دریں اثنا، نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہونے والے اعلیٰ سطح تکنیکی مذاکرات میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی دوراندیش قیادت اور انتھک کوششوں پر مبارکباد پیش کی، جن کے نتیجے میں یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287838</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:57:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/230855048863c8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/230855048863c8a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر گیس پلانٹ دھماکہ، 13 افراد ہلاک، درجنوں زخمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287843/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر کے توانائی مرکز میں ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہو گئے، یہ بات خلیجی ریاست کے وزیرِ توانائی نے پیر کے روز بتائی۔ یہ واقعہ خلیجی خطے کی توانائی تنصیبات میں ہونے والے حالیہ مہلک ترین حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے واضح کیا کہ یہ حادثہ تھا، نہ کہ تخریب کاری یا کسی دشمن کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی توانائی تنصیبات کو پہلے بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرتوانائی کے مطابق مرنے والوں میں بھارتی اور پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے 66 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طور پر اسے تکنیکی حادثہ قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ دھماکہ اتوار کی رات راس لفان صنعتی زون میں ہوا۔ بعد میں حکام نے کہا کہ یہ واقعہ بارزان گیس سپلائی یونٹ میں آپریشن شروع کرنے کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں آگ اور دھماکہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ قطر انرجی نے بھی تصدیق کی کہ ہنگامی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راس لفان میں واقع یہ گیس مرکز دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) حب میں شمار ہوتا ہے۔ دھماکے کے باوجود وزیرِ توانائی نے کہا کہ اس واقعے سے برآمدات یا مقامی گیس سپلائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ماحولیات کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی حکام کے مطابق بارزان پلانٹ پہلے یومیہ 1.4 ارب معیاری مکعب فٹ گیس مقامی پاور پلانٹس اور صنعتی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، جو ایران کے ساتھ جنوبی پارس گیس فیلڈ شیئر کرتا ہے، امریکہ، آسٹریلیا اور روس کے ساتھ دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ تاہم حالیہ کشیدگی اور خطے میں حملوں کے بعد اس کی توانائی برآمدات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطر کے توانائی مرکز میں ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہو گئے، یہ بات خلیجی ریاست کے وزیرِ توانائی نے پیر کے روز بتائی۔ یہ واقعہ خلیجی خطے کی توانائی تنصیبات میں ہونے والے حالیہ مہلک ترین حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے واضح کیا کہ یہ حادثہ تھا، نہ کہ تخریب کاری یا کسی دشمن کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی توانائی تنصیبات کو پہلے بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>وزیرتوانائی کے مطابق مرنے والوں میں بھارتی اور پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے 66 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔</p>
<p>قطر کی وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طور پر اسے تکنیکی حادثہ قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ دھماکہ اتوار کی رات راس لفان صنعتی زون میں ہوا۔ بعد میں حکام نے کہا کہ یہ واقعہ بارزان گیس سپلائی یونٹ میں آپریشن شروع کرنے کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں آگ اور دھماکہ ہوا۔</p>
<p>حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ قطر انرجی نے بھی تصدیق کی کہ ہنگامی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھا دی۔</p>
<p>راس لفان میں واقع یہ گیس مرکز دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) حب میں شمار ہوتا ہے۔ دھماکے کے باوجود وزیرِ توانائی نے کہا کہ اس واقعے سے برآمدات یا مقامی گیس سپلائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ماحولیات کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>توانائی حکام کے مطابق بارزان پلانٹ پہلے یومیہ 1.4 ارب معیاری مکعب فٹ گیس مقامی پاور پلانٹس اور صنعتی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>قطر، جو ایران کے ساتھ جنوبی پارس گیس فیلڈ شیئر کرتا ہے، امریکہ، آسٹریلیا اور روس کے ساتھ دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ تاہم حالیہ کشیدگی اور خطے میں حملوں کے بعد اس کی توانائی برآمدات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287843</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 09:45:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2309423846dc129.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2309423846dc129.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مارکو روبیو کا خلیجی ممالک کا دورہ: ایران معاہدے پر تحفظات دور کرنے کا مشکل مشن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو اس ہفتے ایک نازک سفارتی مشن کا سامنا ہے جہاں وہ خلیجی عرب رہنماؤں کے سامنے واشنگٹن کے ایران امن معاہدے کا دفاع کریں گے ۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کو دی جانے والی حد سے زیادہ رعایتیں تہران کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں جس سے خطے میں سکیورٹی کا توازن اور تیل کی ترسیل کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو منگل کومتحدہ عرب امارات میں خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس کے بعد وہ کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے۔ وہاں وہ جی سی سی  کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ یہ خلیجی بادشاہتوں کا ایک گروپ ہے جس میں سعودی عرب، قطر اور اومان بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے مسودے کے جن نکات پر اعتراضات ہیں ان میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر کوئی حد نہ ہونا، 300 ارب ڈالر کا مجوزہ تعمیر نو فنڈ اور ایسی شقیں شامل ہیں جو تہران کے علاقائی اثرورسوخ اور تیل کی اہم شپنگ گزرگاہوں پر اس کے کنٹرول کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام 6 خلیجی ممالک امریکہ کے اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور انہوں نے ایران کے ساتھ امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران کسی حد تک واشنگٹن کو لاجسٹک معاونت فراہم کی تھی جو چار ماہ قبل شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ممالک ایرانی فضائی حملوں سے بھی متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کچھ ممالک اس عبوری معاہدے پر نجی طور پر مایوسی اور حیرت محسوس کر رہے ہیں جو ایران کے ساتھ امریکی معمول کے تعلقات کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک کی رائے امریکی پالیسی سازوں کیلئے اہمیت رکھتی ہے۔ یو اے ای، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ان میں سے کوئی بھی ملک، چاہے معمولی حد تک ہی کیوں نہ ہو، امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرِ ثانی کرے تو اس کا خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک روبیو کے لیے یہ دورہ ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکہ کے اعلیٰ سفارتکار کو اپنے علاقائی اتحادیوں کو مطمئن کرنا ہے، لیکن اسے ایسا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت  پر براہِ راست تنقید سے بھی گریز کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو اس ہفتے ایک نازک سفارتی مشن کا سامنا ہے جہاں وہ خلیجی عرب رہنماؤں کے سامنے واشنگٹن کے ایران امن معاہدے کا دفاع کریں گے ۔ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کو دی جانے والی حد سے زیادہ رعایتیں تہران کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں جس سے خطے میں سکیورٹی کا توازن اور تیل کی ترسیل کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔</strong></p>
<p>روبیو منگل کومتحدہ عرب امارات میں خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جس کے بعد وہ کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے۔ وہاں وہ جی سی سی  کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ یہ خلیجی بادشاہتوں کا ایک گروپ ہے جس میں سعودی عرب، قطر اور اومان بھی شامل ہیں۔</p>
<p>معاہدے کے مسودے کے جن نکات پر اعتراضات ہیں ان میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر کوئی حد نہ ہونا، 300 ارب ڈالر کا مجوزہ تعمیر نو فنڈ اور ایسی شقیں شامل ہیں جو تہران کے علاقائی اثرورسوخ اور تیل کی اہم شپنگ گزرگاہوں پر اس کے کنٹرول کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔</p>
<p>تمام 6 خلیجی ممالک امریکہ کے اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور انہوں نے ایران کے ساتھ امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران کسی حد تک واشنگٹن کو لاجسٹک معاونت فراہم کی تھی جو چار ماہ قبل شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں یہ ممالک ایرانی فضائی حملوں سے بھی متاثر ہوئے۔</p>
<p>ان میں سے کچھ ممالک اس عبوری معاہدے پر نجی طور پر مایوسی اور حیرت محسوس کر رہے ہیں جو ایران کے ساتھ امریکی معمول کے تعلقات کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔</p>
<p>ان ممالک کی رائے امریکی پالیسی سازوں کیلئے اہمیت رکھتی ہے۔ یو اے ای، سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>اگر ان میں سے کوئی بھی ملک، چاہے معمولی حد تک ہی کیوں نہ ہو، امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرِ ثانی کرے تو اس کا خطے میں امریکی فوجی حکمتِ عملی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>مارک روبیو کے لیے یہ دورہ ایک نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ امریکہ کے اعلیٰ سفارتکار کو اپنے علاقائی اتحادیوں کو مطمئن کرنا ہے، لیکن اسے ایسا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت  پر براہِ راست تنقید سے بھی گریز کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287850</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 11:50:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2311500814a3216.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2311500814a3216.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت اور یو اے ای کے درمیان سپرسونک براہموس میزائل کی فروخت پر مذاکرات جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چار بھارتی ذرائع کے مطابق بھارت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے اہم دفاعی نظاموں، جن میں سپرسونک کروز میزائل براہموس بھی شامل ہے، کی فروخت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، کیونکہ خلیجی ملک مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بعد اپنے اسلحہ کی خریداری میں اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ان بات چیت میں بھارت کے فضائی دفاعی نظام آکاش تیر کی ممکنہ فروخت بھی شامل ہے، جس کی تصدیق دو باخبر ذرائع نے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تیسرے ذریعے نے بتایا کہ ”یو اے ای نے ہمارے متعدد ہتھیاری نظاموں میں دلچسپی ظاہر کی ہے جن میں براہموس اور آکاش تیر شامل ہیں۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکام اور متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہموس، جو بھارت اور روس نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، دنیا کے تیز ترین کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے زمینی، بحری اور فضائی پلیٹ فارمز سے داغا جا سکتا ہے، جبکہ آکاش تیر بھارت کا مکمل خودکار فضائی دفاعی نظام ہے جسے سرکاری کمپنی بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) اور بھارتی فوج نے تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے ساتھ جنگ کے دوران شدید حملوں کے بعد اب بھارت سمیت مختلف ممالک سے دفاعی سازوسامان خریدنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے آبنائے ہرمز کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے، جو اس کی توانائی کی برآمدات کا ایک اہم راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل رواں سال یو اے ای نے جنوبی کوریا کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کی مالیت 35 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی و دفاعی امور کی ماہر پرل پانڈیا کے مطابق دفاعی سپلائرز میں تنوع یو اے ای کو زیادہ اسٹریٹجک خودمختاری فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے امریکہ کو ناراض کیے بغیر تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ تینوں ممالک اتحادی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( ایس آئی پی آر آئی ) کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو اسلحے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ رہا، جس کا حصہ 54 فیصد تھا، اس کے بعد اٹلی 12 فیصد اور فرانس 11 فیصد کے ساتھ آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہموس میزائل کی فروخت سے قبل بھارت کو روس کی منظوری درکار ہوگی، کیونکہ یہ 290 کلومیٹر رینج والا میزائل بھارت اور روس کی مشترکہ تیاری ہے۔ تاہم ایک ذریعے کے مطابق یہ منظوری زیادہ رکاوٹ نہیں بنے گی کیونکہ ماسکو کے ابو ظہبی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی پی آر آئی  کے سینئر محقق سیمن ویزمان نے کہا ہے کہ براہموس میزائل اور آکاش تیر سسٹم دونوں ہی متحدہ عرب امارات کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، تاہم خلیجی ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے کے لیے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور یو اے ای پہلے ہی مختلف دفاعی سپلائرز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بھارت-اور-یو-اے-ای-کے-دفاعی-تعلقات-میں-گہرا-اضافہ" href="#بھارت-اور-یو-اے-ای-کے-دفاعی-تعلقات-میں-گہرا-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارت اور یو اے ای کے دفاعی تعلقات میں گہرا اضافہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے پاس پہلے ہی امریکی ساختہ MGM-168 ATACMS بیلسٹک میزائل موجود ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ رینج 300 کلومیٹر ہے۔ فضائی دفاع کے لیے اس کے پاس جدید امریکی نظام THAAD اور پیٹریاٹ بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی ماہرین کے مطابق آکاش تیر سسٹم مختلف آلات سے حاصل ہونے والی معلومات کو مربوط کر کے فضائی خطرات کے خلاف ایک مربوط دفاعی نیٹ ورک قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بھارت کے دفاعی برآمدی معاہدوں کے حوالے سے ماضی میں ایسے کئی منصوبے سامنے آئے ہیں جو مکمل نہیں ہو سکے، تاہم ویزمان کے مطابق آئندہ دنوں میں یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ممکنہ دفاعی سودوں کے امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور یو اے ای کے تعلقات تجارت اور توانائی کے شعبوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، اور دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر دفاعی سازوسامان کی تیاری پر بھی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی اتحادوں کی ایک اور علامت ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی اپنی اس بڑھتی ہوئی شراکت داری کو اس تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے مقابل ایک اسٹریٹجک توازن پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرل پانڈیا نے کہا ہے کہ بھارت اور یو اے ای کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو وسیع تر علاقائی جغرافیائی سیاسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان خطے میں قیادت کے لیے جاری مسابقت کے پس منظر میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق بھارت اور یو اے ای کے درمیان توسیع پذیر دفاعی روابط دراصل اسٹریٹجک سگنلنگ کی ایک شکل ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی کو ظاہر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بھارت-کی-دفاعی-برآمدات-میں-اضافہ" href="#بھارت-کی-دفاعی-برآمدات-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارت کی دفاعی برآمدات میں اضافہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران، جب بھارت نے پہلی بار میدانِ جنگ میں براہموس سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے، تو اس کے بعد دیگر ممالک کی جانب سے ان نظاموں میں دلچسپی میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے بعد بھارت نے براہموس میزائل کی فروخت کے معاہدے ویتنام اور انڈونیشیا کے ساتھ کیے ہیں، جبکہ تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، برازیل اور چلی جیسے ممالک نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک کے دہلی میں موجود سفارتخانوں نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہموس میزائل کی اس سے قبل واحد فروخت 2022 میں فلپائن کو کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت کے مطابق بھارت کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال مارچ 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 4 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئیں، جبکہ 2013-14 میں یہ محض 7.26 ملین ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق بھارت دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جو عالمی اسلحہ درآمدات کا 8 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چار بھارتی ذرائع کے مطابق بھارت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے اہم دفاعی نظاموں، جن میں سپرسونک کروز میزائل براہموس بھی شامل ہے، کی فروخت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، کیونکہ خلیجی ملک مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بعد اپنے اسلحہ کی خریداری میں اضافہ کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ان بات چیت میں بھارت کے فضائی دفاعی نظام آکاش تیر کی ممکنہ فروخت بھی شامل ہے، جس کی تصدیق دو باخبر ذرائع نے کی ہے۔</p>
<p>ایک تیسرے ذریعے نے بتایا کہ ”یو اے ای نے ہمارے متعدد ہتھیاری نظاموں میں دلچسپی ظاہر کی ہے جن میں براہموس اور آکاش تیر شامل ہیں۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔“</p>
<p>بھارتی حکام اور متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>براہموس، جو بھارت اور روس نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے، دنیا کے تیز ترین کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے زمینی، بحری اور فضائی پلیٹ فارمز سے داغا جا سکتا ہے، جبکہ آکاش تیر بھارت کا مکمل خودکار فضائی دفاعی نظام ہے جسے سرکاری کمپنی بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) اور بھارتی فوج نے تیار کیا ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے ساتھ جنگ کے دوران شدید حملوں کے بعد اب بھارت سمیت مختلف ممالک سے دفاعی سازوسامان خریدنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ وہ ابھرتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے آبنائے ہرمز کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے، جو اس کی توانائی کی برآمدات کا ایک اہم راستہ ہے۔</p>
<p>اس سے قبل رواں سال یو اے ای نے جنوبی کوریا کے ساتھ دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کی مالیت 35 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔</p>
<p>سیاسی و دفاعی امور کی ماہر پرل پانڈیا کے مطابق دفاعی سپلائرز میں تنوع یو اے ای کو زیادہ اسٹریٹجک خودمختاری فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے امریکہ کو ناراض کیے بغیر تعاون بڑھایا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ تینوں ممالک اتحادی ہیں۔</p>
<p>اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( ایس آئی پی آر آئی ) کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران امریکہ مشرقِ وسطیٰ کو اسلحے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ رہا، جس کا حصہ 54 فیصد تھا، اس کے بعد اٹلی 12 فیصد اور فرانس 11 فیصد کے ساتھ آتے ہیں۔</p>
<p>براہموس میزائل کی فروخت سے قبل بھارت کو روس کی منظوری درکار ہوگی، کیونکہ یہ 290 کلومیٹر رینج والا میزائل بھارت اور روس کی مشترکہ تیاری ہے۔ تاہم ایک ذریعے کے مطابق یہ منظوری زیادہ رکاوٹ نہیں بنے گی کیونکہ ماسکو کے ابو ظہبی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔</p>
<p>ایس آئی پی آر آئی  کے سینئر محقق سیمن ویزمان نے کہا ہے کہ براہموس میزائل اور آکاش تیر سسٹم دونوں ہی متحدہ عرب امارات کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، تاہم خلیجی ممالک کو اسلحہ فروخت کرنے کے لیے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور یو اے ای پہلے ہی مختلف دفاعی سپلائرز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔</p>
<h3><a id="بھارت-اور-یو-اے-ای-کے-دفاعی-تعلقات-میں-گہرا-اضافہ" href="#بھارت-اور-یو-اے-ای-کے-دفاعی-تعلقات-میں-گہرا-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارت اور یو اے ای کے دفاعی تعلقات میں گہرا اضافہ</h3>
<p>یو اے ای کے پاس پہلے ہی امریکی ساختہ MGM-168 ATACMS بیلسٹک میزائل موجود ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ رینج 300 کلومیٹر ہے۔ فضائی دفاع کے لیے اس کے پاس جدید امریکی نظام THAAD اور پیٹریاٹ بھی موجود ہیں۔</p>
<p>دفاعی ماہرین کے مطابق آکاش تیر سسٹم مختلف آلات سے حاصل ہونے والی معلومات کو مربوط کر کے فضائی خطرات کے خلاف ایک مربوط دفاعی نیٹ ورک قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔</p>
<p>اگرچہ بھارت کے دفاعی برآمدی معاہدوں کے حوالے سے ماضی میں ایسے کئی منصوبے سامنے آئے ہیں جو مکمل نہیں ہو سکے، تاہم ویزمان کے مطابق آئندہ دنوں میں یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ممکنہ دفاعی سودوں کے امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>گزشتہ چند برسوں میں بھارت اور یو اے ای کے تعلقات تجارت اور توانائی کے شعبوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، اور دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر دفاعی سازوسامان کی تیاری پر بھی تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔</p>
<p>یہ مذاکرات خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی اتحادوں کی ایک اور علامت ہیں۔ بھارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی اپنی اس بڑھتی ہوئی شراکت داری کو اس تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے کہ یہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے مقابل ایک اسٹریٹجک توازن پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>پرل پانڈیا نے کہا ہے کہ بھارت اور یو اے ای کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو وسیع تر علاقائی جغرافیائی سیاسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، خصوصاً ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان خطے میں قیادت کے لیے جاری مسابقت کے پس منظر میں۔</p>
<p>ان کے مطابق بھارت اور یو اے ای کے درمیان توسیع پذیر دفاعی روابط دراصل اسٹریٹجک سگنلنگ کی ایک شکل ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی کو ظاہر کر رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="بھارت-کی-دفاعی-برآمدات-میں-اضافہ" href="#بھارت-کی-دفاعی-برآمدات-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارت کی دفاعی برآمدات میں اضافہ</h3>
<p>بھارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران، جب بھارت نے پہلی بار میدانِ جنگ میں براہموس سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے، تو اس کے بعد دیگر ممالک کی جانب سے ان نظاموں میں دلچسپی میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسی کے بعد بھارت نے براہموس میزائل کی فروخت کے معاہدے ویتنام اور انڈونیشیا کے ساتھ کیے ہیں، جبکہ تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، برازیل اور چلی جیسے ممالک نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>ان ممالک کے دہلی میں موجود سفارتخانوں نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>براہموس میزائل کی اس سے قبل واحد فروخت 2022 میں فلپائن کو کی گئی تھی۔</p>
<p>بھارتی حکومت کے مطابق بھارت کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال مارچ 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 4 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئیں، جبکہ 2013-14 میں یہ محض 7.26 ملین ڈالر تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق بھارت دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جو عالمی اسلحہ درآمدات کا 8 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287826</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 18:40:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/221823232ec66be.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/221823232ec66be.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران کے مذاکرات نے کامیاب حتمی معاہدے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھ دی ہے، وینس کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287824/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کے روز کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ابتدائی مذاکرات نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی اچھی بنیاد فراہم کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے وسطی علاقے برگن اسٹاک ریزورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات اتوار سے شروع ہوئے تھے اور رات گئے تک جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت اچھی بنیاد رکھ دی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”حتمی معاہدہ ایک مکان کی طرح ہے۔ ہم نے بنیاد رکھ دی ہے، ابھی مکان نہیں بنایا، لیکن امریکی عوام کے لیے ایک اچھے مقام تک پہنچنے کی سمت میں ایک مضبوط بنیاد ضرور رکھ دی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”یہ سب کے لیے اہم ہے کہ ہم اس بات کو سراہیں کہ کتنا کام ہو چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہم جوہری مذاکرات اور معاشی مذاکرات میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی آبنائے میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ بحری آمدورفت کا بہاؤ دوبارہ معمول پر آ سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی کچھ کام باقی ہے، اور ہم اسی کام کو مکمل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے، جہاں سے ”کروڑوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہو رہی ہے… جو اس سے پہلے نہیں ہو رہی تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے پرتعیش برجن اسٹاک کمپلیکس میں، جھیل لوسرن کے نظارے کے ساتھ ہوئے، جن میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینس نے مزید کہا کہ وہ اس پریس کانفرنس کے بعد واپس امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ برگن اسٹاک میں آئندہ آنے والے دنوں اور ہفتوں کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کے روز کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ابتدائی مذاکرات نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی اچھی بنیاد فراہم کی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے وسطی علاقے برگن اسٹاک ریزورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات اتوار سے شروع ہوئے تھے اور رات گئے تک جاری رہے۔</p>
<p>“ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت اچھی بنیاد رکھ دی ہے۔”</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”حتمی معاہدہ ایک مکان کی طرح ہے۔ ہم نے بنیاد رکھ دی ہے، ابھی مکان نہیں بنایا، لیکن امریکی عوام کے لیے ایک اچھے مقام تک پہنچنے کی سمت میں ایک مضبوط بنیاد ضرور رکھ دی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”یہ سب کے لیے اہم ہے کہ ہم اس بات کو سراہیں کہ کتنا کام ہو چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہم جوہری مذاکرات اور معاشی مذاکرات میں پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی آبنائے میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ بحری آمدورفت کا بہاؤ دوبارہ معمول پر آ سکے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی کچھ کام باقی ہے، اور ہم اسی کام کو مکمل کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے، جہاں سے ”کروڑوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہو رہی ہے… جو اس سے پہلے نہیں ہو رہی تھی۔“</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے پرتعیش برجن اسٹاک کمپلیکس میں، جھیل لوسرن کے نظارے کے ساتھ ہوئے، جن میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔</p>
<p>وینس نے مزید کہا کہ وہ اس پریس کانفرنس کے بعد واپس امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ برگن اسٹاک میں آئندہ آنے والے دنوں اور ہفتوں کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287824</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 18:09:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22174141973ff49.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22174141973ff49.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے حتمی امن معاہدے پر بات چیت کے درمیان ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز ایران کے تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دے دی  ہے، جو گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ایک اقدام ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ جنرل لائسنس کے مطابق، یہ اجازت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر لاگو ہوگی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں فریقین حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مثبت مذاکرات کے تناظر میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور کھلی آمدورفت کی ضمانت دینے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SecScottBessent/status/2069048901185810867'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SecScottBessent/status/2069048901185810867"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;”فریم ورک کے تحت، محکمہ خزانہ نے ایک عارضی 60 روزہ جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے ذریعے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے مطابق امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان کے مشتقات کی برآمد کے لیے استثنیٰ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جن میں تمام متعلقہ خدمات شامل ہیں، بشمول بینکنگ لین دین، انشورنس اور ٹرانسپورٹیشن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز جاری ہونے والے جنرل لائسنس کے تحت ہونے والے لین دین میں ایرانی نژاد خام تیل، پیٹروکیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بھی شامل ہے جو امریکہ میں لائی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائسنس کے مطابق، ایرانی تیل کو ضرورت پڑنے پر اس استثنیٰ کے تحت امریکہ میں درآمد کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی فروخت یا ترسیل کا عمل مکمل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ اجازت واضح طور پر ان لین دین پر لاگو نہیں ہوتی جو شمالی کوریا یا کیوبا سے متعلق ہوں، کیونکہ یہ دونوں ممالک امریکہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز ایران کے تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دے دی  ہے، جو گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ایک اقدام ہے۔</strong></p>
<p>جاری کردہ جنرل لائسنس کے مطابق، یہ اجازت 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر لاگو ہوگی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں فریقین حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مثبت مذاکرات کے تناظر میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آزاد اور کھلی آمدورفت کی ضمانت دینے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا عہد کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SecScottBessent/status/2069048901185810867'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SecScottBessent/status/2069048901185810867"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>”فریم ورک کے تحت، محکمہ خزانہ نے ایک عارضی 60 روزہ جنرل لائسنس جاری کیا ہے جس کے ذریعے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔“</p>
<p>گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے مطابق امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان کے مشتقات کی برآمد کے لیے استثنیٰ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جن میں تمام متعلقہ خدمات شامل ہیں، بشمول بینکنگ لین دین، انشورنس اور ٹرانسپورٹیشن۔</p>
<p>پیر کے روز جاری ہونے والے جنرل لائسنس کے تحت ہونے والے لین دین میں ایرانی نژاد خام تیل، پیٹروکیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بھی شامل ہے جو امریکہ میں لائی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>لائسنس کے مطابق، ایرانی تیل کو ضرورت پڑنے پر اس استثنیٰ کے تحت امریکہ میں درآمد کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی فروخت یا ترسیل کا عمل مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p>تاہم یہ اجازت واضح طور پر ان لین دین پر لاگو نہیں ہوتی جو شمالی کوریا یا کیوبا سے متعلق ہوں، کیونکہ یہ دونوں ممالک امریکہ کی جانب سے سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287829</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 19:22:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2219083084afb08.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2219083084afb08.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران معاہدے پر خلیجی اتحادیوں سے مشاورت، مارکو روبیو یو اے ای، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے، ترجمان محکمہ خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287834/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل سے جمعرات تک متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے، جس کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کی تفصیلات اپنے خلیجی عرب اتحادیوں کے سامنے براہِ راست پیش کرنے کا موقع ملے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے پیر کو بتایا کہ بحرین میں قیام کے دوران روبیو خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس چھ ملکی اتحاد میں سعودی عرب، قطر اور عمان بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ جی سی سی کے رہنماؤں نے عمومی طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے دستخط کیے گئے مفاہمتی معاہدے کی بعض مخصوص شقوں پر انہیں شدید تحفظات لاحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی حکام کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث تہران کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ تعمیرِ نو فنڈ کا قیام ہے۔ خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایران اس رقم کو اپنی عسکری صلاحیت کی بحالی اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مفاہمتی معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی واضح ذکر نہ ہونا بھی واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کے لیے باعثِ تشویش ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین اور قطر میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان ممالک میں سے کوئی بھی امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرثانی کرتا ہے، خواہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، تو اس کے خطے میں امریکی عسکری حکمتِ عملی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کا یہ دورہ ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ورسائی میں ملاقات کے دوران ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت واشنگٹن اور تہران کو ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کی مہلت حاصل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ہفتے کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی مذاکراتی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی، جن کی ثالثی قطر اور پاکستان کے حکام نے کی۔ ان مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوا، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت پورے ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو کے دورے کی تفصیلات، بشمول متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں ان کی ملاقاتوں کے درست اوقات اور وہ کن رہنماؤں اور حکام سے ملاقات کریں گے، فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل سے جمعرات تک متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے، جس کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کی تفصیلات اپنے خلیجی عرب اتحادیوں کے سامنے براہِ راست پیش کرنے کا موقع ملے گا۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے پیر کو بتایا کہ بحرین میں قیام کے دوران روبیو خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس چھ ملکی اتحاد میں سعودی عرب، قطر اور عمان بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اگرچہ جی سی سی کے رہنماؤں نے عمومی طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے دستخط کیے گئے مفاہمتی معاہدے کی بعض مخصوص شقوں پر انہیں شدید تحفظات لاحق ہیں۔</p>
<p>علاقائی حکام کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث تہران کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ تعمیرِ نو فنڈ کا قیام ہے۔ خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایران اس رقم کو اپنی عسکری صلاحیت کی بحالی اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح مفاہمتی معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی واضح ذکر نہ ہونا بھی واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کے لیے باعثِ تشویش ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین اور قطر میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان ممالک میں سے کوئی بھی امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرثانی کرتا ہے، خواہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، تو اس کے خطے میں امریکی عسکری حکمتِ عملی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>مارکو روبیو کا یہ دورہ ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ورسائی میں ملاقات کے دوران ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت واشنگٹن اور تہران کو ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کی مہلت حاصل ہو گئی ہے۔</p>
<p>ادھر ہفتے کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی مذاکراتی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی، جن کی ثالثی قطر اور پاکستان کے حکام نے کی۔ ان مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوا، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت پورے ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>روبیو کے دورے کی تفصیلات، بشمول متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں ان کی ملاقاتوں کے درست اوقات اور وہ کن رہنماؤں اور حکام سے ملاقات کریں گے، فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287834</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 21:01:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2220360564adc76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2220360564adc76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر کے بڑے ایل این جی پلانٹ میں دھماکہ،13 افراد ہلاک، درجنوں زخمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قطر کے بڑے راس لفان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کمپلیکس میں دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد معطل شدہ آپریشنز دوبارہ شروع کیے جا رہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اتوار کی شام بارزان مقامی گیس سپلائی سہولت میں ایک ”تکنیکی حادثہ“ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، جہاں ایک بڑی امریکی فوجی تنصیب بھی موجود ہے، ایران کے ساتھ جنگ کے دوران متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے۔ اس تنازع کے باعث خلیج میں عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ متاثر ہوا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں کچھ ترسیلات دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک حادثہ تھا، نہ کہ کوئی تخریبی یا دشمنانہ کارروائی۔“ ان کے مطابق پلانٹ میں پیداوار کو دسمبر 2025 سے فوری مرمت کی ضرورت کے باعث مکمل طور پر روک دیا گیا تھا اور اسے صرف دو روز قبل دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد الکعبی نے مزید کہا کہ ماحولیاتی طور پر کوئی خطرہ موجود نہیں اور پلانٹ کی برآمدی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ یہ وسطی دوحہ تک محسوس کیا گیا، جس سے 70 کلومیٹر سے زائد دور رہنے والے رہائشی بھی خوفزدہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیداوار بحالی میں درپیش مشکلات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بند کی گئی تنصیبات سے تیل اور گیس کی پیداوار دوبارہ شروع کرنا خلیجی ممالک کے لیے کس قدر پیچیدہ مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر ان ممالک میں شامل ہے جو آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ اسے اپنی ایل این جی برآمدات کے لیے کوئی متبادل راستہ دستیاب نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل این جی آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنا خاص طور پر پیچیدہ عمل ہے، کیونکہ اس میں درجہ حرارت کو آہستہ آہستہ کم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ تھرمل شاک سے بچا جا سکے۔ ایل این جی ٹرینز کو ایک ساتھ دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں مرحلہ وار فعال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائع قدرتی گیس کے عمل میں، جس میں گیس کو تقریباً منفی 162 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 260 فارن ہائیٹ) تک ٹھنڈا کر کے مائع بنایا جاتا ہے، سب سے اہم مرحلہ یہی کول ڈاؤن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں دھماکہ ہوا، یعنی بارزان گیس سپلائی فیسلٹی، وہ راس لفان انڈسٹریل سٹی کا حصہ ہے جو قطر انرجی کا وسیع ایل این جی پیداوار اور برآمدی مرکز ہے، جس کی سالانہ پیداوار کی صلاحیت 77 ملین میٹرک ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارزان مقامی صنعت اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پائپ لائن گیس فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی ایل پی جی اور دیگر مصنوعات بھی برآمد کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں ایرانی میزائل حملے نے راس لفان کے دو گیس پروسیسنگ یونٹس کو نشانہ بنایا تھا، جس سے قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔ قطر انرجی کے سی ای او کے مطابق ان نقصانات کی بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے دوران کمپنی کو آف شور رِگز اور آن شور پلانٹس سے تقریباً 10,000 کارکنوں کو نکالنا پڑا تھا، تاہم مارچ کے حملے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قطر کے بڑے راس لفان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کمپلیکس میں دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد معطل شدہ آپریشنز دوبارہ شروع کیے جا رہے تھے۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق اتوار کی شام بارزان مقامی گیس سپلائی سہولت میں ایک ”تکنیکی حادثہ“ پیش آیا۔</p>
<p>قطر، جہاں ایک بڑی امریکی فوجی تنصیب بھی موجود ہے، ایران کے ساتھ جنگ کے دوران متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے۔ اس تنازع کے باعث خلیج میں عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ متاثر ہوا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں کچھ ترسیلات دوبارہ بحال ہونا شروع ہوئی ہیں۔</p>
<p>قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک حادثہ تھا، نہ کہ کوئی تخریبی یا دشمنانہ کارروائی۔“ ان کے مطابق پلانٹ میں پیداوار کو دسمبر 2025 سے فوری مرمت کی ضرورت کے باعث مکمل طور پر روک دیا گیا تھا اور اسے صرف دو روز قبل دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔</p>
<p>سعد الکعبی نے مزید کہا کہ ماحولیاتی طور پر کوئی خطرہ موجود نہیں اور پلانٹ کی برآمدی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>دھماکے کی شدت اتنی تھی کہ یہ وسطی دوحہ تک محسوس کیا گیا، جس سے 70 کلومیٹر سے زائد دور رہنے والے رہائشی بھی خوفزدہ ہو گئے۔</p>
<p><strong>پیداوار بحالی میں درپیش مشکلات</strong></p>
<p>یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بند کی گئی تنصیبات سے تیل اور گیس کی پیداوار دوبارہ شروع کرنا خلیجی ممالک کے لیے کس قدر پیچیدہ مرحلہ ہے۔</p>
<p>قطر ان ممالک میں شامل ہے جو آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ اسے اپنی ایل این جی برآمدات کے لیے کوئی متبادل راستہ دستیاب نہیں ہے۔</p>
<p>ایل این جی آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنا خاص طور پر پیچیدہ عمل ہے، کیونکہ اس میں درجہ حرارت کو آہستہ آہستہ کم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ تھرمل شاک سے بچا جا سکے۔ ایل این جی ٹرینز کو ایک ساتھ دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں مرحلہ وار فعال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مائع قدرتی گیس کے عمل میں، جس میں گیس کو تقریباً منفی 162 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 260 فارن ہائیٹ) تک ٹھنڈا کر کے مائع بنایا جاتا ہے، سب سے اہم مرحلہ یہی کول ڈاؤن ہوتا ہے۔</p>
<p>جہاں دھماکہ ہوا، یعنی بارزان گیس سپلائی فیسلٹی، وہ راس لفان انڈسٹریل سٹی کا حصہ ہے جو قطر انرجی کا وسیع ایل این جی پیداوار اور برآمدی مرکز ہے، جس کی سالانہ پیداوار کی صلاحیت 77 ملین میٹرک ٹن ہے۔</p>
<p>بارزان مقامی صنعت اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پائپ لائن گیس فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی ایل پی جی اور دیگر مصنوعات بھی برآمد کر سکتا ہے۔</p>
<p>مارچ میں ایرانی میزائل حملے نے راس لفان کے دو گیس پروسیسنگ یونٹس کو نشانہ بنایا تھا، جس سے قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔ قطر انرجی کے سی ای او کے مطابق ان نقصانات کی بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>جنگ کے دوران کمپنی کو آف شور رِگز اور آن شور پلانٹس سے تقریباً 10,000 کارکنوں کو نکالنا پڑا تھا، تاہم مارچ کے حملے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287819</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 23:35:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2214492346dc129.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2214492346dc129.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اہم نکات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو پیر کے روز مکمل کر لیا، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رہے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر اور پاکستان کی ثالثی سے حاصل ہونے والی “نمایاں پیش رفت” کو سراہا، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر اور پاکستان کے مشترکہ بیان کے مطابق پہلے دور کے اختتام پر اہم نکات درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;تہران اور واشنگٹن کی جانب سے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت مزید تکنیکی بات چیت کی فوری بنیاد رکھ دی گئی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تکنیکی مذاکرات اس ہفتے کے باقی دنوں میں برگن اسٹاک میں تمام متعلقہ امور پر جاری رہیں گے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان ’ڈی-کنفلکشن سیل‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایک ”ڈی-کنفلکشن سیل“ قائم کیا جائے گا، جس میں دونوں فریق، لبنانی حکومت اور ثالث ممالک شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، جیسا کہ مشترکہ بیان میں کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں حالیہ دنوں میں جاری لڑائی نے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا کہ لبنان میں یہ ڈی-کنفلکشن سیل ”اصل امتحان“ ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز ‘کمیونیکیشن لائن’&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران اور واشنگٹن نے ایک رابطہ لائن قائم کی ہے جس کا مقصد کسی بھی حادثے یا غلط فہمی سے بچنا اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے، جیسا کہ بیان میں کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رابطہ لائن 60 روزہ مدت کے لیے مؤثر ہوگی، جو پہلے سے طے شدہ مفاہمت نامے کے تحت ہے، جس میں ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ”ہر ممکن کوشش“ کا عزم ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کچھ منجمد اثاثے بحال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا کہ ”تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے، کچھ منجمد اثاثے بھی بحال کر دیے گئے ہیں، اور ایران کے لیے بڑا تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان میں ایرانی اثاثوں کے کسی حصے کے اجراء کا ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ نے ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرنے اور منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے اے ایف پی کی جانب سے عباس عراقچی کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور قطر کا اہم کردار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکہ کے معاہدے میں پاکستان اور قطر نے ثالث کے طور پر نمایاں بین الاقوامی حیثیت حاصل کر لی ہے، اور دونوں ممالک نے پہلے دورِ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ”ثالث ممالک اپنی پوری کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھیں اور فریقین کو حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد ملے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں ”پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی“ کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو پیر کے روز مکمل کر لیا، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رہے گی۔</strong></p>
<p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر اور پاکستان کی ثالثی سے حاصل ہونے والی “نمایاں پیش رفت” کو سراہا، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>قطر اور پاکستان کے مشترکہ بیان کے مطابق پہلے دور کے اختتام پر اہم نکات درج ذیل ہیں:</p>
<ul>
<li>تہران اور واشنگٹن کی جانب سے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت مزید تکنیکی بات چیت کی فوری بنیاد رکھ دی گئی ہے۔</li>
<li>تکنیکی مذاکرات اس ہفتے کے باقی دنوں میں برگن اسٹاک میں تمام متعلقہ امور پر جاری رہیں گے۔</li>
</ul>
<p><strong>لبنان ’ڈی-کنفلکشن سیل‘</strong></p>
<p>امریکہ اور ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایک ”ڈی-کنفلکشن سیل“ قائم کیا جائے گا، جس میں دونوں فریق، لبنانی حکومت اور ثالث ممالک شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، جیسا کہ مشترکہ بیان میں کہا گیا۔</p>
<p>لبنان میں حالیہ دنوں میں جاری لڑائی نے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔</p>
<p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا کہ لبنان میں یہ ڈی-کنفلکشن سیل ”اصل امتحان“ ثابت ہوگا۔</p>
<p><strong>آبنائے ہرمز ‘کمیونیکیشن لائن’</strong></p>
<p>تہران اور واشنگٹن نے ایک رابطہ لائن قائم کی ہے جس کا مقصد کسی بھی حادثے یا غلط فہمی سے بچنا اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے، جیسا کہ بیان میں کہا گیا۔</p>
<p>یہ رابطہ لائن 60 روزہ مدت کے لیے مؤثر ہوگی، جو پہلے سے طے شدہ مفاہمت نامے کے تحت ہے، جس میں ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ”ہر ممکن کوشش“ کا عزم ظاہر کیا تھا۔</p>
<p>ایران نے ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p><strong>کچھ منجمد اثاثے بحال</strong></p>
<p>عباس عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا کہ ”تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے، کچھ منجمد اثاثے بھی بحال کر دیے گئے ہیں، اور ایران کے لیے بڑا تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔“</p>
<p>تاہم پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان میں ایرانی اثاثوں کے کسی حصے کے اجراء کا ذکر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ نے ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرنے اور منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کیا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے اے ایف پی کی جانب سے عباس عراقچی کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p><strong>پاکستان اور قطر کا اہم کردار</strong></p>
<p>ایران اور امریکہ کے معاہدے میں پاکستان اور قطر نے ثالث کے طور پر نمایاں بین الاقوامی حیثیت حاصل کر لی ہے، اور دونوں ممالک نے پہلے دورِ مذاکرات کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ”ثالث ممالک اپنی پوری کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ مذاکرات تعمیری ماحول میں آگے بڑھیں اور فریقین کو حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد ملے۔“</p>
<p>عباس عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں ”پاکستان اور قطر کی انتھک ثالثی“ کو سراہتے ہوئے ان کے کردار کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287837</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 00:01:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22235335b549763.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22235335b549763.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی تجارتی معاہدہ : بھارت حریف ممالک سے زیادہ ٹیرف رعایت کا خواہشمند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287830/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی تجارتی مندوب جیمی سن گریر منگل کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں، جہاں نئی دہلی دیگر ایشیائی معیشتوں کے مقابلے میں بہتر شرائط پر تجارتی معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دورہ فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔ کھچے ہوئے سفارتی تعلقات اور خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد یہ مذاکرات انتہائی اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مسابقتی ٹیرف برتری چاہتا ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل کے مطابق وہ 24 جولائی کو امریکی عارضی ٹیرف کی میعاد ختم ہونے سے پہلے معاہدہ چاہتے ہیں۔ اگرچہ فروری میں بھارتی اشیاء پر 18 فیصد ٹیرف کا ابتدائی معاہدہ ہوا تھا لیکن امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو منسوخ کرنے اور واشنگٹن کی  سیکشن 301  تحقیقات کی وجہ سے حتمی معاہدہ تاخیر کا شکار ہے۔ امریکہ اس دباؤ کو اپنی زرعی اور دفاعی مصنوعات بھارت میں بیچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی تجارتی مندوب جیمی سن گریر منگل کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں، جہاں نئی دہلی دیگر ایشیائی معیشتوں کے مقابلے میں بہتر شرائط پر تجارتی معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ دورہ فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔ کھچے ہوئے سفارتی تعلقات اور خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد یہ مذاکرات انتہائی اہم ہیں۔</p>
<p>بھارت ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں مسابقتی ٹیرف برتری چاہتا ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل کے مطابق وہ 24 جولائی کو امریکی عارضی ٹیرف کی میعاد ختم ہونے سے پہلے معاہدہ چاہتے ہیں۔ اگرچہ فروری میں بھارتی اشیاء پر 18 فیصد ٹیرف کا ابتدائی معاہدہ ہوا تھا لیکن امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو منسوخ کرنے اور واشنگٹن کی  سیکشن 301  تحقیقات کی وجہ سے حتمی معاہدہ تاخیر کا شکار ہے۔ امریکہ اس دباؤ کو اپنی زرعی اور دفاعی مصنوعات بھارت میں بیچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287830</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 19:20:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2219145756843c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2219145756843c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287816/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ کیئر اسٹارمر دو سال سے بھی کم عرصے تک اس منصب پر فائز رہے جس کے دوران ان کی حکومت کو پالیسیوں میں تبدیلیوں اور عوامی مقبولیت میں شدید کمی کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر جذباتی تقریر کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ میں نے جو بھی فیصلہ لیا وہ اس ملک کو مقدم رکھنے کیلئے لیا جس سے میں محبت کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں لیبر پارٹی کے رہنما کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارمر نے کہا کہ لیبر پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب کا عمل جولائی میں شروع کیا جائے گا اور وہ اس وقت تک وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک کہ ان کے جانشین کا انتخاب نہیں ہو جاتا جس کی تقرری ستمبر تک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔</strong></p>
<p>برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ کیئر اسٹارمر دو سال سے بھی کم عرصے تک اس منصب پر فائز رہے جس کے دوران ان کی حکومت کو پالیسیوں میں تبدیلیوں اور عوامی مقبولیت میں شدید کمی کا سامنا رہا۔</p>
<p>ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر جذباتی تقریر کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ میں نے جو بھی فیصلہ لیا وہ اس ملک کو مقدم رکھنے کیلئے لیا جس سے میں محبت کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں لیبر پارٹی کے رہنما کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔</p>
<p>اسٹارمر نے کہا کہ لیبر پارٹی کے نئے رہنما کے انتخاب کا عمل جولائی میں شروع کیا جائے گا اور وہ اس وقت تک وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک کہ ان کے جانشین کا انتخاب نہیں ہو جاتا جس کی تقرری ستمبر تک متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287816</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 14:19:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2214161731d89eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2214161731d89eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے شہر لکھنؤ میں تربیتی مرکز میں آگ لگنے سے 8 افراد ہلاک، پولیس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287828/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی حکام کے مطابق پیر کے روز شمالی بھارت کے شہر لکھنؤ میں ایک اینیمیشن ٹریننگ سینٹر میں آگ لگنے کے واقعے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے  ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہوئے اسے 14 قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر طلبہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق آگ ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے علاقے علی گنج میں لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی وژن مناظر میں دکھایا گیا کہ کچھ لوگ ایک شخص کی طرف دوڑ رہے ہیں جو عمارت کی پہلی منزل سے نیچے گر رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق یہ شخص اس عمارت سے چھلانگ لگا رہا تھا جو شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید ٹی وی مناظر میں وردی میں ملبوس افراد کو لاشیں اٹھاتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جبکہ قریب ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک بڑا اور افسوسناک واقعہ ہے، ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ مرکز طلبہ کو اینیمیشن بنانے کی تربیت دیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا کہ لکھنؤ میں آتشزدگی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انہیں گہرا دکھ ہے، اور وہ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ چند ہفتے قبل دہلی کے ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ کے بعد پیش آیا ہے، جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 10 سے زیادہ غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ اس واقعے نے دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین پر سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی حکام کے مطابق پیر کے روز شمالی بھارت کے شہر لکھنؤ میں ایک اینیمیشن ٹریننگ سینٹر میں آگ لگنے کے واقعے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے  ہیں۔</strong></p>
<p>مقامی میڈیا نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتاتے ہوئے اسے 14 قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر طلبہ شامل ہیں۔</p>
<p>بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق آگ ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے علاقے علی گنج میں لگی۔</p>
<p>ٹیلی وژن مناظر میں دکھایا گیا کہ کچھ لوگ ایک شخص کی طرف دوڑ رہے ہیں جو عمارت کی پہلی منزل سے نیچے گر رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق یہ شخص اس عمارت سے چھلانگ لگا رہا تھا جو شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔</p>
<p>مزید ٹی وی مناظر میں وردی میں ملبوس افراد کو لاشیں اٹھاتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جبکہ قریب ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔</p>
<p>یہ ایک بڑا اور افسوسناک واقعہ ہے، ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ مرکز طلبہ کو اینیمیشن بنانے کی تربیت دیتا تھا۔</p>
<p>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا کہ لکھنؤ میں آتشزدگی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انہیں گہرا دکھ ہے، اور وہ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ واقعہ چند ہفتے قبل دہلی کے ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ کے بعد پیش آیا ہے، جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 10 سے زیادہ غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ اس واقعے نے دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین پر سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287828</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 19:03:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22185838b9e1b23.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22185838b9e1b23.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران، امریکہ معاہدے پر عملدرآمد کیلئے سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی مذاکرات کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287811/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی اسٹوڈنٹ نیوز ایجنسی  کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور متعلقہ تکنیکی ورکنگ گروپس کی تشکیل پر تکنیکی بات چیت پیر کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کررہے ہیں اور اس میں سیاسی، اقتصادی اور قانونی ماہرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شرکت کررہے ہیں جبکہ محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایران کی مرکزی مذاکراتی ٹیم تہران واپس آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی اسٹوڈنٹ نیوز ایجنسی  کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور متعلقہ تکنیکی ورکنگ گروپس کی تشکیل پر تکنیکی بات چیت پیر کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگی۔</strong></p>
<p>ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کررہے ہیں اور اس میں سیاسی، اقتصادی اور قانونی ماہرین شامل ہیں۔</p>
<p>ان مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شرکت کررہے ہیں جبکہ محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایران کی مرکزی مذاکراتی ٹیم تہران واپس آچکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287811</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 13:39:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22133850135bf9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22133850135bf9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور مکمل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287790/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوگیا، جبکہ مذاکرات کے آغاز پر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دہرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کی ثالثی کرنے والے ممالک قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق امریکا اور ایران نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات ہفتے بھر سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے لبنان میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے رابطے کا ایک مستقل نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جو گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے لیے امریکی چھوٹ، منجمد اثاثوں کے جزوی اجرا اور ایران کی تعمیر نو و ترقی کے منصوبے کے آغاز کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذاکرات کے دوران اختلافات بھی سامنے آئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی کمرے میں واپس جانے سے انکار کردیا، اگرچہ قطر اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات سے قبل امریکا کو ایم او یو کے دیگر نکات پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایک امریکی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد مذاکرات سے نہیں اٹھا اور رات گئے تک مختلف امور پر بات چیت جاری رہی، جن میں آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری پروگرام اور ایم او یو کے نفاذ کے معاملات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پر عمل نہ ہونے کے باعث اس نے دوبارہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت روک دی ہے۔ اگرچہ امریکی حکام اس دعوے سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن شپنگ ڈیٹا کے مطابق اتوار کو صرف پانچ جہاز آبنائے سے گزرے، جو ایک روز قبل 26 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اتحادی، خصوصاً حزب اللہ نے لبنان میں کارروائیاں بند نہ کریں تو امریکا ایران پر مزید سخت حملے کرسکتا ہے۔ ان دھمکیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور عالمی برادری کو امید ہے کہ یہ عمل خطے میں کشیدگی کم کرنے اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوگیا، جبکہ مذاکرات کے آغاز پر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دہرائی۔</strong></p>
<p>مذاکرات کی ثالثی کرنے والے ممالک قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق امریکا اور ایران نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات ہفتے بھر سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں جاری رہیں گے۔</p>
<p>فریقین نے لبنان میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے رابطے کا ایک مستقل نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جو گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ہوئے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے لیے امریکی چھوٹ، منجمد اثاثوں کے جزوی اجرا اور ایران کی تعمیر نو و ترقی کے منصوبے کے آغاز کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔</p>
<p>تاہم مذاکرات کے دوران اختلافات بھی سامنے آئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی کمرے میں واپس جانے سے انکار کردیا، اگرچہ قطر اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات سے قبل امریکا کو ایم او یو کے دیگر نکات پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب ایک امریکی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد مذاکرات سے نہیں اٹھا اور رات گئے تک مختلف امور پر بات چیت جاری رہی، جن میں آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری پروگرام اور ایم او یو کے نفاذ کے معاملات شامل تھے۔</p>
<p>ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پر عمل نہ ہونے کے باعث اس نے دوبارہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت روک دی ہے۔ اگرچہ امریکی حکام اس دعوے سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن شپنگ ڈیٹا کے مطابق اتوار کو صرف پانچ جہاز آبنائے سے گزرے، جو ایک روز قبل 26 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔</p>
<p>ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اتحادی، خصوصاً حزب اللہ نے لبنان میں کارروائیاں بند نہ کریں تو امریکا ایران پر مزید سخت حملے کرسکتا ہے۔ ان دھمکیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور عالمی برادری کو امید ہے کہ یہ عمل خطے میں کشیدگی کم کرنے اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287790</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 09:24:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/220922516a44325.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/220922516a44325.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی وفد کا مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287791/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب ایرانی وفد نے مبینہ طور پر مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کیا، جبکہ تہران اور واشنگٹن نے ایک دوسرے کیخلاف سخت بیانات اور دھمکیاں بھی جاری رکھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد مذاکراتی عمارت چھوڑ دی، یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔ تاہم ایک سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد اب بھی مذاکرات کا حصہ ہے اور اس نے باضابطہ طور پر مذاکرات چھوڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکا و ایران کے تعلقات میں دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ طے کرنا ہے، تاہم لبنان میں جاری جنگ اور ایران کی علاقائی اتحادی پالیسیوں پر اختلافات نے بات چیت کو مشکل بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بند نہ کی تو اس پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے، جبکہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے جواب میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اس کی فوج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ضروری ہوگا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں ہوئی بلکہ مذاکرات کا فوکس لبنان کی صورتحال اور مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کو تاریخی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین تعلقات میں بہتری کے لیے نئے دور کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق لبنان میں جاری لڑائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے امن عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب ایرانی وفد نے مبینہ طور پر مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کیا، جبکہ تہران اور واشنگٹن نے ایک دوسرے کیخلاف سخت بیانات اور دھمکیاں بھی جاری رکھیں۔</strong></p>
<p>غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد مذاکراتی عمارت چھوڑ دی، یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔ تاہم ایک سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد اب بھی مذاکرات کا حصہ ہے اور اس نے باضابطہ طور پر مذاکرات چھوڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔</p>
<p>مذاکرات کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکا و ایران کے تعلقات میں دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ طے کرنا ہے، تاہم لبنان میں جاری جنگ اور ایران کی علاقائی اتحادی پالیسیوں پر اختلافات نے بات چیت کو مشکل بنا دیا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بند نہ کی تو اس پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے، جبکہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے جواب میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اس کی فوج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ضروری ہوگا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں ہوئی بلکہ مذاکرات کا فوکس لبنان کی صورتحال اور مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد تھا۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کو تاریخی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین تعلقات میں بہتری کے لیے نئے دور کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق لبنان میں جاری لڑائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے امن عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287791</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 13:36:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22092945f49c8ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22092945f49c8ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے ڈی وینس کی امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287795/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن کوششوں میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں امریکا ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ پاکستان سے محبت کرتی ہے اور اس کے کردار کی قدر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس کی کوششوں پر شکر گزار ہیں۔ملاقات میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق مشیر جیرڈ کشنر بھی شریک تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس عمل میں اعلیٰ سطحی دلچسپی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات کے موقع پر ہوئی، جن میں پاکستان اور قطر ثالثی کے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بصیرت افروز قرار دیا اور کہا کہ یہ مذاکرات عالمی امن کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات 17 جون 2026 کو طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہو رہے ہیں، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پاکستان کا ثالثی کردار خطے میں سفارتی توازن اور امن کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مذاکرات کو علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن کوششوں میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔</strong></p>
<p>سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں امریکا ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات کے موقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ پاکستان سے محبت کرتی ہے اور اس کے کردار کی قدر کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس کی کوششوں پر شکر گزار ہیں۔ملاقات میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق مشیر جیرڈ کشنر بھی شریک تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس عمل میں اعلیٰ سطحی دلچسپی رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات کے موقع پر ہوئی، جن میں پاکستان اور قطر ثالثی کے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بصیرت افروز قرار دیا اور کہا کہ یہ مذاکرات عالمی امن کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا۔</p>
<p>پاکستانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات 17 جون 2026 کو طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہو رہے ہیں، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پاکستان کا ثالثی کردار خطے میں سفارتی توازن اور امن کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مذاکرات کو علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287795</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 09:51:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22095041494c19c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22095041494c19c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جے ڈی وینس کا سوئٹزرلینڈ میں امریکہ ایران مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم، تاریخی لمحہ قرار دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287789/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے  سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے روبرو مذاکرات کو  تاریخی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران اپنے تعلقات کو ازسرِنو استوار کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برگن اسٹاک ریزورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایک نئے باب کا آغاز کرنا ہے، تاکہ ایرانی عوام کے ساتھ ہمارے تعلقات تبدیل ہو سکیں اور ہم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینس نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکی تعلقات کو بدلنے کے لیے ایک نئے باب کے آغاز کی خواہش ظاہر کی ہے اور سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے یہ تکنیکی مذاکرات دونوں فریقین کو ایک ساتھ بیٹھنے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے  سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے روبرو مذاکرات کو  تاریخی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران اپنے تعلقات کو ازسرِنو استوار کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>برگن اسٹاک ریزورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی ملاقات ہے اور اس کا مقصد ایک نئے باب کا آغاز کرنا ہے، تاکہ ایرانی عوام کے ساتھ ہمارے تعلقات تبدیل ہو سکیں اور ہم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا سکیں۔</p>
<p>وینس نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکی تعلقات کو بدلنے کے لیے ایک نئے باب کے آغاز کی خواہش ظاہر کی ہے اور سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے یہ تکنیکی مذاکرات دونوں فریقین کو ایک ساتھ بیٹھنے اور مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287789</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 20:00:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/21195652a260b27.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/21195652a260b27.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئٹزرلینڈ میں امریکہ ایران امن مذاکرات کا آغاز، آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287781/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اتوار کی صبح سوئس ریزورٹ میں اعلیٰ سطح کے امن مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ فریقین کے مابین پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے 60 روزہ جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، جس میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آبنائے ہرمز کی بندش اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات میں جوہری معاملے اور لبنان جنگ بندی پر پیش رفت ہوگی۔ دوسری طرف اسرائیل نے اس معاہدے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے لبنانی حدود سے پیچھے ہٹنے کی تردید کی ہے، جس سے خطے میں تناؤ تاحال برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور ایران کے درمیان چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اتوار کی صبح سوئس ریزورٹ میں اعلیٰ سطح کے امن مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی قیادت چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ فریقین کے مابین پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے 60 روزہ جنگ بندی کے عبوری معاہدے کو آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، جس میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم آبنائے ہرمز کی بندش اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات میں جوہری معاملے اور لبنان جنگ بندی پر پیش رفت ہوگی۔ دوسری طرف اسرائیل نے اس معاہدے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے لبنانی حدود سے پیچھے ہٹنے کی تردید کی ہے، جس سے خطے میں تناؤ تاحال برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287781</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 14:35:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/21143143580f7fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/21143143580f7fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حزب اللہ کی حمایت پر ٹرمپ کی ایران پر حملے کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے لبنان میں اپنے بھاری معاوضہ لینے والے متبادل جنگجوؤں (پروکسیز) کو فوری طور پر گڑبڑ پھیلانے سے نہ روکا تو وہ ایران پر حملہ کر دیں گے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امن مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا اشارہ حزب اللہ کی طرف تھا جو اسرائیل پر حملوں کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہوئی تھی۔ حالیہ دنوں میں دونوں فریقین کے مابین ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے ابتدائی امن معاہدے کے پٹری سے اترنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران پر ایک بار پھر انتہائی شدید وار کریں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت!!!&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے لبنان میں اپنے بھاری معاوضہ لینے والے متبادل جنگجوؤں (پروکسیز) کو فوری طور پر گڑبڑ پھیلانے سے نہ روکا تو وہ ایران پر حملہ کر دیں گے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ میں امن مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کا اشارہ حزب اللہ کی طرف تھا جو اسرائیل پر حملوں کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہوئی تھی۔ حالیہ دنوں میں دونوں فریقین کے مابین ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے ابتدائی امن معاہدے کے پٹری سے اترنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران پر ایک بار پھر انتہائی شدید وار کریں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت!!!</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287788</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 19:52:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/21194747250aac3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/21194747250aac3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امن مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287764/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار کے روز ایران کے حکام کے ساتھ متوقع دو روزہ امن مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب صدر کے ترجمان کے مطابق جے ڈی وینس اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ کے ایمن ایئر بیس پر مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 59 منٹ (03:59 جی ایم ٹی) پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے قبل ازیں کہا تھا کہ ایران کے حکام کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات ممکنہ طور پر چند روز تک جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار کے روز ایران کے حکام کے ساتھ متوقع دو روزہ امن مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے۔</strong></p>
<p>نائب صدر کے ترجمان کے مطابق جے ڈی وینس اپنی اہلیہ کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ کے ایمن ایئر بیس پر مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 59 منٹ (03:59 جی ایم ٹی) پر پہنچے۔</p>
<p>جے ڈی وینس نے قبل ازیں کہا تھا کہ ایران کے حکام کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات ممکنہ طور پر چند روز تک جاری رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287764</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 10:36:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/211034545a38cc9.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/211034545a38cc9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران کے مابین سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات شروع، ثالث قطر نے تصدیق کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287786/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے  سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور  ایران کے مابین مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق کر دی ہے، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں  لیک لوسرن سمٹ  کے آغاز اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا اعلان کیا ہے، جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور دونوں ثالث ممالک یعنی ریاستِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندے شریک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس کی دولت سے مالامال خلیجی امارت نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ ملاقاتیں ایک ایسے جامع اور پائیدار معاہدے پر منتج ہوں گی جس میں اس مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا، جو رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے مابین طے پائی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر نے  سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور  ایران کے مابین مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق کر دی ہے، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا مستقل خاتمہ ہے۔</strong></p>
<p>قطری وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں  لیک لوسرن سمٹ  کے آغاز اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا اعلان کیا ہے، جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور دونوں ثالث ممالک یعنی ریاستِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندے شریک ہیں۔</p>
<p>گیس کی دولت سے مالامال خلیجی امارت نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ ملاقاتیں ایک ایسے جامع اور پائیدار معاہدے پر منتج ہوں گی جس میں اس مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا، جو رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے مابین طے پائی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287786</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 19:29:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/211927179525f20.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/211927179525f20.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کی قیاس آرائیاں، حکومتی ذرائع کی تردید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں، تاہم حکومت نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں انجام دینے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار آبزرور نے رپورٹ کیا ہے کہ کیئر اسٹارمر پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور اقتدار چھوڑنے کے لیے ایک ٹائم لائن کا اعلان کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کیئر اسٹارمر نے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اپنے دیہی رہائش گاہ چیکرز میں اپنی اہلیہ سے مشاورت کی، جبکہ لیبر پارٹی کی سینئر شخصیات کو جلد ان کے مستقبل سے متعلق واضح بیان کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر اسٹارمر کی قیادت کو درپیش خطرات میں اس وقت اضافہ ہوا جب ان کے سیاسی حریف اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ کی نشست جیت لی، جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر قیادت کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک حکومتی ذریعے نے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور قیادت سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو بھی کہا تھا کہ وہ اپنی قیادت کے خلاف کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور لیبر پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچنے کی تلقین کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلانے والے کیئر اسٹارمر کی مقبولیت حالیہ مہینوں میں متعدد اسکینڈلز اور پالیسیوں میں یوٹرن کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لیبر پارٹی کے 100 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ عوامی طور پر ان سے مستعفی ہونے یا اقتدار چھوڑنے کا شیڈول دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی مبصرین کے مطابق 56 سالہ اینڈی برنہم کو کیئر اسٹارمر کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے، جبکہ سابق وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے بھی قیادت کے لیے چیلنج کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اگر کیئر اسٹارمر مستعفی ہوتے ہیں تو برطانیہ ایک دہائی سے کچھ زائد عرصے میں اپنا ساتواں وزیراعظم دیکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں، تاہم حکومت نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں انجام دینے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>برطانوی اخبار آبزرور نے رپورٹ کیا ہے کہ کیئر اسٹارمر پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور اقتدار چھوڑنے کے لیے ایک ٹائم لائن کا اعلان کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کیئر اسٹارمر نے حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اپنے دیہی رہائش گاہ چیکرز میں اپنی اہلیہ سے مشاورت کی، جبکہ لیبر پارٹی کی سینئر شخصیات کو جلد ان کے مستقبل سے متعلق واضح بیان کی توقع ہے۔</p>
<p>کیئر اسٹارمر کی قیادت کو درپیش خطرات میں اس وقت اضافہ ہوا جب ان کے سیاسی حریف اینڈی برنہم نے پارلیمنٹ کی نشست جیت لی، جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر قیادت کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔</p>
<p>تاہم ایک حکومتی ذریعے نے کہا ہے کہ وزیراعظم اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور قیادت سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو بھی کہا تھا کہ وہ اپنی قیادت کے خلاف کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور لیبر پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچنے کی تلقین کی تھی۔</p>
<p>2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلانے والے کیئر اسٹارمر کی مقبولیت حالیہ مہینوں میں متعدد اسکینڈلز اور پالیسیوں میں یوٹرن کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لیبر پارٹی کے 100 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ عوامی طور پر ان سے مستعفی ہونے یا اقتدار چھوڑنے کا شیڈول دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔</p>
<p>سیاسی مبصرین کے مطابق 56 سالہ اینڈی برنہم کو کیئر اسٹارمر کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا ہے، جبکہ سابق وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے بھی قیادت کے لیے چیلنج کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اگر کیئر اسٹارمر مستعفی ہوتے ہیں تو برطانیہ ایک دہائی سے کچھ زائد عرصے میں اپنا ساتواں وزیراعظم دیکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287785</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 16:12:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/21160958da86529.webp" type="image/webp" medium="image" height="361" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/21160958da86529.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لبنان میں اسرائیلی حملے، 20 افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی این این اے کے مطابق یہ حملے ہفتے کے روز اس وقت ہوئے جب حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کو ایک دن ہی گزرا تھا۔ یہ جنگ بندی کئی ماہ سے جاری شدید لڑائی کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب ایران حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے رات بھر میں متعدد راکٹ داغے گئے۔ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر 50 سے زائد پروجیکٹائل فائر کیے، جس کے جواب میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی قومی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز نے جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایک تین منزلہ رہائشی عمارت بھی تباہ ہوئی جس میں ایک خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حملوں کا جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ دفاعی پوزیشن میں ہے اور جوابی کارروائی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تازہ کشیدگی سے خطے میں امریکہ ایران جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی این این اے کے مطابق یہ حملے ہفتے کے روز اس وقت ہوئے جب حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کو ایک دن ہی گزرا تھا۔ یہ جنگ بندی کئی ماہ سے جاری شدید لڑائی کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔</strong></p>
<p>اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب ایران حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے رات بھر میں متعدد راکٹ داغے گئے۔ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز پر 50 سے زائد پروجیکٹائل فائر کیے، جس کے جواب میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>لبنان کی قومی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز نے جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایک تین منزلہ رہائشی عمارت بھی تباہ ہوئی جس میں ایک خاندان کے چار افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حملوں کا جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ دفاعی پوزیشن میں ہے اور جوابی کارروائی کرے گی۔</p>
<p>اس تازہ کشیدگی سے خطے میں امریکہ ایران جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287765</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 10:42:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2110402409c4769.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2110402409c4769.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اہم مالیاتی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے حماس اور اسلامی جہاد کے دو افراد کو ختم کر دیا، اسرائیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287772/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے حماس اور اسلامی جہاد کے عسکری ونگز سے وابستہ دو افراد، حسین قدرا اور محمد فرہ کو ختم کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے مطابق حسین قدرا جو محمد فرہ کے ساتھ مل کر اس نیٹ ورک کی قیادت کر رہا تھا، حماس کی قیادت کے تحت کام کرتا تھا اور اس نے حماس کو 50 کروڑ شیکل سے زائد رقم کی منتقلی میں سہولت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اسرائیلی فوج کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے حماس اور اسلامی جہاد کے عسکری ونگز سے وابستہ دو افراد، حسین قدرا اور محمد فرہ کو ختم کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیلی فوج کے مطابق حسین قدرا جو محمد فرہ کے ساتھ مل کر اس نیٹ ورک کی قیادت کر رہا تھا، حماس کی قیادت کے تحت کام کرتا تھا اور اس نے حماس کو 50 کروڑ شیکل سے زائد رقم کی منتقلی میں سہولت فراہم کی۔</p>
<p>یہ بات اسرائیلی فوج کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287772</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 12:02:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/2112002994fde9a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/2112002994fde9a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیشی وزیراعظم کا پہلا غیر ملکی دورہ، چین اور ملائیشیا سے سرمایہ کاری لانے پر توجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287771/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اتوار کے روز اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے بیرونی سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جس کے تحت وہ ملائیشیا اور چین کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانا اور نئی خارجہ پالیسی ترجیحات کو واضح کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ روزہ اس دورے کے دوران طارق رحمان کی حکومت ایک پرجوش اقتصادی ایجنڈے کی حمایت کے لیے غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ ایشیا کے اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی وزیراعظم اتوار کی دوپہر کو کوالالمپور کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ پیر کے روز چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی وزیراعظم لی چیانگ کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی دورے کے دوران 15 سے 17 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے مطابق تاخیر کا شکار تیسٹا دریا منصوبہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق رحمان 25 جون کو چینی وزیراعظم اور 26 جون کو صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ وہ چین کے شہر دالیان میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سمر ڈیووس فورم میں بھی شرکت کریں گے، جہاں عالمی رہنما اقتصادی ترقی، جدت اور نئی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے ساتھ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب ڈھاکہ اپنے بڑے تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں چینی اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون کے لیے 41.89 ارب ٹکہ کے انفراسٹرکچر منصوبے کی منظوری دی ہے، جس میں چین کی جانب سے نرم قرضے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور 500 ملین ڈالر سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری جذب کرنے کی توقع رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا میں بات چیت کا محور محنت کشوں کی ہجرت، روزگار کے مواقع اور اقتصادی تعاون ہوگا، کیونکہ ملائیشیا بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے لیے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور ترسیلات زر کا اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سفارتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش چین اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اتوار کے روز اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے بیرونی سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جس کے تحت وہ ملائیشیا اور چین کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانا اور نئی خارجہ پالیسی ترجیحات کو واضح کرنا ہے۔</strong></p>
<p>چھ روزہ اس دورے کے دوران طارق رحمان کی حکومت ایک پرجوش اقتصادی ایجنڈے کی حمایت کے لیے غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ ایشیا کے اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔</p>
<p>بنگلہ دیشی وزیراعظم اتوار کی دوپہر کو کوالالمپور کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ پیر کے روز چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی وزیراعظم لی چیانگ کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔</p>
<p>چینی دورے کے دوران 15 سے 17 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے مطابق تاخیر کا شکار تیسٹا دریا منصوبہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگا۔</p>
<p>طارق رحمان 25 جون کو چینی وزیراعظم اور 26 جون کو صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ وہ چین کے شہر دالیان میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سمر ڈیووس فورم میں بھی شرکت کریں گے، جہاں عالمی رہنما اقتصادی ترقی، جدت اور نئی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کریں گے۔</p>
<p>چین کے ساتھ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب ڈھاکہ اپنے بڑے تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں چینی اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون کے لیے 41.89 ارب ٹکہ کے انفراسٹرکچر منصوبے کی منظوری دی ہے، جس میں چین کی جانب سے نرم قرضے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور 500 ملین ڈالر سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری جذب کرنے کی توقع رکھتا ہے۔</p>
<p>ملائیشیا میں بات چیت کا محور محنت کشوں کی ہجرت، روزگار کے مواقع اور اقتصادی تعاون ہوگا، کیونکہ ملائیشیا بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے لیے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور ترسیلات زر کا اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سفارتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش چین اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287771</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 11:58:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/21115615d71c50d.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/21115615d71c50d.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
