<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 20:10:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 20:10:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سم کے اجرا میں خلاف ورزیاں، پی ٹی اے کا موبائل آپریٹرز پر 740 ملین روپے جرمانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288753/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سموں کے اجرا سے متعلق ضوابط کی بار بار خلاف ورزی پر ملک کی چاروں سیلولر موبائل کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 740 ملین روپے کے جرمانے عائد کردیے۔  پی ٹی اے نے ان آپریٹرز کو سمز کی غیر مجاز ایکٹیویشن اور بائیو میٹرک تصدیق و فرنچائز نیٹ ورکس کی نگرانی میں سنگین غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 23 کے تحت جاری کردہ متعدد نفاذی احکامات کے مطابق چائنا موبائل پاکستان (زونگ) پر 155.6 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ جاز (پی ٹی ایم ایل)، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون (پی ٹی ایم ایل) میں سے ہر ایک کو متعدد خلاف ورزیوں پر بالترتیب 116.7 ملین، 116.7 ملین اور 116.7 ملین روپے کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یوفون پر دو الگ الگ مقدمات میں 77.8 ملین  روپے اور 38.9 ملین روپے کے اضافی جرمانے بھی عائد کیے جس کے بعد چاروں موبائل آپریٹرز پر مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً 740 ملین روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بارہا ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود موبائل آپریٹرز لازمی سبسکرائبر ویریفیکیشن کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ ہدایات غیر قانونی طور پر سموں کی فروخت اور شناختی فراڈ کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفاذی احکامات سے انکشاف ہوا کہ متعدد کیسز میں سمیں صارفین کے علم، رضامندی یا فزیکل موجودگی کے بغیر ان کے شناختی کارڈز پر جاری اور فعال کی گئیں جو کہ سبسکرائبر اینٹیسیڈنٹس ویریفیکیشن ریگولیشنز (صارفین کے کوائف کی تصدیق کے ضوابط) اور بائیو میٹرک تصدیق کو کنٹرول کرنے والے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  کی صریح خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتہائی سنگین کیسز میں سے ایک میں پی ٹی اے نے پایا کہ چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے لاہور میں اپنی ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے صارف کی معلومات کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر سم جاری کر کے فعال کر دی۔ بعد ازاں کیے گئے ایک چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ، بائیو میٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور تقریباً 150 سمیں برآمد ہوئیں جو کہ سم کے اجرا میں بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے کمپنی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ متعلقہ سم نادرا کے بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے ذریعے فعال کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے قرار دیا کہ صرف بائیومیٹرک تصدیق کا کامیاب ہونا آپریٹر کو اس قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ وہ سم کے اجرا کو قانون کے مطابق یقینی بنائے اور اس بات کی تصدیق کرے کہ صارف کی حقیقی رضامندی بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی نار پاکستان کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب پی ٹی اے نے پایا کہ ایک صارف کی رضامندی کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے سم جاری کی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران حکام نے فرنچائز کے احاطے سے بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز، لیپ ٹاپ اور سموں کا ذخیرہ برآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ موبائل آپریٹرز یہ مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ فرنچائزز انڈیپنڈنٹ کنٹریکٹرز کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ٹیلی کام ضوابط کے تحت فروخت ہونے والی ہر سم کی قانونی ذمہ داری متعلقہ لائسنس یافتہ موبائل آپریٹر پر ہی عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوفون  کو اس وقت متعدد تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جب تحقیقات میں اس کے سیلز نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سموں کے اجرا کا انکشاف ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کیس میں چھاپوں کے دوران 12,600 سے زائد فعال سمیں برآمد ہوئیں جن کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز اور دیگر آلات بھی ملے جو مبینہ طور پر سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ دیگر تحقیقات میں مختلف شہروں میں فرنچائز آؤٹ لیٹس کے ذریعے صارفین کی رضامندی کے بغیر سموں کی غیر مجاز ایکٹیویشن کے واقعات بھی سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے پاکستان موبائل کمیونیکیشنز لمیٹڈ (جاز) پر سم کے اجرا اور بائیو میٹرک تصدیق سے متعلق ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی کرنے پر 116.7 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سموں کا اجرا اور ان کی ایکٹیویشن مقررہ ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جس میں مجاز سیلز چینلز پر صارف کی فزیکل موجودگی کے ذریعے تصدیق شدہ رضامندی کا فقدان اور مجاز سیلز آؤٹ لیٹس اور بائیو میٹرک ویریفیکیشن سسٹم  ڈیوائسز کے استعمال پر ناکافی نگرانی اور تعمیل شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے نشاندہی کی کہ تعمیل کے تفصیلی طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود، آپریٹرز فرنچائزز اور ریٹیلرز کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے بار بار خلاف ورزیاں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز لائیو فنگر ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز پر جیو فینسنگ کنٹرولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہے، یہ حفاظتی اقدامات شناخت کی چوری، بائیو میٹرک اسپوفنگ (جعلی بائیو میٹرک ڈیٹا) اور غیر مجاز سم ایکٹیویشن کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سموں کا اجرا ٹیلی کام صارفین کو شناخت کی چوری، سائبر فراڈ، مالیاتی جرائم اور ٹیلی مواصلاتی انفرااسٹرکچر کے غلط استعمال کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ لائسنس یافتہ آپریٹرز اپنے مجاز سیلز چینلز کے ذریعے جاری ہونے والی ہر سم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اوپر عائد جرمانے جمع کرائیں۔ پی ٹی اے نے تنبیہ کی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قانون کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سموں کے اجرا سے متعلق ضوابط کی بار بار خلاف ورزی پر ملک کی چاروں سیلولر موبائل کمپنیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 740 ملین روپے کے جرمانے عائد کردیے۔  پی ٹی اے نے ان آپریٹرز کو سمز کی غیر مجاز ایکٹیویشن اور بائیو میٹرک تصدیق و فرنچائز نیٹ ورکس کی نگرانی میں سنگین غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔</strong></p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 23 کے تحت جاری کردہ متعدد نفاذی احکامات کے مطابق چائنا موبائل پاکستان (زونگ) پر 155.6 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ جاز (پی ٹی ایم ایل)، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون (پی ٹی ایم ایل) میں سے ہر ایک کو متعدد خلاف ورزیوں پر بالترتیب 116.7 ملین، 116.7 ملین اور 116.7 ملین روپے کے جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یوفون پر دو الگ الگ مقدمات میں 77.8 ملین  روپے اور 38.9 ملین روپے کے اضافی جرمانے بھی عائد کیے جس کے بعد چاروں موبائل آپریٹرز پر مجموعی جرمانوں کی مالیت تقریباً 740 ملین روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ریگولیٹر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بارہا ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود موبائل آپریٹرز لازمی سبسکرائبر ویریفیکیشن کے تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ ہدایات غیر قانونی طور پر سموں کی فروخت اور شناختی فراڈ کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی تھیں۔</p>
<p>نفاذی احکامات سے انکشاف ہوا کہ متعدد کیسز میں سمیں صارفین کے علم، رضامندی یا فزیکل موجودگی کے بغیر ان کے شناختی کارڈز پر جاری اور فعال کی گئیں جو کہ سبسکرائبر اینٹیسیڈنٹس ویریفیکیشن ریگولیشنز (صارفین کے کوائف کی تصدیق کے ضوابط) اور بائیو میٹرک تصدیق کو کنٹرول کرنے والے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار  کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>انتہائی سنگین کیسز میں سے ایک میں پی ٹی اے نے پایا کہ چائنا موبائل پاکستان (زونگ) نے لاہور میں اپنی ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے صارف کی معلومات کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر سم جاری کر کے فعال کر دی۔ بعد ازاں کیے گئے ایک چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ، بائیو میٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور تقریباً 150 سمیں برآمد ہوئیں جو کہ سم کے اجرا میں بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔</p>
<p>اتھارٹی نے کمپنی کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ متعلقہ سم نادرا کے بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے ذریعے فعال کی گئی تھی۔ پی ٹی اے نے قرار دیا کہ صرف بائیومیٹرک تصدیق کا کامیاب ہونا آپریٹر کو اس قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا کہ وہ سم کے اجرا کو قانون کے مطابق یقینی بنائے اور اس بات کی تصدیق کرے کہ صارف کی حقیقی رضامندی بھی موجود ہے۔</p>
<p>ٹیلی نار پاکستان کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب پی ٹی اے نے پایا کہ ایک صارف کی رضامندی کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر ایک مجاز فرنچائز کے ذریعے سم جاری کی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران حکام نے فرنچائز کے احاطے سے بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز، لیپ ٹاپ اور سموں کا ذخیرہ برآمد کیا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ موبائل آپریٹرز یہ مؤقف اختیار کر کے ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ فرنچائزز انڈیپنڈنٹ کنٹریکٹرز کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق ٹیلی کام ضوابط کے تحت فروخت ہونے والی ہر سم کی قانونی ذمہ داری متعلقہ لائسنس یافتہ موبائل آپریٹر پر ہی عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>یوفون  کو اس وقت متعدد تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا جب تحقیقات میں اس کے سیلز نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سموں کے اجرا کا انکشاف ہوا۔</p>
<p>ایک کیس میں چھاپوں کے دوران 12,600 سے زائد فعال سمیں برآمد ہوئیں جن کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز اور دیگر آلات بھی ملے جو مبینہ طور پر سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ دیگر تحقیقات میں مختلف شہروں میں فرنچائز آؤٹ لیٹس کے ذریعے صارفین کی رضامندی کے بغیر سموں کی غیر مجاز ایکٹیویشن کے واقعات بھی سامنے آئے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے پاکستان موبائل کمیونیکیشنز لمیٹڈ (جاز) پر سم کے اجرا اور بائیو میٹرک تصدیق سے متعلق ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی کرنے پر 116.7 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سموں کا اجرا اور ان کی ایکٹیویشن مقررہ ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی جس میں مجاز سیلز چینلز پر صارف کی فزیکل موجودگی کے ذریعے تصدیق شدہ رضامندی کا فقدان اور مجاز سیلز آؤٹ لیٹس اور بائیو میٹرک ویریفیکیشن سسٹم  ڈیوائسز کے استعمال پر ناکافی نگرانی اور تعمیل شامل ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر نے نشاندہی کی کہ تعمیل کے تفصیلی طریقہ کار کی موجودگی کے باوجود، آپریٹرز فرنچائزز اور ریٹیلرز کی مؤثر نگرانی برقرار رکھنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے بار بار خلاف ورزیاں ہوئیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز لائیو فنگر ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک تصدیقی ڈیوائسز پر جیو فینسنگ کنٹرولز کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہے، یہ حفاظتی اقدامات شناخت کی چوری، بائیو میٹرک اسپوفنگ (جعلی بائیو میٹرک ڈیٹا) اور غیر مجاز سم ایکٹیویشن کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔</p>
<p>اتھارٹی (پی ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سموں کا اجرا ٹیلی کام صارفین کو شناخت کی چوری، سائبر فراڈ، مالیاتی جرائم اور ٹیلی مواصلاتی انفرااسٹرکچر کے غلط استعمال کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ لائسنس یافتہ آپریٹرز اپنے مجاز سیلز چینلز کے ذریعے جاری ہونے والی ہر سم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔</p>
<p>تمام آپریٹرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اوپر عائد جرمانے جمع کرائیں۔ پی ٹی اے نے تنبیہ کی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قانون کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288753</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 16:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15163149bd9dc46.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="721">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15163149bd9dc46.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اسمارٹ فونز پر ٹیکس کم کرنے اور ٹیلی کام سروسز بہتر بنانے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288712/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے اسمارٹ فونز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ موبائل سروسز کے گرتے ہوئے معیار پر آپریٹرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید امین الحق کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں ناقص وائس اور ڈیٹا سروسز کی مسلسل شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے نیٹ ورک کی کارکردگی کی وضاحت کے لیے اگلے اجلاس میں پیش ہو۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں کا معاملہ بھی اٹھایا، جہاں اراکینِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ فون اب کوئی پرتعیش چیز نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمن نے بتایا کہ اسمارٹ فونز پر ٹیکس اور ڈیوٹیز 60 فیصد تک ہیں، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکس پی ٹی اے نے عائد نہیں کیے، بلکہ اتھارٹی ہر سال وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام کو موبائل فونز پر ٹیکس کم کرنے کی سفارشات بھیجتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کا کام صرف موبائل فونز کو وائٹ لسٹ (رجسٹر) کرنا ہے اور اتھارٹی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کس ہینڈ سیٹ پر کتنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے چیئرمین امین الحق نے اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ فونز تعلیم، کاروبار اور رابطے کا لازمی ذریعہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں پرتعیش اشیاء کی فہرست سے نکالا جائے۔ پی ٹی اے چیئرمین نے مزید بتایا کہ پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کے لیے 37 کمپنیوں کو لائسنس دیے گئے ہیں، جن کے تحت ملک میں اب تک تقریباً 26 ملین (2 کروڑ 60 لاکھ) ہینڈ سیٹس مقامی طور پر اسمبل کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد موبائل فون باہر سے درآمد کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کے گرتے ہوئے معیار پر توجہ مرکوز کی۔ کمیٹی ارکان نے شکایت کی کہ اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی موبائل سروسز کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی مہیش کمار نے کہا کہ وہ برسوں سے اس کمیٹی کے رکن ہیں اور سروسز کے ناقص معیار پر بحث کرکے تھک چکے ہیں، انہوں نے کراچی میں یوفون کے نیٹ ورک کو انتہائی ناقص قرار دیا۔ ایک اور رکنِ قومی اسمبلی صادق میمن نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں موبائل سروسز انتہائی ناقابلِ اعتماد ہو چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فائیو جی  کے نفاذ کی رفتار بہت سست ہے اور اگر یہی رفتار رہی تو ملک بھر میں اس کے پھیلاؤ سے پہلے ہی یہ ٹیکنالوجی پرانی ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے خاص طور پر یوفون کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کی سروس کو بدترین قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یوفون اور ٹیلی نار کے حالیہ انضمام سے سروس کا معیار مزید گر سکتا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سروس کے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ٹیلی کام آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں، جرمانے عائد کیے جائیں اور مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ان کے آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنقید کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین حفیظ الرحمن نے اعتراف کیا کہ سروسز کا معیار توقعات سے کم ہے۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ پی ٹی اے اب آپریٹرز کے ساتھ مل کر مشترکہ سروے کرنے کے بجائے ضلع کی سطح پر آزادانہ جائزے لے رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فائیو جی نیٹ ورک کے پھیلاؤ سے سروس کے معیار میں بتدریج بہتری آئے گی۔ پی ٹی اے سربراہ نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ پاکستان 22 شہروں میں 449 مقامات (سائٹس) پر فائیو جی سروسز کا آغاز کر چکا ہے اور اب انٹرنیٹ کی کارکردگی جانچنے کے لیے اوسط رفتار  کے بجائے میڈین رفتار  کا پیمانہ استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ صارفین کے تجربے کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ملک میں براڈ بینڈ کا استعمال تیزی سے پھیلا ہے اور اب 97 فیصد پاکستانی براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ایک صارف کا اوسط ماہانہ انٹرنیٹ خرچ 285 روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان صرف 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا، لیکن اس سال کے شروع میں مزید 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی گئی ہے، جس سے فائیو جی کے وسیع تر نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کی جلد منظوری سے رائٹ آف وے کی رکاوٹیں دور کرنے اور انفرااسٹرکچر کے پھیلاؤ میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشنل چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ نیٹ ورک کی دستیابی کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور برسوں سے انفرااسٹرکچر میں کم سرمایہ کاری نے ٹیلی کام کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اب موبائل ٹاورز کی بندش پر نظر رکھنے کے لیے آپریٹرز سے ہر 24 گھنٹے بعد ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی نے کراچی آئی ٹی پارک منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اس میں تاخیر پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین امین الحق نے کام کی سست رفتار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود کاغذی کارروائی کے علاوہ کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ شزا فاطمہ خواجہ نے یقین دہانی کرائی کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں، منصوبے کا تھرڈ پارٹی ریویو جاری ہے اور اس تشخیصی عمل کی تکمیل کے بعد جلد ہی کنٹریکٹ الاٹ کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے اسمارٹ فونز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ موبائل سروسز کے گرتے ہوئے معیار پر آپریٹرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔</strong></p>
<p>سید امین الحق کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں ناقص وائس اور ڈیٹا سروسز کی مسلسل شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے نیٹ ورک کی کارکردگی کی وضاحت کے لیے اگلے اجلاس میں پیش ہو۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں کا معاملہ بھی اٹھایا، جہاں اراکینِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اسمارٹ فون اب کوئی پرتعیش چیز نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمن نے بتایا کہ اسمارٹ فونز پر ٹیکس اور ڈیوٹیز 60 فیصد تک ہیں، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اپنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکس پی ٹی اے نے عائد نہیں کیے، بلکہ اتھارٹی ہر سال وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام کو موبائل فونز پر ٹیکس کم کرنے کی سفارشات بھیجتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کا کام صرف موبائل فونز کو وائٹ لسٹ (رجسٹر) کرنا ہے اور اتھارٹی کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کس ہینڈ سیٹ پر کتنا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے چیئرمین امین الحق نے اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ فونز تعلیم، کاروبار اور رابطے کا لازمی ذریعہ بن چکے ہیں، اس لیے انہیں پرتعیش اشیاء کی فہرست سے نکالا جائے۔ پی ٹی اے چیئرمین نے مزید بتایا کہ پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کے لیے 37 کمپنیوں کو لائسنس دیے گئے ہیں، جن کے تحت ملک میں اب تک تقریباً 26 ملین (2 کروڑ 60 لاکھ) ہینڈ سیٹس مقامی طور پر اسمبل کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد موبائل فون باہر سے درآمد کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کے گرتے ہوئے معیار پر توجہ مرکوز کی۔ کمیٹی ارکان نے شکایت کی کہ اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی موبائل سروسز کا معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی مہیش کمار نے کہا کہ وہ برسوں سے اس کمیٹی کے رکن ہیں اور سروسز کے ناقص معیار پر بحث کرکے تھک چکے ہیں، انہوں نے کراچی میں یوفون کے نیٹ ورک کو انتہائی ناقص قرار دیا۔ ایک اور رکنِ قومی اسمبلی صادق میمن نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں موبائل سروسز انتہائی ناقابلِ اعتماد ہو چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فائیو جی  کے نفاذ کی رفتار بہت سست ہے اور اگر یہی رفتار رہی تو ملک بھر میں اس کے پھیلاؤ سے پہلے ہی یہ ٹیکنالوجی پرانی ہو جائے گی۔</p>
<p>کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے خاص طور پر یوفون کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کی سروس کو بدترین قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یوفون اور ٹیلی نار کے حالیہ انضمام سے سروس کا معیار مزید گر سکتا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سروس کے مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ٹیلی کام آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں، جرمانے عائد کیے جائیں اور مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ان کے آپریٹنگ لائسنس معطل کر دیے جائیں۔</p>
<p>تنقید کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین حفیظ الرحمن نے اعتراف کیا کہ سروسز کا معیار توقعات سے کم ہے۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ پی ٹی اے اب آپریٹرز کے ساتھ مل کر مشترکہ سروے کرنے کے بجائے ضلع کی سطح پر آزادانہ جائزے لے رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فائیو جی نیٹ ورک کے پھیلاؤ سے سروس کے معیار میں بتدریج بہتری آئے گی۔ پی ٹی اے سربراہ نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ پاکستان 22 شہروں میں 449 مقامات (سائٹس) پر فائیو جی سروسز کا آغاز کر چکا ہے اور اب انٹرنیٹ کی کارکردگی جانچنے کے لیے اوسط رفتار  کے بجائے میڈین رفتار  کا پیمانہ استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ صارفین کے تجربے کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ملک میں براڈ بینڈ کا استعمال تیزی سے پھیلا ہے اور اب 97 فیصد پاکستانی براڈ بینڈ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ایک صارف کا اوسط ماہانہ انٹرنیٹ خرچ 285 روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان صرف 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا، لیکن اس سال کے شروع میں مزید 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی گئی ہے، جس سے فائیو جی کے وسیع تر نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل کی جلد منظوری سے رائٹ آف وے کی رکاوٹیں دور کرنے اور انفرااسٹرکچر کے پھیلاؤ میں مدد ملے گی۔</p>
<p>آپریشنل چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ نیٹ ورک کی دستیابی کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور برسوں سے انفرااسٹرکچر میں کم سرمایہ کاری نے ٹیلی کام کے نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اب موبائل ٹاورز کی بندش پر نظر رکھنے کے لیے آپریٹرز سے ہر 24 گھنٹے بعد ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِ اعظم نے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی نے کراچی آئی ٹی پارک منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اس میں تاخیر پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین امین الحق نے کام کی سست رفتار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود کاغذی کارروائی کے علاوہ کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ شزا فاطمہ خواجہ نے یقین دہانی کرائی کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں، منصوبے کا تھرڈ پارٹی ریویو جاری ہے اور اس تشخیصی عمل کی تکمیل کے بعد جلد ہی کنٹریکٹ الاٹ کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288712</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 20:04:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/141956071d3634a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/141956071d3634a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمام موبائل آریٹرز کی سروس کوالٹی میں خامیاں برقرار، پی ٹی اے کا سروے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریگولیٹر کی جانب سے کیے گئے ایک آزاد سروے کے مطابق سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سروس کوالٹی (کیو او ایس) کے معیار پر صرف جزوی عمل درآمد کیا اور کوئی بھی آپریٹر تمام اہم کارکردگی کے اشاریوں پر مکمل پورا اترنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری اور مارچ 2026 کے درمیان 18 شہروں میں کیے گئے اس سروے میں جیز، یوفون، ٹیلینار اور زونگ  کی کارکردگی کا جائزہ سیلولر موبائل نیٹ ورک ریگولیشنز 2021 کے تحت موبائل نیٹ ورک کوریج، براڈ بینڈ کارکردگی، وائس کوالٹی اور ایس ایم ایس سروسز پر مشتمل 216 اشاریوں (کے پی آئیز) کے مطابق لیا گیا۔ پی ٹی اے نے اس 75 روزہ مشق کے دوران موبائل ڈیٹا کی کثیر تعداد میں پیمائش کے ساتھ ساتھ تقریباً 43,222 وائس کال اور ایس ایم ایس ٹیسٹ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تمام آپریٹرز نے ریگولیٹری بینچ مارکس کی اکثریت کو پورا کیا، لیکن کسی نے بھی 100 فیصد تعمیل حاصل نہیں کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیٹ ورک کی مسلسل توسیع کے باوجود سروس کوالٹی میں خامیاں برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے دوران ٹیکنالوجی آٹو ڈیٹیکٹ موڈ میں ڈیٹا ٹیسٹ کرتے ہوئے سروے کے راستوں پرایل ٹی ای / فورجی سگنل کی طاقت کے نمونے ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم تمام آپریٹرز اس معیار  پر پورا اترے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیٹنسی، اگرچہ ایک روایتی معیار نہیں ہے  لیکن موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی کے لیے ایک اہم میٹرک ہے، کیونکہ یہ براہ راست صارف کے تجربے کو متاثر کرتا ہے۔ سروے کے دوران مختلف ویب سائٹس اور تھرڈ پارٹی ٹیسٹ سرورز کے درمیان پنگ کا حساب لگا کر نیٹ ورک لیٹنسی کی پیمائش کی گئی۔ تاہم آپریٹرز اس معیار پر جزوی طور پر پورا اترے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیز 216 میں سے 205 اشاریوں  یعنی 95 فیصد پر پورا اتر کر بہترین کارکردگی دکھانے والا آپریٹر بن کر ابھرا۔ زونگ 200 درست اشاریوں (93 فیصد) کے ساتھ دوسرے، یوفون 193 اشاریوں (89 فیصد) پر پورا اترا، جبکہ ٹیلینار نے سب سے کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو صرف 169 اشاریوں یعنی 78 فیصد پر پورا اتر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کی مجموعی درجہ بندی میں جیز ایس ایم ایس سروسز اور ڈاؤن لوڈ اسپیڈ (تھرو پٹ) میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ زونگ وائس سروسز، موبائل نیٹ ورک کوریج اور اپ لوڈ اسپیڈ میں سرفہرست رہا۔ یوفون نے زیادہ تر سروس کیٹیگریز میں تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیلینار موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی میں مستقل طور پر چوتھے اور وائس و ایس ایم ایس سروسز میں تیسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہروں کے لحاظ سے نتائج سے معلوم ہوا کہ جیز نے سروے کیے گئے زیادہ تر مقامات بشمول راولپنڈی، کراچی ویسٹ، حیدرآباد، صوابی اور کئی دوسرے شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ زونگ لورالائی، ملکوال، سیالکوٹ اور ژوب جیسے شہروں میں آگے رہا، جبکہ یوفون صرف اسلام آباد میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکا۔ ٹیلینار سروے کیے گئے 18 شہروں میں سے کسی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے پایا کہ جیز ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں غالب رہا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ کے تحت 13 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن ٹیسٹنگ میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تاہم زونگ نے اپ لوڈنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ میں 12 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن کی پیمائش میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائس کوالٹی کے نتائج زونگ کے حق میں رہے، جس نے وائس کوالٹی کے 90 میں سے 88 اشاریوں میں کامیابی ریکارڈ کی، جو جیز، ٹیلینار اور یوفون سے آگے ہے۔ ایس ایم ایس کارکردگی کے لیے جیز نے سب سے زیادہ تعمیل حاصل کی، جس کے بعد زونگ، یوفون اور ٹیلینار کا نمبر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ شہروں صوابی، راولپنڈی، حب، حیدرآباد اور پیر محل میں ٹیلینار کی ڈیٹا کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکا کیونکہ اس کے ٹیسٹنگ آلات میں ریگولیٹر کے طریقہ کار کے تحت مطلوبہ لازمی پیمائشی صلاحیتوں کی کمی تھی۔ نتیجے کے طور پر ان مقامات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے نتائج کو تشخیص سے خارج کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ اس سہ ماہی سروے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ معیاروں کی تعمیل کو یقینی بنانا اور سروس کی ان خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے جن کے لیے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج بتاتے ہیں کہ اگرچہ آپریٹرز عام طور پر زیادہ تر ریگولیٹری بینچ مارکس کو پورا کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے موبائل نیٹ ورکس پی ٹی اے کے سروس کوالٹی کے معیاروں پر مکمل پورا اترنے سے پہلے مزید بہتری کے محتاج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے کسٹمر سروس پرفارمنس کے تازہ ترین سروے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی کسٹمر سروس میں وسیع پیمانے پر خامیاں سامنے آئی ہیں، جہاں کوئی بھی موبائل آپریٹر شکایات کے جواب دینے کے مقررہ وقت (ریسپانس ٹائم) کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سروے، جو ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن (امینڈمنٹ) ریگولیشنز، 2017 کے تحت کیا گیا، اس میں کال سینٹر کی کارکردگی، شکایات سے نمٹنے، بلنگ کی درستگی، سروس کی ایکٹیویشن/ڈی ایکٹیویشن، دوبارہ کنکشن کا وقت اور ہنگامی سروس تک رسائی سمیت اہم کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تمام آپریٹرز صارفین کی شکایات کے ازالے کے مقررہ وقت کو حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ صرف یوفون آپریٹر کی مدد کے جواب اور کیو (انتظار کے) ٹائم کے بینچ مارک پر پورا اترا۔ جیز واحد آپریٹر تھا جس نے مسائل کے حل کی مجموعی کامیابی کی شرح کو مطمئن کیا، جبکہ ٹیلینار، زونگ، یوفون اور ایس کام  مطلوبہ معیار سے پیچھے رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے ہنگامی ہیلپ لائن تک رسائی میں بھی خامیاں پائیں، جہاں کوئٹہ، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور گلگت بلتستان سمیت مختلف شہروں میں مختلف نیٹ ورکس پر کئی ہنگامی نمبر یا تو دستیاب نہیں تھے یا ان کی میپنگ غلط کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خامیوں کے باوجود تمام آپریٹرز نے نئی سروس کی ایکٹیویشن اور سروس ڈی ایکٹیویشن کے بینچ مارکس کو کامیابی سے پورا کیا، جبکہ جیز اور زونگ نے مقررہ 15 منٹ کی حد کے اندر 100 فیصد دوبارہ کنکشن (ری کنکشن) کی کامیابی کی شرح حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سروے تعمیل اور عدم تعمیل کے ملے جلے رجحان کی عکاسی کرتا ہے اور کہا کہ ان نتائج کو ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ اصلاحی اقدامات اور سروس میں بہتری کے لیے شیئر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریگولیٹر کی جانب سے کیے گئے ایک آزاد سروے کے مطابق سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سروس کوالٹی (کیو او ایس) کے معیار پر صرف جزوی عمل درآمد کیا اور کوئی بھی آپریٹر تمام اہم کارکردگی کے اشاریوں پر مکمل پورا اترنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔</strong></p>
<p>جنوری اور مارچ 2026 کے درمیان 18 شہروں میں کیے گئے اس سروے میں جیز، یوفون، ٹیلینار اور زونگ  کی کارکردگی کا جائزہ سیلولر موبائل نیٹ ورک ریگولیشنز 2021 کے تحت موبائل نیٹ ورک کوریج، براڈ بینڈ کارکردگی، وائس کوالٹی اور ایس ایم ایس سروسز پر مشتمل 216 اشاریوں (کے پی آئیز) کے مطابق لیا گیا۔ پی ٹی اے نے اس 75 روزہ مشق کے دوران موبائل ڈیٹا کی کثیر تعداد میں پیمائش کے ساتھ ساتھ تقریباً 43,222 وائس کال اور ایس ایم ایس ٹیسٹ کیے۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ تمام آپریٹرز نے ریگولیٹری بینچ مارکس کی اکثریت کو پورا کیا، لیکن کسی نے بھی 100 فیصد تعمیل حاصل نہیں کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیٹ ورک کی مسلسل توسیع کے باوجود سروس کوالٹی میں خامیاں برقرار ہیں۔</p>
<p>سروے کے دوران ٹیکنالوجی آٹو ڈیٹیکٹ موڈ میں ڈیٹا ٹیسٹ کرتے ہوئے سروے کے راستوں پرایل ٹی ای / فورجی سگنل کی طاقت کے نمونے ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم تمام آپریٹرز اس معیار  پر پورا اترے۔</p>
<p>لیٹنسی، اگرچہ ایک روایتی معیار نہیں ہے  لیکن موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی کے لیے ایک اہم میٹرک ہے، کیونکہ یہ براہ راست صارف کے تجربے کو متاثر کرتا ہے۔ سروے کے دوران مختلف ویب سائٹس اور تھرڈ پارٹی ٹیسٹ سرورز کے درمیان پنگ کا حساب لگا کر نیٹ ورک لیٹنسی کی پیمائش کی گئی۔ تاہم آپریٹرز اس معیار پر جزوی طور پر پورا اترے۔</p>
<p>جیز 216 میں سے 205 اشاریوں  یعنی 95 فیصد پر پورا اتر کر بہترین کارکردگی دکھانے والا آپریٹر بن کر ابھرا۔ زونگ 200 درست اشاریوں (93 فیصد) کے ساتھ دوسرے، یوفون 193 اشاریوں (89 فیصد) پر پورا اترا، جبکہ ٹیلینار نے سب سے کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو صرف 169 اشاریوں یعنی 78 فیصد پر پورا اتر سکا۔</p>
<p>پی ٹی اے کی مجموعی درجہ بندی میں جیز ایس ایم ایس سروسز اور ڈاؤن لوڈ اسپیڈ (تھرو پٹ) میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ زونگ وائس سروسز، موبائل نیٹ ورک کوریج اور اپ لوڈ اسپیڈ میں سرفہرست رہا۔ یوفون نے زیادہ تر سروس کیٹیگریز میں تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیلینار موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی میں مستقل طور پر چوتھے اور وائس و ایس ایم ایس سروسز میں تیسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>شہروں کے لحاظ سے نتائج سے معلوم ہوا کہ جیز نے سروے کیے گئے زیادہ تر مقامات بشمول راولپنڈی، کراچی ویسٹ، حیدرآباد، صوابی اور کئی دوسرے شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ زونگ لورالائی، ملکوال، سیالکوٹ اور ژوب جیسے شہروں میں آگے رہا، جبکہ یوفون صرف اسلام آباد میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکا۔ ٹیلینار سروے کیے گئے 18 شہروں میں سے کسی میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا۔</p>
<p>ریگولیٹر نے پایا کہ جیز ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں غالب رہا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ کے تحت 13 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن ٹیسٹنگ میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تاہم زونگ نے اپ لوڈنگ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس نے آٹو موڈ ٹیسٹنگ میں 12 شہروں میں اور تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن کی پیمائش میں 11 شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔</p>
<p>وائس کوالٹی کے نتائج زونگ کے حق میں رہے، جس نے وائس کوالٹی کے 90 میں سے 88 اشاریوں میں کامیابی ریکارڈ کی، جو جیز، ٹیلینار اور یوفون سے آگے ہے۔ ایس ایم ایس کارکردگی کے لیے جیز نے سب سے زیادہ تعمیل حاصل کی، جس کے بعد زونگ، یوفون اور ٹیلینار کا نمبر رہا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ شہروں صوابی، راولپنڈی، حب، حیدرآباد اور پیر محل میں ٹیلینار کی ڈیٹا کارکردگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکا کیونکہ اس کے ٹیسٹنگ آلات میں ریگولیٹر کے طریقہ کار کے تحت مطلوبہ لازمی پیمائشی صلاحیتوں کی کمی تھی۔ نتیجے کے طور پر ان مقامات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے نتائج کو تشخیص سے خارج کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>ریگولیٹر کا کہنا تھا کہ اس سہ ماہی سروے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگ معیاروں کی تعمیل کو یقینی بنانا اور سروس کی ان خامیوں کی نشاندہی کرنا ہے جن کے لیے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>نتائج بتاتے ہیں کہ اگرچہ آپریٹرز عام طور پر زیادہ تر ریگولیٹری بینچ مارکس کو پورا کرتے ہیں، لیکن پاکستان کے موبائل نیٹ ورکس پی ٹی اے کے سروس کوالٹی کے معیاروں پر مکمل پورا اترنے سے پہلے مزید بہتری کے محتاج ہیں۔</p>
<p>مزید برآں 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے لیے کسٹمر سروس پرفارمنس کے تازہ ترین سروے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی کسٹمر سروس میں وسیع پیمانے پر خامیاں سامنے آئی ہیں، جہاں کوئی بھی موبائل آپریٹر شکایات کے جواب دینے کے مقررہ وقت (ریسپانس ٹائم) کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔</p>
<p>یہ سروے، جو ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن (امینڈمنٹ) ریگولیشنز، 2017 کے تحت کیا گیا، اس میں کال سینٹر کی کارکردگی، شکایات سے نمٹنے، بلنگ کی درستگی، سروس کی ایکٹیویشن/ڈی ایکٹیویشن، دوبارہ کنکشن کا وقت اور ہنگامی سروس تک رسائی سمیت اہم کارکردگی کے اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تمام آپریٹرز صارفین کی شکایات کے ازالے کے مقررہ وقت کو حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ صرف یوفون آپریٹر کی مدد کے جواب اور کیو (انتظار کے) ٹائم کے بینچ مارک پر پورا اترا۔ جیز واحد آپریٹر تھا جس نے مسائل کے حل کی مجموعی کامیابی کی شرح کو مطمئن کیا، جبکہ ٹیلینار، زونگ، یوفون اور ایس کام  مطلوبہ معیار سے پیچھے رہ گئے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے ہنگامی ہیلپ لائن تک رسائی میں بھی خامیاں پائیں، جہاں کوئٹہ، پشاور، ملتان، فیصل آباد اور گلگت بلتستان سمیت مختلف شہروں میں مختلف نیٹ ورکس پر کئی ہنگامی نمبر یا تو دستیاب نہیں تھے یا ان کی میپنگ غلط کی گئی تھی۔</p>
<p>ان خامیوں کے باوجود تمام آپریٹرز نے نئی سروس کی ایکٹیویشن اور سروس ڈی ایکٹیویشن کے بینچ مارکس کو کامیابی سے پورا کیا، جبکہ جیز اور زونگ نے مقررہ 15 منٹ کی حد کے اندر 100 فیصد دوبارہ کنکشن (ری کنکشن) کی کامیابی کی شرح حاصل کی۔</p>
<p>پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سروے تعمیل اور عدم تعمیل کے ملے جلے رجحان کی عکاسی کرتا ہے اور کہا کہ ان نتائج کو ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ اصلاحی اقدامات اور سروس میں بہتری کے لیے شیئر کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288665</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 18:44:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/131825002358ba2.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="588">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/131825002358ba2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے پاکستان کی کال سینٹر برآمدات 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288462/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی کال سینٹر اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) صنعت ملک کی آئی ٹی برآمدات کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل ہو گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران اس شعبے سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو عالمی سطح پر بڑھتی طلب اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کسٹمر سپورٹ خدمات کے بڑھتے استعمال کا مظہر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مئی کے دوران کال سینٹرز کی برآمدات 32 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 26 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس طرح برآمدات میں 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر یا سالانہ بنیاد پر 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود اس شعبے کی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس نمایاں اضافے کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت، خصوصاً کسٹمر سپورٹ آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جدید ٹولز کی بدولت کمپنیاں معمول کے کام خودکار بنا رہی ہیں، صارفین کو تیز رفتار جواب فراہم کر رہی ہیں، ان کے رویّے کا بہتر تجزیہ کر رہی ہیں اور مختلف زبانوں میں چوبیس گھنٹے خدمات مہیا کر رہی ہیں، جس سے پاکستانی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے انضمام پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر منور جاوید احمد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل مؤثریت میں اضافے، آپریشنل اخراجات میں کمی اور خدمات کے معیار میں بہتری کے ذریعے عالمی آؤٹ سورسنگ صنعت کو نئی شکل دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”مصنوعی ذہانت کا انضمام کال سینٹرز اور بی پی اوز سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں کو بدل رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری نہ صرف تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ملک کی برآمدی آمدن میں اضافے کا بھی سبب بن رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر احمد کے مطابق عالمی کلائنٹس اب ایسے آؤٹ سورسنگ شراکت داروں کو ترجیح دے رہے ہیں جو ذہین خودکاری، ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ کسٹمر سروس کے ذریعے اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، افرادی قوت کی تربیت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال میں سرمایہ کاری تیز کر کے خود کو عالمی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک پسندیدہ مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت، ریگولیٹری اداروں اور آئی ٹی صنعت پر زور دیا کہ وہ کال سینٹر اور بی پی او شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کریں۔ ان کے بقول، اس حکمتِ عملی میں کمپنیوں کو عالمی صارفین کی بدلتی ضروریات کے مطابق جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز اپنانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر منور جاوید احمد نے کہا کہ حالیہ برسوں میں آئی ٹی کے باصلاحیت افرادی قوت میں اضافے، مسابقتی آپریشنل لاگت اور بہتر ہوتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بدولت پاکستان کی آؤٹ سورسنگ مرکز کے طور پر ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مؤثر عالمی تشہیری مہم کے ذریعے پاکستان عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں اپنا حصہ مزید بڑھا سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کے سفارتی کردار نے عالمی سطح پر اس کی نمایاں حیثیت کو تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کال سینٹر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں تقریباً 90 فیصد کال سینٹرز اور بی پی او کمپنیاں بنیادی طور پر بیرونِ ملک صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں، جبکہ باقی ادارے ملک میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں اور یوٹیلٹی اداروں کو کسٹمر سپورٹ اور کاروباری خدمات مہیا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے ساتھ رجسٹرڈ 1,000 سے زائد کال سینٹرز موجود ہیں، جبکہ اندازاً 500 مزید درمیانے اور بڑے کال سینٹرز بڑے شہروں میں آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے کسٹمر سپورٹ مراکز سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسیوں، ای کامرس کاروباروں اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کے تحت بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی گلوبل سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نعمان احمد سعید نے کہا، ”آؤٹ سورسنگ کا مستقبل ان ممالک کا ہے جو ہنر مند افرادی قوت کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مؤثر انداز میں ہم آہنگ کر سکیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت افرادی قوت بھی موجود ہے اور کاروباری جذبہ بھی، جو اسے مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ بی پی او خدمات کا نمایاں عالمی مرکز بنا سکتا ہے۔ اگر مناسب حکومتی پالیسیوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی تربیت میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رہی تو یہ شعبہ اربوں ڈالر کی برآمدات کے ساتھ نوجوانوں کے لیے ہزاروں اعلیٰ معیار کی ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی مسلسل معاونت ناگزیر ہے، جس میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، بلا تعطل بجلی کی فراہمی، مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں میں سرمایہ کاری، آسان ٹیکس نظام اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے سہل طریقہ کار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”بی پی او شعبے میں اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور زرمبادلہ کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ مستقبل مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرنے والے پیشہ ور افراد کا ہے، نہ کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی جگہ لینے کا۔ جن ممالک کے پاس بڑی اور تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہے، وہ اس تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں کمپنیاں کسٹمر سپورٹ اور بیک آفس آپریشنز کم لاگت والے ممالک کو منتقل کر رہی ہیں، جس کے باعث پاکستان کی کال سینٹر اور بی پی او صنعت میں مزید وسعت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، زبانوں کی تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کو اربوں ڈالر مالیت کی عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی کال سینٹر اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) صنعت ملک کی آئی ٹی برآمدات کے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل ہو گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران اس شعبے سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ 30 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو عالمی سطح پر بڑھتی طلب اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کسٹمر سپورٹ خدمات کے بڑھتے استعمال کا مظہر ہے۔</strong></p>
<p>ایس بی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مئی کے دوران کال سینٹرز کی برآمدات 32 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 26 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس طرح برآمدات میں 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر یا سالانہ بنیاد پر 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود اس شعبے کی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس نمایاں اضافے کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت، خصوصاً کسٹمر سپورٹ آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جدید ٹولز کی بدولت کمپنیاں معمول کے کام خودکار بنا رہی ہیں، صارفین کو تیز رفتار جواب فراہم کر رہی ہیں، ان کے رویّے کا بہتر تجزیہ کر رہی ہیں اور مختلف زبانوں میں چوبیس گھنٹے خدمات مہیا کر رہی ہیں، جس سے پاکستانی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کے انضمام پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر منور جاوید احمد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل مؤثریت میں اضافے، آپریشنل اخراجات میں کمی اور خدمات کے معیار میں بہتری کے ذریعے عالمی آؤٹ سورسنگ صنعت کو نئی شکل دے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”مصنوعی ذہانت کا انضمام کال سینٹرز اور بی پی اوز سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں کو بدل رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری نہ صرف تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی پوری کرنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ملک کی برآمدی آمدن میں اضافے کا بھی سبب بن رہی ہے۔“</p>
<p>ڈاکٹر احمد کے مطابق عالمی کلائنٹس اب ایسے آؤٹ سورسنگ شراکت داروں کو ترجیح دے رہے ہیں جو ذہین خودکاری، ڈیٹا اینالیٹکس اور مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ کسٹمر سروس کے ذریعے اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، افرادی قوت کی تربیت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال میں سرمایہ کاری تیز کر کے خود کو عالمی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایک پسندیدہ مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت، ریگولیٹری اداروں اور آئی ٹی صنعت پر زور دیا کہ وہ کال سینٹر اور بی پی او شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کریں۔ ان کے بقول، اس حکمتِ عملی میں کمپنیوں کو عالمی صارفین کی بدلتی ضروریات کے مطابق جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز اپنانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔</p>
<p>ڈاکٹر منور جاوید احمد نے کہا کہ حالیہ برسوں میں آئی ٹی کے باصلاحیت افرادی قوت میں اضافے، مسابقتی آپریشنل لاگت اور بہتر ہوتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بدولت پاکستان کی آؤٹ سورسنگ مرکز کے طور پر ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مؤثر عالمی تشہیری مہم کے ذریعے پاکستان عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں اپنا حصہ مزید بڑھا سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کے سفارتی کردار نے عالمی سطح پر اس کی نمایاں حیثیت کو تقویت دی ہے۔</p>
<p>کال سینٹر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں تقریباً 90 فیصد کال سینٹرز اور بی پی او کمپنیاں بنیادی طور پر بیرونِ ملک صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں، جبکہ باقی ادارے ملک میں کام کرنے والی کثیر القومی کمپنیوں اور یوٹیلٹی اداروں کو کسٹمر سپورٹ اور کاروباری خدمات مہیا کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں اس وقت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے ساتھ رجسٹرڈ 1,000 سے زائد کال سینٹرز موجود ہیں، جبکہ اندازاً 500 مزید درمیانے اور بڑے کال سینٹرز بڑے شہروں میں آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے کسٹمر سپورٹ مراکز سافٹ ویئر ہاؤسز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسیوں، ای کامرس کاروباروں اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کے تحت بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>ایس آئی گلوبل سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نعمان احمد سعید نے کہا، ”آؤٹ سورسنگ کا مستقبل ان ممالک کا ہے جو ہنر مند افرادی قوت کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مؤثر انداز میں ہم آہنگ کر سکیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت افرادی قوت بھی موجود ہے اور کاروباری جذبہ بھی، جو اسے مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ بی پی او خدمات کا نمایاں عالمی مرکز بنا سکتا ہے۔ اگر مناسب حکومتی پالیسیوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی تربیت میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رہی تو یہ شعبہ اربوں ڈالر کی برآمدات کے ساتھ نوجوانوں کے لیے ہزاروں اعلیٰ معیار کی ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ رفتار برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی مسلسل معاونت ناگزیر ہے، جس میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، بلا تعطل بجلی کی فراہمی، مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں میں سرمایہ کاری، آسان ٹیکس نظام اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے سہل طریقہ کار شامل ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول، ”بی پی او شعبے میں اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور زرمبادلہ کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ مستقبل مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرنے والے پیشہ ور افراد کا ہے، نہ کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی جگہ لینے کا۔ جن ممالک کے پاس بڑی اور تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہے، وہ اس تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔“</p>
<p>ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں کمپنیاں کسٹمر سپورٹ اور بیک آفس آپریشنز کم لاگت والے ممالک کو منتقل کر رہی ہیں، جس کے باعث پاکستان کی کال سینٹر اور بی پی او صنعت میں مزید وسعت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، زبانوں کی تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں میں مسلسل سرمایہ کاری پاکستان کو اربوں ڈالر مالیت کی عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288462</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 16:07:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0815565511475ea.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0815565511475ea.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فون نمبر کی پرائیویسی مزید محفوظ، واٹس ایپ جلد یوزر نیم کی سہولت متعارف کرائے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288138/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میٹا کی ملکیت والے میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کے کروڑوں صارفین کو آئندہ آنے والی اپ ڈیٹ کے بعد اپنے اہلِ خانہ، دوستوں یا کاروباری اداروں سے رابطے کے لیے فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کمپنی نے پیر کے روز یہ اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے مطابق اس کے بجائے صارفین منفرد یوزر نیم منتخب کر سکیں گے، جسے وہ دوسروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئے فیچر کا مقصد ”صارفین کے فون نمبر کی پرائیویسی کا تحفظ“ یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید بتایا کہ فون نمبرز تک رسائی محدود ہونے کے بعد ایسے مواقع پر صارف کا نمبر خودکار طور پر شیئر نہیں ہوگا، مثلاً جب اسے کسی بڑے گروپ چیٹ میں شامل کیا جائے یا وہ پہلی مرتبہ کسی فرد یا کاروباری ادارے کو پیغام بھیجے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے مطابق ”یوزر نیمز کی کوئی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کی تجاویز (سجیشن) دی جائیں گی، اس لیے کسی صارف سے رابطہ کرنے کے لیے اس کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح، واٹس ایپ کے بھی اربوں صارفین ہیں۔ میٹا کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد 3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بہت سے صارفین کو اپنی پسند کا یوزر نیم دستیاب نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ وہ آئندہ چند ماہ کے دوران مرحلہ وار دنیا بھر میں یوزر نیم ریزرویشن کی سہولت متعارف کرائے گی، اور ہر ملک میں اس فیچر کی دستیابی پر صارفین کو واٹس ایپ کھولتے ہی مطلع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، کانٹینٹ کریئیٹرز، چھوٹے کاروباری اداروں اور مختلف تنظیموں کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ واٹس ایپ پر وہی یوزر نیم حاصل کر سکیں جو وہ پہلے ہی میٹا کے دیگر پلیٹ فارمز فیس بک یا انسٹاگرام پر استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میٹا کی ملکیت والے میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کے کروڑوں صارفین کو آئندہ آنے والی اپ ڈیٹ کے بعد اپنے اہلِ خانہ، دوستوں یا کاروباری اداروں سے رابطے کے لیے فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کمپنی نے پیر کے روز یہ اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>واٹس ایپ کے مطابق اس کے بجائے صارفین منفرد یوزر نیم منتخب کر سکیں گے، جسے وہ دوسروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئے فیچر کا مقصد ”صارفین کے فون نمبر کی پرائیویسی کا تحفظ“ یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید بتایا کہ فون نمبرز تک رسائی محدود ہونے کے بعد ایسے مواقع پر صارف کا نمبر خودکار طور پر شیئر نہیں ہوگا، مثلاً جب اسے کسی بڑے گروپ چیٹ میں شامل کیا جائے یا وہ پہلی مرتبہ کسی فرد یا کاروباری ادارے کو پیغام بھیجے۔</p>
<p>میٹا کے مطابق ”یوزر نیمز کی کوئی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کی تجاویز (سجیشن) دی جائیں گی، اس لیے کسی صارف سے رابطہ کرنے کے لیے اس کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا۔“</p>
<p>دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح، واٹس ایپ کے بھی اربوں صارفین ہیں۔ میٹا کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد 3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بہت سے صارفین کو اپنی پسند کا یوزر نیم دستیاب نہ ہو۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ وہ آئندہ چند ماہ کے دوران مرحلہ وار دنیا بھر میں یوزر نیم ریزرویشن کی سہولت متعارف کرائے گی، اور ہر ملک میں اس فیچر کی دستیابی پر صارفین کو واٹس ایپ کھولتے ہی مطلع کیا جائے گا۔</p>
<p>دریں اثنا، کانٹینٹ کریئیٹرز، چھوٹے کاروباری اداروں اور مختلف تنظیموں کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ واٹس ایپ پر وہی یوزر نیم حاصل کر سکیں جو وہ پہلے ہی میٹا کے دیگر پلیٹ فارمز فیس بک یا انسٹاگرام پر استعمال کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288138</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 22:37:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/30223108ac6e3b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/30223108ac6e3b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیلی کام بل: حکومتی کمیٹی نے رضامندی کے بغیر نجی املاک تک رسائی کی تجویز مسترد کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287924/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے سے متعلق شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے بدھ کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی، جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ قانونی فریم ورک کے تحت نجی املاک کے حقوق اور مالکان کی رضامندی کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائیداد کے حقوق سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید اور عوامی خدشات کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی تاکہ بل کی متنازع شقوں، خصوصاً ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے متعلق دفعات، کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں سینیٹر شیری رحمٰن، وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان کے علاوہ قانونی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو مجوزہ قانون کی اہم دفعات، یعنی سیکشن 2(qb)، 2(ma)، 27A اور 27B کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ان دفعات کا تعلق ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب، نجی املاک اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رسائی کے انتظامات سے متعلق ریگولیٹری اختیارات سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی طور پر تنازع سیکشن 27B پر تھا، جس کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے انکار یا اس میں رکاوٹ ڈالنے والے جائیداد مالکان، کرایہ داروں، مکان مالکان یا اداروں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا مؤقف تھا کہ یہ شق شہریوں پر تنصیبات کی اجازت دینے کے لیے غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس سے قانونی تقاضوں کی پاسداری اور جائیداد کے حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا اور قومی اسمبلی سے منظور شدہ یہ بل اس وقت سینیٹ میں زیر غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت قانون و انصاف کے مطابق کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا، ’’تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بعض دفعات کے متن میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام دور کیا جا سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت قانون کے بیان کے مطابق، ’’رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی املاک سے متعلق معاملات میں مالک کی رضامندی اور باہمی اتفاق بنیادی تقاضے رہیں گے۔ کسی بھی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثوں تک رسائی یا ان کے استعمال سے متعلق کوئی اقدام مالک کی رضامندی اور باہمی طے شدہ انتظام کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کے دائرۂ کار کو واضح طور پر ان اراضی، عمارتوں، جائیدادوں اور اثاثوں تک محدود کیا جائے جو سرکاری اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، ضابطہ کار کے تحت چلنے والی نجی رہائشی اسکیموں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اسی نوعیت کے دیگر اداروں کی ملکیت یا انتظام میں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور مشترکہ ملکیت کی دیگر صورتوں کی تعریفیں قانون میں واضح اور صریح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر نصب ہونے والے اور زیرِ زمین ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے گا اور ہر زمرے کے لیے الگ طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور کسی سرکاری اتھارٹی، رہائشی اسکیم، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیجا جائے گا، جو قانون کے مطابق 45 روز کے اندر فیصلہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے لیے واضح رہنما اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی بھی تجویز کی ضرورت، موزونیت، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل نے مزید سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثر ہونے والا کوئی بھی فریق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے سیکشن 7A کے تحت قائم ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کا حق رکھے، اور ایسے معاملات میں ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ قانون کے متن اور مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور شہریوں کے حقوق سے متعلق کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے بالادست شق (اوور رائیڈنگ کلاز) پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سیکشن 27B(1) کے تحت مجوزہ جرمانے کی رقم کا بھی دوبارہ جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقاصد، ڈھانچے اور دفعات سے ہم آہنگ کرنے کی سفارش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت قانون کے مطابق کمیٹی نے وسیع تر اصولوں، پالیسی مقاصد اور ضروری ترامیم پر اتفاقِ رائے حاصل کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور ہدایات کے لیے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، ’’تاہم یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھائی جائے گی۔ نجی املاک کے تحفظ، مالکان کی رضامندی، اعتراض کے حق، قانونی تحفظات اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے سے متعلق شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے بدھ کو اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی، جس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ قانونی فریم ورک کے تحت نجی املاک کے حقوق اور مالکان کی رضامندی کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔</strong></p>
<p>جائیداد کے حقوق سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی تنقید اور عوامی خدشات کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی تاکہ بل کی متنازع شقوں، خصوصاً ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے متعلق دفعات، کا ہنگامی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں قائم کمیٹی میں سینیٹر شیری رحمٰن، وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان کے علاوہ قانونی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین شامل تھے۔</p>
<p>کمیٹی کو مجوزہ قانون کی اہم دفعات، یعنی سیکشن 2(qb)، 2(ma)، 27A اور 27B کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ان دفعات کا تعلق ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب، نجی املاک اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رسائی کے انتظامات سے متعلق ریگولیٹری اختیارات سے ہے۔</p>
<p>خصوصی طور پر تنازع سیکشن 27B پر تھا، جس کے تحت ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے تک رسائی سے انکار یا اس میں رکاوٹ ڈالنے والے جائیداد مالکان، کرایہ داروں، مکان مالکان یا اداروں پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔</p>
<p>ناقدین کا مؤقف تھا کہ یہ شق شہریوں پر تنصیبات کی اجازت دینے کے لیے غیر ضروری دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس سے قانونی تقاضوں کی پاسداری اور جائیداد کے حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا اور قومی اسمبلی سے منظور شدہ یہ بل اس وقت سینیٹ میں زیر غور ہے۔</p>
<p>وزارت قانون و انصاف کے مطابق کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ بل کا بنیادی مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا، ’’تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ بعض دفعات کے متن میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کا ابہام دور کیا جا سکے۔‘‘</p>
<p>وزارت قانون کے بیان کے مطابق، ’’رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی املاک سے متعلق معاملات میں مالک کی رضامندی اور باہمی اتفاق بنیادی تقاضے رہیں گے۔ کسی بھی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثوں تک رسائی یا ان کے استعمال سے متعلق کوئی اقدام مالک کی رضامندی اور باہمی طے شدہ انتظام کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>تفصیلات کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کے دائرۂ کار کو واضح طور پر ان اراضی، عمارتوں، جائیدادوں اور اثاثوں تک محدود کیا جائے جو سرکاری اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مقامی حکومتوں، ضابطہ کار کے تحت چلنے والی نجی رہائشی اسکیموں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اسی نوعیت کے دیگر اداروں کی ملکیت یا انتظام میں ہوں۔</p>
<p>کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں اور مشترکہ ملکیت کی دیگر صورتوں کی تعریفیں قانون میں واضح اور صریح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر نصب ہونے والے اور زیرِ زمین ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے گا اور ہر زمرے کے لیے الگ طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور کسی سرکاری اتھارٹی، رہائشی اسکیم، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے کسی دوسرے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیجا جائے گا، جو قانون کے مطابق 45 روز کے اندر فیصلہ کرے گی۔</p>
<p>کمیٹی نے سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے لیے واضح رہنما اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی بھی تجویز کی ضرورت، موزونیت، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔</p>
<p>پینل نے مزید سفارش کی کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثر ہونے والا کوئی بھی فریق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے سیکشن 7A کے تحت قائم ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کا حق رکھے، اور ایسے معاملات میں ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ قانون کے متن اور مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور شہریوں کے حقوق سے متعلق کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے بالادست شق (اوور رائیڈنگ کلاز) پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔</p>
<p>کمیٹی نے سیکشن 27B(1) کے تحت مجوزہ جرمانے کی رقم کا بھی دوبارہ جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقاصد، ڈھانچے اور دفعات سے ہم آہنگ کرنے کی سفارش کی ہے۔</p>
<p>وزارت قانون کے مطابق کمیٹی نے وسیع تر اصولوں، پالیسی مقاصد اور ضروری ترامیم پر اتفاقِ رائے حاصل کر لیا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور ہدایات کے لیے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، ’’تاہم یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھائی جائے گی۔ نجی املاک کے تحفظ، مالکان کی رضامندی، اعتراض کے حق، قانونی تحفظات اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287924</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 22:47:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/242241397a4e5d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/242241397a4e5d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور بنگلہ دیش کے بانیان کا اسٹارٹ اپ ریوورا 20 لاکھ ڈالر کی سیڈ انویسٹمنٹ حاصل کرنے میں کامیاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مائی ایلس کے نام سے معروف اسٹارٹ اپ  ریوورا  نے اپنے برانڈ کا نام تبدیل کرتے ہوئے سیڈ انویسٹمنٹ راؤنڈ میں 20 لاکھ ڈالر جمع کر لیے ہیں۔ کمپنی اب خود کو کنورسیشنل کامرس ٹول سے ای کامرس تاجروں کے لیے ایک اے آئی  آپریٹنگ پلیٹ فارم میں تبدیل کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری بیان کے مطابق سرمایہ کاری کے اس راؤنڈ کی مشترکہ قیادت آئی ٹو آئی وینچرز اور اوراسیا کیپیٹل نے کی، جبکہ اینکرلیس بنگلہ دیش، کنجکشن کیپیٹل، ایف سکس وینچرز، ہائی ٹو گلوبل، اوربٹ اسٹارٹ اپس اور متعدد اسٹریٹجک اینجل انویسٹرز نے بھی اس میں حصہ لیا، جن میں ” سلا“   کے شریک بانی سلمان بٹ اور بولٹ، مبادلہ اور ای وائی کے آپریٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیڈ راؤنڈ سے حاصل ہونے والی رقم بنیادی طور پر سعودی عرب میں کمپنی کی ترقی کی رفتار بڑھانے اور پروڈکٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی، جو ریوورا کے لیے سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ بن کر ابھرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریوورا اس وقت 21 سے زائد ممالک میں فعال ہے اور سال 2024 کے اواخر میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک (جی سی سی) پر توجہ مرکوز کرنے کے بعد سے کمپنی کی آمدنی میں 10 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ ٹیم اس تازہ ترین فنڈنگ ​​کے ذریعے خطے میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی ای کامرس کے لیے سعودی عرب میں قائم کسٹمر انگیجمنٹ اور اے آئی آپریٹنگ سسٹم فراہم کرتی ہے، جو اپنے اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ایک مرکزی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے اور آن لائن کاروباروں کی سیلز بڑھانے اور کسٹمر سپورٹ مینیج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ریوورا کی اے آئی سیلز اور مہمات استعمال کرنے والے برانڈز کی آمدنی میں 15 سے 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس پروڈکٹ کی حقیقی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہر تاجر کے پروڈکٹ کیٹلاگ کو واضح اور منظم ڈیٹا میں بھی تبدیل کرتا ہے، جس سے مصنوعات کو تلاش کرنا، تجویز کرنا اور خریدنا آسان ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریوورا کے شریک بانی شوو رحمان نے کہا کہ  مصنوعی ذہانت (اے آئی) نہ صرف کمپنیوں کے بیچنے کا طریقہ بدل رہی ہے بلکہ لوگوں کے خریدنے کا انداز بھی تبدیل کررہی ہے۔ ہم ریوورا کی بنیاد اس ایک یقین پر رکھ رہے ہیں کہ اگلے عشرے میں وہی کاروبار کامیاب ہوں گے جنہیں کوئی اے آئی سمجھ سکے، پیش کر سکے اور ان کے لیے فروخت کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریوورا کے ایک اور شریک بانی دانیال بیگ نے بات چیت کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سب سے اہم سگنل فنڈنگ نہیں بلکہ یہ ہے کہ ریوورا استعمال کرنے والے تاجر اس سے حقیقی آمدنی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ وہ  پیمانہ ہے جس کے ہم دیوانے ہیں اور اسی کے لیے ہم کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانیال بیگ میڈیا اور فن ٹیک کے شعبوں میں قیادت کا 12 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ حال ہی میں  فوربس مڈل ایسٹ کے سی او او  رہ چکے ہیں، جبکہ شوو رحمان پروڈکٹ اور تکنیکی مہارت کے حامل ہیں۔ یہ دونوں مل کر ایک ایسی کمپنی بنا رہے ہیں جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی مقامی ہے اور خطے کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹو آئی وینچرز کی شریک بانی اور جنرل پارٹنر کلثوم لاکھانی نے کہا کہ  ہم ریوورا کی ٹیم کی حمایت کرنے پر انتہائی پرجوش ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی پروڈکٹ بنائی ہے جو محض اے آئی کے شور سے ہٹ کر حقیقی افادیت اور بڑے پیمانے پر پھیلنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے خطے کے لیے تیار کردہ پروڈکٹ ہے اور اس کی مقبولیت خود بولتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اینکرلیس بنگلہ دیش کے جنرل پارٹنر راحت احمد کا ماننا ہے کہ  ریوورا بالکل اسی صلاحیت کا مظہر ہے جو بنگلہ دیش اور پاکستان کے ٹیلنٹ میں اس وقت نظر آتی ہے جب ان پر بھرپور اعتماد کیا جائے۔ ہم نے شروع سے ہی شوو اور ان کی ٹیم کا ساتھ دیا ہے اور ان کے کام کو مزید آگے بڑھانے پر ہمیں فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اوراسیا کیپیٹل کے پارٹنر عمر خان نے ابتدائی مراحل میں ہی اے آئی کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تاجروں کی کامیابی کے مشن میں ریوورا کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا، تاکہ ایسے حل فراہم کیے جا سکیں جو آپریشنل اور کسٹمر کے نتائج کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مائی ایلس کے نام سے معروف اسٹارٹ اپ  ریوورا  نے اپنے برانڈ کا نام تبدیل کرتے ہوئے سیڈ انویسٹمنٹ راؤنڈ میں 20 لاکھ ڈالر جمع کر لیے ہیں۔ کمپنی اب خود کو کنورسیشنل کامرس ٹول سے ای کامرس تاجروں کے لیے ایک اے آئی  آپریٹنگ پلیٹ فارم میں تبدیل کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو جاری بیان کے مطابق سرمایہ کاری کے اس راؤنڈ کی مشترکہ قیادت آئی ٹو آئی وینچرز اور اوراسیا کیپیٹل نے کی، جبکہ اینکرلیس بنگلہ دیش، کنجکشن کیپیٹل، ایف سکس وینچرز، ہائی ٹو گلوبل، اوربٹ اسٹارٹ اپس اور متعدد اسٹریٹجک اینجل انویسٹرز نے بھی اس میں حصہ لیا، جن میں ” سلا“   کے شریک بانی سلمان بٹ اور بولٹ، مبادلہ اور ای وائی کے آپریٹرز شامل ہیں۔</p>
<p>سیڈ راؤنڈ سے حاصل ہونے والی رقم بنیادی طور پر سعودی عرب میں کمپنی کی ترقی کی رفتار بڑھانے اور پروڈکٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی، جو ریوورا کے لیے سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ بن کر ابھرا ہے۔</p>
<p>ریوورا اس وقت 21 سے زائد ممالک میں فعال ہے اور سال 2024 کے اواخر میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک (جی سی سی) پر توجہ مرکوز کرنے کے بعد سے کمپنی کی آمدنی میں 10 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ ٹیم اس تازہ ترین فنڈنگ ​​کے ذریعے خطے میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>کمپنی ای کامرس کے لیے سعودی عرب میں قائم کسٹمر انگیجمنٹ اور اے آئی آپریٹنگ سسٹم فراہم کرتی ہے، جو اپنے اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ایک مرکزی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے اور آن لائن کاروباروں کی سیلز بڑھانے اور کسٹمر سپورٹ مینیج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ریوورا کی اے آئی سیلز اور مہمات استعمال کرنے والے برانڈز کی آمدنی میں 15 سے 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس پروڈکٹ کی حقیقی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہر تاجر کے پروڈکٹ کیٹلاگ کو واضح اور منظم ڈیٹا میں بھی تبدیل کرتا ہے، جس سے مصنوعات کو تلاش کرنا، تجویز کرنا اور خریدنا آسان ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ریوورا کے شریک بانی شوو رحمان نے کہا کہ  مصنوعی ذہانت (اے آئی) نہ صرف کمپنیوں کے بیچنے کا طریقہ بدل رہی ہے بلکہ لوگوں کے خریدنے کا انداز بھی تبدیل کررہی ہے۔ ہم ریوورا کی بنیاد اس ایک یقین پر رکھ رہے ہیں کہ اگلے عشرے میں وہی کاروبار کامیاب ہوں گے جنہیں کوئی اے آئی سمجھ سکے، پیش کر سکے اور ان کے لیے فروخت کر سکے۔</p>
<p>ریوورا کے ایک اور شریک بانی دانیال بیگ نے بات چیت کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سب سے اہم سگنل فنڈنگ نہیں بلکہ یہ ہے کہ ریوورا استعمال کرنے والے تاجر اس سے حقیقی آمدنی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ وہ  پیمانہ ہے جس کے ہم دیوانے ہیں اور اسی کے لیے ہم کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>دانیال بیگ میڈیا اور فن ٹیک کے شعبوں میں قیادت کا 12 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں اور وہ حال ہی میں  فوربس مڈل ایسٹ کے سی او او  رہ چکے ہیں، جبکہ شوو رحمان پروڈکٹ اور تکنیکی مہارت کے حامل ہیں۔ یہ دونوں مل کر ایک ایسی کمپنی بنا رہے ہیں جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی مقامی ہے اور خطے کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ٹو آئی وینچرز کی شریک بانی اور جنرل پارٹنر کلثوم لاکھانی نے کہا کہ  ہم ریوورا کی ٹیم کی حمایت کرنے پر انتہائی پرجوش ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی پروڈکٹ بنائی ہے جو محض اے آئی کے شور سے ہٹ کر حقیقی افادیت اور بڑے پیمانے پر پھیلنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے خطے کے لیے تیار کردہ پروڈکٹ ہے اور اس کی مقبولیت خود بولتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا اینکرلیس بنگلہ دیش کے جنرل پارٹنر راحت احمد کا ماننا ہے کہ  ریوورا بالکل اسی صلاحیت کا مظہر ہے جو بنگلہ دیش اور پاکستان کے ٹیلنٹ میں اس وقت نظر آتی ہے جب ان پر بھرپور اعتماد کیا جائے۔ ہم نے شروع سے ہی شوو اور ان کی ٹیم کا ساتھ دیا ہے اور ان کے کام کو مزید آگے بڑھانے پر ہمیں فخر ہے۔</p>
<p>اسی طرح اوراسیا کیپیٹل کے پارٹنر عمر خان نے ابتدائی مراحل میں ہی اے آئی کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تاجروں کی کامیابی کے مشن میں ریوورا کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا، تاکہ ایسے حل فراہم کیے جا سکیں جو آپریشنل اور کسٹمر کے نتائج کو بہتر بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287911</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 15:25:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/241513054f0449e.webp" type="image/webp" medium="image" height="398" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/241513054f0449e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکس عالمی بندش کے بعد بحال، ہزاروں صارفین متاثر، سروس معمول پر آنے لگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287832/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق ایلون مسک کی ملکیت سماجی رابطے کا پلیٹ فارم ایکس (X) پیر کے روز عالمی سطح پر ہزاروں صارفین کی جانب سے شکایات کے بعد بڑی حد تک بحال ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندش کا آغاز صبح تقریباً 9:00 بجے (ای ٹی) ہوا، اور امریکہ میں شکایات کی تعداد بڑھ کر 25,000 سے زائد تک پہنچ گئی، تاہم بعد ازاں یہ کم ہو کر تقریباً 620 رپورٹس رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں بھی صورتحال بہتر ہونے کے بعد شکایات تقریباً 30 تک گر گئیں، جو اس سے قبل 3,400 سے زائد کی بلند سطح پر تھیں، جبکہ برطانیہ میں بھی تعداد کم ہو کر آئی، جہاں ابتدائی طور پر یہ 9,000 سے زائد تک پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤن ڈیٹیکٹر مختلف ذرائع سے اسٹیٹس رپورٹس کو یکجا کر کے بندشوں کی نگرانی کرتا ہے، تاہم متاثرہ صارفین کی اصل تعداد اس سے مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ یہ رپورٹس خود صارفین کی جانب سے جمع کرائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ صارفین کی اصل تعداد اس سے مختلف ہو سکتی ہے جو دکھائی گئی ہے، کیونکہ یہ رپورٹس صارفین کی جانب سے جمع کرائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس (SpaceX)، جو ایکس (X) کی مالک کمپنی ہے، نے اس بندش کی وجہ کے حوالے سے رائٹرز کی جانب سے کیے گئے سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق ایلون مسک کی ملکیت سماجی رابطے کا پلیٹ فارم ایکس (X) پیر کے روز عالمی سطح پر ہزاروں صارفین کی جانب سے شکایات کے بعد بڑی حد تک بحال ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>بندش کا آغاز صبح تقریباً 9:00 بجے (ای ٹی) ہوا، اور امریکہ میں شکایات کی تعداد بڑھ کر 25,000 سے زائد تک پہنچ گئی، تاہم بعد ازاں یہ کم ہو کر تقریباً 620 رپورٹس رہ گئی۔</p>
<p>کینیڈا میں بھی صورتحال بہتر ہونے کے بعد شکایات تقریباً 30 تک گر گئیں، جو اس سے قبل 3,400 سے زائد کی بلند سطح پر تھیں، جبکہ برطانیہ میں بھی تعداد کم ہو کر آئی، جہاں ابتدائی طور پر یہ 9,000 سے زائد تک پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>ڈاؤن ڈیٹیکٹر مختلف ذرائع سے اسٹیٹس رپورٹس کو یکجا کر کے بندشوں کی نگرانی کرتا ہے، تاہم متاثرہ صارفین کی اصل تعداد اس سے مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ یہ رپورٹس خود صارفین کی جانب سے جمع کرائی جاتی ہیں۔</p>
<p>متاثرہ صارفین کی اصل تعداد اس سے مختلف ہو سکتی ہے جو دکھائی گئی ہے، کیونکہ یہ رپورٹس صارفین کی جانب سے جمع کرائی جاتی ہیں۔</p>
<p>اسپیس ایکس (SpaceX)، جو ایکس (X) کی مالک کمپنی ہے، نے اس بندش کی وجہ کے حوالے سے رائٹرز کی جانب سے کیے گئے سوال کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287832</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 23:13:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/22195926992472c.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/22195926992472c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکیش امبانی کے جیو پلیٹ فارمز کا 3.8 ارب ڈالر کا ریکارڈ آئی پی او</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287730/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ارب پتی تاجر مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس جیو پلیٹ فارمز نے تقریباً 3.8 ارب ڈالر جمع کرنے کے لیے ممبئی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ آئی پی او بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی اوز میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئر لسٹنگ کا مقصد ایک ایسے کاروبار کی قدر کو اجاگر کرنا ہےجس میں ریلائنس انفوکام شامل ہے جو تقریباً 50 کروڑ صارفین کے ساتھ چائنا موبائل کے بعد صارفین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ سروسز اور انٹرپرائز نیٹ ورکنگ کے کاروبار بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف تین ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی او کے ذریعے تقریباً 360 ارب بھارتی روپے (3.81 ارب ڈالر)اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جو کمپنی کے بعد از اجرا ایکوٹی کا تقریباً 2.9 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلائنس نے اس حوالے سے رائٹرز کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق لسٹنگ کے عمل کے قریب پہنچنے پر اس پیشکش کی حتمی تفصیلات میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے بیان میں آئی پی او سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم مکیش امبانی نے شیئر ہولڈرز سے خطاب میں کہا کہ پراسپیکٹس اسی جمعہ کوبعد میں فائل کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امبانی نے کہا کہ جیو آئی پی او کو اس سال کی سب سے اہم ویلیو کریشن (قدر میں اضافے)کی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا ہے کہ وہ 270 ملین تک نئے شیئرز جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں جیو نے عالمی سطح کے بڑے سرمایہ کاروں سے فنڈز حاصل کیے تھے جن میں میٹا ،الفابیٹ کی گوگل  اور ویسٹا ایکویٹی پارٹنرز شامل تھے جس کے نتیجے میں کمپنی میں 33 فیصد حصص کی کمی ہوئی۔ اس سے قبل جیفریز نے ماضی میں اس کاروبار کی مالیت 180 ارب ڈالر لگائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سرمایہ کاروں نے بھارت کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت پر شرط لگائی تھیجہاں 1.4 ارب آبادی موجود ہے۔ وہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، انٹرنیٹ کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم سطح میں شمار ہوتی ہیں اور ایک نوجوان اور موبائل فرینڈلی آبادی بڑے پیمانے پر آن لائن منتقل ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو کا کہنا ہے کہ بھارت کے ڈیٹا ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ارب پتی تاجر مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس جیو پلیٹ فارمز نے تقریباً 3.8 ارب ڈالر جمع کرنے کے لیے ممبئی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ آئی پی او بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی اوز میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>شیئر لسٹنگ کا مقصد ایک ایسے کاروبار کی قدر کو اجاگر کرنا ہےجس میں ریلائنس انفوکام شامل ہے جو تقریباً 50 کروڑ صارفین کے ساتھ چائنا موبائل کے بعد صارفین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کی دوسری بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ سروسز اور انٹرپرائز نیٹ ورکنگ کے کاروبار بھی شامل ہیں۔</p>
<p>معاملے سے واقف تین ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی او کے ذریعے تقریباً 360 ارب بھارتی روپے (3.81 ارب ڈالر)اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جو کمپنی کے بعد از اجرا ایکوٹی کا تقریباً 2.9 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>ریلائنس نے اس حوالے سے رائٹرز کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ذرائع کے مطابق لسٹنگ کے عمل کے قریب پہنچنے پر اس پیشکش کی حتمی تفصیلات میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔</p>
<p>کمپنی کے بیان میں آئی پی او سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم مکیش امبانی نے شیئر ہولڈرز سے خطاب میں کہا کہ پراسپیکٹس اسی جمعہ کوبعد میں فائل کیا جانا تھا۔</p>
<p>امبانی نے کہا کہ جیو آئی پی او کو اس سال کی سب سے اہم ویلیو کریشن (قدر میں اضافے)کی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا ہے کہ وہ 270 ملین تک نئے شیئرز جاری کرے گی۔</p>
<p>2020 میں جیو نے عالمی سطح کے بڑے سرمایہ کاروں سے فنڈز حاصل کیے تھے جن میں میٹا ،الفابیٹ کی گوگل  اور ویسٹا ایکویٹی پارٹنرز شامل تھے جس کے نتیجے میں کمپنی میں 33 فیصد حصص کی کمی ہوئی۔ اس سے قبل جیفریز نے ماضی میں اس کاروبار کی مالیت 180 ارب ڈالر لگائی تھی۔</p>
<p>ان سرمایہ کاروں نے بھارت کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت پر شرط لگائی تھیجہاں 1.4 ارب آبادی موجود ہے۔ وہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، انٹرنیٹ کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم سطح میں شمار ہوتی ہیں اور ایک نوجوان اور موبائل فرینڈلی آبادی بڑے پیمانے پر آن لائن منتقل ہو رہی ہے۔</p>
<p>جیو کا کہنا ہے کہ بھارت کے ڈیٹا ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287730</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 13:11:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/19234800681544c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/19234800681544c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فری لانسرز نے 11 ماہ کے دوران 1 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ آمدن حاصل کی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287677/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں زرمبادلہ کی مد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے تحت رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ان کی کمائی ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو قومی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار اور عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستان کی مضبوط ہوتی پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق آئی ٹی اور متعلقہ شعبوں میں فری لانسرز کی جانب سے پیدا کردہ زرمبادلہ کی آمدن زیرِ جائزہ مدت کے دوران ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 708 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی، جو سال بہ سال تقریباً 50 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پافلا) کے صدر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کو 0.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ فری لانسنگ کمیونٹی کے لیے ایک مثبت اقدام ہے، کیونکہ وہ اپنی آمدن سے کمیشن اور سروس چارجز کی مد میں 25 سے 30 فیصد تک کٹوتیوں کے بعد رقوم وصول کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فری لانسرز کو سہولت دینے کے لیے سوشل میڈیا اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے لیے پیمنٹ کارڈز کے ذریعے غیر ملکی لین دین پر ٹیکس میں کمی کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”پافلا پاکستان کے ہر فری لانسر کے ساتھ کھڑی رہے گی، بہتر پالیسیوں، زیادہ مواقع اور مضبوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے لیے وکالت جاری رکھے گی، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ آئی ٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز موجود ہیں، جن میں فل ٹائم اور پارٹ ٹائم دونوں پیشہ ور شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پافلا کے چیئرمین ابراہیم امین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے نافذ کیے گئے 5 فیصد ٹیکس کو کینٹینٹ کریئیٹرز پر ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد زرمبادلہ کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاً یوٹیوب پر معلوماتی اور علمی مواد پیش کرنے والے تخلیق کار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فری لانسرز کے معاشی کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق اسی مدت کے دوران نان آئی ٹی فری لانسرز کے ذریعے بھی 533 ملین ڈالر موصول ہوئے، جس سے فری لانسرز کی مجموعی شراکت 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی فری لانسرز کی آمدن میں زرمبادلہ کی مد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے تحت رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ان کی کمائی ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو قومی معیشت میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار اور عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستان کی مضبوط ہوتی پوزیشن کو ظاہر کرتی ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق آئی ٹی اور متعلقہ شعبوں میں فری لانسرز کی جانب سے پیدا کردہ زرمبادلہ کی آمدن زیرِ جائزہ مدت کے دوران ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 708 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی، جو سال بہ سال تقریباً 50 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پافلا) کے صدر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کو 0.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ فری لانسنگ کمیونٹی کے لیے ایک مثبت اقدام ہے، کیونکہ وہ اپنی آمدن سے کمیشن اور سروس چارجز کی مد میں 25 سے 30 فیصد تک کٹوتیوں کے بعد رقوم وصول کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے فری لانسرز کو سہولت دینے کے لیے سوشل میڈیا اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کے لیے پیمنٹ کارڈز کے ذریعے غیر ملکی لین دین پر ٹیکس میں کمی کو بھی سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”پافلا پاکستان کے ہر فری لانسر کے ساتھ کھڑی رہے گی، بہتر پالیسیوں، زیادہ مواقع اور مضبوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے لیے وکالت جاری رکھے گی، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ آئی ٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے۔“</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز موجود ہیں، جن میں فل ٹائم اور پارٹ ٹائم دونوں پیشہ ور شامل ہیں۔</p>
<p>پافلا کے چیئرمین ابراہیم امین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے نافذ کیے گئے 5 فیصد ٹیکس کو کینٹینٹ کریئیٹرز پر ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد زرمبادلہ کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاً یوٹیوب پر معلوماتی اور علمی مواد پیش کرنے والے تخلیق کار۔</p>
<p>انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فری لانسرز کے معاشی کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق اسی مدت کے دوران نان آئی ٹی فری لانسرز کے ذریعے بھی 533 ملین ڈالر موصول ہوئے، جس سے فری لانسرز کی مجموعی شراکت 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287677</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 18:09:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18175901a331e21.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18175901a331e21.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئر لفٹ کے شریک بانی کے نئے اسٹارٹ اپ میٹل نے اسٹریٹجک سرمایہ کاری حاصل کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286971/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے اسٹارٹ اپ میٹل نے ریبل فنڈ سے اسٹریٹجک سرمایہ کاری حاصل کرلی۔ ریبل فنڈ ایک ایسا وینچر کیپٹل ادارہ ہے جو وائی کمبینیٹر کے ایکو سسٹم سے ابھرنے والے بہترین کارکردگی کے حامل اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت کیلئے جانا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹل کے بانی اور سی ای او عثمان گل جو کہ ایئر لفٹ کے بانیوں میں بھی شامل ہیں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس خبر کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریبل فنڈ نے دونوں اداروں کے درمیان ایک نئی شراکت داری کے تحت کمپنی میں یہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق، ریبل فنڈ ڈیٹا پر مبنی سرمایہ کاری ماڈل استعمال کرتا ہے، جو بڑے ڈیٹا سیٹس اور اپنے مخصوص سرمایہ کاری فریم ورک کی مدد سے بہترین کارکردگی دکھانے والے اسٹارٹ اپس کی نشاندہی کرکے ان میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ فنڈ کے مطابق اب تک وہ 300 سے زائد اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کر چکا ہے، جبکہ اس کی توجہ وائی کمبینیٹر بیچز کی سرفہرست 10 فیصد کمپنیوں پر مرکوز رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان گل نے کہا کہ آج ہم ایک ایسی شراکت داری کا اعلان کررہے ہیں جس کے تحت ریبل فنڈ نے میٹل میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی ہے اور ہم ریبل کے پورٹ فولیو میں شامل کمپنیوں کو تمام پلانز پر 25 فیصد ڈسکاؤنٹ پیش کرنے پر پرجوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کے حجم اور اس لین دین کی شرائط کے حوالے سے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریبل کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق کمپنی کے انویسٹنگ پارٹنرز وائی کمبینیٹر کے وہ کامیاب ترین سابقہ طلبہ ہیں جو مجموعی طور پر 100 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کمپنیوں کے شریک بانی رہ چکے ہیں جن میں ریڈٹ ، انسٹا کارٹ ، کروز، گسٹو ، اسکرپڈ اور راپی جیسی معروف کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ شراکت دار مل کر اب تک 250 سے زائد اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرچکے ہیں جن کا پورٹ فولیو ریٹرن (منافع) انڈسٹری کے سرفہرست 10 فیصد میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ ریبل فنڈ کو وائی کمبینیٹر کے سرفہرست اسٹارٹ اپس تک منفرد رسائی حاصل ہے اور ڈیلز جیتنے کی اس کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے جو کہ عام طور پر ڈیمو ڈے سے پہلے ہی طے پا جاتی ہیں۔ یہ فنڈ ممکنہ سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے لیے ریبل تھیورم 4.0 نامی ایک ملکیتی مشین لرننگ الگورتھم کا استعمال کرتا ہے، اس طرح یہ وائی کمبینیٹر کے اسٹارٹ اپس کا ایک متنوع پورٹ فولیو تشکیل دیتا ہے جو کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے مارکیٹ سے کہیں بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے اسٹارٹ اپ میٹل نے ریبل فنڈ سے اسٹریٹجک سرمایہ کاری حاصل کرلی۔ ریبل فنڈ ایک ایسا وینچر کیپٹل ادارہ ہے جو وائی کمبینیٹر کے ایکو سسٹم سے ابھرنے والے بہترین کارکردگی کے حامل اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت کیلئے جانا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>میٹل کے بانی اور سی ای او عثمان گل جو کہ ایئر لفٹ کے بانیوں میں بھی شامل ہیں نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس خبر کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریبل فنڈ نے دونوں اداروں کے درمیان ایک نئی شراکت داری کے تحت کمپنی میں یہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق، ریبل فنڈ ڈیٹا پر مبنی سرمایہ کاری ماڈل استعمال کرتا ہے، جو بڑے ڈیٹا سیٹس اور اپنے مخصوص سرمایہ کاری فریم ورک کی مدد سے بہترین کارکردگی دکھانے والے اسٹارٹ اپس کی نشاندہی کرکے ان میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ فنڈ کے مطابق اب تک وہ 300 سے زائد اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کر چکا ہے، جبکہ اس کی توجہ وائی کمبینیٹر بیچز کی سرفہرست 10 فیصد کمپنیوں پر مرکوز رہتی ہے۔</p>
<p>عثمان گل نے کہا کہ آج ہم ایک ایسی شراکت داری کا اعلان کررہے ہیں جس کے تحت ریبل فنڈ نے میٹل میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کی ہے اور ہم ریبل کے پورٹ فولیو میں شامل کمپنیوں کو تمام پلانز پر 25 فیصد ڈسکاؤنٹ پیش کرنے پر پرجوش ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاری کے حجم اور اس لین دین کی شرائط کے حوالے سے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔</p>
<p>ریبل کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق کمپنی کے انویسٹنگ پارٹنرز وائی کمبینیٹر کے وہ کامیاب ترین سابقہ طلبہ ہیں جو مجموعی طور پر 100 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کمپنیوں کے شریک بانی رہ چکے ہیں جن میں ریڈٹ ، انسٹا کارٹ ، کروز، گسٹو ، اسکرپڈ اور راپی جیسی معروف کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ شراکت دار مل کر اب تک 250 سے زائد اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرچکے ہیں جن کا پورٹ فولیو ریٹرن (منافع) انڈسٹری کے سرفہرست 10 فیصد میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ ریبل فنڈ کو وائی کمبینیٹر کے سرفہرست اسٹارٹ اپس تک منفرد رسائی حاصل ہے اور ڈیلز جیتنے کی اس کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے جو کہ عام طور پر ڈیمو ڈے سے پہلے ہی طے پا جاتی ہیں۔ یہ فنڈ ممکنہ سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے لیے ریبل تھیورم 4.0 نامی ایک ملکیتی مشین لرننگ الگورتھم کا استعمال کرتا ہے، اس طرح یہ وائی کمبینیٹر کے اسٹارٹ اپس کا ایک متنوع پورٹ فولیو تشکیل دیتا ہے جو کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے مارکیٹ سے کہیں بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286971</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 14:53:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021159291357f6c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021159291357f6c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، وزیراعظم کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286137/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کو آگاہ کیا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.5 سے 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تفصیلات وزیراعظم کی زیرِ صدارت وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے امور سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کے دوران سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو ملک میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ملک بھر میں گھریلو انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد 2024 کے 19 لاکھ سے بڑھ کر 2026 میں 51 لاکھ (5.10 ملین) ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی سیکٹر کا فروغ اور اس سے وابستہ برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2053724980081562034?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2053724980081562034?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں بریفنگ میں بتایا گیا کہ حال ہی میں پاکستان میں فائیو جی سروسز کی نیلامی کی گئی، جو 2016 کے بعد اس حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی نیلامی تھی اور اس سے پاکستان کے لیے 50 کروڑ 90 لاکھ (509 ملین) امریکی ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کے فروغ کے سلسلے میں فروری 2025 میں انڈس اے آئی ویک کا انعقاد کیا گیا جس کے تحت 30 شہروں میں تقریبات منعقد ہوئیں۔ انڈس اے آئی ویک میں 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی اور 88 پویلین لگائے گئے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں سرکاری اسکولوں اور ہیلتھ یونٹس کو فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد میں مفت انٹرنیٹ ہاٹ اسپاٹس کی فراہمی کا منصوبہ آخری مراحل میں ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سید پور ماڈل ویلج اور فاطمہ جناح پارک میں ای لرننگ پوڈزنصب کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کو آگاہ کیا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.5 سے 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>یہ تفصیلات وزیراعظم کی زیرِ صدارت وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے امور سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کے دوران سامنے آئیں۔</p>
<p>اجلاس کو ملک میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ملک بھر میں گھریلو انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد 2024 کے 19 لاکھ سے بڑھ کر 2026 میں 51 لاکھ (5.10 ملین) ہو گئی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی سیکٹر کا فروغ اور اس سے وابستہ برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2053724980081562034?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2053724980081562034?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مزید برآں بریفنگ میں بتایا گیا کہ حال ہی میں پاکستان میں فائیو جی سروسز کی نیلامی کی گئی، جو 2016 کے بعد اس حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی نیلامی تھی اور اس سے پاکستان کے لیے 50 کروڑ 90 لاکھ (509 ملین) امریکی ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کے فروغ کے سلسلے میں فروری 2025 میں انڈس اے آئی ویک کا انعقاد کیا گیا جس کے تحت 30 شہروں میں تقریبات منعقد ہوئیں۔ انڈس اے آئی ویک میں 100 سے زائد بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی اور 88 پویلین لگائے گئے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں سرکاری اسکولوں اور ہیلتھ یونٹس کو فائبر کنیکٹیویٹی فراہم کر دی گئی ہے۔</p>
<p>اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد میں مفت انٹرنیٹ ہاٹ اسپاٹس کی فراہمی کا منصوبہ آخری مراحل میں ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سید پور ماڈل ویلج اور فاطمہ جناح پارک میں ای لرننگ پوڈزنصب کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286137</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 09:56:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/120955487e68033.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/120955487e68033.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی کمپنی ڈیپ سیک نے طویل انتظار کے بعد اپنا نیا اے آئی ماڈل جاری کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285495/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایک نیا ماڈل جاری کیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی لاگت میں انتہائی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک سال قبل اس کمپنی نے کم لاگت والے ریزننگ ماڈل کے ذریعے دنیا کو حیران کر دیا تھا، جو امریکی حریفوں کی صلاحیتوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ نے چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت کو مزید تیز کر دیا ہے۔ جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے چینی اداروں پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چرانے کی بڑے پیمانے پر کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ہانگژو میں قائم ڈیپ سیک نے گزشتہ سال جنوری میں اپنے آرون ریزننگ ماڈل پر مبنی جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ منظرِ عام پر آ کر اس شعبے میں امریکی غلبے کے تصورات کو بدل کر رکھ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ نیا ماڈل ڈیپ سیک وی فور الٹرا لانگ سیاق و سباق کی خصوصیت رکھتا ہے، جبکہ پلیٹ فارم ایکس پر اسے کمپیوٹنگ اور میموری کی لاگت میں نمایاں کمی کے ساتھ دنیا کا صفِ اول کا ماڈل قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/deepseek_ai/status/2047516922263285776?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047516922263285776%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/deepseek_ai/status/2047516922263285776?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047516922263285776%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وی فور ماڈل 10 لاکھ ٹوکنز(الفاظ یا رموز کے چھوٹے اجزاء) کی گنجائش کو سپورٹ کرتا ہے، جو اسے گوگل کے جیمنی کے برابر کھڑا کر دیتا ہے۔ کانٹیکسٹ لینتھ (سیاق و سباق کی طوالت) یہ طے کرتی ہے کہ ایک ماڈل کسی کام کو مکمل کرنے کے لیے کتنی معلومات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیا وی فور دو ورژن میں جاری کیا گیا ہے،پہلا ڈیپ سیک وی فور پرو اور دوسرا ڈیپ سیک وی فور فلیش ہے ،مؤخر الذکر (فلیش ورژن) کم پیرامیٹرز کی وجہ سے ایک زیادہ مؤثر اور اقتصادی انتخاب ہے۔ کمپنی کے مطابق عالمی معلومات کے بینچ مارک پر وی فور پرو صرف گوگل کے تازہ ترین جیمنی ماڈل سے پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اہم-موڑ" href="#اہم-موڑ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اہم موڑ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ وی فور کی آمد ہارڈ ویئر اور لاگت کے لحاظ سے صنعت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیک ریسرچ فرم کے بانی ژانگ یی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ماڈل طویل سیاق و سباق سے وابستہ سست رفتاری اور زیادہ لاگت کے دیرینہ مسائل کو حل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام صارفین کے لیے اس کے بڑے فوائد ہوں گے۔ مثال کے طور پر طویل متن پر کارروائی اب صرف اعلیٰ درجے کی تحقیقی لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عام تجارتی استعمال میں بھی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی فور پرو میں 1.6 ٹریلین پیرامیٹرز جبکہ وی فور فلیش میں 284 بلین پیرامیٹرز ہیں جو ماڈل کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو نکھارتے ہیں۔ یہ ماڈل مختلف اے آئی ایجنٹ پراڈکٹس جیسے کہ کلاؤڈ کوڈ اور کوڈ بڈی کے لیے بھی موزوں بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیصلہ کن گھڑی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال کے ڈیپ سیک شاک نے اے آئی سے متعلقہ حصص (شیئرز) کی قیمتوں میں گراوٹ اور کاروباری حکمت عملیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا تھا جسے صنعت کے لیے فیصلہ کن لمحہ قرار دیا گیا۔ ڈیپ سیک کا چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے برابر کارکردگی دکھاتا ہے، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے تیار کرنے میں نمایاں طور پر کم کمپیوٹنگ پاور استعمال ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کی اچانک مقبولیت نے ڈیٹا پرائیویسی اور سینسر شپ کے سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں، کیوں کہ یہ چیٹ بوٹ اکثر 1989 کے تیانانمن کریک ڈاؤن جیسے حساس موضوعات پر سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ چین میں ڈیپ سیک کے ٹولز کو بلدیاتی اداروں، صحت کے مراکز اور مالیاتی شعبے میں بڑے پیمانے پر اپنایا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ ڈیپ سیک کا اپنے سسٹم کو اوپن سورس رکھنا ہے، جو کہ اوپن اے آئی جیسے مغربی حریفوں کے ملکیتی ماڈلز کے برعکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے چینی فرموں پر امریکی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیر مائیکل کراٹسیوس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ بنیادی طور پر چین میں موجود غیر ملکی ادارے امریکی اے آئی کو چرانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈسٹلیشن مہم چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/mkratsios47/status/2047316220785905948?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047316220785905948%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mkratsios47/status/2047316220785905948?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047316220785905948%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹلیشن اے آئی کی تیاری کا ایک عام طریقہ ہے جس کے ذریعے کمپنیاں اپنے ہی ماڈلز کے سستے اور چھوٹے ورژن بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیپ سیک کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا  نے اپنے عملے میں 10 فیصد کٹوتی کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق مائیکرو سافٹ بھی اپنے عملے میں کمی پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایک نیا ماڈل جاری کیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی لاگت میں انتہائی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک سال قبل اس کمپنی نے کم لاگت والے ریزننگ ماڈل کے ذریعے دنیا کو حیران کر دیا تھا، جو امریکی حریفوں کی صلاحیتوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت کی اس دوڑ نے چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت کو مزید تیز کر دیا ہے۔ جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے چینی اداروں پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چرانے کی بڑے پیمانے پر کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ہانگژو میں قائم ڈیپ سیک نے گزشتہ سال جنوری میں اپنے آرون ریزننگ ماڈل پر مبنی جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ منظرِ عام پر آ کر اس شعبے میں امریکی غلبے کے تصورات کو بدل کر رکھ دیا تھا۔</p>
<p>کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ نیا ماڈل ڈیپ سیک وی فور الٹرا لانگ سیاق و سباق کی خصوصیت رکھتا ہے، جبکہ پلیٹ فارم ایکس پر اسے کمپیوٹنگ اور میموری کی لاگت میں نمایاں کمی کے ساتھ دنیا کا صفِ اول کا ماڈل قرار دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/deepseek_ai/status/2047516922263285776?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047516922263285776%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/deepseek_ai/status/2047516922263285776?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047516922263285776%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وی فور ماڈل 10 لاکھ ٹوکنز(الفاظ یا رموز کے چھوٹے اجزاء) کی گنجائش کو سپورٹ کرتا ہے، جو اسے گوگل کے جیمنی کے برابر کھڑا کر دیتا ہے۔ کانٹیکسٹ لینتھ (سیاق و سباق کی طوالت) یہ طے کرتی ہے کہ ایک ماڈل کسی کام کو مکمل کرنے کے لیے کتنی معلومات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیا وی فور دو ورژن میں جاری کیا گیا ہے،پہلا ڈیپ سیک وی فور پرو اور دوسرا ڈیپ سیک وی فور فلیش ہے ،مؤخر الذکر (فلیش ورژن) کم پیرامیٹرز کی وجہ سے ایک زیادہ مؤثر اور اقتصادی انتخاب ہے۔ کمپنی کے مطابق عالمی معلومات کے بینچ مارک پر وی فور پرو صرف گوگل کے تازہ ترین جیمنی ماڈل سے پیچھے ہے۔</p>
<h3><a id="اہم-موڑ" href="#اہم-موڑ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اہم موڑ</strong></h3>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ وی فور کی آمد ہارڈ ویئر اور لاگت کے لحاظ سے صنعت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیک ریسرچ فرم کے بانی ژانگ یی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ماڈل طویل سیاق و سباق سے وابستہ سست رفتاری اور زیادہ لاگت کے دیرینہ مسائل کو حل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام صارفین کے لیے اس کے بڑے فوائد ہوں گے۔ مثال کے طور پر طویل متن پر کارروائی اب صرف اعلیٰ درجے کی تحقیقی لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عام تجارتی استعمال میں بھی آئے گی۔</p>
<p>وی فور پرو میں 1.6 ٹریلین پیرامیٹرز جبکہ وی فور فلیش میں 284 بلین پیرامیٹرز ہیں جو ماڈل کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو نکھارتے ہیں۔ یہ ماڈل مختلف اے آئی ایجنٹ پراڈکٹس جیسے کہ کلاؤڈ کوڈ اور کوڈ بڈی کے لیے بھی موزوں بنایا گیا ہے۔</p>
<p><strong>فیصلہ کن گھڑی</strong></p>
<p>گزشتہ سال کے ڈیپ سیک شاک نے اے آئی سے متعلقہ حصص (شیئرز) کی قیمتوں میں گراوٹ اور کاروباری حکمت عملیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا تھا جسے صنعت کے لیے فیصلہ کن لمحہ قرار دیا گیا۔ ڈیپ سیک کا چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کے برابر کارکردگی دکھاتا ہے، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے تیار کرنے میں نمایاں طور پر کم کمپیوٹنگ پاور استعمال ہوئی ہے۔</p>
<p>تاہم اس کی اچانک مقبولیت نے ڈیٹا پرائیویسی اور سینسر شپ کے سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں، کیوں کہ یہ چیٹ بوٹ اکثر 1989 کے تیانانمن کریک ڈاؤن جیسے حساس موضوعات پر سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ چین میں ڈیپ سیک کے ٹولز کو بلدیاتی اداروں، صحت کے مراکز اور مالیاتی شعبے میں بڑے پیمانے پر اپنایا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ ڈیپ سیک کا اپنے سسٹم کو اوپن سورس رکھنا ہے، جو کہ اوپن اے آئی جیسے مغربی حریفوں کے ملکیتی ماڈلز کے برعکس ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے چینی فرموں پر امریکی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام لگایا ہے۔ ٹرمپ کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیر مائیکل کراٹسیوس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ بنیادی طور پر چین میں موجود غیر ملکی ادارے امریکی اے آئی کو چرانے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈسٹلیشن مہم چلا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/mkratsios47/status/2047316220785905948?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047316220785905948%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mkratsios47/status/2047316220785905948?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047316220785905948%7Ctwgr%5E8ebe9c48641b9b2250c1908fceb6819f1135fab8%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40418086"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈسٹلیشن اے آئی کی تیاری کا ایک عام طریقہ ہے جس کے ذریعے کمپنیاں اپنے ہی ماڈلز کے سستے اور چھوٹے ورژن بناتی ہیں۔</p>
<p>ڈیپ سیک کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میٹا  نے اپنے عملے میں 10 فیصد کٹوتی کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق مائیکرو سافٹ بھی اپنے عملے میں کمی پر غور کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285495</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 16:36:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/2415051064eeaa1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/2415051064eeaa1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی نوجوان کا کمال، ایلون مسک کی اسپیس ایکس نے اے آئی اسٹارٹ اپ کرسر خریدنے کے لیے 60 ارب ڈالر کی پیشکش کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285454/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپیس ایکس نے کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ  کرسر کو خریدنے کا آپشن حاصل کر لیا ہے، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد صالح آصف ہیں۔ اس سودے کے تحت اسپیس ایکس رواں سال کے آخر تک یا تو 60 ارب ڈالر کے عوض اس اے آئی اسٹارٹ اپ کو مکمل طور پر خرید لے گا یا پھر نئی شراکت داری کے تحت 10 ارب ڈالر ادا کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی ڈویلپر ٹولز کی منافع بخش مارکیٹ میں اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی طرح کرسر بھی سلیکون ویلی کے ان چند اسٹارٹ اپس میں شامل ہے جس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ کو خودکار بنا کر ڈویلپرز کی بڑی توجہ حاصل کی ہے۔ اس ڈیل سے ایکس اے آئی کو، جو فروری میں اسپیس ایکس کے ساتھ ضم ہو چکا ہے، اے آئی کوڈنگ کی مارکیٹ میں اپنے حریفوں کے مقابلے میں برتری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب کرسر کو اپنے اے آئی ماڈلز تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کی طاقت میسر آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرایک پوسٹ میں کہا کہ کرسر کی بہترین پروڈکٹ اور ماہر سافٹ ویئر انجینئرز تک اس کی رسائی کو اسپیس ایکس کے کولوسس ٹریننگ سپر کمپیوٹر کے ساتھ ملا کر ہم دنیا کے مفید ترین ماڈلز تیار کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SpaceX/status/2046713419978453374?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2046713419978453374%7Ctwgr%5E83f6d36212ffe32e88adb5a95ab0fa4186980d57%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SpaceX/status/2046713419978453374?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2046713419978453374%7Ctwgr%5E83f6d36212ffe32e88adb5a95ab0fa4186980d57%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کولوسس میمفس میں واقع اے آئی ایکس کا سپر کمپیوٹر کلسٹر ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربس کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے تین دوستوں کے ساتھ مل کر کرسر کی بنیاد رکھی۔ صالح آصف 2016 سے 2018 تک بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کرسر نے نومبر 2025 میں 2.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بعد 29.3 ارب ڈالر کی مالیت کا سنگ میل عبور کر لیا تھا۔ اسٹارٹ اپ کا دعویٰ ہے کہ اس کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/umarsaif/status/2047194717486710821?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047194717486710821%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/umarsaif/status/2047194717486710821?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047194717486710821%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے جمعرات کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ پاکستان کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے اور ہمارے نوجوانوں کے لیے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ ان کی کامیابی کی کوئی حد نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیلنٹ کبھی بھی پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ مسئلہ مقامی سطح پر ایسے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی کمی ہے جو اس ٹیلنٹ کو سپورٹ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ صالح آصف کی کہانی ہر نوجوان پاکستانی میں دو چیزیں پیدا کرے گی ، پہلی بے پناہ فخر اور دوسری کچھ کر دکھانے کا پختہ یقین ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ذہین اذہان کی کوئی کمی نہیں، صرف سازگار حالات کی ضرورت ہے۔ درست پالیسی، سرمایہ کاری اور ایسی قیادت جو نوجوانوں کو سب سے بڑا اثاثہ سمجھے جو اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Bilalbinsaqib/status/2047271550651711803?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047271550651711803%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Bilalbinsaqib/status/2047271550651711803?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047271550651711803%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یہ اعلان اسپیس ایکس کی اسٹاک مارکیٹ میں متوقع آمد سے قبل سامنے آیا ہے۔ کمپنی 1.75 ٹریلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ 75 ارب ڈالر کا فنڈ جمع کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جو تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں مارچ میں کرسر کے دو پروڈکٹ انجینئرنگ سربراہان نے اسپیس ایکس کے قمری منصوبوں اور ایکس اے آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایلون مسک نے ان انجینئرز، اینڈریو ملیچ اور جیسن گنزبرگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چاند پر مداری خلائی مراکز اور ’ماس ڈرائیورز‘ کی تعمیر حیرت انگیز ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپیس ایکس نے کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ  کرسر کو خریدنے کا آپشن حاصل کر لیا ہے، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد صالح آصف ہیں۔ اس سودے کے تحت اسپیس ایکس رواں سال کے آخر تک یا تو 60 ارب ڈالر کے عوض اس اے آئی اسٹارٹ اپ کو مکمل طور پر خرید لے گا یا پھر نئی شراکت داری کے تحت 10 ارب ڈالر ادا کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی ڈویلپر ٹولز کی منافع بخش مارکیٹ میں اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی طرح کرسر بھی سلیکون ویلی کے ان چند اسٹارٹ اپس میں شامل ہے جس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ کو خودکار بنا کر ڈویلپرز کی بڑی توجہ حاصل کی ہے۔ اس ڈیل سے ایکس اے آئی کو، جو فروری میں اسپیس ایکس کے ساتھ ضم ہو چکا ہے، اے آئی کوڈنگ کی مارکیٹ میں اپنے حریفوں کے مقابلے میں برتری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب کرسر کو اپنے اے آئی ماڈلز تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کی طاقت میسر آئے گی۔</p>
<p>اسپیس ایکس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرایک پوسٹ میں کہا کہ کرسر کی بہترین پروڈکٹ اور ماہر سافٹ ویئر انجینئرز تک اس کی رسائی کو اسپیس ایکس کے کولوسس ٹریننگ سپر کمپیوٹر کے ساتھ ملا کر ہم دنیا کے مفید ترین ماڈلز تیار کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SpaceX/status/2046713419978453374?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2046713419978453374%7Ctwgr%5E83f6d36212ffe32e88adb5a95ab0fa4186980d57%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SpaceX/status/2046713419978453374?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2046713419978453374%7Ctwgr%5E83f6d36212ffe32e88adb5a95ab0fa4186980d57%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ کولوسس میمفس میں واقع اے آئی ایکس کا سپر کمپیوٹر کلسٹر ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>فوربس کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے تین دوستوں کے ساتھ مل کر کرسر کی بنیاد رکھی۔ صالح آصف 2016 سے 2018 تک بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کرسر نے نومبر 2025 میں 2.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بعد 29.3 ارب ڈالر کی مالیت کا سنگ میل عبور کر لیا تھا۔ اسٹارٹ اپ کا دعویٰ ہے کہ اس کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/umarsaif/status/2047194717486710821?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047194717486710821%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/umarsaif/status/2047194717486710821?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047194717486710821%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے جمعرات کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ پاکستان کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے اور ہمارے نوجوانوں کے لیے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ ان کی کامیابی کی کوئی حد نہیں۔</p>
<p>بلال بن ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیلنٹ کبھی بھی پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ مسئلہ مقامی سطح پر ایسے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی کمی ہے جو اس ٹیلنٹ کو سپورٹ کر سکے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ صالح آصف کی کہانی ہر نوجوان پاکستانی میں دو چیزیں پیدا کرے گی ، پہلی بے پناہ فخر اور دوسری کچھ کر دکھانے کا پختہ یقین ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ذہین اذہان کی کوئی کمی نہیں، صرف سازگار حالات کی ضرورت ہے۔ درست پالیسی، سرمایہ کاری اور ایسی قیادت جو نوجوانوں کو سب سے بڑا اثاثہ سمجھے جو اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کر سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Bilalbinsaqib/status/2047271550651711803?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047271550651711803%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Bilalbinsaqib/status/2047271550651711803?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2047271550651711803%7Ctwgr%5Ebb82b7886b2f93ccae55fdde21845198295aa656%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40417921"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب یہ اعلان اسپیس ایکس کی اسٹاک مارکیٹ میں متوقع آمد سے قبل سامنے آیا ہے۔ کمپنی 1.75 ٹریلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ 75 ارب ڈالر کا فنڈ جمع کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جو تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں مارچ میں کرسر کے دو پروڈکٹ انجینئرنگ سربراہان نے اسپیس ایکس کے قمری منصوبوں اور ایکس اے آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایلون مسک نے ان انجینئرز، اینڈریو ملیچ اور جیسن گنزبرگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چاند پر مداری خلائی مراکز اور ’ماس ڈرائیورز‘ کی تعمیر حیرت انگیز ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285454</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 17:59:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/231615036b94103.webp" type="image/webp" medium="image" height="620" width="838">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/231615036b94103.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی کا اعلان یکطرفہ، ایران یا اسرائیل کی منظوری غیر یقینی؛ روس اور یورپ تیل کی سپلائی میں تبدیلیوں پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285411/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جنگ پاکستان کے لیے خلیج میں کاروباری منظرنامے میں تبدیلی لا رہی ہے، مواقع اور چیلنجز دونوں پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جنگ نے خلیج کے خطے کو اقتصادی اور اسٹریٹجک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جس سے شپنگ راستے، توانائی کی فراہمی اور سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی اور وقفے وقفے سے پیش آنے والے حادثات، جس کے ذریعے عالمی تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، نے مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا اور خلیج کی اہم معیشتوں میں کاروباری اعتماد سست کر دیا، اگرچہ نازک سفارتی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی کمپنیاں خلیج کے خطے میں کاروباری سرگرمیوں میں سست روی دیکھ رہی ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور قطر میں، جبکہ سعودی عرب جیسے بڑے مارکیٹ میں صورتحال مستحکم اور نمو پذیر ہے، اگرچہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے لاجسٹکس میں مشکلات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ کے مطابق، سعودی عرب نے خطے کی کشیدہ صورتحال کے باوجود آئی ٹی اور انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ میں غیر ملکی کمپنیوں کی طلب برقرار رکھی ہے، جس سے کئی پاکستانی کمپنیوں کو عوامی اور نجی شعبوں میں پروجیکٹس مل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، دیگر خلیجی معیشتوں میں کاروباری صورتحال محتاط رکاؤٹ کا شکار ہے، کیونکہ حکومت اور نجی شعبے نے نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی کمپنیوں کے نئے منصوبے بھی موجودہ حالات کی وجہ سے مؤخر کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے ماہرین کے مطابق، پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں خلیج کے خطے میں ابھرتے مواقع پر نظر رکھیں، خاص طور پر سعودی عرب میں، تاکہ خطے کے کچھ بازاروں میں کاروباری سست روی کو پورا کیا جا سکے جو غیر یقینی جیو پولیٹیکل صورتحال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام کے مطابق، موجودہ خلیج کی جیو پولیٹیکل صورتحال پاکستانی آئی ٹی شعبے کے لیے صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”پاکستانی کمپنیوں کی کامیابی کا انحصار اعتماد قائم کرنے، ریگولیٹری معیار کی پابندی، خطے کی نفیس سمجھ اور مضبوط مقامی موجودگی پر ہوگا، نہ کہ صرف قیمت پر مقابلہ کرنے پر“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، نظام نے کہا کہ پاکستان کو جدید شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ ڈیپلائمنٹ، اے آئی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، فِن ٹیک سلوشنز اور مینیجڈ سروسز پر توجہ دے کر اپنی ویلیو پروپوزیشن مضبوط کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پالیسی میں استحکام کو فروغ دینا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے بازاروں میں مضبوط تجارتی موجودگی قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی حالیہ برآمدات اور حکومت کے اقدامات ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، مگر کامیابی کا دارومدار اب عمل درآمد کی مؤثریت پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نعمان سعید، آئی ٹی ایکسپورٹر اور سی ای او ایس آئی گلوبل سلوشنز، نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی موجودہ صورتحال نے خلیج کے ممالک کی سکیورٹی میں کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی آئی ٹی شعبے کو نہ صرف اپنے سائبر سرحدی دفاع کے لیے جدید سیکیورٹی سسٹمز تیار کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ سعودی عرب کے دفاعی نظام کی معاونت کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نعمان کے مطابق آئی ٹی کمپنیاں خطے میں کاروباری مواقع میں تبدیلی دیکھ سکتی ہیں، تاہم سائبر سیکیورٹی، اے آئی اور جدید سیکیورٹی آپریشنز کے شعبوں میں انسانی وسائل کی دستیابی بنیادی شرط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”تجربہ کار اور تربیت یافتہ پروفیشنلز کے ساتھ، پہلے ملک کے لیے سائبر آرمی تیار کی جائے اور دوسرے مرحلے میں انسانی وسائل کو  جی سی سی اور دیگر ممالک میں برآمد کیا جائے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نعمان نے تجویز دی کہ قومی سطح پر آئی ٹی اور سیکیورٹی آپریشنز میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے پروگرام بنایا جائے، اور وزارتِ تعلیم و دفاع عوامی اور نجی جامعات میں جدید نصاب شروع کریں تاکہ مستقبل قریب میں سائبر آرمی تیار کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جنگ پاکستان کے لیے خلیج میں کاروباری منظرنامے میں تبدیلی لا رہی ہے، مواقع اور چیلنجز دونوں پیدا ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>ایران کی جنگ نے خلیج کے خطے کو اقتصادی اور اسٹریٹجک غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جس سے شپنگ راستے، توانائی کی فراہمی اور سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی اور وقفے وقفے سے پیش آنے والے حادثات، جس کے ذریعے عالمی تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، نے مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا اور خلیج کی اہم معیشتوں میں کاروباری اعتماد سست کر دیا، اگرچہ نازک سفارتی کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>صنعتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی کمپنیاں خلیج کے خطے میں کاروباری سرگرمیوں میں سست روی دیکھ رہی ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور قطر میں، جبکہ سعودی عرب جیسے بڑے مارکیٹ میں صورتحال مستحکم اور نمو پذیر ہے، اگرچہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے لاجسٹکس میں مشکلات ہیں۔</p>
<p>آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ کے مطابق، سعودی عرب نے خطے کی کشیدہ صورتحال کے باوجود آئی ٹی اور انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ میں غیر ملکی کمپنیوں کی طلب برقرار رکھی ہے، جس سے کئی پاکستانی کمپنیوں کو عوامی اور نجی شعبوں میں پروجیکٹس مل رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، دیگر خلیجی معیشتوں میں کاروباری صورتحال محتاط رکاؤٹ کا شکار ہے، کیونکہ حکومت اور نجی شعبے نے نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی کمپنیوں کے نئے منصوبے بھی موجودہ حالات کی وجہ سے مؤخر کر دیے ہیں۔</p>
<p>صنعت کے ماہرین کے مطابق، پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں خلیج کے خطے میں ابھرتے مواقع پر نظر رکھیں، خاص طور پر سعودی عرب میں، تاکہ خطے کے کچھ بازاروں میں کاروباری سست روی کو پورا کیا جا سکے جو غیر یقینی جیو پولیٹیکل صورتحال کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام کے مطابق، موجودہ خلیج کی جیو پولیٹیکل صورتحال پاکستانی آئی ٹی شعبے کے لیے صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”پاکستانی کمپنیوں کی کامیابی کا انحصار اعتماد قائم کرنے، ریگولیٹری معیار کی پابندی، خطے کی نفیس سمجھ اور مضبوط مقامی موجودگی پر ہوگا، نہ کہ صرف قیمت پر مقابلہ کرنے پر“۔</p>
<p>مزید برآں، نظام نے کہا کہ پاکستان کو جدید شعبوں جیسے سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ ڈیپلائمنٹ، اے آئی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، فِن ٹیک سلوشنز اور مینیجڈ سروسز پر توجہ دے کر اپنی ویلیو پروپوزیشن مضبوط کرنی ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پالیسی میں استحکام کو فروغ دینا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے بازاروں میں مضبوط تجارتی موجودگی قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کی حالیہ برآمدات اور حکومت کے اقدامات ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، مگر کامیابی کا دارومدار اب عمل درآمد کی مؤثریت پر ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر نعمان سعید، آئی ٹی ایکسپورٹر اور سی ای او ایس آئی گلوبل سلوشنز، نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کی موجودہ صورتحال نے خلیج کے ممالک کی سکیورٹی میں کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی آئی ٹی شعبے کو نہ صرف اپنے سائبر سرحدی دفاع کے لیے جدید سیکیورٹی سسٹمز تیار کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ سعودی عرب کے دفاعی نظام کی معاونت کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے، جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ ہوا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر نعمان کے مطابق آئی ٹی کمپنیاں خطے میں کاروباری مواقع میں تبدیلی دیکھ سکتی ہیں، تاہم سائبر سیکیورٹی، اے آئی اور جدید سیکیورٹی آپریشنز کے شعبوں میں انسانی وسائل کی دستیابی بنیادی شرط ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”تجربہ کار اور تربیت یافتہ پروفیشنلز کے ساتھ، پہلے ملک کے لیے سائبر آرمی تیار کی جائے اور دوسرے مرحلے میں انسانی وسائل کو  جی سی سی اور دیگر ممالک میں برآمد کیا جائے“۔</p>
<p>ڈاکٹر نعمان نے تجویز دی کہ قومی سطح پر آئی ٹی اور سیکیورٹی آپریشنز میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے پروگرام بنایا جائے، اور وزارتِ تعلیم و دفاع عوامی اور نجی جامعات میں جدید نصاب شروع کریں تاکہ مستقبل قریب میں سائبر آرمی تیار کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285411</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 22:40:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/222223242169f03.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/222223242169f03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، یو فون سروس متاثر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285165/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیلی کام کمپنی نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان بھر میں یو فون کے صارفین کو ملک گیر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث عارضی سروس متاثر ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق بار بار اور طویل دورانیے کے بجلی کے بریک ڈاؤن، جو اکثر آٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ جاری رہتے ہیں، اس کی موبائل سروسز کو بلا تعطل فراہم کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو فون نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کا نیٹ ورک انفرااسٹرکچر سیل سائٹس پر بیک اپ بیٹری سسٹمز پر انحصار کرتا ہے، جنہیں مکمل طور پر چارج ہونے کے لیے کم از کم تین سے چار گھنٹے مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال میں بار بار ہونے والی لوڈشیڈنگ ان چارجنگ سائیکلز میں خلل ڈال رہی ہے، جس سے بیک اپ صلاحیت کم ہو رہی ہے اور نیٹ ورک میں ممکنہ تعطل پیدا ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق بجلی کی سپلائی مستحکم ہونے کے بعد سروسز معمول پر آ جائیں گی۔ یو فون نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر سے کام لیں جبکہ کمپنی صورتحال کے اثرات کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیلی کام کمپنی نے جمعرات کو کہا کہ پاکستان بھر میں یو فون کے صارفین کو ملک گیر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث عارضی سروس متاثر ہونے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق بار بار اور طویل دورانیے کے بجلی کے بریک ڈاؤن، جو اکثر آٹھ گھنٹے یا اس سے زیادہ جاری رہتے ہیں، اس کی موبائل سروسز کو بلا تعطل فراہم کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>یو فون نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کا نیٹ ورک انفرااسٹرکچر سیل سائٹس پر بیک اپ بیٹری سسٹمز پر انحصار کرتا ہے، جنہیں مکمل طور پر چارج ہونے کے لیے کم از کم تین سے چار گھنٹے مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>موجودہ صورتحال میں بار بار ہونے والی لوڈشیڈنگ ان چارجنگ سائیکلز میں خلل ڈال رہی ہے، جس سے بیک اپ صلاحیت کم ہو رہی ہے اور نیٹ ورک میں ممکنہ تعطل پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق بجلی کی سپلائی مستحکم ہونے کے بعد سروسز معمول پر آ جائیں گی۔ یو فون نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر سے کام لیں جبکہ کمپنی صورتحال کے اثرات کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285165</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 12:04:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/17114535c3fbdeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/17114535c3fbdeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سپر نیٹ گلوبل نے افریقہ میں پہلی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی سروس کا آغاز کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285088/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیلی کارڈ کی ملکیتی ذیلی کمپنی سپر نیٹ گلوبل نے افریقہ میں اپنے پہلے سیٹلائٹ پر مبنی کنیکٹیویٹی سلوشن کی کامیاب تنصیب کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری بیان کے مطابق تنزانیا میں فراہم کی گئی اس سروس کے ذریعے سیٹلائٹ انفرااسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ صلاحیت کی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی ہے، جس سے افریقی براعظم میں سپر نیٹ گلوبل کے آپریشنز کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کو اب بھی قابل بھروسہ اور تیز رفتار ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مشکلات درپیش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ سیٹلائٹ پر مبنی کنیکٹیویٹی ایسے ماحول میں ایک وسیع اور تیزی سے نافذ ہونے والا حل فراہم کرتی ہے، جس سے تنظیمیں مواصلاتی خلیج کو ختم کرنے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات میں مدد حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ تنصیب ان مارکیٹوں میں وسعت حاصل کرنے کی ہماری حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جہاں ہماری صلاحیتیں بامعنی اثر ڈال سکیں۔ سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی میں ہمارا تجربہ ہمیں ان خطوں میں قابل بھروسہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے جہاں روایتی نیٹ ورکس محدود ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے افریقہ ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیلی کارڈ کی ملکیتی ذیلی کمپنی سپر نیٹ گلوبل نے افریقہ میں اپنے پہلے سیٹلائٹ پر مبنی کنیکٹیویٹی سلوشن کی کامیاب تنصیب کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>جاری بیان کے مطابق تنزانیا میں فراہم کی گئی اس سروس کے ذریعے سیٹلائٹ انفرااسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ صلاحیت کی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی ہے، جس سے افریقی براعظم میں سپر نیٹ گلوبل کے آپریشنز کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کو اب بھی قابل بھروسہ اور تیز رفتار ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مشکلات درپیش ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ سیٹلائٹ پر مبنی کنیکٹیویٹی ایسے ماحول میں ایک وسیع اور تیزی سے نافذ ہونے والا حل فراہم کرتی ہے، جس سے تنظیمیں مواصلاتی خلیج کو ختم کرنے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات میں مدد حاصل کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ تنصیب ان مارکیٹوں میں وسعت حاصل کرنے کی ہماری حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جہاں ہماری صلاحیتیں بامعنی اثر ڈال سکیں۔ سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی میں ہمارا تجربہ ہمیں ان خطوں میں قابل بھروسہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے جہاں روایتی نیٹ ورکس محدود ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے افریقہ ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285088</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 13:12:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/15125918338ad8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="870" width="810">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/15125918338ad8c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>علی بابا کی کوکو ٹیک پاکستان کو لائسنس جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285054/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے منگل کو علی بابا ہولڈنگز کی کمپنی  کوکو ٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ(کے ٹی پی ایل) کو پاکستان میں ”اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں ” کا کاروبار کرنے کے لیے لائسنس جاری کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس ریلیز کے مطابق کوکو ٹیک (کے ٹی پی ایل) اپنے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کریڈٹ اسیسمنٹ سسٹم اور عالمی سطح پر آزمودہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ذریعے بی این پی ایل  کے شعبے میں جدید اور ڈیٹا پر مبنی قرضہ جات کے حل متعارف کرائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے صارفین کے لیے مالیاتی سہولیات تک رسائی میں بہتری آئے گی، بالخصوص نوجوان صارفین، فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے جو روایتی بینکنگ کے نظام سے محروم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی بابا کی عالمی مہارت اور مالی طاقت کے تعاون سے کوکو ٹیک  چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی مدد کرنے، ای کامرس کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جامع مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پیش رفت پاکستان کے مالیاتی شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد کی عکاسی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ علی بابا گروپ کی آمد سے مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور جدت کو فروغ ملے گا۔ پاکستان اپنی بڑی آبادی، بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل رجحان اور بہتر ہوتے ہوئے ریگولیٹری فریم ورک کی بدولت بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے منگل کو علی بابا ہولڈنگز کی کمپنی  کوکو ٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ(کے ٹی پی ایل) کو پاکستان میں ”اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں ” کا کاروبار کرنے کے لیے لائسنس جاری کر دیا۔</strong></p>
<p>ایک پریس ریلیز کے مطابق کوکو ٹیک (کے ٹی پی ایل) اپنے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کریڈٹ اسیسمنٹ سسٹم اور عالمی سطح پر آزمودہ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ذریعے بی این پی ایل  کے شعبے میں جدید اور ڈیٹا پر مبنی قرضہ جات کے حل متعارف کرائے گی۔</p>
<p>اس اقدام سے صارفین کے لیے مالیاتی سہولیات تک رسائی میں بہتری آئے گی، بالخصوص نوجوان صارفین، فری لانسرز اور چھوٹے کاروباروں کے لیے جو روایتی بینکنگ کے نظام سے محروم ہیں۔</p>
<p>علی بابا کی عالمی مہارت اور مالی طاقت کے تعاون سے کوکو ٹیک  چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی مدد کرنے، ای کامرس کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جامع مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پیش رفت پاکستان کے مالیاتی شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد کی عکاسی کرے گی۔</p>
<p>اس موقع پر ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ علی بابا گروپ کی آمد سے مقابلے کی فضا پیدا ہوگی اور جدت کو فروغ ملے گا۔ پاکستان اپنی بڑی آبادی، بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل رجحان اور بہتر ہوتے ہوئے ریگولیٹری فریم ورک کی بدولت بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285054</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 16:53:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/14164615e2f0f22.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/14164615e2f0f22.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلال بن ثاقب ٹرمپ انتظامیہ تک پاکستان کی بذریعہ کرپٹو رسائی کے اہم سہولت کار بن کر ابھرے ہیں، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284464/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اپنی فعال موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ میں اثر و رسوخ کے نئے راستے تلاش کر لیے ہیں۔ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے میں پاکستان کو غیر معمولی کامیابی ملی ہے، جس میں بلال بن ثاقب نامی ایک نوجوان ٹیکنالوجی ماہر نے کلیدی سہولت کار اور پُل کا کردار ادا کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ بڑھتے ہوئے تعلقات بلال بن ثاقب  کے ورلڈ لبرٹی فنانشل(ڈبلیو ایل ایف) کے ساتھ روابط کا نتیجہ ہیں، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان اور ان کے قریبی ساتھیوں کا تیار کردہ ڈیجیٹل مالیاتی منصوبہ ہے۔ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی اختراعات کے لیے  ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ذیلی ادارے کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اسے  بپلومیسی (بٹ کوائن اور ڈپلومیسی کا امتزاج) کا نام دیا گیا ہے، جس نے صدر ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ رواں سال اسلام آباد میں امریکی صدر کے خاندانی کاروبار سے وابستہ شخصیات کا شاندار استقبال اس اسٹریٹجک تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث بن کر ابھرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کے اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ماہر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں ذاتی تعلقات کی بہت اہمیت ہے اور پاکستان نے کرپٹو کے ذریعے وہ اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے جو اسے واشنگٹن میں ایک ثالث کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال بن ثاقب، جنہوں نے بہت کم وقت میں پاکستان کے پالیسی حلقوں میں جگہ بنائی کہتے ہیں کہ کرپٹو کی وجہ سے بند دروازے کھل گئے ہیں اور پاکستان کو اپنی ساکھ بہتر کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ جیسے بڑے کھلاڑیوں کو بھی پاکستان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ایسے ملک کے لیے جو عالمی سرمایہ کاری کا پیاسا ہے، واشنگٹن کی کرپٹو پالیسیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی ترتیب میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف کی جانب سے کرپٹو تجربات پر تحفظات جیسے خطرات موجود ہیں، لیکن اسلام آباد اس حکمت عملی پر کاربند دکھائی دیتا ہے۔ بلال بن ثاقب اس حوالے سے پرامید ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے تمام حالات سازگار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اپنی فعال موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ میں اثر و رسوخ کے نئے راستے تلاش کر لیے ہیں۔ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں تک رسائی حاصل کرنے میں پاکستان کو غیر معمولی کامیابی ملی ہے، جس میں بلال بن ثاقب نامی ایک نوجوان ٹیکنالوجی ماہر نے کلیدی سہولت کار اور پُل کا کردار ادا کیا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ بڑھتے ہوئے تعلقات بلال بن ثاقب  کے ورلڈ لبرٹی فنانشل(ڈبلیو ایل ایف) کے ساتھ روابط کا نتیجہ ہیں، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان اور ان کے قریبی ساتھیوں کا تیار کردہ ڈیجیٹل مالیاتی منصوبہ ہے۔ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی اختراعات کے لیے  ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ذیلی ادارے کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں اسے  بپلومیسی (بٹ کوائن اور ڈپلومیسی کا امتزاج) کا نام دیا گیا ہے، جس نے صدر ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ رواں سال اسلام آباد میں امریکی صدر کے خاندانی کاروبار سے وابستہ شخصیات کا شاندار استقبال اس اسٹریٹجک تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث بن کر ابھرا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن کے اٹلانٹک کونسل سے وابستہ ماہر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں ذاتی تعلقات کی بہت اہمیت ہے اور پاکستان نے کرپٹو کے ذریعے وہ اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے جو اسے واشنگٹن میں ایک ثالث کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔</p>
<p>بلال بن ثاقب، جنہوں نے بہت کم وقت میں پاکستان کے پالیسی حلقوں میں جگہ بنائی کہتے ہیں کہ کرپٹو کی وجہ سے بند دروازے کھل گئے ہیں اور پاکستان کو اپنی ساکھ بہتر کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ جیسے بڑے کھلاڑیوں کو بھی پاکستان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ایسے ملک کے لیے جو عالمی سرمایہ کاری کا پیاسا ہے، واشنگٹن کی کرپٹو پالیسیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی ترتیب میں اپنی اہمیت ثابت کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف کی جانب سے کرپٹو تجربات پر تحفظات جیسے خطرات موجود ہیں، لیکن اسلام آباد اس حکمت عملی پر کاربند دکھائی دیتا ہے۔ بلال بن ثاقب اس حوالے سے پرامید ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے تمام حالات سازگار ہو رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284464</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 13:54:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/311336527836341.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/311336527836341.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھٹیوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، اے آئی کے اخراجات میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ میٹا بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھٹیوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے کمپنی کے 20 فیصد یا اس سے زیادہ ملازمین متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ کمپنی مہنگی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انفرااسٹرکچر کے اخراجات کا توازن قائم کرنے اور اے آئی کی مدد سے کام کرنے والے عملے کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کے لیے تیار ہونا چاہتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ابھی چھٹیوں کی تاریخ طے نہیں ہوئی اور ان کی حد بھی حتمی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ذرائع نے بتایا کہ میٹا کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں اس منصوبے سے دیگر سینئر لیڈروں کو آگاہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ اسٹاف کی کمی کے لیے منصوبہ بندی شروع کریں۔ ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انہیں چھٹیوں کے فیصلے ظاہر کرنے کا اختیار نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کمپنی نے 20 فیصد کے ہدف پر فیصلہ کیا، تو یہ چھٹیاں 2022 کے آخر اور 2023 کے آغاز میں ہونے والی ری اسٹرکچرنگ کے بعد سب سے بڑی ہوں گی، جسے کمپنی نے “سالِ کارکردگی” قرار دیا تھا۔ 31 دسمبر 2025 تک کمپنی میں تقریباً 79,000 افراد کام کر رہے تھے۔ کمپنی نے نومبر 2022 میں 11,000 ملازمین کو فارغ کیا تھا، یعنی اُس وقت کے کل عملے کا تقریباً 13 فیصد۔ تقریباً چار ماہ بعد، کمپنی نے مزید 10,000 ملازمین کی چھٹیاں کرنے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زکر برگ کی توجہ جنریٹو اے آئی پر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال کے دوران، سی سی او مارک زکر برگ میٹا کو جنریٹو اے آئی کے شعبے میں زیادہ مقابلہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کمپنی نے اعلیٰ اے آئی محققین کو ایک نئی سپر انٹیلی جنس ٹیم میں شامل کرنے کے لیے اربوں روپے کے معاوضے کی پیشکش کی، بعض کی مالیت چار سال میں کروڑوں ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا ہے کہ وہ 2028 تک ڈیٹا سینٹرز بنانے کے لیے 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں اس نے مولٹ بک حاصل کیا، جو اے آئی ایجنٹس کے لیے بنایا گیا سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ہے۔ رائٹرز کے مطابق، میٹا کم از کم 2 ارب ڈالر خرچ کر کے چینی اے آئی اسٹارٹ اپ مینس بھی خرید رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زکر برگ نے سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی کارکردگی میں بہتری کی طرف اشارہ کیا، جنوری میں کہا کہ ”ایسے پروجیکٹس جو پہلے بڑی ٹیمیں مانگتے تھے، اب ایک انتہائی ہنر مند فرد کے ذریعے مکمل ہو رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے منصوبے اس سال بڑے امریکی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیکنالوجی شعبے میں، کے عام رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ اعلیٰ حکام نے حالیہ اے آئی سسٹمز میں بہتری کو تبدیلیوں کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں، ایمیزون نے تصدیق کی کہ وہ تقریباً 16,000 ملازمین کو فارغ کرے گا، یعنی اس کے کل عملے کا تقریباً 10 فیصد۔ پچھلے ماہ، فِن ٹیک کمپنی بلاک نے اپنے عملے کا تقریباً نصف کم کیا، اور سی ای او جیک ڈورسی نے واضح طور پر اے آئی ٹولز اور ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو چھوٹی ٹیموں کے ساتھ زیادہ کام کرنے کی وجہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کی منصوبہ بند اے آئی سرمایہ کاری گزشتہ سال Llama 4 ماڈلز کے سلسلے میں کئی ناکامیوں کے بعد آئی ہے، جن میں ابتدائی ورژنز کے لیے بنائے گئے بینچ مارکس میں مبہم نتائج دینے پر تنقید شامل تھی۔ کمپنی نے اس ماڈل کا سب سے بڑا ورژن Behemoth جاری کرنے سے بھی باز رہی، جو گرمیوں میں آنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپر انٹیلی جنس ٹیم اس سال کمپنی کی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ایووکیڈو نامی نیا ماڈل تیار کر رہی ہے، لیکن اس ماڈل کی کارکردگی بھی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ میٹا بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھٹیوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس سے کمپنی کے 20 فیصد یا اس سے زیادہ ملازمین متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ کمپنی مہنگی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انفرااسٹرکچر کے اخراجات کا توازن قائم کرنے اور اے آئی کی مدد سے کام کرنے والے عملے کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کے لیے تیار ہونا چاہتی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ابھی چھٹیوں کی تاریخ طے نہیں ہوئی اور ان کی حد بھی حتمی نہیں کی گئی۔</p>
<p>دو ذرائع نے بتایا کہ میٹا کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں اس منصوبے سے دیگر سینئر لیڈروں کو آگاہ کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ اسٹاف کی کمی کے لیے منصوبہ بندی شروع کریں۔ ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ انہیں چھٹیوں کے فیصلے ظاہر کرنے کا اختیار نہیں تھا۔</p>
<p>میٹا نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>اگر کمپنی نے 20 فیصد کے ہدف پر فیصلہ کیا، تو یہ چھٹیاں 2022 کے آخر اور 2023 کے آغاز میں ہونے والی ری اسٹرکچرنگ کے بعد سب سے بڑی ہوں گی، جسے کمپنی نے “سالِ کارکردگی” قرار دیا تھا۔ 31 دسمبر 2025 تک کمپنی میں تقریباً 79,000 افراد کام کر رہے تھے۔ کمپنی نے نومبر 2022 میں 11,000 ملازمین کو فارغ کیا تھا، یعنی اُس وقت کے کل عملے کا تقریباً 13 فیصد۔ تقریباً چار ماہ بعد، کمپنی نے مزید 10,000 ملازمین کی چھٹیاں کرنے کا اعلان کیا۔</p>
<p><strong>زکر برگ کی توجہ جنریٹو اے آئی پر</strong></p>
<p>گزشتہ سال کے دوران، سی سی او مارک زکر برگ میٹا کو جنریٹو اے آئی کے شعبے میں زیادہ مقابلہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کمپنی نے اعلیٰ اے آئی محققین کو ایک نئی سپر انٹیلی جنس ٹیم میں شامل کرنے کے لیے اربوں روپے کے معاوضے کی پیشکش کی، بعض کی مالیت چار سال میں کروڑوں ڈالر ہے۔</p>
<p>کمپنی نے کہا ہے کہ وہ 2028 تک ڈیٹا سینٹرز بنانے کے لیے 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں اس نے مولٹ بک حاصل کیا، جو اے آئی ایجنٹس کے لیے بنایا گیا سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ہے۔ رائٹرز کے مطابق، میٹا کم از کم 2 ارب ڈالر خرچ کر کے چینی اے آئی اسٹارٹ اپ مینس بھی خرید رہی ہے۔</p>
<p>زکر برگ نے سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی کارکردگی میں بہتری کی طرف اشارہ کیا، جنوری میں کہا کہ ”ایسے پروجیکٹس جو پہلے بڑی ٹیمیں مانگتے تھے، اب ایک انتہائی ہنر مند فرد کے ذریعے مکمل ہو رہے ہیں۔“</p>
<p>میٹا کے منصوبے اس سال بڑے امریکی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیکنالوجی شعبے میں، کے عام رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ اعلیٰ حکام نے حالیہ اے آئی سسٹمز میں بہتری کو تبدیلیوں کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔</p>
<p>جنوری میں، ایمیزون نے تصدیق کی کہ وہ تقریباً 16,000 ملازمین کو فارغ کرے گا، یعنی اس کے کل عملے کا تقریباً 10 فیصد۔ پچھلے ماہ، فِن ٹیک کمپنی بلاک نے اپنے عملے کا تقریباً نصف کم کیا، اور سی ای او جیک ڈورسی نے واضح طور پر اے آئی ٹولز اور ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو چھوٹی ٹیموں کے ساتھ زیادہ کام کرنے کی وجہ قرار دیا۔</p>
<p>میٹا کی منصوبہ بند اے آئی سرمایہ کاری گزشتہ سال Llama 4 ماڈلز کے سلسلے میں کئی ناکامیوں کے بعد آئی ہے، جن میں ابتدائی ورژنز کے لیے بنائے گئے بینچ مارکس میں مبہم نتائج دینے پر تنقید شامل تھی۔ کمپنی نے اس ماڈل کا سب سے بڑا ورژن Behemoth جاری کرنے سے بھی باز رہی، جو گرمیوں میں آنا تھا۔</p>
<p>سپر انٹیلی جنس ٹیم اس سال کمپنی کی ساکھ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے ایووکیڈو نامی نیا ماڈل تیار کر رہی ہے، لیکن اس ماڈل کی کارکردگی بھی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283894</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Mar 2026 22:31:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/14220849b02afdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/14220849b02afdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائیو جی نیلامی: پی ٹی ایم ایل نے 156.75 ملین ڈالر میں 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283832/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے پاکستان کے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) یعنی فائیوجی اسپیکٹرم کی نیلامی میں 156.75 ملین ڈالر کے عوض 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق 10 مارچ 2026 کو ہونے والی این جی ایم ایس یعنی فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتیجے میں پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے مختلف بینڈز میں مجموعی طور پر 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ہونے والے اسائنمنٹ اسٹیج کے بعد جس کا مقصد ہر بینڈ کے اندر مخصوص فریکوئنسی پوزیشنز کا تعین کرنا تھا، پی ٹی ایم ایل (یوفون) نے 156.75 ملین ڈالر کی مجموعی قیمت پر اپنے 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم کے لیے 2600 میگاہرٹز کے بینڈ میں 60 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بینڈ میں 120 میگاہرٹز حاصل کرلیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق پی ٹی ایم ایل تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ این جی ایم ایس  یعنی فائیو جی لائسنس پر دستخط کرے گی اور اس کے مطابق فائیو جی سروسز کا آغاز کرے گی۔ اس کے  ساتھ پی ٹی ایم ایل کے برانڈز یوفون، ’ٹیلی نار اور اونک کے صارفین کے لیے ملک بھر میں سیلولر موبائل براڈ بینڈ سروسز کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے این جی ایم ایس اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی سے 510 ملین ڈالر (تقریباً 142 ارب روپے) حاصل کر لیے ہیں۔ اسی دوران، ٹیلی کام ریگولیٹر (پی ٹی اے) نے پوزیشن اسائنمنٹ کی نیلامی کا عمل بھی مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد آپریٹرز کی جانب سے حاصل کردہ اسپیکٹرم بلاکس کی درست جگہ کا تعین کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں 2600 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بینڈز شامل تھے، جہاں آپریٹرز نے نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مختلف نیٹ ورکس کے درمیان مداخلت کو کم سے کم کرنے کے لیے نچلے، درمیانی اور بالائی بلاکس کی پوزیشنوں کے لیے بولیاں دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، 700 میگاہرٹز بینڈ کے لیے کسی بھی اسائنمنٹ پراسیس کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ جاز نے نیلامی کے دوران تنہا ہی اسے حاصل کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے پاکستان کے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) یعنی فائیوجی اسپیکٹرم کی نیلامی میں 156.75 ملین ڈالر کے عوض 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>نوٹس کے مطابق 10 مارچ 2026 کو ہونے والی این جی ایم ایس یعنی فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے نتیجے میں پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے مختلف بینڈز میں مجموعی طور پر 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم حاصل کرلیا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو ہونے والے اسائنمنٹ اسٹیج کے بعد جس کا مقصد ہر بینڈ کے اندر مخصوص فریکوئنسی پوزیشنز کا تعین کرنا تھا، پی ٹی ایم ایل (یوفون) نے 156.75 ملین ڈالر کی مجموعی قیمت پر اپنے 180 میگاہرٹز اسپیکٹرم کے لیے 2600 میگاہرٹز کے بینڈ میں 60 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بینڈ میں 120 میگاہرٹز حاصل کرلیے ہیں۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق پی ٹی ایم ایل تمام قانونی ضابطے مکمل کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ این جی ایم ایس  یعنی فائیو جی لائسنس پر دستخط کرے گی اور اس کے مطابق فائیو جی سروسز کا آغاز کرے گی۔ اس کے  ساتھ پی ٹی ایم ایل کے برانڈز یوفون، ’ٹیلی نار اور اونک کے صارفین کے لیے ملک بھر میں سیلولر موبائل براڈ بینڈ سروسز کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان نے این جی ایم ایس اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی سے 510 ملین ڈالر (تقریباً 142 ارب روپے) حاصل کر لیے ہیں۔ اسی دوران، ٹیلی کام ریگولیٹر (پی ٹی اے) نے پوزیشن اسائنمنٹ کی نیلامی کا عمل بھی مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد آپریٹرز کی جانب سے حاصل کردہ اسپیکٹرم بلاکس کی درست جگہ کا تعین کرنا تھا۔</p>
<p>اس عمل میں 2600 میگاہرٹز اور 3500 میگاہرٹز کے بینڈز شامل تھے، جہاں آپریٹرز نے نیٹ ورک کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مختلف نیٹ ورکس کے درمیان مداخلت کو کم سے کم کرنے کے لیے نچلے، درمیانی اور بالائی بلاکس کی پوزیشنوں کے لیے بولیاں دیں۔</p>
<p>تاہم، 700 میگاہرٹز بینڈ کے لیے کسی بھی اسائنمنٹ پراسیس کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ جاز نے نیلامی کے دوران تنہا ہی اسے حاصل کر لیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283832</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 11:21:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/131111584f303b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/131111584f303b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی سی پی نے ان ڈرائیو گروپ کی جانب سے ای کامرس پلیٹ فارم کریو کی خریداری کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283767/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی) نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت جائزے کے بعد سول انوویشنز لمیٹڈ  کی جانب سے  کریو ٹیکنالوجیز کے اکثریتی حصص کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائپرس میں رجسٹرڈ اور عالمی ان ڈرائیو گروپ کا حصہ سول انوویشنز لمیٹڈ نے متعدد شیئر ہولڈرز کے ساتھ  کال آپشن معاہدوں کے تحت یہ حصص حاصل کیے۔ یہ لین دین کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر مکمل کر لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے سی سی پی نے  ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از وقت) انضمام کے فریم ورک کے تحت اس کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول انوویشنز دراصل امریکہ میں رجسٹرڈ عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ان ڈرائیو ہولڈنگ انک کا حصہ ہے، جو رائیڈ ہیلنگ، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ اور کوریئر سروسز فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں یہ گروپ اپنی ذیلی کمپنی  سوبو ٹیک کے ذریعے ان ڈرائیو برانڈ کے نام سے خدمات دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سنگاپور میں رجسٹرڈ  کریو ٹیکنالوجیز پاکستان میں ’کریو مارٹ کے نام سے آن لائن گروسری اور ضروری اشیاء کی ترسیل کا پلیٹ فارم چلاتی ہے، جو فی الحال کراچی میں فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے پہلے مرحلے کے جائزے میں کراچی کے  ای کامرس بی ٹو سی  گروسری ڈیلیوری مارکیٹ پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ خریدار کمپنی بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس میں ہے جبکہ ہدف کمپنی آن لائن گروسری میں، اس لیے یہ دو مختلف شعبوں کا انضمام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد سی سی پی اس نتیجے پر پہنچی کہ اس لین دین سے مارکیٹ میں کسی اجارہ داری یا مقابلے کی فضا میں کمی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کمیشن کی رائے ہے کہ اس شراکت داری سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل کامرس اور ڈیلیوری کے نظام میں سرمایہ کاری اور آپریشنل بہتری آئے گی، جس سے صارفین کو بہتر سہولیات اور لاجسٹکس کی سہولت ملے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقابلہ جاتی کمیشن آف پاکستان(سی سی پی) نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت جائزے کے بعد سول انوویشنز لمیٹڈ  کی جانب سے  کریو ٹیکنالوجیز کے اکثریتی حصص کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>سائپرس میں رجسٹرڈ اور عالمی ان ڈرائیو گروپ کا حصہ سول انوویشنز لمیٹڈ نے متعدد شیئر ہولڈرز کے ساتھ  کال آپشن معاہدوں کے تحت یہ حصص حاصل کیے۔ یہ لین دین کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر مکمل کر لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے سی سی پی نے  ایکس پوسٹ فیکٹو (بعد از وقت) انضمام کے فریم ورک کے تحت اس کا جائزہ لیا۔</p>
<p>سول انوویشنز دراصل امریکہ میں رجسٹرڈ عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ان ڈرائیو ہولڈنگ انک کا حصہ ہے، جو رائیڈ ہیلنگ، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ اور کوریئر سروسز فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں یہ گروپ اپنی ذیلی کمپنی  سوبو ٹیک کے ذریعے ان ڈرائیو برانڈ کے نام سے خدمات دے رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سنگاپور میں رجسٹرڈ  کریو ٹیکنالوجیز پاکستان میں ’کریو مارٹ کے نام سے آن لائن گروسری اور ضروری اشیاء کی ترسیل کا پلیٹ فارم چلاتی ہے، جو فی الحال کراچی میں فعال ہے۔</p>
<p>سی سی پی نے پہلے مرحلے کے جائزے میں کراچی کے  ای کامرس بی ٹو سی  گروسری ڈیلیوری مارکیٹ پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ خریدار کمپنی بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس میں ہے جبکہ ہدف کمپنی آن لائن گروسری میں، اس لیے یہ دو مختلف شعبوں کا انضمام ہے۔</p>
<p>مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد سی سی پی اس نتیجے پر پہنچی کہ اس لین دین سے مارکیٹ میں کسی اجارہ داری یا مقابلے کی فضا میں کمی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کمیشن کی رائے ہے کہ اس شراکت داری سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل کامرس اور ڈیلیوری کے نظام میں سرمایہ کاری اور آپریشنل بہتری آئے گی، جس سے صارفین کو بہتر سہولیات اور لاجسٹکس کی سہولت ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283767</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 17:01:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11163442dcace3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11163442dcace3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے منگل کو طویل عرصے سے زیرِ التوا فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز کردیا جو ملک میں اگلی نسل کی موبائل خدمات کے آغاز اور تیز تر ڈیجیٹل رابطوں کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی کا یہ عمل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیرِ انتظام جاری ہے جس میں بولی لگانے کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 60 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کے ہمراہ مشترکہ طور پر نیلامی کا افتتاح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق بولی کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 60 منٹ ہوگا جس میں تین ٹیلی کام آپریٹرز، جن میں جاز، زونگ اور یوفون شامل ہیں، نیلامی میں حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی میں مختلف فریکوئنسی بینڈز کا اسپیکٹرم شامل ہے جس کا مقصد موبائل براڈ بینڈ کی صلاحیت میں اضافہ اور 5 جی سروسز کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ زیرِ غور اہم بینڈز میں 700 میگا ہرٹز شامل ہے جو دیہی علاقوں میں وسیع کوریج کے لیے استعمال ہوگا، 2.6 گیگا ہرٹز جو 4 جی سروسز کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا جبکہ 3.5 گیگا ہرٹز کو 5 جی نیٹ ورک کی تعیناتی کے لیے بنیادی بینڈ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیلامی سروس کے معیار کو بہتر بنانے، اسپیکٹرم کی کمی کو دور کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں تیزی لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (ایف اے بی) سمیت دیگر اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ الرحمان نے کہا کہ طویل انتظار کے بعد بالآخر یہ دن آگیا ہے۔ انہوں نے ایف اے بی اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اضافی اسپیکٹرم دستیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکٹرم کی کمی طویل عرصے سے پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈیجیٹل رابطے کو ڈیجیٹل ہائی وے اور پاکستان کی معیشت کا انجن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نیلامی کے آغاز کے ساتھ ہی ملک ایک نئے تکنیکی دور میں داخل ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حفیظ الرحمان نے ایک اہم پالیسی اقدام کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے رائٹ آف وے چارجز ختم کردیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیس جو پہلے 36 ہزار روپے فی کلومیٹر تھی، اسے صفر کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی توسیع اور فائبر نیٹ ورک بچھانے کے عمل کو آسان بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے فائیو جی کی نیلامی کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم (سازگار ماحول) تشکیل دے دیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی متعدد شعبوں میں استعمال کے قابل ہو گی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو معاونت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بہتر رابطہ کاری سے آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل خدمات میں اضافہ ہوگا جبکہ وزیرِاعظم ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے کو فعال طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اس دن کو پاکستان کی تکنیکی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک عالمی تکنیکی انقلاب سے پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان 2013-14 میں 3 جی اور 4 جی کے دور میں داخل ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئی نیلامی نہ صرف 5 جی سروسز متعارف کرائے گی بلکہ 4 جی کے معیار میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان فی الحال 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے، جبکہ موجودہ نیلامی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ صارفین 4 سے 5 ماہ کے اندر 4 جی سروسز میں بہتری محسوس کریں گے جبکہ 5 جی سروسز متوقع طور پر 6 ماہ کے اندر بڑے شہروں میں لانچ کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران عامر شہزاد نے شرکاء کو بریف کیا کہ حکومت نے 5 جی نیلامی کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور ایک بین الاقوامی مشیر کو بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مشیر کی رپورٹ کے بعد حکومت نے پالیسی ہدایات جاری کیں اور  پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نیلامی کے لیے انفارمیشن میمورینڈم جاری کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے منگل کو طویل عرصے سے زیرِ التوا فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز کردیا جو ملک میں اگلی نسل کی موبائل خدمات کے آغاز اور تیز تر ڈیجیٹل رابطوں کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔</strong></p>
<p>نیلامی کا یہ عمل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیرِ انتظام جاری ہے جس میں بولی لگانے کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 60 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کے ہمراہ مشترکہ طور پر نیلامی کا افتتاح کیا۔</p>
<p>حکام کے مطابق بولی کے پہلے مرحلے کا دورانیہ 60 منٹ ہوگا جس میں تین ٹیلی کام آپریٹرز، جن میں جاز، زونگ اور یوفون شامل ہیں، نیلامی میں حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>نیلامی میں مختلف فریکوئنسی بینڈز کا اسپیکٹرم شامل ہے جس کا مقصد موبائل براڈ بینڈ کی صلاحیت میں اضافہ اور 5 جی سروسز کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ زیرِ غور اہم بینڈز میں 700 میگا ہرٹز شامل ہے جو دیہی علاقوں میں وسیع کوریج کے لیے استعمال ہوگا، 2.6 گیگا ہرٹز جو 4 جی سروسز کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا جبکہ 3.5 گیگا ہرٹز کو 5 جی نیٹ ورک کی تعیناتی کے لیے بنیادی بینڈ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیلامی سروس کے معیار کو بہتر بنانے، اسپیکٹرم کی کمی کو دور کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی میں تیزی لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور فریکوئنسی ایلوکیشن بورڈ (ایف اے بی) سمیت دیگر اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ الرحمان نے کہا کہ طویل انتظار کے بعد بالآخر یہ دن آگیا ہے۔ انہوں نے ایف اے بی اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اضافی اسپیکٹرم دستیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکٹرم کی کمی طویل عرصے سے پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ڈیجیٹل رابطے کو ڈیجیٹل ہائی وے اور پاکستان کی معیشت کا انجن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نیلامی کے آغاز کے ساتھ ہی ملک ایک نئے تکنیکی دور میں داخل ہو رہا ہے۔</p>
<p>حفیظ الرحمان نے ایک اہم پالیسی اقدام کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے رائٹ آف وے چارجز ختم کردیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیس جو پہلے 36 ہزار روپے فی کلومیٹر تھی، اسے صفر کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی توسیع اور فائبر نیٹ ورک بچھانے کے عمل کو آسان بنایا جاسکے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے فائیو جی کی نیلامی کے لیے ایک مکمل ایکو سسٹم (سازگار ماحول) تشکیل دے دیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی متعدد شعبوں میں استعمال کے قابل ہو گی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو معاونت فراہم کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بہتر رابطہ کاری سے آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل خدمات میں اضافہ ہوگا جبکہ وزیرِاعظم ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے کو فعال طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اس دن کو پاکستان کی تکنیکی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک عالمی تکنیکی انقلاب سے پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان 2013-14 میں 3 جی اور 4 جی کے دور میں داخل ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئی نیلامی نہ صرف 5 جی سروسز متعارف کرائے گی بلکہ 4 جی کے معیار میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔</p>
<p>شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان فی الحال 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے، جبکہ موجودہ نیلامی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ صارفین 4 سے 5 ماہ کے اندر 4 جی سروسز میں بہتری محسوس کریں گے جبکہ 5 جی سروسز متوقع طور پر 6 ماہ کے اندر بڑے شہروں میں لانچ کی جائیں گی۔</p>
<p>تقریب کے دوران عامر شہزاد نے شرکاء کو بریف کیا کہ حکومت نے 5 جی نیلامی کے لیے ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی ہے اور ایک بین الاقوامی مشیر کو بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مشیر کی رپورٹ کے بعد حکومت نے پالیسی ہدایات جاری کیں اور  پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نیلامی کے لیے انفارمیشن میمورینڈم جاری کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283706</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 11:13:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/101055581adac84.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/101055581adac84.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، جولائی تا جنوری 20 فیصد اضافے کے ساتھ 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282967/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں دہرے ہندسوں میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی وصولیاں 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 2.17 ارب ڈالر تھا، جو سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد نمو یا مجموعی طور پر 431 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی وصولیوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ آئی ٹی کمپنیوں، ریموٹ پروفیشنلز اور مختلف عالمی مارکیٹوں میں بین الاقوامی کلائنٹس کو خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز کی غیر ملکی آمدنی میں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی ایکسپورٹر اور ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کا شعبہ ملک کی خدمات کی برآمدات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس (بچت) میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تحت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے پاکستان کو اپنی آئی ٹی خدمات، حل اور مصنوعات کے ذریعے دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو معیاری تربیت فراہم کرنی چاہیے اور انہیں سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں نظاموں میں جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے لیس کرنا چاہیے،ان کے بقول اس اقدام سے نہ صرف مقامی مارکیٹ کے لیے افرادی قوت میسر آئے گی بلکہ اہل پیشہ ور افراد بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اپنی خدمات پیش کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025ء میں آئی ٹی برآمدات 437 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ 348 ملین ڈالر تھیں، جو کہ آئی ٹی سیکٹر کی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ برآمدات ہیں، تاہم جنوری میں برآمدی وصولیاں 374 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں اور فن ٹیک آپریٹرز نے جائٹیکس گلوبل، جائٹیکس یورپ، لیپ (ایل ای اے پی)، سنگاپور فن ٹیک فیسٹیول، منی 20/20 اور امریکہ و برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے روڈ شوز اور کانفرنسوں سمیت عالمی نمائشوں میں بھرپور شرکت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) بھی آئی ٹی کمپنیوں، فن ٹیک آپریٹرز اور ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاشا  کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی وجہ روایتی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں  بالخصوص خلیجی خطے میں پاکستانی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی کمپنیوں کو امریکہ، یورپ اور خلیجی منڈیوں میں مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ اینچرز) اور شراکت داری کے ذریعے بڑے کلائنٹس کو ہدف بنانا چاہیے، تاکہ زیادہ منافع اور سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2025ء میں پاکستان نے سعودی عرب میں نئے مواقع تلاش کیے، جہاں دونوں برادر ممالک کی سہولت کاری اور بہتر دوطرفہ تزویراتی و دفاعی تعلقات کی وجہ سے کئی آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی ذیلی شاخیں اور آف شور دفاتر قائم کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی سیکٹر خدمات کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ دار ہے اور مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ گزشتہ سال آئی ٹی سیکٹر نے 3.8 ارب ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کیں، جو چاول کے شعبے (3.6 ارب ڈالر) سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں دہرے ہندسوں میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران مجموعی وصولیاں 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔</strong></p>
<p>گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 2.17 ارب ڈالر تھا، جو سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد نمو یا مجموعی طور پر 431 ملین ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>برآمدی وصولیوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ آئی ٹی کمپنیوں، ریموٹ پروفیشنلز اور مختلف عالمی مارکیٹوں میں بین الاقوامی کلائنٹس کو خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز کی غیر ملکی آمدنی میں اضافہ ہے۔</p>
<p>آئی ٹی ایکسپورٹر اور ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او ڈاکٹر نعمان سعید کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کا شعبہ ملک کی خدمات کی برآمدات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس (بچت) میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تحت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے پاکستان کو اپنی آئی ٹی خدمات، حل اور مصنوعات کے ذریعے دنیا بھر میں نمایاں مقام حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو معیاری تربیت فراہم کرنی چاہیے اور انہیں سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دونوں نظاموں میں جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے لیس کرنا چاہیے،ان کے بقول اس اقدام سے نہ صرف مقامی مارکیٹ کے لیے افرادی قوت میسر آئے گی بلکہ اہل پیشہ ور افراد بین الاقوامی منڈیوں میں بھی اپنی خدمات پیش کر سکیں گے۔</p>
<p>دسمبر 2025ء میں آئی ٹی برآمدات 437 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ 348 ملین ڈالر تھیں، جو کہ آئی ٹی سیکٹر کی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ برآمدات ہیں، تاہم جنوری میں برآمدی وصولیاں 374 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں اور فن ٹیک آپریٹرز نے جائٹیکس گلوبل، جائٹیکس یورپ، لیپ (ایل ای اے پی)، سنگاپور فن ٹیک فیسٹیول، منی 20/20 اور امریکہ و برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے روڈ شوز اور کانفرنسوں سمیت عالمی نمائشوں میں بھرپور شرکت کی ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) بھی آئی ٹی کمپنیوں، فن ٹیک آپریٹرز اور ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>پاشا  کی اے آئی کمیٹی کی رکن مہوش سلمان علی نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی وجہ روایتی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں  بالخصوص خلیجی خطے میں پاکستانی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی کمپنیوں کو امریکہ، یورپ اور خلیجی منڈیوں میں مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ اینچرز) اور شراکت داری کے ذریعے بڑے کلائنٹس کو ہدف بنانا چاہیے، تاکہ زیادہ منافع اور سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>سال 2025ء میں پاکستان نے سعودی عرب میں نئے مواقع تلاش کیے، جہاں دونوں برادر ممالک کی سہولت کاری اور بہتر دوطرفہ تزویراتی و دفاعی تعلقات کی وجہ سے کئی آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی ذیلی شاخیں اور آف شور دفاتر قائم کیے ہیں۔</p>
<p>آئی ٹی سیکٹر خدمات کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ دار ہے اور مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ گزشتہ سال آئی ٹی سیکٹر نے 3.8 ارب ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کیں، جو چاول کے شعبے (3.6 ارب ڈالر) سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282967</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Feb 2026 20:01:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/1819514086ffaca.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/1819514086ffaca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی محصولات اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282672/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز اسلام آباد میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، ریونیو ایڈمنسٹریشن مضبوط کرنے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت کے لیے تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ کے دوران ”اے آئی فار پبلک سروس ٹرانسفارمیشن اینڈ ایس ڈی جی ایکسلریشن“ کے عنوان سے پینل ڈسکشن میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ ممالک مختلف رفتار سے مصنوعی ذہانت کو اپنا رہے ہیں، جو ان کے اقتصادی ڈھانچے اور ترقی کی ترجیحات کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیروی کے بجائے قابل اطلاق اور عملی حل پر توجہ دی جائے جو کارکردگی، شفافیت اور پیداواری صلاحیت میں قابلِ پیمائش فوائد فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ اے آئی سے چلنے والے نظام پہلے ہی ٹیکس کی تعمیل، نفاذ اور فیصلہ سازی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جاری ٹیکس اصلاحات، جو لوگوں، عمل اور ٹیکنالوجی میں اصلاحات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، اے آئی سے چلنے والے کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ سسٹمز، پروڈکشن مانیٹرنگ ٹولز، رسک بیسڈ کمپلائنس میکانزم اور بے چہرہ کسٹمر پروسیسز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ان اقدامات کا مقصد رساؤ کو کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور محصولات کے نتائج بہتر بنانا ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی انسانی مداخلت کو محدود کرنا نااہلی اور بدعنوانی روکنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ اے آئی پر مبنی نظاموں نے ایسے واضح مالی فوائد دیے ہیں جو صرف دستی عمل سے ممکن نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل اثاثوں پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) کا قیام حکومت کے اس ارادے کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو رسمی معیشت میں شامل کرتے ہوئے ممکنہ خطرات سے نمٹا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمی کو منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لانا مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور یہ مستقبل کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مددگار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انسانی سرمائے اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ پاکستان کے نوجوان عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے اعلیٰ قدر والے شعبوں تک آسان رسائی حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا کہ بلاک چین اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی جدید ٹیکنالوجیز پیداواری صلاحیت بڑھانے اور آمدنی کے مواقع وسیع کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اختتامی کلمات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے محصولات کی وصولی، عوامی خدمات کی فراہمی، اور ماحولیاتی و آبادیاتی انتظام کے شعبوں میں اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان فوائد کے حقیقی ادراک کے لیے واضح پالیسی کی رہنمائی، ادارہ جاتی تیاری اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے حکومت کے تمام محکموں کا مربوط نقطہ نظر ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلیکمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز اسلام آباد میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، ریونیو ایڈمنسٹریشن مضبوط کرنے اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت کے لیے تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ کے دوران ”اے آئی فار پبلک سروس ٹرانسفارمیشن اینڈ ایس ڈی جی ایکسلریشن“ کے عنوان سے پینل ڈسکشن میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ ممالک مختلف رفتار سے مصنوعی ذہانت کو اپنا رہے ہیں، جو ان کے اقتصادی ڈھانچے اور ترقی کی ترجیحات کے مطابق ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیروی کے بجائے قابل اطلاق اور عملی حل پر توجہ دی جائے جو کارکردگی، شفافیت اور پیداواری صلاحیت میں قابلِ پیمائش فوائد فراہم کریں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ اے آئی سے چلنے والے نظام پہلے ہی ٹیکس کی تعمیل، نفاذ اور فیصلہ سازی میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جاری ٹیکس اصلاحات، جو لوگوں، عمل اور ٹیکنالوجی میں اصلاحات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، اے آئی سے چلنے والے کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ سسٹمز، پروڈکشن مانیٹرنگ ٹولز، رسک بیسڈ کمپلائنس میکانزم اور بے چہرہ کسٹمر پروسیسز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ان اقدامات کا مقصد رساؤ کو کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور محصولات کے نتائج بہتر بنانا ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی انسانی مداخلت کو محدود کرنا نااہلی اور بدعنوانی روکنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ اے آئی پر مبنی نظاموں نے ایسے واضح مالی فوائد دیے ہیں جو صرف دستی عمل سے ممکن نہیں تھے۔</p>
<p>ڈیجیٹل اثاثوں پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) کا قیام حکومت کے اس ارادے کی عکاسی کرتا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو رسمی معیشت میں شامل کرتے ہوئے ممکنہ خطرات سے نمٹا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمی کو منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لانا مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور یہ مستقبل کی اقتصادی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مددگار ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے انسانی سرمائے اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ پاکستان کے نوجوان عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے اعلیٰ قدر والے شعبوں تک آسان رسائی حاصل کر سکیں۔</p>
<p>مزید کہا کہ بلاک چین اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی جدید ٹیکنالوجیز پیداواری صلاحیت بڑھانے اور آمدنی کے مواقع وسیع کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اپنے اختتامی کلمات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے محصولات کی وصولی، عوامی خدمات کی فراہمی، اور ماحولیاتی و آبادیاتی انتظام کے شعبوں میں اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان فوائد کے حقیقی ادراک کے لیے واضح پالیسی کی رہنمائی، ادارہ جاتی تیاری اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے حکومت کے تمام محکموں کا مربوط نقطہ نظر ضروری ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلیکمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال بھی شریک تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282672</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Feb 2026 20:40:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/10202101ae5c286.webp" type="image/webp" medium="image" height="848" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/10202101ae5c286.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب اپنے تکنیکی انقلاب کی قیادت کیلئے پاکستانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا خواہشمند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب اور سعودی عرب کے وزیر برائے اقتصادیات و منصوبہ بندی فیصل بن فضیل الابراہیم نے اتوار کو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹیلنٹ کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی وزیر فیصل بن فضیل الابراہیم کے درمیان سعودی عرب میں ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی معیشتوں کے لیے العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے بعد ازاں امور پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزیر نے پاکستان کی تیار کردہ اعلیٰ معیار کی مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ٹیلنٹ پر روشنی ڈالی اور نوٹ کیا کہ یہ عالمی سطح پر اپنی نوعیت کے لحاظ سے سب سے بہترین ٹیلنٹ میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مملکت میں جاری تکنیکی انقلاب کی قیادت اور حمایت کے لیے پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں، انہوں نے امریکی کاروباری شخصیت اور گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے اسی طرح پاکستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کی صلاحیت اور مضبوطی کو تسلیم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان اہم بین الاقوامی مارکیٹوں، بشمول سعودی عرب، کے لیے معیاری انسانی وسائل کا منظم نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ دونوں جانب اقتصادی فوائد پیدا کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزیر نے جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کے ساتھ تجارت اور تبادلے بڑھانے کو ترجیح دینے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی ٹیمیں فعال طور پر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وعدوں کو حتمی شکل دینے کے عمل کی قیادت کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرخزانہ نے سعودی حکومت کی جانب سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی معیشتوں کے لیے ایک بہترین اور اسٹریٹجک طور پر اہم کانفرنس کے انعقاد کو بھی سراہا اور سعودی عرب کی مسلسل پاکستان کی معیشت کے لیے وابستگی پر فیصل بن فاضل الابراہیم کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء ورلڈ بینک گروپ کی مینیجنگ ڈائریکٹر مس آنا بیئرڈے نے پاکستان کے لیے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی اور پاکستان کے اصلاحی اور ترقیاتی ایجنڈے کے لیے مالی ادارے کی مسلسل حمایت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے یہ بات اتوار کو وفاقی وزیر محمد اورنگزیب سے سعودی عرب میں منعقدہ سالانہ العلا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی منڈیوں کی معیشتیں کے دوران ملاقات میں کہی، جس کا ذکر مالیاتی ڈویژن نے پریس ریلیز میں کیا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور ترقیاتی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا کے گزشتہ ہفتے پاکستان کے دورے کے تناظر میں، بیئرڈے نے پروگرام کے ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے مسلسل مصروفیت اور موثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے ملک کے شراکت داری کے فریم ورک کے تحت حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آگے کے اقدامات پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب اور سعودی عرب کے وزیر برائے اقتصادیات و منصوبہ بندی فیصل بن فضیل الابراہیم نے اتوار کو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی ٹیلنٹ کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سعودی وزیر فیصل بن فضیل الابراہیم کے درمیان سعودی عرب میں ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی معیشتوں کے لیے العلا کانفرنس 2026 کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی ہے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے بعد ازاں امور پر بات چیت کی۔</p>
<p>سعودی وزیر نے پاکستان کی تیار کردہ اعلیٰ معیار کی مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ٹیلنٹ پر روشنی ڈالی اور نوٹ کیا کہ یہ عالمی سطح پر اپنی نوعیت کے لحاظ سے سب سے بہترین ٹیلنٹ میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مملکت میں جاری تکنیکی انقلاب کی قیادت اور حمایت کے لیے پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>اسی تناظر میں، انہوں نے امریکی کاروباری شخصیت اور گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے اسی طرح پاکستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کی صلاحیت اور مضبوطی کو تسلیم کیا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان اہم بین الاقوامی مارکیٹوں، بشمول سعودی عرب، کے لیے معیاری انسانی وسائل کا منظم نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ دونوں جانب اقتصادی فوائد پیدا کیے جا سکیں۔</p>
<p>سعودی وزیر نے جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کے ساتھ تجارت اور تبادلے بڑھانے کو ترجیح دینے پر زور دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی ٹیمیں فعال طور پر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وعدوں کو حتمی شکل دینے کے عمل کی قیادت کر رہی ہیں۔</p>
<p>وزیرخزانہ نے سعودی حکومت کی جانب سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی معیشتوں کے لیے ایک بہترین اور اسٹریٹجک طور پر اہم کانفرنس کے انعقاد کو بھی سراہا اور سعودی عرب کی مسلسل پاکستان کی معیشت کے لیے وابستگی پر فیصل بن فاضل الابراہیم کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>دریں اثناء ورلڈ بینک گروپ کی مینیجنگ ڈائریکٹر مس آنا بیئرڈے نے پاکستان کے لیے 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی اور پاکستان کے اصلاحی اور ترقیاتی ایجنڈے کے لیے مالی ادارے کی مسلسل حمایت پر زور دیا۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے یہ بات اتوار کو وفاقی وزیر محمد اورنگزیب سے سعودی عرب میں منعقدہ سالانہ العلا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی منڈیوں کی معیشتیں کے دوران ملاقات میں کہی، جس کا ذکر مالیاتی ڈویژن نے پریس ریلیز میں کیا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور ترقیاتی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔</p>
<p>ملاقات میں، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا کے گزشتہ ہفتے پاکستان کے دورے کے تناظر میں، بیئرڈے نے پروگرام کے ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے مسلسل مصروفیت اور موثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے ملک کے شراکت داری کے فریم ورک کے تحت حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیا اور ترقیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آگے کے اقدامات پر بات چیت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282584</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 10:00:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09100217c00b09c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09100217c00b09c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>علاقائی زبانوں کے وائس ماڈلز کی تیاری، اپ لِفٹ اے آئی نے 3.5 ملین ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282186/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی وائس اے آئی اسٹارٹ اپ اپ لِفٹ اے آئی نے 3.5 ملین امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرلی ہے، جس کی قیادت وائی کومبینٹر نے کی، جو ایئر بی این بی، ڈراپ باکس اور گٹ لیب کے پیچھے ایک معروف ایکسیلیریٹر ہے، اور اس کے ساتھ  انڈس ویلی کیپٹل، پاکستان کی معروف ابتدائی مرحلے کی وینچر فنڈ بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق اس فنڈنگ راؤنڈ میں پایونیئر فنڈ، کنجکشن، مومنٹ وینچرز اور سلیکون ویلی کے اینجل سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسٹارٹ اپ زید قریشی اور حماد ملک نے قائم کیا، جو ایپل اور ایمیزون کے سابق انجینئر ہیں، اور یہ علاقائی زبانوں جیسے اردو، پنجابی اور بلوچی کے لیے وائس اے آئی ماڈلز تیار کرتا ہے، تاکہ لوگ صرف اپنی مقامی زبان میں بول کر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹارٹ اپ کا فلیگ شپ ماڈل اوریٹر ہے، جو اردو میں انسان جیسی حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ اسٹارٹ اپ ڈیولپرز اور چھوٹے کاروباروں میں مقبول ہو رہا ہے، اور 1,000 سے زائد ڈیولپرز اس کے اے پی آئی کے ساتھ کام کر رہے ہیں — طلبہ ایف آئی آر رجسٹریشن بوٹس بنانے سے لے کر دیہی کلینکس کے لیے ہیلتھ انٹیک سسٹمز تیار کرنے والے کاروباری افراد تک اس میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹارٹ اپ کا ماننا ہے کہ وائس-فرسٹ ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، جہاں 42 فیصد بالغ افراد پڑھ نہیں سکتے، جو ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او اپ لِفٹ اے آئی حماد ملک نے کہا کہ وائس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اپنے پورے جی ڈی پی کو بلند کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ ہر شخص کو علم اور مواقع تک رسائی دے گی۔ ہم نے اپ لِفٹ اے آئی قائم کیا تاکہ یہ ابھی ممکن ہو، مستقبل کا انتظار نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس ویلی کیپٹل کے پارٹنر عاطف اعوان نے اسٹارٹ اپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وائس بنیادی دروازہ ہے ڈیجیٹل معیشت تک پہنچنے کا، خاص طور پر ابھرتی  ہوئی مارکیٹوں میں۔ ایپل اور ایمیزون کے سابق انجینئرز کی ٹیم نے اپ لِفٹ اے آئی بنایا ہے، جو وائس اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کر رہا ہے تاکہ یہ بڑا موقع کھل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صنعتوں کے لیے جو عام عوام کو خدمات فراہم کرتی ہیں — بینکنگ، ہیلتھ کیئر، زراعت، حکومت — وائس-فرسٹ ٹیکنالوجی وہ مارکیٹ کھولے گی جو ٹیکسٹ پر مبنی حل فراہم نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگینٹا پاکستان کے ہیڈ آف اے آئی ٹرانسفورمیشن سلطان راجہ نے کہا کہ پاکستان میں زراعت میں محنت کی کمی نہیں، بلکہ قابل رسائی معلومات کی کمی ہے۔ اپ لِفٹ اے آئی کی وائس ٹیکنالوجی نے ہمیں یہ معلومات کسانوں تک ان کی زبان میں بڑے پیمانے پر پہنچانے کی سہولت دی ہے، جس سے وہ اے آئی اپنا کر پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی او اپ لِفٹ اے آئی زید قریشی نے کہا کہ اسٹارٹ اپ نے سب کچھ ان ہاؤس بنایا، ڈیٹا جمع کرنے، لیبلنگ اور ٹریننگ تک، کیونکہ آف دی شیلف حل ہمیشہ علاقائی زبانوں میں کمی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا طریقہ کار کامیاب ہو رہا ہے — صارفین ہمیں ای میلز بھیج رہے ہیں کہ ہمارے ماڈل کی کوالٹی اوپن اے آئی اور گوگل کے مقابلے میں بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فنڈنگ کے ذریعے اپ لِفٹ اے آئی کا مقصد ہے کہ پاکستان کی ہر زبان کے لیے وائس-فرسٹ ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی خود کو عالمی کھلاڑی سمجھتی ہے، جو چھوٹی علاقائی زبانوں کے لیے وائس ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے، عاطف اعوان نے کہا کہ قلیل اور درمیانے مدتی میں پاکستان ہی ہمارا مرکزی فوکس رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 1 ملین ڈالر ڈیٹا جمع کرنے اور لیبلنگ پر استعمال کیے جائیں گے، جس سے پاکستان میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ باقی رقم آر اینڈ ڈی کے لیے استعمال ہوگی تاکہ پانچ بڑی پاکستانی زبانوں کے لیے جدید ترین اسپیچ انڈرسٹینڈنگ اور اسپیچ جنریشن ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اعوان نے بتایا کہ اپ لِفٹ اے آئی ابھی تک حکومتی محکموں کے ساتھ کام نہیں کر رہا، لیکن اس کا پلیٹ فارم اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1,000 سے زائد ڈیولپرز پہلے ہی ہمارے  اے پی آئی استعمال کر رہے ہیں۔ کوئی بھی اسٹارٹ اپ یا چھوٹا کاروبار ابھی سائن اپ کر کے اے پی آئی استعمال کرنا شروع کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی وائس اے آئی اسٹارٹ اپ اپ لِفٹ اے آئی نے 3.5 ملین امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرلی ہے، جس کی قیادت وائی کومبینٹر نے کی، جو ایئر بی این بی، ڈراپ باکس اور گٹ لیب کے پیچھے ایک معروف ایکسیلیریٹر ہے، اور اس کے ساتھ  انڈس ویلی کیپٹل، پاکستان کی معروف ابتدائی مرحلے کی وینچر فنڈ بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان کے مطابق اس فنڈنگ راؤنڈ میں پایونیئر فنڈ، کنجکشن، مومنٹ وینچرز اور سلیکون ویلی کے اینجل سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا۔</p>
<p>یہ اسٹارٹ اپ زید قریشی اور حماد ملک نے قائم کیا، جو ایپل اور ایمیزون کے سابق انجینئر ہیں، اور یہ علاقائی زبانوں جیسے اردو، پنجابی اور بلوچی کے لیے وائس اے آئی ماڈلز تیار کرتا ہے، تاکہ لوگ صرف اپنی مقامی زبان میں بول کر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں۔</p>
<p>اس اسٹارٹ اپ کا فلیگ شپ ماڈل اوریٹر ہے، جو اردو میں انسان جیسی حقیقت پسندی کے ساتھ بات کرتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ اسٹارٹ اپ ڈیولپرز اور چھوٹے کاروباروں میں مقبول ہو رہا ہے، اور 1,000 سے زائد ڈیولپرز اس کے اے پی آئی کے ساتھ کام کر رہے ہیں — طلبہ ایف آئی آر رجسٹریشن بوٹس بنانے سے لے کر دیہی کلینکس کے لیے ہیلتھ انٹیک سسٹمز تیار کرنے والے کاروباری افراد تک اس میں شامل ہیں۔</p>
<p>اس اسٹارٹ اپ کا ماننا ہے کہ وائس-فرسٹ ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، جہاں 42 فیصد بالغ افراد پڑھ نہیں سکتے، جو ملک کی معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے۔</p>
<p>سی ای او اپ لِفٹ اے آئی حماد ملک نے کہا کہ وائس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اپنے پورے جی ڈی پی کو بلند کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ ہر شخص کو علم اور مواقع تک رسائی دے گی۔ ہم نے اپ لِفٹ اے آئی قائم کیا تاکہ یہ ابھی ممکن ہو، مستقبل کا انتظار نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>انڈس ویلی کیپٹل کے پارٹنر عاطف اعوان نے اسٹارٹ اپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وائس بنیادی دروازہ ہے ڈیجیٹل معیشت تک پہنچنے کا، خاص طور پر ابھرتی  ہوئی مارکیٹوں میں۔ ایپل اور ایمیزون کے سابق انجینئرز کی ٹیم نے اپ لِفٹ اے آئی بنایا ہے، جو وائس اے آئی انفراسٹرکچر فراہم کر رہا ہے تاکہ یہ بڑا موقع کھل سکے۔</p>
<p>ایسی صنعتوں کے لیے جو عام عوام کو خدمات فراہم کرتی ہیں — بینکنگ، ہیلتھ کیئر، زراعت، حکومت — وائس-فرسٹ ٹیکنالوجی وہ مارکیٹ کھولے گی جو ٹیکسٹ پر مبنی حل فراہم نہیں کر سکتے۔</p>
<p>سنگینٹا پاکستان کے ہیڈ آف اے آئی ٹرانسفورمیشن سلطان راجہ نے کہا کہ پاکستان میں زراعت میں محنت کی کمی نہیں، بلکہ قابل رسائی معلومات کی کمی ہے۔ اپ لِفٹ اے آئی کی وائس ٹیکنالوجی نے ہمیں یہ معلومات کسانوں تک ان کی زبان میں بڑے پیمانے پر پہنچانے کی سہولت دی ہے، جس سے وہ اے آئی اپنا کر پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>سی ٹی او اپ لِفٹ اے آئی زید قریشی نے کہا کہ اسٹارٹ اپ نے سب کچھ ان ہاؤس بنایا، ڈیٹا جمع کرنے، لیبلنگ اور ٹریننگ تک، کیونکہ آف دی شیلف حل ہمیشہ علاقائی زبانوں میں کمی رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا طریقہ کار کامیاب ہو رہا ہے — صارفین ہمیں ای میلز بھیج رہے ہیں کہ ہمارے ماڈل کی کوالٹی اوپن اے آئی اور گوگل کے مقابلے میں بہتر ہے۔</p>
<p>اس فنڈنگ کے ذریعے اپ لِفٹ اے آئی کا مقصد ہے کہ پاکستان کی ہر زبان کے لیے وائس-فرسٹ ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔</p>
<p>اگرچہ کمپنی خود کو عالمی کھلاڑی سمجھتی ہے، جو چھوٹی علاقائی زبانوں کے لیے وائس ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے، عاطف اعوان نے کہا کہ قلیل اور درمیانے مدتی میں پاکستان ہی ہمارا مرکزی فوکس رہے گا۔</p>
<p>تقریباً 1 ملین ڈالر ڈیٹا جمع کرنے اور لیبلنگ پر استعمال کیے جائیں گے، جس سے پاکستان میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ باقی رقم آر اینڈ ڈی کے لیے استعمال ہوگی تاکہ پانچ بڑی پاکستانی زبانوں کے لیے جدید ترین اسپیچ انڈرسٹینڈنگ اور اسپیچ جنریشن ماڈلز تیار کیے جا سکیں۔</p>
<p>عاطف اعوان نے بتایا کہ اپ لِفٹ اے آئی ابھی تک حکومتی محکموں کے ساتھ کام نہیں کر رہا، لیکن اس کا پلیٹ فارم اسٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب ہے۔</p>
<p>1,000 سے زائد ڈیولپرز پہلے ہی ہمارے  اے پی آئی استعمال کر رہے ہیں۔ کوئی بھی اسٹارٹ اپ یا چھوٹا کاروبار ابھی سائن اپ کر کے اے پی آئی استعمال کرنا شروع کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282186</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 11:53:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2911480809de7c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2911480809de7c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کی ذیلی کمپنی میں معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281616/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتِ پاکستان اور امریکہ کی  ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایل ایف) کی ملحقہ کمپنی ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نے  مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید ترین ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اور سرحد پار مالیاتی اختراعات میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کا مرکزی کرپٹو بزنس ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب کی نگرانی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ سرکاری بیان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے کے حوالے سے تکنیکی فہم اور منظم بات چیت کو ممکن بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او زیکری وٹکوف نے اپنے اپنے فریقین کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ پیش رفت ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے وژن کا ذکر کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے رابطے، رسائی اور شفافیت کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی اختراعات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کا لازمی حصہ ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران زیکری وٹکوف نے پاکستان کے ساتھ  محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے بشمول سرحد پار تصفیے اور زرمبادلہ کے عمل میں جدت لانے کے لیے کام کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو ملک کو عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظر نامے میں ایک اہم مقام دلانے میں مدد دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل کی وجہ سے ٹرمپ خاندان کے کاروبار (ٹرمپ آرگنائزیشن) کی آمدنی میں گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ مئی میں ابوظہبی کی سرکاری سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس نے اسی کمپنی کے اسٹیبل کوائن کو استعمال کرتے ہوئے بائنانس میں 2 ارب ڈالر کے حصص خریدے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت ڈیجیٹل کرنسی کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے ،تاکہ نقد رقم (کیش) کے استعمال کو کم  اور ترسیلاتِ زر جیسے سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے گورنر نے جولائی میں بتایا تھا کہ بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پراجیکٹ کے لیے تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتِ پاکستان اور امریکہ کی  ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایل ایف) کی ملحقہ کمپنی ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نے  مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید ترین ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اور سرحد پار مالیاتی اختراعات میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کا مرکزی کرپٹو بزنس ہے۔</strong></p>
<p>اس تقریب کی نگرانی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ سرکاری بیان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے کے حوالے سے تکنیکی فہم اور منظم بات چیت کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او زیکری وٹکوف نے اپنے اپنے فریقین کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ پیش رفت ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی شرکت کی۔</p>
<p>وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے وژن کا ذکر کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے رابطے، رسائی اور شفافیت کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی اختراعات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کا لازمی حصہ ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بن رہا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران زیکری وٹکوف نے پاکستان کے ساتھ  محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے بشمول سرحد پار تصفیے اور زرمبادلہ کے عمل میں جدت لانے کے لیے کام کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو ملک کو عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظر نامے میں ایک اہم مقام دلانے میں مدد دے رہا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل کی وجہ سے ٹرمپ خاندان کے کاروبار (ٹرمپ آرگنائزیشن) کی آمدنی میں گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ مئی میں ابوظہبی کی سرکاری سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس نے اسی کمپنی کے اسٹیبل کوائن کو استعمال کرتے ہوئے بائنانس میں 2 ارب ڈالر کے حصص خریدے تھے۔</p>
<p>پاکستان اس وقت ڈیجیٹل کرنسی کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے ،تاکہ نقد رقم (کیش) کے استعمال کو کم  اور ترسیلاتِ زر جیسے سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے گورنر نے جولائی میں بتایا تھا کہ بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پراجیکٹ کے لیے تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281616</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Jan 2026 16:16:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/141454003a797ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="668" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/141454003a797ab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/Fox8ofwOzXc/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/Fox8ofwOzXc/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=Fox8ofwOzXc"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اور ویزا کا کارڈ پر مبنی ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اشتراک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281583/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کمپنی ویزا اور ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے پاکستان اور بین الاقوامی منڈیوں میں کارڈ پر مبنی ڈیجیٹل لین دین کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کر لی ہے، جس کا اعلان منگل کو کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت دونوں فریق ویزا برانڈڈ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے اجرا اور استعمال میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کریں گے، جبکہ فزیکل اور ڈیجیٹل مرچنٹ چینلز میں محفوظ اور ہموار لین دین کو ممکن بنانے پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شراکت داری کے تحت ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک پریمیم ڈیبٹ کارڈز، کریڈٹ کارڈز اور سرحد پار ادائیگیوں سے متعلق اقدامات متعارف کرا کر کارڈ ہولڈرز کے تجربے کو بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اشتراک کا مقصد پوائنٹ آف سیل (پی او ایس)، ای کامرس اور اے ٹی ایم چینلز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین میں کارڈز کے استعمال کو فروغ دینا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں کارڈز کی وسیع تر قبولیت اور استعمال کی حمایت کے لیے مارکیٹنگ، صارفین کو فعال بنانے، تاجروں کی سہولت کاری، تربیت اور ٹیکنالوجی میں بہتری سے متعلق مشترکہ اقدامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان نے کہا کہ یہ شراکت داری بینک کو ویزا کے عالمی ادائیگی نیٹ ورک، جدید ٹرانزیکشن پروسیسنگ صلاحیتوں اور سیکیورٹی معیارات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرے گی، جس کے ذریعے ہموار ادائیگیوں کا تجربہ فراہم کیا جا سکے گا اور ملک بھر میں مرچنٹ ایکسیپٹنس کو وسعت دی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا کے پاکستان اور افغانستان کے لیے کنٹری مینیجر عمر ایس خان نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی میں تیزی آ رہی ہے، اور ایزی پیسہ کا وسیع نیٹ ورک—جو تقریباً ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی کو خدمات فراہم کر رہا ہے—ڈیجیٹل ادائیگی حل کے وسیع تر فروغ کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعاون کے ذریعے دونوں اداروں نے پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو مضبوط بنانے، مالی شمولیت کے فروغ اور ایک محفوظ اور کم نقد معیشت کی تشکیل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اس وقت تقریباً ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جن میں خواتین صارفین کا تناسب 31 فیصد ہے۔ پلیٹ فارم نے 2025 کے دوران 4.5 ارب سے زائد لین دین پراسیس کیے، جن کی مجموعی مالیت 15 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 13 فیصد کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایزی پیسہ پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل بینک ہے، جسے ٹیلینور گروپ اور اینٹ گروپ کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کمپنی ویزا اور ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک نے پاکستان اور بین الاقوامی منڈیوں میں کارڈ پر مبنی ڈیجیٹل لین دین کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کر لی ہے، جس کا اعلان منگل کو کیا گیا۔</strong></p>
<p>معاہدے کے تحت دونوں فریق ویزا برانڈڈ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے اجرا اور استعمال میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کریں گے، جبکہ فزیکل اور ڈیجیٹل مرچنٹ چینلز میں محفوظ اور ہموار لین دین کو ممکن بنانے پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>شراکت داری کے تحت ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک پریمیم ڈیبٹ کارڈز، کریڈٹ کارڈز اور سرحد پار ادائیگیوں سے متعلق اقدامات متعارف کرا کر کارڈ ہولڈرز کے تجربے کو بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>اس اشتراک کا مقصد پوائنٹ آف سیل (پی او ایس)، ای کامرس اور اے ٹی ایم چینلز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین میں کارڈز کے استعمال کو فروغ دینا بھی ہے۔</p>
<p>معاہدے میں کارڈز کی وسیع تر قبولیت اور استعمال کی حمایت کے لیے مارکیٹنگ، صارفین کو فعال بنانے، تاجروں کی سہولت کاری، تربیت اور ٹیکنالوجی میں بہتری سے متعلق مشترکہ اقدامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانزیب خان نے کہا کہ یہ شراکت داری بینک کو ویزا کے عالمی ادائیگی نیٹ ورک، جدید ٹرانزیکشن پروسیسنگ صلاحیتوں اور سیکیورٹی معیارات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرے گی، جس کے ذریعے ہموار ادائیگیوں کا تجربہ فراہم کیا جا سکے گا اور ملک بھر میں مرچنٹ ایکسیپٹنس کو وسعت دی جا سکے گی۔</p>
<p>ویزا کے پاکستان اور افغانستان کے لیے کنٹری مینیجر عمر ایس خان نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی میں تیزی آ رہی ہے، اور ایزی پیسہ کا وسیع نیٹ ورک—جو تقریباً ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی کو خدمات فراہم کر رہا ہے—ڈیجیٹل ادائیگی حل کے وسیع تر فروغ کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>اس تعاون کے ذریعے دونوں اداروں نے پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگی نظام کو مضبوط بنانے، مالی شمولیت کے فروغ اور ایک محفوظ اور کم نقد معیشت کی تشکیل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔</p>
<p>ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک اس وقت تقریباً ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جن میں خواتین صارفین کا تناسب 31 فیصد ہے۔ پلیٹ فارم نے 2025 کے دوران 4.5 ارب سے زائد لین دین پراسیس کیے، جن کی مجموعی مالیت 15 کھرب روپے سے تجاوز کر گئی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 13 فیصد کے برابر ہے۔</p>
<p>ایزی پیسہ پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل بینک ہے، جسے ٹیلینور گروپ اور اینٹ گروپ کی حمایت حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281583</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 21:46:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/13214034ee24f8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/13214034ee24f8e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025: پاکستان کے خلائی اہداف کیلئے نمایاں کامیابی کا سال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281349/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سال 2025 پاکستان کے سائنسی اور ٹیکنالوجیکل سفر میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ ملک نے خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں فیصلہ کن پیش رفت کی۔ متعدد جدید سیٹلائٹس کے کامیاب اجرا سے لے کر ایک خلانورد اور چاند گاڑی پروگرام کے اعلان تک، پاکستان کا خلائی شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جس میں بلند اہداف اور عالمی اہمیت کا تاثر موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے ڈائریکٹر شفاعت علی کے مطابق، 2025 نے مستقبل میں مزید بلند اہداف کے لیے بنیاد رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اسپیس اسٹیشن پر 2026 میں پاکستان کے پہلے خلانورد کو بھیجنے اور 2028 تک چاند پر پاکستانی گاڑی اتارنے کے منصوبے کے ساتھ، ملک کی نظریں اب زمین کے مدار سے آگے مرکوز ہیں ، جس کی پشت پناہی پاکستانی اور چینی حکومتوں کے درمیان قریبی تعاون سے کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تین سیٹلائٹس، ایک سال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کا ایک اہم لمحہ تین بڑے پاکستانی سیٹلائٹس کا اجرا تھا، جس کے بعد پاکستان کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد سات تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں پاکستان نے اپنا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ پی آر ایس سی-ای او ون چین سے لانچ کیا۔ سپارکو کے زیر اہتمام تیار کیا گیا یہ سیٹلائٹ پاکستان کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ قدرتی وسائل کی نگرانی، قدرتی آفات کے مؤثر ردعمل، شہری منصوبہ بندی اور زرعی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹس زمین کی تفصیلی تصاویر حاصل کرتے ہیں جو روشنی کے انعکاس یا خارج ہونے والی شعاعوں کا پتہ لگاتے ہیں، اور یہ جدید زمین کے مشاہدے کے نظاموں کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لانچ ایسے وقت میں ہوا جب عالمی زمین مشاہدے والے سیٹلائٹ مارکیٹ کی مالیت تقریباً 5 ارب ڈالر ہے اور یہ خلائی صنعت کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں سے ایک ہے۔ نوواسپیس کی پیش گوئی کے مطابق، یہ مارکیٹ 2033 تک 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کی وجہ ماحولیاتی نگرانی، شہری نقشہ سازی اور درستگی کے ساتھ زراعت کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ اہم خلائی ممالک جیسے امریکہ، چین اور بھارت اپنے سیٹلائٹ کنسٹلیشنز میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ بھارتی اسٹارٹ اپ پِکسل نے بھی اس دوڑ میں شمولیت اختیار کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں سپارکو نے ایک اور جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین کے لانچ سینٹر سے جاری کیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ سیٹلائٹ اعلیٰ معیار کی مستقل نگرانی فراہم کرتا ہے، اور شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی، آفات کے انتظام، زرعی نگرانی، خوراک کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کی کٹائی کی نگرانی، موسمیاتی تبدیلی کا تجزیہ، اور پانی کے وسائل کے انتظام میں پاکستان کی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (سی ای ٹی سی) اور مائیکرو سیٹ چین کے تعاون سے لانچ کیا گیا یہ سیٹلائٹ ایک مربوط زمینی مشاہدے کے نظام کی بنیاد کے طور پر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکام نے نوٹ کیا کہ یہ ملک میں پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کو سہارا دینے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ  ایچ ایس-ون لانچ کیا گیا&lt;br&gt;یہ قومی خلائی پروگرام کے لیے ایک بڑا تکنیکی قدم ہے۔ جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ایچ ایس-ون سینکڑوں تنگ اسپیکٹرل بینڈز میں ڈیٹا حاصل کرنے کے قابل ہے، جو زمین کے استعمال، پودوں کی صحت، پانی کے وسائل، اور شہری ترقی کا انتہائی درست تجزیہ ممکن بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیٹلائٹ درستگی پر مبنی زراعت، ماحولیاتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی، اور آفات کے انتظام میں قومی صلاحیت کو مضبوط کرے گا۔ اعلیٰ معیار کا ڈیٹا پاکستان کی موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے کی صلاحیت بڑھائے گا اور سی پیک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں جغرافیائی خطرات کی نشاندہی کرکے زیادہ پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی ممکن بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلانورد اور چاند گاڑی پروگرامز&lt;br&gt;سیٹلائٹس کے اجرا کے علاوہ، 2025 میں پاکستان کا خلانورد پروگرام بھی باضابطہ طور پر شروع کیا گیا — ایک اور سنگ میل کامیابی۔ پاکستان کا پہلا خلانورد 2026 میں چینی اسپیس اسٹیشن جائے گا، جس سے ملک کی انسانی خلائی تحقیق میں شمولیت کا آغاز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان نے اپنا روور پروگرام بھی شروع کیا، جس سے چاند پر موجودگی کے ارادے کا عندیہ ملا۔ پاکستانی تیار کردہ روور 2028 میں چاند پر اُتارے جانے کی توقع ہے، جس میں چین کی تکنیکی مدد حاصل ہوگی۔ یہ اقدام پاکستان کو ان چند ممالک میں شامل کرتا ہے جو فعال طور پر چاند پر تحقیق میں حصہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج اور تعاون&lt;br&gt;یہ کامیابیاں پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی تعاون کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سپارکو کے اس عزم کی تصدیق کرتی ہیں کہ خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی، موسمیاتی استقامت، اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2025 کے اختتام پر، پاکستان کا خلائی شعبہ بدل چکا ہے — اب یہ محض محدود مشنز تک محدود نہیں، بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، اور زمین کی نگرانی سے لے کر انسانی خلا اور چاند پر تحقیق تک واضح وژن کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سال 2025 پاکستان کے سائنسی اور ٹیکنالوجیکل سفر میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، کیونکہ ملک نے خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں فیصلہ کن پیش رفت کی۔ متعدد جدید سیٹلائٹس کے کامیاب اجرا سے لے کر ایک خلانورد اور چاند گاڑی پروگرام کے اعلان تک، پاکستان کا خلائی شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جس میں بلند اہداف اور عالمی اہمیت کا تاثر موجود ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے ڈائریکٹر شفاعت علی کے مطابق، 2025 نے مستقبل میں مزید بلند اہداف کے لیے بنیاد رکھی۔</p>
<p>چینی اسپیس اسٹیشن پر 2026 میں پاکستان کے پہلے خلانورد کو بھیجنے اور 2028 تک چاند پر پاکستانی گاڑی اتارنے کے منصوبے کے ساتھ، ملک کی نظریں اب زمین کے مدار سے آگے مرکوز ہیں ، جس کی پشت پناہی پاکستانی اور چینی حکومتوں کے درمیان قریبی تعاون سے کی جا رہی ہے۔</p>
<p><strong>تین سیٹلائٹس، ایک سال</strong></p>
<p>2025 کا ایک اہم لمحہ تین بڑے پاکستانی سیٹلائٹس کا اجرا تھا، جس کے بعد پاکستان کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد سات تک پہنچ گئی۔</p>
<p>جنوری میں پاکستان نے اپنا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ پی آر ایس سی-ای او ون چین سے لانچ کیا۔ سپارکو کے زیر اہتمام تیار کیا گیا یہ سیٹلائٹ پاکستان کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ قدرتی وسائل کی نگرانی، قدرتی آفات کے مؤثر ردعمل، شہری منصوبہ بندی اور زرعی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹس زمین کی تفصیلی تصاویر حاصل کرتے ہیں جو روشنی کے انعکاس یا خارج ہونے والی شعاعوں کا پتہ لگاتے ہیں، اور یہ جدید زمین کے مشاہدے کے نظاموں کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>یہ لانچ ایسے وقت میں ہوا جب عالمی زمین مشاہدے والے سیٹلائٹ مارکیٹ کی مالیت تقریباً 5 ارب ڈالر ہے اور یہ خلائی صنعت کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں سے ایک ہے۔ نوواسپیس کی پیش گوئی کے مطابق، یہ مارکیٹ 2033 تک 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کی وجہ ماحولیاتی نگرانی، شہری نقشہ سازی اور درستگی کے ساتھ زراعت کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ اہم خلائی ممالک جیسے امریکہ، چین اور بھارت اپنے سیٹلائٹ کنسٹلیشنز میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ بھارتی اسٹارٹ اپ پِکسل نے بھی اس دوڑ میں شمولیت اختیار کی ہے۔</p>
<p>جولائی میں سپارکو نے ایک اور جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین کے لانچ سینٹر سے جاری کیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ سیٹلائٹ اعلیٰ معیار کی مستقل نگرانی فراہم کرتا ہے، اور شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی ترقی، آفات کے انتظام، زرعی نگرانی، خوراک کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کی کٹائی کی نگرانی، موسمیاتی تبدیلی کا تجزیہ، اور پانی کے وسائل کے انتظام میں پاکستان کی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط کرتا ہے۔</p>
<p>چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (سی ای ٹی سی) اور مائیکرو سیٹ چین کے تعاون سے لانچ کیا گیا یہ سیٹلائٹ ایک مربوط زمینی مشاہدے کے نظام کی بنیاد کے طور پر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حکام نے نوٹ کیا کہ یہ ملک میں پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کو سہارا دینے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>اکتوبر میں پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ  ایچ ایس-ون لانچ کیا گیا<br>یہ قومی خلائی پروگرام کے لیے ایک بڑا تکنیکی قدم ہے۔ جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ایچ ایس-ون سینکڑوں تنگ اسپیکٹرل بینڈز میں ڈیٹا حاصل کرنے کے قابل ہے، جو زمین کے استعمال، پودوں کی صحت، پانی کے وسائل، اور شہری ترقی کا انتہائی درست تجزیہ ممکن بناتا ہے۔</p>
<p>یہ سیٹلائٹ درستگی پر مبنی زراعت، ماحولیاتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی، اور آفات کے انتظام میں قومی صلاحیت کو مضبوط کرے گا۔ اعلیٰ معیار کا ڈیٹا پاکستان کی موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے کی صلاحیت بڑھائے گا اور سی پیک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں جغرافیائی خطرات کی نشاندہی کرکے زیادہ پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی ممکن بنائے گا۔</p>
<p>خلانورد اور چاند گاڑی پروگرامز<br>سیٹلائٹس کے اجرا کے علاوہ، 2025 میں پاکستان کا خلانورد پروگرام بھی باضابطہ طور پر شروع کیا گیا — ایک اور سنگ میل کامیابی۔ پاکستان کا پہلا خلانورد 2026 میں چینی اسپیس اسٹیشن جائے گا، جس سے ملک کی انسانی خلائی تحقیق میں شمولیت کا آغاز ہوگا۔</p>
<p>اسی دوران پاکستان نے اپنا روور پروگرام بھی شروع کیا، جس سے چاند پر موجودگی کے ارادے کا عندیہ ملا۔ پاکستانی تیار کردہ روور 2028 میں چاند پر اُتارے جانے کی توقع ہے، جس میں چین کی تکنیکی مدد حاصل ہوگی۔ یہ اقدام پاکستان کو ان چند ممالک میں شامل کرتا ہے جو فعال طور پر چاند پر تحقیق میں حصہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>نتائج اور تعاون<br>یہ کامیابیاں پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی تعاون کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سپارکو کے اس عزم کی تصدیق کرتی ہیں کہ خلائی ٹیکنالوجی کو قومی ترقی، موسمیاتی استقامت، اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>سال 2025 کے اختتام پر، پاکستان کا خلائی شعبہ بدل چکا ہے — اب یہ محض محدود مشنز تک محدود نہیں، بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، اور زمین کی نگرانی سے لے کر انسانی خلا اور چاند پر تحقیق تک واضح وژن کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281349</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 11:40:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بصیر احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/071139211402be2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/071139211402be2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
