<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:28:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:28:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فن ٹیک کمپنی ابھی کی یو اے ای میں توسیع، نِم کارڈ سے شراکت داری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی ایمبیڈڈ فنانس پلیٹ فارم اور فن ٹیک کمپنی ابھی اور متحدہ عرب امارات میں قائم ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی نِم کارڈ نے منگل کو اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد یو اے ای میں مالیاتی اداروں کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے زیادہ مؤثر قرضہ جاتی سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق  اس شراکت داری کے تحت ’ابھی‘ کے کاروباری مالیاتی حل اور نِم کارڈ کے کارڈ و ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر کو یکجا کیا جائے گا۔ اس سے ایس ایم ایز کے لیے ڈیجیٹل آن بورڈنگ، قرض کی درخواست، کریڈٹ فیصلہ سازی اور منظور شدہ رقم کی فراہمی تک کے اہم مراحل کو بہتر بنایا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بینک اور لائسنس یافتہ مالیاتی ادارے روایتی طور پر بکھرے ہوئے عمل کو مربوط بنا سکیں گے، جس سے صارفین کی تیز تر رجسٹریشن، قرض کی درخواست اور کریڈٹ فیصلہ سازی کے بعد منظور شدہ رقم کی بروقت فراہمی ممکن ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نِم کارڈ کے چیف بزنس آفیسر شیراز علی نے کہا کہ یو اے ای میں ایس ایم ایز کو قرض فراہم کرنے کے طریقہ کار کو ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق دونوں کمپنیوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرنے سے مالیاتی ادارے زیادہ تیزی سے کام کرسکیں گے، پیچیدگی کم ہوگی اور ایسے قرضہ جاتی حل متعارف کرائے جاسکیں گے جنہیں بڑے پیمانے پر وسعت دی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ابھی‘ کے اے وی پی سیلز اینڈ پارٹنرشپس زین علی نے کہا کہ ایس ایم ایز کو مالیاتی مصنوعات تک تیز اور آسان رسائی کی ضرورت ہے اور ٹیکنالوجی بینکوں کو بہتر سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ابھی‘ ارنڈ ویج ایکسس اور ایس ایم ای فنانسنگ سمیت مختلف مالیاتی حل فراہم کرتی ہے، جن میں ابھی سیلری، ابھی کاروبار، ابھی پے رول اور ابھی پے شامل ہیں۔ کمپنی کے پاکستان، یو اے ای، سعودی عرب اور عمان میں 10 لاکھ سے زائد صارفین اور 7 ہزار سے زیادہ کاروباری شراکت دار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نِم کارڈ مکمل ادائیگیوں کا انفرااسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ یہ ویزا اور ماسٹرکارڈ کی پرنسپل ممبر ہے، 10 مارکیٹس میں کام کرتی ہے اور 60 سے زائد کلائنٹس کے ساتھ شراکت داری رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی ایمبیڈڈ فنانس پلیٹ فارم اور فن ٹیک کمپنی ابھی اور متحدہ عرب امارات میں قائم ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی نِم کارڈ نے منگل کو اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد یو اے ای میں مالیاتی اداروں کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے زیادہ مؤثر قرضہ جاتی سہولیات فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان کے مطابق  اس شراکت داری کے تحت ’ابھی‘ کے کاروباری مالیاتی حل اور نِم کارڈ کے کارڈ و ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر کو یکجا کیا جائے گا۔ اس سے ایس ایم ایز کے لیے ڈیجیٹل آن بورڈنگ، قرض کی درخواست، کریڈٹ فیصلہ سازی اور منظور شدہ رقم کی فراہمی تک کے اہم مراحل کو بہتر بنایا جاسکے گا۔</p>
<p>مشترکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بینک اور لائسنس یافتہ مالیاتی ادارے روایتی طور پر بکھرے ہوئے عمل کو مربوط بنا سکیں گے، جس سے صارفین کی تیز تر رجسٹریشن، قرض کی درخواست اور کریڈٹ فیصلہ سازی کے بعد منظور شدہ رقم کی بروقت فراہمی ممکن ہوگی۔</p>
<p>نِم کارڈ کے چیف بزنس آفیسر شیراز علی نے کہا کہ یو اے ای میں ایس ایم ایز کو قرض فراہم کرنے کے طریقہ کار کو ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق دونوں کمپنیوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرنے سے مالیاتی ادارے زیادہ تیزی سے کام کرسکیں گے، پیچیدگی کم ہوگی اور ایسے قرضہ جاتی حل متعارف کرائے جاسکیں گے جنہیں بڑے پیمانے پر وسعت دی جاسکے۔</p>
<p>’ابھی‘ کے اے وی پی سیلز اینڈ پارٹنرشپس زین علی نے کہا کہ ایس ایم ایز کو مالیاتی مصنوعات تک تیز اور آسان رسائی کی ضرورت ہے اور ٹیکنالوجی بینکوں کو بہتر سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔</p>
<p>’ابھی‘ ارنڈ ویج ایکسس اور ایس ایم ای فنانسنگ سمیت مختلف مالیاتی حل فراہم کرتی ہے، جن میں ابھی سیلری، ابھی کاروبار، ابھی پے رول اور ابھی پے شامل ہیں۔ کمپنی کے پاکستان، یو اے ای، سعودی عرب اور عمان میں 10 لاکھ سے زائد صارفین اور 7 ہزار سے زیادہ کاروباری شراکت دار ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب نِم کارڈ مکمل ادائیگیوں کا انفرااسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ یہ ویزا اور ماسٹرکارڈ کی پرنسپل ممبر ہے، 10 مارکیٹس میں کام کرتی ہے اور 60 سے زائد کلائنٹس کے ساتھ شراکت داری رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291864</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 15:12:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29150534f140beb.webp" type="image/webp" medium="image" height="562" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29150534f140beb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل نے پاکستان کیلئے پہلا ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز مقرر کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291258/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل نے سلمان ڈار کو پاکستان کے لیے اپنا پہلا ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز مقرر کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں اس تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایپل کی جانب سے یہ تقرری کمپنی اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا پاکستان کے لیے اپنے ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز کی تقرری کے ذریعے ایپل کی پہلی باضابطہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ایپل کے ساتھ حکومت کی بات چیت اور پاکستان کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے کے باعث اب نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14202349125aa39.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14202349125aa39.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سلمان ڈار کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ باہمی روابط میں اضافہ ہوگا، جس کا مقصد دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند صورتحال پیدا کرنا اور پاکستان میں ایپل کی موجودگی کو وسعت دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان ڈار نے بھی لنکڈ اِن پر ایک علیحدہ پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ایپل میں پاکستان کے لیے ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز کی حیثیت سے نئی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس عہدے پر میں پاکستان میں حکومتی امور کی قیادت کروں گا اور ریگولیٹرز، پالیسی سازوں اور اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ کمپنی کے روابط میں معاونت فراہم کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ خواجہ نے ایپل کے مشرق وسطیٰ اور پاکستان کے لیے ڈائریکٹر آف گورنمنٹ افیئرز عمر الرفاعی کا بھی اس عمل کے دوران تعاون پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اپنی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے لیے کوششیں کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل نے سلمان ڈار کو پاکستان کے لیے اپنا پہلا ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز مقرر کردیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں اس تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایپل کی جانب سے یہ تقرری کمپنی اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا پاکستان کے لیے اپنے ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز کی تقرری کے ذریعے ایپل کی پہلی باضابطہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے۔</p>
<p>شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ایپل کے ساتھ حکومت کی بات چیت اور پاکستان کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے کے باعث اب نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14202349125aa39.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/14202349125aa39.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے سلمان ڈار کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ باہمی روابط میں اضافہ ہوگا، جس کا مقصد دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند صورتحال پیدا کرنا اور پاکستان میں ایپل کی موجودگی کو وسعت دینا ہے۔</p>
<p>سلمان ڈار نے بھی لنکڈ اِن پر ایک علیحدہ پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ایپل میں پاکستان کے لیے ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز کی حیثیت سے نئی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس عہدے پر میں پاکستان میں حکومتی امور کی قیادت کروں گا اور ریگولیٹرز، پالیسی سازوں اور اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ کمپنی کے روابط میں معاونت فراہم کروں گا۔</p>
<p>شزا فاطمہ خواجہ نے ایپل کے مشرق وسطیٰ اور پاکستان کے لیے ڈائریکٹر آف گورنمنٹ افیئرز عمر الرفاعی کا بھی اس عمل کے دوران تعاون پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اپنی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے لیے کوششیں کررہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291258</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 11:48:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/1511423720303c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/1511423720303c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2027 میں اب تک گاڑیوں کی فروخت میں 80 فیصد اضافہ، اگست میں جولائی کے مقابلے میں 20 فیصد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291242/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹو ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق بہتر معاشی حالات، شرح سود میں استحکام اور گاڑیوں کی لیزنگ کی مزید اسکیموں کے باعث رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران پاکستان میں کاروں کی فروخت گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 80 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروں کی فروخت 80 فیصد اضافے سے 30,933 یونٹس ہوگئی، جبکہ جیپوں اور پک اَپ گاڑیوں کی فروخت 44 فیصد کمی سے 4,443 یونٹس رہ گئی۔ ٹرکوں کی فروخت 81 فیصد اضافے سے 1,656 یونٹس جبکہ بسوں کی فروخت 9 فیصد اضافے سے 138 یونٹس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے پیر کی شام جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موٹر سائیکلوں اور رکشوں سمیت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت بھی 29 فیصد اضافے سے 351,492 یونٹس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں بھی تیزی آئی اور یہ 5 فیصد اضافے سے 2,294 یونٹس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو ماہر محمد صابر شیخ نے &lt;em&gt;بزنس ریکارڈر&lt;/em&gt; سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتر معاشی حالات، سازگار لیزنگ اسکیموں اور شرح سود میں استحکام نے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاما کے ڈائریکٹر جنرل رازی الرحمٰن نے پیر کو اگست 2026 کے لیے ایسوسی ایشن کی رکن کمپنیوں کی پیداوار اور فروخت کے اعدادوشمار پر جاری کردہ تحریر میں کہا کہ مجموعی صورتحال ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کے آغاز سے اب تک کے مجموعی اعدادوشمار سالانہ بنیاد پر مضبوط بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ماہانہ بنیاد پر نمایاں کمی صنعت کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جو طویل عرصے سے جاری پالیسی خلا کے باعث انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اگست 2026 کے مجموعی اعدادوشمار ابتدائی طور پر اہم شعبوں میں مضبوط بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسافر گاڑیوں کی پیداوار میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 فیصد کا متاثر کن اضافہ جبکہ فروخت میں 80 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرشل گاڑیوں کی مضبوط ملکی طلب کے باعث ٹرکوں اور بسوں کی پیداوار میں 84 فیصد جبکہ فروخت میں 73 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے شعبے میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں پیداوار اور فروخت، دونوں میں 29 فیصد کی مستحکم نمو ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر معمولی 5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ان کی پیداوار میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی ٹریکٹروں کی فروخت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے ٹریکٹرز کی خریداری کے لیے معاونت کی اسکیم ختم ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے نئی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد تاحال منتظر ہے اور ممکنہ خریدار اب اس کے اعلان کے منتظر ہیں۔ اس وقت تک نئے خریدار اپنی خریداری کے فیصلے مؤخر رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی سالانہ نمو افراطِ زر کے دباؤ میں کمی، قرضوں کی بہتر دستیابی اور معاشی اشاریوں میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، فروخت میں اضافہ بڑی حد تک گزشتہ برسوں کی کم بنیاد کے اثر کا نتیجہ ہے، جس کے باعث صنعت کی مجموعی فروخت اب بھی مالی سال 2022ء میں حاصل ہونے والی تاریخی بلند ترین سطح سے بہت پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال ایچ آر وی کی فروخت ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کے اطلاق سے متعلق پالیسی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو پالیسی کی واضح سمت نہ ہونے کے باعث بدستور مشکلات کا سامنا ہے۔ ہنڈائی نشاط موٹرز کی جانب سے پیش کیے جانے والے ماڈلز کو بھی واضح پالیسی اعلان سے فائدہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایلانٹرا کی دوبارہ مارکیٹ میں پیش کش کو صارفین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے اور اس کی پیداوار اور فروخت، دونوں میں ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر تقریباً دوگنا ہونے کے ساتھ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سالانہ اعدادوشمار میں نظر آنے والی امید اگست 2026 میں جولائی کے مقابلے میں ماہانہ بنیاد پر فروخت میں آنے والی فوری کمی سے بالکل متضاد ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کی رفتار اچانک رک گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست کے دوران مسافر گاڑیوں کی پیداوار میں 23 فیصد جبکہ فروخت میں 20 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرشل گاڑیوں، جیپوں اور پک اَپس کے شعبے میں یہ کمی مزید شدید رہی، جہاں پیداوار 40 فیصد جبکہ فروخت 29 فیصد گر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی ٹریکٹروں کی پیداوار میں 23 فیصد جبکہ فروخت میں 15 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر اس اچانک سست روی کی بنیادی وجہ صنعت کو درپیش شدید پالیسی غیر یقینی صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2026 میں آٹو موٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پلان 2021-26 کی مدت مکمل ہونے کے بعد مینوفیکچررز اور صارفین ایک مکمل ضابطہ جاتی خلا میں اپنا کاروبار اور خریداری کے فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی پالیسی کے واضح فریم ورک کی عدم موجودگی نے خاص طور پر ماحول دوست گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کے اطلاق کے حوالے سے رکاوٹیں پیدا کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائبرڈ، پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کے ٹیکس نرخوں سے متعلق مکمل ابہام نے کاروباری سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعطل کے باعث پہلے ہی اربوں روپے کی فروخت متاثر ہوچکی ہے، کیونکہ صارفین نے اپنی گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے مؤخر کردیئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے اعلان میں تاخیر نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس میں دونوں فریق نقصان اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچررز ایسے اسٹاک کے ساتھ پھنس گئے ہیں جسے وہ فروخت نہیں کر پا رہے، جبکہ حکومت اہم ٹیکس آمدن سے مسلسل محروم ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاڑیوں اور جیپوں کی ماہانہ فروخت میں اچانک دو ہندسوں کی کمی براہِ راست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صارفین خریداری کے معاملے میں ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی کیفیت سے دوچار ہوگئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ نئی پالیسی کے تحت قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے، اس لیے وہ فی الحال گاڑی خریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو سیکٹر قومی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے پاما نے حکومت سے ہنگامی طور پر اپیل کی ہے کہ وہ نئی آٹو پالیسی کا اعلان کرے تاکہ مالیاتی غیر یقینی صورتحال دور ہو، مینوفیکچرنگ میں لگے سرمائے کا تحفظ کیا جاسکے اور صارفین کا اعتماد بحال ہو، اس سے پہلے کہ ماہانہ بنیاد پر ہونے والی یہ کمی مستقل کساد بازاری کا رجحان اختیار کرلے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آٹو ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق بہتر معاشی حالات، شرح سود میں استحکام اور گاڑیوں کی لیزنگ کی مزید اسکیموں کے باعث رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران پاکستان میں کاروں کی فروخت گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 80 فیصد بڑھ گئی۔</strong></p>
<p>کاروں کی فروخت 80 فیصد اضافے سے 30,933 یونٹس ہوگئی، جبکہ جیپوں اور پک اَپ گاڑیوں کی فروخت 44 فیصد کمی سے 4,443 یونٹس رہ گئی۔ ٹرکوں کی فروخت 81 فیصد اضافے سے 1,656 یونٹس جبکہ بسوں کی فروخت 9 فیصد اضافے سے 138 یونٹس ہوگئی۔</p>
<p>پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے پیر کی شام جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موٹر سائیکلوں اور رکشوں سمیت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت بھی 29 فیصد اضافے سے 351,492 یونٹس ہوگئی۔</p>
<p>مزید یہ کہ زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں بھی تیزی آئی اور یہ 5 فیصد اضافے سے 2,294 یونٹس ہوگئی۔</p>
<p>آٹو ماہر محمد صابر شیخ نے <em>بزنس ریکارڈر</em> سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتر معاشی حالات، سازگار لیزنگ اسکیموں اور شرح سود میں استحکام نے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>پاما کے ڈائریکٹر جنرل رازی الرحمٰن نے پیر کو اگست 2026 کے لیے ایسوسی ایشن کی رکن کمپنیوں کی پیداوار اور فروخت کے اعدادوشمار پر جاری کردہ تحریر میں کہا کہ مجموعی صورتحال ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔</p>
<p>مالی سال کے آغاز سے اب تک کے مجموعی اعدادوشمار سالانہ بنیاد پر مضبوط بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ماہانہ بنیاد پر نمایاں کمی صنعت کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جو طویل عرصے سے جاری پالیسی خلا کے باعث انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔</p>
<p>جولائی تا اگست 2026 کے مجموعی اعدادوشمار ابتدائی طور پر اہم شعبوں میں مضبوط بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>مسافر گاڑیوں کی پیداوار میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 فیصد کا متاثر کن اضافہ جبکہ فروخت میں 80 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>کمرشل گاڑیوں کی مضبوط ملکی طلب کے باعث ٹرکوں اور بسوں کی پیداوار میں 84 فیصد جبکہ فروخت میں 73 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے شعبے میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں پیداوار اور فروخت، دونوں میں 29 فیصد کی مستحکم نمو ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دریں اثنا، زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر معمولی 5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ان کی پیداوار میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>زرعی ٹریکٹروں کی فروخت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے ٹریکٹرز کی خریداری کے لیے معاونت کی اسکیم ختم ہوچکی ہے۔</p>
<p>حکومت نے نئی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد تاحال منتظر ہے اور ممکنہ خریدار اب اس کے اعلان کے منتظر ہیں۔ اس وقت تک نئے خریدار اپنی خریداری کے فیصلے مؤخر رکھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>مجموعی سالانہ نمو افراطِ زر کے دباؤ میں کمی، قرضوں کی بہتر دستیابی اور معاشی اشاریوں میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم، فروخت میں اضافہ بڑی حد تک گزشتہ برسوں کی کم بنیاد کے اثر کا نتیجہ ہے، جس کے باعث صنعت کی مجموعی فروخت اب بھی مالی سال 2022ء میں حاصل ہونے والی تاریخی بلند ترین سطح سے بہت پیچھے ہے۔</p>
<p>رواں سال ایچ آر وی کی فروخت ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کے اطلاق سے متعلق پالیسی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو پالیسی کی واضح سمت نہ ہونے کے باعث بدستور مشکلات کا سامنا ہے۔ ہنڈائی نشاط موٹرز کی جانب سے پیش کیے جانے والے ماڈلز کو بھی واضح پالیسی اعلان سے فائدہ ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب، ایلانٹرا کی دوبارہ مارکیٹ میں پیش کش کو صارفین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے اور اس کی پیداوار اور فروخت، دونوں میں ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر تقریباً دوگنا ہونے کے ساتھ نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>تاہم، سالانہ اعدادوشمار میں نظر آنے والی امید اگست 2026 میں جولائی کے مقابلے میں ماہانہ بنیاد پر فروخت میں آنے والی فوری کمی سے بالکل متضاد ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کی رفتار اچانک رک گئی ہے۔</p>
<p>اگست کے دوران مسافر گاڑیوں کی پیداوار میں 23 فیصد جبکہ فروخت میں 20 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کمرشل گاڑیوں، جیپوں اور پک اَپس کے شعبے میں یہ کمی مزید شدید رہی، جہاں پیداوار 40 فیصد جبکہ فروخت 29 فیصد گر گئی۔</p>
<p>زرعی ٹریکٹروں کی پیداوار میں 23 فیصد جبکہ فروخت میں 15 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر اس اچانک سست روی کی بنیادی وجہ صنعت کو درپیش شدید پالیسی غیر یقینی صورتحال ہے۔</p>
<p>جون 2026 میں آٹو موٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پلان 2021-26 کی مدت مکمل ہونے کے بعد مینوفیکچررز اور صارفین ایک مکمل ضابطہ جاتی خلا میں اپنا کاروبار اور خریداری کے فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>اگلی پالیسی کے واضح فریم ورک کی عدم موجودگی نے خاص طور پر ماحول دوست گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کے اطلاق کے حوالے سے رکاوٹیں پیدا کردی ہیں۔</p>
<p>ہائبرڈ، پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں کے ٹیکس نرخوں سے متعلق مکمل ابہام نے کاروباری سرگرمیوں کو تقریباً مفلوج کردیا ہے۔</p>
<p>اس تعطل کے باعث پہلے ہی اربوں روپے کی فروخت متاثر ہوچکی ہے، کیونکہ صارفین نے اپنی گاڑیوں کی خریداری کے فیصلے مؤخر کردیئے ہیں۔</p>
<p>پالیسی کے اعلان میں تاخیر نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس میں دونوں فریق نقصان اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>مینوفیکچررز ایسے اسٹاک کے ساتھ پھنس گئے ہیں جسے وہ فروخت نہیں کر پا رہے، جبکہ حکومت اہم ٹیکس آمدن سے مسلسل محروم ہورہی ہے۔</p>
<p>گاڑیوں اور جیپوں کی ماہانہ فروخت میں اچانک دو ہندسوں کی کمی براہِ راست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صارفین خریداری کے معاملے میں ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی کیفیت سے دوچار ہوگئے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ نئی پالیسی کے تحت قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے، اس لیے وہ فی الحال گاڑی خریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔</p>
<p>آٹو سیکٹر قومی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے پاما نے حکومت سے ہنگامی طور پر اپیل کی ہے کہ وہ نئی آٹو پالیسی کا اعلان کرے تاکہ مالیاتی غیر یقینی صورتحال دور ہو، مینوفیکچرنگ میں لگے سرمائے کا تحفظ کیا جاسکے اور صارفین کا اعتماد بحال ہو، اس سے پہلے کہ ماہانہ بنیاد پر ہونے والی یہ کمی مستقل کساد بازاری کا رجحان اختیار کرلے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291242</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2026 23:00:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/142258295213037.webp" type="image/webp" medium="image" height="291" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/142258295213037.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا ٹیلی کام جرمانوں اور ناقص انٹرنیٹ سروسز پر کارروائی کی تفصیلات طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291097/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کے ناقص اور غیر تسلی بخش معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ٹیلی کام آپریٹرز پر عائد کیے گئے جرمانوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید امین الحق کی زیرصدارت جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے پی ٹی اے کو گزشتہ 6 ماہ کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو جاری کیے گئے تمام شوکاز نوٹسز اور عائد کردہ جرمانوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی سے جرمانوں کی مد میں وصول شدہ رقم اور تاحال قابلِ وصول واجب الادا رقوم کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کے معیار کی باقاعدگی سے سروس کے معیار (کیو او ایس) کے سروے کرتی ہے اور آپریٹرز کو خامیوں کے ازالے کے لیے 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق مقررہ مدت کے بعد دوبارہ سروے کیا جاتا ہے اور اگر خامیاں برقرار رہیں تو متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرکے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے بتایا کہ ٹیلی کام آپریٹرز پر 35 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپریٹرز جرمانے ادا کرنے کے بجائے انہیں عدالتوں میں چیلنج کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی اور خامیوں کی اصلاح میں تاخیر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام متعلقہ ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے تاکہ وہ انٹرنیٹ سروسز بہتر بنانے، موجودہ بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور نیا ٹیلی کام انفرااسٹرکچر تیار کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی صورتحال پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبر ٹیلی کام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانس ایکٹ 2021 کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بتایا گیا کہ نیپرا کا مؤقف ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز مطلوبہ ویلیو ایڈیشن فراہم نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ممبر ٹیلی کام کو ہدایت کی کہ اس معاملے کے قانونی، مالی اور تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کی جائے اور فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں نیپرا کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ ملنے سے ٹیلی کام ٹاورز کو بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے کہا کہ بجلی کی بندش کے باعث ٹیلی کام ٹاورز بند ہوسکتے ہیں، جس سے موبائل اور انٹرنیٹ سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کی بلاتعطل فراہمی اور ان کے معیار میں بہتری کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ترامیم پر پارٹی کی پارلیمانی قانون سازی کمیٹی سے تاحال مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے وزارت خزانہ کو مطلوبہ مشاورت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کے ناقص اور غیر تسلی بخش معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ٹیلی کام آپریٹرز پر عائد کیے گئے جرمانوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔</strong></p>
<p>سید امین الحق کی زیرصدارت جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے پی ٹی اے کو گزشتہ 6 ماہ کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو جاری کیے گئے تمام شوکاز نوٹسز اور عائد کردہ جرمانوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>اتھارٹی سے جرمانوں کی مد میں وصول شدہ رقم اور تاحال قابلِ وصول واجب الادا رقوم کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کے معیار کی باقاعدگی سے سروس کے معیار (کیو او ایس) کے سروے کرتی ہے اور آپریٹرز کو خامیوں کے ازالے کے لیے 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق مقررہ مدت کے بعد دوبارہ سروے کیا جاتا ہے اور اگر خامیاں برقرار رہیں تو متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرکے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے بتایا کہ ٹیلی کام آپریٹرز پر 35 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپریٹرز جرمانے ادا کرنے کے بجائے انہیں عدالتوں میں چیلنج کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی اور خامیوں کی اصلاح میں تاخیر ہوتی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام متعلقہ ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے تاکہ وہ انٹرنیٹ سروسز بہتر بنانے، موجودہ بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور نیا ٹیلی کام انفرااسٹرکچر تیار کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں۔</p>
<p>کمیٹی نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی صورتحال پر بھی غور کیا۔</p>
<p>ممبر ٹیلی کام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانس ایکٹ 2021 کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ دیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بتایا گیا کہ نیپرا کا مؤقف ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز مطلوبہ ویلیو ایڈیشن فراہم نہیں کرتے۔</p>
<p>کمیٹی نے ممبر ٹیلی کام کو ہدایت کی کہ اس معاملے کے قانونی، مالی اور تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کی جائے اور فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں نیپرا کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ ملنے سے ٹیلی کام ٹاورز کو بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے کہا کہ بجلی کی بندش کے باعث ٹیلی کام ٹاورز بند ہوسکتے ہیں، جس سے موبائل اور انٹرنیٹ سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کی بلاتعطل فراہمی اور ان کے معیار میں بہتری کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ترامیم پر پارٹی کی پارلیمانی قانون سازی کمیٹی سے تاحال مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>کمیٹی نے وزارت خزانہ کو مطلوبہ مشاورت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291097</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Sep 2026 00:57:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/11004238d71605c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/11004238d71605c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل نے تقریب کے آغاز پر آئی فون 18 پرو پیش کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291045/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل نے بدھ کو کیلیفورنیا کے شہر کیوپرٹینو میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز میں مصنوعات کی سالانہ رونمائی کی تقریب کا آغاز کردیا، جہاں کمپنی کی جانب سے مہنگا فولڈنگ آئی فون متعارف کرائے جانے کی توقع کی جارہی ہے، جبکہ آئی فون 18 پرو کے نئے ماڈلز بھی پیش کیے جارہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقریب ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس کی سربراہی میں پہلی تقریب ہے۔ اس موقع پر کمپنی کی فلیگ شپ مصنوعات میں 2017 میں آئی فون ایکس سے فزیکل ہوم بٹن ہٹائے جانے کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ ایپل کے حالیہ مالی سال میں آئی فون نے &lt;strong&gt;209.6 ارب ڈالر&lt;/strong&gt; کی آمدنی حاصل کی، جو کمپنی کی مجموعی فروخت کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے ایک ویڈیو کے ذریعے ٹرنَس کو قیادت کی ذمہ داریاں سونپنے کا اعلان کیا۔ پریزنٹیشن کے آغاز سے متعلق ویڈیو کے اختتام پر کُک کا کلوز اَپ دکھایا گیا، جہاں انہوں نے ٹرنَس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں نہیں، اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرنَس نے آئی فون کو ذاتی نوعیت کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز کے طور پر پیش کیا جس میں صارف کی رازداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر کمپنیاں ذاتی ڈیٹا جمع کرکے محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’سچ کہوں تو جب آپ کا ڈیٹا مزید آپ کے اپنے اختیار میں نہ رہے تو اعتماد بھی ایک حد تک ہی قائم رہتا ہے۔ اسی لیے ایپل انٹیلی جنس جہاں ممکن ہو، براہِ راست ڈیوائس پر کام کرتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی فون ساز کمپنی میں اے آئی مصنوعات کی نگرانی کرنے والی ایپل کی لِلیان رِنکون، جنہیں رواں سال کے آغاز میں گوگل سے بھرتی کیا گیا تھا، نے اپ ڈیٹ شدہ سری اسسٹنٹ متعارف کرایا، جو اجرا کے وقت 3 لاکھ ایپس کے ساتھ کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے حکام نے آئی فون 18 پرو اور 18 پرو میکس ماڈلز بھی پیش کیے، جو ایپل کی معروف آئی فون سیریز کے تازہ ترین ورژن ہیں۔ آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت &lt;strong&gt;1,199 ڈالر&lt;/strong&gt; مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے بتایا کہ اس کی نئی اے 20 پرو چِپ دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کی گئی ہے اور اس میں ایسی بہتریاں کی گئی ہیں جن کی مدد سے جدید اے آئی ماڈلز براہِ راست آئی فون پر چل سکیں گے۔ ایپل کے مطابق اے 20 پرو چِپ میں بخارات پر مبنی کولنگ سسٹم کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، جس میں اس کے میک چپس میں استعمال ہونے والی جدید پیکیجنگ تکنیکیں بروئے کار لائی گئی ہیں۔ اس کا مقصد فون میں پنکھے کے بغیر کارکردگی بڑھانا ہے۔ یہ چِپ آئی فون 18 پرو میں استعمال کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی فوری سائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور نے کہا، ’’ایپل انٹیلی جنس اور سری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایپل اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی اس کے ہارڈویئر کی وسیع بنیاد کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ اے آئی کو مختلف ڈیوائسز پر روزمرہ استعمال کا لازمی حصہ بنایا جاسکے۔‘‘ ایپل کی پریزنٹیشن کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مہنگی-قیمت-کا-چیلنج" href="#مہنگی-قیمت-کا-چیلنج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مہنگی قیمت کا چیلنج&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرنَس اس سے قبل ایپل کے ہارڈویئر شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں، تاہم چند مصنوعات کی رونمائی اور پائیداری سے متعلق اقدامات کے علاوہ وہ عوامی سطح پر زیادہ نمایاں نہیں رہے۔ اب ٹرنَس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایپل کے صارفین کو قائل کریں کہ انہیں ایک فولڈنگ ڈیوائس کی ضرورت ہے، جس کی قیمت تجزیہ کاروں کے اندازے کے مطابق 2,000 ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ اس عالمی برانڈ کے لیے قیمت کی نئی بلند ترین سطح ہوگی جس نے بڑے پیمانے پر دستیاب لگژری مصنوعات کی شناخت قائم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سام سنگ الیکٹرانکس اور ہواوے ٹیکنالوجیز نے 2019 سے فولڈنگ فونز فروخت کیے ہیں، تاہم یہ ڈیوائسز اب تک ٹیکنالوجی کے شوقین صارفین تک محدود رہی ہیں۔ اس کے باوجود، قیمت بہت زیادہ ہونے کے باوجود انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن سمیت تجزیاتی اداروں کو توقع ہے کہ ایپل جتنے فولڈنگ آئی فون تیار کرسکے گا، وہ تمام فروخت ہوجائیں گے اور کمپنی آئندہ سال کے اختتام تک اس منافع بخش شعبے میں 40 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کو یہ بھی توقع ہے کہ فولڈنگ فونز کے شعبے میں دیر سے داخل ہونے کا فائدہ ایپل کو اس صورت میں مل سکتا ہے جب وہ اہم انجینئرنگ چیلنجز پر قابو پالے، جن میں ایسا خوبصورت مگر مضبوط قبضہ تیار کرنا شامل ہے جو بار بار کھولنے اور بند کرنے کے باوجود برقرار رہے اور اس مقام پر اسکرین کے پڑنے والے شکن کو کم سے کم کرے جہاں فون فولڈ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم چیلنج یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ڈیوائسز دھول اور پانی سے کس حد تک محفوظ رہتی ہیں۔ اس معاملے میں گوگل کا حالیہ پکسل 10 پرو فولڈ سام سنگ کی مصنوعات پر سبقت لے گیا ہے، جسے آئی پی 68 ریٹنگ حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیوائس مکمل طور پر گردوغبار سے محفوظ ہے اور اسے ایک میٹر (3.3 فٹ) گہرے پانی میں ڈبویا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو ہونے والی تقریب سے ایپل کے سالانہ مصنوعات کے شیڈول میں بھی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ ایپل نئی اسمارٹ واچز پیش کرے گا، تاہم ان کے مطابق کمپنی اپنے نسبتاً کم قیمت والے آئی فون ماڈلز کی اپ ڈیٹس آئندہ موسمِ بہار تک مؤخر کرسکتی ہے اور اس تقریب میں صرف نئے فولڈنگ ڈیوائس اور آئی فون پرو و پرو میکس سیریز پر توجہ مرکوز رکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد ایپل کے سالانہ فروخت کے دورانیے کو متوازن بنانا ہے، جس میں عموماً امریکا اور یورپ میں سال کے اختتامی تعطیلاتی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل نے بدھ کو کیلیفورنیا کے شہر کیوپرٹینو میں واقع اپنے ہیڈکوارٹرز میں مصنوعات کی سالانہ رونمائی کی تقریب کا آغاز کردیا، جہاں کمپنی کی جانب سے مہنگا فولڈنگ آئی فون متعارف کرائے جانے کی توقع کی جارہی ہے، جبکہ آئی فون 18 پرو کے نئے ماڈلز بھی پیش کیے جارہے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ تقریب ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس کی سربراہی میں پہلی تقریب ہے۔ اس موقع پر کمپنی کی فلیگ شپ مصنوعات میں 2017 میں آئی فون ایکس سے فزیکل ہوم بٹن ہٹائے جانے کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ ایپل کے حالیہ مالی سال میں آئی فون نے <strong>209.6 ارب ڈالر</strong> کی آمدنی حاصل کی، جو کمپنی کی مجموعی فروخت کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ہے۔</p>
<p>سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے ایک ویڈیو کے ذریعے ٹرنَس کو قیادت کی ذمہ داریاں سونپنے کا اعلان کیا۔ پریزنٹیشن کے آغاز سے متعلق ویڈیو کے اختتام پر کُک کا کلوز اَپ دکھایا گیا، جہاں انہوں نے ٹرنَس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’میں نہیں، اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘</p>
<p>ٹرنَس نے آئی فون کو ذاتی نوعیت کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز کے طور پر پیش کیا جس میں صارف کی رازداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر کمپنیاں ذاتی ڈیٹا جمع کرکے محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’سچ کہوں تو جب آپ کا ڈیٹا مزید آپ کے اپنے اختیار میں نہ رہے تو اعتماد بھی ایک حد تک ہی قائم رہتا ہے۔ اسی لیے ایپل انٹیلی جنس جہاں ممکن ہو، براہِ راست ڈیوائس پر کام کرتی ہے۔‘‘</p>
<p>آئی فون ساز کمپنی میں اے آئی مصنوعات کی نگرانی کرنے والی ایپل کی لِلیان رِنکون، جنہیں رواں سال کے آغاز میں گوگل سے بھرتی کیا گیا تھا، نے اپ ڈیٹ شدہ سری اسسٹنٹ متعارف کرایا، جو اجرا کے وقت 3 لاکھ ایپس کے ساتھ کام کرے گا۔</p>
<p>کمپنی کے حکام نے آئی فون 18 پرو اور 18 پرو میکس ماڈلز بھی پیش کیے، جو ایپل کی معروف آئی فون سیریز کے تازہ ترین ورژن ہیں۔ آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت <strong>1,199 ڈالر</strong> مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>ایپل نے بتایا کہ اس کی نئی اے 20 پرو چِپ دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر تیار کی گئی ہے اور اس میں ایسی بہتریاں کی گئی ہیں جن کی مدد سے جدید اے آئی ماڈلز براہِ راست آئی فون پر چل سکیں گے۔ ایپل کے مطابق اے 20 پرو چِپ میں بخارات پر مبنی کولنگ سسٹم کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، جس میں اس کے میک چپس میں استعمال ہونے والی جدید پیکیجنگ تکنیکیں بروئے کار لائی گئی ہیں۔ اس کا مقصد فون میں پنکھے کے بغیر کارکردگی بڑھانا ہے۔ یہ چِپ آئی فون 18 پرو میں استعمال کی جائے گی۔</p>
<p>پی پی فوری سائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور نے کہا، ’’ایپل انٹیلی جنس اور سری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایپل اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی اس کے ہارڈویئر کی وسیع بنیاد کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ اے آئی کو مختلف ڈیوائسز پر روزمرہ استعمال کا لازمی حصہ بنایا جاسکے۔‘‘ ایپل کی پریزنٹیشن کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوئی۔</p>
<h3><a id="مہنگی-قیمت-کا-چیلنج" href="#مہنگی-قیمت-کا-چیلنج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مہنگی قیمت کا چیلنج</strong></h3>
<p>ٹرنَس اس سے قبل ایپل کے ہارڈویئر شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں، تاہم چند مصنوعات کی رونمائی اور پائیداری سے متعلق اقدامات کے علاوہ وہ عوامی سطح پر زیادہ نمایاں نہیں رہے۔ اب ٹرنَس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایپل کے صارفین کو قائل کریں کہ انہیں ایک فولڈنگ ڈیوائس کی ضرورت ہے، جس کی قیمت تجزیہ کاروں کے اندازے کے مطابق 2,000 ڈالر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہ اس عالمی برانڈ کے لیے قیمت کی نئی بلند ترین سطح ہوگی جس نے بڑے پیمانے پر دستیاب لگژری مصنوعات کی شناخت قائم کی ہے۔</p>
<p>اگرچہ سام سنگ الیکٹرانکس اور ہواوے ٹیکنالوجیز نے 2019 سے فولڈنگ فونز فروخت کیے ہیں، تاہم یہ ڈیوائسز اب تک ٹیکنالوجی کے شوقین صارفین تک محدود رہی ہیں۔ اس کے باوجود، قیمت بہت زیادہ ہونے کے باوجود انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن سمیت تجزیاتی اداروں کو توقع ہے کہ ایپل جتنے فولڈنگ آئی فون تیار کرسکے گا، وہ تمام فروخت ہوجائیں گے اور کمپنی آئندہ سال کے اختتام تک اس منافع بخش شعبے میں 40 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرلے گی۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کو یہ بھی توقع ہے کہ فولڈنگ فونز کے شعبے میں دیر سے داخل ہونے کا فائدہ ایپل کو اس صورت میں مل سکتا ہے جب وہ اہم انجینئرنگ چیلنجز پر قابو پالے، جن میں ایسا خوبصورت مگر مضبوط قبضہ تیار کرنا شامل ہے جو بار بار کھولنے اور بند کرنے کے باوجود برقرار رہے اور اس مقام پر اسکرین کے پڑنے والے شکن کو کم سے کم کرے جہاں فون فولڈ ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک اہم چیلنج یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ڈیوائسز دھول اور پانی سے کس حد تک محفوظ رہتی ہیں۔ اس معاملے میں گوگل کا حالیہ پکسل 10 پرو فولڈ سام سنگ کی مصنوعات پر سبقت لے گیا ہے، جسے آئی پی 68 ریٹنگ حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ڈیوائس مکمل طور پر گردوغبار سے محفوظ ہے اور اسے ایک میٹر (3.3 فٹ) گہرے پانی میں ڈبویا جاسکتا ہے۔</p>
<p>بدھ کو ہونے والی تقریب سے ایپل کے سالانہ مصنوعات کے شیڈول میں بھی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔</p>
<p>اگرچہ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ ایپل نئی اسمارٹ واچز پیش کرے گا، تاہم ان کے مطابق کمپنی اپنے نسبتاً کم قیمت والے آئی فون ماڈلز کی اپ ڈیٹس آئندہ موسمِ بہار تک مؤخر کرسکتی ہے اور اس تقریب میں صرف نئے فولڈنگ ڈیوائس اور آئی فون پرو و پرو میکس سیریز پر توجہ مرکوز رکھ سکتی ہے۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد ایپل کے سالانہ فروخت کے دورانیے کو متوازن بنانا ہے، جس میں عموماً امریکا اور یورپ میں سال کے اختتامی تعطیلاتی سہ ماہی کے دوران کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291045</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Sep 2026 23:54:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/09234837a4ef44c.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/09234837a4ef44c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل نے پاسپورٹ نما فولڈنگ فون ’ڈیو‘ متعارف کرا دیا، آئی فون 18 پرو بھی پیش کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291051/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل نے بدھ کو ’ڈیو‘ نامی فولڈنگ فون متعارف کرا دیا، جو کمپنی کی فلیگ شپ مصنوعات میں کئی برس بعد سب سے بڑی تبدیلی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیو کا سائز اور شکل پاسپورٹ جیسی ہے، جبکہ اس کے کنارے گول ہیں۔ اسے کھولنے پر ایک چوڑی افقی اسکرین سامنے آتی ہے، جسے عمودی انداز میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فون بند ہونے کی صورت میں سامنے کی جانب ایک نسبتاً چھوٹی سنگل اسکرین موجود ہے۔ کمپنی کے مطابق کھولنے پر یہ ایپل کا اب تک کا سب سے پتلا فون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس کی سربراہی میں ہونے والی فولڈنگ فون کی یہ تقریب ایپل کی فلیگ شپ مصنوعات میں 2017 میں آئی فون ایکس سے فزیکل ہوم بٹن ہٹائے جانے کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی ہے۔ ایپل کے حالیہ مالی سال میں آئی فون نے 209.6 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو کمپنی کی مجموعی فروخت کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے پریزنٹیشن کے آغاز سے متعلق ایک ویڈیو کے ذریعے ٹرنَس کو قیادت کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔ ویڈیو کے اختتام پر کُک کا کلوز اَپ دکھایا گیا، جہاں انہوں نے ٹرنَس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں نہیں، اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرنَس نے آئی فون کو رازداری پر مرکوز ذاتی نوعیت کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر کمپنیاں ذاتی ڈیٹا جمع کرکے محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’سچ کہوں تو جب آپ کا ڈیٹا مزید آپ کے اپنے اختیار میں نہ رہے تو اعتماد بھی ایک حد تک ہی قائم رہتا ہے۔ اسی لیے ایپل انٹیلی جنس جہاں ممکن ہو، براہِ راست ڈیوائس پر کام کرتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی فون ساز کمپنی میں اے آئی مصنوعات کی نگرانی کرنے والی ایپل کی لِلیان رِنکون، جنہیں رواں سال کے آغاز میں گوگل سے بھرتی کیا گیا تھا، نے اپ ڈیٹ شدہ سری اسسٹنٹ متعارف کرایا، جو اجرا کے وقت 3 لاکھ ایپس کے ساتھ کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/0923422488428df.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/0923422488428df.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے حکام نے آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس بھی پیش کیے، جو ایپل کی معروف سیریز کے جدید ترین اور غیر فولڈنگ ماڈلز ہیں۔ آئی فون 18 پرو اور پرو میکس کی ابتدائی قیمتیں بالترتیب 1,199 اور 1,299 ڈالر مقرر کی گئی ہیں، جو آئی فون 17 پرو اور پرو میکس کی ابتدائی قیمتوں سے 100 ڈالر زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اور تبدیل شدہ تصاویر کے حوالے سے بڑھتے خدشات سے نمٹنے کے لیے ایک نئی خصوصیت بھی متعارف کرائی ہے۔ کمپنی نے ’’ایپل ریفرنس امیج‘‘ کے نام سے ایک نیا معیار متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد نئے آئی فون 18 پرو کے کیمروں سے کھینچی گئی تصاویر کی اصلیت ثابت کرنا ہے۔ ایپل نے کہا کہ وہ ابھرتے ہوئے سنتھ آئی ڈی معیار کو بھی سپورٹ کرے گا، جس کے ذریعے اے آئی سے تیار یا تبدیل کی گئی تصاویر کی شناخت کی جاسکے گی۔ تاہم، ’’ایپل ریفرنس امیج‘‘ کی سہولت یورپی یونین اور چین میں دستیاب نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی فون 18 پرو میں نئی اے 20 پرو چِپ بھی شامل ہوگی، جس میں ایسی بہتریاں کی گئی ہیں جو جدید اے آئی ماڈلز کو براہِ راست آئی فون پر چلانے میں مدد دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی فوری سائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور نے کہا، ’’ایپل انٹیلی جنس اور سری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایپل اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی اس کے ہارڈویئر کی وسیع بنیاد کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ اے آئی کو مختلف ڈیوائسز پر روزمرہ استعمال کا لازمی حصہ بنایا جاسکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کی پریزنٹیشن کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/092342247b379e1.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/092342247b379e1.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل نے بدھ کو ’ڈیو‘ نامی فولڈنگ فون متعارف کرا دیا، جو کمپنی کی فلیگ شپ مصنوعات میں کئی برس بعد سب سے بڑی تبدیلی ہے۔</strong></p>
<p>ڈیو کا سائز اور شکل پاسپورٹ جیسی ہے، جبکہ اس کے کنارے گول ہیں۔ اسے کھولنے پر ایک چوڑی افقی اسکرین سامنے آتی ہے، جسے عمودی انداز میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فون بند ہونے کی صورت میں سامنے کی جانب ایک نسبتاً چھوٹی سنگل اسکرین موجود ہے۔ کمپنی کے مطابق کھولنے پر یہ ایپل کا اب تک کا سب سے پتلا فون ہے۔</p>
<p>نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس کی سربراہی میں ہونے والی فولڈنگ فون کی یہ تقریب ایپل کی فلیگ شپ مصنوعات میں 2017 میں آئی فون ایکس سے فزیکل ہوم بٹن ہٹائے جانے کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی ہے۔ ایپل کے حالیہ مالی سال میں آئی فون نے 209.6 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو کمپنی کی مجموعی فروخت کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ہے۔</p>
<p>سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کُک نے پریزنٹیشن کے آغاز سے متعلق ایک ویڈیو کے ذریعے ٹرنَس کو قیادت کی ذمہ داریاں سونپ دیں۔ ویڈیو کے اختتام پر کُک کا کلوز اَپ دکھایا گیا، جہاں انہوں نے ٹرنَس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’میں نہیں، اب یہ ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘</p>
<p>ٹرنَس نے آئی فون کو رازداری پر مرکوز ذاتی نوعیت کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر کمپنیاں ذاتی ڈیٹا جمع کرکے محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’سچ کہوں تو جب آپ کا ڈیٹا مزید آپ کے اپنے اختیار میں نہ رہے تو اعتماد بھی ایک حد تک ہی قائم رہتا ہے۔ اسی لیے ایپل انٹیلی جنس جہاں ممکن ہو، براہِ راست ڈیوائس پر کام کرتی ہے۔‘‘</p>
<p>آئی فون ساز کمپنی میں اے آئی مصنوعات کی نگرانی کرنے والی ایپل کی لِلیان رِنکون، جنہیں رواں سال کے آغاز میں گوگل سے بھرتی کیا گیا تھا، نے اپ ڈیٹ شدہ سری اسسٹنٹ متعارف کرایا، جو اجرا کے وقت 3 لاکھ ایپس کے ساتھ کام کرے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/0923422488428df.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/0923422488428df.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے حکام نے آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس بھی پیش کیے، جو ایپل کی معروف سیریز کے جدید ترین اور غیر فولڈنگ ماڈلز ہیں۔ آئی فون 18 پرو اور پرو میکس کی ابتدائی قیمتیں بالترتیب 1,199 اور 1,299 ڈالر مقرر کی گئی ہیں، جو آئی فون 17 پرو اور پرو میکس کی ابتدائی قیمتوں سے 100 ڈالر زیادہ ہیں۔</p>
<p>ایپل نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اور تبدیل شدہ تصاویر کے حوالے سے بڑھتے خدشات سے نمٹنے کے لیے ایک نئی خصوصیت بھی متعارف کرائی ہے۔ کمپنی نے ’’ایپل ریفرنس امیج‘‘ کے نام سے ایک نیا معیار متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد نئے آئی فون 18 پرو کے کیمروں سے کھینچی گئی تصاویر کی اصلیت ثابت کرنا ہے۔ ایپل نے کہا کہ وہ ابھرتے ہوئے سنتھ آئی ڈی معیار کو بھی سپورٹ کرے گا، جس کے ذریعے اے آئی سے تیار یا تبدیل کی گئی تصاویر کی شناخت کی جاسکے گی۔ تاہم، ’’ایپل ریفرنس امیج‘‘ کی سہولت یورپی یونین اور چین میں دستیاب نہیں ہوگی۔</p>
<p>آئی فون 18 پرو میں نئی اے 20 پرو چِپ بھی شامل ہوگی، جس میں ایسی بہتریاں کی گئی ہیں جو جدید اے آئی ماڈلز کو براہِ راست آئی فون پر چلانے میں مدد دیں گی۔</p>
<p>پی پی فوری سائٹ کے تجزیہ کار پاؤلو پیسکیٹور نے کہا، ’’ایپل انٹیلی جنس اور سری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایپل اپنی سب سے بڑی طاقت یعنی اس کے ہارڈویئر کی وسیع بنیاد کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ اے آئی کو مختلف ڈیوائسز پر روزمرہ استعمال کا لازمی حصہ بنایا جاسکے۔‘‘</p>
<p>ایپل کی پریزنٹیشن کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/092342247b379e1.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/09/092342247b379e1.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291051</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 00:02:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/100907093c31555.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/100907093c31555.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے نے ٹیلی کام آلات کے معیارات سے متعلق ضوابط نافذ کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے معیارات سے متعلق ضوابط 2024 نافذ کردیے ہیں، جن کے تحت ملک میں تیار، درآمد یا نصب کیے جانے والے ٹیلی کام آلات کے لیے مقررہ تکنیکی معیارات پر عمل درآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد یہ ضوابط پاکستان گزٹ میں ایس آر او 1110(1)/2026 کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ایکٹ 1996 کی دفعہ 28 کے تحت جاری کیے گئے یہ ضوابط پی ٹی اے کے تمام لائسنس یافتگان، ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے تیار کنندگان اور درآمد کنندگان پر لاگو ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ضوابط کے تحت ٹیلی کام آلات کے لیے مقررہ تکنیکی معیارات پر پورا اترنا لازمی ہوگا، جن میں برقی مقناطیسی مطابقت (ای ایم سی)، ریڈیو فریکوئنسی (آر ایف)، صحت و سلامتی اور دیگر قابلِ اطلاق تکنیکی تقاضے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آلات کی درآمد، تنصیب یا عملی استعمال سے قبل پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ تعمیل کا سرٹیفکیٹ (سی او سی) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضوابط درآمد کنندگان، لائسنس یافتگان، تیار کنندگان، وینڈرز اور صنعت کے دیگر نمائندوں سے مشاورت کے بعد تیار کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق اس ضابطۂ کار کا مقصد عالمی سطح پر مطابقت اور باہمی اتصال کو فروغ دینا، خدمات کے معیار کو بہتر بنانا، مقامی سطح پر ٹیلی کام آلات کی تیاری کی حوصلہ افزائی اور قومی اقتصادی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے کہا کہ ان ضوابط سے پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن نظام کو مزید مستحکم کرنے اور اس شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے معیارات سے متعلق ضوابط 2024 نافذ کردیے ہیں، جن کے تحت ملک میں تیار، درآمد یا نصب کیے جانے والے ٹیلی کام آلات کے لیے مقررہ تکنیکی معیارات پر عمل درآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پی ٹی اے نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد یہ ضوابط پاکستان گزٹ میں ایس آر او 1110(1)/2026 کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ایکٹ 1996 کی دفعہ 28 کے تحت جاری کیے گئے یہ ضوابط پی ٹی اے کے تمام لائسنس یافتگان، ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے تیار کنندگان اور درآمد کنندگان پر لاگو ہوں گے۔</p>
<p>نئے ضوابط کے تحت ٹیلی کام آلات کے لیے مقررہ تکنیکی معیارات پر پورا اترنا لازمی ہوگا، جن میں برقی مقناطیسی مطابقت (ای ایم سی)، ریڈیو فریکوئنسی (آر ایف)، صحت و سلامتی اور دیگر قابلِ اطلاق تکنیکی تقاضے شامل ہیں۔</p>
<p>آلات کی درآمد، تنصیب یا عملی استعمال سے قبل پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ تعمیل کا سرٹیفکیٹ (سی او سی) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔</p>
<p>یہ ضوابط درآمد کنندگان، لائسنس یافتگان، تیار کنندگان، وینڈرز اور صنعت کے دیگر نمائندوں سے مشاورت کے بعد تیار کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق اس ضابطۂ کار کا مقصد عالمی سطح پر مطابقت اور باہمی اتصال کو فروغ دینا، خدمات کے معیار کو بہتر بنانا، مقامی سطح پر ٹیلی کام آلات کی تیاری کی حوصلہ افزائی اور قومی اقتصادی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے کہا کہ ان ضوابط سے پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن نظام کو مزید مستحکم کرنے اور اس شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291011</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Sep 2026 21:55:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/08215009588868f.webp" type="image/webp" medium="image" height="441" width="588">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/08215009588868f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیپ 2026، پاکستانی آئی ٹی برآمد کنندگان کی نظریں خلیجی خطے پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے، جو خلیجی خطے، بالخصوص سعودی عرب میں برآمدات میں اضافے کے امکانات دیکھ رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ لیپ 2026 میں شرکت کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ ہوگا، کیونکہ جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں سے علاقائی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی ایونٹ میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیپ دنیا کے سب سے بڑے اور بااثر ٹیکنالوجی ایونٹس میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر سے ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ یہ ایونٹ 31 اگست سے 3 ستمبر 2026 تک سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیکسا لائز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد شاہ نے کہا کہ لیپ 2026 میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو سعودی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے انتہائی مثبت ردعمل ملا، بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کے تناظر میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) آٹومیشن، سائبر سیکیورٹی اور انٹرپرائز سلوشنز سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد شاہ نے کہا کہ سعودی عرب خلیجی ممالک میں ایک مستحکم اور ترقی کرتا ہوا بازار ہے اور خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست پالیسیوں کی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیکسا لائز کے سی ای او نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں آف شور دفاتر قائم کرنے اور وہاں موجود بڑی پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی کو دیگر ممالک کی کمپنیوں کے مقابلے میں مسابقتی فائدے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے لیپ 2026 میں اپنی کمپنی کا بوتھ قائم کیا تھا، جس کا مقصد اپنی مصنوعات اور خدمات کو متعارف کرانا اور ممکنہ کاروباری مواقع تلاش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایونٹ میں 100 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور تقریباً 1,000 مندوبین نے شرکت کی، جبکہ 18 کمپنیوں نے ’’تھینک ٹیک، تھینک پاکستان‘‘ کے عنوان کے تحت پاکستان پویلین میں اپنے بوتھ قائم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مختلف نوعیت کے حل پیش کیے، جن میں انٹرپرائز سطح کی سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ مائیگریشن اور مینیجڈ سروسز، مصنوعی ذہانت سے لیس ایپلی کیشنز، ذہین آٹومیشن، ڈیٹا اور اینالیٹکس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل حکومتی حل اور بینکنگ، صحت، توانائی، لاجسٹکس، رئیل اسٹیٹ، ریٹیل اور اسمارٹ سٹیز جیسے شعبوں کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی خدمات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن (P@SHA) کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ یہ تیسرا موقع ہے جب پاکستانی کمپنیاں دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ایونٹس میں سے ایک میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ عالمی معیار کی مصنوعات اور خدمات پیش کرکے اپنی موجودگی مزید مضبوط کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی ایونٹس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور فعال شرکت اس صنعت کی عالمی سطح پر مسابقت کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے، بالخصوص جدید ترین مصنوعات اور خدمات کے شعبے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کمپنیوں کو سعودی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھرپور دلچسپی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے شراکت داری، کاروباری مواقع اور ممکنہ سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ توقع ہے کہ اس شرکت سے پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک اہم تبدیلی آئے گی، کیونکہ اس کے ذریعے مقامی کمپنیاں خلیجی خطے اور دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنی خدمات کی برآمدات کو وسعت دے سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف ٹیکنالوجی ماہر سید عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کو سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور مینیجڈ ٹیکنالوجی سروسز میں مہارت حاصل ہے، اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے وژن 2030 پروگرام کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے ساتھ ان تمام شعبوں کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید عبدالقادر نے کہا کہ وسیع تر موقع یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط سعودی-پاک ٹیک برج قائم کیا جائے۔ پاکستانی کمپنیاں مملکت کے وژن 2030 کے عزائم کو تقویت دینے والے ڈیلیوری، جدت اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کا اہم حصہ بن سکتی ہیں، جبکہ سعودی عرب پاکستان کے آئی ٹی شعبے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ترقی کی اہم ترین مارکیٹوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید عبدالقادر نے لیپ میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک پینل مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے قیام کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل رابطوں کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستانی کمپنیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے کہ وہ نہ صرف ہنرمند اور لاگت کے لحاظ سے مسابقتی پیشہ ور افراد بلکہ جدید، قابلِ توسیع اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی ٹیکنالوجی حل بھی فراہم کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مضبوط پاکستان سعودی ٹیکنالوجی پل قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب کے وژن  2030 کے مقاصد کی حمایت کرنے والے ڈیلیوری، جدت اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کا حصہ بن سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 لاکھ سے زائد زائرین، 1,800 عالمی ٹیکنالوجی برانڈز، 600 اسٹارٹ اپس، 1,900 سرمایہ کاروں اور 1,000 سے زائد مقررین کی شرکت کے ساتھ اس ایونٹ نے مملکت میں تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کی خواہش رکھنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے، جو خلیجی خطے، بالخصوص سعودی عرب میں برآمدات میں اضافے کے امکانات دیکھ رہی ہیں۔</strong></p>
<p>آئی ٹی برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ لیپ 2026 میں شرکت کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ ہوگا، کیونکہ جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں سے علاقائی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی ایونٹ میں شرکت کی۔</p>
<p>لیپ دنیا کے سب سے بڑے اور بااثر ٹیکنالوجی ایونٹس میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر سے ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ یہ ایونٹ 31 اگست سے 3 ستمبر 2026 تک سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقد ہوا۔</p>
<p>ہیکسا لائز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد شاہ نے کہا کہ لیپ 2026 میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو سعودی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے انتہائی مثبت ردعمل ملا، بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کے تناظر میں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) آٹومیشن، سائبر سیکیورٹی اور انٹرپرائز سلوشنز سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔</p>
<p>سعد شاہ نے کہا کہ سعودی عرب خلیجی ممالک میں ایک مستحکم اور ترقی کرتا ہوا بازار ہے اور خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست پالیسیوں کی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>ہیکسا لائز کے سی ای او نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب میں آف شور دفاتر قائم کرنے اور وہاں موجود بڑی پاکستانی تارکین وطن کمیونٹی کو دیگر ممالک کی کمپنیوں کے مقابلے میں مسابقتی فائدے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے لیپ 2026 میں اپنی کمپنی کا بوتھ قائم کیا تھا، جس کا مقصد اپنی مصنوعات اور خدمات کو متعارف کرانا اور ممکنہ کاروباری مواقع تلاش کرنا تھا۔</p>
<p>ایونٹ میں 100 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور تقریباً 1,000 مندوبین نے شرکت کی، جبکہ 18 کمپنیوں نے ’’تھینک ٹیک، تھینک پاکستان‘‘ کے عنوان کے تحت پاکستان پویلین میں اپنے بوتھ قائم کیے۔</p>
<p>پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مختلف نوعیت کے حل پیش کیے، جن میں انٹرپرائز سطح کی سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ مائیگریشن اور مینیجڈ سروسز، مصنوعی ذہانت سے لیس ایپلی کیشنز، ذہین آٹومیشن، ڈیٹا اور اینالیٹکس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل حکومتی حل اور بینکنگ، صحت، توانائی، لاجسٹکس، رئیل اسٹیٹ، ریٹیل اور اسمارٹ سٹیز جیسے شعبوں کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی خدمات شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان آئی ٹی ایسوسی ایشن (P@SHA) کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ یہ تیسرا موقع ہے جب پاکستانی کمپنیاں دنیا کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ایونٹس میں سے ایک میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ عالمی معیار کی مصنوعات اور خدمات پیش کرکے اپنی موجودگی مزید مضبوط کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی ایونٹس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور فعال شرکت اس صنعت کی عالمی سطح پر مسابقت کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے، بالخصوص جدید ترین مصنوعات اور خدمات کے شعبے میں۔</p>
<p>پاکستانی کمپنیوں کو سعودی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھرپور دلچسپی حاصل ہوئی ہے اور انہوں نے شراکت داری، کاروباری مواقع اور ممکنہ سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔</p>
<p>سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ توقع ہے کہ اس شرکت سے پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک اہم تبدیلی آئے گی، کیونکہ اس کے ذریعے مقامی کمپنیاں خلیجی خطے اور دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں میں اپنی خدمات کی برآمدات کو وسعت دے سکیں گی۔</p>
<p>معروف ٹیکنالوجی ماہر سید عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان کو سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور مینیجڈ ٹیکنالوجی سروسز میں مہارت حاصل ہے، اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے وژن 2030 پروگرام کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے ساتھ ان تمام شعبوں کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>سید عبدالقادر نے کہا کہ وسیع تر موقع یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط سعودی-پاک ٹیک برج قائم کیا جائے۔ پاکستانی کمپنیاں مملکت کے وژن 2030 کے عزائم کو تقویت دینے والے ڈیلیوری، جدت اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کا اہم حصہ بن سکتی ہیں، جبکہ سعودی عرب پاکستان کے آئی ٹی شعبے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ترقی کی اہم ترین مارکیٹوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔</p>
<p>سید عبدالقادر نے لیپ میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک پینل مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے قیام کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل رابطوں کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستانی کمپنیوں کے لیے اپنی صلاحیتیں ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے کہ وہ نہ صرف ہنرمند اور لاگت کے لحاظ سے مسابقتی پیشہ ور افراد بلکہ جدید، قابلِ توسیع اور بین الاقوامی سطح پر مسابقتی ٹیکنالوجی حل بھی فراہم کرسکتی ہیں۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک مضبوط پاکستان سعودی ٹیکنالوجی پل قائم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب کے وژن  2030 کے مقاصد کی حمایت کرنے والے ڈیلیوری، جدت اور ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کا حصہ بن سکیں گی۔</p>
<p>2 لاکھ سے زائد زائرین، 1,800 عالمی ٹیکنالوجی برانڈز، 600 اسٹارٹ اپس، 1,900 سرمایہ کاروں اور 1,000 سے زائد مقررین کی شرکت کے ساتھ اس ایونٹ نے مملکت میں تجارتی شراکت داریاں قائم کرنے اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کی خواہش رکھنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290829</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 11:14:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0411140010f4ceb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0411140010f4ceb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیپ 2026 : پاکستانی ایڈٹیک اسٹارٹ اپ ایڈورسٹی کو ریپڈِو سے اسٹریٹجک سرمایہ کاری حاصل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290802/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی ایڈٹیک اسٹارٹ اپ  ایڈورسٹی نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ  لیپ 2026 کے موقع پر  ریپڈیو گروپ سے اسٹریٹجک سرمایہ کاری حاصل کرلی ہے، جو سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور عالمی مارکیٹوں میں اپنے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے تعلیمی پلیٹ فارم کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کمپنیوں نے سعودی عرب کے اہم ترین ٹیکنالوجی اور جدت کے ایونٹ میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کے تحت ٹیکنالوجی، تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی پر مرکوز اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستخط کی تقریب میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/03140734a3409b5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/03140734a3409b5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایڈورسٹی کے مطابق اس شراکت داری کے ذریعے اسٹارٹ اپ کو سرمایہ، انجینئرنگ کی صلاحیتوں، انتظامی تجربے اور بین الاقوامی نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے اسے ترقی کے آئندہ  مرحلے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برج اسٹارٹ پاکستان کے ذریعے ایڈورسٹی کو سعودی عرب میں توسیع کے لیے بھی معاونت حاصل ہوئی، جس میں دی گیراج  ایکسیلیریشن پروگرام میں شرکت بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے اسٹارٹ اپ کو سعودی عرب کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم، مارکیٹ کے مواقع، کاروباری نیٹ ورکس اور کاروبار کو وسعت دینے کے ممکنہ راستوں تک رسائی حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں پاکستان میں قائم ہونے والے ایڈورسٹی کو وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے تحت اگنائٹ کی معاونت حاصل ہے۔ اسٹارٹ اپ اب تک 12,500 سے زائد افراد کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا، بلاک چین اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تربیت دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹارٹ اپ کے مطابق منتخب گروپس میں اس کے تربیت یافتہ افراد کے روزگار حاصل کرنے کی شرح 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپڈیو نے کہا کہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری سے ایڈورسٹی کی بین الاقوامی توسیع اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اس کے تعلیمی پلیٹ فارم کی مزید ترقی میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپڈیو نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، جدت کو فروغ دینے اور مستقبل میں نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈورسٹی کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان کے ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی اسٹارٹ اپس عالمی مارکیٹوں کے لیے مؤثر حل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈورسٹی کی ٹیم نے لیپ 2026 میں شرکت کی، جہاں اس نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے مستقبل پر ہونے والی گفتگو میں حصہ لیا۔ ٹیم نے ریپڈیو گروپ آف کمپنیز کے تحت ریپکس اور اولسینس کے ساتھ بھی اپنے منصوبے پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 اگست سے 3 ستمبر تک ریاض میں منعقد ہونے والے لیپ 2026 میں دنیا بھر سے ٹیکنالوجی کے رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور جدت کاروں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپڈیو گروپ ذہین سافٹ ویئر اور محفوظ ہارڈ ویئر تیار اور فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی ایڈٹیک اسٹارٹ اپ  ایڈورسٹی نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ  لیپ 2026 کے موقع پر  ریپڈیو گروپ سے اسٹریٹجک سرمایہ کاری حاصل کرلی ہے، جو سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور عالمی مارکیٹوں میں اپنے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے تعلیمی پلیٹ فارم کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</strong></p>
<p>دونوں کمپنیوں نے سعودی عرب کے اہم ترین ٹیکنالوجی اور جدت کے ایونٹ میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کے تحت ٹیکنالوجی، تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی پر مرکوز اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی جائے گی۔</p>
<p>دستخط کی تقریب میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بھی شرکت کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/03140734a3409b5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/03140734a3409b5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایڈورسٹی کے مطابق اس شراکت داری کے ذریعے اسٹارٹ اپ کو سرمایہ، انجینئرنگ کی صلاحیتوں، انتظامی تجربے اور بین الاقوامی نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے اسے ترقی کے آئندہ  مرحلے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>برج اسٹارٹ پاکستان کے ذریعے ایڈورسٹی کو سعودی عرب میں توسیع کے لیے بھی معاونت حاصل ہوئی، جس میں دی گیراج  ایکسیلیریشن پروگرام میں شرکت بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے اسٹارٹ اپ کو سعودی عرب کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم، مارکیٹ کے مواقع، کاروباری نیٹ ورکس اور کاروبار کو وسعت دینے کے ممکنہ راستوں تک رسائی حاصل ہوئی۔</p>
<p>2021 میں پاکستان میں قائم ہونے والے ایڈورسٹی کو وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے تحت اگنائٹ کی معاونت حاصل ہے۔ اسٹارٹ اپ اب تک 12,500 سے زائد افراد کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا، بلاک چین اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تربیت دے چکا ہے۔</p>
<p>اس اسٹارٹ اپ کے مطابق منتخب گروپس میں اس کے تربیت یافتہ افراد کے روزگار حاصل کرنے کی شرح 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔</p>
<p>ریپڈیو نے کہا کہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری سے ایڈورسٹی کی بین الاقوامی توسیع اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اس کے تعلیمی پلیٹ فارم کی مزید ترقی میں مدد ملے گی۔</p>
<p>ریپڈیو نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، جدت کو فروغ دینے اور مستقبل میں نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>ایڈورسٹی کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان کے ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی اسٹارٹ اپس عالمی مارکیٹوں کے لیے مؤثر حل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ایڈورسٹی کی ٹیم نے لیپ 2026 میں شرکت کی، جہاں اس نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور افرادی قوت کی ترقی کے مستقبل پر ہونے والی گفتگو میں حصہ لیا۔ ٹیم نے ریپڈیو گروپ آف کمپنیز کے تحت ریپکس اور اولسینس کے ساتھ بھی اپنے منصوبے پیش کیے۔</p>
<p>31 اگست سے 3 ستمبر تک ریاض میں منعقد ہونے والے لیپ 2026 میں دنیا بھر سے ٹیکنالوجی کے رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور جدت کاروں نے شرکت کی۔</p>
<p>ریپڈیو گروپ ذہین سافٹ ویئر اور محفوظ ہارڈ ویئر تیار اور فراہم کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290802</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2026 15:29:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/03151514a7bdbf4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/03151514a7bdbf4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاز، فائیو جی پر ایک ہزار سائٹس اپ گریڈ کرنے والا پہلا پاکستانی آپریٹر بن گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290511/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاز پاکستان میں 1,000 سائٹس کو 5G پر اپ گریڈ کرنے والا پہلا موبائل آپریٹر بن گیا ہے، جو ملک میں 5G سروسز کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹر نے 2026 کے اختتام تک 2,500 فعال 5G سائٹس کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آئندہ 3 سے 4 سال کے دوران ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز کی جانب سے شیئر کی گئی پریزنٹیشن کے مطابق یہ سنگ میل اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور فیصل آباد میں تقریباً 180 سائٹس سے 5G سروس کے ابتدائی آغاز کے بعد حاصل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 5G نیٹ ورک ان شہروں میں مزید وسعت اختیار کرنے کے ساتھ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک بھی پہنچا، جس کے بعد ملک بھر میں جاز کی 5G موجودگی 10 شہروں تک پھیل گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد جاز نے اپنے اسپیکٹرم میں مزید 190 میگا ہرٹز کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد کمپنی کا مجموعی اسپیکٹرم 94.4 میگا ہرٹز سے بڑھ کر 284.4 میگا ہرٹز ہوگیا ہے، جو سابقہ گنجائش سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے حاصل کردہ اسپیکٹرم میں 700 میگا ہرٹز بینڈ میں 20 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز میں 50 میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز میں 70 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 50 میگا ہرٹز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز کے مطابق یہ اسپیکٹرم 5G سروسز کی توسیع کے ساتھ 4G صلاحیت میں اضافے کے لیے بھی استعمال ہوگا، جس سے نیٹ ورک کی گنجائش اور کوریج بیک وقت بڑھائی جاسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ توسیع رواں سال پاکستان میں ہونے والی اسپیکٹرم نیلامی کے بعد 5G سروسز کی جانب تیز رفتار منتقلی کے دوران سامنے آئی ہے۔ جاز نے رواں سال کے اختتام تک فعال 5G سائٹس کی تعداد 2,500 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز جی ایس ایم کے صدر کاظم مجتبیٰ نے کہا کہ اس رفتار سے 1,000 5G سائٹس کا سنگ میل عبور کرنا مزید پاکستانیوں تک 5G کے فوائد تیزی سے پہنچانے کے عزم کا اظہار ہے۔ سال کے اختتام تک 2,500 سائٹس تک توسیع کے ساتھ توجہ زیادہ گنجائش، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد رابطے کے ذریعے بہتر ڈیجیٹل تجربہ فراہم کرنے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز ورلڈ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر خالد شہزاد نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر 5G نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے پاکستان میں مختلف نوعیت کی رابطے کی ضروریات کو پورا کرنے والا نیٹ ورک درکار ہے۔ ملٹی بینڈ اسپیکٹرم، جدید ریڈیو ٹیکنالوجی اور جدید انفرااسٹرکچر کو یکجا کرکے وسیع کوریج اور زیادہ گنجائش فراہم کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز نے کہا کہ 2026 کی نیلامی میں اسپیکٹرم کے حصول کی بدولت وہ پاکستان کا متنوع ترین 5G نیٹ ورک تشکیل دے رہا ہے۔ کمپنی نے 700، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز کے چار بینڈز میں مزید 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا، جس سے اس کا مجموعی اسپیکٹرم 284.4 میگا ہرٹز ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ توسیع اسپیکٹرم نیلامی کے بعد جاز کی جانب سے 5G کے فروغ اور ملک بھر میں نیٹ ورک انفرااسٹرکچر مضبوط بنانے کے لیے اعلان کردہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عزم کے بعد پاکستان میں جاز کی مجموعی سرمایہ کاری 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو ملک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور رابطے کے نظام کے لیے کمپنی کے طویل مدتی عزم کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاز پاکستان میں 1,000 سائٹس کو 5G پر اپ گریڈ کرنے والا پہلا موبائل آپریٹر بن گیا ہے، جو ملک میں 5G سروسز کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔</strong></p>
<p>آپریٹر نے 2026 کے اختتام تک 2,500 فعال 5G سائٹس کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آئندہ 3 سے 4 سال کے دوران ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔</p>
<p>جاز کی جانب سے شیئر کی گئی پریزنٹیشن کے مطابق یہ سنگ میل اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور فیصل آباد میں تقریباً 180 سائٹس سے 5G سروس کے ابتدائی آغاز کے بعد حاصل کیا گیا۔</p>
<p>بعد ازاں 5G نیٹ ورک ان شہروں میں مزید وسعت اختیار کرنے کے ساتھ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک بھی پہنچا، جس کے بعد ملک بھر میں جاز کی 5G موجودگی 10 شہروں تک پھیل گئی ہے۔</p>
<p>حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد جاز نے اپنے اسپیکٹرم میں مزید 190 میگا ہرٹز کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد کمپنی کا مجموعی اسپیکٹرم 94.4 میگا ہرٹز سے بڑھ کر 284.4 میگا ہرٹز ہوگیا ہے، جو سابقہ گنجائش سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>نئے حاصل کردہ اسپیکٹرم میں 700 میگا ہرٹز بینڈ میں 20 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز میں 50 میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز میں 70 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز بینڈ میں 50 میگا ہرٹز شامل ہیں۔</p>
<p>جاز کے مطابق یہ اسپیکٹرم 5G سروسز کی توسیع کے ساتھ 4G صلاحیت میں اضافے کے لیے بھی استعمال ہوگا، جس سے نیٹ ورک کی گنجائش اور کوریج بیک وقت بڑھائی جاسکے گی۔</p>
<p>یہ توسیع رواں سال پاکستان میں ہونے والی اسپیکٹرم نیلامی کے بعد 5G سروسز کی جانب تیز رفتار منتقلی کے دوران سامنے آئی ہے۔ جاز نے رواں سال کے اختتام تک فعال 5G سائٹس کی تعداد 2,500 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔</p>
<p>جاز جی ایس ایم کے صدر کاظم مجتبیٰ نے کہا کہ اس رفتار سے 1,000 5G سائٹس کا سنگ میل عبور کرنا مزید پاکستانیوں تک 5G کے فوائد تیزی سے پہنچانے کے عزم کا اظہار ہے۔ سال کے اختتام تک 2,500 سائٹس تک توسیع کے ساتھ توجہ زیادہ گنجائش، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد رابطے کے ذریعے بہتر ڈیجیٹل تجربہ فراہم کرنے پر ہے۔</p>
<p>جاز ورلڈ کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر خالد شہزاد نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر 5G نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے پاکستان میں مختلف نوعیت کی رابطے کی ضروریات کو پورا کرنے والا نیٹ ورک درکار ہے۔ ملٹی بینڈ اسپیکٹرم، جدید ریڈیو ٹیکنالوجی اور جدید انفرااسٹرکچر کو یکجا کرکے وسیع کوریج اور زیادہ گنجائش فراہم کی جارہی ہے۔</p>
<p>جاز نے کہا کہ 2026 کی نیلامی میں اسپیکٹرم کے حصول کی بدولت وہ پاکستان کا متنوع ترین 5G نیٹ ورک تشکیل دے رہا ہے۔ کمپنی نے 700، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز کے چار بینڈز میں مزید 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا، جس سے اس کا مجموعی اسپیکٹرم 284.4 میگا ہرٹز ہوگیا۔</p>
<p>یہ توسیع اسپیکٹرم نیلامی کے بعد جاز کی جانب سے 5G کے فروغ اور ملک بھر میں نیٹ ورک انفرااسٹرکچر مضبوط بنانے کے لیے اعلان کردہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کا حصہ ہے۔</p>
<p>اس عزم کے بعد پاکستان میں جاز کی مجموعی سرمایہ کاری 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو ملک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور رابطے کے نظام کے لیے کمپنی کے طویل مدتی عزم کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290511</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 17:09:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2717023226e17b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2717023226e17b4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے کا ہر پری پیڈ ری چارج پر 180 دن کی میعاد مقرر کرنے کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290508/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ ہر ری چارج یا بیلنس پر پری پیڈ صارفین کو کم از کم 180 دن کی میعاد فراہم کی جائے، جبکہ میعاد ختم ہونے والا بیلنس اگلے ری چارج پر خودکار طور پر دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ لاکھوں پری پیڈ صارفین کو ان کے غیر استعمال شدہ بیلنس کے مستقل طور پر ختم ہونے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 97 فیصد سیلولر موبائل صارفین پری پیڈ ہیں۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ غیر استعمال شدہ بیلنس ضبط ہونے سے بالخصوص کم آمدنی والے صارفین متاثر ہوتے ہیں اور انہیں براہِ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے تحت تمام سیلولر موبائل آپریٹرز کے لیے لازم ہوگا کہ کسی بھی رقم کے ری چارج یا بیلنس پر کم از کم 180 دن کی میعاد فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے مزید ہدایت کی ہے کہ سم کے فعال رہنے کے دوران جس بیلنس کی میعاد ختم ہوجائے، صارف کی جانب سے بعد میں دوبارہ ری چارج کرنے پر وہ بیلنس خودکار طور پر بحال اور قابلِ استعمال کردیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹرز کو فیصلے پر عمل درآمد کے دوران غیر منصفانہ تجارتی طریقے اختیار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں میعاد ختم ہونے کے بعد غیر استعمال شدہ پری پیڈ بیلنس ضبط کیے جانے کی شکایات شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پی ٹی اے نے سیلولر موبائل آپریٹرز، صارفین اور عام شہریوں سے دو تجاویز پر رائے طلب کی تھی۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ پری پیڈ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہے، جبکہ دوسری میں غیر استعمال شدہ بیلنس کو صارف کے شناختی کارڈ  سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاکہ نئی سم پر اسے بحال یا رقم واپس کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کی اکثریت نے پری پیڈ بیلنس کو سم کے فعال رہنے تک مستقل طور پر برقرار رکھنے کی حمایت کی اور اسے صارفین کی محنت کی کمائی قرار دیا۔ ایک بڑی تعداد نے بیلنس کوسی این آئی سی کی سطح پر محفوظ رکھنے اور بعد میں بحالی یا رقم کی واپسی کی بھی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بیشتر سیلولر آپریٹرز نے سی این آئی سی پر مبنی نظام کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تکنیکی پیچیدگیاں، فراڈ کے خطرات، ملکیت کے تنازعات، نظام میں بڑی تبدیلیاں اور اضافی انتظامی و قانونی اخراجات پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز نے پہلی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے پی ٹی اے کو بتایا کہ اس نے پہلے ہی ایسا نظام نافذ کر رکھا ہے جس کے تحت پری پیڈ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب ٹیلی نار نے غیر معینہ مدت تک بیلنس برقرار رکھنے کی مخالفت کی، تاہم بتایا کہ بعد کے ری چارج پر میعاد ختم ہونے والا بیلنس خودکار طور پر بحال کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی ایم ایل اور سی ایم پاک نے بھی غیر معینہ مدت تک بیلنس برقرار رکھنے کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے مستقل مالی ذمہ داریاں پیدا ہوسکتی ہیں، غیر فعال سمز کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اور مالی رپورٹنگ و نمبرز کے انتظام میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز نے اس کے باوجود صارفین کو پری پیڈ بیلنس کے مستقل نقصان سے تحفظ دینے کی اہمیت تسلیم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مثالوں سے بھی پی ٹی اے کے اقدام کو تقویت ملی۔ فیصلے میں برطانیہ میں ووڈافون کے طریقہ کار کا حوالہ دیا گیا، جہاں سم کے فعال رہنے تک پری پیڈ بیلنس برقرار رہتا ہے اور سم بند ہونے کے 60 دن کے اندر صارفین غیر استعمال شدہ بیلنس یا بنڈلز کی رقم واپس لینے کی درخواست کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ بیلنس کی میعاد سے متعلق یہ نظام آپریٹرز کی تجارتی پائیداری متاثر کیے بغیر صارفین کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے واضح کیا کہ ری چارج پر کم از کم میعاد اور میعاد ختم ہونے والے بیلنس کی بحالی ضروری ہے اور یہ طریقہ کار ملکی و بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار سے ہم آہنگ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ ہر ری چارج یا بیلنس پر پری پیڈ صارفین کو کم از کم 180 دن کی میعاد فراہم کی جائے، جبکہ میعاد ختم ہونے والا بیلنس اگلے ری چارج پر خودکار طور پر دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ لاکھوں پری پیڈ صارفین کو ان کے غیر استعمال شدہ بیلنس کے مستقل طور پر ختم ہونے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔</p>
<p>پی ٹی اے کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 97 فیصد سیلولر موبائل صارفین پری پیڈ ہیں۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ غیر استعمال شدہ بیلنس ضبط ہونے سے بالخصوص کم آمدنی والے صارفین متاثر ہوتے ہیں اور انہیں براہِ راست مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p>فیصلے کے تحت تمام سیلولر موبائل آپریٹرز کے لیے لازم ہوگا کہ کسی بھی رقم کے ری چارج یا بیلنس پر کم از کم 180 دن کی میعاد فراہم کریں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے مزید ہدایت کی ہے کہ سم کے فعال رہنے کے دوران جس بیلنس کی میعاد ختم ہوجائے، صارف کی جانب سے بعد میں دوبارہ ری چارج کرنے پر وہ بیلنس خودکار طور پر بحال اور قابلِ استعمال کردیا جائے۔</p>
<p>آپریٹرز کو فیصلے پر عمل درآمد کے دوران غیر منصفانہ تجارتی طریقے اختیار کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں میعاد ختم ہونے کے بعد غیر استعمال شدہ پری پیڈ بیلنس ضبط کیے جانے کی شکایات شامل تھیں۔</p>
<p>اس سے قبل پی ٹی اے نے سیلولر موبائل آپریٹرز، صارفین اور عام شہریوں سے دو تجاویز پر رائے طلب کی تھی۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ پری پیڈ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہے، جبکہ دوسری میں غیر استعمال شدہ بیلنس کو صارف کے شناختی کارڈ  سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاکہ نئی سم پر اسے بحال یا رقم واپس کی جاسکے۔</p>
<p>عوام کی اکثریت نے پری پیڈ بیلنس کو سم کے فعال رہنے تک مستقل طور پر برقرار رکھنے کی حمایت کی اور اسے صارفین کی محنت کی کمائی قرار دیا۔ ایک بڑی تعداد نے بیلنس کوسی این آئی سی کی سطح پر محفوظ رکھنے اور بعد میں بحالی یا رقم کی واپسی کی بھی حمایت کی۔</p>
<p>تاہم بیشتر سیلولر آپریٹرز نے سی این آئی سی پر مبنی نظام کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تکنیکی پیچیدگیاں، فراڈ کے خطرات، ملکیت کے تنازعات، نظام میں بڑی تبدیلیاں اور اضافی انتظامی و قانونی اخراجات پیدا ہوں گے۔</p>
<p>جاز نے پہلی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے پی ٹی اے کو بتایا کہ اس نے پہلے ہی ایسا نظام نافذ کر رکھا ہے جس کے تحت پری پیڈ بیلنس سم کے فعال رہنے تک برقرار رہتا ہے۔ دوسری جانب ٹیلی نار نے غیر معینہ مدت تک بیلنس برقرار رکھنے کی مخالفت کی، تاہم بتایا کہ بعد کے ری چارج پر میعاد ختم ہونے والا بیلنس خودکار طور پر بحال کردیا جاتا ہے۔</p>
<p>پی ٹی ایم ایل اور سی ایم پاک نے بھی غیر معینہ مدت تک بیلنس برقرار رکھنے کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے مستقل مالی ذمہ داریاں پیدا ہوسکتی ہیں، غیر فعال سمز کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اور مالی رپورٹنگ و نمبرز کے انتظام میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے کہا کہ آپریٹرز نے اس کے باوجود صارفین کو پری پیڈ بیلنس کے مستقل نقصان سے تحفظ دینے کی اہمیت تسلیم کی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی مثالوں سے بھی پی ٹی اے کے اقدام کو تقویت ملی۔ فیصلے میں برطانیہ میں ووڈافون کے طریقہ کار کا حوالہ دیا گیا، جہاں سم کے فعال رہنے تک پری پیڈ بیلنس برقرار رہتا ہے اور سم بند ہونے کے 60 دن کے اندر صارفین غیر استعمال شدہ بیلنس یا بنڈلز کی رقم واپس لینے کی درخواست کرسکتے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے نتیجہ اخذ کیا کہ بیلنس کی میعاد سے متعلق یہ نظام آپریٹرز کی تجارتی پائیداری متاثر کیے بغیر صارفین کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے واضح کیا کہ ری چارج پر کم از کم میعاد اور میعاد ختم ہونے والے بیلنس کی بحالی ضروری ہے اور یہ طریقہ کار ملکی و بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار سے ہم آہنگ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290508</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 16:40:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2716283752246cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="370" width="556">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2716283752246cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے قدرتی وسائل ٹریلین ڈالر کی کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی مارکیٹ کھولنے کی صلاحیت کے حامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290500/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں متنوع حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل موجود ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں عالمی کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ یہ مارکیٹ ایک کھرب ڈالر مالیت کے اثاثہ جاتی طبقے کے طور پر ابھر چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی سی سی ڈی) میں کلائمیٹ فنانس، بائیو ڈائیورسٹی، کاربن کریڈٹس اور ٹوکنائزیشن کے لیے حال ہی میں مقرر کیے گئے خصوصی مشیر فراز خان نے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/9kPAZmhmvVs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/9kPAZmhmvVs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کے ذریعے قدر پیدا کرنے کے لیے اپنے حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان نے کہا کہ کاربن کریڈٹس اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس ایک کھرب ڈالر مالیت کے اثاثہ جاتی طبقے کے طور پر ابھر چکے ہیں۔ پاکستان کے حیاتیاتی تنوع پر مبنی ماحولیاتی نظام میں اس قدر زیادہ مواقع موجود ہیں کہ اسے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اس سے مالی قدر پیدا کی جاسکتی ہے اور مثبت اثرات بھی مرتب کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان کو 2023 میں برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے خدمات کے اعتراف میں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر  سے نوازا گیا تھا۔ وہ پائیداری کے شعبے سے وابستہ ماہر ہیں اور اس میدان میں 2 دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پاکستانی وراثت ان کے نئے عہدے میں ایک اہم اثاثہ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ بائیو ڈائیورسٹی ایک وسیع تر تصور ہے جو کاربن کریڈٹس سے آگے بڑھ کر پانی، جنگلات، غذائی تحفظ اور سرکلری سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کاربن مارکیٹس کاروباری اداروں کو اپنے اخراج میں کمی لانے یا اس کی تلافی کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈی کاربنائزیشن سے مراد اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کاروبار یا صنعت اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا چاہے اور اس مقصد کے لیے ضوابط یا اپنے طے کردہ اہداف کے مطابق اقدامات کرے تاکہ اپنے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لائی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آف سیٹنگ کے ذریعے کاروباری ادارے باقی ماندہ اخراج کی تلافی ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے کرتے ہیں جن میں جنگلات اور قدرت پر مبنی دیگر اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان کے مطابق پاکستان کو اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاربن منصوبوں کی ایک رجسٹری قائم کرنے اور کاربن کریڈٹس کے معیار کی مضبوط تصدیق کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب میں قائم کیے گئے ایکسچینجز، جہاں رضاکارانہ کاربن مارکیٹ (وی سی ایم) شروع کی گئی ہے اور مقامی اداروں کے اخراج کی تلافی کے لیے کاربن کریڈٹس خریدے جاتے ہیں، کو پاکستان میں بھی نقل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ، فنڈز، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور دیگر اداروں کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا تاکہ اس نوعیت کی ایکسچینجز قائم کی جاسکیں اور کاربن و بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان موسمیاتی اہداف کے حصول، گرین سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کے لیے اپنی کاربن مارکیٹ کو ایک اہم حکمت عملی کے طور پر فعال طور پر ترقی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2024 میں وفاقی کابینہ نے کاربن مارکیٹ میں تجارت کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دی تھی۔ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت وفاقی رہنما اصولوں کی منظوری کے بعد پاکستان کی کاربن مارکیٹس 2025 کے اوائل میں فعال ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال حکومت پاکستان نے ضروری سرمایہ حاصل کرنے کے لیے اپنا پہلا خودمختار گرین سکوک بھی جاری کیا۔ فراز خان نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف سکوک پاکستان میں کلائمیٹ فنانس سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس طرح کا ایک مالیاتی ذریعہ شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان نے کہا کہ پاکستان کا ریگولیٹری ماحول بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پاکستان گرین ٹیکسانومی، گرین بینکنگ گائیڈ لائنز اور آئی ایف آر ایس ایس ون اور ایس ٹو بھی نافذ ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کے مطابق پاکستان کو ایسے منصوبے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ سرمایہ کاری ہوں، اور یہی بین الاقوامی کلائمیٹ کیپیٹل حاصل کرنے میں ایک بڑا چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے، وہ ایسے قابلِ عمل اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی ایک پائپ لائن تیار کرنا ہے جو عالمی دائرہ ہائے اختیار، سرمایہ کاروں کے مینڈیٹ اور مقامی ضوابط سے بھی ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ لہٰذا ایسے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی تشکیل اور پھر انہیں درست مینڈیٹ رکھنے والے مناسب سرمایہ کاروں تک پہنچانا اگلا قدم ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اس سفر کا آغاز کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فراز خان کے مطابق کلائمیٹ فنانس محض مالی منافع حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں لچک پذیری ، ماحولیاتی اثرات میں کمی اور موسمیاتی موافقت کے ذریعے قابلِ پیمائش مثبت اثرات پیدا کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بائیو ڈائیورسٹی فنانس پر توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ پالیسی ساز اور سرمایہ کار فطرت سے متعلق خطرات کو تیزی سے تسلیم کر رہے ہیں۔ جون میں نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ حیاتیاتی تنوع میں کمی اور ماحولیاتی نظام کی تباہی کے خودمختار قرضوں کی کریڈٹ حیثیت اور مالیاتی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر 83 ٹریلین ڈالر کے خودمختار قرضے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے موقع اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ملک کے ابھرتے ہوئے کلائمیٹ فنانس ایکو سسٹم کو او آئی سی ممالک، یعنی سعودی عرب  اور شام  کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان نے کہا کہ آج کی دنیا میں پاکستان کا برانڈ اور اس کی پوزیشن یقینی طور پر ایک ایسی طاقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا برانڈ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ہم ایک بہت، بہت اچھی جگہ پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئی سی سی ڈی میں اپنے کردار کے لیے 3 فوری ترجیحات کی نشاندہی کی: علم کے خلا کو پُر کرنا اور کلائمیٹ فنانس کے تصورات کو آسان بنانا، موزوں منصوبوں کی جانب کلائمیٹ فنانس سرمایہ کاروں کو متحرک کرنا، اور حقیقی مالی لین دین  کو ممکن بنانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراز خان نے کہا کہ تاریخی طور پر کلائمیٹ ٹرانزیشن اور کلائمیٹ فنانس کے بارے میں بہت بات کی جاتی رہی ہے، لیکن حقیقی لین دین کا حجم ان گفتگوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کی صلاحیت کو قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنا اس موقع کو حقیقی مالیاتی بہاؤ میں بدلنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں متنوع حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل موجود ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں عالمی کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹ مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ یہ مارکیٹ ایک کھرب ڈالر مالیت کے اثاثہ جاتی طبقے کے طور پر ابھر چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی سی سی ڈی) میں کلائمیٹ فنانس، بائیو ڈائیورسٹی، کاربن کریڈٹس اور ٹوکنائزیشن کے لیے حال ہی میں مقرر کیے گئے خصوصی مشیر فراز خان نے کیا۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/9kPAZmhmvVs'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/9kPAZmhmvVs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کاربن اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کے ذریعے قدر پیدا کرنے کے لیے اپنے حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔</p>
<p>فراز خان نے کہا کہ کاربن کریڈٹس اور بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس ایک کھرب ڈالر مالیت کے اثاثہ جاتی طبقے کے طور پر ابھر چکے ہیں۔ پاکستان کے حیاتیاتی تنوع پر مبنی ماحولیاتی نظام میں اس قدر زیادہ مواقع موجود ہیں کہ اسے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، اس سے مالی قدر پیدا کی جاسکتی ہے اور مثبت اثرات بھی مرتب کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>فراز خان کو 2023 میں برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کے لیے خدمات کے اعتراف میں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر  سے نوازا گیا تھا۔ وہ پائیداری کے شعبے سے وابستہ ماہر ہیں اور اس میدان میں 2 دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پاکستانی وراثت ان کے نئے عہدے میں ایک اہم اثاثہ ثابت ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ بائیو ڈائیورسٹی ایک وسیع تر تصور ہے جو کاربن کریڈٹس سے آگے بڑھ کر پانی، جنگلات، غذائی تحفظ اور سرکلری سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کاربن مارکیٹس کاروباری اداروں کو اپنے اخراج میں کمی لانے یا اس کی تلافی کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈی کاربنائزیشن سے مراد اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کاروبار یا صنعت اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا چاہے اور اس مقصد کے لیے ضوابط یا اپنے طے کردہ اہداف کے مطابق اقدامات کرے تاکہ اپنے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لائی جاسکے۔</p>
<p>دوسری جانب آف سیٹنگ کے ذریعے کاروباری ادارے باقی ماندہ اخراج کی تلافی ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے کرتے ہیں جن میں جنگلات اور قدرت پر مبنی دیگر اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>فراز خان کے مطابق پاکستان کو اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاربن منصوبوں کی ایک رجسٹری قائم کرنے اور کاربن کریڈٹس کے معیار کی مضبوط تصدیق کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ سعودی عرب میں قائم کیے گئے ایکسچینجز، جہاں رضاکارانہ کاربن مارکیٹ (وی سی ایم) شروع کی گئی ہے اور مقامی اداروں کے اخراج کی تلافی کے لیے کاربن کریڈٹس خریدے جاتے ہیں، کو پاکستان میں بھی نقل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>فراز خان نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج ، فنڈز، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور دیگر اداروں کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا تاکہ اس نوعیت کی ایکسچینجز قائم کی جاسکیں اور کاربن و بائیو ڈائیورسٹی کریڈٹس کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔</p>
<p>ان کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان موسمیاتی اہداف کے حصول، گرین سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی کے لیے اپنی کاربن مارکیٹ کو ایک اہم حکمت عملی کے طور پر فعال طور پر ترقی دے رہا ہے۔</p>
<p>دسمبر 2024 میں وفاقی کابینہ نے کاربن مارکیٹ میں تجارت کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دی تھی۔ پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت وفاقی رہنما اصولوں کی منظوری کے بعد پاکستان کی کاربن مارکیٹس 2025 کے اوائل میں فعال ہوگئیں۔</p>
<p>گزشتہ سال حکومت پاکستان نے ضروری سرمایہ حاصل کرنے کے لیے اپنا پہلا خودمختار گرین سکوک بھی جاری کیا۔ فراز خان نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف سکوک پاکستان میں کلائمیٹ فنانس سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اس طرح کا ایک مالیاتی ذریعہ شروع کرنے کی پوزیشن میں ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دے سکتا ہے۔</p>
<p>فراز خان نے کہا کہ پاکستان کا ریگولیٹری ماحول بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پاکستان گرین ٹیکسانومی، گرین بینکنگ گائیڈ لائنز اور آئی ایف آر ایس ایس ون اور ایس ٹو بھی نافذ ہوچکے ہیں۔</p>
<p>تاہم ان کے مطابق پاکستان کو ایسے منصوبے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ سرمایہ کاری ہوں، اور یہی بین الاقوامی کلائمیٹ کیپیٹل حاصل کرنے میں ایک بڑا چیلنج ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے، وہ ایسے قابلِ عمل اور قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی ایک پائپ لائن تیار کرنا ہے جو عالمی دائرہ ہائے اختیار، سرمایہ کاروں کے مینڈیٹ اور مقامی ضوابط سے بھی ہم آہنگ ہوں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ لہٰذا ایسے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی تشکیل اور پھر انہیں درست مینڈیٹ رکھنے والے مناسب سرمایہ کاروں تک پہنچانا اگلا قدم ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اس سفر کا آغاز کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔</p>
<p>تاہم فراز خان کے مطابق کلائمیٹ فنانس محض مالی منافع حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں لچک پذیری ، ماحولیاتی اثرات میں کمی اور موسمیاتی موافقت کے ذریعے قابلِ پیمائش مثبت اثرات پیدا کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بائیو ڈائیورسٹی فنانس پر توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ پالیسی ساز اور سرمایہ کار فطرت سے متعلق خطرات کو تیزی سے تسلیم کر رہے ہیں۔ جون میں نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ حیاتیاتی تنوع میں کمی اور ماحولیاتی نظام کی تباہی کے خودمختار قرضوں کی کریڈٹ حیثیت اور مالیاتی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر 83 ٹریلین ڈالر کے خودمختار قرضے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>فراز خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے موقع اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ملک کے ابھرتے ہوئے کلائمیٹ فنانس ایکو سسٹم کو او آئی سی ممالک، یعنی سعودی عرب  اور شام  کے سرمایہ کاروں کے ساتھ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑا جائے۔</p>
<p>فراز خان نے کہا کہ آج کی دنیا میں پاکستان کا برانڈ اور اس کی پوزیشن یقینی طور پر ایک ایسی طاقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا برانڈ پاکستان کے نقطۂ نظر سے ہم ایک بہت، بہت اچھی جگہ پر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے آئی سی سی ڈی میں اپنے کردار کے لیے 3 فوری ترجیحات کی نشاندہی کی: علم کے خلا کو پُر کرنا اور کلائمیٹ فنانس کے تصورات کو آسان بنانا، موزوں منصوبوں کی جانب کلائمیٹ فنانس سرمایہ کاروں کو متحرک کرنا، اور حقیقی مالی لین دین  کو ممکن بنانا۔</p>
<p>فراز خان نے کہا کہ تاریخی طور پر کلائمیٹ ٹرانزیشن اور کلائمیٹ فنانس کے بارے میں بہت بات کی جاتی رہی ہے، لیکن حقیقی لین دین کا حجم ان گفتگوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کی صلاحیت کو قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کرنا اس موقع کو حقیقی مالیاتی بہاؤ میں بدلنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290500</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 15:33:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمدصالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/27152813d0b9b85.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/27152813d0b9b85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی روبوٹ نے آزمائشی دوڑ میں یوسین بولٹ کا 100 میٹر کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290329/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی اسمارٹ فون ساز کمپنی آنر کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.32 سیکنڈ میں مکمل کرکے جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا انسانی عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی سرکاری نشریاتی ادارے نے ہفتے کے روز رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’لائٹننگ‘‘ نامی روبوٹ نے دوسری عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کی تیاری کے لیے ہونے والے آزمائشی مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی۔ یہ کھیل ہفتے کو بیجنگ میں شروع ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبوٹ کی کارکردگی نے بولٹ کے 2009 میں برلن میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں قائم کیے گئے مردوں کے 100 میٹر کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک اہم ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک صنعت کے طور پر فروغ دے رہا ہے، جہاں پالیسی ساز اور کمپنیاں اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر میں پیش رفت سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین سے متعلق شعبوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائٹننگ نے اپریل میں بیجنگ ہاف میراتھن، 21 کلومیٹر کی دوڑ بھی 50 منٹ 26 سیکنڈ میں جیتی تھی، جو انسانی ایلیٹ ایتھلیٹس کے عالمی ریکارڈ کی رفتار سے بھی تیز تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کے مطابق ہاف میراتھن کے وقت روبوٹ کا قد 169 سینٹی میٹر اور ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔ عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز سے قبل محققین نے اس کی ٹانگوں کی لمبائی میں مزید 10 سینٹی میٹر اضافہ کرکے اسے 1.05 میٹر کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی اسمارٹ فون ساز کمپنی آنر کے تیار کردہ ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.32 سیکنڈ میں مکمل کرکے جمیکا کے عظیم ایتھلیٹ یوسین بولٹ کا انسانی عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔</strong></p>
<p>چین کی سرکاری نشریاتی ادارے نے ہفتے کے روز رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’لائٹننگ‘‘ نامی روبوٹ نے دوسری عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کی تیاری کے لیے ہونے والے آزمائشی مقابلے میں زیادہ سے زیادہ 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصل کی۔ یہ کھیل ہفتے کو بیجنگ میں شروع ہوئے۔</p>
<p>روبوٹ کی کارکردگی نے بولٹ کے 2009 میں برلن میں ہونے والی عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں قائم کیے گئے مردوں کے 100 میٹر کے 9.58 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔</p>
<p>چین ہیومنائیڈ روبوٹس کو ایک اہم ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک صنعت کے طور پر فروغ دے رہا ہے، جہاں پالیسی ساز اور کمپنیاں اس امید پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہارڈویئر میں پیش رفت سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صارفین سے متعلق شعبوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیز ہوگا۔</p>
<p>لائٹننگ نے اپریل میں بیجنگ ہاف میراتھن، 21 کلومیٹر کی دوڑ بھی 50 منٹ 26 سیکنڈ میں جیتی تھی، جو انسانی ایلیٹ ایتھلیٹس کے عالمی ریکارڈ کی رفتار سے بھی تیز تھی۔</p>
<p>چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کے مطابق ہاف میراتھن کے وقت روبوٹ کا قد 169 سینٹی میٹر اور ٹانگوں کی لمبائی 95 سینٹی میٹر تھی۔ عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز سے قبل محققین نے اس کی ٹانگوں کی لمبائی میں مزید 10 سینٹی میٹر اضافہ کرکے اسے 1.05 میٹر کردیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290329</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Aug 2026 20:58:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/222053494079daa.webp" type="image/webp" medium="image" height="434" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/222053494079daa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں فائیو جی کی تنصیب، ٹیلی کام آپریٹرز کی 178.6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290291/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز نے فائیو جی سروسز کے آغاز کے لیے تقریباً 178.6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ ملک بھر میں 1,136 سائٹس کو فائیو جی کے لیے اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک جاز نے فائیو جی کی تنصیب پر 59.67 ملین ڈالر، زونگ نے 98.9 ملین ڈالر جبکہ یوفون نے تقریباً 20 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے بتایا کہ اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق حکومت کی 6 جنوری 2026 کی پالیسی ہدایت میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے فائیو جی  کی تنصیب کی خاطر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا کوئی مخصوص ہدف مقرر نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ سرمایہ کاری کے تخمینوں کے مطابق مالی سال 2027 کے دوران جاز فائیو جی کی تنصیب پر مزید 30.33 ملین ڈالر جبکہ زونگ 39.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق یوفون کی مالی سال 2027 کی سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار انضمام سے متعلق سرگرمیاں مکمل ہونے کے بعد فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا موبائل آپریٹرز نے پاکستان بھر میں مجموعی طور پر 1,136 سائٹس کو فائیو جی کے لیے اپ گریڈ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ فائیوجی کی تنصیب سے متعلق حکومت کی جانب سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا کوئی مخصوص ہدف مقرر نہ کیے جانے کے باوجود آپریٹرز نئی نسل کی موبائل کنیکٹیویٹی کو وسعت دینے کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مارچ 2026 میں  فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی تھی، جس کے بعد ملک میں نئی نسل کی موبائل سروسز کے تجارتی آغاز کی راہ ہموار ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیلی کام آپریٹرز نے فائیو جی سروسز کے آغاز کے لیے تقریباً 178.6 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ ملک بھر میں 1,136 سائٹس کو فائیو جی کے لیے اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔</strong></p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک جاز نے فائیو جی کی تنصیب پر 59.67 ملین ڈالر، زونگ نے 98.9 ملین ڈالر جبکہ یوفون نے تقریباً 20 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔</p>
<p>وزارت نے بتایا کہ اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق حکومت کی 6 جنوری 2026 کی پالیسی ہدایت میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے فائیو جی  کی تنصیب کی خاطر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کا کوئی مخصوص ہدف مقرر نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>موبائل آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ سرمایہ کاری کے تخمینوں کے مطابق مالی سال 2027 کے دوران جاز فائیو جی کی تنصیب پر مزید 30.33 ملین ڈالر جبکہ زونگ 39.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔</p>
<p>وزارت کے مطابق یوفون کی مالی سال 2027 کی سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار انضمام سے متعلق سرگرمیاں مکمل ہونے کے بعد فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>دریں اثنا موبائل آپریٹرز نے پاکستان بھر میں مجموعی طور پر 1,136 سائٹس کو فائیو جی کے لیے اپ گریڈ کر دیا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ فائیوجی کی تنصیب سے متعلق حکومت کی جانب سے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا کوئی مخصوص ہدف مقرر نہ کیے جانے کے باوجود آپریٹرز نئی نسل کی موبائل کنیکٹیویٹی کو وسعت دینے کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے مارچ 2026 میں  فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی تھی، جس کے بعد ملک میں نئی نسل کی موبائل سروسز کے تجارتی آغاز کی راہ ہموار ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290291</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2026 19:08:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/21190446d1aabdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/21190446d1aabdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل نے پاکستان میں آن لائن سیفٹی کے فروغ کیلئے ڈیجیٹل پاسبان کا آغاز کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گوگل نے پاکستان میں ڈیجیٹل پاسبان کا آغاز کردیا ہے اور گوگل ڈاٹ او آر جی کے ذریعے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کے تحت دو لاکھ گھرانوں کو اردو زبان میں ڈیجیٹل سیفٹی ٹولز، والدین کے لیے ورکشاپس اور اے آئی سیفٹی کے وسائل فراہم کیے جائیں گے، جن کا مقصد خاندانوں کو بڑھتے ہوئے آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے جمعرات کو ڈیجیٹل پاسبان کے نام سے ایک قومی اقدام متعارف کرایا، جس کے تحت ملک بھر کے گھروں تک عملی آن لائن سیفٹی ٹولز براہ راست پہنچائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیف رہو ود گوگل تقریب میں متعارف کرایا گیا ڈیجیٹل پاسبان اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ والدین اور بچوں کو بااختیار بنایا جاسکے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ خاندان تعلیم، تفریح اور روزمرہ کے کاموں کے لیے آن لائن دنیا سے منسلک ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد  دولاکھ گھرانوں تک مقامی ضروریات کے مطابق تیار کردہ اردو ٹول کٹس، رہنمائی پر مبنی ویڈیوز اور عملی تربیت پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک گیر اس کوشش میں اہم شراکت دار شامل ہیں، جن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ٹیک ویلی، بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، جاز ورلڈ اور ہم نیٹ ورک شامل ہیں۔ اس اقدام کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل پاسبان آن لائن سیفٹی ٹولز کو ڈیجیٹل لٹریسی کے ساتھ جوڑتا ہے اور اس کی توجہ 4 بنیادی ستونوں پر مرکوز ہے:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;فیملی لنک: یہ والدین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مفت پیرنٹل کنٹرول ایپ کے ذریعے اسکرین ٹائم، ایپس کی منظوری، مواد کے فلٹرز اور ڈیوائس کی لوکیشن سمیت بنیادی امور کو کنٹرول کرسکیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یوٹیوب: یہ عمر کے لحاظ سے موزوں مواد کی سیٹنگز اور وقت کے انتظام کے لیے ٹیک اے بریک اور بیڈ ٹائم ریمائنڈرز جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ان کنٹرولز کی بنیاد پر ایک صنعتی سطح کی پہلی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے والدین یہ طے کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے شارٹس کتنے وقت تک دیکھ سکتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت کو صفر بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے خاندانوں کو یہ سہولت ملتی ہے کہ جب بچوں اور نوعمروں کو پڑھائی یا اسکول کے کام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہو تو مختصر ویڈیو مواد کو مکمل طور پر روک سکیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بی انٹرنیٹ اوسم: یہ ڈیجیٹل شہریت کے تصور کو 7 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایسے مواد میں تبدیل کرتا ہے جسے وہ حقیقتاً دریافت کرنا پسند کریں۔ یہ پروگرام 5 بنیادی اصولوں پر مبنی ہے: احتیاط کے ساتھ معلومات شیئر کرنا، فراڈ سے بچنا، پاس ورڈز کو محفوظ رکھنا، دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا اور خدشات کی رپورٹ کرنا۔ یہ عادات انٹرایکٹو آن لائن گیم انٹرلینڈ کے ذریعے مزید مضبوط کی جاتی ہیں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;جیمنائی: یہ والدین کو اپنے بچوں کی جانب سے اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی رہنمائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ گوگل کے اسسٹنٹ کو خاندانوں کے سامنے ایک ٹول کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ کسی ساتھی یا انسان کے طور پر۔ نابالغ افراد کے لیے اس میں حفاظتی اقدامات موجود ہیں، جو نقصان دہ کرداروں کے طور پر رول پلے کو محدود کرتے اور نامناسب مواد کو روکتے ہیں۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ جیمنائی کا گائیڈڈ لرننگ فیچر اے آئی ٹیوٹرنگ موڈ کے طور پر کام کرتا ہے، جو طلبہ کو پیچیدہ موضوعات سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ براہ راست جواب دینے کے بجائے ہدفی سوالات پوچھتا، مسائل کو مرحلہ وار تقسیم کرتا اور بصری معاونت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل پاسبان براڈکاسٹ میڈیا، ایس ایم ایس الرٹس، شراکت داروں کی سوشل میڈیا مہمات اور اسکولوں میں ٹاؤن ہالز کے ذریعے آن لائن سیفٹی کو براہ راست مقامی کمیونٹیز تک پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ والدین اور سرپرستوں کے لیے سیفٹی کلینکس ہیں، جہاں خاندان انٹرایکٹو اور عملی ورکشاپس کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ سیکھ سکیں گے۔ والدین مل کر حقیقی زندگی سے متعلق آن لائن سیفٹی صورتحال سے نمٹنے کی مشق کرسکیں گے، جس سے بچوں کو آن لائن سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل لٹریسی اور مشترکہ اعتماد پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ  گوگل ڈاٹ او آر جی ملک بھر میں شواہد پر مبنی ڈیجیٹل سٹیزن شپ اور اے آئی سیفٹی پروگرامز کو وسعت دینے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ فنڈنگ نوجوانوں اور بالغ افراد کو صحت مند آن لائن عادات اپنانے اور ڈیجیٹل خطرات سے اعتماد کے ساتھ نمٹنے کے لیے ضروری ٹولز فراہم کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ڈیجیٹل پاسبان گوگل کے ساتھ پاکستان کے بچوں اور خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ عملی ٹولز، مقامی ضروریات کے مطابق وسائل اور اسکولوں کی سطح پر رابطے کے ذریعے یہ اقدام والدین کو اپنے بچوں کو زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل تجربات کی جانب رہنمائی کرنے کے لیے بااختیار بنائے گا۔انہوں نے اس اہم ملک گیر کوشش میں گوگل اور تمام شراکت دار اداروں کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے لیے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ایکو سسٹم مسلسل ترقی کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ سیکھنے، تخلیق کرنے اور رابطے میں رہنے کے لیے آن لائن آرہے ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کا مطلب بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنا نہیں بلکہ اس میں ان کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ گوگل اس عزم کو ایسے پروڈکٹس تیار کرکے پورا کرتا ہے جو پہلے سے محفوظ اور سکیور بنائے جاتے ہیں، اور ہم ڈیجیٹل پاسبان جیسے اقدامات کے ذریعے اس بنیاد کو مزید مضبوط کرتے ہیں تاکہ خاندانوں کو ضروری ڈیجیٹل لٹریسی سے بااختیار بنایا جاسکے۔ جس طرح ایک بچے کی پرورش کے لیے پورے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح پاکستان کے ہر خاندان کو اعتماد کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیک ویلی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عمر فاروق نے کہا کہ ایک دہائی سے ٹیک ویلی پاکستان کے کلاس رومز تک دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی پہنچانے کے لیے کام کررہی ہے، لیکن صرف رسائی کافی نہیں ہے۔ ملک بھر کے والدین ہمیں ایک ہی بات بتاتے ہیں: ڈیجیٹل دنیا اس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے جس رفتار سے وہ اپنے بچوں کی رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہیں، اور یہی خلا پریشانی کو جنم دیتا ہے۔ ڈیجیٹل پاسبان اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ سیفٹی کلینکس، والدین کے لیے ٹول کٹس اور عملی رہنمائی کے ذریعے یہ اقدام تشویش کو اعتماد میں تبدیل کرتا ہے، ایسی رہنمائی جو خاندان سیکھنے کے اسی دن استعمال کرسکتے ہیں۔ دو لاکھ گھرانوں تک پہنچنا ہمارے سفر کا آغاز ہے، اختتام نہیں، اور ہم پاکستان بھر کے ہر والدین اور استاد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر زیادہ محفوظ ڈیجیٹل مستقبل تشکیل دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر ابراہیم نے کہا کہ ڈیجیٹل پاسبان والدین اور بچوں تک عملی سیفٹی ٹولز، آگاہی اور رہنمائی پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں گوگل اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے تاکہ زیادہ محفوظ، جامع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کی تعمیر میں مدد کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل پاسبان پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں گوگل کی طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل سفر اقدام کے ذریعے گوگل اب تک تین لاکھ سے زائد طلبہ اور 5,000 اساتذہ کو ڈیجیٹل سٹیزن شپ کی تربیت دے چکا ہے۔ اس پروگرام میں بی انٹرنیٹ اوسم کے مواد کو جیمنائی اکیڈمی کی تربیت کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بنیاد کو پنجاب حکومت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جس کے تحت پنجاب کی وزارتِ تعلیم کو گوگل فار ایجوکیشن پر منتقل کیا گیا اور 1.5 ملین طلبہ تک محفوظ، اے آئی سے چلنے والے تعلیمی ٹولز اور سیفٹی نصاب پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گوگل نے پاکستان میں ڈیجیٹل پاسبان کا آغاز کردیا ہے اور گوگل ڈاٹ او آر جی کے ذریعے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کے تحت دو لاکھ گھرانوں کو اردو زبان میں ڈیجیٹل سیفٹی ٹولز، والدین کے لیے ورکشاپس اور اے آئی سیفٹی کے وسائل فراہم کیے جائیں گے، جن کا مقصد خاندانوں کو بڑھتے ہوئے آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستانی خاندانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے میں مدد دینے کے لیے گوگل نے جمعرات کو ڈیجیٹل پاسبان کے نام سے ایک قومی اقدام متعارف کرایا، جس کے تحت ملک بھر کے گھروں تک عملی آن لائن سیفٹی ٹولز براہ راست پہنچائے جائیں گے۔</p>
<p>سیف رہو ود گوگل تقریب میں متعارف کرایا گیا ڈیجیٹل پاسبان اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ والدین اور بچوں کو بااختیار بنایا جاسکے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ خاندان تعلیم، تفریح اور روزمرہ کے کاموں کے لیے آن لائن دنیا سے منسلک ہورہے ہیں۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد  دولاکھ گھرانوں تک مقامی ضروریات کے مطابق تیار کردہ اردو ٹول کٹس، رہنمائی پر مبنی ویڈیوز اور عملی تربیت پہنچانا ہے۔</p>
<p>ملک گیر اس کوشش میں اہم شراکت دار شامل ہیں، جن میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ٹیک ویلی، بیکن ہاؤس اسکول سسٹم، جاز ورلڈ اور ہم نیٹ ورک شامل ہیں۔ اس اقدام کو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل پاسبان آن لائن سیفٹی ٹولز کو ڈیجیٹل لٹریسی کے ساتھ جوڑتا ہے اور اس کی توجہ 4 بنیادی ستونوں پر مرکوز ہے:</p>
<ul>
<li>فیملی لنک: یہ والدین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مفت پیرنٹل کنٹرول ایپ کے ذریعے اسکرین ٹائم، ایپس کی منظوری، مواد کے فلٹرز اور ڈیوائس کی لوکیشن سمیت بنیادی امور کو کنٹرول کرسکیں۔</li>
<li>یوٹیوب: یہ عمر کے لحاظ سے موزوں مواد کی سیٹنگز اور وقت کے انتظام کے لیے ٹیک اے بریک اور بیڈ ٹائم ریمائنڈرز جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ان کنٹرولز کی بنیاد پر ایک صنعتی سطح کی پہلی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے والدین یہ طے کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے شارٹس کتنے وقت تک دیکھ سکتے ہیں، حتیٰ کہ اس وقت کو صفر بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے خاندانوں کو یہ سہولت ملتی ہے کہ جب بچوں اور نوعمروں کو پڑھائی یا اسکول کے کام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہو تو مختصر ویڈیو مواد کو مکمل طور پر روک سکیں۔</li>
<li>بی انٹرنیٹ اوسم: یہ ڈیجیٹل شہریت کے تصور کو 7 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ایسے مواد میں تبدیل کرتا ہے جسے وہ حقیقتاً دریافت کرنا پسند کریں۔ یہ پروگرام 5 بنیادی اصولوں پر مبنی ہے: احتیاط کے ساتھ معلومات شیئر کرنا، فراڈ سے بچنا، پاس ورڈز کو محفوظ رکھنا، دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا اور خدشات کی رپورٹ کرنا۔ یہ عادات انٹرایکٹو آن لائن گیم انٹرلینڈ کے ذریعے مزید مضبوط کی جاتی ہیں۔</li>
<li>جیمنائی: یہ والدین کو اپنے بچوں کی جانب سے اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کی رہنمائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ گوگل کے اسسٹنٹ کو خاندانوں کے سامنے ایک ٹول کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ کسی ساتھی یا انسان کے طور پر۔ نابالغ افراد کے لیے اس میں حفاظتی اقدامات موجود ہیں، جو نقصان دہ کرداروں کے طور پر رول پلے کو محدود کرتے اور نامناسب مواد کو روکتے ہیں۔</li>
</ul>
<p>اس کے علاوہ جیمنائی کا گائیڈڈ لرننگ فیچر اے آئی ٹیوٹرنگ موڈ کے طور پر کام کرتا ہے، جو طلبہ کو پیچیدہ موضوعات سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ براہ راست جواب دینے کے بجائے ہدفی سوالات پوچھتا، مسائل کو مرحلہ وار تقسیم کرتا اور بصری معاونت فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل پاسبان براڈکاسٹ میڈیا، ایس ایم ایس الرٹس، شراکت داروں کی سوشل میڈیا مہمات اور اسکولوں میں ٹاؤن ہالز کے ذریعے آن لائن سیفٹی کو براہ راست مقامی کمیونٹیز تک پہنچائے گا۔</p>
<p>اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ والدین اور سرپرستوں کے لیے سیفٹی کلینکس ہیں، جہاں خاندان انٹرایکٹو اور عملی ورکشاپس کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ سیکھ سکیں گے۔ والدین مل کر حقیقی زندگی سے متعلق آن لائن سیفٹی صورتحال سے نمٹنے کی مشق کرسکیں گے، جس سے بچوں کو آن لائن سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل لٹریسی اور مشترکہ اعتماد پیدا ہوگا۔</p>
<p>اس کے علاوہ  گوگل ڈاٹ او آر جی ملک بھر میں شواہد پر مبنی ڈیجیٹل سٹیزن شپ اور اے آئی سیفٹی پروگرامز کو وسعت دینے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔ مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر یہ فنڈنگ نوجوانوں اور بالغ افراد کو صحت مند آن لائن عادات اپنانے اور ڈیجیٹل خطرات سے اعتماد کے ساتھ نمٹنے کے لیے ضروری ٹولز فراہم کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ڈیجیٹل پاسبان گوگل کے ساتھ پاکستان کے بچوں اور خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ عملی ٹولز، مقامی ضروریات کے مطابق وسائل اور اسکولوں کی سطح پر رابطے کے ذریعے یہ اقدام والدین کو اپنے بچوں کو زیادہ محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل تجربات کی جانب رہنمائی کرنے کے لیے بااختیار بنائے گا۔انہوں نے اس اہم ملک گیر کوشش میں گوگل اور تمام شراکت دار اداروں کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے لیے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل ایکو سسٹم مسلسل ترقی کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ سیکھنے، تخلیق کرنے اور رابطے میں رہنے کے لیے آن لائن آرہے ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کا مطلب بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھنا نہیں بلکہ اس میں ان کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ گوگل اس عزم کو ایسے پروڈکٹس تیار کرکے پورا کرتا ہے جو پہلے سے محفوظ اور سکیور بنائے جاتے ہیں، اور ہم ڈیجیٹل پاسبان جیسے اقدامات کے ذریعے اس بنیاد کو مزید مضبوط کرتے ہیں تاکہ خاندانوں کو ضروری ڈیجیٹل لٹریسی سے بااختیار بنایا جاسکے۔ جس طرح ایک بچے کی پرورش کے لیے پورے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح پاکستان کے ہر خاندان کو اعتماد کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔</p>
<p>ٹیک ویلی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عمر فاروق نے کہا کہ ایک دہائی سے ٹیک ویلی پاکستان کے کلاس رومز تک دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی پہنچانے کے لیے کام کررہی ہے، لیکن صرف رسائی کافی نہیں ہے۔ ملک بھر کے والدین ہمیں ایک ہی بات بتاتے ہیں: ڈیجیٹل دنیا اس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے جس رفتار سے وہ اپنے بچوں کی رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہیں، اور یہی خلا پریشانی کو جنم دیتا ہے۔ ڈیجیٹل پاسبان اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ سیفٹی کلینکس، والدین کے لیے ٹول کٹس اور عملی رہنمائی کے ذریعے یہ اقدام تشویش کو اعتماد میں تبدیل کرتا ہے، ایسی رہنمائی جو خاندان سیکھنے کے اسی دن استعمال کرسکتے ہیں۔ دو لاکھ گھرانوں تک پہنچنا ہمارے سفر کا آغاز ہے، اختتام نہیں، اور ہم پاکستان بھر کے ہر والدین اور استاد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر زیادہ محفوظ ڈیجیٹل مستقبل تشکیل دیں۔</p>
<p>جاز ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر ابراہیم نے کہا کہ ڈیجیٹل پاسبان والدین اور بچوں تک عملی سیفٹی ٹولز، آگاہی اور رہنمائی پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہمیں گوگل اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے تاکہ زیادہ محفوظ، جامع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار پاکستان کی تعمیر میں مدد کی جاسکے۔</p>
<p>ڈیجیٹل پاسبان پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں گوگل کی طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل سفر اقدام کے ذریعے گوگل اب تک تین لاکھ سے زائد طلبہ اور 5,000 اساتذہ کو ڈیجیٹل سٹیزن شپ کی تربیت دے چکا ہے۔ اس پروگرام میں بی انٹرنیٹ اوسم کے مواد کو جیمنائی اکیڈمی کی تربیت کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس بنیاد کو پنجاب حکومت کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جس کے تحت پنجاب کی وزارتِ تعلیم کو گوگل فار ایجوکیشن پر منتقل کیا گیا اور 1.5 ملین طلبہ تک محفوظ، اے آئی سے چلنے والے تعلیمی ٹولز اور سیفٹی نصاب پہنچایا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290269</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Aug 2026 14:13:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2114111677b6090.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2114111677b6090.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے اور گوگل کا پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے فروغ کے لیے معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290230/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور گوگل ایل ایل سی نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں، والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والوں میں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال، ڈیجیٹل تحفظ اور آگاہی کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت پی ٹی اے اور گوگل چائلڈ سیفٹی پروگرام کے لیے باہمی تعاون کریں گے، جس کا محور آگاہی، تعلیم اور استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ اس پروگرام کے ذریعے والدین اور اساتذہ کو عملی وسائل اور رہنمائی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ انداز میں سرگرم رہنے میں مدد دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم اقدامات میں انگریزی اور مقامی زبانوں میں آگاہی پر مبنی مواد تیار کرنا، تعلیمی اداروں میں تربیتی پروگرام منعقد کرنا اور ملک گیر آگاہی مہم کی معاونت شامل ہے۔ اس مہم کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو مقامی ضروریات کے مطابق آن لائن تحفظ سے متعلق وسائل اور رہنما مواد تک رسائی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچے اکثر جنسی اور پرتشدد مواد، اپنی عمر کے لیے نامناسب مواد اور دیگر نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ انہیں بطور کانٹینٹ کری ایٹر بھی استحصال کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے یا بالغ افراد کی جانب سے نامناسب رابطے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی)، یونیسیف اور ٹیلی نار پاکستان کے تعاون سے فروری 2024 میں والدین کے لیے رہنما کتابچہ  ڈیجیٹل دور میں اپنے بچے کا تحفظ  بھی جاری کیا تھا، جس میں نگہداشت کرنے والوں کے لیے رہنمائی اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق پالیسی بریف شامل تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور گوگل ایل ایل سی نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے۔</strong></p>
<p>پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں، والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والوں میں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال، ڈیجیٹل تحفظ اور آگاہی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت پی ٹی اے اور گوگل چائلڈ سیفٹی پروگرام کے لیے باہمی تعاون کریں گے، جس کا محور آگاہی، تعلیم اور استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ اس پروگرام کے ذریعے والدین اور اساتذہ کو عملی وسائل اور رہنمائی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ انداز میں سرگرم رہنے میں مدد دے سکیں۔</p>
<p>اہم اقدامات میں انگریزی اور مقامی زبانوں میں آگاہی پر مبنی مواد تیار کرنا، تعلیمی اداروں میں تربیتی پروگرام منعقد کرنا اور ملک گیر آگاہی مہم کی معاونت شامل ہے۔ اس مہم کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو مقامی ضروریات کے مطابق آن لائن تحفظ سے متعلق وسائل اور رہنما مواد تک رسائی فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>بچے اکثر جنسی اور پرتشدد مواد، اپنی عمر کے لیے نامناسب مواد اور دیگر نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ انہیں بطور کانٹینٹ کری ایٹر بھی استحصال کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے یا بالغ افراد کی جانب سے نامناسب رابطے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی)، یونیسیف اور ٹیلی نار پاکستان کے تعاون سے فروری 2024 میں والدین کے لیے رہنما کتابچہ  ڈیجیٹل دور میں اپنے بچے کا تحفظ  بھی جاری کیا تھا، جس میں نگہداشت کرنے والوں کے لیے رہنمائی اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق پالیسی بریف شامل تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290230</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Aug 2026 16:38:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/20163335f96b91d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/20163335f96b91d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے فری لانسرز کی آمدنی میں سالانہ 45 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فری لانس خدمات کے ذریعے حاصل ہونے والی برآمدی آمدنی جولائی 2026 میں بڑھ کر 175.439 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ جولائی 2025 میں یہ 120.556 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح فری لانس خدمات سے برآمدی وصولیوں میں 54.883 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 45.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2026 میں فری لانسرز کی آئی ٹی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھ کر 106.778 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ نان آئی ٹی خدمات سے 68.661 ملین ڈالر حاصل ہوئے۔ جولائی 2025 میں آئی ٹی خدمات سے فری لانس آمدنی 89.872 ملین ڈالر جبکہ نان آئی ٹی خدمات سے آمدنی 30.684 ملین ڈالر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پافلا) کے چیئرمین اور بانی ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور میکرو اکنامک اشاریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لہٰذا قومی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں فری لانسرز کا کردار گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ ان کی لگن، مہارت اور ثابت قدمی نے متعدد مسائل اور چیلنجز کے باوجود ملک کے لیے خاطر خواہ زرمبادلہ کمانے میں انہیں کامیاب بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم امین نے بتایا کہ تقریباً 30 لاکھ پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 کے دوران 1.7 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا، جو ان کی صلاحیت، عزم اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جز وقتی فری لانسرز موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا بھر میں فری لانسرز کی چوتھی سب سے بڑی کمیونٹی رکھنے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پافلا-کی-جانب-سے-فری-لانسرز-کے-لیے-قومی-اعزازات-کی-تقریب" href="#پافلا-کی-جانب-سے-فری-لانسرز-کے-لیے-قومی-اعزازات-کی-تقریب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پافلا کی جانب سے فری لانسرز کے لیے قومی اعزازات کی تقریب&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پافلا 29 اگست کو گورنر ہاؤس سندھ میں ملک کی پہلی فری لانسرز ایوارڈز تقریب منعقد کرے گی، جس کا مقصد پاکستانی فری لانسرز کی خدمات اور کامیابیوں، اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ پیدا کرنے میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر سندھ نہال ہاشمی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، جبکہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظمین کے مطابق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فری لانسرز کو ان کی کارکردگی، پیشہ ورانہ کامیابیوں اور زرمبادلہ پیدا کرکے پاکستان کی معیشت میں کردار کے اعتراف میں اعزازات دیے جائیں گے۔ خواتین فری لانسرز کی کامیابیوں کے اعتراف کے لیے بھی ایک الگ کیٹیگری متعارف کرائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پافلا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے فری لانسرز کو پاکستان کے گمنام ہیروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مسلسل کوششوں، محنت اور ثابت قدمی کے ذریعے قومی معیشت میں قیمتی کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پافلا فری لانسرز ایوارڈز پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل افرادی قوت کو قومی سطح پر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور عالمی گِگ اکانومی میں دستیاب مواقع کو اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ فری لانسرز کی خدمات کا اعتراف نہ صرف ان کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرے گا بلکہ طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کو زیادہ طلب والے شعبوں میں مہارتیں حاصل کرنے اور فری لانسنگ کو ایک پائیدار پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب بھی دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فری لانس خدمات کے ذریعے حاصل ہونے والی برآمدی آمدنی جولائی 2026 میں بڑھ کر 175.439 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ جولائی 2025 میں یہ 120.556 ملین ڈالر تھی۔ اس طرح فری لانس خدمات سے برآمدی وصولیوں میں 54.883 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 45.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>جولائی 2026 میں فری لانسرز کی آئی ٹی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی بڑھ کر 106.778 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ نان آئی ٹی خدمات سے 68.661 ملین ڈالر حاصل ہوئے۔ جولائی 2025 میں آئی ٹی خدمات سے فری لانس آمدنی 89.872 ملین ڈالر جبکہ نان آئی ٹی خدمات سے آمدنی 30.684 ملین ڈالر رہی تھی۔</p>
<p>پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پافلا) کے چیئرمین اور بانی ابراہیم امین نے کہا کہ فری لانسرز نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور میکرو اکنامک اشاریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لہٰذا قومی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں فری لانسرز کا کردار گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ ان کی لگن، مہارت اور ثابت قدمی نے متعدد مسائل اور چیلنجز کے باوجود ملک کے لیے خاطر خواہ زرمبادلہ کمانے میں انہیں کامیاب بنایا ہے۔</p>
<p>ابراہیم امین نے بتایا کہ تقریباً 30 لاکھ پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 2025-26 کے دوران 1.7 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا، جو ان کی صلاحیت، عزم اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کا عکاس ہے۔</p>
<p>ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جز وقتی فری لانسرز موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دنیا بھر میں فری لانسرز کی چوتھی سب سے بڑی کمیونٹی رکھنے والا ملک ہے۔</p>
<h3><a id="پافلا-کی-جانب-سے-فری-لانسرز-کے-لیے-قومی-اعزازات-کی-تقریب" href="#پافلا-کی-جانب-سے-فری-لانسرز-کے-لیے-قومی-اعزازات-کی-تقریب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پافلا کی جانب سے فری لانسرز کے لیے قومی اعزازات کی تقریب</h3>
<p>پافلا 29 اگست کو گورنر ہاؤس سندھ میں ملک کی پہلی فری لانسرز ایوارڈز تقریب منعقد کرے گی، جس کا مقصد پاکستانی فری لانسرز کی خدمات اور کامیابیوں، اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ پیدا کرنے میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔</p>
<p>گورنر سندھ نہال ہاشمی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، جبکہ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوں گی۔</p>
<p>منتظمین کے مطابق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فری لانسرز کو ان کی کارکردگی، پیشہ ورانہ کامیابیوں اور زرمبادلہ پیدا کرکے پاکستان کی معیشت میں کردار کے اعتراف میں اعزازات دیے جائیں گے۔ خواتین فری لانسرز کی کامیابیوں کے اعتراف کے لیے بھی ایک الگ کیٹیگری متعارف کرائی گئی ہے۔</p>
<p>پافلا کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے فری لانسرز کو پاکستان کے گمنام ہیروز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مسلسل کوششوں، محنت اور ثابت قدمی کے ذریعے قومی معیشت میں قیمتی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پافلا فری لانسرز ایوارڈز پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل افرادی قوت کو قومی سطح پر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور عالمی گِگ اکانومی میں دستیاب مواقع کو اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر عمران بٹاڈا نے کہا کہ فری لانسرز کی خدمات کا اعتراف نہ صرف ان کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرے گا بلکہ طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد کو زیادہ طلب والے شعبوں میں مہارتیں حاصل کرنے اور فری لانسنگ کو ایک پائیدار پیشہ اختیار کرنے کی ترغیب بھی دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290205</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Aug 2026 10:18:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/2010163760c02fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/2010163760c02fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلز ٹیکس میں اضافے کے بعد کیا پاکستان نے سورینٹو کی قیمتیں 12 لاکھ روپے تک بڑھا دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290105/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں کیا گاڑیوں کی اسمبلر اور ڈسٹری بیوٹر لکی موٹر کارپوریشن (ایل ایم سی) نے سیلز ٹیکس میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے سورینٹو ماڈلز کی قیمتوں میں 12 لاکھ روپے تک اضافہ کردیا ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں اسپورٹیج اور سورینٹو کے نئے ہائبرڈ ویریئنٹس بھی متعارف کرا دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایم سی کی جانب سے جاری کردہ صارفین کے لیے نوٹس کے مطابق کمپنی نے حالیہ سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے اثرات کا بیشتر حصہ خود برداشت کیا ہے تاکہ صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے متعارف کرائے گئے اسپورٹیج ایل 1.6 ٹی ایف ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 21 لاکھ 99 ہزار روپے جبکہ اسپورٹیج ایل 1.6 ٹی اے ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 32 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے سابقہ اسپورٹیج ایل الفا ماڈل کی فروخت بند کردی ہے، جس کی قیمت 78 لاکھ 99 ہزار روپے تھی۔ اسی طرح اسپورٹیج ایل 1.6 ٹی ایف ڈبلیو ڈی ایچ ای وی، جو پہلے 1 کروڑ 12 لاکھ 99 ہزار روپے میں دستیاب تھی، بھی بند کردی گئی ہے۔ اسپورٹیج ایل 2.0 ایل ایف ڈبلیو ڈی، جس کی سابقہ قیمت 1 کروڑ 4 لاکھ 99 ہزار روپے تھی، اب محدود اسٹاک کی بنیاد پر دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایم سی کے مطابق نئے اسپورٹیج ایل فیس لفٹ میں آل وہیل ڈرائیو کی سہولت، ازسرِنو ڈیزائن کیا گیا بیرونی حلیہ، اسٹار میپ ڈی آر ایل لائٹس، سامنے اور عقب کے ڈیزائن میں تبدیلی، نئے الائے رم اور مکمل بلیک گلاس اسکرٹنگ شامل ہیں۔ اندرونی حصے میں آل بلیک تھیم کے ساتھ الکانٹارا فنش، میموری فنکشن والی گرم اور ہوادار نشستیں اور نیا دو اسپوک اسٹیئرنگ وہیل دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سورینٹو 1.6 ٹی ایف ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 52 لاکھ 99 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 62 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے، جبکہ سورینٹو 1.6 ٹی اے ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 66 لاکھ 99 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 78 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سورینٹو 3.5 ایل وی 6 کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور یہ 1 کروڑ 36 لاکھ 49 ہزار روپے میں دستیاب رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایم سی نے سورینٹو 1.6 ٹی اے ڈبلیو ڈی پی ایچ ای وی بھی متعارف کرائی ہے، جس کی قیمت 1 کروڑ 89 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق پلگ اِن ہائبرڈ ویریئنٹ صارفین کو ایندھن دوبارہ بھرانے کی ضرورت کے درمیان زیادہ فاصلہ طے کرنے کی سہولت دے گا، جبکہ اس میں انٹرنل کمبسشن انجن، ہائبرڈ اور مکمل الیکٹرک تینوں صلاحیتیں یکجا کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/172322532198863.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/172322532198863.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایل ایم سی کے مطابق حالیہ ٹیکس اثرات کے باوجود نظرثانی شدہ قیمتوں کا مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ قدر فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ ڈیلیوری کے وقت لاگو ہونے والی کوئی بھی نئی یا اضافی ڈیوٹی، ٹیکس یا حکومت کی جانب سے عائد کردہ دیگر چارجز صارف کو ادا کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس فیکٹری قیمتوں میں مال برداری اور انشورنس کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایم سی نے مزید کہا کہ 15 اگست 2026 کے بعد کی جانے والی بکنگز پر مساوی ماہانہ اقساط (ای ایم آئی) کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں کیا گاڑیوں کی اسمبلر اور ڈسٹری بیوٹر لکی موٹر کارپوریشن (ایل ایم سی) نے سیلز ٹیکس میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے سورینٹو ماڈلز کی قیمتوں میں 12 لاکھ روپے تک اضافہ کردیا ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں اسپورٹیج اور سورینٹو کے نئے ہائبرڈ ویریئنٹس بھی متعارف کرا دیے ہیں۔</strong></p>
<p>ایل ایم سی کی جانب سے جاری کردہ صارفین کے لیے نوٹس کے مطابق کمپنی نے حالیہ سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے اثرات کا بیشتر حصہ خود برداشت کیا ہے تاکہ صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا جاسکے۔</p>
<p>نئے متعارف کرائے گئے اسپورٹیج ایل 1.6 ٹی ایف ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 21 لاکھ 99 ہزار روپے جبکہ اسپورٹیج ایل 1.6 ٹی اے ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 32 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے سابقہ اسپورٹیج ایل الفا ماڈل کی فروخت بند کردی ہے، جس کی قیمت 78 لاکھ 99 ہزار روپے تھی۔ اسی طرح اسپورٹیج ایل 1.6 ٹی ایف ڈبلیو ڈی ایچ ای وی، جو پہلے 1 کروڑ 12 لاکھ 99 ہزار روپے میں دستیاب تھی، بھی بند کردی گئی ہے۔ اسپورٹیج ایل 2.0 ایل ایف ڈبلیو ڈی، جس کی سابقہ قیمت 1 کروڑ 4 لاکھ 99 ہزار روپے تھی، اب محدود اسٹاک کی بنیاد پر دستیاب ہوگی۔</p>
<p>ایل ایم سی کے مطابق نئے اسپورٹیج ایل فیس لفٹ میں آل وہیل ڈرائیو کی سہولت، ازسرِنو ڈیزائن کیا گیا بیرونی حلیہ، اسٹار میپ ڈی آر ایل لائٹس، سامنے اور عقب کے ڈیزائن میں تبدیلی، نئے الائے رم اور مکمل بلیک گلاس اسکرٹنگ شامل ہیں۔ اندرونی حصے میں آل بلیک تھیم کے ساتھ الکانٹارا فنش، میموری فنکشن والی گرم اور ہوادار نشستیں اور نیا دو اسپوک اسٹیئرنگ وہیل دیا گیا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، سورینٹو 1.6 ٹی ایف ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 52 لاکھ 99 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 62 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے، جبکہ سورینٹو 1.6 ٹی اے ڈبلیو ڈی ایچ ای وی کی قیمت 1 کروڑ 66 لاکھ 99 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ 78 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے۔</p>
<p>سورینٹو 3.5 ایل وی 6 کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور یہ 1 کروڑ 36 لاکھ 49 ہزار روپے میں دستیاب رہے گی۔</p>
<p>ایل ایم سی نے سورینٹو 1.6 ٹی اے ڈبلیو ڈی پی ایچ ای وی بھی متعارف کرائی ہے، جس کی قیمت 1 کروڑ 89 لاکھ 99 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق پلگ اِن ہائبرڈ ویریئنٹ صارفین کو ایندھن دوبارہ بھرانے کی ضرورت کے درمیان زیادہ فاصلہ طے کرنے کی سہولت دے گا، جبکہ اس میں انٹرنل کمبسشن انجن، ہائبرڈ اور مکمل الیکٹرک تینوں صلاحیتیں یکجا کی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/172322532198863.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/172322532198863.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ایل ایم سی کے مطابق حالیہ ٹیکس اثرات کے باوجود نظرثانی شدہ قیمتوں کا مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ قدر فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ ڈیلیوری کے وقت لاگو ہونے والی کوئی بھی نئی یا اضافی ڈیوٹی، ٹیکس یا حکومت کی جانب سے عائد کردہ دیگر چارجز صارف کو ادا کرنا ہوں گے۔</p>
<p>ایکس فیکٹری قیمتوں میں مال برداری اور انشورنس کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔</p>
<p>ایل ایم سی نے مزید کہا کہ 15 اگست 2026 کے بعد کی جانے والی بکنگز پر مساوی ماہانہ اقساط (ای ایم آئی) کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290105</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Aug 2026 23:52:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/1723241800c32a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/1723241800c32a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’جناح-1‘ کے نام سے منسوب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289953/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کو باضابطہ طور پر ’’جناح-1‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے، پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے جمعرات کو اعلان کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نام ملک بھر میں منعقدہ نام رکھنے کے مقابلے میں موصول ہونے والی 4 ہزار سے زائد تجاویز کا جامع جائزہ لینے کے بعد جیوری نے منتخب کیا۔ مقابلے میں عوام کی بھرپور دلچسپی نے پاکستان کے خلائی تحقیق کے پروگرام میں گہری عوامی دلچسپی کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے مطابق سات شرکاء نے ’’جناح-1‘‘ نام تجویز کیا تھا، جس کے بعد ان شرکاء میں منصفانہ طور پر فاتح کے انتخاب کے لیے ایک خصوصی تقریب کے دوران قرعہ اندازی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان نے شہریوں کی پُرجوش شرکت کو سراہا اور بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام پر قمری گاڑی کا نام رکھنے کی قومی اہمیت اجاگر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’جناح-1 محض ایک نام نہیں بلکہ عزم، استقامت اور ترقی کی جستجو کی علامت ہے، جن کا مظاہرہ ہمارے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے کیا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’اپنی پہلی قمری گاڑی کا نام ان کے نام پر رکھ کر ہم دنیا کو ایک مضبوط پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان ان کی میراث، عزم، محنت اور قیادت کو نئی جہتوں، بالخصوص خلائی تحقیق کے میدان، تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے مطابق جناح-1 کو چین کے چانگ ای-8 مشن کے تحت 2029 میں چاند کے قطبِ جنوبی کی جانب روانہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تیار کی جانے والی یہ قمری گاڑی جدید سائنسی آلات سے لیس ہوگی، جو چاند کے پلازما اور تابکاری کا مطالعہ کرنے، سطحِ قمر کے جغرافیائی خدوخال کا نقشہ تیار کرنے اور مستقبل میں چاند پر تحقیق اور انسانوں کی پائیدار موجودگی کے لیے اہم تجربات انجام دینے میں مدد دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن خلائی سائنس اور چاند کی تحقیق کے میدان میں پاکستان کی صلاحیتیں بڑھانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کو باضابطہ طور پر ’’جناح-1‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے، پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے جمعرات کو اعلان کیا۔</strong></p>
<p>یہ نام ملک بھر میں منعقدہ نام رکھنے کے مقابلے میں موصول ہونے والی 4 ہزار سے زائد تجاویز کا جامع جائزہ لینے کے بعد جیوری نے منتخب کیا۔ مقابلے میں عوام کی بھرپور دلچسپی نے پاکستان کے خلائی تحقیق کے پروگرام میں گہری عوامی دلچسپی کو اجاگر کیا۔</p>
<p>سپارکو کے مطابق سات شرکاء نے ’’جناح-1‘‘ نام تجویز کیا تھا، جس کے بعد ان شرکاء میں منصفانہ طور پر فاتح کے انتخاب کے لیے ایک خصوصی تقریب کے دوران قرعہ اندازی کی گئی۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان نے شہریوں کی پُرجوش شرکت کو سراہا اور بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے نام پر قمری گاڑی کا نام رکھنے کی قومی اہمیت اجاگر کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’جناح-1 محض ایک نام نہیں بلکہ عزم، استقامت اور ترقی کی جستجو کی علامت ہے، جن کا مظاہرہ ہمارے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے کیا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’اپنی پہلی قمری گاڑی کا نام ان کے نام پر رکھ کر ہم دنیا کو ایک مضبوط پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان ان کی میراث، عزم، محنت اور قیادت کو نئی جہتوں، بالخصوص خلائی تحقیق کے میدان، تک لے جانے کے لیے تیار ہے۔‘‘</p>
<p>سپارکو کے مطابق جناح-1 کو چین کے چانگ ای-8 مشن کے تحت 2029 میں چاند کے قطبِ جنوبی کی جانب روانہ کیا جائے گا۔</p>
<p>ملک میں تیار کی جانے والی یہ قمری گاڑی جدید سائنسی آلات سے لیس ہوگی، جو چاند کے پلازما اور تابکاری کا مطالعہ کرنے، سطحِ قمر کے جغرافیائی خدوخال کا نقشہ تیار کرنے اور مستقبل میں چاند پر تحقیق اور انسانوں کی پائیدار موجودگی کے لیے اہم تجربات انجام دینے میں مدد دیں گے۔</p>
<p>یہ مشن خلائی سائنس اور چاند کی تحقیق کے میدان میں پاکستان کی صلاحیتیں بڑھانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289953</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 22:31:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/13221737a9e8803.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/13221737a9e8803.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے نے ای سم کی نئی قیمتوں اور منتقلی کی پالیسی کا اعلان کردیا، وسط اگست سے اطلاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) سے مشاورت کے بعد ای سم سروسز سے متعلق چارجز کو معقول بناتے ہوئے ای سم کے ابتدائی اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1,500 روپے مقرر کردی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت صارفین اپنی ای سم کو ہم آہنگ موبائل فونز کے درمیان 10 مرتبہ تک مفت منتقل کرسکیں گے، جبکہ نظرثانی شدہ پالیسی کا اطلاق اگست 2026 کے وسط تک کردیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں سامنے آئی ہے، جس نے ٹیلی کام ریگولیٹر کو صارف دوست ای سم منتقلی کی نظرثانی شدہ پالیسی حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تھی، جس کا مقصد غیر ضروری طور پر کسٹمر سروس سینٹرز کے چکر لگانے کی ضرورت کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت بھی ایک ای سم کو اصل خریداری اور ایکٹیویشن کے وقت جاری کیے گئے اسی کیو آر کوڈ کے ذریعے ایک موبائل فون سے دوسرے فون میں مخصوص تعداد میں منتقل کیا جاسکتا ہے، جس پر کوئی اضافی فیس عائد نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سی ایم اوز سے مشاورت کے بعد ریگولیٹر نے اب چارجز کے ڈھانچے کو باضابطہ طور پر معقول بناتے ہوئے ای سم کے ابتدائی اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1,500 روپے کردی ہے، جبکہ صارفین کو ای سم کو 10 ڈیوائسز تک مفت منتقل کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ نظرثانی شدہ فریم ورک رواں ماہ کے وسط تک نافذ العمل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی کمیٹی نے پی ٹی اے کو یہ ہدایت بھی کی تھی کہ وہ ایک محفوظ ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کرے، جس کے ذریعے صارفین کو کسٹمر سروس سینٹرز کا رخ کیے بغیر ہم آہنگ ڈیوائسز کے درمیان ای سم منتقل کرنے کی سہولت حاصل ہو، جبکہ سکیورٹی کے مضبوط معیارات بھی یقینی بنائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور سیلولر آپریٹرز کے ساتھ مل کر صارفین کی تصدیق کا ملٹی فیکٹر نظام متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد سم کے اجرا اور ملکیت کی تصدیق کے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر کے مطابق اس حوالے سے اس وقت دو تجاویز زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی تجویز کے تحت نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سم کے اجرا کی سہولت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس اقدام سے اہل صارفین کو دور بیٹھے اپنی شناخت کی تصدیق مکمل کرنے کی سہولت ملے گی اور روایتی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری تجویز میں سیلولر آپریٹرز کی موبائل ایپس کے ذریعے سیلف سروس بائیومیٹرک تصدیق متعارف کرانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت صارفین سم کے اجرا اور متعلقہ خدمات کے لیے آپریٹرز کی ایپس کے ذریعے نادرا کے ڈیٹا بیس سے اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے بتایا کہ دونوں اقدامات کے تکنیکی اور عملی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے نادرا اور سی ایم اوز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ریگولیٹر کو خصوصی طور پر ہدایت کی تھی کہ نئے تصدیقی نظام میں چہرے کی شناخت اور آنکھ کی پتلی (آئرس) کی تصدیق کی ٹیکنالوجیز شامل کی جائیں، جبکہ بزرگ شہریوں، معذور افراد اور ایسے دیگر صارفین کے لیے بھی سہولت فراہم کی جائے جنہیں روایتی بائیومیٹرک تصدیق میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) سے مشاورت کے بعد ای سم سروسز سے متعلق چارجز کو معقول بناتے ہوئے ای سم کے ابتدائی اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1,500 روپے مقرر کردی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت صارفین اپنی ای سم کو ہم آہنگ موبائل فونز کے درمیان 10 مرتبہ تک مفت منتقل کرسکیں گے، جبکہ نظرثانی شدہ پالیسی کا اطلاق اگست 2026 کے وسط تک کردیا جائے گا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ایک پارلیمانی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں سامنے آئی ہے، جس نے ٹیلی کام ریگولیٹر کو صارف دوست ای سم منتقلی کی نظرثانی شدہ پالیسی حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تھی، جس کا مقصد غیر ضروری طور پر کسٹمر سروس سینٹرز کے چکر لگانے کی ضرورت کم کرنا ہے۔</p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق موجودہ طریقہ کار کے تحت بھی ایک ای سم کو اصل خریداری اور ایکٹیویشن کے وقت جاری کیے گئے اسی کیو آر کوڈ کے ذریعے ایک موبائل فون سے دوسرے فون میں مخصوص تعداد میں منتقل کیا جاسکتا ہے، جس پر کوئی اضافی فیس عائد نہیں ہوتی۔</p>
<p>تاہم سی ایم اوز سے مشاورت کے بعد ریگولیٹر نے اب چارجز کے ڈھانچے کو باضابطہ طور پر معقول بناتے ہوئے ای سم کے ابتدائی اجرا کی زیادہ سے زیادہ فیس 1,500 روپے کردی ہے، جبکہ صارفین کو ای سم کو 10 ڈیوائسز تک مفت منتقل کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ نظرثانی شدہ فریم ورک رواں ماہ کے وسط تک نافذ العمل ہوجائے گا۔</p>
<p>پارلیمانی کمیٹی نے پی ٹی اے کو یہ ہدایت بھی کی تھی کہ وہ ایک محفوظ ڈیجیٹل طریقہ کار وضع کرے، جس کے ذریعے صارفین کو کسٹمر سروس سینٹرز کا رخ کیے بغیر ہم آہنگ ڈیوائسز کے درمیان ای سم منتقل کرنے کی سہولت حاصل ہو، جبکہ سکیورٹی کے مضبوط معیارات بھی یقینی بنائے جائیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں، پی ٹی اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور سیلولر آپریٹرز کے ساتھ مل کر صارفین کی تصدیق کا ملٹی فیکٹر نظام متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد سم کے اجرا اور ملکیت کی تصدیق کے سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر کے مطابق اس حوالے سے اس وقت دو تجاویز زیر غور ہیں۔</p>
<p>پہلی تجویز کے تحت نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سم کے اجرا کی سہولت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس اقدام سے اہل صارفین کو دور بیٹھے اپنی شناخت کی تصدیق مکمل کرنے کی سہولت ملے گی اور روایتی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ضرورت کم ہوجائے گی۔</p>
<p>دوسری تجویز میں سیلولر آپریٹرز کی موبائل ایپس کے ذریعے سیلف سروس بائیومیٹرک تصدیق متعارف کرانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت صارفین سم کے اجرا اور متعلقہ خدمات کے لیے آپریٹرز کی ایپس کے ذریعے نادرا کے ڈیٹا بیس سے اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں گے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے بتایا کہ دونوں اقدامات کے تکنیکی اور عملی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے نادرا اور سی ایم اوز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ریگولیٹر کو خصوصی طور پر ہدایت کی تھی کہ نئے تصدیقی نظام میں چہرے کی شناخت اور آنکھ کی پتلی (آئرس) کی تصدیق کی ٹیکنالوجیز شامل کی جائیں، جبکہ بزرگ شہریوں، معذور افراد اور ایسے دیگر صارفین کے لیے بھی سہولت فراہم کی جائے جنہیں روایتی بائیومیٹرک تصدیق میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289706</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 01:25:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/080121445a89343.webp" type="image/webp" medium="image" height="682" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/080121445a89343.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا کے اے آئی ماڈل نے ٹیسٹنگ کے دوران دوسری کمپنی کو ہیک کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289628/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے بدھ کو انکشاف کیا کہ اس کے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ایک دوسری کمپنی کے سسٹم میں رسائی حاصل کرلی۔ اس واقعے نے جدید اور طاقتور اے آئی سسٹمز کو قابو میں رکھنے اور ان کے ممکنہ سائبر خطرات سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے مطابق یہ واقعہ ایک غلط کنفیگریشن کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں اس کے ایک اے آئی ماڈل کو ٹیسٹنگ کے دوران غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی۔ کمپنی نے بتایا کہ اس کی سائبر سیکیورٹی جانچ کرنے والی آزاد کمپنی ایرریگولر کی جانب سے ہونے والی کنفیگریشن کی غلطی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ماڈل نے ایک تھرڈ پارٹی سروس میں موجود سیکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھایا، جو دیگر کمپنیوں کے سامنے آنے والے حالیہ واقعات سے مماثل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق متاثرہ ماڈل میٹا کا میوز اسپارک 1.1 تھا، جسے کمپنی حقیقی دنیا کے کوڈنگ اور ایجنٹک ٹاسکس کے لیے اپنے جدید ترین ماڈلز میں شمار کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ماڈل نے ایک نامعلوم کمپنی کے سسٹمز میں داخل ہو کر اس کے اندرونی ماحول میں تبدیلیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرریگولر کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ بالکل اسی نوعیت کا تھا جیسا کہ گزشتہ ہفتے اینتھروپک کے اے آئی ماڈلز سے متعلق سامنے آیا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ سائبر حملہ یا سیکیورٹی حصار توڑنے  کا معاملہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے اے آئی سسٹمز سے متعلق بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اوپن اے آئی کے معاملے میں ایک اے آئی ایجنٹ نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران خودکار طور پر ایک نامعلوم کمزوری استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ واقعات اس خدشے کو بڑھا رہے ہیں کہ زیادہ قابل اے آئی ماڈلز مستقبل میں سائبر حملوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ امریکی قانون ساز بھی اے آئی سے متعلق سائبر خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں میٹا، اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل سمیت بڑی اے آئی کمپنیوں کو جدید ماڈلز کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ فریم ورک پر بات چیت کے لیے مدعو کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے بدھ کو انکشاف کیا کہ اس کے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ایک دوسری کمپنی کے سسٹم میں رسائی حاصل کرلی۔ اس واقعے نے جدید اور طاقتور اے آئی سسٹمز کو قابو میں رکھنے اور ان کے ممکنہ سائبر خطرات سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔</strong></p>
<p>میٹا کے مطابق یہ واقعہ ایک غلط کنفیگریشن کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں اس کے ایک اے آئی ماڈل کو ٹیسٹنگ کے دوران غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی۔ کمپنی نے بتایا کہ اس کی سائبر سیکیورٹی جانچ کرنے والی آزاد کمپنی ایرریگولر کی جانب سے ہونے والی کنفیگریشن کی غلطی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔</p>
<p>میٹا نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ماڈل نے ایک تھرڈ پارٹی سروس میں موجود سیکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھایا، جو دیگر کمپنیوں کے سامنے آنے والے حالیہ واقعات سے مماثل تھا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق متاثرہ ماڈل میٹا کا میوز اسپارک 1.1 تھا، جسے کمپنی حقیقی دنیا کے کوڈنگ اور ایجنٹک ٹاسکس کے لیے اپنے جدید ترین ماڈلز میں شمار کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ماڈل نے ایک نامعلوم کمپنی کے سسٹمز میں داخل ہو کر اس کے اندرونی ماحول میں تبدیلیاں کیں۔</p>
<p>ایرریگولر کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ بالکل اسی نوعیت کا تھا جیسا کہ گزشتہ ہفتے اینتھروپک کے اے آئی ماڈلز سے متعلق سامنے آیا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ سائبر حملہ یا سیکیورٹی حصار توڑنے  کا معاملہ نہیں تھا۔</p>
<p>اس سے قبل اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے اے آئی سسٹمز سے متعلق بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اوپن اے آئی کے معاملے میں ایک اے آئی ایجنٹ نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران خودکار طور پر ایک نامعلوم کمزوری استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی تھی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ واقعات اس خدشے کو بڑھا رہے ہیں کہ زیادہ قابل اے آئی ماڈلز مستقبل میں سائبر حملوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ امریکی قانون ساز بھی اے آئی سے متعلق سائبر خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں میٹا، اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل سمیت بڑی اے آئی کمپنیوں کو جدید ماڈلز کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ فریم ورک پر بات چیت کے لیے مدعو کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289628</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 09:32:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/060931403cc204f.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/060931403cc204f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے نے ٹیلی کام آلات کے لیے بین الاقوامی حفاظتی معیارات لازمی قرار دے دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289606/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے ٹیلی کمیونی کیشن ایکوپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت پاکستان میں تیار، درآمد، فروخت یا استعمال ہونے والے تمام ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تکنیکی، حفاظتی اور برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) معیارات پر عمل درآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نیٹ ورک سیکیورٹی، صارفین کے تحفظ اور ٹیلی کام خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن نے ایس آر او 1110(I)/2026 کے ذریعے ان ضوابط کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ ضوابط پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت وفاقی حکومت کی منظوری سے مرتب کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری گزٹ میں اشاعت کے ساتھ ہی یہ ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ضوابط کا اطلاق ٹیلی کام آلات کے لائسنس یافتگان، مقامی سازندوں اور درآمد کنندگان پر ہوگا۔ ان کے تحت پاکستان میں کسی بھی ٹیلی کام آلات کی تنصیب یا استعمال سے قبل اس کے لیے یکساں تکنیکی معیارات اور آزمائشی طریقۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے تمام ٹیلی کام آلات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کارکردگی، حفاظتی اور باہمی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) کے تقاضوں پر پورا اتریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضوابط میں متعدد اہم تکنیکی اصطلاحات کی بھی وضاحت کی گئی ہے، جن میں الیکٹرو میگنیٹک کمپیٹیبلٹی (ای ایم سی)، ریڈیو فریکوئنسی (آر ایف)، فکسڈ وائرلیس ایکسس، سیٹلائٹ کمیونی کیشن ڈیوائسز اور ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے معیارات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، نئے ضابطہ جاتی نظام کے تحت پی ٹی اے کے مجاز افسران کو ان معیارات پر عمل درآمد کی نگرانی اور ان کے نفاذ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فریم ورک کے تحت پی ٹی اے نے دنیا کے معروف معیاری اداروں کے تسلیم شدہ معیار اپنائے ہیں، جن میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین ٹیلی کمیونی کیشن اسٹینڈرڈائزیشن سیکٹر (آئی ٹی یو-ٹی)، یورپی یونین ریڈیو ایکوپمنٹ ڈائریکٹو (آر ای ڈی)، یورپی اسٹینڈرڈز (ای این)، فیڈرل کمیونی کیشنز کمیشن (ایف سی سی)، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار اسٹینڈرڈائزیشن (آئی ایس او)، یورپی ٹیلی کمیونی کیشنز اسٹینڈرڈز انسٹی ٹیوٹ (ای ٹی ایس آئی )، انٹرنیشنل الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن (آئی ای سی)، سی ای این ای ایل ای سی، سی آئی ایس پی آر اور او ایچ ایس اے ایس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضوابط کے مطابق لازمی تکنیکی تقاضوں کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں الیکٹرو میگنیٹک کمپیٹیبلٹی، صحت و حفاظت، آپٹیکل اور لیزر سیفٹی، ریڈیو فریکوئنسی کمیونی کیشن، موبائل کمیونی کیشن، سیٹلائٹ کمیونی کیشن اور زمینی ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے معیارات شامل ہیں۔ ان تقاضوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیلی کام آلات نہ تو نقصان دہ مداخلت کا باعث بنیں، نہ ہی حفاظتی خطرات پیدا کریں، اور ساتھ ہی پاکستان کے ٹیلی کمیونی کیشن انفرااسٹرکچر سے مکمل مطابقت بھی برقرار رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے یہ اختیار بھی اپنے پاس محفوظ رکھا ہے کہ وہ متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد وقتاً فوقتاً ان معیارات کا جائزہ لے اور تکنیکی ترقی اور عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے ان میں ضروری تبدیلیاں کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے ٹیلی کمیونی کیشن ایکوپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت پاکستان میں تیار، درآمد، فروخت یا استعمال ہونے والے تمام ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تکنیکی، حفاظتی اور برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) معیارات پر عمل درآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نیٹ ورک سیکیورٹی، صارفین کے تحفظ اور ٹیلی کام خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن نے ایس آر او 1110(I)/2026 کے ذریعے ان ضوابط کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یہ ضوابط پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت وفاقی حکومت کی منظوری سے مرتب کیے ہیں۔</p>
<p>سرکاری گزٹ میں اشاعت کے ساتھ ہی یہ ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ضوابط کا اطلاق ٹیلی کام آلات کے لائسنس یافتگان، مقامی سازندوں اور درآمد کنندگان پر ہوگا۔ ان کے تحت پاکستان میں کسی بھی ٹیلی کام آلات کی تنصیب یا استعمال سے قبل اس کے لیے یکساں تکنیکی معیارات اور آزمائشی طریقۂ کار مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے تمام ٹیلی کام آلات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کارکردگی، حفاظتی اور باہمی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) کے تقاضوں پر پورا اتریں۔</p>
<p>ضوابط میں متعدد اہم تکنیکی اصطلاحات کی بھی وضاحت کی گئی ہے، جن میں الیکٹرو میگنیٹک کمپیٹیبلٹی (ای ایم سی)، ریڈیو فریکوئنسی (آر ایف)، فکسڈ وائرلیس ایکسس، سیٹلائٹ کمیونی کیشن ڈیوائسز اور ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے معیارات شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، نئے ضابطہ جاتی نظام کے تحت پی ٹی اے کے مجاز افسران کو ان معیارات پر عمل درآمد کی نگرانی اور ان کے نفاذ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔</p>
<p>نئے فریم ورک کے تحت پی ٹی اے نے دنیا کے معروف معیاری اداروں کے تسلیم شدہ معیار اپنائے ہیں، جن میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین ٹیلی کمیونی کیشن اسٹینڈرڈائزیشن سیکٹر (آئی ٹی یو-ٹی)، یورپی یونین ریڈیو ایکوپمنٹ ڈائریکٹو (آر ای ڈی)، یورپی اسٹینڈرڈز (ای این)، فیڈرل کمیونی کیشنز کمیشن (ایف سی سی)، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار اسٹینڈرڈائزیشن (آئی ایس او)، یورپی ٹیلی کمیونی کیشنز اسٹینڈرڈز انسٹی ٹیوٹ (ای ٹی ایس آئی )، انٹرنیشنل الیکٹرو ٹیکنیکل کمیشن (آئی ای سی)، سی ای این ای ایل ای سی، سی آئی ایس پی آر اور او ایچ ایس اے ایس شامل ہیں۔</p>
<p>ضوابط کے مطابق لازمی تکنیکی تقاضوں کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں الیکٹرو میگنیٹک کمپیٹیبلٹی، صحت و حفاظت، آپٹیکل اور لیزر سیفٹی، ریڈیو فریکوئنسی کمیونی کیشن، موبائل کمیونی کیشن، سیٹلائٹ کمیونی کیشن اور زمینی ٹیلی کمیونی کیشن آلات کے معیارات شامل ہیں۔ ان تقاضوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیلی کام آلات نہ تو نقصان دہ مداخلت کا باعث بنیں، نہ ہی حفاظتی خطرات پیدا کریں، اور ساتھ ہی پاکستان کے ٹیلی کمیونی کیشن انفرااسٹرکچر سے مکمل مطابقت بھی برقرار رکھیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے یہ اختیار بھی اپنے پاس محفوظ رکھا ہے کہ وہ متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد وقتاً فوقتاً ان معیارات کا جائزہ لے اور تکنیکی ترقی اور عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے ان میں ضروری تبدیلیاں کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289606</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 16:52:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/05163915ca6dd8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="414" width="740">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/05163915ca6dd8e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائبر نیٹ ورک کی تیز رفتار توسیع، حکومت کا رائٹ آف وے فیس ختم کرنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289417/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کے تحت ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے  فیس ختم کرنے پر غور شروع کر دیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مجوزہ نیشنل کنیکٹیویٹی پلان (این سی پی) کے تحت ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ رائٹ آف وے  فیس ختم کرنے پر بھی غور کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب میں تیزی لانا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور احمد چیمہ کی زیر صدارت نیشنل کنیکٹیویٹی پلان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بنیادی توجہ دیہی علاقوں، دور دراز مقامات اور چھوٹے شہروں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت بڑھانے پر مرکوز رہی تاکہ ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے اور نئی معاشی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران حکام نے تمام شہریوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات تک آسان رسائی اور انٹرنیٹ کو قابل برداشت بنانے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا نے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ صارفین کی ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے کے لیے مخصوص ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر اہم اصلاحاتی اقدامات میں رائٹ آف وے فیس کا خاتمہ، سنگل ونڈو منظوری پورٹل کا قیام، ضلعی سطح پر لائسنسنگ کا اجرا، اور سرکاری اداروں، اسکولوں اور صحت مراکز میں فکسڈ براڈبینڈ کنیکٹیویٹی کو لازمی قرار دینا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹ آف وے فیس سے مراد وہ چارجز ہیں جو انفرااسٹرکچر نصب کرنے اور چلانے کے قانونی حق کے لیے ادا کیے جاتے ہیں۔ ٹیلی کام شعبے میں یہ فیس ان کمپنیوں سے وصول کی جاتی ہے جو مختلف اداروں کی ملکیتی زمین، ہاؤسنگ سوسائٹیز، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے اطراف آپٹیکل فائبر کیبلز اور دیگر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر بچھانا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں احمد چیمہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح دور دراز علاقوں میں رہنے والے فری لانسرز، ای کامرس کاروباری افراد اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے، جو سست اور غیر معیاری انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں سستی اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی تاکہ شہری ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور حصہ لے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حکام نے قومی اقتصادی ترقی کے لیے نئی نسل کے فائبر ٹو دی ہوم (ایف ٹی ٹی ایچ) نیٹ ورکس اور فائیو جی انفرااسٹرکچر کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ایف ٹی ٹی ایچ سبسکرپشنز میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 2.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اس پیش رفت کو 234,000 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک، 5.1 ملین ہاؤس پاسز اور فعال چھ سب میرین کیبلز سے مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد چیمہ نے نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کے تحت آئندہ اہداف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انفرااسٹرکچر کو بڑھا کر 10 ملین ہاؤس پاسز تک لے جانا، فکسڈ براڈبینڈ کی اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار 85 ایم بی پی ایس تک پہنچانا، براڈبینڈ کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ 50 ممالک میں شامل ہونا اور ٹاور فائبرائزیشن کو 60 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کے تحت ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے رائٹ آف وے  فیس ختم کرنے پر غور شروع کر دیا</strong></p>
<p>حکومت نے مجوزہ نیشنل کنیکٹیویٹی پلان (این سی پی) کے تحت ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ رائٹ آف وے  فیس ختم کرنے پر بھی غور کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب میں تیزی لانا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔</p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر اقتصادی امور احمد چیمہ کی زیر صدارت نیشنل کنیکٹیویٹی پلان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس میں بنیادی توجہ دیہی علاقوں، دور دراز مقامات اور چھوٹے شہروں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت بڑھانے پر مرکوز رہی تاکہ ڈیجیٹل تقسیم کو کم کیا جا سکے اور نئی معاشی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔</p>
<p>اجلاس کے دوران حکام نے تمام شہریوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات تک آسان رسائی اور انٹرنیٹ کو قابل برداشت بنانے پر زور دیا۔</p>
<p>شرکا نے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ صارفین کی ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے کے لیے مخصوص ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا۔</p>
<p>دیگر اہم اصلاحاتی اقدامات میں رائٹ آف وے فیس کا خاتمہ، سنگل ونڈو منظوری پورٹل کا قیام، ضلعی سطح پر لائسنسنگ کا اجرا، اور سرکاری اداروں، اسکولوں اور صحت مراکز میں فکسڈ براڈبینڈ کنیکٹیویٹی کو لازمی قرار دینا شامل ہیں۔</p>
<p>رائٹ آف وے فیس سے مراد وہ چارجز ہیں جو انفرااسٹرکچر نصب کرنے اور چلانے کے قانونی حق کے لیے ادا کیے جاتے ہیں۔ ٹیلی کام شعبے میں یہ فیس ان کمپنیوں سے وصول کی جاتی ہے جو مختلف اداروں کی ملکیتی زمین، ہاؤسنگ سوسائٹیز، سڑکوں اور ریلوے لائنوں کے اطراف آپٹیکل فائبر کیبلز اور دیگر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر بچھانا چاہتی ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں احمد چیمہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح دور دراز علاقوں میں رہنے والے فری لانسرز، ای کامرس کاروباری افراد اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں سے وابستہ افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے، جو سست اور غیر معیاری انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں سستی اور تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی تاکہ شہری ڈیجیٹل معیشت میں بھرپور حصہ لے سکیں۔</p>
<p>اجلاس میں حکام نے قومی اقتصادی ترقی کے لیے نئی نسل کے فائبر ٹو دی ہوم (ایف ٹی ٹی ایچ) نیٹ ورکس اور فائیو جی انفرااسٹرکچر کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ایف ٹی ٹی ایچ سبسکرپشنز میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 2.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اس پیش رفت کو 234,000 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک، 5.1 ملین ہاؤس پاسز اور فعال چھ سب میرین کیبلز سے مدد ملی ہے۔</p>
<p>احمد چیمہ نے نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کے تحت آئندہ اہداف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انفرااسٹرکچر کو بڑھا کر 10 ملین ہاؤس پاسز تک لے جانا، فکسڈ براڈبینڈ کی اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار 85 ایم بی پی ایس تک پہنچانا، براڈبینڈ کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ 50 ممالک میں شامل ہونا اور ٹاور فائبرائزیشن کو 60 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد نیشنل کنیکٹیویٹی پلان کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289417</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 13:46:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/31134400d9245a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/31134400d9245a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد پی ٹی سی ایل کی نظریں ڈیجیٹل والٹ پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289418/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ گزشتہ سال ٹیلی نار پاکستان کا حصول مکمل کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اب ایک معروف ڈیجیٹل والٹ کے حصول کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے نتیجے میں ملک کا صفِ اول کا ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا پلیٹ فارم بھی پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کرگئیں جب پی ٹی سی ایل  نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو آگاہ کیا کہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک نامعلوم ٹارگٹ کمپنی میں اکثریتی حصص کے حصول کیلئے بائنڈنگ آفر جمع کرانے کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ لین دین (ٹرانزیکشن) تاحال ڈیو ڈیلیجنس، کامیاب مذاکرات، متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں اور حتمی معاہدوں پر دستخط سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ ٹارگٹ کمپنی ایک ڈیجیٹل والٹ ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد یہ پاکستان کے ٹیلی کام اور فن ٹیک شعبوں میں انضمام  کا ایک اور بڑا مرحلہ ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ ڈیل مکمل ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک ڈیجیٹل والٹ دوبارہ پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پی ٹی سی ایل نے ٹارگٹ کمپنی کی شناخت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ تجارتی شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں اور کوئی حتمی معاہدہ عمل میں نہیں لایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو کسی بھی اہم پیش رفت سے باخبر رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب معروف ڈیجیٹل والیٹ سے اس کے باضابطہ ردعمل کیلئے رابطہ کیا گیا تو کمپنی نے جواب دیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بحث ہوئی ہے لیکن ہم مارکیٹ کی قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہماری توجہ بدستور اپنے صارفین کو خدمات فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی اپنے صارفین کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے فنڈز محفوظ اور ہر وقت قابلِ رسائی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ گزشتہ سال ٹیلی نار پاکستان کا حصول مکمل کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اب ایک معروف ڈیجیٹل والٹ کے حصول کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے نتیجے میں ملک کا صفِ اول کا ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا پلیٹ فارم بھی پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن سکتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کرگئیں جب پی ٹی سی ایل  نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  کو آگاہ کیا کہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک نامعلوم ٹارگٹ کمپنی میں اکثریتی حصص کے حصول کیلئے بائنڈنگ آفر جمع کرانے کی منظوری دی۔</p>
<p>کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ لین دین (ٹرانزیکشن) تاحال ڈیو ڈیلیجنس، کامیاب مذاکرات، متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں اور حتمی معاہدوں پر دستخط سے مشروط ہے۔</p>
<p>صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ ٹارگٹ کمپنی ایک ڈیجیٹل والٹ ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد یہ پاکستان کے ٹیلی کام اور فن ٹیک شعبوں میں انضمام  کا ایک اور بڑا مرحلہ ثابت ہوگا۔</p>
<p>اگر یہ ڈیل مکمل ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک ڈیجیٹل والٹ دوبارہ پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن جائے گا۔</p>
<p>تاہم پی ٹی سی ایل نے ٹارگٹ کمپنی کی شناخت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ تجارتی شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں اور کوئی حتمی معاہدہ عمل میں نہیں لایا گیا۔</p>
<p>کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو کسی بھی اہم پیش رفت سے باخبر رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</p>
<p>جب معروف ڈیجیٹل والیٹ سے اس کے باضابطہ ردعمل کیلئے رابطہ کیا گیا تو کمپنی نے جواب دیا</p>
<p>اگرچہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بحث ہوئی ہے لیکن ہم مارکیٹ کی قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہماری توجہ بدستور اپنے صارفین کو خدمات فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>کمپنی اپنے صارفین کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے فنڈز محفوظ اور ہر وقت قابلِ رسائی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289418</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 13:44:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/311339291b978f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/311339291b978f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے 7 جدت مراکز پر مشتمل نیشنل اے آئی انیشیٹو متعارف کرا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289249/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) نے ملک بھر میں قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کے تحت سات مصنوعی ذہانت (اے آئی) جدت مراکز قائم کرنے کے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد 560 اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی، 150 اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت (نان ڈائلیوٹو) پر ابتدائی مالی معاونت (سیڈ گرانٹس) فراہم کرنا اور پاکستان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی جدت کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور حکومت کی جانب سے ایسا جامع منصوبہ ہے جس کا مقصد جامعات، صنعت، اسٹارٹ اپس، محققین، سرمایہ کاروں اور سرکاری اداروں کو ایک قومی فریم ورک کے تحت یکجا کرکے مصنوعی ذہانت کا مضبوط ادارہ جاتی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق، ایم او آئی ٹی ٹی ایک واحد بولی دہندہ، خواہ وہ کوئی کمپنی ہو یا مشترکہ کاروباری اتحاد (جوائنٹ وینچر/کنسورشیم)، کا انتخاب کرے گی، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت میں اے آئی جدت مراکز کے قیام، آپریشن اور پائیدار انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب ادارہ جدید دفتری سہولتوں، تیز رفتار انٹرنیٹ، اشتراکی ورک اسپیس، ملٹی میڈیا سہولتوں، رہنمائی کے کمروں، ہائبرڈ اجلاسوں کے نظام اور اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص ورک اسپیس پر مشتمل مکمل فعال مراکز قائم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مراکز صحت، زراعت، تعلیم، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، عوامی نظم و نسق، اسمارٹ اور پائیدار شہروں سمیت دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو فروغ دینے والے علاقائی جدت مراکز کے طور پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سالہ پروگرام کے تحت ہر مرکز میں ہر مرحلے (کوہورٹ) میں 20 اے آئی اسٹارٹ اپس کو شامل کیا جائے گا، جبکہ سالانہ دو مراحل ہوں گے۔ اس طرح ہر مرکز میں سالانہ 40 اور تمام سات مراکز میں مجموعی طور پر 280 اسٹارٹ اپس شامل ہوں گے۔ دو سال کے دوران 560 اسٹارٹ اپس اس انکیوبیشن پروگرام سے استفادہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض بنیادی ڈھانچے کی فراہمی تک محدود رہنے کے بجائے منتخب ادارے کو اے آئی بوٹ کیمپس، ایکسلریٹر پروگرامز، انکیوبیشن سہولت، موضوعاتی اے آئی چیلنجز، ہیکاتھونز اور اسٹارٹ اپس کی رہنمائی پر مشتمل جامع جدت کا نظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) میں تجارتی سطح پر کامیابی (کمرشلائزیشن) پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آپریٹر کو اسٹارٹ اپس کو وینچر کیپیٹل کمپنیوں، انکیوبیٹرز، ایکسلریٹرز، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے جوڑنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری کے حصول اور منڈی تک رسائی کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پروگرام کا ایک اہم ترین جزو 150 اے آئی اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت پر سیڈ گرانٹس کی فراہمی ہے۔ اگرچہ یہ فنڈنگ وزارت الگ سے فراہم کرے گی اور اسے ٹھیکیدار کی مالی تجویز کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم منتخب ادارہ درخواستوں کی وصولی، تکنیکی جانچ، انتخاب، گرانٹس کی تقسیم، نگرانی اور بعد از گرانٹ معاونت کے لیے شفاف اور ملک گیر نظام وضع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ہدایت کی ہے کہ فنڈنگ پروگرام مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہو اور اس کے لیے واضح کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز)، اہداف کے مطابق مرحلہ وار فنڈز کی فراہمی اور مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تاکہ شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں جدت کے فروغ کے لیے آپریٹر دو قومی اے آئی ہیکاتھونز اور چار اے آئی آگاہی سیشنز بھی منعقد کرے گا، جن میں طلبہ، کاروباری افراد، محققین، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مصنوعی ذہانت کے استعمال اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس، پیشہ ور افراد، جامعات کے طلبہ اور سرکاری ملازمین کی اے آئی مہارتوں میں اضافے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کی خواہش ہے کہ اے آئی جدت مراکز کے آپریٹر صنعت کے ساتھ شراکت داری، رکنیت پر مبنی پروگرامز، اسپانسر شدہ منصوبوں، تجارتی تربیتی خدمات اور گرانٹس کے ذریعے طویل المدتی مالی خود کفالت کا ماڈل تشکیل دیں تاکہ وقت کے ساتھ سرکاری فنڈنگ پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ منتخب ادارے کو نظم و نسق کا فریم ورک، آپریشنل تعمیل کا نظام، نگرانی کے آلات، اثرات کے جائزے کا طریقہ کار اور وزارت کی نگرانی سے ہم آہنگ باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایف پی کے مطابق آپریٹر کو جامعات، تحقیقی مراکز، سرکاری اداروں، ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی مصنوعی ذہانت تحقیقی نیٹ ورکس کے ساتھ تزویراتی شراکت داریاں بھی قائم کرنا ہوں گی تاکہ مشترکہ تحقیق، آزمائشی منصوبوں اور اے آئی مصنوعات کی تجارتی بنیادوں پر ترویج کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامع اور مساوی ترقی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت نے ہدایت کی ہے کہ پروگرام پر عمل درآمد کے دوران خواتین اور دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بامعنی شمولیت یقینی بنائی جائے، تاکہ یہ اقدام پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سے بھی ہم آہنگ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر یہ معاہدہ ایک سال کے لیے دیا جائے گا، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم بولی دہندگان کو پورے دو سالہ منصوبے کی مالی تجاویز جمع کرانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کا آغاز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت اب صرف پالیسی سازی تک محدود رہنے کے بجائے ایسی ادارہ جاتی بنیادیں استوار کرنا چاہتی ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں، افرادی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی تجارتی توسیع کو بڑے پیمانے پر فروغ دے سکیں۔ اگر اس منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بناتے ہوئے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، جامعات اور صنعت کو ایک مربوط قومی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا اور ملک کی علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی کو تیز کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) نے ملک بھر میں قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کے تحت سات مصنوعی ذہانت (اے آئی) جدت مراکز قائم کرنے کے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد 560 اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی، 150 اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت (نان ڈائلیوٹو) پر ابتدائی مالی معاونت (سیڈ گرانٹس) فراہم کرنا اور پاکستان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی جدت کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اقدام پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور حکومت کی جانب سے ایسا جامع منصوبہ ہے جس کا مقصد جامعات، صنعت، اسٹارٹ اپس، محققین، سرمایہ کاروں اور سرکاری اداروں کو ایک قومی فریم ورک کے تحت یکجا کرکے مصنوعی ذہانت کا مضبوط ادارہ جاتی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔</p>
<p>وزارت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق، ایم او آئی ٹی ٹی ایک واحد بولی دہندہ، خواہ وہ کوئی کمپنی ہو یا مشترکہ کاروباری اتحاد (جوائنٹ وینچر/کنسورشیم)، کا انتخاب کرے گی، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت میں اے آئی جدت مراکز کے قیام، آپریشن اور پائیدار انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔</p>
<p>منتخب ادارہ جدید دفتری سہولتوں، تیز رفتار انٹرنیٹ، اشتراکی ورک اسپیس، ملٹی میڈیا سہولتوں، رہنمائی کے کمروں، ہائبرڈ اجلاسوں کے نظام اور اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص ورک اسپیس پر مشتمل مکمل فعال مراکز قائم کرے گا۔</p>
<p>یہ مراکز صحت، زراعت، تعلیم، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، عوامی نظم و نسق، اسمارٹ اور پائیدار شہروں سمیت دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو فروغ دینے والے علاقائی جدت مراکز کے طور پر کام کریں گے۔</p>
<p>دو سالہ پروگرام کے تحت ہر مرکز میں ہر مرحلے (کوہورٹ) میں 20 اے آئی اسٹارٹ اپس کو شامل کیا جائے گا، جبکہ سالانہ دو مراحل ہوں گے۔ اس طرح ہر مرکز میں سالانہ 40 اور تمام سات مراکز میں مجموعی طور پر 280 اسٹارٹ اپس شامل ہوں گے۔ دو سال کے دوران 560 اسٹارٹ اپس اس انکیوبیشن پروگرام سے استفادہ کریں گے۔</p>
<p>محض بنیادی ڈھانچے کی فراہمی تک محدود رہنے کے بجائے منتخب ادارے کو اے آئی بوٹ کیمپس، ایکسلریٹر پروگرامز، انکیوبیشن سہولت، موضوعاتی اے آئی چیلنجز، ہیکاتھونز اور اسٹارٹ اپس کی رہنمائی پر مشتمل جامع جدت کا نظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔</p>
<p>درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) میں تجارتی سطح پر کامیابی (کمرشلائزیشن) پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آپریٹر کو اسٹارٹ اپس کو وینچر کیپیٹل کمپنیوں، انکیوبیٹرز، ایکسلریٹرز، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے جوڑنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری کے حصول اور منڈی تک رسائی کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔</p>
<p>اس پروگرام کا ایک اہم ترین جزو 150 اے آئی اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت پر سیڈ گرانٹس کی فراہمی ہے۔ اگرچہ یہ فنڈنگ وزارت الگ سے فراہم کرے گی اور اسے ٹھیکیدار کی مالی تجویز کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم منتخب ادارہ درخواستوں کی وصولی، تکنیکی جانچ، انتخاب، گرانٹس کی تقسیم، نگرانی اور بعد از گرانٹ معاونت کے لیے شفاف اور ملک گیر نظام وضع کرے گا۔</p>
<p>وزارت نے ہدایت کی ہے کہ فنڈنگ پروگرام مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہو اور اس کے لیے واضح کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز)، اہداف کے مطابق مرحلہ وار فنڈز کی فراہمی اور مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تاکہ شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔</p>
<p>ملک بھر میں جدت کے فروغ کے لیے آپریٹر دو قومی اے آئی ہیکاتھونز اور چار اے آئی آگاہی سیشنز بھی منعقد کرے گا، جن میں طلبہ، کاروباری افراد، محققین، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مصنوعی ذہانت کے استعمال اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔</p>
<p>آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس، پیشہ ور افراد، جامعات کے طلبہ اور سرکاری ملازمین کی اے آئی مہارتوں میں اضافے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔</p>
<p>وزارت کی خواہش ہے کہ اے آئی جدت مراکز کے آپریٹر صنعت کے ساتھ شراکت داری، رکنیت پر مبنی پروگرامز، اسپانسر شدہ منصوبوں، تجارتی تربیتی خدمات اور گرانٹس کے ذریعے طویل المدتی مالی خود کفالت کا ماڈل تشکیل دیں تاکہ وقت کے ساتھ سرکاری فنڈنگ پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ منتخب ادارے کو نظم و نسق کا فریم ورک، آپریشنل تعمیل کا نظام، نگرانی کے آلات، اثرات کے جائزے کا طریقہ کار اور وزارت کی نگرانی سے ہم آہنگ باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔</p>
<p>آر ایف پی کے مطابق آپریٹر کو جامعات، تحقیقی مراکز، سرکاری اداروں، ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی مصنوعی ذہانت تحقیقی نیٹ ورکس کے ساتھ تزویراتی شراکت داریاں بھی قائم کرنا ہوں گی تاکہ مشترکہ تحقیق، آزمائشی منصوبوں اور اے آئی مصنوعات کی تجارتی بنیادوں پر ترویج کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>جامع اور مساوی ترقی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت نے ہدایت کی ہے کہ پروگرام پر عمل درآمد کے دوران خواتین اور دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بامعنی شمولیت یقینی بنائی جائے، تاکہ یہ اقدام پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سے بھی ہم آہنگ رہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر یہ معاہدہ ایک سال کے لیے دیا جائے گا، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم بولی دہندگان کو پورے دو سالہ منصوبے کی مالی تجاویز جمع کرانا ہوں گی۔</p>
<p>قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کا آغاز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت اب صرف پالیسی سازی تک محدود رہنے کے بجائے ایسی ادارہ جاتی بنیادیں استوار کرنا چاہتی ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں، افرادی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی تجارتی توسیع کو بڑے پیمانے پر فروغ دے سکیں۔ اگر اس منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بناتے ہوئے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، جامعات اور صنعت کو ایک مربوط قومی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا اور ملک کی علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی کو تیز کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289249</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 18:47:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/27183714cff82f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="418" width="734">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/27183714cff82f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیزائن مقابلے کے لیے فی الحال پی آئی اے سے معاہدہ نہیں ہوا، کینوا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289181/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (میناپ) ریجن کے لیے کینوا کے جنرل منیجر احمد اقبال نے بتایا کہ کینوا عالمی سطح پر پاکستانی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلے کی تیاری کررہا ہے لیکن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ساتھ ابھی تک کوئی باضابطہ شراکت داری یا معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ تاہم انہیں امید ہے کہ جلد ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے احمد اقبال نے کہا کہ ملک گیر ڈیزائن مقابلے کے اس اقدام پر گزشتہ چند ماہ سے کام جاری ہے اور اس میں ہر شعبۂ زندگی اور ہر سطح کی مہارت رکھنے والے ڈیزائنرز، خواہ وہ پیشہ ور ہوں یا طلبہ شرکت کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ہمارے ذہن میں ایک بروقت اور موزوں مثال کے طور پر آئی کیونکہ اس کی ایک بھرپور تاریخ ہے اور وہ اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے اس نوعیت کی مہم کے لیے یہ ایک مناسب برانڈ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ کینوا نے پی آئی اے کی کری ایٹو ایجنسی کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت کی ہے تاہم ایئرلائن کی متعلقہ ٹیم سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد اقبال نے کہا کہ فی الحال پی آئی اے کے ساتھ کسی قسم کی شراکت داری یا معاہدہ طے نہیں پایا۔ کینوا ایسے موزوں شراکت دار کی تلاش کیلئے تیار ہے جو پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں مدد دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت احمد اقبال کی اس تجویز کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے پی آئی اے کی برانڈ شناخت کو نئے انداز میں تشکیل دینے کے لیے ملک گیر مقابلہ منعقد کرنے اور اس کے اخراجات خود برداشت کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس منصوبے میں پی آئی اے کے لوگو، برانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کی نئی لیوری (بیرونی ڈیزائن و رنگ) اور ری لانچ کے لیے مارکیٹنگ مہم کی تیاری بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز پر سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے طیاروں کے پیچیدہ بیرونی ڈیزائن کے عملی اور آپریشنل اثرات پر سوالات اٹھائے جبکہ دیگر نے ایئرلائن کی بصری شناخت میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کو شامل کرنے کے امکان کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میناپ کے جنرل منیجر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ پی آئی اے کے دو طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں جن پر اجرک سے متاثر بھرپور رنگوں پر مبنی ڈیزائن نمایاں تھا۔ ان کے بقول یہ ڈیزائن ایک ایسے شخص نے کینوا اور افینیٹی کی مدد سے تیار کیا تھا جو پیشہ ور ڈیزائنر نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ذرا تصور کریں کہ اگر پورا ملک اس میں حصہ لے تو کیا کچھ کر سکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد اقبال نے کہا کہ پاکستان کی ڈیزائن ثقافت کی جڑیں ٹیکسٹائل، فنِ تعمیر، زیورات اور روایتی نقش و نگار میں گہری پیوست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجرک کا ڈیزائن تقریباً چار سے پانچ ہزار سال قدیم تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مقابلہ پاکستانی تخلیق کاروں کو عالمی ناظرین کے لیے ایک منفرد پاکستانی طرزِ ڈیزائن (ڈیزائن لینگویج) کو دریافت کرنے، فروغ دینے اور اجاگر کرنے کا بہترین موقع فراہم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے بھی بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس حوالے سے اب تک دونوں اداروں کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (میناپ) ریجن کے لیے کینوا کے جنرل منیجر احمد اقبال نے بتایا کہ کینوا عالمی سطح پر پاکستانی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلے کی تیاری کررہا ہے لیکن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ساتھ ابھی تک کوئی باضابطہ شراکت داری یا معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ تاہم انہیں امید ہے کہ جلد ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے احمد اقبال نے کہا کہ ملک گیر ڈیزائن مقابلے کے اس اقدام پر گزشتہ چند ماہ سے کام جاری ہے اور اس میں ہر شعبۂ زندگی اور ہر سطح کی مہارت رکھنے والے ڈیزائنرز، خواہ وہ پیشہ ور ہوں یا طلبہ شرکت کرسکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ہمارے ذہن میں ایک بروقت اور موزوں مثال کے طور پر آئی کیونکہ اس کی ایک بھرپور تاریخ ہے اور وہ اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے اس نوعیت کی مہم کے لیے یہ ایک مناسب برانڈ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ کینوا نے پی آئی اے کی کری ایٹو ایجنسی کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت کی ہے تاہم ایئرلائن کی متعلقہ ٹیم سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>احمد اقبال نے کہا کہ فی الحال پی آئی اے کے ساتھ کسی قسم کی شراکت داری یا معاہدہ طے نہیں پایا۔ کینوا ایسے موزوں شراکت دار کی تلاش کیلئے تیار ہے جو پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں مدد دے سکے۔</p>
<p>یہ وضاحت احمد اقبال کی اس تجویز کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے پی آئی اے کی برانڈ شناخت کو نئے انداز میں تشکیل دینے کے لیے ملک گیر مقابلہ منعقد کرنے اور اس کے اخراجات خود برداشت کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس منصوبے میں پی آئی اے کے لوگو، برانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کی نئی لیوری (بیرونی ڈیزائن و رنگ) اور ری لانچ کے لیے مارکیٹنگ مہم کی تیاری بھی شامل تھی۔</p>
<p>اس تجویز پر سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے طیاروں کے پیچیدہ بیرونی ڈیزائن کے عملی اور آپریشنل اثرات پر سوالات اٹھائے جبکہ دیگر نے ایئرلائن کی بصری شناخت میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کو شامل کرنے کے امکان کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>میناپ کے جنرل منیجر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ پی آئی اے کے دو طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں جن پر اجرک سے متاثر بھرپور رنگوں پر مبنی ڈیزائن نمایاں تھا۔ ان کے بقول یہ ڈیزائن ایک ایسے شخص نے کینوا اور افینیٹی کی مدد سے تیار کیا تھا جو پیشہ ور ڈیزائنر نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ذرا تصور کریں کہ اگر پورا ملک اس میں حصہ لے تو کیا کچھ کر سکتا ہے۔‘</p>
<p>احمد اقبال نے کہا کہ پاکستان کی ڈیزائن ثقافت کی جڑیں ٹیکسٹائل، فنِ تعمیر، زیورات اور روایتی نقش و نگار میں گہری پیوست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجرک کا ڈیزائن تقریباً چار سے پانچ ہزار سال قدیم تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مقابلہ پاکستانی تخلیق کاروں کو عالمی ناظرین کے لیے ایک منفرد پاکستانی طرزِ ڈیزائن (ڈیزائن لینگویج) کو دریافت کرنے، فروغ دینے اور اجاگر کرنے کا بہترین موقع فراہم کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے بھی بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس حوالے سے اب تک دونوں اداروں کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289181</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 17:45:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بصیر احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/251718325db952b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/251718325db952b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے اور میٹا کا نوجوانوں کے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل آگاہی کے فروغ کے لیے معاہدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289015/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور میٹا نے پاکستان میں نوجوانوں کے آن لائن تحفظ، ڈیجیٹل آگاہی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) پر دستخط کیے ہیں۔ یہ بات پی ٹی اے نے منگل کو جاری بیان میں بتائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان میں آن لائن مواد کے تحفظ سے متعلق طریقۂ کار پر کھلے اور تعمیری مکالمے کو بھی فروغ دے گی تاکہ اس حوالے سے مشترکہ فہم پیدا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن کے حوالے سے کہا گیا کہ ”پی ٹی اے کا مقصد ڈیجیٹل آگاہی کو فروغ دینا، ذمہ دارانہ آن لائن رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور بالخصوص بچوں اور نوجوان صارفین کے لیے زیادہ محفوظ اور مؤثر ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شراکت داری کے تحت پی ٹی اے اور میٹا استعداد کار میں اضافے، پالیسی سے متعلق مکالمے، آگاہی مہمات اور نوجوانوں کے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل فلاح و بہبود سے متعلق عالمی بہترین تجربات کے تبادلے پر مشترکہ طور پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق اس تعاون سے آن لائن مواد کی نگرانی، ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد اور پاکستان بھر میں ڈیجیٹل تحفظ کو مضبوط بنانے سے متعلق اقدامات کو بھی فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور میٹا نے پاکستان میں نوجوانوں کے آن لائن تحفظ، ڈیجیٹل آگاہی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) پر دستخط کیے ہیں۔ یہ بات پی ٹی اے نے منگل کو جاری بیان میں بتائی ہے۔</strong></p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان میں آن لائن مواد کے تحفظ سے متعلق طریقۂ کار پر کھلے اور تعمیری مکالمے کو بھی فروغ دے گی تاکہ اس حوالے سے مشترکہ فہم پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p>بیان میں پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن کے حوالے سے کہا گیا کہ ”پی ٹی اے کا مقصد ڈیجیٹل آگاہی کو فروغ دینا، ذمہ دارانہ آن لائن رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور بالخصوص بچوں اور نوجوان صارفین کے لیے زیادہ محفوظ اور مؤثر ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔“</p>
<p>اس شراکت داری کے تحت پی ٹی اے اور میٹا استعداد کار میں اضافے، پالیسی سے متعلق مکالمے، آگاہی مہمات اور نوجوانوں کے آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل فلاح و بہبود سے متعلق عالمی بہترین تجربات کے تبادلے پر مشترکہ طور پر کام کریں گے۔</p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق اس تعاون سے آن لائن مواد کی نگرانی، ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد اور پاکستان بھر میں ڈیجیٹل تحفظ کو مضبوط بنانے سے متعلق اقدامات کو بھی فروغ ملے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289015</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 20:47:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/212044050632c35.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/212044050632c35.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی ٹیلی کام کمپنیوں کی فی صارف آمدن میں 11 فیصد اضافہ، 346 روپے تک پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289007/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سیلولر موبائل آپریٹرز نے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی کے دوران فی صارف اوسط ماہانہ آمدنی (اے آر پی یو) کو 346 روپے کی تاریخی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ مسلسل معاشی دباؤ کے باوجود موبائل ڈیٹا سروسز کی جارحانہ انداز میں فروخت اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی عکاسی کرتا ہے۔سرکاری صنعتی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوری تا مارچ 2026 میں ماہانہ وائس اور ڈیٹا اے آر پی یو بڑھ کر 346 روپے ہو گیا، جو کہ اکتوبر تا دسمبر 2025 کے 326 روپے سے تقریباً 6.1 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیادوں پر اے آر پی یو  میں جنوری تا مارچ 2025 کے 312 روپے کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔تازہ ترین اعداد و شمار گزشتہ تین سالوں کے دوران فی صارف آپریٹرز کی آمدنی میں مسلسل اضافے کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔اے آر پی یو اپریل تا جون 2023 کے 244 روپے سے بڑھ کر جنوری تا مارچ 2026 میں 346 روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ امر صارفین کی تعداد میں سست رفتاری سے ہونے والے اضافے کی بھرپائی کے لیے ٹیلی کام سیکٹر کے ڈیٹا کے استعمال اور جدید ڈیجیٹل سروسز پر بڑھتے ہوئے انحصار کو واضح کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آر پی یو میں اس مسلسل اضافے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی آمدنی مضبوط ہونے اور ان کی نیٹ ورک کی توسيع بشمول فائبر کی فراہمی اور جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت میں بہتری آنے کی توقع ہے، جبکہ انڈسٹری کو اب بھی بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات اور بھاری ٹیکسوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سیلولر موبائل آپریٹرز نے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی کے دوران فی صارف اوسط ماہانہ آمدنی (اے آر پی یو) کو 346 روپے کی تاریخی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اضافہ مسلسل معاشی دباؤ کے باوجود موبائل ڈیٹا سروسز کی جارحانہ انداز میں فروخت اور صارفین کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی عکاسی کرتا ہے۔سرکاری صنعتی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوری تا مارچ 2026 میں ماہانہ وائس اور ڈیٹا اے آر پی یو بڑھ کر 346 روپے ہو گیا، جو کہ اکتوبر تا دسمبر 2025 کے 326 روپے سے تقریباً 6.1 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیادوں پر اے آر پی یو  میں جنوری تا مارچ 2025 کے 312 روپے کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔تازہ ترین اعداد و شمار گزشتہ تین سالوں کے دوران فی صارف آپریٹرز کی آمدنی میں مسلسل اضافے کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔اے آر پی یو اپریل تا جون 2023 کے 244 روپے سے بڑھ کر جنوری تا مارچ 2026 میں 346 روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ امر صارفین کی تعداد میں سست رفتاری سے ہونے والے اضافے کی بھرپائی کے لیے ٹیلی کام سیکٹر کے ڈیٹا کے استعمال اور جدید ڈیجیٹل سروسز پر بڑھتے ہوئے انحصار کو واضح کرتا ہے۔</p>
<p>اے آر پی یو میں اس مسلسل اضافے سے ٹیلی کام آپریٹرز کی آمدنی مضبوط ہونے اور ان کی نیٹ ورک کی توسيع بشمول فائبر کی فراہمی اور جدید ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت میں بہتری آنے کی توقع ہے، جبکہ انڈسٹری کو اب بھی بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات اور بھاری ٹیکسوں کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289007</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 17:50:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21174601bfc3d5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21174601bfc3d5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینوا کی پی آئی اے کی ری برانڈنگ کیلئے ملک گیر ڈیزائن مقابلے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کینوا (Canva) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نئی ملکیت کے تحت اس کی برانڈ کی شناخت ازسرِنو تشکیل دینے کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلہ منعقد کرنے اور اس کی مالی معاونت کی پیشکش کی ہے، جس کے ذریعے پاکستانیوں کو قومی ایئرلائن کی نئی شناخت تخلیق کرنے کا موقع دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کینوا کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے جنرل منیجر احمد اقبال نے کہا کہ کمپنی اس تجویز پر بات چیت کے لیے پی آئی اے کی قیادت سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد اقبال کے مطابق اس منصوبے میں پی آئی اے کا لوگو، برانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کی بیرونی پینٹنگ (لِوری) اور دوبارہ لانچ کی مارکیٹنگ مہم کی ازسرِنو تشکیل شامل ہوگی۔ ان کے بقول یہ اقدام قومی ایئرلائن پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/201509021d49e30.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/201509021d49e30.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ پاکستانیوں کی جانب سے، پاکستان کے لیے ڈیزائن۔ ان کا کہنا تھا کہ کینوا اس مقابلے کے لیے بڑی انعامی رقم فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینوا ایک مفت ویب پر مبنی ڈیزائن پلیٹ فارم ہے، جس کی مدد سے صارفین بغیر کسی پیشہ ورانہ مہارت کے سوشل میڈیا گرافکس، پریزنٹیشنز، پوسٹرز اور دیگر معیاری بصری ڈیزائن آسانی سے تیار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد اقبال نے پی آئی اے کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایئرلائن کبھی خطے میں ہوا بازی کی صفِ اول کی کمپنی تھی، جبکہ 2026 میں وہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس تبدیلی کے عمل میں عوام کو شریک کیا جائے تو اس سے پاکستان کے ڈیزائن ورثے اور قومی فخر کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اجرک کے خوبصورت رنگوں سے مزین پی آئی اے کے دو تصوراتی طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر پیشہ ور ڈیزائنر نے کینوا اور ایفینٹی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کی ہیں۔ انہوں نے لکھا، ذرا تصور کریں کہ اگر پورا ملک اس میں حصہ لے تو کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ ایفینٹی کینوا کی ذیلی کمپنی اور ایک پیشہ ورانہ تخلیقی سافٹ ویئر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجویز پر لنکڈ اِن صارفین کے درمیان دلچسپ بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے طیاروں پر انتہائی رنگین ڈیزائن کو عملی اعتبار سے غیر موزوں قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف کا کہنا تھا کہ زیادہ پینٹ سے طیارے کا وزن اور آپریٹنگ اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر نے نشاندہی کی کہ گہرے رنگ زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں، جس سے طیارے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب متعدد صارفین نے اس خیال کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں ثقافتی احیا کو فروغ ملے گا اور نوجوان ڈیزائنرز کو مقامی فن اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ صارفین نے یہ بھی یاد دلایا کہ دنیا بھر میں زیادہ تر طیارے سفید رنگ میں اس لیے رنگے جاتے ہیں کیونکہ یہ دیکھ بھال، ٹھنڈک اور مجموعی آپریٹنگ لاگت کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے ڈیزائن میں خوبصورتی اور عملی افادیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کینوا (Canva) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نئی ملکیت کے تحت اس کی برانڈ کی شناخت ازسرِنو تشکیل دینے کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلہ منعقد کرنے اور اس کی مالی معاونت کی پیشکش کی ہے، جس کے ذریعے پاکستانیوں کو قومی ایئرلائن کی نئی شناخت تخلیق کرنے کا موقع دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>پیر کے روز لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کینوا کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے جنرل منیجر احمد اقبال نے کہا کہ کمپنی اس تجویز پر بات چیت کے لیے پی آئی اے کی قیادت سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>احمد اقبال کے مطابق اس منصوبے میں پی آئی اے کا لوگو، برانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کی بیرونی پینٹنگ (لِوری) اور دوبارہ لانچ کی مارکیٹنگ مہم کی ازسرِنو تشکیل شامل ہوگی۔ ان کے بقول یہ اقدام قومی ایئرلائن پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/201509021d49e30.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/201509021d49e30.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے لکھا کہ پاکستانیوں کی جانب سے، پاکستان کے لیے ڈیزائن۔ ان کا کہنا تھا کہ کینوا اس مقابلے کے لیے بڑی انعامی رقم فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔</p>
<p>کینوا ایک مفت ویب پر مبنی ڈیزائن پلیٹ فارم ہے، جس کی مدد سے صارفین بغیر کسی پیشہ ورانہ مہارت کے سوشل میڈیا گرافکس، پریزنٹیشنز، پوسٹرز اور دیگر معیاری بصری ڈیزائن آسانی سے تیار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>احمد اقبال نے پی آئی اے کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایئرلائن کبھی خطے میں ہوا بازی کی صفِ اول کی کمپنی تھی، جبکہ 2026 میں وہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس تبدیلی کے عمل میں عوام کو شریک کیا جائے تو اس سے پاکستان کے ڈیزائن ورثے اور قومی فخر کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اجرک کے خوبصورت رنگوں سے مزین پی آئی اے کے دو تصوراتی طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر پیشہ ور ڈیزائنر نے کینوا اور ایفینٹی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کی ہیں۔ انہوں نے لکھا، ذرا تصور کریں کہ اگر پورا ملک اس میں حصہ لے تو کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ ایفینٹی کینوا کی ذیلی کمپنی اور ایک پیشہ ورانہ تخلیقی سافٹ ویئر ہے۔</p>
<p>اس تجویز پر لنکڈ اِن صارفین کے درمیان دلچسپ بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے طیاروں پر انتہائی رنگین ڈیزائن کو عملی اعتبار سے غیر موزوں قرار دیا۔</p>
<p>ایک صارف کا کہنا تھا کہ زیادہ پینٹ سے طیارے کا وزن اور آپریٹنگ اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر نے نشاندہی کی کہ گہرے رنگ زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں، جس سے طیارے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوگی۔</p>
<p>دوسری جانب متعدد صارفین نے اس خیال کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں ثقافتی احیا کو فروغ ملے گا اور نوجوان ڈیزائنرز کو مقامی فن اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>کچھ صارفین نے یہ بھی یاد دلایا کہ دنیا بھر میں زیادہ تر طیارے سفید رنگ میں اس لیے رنگے جاتے ہیں کیونکہ یہ دیکھ بھال، ٹھنڈک اور مجموعی آپریٹنگ لاگت کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے ڈیزائن میں خوبصورتی اور عملی افادیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288946</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 15:25:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/201521303055753.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/201521303055753.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر مارکیٹ کی ترقی کے ساتھ پاکستانی بیٹری اسٹوریج کو تیزی سے اپنا رہے ہیں، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288865/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک رپورٹ کے مطابق توانائی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بجلی کی فراہمی کے تسلسل سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان میں صارفین چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) میں بھی تیزی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاکہ توانائی کے حوالے سے زیادہ خودمختاری حاصل کی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینیوبلز فرسٹ کی نئی رپورٹ ”فرام سولر پینلز ٹو اسٹوریج: پاکستانز بیٹری بوم بِگنز“ کے مطابق 2025 کے اختتام تک لیتھیم آئن بیٹری اسٹوریج کی مجموعی درآمدات 7.6 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 220 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک درآمد کی جانے والی مجموعی بیٹریوں میں سے تقریباً 60 فیصد صرف 2025 کے دوران درآمد کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس تیز رفتار اضافے کی وجوہات میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ، رووف ٹاپ سولر استعمال کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی اور نیٹ بلنگ نظام میں کی گئی اصلاحات کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینیوبلز فرسٹ کی سینئر ڈیٹا ایسوسی ایٹ ہما نوید نے کہا کہ 2018 سے 2023 کے دوران بیٹریوں کی سالانہ درآمدات 0.5 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) سے بھی کم رہیں، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران طلب میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دنیا کے بہت سے ممالک کے برعکس، جہاں بیٹری اسٹوریج کی ترقی کا انحصار زیادہ تر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یا یوٹیلیٹی اداروں پر ہے، پاکستان میں اس مارکیٹ کی قیادت گھریلو صارفین کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہما نوید کے مطابق بیٹری درآمدات میں 58 فیصد حصہ رہائشی صارفین کا ہے، جبکہ سولر توانائی استعمال کرنے والے ہر 26 گھروں میں سے تقریباً ایک گھر میں اب بیٹری اسٹوریج سسٹم بھی نصب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رینیوبلز فرسٹ کے پروگرام ڈائریکٹر محمد مصطفیٰ امجد نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی رووف ٹاپ سولر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تنصیبات کے ذریعے صارفین کی قیادت میں توانائی کی منتقلی کا تجربہ کر چکا ہے، اور اب بیٹری اسٹوریج بھی اسی سمت، بلکہ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ توانائی کی منصوبہ بندی میں ابتدائی مرحلے ہی سے بیٹری اسٹوریج کو شامل کریں، تاکہ اس شعبے کی ترقی منصفانہ، متوازن اور سب کے لیے فائدہ مند ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) پاکستان کے زیادہ غیرمرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) توانائی نظام کی جانب منتقلی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی جغرافیائی سیاسی غیریقینی صورتحال، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور نیٹ میٹرنگ کے نظام میں حالیہ تبدیلیوں نے قومی توانائی منصوبہ بندی میں صارفین کے توانائی وسائل کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بیٹری اسٹوریج کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک کی توانائی کا تحفظ مضبوط ہوگا، درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان کے بجلی کے شعبے کی مجموعی پائیداری اور استعداد میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک رپورٹ کے مطابق توانائی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی، بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بجلی کی فراہمی کے تسلسل سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان میں صارفین چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) میں بھی تیزی سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاکہ توانائی کے حوالے سے زیادہ خودمختاری حاصل کی جا سکے۔</strong></p>
<p>رینیوبلز فرسٹ کی نئی رپورٹ ”فرام سولر پینلز ٹو اسٹوریج: پاکستانز بیٹری بوم بِگنز“ کے مطابق 2025 کے اختتام تک لیتھیم آئن بیٹری اسٹوریج کی مجموعی درآمدات 7.6 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 220 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب تک درآمد کی جانے والی مجموعی بیٹریوں میں سے تقریباً 60 فیصد صرف 2025 کے دوران درآمد کی گئیں۔</p>
<p>رپورٹ میں اس تیز رفتار اضافے کی وجوہات میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ، رووف ٹاپ سولر استعمال کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی اور نیٹ بلنگ نظام میں کی گئی اصلاحات کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>رینیوبلز فرسٹ کی سینئر ڈیٹا ایسوسی ایٹ ہما نوید نے کہا کہ 2018 سے 2023 کے دوران بیٹریوں کی سالانہ درآمدات 0.5 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) سے بھی کم رہیں، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران طلب میں غیرمعمولی تیزی آئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق دنیا کے بہت سے ممالک کے برعکس، جہاں بیٹری اسٹوریج کی ترقی کا انحصار زیادہ تر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یا یوٹیلیٹی اداروں پر ہے، پاکستان میں اس مارکیٹ کی قیادت گھریلو صارفین کر رہے ہیں۔</p>
<p>ہما نوید کے مطابق بیٹری درآمدات میں 58 فیصد حصہ رہائشی صارفین کا ہے، جبکہ سولر توانائی استعمال کرنے والے ہر 26 گھروں میں سے تقریباً ایک گھر میں اب بیٹری اسٹوریج سسٹم بھی نصب ہے۔</p>
<p>رینیوبلز فرسٹ کے پروگرام ڈائریکٹر محمد مصطفیٰ امجد نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی رووف ٹاپ سولر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تنصیبات کے ذریعے صارفین کی قیادت میں توانائی کی منتقلی کا تجربہ کر چکا ہے، اور اب بیٹری اسٹوریج بھی اسی سمت، بلکہ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ توانائی کی منصوبہ بندی میں ابتدائی مرحلے ہی سے بیٹری اسٹوریج کو شامل کریں، تاکہ اس شعبے کی ترقی منصفانہ، متوازن اور سب کے لیے فائدہ مند ہو۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) پاکستان کے زیادہ غیرمرکزی (ڈی سینٹرلائزڈ) توانائی نظام کی جانب منتقلی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی جغرافیائی سیاسی غیریقینی صورتحال، ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور نیٹ میٹرنگ کے نظام میں حالیہ تبدیلیوں نے قومی توانائی منصوبہ بندی میں صارفین کے توانائی وسائل کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بیٹری اسٹوریج کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملک کی توانائی کا تحفظ مضبوط ہوگا، درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان کے بجلی کے شعبے کی مجموعی پائیداری اور استعداد میں بہتری آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288865</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 22:06:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/17220035e3ed2d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/17220035e3ed2d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
