<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Startup Recorder</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 21:11:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 21:11:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہائرنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے اے آئی پلیٹ فارم کیوریوز نے 5 ملین ڈالر کی سیڈ فنڈنگ حاصل کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282620/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ہائرنگ پلیٹ فارم  کیوریوز نے سیڈ فنڈنگ راؤنڈ میں 5 ملین ڈالر جمع کر لیے ہیں۔ اس راؤنڈ کی قیادت  پروسس وینچرز اور سلیکا اوریکس فنڈ نے کی جبکہ پلس وی سی، ایف 6 وینچرز اور ہب اسپاٹ کے سابق ایگزیکٹو ڈینیئل ٹائر سمیت دیگر معروف  اداروں نے بھی اس میں حصہ لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے اعلامیے کے مطابق الیگزینڈر ایپوری اور اسامہ نینی کی جانب سے قائم کردہ یہ اسٹارٹ اپ اس سرمائے کو اپنی اے آئی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، اپنی مارکیٹ ٹیم کو وسعت دینے اور کارپوریٹ شراکت داریوں کے ذریعے جغرافیائی پھیلاؤ کے لیے استعمال کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے شریک بانی اسامہ نینی جن کا تعلق پاکستان سے ہے نے بتایا کہ اگرچہ کیوریوز کا صدر دفتر دبئی میں ہے لیکن کمپنی نے اپنے عالمی ڈیلیوری ماڈل کے تحت پاکستان میں ایک مضبوط آپریشنل نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کا ٹیکنیکل اور آپریشنل ٹیلنٹ ہماری ترقی کا اہم حصہ ہے اور ہم وہاں اپنی ٹیم کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارٹ اپ کا فلسفہ یہ ہے کہ بھرتیوں کا عمل سست ہونے کی وجہ صرف امیدواروں کی تعداد نہیں بلکہ بکھرا ہوا نظام  ہے۔ کیوریوز اس پورے عمل کو ایک مربوط سسٹم میں بدل دیتا ہے جس سے مہینوں کا کام محض 6 دنوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سسٹم کا مرکزی کردار آئرس ہے، جو کیوریوز کا اے آئی اسسٹنٹ ہے۔ یہ کمپنیوں کے لیے امیدواروں کی تلاش اور اسکریننگ کو خودکار بناتا ہے، جبکہ امیدواروں کو ان کی مہارت کے مطابق بہترین ملازمتوں کے مواقع دکھا کر انہیں فوری فیڈ بیک فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروسس وینچرز کے رابن ووگڈ کے مطابق کیوریوز نے ایک ایسا عملی اور ذہین پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر بھرتیوں کے عمل کو تیز بناتا ہے، جو آج کی بڑی تنظیموں کے لیے ایک کلیدی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او الیگزینڈر ایپوری نے کہا کہ ان کا مقصد آجر اور امیدوار کو ایک ایسے نظام کے ذریعے جوڑنا ہے جو ہر نئی بھرتی کے ساتھ مزید بہتر ہوتا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ہائرنگ پلیٹ فارم  کیوریوز نے سیڈ فنڈنگ راؤنڈ میں 5 ملین ڈالر جمع کر لیے ہیں۔ اس راؤنڈ کی قیادت  پروسس وینچرز اور سلیکا اوریکس فنڈ نے کی جبکہ پلس وی سی، ایف 6 وینچرز اور ہب اسپاٹ کے سابق ایگزیکٹو ڈینیئل ٹائر سمیت دیگر معروف  اداروں نے بھی اس میں حصہ لیا۔</strong></p>
<p>کمپنی کے اعلامیے کے مطابق الیگزینڈر ایپوری اور اسامہ نینی کی جانب سے قائم کردہ یہ اسٹارٹ اپ اس سرمائے کو اپنی اے آئی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، اپنی مارکیٹ ٹیم کو وسعت دینے اور کارپوریٹ شراکت داریوں کے ذریعے جغرافیائی پھیلاؤ کے لیے استعمال کرے گا۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے شریک بانی اسامہ نینی جن کا تعلق پاکستان سے ہے نے بتایا کہ اگرچہ کیوریوز کا صدر دفتر دبئی میں ہے لیکن کمپنی نے اپنے عالمی ڈیلیوری ماڈل کے تحت پاکستان میں ایک مضبوط آپریشنل نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کا ٹیکنیکل اور آپریشنل ٹیلنٹ ہماری ترقی کا اہم حصہ ہے اور ہم وہاں اپنی ٹیم کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔</p>
<p>اسٹارٹ اپ کا فلسفہ یہ ہے کہ بھرتیوں کا عمل سست ہونے کی وجہ صرف امیدواروں کی تعداد نہیں بلکہ بکھرا ہوا نظام  ہے۔ کیوریوز اس پورے عمل کو ایک مربوط سسٹم میں بدل دیتا ہے جس سے مہینوں کا کام محض 6 دنوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس سسٹم کا مرکزی کردار آئرس ہے، جو کیوریوز کا اے آئی اسسٹنٹ ہے۔ یہ کمپنیوں کے لیے امیدواروں کی تلاش اور اسکریننگ کو خودکار بناتا ہے، جبکہ امیدواروں کو ان کی مہارت کے مطابق بہترین ملازمتوں کے مواقع دکھا کر انہیں فوری فیڈ بیک فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>پروسس وینچرز کے رابن ووگڈ کے مطابق کیوریوز نے ایک ایسا عملی اور ذہین پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر بھرتیوں کے عمل کو تیز بناتا ہے، جو آج کی بڑی تنظیموں کے لیے ایک کلیدی ضرورت ہے۔</p>
<p>سی ای او الیگزینڈر ایپوری نے کہا کہ ان کا مقصد آجر اور امیدوار کو ایک ایسے نظام کے ذریعے جوڑنا ہے جو ہر نئی بھرتی کے ساتھ مزید بہتر ہوتا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282620</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Feb 2026 16:05:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/09155256507e8c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="1100" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/09155256507e8c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان جیسا مگر زیادہ بڑا، کولابس کا سعودی عرب میں بڑا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280560/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ہنگامہ خیز شہروں میں ایک فلیکسبل ورک اسپیس اسٹارٹ اپ نے تیزی سے اپنی پہچان بنا لی ہے۔ 2019 میں قائم ہونے والا کولابس (COLABS) سخت مقابلے کے باوجود نمایاں ہو گیا ہے، جس میں دفتر خوان(Daftarkhwan) اورہائیو(Hive)  کے ساتھ کک اسٹارٹ (Kickstart) جیسے حریف بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولابس صرف ایک فلیکسبل ورک اسپیس فراہم کرنے والا ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ کمپنیوں کو مکمل مدد فراہم کرتا ہے، جس میں کمپنی قائم کرنے میں انسانی وسائل (ایچ آر) کی معاونت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے کراچی میں شاہراہ فیصل اور فیز 5 میں دو مکمل فعال دفاتر ہیں، جبکہ لاہور میں چار دفاتر ہیں، جہاں سے اس کا آغاز ہوا، جب اس نے پاکستان کی سب سے قدیم تولیہ فیکٹری کو کولابس کے فلیگ شپ کیمپس میں تبدیل کیا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں ایک آنے والی سائٹ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/HyRWaFMiMLY'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/HyRWaFMiMLY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کو-فاؤنڈر اور سی ای او کولابس عمر شاہ نے بزنس ریکارڈر کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہمارا شاہراہ فیصل کا دفتر واقعی بہت بڑا ہے، اس میں ڈیجیٹل اوشن (ایک اے آئی کمپنی) کی پوری ٹیم شامل ہے، جو 350 سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کاروبار بڑھ رہا ہے، لیکن مقامی مارکیٹ کے تجزیے کے بعد اسٹارٹ اپ نے نتیجہ اخذ کیا کہ کراچی اگرچہ لاہور کے مقابلے میں زیادہ آمدنی پیدا کرتا ہے، لیکن پاکستان میں آپریشنل لاگتوں میں اضافہ اور مارکیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے منافع کے حاشیے محدود رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر شاہ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا اگر آپ کاروبار کو بڑھانا اور اسکیل کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان اچھا ہے۔ لیکن اگر آپ کاروبار کو 100 ملین ڈالر کی آمدنی تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں شاید دس سے پندرہ سال لگیں۔ سعودی عرب میں یہ شاید دو سے تین سال میں ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523472a7b0d2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523472a7b0d2.webp'  alt=' کولابس ٹیم ریاض کے دفتر کے باہر ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کولابس ٹیم ریاض کے دفتر کے باہر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹارٹ اپ کے پاس ایک انتخاب تھا: یا تو پاکستان میں سست رفتاری سے ترقی جاری رکھیں یا کسی نئے، اعلیٰ صلاحیت والے مارکیٹ میں قدم رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی نظریں سعودی عرب پر مرکوز ہو گئیں، جو 35 ملین کی آبادی اور بڑے صارفین کے اخراجات والی ایک ابھرتی ہوا مارکیٹ ہے۔ سعودی عرب میں آمدنی پاکستان سے 10 گنا زیادہ ہے، لہٰذا صرف ایک مقام وہاں ہماری پاکستان کی کاروبار کا تقریباً 70 سے 80 فیصد کے برابر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر شاہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی ویژن 2030 کی منصوبہ بندی اور فلیکسبل آفس اسپیس کی مانگ نے اسٹارٹ اپ کے لیے سنہری موقع پیدا کیا۔ میرا مطلب ہے، سعودی عرب میں سرمایہ کاری کا مطلب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وہاں روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں کمپنیاں کاروبار کھولنا چاہتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف آفس اسپیس کی بڑی مانگ ہے بلکہ کسی کو کمپنی قائم کرنے میں مدد کرنے کی ضرورت بھی ہے، اور یہ وہ چیزیں ہیں جو کولابس بہترین طریقے سے کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹارٹ اپ کو یہ بھی یقین ہے کہ اسے برتری حاصل ہے کیونکہ مقامی حریف وہاں اچھا کام نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ سفر آسان نہیں تھا۔ ایک سال کی بنیاد سازی، تعلقات قائم کرنے اور مقامی ضوابط سے ہم آہنگ ہونے کے بعد، کمپنی نے ریاض میں اپنی پہلی عمارت حاصل کر لی ہے، جو زیر تعمیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کولابس کے سی ای او عمر شاہ نے کہا اگر آپ کاروبار کو 100 ملین ڈالر کی آمدنی تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں شاید دس سے پندرہ سال لگیں، سعودی عرب میں یہ شاید دو سے تین سال میں ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;عمر شاہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرا اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلق ہے، اور ایک جیسا ثقافتی پس منظر بھی موجود ہے، جو کسی پاکستانی اسٹارٹ اپ کے لیے فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان جیسا ہے، مگر زیادہ شدت کے ساتھ… ایک ابھرتا ہوا، نئے مواقع والا، بہت کم مقامی کھلاڑی ہیں، لیکن نئے کھلاڑیوں کے لیے ترقی کے بے پناہ امکانات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں عمر شاہ نے کہا کہ سعودی عرب اسکیل، امنگ، اور رفتار کا نایاب امتزاج پیش کرتا ہے، جو خطے میں کسی اور جگہ نہیں پایا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ پچھلے دو سالوں میں مینا خطے میں کوئی ٹیک ایکوسسٹم سعودی عرب کی طرح تیزی سے نہیں بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ اب خطے میں 40 فیصد سے زیادہ وینچر فنڈنگ سعودی مملکت میں جا رہی ہے۔ لیکن سرمایہ سے آگے جو سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ ٹیلنٹ ہے۔ یہاں جو توانائی، مہارت، اور ارادہ میں نے دیکھا، چاہے وہ مقامی افراد ہوں یا وہ لوگ جو یہاں منتقل ہونے کا انتخاب کر چکے ہیں، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب خطے کی سب سے کامیاب ٹیک کمپنیوں کو بھی پیدا کر رہا ہے۔ سلا سے فوڈکس، اور ٹیبی سے تمارا تک، اب یہ فِنٹیک، ساس، اور کامرس کے شعبوں میں کیٹیگری کے لیڈرز کا گھر ہے۔ اگلے دو سالوں میں، خطے میں 10 سے 15 ٹیک آئی پی اوز متوقع ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر سعودی ہیڈکوارٹرڈ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، ملک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انفراسٹرکچر اور تخلیقی صنعتوں میں گہری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک واضح وژن کی نشاندہی کرتی ہے؛ ایک ایسا وژن جہاں ٹیکنالوجی اور ثقافت مل کر معیشت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فلسفے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک ایسی مارکیٹ ہے جو ہمارے پلیٹ فارم کے لیے تیار ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جو سرمایہ، ٹیلنٹ، اور تخلیقیت کو اس طرح جوڑتا ہے جو ملک کے وسیع تر تبدیلی کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سعودی عرب میں داخل ہونے والی کسی پاکستانی کمپنی کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ وہ ایک مختصر ٹیم کے ساتھ آغاز کرے، جو آپ کی سیلز، آؤٹریچ، بزنس ڈیولپمنٹ کرے، اور پاکستان میں ایک اچھا بیک آفس ہو جو اس کی مدد کر رہا ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523583041f73.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523583041f73.webp'  alt=' النرجس میں ریاض کیمپس کا منظر، جو شہر کے شمالی حصے کا ایک اچھی طرح جڑا ہوا علاقہ ہے ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;النرجس میں ریاض کیمپس کا منظر، جو شہر کے شمالی حصے کا ایک اچھی طرح جڑا ہوا علاقہ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی غیر ملکی علاقے کی طرح، ابتدائی طور پر سعودی عرب میں کام کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ حوصلے اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن جب آپ اندر آ جائیں، تو یہ بہت اچھی مارکیٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 تک، اسٹارٹ اپ نے 5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو عوامی طور پر ظاہر کی گئی تھی۔عمر شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے سعودی عرب کے لیے اضافی فنڈ حاصل کیا ہے، لیکن ہم نے اس رقم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا، یہ دو ہندسوں میں ایس اے آر کی رقم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال کولابس خلیج کے خطے پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے۔ ہم ریاض میں متعدد مقامات پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پہلے ہی مانگ اور مواقع دیکھ رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کرایہ داروں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پاکستان میں، کمپنی نے کولابس کریئیٹو کلیکٹو قائم کیا ہے، جس نے فن، کاروبار، اور کمیونٹی کو یکجا کیا ہے، اور اس نے نہ صرف اسٹارٹ اپس بلکہ انٹرپرائز کلائنٹس اور فری لانسروں کو بھی متوجہ کیا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہے جو کمپنی سعودی عرب میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/151703583530979.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/151703583530979.webp'  alt=' سال کے آغاز میں کولابس کریئیٹو کلیکٹو مکسر کا انعقاد ہوا ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سال کے آغاز میں کولابس کریئیٹو کلیکٹو مکسر کا انعقاد ہوا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منافع بخش اسٹارٹ اپ کا مقصد اگلے سال 3 گنا آمدنی حاصل کرنا، پانچ سال میں 100 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرنا، اور بالآخر  مینا خطے میں قدم جما لینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر شاہ کا کہنا ہے کہ خطے میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو سعودی عرب، قطر، اردن، پاکستان، بنگلہ دیش میں کام کرتا ہو۔ اور اگر ہم اگلے چند سالوں میں اس مارکیٹ شیئر کو حاصل کر لیں، تو میرا مطلب ہے، ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کو-فاؤنڈر اب ایک ایسی کمپنی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو خود چل سکے، ان کی مداخلت کے بغیر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آخر میں کہا کہ یقین کرتا ہوں کہ ہم نے اس کا 60فیصد سے 70 فیصد حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی عملی طور پر بھاری ہے۔ ہمارے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ہنگامہ خیز شہروں میں ایک فلیکسبل ورک اسپیس اسٹارٹ اپ نے تیزی سے اپنی پہچان بنا لی ہے۔ 2019 میں قائم ہونے والا کولابس (COLABS) سخت مقابلے کے باوجود نمایاں ہو گیا ہے، جس میں دفتر خوان(Daftarkhwan) اورہائیو(Hive)  کے ساتھ کک اسٹارٹ (Kickstart) جیسے حریف بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>کولابس صرف ایک فلیکسبل ورک اسپیس فراہم کرنے والا ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ کمپنیوں کو مکمل مدد فراہم کرتا ہے، جس میں کمپنی قائم کرنے میں انسانی وسائل (ایچ آر) کی معاونت بھی شامل ہے۔</p>
<p>اس کے کراچی میں شاہراہ فیصل اور فیز 5 میں دو مکمل فعال دفاتر ہیں، جبکہ لاہور میں چار دفاتر ہیں، جہاں سے اس کا آغاز ہوا، جب اس نے پاکستان کی سب سے قدیم تولیہ فیکٹری کو کولابس کے فلیگ شپ کیمپس میں تبدیل کیا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں ایک آنے والی سائٹ بھی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/HyRWaFMiMLY'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/HyRWaFMiMLY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کو-فاؤنڈر اور سی ای او کولابس عمر شاہ نے بزنس ریکارڈر کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہمارا شاہراہ فیصل کا دفتر واقعی بہت بڑا ہے، اس میں ڈیجیٹل اوشن (ایک اے آئی کمپنی) کی پوری ٹیم شامل ہے، جو 350 سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔</p>
<p>اگرچہ کاروبار بڑھ رہا ہے، لیکن مقامی مارکیٹ کے تجزیے کے بعد اسٹارٹ اپ نے نتیجہ اخذ کیا کہ کراچی اگرچہ لاہور کے مقابلے میں زیادہ آمدنی پیدا کرتا ہے، لیکن پاکستان میں آپریشنل لاگتوں میں اضافہ اور مارکیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے منافع کے حاشیے محدود رہتے ہیں۔</p>
<p>عمر شاہ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا اگر آپ کاروبار کو بڑھانا اور اسکیل کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان اچھا ہے۔ لیکن اگر آپ کاروبار کو 100 ملین ڈالر کی آمدنی تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں شاید دس سے پندرہ سال لگیں۔ سعودی عرب میں یہ شاید دو سے تین سال میں ممکن ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523472a7b0d2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523472a7b0d2.webp'  alt=' کولابس ٹیم ریاض کے دفتر کے باہر ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کولابس ٹیم ریاض کے دفتر کے باہر</figcaption>
    </figure>
<p>اس اسٹارٹ اپ کے پاس ایک انتخاب تھا: یا تو پاکستان میں سست رفتاری سے ترقی جاری رکھیں یا کسی نئے، اعلیٰ صلاحیت والے مارکیٹ میں قدم رکھیں۔</p>
<p>ان کی نظریں سعودی عرب پر مرکوز ہو گئیں، جو 35 ملین کی آبادی اور بڑے صارفین کے اخراجات والی ایک ابھرتی ہوا مارکیٹ ہے۔ سعودی عرب میں آمدنی پاکستان سے 10 گنا زیادہ ہے، لہٰذا صرف ایک مقام وہاں ہماری پاکستان کی کاروبار کا تقریباً 70 سے 80 فیصد کے برابر ہوگا۔</p>
<p>عمر شاہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی ویژن 2030 کی منصوبہ بندی اور فلیکسبل آفس اسپیس کی مانگ نے اسٹارٹ اپ کے لیے سنہری موقع پیدا کیا۔ میرا مطلب ہے، سعودی عرب میں سرمایہ کاری کا مطلب بنتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وہاں روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں کمپنیاں کاروبار کھولنا چاہتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف آفس اسپیس کی بڑی مانگ ہے بلکہ کسی کو کمپنی قائم کرنے میں مدد کرنے کی ضرورت بھی ہے، اور یہ وہ چیزیں ہیں جو کولابس بہترین طریقے سے کرتا ہے۔</p>
<p>اس اسٹارٹ اپ کو یہ بھی یقین ہے کہ اسے برتری حاصل ہے کیونکہ مقامی حریف وہاں اچھا کام نہیں کرتے۔</p>
<p>تاہم، یہ سفر آسان نہیں تھا۔ ایک سال کی بنیاد سازی، تعلقات قائم کرنے اور مقامی ضوابط سے ہم آہنگ ہونے کے بعد، کمپنی نے ریاض میں اپنی پہلی عمارت حاصل کر لی ہے، جو زیر تعمیر ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کولابس کے سی ای او عمر شاہ نے کہا اگر آپ کاروبار کو 100 ملین ڈالر کی آمدنی تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں شاید دس سے پندرہ سال لگیں، سعودی عرب میں یہ شاید دو سے تین سال میں ممکن ہے۔</p>
</blockquote>
<p>عمر شاہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرا اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلق ہے، اور ایک جیسا ثقافتی پس منظر بھی موجود ہے، جو کسی پاکستانی اسٹارٹ اپ کے لیے فائدہ مند ہے۔</p>
<p>یہ پاکستان جیسا ہے، مگر زیادہ شدت کے ساتھ… ایک ابھرتا ہوا، نئے مواقع والا، بہت کم مقامی کھلاڑی ہیں، لیکن نئے کھلاڑیوں کے لیے ترقی کے بے پناہ امکانات ہیں۔</p>
<p>لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں عمر شاہ نے کہا کہ سعودی عرب اسکیل، امنگ، اور رفتار کا نایاب امتزاج پیش کرتا ہے، جو خطے میں کسی اور جگہ نہیں پایا جاتا۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ پچھلے دو سالوں میں مینا خطے میں کوئی ٹیک ایکوسسٹم سعودی عرب کی طرح تیزی سے نہیں بڑھا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ اب خطے میں 40 فیصد سے زیادہ وینچر فنڈنگ سعودی مملکت میں جا رہی ہے۔ لیکن سرمایہ سے آگے جو سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ ٹیلنٹ ہے۔ یہاں جو توانائی، مہارت، اور ارادہ میں نے دیکھا، چاہے وہ مقامی افراد ہوں یا وہ لوگ جو یہاں منتقل ہونے کا انتخاب کر چکے ہیں، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔</p>
<p>سعودی عرب خطے کی سب سے کامیاب ٹیک کمپنیوں کو بھی پیدا کر رہا ہے۔ سلا سے فوڈکس، اور ٹیبی سے تمارا تک، اب یہ فِنٹیک، ساس، اور کامرس کے شعبوں میں کیٹیگری کے لیڈرز کا گھر ہے۔ اگلے دو سالوں میں، خطے میں 10 سے 15 ٹیک آئی پی اوز متوقع ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر سعودی ہیڈکوارٹرڈ ہوں گی۔</p>
<p>اسی دوران، ملک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انفراسٹرکچر اور تخلیقی صنعتوں میں گہری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک واضح وژن کی نشاندہی کرتی ہے؛ ایک ایسا وژن جہاں ٹیکنالوجی اور ثقافت مل کر معیشت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فلسفے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک ایسی مارکیٹ ہے جو ہمارے پلیٹ فارم کے لیے تیار ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جو سرمایہ، ٹیلنٹ، اور تخلیقیت کو اس طرح جوڑتا ہے جو ملک کے وسیع تر تبدیلی کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سعودی عرب میں داخل ہونے والی کسی پاکستانی کمپنی کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ وہ ایک مختصر ٹیم کے ساتھ آغاز کرے، جو آپ کی سیلز، آؤٹریچ، بزنس ڈیولپمنٹ کرے، اور پاکستان میں ایک اچھا بیک آفس ہو جو اس کی مدد کر رہا ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523583041f73.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/12/151523583041f73.webp'  alt=' النرجس میں ریاض کیمپس کا منظر، جو شہر کے شمالی حصے کا ایک اچھی طرح جڑا ہوا علاقہ ہے ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>النرجس میں ریاض کیمپس کا منظر، جو شہر کے شمالی حصے کا ایک اچھی طرح جڑا ہوا علاقہ ہے</figcaption>
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی غیر ملکی علاقے کی طرح، ابتدائی طور پر سعودی عرب میں کام کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ حوصلے اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن جب آپ اندر آ جائیں، تو یہ بہت اچھی مارکیٹ ہے۔</p>
<p>2023 تک، اسٹارٹ اپ نے 5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو عوامی طور پر ظاہر کی گئی تھی۔عمر شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے سعودی عرب کے لیے اضافی فنڈ حاصل کیا ہے، لیکن ہم نے اس رقم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا، یہ دو ہندسوں میں ایس اے آر کی رقم ہے۔</p>
<p>فی الحال کولابس خلیج کے خطے پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے۔ ہم ریاض میں متعدد مقامات پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پہلے ہی مانگ اور مواقع دیکھ رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کرایہ داروں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، پاکستان میں، کمپنی نے کولابس کریئیٹو کلیکٹو قائم کیا ہے، جس نے فن، کاروبار، اور کمیونٹی کو یکجا کیا ہے، اور اس نے نہ صرف اسٹارٹ اپس بلکہ انٹرپرائز کلائنٹس اور فری لانسروں کو بھی متوجہ کیا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہے جو کمپنی سعودی عرب میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/151703583530979.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/151703583530979.webp'  alt=' سال کے آغاز میں کولابس کریئیٹو کلیکٹو مکسر کا انعقاد ہوا ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سال کے آغاز میں کولابس کریئیٹو کلیکٹو مکسر کا انعقاد ہوا</figcaption>
    </figure>
<p>منافع بخش اسٹارٹ اپ کا مقصد اگلے سال 3 گنا آمدنی حاصل کرنا، پانچ سال میں 100 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرنا، اور بالآخر  مینا خطے میں قدم جما لینا ہے۔</p>
<p>عمر شاہ کا کہنا ہے کہ خطے میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو سعودی عرب، قطر، اردن، پاکستان، بنگلہ دیش میں کام کرتا ہو۔ اور اگر ہم اگلے چند سالوں میں اس مارکیٹ شیئر کو حاصل کر لیں، تو میرا مطلب ہے، ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں۔</p>
<p>کو-فاؤنڈر اب ایک ایسی کمپنی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو خود چل سکے، ان کی مداخلت کے بغیر۔</p>
<p>انہوں نے آخر میں کہا کہ یقین کرتا ہوں کہ ہم نے اس کا 60فیصد سے 70 فیصد حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی عملی طور پر بھاری ہے۔ ہمارے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280560</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 11:35:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/161125095709f93.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/161125095709f93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیووس 2026 میں جانے والے سات پاکستانی اسٹارٹ اپس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاتھ فائنڈر سیٹڈیل ڈیووس چیلنج نے سات پاکستانی اسٹارٹ اپس کو منتخب کیا ہے تاکہ وہ اگلے سال جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ 2026 کے موقع پر پاکستان پیویلین میں عالمی سطح پر اپنی پیشکش کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب شدہ اسٹارٹ اپس درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;ایڈورسٹی(Edversity)&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ایڈورسٹی ابھرتے ہوئے مارکیٹس کے لیے ٹیک ٹیلنٹ پائپ لائنز تیار کرتی ہے اور نوجوانوں کو اے آئی، بلاک چین، اور سائبر سیکیورٹی میں مقامی نوعیت کے اے آئی-پرسنلائزڈ لرننگ کے ذریعے تربیت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹارٹ اپ کے 12,000 سے زائد گریجویٹس ہیں، جن میں 68 فیصد کو روزگار ملا، جو ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک پائیدار ٹیلنٹ انجن تیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;وییکٹر اے آئی(Vector AI)&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2023 میں قائم ہونے والا وییکٹر اے آئی خصوصی اے آئی حل اور سافٹ ویئر بطور سروس (ایس اے اے ایس) تیار کرتا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ بنیادی ماڈلز، انٹرپرائز ایجنٹک اے آئی سسٹمز، اور پروڈکشن ریڈی وائس اے آئی تیار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیم، انشورنس، غیر منافع بخش اداروں کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے، جس میں مقامی نوعیت اور تخصیص پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;سوئچ(Swich)&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;سوئچ، جس کا ہیڈکوارٹر کراچی میں ہے، ایک ڈیجیٹل ادائیگیوں کا پلیٹ فارم ہے۔ یہ 2023 میں پیمنٹ ایگریگیٹر کے طور پر شروع ہوا اور اب دعویٰ کرتا ہے کہ یہ فِن ٹیک ایکو سسٹم میں فعال کردار ادا کرتا ہے، فنڈز جمع اور تقسیم کرنے کے لیے جدید گیٹ وے فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئچ کے شریک بانی شاہ عون حسین نے کہا کہ ہمیشہ یہ دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے کہ ہم پاکستان کے فِن ٹیک ایکو سسٹم میں جو اثر ڈال رہے ہیں اور تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اسے دکھانا قابلِ فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;ایکو(EKKO)&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ایکو ایک جدید پورٹ ایبل ڈیوائس ہے جو گھر پر اسپِیچ تھراپی فراہم کرتی ہے۔ یہ ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپ دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کو ہدف بناتا ہے جو بولنے کے مسائل سے متاثر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محفوظ وائبریشنل ویو اسٹیمولیشن استعمال کرتا ہے، ایپ اور کلاؤڈ سپورٹ کے ساتھ، اور تھراپی کو سستا اور قابل رسائی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;اے آئی ٹیم فورس(Ai team force)&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;یہ اسٹارٹ اپ ایک اے آئی پاورڈ سیلز آؤٹریچ ٹول فراہم کرتا ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو مکمل وقتی سیلز ڈیولپمنٹ ریپریزنٹیٹو کی صلاحیتیں صرف 497 ڈالر فی ماہ میں فراہم کرتا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ 60,000 ڈالر سالانہ ری کرنگ ریونیو حاصل کر چکا ہے، 19 صارفین کو خدمات دیتا ہے (جس میں ووڈافون جرمنی بھی شامل ہے)، 95 فیصد کلائنٹس برقرار رکھتا ہے، اور ہر ماہ 20 فیصد نمو پا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یورپ اور امریکہ میں 10 ملین سے زائد ایس ایم ایز کے بڑے اور غیر سروس شدہ مارکیٹ کو ہدف بنا رہا ہے جس کی مالیت 16.8 بلین ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;ایڈکاسا(Edkasa)&lt;/strong&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ایڈکاسا کا مقصد ایڈکاسا ایپ کے ذریعے آن لائن لرننگ تجربہ فراہم کر کے میٹرک اور ایف ایس سی کے طلبا کی بورڈ امتحانات میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے میں مدد کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شریک بانی انعام صادق کے مطابق ایڈکاسا فخر محسوس کرتا ہے کہ اسے 2026 میں پاکستان کی نمائندگی میں ڈیووس میں شرکت کے لیے منتخب کیا گیا، اور لاکھوں طلبا کے لیے مساوی تعلیمی مواقع اور مستقبل کی تعلیم کی حمایت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;&lt;strong&gt;اے آئی بی ایل(AiBL)&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;اے آئی بی ایل اے آئی-انٹیگریٹڈ بایونک پروسٹیٹکس تیار کرتا ہے جو معذور افراد کے لیے قدرتی نقل و حرکت اور خود مختاری بحال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انتخابی عمل&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پاکستان کے وژن 2030 اور ڈیجیٹل پاکستان کے اقدام کے مطابق، سیٹڈیل ڈیووس اسٹارٹ اپ چیلنج کا مقصد پاکستانی ٹیلنٹ اور عالمی سرمایہ کاری کے درمیان خلا کو ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظمین نے کہا کہ ہم اپنے بہترین بانیوں کو ڈیووس لے جا کر انہیں مینٹورشپ، بین الاقوامی مارکیٹس، سرمایہ کاروں اور عالمی سطح پر نظر آنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں جو اسٹارٹ اپ کے سفر کو بدل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک گیر مقابلہ تین مراحل پر مشتمل سخت عمل کے ذریعے مارکیٹ کے لیے تیار تخلیق کاروں کی شناخت کے لیے کیا گیا۔ 200 درخواست دہندگان میں سے 60 کو شارٹ لسٹ کیا گیا، 40 نے دوسرے مرحلے میں پچ کی، اور 20 فائنلز تک پہنچے، جہاں 7 بہترین اسٹارٹ اپس ڈیووس کے لیے منتخب ہوئے۔ تمام جائزے صنعت، تعلیم، اور سرمایہ کاری کمیونٹیز کے بیرونی ماہرین نے شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیتنے والے عالمی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطے، بین الاقوامی میڈیا میں نمائش، اور پاتھ فائنڈر سیٹڈیل کی تیز رفتاری، مینٹورشپ، اور کارپوریٹ روابط تک رسائی حاصل کریں گے — جو پاکستان کے انوویشن ایکو سسٹم سے عالمی مارکیٹس تک واضح راستہ فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاتھ فائنڈر سیٹڈیل پاکستانی اقدام ہے جو پاتھ فائنڈر گروپ اور پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (P@SHA) کے ذریعے مقامی ٹیک انوویشن کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاتھ فائنڈر سیٹڈیل ڈیووس چیلنج نے سات پاکستانی اسٹارٹ اپس کو منتخب کیا ہے تاکہ وہ اگلے سال جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ 2026 کے موقع پر پاکستان پیویلین میں عالمی سطح پر اپنی پیشکش کریں۔</strong></p>
<p>منتخب شدہ اسٹارٹ اپس درج ذیل ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>ایڈورسٹی(Edversity)</strong></li>
</ul>
<p>ایڈورسٹی ابھرتے ہوئے مارکیٹس کے لیے ٹیک ٹیلنٹ پائپ لائنز تیار کرتی ہے اور نوجوانوں کو اے آئی، بلاک چین، اور سائبر سیکیورٹی میں مقامی نوعیت کے اے آئی-پرسنلائزڈ لرننگ کے ذریعے تربیت دیتی ہے۔</p>
<p>اس اسٹارٹ اپ کے 12,000 سے زائد گریجویٹس ہیں، جن میں 68 فیصد کو روزگار ملا، جو ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک پائیدار ٹیلنٹ انجن تیار کر رہا ہے۔</p>
<ul>
<li><strong>وییکٹر اے آئی(Vector AI)</strong></li>
</ul>
<p>جولائی 2023 میں قائم ہونے والا وییکٹر اے آئی خصوصی اے آئی حل اور سافٹ ویئر بطور سروس (ایس اے اے ایس) تیار کرتا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ بنیادی ماڈلز، انٹرپرائز ایجنٹک اے آئی سسٹمز، اور پروڈکشن ریڈی وائس اے آئی تیار کرتا ہے۔</p>
<p>ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیم، انشورنس، غیر منافع بخش اداروں کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے، جس میں مقامی نوعیت اور تخصیص پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<ul>
<li><strong>سوئچ(Swich)</strong><br></li>
</ul>
<p>سوئچ، جس کا ہیڈکوارٹر کراچی میں ہے، ایک ڈیجیٹل ادائیگیوں کا پلیٹ فارم ہے۔ یہ 2023 میں پیمنٹ ایگریگیٹر کے طور پر شروع ہوا اور اب دعویٰ کرتا ہے کہ یہ فِن ٹیک ایکو سسٹم میں فعال کردار ادا کرتا ہے، فنڈز جمع اور تقسیم کرنے کے لیے جدید گیٹ وے فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>سوئچ کے شریک بانی شاہ عون حسین نے کہا کہ ہمیشہ یہ دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے کہ ہم پاکستان کے فِن ٹیک ایکو سسٹم میں جو اثر ڈال رہے ہیں اور تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اسے دکھانا قابلِ فخر ہے۔</p>
<ul>
<li><strong>ایکو(EKKO)</strong></li>
</ul>
<p>ایکو ایک جدید پورٹ ایبل ڈیوائس ہے جو گھر پر اسپِیچ تھراپی فراہم کرتی ہے۔ یہ ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپ دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کو ہدف بناتا ہے جو بولنے کے مسائل سے متاثر ہیں۔</p>
<p>یہ محفوظ وائبریشنل ویو اسٹیمولیشن استعمال کرتا ہے، ایپ اور کلاؤڈ سپورٹ کے ساتھ، اور تھراپی کو سستا اور قابل رسائی بناتا ہے۔</p>
<ul>
<li><strong>اے آئی ٹیم فورس(Ai team force)</strong><br></li>
</ul>
<p>یہ اسٹارٹ اپ ایک اے آئی پاورڈ سیلز آؤٹریچ ٹول فراہم کرتا ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو مکمل وقتی سیلز ڈیولپمنٹ ریپریزنٹیٹو کی صلاحیتیں صرف 497 ڈالر فی ماہ میں فراہم کرتا ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ 60,000 ڈالر سالانہ ری کرنگ ریونیو حاصل کر چکا ہے، 19 صارفین کو خدمات دیتا ہے (جس میں ووڈافون جرمنی بھی شامل ہے)، 95 فیصد کلائنٹس برقرار رکھتا ہے، اور ہر ماہ 20 فیصد نمو پا رہا ہے۔</p>
<p>یہ یورپ اور امریکہ میں 10 ملین سے زائد ایس ایم ایز کے بڑے اور غیر سروس شدہ مارکیٹ کو ہدف بنا رہا ہے جس کی مالیت 16.8 بلین ڈالر ہے۔</p>
<ul>
<li><strong>ایڈکاسا(Edkasa)</strong></li>
</ul>
<p>ایڈکاسا کا مقصد ایڈکاسا ایپ کے ذریعے آن لائن لرننگ تجربہ فراہم کر کے میٹرک اور ایف ایس سی کے طلبا کی بورڈ امتحانات میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے میں مدد کرنا ہے۔</p>
<p>شریک بانی انعام صادق کے مطابق ایڈکاسا فخر محسوس کرتا ہے کہ اسے 2026 میں پاکستان کی نمائندگی میں ڈیووس میں شرکت کے لیے منتخب کیا گیا، اور لاکھوں طلبا کے لیے مساوی تعلیمی مواقع اور مستقبل کی تعلیم کی حمایت کر رہا ہے۔</p>
<ul>
<li><strong>اے آئی بی ایل(AiBL)</strong><br></li>
</ul>
<p>اے آئی بی ایل اے آئی-انٹیگریٹڈ بایونک پروسٹیٹکس تیار کرتا ہے جو معذور افراد کے لیے قدرتی نقل و حرکت اور خود مختاری بحال کرتا ہے۔</p>
<p><strong>انتخابی عمل</strong><br>پاکستان کے وژن 2030 اور ڈیجیٹل پاکستان کے اقدام کے مطابق، سیٹڈیل ڈیووس اسٹارٹ اپ چیلنج کا مقصد پاکستانی ٹیلنٹ اور عالمی سرمایہ کاری کے درمیان خلا کو ختم کرنا ہے۔</p>
<p>منتظمین نے کہا کہ ہم اپنے بہترین بانیوں کو ڈیووس لے جا کر انہیں مینٹورشپ، بین الاقوامی مارکیٹس، سرمایہ کاروں اور عالمی سطح پر نظر آنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں جو اسٹارٹ اپ کے سفر کو بدل سکتے ہیں۔</p>
<p>ملک گیر مقابلہ تین مراحل پر مشتمل سخت عمل کے ذریعے مارکیٹ کے لیے تیار تخلیق کاروں کی شناخت کے لیے کیا گیا۔ 200 درخواست دہندگان میں سے 60 کو شارٹ لسٹ کیا گیا، 40 نے دوسرے مرحلے میں پچ کی، اور 20 فائنلز تک پہنچے، جہاں 7 بہترین اسٹارٹ اپس ڈیووس کے لیے منتخب ہوئے۔ تمام جائزے صنعت، تعلیم، اور سرمایہ کاری کمیونٹیز کے بیرونی ماہرین نے شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق کیے۔</p>
<p>جیتنے والے عالمی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطے، بین الاقوامی میڈیا میں نمائش، اور پاتھ فائنڈر سیٹڈیل کی تیز رفتاری، مینٹورشپ، اور کارپوریٹ روابط تک رسائی حاصل کریں گے — جو پاکستان کے انوویشن ایکو سسٹم سے عالمی مارکیٹس تک واضح راستہ فراہم کرے گا۔</p>
<p>پاتھ فائنڈر سیٹڈیل پاکستانی اقدام ہے جو پاتھ فائنڈر گروپ اور پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (P@SHA) کے ذریعے مقامی ٹیک انوویشن کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280377</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 11:55:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1111533877b9e45.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1111533877b9e45.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپل پریونرشپ، اپنے شریک حیات کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کرنے کا جدید رجحان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آپ کے کام کا دن کافی مشکل گزرا ہے۔ وہ کلائنٹ جس کے سامنے آپ مہینوں سے اپنی پیشکش پیش کر رہے تھے غائب ہے۔ آپ کا چیک واپس آگیا ہے۔ اور چوتھی مشکل: آپ ڈیڈ لائن مس کر چکے ہیں اور اب کسی کلائنٹ کو کھونے کا خطرہ ہے۔ آپ بے صبری سے گھر جانے اور اس دن کو ختم کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ گھر پہنچتے ہیں تو آپ کو اپنے صوفے پر وہی ساتھی ملتا ہے جس کے ساتھ آپ نے کام کے دوران سخت بحث کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش آمدید ایک ‘کپل پریونر’ کی زندگی میں — ایک اصطلاح جو ان جوڑوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ایک ساتھ کاروبار بنا رہے ہیں۔ کاروباری زندگی بذات خود دباؤ اور چیلنجز سے بھرپور ہوتی ہے، لیکن جب آپ اس شخص کے ساتھ کام کر رہے ہوں جس سے آپ محبت کرتے ہیں تو یہ صورتحال اور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا آپ واقعی ایک ہائی پریشر کاروباری زندگی کے دوران صحت مند رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں؟ ہم نے اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے پانچ جوڑوں سے بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے ایک جوڑا لوگوں کو ہنسانے کے لیے فل ٹائم کام کرتا ہے۔ علی السید ایک عرب مسلم ہیں جو متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتے ہیں اور مینا لیسیون نیو یارک کی اطالوی عیسائی ہیں۔ اپنے مختلف پس منظر کے باوجود، شادی شدہ جوڑے کی ایک مشترکہ بات یہ ہے کہ وہ کامیڈی سے محبت کرتے ہیں۔ انہیں متحدہ عرب امارات کا ‘کنگ اینڈ کوئین آف کامیڈی’ کہا جاتا ہے — علی اور مینا نے ڈوبومیڈی کی بنیاد رکھی، جو علاقے کا پہلا کامیڈی اسکول ہے، جہاں انہوں نے ہفتہ وار شوز اور فیسٹیولز کے ذریعے مقامی کامیڈی سین کو فروغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651226d60691.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651226d60691.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وہ گزشتہ 16 سال سے کپل پریونر ہیں، علی اور مینا کے لیے کام اور زندگی میں صحت مند توازن قائم رکھنا مشکل رہا۔ علی یاد کرتے ہیں کہ اپنے کامیڈی بزنس کے ابتدائی دنوں میں وہ ہر وقت کام کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے۔ ”وہ مجھے صبح چار بجے اٹھا کر ایک جوک ٹیسٹ کرنے لگتی۔ پھر کہتی، تم کیوں نہیں ہنس رہے؟ میں کہتا، کیونکہ میں سو رہا ہوں!“ علی ہنستے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ، انہوں نے فعال طور پر صحت مند حد بندی قائم کرنے کی کوشش کی۔ مینا کہتی ہیں، شروع میں یہ مشکل تھا کیونکہ جب آپ نئے کاروباری ہیں تو آپ کی ساری زندگی اس میں لگ جاتی ہے، یہ واقعی 24/7 ہوتا ہے۔ تو یہ ایک چیز تھی جس پر وہ واضح طور پر کہتا تھا، کام کے اوقات کام کے اوقات ہیں، اور پھر ایک حد ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذمہ داریوں کی تقسیم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کچھ کپل پریونرز صحت مند توازن قائم رکھنے میں جدوجہد کرتے ہیں، تو دیگر نے محسوس کیا کہ کاروبار کے دباؤ نے ان کے رشتے پر اثر ڈالا۔ رونک شاہ اور نیکیتا سکھنانی نے اپنے بیس کی دھائی کے آخر  عمر میں ایک ساتھ کام کرنا شروع کیا تاکہ اپنے انٹیریئر ڈیزائن بزنس، ونڈر وال انٹیریئرز، کو قائم کر سکیں۔ شروع میں جوڑے کو ذمہ داریوں کی تقسیم میں دشواری ہوئی، جس کے نتیجے میں اکثر جھگڑے ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512232d672c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512232d672c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونک کہتے ہیں کہ ذمہ داریوں کی حدیں اتنی زیادہ اوور لیپس تھیں کہ یا تو وہ میری وجہ سے پھنس جاتی یا میں اس کی وجہ سے پھنس جاتا۔ ہم خوش تھے کہ پھنسے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے… کسی کو بھی کسی چیز کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے رول کی وضاحت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹنگ، آپریشنز، فنانس، کلائنٹس سے نمٹنا — دونوں تقریباً ہر چیز سنبھال رہے تھے، جس سے کاروبار کی ترقی میں شدید رکاوٹ آئی۔ یہ جھگڑے آخرکار ذمہ داریوں کی تفصیلی تقسیم اور تفویض پر منتج ہوئے، جس سے ان کے رشتے میں، پیشہ ورانہ اور ذاتی دونوں، بہت بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونک کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ایک دوسرے کے لیے کمپنی کے ملازمین کے طور پر جاب ڈسکرپشن بنانا انتہائی اہم ہے۔ ہم نے یہ بہت دیر سے کیا جو ہمیں پہلے کرنی چاہیے تھی۔ ہم ابھی بھی یہ کر رہے ہیں۔ یہ اب بھی بدل رہا ہے اور ہر بار جب ہم کسی خلا یا اوور لیپس دیکھتے ہیں، اسے ایڈجسٹ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذمہ داری تفویض کرنا اہم ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی طاقتوں اور کمزوریوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ خصوصیات اور مہارتیں جو ایک شریک حیات میں نہیں ہیں، وہ دوسرے کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں۔ سارہ لنڈسے اور رچ فلپس، کپل پریونرز اور روئر فٹنس کے بانی، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ رچ بزنس کی توسیع، لاجسٹکس اور حکمت عملی سنبھالتے ہیں، جبکہ سارہ، تین بار کی اولمپئن، پی آر اور مارکیٹنگ مہمات کا چہرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651227879078.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651227879078.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رچ کہتے ہیں، “جو چیزیں سارہ کے لیے آسان ہیں، وہ میرے لیے بالکل آسان نہیں ہیں۔ اور تھوڑی حد تک اس کے لیے بھی۔ سارہ اسپریڈشیٹ میں نمبر نہیں چیک کر سکتی، اور یہ اس کے مہارت یا سوچ کا حصہ نہیں ہے۔ اور میں بھی نہیں چاہتا کہ کیمروں کے سامنے جا کر ایونٹس میں شریک ہوں جتنا ضروری ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازعات اور ناراضگی کا حل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایک ساتھ کام کرنا لازمی طور پر تنازعات کا باعث بنتا ہے، لیکن ایک جوڑے نے طویل عرصے تک ناراضگی سے بچنے کے لیے زیادہ رسمی راستہ اختیار کیا ہے۔ جب نادیہ شاہ نے دبئی میں اپنے شوہر محمد عبد اللطیف (جو کہ ایک معروف باسکٹ بال کھلاڑی ہیں) کے ساتھ ڈرپ برگرز — ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین — قائم کیا، تو انہوں نے سب سے پہلے ایک باقاعدہ کاروباری معاہدہ تیار کیا جس میں ضروری شرائط اور قوانین طے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/21165122a038dfe.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/21165122a038dfe.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادیہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اگرچہ یہ عجیب محسوس ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے شریک حیات کو ایک کاروباری پارٹنر کے طور پر معاہدے کے ساتھ دیکھیں، لیکن یہ ایک ضروری قدم ہے۔ نادیہ کہتی ہیں، اگر آپ کو شک ہے، تو اپنے اور اپنے پارٹنر کے درمیان ہر چیز کو معاہدے میں ڈالیں اور اسے پروفیشنل طور پر کاروبار کی طرح ٹریٹ کریں۔ میں یہ کسی کے ساتھ بھی کروں گی۔ فرق نہیں پڑتا کہ وہ میرے والد، بھائی، والدہ یا بہن ہیں۔ وہ کہتی ہیں، آپ کو ذاتی چیز کو کاروبار کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔ یہ مکمل طور پر الگ ہونا چاہیے۔ سب کچھ واضح طور پر معاہدے میں طے ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے جوڑوں نے شدید ورک پلیس تنازعات کو منظم اور سنبھالنے کے لیے تخلیقی طریقے وضع کیے ہیں۔ گورو پرکاش اور ساکشی چندل، جو کہ سوشل کندورا — دبئی کی ایک میڈیا کمپنی — کے بانی ہیں، ایسے ہی ‘کپل پریونرز’ ہیں جنہوں نے یہ کام کامیابی سے کیا۔ گورو کہتے ہیں، ”اگر ہم دیکھیں کہ ہم تنازعہ کے زون میں جا رہے ہیں… تو ہم دس منٹ کے لیے ٹائمر سیٹ کر لیتے ہیں، اور ایک دوسرے سے جو بھی ہمارے ذہن یا دل میں ہے، اسے بلند آواز میں نہیں کہتے۔“ وہ مزید کہتے ہیں، ”ایک بار جب آپ نے یہ نکال دیا اور دس منٹ ختم ہو گئے، تو خود بخود آپ کہتے ہیں، جانتے ہو کیا؟ یہ ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا۔ یہ طریقہ کبھی کبھار کام کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دوسرے میں سکون تلاش کرنا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تنازعات کے باوجود، پانچوں جوڑوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ساتھ کام کرنے میں زبردست طاقت اور سکون حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی اور کے ساتھ کاروبار شروع کر رہے ہوتے، تو انہیں اعتماد کے مسائل ہوتے۔ وہ کہتے ہیں، ”اعتماد کا عنصر اس لیے آتا ہے کیونکہ یہ آپ کی بیوی ہے یا آپ کا شوہر۔ اگر آپ کسی پارٹنر کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، تو ہمیشہ ایک فیصد شک ہوتا ہے: کیا یہ شخص کاروبار کے لیے کر رہا ہے؟ کیا وہ اپنے لیے کر رہا ہے؟ لیکن جب آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں، تو یہ اعتماد 100 فیصد موجود ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512219d617a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512219d617a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکون اس بات سے بھی آتا ہے کہ آپ ایک ساتھ عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور تھوڑا تفریح بھی شامل کرتے ہیں۔ مینا اور علی کی ملازمتوں میں بڑے گروپ کے ساتھ کام کرنا شامل ہے، اور وہ مختلف لوگوں کے بارے میں منفرد اور مزاحیہ مشاہدات شیئر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی کہتے ہیں، ”آپ جانتے ہیں کہ جب آپ لوگوں کے گروپ کے ساتھ ہوتے ہیں… اور پھر کبھی کبھی آپ وہاں سے نکلتے ہیں اور آپ ان کے بارے میں گپ شپ کرنے کے لیے بے صبری سے انتظار کرتے ہیں؟ ہم کامیڈین ہیں، اور جو ہوتا ہے… ہم بہت سی چیزیں نوٹ کرتے ہیں۔ ہم تقریباً گپ شپ کو ختم کر دیتے ہیں، اور پھر تمام لطیفے نکال دیتے ہیں۔ یہ ایک طریقہ ہے جس سے ہم خود کو آرام پہنچاتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھی سکون اس لیے بھی آتا ہے کہ شریک حیات مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ رچ اور سارہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب ان کے پچھلے کاروبار کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ وہ اس وقت کو مشکل کے طور پر بیان کرتے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہوئے سکون پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ کہتی ہیں ہم بہت دباؤ اور پریشر میں تھے، لیکن ہم جانتے تھے کہ ہم ٹھیک رہیں گے، کیونکہ ہمارے پاس ایک دوسرے کا سہارا تھا۔ اگر میں اس صورتحال میں اکیلا ہوتی، تو احساس بہت مختلف ہوتا۔ لوگ اچھے وقت میں بہترین تعلقات رکھ سکتے ہیں، لیکن جب چیزیں غلط ہو جائیں تو آپ کتنے مضبوط ہیں؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آپ کے کام کا دن کافی مشکل گزرا ہے۔ وہ کلائنٹ جس کے سامنے آپ مہینوں سے اپنی پیشکش پیش کر رہے تھے غائب ہے۔ آپ کا چیک واپس آگیا ہے۔ اور چوتھی مشکل: آپ ڈیڈ لائن مس کر چکے ہیں اور اب کسی کلائنٹ کو کھونے کا خطرہ ہے۔ آپ بے صبری سے گھر جانے اور اس دن کو ختم کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ گھر پہنچتے ہیں تو آپ کو اپنے صوفے پر وہی ساتھی ملتا ہے جس کے ساتھ آپ نے کام کے دوران سخت بحث کی تھی۔</strong></p>
<p>خوش آمدید ایک ‘کپل پریونر’ کی زندگی میں — ایک اصطلاح جو ان جوڑوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ایک ساتھ کاروبار بنا رہے ہیں۔ کاروباری زندگی بذات خود دباؤ اور چیلنجز سے بھرپور ہوتی ہے، لیکن جب آپ اس شخص کے ساتھ کام کر رہے ہوں جس سے آپ محبت کرتے ہیں تو یہ صورتحال اور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا آپ واقعی ایک ہائی پریشر کاروباری زندگی کے دوران صحت مند رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں؟ ہم نے اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے پانچ جوڑوں سے بات کی۔</p>
<p>ان میں سے ایک جوڑا لوگوں کو ہنسانے کے لیے فل ٹائم کام کرتا ہے۔ علی السید ایک عرب مسلم ہیں جو متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتے ہیں اور مینا لیسیون نیو یارک کی اطالوی عیسائی ہیں۔ اپنے مختلف پس منظر کے باوجود، شادی شدہ جوڑے کی ایک مشترکہ بات یہ ہے کہ وہ کامیڈی سے محبت کرتے ہیں۔ انہیں متحدہ عرب امارات کا ‘کنگ اینڈ کوئین آف کامیڈی’ کہا جاتا ہے — علی اور مینا نے ڈوبومیڈی کی بنیاد رکھی، جو علاقے کا پہلا کامیڈی اسکول ہے، جہاں انہوں نے ہفتہ وار شوز اور فیسٹیولز کے ذریعے مقامی کامیڈی سین کو فروغ دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651226d60691.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651226d60691.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ وہ گزشتہ 16 سال سے کپل پریونر ہیں، علی اور مینا کے لیے کام اور زندگی میں صحت مند توازن قائم رکھنا مشکل رہا۔ علی یاد کرتے ہیں کہ اپنے کامیڈی بزنس کے ابتدائی دنوں میں وہ ہر وقت کام کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے۔ ”وہ مجھے صبح چار بجے اٹھا کر ایک جوک ٹیسٹ کرنے لگتی۔ پھر کہتی، تم کیوں نہیں ہنس رہے؟ میں کہتا، کیونکہ میں سو رہا ہوں!“ علی ہنستے ہیں۔</p>
<p>وقت کے ساتھ، انہوں نے فعال طور پر صحت مند حد بندی قائم کرنے کی کوشش کی۔ مینا کہتی ہیں، شروع میں یہ مشکل تھا کیونکہ جب آپ نئے کاروباری ہیں تو آپ کی ساری زندگی اس میں لگ جاتی ہے، یہ واقعی 24/7 ہوتا ہے۔ تو یہ ایک چیز تھی جس پر وہ واضح طور پر کہتا تھا، کام کے اوقات کام کے اوقات ہیں، اور پھر ایک حد ہونی چاہیے۔</p>
<p><strong>ذمہ داریوں کی تقسیم</strong></p>
<p>جب کچھ کپل پریونرز صحت مند توازن قائم رکھنے میں جدوجہد کرتے ہیں، تو دیگر نے محسوس کیا کہ کاروبار کے دباؤ نے ان کے رشتے پر اثر ڈالا۔ رونک شاہ اور نیکیتا سکھنانی نے اپنے بیس کی دھائی کے آخر  عمر میں ایک ساتھ کام کرنا شروع کیا تاکہ اپنے انٹیریئر ڈیزائن بزنس، ونڈر وال انٹیریئرز، کو قائم کر سکیں۔ شروع میں جوڑے کو ذمہ داریوں کی تقسیم میں دشواری ہوئی، جس کے نتیجے میں اکثر جھگڑے ہوتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512232d672c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512232d672c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>رونک کہتے ہیں کہ ذمہ داریوں کی حدیں اتنی زیادہ اوور لیپس تھیں کہ یا تو وہ میری وجہ سے پھنس جاتی یا میں اس کی وجہ سے پھنس جاتا۔ ہم خوش تھے کہ پھنسے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے… کسی کو بھی کسی چیز کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے رول کی وضاحت ضروری ہے۔</p>
<p>مارکیٹنگ، آپریشنز، فنانس، کلائنٹس سے نمٹنا — دونوں تقریباً ہر چیز سنبھال رہے تھے، جس سے کاروبار کی ترقی میں شدید رکاوٹ آئی۔ یہ جھگڑے آخرکار ذمہ داریوں کی تفصیلی تقسیم اور تفویض پر منتج ہوئے، جس سے ان کے رشتے میں، پیشہ ورانہ اور ذاتی دونوں، بہت بہتری آئی۔</p>
<p>رونک کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ایک دوسرے کے لیے کمپنی کے ملازمین کے طور پر جاب ڈسکرپشن بنانا انتہائی اہم ہے۔ ہم نے یہ بہت دیر سے کیا جو ہمیں پہلے کرنی چاہیے تھی۔ ہم ابھی بھی یہ کر رہے ہیں۔ یہ اب بھی بدل رہا ہے اور ہر بار جب ہم کسی خلا یا اوور لیپس دیکھتے ہیں، اسے ایڈجسٹ کرتے ہیں۔</p>
<p>ذمہ داری تفویض کرنا اہم ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی طاقتوں اور کمزوریوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ خصوصیات اور مہارتیں جو ایک شریک حیات میں نہیں ہیں، وہ دوسرے کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں۔ سارہ لنڈسے اور رچ فلپس، کپل پریونرز اور روئر فٹنس کے بانی، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ رچ بزنس کی توسیع، لاجسٹکس اور حکمت عملی سنبھالتے ہیں، جبکہ سارہ، تین بار کی اولمپئن، پی آر اور مارکیٹنگ مہمات کا چہرہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651227879078.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/211651227879078.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>رچ کہتے ہیں، “جو چیزیں سارہ کے لیے آسان ہیں، وہ میرے لیے بالکل آسان نہیں ہیں۔ اور تھوڑی حد تک اس کے لیے بھی۔ سارہ اسپریڈشیٹ میں نمبر نہیں چیک کر سکتی، اور یہ اس کے مہارت یا سوچ کا حصہ نہیں ہے۔ اور میں بھی نہیں چاہتا کہ کیمروں کے سامنے جا کر ایونٹس میں شریک ہوں جتنا ضروری ہو۔</p>
<p><strong>تنازعات اور ناراضگی کا حل</strong></p>
<p>اگرچہ ایک ساتھ کام کرنا لازمی طور پر تنازعات کا باعث بنتا ہے، لیکن ایک جوڑے نے طویل عرصے تک ناراضگی سے بچنے کے لیے زیادہ رسمی راستہ اختیار کیا ہے۔ جب نادیہ شاہ نے دبئی میں اپنے شوہر محمد عبد اللطیف (جو کہ ایک معروف باسکٹ بال کھلاڑی ہیں) کے ساتھ ڈرپ برگرز — ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ چین — قائم کیا، تو انہوں نے سب سے پہلے ایک باقاعدہ کاروباری معاہدہ تیار کیا جس میں ضروری شرائط اور قوانین طے کیے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/21165122a038dfe.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/21165122a038dfe.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>نادیہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اگرچہ یہ عجیب محسوس ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے شریک حیات کو ایک کاروباری پارٹنر کے طور پر معاہدے کے ساتھ دیکھیں، لیکن یہ ایک ضروری قدم ہے۔ نادیہ کہتی ہیں، اگر آپ کو شک ہے، تو اپنے اور اپنے پارٹنر کے درمیان ہر چیز کو معاہدے میں ڈالیں اور اسے پروفیشنل طور پر کاروبار کی طرح ٹریٹ کریں۔ میں یہ کسی کے ساتھ بھی کروں گی۔ فرق نہیں پڑتا کہ وہ میرے والد، بھائی، والدہ یا بہن ہیں۔ وہ کہتی ہیں، آپ کو ذاتی چیز کو کاروبار کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔ یہ مکمل طور پر الگ ہونا چاہیے۔ سب کچھ واضح طور پر معاہدے میں طے ہونا چاہیے۔</p>
<p>دوسرے جوڑوں نے شدید ورک پلیس تنازعات کو منظم اور سنبھالنے کے لیے تخلیقی طریقے وضع کیے ہیں۔ گورو پرکاش اور ساکشی چندل، جو کہ سوشل کندورا — دبئی کی ایک میڈیا کمپنی — کے بانی ہیں، ایسے ہی ‘کپل پریونرز’ ہیں جنہوں نے یہ کام کامیابی سے کیا۔ گورو کہتے ہیں، ”اگر ہم دیکھیں کہ ہم تنازعہ کے زون میں جا رہے ہیں… تو ہم دس منٹ کے لیے ٹائمر سیٹ کر لیتے ہیں، اور ایک دوسرے سے جو بھی ہمارے ذہن یا دل میں ہے، اسے بلند آواز میں نہیں کہتے۔“ وہ مزید کہتے ہیں، ”ایک بار جب آپ نے یہ نکال دیا اور دس منٹ ختم ہو گئے، تو خود بخود آپ کہتے ہیں، جانتے ہو کیا؟ یہ ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا۔ یہ طریقہ کبھی کبھار کام کرتا ہے۔“</p>
<p>ایک دوسرے میں سکون تلاش کرنا</p>
<p>ان تنازعات کے باوجود، پانچوں جوڑوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ساتھ کام کرنے میں زبردست طاقت اور سکون حاصل کیا ہے۔</p>
<p>گورو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی اور کے ساتھ کاروبار شروع کر رہے ہوتے، تو انہیں اعتماد کے مسائل ہوتے۔ وہ کہتے ہیں، ”اعتماد کا عنصر اس لیے آتا ہے کیونکہ یہ آپ کی بیوی ہے یا آپ کا شوہر۔ اگر آپ کسی پارٹنر کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، تو ہمیشہ ایک فیصد شک ہوتا ہے: کیا یہ شخص کاروبار کے لیے کر رہا ہے؟ کیا وہ اپنے لیے کر رہا ہے؟ لیکن جب آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں، تو یہ اعتماد 100 فیصد موجود ہوتا ہے۔“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512219d617a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/2116512219d617a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>سکون اس بات سے بھی آتا ہے کہ آپ ایک ساتھ عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور تھوڑا تفریح بھی شامل کرتے ہیں۔ مینا اور علی کی ملازمتوں میں بڑے گروپ کے ساتھ کام کرنا شامل ہے، اور وہ مختلف لوگوں کے بارے میں منفرد اور مزاحیہ مشاہدات شیئر کرتے ہیں۔</p>
<p>علی کہتے ہیں، ”آپ جانتے ہیں کہ جب آپ لوگوں کے گروپ کے ساتھ ہوتے ہیں… اور پھر کبھی کبھی آپ وہاں سے نکلتے ہیں اور آپ ان کے بارے میں گپ شپ کرنے کے لیے بے صبری سے انتظار کرتے ہیں؟ ہم کامیڈین ہیں، اور جو ہوتا ہے… ہم بہت سی چیزیں نوٹ کرتے ہیں۔ ہم تقریباً گپ شپ کو ختم کر دیتے ہیں، اور پھر تمام لطیفے نکال دیتے ہیں۔ یہ ایک طریقہ ہے جس سے ہم خود کو آرام پہنچاتے ہیں۔“</p>
<p>کبھی کبھی سکون اس لیے بھی آتا ہے کہ شریک حیات مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ رچ اور سارہ اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب ان کے پچھلے کاروبار کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ وہ اس وقت کو مشکل کے طور پر بیان کرتے ہیں، انہوں نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہوئے سکون پایا۔</p>
<p>سارہ کہتی ہیں ہم بہت دباؤ اور پریشر میں تھے، لیکن ہم جانتے تھے کہ ہم ٹھیک رہیں گے، کیونکہ ہمارے پاس ایک دوسرے کا سہارا تھا۔ اگر میں اس صورتحال میں اکیلا ہوتی، تو احساس بہت مختلف ہوتا۔ لوگ اچھے وقت میں بہترین تعلقات رکھ سکتے ہیں، لیکن جب چیزیں غلط ہو جائیں تو آپ کتنے مضبوط ہیں؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279668</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 12:49:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جویریہ خالد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/23124720befcda6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/23124720befcda6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیِم کی ریٹیل سیکٹر میں انٹری ، ڈیجی کھاتہ کے ساتھ تیز ادائیگیوں کی سہولت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279342/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیِم نے  لنکڈ اِن پوسٹ میں بتایا کہ اس نے ڈیجی کھاتہ کے ساتھ شراکت داری کی ہے ، تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو تیز اور قابلِ اعتماد ادائیگیاں فراہم کی جاسکیں، جو پاکستان کے ریٹیل سیکٹر میں اس کا پہلا قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیِم کے مطابق اس کا برانڈڈ والٹ اور لیجر انفرااسٹرکچر ڈیجی کھاتہ کے پلیٹ فارم میں ضم کیا جائے گا، جس کے ذریعے صارفین، دکاندار اور تاجر فوری اور محفوظ ادائیگیوں تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/14175005106f0a5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/14175005106f0a5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ یہ قدم اُن بڑے عملی مسائل میں سے ایک کو حل کرنے کے لیے ہے جن کا سامنا ایس ایم ایز کو ہوتا ہے، کیونکہ وہ اکثر متعدد پیمنٹ ذرائع سنبھالتے ہوئے ادائیگیوں میں تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجی کھاتہ کا کہنا ہے کہ وہ دس لاکھ سے زائد تاجروں کو اپنے پلیٹ فارم پر لا چکا ہے اور ڈیجیٹل بُک کیپنگ، ٹریڈ کریڈٹ مینجمنٹ اور اپنے آن لائن اسٹور حل، ڈیجی دکان، کے ذریعے ایس ایم ایز کو کیٹلاگ، آرڈرز، ادائیگیاں اور ڈیلیوری ایک ہی جگہ سے منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیِم کی ویب سائٹ پر شائع ایک بلاگ میں کمپنی کے شریک بانی ندیم شیخ نے کہا کہ ادائیگیاں ڈیجیٹل پیمنٹس چین کا ایک نظرانداز کیا جانے والا حصہ ہیں اور یہ شراکت داری تاجروں کو اپنے فنڈز پر زیادہ اختیار دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجی کھاتہ کے سی ای او عدنان اسلم نے کہا کہ یہ تعاون ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی لچک میں اضافہ کرے گا اور انہیں اپنی کمائی تک تیزی سے رسائی مل سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیِم نے کہا کہ فراہم کیا جانے والا انفرااسٹرکچر مستقبل میں ایمبیڈڈ لینڈنگ کو بھی سپورٹ کرسکتا ہے، جس میں ورکنگ کیپیٹل لون، انوائس فنانسنگ اور بائے ناؤ پے لیٹر جیسے حل شامل ہیں، جو ٹرانزیکشن ہسٹری کی بنیاد پر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایس ایم ایز کے لیے کیش فلو مینجمنٹ کو بہتر بنانا اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں ترقی کو سہارا دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیِم مختلف شعبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں متعدد شراکت داریوں کا اعلان کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نیِم نے فوڈ اینڈ بیوریجز کے شعبے میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنی بلِنک کے ساتھ حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کے ذریعے انشورنس کے شعبے میں قدم رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال جون میں  فِن ٹیک  لاجسٹکس سیکٹر میں  داخل ہوا اور لیوپرڈز کوریئر سروسز، جو ملک کے بڑے لاجسٹکس گروپس میں سے ایک ہے کے ساتھ شراکت داری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیِم کی مصنوعات پہلے ہی صحت کہانی، اسمارٹ لین، ٹی سی ایس، ایز بائیک، باخبر کسان، فارم ٹو ہوم، اِدکاسا سمیت مختلف ریٹیل اور ای کامرس برانڈز جیسے ثنا سفیناز، یونین فیبرکس، بیچ لو ڈاٹ پی کے اور ای کام ڈیلز کے ساتھ فعال ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیِم نے  لنکڈ اِن پوسٹ میں بتایا کہ اس نے ڈیجی کھاتہ کے ساتھ شراکت داری کی ہے ، تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو تیز اور قابلِ اعتماد ادائیگیاں فراہم کی جاسکیں، جو پاکستان کے ریٹیل سیکٹر میں اس کا پہلا قدم ہے۔</strong></p>
<p>نیِم کے مطابق اس کا برانڈڈ والٹ اور لیجر انفرااسٹرکچر ڈیجی کھاتہ کے پلیٹ فارم میں ضم کیا جائے گا، جس کے ذریعے صارفین، دکاندار اور تاجر فوری اور محفوظ ادائیگیوں تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/14175005106f0a5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/11/14175005106f0a5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ یہ قدم اُن بڑے عملی مسائل میں سے ایک کو حل کرنے کے لیے ہے جن کا سامنا ایس ایم ایز کو ہوتا ہے، کیونکہ وہ اکثر متعدد پیمنٹ ذرائع سنبھالتے ہوئے ادائیگیوں میں تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔</p>
<p>ڈیجی کھاتہ کا کہنا ہے کہ وہ دس لاکھ سے زائد تاجروں کو اپنے پلیٹ فارم پر لا چکا ہے اور ڈیجیٹل بُک کیپنگ، ٹریڈ کریڈٹ مینجمنٹ اور اپنے آن لائن اسٹور حل، ڈیجی دکان، کے ذریعے ایس ایم ایز کو کیٹلاگ، آرڈرز، ادائیگیاں اور ڈیلیوری ایک ہی جگہ سے منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>نیِم کی ویب سائٹ پر شائع ایک بلاگ میں کمپنی کے شریک بانی ندیم شیخ نے کہا کہ ادائیگیاں ڈیجیٹل پیمنٹس چین کا ایک نظرانداز کیا جانے والا حصہ ہیں اور یہ شراکت داری تاجروں کو اپنے فنڈز پر زیادہ اختیار دے گی۔</p>
<p>ڈیجی کھاتہ کے سی ای او عدنان اسلم نے کہا کہ یہ تعاون ایس ایم ایز کے لیے مالیاتی لچک میں اضافہ کرے گا اور انہیں اپنی کمائی تک تیزی سے رسائی مل سکے گی۔</p>
<p>نیِم نے کہا کہ فراہم کیا جانے والا انفرااسٹرکچر مستقبل میں ایمبیڈڈ لینڈنگ کو بھی سپورٹ کرسکتا ہے، جس میں ورکنگ کیپیٹل لون، انوائس فنانسنگ اور بائے ناؤ پے لیٹر جیسے حل شامل ہیں، جو ٹرانزیکشن ہسٹری کی بنیاد پر ہوں گے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایس ایم ایز کے لیے کیش فلو مینجمنٹ کو بہتر بنانا اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں ترقی کو سہارا دینا ہے۔</p>
<p>نیِم مختلف شعبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں متعدد شراکت داریوں کا اعلان کرچکا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ نیِم نے فوڈ اینڈ بیوریجز کے شعبے میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنی بلِنک کے ساتھ حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کے ذریعے انشورنس کے شعبے میں قدم رکھا۔</p>
<p>رواں سال جون میں  فِن ٹیک  لاجسٹکس سیکٹر میں  داخل ہوا اور لیوپرڈز کوریئر سروسز، جو ملک کے بڑے لاجسٹکس گروپس میں سے ایک ہے کے ساتھ شراکت داری کی۔</p>
<p>نیِم کی مصنوعات پہلے ہی صحت کہانی، اسمارٹ لین، ٹی سی ایس، ایز بائیک، باخبر کسان، فارم ٹو ہوم، اِدکاسا سمیت مختلف ریٹیل اور ای کامرس برانڈز جیسے ثنا سفیناز، یونین فیبرکس، بیچ لو ڈاٹ پی کے اور ای کام ڈیلز کے ساتھ فعال ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279342</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 18:36:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1418094279d9aba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1418094279d9aba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خاندانی نسخوں کو منافع بخش کاروبار میں بدلنے والی کاروباری خواتین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279321/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی جنوبی ایشیائی گھرانوں میں نسل در نسل ترکیبیں اور علاج اہم ہیں۔ گھر کے بنے ہوئے بالوں کے تیل اور شیمپو سے لے کر چٹنیوں اور روایتی ترکیبوں تک، یہ نہ صرف نقصان دہ زہریلے مادوں سے پاک ہیں بلکہ ثقافتی کہانیوں کا بھی ذریعہ ہیں، جو ہمارے آباؤ اجداد کی یاد کو محفوظ رکھتے ہیں جنہوں نے یہ علاج محبت سے تیار کیے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علیزے شاہ کی بچپن کی ابتدائی یادوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی دادی لکڑی کے تخت پر بیٹھی، آہستہ آہستہ ان کے بالوں کی مالش کر رہی تھیں، اس تیل سے جو نسل در نسل منتقل ہوتے آئے تھے۔ چھوٹی عمر سے ہی یہ تیل علیزے شاہ کے روزانہ ہیئر کیئر کے معمولات کا لازمی حصہ بن گئے۔ علیزے شاہ کہتی ہیں، میں اپنی دادی کے بہت قریب ہوں۔ وہ کینسر سے گزر چکی تھیں اور ان کے بال گر گئے تھے، اور انہوں نے یہ نسخے دوبارہ بال اگانے کے لیے استعمال کیے۔ میرے لیے یہ دل کے بہت قریب چیز تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2015 میں، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم کے دوران، علیزے شاہ نے اپنی دادی کے تیل فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی پہلی کھیپ کی 25 بوتلیں ایک دن میں فروخت ہو گئیں، جس نے انہیں مزید انوینٹری تیار کرنے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علیزے شاہ کہتی ہیں، جب میں نے شروع کیا تو مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ لوگ واقعی اسے خریدیں گے اور دوبارہ مانگیں گے۔ شروع میں یہ صرف ایک شوقیہ منصوبہ تھا۔ آٹھ سال بعد، ہیئر میٹرز اب بھی ترقی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/131544580df4c6c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/131544580df4c6c.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ بعض کاروباری حضرات ابتدا میں اپنے منصوبے سائیڈ پروجیکٹ کے طور پر شروع کرتے ہیں، کچھ اس وقت تحریک پاتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی ثقافت کو مغربی برانڈز کی جانب سے تجارتی شکل دی جا رہی ہے۔ زوہا نقوی امریکہ میں اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم کے دوران یہ مشاہدہ کرتی ہیں کہ روایتی جنوبی ایشیا کی کھانے پکانے کی تراکیب کو مغربی برانڈز کی جانب سے مارکیٹ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زوہا نقوی کہتی ہیں  کہ مغربی دنیا بنیادی طور پر ان نسخوں سے فائدہ اٹھا رہی تھی جو اصل میں دیسی معاشروں میں زبانی طور پر منتقل ہوتے آئے تھے۔ وہ اسٹاربکس کے ہلدی والے لٹے کی مثال دیتی ہیں۔ یہ مشروب، جو جنوبی ایشیا کے خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، ثقافتی تجارتی شکل دینے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج، زوہا زو نانوس کی بانی ہیں، جو ہیئر آئلز اور شیمپو بیچتی ہے، جو ان کی دادی کی محبت سے منتقل شدہ تراکیب پر مبنی ہیں۔ زوہا کہتی ہیں کہ یہ نسخے… وہ مکس تھے جو وہ اور ان کی بہنیں استعمال کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زو نانوس کا قیام بالکل اتفاقیہ تھا۔ 2019کے آخر میں، زوہا نے ایک قبل و بعد کی تصویر ایک مقبول خواتین کے فیس بک گروپ میں شیئر کی، جس میں دکھایا گیا کہ ان کی دادی کے آئل نے ان کے بالوں پر کس طرح اثر ڈالا، بغیر یہ جانے کہ یہ پوسٹ وائرل ہو جائے گی، اور 1300 سے زائد لائکس اور 1000 سے زائد تبصرے حاصل کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زوہا کہتی ہیں میرا ان باکس بھر گیا، اور کہتی ہیں کہ انہیں ہر دن 300 سے 500  پیغامات موصول ہوتے، جن میں گروپ کے اراکین انکی دادی کے آئل کی درخواست کرتے۔ اس غیر متوقع دلچسپی نے ان کے کاروباری سفر کا آغاز کیا۔ میں نے سب سے پہلے پروڈکٹ فروخت کی، پھر پیکیجنگ، مارکیٹنگ، اور نام بنایا۔ میں نے تقریباً دو مہینے صرف اس گمنام ہیئر آئل کو بیچنے میں گزارے، جسے بعد میں زو نانوس کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے زوہا نے برانڈ کو بڑھایا، انہوں نے اپنی دادی کی زندگی سے متاثر ہو کر مزید مصنوعات لانچ کیں۔ ان کی دادی بالوں میں آئل لگانے کے بعد دوپٹہ لپیٹتی تھیں۔ اس روایت کے طور پر زوہا نے مائیکروفائیبر ٹاول لانچ کیا، جو نوجوان لوگوں کو پسند آئے گا۔ زوہا کہتی ہیں ہم نے اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا کہ آئلنگ کو جدید، دیسی اور کول بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/13154213c0d8ac4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/13154213c0d8ac4.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی رجحانات کو آج کے ڈیجیٹل طور پر ماہر نوجوان سامعین کے مطابق مارکیٹ کرنا ایک چیلنج پیش کرتا ہے۔ اگرچہ ٹوٹکے (جنوبی ایشیا کے نسخے) وسیع پیمانے پر معتبر ہیں، مگر انہیں شاذ و نادر برانڈ یا تجارتی شکل دی گئی، زیادہ تر یہ زبانی طور پر منتقل ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نوجوان کاروباری حضرات جیسے علیزے اور زوہا میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔ اگرچہ یہ نسخے قدیم ہیں، یہ نوجوان سوشل میڈیا، مضبوط ریٹیل موجودگی، اور جدید پیکیجنگ کے ذریعے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی قیادت کرتے ہیں جو نوجوان سامعین کو متوجہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا مارکیٹنگ نے ان کاروباری حضرات کو قدیم نسخوں کو جدید اور دلکش دکھانے کے قابل بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علیزے کہتی ہیں کہ پہلے سال میں بس اپنے پروڈکٹس کی تصاویر اپنی لانج میں، اپنے کمرے میں، ہر جگہ جہاں روشنی اچھی لگتی تھی، لیتی تھی۔ اور سچ کہوں تو، جب میں انہیں واپس دیکھتی ہوں، وہ خوفناک تھیں! جیسے جیسے انہیں سوشل میڈیا کی سمجھ آئی، ان کا طریقہ کار بدلنے لگا۔ انہوں نے اپنی دادی کو سوشل میڈیا مہمات میں شامل کیا، نہ صرف ان نسخوں کے پیچھے موجود چہرے کو دکھانے کے لیے بلکہ ان میں شامل حکمت کو اجاگر کرنے کے لیے۔ آج، ہیئر میٹرز  کا انسٹاگرام فیڈ 100,000 سے زیادہ فالورز کے ساتھ رنگین ہے۔ علیزے کہتی ہیں، اتنی زیادہ مقابلہ بازی ہے۔ اگر آپ تقریباً ہر روز مواد نہیں بناتے، تو آپ بنیادی طور پر غیر متعلقہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام پر، زوہا قدیم نسخوں کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرتی ہیں، 30 دن کے سیلف کیئر چیلنجز تخلیق کرتی ہیں، اور برانڈ کے بارے میں شفافیت پیدا کرتی ہیں۔ مزید برآں، زوہا خام اجزا جیسے انڈے  جو زو نانوس کی مصنوعات میں بھی شامل ہیں  کو خود استعمال کرکے اس قدیم عمل کی قبولیت کو فروغ دیتی ہیں اور اپنے پروڈکٹس کے فوائد کے بارے میں آگاہی پیدا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زوہا  کہتی ہیں کہ شروع میں، میں بہت سا مواد بناتی تھی جس میں میں اپنے والد کو ریکارڈ کرتی اور کہتی، ابو، آپ یہ اتوار کیا کر رہے ہیں؟ انڈہ میرے بالوں میں لگائیں۔ اور ہم ایک انسٹاگرام ریل بناتے جس میں میرے والد انڈہ میرے بالوں پر لگا رہے ہوں۔ ان کا حقیقی اور قابلِ تعلق مواد برانڈ کے انسٹاگرام پیج پر 120,000 سے زیادہ فالورز حاصل کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف جنوبی ایشیا میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نوجوان پرجوش انداز میں قدیم خاندانی نسخوں اور علاج کو زندہ رکھ رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال برطانیہ میں مقیم معروف فلسطینی شیف جوڈی کالا ہیں، جو اپنی والدہ اور دادیوں سے منتقل شدہ روایتی فلسطینی کھانے پکاتی اور شیئر کرتی ہیں۔ ان کا انسٹاگرام پیج، پیلسٹائن آن آ پلیٹ، 470,000 سے زیادہ فالورز رکھتا ہے اور بیلا اور جیجی حدید جیسی مشہور سسٹز اسے فالو کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے آباواجداد کے نسخوں کو وسعت دینا نوجوانوں کو نہ صرف یاد کو محفوظ رکھنے کا موقع دیتا ہے بلکہ ان مصنوعات کے فوائد دوسروں تک پہنچانے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ جوڈی کالا کہتی ہیں، سب سے بہترین چیز جس پر آپ سب سے مخلص طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وہ آپ کی اپنی ثقافت ہے، کیونکہ یہ آپ کے خون میں ہے، آپ کے منہ میں ہے، ذائقے میں ہے۔ آپ اسے سیکھتے ہیں، لیکن یہ آپ کے ڈی این اے کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور میرا خیال ہے اسی وجہ سے میں نے اور دوسرے لوگوں نے  اپنے کاروبار شروع کیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی جنوبی ایشیائی گھرانوں میں نسل در نسل ترکیبیں اور علاج اہم ہیں۔ گھر کے بنے ہوئے بالوں کے تیل اور شیمپو سے لے کر چٹنیوں اور روایتی ترکیبوں تک، یہ نہ صرف نقصان دہ زہریلے مادوں سے پاک ہیں بلکہ ثقافتی کہانیوں کا بھی ذریعہ ہیں، جو ہمارے آباؤ اجداد کی یاد کو محفوظ رکھتے ہیں جنہوں نے یہ علاج محبت سے تیار کیے تھے۔</strong></p>
<p>علیزے شاہ کی بچپن کی ابتدائی یادوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی دادی لکڑی کے تخت پر بیٹھی، آہستہ آہستہ ان کے بالوں کی مالش کر رہی تھیں، اس تیل سے جو نسل در نسل منتقل ہوتے آئے تھے۔ چھوٹی عمر سے ہی یہ تیل علیزے شاہ کے روزانہ ہیئر کیئر کے معمولات کا لازمی حصہ بن گئے۔ علیزے شاہ کہتی ہیں، میں اپنی دادی کے بہت قریب ہوں۔ وہ کینسر سے گزر چکی تھیں اور ان کے بال گر گئے تھے، اور انہوں نے یہ نسخے دوبارہ بال اگانے کے لیے استعمال کیے۔ میرے لیے یہ دل کے بہت قریب چیز تھی۔</p>
<p>سال 2015 میں، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم کے دوران، علیزے شاہ نے اپنی دادی کے تیل فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی پہلی کھیپ کی 25 بوتلیں ایک دن میں فروخت ہو گئیں، جس نے انہیں مزید انوینٹری تیار کرنے پر مجبور کیا۔</p>
<p>علیزے شاہ کہتی ہیں، جب میں نے شروع کیا تو مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ لوگ واقعی اسے خریدیں گے اور دوبارہ مانگیں گے۔ شروع میں یہ صرف ایک شوقیہ منصوبہ تھا۔ آٹھ سال بعد، ہیئر میٹرز اب بھی ترقی کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/131544580df4c6c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/131544580df4c6c.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>جب کہ بعض کاروباری حضرات ابتدا میں اپنے منصوبے سائیڈ پروجیکٹ کے طور پر شروع کرتے ہیں، کچھ اس وقت تحریک پاتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی ثقافت کو مغربی برانڈز کی جانب سے تجارتی شکل دی جا رہی ہے۔ زوہا نقوی امریکہ میں اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم کے دوران یہ مشاہدہ کرتی ہیں کہ روایتی جنوبی ایشیا کی کھانے پکانے کی تراکیب کو مغربی برانڈز کی جانب سے مارکیٹ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>زوہا نقوی کہتی ہیں  کہ مغربی دنیا بنیادی طور پر ان نسخوں سے فائدہ اٹھا رہی تھی جو اصل میں دیسی معاشروں میں زبانی طور پر منتقل ہوتے آئے تھے۔ وہ اسٹاربکس کے ہلدی والے لٹے کی مثال دیتی ہیں۔ یہ مشروب، جو جنوبی ایشیا کے خاندانوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، ثقافتی تجارتی شکل دینے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>آج، زوہا زو نانوس کی بانی ہیں، جو ہیئر آئلز اور شیمپو بیچتی ہے، جو ان کی دادی کی محبت سے منتقل شدہ تراکیب پر مبنی ہیں۔ زوہا کہتی ہیں کہ یہ نسخے… وہ مکس تھے جو وہ اور ان کی بہنیں استعمال کرتی تھیں۔</p>
<p>زو نانوس کا قیام بالکل اتفاقیہ تھا۔ 2019کے آخر میں، زوہا نے ایک قبل و بعد کی تصویر ایک مقبول خواتین کے فیس بک گروپ میں شیئر کی، جس میں دکھایا گیا کہ ان کی دادی کے آئل نے ان کے بالوں پر کس طرح اثر ڈالا، بغیر یہ جانے کہ یہ پوسٹ وائرل ہو جائے گی، اور 1300 سے زائد لائکس اور 1000 سے زائد تبصرے حاصل کریں گی۔</p>
<p>زوہا کہتی ہیں میرا ان باکس بھر گیا، اور کہتی ہیں کہ انہیں ہر دن 300 سے 500  پیغامات موصول ہوتے، جن میں گروپ کے اراکین انکی دادی کے آئل کی درخواست کرتے۔ اس غیر متوقع دلچسپی نے ان کے کاروباری سفر کا آغاز کیا۔ میں نے سب سے پہلے پروڈکٹ فروخت کی، پھر پیکیجنگ، مارکیٹنگ، اور نام بنایا۔ میں نے تقریباً دو مہینے صرف اس گمنام ہیئر آئل کو بیچنے میں گزارے، جسے بعد میں زو نانوس کہا۔</p>
<p>جیسے جیسے زوہا نے برانڈ کو بڑھایا، انہوں نے اپنی دادی کی زندگی سے متاثر ہو کر مزید مصنوعات لانچ کیں۔ ان کی دادی بالوں میں آئل لگانے کے بعد دوپٹہ لپیٹتی تھیں۔ اس روایت کے طور پر زوہا نے مائیکروفائیبر ٹاول لانچ کیا، جو نوجوان لوگوں کو پسند آئے گا۔ زوہا کہتی ہیں ہم نے اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کیا کہ آئلنگ کو جدید، دیسی اور کول بنایا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/13154213c0d8ac4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/13154213c0d8ac4.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>روایتی رجحانات کو آج کے ڈیجیٹل طور پر ماہر نوجوان سامعین کے مطابق مارکیٹ کرنا ایک چیلنج پیش کرتا ہے۔ اگرچہ ٹوٹکے (جنوبی ایشیا کے نسخے) وسیع پیمانے پر معتبر ہیں، مگر انہیں شاذ و نادر برانڈ یا تجارتی شکل دی گئی، زیادہ تر یہ زبانی طور پر منتقل ہوتے رہے۔</p>
<p>لیکن نوجوان کاروباری حضرات جیسے علیزے اور زوہا میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔ اگرچہ یہ نسخے قدیم ہیں، یہ نوجوان سوشل میڈیا، مضبوط ریٹیل موجودگی، اور جدید پیکیجنگ کے ذریعے برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی قیادت کرتے ہیں جو نوجوان سامعین کو متوجہ کرتی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا مارکیٹنگ نے ان کاروباری حضرات کو قدیم نسخوں کو جدید اور دلکش دکھانے کے قابل بنایا ہے۔</p>
<p>علیزے کہتی ہیں کہ پہلے سال میں بس اپنے پروڈکٹس کی تصاویر اپنی لانج میں، اپنے کمرے میں، ہر جگہ جہاں روشنی اچھی لگتی تھی، لیتی تھی۔ اور سچ کہوں تو، جب میں انہیں واپس دیکھتی ہوں، وہ خوفناک تھیں! جیسے جیسے انہیں سوشل میڈیا کی سمجھ آئی، ان کا طریقہ کار بدلنے لگا۔ انہوں نے اپنی دادی کو سوشل میڈیا مہمات میں شامل کیا، نہ صرف ان نسخوں کے پیچھے موجود چہرے کو دکھانے کے لیے بلکہ ان میں شامل حکمت کو اجاگر کرنے کے لیے۔ آج، ہیئر میٹرز  کا انسٹاگرام فیڈ 100,000 سے زیادہ فالورز کے ساتھ رنگین ہے۔ علیزے کہتی ہیں، اتنی زیادہ مقابلہ بازی ہے۔ اگر آپ تقریباً ہر روز مواد نہیں بناتے، تو آپ بنیادی طور پر غیر متعلقہ ہیں۔</p>
<p>انسٹاگرام پر، زوہا قدیم نسخوں کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرتی ہیں، 30 دن کے سیلف کیئر چیلنجز تخلیق کرتی ہیں، اور برانڈ کے بارے میں شفافیت پیدا کرتی ہیں۔ مزید برآں، زوہا خام اجزا جیسے انڈے  جو زو نانوس کی مصنوعات میں بھی شامل ہیں  کو خود استعمال کرکے اس قدیم عمل کی قبولیت کو فروغ دیتی ہیں اور اپنے پروڈکٹس کے فوائد کے بارے میں آگاہی پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p>زوہا  کہتی ہیں کہ شروع میں، میں بہت سا مواد بناتی تھی جس میں میں اپنے والد کو ریکارڈ کرتی اور کہتی، ابو، آپ یہ اتوار کیا کر رہے ہیں؟ انڈہ میرے بالوں میں لگائیں۔ اور ہم ایک انسٹاگرام ریل بناتے جس میں میرے والد انڈہ میرے بالوں پر لگا رہے ہوں۔ ان کا حقیقی اور قابلِ تعلق مواد برانڈ کے انسٹاگرام پیج پر 120,000 سے زیادہ فالورز حاصل کر چکا ہے۔</p>
<p>صرف جنوبی ایشیا میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نوجوان پرجوش انداز میں قدیم خاندانی نسخوں اور علاج کو زندہ رکھ رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال برطانیہ میں مقیم معروف فلسطینی شیف جوڈی کالا ہیں، جو اپنی والدہ اور دادیوں سے منتقل شدہ روایتی فلسطینی کھانے پکاتی اور شیئر کرتی ہیں۔ ان کا انسٹاگرام پیج، پیلسٹائن آن آ پلیٹ، 470,000 سے زیادہ فالورز رکھتا ہے اور بیلا اور جیجی حدید جیسی مشہور سسٹز اسے فالو کرتی ہیں۔</p>
<p>اپنے آباواجداد کے نسخوں کو وسعت دینا نوجوانوں کو نہ صرف یاد کو محفوظ رکھنے کا موقع دیتا ہے بلکہ ان مصنوعات کے فوائد دوسروں تک پہنچانے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ جوڈی کالا کہتی ہیں، سب سے بہترین چیز جس پر آپ سب سے مخلص طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، وہ آپ کی اپنی ثقافت ہے، کیونکہ یہ آپ کے خون میں ہے، آپ کے منہ میں ہے، ذائقے میں ہے۔ آپ اسے سیکھتے ہیں، لیکن یہ آپ کے ڈی این اے کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور میرا خیال ہے اسی وجہ سے میں نے اور دوسرے لوگوں نے  اپنے کاروبار شروع کیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279321</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 12:24:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جویریہ خالد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/14122020f31ac03.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/14122020f31ac03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی اے آئی اسٹارٹ اپ جیمز اوپن اے آئی کا حصہ بن گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279128/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم سنگ میل کے طور پر پاکستان کی جنریٹو اے آئی اسٹارٹ اپ  جیمز (جے اے ایم ایس)  جس کی بنیاد اسد اعوان اور حمزہ افتاب نے رکھی تھی، دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی  اوپن اے آئی (اوپن اے آئی) کا حصہ بن گئی، جو چیٹ جی پی ٹی  کی خالق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان اسد اعوان نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ خبر شیئر کرتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم اوپن اے آئی کا حصہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.linkedin.com/posts/asadawan_excited-to-share-that-we-are-joining-openai-activity-7392343852591935488-7vfb?utm_source=share&amp;amp;utm_medium=member_desktop&amp;amp;rcm=ACoAAFMwnj8Bxav1bz3i0UkdA8nAOOaVGF3OYoo'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--linkedin  media__item--relative'&gt;&lt;div style="left: 0; width: 100%; height: 0; position: relative; padding-bottom: 56.25%;"&gt;
    &lt;iframe src="https://www.linkedin.com/embed/feed/update/urn:li:activity:7392343852591935488?compact=true" style="border: 0; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; position: absolute;" allowfullscreen allow="encrypted-media"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حمزہ افتاب اور میں نے جیمز اس وژن کے ساتھ شروع کی تھی کہ عام لوگوں کے لیے بہترین اے آئی تجربات تخلیق کیے جائیں اور اب ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے اس وژن کو دورِ حاضر کے بہترین پروڈکٹ اور اے آئی بلڈرز کے ساتھ جاری رکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سابق میٹا (ایم اے ٹی اے) انجینئرز کی قائم کردہ کمپنی جیمز جنریٹو اے آئی کی مدد سے مستند ویڈیو تجربات تخلیق کرتی ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ 2022 میں امریکی سرمایہ کار کمپنی آندریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz - a16z) اور پاکستان کی وینچر کیپیٹل فرم انڈس ویلی کیپیٹل (Indus Valley Capital - IVC) سے سرمایہ حاصل کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ انڈس ویلی کیپیٹل کے لیے بھی  اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ ان کی پہلی  ایگزٹ (اے ایکس آئی ٹی) ہے  یعنی ان کے کسی سرمایہ کاری منصوبے کا کامیاب حصول۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس ویلی کیپیٹل کے بانی عاطف اعوان نے جیمز ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ  یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ جیمز کے اوپن اے آئی میں شامل ہونے کے ساتھ انڈس ویلی کیپیٹل نے اپنی پہلی ایگزٹ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز ایسی ویڈیو ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے جو جنریٹو اے آئی کی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے حقیقی تجربات تخلیق کرتی ہے۔ اسد اعوان اور حمزہ افتاب کو مبارکباد ہو ، جن کے ساتھ کام کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.linkedin.com/posts/aatifawan_thrilled-about-indus-valley-capital-achieving-activity-7392474333207666688-TKuD?utm_source=share&amp;amp;utm_medium=member_desktop&amp;amp;rcm=ACoAAFMwnj8Bxav1bz3i0UkdA8nAOOaVGF3OYoo'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--linkedin  media__item--relative'&gt;&lt;div style="left: 0; width: 100%; height: 0; position: relative; padding-bottom: 56.25%;"&gt;
    &lt;iframe src="https://www.linkedin.com/embed/feed/update/urn:li:activity:7392474333207666688?compact=true" style="border: 0; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; position: absolute;" allowfullscreen allow="encrypted-media"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اعوان نے یہ بھی بتایا کہ جیمز ان کی فرم کی نئی سرمایہ کاری حکمتِ عملی کے تحت پہلا منصوبہ تھا، جس کے تحت وہ دنیا بھر میں پاکستانیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، خاص طور پر ان پاکستانیوں  میں جو امریکہ میں مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  یہ کامیاب ایگزٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم غیر معمولی بانیان پاکستان  کو دنیا کے کسی بھی کونے میں پہچاننے اور ان کے ساتھ شراکت داری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم مستقبل میں اسی حکمتِ عملی پر مزید توجہ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستانی ماہرین اب جدید ترین ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم سنگ میل کے طور پر پاکستان کی جنریٹو اے آئی اسٹارٹ اپ  جیمز (جے اے ایم ایس)  جس کی بنیاد اسد اعوان اور حمزہ افتاب نے رکھی تھی، دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی  اوپن اے آئی (اوپن اے آئی) کا حصہ بن گئی، جو چیٹ جی پی ٹی  کی خالق ہے۔</strong></p>
<p>یہ اعلان اسد اعوان نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ خبر شیئر کرتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم اوپن اے آئی کا حصہ بن رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.linkedin.com/posts/asadawan_excited-to-share-that-we-are-joining-openai-activity-7392343852591935488-7vfb?utm_source=share&amp;utm_medium=member_desktop&amp;rcm=ACoAAFMwnj8Bxav1bz3i0UkdA8nAOOaVGF3OYoo'>
        <div class='media__item  media__item--linkedin  media__item--relative'><div style="left: 0; width: 100%; height: 0; position: relative; padding-bottom: 56.25%;">
    <iframe src="https://www.linkedin.com/embed/feed/update/urn:li:activity:7392343852591935488?compact=true" style="border: 0; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; position: absolute;" allowfullscreen allow="encrypted-media"></iframe>
</div></div>
        
    </figure></p>
<p>حمزہ افتاب اور میں نے جیمز اس وژن کے ساتھ شروع کی تھی کہ عام لوگوں کے لیے بہترین اے آئی تجربات تخلیق کیے جائیں اور اب ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے اس وژن کو دورِ حاضر کے بہترین پروڈکٹ اور اے آئی بلڈرز کے ساتھ جاری رکھ سکیں گے۔</p>
<p>دو سابق میٹا (ایم اے ٹی اے) انجینئرز کی قائم کردہ کمپنی جیمز جنریٹو اے آئی کی مدد سے مستند ویڈیو تجربات تخلیق کرتی ہے۔ یہ اسٹارٹ اپ 2022 میں امریکی سرمایہ کار کمپنی آندریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz - a16z) اور پاکستان کی وینچر کیپیٹل فرم انڈس ویلی کیپیٹل (Indus Valley Capital - IVC) سے سرمایہ حاصل کر چکی ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ انڈس ویلی کیپیٹل کے لیے بھی  اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ ان کی پہلی  ایگزٹ (اے ایکس آئی ٹی) ہے  یعنی ان کے کسی سرمایہ کاری منصوبے کا کامیاب حصول۔</p>
<p>انڈس ویلی کیپیٹل کے بانی عاطف اعوان نے جیمز ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ  یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ جیمز کے اوپن اے آئی میں شامل ہونے کے ساتھ انڈس ویلی کیپیٹل نے اپنی پہلی ایگزٹ حاصل کی۔</p>
<p>جیمز ایسی ویڈیو ٹیکنالوجی تیار کرتا ہے جو جنریٹو اے آئی کی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے حقیقی تجربات تخلیق کرتی ہے۔ اسد اعوان اور حمزہ افتاب کو مبارکباد ہو ، جن کے ساتھ کام کرنا ہمارے لیے باعثِ فخر رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.linkedin.com/posts/aatifawan_thrilled-about-indus-valley-capital-achieving-activity-7392474333207666688-TKuD?utm_source=share&amp;utm_medium=member_desktop&amp;rcm=ACoAAFMwnj8Bxav1bz3i0UkdA8nAOOaVGF3OYoo'>
        <div class='media__item  media__item--linkedin  media__item--relative'><div style="left: 0; width: 100%; height: 0; position: relative; padding-bottom: 56.25%;">
    <iframe src="https://www.linkedin.com/embed/feed/update/urn:li:activity:7392474333207666688?compact=true" style="border: 0; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; position: absolute;" allowfullscreen allow="encrypted-media"></iframe>
</div></div>
        
    </figure></p>
<p>عاطف اعوان نے یہ بھی بتایا کہ جیمز ان کی فرم کی نئی سرمایہ کاری حکمتِ عملی کے تحت پہلا منصوبہ تھا، جس کے تحت وہ دنیا بھر میں پاکستانیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، خاص طور پر ان پاکستانیوں  میں جو امریکہ میں مقیم ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  یہ کامیاب ایگزٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم غیر معمولی بانیان پاکستان  کو دنیا کے کسی بھی کونے میں پہچاننے اور ان کے ساتھ شراکت داری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم مستقبل میں اسی حکمتِ عملی پر مزید توجہ دیں گے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستانی ماہرین اب جدید ترین ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279128</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2025 19:54:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/09192322a5c4dbd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/09192322a5c4dbd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی اسٹارٹ اپ کولیبز کا سعودی عرب میں توسیع کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278597/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی ورک اسپیس اسٹارٹ اپ کولیبز (COLABS) نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب میں کام شروع کرنے جا رہا ہے، جہاں وہ ریاض میں اپنی فلیگ شپ سائٹ قائم کرے گا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیبز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شریک بانی عمر شاہ نے کہا کہ
سعودی عرب میں ہماری توسیع کولیبز کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، کیونکہ ہم وہ سب کچھ جو ہم نے پاکستان میں تعمیر کیا ہے، اب خطے کی سب سے متحرک منڈیوں میں سے ایک تک لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض میں یہ سائٹ سعودی عرب میں کولیبز کی مرکزی (فلیگ شپ) لوکیشن ہوگی اور میناپ خطے میں کمپنی کی توسیع کے لیے ایک مرکزی ستون کا کردار ادا کرے گی۔ طویل المدت بنیادوں پر کمپنی کا مقصد سعودی سرمایہ اور کارپوریشنز کو ابھرتی ہوئی منڈیوں کے اسٹارٹ اپس اور ٹیلنٹ سے جوڑنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر شاہ نے مزید کہا کہ
سعودی عرب کا ویژن 2030 اختراع (انوویشن) اور انٹرپرینیورشپ کے لیے غیر معمولی رفتار پیدا کر رہا ہے۔ ہم ریاض کو اپنی میناپ کے سفر کا قدرتی نقطۂ آغاز سمجھتے ہیں  ایک ایسا مرکز جہاں ہم ایکو سسٹمز کو جوڑنے، بانیوں کو مربوط کرنے، اور ایسی کمیونٹیز بنانے میں مدد کرسکیں جو دونوں ممالک کو قریب لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق، ریاض میں سائٹ اس وقت تعمیر کے مرحلے میں ہے اور آنے والے مہینوں میں کھلنے کی توقع ہے۔ یہ کولیبز کی میناپ خطے میں توسیع کی حکمتِ عملی کا پہلا مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیبز نے مزید بتایا کہ اس نے اضافی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے اور واسیل انویسٹمنٹ  کے ساتھ ایک مقامی شراکت داری کو باضابطہ شکل دے دی ہے، جو ریاض سائٹ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقامی شراکت داری، اکتوبر 2024 میں ہونے والے کولیبز کے پچھلے فنڈنگ راؤنڈ کے بعد سامنے آئی، جس کی قیادت شرووق  اور واد وی سی  نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واسیل پارٹنرز کے ڈائریکٹر آف انویسٹمنٹ، فیصل الراشد نے کہا کہ
یہ تعاون محض ایک سرمایہ کاری نہیں، بلکہ دو ترقی پذیر ایکو سسٹمز کے درمیان ایک پُل ہے۔ ہم مل کر مزید پاکستانی اسٹارٹ اپس اور کاروباروں کو سعودی عرب لانے میں مدد کریں گے، اور اُن سعودی کاروباری افراد کے لیے دروازے کھولیں گے جو پاکستان میں ٹیلنٹ اور اختراع سے جڑنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیبز نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب اس وقت میناپ خطے کا سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے، جس نے 2024 میں 2 ارب ڈالر سے زائد کی وینچر فنڈنگ حاصل کی اور تمام علاقائی معاہدوں کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ اپنے نام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ کو ورکنگ مارکیٹ کے 2025 تک ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ تیزی سے پھیلتی ہوئی کاروباری برادری ریاض کو کولیبز کی اگلی ترقی کے مرحلے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، شیزا فاطمہ خواجہ نے کولیبز کو سعودی عرب میں توسیع پر مبارک باد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ
سعودی عرب اور پاکستان اپنے ڈیجیٹل تعلقات کو مزید گہرا کر رہے ہیں، اور دونوں ممالک سرحد پار ڈیجیٹل سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ کولیبز کی توسیع واضح طور پر ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کے عملی اظہار کی علامت ہے جو ہماری سرحدوں سے آگے تک جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیبز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس نے اپنی شناخت صرف ورک اسپیسز تک محدود نہیں رکھی بلکہ کمیونٹی پر مبنی اپروچ کے ذریعے بانیوں کی معاونت کے پروگرامز اور تخلیقی اقدامات پر توجہ دی ہے، جیسے کہ کولیبز کری ایٹو کلیکٹیو  اور آرٹسٹ اِن ریزیڈنس پروگرام۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیبز کی بنیاد 2019 میں لاہور میں رکھی گئی اور آج یہ 10 فعال سائٹس کے ذریعے 5,000 سے زائد ممبرز، 300 کمپنیوں اور 250 پارٹنرز کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نیٹ ورک سے منسلک اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کیا ہے، جب کہ پلیٹ فارم ہر سال 1,000 سے زیادہ ایونٹس کی میزبانی کرتا ہے اور پانچ لاکھ سے زائد وزیٹرز کو خوش آمدید کہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیبز کو خطے کی نمایاں وینچر کیپیٹل فرمز کی معاونت حاصل ہے، جن میں شرووق ، انڈس ویلی کیپیٹل، فاطمہ گوبی وینچرز ، زین وی سی ، واد انویسٹمنٹ  اور متعدد نمایاں اینجل انویسٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی ورک اسپیس اسٹارٹ اپ کولیبز (COLABS) نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب میں کام شروع کرنے جا رہا ہے، جہاں وہ ریاض میں اپنی فلیگ شپ سائٹ قائم کرے گا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>کولیبز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شریک بانی عمر شاہ نے کہا کہ
سعودی عرب میں ہماری توسیع کولیبز کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، کیونکہ ہم وہ سب کچھ جو ہم نے پاکستان میں تعمیر کیا ہے، اب خطے کی سب سے متحرک منڈیوں میں سے ایک تک لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ریاض میں یہ سائٹ سعودی عرب میں کولیبز کی مرکزی (فلیگ شپ) لوکیشن ہوگی اور میناپ خطے میں کمپنی کی توسیع کے لیے ایک مرکزی ستون کا کردار ادا کرے گی۔ طویل المدت بنیادوں پر کمپنی کا مقصد سعودی سرمایہ اور کارپوریشنز کو ابھرتی ہوئی منڈیوں کے اسٹارٹ اپس اور ٹیلنٹ سے جوڑنا ہے۔</p>
<p>عمر شاہ نے مزید کہا کہ
سعودی عرب کا ویژن 2030 اختراع (انوویشن) اور انٹرپرینیورشپ کے لیے غیر معمولی رفتار پیدا کر رہا ہے۔ ہم ریاض کو اپنی میناپ کے سفر کا قدرتی نقطۂ آغاز سمجھتے ہیں  ایک ایسا مرکز جہاں ہم ایکو سسٹمز کو جوڑنے، بانیوں کو مربوط کرنے، اور ایسی کمیونٹیز بنانے میں مدد کرسکیں جو دونوں ممالک کو قریب لائیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق، ریاض میں سائٹ اس وقت تعمیر کے مرحلے میں ہے اور آنے والے مہینوں میں کھلنے کی توقع ہے۔ یہ کولیبز کی میناپ خطے میں توسیع کی حکمتِ عملی کا پہلا مرحلہ ہے۔</p>
<p>کولیبز نے مزید بتایا کہ اس نے اضافی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے اور واسیل انویسٹمنٹ  کے ساتھ ایک مقامی شراکت داری کو باضابطہ شکل دے دی ہے، جو ریاض سائٹ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>یہ مقامی شراکت داری، اکتوبر 2024 میں ہونے والے کولیبز کے پچھلے فنڈنگ راؤنڈ کے بعد سامنے آئی، جس کی قیادت شرووق  اور واد وی سی  نے کی تھی۔</p>
<p>واسیل پارٹنرز کے ڈائریکٹر آف انویسٹمنٹ، فیصل الراشد نے کہا کہ
یہ تعاون محض ایک سرمایہ کاری نہیں، بلکہ دو ترقی پذیر ایکو سسٹمز کے درمیان ایک پُل ہے۔ ہم مل کر مزید پاکستانی اسٹارٹ اپس اور کاروباروں کو سعودی عرب لانے میں مدد کریں گے، اور اُن سعودی کاروباری افراد کے لیے دروازے کھولیں گے جو پاکستان میں ٹیلنٹ اور اختراع سے جڑنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>کولیبز نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب اس وقت میناپ خطے کا سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے، جس نے 2024 میں 2 ارب ڈالر سے زائد کی وینچر فنڈنگ حاصل کی اور تمام علاقائی معاہدوں کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ اپنے نام کیا۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ کو ورکنگ مارکیٹ کے 2025 تک ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ تیزی سے پھیلتی ہوئی کاروباری برادری ریاض کو کولیبز کی اگلی ترقی کے مرحلے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، شیزا فاطمہ خواجہ نے کولیبز کو سعودی عرب میں توسیع پر مبارک باد دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ
سعودی عرب اور پاکستان اپنے ڈیجیٹل تعلقات کو مزید گہرا کر رہے ہیں، اور دونوں ممالک سرحد پار ڈیجیٹل سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ کولیبز کی توسیع واضح طور پر ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن کے عملی اظہار کی علامت ہے جو ہماری سرحدوں سے آگے تک جا رہی ہے۔</p>
<p>کولیبز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس نے اپنی شناخت صرف ورک اسپیسز تک محدود نہیں رکھی بلکہ کمیونٹی پر مبنی اپروچ کے ذریعے بانیوں کی معاونت کے پروگرامز اور تخلیقی اقدامات پر توجہ دی ہے، جیسے کہ کولیبز کری ایٹو کلیکٹیو  اور آرٹسٹ اِن ریزیڈنس پروگرام۔</p>
<p>کولیبز کی بنیاد 2019 میں لاہور میں رکھی گئی اور آج یہ 10 فعال سائٹس کے ذریعے 5,000 سے زائد ممبرز، 300 کمپنیوں اور 250 پارٹنرز کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>اس کے نیٹ ورک سے منسلک اسٹارٹ اپس نے مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کیا ہے، جب کہ پلیٹ فارم ہر سال 1,000 سے زیادہ ایونٹس کی میزبانی کرتا ہے اور پانچ لاکھ سے زائد وزیٹرز کو خوش آمدید کہتا ہے۔</p>
<p>کولیبز کو خطے کی نمایاں وینچر کیپیٹل فرمز کی معاونت حاصل ہے، جن میں شرووق ، انڈس ویلی کیپیٹل، فاطمہ گوبی وینچرز ، زین وی سی ، واد انویسٹمنٹ  اور متعدد نمایاں اینجل انویسٹرز شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278597</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 11:56:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/2611552123e1203.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/2611552123e1203.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی جائٹیکس 2025 میں شریک 10 پاکستانی اسٹارٹ اپس کونسی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278404/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جائٹیکس 2025، جو خطے کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی شوز میں سے ایک ہے، گزشتہ ہفتے دبئی میں اختتام پذیر ہوا۔ اس ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے 10 اسٹارٹ اپس نے شرکت کی جنہیں حکومت کے اِگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ نے منتخب کیا تھا تاکہ وہ جائٹیکس کے ایکسپینڈ نارتھ اسٹار حصے میں اپنی جدید ٹیکنالوجی حل پیش کر سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1 . ہیپرو (Haprow)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی شعبے میں سرگرم ہیپرو ایک ایسا ادارہ ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے حل پر کام کرتا ہے۔ کمپنی کا بنیادی پروڈکٹ ٹِم ٹِم نامی روبوٹ ہے، جو آٹزم اسپیکٹرم  میں مبتلا بچوں کی سماجی، ابلاغی اور ادراکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی 100 آئی ٹی کمپنیوں اور 1,000 مندوبین نے دبئی میں منعقدہ جائٹیکس گلوبل میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایونٹ کے دوران، ہیپرو نے دبئی کی کمپنی آپریٹر اے آئی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ آپریٹر اے آئی خود کو دنیا کا پہلا آل اِن ون مصنوعی ذہانت کا ایکو سسٹم قرار دیتی ہے، جو مارکیٹنگ، سیلز، کسٹمر سپورٹ اور سی آر ایم (کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ) کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اِگنائٹ کے مطابق، دونوں کمپنیاں مل کر ٹِم ٹِم کو امریکی اور یورپی مارکیٹس میں متعارف کرانے، صنعتی پیمانے پر پیداوار کے امکانات تلاش کرنے، اور ٹیکنالوجیکل بہتری و پروڈکشن آپٹیمائزیشن پر تعاون کریں گی تاکہ روبوٹ کو عالمی سطح پر  متعارف کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/2015451071addc7.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریٹر اے آئی کے شریک بانی اگناسیو کنڈیلاں  نے کہا کہ
جائٹیکس دبئی — جو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور سرمایہ کاروں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے — میں کوئی اور روبوٹک منصوبہ اتنی وسعت اور اثر کے ساتھ دنیا کے مختلف کونوں تک نہیں پہنچے گا جتنا ہیپرو روبوٹس پہنچیں گے، کیونکہ ان کی خصوصیات، کم سرمایہ کاری، اور شاندار کسٹمر سپورٹ اس کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ
یہ سستا ہے، یہ قابلِ عمل ہے، یہ مرضی کے مطابق بنایا جا سکتا ہے ،کمپنیوں کے لیے ایک ون-ون صورتحال ہے تاکہ وہ اپنی پہلی اے آئی پلس روبوٹک تجربات شروع کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2 . اسٹیم ورس (STEMverse)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجوٹیک کے شعبے میں شامل اسٹیم ورس پشاور میں قائم ایک اسٹارٹ اپ ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے مضامین میں پریکٹیکل لرننگ فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ پری یونیورسٹی طلبہ کے لیے روبوٹکس، انٹرنیٹ آف تھنگز ، مصنوعی ذہانت  اور مکسڈ ریئلٹی جیسے کورسز فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیم ورس کا مقصد جنس اور علاقائی فرق کو ختم کرتے ہوئے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ اور گرلز اِن اسٹیم جیسی مہمات کے ذریعے تعلیمی مساوات کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3. ای ایم آر چینز (EMRChains)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے شعبے میں، ای ایم آر چینز ایک مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ہیلتھ کیئر اسسٹنٹ ہے جو طبی رہنمائی، اپوائنٹمنٹ شیڈولنگ اور مریضوں کے ساتھ رابطے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
(ای ایم آر کا مطلب ہے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ۔)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سسٹم اسپتالوں اور طبی ماہرین کے لیے مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے ذخیرہ اور شیئر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے علاج مریض مرکز (پیشنٹ سینٹرڈ) بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک اے آئی سے چلنے والا ملٹی لنگول چیٹ بوٹ سنا اے آئی بھی فراہم کرتے ہیں جو علامات چیک کرنے اور اپوائنٹمنٹ بکنگ کی سہولت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4. آسان گھر فنانس (Asaan Ghar Finance)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایونٹ میں آسان گھر فنانس بھی شریک تھا، جو 2021/22 میں قائم کیا گیا ایک اسلامی ہاؤسنگ فنانس ادارہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کی متوسط طبقے کے لیے شرعی اصولوں کے مطابق گھر کے مالی حل فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی اسلامی فنانس پراڈکٹس جیسے گھر کی خریداری، تعمیر، تزئین و آرائش اور بیلنس ٹرانسفر فنانسنگ پیش کرتی ہے، تاکہ ٹیکنالوجی پر مبنی آن بورڈنگ اور اخلاقی عملداری کے ذریعے گھر کی ملکیت کو ممکن بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5. سپر بٹلر اے آئی (Superbutler AI)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپر بٹلر اے آئی حال ہی میں نیشنل انکیوبیشن سینٹر کراچی کے 12ویں کوہورٹ سے گریجویٹ ہونے والے 30 اسٹارٹ اپس میں شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنی ہوٹل انڈسٹری کے لیے ایک اے آئی سے چلنے والا ڈیجیٹل کونسیئرج پلیٹ فارم پیش کرتی ہے، جو مہمانوں کی خدمات (جیسے کھانے کا آرڈر، ہاؤس کیپنگ کی درخواست، سپا بُکنگ وغیرہ) کو چَیٹ یا وائس انٹرفیس کے ذریعے ہوٹل سسٹم سے منسلک کرتی ہے، تاکہ خودکار اور مؤثر سروس فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;6. ایز بائیک (ezBike)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایز بائیک اسلام آباد میں قائم ایک موبیلٹی اسٹارٹ اپ ہے جسے روامر ٹیکنالوجیز چلاتا ہے۔ یہ کمپنی الیکٹرک بائکس اور اسکوٹرز متعارف کرواتی ہے اور بیٹری سویپنگ انفراسٹرکچر بھی فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مقصد پاکستان میں صاف، سستی اور مؤثر لاسٹ مائل ٹرانسپورٹیشن فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے تقریباً 10 لاکھ امریکی ڈالر کی سیڈ/پری سیڈ سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور پہلے ہی ڈیلیوری فلیٹس کے ساتھ کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;7. برینسوارم روبوٹکس (Brainswarm Robotics)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کے جائٹیکس میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایک اور اسٹارٹ اپ برینسوارم روبوٹکس بھی شامل تھا، جو روبوٹکس اور اسٹیم ایجوکیشن کے آلات تیار کرتا ہے۔ یہ ادارہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے لیے روبوٹکس کِٹس ڈیزائن کرتا ہے اور اکیڈمک و انجینئرنگ ایجوکیشن کے شعبے میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;8. نقشہ جی پی ٹی (NaqshaGPT)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقشہ جی پی ٹی ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اسٹارٹ اپ ہے جو سادہ الفاظ میں لوگوں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ صرف عام زبان میں سوالات ٹائپ کرکے نقشے بنا اور سمجھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز کے نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی اے ٹی) کے مطابق، نقشہ جی پی ٹی ان اسٹارٹ اپس میں شامل ہے جو ان کے زیرِ انکیوبیشن ہیں۔ ایک لنکڈ اِن پوسٹ میں، این آئی سی اے ٹی نے بتایا کہ اس اسٹارٹ اپ نے مصنوعی ذہانت اور جیو اسپیشل  اختراعات کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے تین بین الاقوامی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے ایک معاہدہ فرانس کی میریئن ویدر انٹیلیجنس کے ساتھ ہوا، جس کا مقصد اے آئی اور جیو اسپیشل اینالیٹکس کے ذریعے سمندری راستوں  کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا معاہدہ جنوبی کوریا کی کمپنی کُن (کے کے یو این) کے ساتھ ہوا، جو نقشہ جی پی ٹی کے ساتھ مل کر اسمارٹ اسپیشل ٹیکنالوجی کے ذریعے فلیٹ مینجمنٹ سسٹمز کو جدید بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا معاہدہ چین کی یوکلاؤڈ کے ساتھ ہوا، جو نقشہ جی پی ٹی کو محفوظ، قابلِ توسیع  کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر چلائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;9. نجومی (Najoomi)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجومی ٹیکنالوجیز پاکستان میں قائم ایک مار ٹیک اور سی ایکس ٹیک اسٹارٹ اپ ہے، جو کاروباری اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمر ایکسپیرینس  حل فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے دو نمایاں پروڈکٹس ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئک ٹاک — ایک اومنی چینل اے آئی کانٹیکٹ سینٹر، جو مختلف چینلز (آواز، چیٹ، اور سوشل میڈیا) پر کسٹمر سپورٹ کو خودکار بناتا ہے۔
ایکسپیریا — ایک ریئل ٹائم کال اینالیٹکس پلیٹ فارم، جو کاروباری اداروں کو گاہکوں کے ساتھ مؤثر رابطہ اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجومی 2024 میں قائم ہوا اور اس کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے۔ کمپنی نے نیٹیل  جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ خودکار نظام اور اینالیٹکس کے ذریعے کسٹمر سروس کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;10. مارکیٹنگ ایکسیلیریٹ (Entropy &amp;amp; Co.)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مارکیٹنگ ایکسیلیریٹ  کا ذکر ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی گروتھ مارکیٹنگ فراہم کرتی ہے۔
یہ کمپنی ورک فلو کی خودکار ترتیب (آٹومیشن)، لیڈ جنریشن کے لیے اے آئی ایجنٹس، اور کنٹینٹ و ایس ای او حکمتِ عملی میں مدد فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پویلین&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائٹیکس کے مرکزی ایونٹ میں پاکستان کا ایک خصوصی پویلین بھی قائم کیا گیا تھا، جس میں 26 مستند آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔ یہ پویلین ملاقاتوں، سرمایہ کاری کے نیٹ ورکنگ، اور پارٹنرشپ کے اعلانات کے لیے ایک مرکزی مرکز کے طور پر کام کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا کو وہاں لائیو ڈیموز، جدید ٹیکنالوجی اختراعات، اور کاروباری رابطہ سازی کے سیشنز دیکھنے کا موقع ملا، جن کا مقصد پاکستان کے عالمی ٹیکنالوجی تجارت میں کردار کو مستحکم بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پویلین کی افتتاحی تقریب وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام، شزا فاطمہ خواجہ کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/20161804c0ed8ee.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ کے مطابق
جائٹیکس گلوبل میں پاکستان کی شرکت ہمارے اعتماد، صلاحیت، اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار مستقبل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کے تحت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ
نوجوان، ہنرمند افرادی قوت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی برآمدات کی بنیاد پر، پاکستان اب عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان پویلین نہ صرف ہماری اختراع کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ دنیا کو ترقی میں شراکت کی دعوت بھی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کا مقصد اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس اور کاروباری صلاحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور کاروباری ترقی کے مواقع پیدا کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائٹیکس گلوبل 2025 کا اختتام 18 اکتوبر کو ہوا — پانچ روزہ ایونٹ کے بعد جس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ہیلتھ اور بائیوٹیک کے شعبوں میں بڑی ڈیلز اور نئی جدتیں پیش کی گئیں۔
پریس ریلیز کے مطابق، اس سال کے ایونٹ میں 6,800 سے زائد نمائش کنندگان، 2,000 اسٹارٹ اپس (180 ممالک سے) اور 1,200 سرمایہ کاروں نے دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور دبئی ہاربر میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جائٹیکس 2025، جو خطے کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی شوز میں سے ایک ہے، گزشتہ ہفتے دبئی میں اختتام پذیر ہوا۔ اس ایونٹ میں پاکستان کی جانب سے 10 اسٹارٹ اپس نے شرکت کی جنہیں حکومت کے اِگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ نے منتخب کیا تھا تاکہ وہ جائٹیکس کے ایکسپینڈ نارتھ اسٹار حصے میں اپنی جدید ٹیکنالوجی حل پیش کر سکیں۔</strong></p>
<p><strong>1 . ہیپرو (Haprow)</strong></p>
<p>تعلیمی شعبے میں سرگرم ہیپرو ایک ایسا ادارہ ہے جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے حل پر کام کرتا ہے۔ کمپنی کا بنیادی پروڈکٹ ٹِم ٹِم نامی روبوٹ ہے، جو آٹزم اسپیکٹرم  میں مبتلا بچوں کی سماجی، ابلاغی اور ادراکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی 100 آئی ٹی کمپنیوں اور 1,000 مندوبین نے دبئی میں منعقدہ جائٹیکس گلوبل میں شرکت کی۔</p>
<p>اس ایونٹ کے دوران، ہیپرو نے دبئی کی کمپنی آپریٹر اے آئی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ آپریٹر اے آئی خود کو دنیا کا پہلا آل اِن ون مصنوعی ذہانت کا ایکو سسٹم قرار دیتی ہے، جو مارکیٹنگ، سیلز، کسٹمر سپورٹ اور سی آر ایم (کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ) کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔</p>
<p>اِگنائٹ کے مطابق، دونوں کمپنیاں مل کر ٹِم ٹِم کو امریکی اور یورپی مارکیٹس میں متعارف کرانے، صنعتی پیمانے پر پیداوار کے امکانات تلاش کرنے، اور ٹیکنالوجیکل بہتری و پروڈکشن آپٹیمائزیشن پر تعاون کریں گی تاکہ روبوٹ کو عالمی سطح پر  متعارف کیا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/2015451071addc7.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>آپریٹر اے آئی کے شریک بانی اگناسیو کنڈیلاں  نے کہا کہ
جائٹیکس دبئی — جو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور سرمایہ کاروں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے — میں کوئی اور روبوٹک منصوبہ اتنی وسعت اور اثر کے ساتھ دنیا کے مختلف کونوں تک نہیں پہنچے گا جتنا ہیپرو روبوٹس پہنچیں گے، کیونکہ ان کی خصوصیات، کم سرمایہ کاری، اور شاندار کسٹمر سپورٹ اس کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ
یہ سستا ہے، یہ قابلِ عمل ہے، یہ مرضی کے مطابق بنایا جا سکتا ہے ،کمپنیوں کے لیے ایک ون-ون صورتحال ہے تاکہ وہ اپنی پہلی اے آئی پلس روبوٹک تجربات شروع کر سکیں۔</p>
<p><strong>2 . اسٹیم ورس (STEMverse)</strong></p>
<p>ایجوٹیک کے شعبے میں شامل اسٹیم ورس پشاور میں قائم ایک اسٹارٹ اپ ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے مضامین میں پریکٹیکل لرننگ فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ پری یونیورسٹی طلبہ کے لیے روبوٹکس، انٹرنیٹ آف تھنگز ، مصنوعی ذہانت  اور مکسڈ ریئلٹی جیسے کورسز فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اسٹیم ورس کا مقصد جنس اور علاقائی فرق کو ختم کرتے ہوئے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ اور گرلز اِن اسٹیم جیسی مہمات کے ذریعے تعلیمی مساوات کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p><strong>3. ای ایم آر چینز (EMRChains)</strong></p>
<p>صحت کے شعبے میں، ای ایم آر چینز ایک مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ہیلتھ کیئر اسسٹنٹ ہے جو طبی رہنمائی، اپوائنٹمنٹ شیڈولنگ اور مریضوں کے ساتھ رابطے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
(ای ایم آر کا مطلب ہے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ۔)</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سسٹم اسپتالوں اور طبی ماہرین کے لیے مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے ذخیرہ اور شیئر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے علاج مریض مرکز (پیشنٹ سینٹرڈ) بن جاتا ہے۔</p>
<p>یہ ایک اے آئی سے چلنے والا ملٹی لنگول چیٹ بوٹ سنا اے آئی بھی فراہم کرتے ہیں جو علامات چیک کرنے اور اپوائنٹمنٹ بکنگ کی سہولت دیتا ہے۔</p>
<p><strong>4. آسان گھر فنانس (Asaan Ghar Finance)</strong></p>
<p>اس ایونٹ میں آسان گھر فنانس بھی شریک تھا، جو 2021/22 میں قائم کیا گیا ایک اسلامی ہاؤسنگ فنانس ادارہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کی متوسط طبقے کے لیے شرعی اصولوں کے مطابق گھر کے مالی حل فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>کمپنی اسلامی فنانس پراڈکٹس جیسے گھر کی خریداری، تعمیر، تزئین و آرائش اور بیلنس ٹرانسفر فنانسنگ پیش کرتی ہے، تاکہ ٹیکنالوجی پر مبنی آن بورڈنگ اور اخلاقی عملداری کے ذریعے گھر کی ملکیت کو ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p><strong>5. سپر بٹلر اے آئی (Superbutler AI)</strong></p>
<p>سپر بٹلر اے آئی حال ہی میں نیشنل انکیوبیشن سینٹر کراچی کے 12ویں کوہورٹ سے گریجویٹ ہونے والے 30 اسٹارٹ اپس میں شامل تھا۔</p>
<p>یہ کمپنی ہوٹل انڈسٹری کے لیے ایک اے آئی سے چلنے والا ڈیجیٹل کونسیئرج پلیٹ فارم پیش کرتی ہے، جو مہمانوں کی خدمات (جیسے کھانے کا آرڈر، ہاؤس کیپنگ کی درخواست، سپا بُکنگ وغیرہ) کو چَیٹ یا وائس انٹرفیس کے ذریعے ہوٹل سسٹم سے منسلک کرتی ہے، تاکہ خودکار اور مؤثر سروس فراہم کی جا سکے۔</p>
<p><strong>6. ایز بائیک (ezBike)</strong></p>
<p>ایز بائیک اسلام آباد میں قائم ایک موبیلٹی اسٹارٹ اپ ہے جسے روامر ٹیکنالوجیز چلاتا ہے۔ یہ کمپنی الیکٹرک بائکس اور اسکوٹرز متعارف کرواتی ہے اور بیٹری سویپنگ انفراسٹرکچر بھی فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>ان کا مقصد پاکستان میں صاف، سستی اور مؤثر لاسٹ مائل ٹرانسپورٹیشن فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے تقریباً 10 لاکھ امریکی ڈالر کی سیڈ/پری سیڈ سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور پہلے ہی ڈیلیوری فلیٹس کے ساتھ کام کر رہی ہے۔</p>
<p><strong>7. برینسوارم روبوٹکس (Brainswarm Robotics)</strong></p>
<p>اس سال کے جائٹیکس میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایک اور اسٹارٹ اپ برینسوارم روبوٹکس بھی شامل تھا، جو روبوٹکس اور اسٹیم ایجوکیشن کے آلات تیار کرتا ہے۔ یہ ادارہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے لیے روبوٹکس کِٹس ڈیزائن کرتا ہے اور اکیڈمک و انجینئرنگ ایجوکیشن کے شعبے میں کام کرتا ہے۔</p>
<p><strong>8. نقشہ جی پی ٹی (NaqshaGPT)</strong></p>
<p>نقشہ جی پی ٹی ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اسٹارٹ اپ ہے جو سادہ الفاظ میں لوگوں کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ صرف عام زبان میں سوالات ٹائپ کرکے نقشے بنا اور سمجھ سکیں۔</p>
<p>ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز کے نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی اے ٹی) کے مطابق، نقشہ جی پی ٹی ان اسٹارٹ اپس میں شامل ہے جو ان کے زیرِ انکیوبیشن ہیں۔ ایک لنکڈ اِن پوسٹ میں، این آئی سی اے ٹی نے بتایا کہ اس اسٹارٹ اپ نے مصنوعی ذہانت اور جیو اسپیشل  اختراعات کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے تین بین الاقوامی مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے۔</p>
<p>ان میں سے ایک معاہدہ فرانس کی میریئن ویدر انٹیلیجنس کے ساتھ ہوا، جس کا مقصد اے آئی اور جیو اسپیشل اینالیٹکس کے ذریعے سمندری راستوں  کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>دوسرا معاہدہ جنوبی کوریا کی کمپنی کُن (کے کے یو این) کے ساتھ ہوا، جو نقشہ جی پی ٹی کے ساتھ مل کر اسمارٹ اسپیشل ٹیکنالوجی کے ذریعے فلیٹ مینجمنٹ سسٹمز کو جدید بنائے گی۔</p>
<p>تیسرا معاہدہ چین کی یوکلاؤڈ کے ساتھ ہوا، جو نقشہ جی پی ٹی کو محفوظ، قابلِ توسیع  کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر چلائے گا۔</p>
<p><strong>9. نجومی (Najoomi)</strong></p>
<p>نجومی ٹیکنالوجیز پاکستان میں قائم ایک مار ٹیک اور سی ایکس ٹیک اسٹارٹ اپ ہے، جو کاروباری اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمر ایکسپیرینس  حل فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے دو نمایاں پروڈکٹس ہیں:</p>
<p>کوئک ٹاک — ایک اومنی چینل اے آئی کانٹیکٹ سینٹر، جو مختلف چینلز (آواز، چیٹ، اور سوشل میڈیا) پر کسٹمر سپورٹ کو خودکار بناتا ہے۔
ایکسپیریا — ایک ریئل ٹائم کال اینالیٹکس پلیٹ فارم، جو کاروباری اداروں کو گاہکوں کے ساتھ مؤثر رابطہ اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>نجومی 2024 میں قائم ہوا اور اس کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے۔ کمپنی نے نیٹیل  جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ خودکار نظام اور اینالیٹکس کے ذریعے کسٹمر سروس کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p><strong>10. مارکیٹنگ ایکسیلیریٹ (Entropy &amp; Co.)</strong></p>
<p>آخر میں مارکیٹنگ ایکسیلیریٹ  کا ذکر ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی گروتھ مارکیٹنگ فراہم کرتی ہے۔
یہ کمپنی ورک فلو کی خودکار ترتیب (آٹومیشن)، لیڈ جنریشن کے لیے اے آئی ایجنٹس، اور کنٹینٹ و ایس ای او حکمتِ عملی میں مدد فراہم کرتی ہے۔</p>
<p><strong>پاکستان پویلین</strong></p>
<p>جائٹیکس کے مرکزی ایونٹ میں پاکستان کا ایک خصوصی پویلین بھی قائم کیا گیا تھا، جس میں 26 مستند آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی۔ یہ پویلین ملاقاتوں، سرمایہ کاری کے نیٹ ورکنگ، اور پارٹنرشپ کے اعلانات کے لیے ایک مرکزی مرکز کے طور پر کام کر رہا تھا۔</p>
<p>شرکا کو وہاں لائیو ڈیموز، جدید ٹیکنالوجی اختراعات، اور کاروباری رابطہ سازی کے سیشنز دیکھنے کا موقع ملا، جن کا مقصد پاکستان کے عالمی ٹیکنالوجی تجارت میں کردار کو مستحکم بنانا تھا۔</p>
<p>پویلین کی افتتاحی تقریب وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام، شزا فاطمہ خواجہ کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/10/20161804c0ed8ee.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>شزا فاطمہ کے مطابق
جائٹیکس گلوبل میں پاکستان کی شرکت ہمارے اعتماد، صلاحیت، اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار مستقبل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کے تحت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ
نوجوان، ہنرمند افرادی قوت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آئی ٹی برآمدات کی بنیاد پر، پاکستان اب عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان پویلین نہ صرف ہماری اختراع کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ دنیا کو ترقی میں شراکت کی دعوت بھی دیتا ہے۔</p>
<p>وزارت کا مقصد اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی اسٹارٹ اپس اور کاروباری صلاحیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور کاروباری ترقی کے مواقع پیدا کرنا تھا۔</p>
<p>جائٹیکس گلوبل 2025 کا اختتام 18 اکتوبر کو ہوا — پانچ روزہ ایونٹ کے بعد جس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ہیلتھ اور بائیوٹیک کے شعبوں میں بڑی ڈیلز اور نئی جدتیں پیش کی گئیں۔
پریس ریلیز کے مطابق، اس سال کے ایونٹ میں 6,800 سے زائد نمائش کنندگان، 2,000 اسٹارٹ اپس (180 ممالک سے) اور 1,200 سرمایہ کاروں نے دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور دبئی ہاربر میں شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278404</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 12:28:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/21120841edd665f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/21120841edd665f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی فِن ٹیک کمپنی برق کو پاکستان میں الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن قائم کرنے کی منظوری مل گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برق پاکستان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن (ای ایم آئی) والٹ کے قیام کے لیے ان پرنسپل اپروول(آئی پی اے)  حاصل ہوگئی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے کی سب سے امید افزا ڈیجیٹل فنانشل مارکیٹس میں سے ایک میں اس کی شمولیت کی راہ ہموار کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ منظوری، جو 10 اکتوبر کو موصول ہوئی، برق کی علاقائی توسیعی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو ایک محفوظ، جامع اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تعمیر کے لیے اس کے عزم کو مضبوط بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق، اس آئی پی اے کے ذریعے، برق کا مقصد پاکستان میں افراد اور کاروباروں کو ٹیکنالوجی سے چلنے والے، ہموار ادائیگی کے حل فراہم کرنا ہے، جو ملک کو کیش لیس معیشت کی طرف تیزی سے منتقل کرنے میں مدد دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی اے ایک عبوری منظوری ہوتی ہے جو اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کی جاتی ہے جب کوئی کمپنی ابتدائی مراحل — جیسے کہ بزنس ماڈل، ملکیت، گورننس، سیکیورٹی، رسک، اور کمپلائنس کے تقاضے — کامیابی سے مکمل کرلیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار جب کمپنی اسٹیٹ بینک کی تمام شرائط پوری کرلیتی ہے اور پائلٹ مرحلہ کامیابی سے مکمل کرلیتی ہے، تو وہ کمرشل اپروول / فل ای ایم آئی لائسنس کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برق پاکستان کا کہنا ہے کہ مکمل منظوری حاصل ہونے کے بعد وہ ضروری ریگولیٹری اجازتوں کے ساتھ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا مکمل پیکیج متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے — جن میں ای والٹس، موبائل پیمنٹس، اور روزمرہ لین دین کے آلات شامل ہوں گے — اور یہ تمام خدمات اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری و سیکیورٹی فریم ورک اور عالمی معیار کے مطابق ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق وہ ریگولیٹری حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کمرشل لائسنسنگ سے پہلے تمام تکنیکی اور کمپلائنس تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برق کی پاکستان میں آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو مالی شمولیت اور جدت کی طرف قومی رجحان کو اجاگر کرتا ہے — وہ اقدار جو برق کے تمام مارکیٹس میں اس کے مشن کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برق پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر اور آنکولوجسٹ ڈاکٹر زین فاروق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ برق نے پاکستان میں داخلہ مائی ٹی ایم نامی فِن ٹیک کمپنی کی سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی ذیلی کمپنیوں کو حاصل کر کے کیا، جس کے وہ شریک بانی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، برق سعودی عرب کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا والٹ ہے، جس نے ایس ٹی سی پے  کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ برق کے سعودی عرب میں صارفین کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو دنیا کے 150 ممالک سے تعلق رکھنے والے صارفین پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برق پاکستان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن (ای ایم آئی) والٹ کے قیام کے لیے ان پرنسپل اپروول(آئی پی اے)  حاصل ہوگئی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے کی سب سے امید افزا ڈیجیٹل فنانشل مارکیٹس میں سے ایک میں اس کی شمولیت کی راہ ہموار کرے گی۔</strong></p>
<p>کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ منظوری، جو 10 اکتوبر کو موصول ہوئی، برق کی علاقائی توسیعی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو ایک محفوظ، جامع اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تعمیر کے لیے اس کے عزم کو مضبوط بناتی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق، اس آئی پی اے کے ذریعے، برق کا مقصد پاکستان میں افراد اور کاروباروں کو ٹیکنالوجی سے چلنے والے، ہموار ادائیگی کے حل فراہم کرنا ہے، جو ملک کو کیش لیس معیشت کی طرف تیزی سے منتقل کرنے میں مدد دیں گے۔</p>
<p>آئی پی اے ایک عبوری منظوری ہوتی ہے جو اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کی جاتی ہے جب کوئی کمپنی ابتدائی مراحل — جیسے کہ بزنس ماڈل، ملکیت، گورننس، سیکیورٹی، رسک، اور کمپلائنس کے تقاضے — کامیابی سے مکمل کرلیتی ہے۔</p>
<p>ایک بار جب کمپنی اسٹیٹ بینک کی تمام شرائط پوری کرلیتی ہے اور پائلٹ مرحلہ کامیابی سے مکمل کرلیتی ہے، تو وہ کمرشل اپروول / فل ای ایم آئی لائسنس کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔</p>
<p>برق پاکستان کا کہنا ہے کہ مکمل منظوری حاصل ہونے کے بعد وہ ضروری ریگولیٹری اجازتوں کے ساتھ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا مکمل پیکیج متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے — جن میں ای والٹس، موبائل پیمنٹس، اور روزمرہ لین دین کے آلات شامل ہوں گے — اور یہ تمام خدمات اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری و سیکیورٹی فریم ورک اور عالمی معیار کے مطابق ہوں گی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق وہ ریگولیٹری حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ کمرشل لائسنسنگ سے پہلے تمام تکنیکی اور کمپلائنس تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔</p>
<p>برق کی پاکستان میں آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو مالی شمولیت اور جدت کی طرف قومی رجحان کو اجاگر کرتا ہے — وہ اقدار جو برق کے تمام مارکیٹس میں اس کے مشن کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>برق پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر اور آنکولوجسٹ ڈاکٹر زین فاروق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ برق نے پاکستان میں داخلہ مائی ٹی ایم نامی فِن ٹیک کمپنی کی سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی ذیلی کمپنیوں کو حاصل کر کے کیا، جس کے وہ شریک بانی ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق، برق سعودی عرب کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا والٹ ہے، جس نے ایس ٹی سی پے  کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>جولائی میں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ برق کے سعودی عرب میں صارفین کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جو دنیا کے 150 ممالک سے تعلق رکھنے والے صارفین پر مشتمل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278269</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 13:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/171357169289eee.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/171357169289eee.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زاریا اسٹارٹ اپ جو صرف 500 روپے سے سونا خریدنے کو آسان بنانا چاہتا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277859/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاروباری شخصیت عادل سلیم کا ایک مشن ہے — پاکستانیوں کو سونے میں سرمایہ کاری کے قابل بنانا۔ اسی مقصد کے تحت وہ ایک نیا اسٹارٹ اَپ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا نام زاریا (Zariah) ہے، جسے وہ پاکستان کا پہلا’ڈیجیٹل گولڈ سیونگز پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پلیٹ فارم پاکستانیوں کو 24 قیراط خالص  سونا میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گا، جس کی شروعات صرف 500 روپے سے کی جا سکے گی۔ پلیٹ فارم پر مارکیٹ کی قیمتوں کی رئیل ٹائم ٹریکینگ   کی جا سکے گی، صارفین کو کسی بھی وقت سونا کیش یا ری ڈیم کرنے کی سہولت ہوگی، اور آٹومیٹڈ سیونگز (خودکار بچت) کا فیچر بھی موجود ہوگا — یعنی خریداری کے وقت رقم کو قریب ترین روپے تک رائونڈ فیگر میں کرکے رقم صارف کے لیے محفوظ یا سرمایہ کاری کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق، تمام سونا بینک کے معیار کے محفوظ والٹس میں رکھا جائے گا، سو فیصد بیکڈ  اور مکمل طور پر آڈٹ ایبل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے ایک خصوصی گفتگو میں عادل سلیم — جو اس سے قبل نیو یارک میں لمیڈا ویلتھ  اور سنگاپور کے ایکویٹی ہیج فنڈ فاؤنٹین ہیڈ پارٹنرشپس میں کام کر چکے ہیں — نے بتایا کہ زاریا اس وقت پری لانچ مرحلے میں ہے، اور وہ اسے جلد متعارف کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی اس وقت ان اسٹریٹیجک پارٹنرز اور سرمایہ کاروں سے بات چیت کر رہی ہے جو اس کے وژن سے اتفاق رکھتے ہیں، تاہم فی الحال فنڈ ریزنگ کی تفصیلات عوامی طور پر شیئر نہیں کی جا رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونا میں بچت اب بھی منتشر، غیر رسمی اور غیر محفوظ ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں کون سا خلا انہیں ڈیجیٹل گولڈ سیونگز پلیٹ فارم لانچ کرنے پر قائل کر گیا، تو انہوں نے کہا کہ
ہر پاکستانی گھرانہ بچت کی اہمیت کو سمجھتا ہے، مگر دہائیوں سے ہمارا مالیاتی نظام عام لوگوں کے لیے محفوظ، آسان اور منافع بخش بچت کے مواقع فراہم نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، پاکستان کی گھریلو بچت کی شرح خطے میں سب سے کم ہے — جی ڈی پی کا صرف 7 فیصد — جبکہ پاکستان کی آبادی کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ ریگولیٹڈ کیپیٹل مارکیٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسائی کے قابل باضابطہ مواقع نہ ہونے کی وجہ سے، گھریلو سطح پر لوگ سونا کی طرف مائل ہوئے — جو سب سے زیادہ معروف اور ثقافتی طور پر قابلِ اعتماد بچت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، پاکستان میں سالانہ سونا کی مانگ 40 ٹن (تقریباً 1.4 کھرب روپے یا 5 ارب ڈالر) سے تجاوز کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ سونے میں بچت اب بھی منتشر، غیر رسمی اور غیر محفوظ ہے۔ زیادہ تر گھرانے سونا گھروں میں رکھتے ہیں یا نان ریگولیٹڈ ڈیلرز پر انحصار کرتے ہیں، جس سے چوری، فراڈ اور نااہلی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، ہم نے دیگر اثاثہ جات میں حقیقی جدت دیکھی ہے:
ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) اور فریکشنل اونرشپ نے ریئل اسٹیٹ کے منظرنامے کو بدل دیا ہے، فنکالَیب  جیسے پلیٹ فارمز اسٹاک سرمایہ کاری کو جدید بنا رہے ہیں، جبکہ نیا پے  اور سادہ پے جیسے فِن ٹیک والٹس نے لاکھوں لوگوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن سونا وہ واحد شعبہ ہے جو ابھی تک کسی بامعنی ڈیجیٹل جدت سے محروم ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سونا پہلے ہی گھریلو بچت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، یہ خلا خاصا نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن یہ ہے کہ سونا کو زیادہ محفوظ اور قابلِ رسائی بنایا جائے، اور پاکستان کو ایسے جدید بچت کے آلات فراہم کیے جائیں جو اسے عالمی مالیاتی جدت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اعتماد کی اہمیت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مالیاتی اسکینڈلز اور غیر رسمی بچت چینلز عام ہیں، لہٰذا اعتماد قائم کرنا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عادل سلیم اس سے متفق ہیں کہ
اعتماد زاریا کی بنیاد ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستانی عوام ماضی میں دھوکہ کھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ شروع دن سے ہم نے زاریا کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ باضابطہ مالیاتی نظام کے اندر کام کرے، تاکہ صارفین کی بچت ہمیشہ محفوظ، حقیقی سونا سے بیکڈ اور محفوظ اداروں کے ساتھ شراکت داری میں ہو۔ اس میں شفاف قیمتیں، والٹ کی روزانہ ری کنسیلی ایشن، اور صرف قابلِ اعتبار اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام حفاظتی اقدامات کو ایک آسان ڈیجیٹل تجربے کے ساتھ ملا کر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو سونا میں بچت کے حوالے سے وہ اعتماد حاصل ہو جو وہ عرصے سے کھو چکے ہیں — یعنی ہر جمع شدہ روپیہ محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر دستاویزی ہو۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا زاریا مستقبل میں سونا سے آگے بھی بڑھے گا، تو انہوں نے کہا کہ یہ اسٹارٹ اَپ
اپنے جوہر میں پاکستان کے لیے ڈیجیٹل سیونگز کا وژن ہے۔
سونا ہمارا قدرتی نقطۂ آغاز ہے، کیونکہ یہ قابلِ اعتماد، مانوس، اور پہلے ہی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بچت کا ذریعہ ہے۔ ہمارا فوری ہدف سونا کے شعبے میں گہرائی اور وسعت پیدا کرنا ہے، اس کے بعد ہم مزید توسیع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ چاندی  بھی کمپنی کے روڈ میپ میں شامل ہے، اگرچہ ان کے خیال میں اس کی مارکیٹ نسبتاً چھوٹی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ، ہم دیگر شریعت کے مطابق بچت اور سرمایہ کاری کے آپشنز متعارف کرانے کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رسائی کی اہمیت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زاریا کے ذریعے پاکستانیوں کو صرف 500 روپے سے سرمایہ کاری شروع کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عادل سلیم نے کہا کہ رسائی  کمپنی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر سونا بچت کے لیے بڑی اکائیوں جیسے گرام، تولہ یا اس سے زیادہ میں خریدا جاتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ ہم نے یہ رکاوٹ ختم کر دی ہے، اب صرف 500 روپے سے بچت شروع کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ اب کوئی بھی — چاہے وہ طالب علم ہو یا ملازمت پیشہ فرد — بڑی رقم جمع کیے بغیر اپنی بچت کا سفر شروع کر سکتا ہے۔ یہ ایک سادہ اور جامع طریقہ ہے جو پاکستان کے سب سے بھروسہ مند اثاثے  یعنی سونا کو ہر شخص کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے میں سرمایہ کاری کا  کوئی صحیح وقت نہیں ہوتا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 اکتوبر تک، مضمون لکھنے کے وقت، پاکستان میں سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں پر پہنچ چکی تھیں، جو بین الاقوامی منڈی میں اضافے کے مطابق ہیں۔
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 415,278 روپے تک جا پہنچا، جو ایک دن میں 5,400 روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے میں سرمایہ کاری کے صحیح وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے،عادل سلیم کا کہنا تھا کہ سونے کو اکثر ایک وقتی تجارت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت یہ ایک طویل مدتی بچت کا اثاثہ ہے جو مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، اور عالمی غیر یقینی حالات کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ ریکارڈ سطح پر بھی، سونا رکھنے کی منطق پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک ہر سال تقریباً 1,000 ٹن سونا خرید رہے ہیں، جس سے سونے کا زرمبادلہ کے ذخائر میں حصہ گزشتہ 30 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔
چین کے گھریلو صارفین اپنے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے سست ہونے کے باعث سونا خریدنے کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں سونے کی ثقافتی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، کمزور ڈالر، اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے پس منظر میں، سونا کاغذی کرنسیوں پر اعتماد کی کمی کا مظہر بنتا جا رہا ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کے لیے نتیجہ واضح ہے — مہنگائی روپے کی بچتوں کو کھا رہی ہے، لہٰذا سونا اب بھی دولت کے تحفظ کا چند قابلِ بھروسہ طریقوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ 1995 سے اب تک، سونے نے روپے کی بنیاد پر سالانہ اوسطاً 15.7 فیصد منافع (سی اے جی آر) دیا ہے، جو کے ایس ای-100 انڈیکس کے 15.2 فیصد سے معمولی زیادہ ہے، لیکن سونے میں اتار چڑھاؤ کم اور خطرے کے لحاظ سے منافع زیادہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“اسی لیے دانشمندانہ طریقہ یہ ہے کہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیچھے نہ بھاگا جائے بلکہ سونے میں نظم و ضبط کے ساتھ بچت کی عادت ڈالی جائے۔ جتنا جلد آغاز کیا جائے، اتنا ہی زیادہ تحفظ حاصل ہوگا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سونے کی قیمت کی کوئی پیشگوئی کرتے ہیں، تو عاد؛ سلیم نے کہا کہ
ہم قیمتوں کی پیشگوئی نہیں کرتے، کیونکہ سونا قیاس آرائی کے لیے نہیں، بلکہ طویل مدتی بچت کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق 2025 تک سونا 4,000 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے،
جو اگر روپیہ مستحکم رہے تو تقریباً430,000 روپے فی تولہ کے برابر ہوگا، اور اگر روپیہ کمزور ہو تو اس سے بھی زیادہ اوپر جائیگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدال سلیم کے مطابق پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا مقصد  قیمت کے پیچھے دوڑنا نہیں ہونا چاہیے۔
اصل سبق یہ ہے کہ سونا اب ریزرو اثاثے اور گھریلو تحفظ کے آلے کے طور پر دوبارہ متعین ہو رہا ہے۔ دانشمندانہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ باقاعدگی سے بچت کی جائے، نہ کہ عروج و زوال کو وقت کرنے کی کوشش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ سونے کی اصل قدر اس کی حیثیت ایک طویل مدتی دولت کے ذخیرے کے طور پر ہے۔
یہ مہنگائی، روپے کی کمی، اور عالمی غیر یقینی صورتحال سے بچتوں کو محفوظ رکھتا ہے — یہی وجہ ہے کہ یہ نسلوں سے قابلِ اعتماد اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عادل سلیم نے کہا کہ میرا مشورہ ہے: جلد آغاز کریں، چھوٹا آغاز کریں، اور تسلسل رکھیں۔
چھوٹے چھوٹے حصے وقت کے ساتھ بڑھ جاتے ہیں، اور تولے کے بجائے گرام میں سوچنا سونا ہر کسی کے لیے قابلِ حصول بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ زاریا ابھی لانچ نہیں ہوا، لیکن عادل سلیم کے مطابق پری لانچ مرحلے پر ہی ردِعمل بہت حوصلہ افزا ہے۔
سروے اور ویٹ لسٹ کے ذریعے انہوں نے دیکھا ہے کہ خاص طور پر نوجوان پیشہ ور اور ملی نیلز) طبقہ زبردست دلچسپی دکھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک نمایاں رجحان یہ ہے کہ پاکستانی اب چھوٹی، قابلِ انتظام رقم میں بچت کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک بڑی رقم ایک ساتھ لگائیں۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ایسی ڈیجیٹل حلوں کے خواہاں ہیں جو بچت کو آسان، محفوظ اور سب کے لیے قابلِ رسائی بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کاروباری شخصیت عادل سلیم کا ایک مشن ہے — پاکستانیوں کو سونے میں سرمایہ کاری کے قابل بنانا۔ اسی مقصد کے تحت وہ ایک نیا اسٹارٹ اَپ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا نام زاریا (Zariah) ہے، جسے وہ پاکستان کا پہلا’ڈیجیٹل گولڈ سیونگز پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ پلیٹ فارم پاکستانیوں کو 24 قیراط خالص  سونا میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گا، جس کی شروعات صرف 500 روپے سے کی جا سکے گی۔ پلیٹ فارم پر مارکیٹ کی قیمتوں کی رئیل ٹائم ٹریکینگ   کی جا سکے گی، صارفین کو کسی بھی وقت سونا کیش یا ری ڈیم کرنے کی سہولت ہوگی، اور آٹومیٹڈ سیونگز (خودکار بچت) کا فیچر بھی موجود ہوگا — یعنی خریداری کے وقت رقم کو قریب ترین روپے تک رائونڈ فیگر میں کرکے رقم صارف کے لیے محفوظ یا سرمایہ کاری کر دی جائے گی۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق، تمام سونا بینک کے معیار کے محفوظ والٹس میں رکھا جائے گا، سو فیصد بیکڈ  اور مکمل طور پر آڈٹ ایبل ہوگا۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے ایک خصوصی گفتگو میں عادل سلیم — جو اس سے قبل نیو یارک میں لمیڈا ویلتھ  اور سنگاپور کے ایکویٹی ہیج فنڈ فاؤنٹین ہیڈ پارٹنرشپس میں کام کر چکے ہیں — نے بتایا کہ زاریا اس وقت پری لانچ مرحلے میں ہے، اور وہ اسے جلد متعارف کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>کمپنی اس وقت ان اسٹریٹیجک پارٹنرز اور سرمایہ کاروں سے بات چیت کر رہی ہے جو اس کے وژن سے اتفاق رکھتے ہیں، تاہم فی الحال فنڈ ریزنگ کی تفصیلات عوامی طور پر شیئر نہیں کی جا رہیں۔</p>
<p><strong>سونا میں بچت اب بھی منتشر، غیر رسمی اور غیر محفوظ ہے</strong></p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں کون سا خلا انہیں ڈیجیٹل گولڈ سیونگز پلیٹ فارم لانچ کرنے پر قائل کر گیا، تو انہوں نے کہا کہ
ہر پاکستانی گھرانہ بچت کی اہمیت کو سمجھتا ہے، مگر دہائیوں سے ہمارا مالیاتی نظام عام لوگوں کے لیے محفوظ، آسان اور منافع بخش بچت کے مواقع فراہم نہیں کر سکا۔</p>
<p>ان کے مطابق، پاکستان کی گھریلو بچت کی شرح خطے میں سب سے کم ہے — جی ڈی پی کا صرف 7 فیصد — جبکہ پاکستان کی آبادی کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ ریگولیٹڈ کیپیٹل مارکیٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کرتا ہے۔</p>
<p>رسائی کے قابل باضابطہ مواقع نہ ہونے کی وجہ سے، گھریلو سطح پر لوگ سونا کی طرف مائل ہوئے — جو سب سے زیادہ معروف اور ثقافتی طور پر قابلِ اعتماد بچت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، پاکستان میں سالانہ سونا کی مانگ 40 ٹن (تقریباً 1.4 کھرب روپے یا 5 ارب ڈالر) سے تجاوز کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ سونے میں بچت اب بھی منتشر، غیر رسمی اور غیر محفوظ ہے۔ زیادہ تر گھرانے سونا گھروں میں رکھتے ہیں یا نان ریگولیٹڈ ڈیلرز پر انحصار کرتے ہیں، جس سے چوری، فراڈ اور نااہلی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس، ہم نے دیگر اثاثہ جات میں حقیقی جدت دیکھی ہے:
ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) اور فریکشنل اونرشپ نے ریئل اسٹیٹ کے منظرنامے کو بدل دیا ہے، فنکالَیب  جیسے پلیٹ فارمز اسٹاک سرمایہ کاری کو جدید بنا رہے ہیں، جبکہ نیا پے  اور سادہ پے جیسے فِن ٹیک والٹس نے لاکھوں لوگوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنایا ہے۔</p>
<p>لیکن سونا وہ واحد شعبہ ہے جو ابھی تک کسی بامعنی ڈیجیٹل جدت سے محروم ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سونا پہلے ہی گھریلو بچت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، یہ خلا خاصا نمایاں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن یہ ہے کہ سونا کو زیادہ محفوظ اور قابلِ رسائی بنایا جائے، اور پاکستان کو ایسے جدید بچت کے آلات فراہم کیے جائیں جو اسے عالمی مالیاتی جدت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔</p>
<p><strong>اعتماد کی اہمیت</strong></p>
<p>پاکستان میں مالیاتی اسکینڈلز اور غیر رسمی بچت چینلز عام ہیں، لہٰذا اعتماد قائم کرنا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔</p>
<p>عادل سلیم اس سے متفق ہیں کہ
اعتماد زاریا کی بنیاد ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستانی عوام ماضی میں دھوکہ کھا چکے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ شروع دن سے ہم نے زاریا کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ باضابطہ مالیاتی نظام کے اندر کام کرے، تاکہ صارفین کی بچت ہمیشہ محفوظ، حقیقی سونا سے بیکڈ اور محفوظ اداروں کے ساتھ شراکت داری میں ہو۔ اس میں شفاف قیمتیں، والٹ کی روزانہ ری کنسیلی ایشن، اور صرف قابلِ اعتبار اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔</p>
<p>ان تمام حفاظتی اقدامات کو ایک آسان ڈیجیٹل تجربے کے ساتھ ملا کر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو سونا میں بچت کے حوالے سے وہ اعتماد حاصل ہو جو وہ عرصے سے کھو چکے ہیں — یعنی ہر جمع شدہ روپیہ محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر دستاویزی ہو۔”</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا زاریا مستقبل میں سونا سے آگے بھی بڑھے گا، تو انہوں نے کہا کہ یہ اسٹارٹ اَپ
اپنے جوہر میں پاکستان کے لیے ڈیجیٹل سیونگز کا وژن ہے۔
سونا ہمارا قدرتی نقطۂ آغاز ہے، کیونکہ یہ قابلِ اعتماد، مانوس، اور پہلے ہی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بچت کا ذریعہ ہے۔ ہمارا فوری ہدف سونا کے شعبے میں گہرائی اور وسعت پیدا کرنا ہے، اس کے بعد ہم مزید توسیع کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ چاندی  بھی کمپنی کے روڈ میپ میں شامل ہے، اگرچہ ان کے خیال میں اس کی مارکیٹ نسبتاً چھوٹی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ، ہم دیگر شریعت کے مطابق بچت اور سرمایہ کاری کے آپشنز متعارف کرانے کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p><strong>رسائی کی اہمیت</strong></p>
<p>زاریا کے ذریعے پاکستانیوں کو صرف 500 روپے سے سرمایہ کاری شروع کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عادل سلیم نے کہا کہ رسائی  کمپنی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر سونا بچت کے لیے بڑی اکائیوں جیسے گرام، تولہ یا اس سے زیادہ میں خریدا جاتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ ہم نے یہ رکاوٹ ختم کر دی ہے، اب صرف 500 روپے سے بچت شروع کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ اب کوئی بھی — چاہے وہ طالب علم ہو یا ملازمت پیشہ فرد — بڑی رقم جمع کیے بغیر اپنی بچت کا سفر شروع کر سکتا ہے۔ یہ ایک سادہ اور جامع طریقہ ہے جو پاکستان کے سب سے بھروسہ مند اثاثے  یعنی سونا کو ہر شخص کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے۔</p>
<p><strong>سونے میں سرمایہ کاری کا  کوئی صحیح وقت نہیں ہوتا؟</strong></p>
<p>6 اکتوبر تک، مضمون لکھنے کے وقت، پاکستان میں سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں پر پہنچ چکی تھیں، جو بین الاقوامی منڈی میں اضافے کے مطابق ہیں۔
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 415,278 روپے تک جا پہنچا، جو ایک دن میں 5,400 روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>سونے میں سرمایہ کاری کے صحیح وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے،عادل سلیم کا کہنا تھا کہ سونے کو اکثر ایک وقتی تجارت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت یہ ایک طویل مدتی بچت کا اثاثہ ہے جو مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، اور عالمی غیر یقینی حالات کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ ریکارڈ سطح پر بھی، سونا رکھنے کی منطق پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک ہر سال تقریباً 1,000 ٹن سونا خرید رہے ہیں، جس سے سونے کا زرمبادلہ کے ذخائر میں حصہ گزشتہ 30 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔
چین کے گھریلو صارفین اپنے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے سست ہونے کے باعث سونا خریدنے کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں سونے کی ثقافتی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، کمزور ڈالر، اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے پس منظر میں، سونا کاغذی کرنسیوں پر اعتماد کی کمی کا مظہر بنتا جا رہا ہے۔”</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کے لیے نتیجہ واضح ہے — مہنگائی روپے کی بچتوں کو کھا رہی ہے، لہٰذا سونا اب بھی دولت کے تحفظ کا چند قابلِ بھروسہ طریقوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ 1995 سے اب تک، سونے نے روپے کی بنیاد پر سالانہ اوسطاً 15.7 فیصد منافع (سی اے جی آر) دیا ہے، جو کے ایس ای-100 انڈیکس کے 15.2 فیصد سے معمولی زیادہ ہے، لیکن سونے میں اتار چڑھاؤ کم اور خطرے کے لحاظ سے منافع زیادہ رہا ہے۔</p>
<p>“اسی لیے دانشمندانہ طریقہ یہ ہے کہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیچھے نہ بھاگا جائے بلکہ سونے میں نظم و ضبط کے ساتھ بچت کی عادت ڈالی جائے۔ جتنا جلد آغاز کیا جائے، اتنا ہی زیادہ تحفظ حاصل ہوگا۔”</p>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سونے کی قیمت کی کوئی پیشگوئی کرتے ہیں، تو عاد؛ سلیم نے کہا کہ
ہم قیمتوں کی پیشگوئی نہیں کرتے، کیونکہ سونا قیاس آرائی کے لیے نہیں، بلکہ طویل مدتی بچت کے لیے ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق 2025 تک سونا 4,000 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے،
جو اگر روپیہ مستحکم رہے تو تقریباً430,000 روپے فی تولہ کے برابر ہوگا، اور اگر روپیہ کمزور ہو تو اس سے بھی زیادہ اوپر جائیگا۔</p>
<p>عدال سلیم کے مطابق پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا مقصد  قیمت کے پیچھے دوڑنا نہیں ہونا چاہیے۔
اصل سبق یہ ہے کہ سونا اب ریزرو اثاثے اور گھریلو تحفظ کے آلے کے طور پر دوبارہ متعین ہو رہا ہے۔ دانشمندانہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ باقاعدگی سے بچت کی جائے، نہ کہ عروج و زوال کو وقت کرنے کی کوشش کی جائے۔</p>
<p>انہوں نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ سونے کی اصل قدر اس کی حیثیت ایک طویل مدتی دولت کے ذخیرے کے طور پر ہے۔
یہ مہنگائی، روپے کی کمی، اور عالمی غیر یقینی صورتحال سے بچتوں کو محفوظ رکھتا ہے — یہی وجہ ہے کہ یہ نسلوں سے قابلِ اعتماد اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>عادل سلیم نے کہا کہ میرا مشورہ ہے: جلد آغاز کریں، چھوٹا آغاز کریں، اور تسلسل رکھیں۔
چھوٹے چھوٹے حصے وقت کے ساتھ بڑھ جاتے ہیں، اور تولے کے بجائے گرام میں سوچنا سونا ہر کسی کے لیے قابلِ حصول بنا دیتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ زاریا ابھی لانچ نہیں ہوا، لیکن عادل سلیم کے مطابق پری لانچ مرحلے پر ہی ردِعمل بہت حوصلہ افزا ہے۔
سروے اور ویٹ لسٹ کے ذریعے انہوں نے دیکھا ہے کہ خاص طور پر نوجوان پیشہ ور اور ملی نیلز) طبقہ زبردست دلچسپی دکھا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک نمایاں رجحان یہ ہے کہ پاکستانی اب چھوٹی، قابلِ انتظام رقم میں بچت کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک بڑی رقم ایک ساتھ لگائیں۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ایسی ڈیجیٹل حلوں کے خواہاں ہیں جو بچت کو آسان، محفوظ اور سب کے لیے قابلِ رسائی بناتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277859</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 11:21:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/071119224874723.webp" type="image/webp" medium="image" height="375" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/071119224874723.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بس کرو نے کام اور مشن کو آگے بڑھانے کیلئے 2 ملین ڈالر جمع کرلیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277180/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمیوٹنگ اسٹارٹ اپ بس کرو (بس کرو) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دبئی کی کمپنی دَمان انویسٹمنٹس ) کی قیادت میں ہونے والے فنڈنگ راؤنڈ میں 2 ملین ڈالر جمع کر لیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے لنکڈان پر ایک پوسٹ میں کہا کہ
یہ سرمایہ کاری پاکستان میں ہمارے کام اور مشن کو مزید آگے بڑھانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ
یہ اہم سنگِ میل ہمارے تمام معزز شراکت داروں، سرمایہ کاروں، کلائنٹس اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے فوربز  کی ایک رپورٹ بھی شیئر کی جس میں کہا گیا کہ فی الحال بس کرو کا سالانہ ری کرنگ ریونیو 6 ملین ڈالر سے زائد ہے اور سال کے آخر تک اس کے 8.6 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی ہر ماہ 9 لاکھ سے زیادہ بُکنگز کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف دو ماہ پہلے ہی رائیڈ ہیلنگ سروس کریم  نے پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر دیے تھے۔ فوربز کے مطابق، بس کرو جو لاہور، کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں کام کرتا ہے، دیگر کمیوٹنگ ایپس سے اس لیے مختلف ہے کہ اس نے کبھی انفرادی مسافروں کو ہدف بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے، یہ آجرین، یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے ساتھ معاہدے کرتا ہے، جن کے پاس بڑی تعداد میں ملازمین یا طلبہ ہوتے ہیں جنہیں روزانہ وہاں پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس کرو کی بانی ماہا شہزاد نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ
ہزاروں والدین اور خواتین جو ہماری حفاظت پر اعتماد کرتی ہیں — ہم ابھی شروعات ہی کر رہے ہیں اور ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی میں سرمایہ کاروں کے نام لیتے ہوئے، ماہا شہزاد نے ایپک اینجلز،
کارٹوگرافی کیپیٹل، واحد اور آربٹ اسٹارٹ اپس کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمیوٹنگ اسٹارٹ اپ بس کرو (بس کرو) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دبئی کی کمپنی دَمان انویسٹمنٹس ) کی قیادت میں ہونے والے فنڈنگ راؤنڈ میں 2 ملین ڈالر جمع کر لیے ہیں۔</strong></p>
<p>کمپنی نے لنکڈان پر ایک پوسٹ میں کہا کہ
یہ سرمایہ کاری پاکستان میں ہمارے کام اور مشن کو مزید آگے بڑھانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ
یہ اہم سنگِ میل ہمارے تمام معزز شراکت داروں، سرمایہ کاروں، کلائنٹس اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>کمپنی نے فوربز  کی ایک رپورٹ بھی شیئر کی جس میں کہا گیا کہ فی الحال بس کرو کا سالانہ ری کرنگ ریونیو 6 ملین ڈالر سے زائد ہے اور سال کے آخر تک اس کے 8.6 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی ہر ماہ 9 لاکھ سے زیادہ بُکنگز کرتی ہے۔</p>
<p>یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف دو ماہ پہلے ہی رائیڈ ہیلنگ سروس کریم  نے پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر دیے تھے۔ فوربز کے مطابق، بس کرو جو لاہور، کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں کام کرتا ہے، دیگر کمیوٹنگ ایپس سے اس لیے مختلف ہے کہ اس نے کبھی انفرادی مسافروں کو ہدف بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے، یہ آجرین، یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے ساتھ معاہدے کرتا ہے، جن کے پاس بڑی تعداد میں ملازمین یا طلبہ ہوتے ہیں جنہیں روزانہ وہاں پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>بس کرو کی بانی ماہا شہزاد نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ
ہزاروں والدین اور خواتین جو ہماری حفاظت پر اعتماد کرتی ہیں — ہم ابھی شروعات ہی کر رہے ہیں اور ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔</p>
<p>کمپنی میں سرمایہ کاروں کے نام لیتے ہوئے، ماہا شہزاد نے ایپک اینجلز،
کارٹوگرافی کیپیٹل، واحد اور آربٹ اسٹارٹ اپس کا بھی ذکر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277180</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 11:20:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19111733fc94e65.webp" type="image/webp" medium="image" height="467" width="990">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19111733fc94e65.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فاؤنڈڈ میٹرک نے قطری وی سی فنڈ سے سرمایہ کاری حاصل کرلی، سیڈ راؤنڈ 1.3 ملین ڈالر تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات میں قائم فِن ٹیک اسٹارٹ اپ میٹرک، جس کی بنیاد تین پاکستانیوں نے رکھی تھی، نے قطر کی کمپنی اے-ٹائپیکل وینچرز سے سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جس کے بعد اس کے سیڈ راؤنڈ کی مالیت 1.3 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فنڈنگ راؤنڈ میں دیگر سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا،
جن میں 500 گلوبل، ہب71، آئی ٹو آئی وینچرز، پلس وی سی، ایپک اینجلز, اوکال اینجلز, ایکسیلیریٹ پراسپیریٹی اور دیگر اسٹریٹجک اینجل سرمایہ کار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں میٹرک نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے سروسز کو خلیج اور ایشیا کے خطے میں پھیلانے کے لیے سات ہندسوں والے سیڈ راؤنڈ میں فنڈنگ حاصل کر رہی ہے، تاہم اس وقت اس نے رقم کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹرک، جو کہ ابو ظہبی میں ہیڈکوارٹرڈ ہے، ایک اے آئی فِن ٹیک اسٹارٹ اپ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ریئل ٹائم مالیاتی انٹیلیجنس فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹرک کا فلیگ
شپ پراڈکٹ میکس ایک کانورسیشنل بزنس کو‑پائلٹ” کے طور پر کام کرتا ہے، جو مالیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ایکشن ایبل انسائیٹس فراہم کرتا ہے اور صارفین کو ڈیٹا کی بنیاد پر سفارشات دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکس کاروباری مالکان کو اخراجات کے پیٹرنز سمجھنے، کارکردگی کی پیش گوئی کرنے اور ترقی کے مواقع شناخت کرنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں مینا طارق، عمر پرویز خان، اور سی ٹی او ڈاکٹر حبیبہ کی قیادت میں قائم ہونے والا میٹرک پلیٹ فارم انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے اور دنیا بھر کے 130,000 سے زائد کاروباروں اسے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا اے آئی مارکیٹ پلیس مالیاتی خدمات جیسے کہ فنانسنگ کے اختیارات تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے-ٹائپیکل وینچرز کی منیجنگ پارٹنرالینا ٹروہینا نے کہا کہ میٹرک چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے سب سے اہم چیلنج حل کر رہا ہے، پیچیدہ مالیاتی ڈیٹا کو واضح اور ایکشن ایبل انسائیٹس میں تبدیل کرنا۔ ان کی ٹیکنالوجی صرف کاروباروں کو اپنے اعداد و شمار سمجھنے میں مدد نہیں دیتی بلکہ ان کی کاروباری ترقی کو بھی تیز کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے-ٹائپیکل وینچرز کے وینچر پارٹنر علی الشلقانی نے کہا کہ یہ فنڈنگ میکس کی پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کو تیز کرے گی، اس کے استعمال کو بڑھائے گی، اور جی سی سی اور دیگر خطوں میں چھوٹے کاروباروں کے لیے فنانسنگ اور بینکنگ سروسز کے انٹیگریٹڈ پائلٹس کو اسکیل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وی سی فنڈ کی پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ہم میٹرک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ میٹرک ابھرتے ہوئے مارکیٹس میں ایس ایم ایز کے لیے سب سے زیادہ معتبر مالیاتی انٹیلیجنس پلیٹ فارم بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹرک 2025 میں سعودی مارکیٹ کے لیے عربی ورژن بھی لانچ کر رہا ہے، جس سے وہ خطے کی سب سے متحرک معیشتوں میں سے ایک تک پہنچ سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹرک کی شاپیفائی اور زو ہو جیسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپس اس کے پروڈکٹس کی تقسیم کے لیے ثابت شدہ چینلز فراہم کرتی ہیں، جبکہ ویب اور اینڈرائیڈ پر ملٹی پلیٹ فارم اپروچ وسیع رسائی یقینی بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لنکڈ اِن پر مینا طارق نے کہا کہ اے-ٹائپیکل وینچرز وہی پارٹنر ہے جس کی ہمیں ضرورت تھی: ابتدائی مرحلے کے ماہرین، فِن ٹیک اور اسی ایم ای سپورٹ میں، اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس پر فوکس کیے ہوئے۔ وہ وہ جذبہ لاتے ہیں جو دنیا بھر میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے ہمارے مشن کو آگے بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات میں قائم فِن ٹیک اسٹارٹ اپ میٹرک، جس کی بنیاد تین پاکستانیوں نے رکھی تھی، نے قطر کی کمپنی اے-ٹائپیکل وینچرز سے سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جس کے بعد اس کے سیڈ راؤنڈ کی مالیت 1.3 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>اس فنڈنگ راؤنڈ میں دیگر سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا،
جن میں 500 گلوبل، ہب71، آئی ٹو آئی وینچرز، پلس وی سی، ایپک اینجلز, اوکال اینجلز, ایکسیلیریٹ پراسپیریٹی اور دیگر اسٹریٹجک اینجل سرمایہ کار شامل ہیں۔</p>
<p>اپریل میں میٹرک نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے سروسز کو خلیج اور ایشیا کے خطے میں پھیلانے کے لیے سات ہندسوں والے سیڈ راؤنڈ میں فنڈنگ حاصل کر رہی ہے، تاہم اس وقت اس نے رقم کی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔</p>
<p>میٹرک، جو کہ ابو ظہبی میں ہیڈکوارٹرڈ ہے، ایک اے آئی فِن ٹیک اسٹارٹ اپ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ریئل ٹائم مالیاتی انٹیلیجنس فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>میٹرک کا فلیگ
شپ پراڈکٹ میکس ایک کانورسیشنل بزنس کو‑پائلٹ” کے طور پر کام کرتا ہے، جو مالیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے ایکشن ایبل انسائیٹس فراہم کرتا ہے اور صارفین کو ڈیٹا کی بنیاد پر سفارشات دیتا ہے۔</p>
<p>میکس کاروباری مالکان کو اخراجات کے پیٹرنز سمجھنے، کارکردگی کی پیش گوئی کرنے اور ترقی کے مواقع شناخت کرنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>2022 میں مینا طارق، عمر پرویز خان، اور سی ٹی او ڈاکٹر حبیبہ کی قیادت میں قائم ہونے والا میٹرک پلیٹ فارم انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں دستیاب ہے اور دنیا بھر کے 130,000 سے زائد کاروباروں اسے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا اے آئی مارکیٹ پلیس مالیاتی خدمات جیسے کہ فنانسنگ کے اختیارات تک رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اے-ٹائپیکل وینچرز کی منیجنگ پارٹنرالینا ٹروہینا نے کہا کہ میٹرک چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے سب سے اہم چیلنج حل کر رہا ہے، پیچیدہ مالیاتی ڈیٹا کو واضح اور ایکشن ایبل انسائیٹس میں تبدیل کرنا۔ ان کی ٹیکنالوجی صرف کاروباروں کو اپنے اعداد و شمار سمجھنے میں مدد نہیں دیتی بلکہ ان کی کاروباری ترقی کو بھی تیز کرتی ہے۔</p>
<p>اے-ٹائپیکل وینچرز کے وینچر پارٹنر علی الشلقانی نے کہا کہ یہ فنڈنگ میکس کی پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کو تیز کرے گی، اس کے استعمال کو بڑھائے گی، اور جی سی سی اور دیگر خطوں میں چھوٹے کاروباروں کے لیے فنانسنگ اور بینکنگ سروسز کے انٹیگریٹڈ پائلٹس کو اسکیل کرے گی۔</p>
<p>قطری وی سی فنڈ کی پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ہم میٹرک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ میٹرک ابھرتے ہوئے مارکیٹس میں ایس ایم ایز کے لیے سب سے زیادہ معتبر مالیاتی انٹیلیجنس پلیٹ فارم بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>میٹرک 2025 میں سعودی مارکیٹ کے لیے عربی ورژن بھی لانچ کر رہا ہے، جس سے وہ خطے کی سب سے متحرک معیشتوں میں سے ایک تک پہنچ سکے گا۔</p>
<p>میٹرک کی شاپیفائی اور زو ہو جیسی پلیٹ فارمز کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپس اس کے پروڈکٹس کی تقسیم کے لیے ثابت شدہ چینلز فراہم کرتی ہیں، جبکہ ویب اور اینڈرائیڈ پر ملٹی پلیٹ فارم اپروچ وسیع رسائی یقینی بناتی ہے۔</p>
<p>لنکڈ اِن پر مینا طارق نے کہا کہ اے-ٹائپیکل وینچرز وہی پارٹنر ہے جس کی ہمیں ضرورت تھی: ابتدائی مرحلے کے ماہرین، فِن ٹیک اور اسی ایم ای سپورٹ میں، اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس پر فوکس کیے ہوئے۔ وہ وہ جذبہ لاتے ہیں جو دنیا بھر میں انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے ہمارے مشن کو آگے بڑھا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277064</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 16:10:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/16160918b146388.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/16160918b146388.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>5 پاکستانی خواتین اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز عالمی انعام کی دوڑ میں شامل، ایک لاکھ ڈالر ملنے کی امید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276789/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پانچ پاکستانی خواتین ان لاک ہر فیوچر پرائز 2025 کی سیمی فائنلسٹ منتخب ہو گئی ہیں، جس کا مقصد بصیرت رکھنے والی خواتین سماجی کاروباری شخصیات کی شناخت کرنا اور انہیں ایسے نظام میں تبدیلی لانے والے اسٹارٹ اپس شروع کرنے اور وسعت دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، جو اپنی برادریوں اور اس سے آگے مثبت سماجی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات پیدا کریں۔”&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے تیسرے سال میں، ان لاک ہر فیوچر پرائز کا ہدف جنوبی ایشیا سے ایسی  تبدیلی لانے والی خواتین شخصیات کو تلاش کرنا ہے جن کے پاس کوئی متاثرکن غیر منافع بخش کاروباری خیال ہو یا تین سال سے کم عرصے پرانا ابتدائی مرحلے کا منصوبہ ہو، جہاں ان کے منافع کے مقاصد معاشرے کے لیے مثبت ریٹرن پیدا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاتحین کا اعلان نومبر میں لندن میں ایک گالا ایوارڈ تقریب کے دوران کیا جائے گا، اور انہیں اپنے اسٹارٹ اپ شروع کرنے اور وسعت دینے کے لیے جامع معاونت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں شامل ہے:
اپنے اسٹارٹ اپ کو شروع کرنے اور ترقی دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ 100,000 امریکی ڈالر کی مالی معاونت،
یونیورسٹی کی معاونت تاکہ وہ اپنے علم کو مزید بڑھا سکیں اور علمی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں،
عالمی ماہرین کی رہنمائی اور سرپرستی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کی مہارتیں ترقی دینا،
نیز نیٹ ورکنگ کے مواقع تاکہ وہ اپنی انٹرپرائز کو عالمی سطح پر نمائش کے ذریعے وسعت دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملیے پاکستانی فائنلسٹس سے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائزہ سالک پاکستان سے ایک سیمی فائنلسٹ ہیں۔ ان کی کمپنی مائی حساب (MyHisaab) کو فنڈ کی ویب سائٹ پرایک مقصد پر مبنی فِن ٹیک ایپ قرار دیا گیا ہے جو خواتین اور پہلی بار کمانے والوں کو بدیہی بجٹنگ، خرچ کے بارے میں بصیرت، اور اسمارٹ سیونگ ٹولز کے ذریعے مالی اعتماد پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہرست میں شامل ایک اور نام خوش بخت شاہ جیلانی کا ہے، جو بچوں کی حوالگی اور طلاق کی وکیل ہیں۔ انہوں نے محفوظ اے آئی (Mehfooz AI) قائم کیا ہے – ایک جسٹس ٹیک نان پروفٹ جو گھریلو تشدد کے متاثرین کی مدد کے لیے جینیریٹو اے آئی استعمال کرتا ہے، شواہد کا تجزیہ کرکے، تعصب کو شناخت کرکے، اور ٹراما سے باخبر قانونی بریفنگ تیار کرکے حفاظتی نتائج کو تیز کرتا ہے اور نظامی اصلاحات کو آگے بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیونٹی کلائمٹ ڈیزائن کی بانی اور سی ای او نمرا خالد بھی اس انعام کے لیے نامزد ہیں۔ ان کا اسٹارٹ اپ ایک شہری طاقت پر مبنی نان پروفٹ ہے جو برادریوں کو موسمیاتی موافقت میں قیادت کرنے کے قابل بناتا ہے – نمکین زمینوں کو بحال کرتا ہے، فطرت پر مبنی سیلابی دفاعات نافذ کرتا ہے، اور پائیدار طور پر موسمیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے آفات کی تیاری کو مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سماجی کاروباری شخصیت نِدا یوسف شیخ بھی سیمی فائنلسٹس میں شامل ہیں۔ ان کی کمپنی  ایچ  ٹوئنٹی ٹیکنالوجیز  (H2O Technologies) ہے، جو ایسے آف-گرڈ سسٹمز بناتی ہے جو فضا سے نمی، شمسی توانائی یا پہیہ سے چلنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں، اور اب تک کم خدمت یافتہ برادریوں کو 500 ملین لیٹر سے زیادہ پانی پہنچا چکے ہیں، جبکہ مقصد ہے کہ 2030 تک 25 ملین لوگوں کو پانی کی سیکیورٹی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہرست میں پانچویں پاکستانی خاتون شائستہ خالد ہیں، جو فٹ ہر (FitHer) کی سی ای او ہیں۔ یہ ایک ورچوئل ویلنَس پلیٹ فارم ہے جو خواتین کو اے آئی پرسنلائزڈ ورزشیں، غذائی منصوبے، اور ماہر کوچنگ فراہم کرتا ہے – جس سے برادریوں کو گھر بیٹھے صحت مند، فعال اور جُڑا رہنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل 26 خواتین منتخب ہوئیں۔ باقی فائنلسٹس بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ سے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام دی بسسٹر کلیکشن کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جو لگژری شاپنگ مقامات کا ایک گروپ ہے، اور یہ اس کے ڈو گڈ (DO GOOD) پروگرام کا حصہ ہے، جو فلاحی کاموں اور پائیداری پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پانچ پاکستانی خواتین ان لاک ہر فیوچر پرائز 2025 کی سیمی فائنلسٹ منتخب ہو گئی ہیں، جس کا مقصد بصیرت رکھنے والی خواتین سماجی کاروباری شخصیات کی شناخت کرنا اور انہیں ایسے نظام میں تبدیلی لانے والے اسٹارٹ اپس شروع کرنے اور وسعت دینے میں مدد فراہم کرنا ہے، جو اپنی برادریوں اور اس سے آگے مثبت سماجی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات پیدا کریں۔”</strong></p>
<p>اپنے تیسرے سال میں، ان لاک ہر فیوچر پرائز کا ہدف جنوبی ایشیا سے ایسی  تبدیلی لانے والی خواتین شخصیات کو تلاش کرنا ہے جن کے پاس کوئی متاثرکن غیر منافع بخش کاروباری خیال ہو یا تین سال سے کم عرصے پرانا ابتدائی مرحلے کا منصوبہ ہو، جہاں ان کے منافع کے مقاصد معاشرے کے لیے مثبت ریٹرن پیدا کریں۔</p>
<p>فاتحین کا اعلان نومبر میں لندن میں ایک گالا ایوارڈ تقریب کے دوران کیا جائے گا، اور انہیں اپنے اسٹارٹ اپ شروع کرنے اور وسعت دینے کے لیے جامع معاونت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>اس میں شامل ہے:
اپنے اسٹارٹ اپ کو شروع کرنے اور ترقی دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ 100,000 امریکی ڈالر کی مالی معاونت،
یونیورسٹی کی معاونت تاکہ وہ اپنے علم کو مزید بڑھا سکیں اور علمی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں،
عالمی ماہرین کی رہنمائی اور سرپرستی کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کی مہارتیں ترقی دینا،
نیز نیٹ ورکنگ کے مواقع تاکہ وہ اپنی انٹرپرائز کو عالمی سطح پر نمائش کے ذریعے وسعت دے سکیں۔</p>
<p><strong>ملیے پاکستانی فائنلسٹس سے</strong></p>
<p>عائزہ سالک پاکستان سے ایک سیمی فائنلسٹ ہیں۔ ان کی کمپنی مائی حساب (MyHisaab) کو فنڈ کی ویب سائٹ پرایک مقصد پر مبنی فِن ٹیک ایپ قرار دیا گیا ہے جو خواتین اور پہلی بار کمانے والوں کو بدیہی بجٹنگ، خرچ کے بارے میں بصیرت، اور اسمارٹ سیونگ ٹولز کے ذریعے مالی اعتماد پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔</p>
<p>فہرست میں شامل ایک اور نام خوش بخت شاہ جیلانی کا ہے، جو بچوں کی حوالگی اور طلاق کی وکیل ہیں۔ انہوں نے محفوظ اے آئی (Mehfooz AI) قائم کیا ہے – ایک جسٹس ٹیک نان پروفٹ جو گھریلو تشدد کے متاثرین کی مدد کے لیے جینیریٹو اے آئی استعمال کرتا ہے، شواہد کا تجزیہ کرکے، تعصب کو شناخت کرکے، اور ٹراما سے باخبر قانونی بریفنگ تیار کرکے حفاظتی نتائج کو تیز کرتا ہے اور نظامی اصلاحات کو آگے بڑھاتا ہے۔</p>
<p>کمیونٹی کلائمٹ ڈیزائن کی بانی اور سی ای او نمرا خالد بھی اس انعام کے لیے نامزد ہیں۔ ان کا اسٹارٹ اپ ایک شہری طاقت پر مبنی نان پروفٹ ہے جو برادریوں کو موسمیاتی موافقت میں قیادت کرنے کے قابل بناتا ہے – نمکین زمینوں کو بحال کرتا ہے، فطرت پر مبنی سیلابی دفاعات نافذ کرتا ہے، اور پائیدار طور پر موسمیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے آفات کی تیاری کو مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی سماجی کاروباری شخصیت نِدا یوسف شیخ بھی سیمی فائنلسٹس میں شامل ہیں۔ ان کی کمپنی  ایچ  ٹوئنٹی ٹیکنالوجیز  (H2O Technologies) ہے، جو ایسے آف-گرڈ سسٹمز بناتی ہے جو فضا سے نمی، شمسی توانائی یا پہیہ سے چلنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ پینے کا پانی حاصل کرتے ہیں، اور اب تک کم خدمت یافتہ برادریوں کو 500 ملین لیٹر سے زیادہ پانی پہنچا چکے ہیں، جبکہ مقصد ہے کہ 2030 تک 25 ملین لوگوں کو پانی کی سیکیورٹی فراہم کی جائے۔</p>
<p>فہرست میں پانچویں پاکستانی خاتون شائستہ خالد ہیں، جو فٹ ہر (FitHer) کی سی ای او ہیں۔ یہ ایک ورچوئل ویلنَس پلیٹ فارم ہے جو خواتین کو اے آئی پرسنلائزڈ ورزشیں، غذائی منصوبے، اور ماہر کوچنگ فراہم کرتا ہے – جس سے برادریوں کو گھر بیٹھے صحت مند، فعال اور جُڑا رہنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>کل 26 خواتین منتخب ہوئیں۔ باقی فائنلسٹس بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ سے ہیں۔</p>
<p>یہ اقدام دی بسسٹر کلیکشن کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جو لگژری شاپنگ مقامات کا ایک گروپ ہے، اور یہ اس کے ڈو گڈ (DO GOOD) پروگرام کا حصہ ہے، جو فلاحی کاموں اور پائیداری پر مرکوز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276789</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 14:16:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/09141327a9ef8d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/09141327a9ef8d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کی قیادت میں 10 غیرمعمولی اسٹارٹ اپس، جنہیں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ایک ملین روپے کی فنڈنگ دیگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276357/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کا ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر پروگرام — جو کہ وی سی فرم ولّج کیپیٹل اور وینچر پلیٹ فارم اِنووینچرز گلوبل کے تعاون سے چلایا جاتا ہے — نے جمعرات کو اعلان کیا کہ 30 اسٹارٹ اپس کے گروپ میں سے 10 غیر معمولی اسٹارٹ اپس کو منتخب کیا گیا ہے، جنہوں نے پانچ روزہ بزنس ایکسیلیریشن بوٹ کیمپ میں شرکت کی تھی۔ ہر اسٹارٹ اپ کو اپنی اسکیلنگ پلان کی توثیق کے لیے  ایک ملین روپے کی فنڈنگ دی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسٹارٹ اپس مختلف شعبوں پر محیط ہیں جن میں خواتین کو بااختیار بنانا، ذہنی صحت، ایڈٹیک، صحت اور ویلبیئنگ، ماحولیاتی جدتیں اور سرکلر فیشن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ آٹھ ہفتوں کے دوران ہر فاؤنڈر اپنی بزنس آئیڈیا کو توثیق، مضبوط اور وسعت دینے پر کام کرے گا، جس کے لیے انہیں خصوصی مینٹورشپ، منظم پروگرامنگ اور اسٹریٹیجک سپورٹ فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویلیڈیشن گرانٹ تک رسائی کے ذریعے یہ اسٹارٹ اپس اپنے ماڈلز کو بہتر بنائیں گے، مارکیٹ مفروضات کو جانچیں گے اور ترقی کے لیے اپنی پوزیشن کو مستحکم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈ - کارپوریٹ افیئرز، برانڈ اینڈ مارکیٹنگ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان رائدہ لطیف نے کہا کہ ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر پروگرام، جو 2019 میں شروع کیا گیا تھا، کثیر جہتی ہے، یہ خواتین انٹرپرینیورز کو صرف فنڈنگ ہی نہیں بلکہ مینٹورشپ، منظم رہنمائی، اور وہ اوزار بھی فراہم کرتا ہے جن کی انہیں اپنے کاروبار کو اعتماد کے ساتھ بڑھانے کے لیے ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم مل کر ایک ایسا ایکو سسٹم بنا رہے ہیں جہاں خواتین کی قیادت والے منصوبے پاکستان بھر میں بامعنی معاشی اثر ڈال سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وہ 10 فائنلسٹس کون ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اطفال – ارم شہریار:&lt;/strong&gt;
اطفال بچوں کے ملبوسات کا ایک برانڈ ہے جو محروم طبقے کی خواتین کو ہنر سکھانے، باعزت روزگار تک رسائی اور پائیدار ٹیکسٹائل پروڈکشن کے ذریعے بااختیار بناتا ہے۔ اطفال فیکٹری ویسٹ کو ری سائیکل کر کے بچوں کے  سستے ملبوسات تیار کرتا ہے اور گھروں اور فیکٹریوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ تربیت اور حقیقی آمدنی کے درمیان پل کا کردار ادا کر کے خواتین کے بااختیار بنانے اور ماحولیاتی ذمے داری کو فروغ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اے زیڈ کو – اسرا امین:&lt;/strong&gt;
پاکستان کی پہلی خواتین پر مرکوز کو ورکنگ موومنٹ ہے جو محفوظ اور جامع ورک اسپیس فراہم کرتی ہے، ساتھ ہی مینٹورشپ، ویلبیئنگ اور ڈے کیئر سہولتیں بھی مہیا کرتی ہے۔ اے زیڈ کو اپنے اسکیل کو بڑھانے کے لیے ایک ہائبرڈ پلیٹ فارم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں اے آئی مینٹر میچنگ، شکایتی ٹولز، اور ورچوئل کو ورکنگ شامل ہوں گے تاکہ 10,000 سے زائد خواتین کی مضبوط کمیونٹی تیار کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بز بی – سحرش رضا:&lt;/strong&gt;
بز بی ایک مقصد کے طور پر بنایا گیا ری-کامرس مارکیٹ پلیس ہے جو پرانے فیشن ملبوسات کے لیے ہے۔ یہ اوور کنزمپشن، لینڈفل ویسٹ اور خواتین کی محدود معاشی شمولیت کے مسائل کو حل کرتا ہے۔ ایس سی ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے ذریعے بز بی اپنی توجہ ریونیو میں اضافے، ری سیل کو مرکزی دھارے میں لانے اور خواتین کو مائیکرو انٹرپرینیورز کے طور پر بااختیار بنانے پر مرکوز کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیلکس انٹرنیشنل – نور ریاض اور فضہ منیر:&lt;/strong&gt;
ایک گرین مٹیریل اسٹارٹ اپ ہے جو پلاسٹک کی جگہ بایوڈیگریڈیبل چونے پر مبنی پیلیٹس تیار کرتا ہے۔ یہ مینوفیکچررز کے ساتھ پائلٹ پروجیکٹس کے قیام کے ذریعے اپنی وسعت بڑھانے اور پاکستان کو پائیدار مٹیریل میں رہنما کے طور پر پوزیشن حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;داخلے – شہربانو زہیر:&lt;/strong&gt; داخلے پاکستان کا پہلا اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل ایڈمیشن پلیٹ فارم ہے جو یونیورسٹی اور کالج کی درخواستوں کو آسان اور مرکزیت دیتا ہے۔ یہ منصوبہ طلبہ کو ذاتی نوعیت کی یونیورسٹی میچنگ، ڈیڈلائن مینجمنٹ، فنانشل ایڈ سپورٹ، اور ماہرین کی رہنمائی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی اور منصفانہ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل سپر وومن – ندا ایس۔ فہد اور طوبیٰ سید:&lt;/strong&gt; پاکستان کی 70,000 اراکین پر مبنی آن لائن سپر وومن کمیونٹی سے چلنے والا یہ منصوبہ خواتین کے ڈیجیٹل معیشت میں داخلے کو از سر نو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈی ایس ڈبلیو کا مقصد ہے کہ اے آئی سے چلنے والی کہورٹ بیسڈ ٹریننگ، مینٹورشپ اور کیریئر لنکیجز کے ذریعے جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا خواتین پر مبنی ڈیجیٹل اپ اسکلنگ ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹ ہر – ڈاکٹر شائستہ خالد:&lt;/strong&gt; ایک ذاتی نوعیت کا، قابلِ رسائی اور کم خرچ صحت اور فلاح و بہبود کا نظام، جو خواتین کو اولین حیثیت دیتا ہے۔ یہ ماحولیاتی نظام خواتین کی منفرد جسمانی ساخت اور زندگی کے مختلف مراحل کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی رہنمائی، ذاتی منصوبہ جات اور معاون ٹولز فراہم کرتا ہے تاکہ خواتین کو ان کے صحت کے سفر میں اب مزید نظر انداز یا محروم نہ رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوٹین – ماریہ امیر:&lt;/strong&gt; اوٹین پاکستان کا پہلا سرٹیفائیڈ ایلرجن فری فوڈ برانڈ ہے جو محفوظ اور کم قیمت بنیادی غذائی اشیا  سو فیصد آلودگی سے پاک سہولت میں تیار کرتا ہے۔ خودکار مشینری کے انضمام کو مدنظر رکھتے ہوئے اوٹین بڑے پیمانے پر پیداوار کا خواہاں ہے تاکہ درستگی اور تسلسل کے ساتھ ایلرجن فری غذائیت بچوں اور مریضوں تک ملک بھر میں قابلِ رسائی ہو، اور ایک اہم صحت کے خلا کو پر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوچ میٹرز – ہبہ خان:&lt;/strong&gt; سوچ میٹرز ایک ڈیجیٹل ذہنی صحت اور کیریئر کونسلنگ پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو کونسلنگ، تھراپی اور کیریئر رہنمائی میں تصدیق شدہ ماہرین سے جوڑتا ہے۔ ایس سی کے تعاون سے چلنے والا یہ منصوبہ ایک سے ایک سیشنز، رہنمائی پر مبنی پروگرامز اور ماہرین کی مرتب کردہ وسائل کے ذریعے قابلِ رسائی، رازدارانہ اور منظم سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ پیشہ ورانہ رہنمائی اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال منصفانہ اور کمیوں سے پاک بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمنکس فوڈز – حرا مبین:&lt;/strong&gt; یمنکس ایسے سیریلز فراہم کرتا ہے جو ایڈیٹیو فری اور غذائیت سے بھرپور ہوں، خاص طور پر شیر خوار بچوں اور ننھے بچوں کے لیے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی بیبی فوڈ مارکیٹ میں غذائیت اور اعتماد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایس سی کے تعاون سے چلنے والا یہ منصوبہ عمر کے لحاظ سے موزوں، کم قیمت اور محفوظ غذائیں فراہم کرنے، واضح رہنمائی دینے، قابلِ اعتماد دستیابی یقینی بنانے اور دیکھ بھال کرنے والوں کو تعلیم دینے پر توجہ دیتا ہے تاکہ بچپن کے اوائل میں غذائیت کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کا ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر پروگرام — جو کہ وی سی فرم ولّج کیپیٹل اور وینچر پلیٹ فارم اِنووینچرز گلوبل کے تعاون سے چلایا جاتا ہے — نے جمعرات کو اعلان کیا کہ 30 اسٹارٹ اپس کے گروپ میں سے 10 غیر معمولی اسٹارٹ اپس کو منتخب کیا گیا ہے، جنہوں نے پانچ روزہ بزنس ایکسیلیریشن بوٹ کیمپ میں شرکت کی تھی۔ ہر اسٹارٹ اپ کو اپنی اسکیلنگ پلان کی توثیق کے لیے  ایک ملین روپے کی فنڈنگ دی جائے گی۔</strong></p>
<p>یہ اسٹارٹ اپس مختلف شعبوں پر محیط ہیں جن میں خواتین کو بااختیار بنانا، ذہنی صحت، ایڈٹیک، صحت اور ویلبیئنگ، ماحولیاتی جدتیں اور سرکلر فیشن شامل ہیں۔</p>
<p>بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ آٹھ ہفتوں کے دوران ہر فاؤنڈر اپنی بزنس آئیڈیا کو توثیق، مضبوط اور وسعت دینے پر کام کرے گا، جس کے لیے انہیں خصوصی مینٹورشپ، منظم پروگرامنگ اور اسٹریٹیجک سپورٹ فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>ویلیڈیشن گرانٹ تک رسائی کے ذریعے یہ اسٹارٹ اپس اپنے ماڈلز کو بہتر بنائیں گے، مارکیٹ مفروضات کو جانچیں گے اور ترقی کے لیے اپنی پوزیشن کو مستحکم کریں گے۔</p>
<p>ہیڈ - کارپوریٹ افیئرز، برانڈ اینڈ مارکیٹنگ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان رائدہ لطیف نے کہا کہ ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر پروگرام، جو 2019 میں شروع کیا گیا تھا، کثیر جہتی ہے، یہ خواتین انٹرپرینیورز کو صرف فنڈنگ ہی نہیں بلکہ مینٹورشپ، منظم رہنمائی، اور وہ اوزار بھی فراہم کرتا ہے جن کی انہیں اپنے کاروبار کو اعتماد کے ساتھ بڑھانے کے لیے ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم مل کر ایک ایسا ایکو سسٹم بنا رہے ہیں جہاں خواتین کی قیادت والے منصوبے پاکستان بھر میں بامعنی معاشی اثر ڈال سکیں۔</p>
<p><strong>وہ 10 فائنلسٹس کون ہیں؟</strong></p>
<p><strong>اطفال – ارم شہریار:</strong>
اطفال بچوں کے ملبوسات کا ایک برانڈ ہے جو محروم طبقے کی خواتین کو ہنر سکھانے، باعزت روزگار تک رسائی اور پائیدار ٹیکسٹائل پروڈکشن کے ذریعے بااختیار بناتا ہے۔ اطفال فیکٹری ویسٹ کو ری سائیکل کر کے بچوں کے  سستے ملبوسات تیار کرتا ہے اور گھروں اور فیکٹریوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ تربیت اور حقیقی آمدنی کے درمیان پل کا کردار ادا کر کے خواتین کے بااختیار بنانے اور ماحولیاتی ذمے داری کو فروغ دیتا ہے۔</p>
<p><strong>اے زیڈ کو – اسرا امین:</strong>
پاکستان کی پہلی خواتین پر مرکوز کو ورکنگ موومنٹ ہے جو محفوظ اور جامع ورک اسپیس فراہم کرتی ہے، ساتھ ہی مینٹورشپ، ویلبیئنگ اور ڈے کیئر سہولتیں بھی مہیا کرتی ہے۔ اے زیڈ کو اپنے اسکیل کو بڑھانے کے لیے ایک ہائبرڈ پلیٹ فارم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں اے آئی مینٹر میچنگ، شکایتی ٹولز، اور ورچوئل کو ورکنگ شامل ہوں گے تاکہ 10,000 سے زائد خواتین کی مضبوط کمیونٹی تیار کی جا سکے۔</p>
<p><strong>بز بی – سحرش رضا:</strong>
بز بی ایک مقصد کے طور پر بنایا گیا ری-کامرس مارکیٹ پلیس ہے جو پرانے فیشن ملبوسات کے لیے ہے۔ یہ اوور کنزمپشن، لینڈفل ویسٹ اور خواتین کی محدود معاشی شمولیت کے مسائل کو حل کرتا ہے۔ ایس سی ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے ذریعے بز بی اپنی توجہ ریونیو میں اضافے، ری سیل کو مرکزی دھارے میں لانے اور خواتین کو مائیکرو انٹرپرینیورز کے طور پر بااختیار بنانے پر مرکوز کرے گا۔</p>
<p><strong>کیلکس انٹرنیشنل – نور ریاض اور فضہ منیر:</strong>
ایک گرین مٹیریل اسٹارٹ اپ ہے جو پلاسٹک کی جگہ بایوڈیگریڈیبل چونے پر مبنی پیلیٹس تیار کرتا ہے۔ یہ مینوفیکچررز کے ساتھ پائلٹ پروجیکٹس کے قیام کے ذریعے اپنی وسعت بڑھانے اور پاکستان کو پائیدار مٹیریل میں رہنما کے طور پر پوزیشن حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p><strong>داخلے – شہربانو زہیر:</strong> داخلے پاکستان کا پہلا اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل ایڈمیشن پلیٹ فارم ہے جو یونیورسٹی اور کالج کی درخواستوں کو آسان اور مرکزیت دیتا ہے۔ یہ منصوبہ طلبہ کو ذاتی نوعیت کی یونیورسٹی میچنگ، ڈیڈلائن مینجمنٹ، فنانشل ایڈ سپورٹ، اور ماہرین کی رہنمائی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی اور منصفانہ بنایا جا سکے۔</p>
<p><strong>ڈیجیٹل سپر وومن – ندا ایس۔ فہد اور طوبیٰ سید:</strong> پاکستان کی 70,000 اراکین پر مبنی آن لائن سپر وومن کمیونٹی سے چلنے والا یہ منصوبہ خواتین کے ڈیجیٹل معیشت میں داخلے کو از سر نو ترتیب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈی ایس ڈبلیو کا مقصد ہے کہ اے آئی سے چلنے والی کہورٹ بیسڈ ٹریننگ، مینٹورشپ اور کیریئر لنکیجز کے ذریعے جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا خواتین پر مبنی ڈیجیٹل اپ اسکلنگ ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جائے۔</p>
<p><strong>فٹ ہر – ڈاکٹر شائستہ خالد:</strong> ایک ذاتی نوعیت کا، قابلِ رسائی اور کم خرچ صحت اور فلاح و بہبود کا نظام، جو خواتین کو اولین حیثیت دیتا ہے۔ یہ ماحولیاتی نظام خواتین کی منفرد جسمانی ساخت اور زندگی کے مختلف مراحل کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی رہنمائی، ذاتی منصوبہ جات اور معاون ٹولز فراہم کرتا ہے تاکہ خواتین کو ان کے صحت کے سفر میں اب مزید نظر انداز یا محروم نہ رکھا جائے۔</p>
<p><strong>اوٹین – ماریہ امیر:</strong> اوٹین پاکستان کا پہلا سرٹیفائیڈ ایلرجن فری فوڈ برانڈ ہے جو محفوظ اور کم قیمت بنیادی غذائی اشیا  سو فیصد آلودگی سے پاک سہولت میں تیار کرتا ہے۔ خودکار مشینری کے انضمام کو مدنظر رکھتے ہوئے اوٹین بڑے پیمانے پر پیداوار کا خواہاں ہے تاکہ درستگی اور تسلسل کے ساتھ ایلرجن فری غذائیت بچوں اور مریضوں تک ملک بھر میں قابلِ رسائی ہو، اور ایک اہم صحت کے خلا کو پر کیا جا سکے۔</p>
<p><strong>سوچ میٹرز – ہبہ خان:</strong> سوچ میٹرز ایک ڈیجیٹل ذہنی صحت اور کیریئر کونسلنگ پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو کونسلنگ، تھراپی اور کیریئر رہنمائی میں تصدیق شدہ ماہرین سے جوڑتا ہے۔ ایس سی کے تعاون سے چلنے والا یہ منصوبہ ایک سے ایک سیشنز، رہنمائی پر مبنی پروگرامز اور ماہرین کی مرتب کردہ وسائل کے ذریعے قابلِ رسائی، رازدارانہ اور منظم سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ پیشہ ورانہ رہنمائی اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال منصفانہ اور کمیوں سے پاک بنائی جا سکے۔</p>
<p><strong>یمنکس فوڈز – حرا مبین:</strong> یمنکس ایسے سیریلز فراہم کرتا ہے جو ایڈیٹیو فری اور غذائیت سے بھرپور ہوں، خاص طور پر شیر خوار بچوں اور ننھے بچوں کے لیے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی بیبی فوڈ مارکیٹ میں غذائیت اور اعتماد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ایس سی کے تعاون سے چلنے والا یہ منصوبہ عمر کے لحاظ سے موزوں، کم قیمت اور محفوظ غذائیں فراہم کرنے، واضح رہنمائی دینے، قابلِ اعتماد دستیابی یقینی بنانے اور دیکھ بھال کرنے والوں کو تعلیم دینے پر توجہ دیتا ہے تاکہ بچپن کے اوائل میں غذائیت کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276357</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Aug 2025 15:26:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/281518021202dd6.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="400">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/281518021202dd6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی اسٹارٹ اپس حبال اور پوسٹ ایکس فوربز ایشیا کی ’100 ٹو واچ‘ فہرست میں شامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276271/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زین وی سی کے پورٹ فولیو میں شامل فنانس اسٹارٹ اپس حبال (Haball) اورپوسٹ ایکس( PostEx) نے 2025 کی ’فوربز ایشیا 100 ٹو واچ‘ فہرست میں جگہ بنالی  لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایشیا 100 ٹو واچ فہرست کا پانچواں سالانہ ایڈیشن ہے، جس کا مقصد ایشیا پیسفک خطے میں متحرک اسٹارٹ اپس اور چھوٹی کمپنیوں کی دنیا کو ایک جھروکے سے دکھانا ہے۔ یہ ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا مربوط کاروباری یا ٹیکنالوجی کا نظام ہے جو اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ترین ٹیکنالوجی (ڈیپ ٹیک) پر توجہ مرکوز کر کے جدت اور ترقی کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2017 میں قائم ہونے والا حبال کراچی میں قائم ہے اور اس کی قیادت عمر بن احسن کر رہے ہیں۔ فوربز کے مطابق حبال ایک بی ٹو بی (B2B) فِن ٹیک کمپنی ہے جو پاکستان میں کاروباری اداروں کو شریعت سے ہم آہنگ سپلائی چین فنانسنگ اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارٹ اپ حبال کی خدمات میں ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹیکس کمپلائنس اور ورکنگ کیپیٹل فنانسنگ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اب تک وہ 3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں پر عمل درآمد کر چکی ہے۔
رواں سال اپریل میں حبال نے پری سیریز اے فنڈنگ راؤنڈ میں 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر حاصل کیے، جن میں 50 لاکھ ڈالر کی ایکویٹی فنڈنگ زین وی سی کی قیادت میں شامل تھی، جبکہ 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اسٹریٹجک فنانسنگ پاکستان کے سب سے بڑے اسلامی بینک، میزان بینک، سے حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، 2020 میں قائم ہونے والا پوسٹ ایکس بھی کراچی میں واقع ہے اور اس وقت محمد عمر خان کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ ایکس کو ایک ہائبرڈ لاجسٹکس اور فِن ٹیک کمپنی قرار دیا گیا ہے، جو پاکستان کی بنیادی طور پر نقدی پر مبنی معیشت میں آن لائن ریٹیل سیکٹر کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر بطور ڈیلیوری سروس آغاز کرنے کے بعد، پوسٹ ایکس نے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کرتے ہوئے ای کامرس تاجروں کو پیشگی ادائیگیاں فراہم کرنا شروع کیں، جبکہ گاہکوں سے واجب الادا رقم ڈیلیوری کے وقت وصول کی جاتی ہے۔ فوربز کے مطابق کمپنی کا یہ طریقہ کار فروخت کنندگان کو کیش فلو کے موثر انتظام میں مدد دیتا ہے اور کوریئر آپریشنز کو بھی بہتر بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں پوسٹ ایکس نے اپنے ایک مسابقتی لاجسٹکس ادارے کال کوریئر( Call Courier) کو حاصل کیا، جس کے بعد وہ پاکستان کی سب سے بڑی ای کامرس ڈیلیوری سروس بن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اگست 2024 میں کنجنکشن کیپٹل ( Conjunction Capital)، ایک وینچر کیپیٹل ادارہ ہے جو ابتدائی مرحلے کے کاروباروں، خصوصاً ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک شعبوں، میں سرمایہ کاری کرتا ہے، کی قیادت میں 73 لاکھ ڈالر کی پری سیریز اے فنڈنگ بھی حاصل کی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں وسعت حاصل کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زین وی سی نے اس کامیابی کی اطلاع لنکڈ اِن پر دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراف نہ صرف ان بانیوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتا ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے خطے کے اسٹارٹ اپ عالمی سطح پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ زین وی سی کی کمپنیوں کو فوربز کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، 2024 میں نیا پے( NayaPay) کو بھی اس فہرست میں جگہ ملی تھی۔ اسی طرح 2022 میں قائم ہونے والا آن لائن گروسری اسٹارٹ اپ ڈیل کارٹ (DealCart) بھی پچھلے سال کی فہرست کا حصہ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زین وی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ہمارے ایکو سسٹم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے اور پاکستان و خطے کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زین وی سی ایک وینچر کیپیٹل فنڈ ہے جو امریکہ اور کیمین آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان میں ابتدائی مرحلے کے کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق زین وی سی پاکستان بھر میں ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی لانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جو مقامی ضروریات کو جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ ہم عمومی طور پر ابتدائی مرحلے کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور اگرچہ ہم کسی مخصوص شعبے تک محدود نہیں، تاہم ہر کمپنی کو فِن ٹیک کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے پاکستان میں بی ٹو سی ( B2C) اور بی ٹو بی ای کامرس، لاجسٹکس اور فِن ٹیک سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور ہمارے پورٹ فولیو کا 50 فیصد حصہ معروف پاکستانی فِن ٹیک کمپنیوں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زین وی سی کی بنیاد 2021 میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار فیصل آفتاب نے رکھی تھی۔ یہ پاکستان میں ان کا دوسرا فنڈ ہے؛ اس سے قبل وہ لیکسن وی سی ( Lakson VC) کے بانیوں میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کے مطابق 2024 کے اختتام پر ایشیا پیسفک (اے پی اے سی) خطے میں وینچر کیپیٹل فنڈنگ گزشتہ دس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم رواں سال بعض ممالک میں اس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے پی ایم جی (KPMG) ، ایک عالمی فرم ہے جو کاروباروں کو مالی اور قانونی مشورے فراہم کرتی ہے، کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق  رواں سال بھارت، جاپان اور سنگاپور زیادہ رسک کیپٹل (خطرات کے باوجود سرمایہ کاری) حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کی فہرست میں کل 16 ممالک اور خطوں کی نمائندگی کی گئی، جن میں بھارت 18 کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد سنگاپور اور جاپان کا نمبر رہا (14، 14 کمپنیاں)، چین (9)، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا (8، 8 کمپنیاں) اور آسٹریلیا (7 کمپنیاں) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کے مطابق سرمایہ کار ان شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جیسے بایوٹیکنالوجی، اسپیس ٹیک (خلائی ٹیکنالوجی) اور گرین ٹیک (ماحولیاتی ٹیکنالوجی)۔ ہماری فہرست میں ان شعبوں سے وابستہ کئی کمپنیاں شامل ہیں، کچھ ایسی کمپنیاں جو کینسر کے علاج کے لیے جین ایڈیٹنگ تھراپی تیار کر رہی ہیں، کچھ جو لیتھیئم آئن بیٹریوں کے لیے نئے اینوڈ میٹریلز بنا رہی ہیں اور کچھ خلائی جہازوں کے لیے جدید پروپلشن سسٹمز پر کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پررواں سال کی فہرست میں شامل 100 کمپنیوں نے اب تک تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے جبکہ گزشتہ سال کی کمپنیوں نے 2 ارب ڈالر جمع کیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زین وی سی کے پورٹ فولیو میں شامل فنانس اسٹارٹ اپس حبال (Haball) اورپوسٹ ایکس( PostEx) نے 2025 کی ’فوربز ایشیا 100 ٹو واچ‘ فہرست میں جگہ بنالی  لی ہے۔</strong></p>
<p>فوربز کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایشیا 100 ٹو واچ فہرست کا پانچواں سالانہ ایڈیشن ہے، جس کا مقصد ایشیا پیسفک خطے میں متحرک اسٹارٹ اپس اور چھوٹی کمپنیوں کی دنیا کو ایک جھروکے سے دکھانا ہے۔ یہ ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا مربوط کاروباری یا ٹیکنالوجی کا نظام ہے جو اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ترین ٹیکنالوجی (ڈیپ ٹیک) پر توجہ مرکوز کر کے جدت اور ترقی کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔</p>
<p>2017 میں قائم ہونے والا حبال کراچی میں قائم ہے اور اس کی قیادت عمر بن احسن کر رہے ہیں۔ فوربز کے مطابق حبال ایک بی ٹو بی (B2B) فِن ٹیک کمپنی ہے جو پاکستان میں کاروباری اداروں کو شریعت سے ہم آہنگ سپلائی چین فنانسنگ اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>اسٹارٹ اپ حبال کی خدمات میں ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹیکس کمپلائنس اور ورکنگ کیپیٹل فنانسنگ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اب تک وہ 3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں پر عمل درآمد کر چکی ہے۔
رواں سال اپریل میں حبال نے پری سیریز اے فنڈنگ راؤنڈ میں 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالر حاصل کیے، جن میں 50 لاکھ ڈالر کی ایکویٹی فنڈنگ زین وی سی کی قیادت میں شامل تھی، جبکہ 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اسٹریٹجک فنانسنگ پاکستان کے سب سے بڑے اسلامی بینک، میزان بینک، سے حاصل کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب، 2020 میں قائم ہونے والا پوسٹ ایکس بھی کراچی میں واقع ہے اور اس وقت محمد عمر خان کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>پوسٹ ایکس کو ایک ہائبرڈ لاجسٹکس اور فِن ٹیک کمپنی قرار دیا گیا ہے، جو پاکستان کی بنیادی طور پر نقدی پر مبنی معیشت میں آن لائن ریٹیل سیکٹر کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر بطور ڈیلیوری سروس آغاز کرنے کے بعد، پوسٹ ایکس نے اپنے بزنس ماڈل کو تبدیل کرتے ہوئے ای کامرس تاجروں کو پیشگی ادائیگیاں فراہم کرنا شروع کیں، جبکہ گاہکوں سے واجب الادا رقم ڈیلیوری کے وقت وصول کی جاتی ہے۔ فوربز کے مطابق کمپنی کا یہ طریقہ کار فروخت کنندگان کو کیش فلو کے موثر انتظام میں مدد دیتا ہے اور کوریئر آپریشنز کو بھی بہتر بناتا ہے۔</p>
<p>2022 میں پوسٹ ایکس نے اپنے ایک مسابقتی لاجسٹکس ادارے کال کوریئر( Call Courier) کو حاصل کیا، جس کے بعد وہ پاکستان کی سب سے بڑی ای کامرس ڈیلیوری سروس بن گئی۔</p>
<p>کمپنی نے اگست 2024 میں کنجنکشن کیپٹل ( Conjunction Capital)، ایک وینچر کیپیٹل ادارہ ہے جو ابتدائی مرحلے کے کاروباروں، خصوصاً ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک شعبوں، میں سرمایہ کاری کرتا ہے، کی قیادت میں 73 لاکھ ڈالر کی پری سیریز اے فنڈنگ بھی حاصل کی، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں وسعت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p>زین وی سی نے اس کامیابی کی اطلاع لنکڈ اِن پر دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراف نہ صرف ان بانیوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتا ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے خطے کے اسٹارٹ اپ عالمی سطح پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ادارے نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ زین وی سی کی کمپنیوں کو فوربز کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، 2024 میں نیا پے( NayaPay) کو بھی اس فہرست میں جگہ ملی تھی۔ اسی طرح 2022 میں قائم ہونے والا آن لائن گروسری اسٹارٹ اپ ڈیل کارٹ (DealCart) بھی پچھلے سال کی فہرست کا حصہ رہا تھا۔</p>
<p>زین وی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ہمارے ایکو سسٹم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے اور پاکستان و خطے کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔</p>
<p>زین وی سی ایک وینچر کیپیٹل فنڈ ہے جو امریکہ اور کیمین آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان میں ابتدائی مرحلے کے کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔</p>
<p>لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق زین وی سی پاکستان بھر میں ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی لانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے جو مقامی ضروریات کو جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ ہم عمومی طور پر ابتدائی مرحلے کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور اگرچہ ہم کسی مخصوص شعبے تک محدود نہیں، تاہم ہر کمپنی کو فِن ٹیک کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے پاکستان میں بی ٹو سی ( B2C) اور بی ٹو بی ای کامرس، لاجسٹکس اور فِن ٹیک سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور ہمارے پورٹ فولیو کا 50 فیصد حصہ معروف پاکستانی فِن ٹیک کمپنیوں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>زین وی سی کی بنیاد 2021 میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار فیصل آفتاب نے رکھی تھی۔ یہ پاکستان میں ان کا دوسرا فنڈ ہے؛ اس سے قبل وہ لیکسن وی سی ( Lakson VC) کے بانیوں میں شامل تھے۔</p>
<p>فوربز کے مطابق 2024 کے اختتام پر ایشیا پیسفک (اے پی اے سی) خطے میں وینچر کیپیٹل فنڈنگ گزشتہ دس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم رواں سال بعض ممالک میں اس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔</p>
<p>کے پی ایم جی (KPMG) ، ایک عالمی فرم ہے جو کاروباروں کو مالی اور قانونی مشورے فراہم کرتی ہے، کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق  رواں سال بھارت، جاپان اور سنگاپور زیادہ رسک کیپٹل (خطرات کے باوجود سرمایہ کاری) حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔</p>
<p>اس سال کی فہرست میں کل 16 ممالک اور خطوں کی نمائندگی کی گئی، جن میں بھارت 18 کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد سنگاپور اور جاپان کا نمبر رہا (14، 14 کمپنیاں)، چین (9)، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا (8، 8 کمپنیاں) اور آسٹریلیا (7 کمپنیاں) شامل ہیں۔</p>
<p>فوربز کے مطابق سرمایہ کار ان شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جیسے بایوٹیکنالوجی، اسپیس ٹیک (خلائی ٹیکنالوجی) اور گرین ٹیک (ماحولیاتی ٹیکنالوجی)۔ ہماری فہرست میں ان شعبوں سے وابستہ کئی کمپنیاں شامل ہیں، کچھ ایسی کمپنیاں جو کینسر کے علاج کے لیے جین ایڈیٹنگ تھراپی تیار کر رہی ہیں، کچھ جو لیتھیئم آئن بیٹریوں کے لیے نئے اینوڈ میٹریلز بنا رہی ہیں اور کچھ خلائی جہازوں کے لیے جدید پروپلشن سسٹمز پر کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پررواں سال کی فہرست میں شامل 100 کمپنیوں نے اب تک تقریباً 3 ارب امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے جبکہ گزشتہ سال کی کمپنیوں نے 2 ارب ڈالر جمع کیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276271</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 16:27:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/26153648a68af8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1151" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/26153648a68af8a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیشن مارکیٹ پلیس لام اور نیم کا اشتراک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276070/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایمبیڈڈ فنانس پلیٹ فارم نیم (Neem) نے فیشن مارکیٹ پلیس لام (LAAM) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ نیم کے والٹ سسٹم اور پیمنٹ بٹن حل کے ذریعے اپنے ایکو سسٹم میں پیسے کی منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم کی شریک بانی ولادیمیرا بریسٹنسکا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ پلیس جیسے لام کے لیے ہزاروں فروخت کنندگان اور عالمی صارفین کے بیچ ادائیگیوں، کلیکشنز اور ریفنڈز کا انتظام پیچیدہ ہوتا ہے۔ نیم کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، لام اب ان مالی بہاؤ کو ایک واحد، قابل اعتماد انفراسٹرکچر فراہم کنندہ کے ذریعے آسان بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نیم کے لیے یہ شراکت داری اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ ہم ای-کامرس جیسے تیز رفتار اور ہائی فریکوئنسی ایکو سسٹمز کے لیے مکمل اسٹیک مالیاتی انفراسٹرکچر فراہم کنندہ ہیں، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے ادائیگی اور ڈسبرسمنٹ حل کاروباروں کو محفوظ، وسیع ہوتے نظام کے ذریعے رقم وصول کرنے، بھیجنے اور منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لام کے ایک بیان کے مطابق، اس کے پاس ماہانہ ایک ملین سے زائد صارفین ہیں اور ان میں سینکڑوں ڈیزائنرز اور فیشن برانڈز شامل ہیں، اور کمپنی اپنے اسکیل کو بڑھانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لام نیم کے والٹ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے فروخت کنندگان کی کمائی براہ راست لام برانڈڈ والٹس میں منتقل کرے گا، جس سے فروخت کنندگان کو فوری رسائی حاصل ہوگی اور وہ رقم کسی بھی بینک اکاؤنٹ میں نکال سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لام خریداروں کو فوری ریفنڈز بھی جاری کر سکے گا، براہ راست ان کے لام برانڈڈ والٹس میں، جس سے پوسٹ-پرچیز تجربہ بہتر ہوگا اور صارفین کی وفاداری بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداروں کی ادائیگیوں کے لیے، لام نیم کے پیمنٹ بٹن کو نافذ کرے گا، جو متعدد محفوظ ادائیگی کے طریقے فراہم کرے گا، بشمول کارڈز، بینک ٹرانسفرز، موبائل والٹس وغیرہ۔ یہ ادائیگیاں نیم بزنس پورٹل کے ذریعے حقیقی وقت میں ٹریک اور ری کنسائل کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لام کے سی ای او عارف اقبال نے کہا کہ ہمارے فروخت کنندگان لام کے دل میں ہیں، اور ان کی کمائی تک فوری رسائی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ نیم کا ایمبیڈڈ والٹ حل ہمارے فروخت کنندگان کو تیز تر ادائیگی اور اپنی رقم پر زیادہ کنٹرول فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ہمارے صارفین کے لیے بہترین فیشن تجربات تخلیق کرنے پر توجہ مرکوز کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لام مستقبل میں نیم کے انفراسٹرکچر کا استعمال وینڈر ادائیگیوں اور پے رول ڈسبرسمنٹ میں بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم نے کہا کہ یہ شراکت داری ان کے نیٹ ورک میں شامل پلیٹ فارمز میں اضافہ کرتی ہے، جن میں انشورنس، لاجسٹکس، ہیلتھ کیئر، اور زراعت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان میں کاروباروں کے لیے محفوظ مالیاتی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے نیم کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا ٹکڑوں میں بٹا ہوا ادائیگیوں کا نظام&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولادیمیرا بریسٹنسکا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کا منقسم ادائیگی نظام نیم کیلئے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کاروبار متعدد فراہم کنندگان اور نقدی پر مبنی عمل پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر غلطیاں، فراڈ اور زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔ نیم یہ مسئلہ حل کرتا ہے، تمام ادائیگیوں کے بہاؤ کے لیے ایک انٹیگریشن فراہم کر کے، راست، آئی بی ایف ٹی، والٹس، اور کارڈز کے ذریعے—ہمارے کلیکشن اور ڈسبرسمنٹ اے پی ایلز کے ذریعے۔ یہ پیچیدگی کو کم کرتا ہے، فراڈ کم کرتا ہے اور اخراجات کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور بڑا چیلنج مکمل اسٹیک انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کاروباروں کے پاس ایسا نظام نہیں ہے جو انہیں تمام مالیاتی ضروریات اور اسٹیک ہولڈرز کو منظم کرنے کی سہولت دے، چاہے وہ وینڈرز کو ادائیگی کرنا ہو، صارفین کو ریفنڈز دینا ہو، یا بیلنس ٹریک کرنا ہو۔ وہ مختلف ٹولز کو جوڑ کر استعمال کرتے ہیں، جو غیر موثر ہوتا ہے۔ نیم کا والٹ اور لیجر سسٹم اس مسئلے کو حل کرتا ہے، جس سے کاروبار اپنے برانڈڈ والٹس لانچ کر سکتے ہیں، رقم حقیقی وقت میں ٹریک کر سکتے ہیں، اور پورے ایکو سسٹم میں ادائیگیاں ہموار طریقے سے سیٹل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ بروقت سیٹلمنٹ نہ ہونے اور رقم کے پھنس جانے کا مسئلہ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حقیقی وقت میں ری کنسیلیشن کے بغیر، کاروبار ادائیگی وصول کرنے میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں اور لیکویڈیٹی کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ نیم کا حقیقی وقت لیجر اور بزنس ڈیش بورڈ فوری ری کنسیلیشن، مکمل کیش فلو ویژیبلیٹی، اور تیز سیٹلمنٹ یقینی بناتا ہے، جس سے کاروبار لیکویڈیٹی کھول کر اعتماد کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم 2025 میں نیم سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولادیمیرا بریسٹنسکا نے کہا کہ 2025 نیم کے لیے ایک اہم سال رہا ہے۔ ہم نے اپنے ادائیگی کے انفراسٹرکچر کو مکمل اسٹیک حل میں تبدیل کیا، جس سے کاروبار ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے رقم وصول کرنے، بھیجنے اور منظم کرنے کے قابل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آگے چل کر، کمپنی موجودہ شراکت داریوں کو مکمل پیمانے پر نافذ کرنا چاہتی ہے اور اسٹارٹ اپس، ایس ایم ایز اور بڑی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کا پورا کرنا چاہتی ہے، جو اپنے مالیاتی عمل میں اسی رفتار اور کنٹرول کی خواہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس ترقی کے مرکز میں ہمارا وائٹ لیبلڈ والٹ اور لیجر سسٹم ہے، جو کاروباروں کو برانڈڈ والٹس لانچ کرنے، رقم حقیقی وقت میں ٹریک کرنے، اور فوری ادائیگی سیٹل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ وہ حل ہے جو ہم 2025 میں مزید اداروں کے لیے پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایمبیڈڈ فنانس پلیٹ فارم نیم (Neem) نے فیشن مارکیٹ پلیس لام (LAAM) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ نیم کے والٹ سسٹم اور پیمنٹ بٹن حل کے ذریعے اپنے ایکو سسٹم میں پیسے کی منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>نیم کی شریک بانی ولادیمیرا بریسٹنسکا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ پلیس جیسے لام کے لیے ہزاروں فروخت کنندگان اور عالمی صارفین کے بیچ ادائیگیوں، کلیکشنز اور ریفنڈز کا انتظام پیچیدہ ہوتا ہے۔ نیم کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، لام اب ان مالی بہاؤ کو ایک واحد، قابل اعتماد انفراسٹرکچر فراہم کنندہ کے ذریعے آسان بنا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نیم کے لیے یہ شراکت داری اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ ہم ای-کامرس جیسے تیز رفتار اور ہائی فریکوئنسی ایکو سسٹمز کے لیے مکمل اسٹیک مالیاتی انفراسٹرکچر فراہم کنندہ ہیں، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے ادائیگی اور ڈسبرسمنٹ حل کاروباروں کو محفوظ، وسیع ہوتے نظام کے ذریعے رقم وصول کرنے، بھیجنے اور منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>لام کے ایک بیان کے مطابق، اس کے پاس ماہانہ ایک ملین سے زائد صارفین ہیں اور ان میں سینکڑوں ڈیزائنرز اور فیشن برانڈز شامل ہیں، اور کمپنی اپنے اسکیل کو بڑھانا چاہتی ہے۔</p>
<p>لام نیم کے والٹ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے فروخت کنندگان کی کمائی براہ راست لام برانڈڈ والٹس میں منتقل کرے گا، جس سے فروخت کنندگان کو فوری رسائی حاصل ہوگی اور وہ رقم کسی بھی بینک اکاؤنٹ میں نکال سکیں گے۔</p>
<p>لام خریداروں کو فوری ریفنڈز بھی جاری کر سکے گا، براہ راست ان کے لام برانڈڈ والٹس میں، جس سے پوسٹ-پرچیز تجربہ بہتر ہوگا اور صارفین کی وفاداری بڑھے گی۔</p>
<p>خریداروں کی ادائیگیوں کے لیے، لام نیم کے پیمنٹ بٹن کو نافذ کرے گا، جو متعدد محفوظ ادائیگی کے طریقے فراہم کرے گا، بشمول کارڈز، بینک ٹرانسفرز، موبائل والٹس وغیرہ۔ یہ ادائیگیاں نیم بزنس پورٹل کے ذریعے حقیقی وقت میں ٹریک اور ری کنسائل کی جائیں گی۔</p>
<p>لام کے سی ای او عارف اقبال نے کہا کہ ہمارے فروخت کنندگان لام کے دل میں ہیں، اور ان کی کمائی تک فوری رسائی یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ نیم کا ایمبیڈڈ والٹ حل ہمارے فروخت کنندگان کو تیز تر ادائیگی اور اپنی رقم پر زیادہ کنٹرول فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ہمارے صارفین کے لیے بہترین فیشن تجربات تخلیق کرنے پر توجہ مرکوز کر سکیں۔</p>
<p>لام مستقبل میں نیم کے انفراسٹرکچر کا استعمال وینڈر ادائیگیوں اور پے رول ڈسبرسمنٹ میں بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>نیم نے کہا کہ یہ شراکت داری ان کے نیٹ ورک میں شامل پلیٹ فارمز میں اضافہ کرتی ہے، جن میں انشورنس، لاجسٹکس، ہیلتھ کیئر، اور زراعت شامل ہیں۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان میں کاروباروں کے لیے محفوظ مالیاتی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے نیم کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p><strong>پاکستان کا ٹکڑوں میں بٹا ہوا ادائیگیوں کا نظام</strong></p>
<p>ولادیمیرا بریسٹنسکا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کا منقسم ادائیگی نظام نیم کیلئے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کاروبار متعدد فراہم کنندگان اور نقدی پر مبنی عمل پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر غلطیاں، فراڈ اور زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔ نیم یہ مسئلہ حل کرتا ہے، تمام ادائیگیوں کے بہاؤ کے لیے ایک انٹیگریشن فراہم کر کے، راست، آئی بی ایف ٹی، والٹس، اور کارڈز کے ذریعے—ہمارے کلیکشن اور ڈسبرسمنٹ اے پی ایلز کے ذریعے۔ یہ پیچیدگی کو کم کرتا ہے، فراڈ کم کرتا ہے اور اخراجات کم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور بڑا چیلنج مکمل اسٹیک انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کاروباروں کے پاس ایسا نظام نہیں ہے جو انہیں تمام مالیاتی ضروریات اور اسٹیک ہولڈرز کو منظم کرنے کی سہولت دے، چاہے وہ وینڈرز کو ادائیگی کرنا ہو، صارفین کو ریفنڈز دینا ہو، یا بیلنس ٹریک کرنا ہو۔ وہ مختلف ٹولز کو جوڑ کر استعمال کرتے ہیں، جو غیر موثر ہوتا ہے۔ نیم کا والٹ اور لیجر سسٹم اس مسئلے کو حل کرتا ہے، جس سے کاروبار اپنے برانڈڈ والٹس لانچ کر سکتے ہیں، رقم حقیقی وقت میں ٹریک کر سکتے ہیں، اور پورے ایکو سسٹم میں ادائیگیاں ہموار طریقے سے سیٹل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ بروقت سیٹلمنٹ نہ ہونے اور رقم کے پھنس جانے کا مسئلہ بھی موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حقیقی وقت میں ری کنسیلیشن کے بغیر، کاروبار ادائیگی وصول کرنے میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں اور لیکویڈیٹی کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ نیم کا حقیقی وقت لیجر اور بزنس ڈیش بورڈ فوری ری کنسیلیشن، مکمل کیش فلو ویژیبلیٹی، اور تیز سیٹلمنٹ یقینی بناتا ہے، جس سے کاروبار لیکویڈیٹی کھول کر اعتماد کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>ہم 2025 میں نیم سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟</strong></p>
<p>ولادیمیرا بریسٹنسکا نے کہا کہ 2025 نیم کے لیے ایک اہم سال رہا ہے۔ ہم نے اپنے ادائیگی کے انفراسٹرکچر کو مکمل اسٹیک حل میں تبدیل کیا، جس سے کاروبار ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے رقم وصول کرنے، بھیجنے اور منظم کرنے کے قابل ہوئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آگے چل کر، کمپنی موجودہ شراکت داریوں کو مکمل پیمانے پر نافذ کرنا چاہتی ہے اور اسٹارٹ اپس، ایس ایم ایز اور بڑی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کا پورا کرنا چاہتی ہے، جو اپنے مالیاتی عمل میں اسی رفتار اور کنٹرول کی خواہاں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس ترقی کے مرکز میں ہمارا وائٹ لیبلڈ والٹ اور لیجر سسٹم ہے، جو کاروباروں کو برانڈڈ والٹس لانچ کرنے، رقم حقیقی وقت میں ٹریک کرنے، اور فوری ادائیگی سیٹل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ وہ حل ہے جو ہم 2025 میں مزید اداروں کے لیے پیش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276070</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Aug 2025 12:06:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/211136019314c2c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1600" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/211136019314c2c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دودھ کی بوتلیں، چکن وِنگز : یانگو رائیڈز کی مسافروں کی بھولی اشیاء کی دلچسپ فہرست جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40275393/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم سب اس لمحے سے واقف ہیں جب ٹیکسی سے اترنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ موبائل فون یا خریداری کی تھیلیاں گاڑی میں رہ گئی ہیں۔ اگرچہ ایسی اشیاء کا بھول جانا عام بات ہے، مگر عالمی ٹیکنالوجی کمپنی یانگو (Yango) کی حالیہ گمشدہ اشیاء کی فہرست میں کچھ ایسی حیران کن چیزیں بھی شامل ہیں جن کی توقع کم ہی کی جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یانگو رائیڈ — جو عالمی ٹیکنالوجی کمپنی یانگو گروپ کا ذیلی ادارہ ہے — نے موسمِ گرما 2024-2025 کے دوران بھولی ہوئی اور خوش قسمتی سے واپس مل جانے والی اشیاء کی فہرست جاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھر میں مسافروں کی جانب سے سب سے زیادہ بھولی جانے والی اشیاء میں خریداری کی تھیلیاں (32 فیصد)، موبائل فونز (31 فیصد) اور ہینڈ بیگز (10 فیصد) نمایاں ہیں۔ تاہم فہرست میں کچھ غیر معمولی اشیاء بھی شامل ہیں، جن میں بچوں کی دودھ کی بوتلیں، تلی ہوئی چکن وِنگز کی بالٹی، ڈرل مشینیں، گردن میں پہننے والے پورٹ ایبل پنکھے، اور کھانے کے تیل کا کینسٹر بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یانگو پاکستان کی کنٹری ہیڈ میرال شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مسافروں کے لیے اپنی کھوئی ہوئی اشیاء واپس حاصل کرنا کتنا اہم ہوتا ہے — چاہے وہ قیمتی موبائل فون ہو یا بچپن کی کوئی یادگار تصویر۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کسٹمر سپورٹ ٹیم  24 گھنٹے متحرک رہتی ہے تاکہ ایسے معاملات کو سنجیدگی، فوری ردعمل اور مکمل شفافیت کے ساتھ نمٹایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یانگو نے اس مقصد کے لیے اپنی ایپ میں اسمارٹ فیچرز بھی شامل کیے ہیں جو پارٹنر ڈرائیور کی جانب سے کسی گم شدہ شے کی اطلاع ملتے ہی مسافر کو خودکار طور پر آگاہ کر دیتے ہیں۔ ایپ پھر صارف کو براہِ راست ڈرائیور سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار یانگو کی اُس کاوش کا حصہ ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی اور انسانی معاونت کے امتزاج سے صارف کو اولین ترجیح دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرال شریف کے مطابق ہمارا مقصد صرف لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا نہیں بلکہ اُنہیں خیال اور بھروسے کے ساتھ سفر کرانا ہے۔ یہ اعداد و شمار اگرچہ بظاہر ہلکے پھلکے لگتے ہیں، مگر دراصل ہماری اعلیٰ معیار کی سروس فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یانگو نے اعلان کیا کہ یانگو ٹیک اب پاکستان میں مکمل طور پر دستیاب ہے۔ یہ جدید اے آئی پر مبنی بی ٹو بی  سلوشنز کا ایک جامع پلیٹ فارم ہے جو نقل و حمل، لاجسٹکس، ریٹیل اور کسٹمر آپریشنز جیسے شعبوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق، مختلف ٹیکنالوجیز کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے سے کاروبار اپنے آپریشنز کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کر سکتے ہیں، اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یانگو ٹیک کی پیشکش میں ریٹیلرز کے لیے اے آئی سے چلنے والے حل، خودکار ڈیلیوری روبوٹس، ویئرہاؤس آٹومیشن، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور ریٹیل میڈیا ایڈورٹائزنگ شامل ہیں — اس کے  ساتھ روٹ پلاننگ اور ڈیٹا مینجمنٹ جیسے اضافی فیچرز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یانگو ٹیک نے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز گروسری ڈلیوری پلیٹ فارم DealCart کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے کیا ہے۔ اس انضمام کے نتیجے میں، DealCart کی مصنوعات اب یانگو ایپ کے ”یانگو شاپس“ سیکشن میں دستیاب ہیں، جس سے کراچی کے صارفین بآسانی اپنی روزمرہ کی گروسری آن لائن آرڈر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہم سب اس لمحے سے واقف ہیں جب ٹیکسی سے اترنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ موبائل فون یا خریداری کی تھیلیاں گاڑی میں رہ گئی ہیں۔ اگرچہ ایسی اشیاء کا بھول جانا عام بات ہے، مگر عالمی ٹیکنالوجی کمپنی یانگو (Yango) کی حالیہ گمشدہ اشیاء کی فہرست میں کچھ ایسی حیران کن چیزیں بھی شامل ہیں جن کی توقع کم ہی کی جاتی ہے۔</strong></p>
<p>یانگو رائیڈ — جو عالمی ٹیکنالوجی کمپنی یانگو گروپ کا ذیلی ادارہ ہے — نے موسمِ گرما 2024-2025 کے دوران بھولی ہوئی اور خوش قسمتی سے واپس مل جانے والی اشیاء کی فہرست جاری کی ہے۔</p>
<p>پاکستان بھر میں مسافروں کی جانب سے سب سے زیادہ بھولی جانے والی اشیاء میں خریداری کی تھیلیاں (32 فیصد)، موبائل فونز (31 فیصد) اور ہینڈ بیگز (10 فیصد) نمایاں ہیں۔ تاہم فہرست میں کچھ غیر معمولی اشیاء بھی شامل ہیں، جن میں بچوں کی دودھ کی بوتلیں، تلی ہوئی چکن وِنگز کی بالٹی، ڈرل مشینیں، گردن میں پہننے والے پورٹ ایبل پنکھے، اور کھانے کے تیل کا کینسٹر بھی شامل ہے۔</p>
<p>یانگو پاکستان کی کنٹری ہیڈ میرال شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مسافروں کے لیے اپنی کھوئی ہوئی اشیاء واپس حاصل کرنا کتنا اہم ہوتا ہے — چاہے وہ قیمتی موبائل فون ہو یا بچپن کی کوئی یادگار تصویر۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کسٹمر سپورٹ ٹیم  24 گھنٹے متحرک رہتی ہے تاکہ ایسے معاملات کو سنجیدگی، فوری ردعمل اور مکمل شفافیت کے ساتھ نمٹایا جا سکے۔</p>
<p>یانگو نے اس مقصد کے لیے اپنی ایپ میں اسمارٹ فیچرز بھی شامل کیے ہیں جو پارٹنر ڈرائیور کی جانب سے کسی گم شدہ شے کی اطلاع ملتے ہی مسافر کو خودکار طور پر آگاہ کر دیتے ہیں۔ ایپ پھر صارف کو براہِ راست ڈرائیور سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>یہ طریقہ کار یانگو کی اُس کاوش کا حصہ ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی اور انسانی معاونت کے امتزاج سے صارف کو اولین ترجیح دینا ہے۔</p>
<p>میرال شریف کے مطابق ہمارا مقصد صرف لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا نہیں بلکہ اُنہیں خیال اور بھروسے کے ساتھ سفر کرانا ہے۔ یہ اعداد و شمار اگرچہ بظاہر ہلکے پھلکے لگتے ہیں، مگر دراصل ہماری اعلیٰ معیار کی سروس فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یانگو نے اعلان کیا کہ یانگو ٹیک اب پاکستان میں مکمل طور پر دستیاب ہے۔ یہ جدید اے آئی پر مبنی بی ٹو بی  سلوشنز کا ایک جامع پلیٹ فارم ہے جو نقل و حمل، لاجسٹکس، ریٹیل اور کسٹمر آپریشنز جیسے شعبوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق، مختلف ٹیکنالوجیز کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے سے کاروبار اپنے آپریشنز کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کر سکتے ہیں، اخراجات میں کمی لا سکتے ہیں اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>یانگو ٹیک کی پیشکش میں ریٹیلرز کے لیے اے آئی سے چلنے والے حل، خودکار ڈیلیوری روبوٹس، ویئرہاؤس آٹومیشن، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور ریٹیل میڈیا ایڈورٹائزنگ شامل ہیں — اس کے  ساتھ روٹ پلاننگ اور ڈیٹا مینجمنٹ جیسے اضافی فیچرز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یانگو ٹیک نے پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز گروسری ڈلیوری پلیٹ فارم DealCart کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے کیا ہے۔ اس انضمام کے نتیجے میں، DealCart کی مصنوعات اب یانگو ایپ کے ”یانگو شاپس“ سیکشن میں دستیاب ہیں، جس سے کراچی کے صارفین بآسانی اپنی روزمرہ کی گروسری آن لائن آرڈر کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40275393</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Aug 2025 17:21:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/0217192272772fd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/0217192272772fd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بازار اور کینو کا انضمام: پاکستان کا پہلا مربوط کامرس و فِن ٹیک پلیٹ فارم قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274430/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازار ٹیکنالوجیز نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ادائیگیوں کی کمپنی کِینو (Keenu) کو ایک غیر اعلانیہ رقم کے عوض حاصل کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی کسی بڑی ای کامرس کمپنی نے ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر اپنے اندر ضم کیا ہے — یہ ایک اسٹریٹجک قدم ہے جو ملک بھر کے لاکھوں صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے انقلابی امکانات رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بازار کے شریک بانی سعد جانگڑا نے کہا کہ
یہ صرف حصول نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہم آہنگی ہے جو پاکستان میں گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کو سہولت دینے کے تصور کو ازسرنو متعین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے بازار کو ملک کا سب سے قابلِ اعتماد کامرس پارٹنر بنانے کے لیے قائم کیا۔ اب، جب کہ کینو کا ادائیگیوں کا نظام ہماری ٹیکنالوجی میں شامل ہو رہا ہے، ہم ملک کا پہلا مکمل طور پر مربوط کامرس-فِن ٹیک پلیٹ فارم بنا رہے ہیں — جو ہمارے صارفین کے لیے سادگی، یکجہتی اور بااختیاری لائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چار ماہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے بازار ٹیکنالوجیز کو ویِمسول پرائیویٹ لمیٹڈ (جو کہ کینو چلاتی ہے) کے 100 فیصد حصص کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز جاری بیان میں وضاحت کی گئی کہ اس حصول کے بعد صارفین اور کاروبار ایک ہی مربوط ای پلیٹ فارم کے اندر ادائیگی کر سکیں گے — پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر یہ ماڈل کامیاب ثابت ہوا ہے جیسا کہ علی بابا کا علی پے چین میں، مرکادو لیبرے کا مرکادو پیگو جنوبی امریکہ میں، اور فلپ کارٹ کا فون پے بھارت میں حاصل کرنا — یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ کامرس اور ادائیگیوں کا انضمام کس طرح صارف کے لیے مکمل، ہموار تجربہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حصول پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں بڑھتی ہوئی پختگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں فِن ٹیک اور ای کامرس کا انضمام ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں قائم ہونے والی بازار ٹیکنالوجیز کے پاس اپنی سپلائی چین انفراسٹرکچر ہے جو تقریباً 10 شہروں میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی مجموعی ادارہ جاتی سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر سے زائد ہے، جس کی پشت پناہی ڈریگونیر انویسٹمنٹ گروپ، ٹائیگر گلوبل اور انڈس ویلی کیپیٹل جیسے اداروں نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف 2013 میں لانچ ہونے والی کینو ایک مقامی ڈیجیٹل پیمنٹس پلیٹ فارم ہے، جو اپنے پی او یس ٹرمینلز کے ذریعے سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں کو ممکن بناتی ہے اور 150 سے زائد شہروں میں موجودگی رکھتی ہے۔ اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بطور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن (ای ایم آئی) مکمل لائسنس دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینو کے سی ای او سعد نیازی نے کہا:
یہ شراکت داری کینو کے مشن میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم نے گزشتہ ایک دہائی پاکستان میں ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر ڈیجیٹائز کرنے میں صرف کی ہے۔ بازار کے ساتھ مل کر، ہم نہ صرف اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں بلکہ ایک کیش لیس، ڈیجیٹل اور مربوط پاکستان کی جانب پیش رفت کو تیز تر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وقت کی اہمیت:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ
یہ فیصلہ انتہائی اسٹریٹجک وقت پر کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی بے مثال رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ 190 ملین سے زائد موبائل کنیکشنز، اسمارٹ فونز کے بڑھتے استعمال، اور ایک نوجوان، ڈیجیٹل نسل کے ہوتے ہوئے، مارکیٹ ایک مربوط ٹیک حل کے لیے تیار ہے — تاہم مالی شمولیت اب بھی ایک بڑا خلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فنانس ایکٹ 2025 کے تحت کورئیر سروسز پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کے بعد پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری میں کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بازار کے ترجمان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ
اگرچہ تمام کاروباروں کی دستاویز کاری بڑھانے کے لیے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں، تاہم اب بھی کئی ایسے ریگولیٹری عوامل موجود ہیں جو ملک میں تجارت اور ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل مدت میں، بازار اور کینو پرامید ہیں کہ مارکیٹ میں مواقع بڑھتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حصول اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری سے مکمل ہوا ہے، اور دونوں کمپنیاں اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر کام جاری رکھیں گی — جبکہ اسٹریٹجک سطح پر ہم آہنگ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام قومی پیمنٹ اسٹریٹیجی کے تحت اسٹیٹ بینک کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے جو ریٹیل پیمنٹس مارکیٹ کو نان بینکس کے لیے کھولنے اور ویژن 2028 کے تحت ٹیکنالوجی کے ذریعے اختراعی پروڈکٹس کو فروغ دینے اور جامع مالیاتی نظام کی تشکیل کے عزم کی وضاحت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بازار ٹیکنالوجیز نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ادائیگیوں کی کمپنی کِینو (Keenu) کو ایک غیر اعلانیہ رقم کے عوض حاصل کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق
یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی کسی بڑی ای کامرس کمپنی نے ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر اپنے اندر ضم کیا ہے — یہ ایک اسٹریٹجک قدم ہے جو ملک بھر کے لاکھوں صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے انقلابی امکانات رکھتا ہے۔</p>
<p>بازار کے شریک بانی سعد جانگڑا نے کہا کہ
یہ صرف حصول نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہم آہنگی ہے جو پاکستان میں گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کو سہولت دینے کے تصور کو ازسرنو متعین کرتی ہے۔</p>
<p>ہم نے بازار کو ملک کا سب سے قابلِ اعتماد کامرس پارٹنر بنانے کے لیے قائم کیا۔ اب، جب کہ کینو کا ادائیگیوں کا نظام ہماری ٹیکنالوجی میں شامل ہو رہا ہے، ہم ملک کا پہلا مکمل طور پر مربوط کامرس-فِن ٹیک پلیٹ فارم بنا رہے ہیں — جو ہمارے صارفین کے لیے سادگی، یکجہتی اور بااختیاری لائے گا۔</p>
<p>یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چار ماہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے بازار ٹیکنالوجیز کو ویِمسول پرائیویٹ لمیٹڈ (جو کہ کینو چلاتی ہے) کے 100 فیصد حصص کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>بدھ کے روز جاری بیان میں وضاحت کی گئی کہ اس حصول کے بعد صارفین اور کاروبار ایک ہی مربوط ای پلیٹ فارم کے اندر ادائیگی کر سکیں گے — پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر یہ ماڈل کامیاب ثابت ہوا ہے جیسا کہ علی بابا کا علی پے چین میں، مرکادو لیبرے کا مرکادو پیگو جنوبی امریکہ میں، اور فلپ کارٹ کا فون پے بھارت میں حاصل کرنا — یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ کامرس اور ادائیگیوں کا انضمام کس طرح صارف کے لیے مکمل، ہموار تجربہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>یہ حصول پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں بڑھتی ہوئی پختگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں فِن ٹیک اور ای کامرس کا انضمام ہو رہا ہے۔</p>
<p>2020 میں قائم ہونے والی بازار ٹیکنالوجیز کے پاس اپنی سپلائی چین انفراسٹرکچر ہے جو تقریباً 10 شہروں میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی مجموعی ادارہ جاتی سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر سے زائد ہے، جس کی پشت پناہی ڈریگونیر انویسٹمنٹ گروپ، ٹائیگر گلوبل اور انڈس ویلی کیپیٹل جیسے اداروں نے کی۔</p>
<p>دوسری طرف 2013 میں لانچ ہونے والی کینو ایک مقامی ڈیجیٹل پیمنٹس پلیٹ فارم ہے، جو اپنے پی او یس ٹرمینلز کے ذریعے سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیوں کو ممکن بناتی ہے اور 150 سے زائد شہروں میں موجودگی رکھتی ہے۔ اسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بطور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشن (ای ایم آئی) مکمل لائسنس دیا ہے۔</p>
<p>کینو کے سی ای او سعد نیازی نے کہا:
یہ شراکت داری کینو کے مشن میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم نے گزشتہ ایک دہائی پاکستان میں ادائیگیوں کا انفراسٹرکچر ڈیجیٹائز کرنے میں صرف کی ہے۔ بازار کے ساتھ مل کر، ہم نہ صرف اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں بلکہ ایک کیش لیس، ڈیجیٹل اور مربوط پاکستان کی جانب پیش رفت کو تیز تر کر رہے ہیں۔</p>
<p><strong>وقت کی اہمیت:</strong></p>
<p>دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ
یہ فیصلہ انتہائی اسٹریٹجک وقت پر کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی بے مثال رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ 190 ملین سے زائد موبائل کنیکشنز، اسمارٹ فونز کے بڑھتے استعمال، اور ایک نوجوان، ڈیجیٹل نسل کے ہوتے ہوئے، مارکیٹ ایک مربوط ٹیک حل کے لیے تیار ہے — تاہم مالی شمولیت اب بھی ایک بڑا خلا ہے۔</p>
<p>البتہ یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب فنانس ایکٹ 2025 کے تحت کورئیر سروسز پر نئے ٹیکسز کے نفاذ کے بعد پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری میں کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>بازار کے ترجمان نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ
اگرچہ تمام کاروباروں کی دستاویز کاری بڑھانے کے لیے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں، تاہم اب بھی کئی ایسے ریگولیٹری عوامل موجود ہیں جو ملک میں تجارت اور ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>طویل مدت میں، بازار اور کینو پرامید ہیں کہ مارکیٹ میں مواقع بڑھتے رہیں گے۔</p>
<p>یہ حصول اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری سے مکمل ہوا ہے، اور دونوں کمپنیاں اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ طور پر کام جاری رکھیں گی — جبکہ اسٹریٹجک سطح پر ہم آہنگ ہوں گی۔</p>
<p>یہ اقدام قومی پیمنٹ اسٹریٹیجی کے تحت اسٹیٹ بینک کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے جو ریٹیل پیمنٹس مارکیٹ کو نان بینکس کے لیے کھولنے اور ویژن 2028 کے تحت ٹیکنالوجی کے ذریعے اختراعی پروڈکٹس کو فروغ دینے اور جامع مالیاتی نظام کی تشکیل کے عزم کی وضاحت کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274430</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Jul 2025 11:34:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صالحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/09113239789b6e6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/09113239789b6e6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنڈنگ میں بحالی کے باوجود اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی مشکلات برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے لیے 2025 کی دوسری سہ ماہی میں بحالی کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں، جیسا کہ انویسٹ-ٹو-انویٹ (آئی ٹو آئی) کی تازہ ترین سہ ماہی اپ ڈیٹس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ گزشتہ تقریباً تین سالوں میں سب سے مضبوط سہ ماہی ثابت ہوئی، جس میں پاکستانی اسٹارٹ اپس نے 60.2 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو کہ پورے سال 2024 میں حاصل کی گئی فنڈنگ سے زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار پھر، فنٹیک نے فنڈنگ کے منظرنامے پر غلبہ حاصل کیا، جس نے سہ ماہی کی کل اعلان شدہ فنڈنگ کا 52 ملین ڈالر یا 86.3 فیصد اور کل چھ معاہدوں میں سے 50 فیصد کا حصہ حاصل کیا۔ یہ شعبہ 2024 کی طرح اس سال بھی سب سے آگے رہا، جس کی وجہ ملک کی بڑی غیر بینکاری آبادی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مانگ اور ریگولیٹری سپورٹ ہے۔ تاہم، فنٹیک کے ساتھ ساتھ، ہیلتھ ٹیک نے بھی اس سہ ماہی میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم مگر بڑے معاہدوں کی طرف رجحان ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب زیادہ محفوظ اور ترقی یافتہ مراحل کے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سرمایہ کار خاص طور پر ان شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہو، جو واضح مارکیٹ پوٹینشل رکھتے ہوں، اور جو اسکیل ایبل حل پیش کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سرمائے کا یہ ارتکاز ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس اور نئے فاؤنڈرز کے لیے چیلنج بن گیا ہے، جو تبھی فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ مقبول شعبوں میں کام کر رہے ہوں یا ان کے پاس مضبوط نیٹ ورک ہوں۔ اگرچہ پاکستان میں نوجوان ٹیلنٹ، تیز رفتار ڈیجیٹل طریقوں کو اپنانے اور بھرپور کاروباری جذبے کی کمی نہیں، لیکن فنڈنگ کی شدید کمی نے اسٹارٹ اپس کو متاثر کیا ہے۔ وینچر فنڈنگ 2022 میں 355 ملین ڈالر سے گر کر 2024 میں صرف 43 ملین ڈالر رہ گئی — یعنی 88 فیصد کی حیران کن کمی، جیسا کہ ٹیلی نار، انویسٹ-ٹو-انویٹ اور ایس ٹی زیڈ اے کی پالیسی رپورٹ ”کلوزنگ دی فنڈنگ گیپ فار اسٹارٹ اپس ان پاکستان“ میں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹو آئی کی رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹیں اب بھی قائم ہیں۔ سیڈ-مرحلے کی سرمایہ کاری بہت کم ہے، پالیسیوں میں ابہام پایا جاتا ہے، اور فنڈنگ کی تقسیم چند بڑے شہروں — کراچی، لاہور، اور اسلام آباد — تک محدود ہے۔ پیچیدہ ریگولیٹری ماحول، سخت ٹیکسیشن پالیسیز اور محدود مالی ذرائع ان چیلنجز کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ریگولیٹری فریم ورکس میں وضاحت اور تسلسل کی کمی ہے، جب کہ صوبائی ٹیکس نظام بکھرے ہوئے ہیں، جس سے تعمیل کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ روایتی بینکاری نظام اسٹارٹ اپ دوست مالیاتی آلات کو تسلیم نہیں کرتا، جو سرمایہ کی دستیابی کو مزید محدود کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی موازنہ اہم بصیرت فراہم کرتا ہے۔ “گلوبل اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم انڈیکس2025
“ کے مطابق، پاکستان دو درجے نیچے آ کر عالمی سطح پر 76ویں نمبر پر آ گیا ہے، اور وہ اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا ہے۔ لاہور اور کراچی دونوں کی درجہ بندی میں نمایاں کمی آئی، جو پاکستان کی مسابقتی رفتار برقرار رکھنے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت جیسے ممالک سے سیکھنا ناگزیر ہے، جنہوں نے وینچر کیپیٹل، اینجل انویسٹمنٹس، اور حکومت کی سرپرستی میں فنڈنگ پروگراموں کو ترجیح دی۔ پاکستان کو فوری اصلاحات کرنا ہوں گی: اینجل سرمایہ کاروں اور وینچر کیپیٹل اسٹیک ہولڈرز کے لیے ٹیکس میں رعایتیں، ٹیکس ہالیڈیز میں توسیع، اور متبادل سرمایہ کاری آلات جیسے کہ کنورٹیبل نوٹس کو باضابطہ حیثیت دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، مائیکرو وی سی فنڈز اور اینجل فنڈز کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکسز کا قیام ملکی سرمایہ کو متحرک کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلوزنگ دی فنڈنگ گیپ  پالیسی رپورٹ میں کئی ٹھوس حل تجویز کیے گئے ہیں: اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص اور سادہ ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانا، ٹیکس کی تعریفوں کو آسان بنانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنانا، اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کو بہتر بنانا۔ جی ای ایم بورڈ پر فہرست سازی کی شرائط کو کم کرنا اور آئی پی او کے طریقہ کار کو واضح کرنا بھی سرمایہ کی روانی اور سرمایہ کاروں کے لیے پائیدار اخراج کے راستے فراہم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، مستقل ترقی کے لیے ریگولیٹری، مالیاتی، ٹیکس اور ادارہ جاتی شعبوں میں مربوط اصلاحات کی ضرورت ہے — اور یہ سب کچھ معاشی استحکام اور سیاسی پیش گوئی کے ماحول کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر یہ اصلاحات کامیابی سے نافذ ہو جائیں، تو پاکستان کا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ بڑھے گا، اختراعات کو فروغ ملے گا، اور پائیدار معاشی ترقی کا راستہ ہموار ہو گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے لیے 2025 کی دوسری سہ ماہی میں بحالی کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں، جیسا کہ انویسٹ-ٹو-انویٹ (آئی ٹو آئی) کی تازہ ترین سہ ماہی اپ ڈیٹس سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ گزشتہ تقریباً تین سالوں میں سب سے مضبوط سہ ماہی ثابت ہوئی، جس میں پاکستانی اسٹارٹ اپس نے 60.2 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو کہ پورے سال 2024 میں حاصل کی گئی فنڈنگ سے زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>ایک بار پھر، فنٹیک نے فنڈنگ کے منظرنامے پر غلبہ حاصل کیا، جس نے سہ ماہی کی کل اعلان شدہ فنڈنگ کا 52 ملین ڈالر یا 86.3 فیصد اور کل چھ معاہدوں میں سے 50 فیصد کا حصہ حاصل کیا۔ یہ شعبہ 2024 کی طرح اس سال بھی سب سے آگے رہا، جس کی وجہ ملک کی بڑی غیر بینکاری آبادی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مانگ اور ریگولیٹری سپورٹ ہے۔ تاہم، فنٹیک کے ساتھ ساتھ، ہیلتھ ٹیک نے بھی اس سہ ماہی میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔</p>
<p>کم مگر بڑے معاہدوں کی طرف رجحان ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب زیادہ محفوظ اور ترقی یافتہ مراحل کے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سرمایہ کار خاص طور پر ان شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہو، جو واضح مارکیٹ پوٹینشل رکھتے ہوں، اور جو اسکیل ایبل حل پیش کرتے ہوں۔</p>
<p>تاہم، سرمائے کا یہ ارتکاز ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس اور نئے فاؤنڈرز کے لیے چیلنج بن گیا ہے، جو تبھی فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ مقبول شعبوں میں کام کر رہے ہوں یا ان کے پاس مضبوط نیٹ ورک ہوں۔ اگرچہ پاکستان میں نوجوان ٹیلنٹ، تیز رفتار ڈیجیٹل طریقوں کو اپنانے اور بھرپور کاروباری جذبے کی کمی نہیں، لیکن فنڈنگ کی شدید کمی نے اسٹارٹ اپس کو متاثر کیا ہے۔ وینچر فنڈنگ 2022 میں 355 ملین ڈالر سے گر کر 2024 میں صرف 43 ملین ڈالر رہ گئی — یعنی 88 فیصد کی حیران کن کمی، جیسا کہ ٹیلی نار، انویسٹ-ٹو-انویٹ اور ایس ٹی زیڈ اے کی پالیسی رپورٹ ”کلوزنگ دی فنڈنگ گیپ فار اسٹارٹ اپس ان پاکستان“ میں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>آئی ٹو آئی کی رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹیں اب بھی قائم ہیں۔ سیڈ-مرحلے کی سرمایہ کاری بہت کم ہے، پالیسیوں میں ابہام پایا جاتا ہے، اور فنڈنگ کی تقسیم چند بڑے شہروں — کراچی، لاہور، اور اسلام آباد — تک محدود ہے۔ پیچیدہ ریگولیٹری ماحول، سخت ٹیکسیشن پالیسیز اور محدود مالی ذرائع ان چیلنجز کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ریگولیٹری فریم ورکس میں وضاحت اور تسلسل کی کمی ہے، جب کہ صوبائی ٹیکس نظام بکھرے ہوئے ہیں، جس سے تعمیل کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ روایتی بینکاری نظام اسٹارٹ اپ دوست مالیاتی آلات کو تسلیم نہیں کرتا، جو سرمایہ کی دستیابی کو مزید محدود کر دیتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی موازنہ اہم بصیرت فراہم کرتا ہے۔ “گلوبل اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم انڈیکس2025
“ کے مطابق، پاکستان دو درجے نیچے آ کر عالمی سطح پر 76ویں نمبر پر آ گیا ہے، اور وہ اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا ہے۔ لاہور اور کراچی دونوں کی درجہ بندی میں نمایاں کمی آئی، جو پاکستان کی مسابقتی رفتار برقرار رکھنے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>بھارت جیسے ممالک سے سیکھنا ناگزیر ہے، جنہوں نے وینچر کیپیٹل، اینجل انویسٹمنٹس، اور حکومت کی سرپرستی میں فنڈنگ پروگراموں کو ترجیح دی۔ پاکستان کو فوری اصلاحات کرنا ہوں گی: اینجل سرمایہ کاروں اور وینچر کیپیٹل اسٹیک ہولڈرز کے لیے ٹیکس میں رعایتیں، ٹیکس ہالیڈیز میں توسیع، اور متبادل سرمایہ کاری آلات جیسے کہ کنورٹیبل نوٹس کو باضابطہ حیثیت دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، مائیکرو وی سی فنڈز اور اینجل فنڈز کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکسز کا قیام ملکی سرمایہ کو متحرک کر سکتا ہے۔</p>
<p>کلوزنگ دی فنڈنگ گیپ  پالیسی رپورٹ میں کئی ٹھوس حل تجویز کیے گئے ہیں: اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص اور سادہ ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانا، ٹیکس کی تعریفوں کو آسان بنانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنانا، اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کو بہتر بنانا۔ جی ای ایم بورڈ پر فہرست سازی کی شرائط کو کم کرنا اور آئی پی او کے طریقہ کار کو واضح کرنا بھی سرمایہ کی روانی اور سرمایہ کاروں کے لیے پائیدار اخراج کے راستے فراہم کر سکتا ہے۔</p>
<p>آخر میں، مستقل ترقی کے لیے ریگولیٹری، مالیاتی، ٹیکس اور ادارہ جاتی شعبوں میں مربوط اصلاحات کی ضرورت ہے — اور یہ سب کچھ معاشی استحکام اور سیاسی پیش گوئی کے ماحول کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر یہ اصلاحات کامیابی سے نافذ ہو جائیں، تو پاکستان کا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم مکمل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ بڑھے گا، اختراعات کو فروغ ملے گا، اور پائیدار معاشی ترقی کا راستہ ہموار ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274386</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 09:59:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/08095703546f92a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/08095703546f92a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی سے غزہ تک: پاکستانی اسٹارٹ اپ کی جنگ زدہ بچوں کیلئے مصنوعی اعضا کی فراہمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40274355/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جوں ہی 8 سالہ سدرہ البوردینی کلینک سے مصنوعی بازو لگوا کر لوٹی، اُس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک جاگ اٹھی۔ اردن کے پناہ گزین کیمپ میں اُس نے بےتابی سے سائیکل تھامی اور خوشی سے پہلی بار دوبارہ چلا کر جیسے زندگی کو ایک بار پھر گلے لگا لیا — ایک سال قبل غزہ میں میزائل حملے نے اُس کا بازو چھین لیا تھا، مگر اُس کے حوصلے کو چھو بھی نہ سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سدرہ اُس وقت شدید زخمی ہوئی جب وہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے نصیرات اسکول میں پناہ لیے ہوئے تھی —یہ اُن کئی اسکولوں میں سے ایک تھا جو غزہ میں عارضی پناہ گاہوں میں بدل دیے گئے تھے۔ سدرہ کی والدہ صبرین البوردینی بتاتی ہیں کہ غزہ کا صحت کا نظام اُس وقت مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور خاندان کے لیے علاقے سے نکلنا بھی ناممکن تھا۔ یہی وہ بے بسی تھی جس کے باعث سدرہ کا بازو بچایا نہ جاسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البوردینی نے فون پر بات کرتے ہوئے بارہا اس دن کے لیے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ وہ باہر خوشی سے کھیل رہی ہے اور اُس کے تمام دوست اور بہن بھائی اُس کے نئے بازو کو حیرت اور خوشی سے دیکھ رہے ہیں۔ اپنی بیٹی کو یوں مسکراتا اور زندگی سے بھرپور دیکھ کر میرے دل میں جو شکر کا جذبہ ہے وہ الفاظ سے کہیں بڑھ کر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بازو کراچی میں تیار کیا گیا — ایک ایسا شہر جو غزہ سے 4 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ اسے بائیونکس نامی پاکستانی کمپنی نے بنایا، جو اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے مختلف زاویوں سے تصاویر حاصل کر کے مریض کے لیے ایک تھری ڈی ماڈل تیار کرتی ہے، جس کی بنیاد پر حسبِ ضرورت مصنوعی اعضا تخلیق کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ای او انس نیاز کے مطابق اس سوشل انٹرپرائز اسٹارٹ اپ نے 2021 سے اب تک پاکستان میں ایک ہزار سے زائد مصنوعی بازو تیار کئے ہیں، جن کی مالی معاونت مریضوں کی ادائیگیوں، کارپوریٹ اسپانسرشپ اور عطیات کے ذریعے کی گئی۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کمپنی نے کسی جنگ سے متاثرہ فرد کے لیے مصنوعی اعضا فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سدرہ اور تین سالہ حبیبت اللہ، جس نے غزہ میں دونوں بازو اور ایک ٹانگ کھو دی تھی، نے کئی روز تک آن لائن مشاورت اور ورچوئل فٹنگ کے مراحل سے گزر کر اپنے مصنوعی اعضا کے لیے تیاری مکمل کی۔ بعدازاں انس نیاز کراچی سے عمان پہنچے، جہاں اُنہوں نے ان بچیوں سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی پہلی بین الاقوامی ترسیل خود انجام دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سدرہ کے مصنوعی بازو کی مالی معاونت عمان میں واقع مفاز کلینک نے فراہم کی جبکہ حبیبت اللہ کے لیے درکار فنڈز پاکستانی عوام کی عطیات سے مہیا کیے گئے۔ مفاز کلینک کی سی ای او انتصار عساکر نے کہا کہ کلینک نے بائیونکس کے ساتھ شراکت داری اس لیے کی کیونکہ یہ کمپنی کم لاگت، دور دراز علاقوں کے لیے موزوں حل اور ورچوئل طریقے سے مسائل کے حل کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انس نیاز کے مطابق ہر مصنوعی بازو کی لاگت تقریباً 2,500  ڈالر ہے جو کہ امریکہ میں تیار کردہ متبادل مصنوعی اعضا کی 10,000 سے 20,000 ڈالر تک کی قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بائیونکس کے تیار کردہ بازو تکنیکی اعتبار سے امریکہ میں بننے والے مصنوعی اعضا کے مقابلے میں نسبتاً کم جدید ہیں لیکن یہ بچوں کے لیے کافی حد تک فعالیت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کا دور دراز طریقہ کار انہیں ترکیہ اور جنوبی کوریا جیسے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ قابلِ رسائی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انس نیاز نے کہا کہ ہماری منصوبہ بندی ہے کہ دیگر جنگ زدہ علاقوں جیسے یوکرین میں بھی متاثرہ افراد کو مصنوعی اعضا فراہم کریں اور بائیونکس کو ایک عالمی سطح کی کمپنی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انس نیاز نے بتایا کہ وہ سدرہ اور حبیبت کے مستقبل میں درکار نئے مصنوعی اعضا کے لیے مالی معاونت کے ذرائع تلاش کررہے ہیں اور  ان کی لاگت زیادہ نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف چند پرزے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی، باقی تمام حصے دوبارہ استعمال کیے جاسکتے ہیں تاکہ کسی اور بچے کی مدد کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیونکس کبھی کبھار بچوں کے مصنوعی اعضا میں مشہور خیالی کرداروں جیسے مارول کا آئرن مین یا ڈزنی کی ایلسا کو بھی شامل کرتا ہے۔ انس نیاز کے مطابق یہ پہلو بچوں کو جذباتی طور پر مصنوعی عضو قبول کرنے اور روزمرہ استعمال میں مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی ایجنسی اوچا (OCHA) نے مارچ میں بتایا کہ غزہ میں اب تقریباً 4,500 نئے افراد اعضا سے محروم ہوچکے ہیں، جب کہ جنگ سے قبل کے 2,000 پرانے کیسز اس کے علاوہ ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں فلسطینی ادارہ شماریات کی ایک تحقیق کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 7,000 بچے زخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی صحت حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران 50,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ کا نظامِ صحت گھٹنوں کے بل آچکا ہے، کیونکہ اسرائیل کی سرحدی بندشوں کے باعث اہم طبی سامان کی فراہمی بند ہوچکی ہے۔ اس صورت حال میں زخمیوں کو خصوصی طبی نگہداشت تک رسائی ممکن نہیں رہی، خاص طور پر اس وقت جب زخمیوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلینک منیجر پروایکٹیو پروستھیٹک (لیڈز، برطانیہ) اسد اللہ خان  نے کہا کہ جہاں مریضوں اور طبی ماہرین کا براہِ راست ملنا تقریباً ناممکن ہو، وہاں دور دراز طبی خدمات ایک اہم خلا کو پُر کرتی ہیں — یہ معائنہ، فٹنگ اور فالو اپ جیسے مراحل کو بغیر سفر یا کسی خصوصی مرکز کے ممکن بنا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیونکس بڑے پیمانے پر ایسے جدید حل متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم مالی وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور کمپنی تاحال پائیدار شراکت داریوں کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سدرہ ابھی اپنے نئے ہاتھ کے ساتھ زندگی سے ہم آہنگ ہونے کے مرحلے میں ہے اور اس پر وہ ایک پیارا سا بریسلیٹ بھی پہنتی ہے۔ گزشتہ ایک سال تک، جب بھی وہ اپنے جذبات کا اظہار دل کے نشان سے کرنا چاہتی، تو دوسروں سے کہتی کہ وہ اُس کے لیے دوسرا ہاتھ بن جائیں۔ لیکن اس بار، اُس نے پہلی بار خود اپنے دونوں ہاتھوں سے دل بنایا، ایک تصویر لی، اور اُسے اپنے والد کو بھیج دیا — جو اب بھی غزہ میں محصور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سدرہ نے کہا کہ جس لمحے کا مجھے سب سے زیادہ انتظار ہے وہ یہ ہے کہ جب میں اپنے ابو سے ملوں تو اپنے دونوں بازوؤں سے انہیں گلے لگا سکوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جوں ہی 8 سالہ سدرہ البوردینی کلینک سے مصنوعی بازو لگوا کر لوٹی، اُس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک جاگ اٹھی۔ اردن کے پناہ گزین کیمپ میں اُس نے بےتابی سے سائیکل تھامی اور خوشی سے پہلی بار دوبارہ چلا کر جیسے زندگی کو ایک بار پھر گلے لگا لیا — ایک سال قبل غزہ میں میزائل حملے نے اُس کا بازو چھین لیا تھا، مگر اُس کے حوصلے کو چھو بھی نہ سکا۔</strong></p>
<p>سدرہ اُس وقت شدید زخمی ہوئی جب وہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے نصیرات اسکول میں پناہ لیے ہوئے تھی —یہ اُن کئی اسکولوں میں سے ایک تھا جو غزہ میں عارضی پناہ گاہوں میں بدل دیے گئے تھے۔ سدرہ کی والدہ صبرین البوردینی بتاتی ہیں کہ غزہ کا صحت کا نظام اُس وقت مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا اور خاندان کے لیے علاقے سے نکلنا بھی ناممکن تھا۔ یہی وہ بے بسی تھی جس کے باعث سدرہ کا بازو بچایا نہ جاسکا۔</p>
<p>البوردینی نے فون پر بات کرتے ہوئے بارہا اس دن کے لیے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ وہ باہر خوشی سے کھیل رہی ہے اور اُس کے تمام دوست اور بہن بھائی اُس کے نئے بازو کو حیرت اور خوشی سے دیکھ رہے ہیں۔ اپنی بیٹی کو یوں مسکراتا اور زندگی سے بھرپور دیکھ کر میرے دل میں جو شکر کا جذبہ ہے وہ الفاظ سے کہیں بڑھ کر ہے۔</p>
<p>یہ بازو کراچی میں تیار کیا گیا — ایک ایسا شہر جو غزہ سے 4 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔ اسے بائیونکس نامی پاکستانی کمپنی نے بنایا، جو اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے مختلف زاویوں سے تصاویر حاصل کر کے مریض کے لیے ایک تھری ڈی ماڈل تیار کرتی ہے، جس کی بنیاد پر حسبِ ضرورت مصنوعی اعضا تخلیق کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سی ای او انس نیاز کے مطابق اس سوشل انٹرپرائز اسٹارٹ اپ نے 2021 سے اب تک پاکستان میں ایک ہزار سے زائد مصنوعی بازو تیار کئے ہیں، جن کی مالی معاونت مریضوں کی ادائیگیوں، کارپوریٹ اسپانسرشپ اور عطیات کے ذریعے کی گئی۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کمپنی نے کسی جنگ سے متاثرہ فرد کے لیے مصنوعی اعضا فراہم کیا ہے۔</p>
<p>سدرہ اور تین سالہ حبیبت اللہ، جس نے غزہ میں دونوں بازو اور ایک ٹانگ کھو دی تھی، نے کئی روز تک آن لائن مشاورت اور ورچوئل فٹنگ کے مراحل سے گزر کر اپنے مصنوعی اعضا کے لیے تیاری مکمل کی۔ بعدازاں انس نیاز کراچی سے عمان پہنچے، جہاں اُنہوں نے ان بچیوں سے ملاقات کی اور اپنی کمپنی کی پہلی بین الاقوامی ترسیل خود انجام دی۔</p>
<p>سدرہ کے مصنوعی بازو کی مالی معاونت عمان میں واقع مفاز کلینک نے فراہم کی جبکہ حبیبت اللہ کے لیے درکار فنڈز پاکستانی عوام کی عطیات سے مہیا کیے گئے۔ مفاز کلینک کی سی ای او انتصار عساکر نے کہا کہ کلینک نے بائیونکس کے ساتھ شراکت داری اس لیے کی کیونکہ یہ کمپنی کم لاگت، دور دراز علاقوں کے لیے موزوں حل اور ورچوئل طریقے سے مسائل کے حل کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>انس نیاز کے مطابق ہر مصنوعی بازو کی لاگت تقریباً 2,500  ڈالر ہے جو کہ امریکہ میں تیار کردہ متبادل مصنوعی اعضا کی 10,000 سے 20,000 ڈالر تک کی قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ کم ہے۔</p>
<p>اگرچہ بائیونکس کے تیار کردہ بازو تکنیکی اعتبار سے امریکہ میں بننے والے مصنوعی اعضا کے مقابلے میں نسبتاً کم جدید ہیں لیکن یہ بچوں کے لیے کافی حد تک فعالیت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کا دور دراز طریقہ کار انہیں ترکیہ اور جنوبی کوریا جیسے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ قابلِ رسائی بناتا ہے۔</p>
<p>انس نیاز نے کہا کہ ہماری منصوبہ بندی ہے کہ دیگر جنگ زدہ علاقوں جیسے یوکرین میں بھی متاثرہ افراد کو مصنوعی اعضا فراہم کریں اور بائیونکس کو ایک عالمی سطح کی کمپنی بنائیں۔</p>
<p>انس نیاز نے بتایا کہ وہ سدرہ اور حبیبت کے مستقبل میں درکار نئے مصنوعی اعضا کے لیے مالی معاونت کے ذرائع تلاش کررہے ہیں اور  ان کی لاگت زیادہ نہیں ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف چند پرزے تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی، باقی تمام حصے دوبارہ استعمال کیے جاسکتے ہیں تاکہ کسی اور بچے کی مدد کی جا سکے۔</p>
<p>بائیونکس کبھی کبھار بچوں کے مصنوعی اعضا میں مشہور خیالی کرداروں جیسے مارول کا آئرن مین یا ڈزنی کی ایلسا کو بھی شامل کرتا ہے۔ انس نیاز کے مطابق یہ پہلو بچوں کو جذباتی طور پر مصنوعی عضو قبول کرنے اور روزمرہ استعمال میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی ایجنسی اوچا (OCHA) نے مارچ میں بتایا کہ غزہ میں اب تقریباً 4,500 نئے افراد اعضا سے محروم ہوچکے ہیں، جب کہ جنگ سے قبل کے 2,000 پرانے کیسز اس کے علاوہ ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔</p>
<p>اپریل میں فلسطینی ادارہ شماریات کی ایک تحقیق کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 7,000 بچے زخمی ہو چکے ہیں۔ مقامی صحت حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران 50,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ کا نظامِ صحت گھٹنوں کے بل آچکا ہے، کیونکہ اسرائیل کی سرحدی بندشوں کے باعث اہم طبی سامان کی فراہمی بند ہوچکی ہے۔ اس صورت حال میں زخمیوں کو خصوصی طبی نگہداشت تک رسائی ممکن نہیں رہی، خاص طور پر اس وقت جب زخمیوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔</p>
<p>کلینک منیجر پروایکٹیو پروستھیٹک (لیڈز، برطانیہ) اسد اللہ خان  نے کہا کہ جہاں مریضوں اور طبی ماہرین کا براہِ راست ملنا تقریباً ناممکن ہو، وہاں دور دراز طبی خدمات ایک اہم خلا کو پُر کرتی ہیں — یہ معائنہ، فٹنگ اور فالو اپ جیسے مراحل کو بغیر سفر یا کسی خصوصی مرکز کے ممکن بنا دیتی ہیں۔</p>
<p>بائیونکس بڑے پیمانے پر ایسے جدید حل متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم مالی وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور کمپنی تاحال پائیدار شراکت داریوں کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہے۔</p>
<p>سدرہ ابھی اپنے نئے ہاتھ کے ساتھ زندگی سے ہم آہنگ ہونے کے مرحلے میں ہے اور اس پر وہ ایک پیارا سا بریسلیٹ بھی پہنتی ہے۔ گزشتہ ایک سال تک، جب بھی وہ اپنے جذبات کا اظہار دل کے نشان سے کرنا چاہتی، تو دوسروں سے کہتی کہ وہ اُس کے لیے دوسرا ہاتھ بن جائیں۔ لیکن اس بار، اُس نے پہلی بار خود اپنے دونوں ہاتھوں سے دل بنایا، ایک تصویر لی، اور اُسے اپنے والد کو بھیج دیا — جو اب بھی غزہ میں محصور ہیں۔</p>
<p>سدرہ نے کہا کہ جس لمحے کا مجھے سب سے زیادہ انتظار ہے وہ یہ ہے کہ جب میں اپنے ابو سے ملوں تو اپنے دونوں بازوؤں سے انہیں گلے لگا سکوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Startup Recorder</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40274355</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Jul 2025 10:53:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/07/071041040652933.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/07/071041040652933.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
