<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Print</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:06:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:06:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وناسپتی مینوفیکچررز کا ایف بی آر سے گھی اور آئل انڈسٹری کے ریفنڈز فوری ادا کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گھی اور خوردنی تیل کی صنعت کے طویل عرصے سے رکے  اربوں روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر نے اس شعبے کیلئے شدید مالی اور لیکویڈٹی  کا بحران پیدا کردیا ہے جس کے باعث مینوفیکچررز کیلئے روزمرہ کے کاروباری امورچلانا اور ضروری خام مال کی درآمدات کو برقرار رکھنا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8-B  کے تحت گھی اور آئل انڈسٹری کے واجب الادا اربوں روپے کے ریفنڈز ابھی تک ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادائیگیاں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں اور حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے مینوفیکچررز  پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ریفنڈز خود اس انڈسٹری کا اپنا پیسہ ہیں جو پہلے ہی ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کے پاس جمع کرایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ عمر ریحان کے مطابق حکومت کو صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور معیشت کا پہیہ چلتا رکھنے کے لیے ان فندز کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گھی اور خوردنی تیل کی صنعت کے طویل عرصے سے رکے  اربوں روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر نے اس شعبے کیلئے شدید مالی اور لیکویڈٹی  کا بحران پیدا کردیا ہے جس کے باعث مینوفیکچررز کیلئے روزمرہ کے کاروباری امورچلانا اور ضروری خام مال کی درآمدات کو برقرار رکھنا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8-B  کے تحت گھی اور آئل انڈسٹری کے واجب الادا اربوں روپے کے ریفنڈز ابھی تک ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ہیں ۔</p>
<p>یہ ادائیگیاں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں اور حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے مینوفیکچررز  پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ریفنڈز خود اس انڈسٹری کا اپنا پیسہ ہیں جو پہلے ہی ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کے پاس جمع کرایا جا چکا ہے۔</p>
<p>شیخ عمر ریحان کے مطابق حکومت کو صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور معیشت کا پہیہ چلتا رکھنے کے لیے ان فندز کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287089</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:03:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04160024fcfbaa1.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04160024fcfbaa1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پام آئل مارکیٹ پر دباؤ، حریف خوردنی تیلوں اور خام تیل کی قیمتیں گرنے سے مندی کا رجحان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287088/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل  کی قیمتوں میں گزشتہ سیشن میں اضافے کے بعد کمی واقع ہوئی کیونکہ کمزور برآمدی طلب اور سویا آئل اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں اگست کی ترسیل کے لیے پام آئل کا بینچ مارک معاہدہ دوپہر کے وقفے تک 36 رنگٹ یا 0.77 فیصد کمی کے ساتھ 4,641 رنگٹ (1,156.49 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوالالمپور میں قائم تجارتی فرم آئس برگ ایکس ایس ڈی این بی ایچ ڈی کے پروپرائٹری ٹریڈر ڈیوڈ اینگ کا کہنا ہے کہ ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران سویا بین کے تیل اور خام تیل کی قیمتوں میں مندی کے باعث مارکیٹ نیچے آئی جبکہ حال ہی میں کروڈ پام آئل کی طلب میں آنے والی کمی نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلیان کا سب سے زیادہ فعال سویا آئل معاہدہ 0.65 فیصد گرگیا جبکہ پام آئل کا معاہدہ 1.19 فیصد کمی کا شکار ہوا۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ پر سویا آئل کی قیمتوں میں بھی 0.36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پام آئل عالمی مارکیٹ میں دوسرے حریف خوردنی تیلوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی سبزیوں کے تیل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ دوسری جانب کارگو سرویئرز کے تخمینے کے مطابق، مئی  میں ملائیشین پام آئل کی مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 8.8 فیصد سے 15.5 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل  کی قیمتوں میں گزشتہ سیشن میں اضافے کے بعد کمی واقع ہوئی کیونکہ کمزور برآمدی طلب اور سویا آئل اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔</strong></p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں اگست کی ترسیل کے لیے پام آئل کا بینچ مارک معاہدہ دوپہر کے وقفے تک 36 رنگٹ یا 0.77 فیصد کمی کے ساتھ 4,641 رنگٹ (1,156.49 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن پر آ گیا۔</p>
<p>کوالالمپور میں قائم تجارتی فرم آئس برگ ایکس ایس ڈی این بی ایچ ڈی کے پروپرائٹری ٹریڈر ڈیوڈ اینگ کا کہنا ہے کہ ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران سویا بین کے تیل اور خام تیل کی قیمتوں میں مندی کے باعث مارکیٹ نیچے آئی جبکہ حال ہی میں کروڈ پام آئل کی طلب میں آنے والی کمی نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔</p>
<p>ڈیلیان کا سب سے زیادہ فعال سویا آئل معاہدہ 0.65 فیصد گرگیا جبکہ پام آئل کا معاہدہ 1.19 فیصد کمی کا شکار ہوا۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ پر سویا آئل کی قیمتوں میں بھی 0.36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>پام آئل عالمی مارکیٹ میں دوسرے حریف خوردنی تیلوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی سبزیوں کے تیل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ دوسری جانب کارگو سرویئرز کے تخمینے کے مطابق، مئی  میں ملائیشین پام آئل کی مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 8.8 فیصد سے 15.5 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287088</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041544361863c8b.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041544361863c8b.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل بینک اور چارٹر فار کمپیشن پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287085/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے پروگرام این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کے تحت چارٹر فار کمپیشن پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعاون کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پیشہ ورانہ ویلنَس سپورٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام مشاورت اور معاونتی خدمات کے ذریعے ذہنی صحت کے شعبے میں آگاہی اور بہتری کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شراکت داری کے تحت ملازمین کیلئے ملک گیر سطح پر ورچوئل آگاہی سیشنز کا اہتمام کیا جائے گا جن میں اسٹریس مینجمنٹ، جذباتی مضبوطی، ذہنی صحت، اضطراب کا موثر انتظام، صحت مند حدود اور پائیدار خود نگہداشت جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائیگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو چارٹر فار کمپیشن پاکستان سے وابستہ مستند ذہنی صحت کے ماہرین کے ذریعے خفیہ ٹیلی کونسلنگ کے ساتھ فزیکل مشاورتی خدمات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں دونوں اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جنہوں نے جذباتی فلاح و بہبود کے فروغ، صحت مند ورک پلیس کلچر اور زیادہ معاون کام کے ماحول کی تشکیل کے مشترکہ عزم کی تصدیق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، ذہنی توازن اور معاون نظاموں تک رسائی کو فروغ دینا ہے تاکہ صحت مند، متوازن اور مضبوط افرادی قوت تشکیل دی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے پروگرام این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کے تحت چارٹر فار کمپیشن پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے ہیں۔</strong></p>
<p>اس تعاون کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پیشہ ورانہ ویلنَس سپورٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام مشاورت اور معاونتی خدمات کے ذریعے ذہنی صحت کے شعبے میں آگاہی اور بہتری کو فروغ دے گا۔</p>
<p>اس شراکت داری کے تحت ملازمین کیلئے ملک گیر سطح پر ورچوئل آگاہی سیشنز کا اہتمام کیا جائے گا جن میں اسٹریس مینجمنٹ، جذباتی مضبوطی، ذہنی صحت، اضطراب کا موثر انتظام، صحت مند حدود اور پائیدار خود نگہداشت جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائیگا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو چارٹر فار کمپیشن پاکستان سے وابستہ مستند ذہنی صحت کے ماہرین کے ذریعے خفیہ ٹیلی کونسلنگ کے ساتھ فزیکل مشاورتی خدمات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں دونوں اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جنہوں نے جذباتی فلاح و بہبود کے فروغ، صحت مند ورک پلیس کلچر اور زیادہ معاون کام کے ماحول کی تشکیل کے مشترکہ عزم کی تصدیق ہے۔</p>
<p>این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، ذہنی توازن اور معاون نظاموں تک رسائی کو فروغ دینا ہے تاکہ صحت مند، متوازن اور مضبوط افرادی قوت تشکیل دی جاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287085</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:25:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0414215865ed8c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0414215865ed8c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایورسٹ پر چھ روز لاپتا رہنے والا نیپالی کوہ پیما زندہ مل گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپال کے ایک تجربہ کار کوہ پیما گائیڈ، جو ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز سے لاپتا تھے اور جنہیں مردہ سمجھ لیا گیا تھا، معجزانہ طور پر زندہ مل گئے۔ حکام کے مطابق وہ شدید برفانی حالات میں اکیلے رینگتے ہوئے تقریباً بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچاس سال سے زائد عمر کے دوا شیرپا، جو اپنی غیر معمولی مہارت کے باعث مشہور کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے نام پر ہلیری کہلاتے ہیں، 30 مئی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بالائی حصوں میں لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں، تاہم کئی روز تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی صبح ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (ایس پی سی سی) کی ایک ٹیم نے انہیں ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب انتہائی کمزور حالت میں رینگتے ہوئے پایا۔ بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں پر معمولی فراسٹ بائٹ کے آثار ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی اہلیہ دمو شیرپا نے بتایا کہ خاندان نے ان کی زندگی سے امید چھوڑ دی تھی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے آخری مذہبی رسومات بھی شروع کر دی تھیں، لیکن زندہ ملنے کی خبر نے سب کو بے حد خوشی میں مبتلا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی کوہ پیما کرس تھرال، جنہوں نے دوا شیرپا کے ساتھ چوٹی سر کی تھی، نے بتایا کہ خراب موسم اور انتہائی دشوار حالات کے باعث واپسی کا سفر معمول سے کہیں زیادہ طویل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دوا شیرپا سینکڑوں بار ایسی مہمات مکمل کر چکے تھے، اسی لیے انہیں یقین تھا کہ وہ خود راستہ بنا لیں گے، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپال کے ایک تجربہ کار کوہ پیما گائیڈ، جو ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز سے لاپتا تھے اور جنہیں مردہ سمجھ لیا گیا تھا، معجزانہ طور پر زندہ مل گئے۔ حکام کے مطابق وہ شدید برفانی حالات میں اکیلے رینگتے ہوئے تقریباً بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔</strong></p>
<p>پچاس سال سے زائد عمر کے دوا شیرپا، جو اپنی غیر معمولی مہارت کے باعث مشہور کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے نام پر ہلیری کہلاتے ہیں، 30 مئی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بالائی حصوں میں لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں، تاہم کئی روز تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔</p>
<p>جمعرات کی صبح ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (ایس پی سی سی) کی ایک ٹیم نے انہیں ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب انتہائی کمزور حالت میں رینگتے ہوئے پایا۔ بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں پر معمولی فراسٹ بائٹ کے آثار ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔</p>
<p>ان کی اہلیہ دمو شیرپا نے بتایا کہ خاندان نے ان کی زندگی سے امید چھوڑ دی تھی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے آخری مذہبی رسومات بھی شروع کر دی تھیں، لیکن زندہ ملنے کی خبر نے سب کو بے حد خوشی میں مبتلا کر دیا۔</p>
<p>برطانوی کوہ پیما کرس تھرال، جنہوں نے دوا شیرپا کے ساتھ چوٹی سر کی تھی، نے بتایا کہ خراب موسم اور انتہائی دشوار حالات کے باعث واپسی کا سفر معمول سے کہیں زیادہ طویل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دوا شیرپا سینکڑوں بار ایسی مہمات مکمل کر چکے تھے، اسی لیے انہیں یقین تھا کہ وہ خود راستہ بنا لیں گے، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287084</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:24:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0414215559567ad.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0414215559567ad.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکو ڈک منصوبہ: سیکیورٹی اور خریداری کے امور کا جائزہ لینے کے لیے بیرک کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287083/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان کے ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے سیکیورٹی پروٹوکولز اور خریداری کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے بیرک مائننگ کارپوریشن کے نمائندے بدھ کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ وفد جدید ترین آلات کی خریداری اور کمپنی کے قرضہ جات کے فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں شراکت دار ادارے او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے بتایا کہ وفد سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے، تاکہ مزید مالیات اور سیکیورٹی کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔ معاہدے کے تحت اس جائزے میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کتنے اضافی فنڈز درکار ہو سکتے ہیں،تاہم سیکیورٹی فراہم کرنا مکمل طور پر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں قرض دہندگان نے موجودہ پروٹوکولز پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مزید مالیاتی اداروں نے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ریکو ڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد شیئرز بیرک کارپوریشن، 25 فیصد وفاقی حکومت اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان کے ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے سیکیورٹی پروٹوکولز اور خریداری کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے بیرک مائننگ کارپوریشن کے نمائندے بدھ کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ وفد جدید ترین آلات کی خریداری اور کمپنی کے قرضہ جات کے فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کرے گا۔</strong></p>
<p>منصوبے میں شراکت دار ادارے او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے بتایا کہ وفد سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے، تاکہ مزید مالیات اور سیکیورٹی کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔ معاہدے کے تحت اس جائزے میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کتنے اضافی فنڈز درکار ہو سکتے ہیں،تاہم سیکیورٹی فراہم کرنا مکمل طور پر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں قرض دہندگان نے موجودہ پروٹوکولز پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مزید مالیاتی اداروں نے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ریکو ڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد شیئرز بیرک کارپوریشن، 25 فیصد وفاقی حکومت اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287083</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:59:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041355226d17f69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041355226d17f69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوالیفائر ماجا چلنسکا فرنچ اوپن ٹینس کے سیمی فائنل میں پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287082/</link>
      <description>&lt;p&gt;پولینڈ کی 24 سالہ کوالیفائر کھلاڑی مایا  چلنسکا نے فرنچ اوپن میں اپنی شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے روس کی انا کالنسکایا کو شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل میں 22 ویں سیڈ روس کی انا کالنسکایا کو 7-6 اور 6-3 سے ہرا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ چلنسکا اوپن ایرا میں رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی تاریخ کی دوسری، جبکہ کسی بھی گرینڈ سلیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی چھٹی کوالیفائر کھلاڑی بن گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ہونے والے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اب ان کا مقابلہ ورلڈ نمبر ون آرینا سبالینکا یا روس کی ڈیانا شنائیڈر سے ہوگا۔ مایا چلنسکا  کا کہنا تھا کہ وہ میچ کے دوران دباؤ اور تناؤ کا شکار تھیں لیکن انہوں نے صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھی۔ وہ ہر میچ جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کامیابی پر بیحد خوش ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پولینڈ کی 24 سالہ کوالیفائر کھلاڑی مایا  چلنسکا نے فرنچ اوپن میں اپنی شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے روس کی انا کالنسکایا کو شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل میں 22 ویں سیڈ روس کی انا کالنسکایا کو 7-6 اور 6-3 سے ہرا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ چلنسکا اوپن ایرا میں رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی تاریخ کی دوسری، جبکہ کسی بھی گرینڈ سلیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی چھٹی کوالیفائر کھلاڑی بن گئی ہیں۔</p>
<p>ہفتے کو ہونے والے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اب ان کا مقابلہ ورلڈ نمبر ون آرینا سبالینکا یا روس کی ڈیانا شنائیڈر سے ہوگا۔ مایا چلنسکا  کا کہنا تھا کہ وہ میچ کے دوران دباؤ اور تناؤ کا شکار تھیں لیکن انہوں نے صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھی۔ وہ ہر میچ جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کامیابی پر بیحد خوش ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287082</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:35:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041322352ab752a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041322352ab752a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی خدشات : فیفا ورلڈ کپ کے مقامات پر دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلوں پر پابندی عائد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287081/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ورلڈ کپ میچوں کے دوران شائقین کے اسٹیڈیم میں دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں آخری لمحات میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا، جبکہ اس سے قبل خالی اور شفاف پلاسٹک بوتلیں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ اقدام اسٹیڈیم میں بوتلیں یا کین پھینکنے سے کھلاڑیوں اور مداحوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میچوں کے دوران 26 سے 28  سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باعث شائقین نے گرمی اور پینے کے پانی کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم فیفا کا کہنا ہے کہ میزبان شہروں کے تعاون سے اسٹیڈیم کے باہر کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اسٹیڈیم کے اندر پانی کی قیمتیں عام دنوں کے برابر رکھی جائیں گی۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول 48 ٹیموں کا یہ ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ورلڈ کپ میچوں کے دوران شائقین کے اسٹیڈیم میں دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔</strong></p>
<p>فیفا نے اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں آخری لمحات میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا، جبکہ اس سے قبل خالی اور شفاف پلاسٹک بوتلیں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ اقدام اسٹیڈیم میں بوتلیں یا کین پھینکنے سے کھلاڑیوں اور مداحوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب میچوں کے دوران 26 سے 28  سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باعث شائقین نے گرمی اور پینے کے پانی کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم فیفا کا کہنا ہے کہ میزبان شہروں کے تعاون سے اسٹیڈیم کے باہر کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اسٹیڈیم کے اندر پانی کی قیمتیں عام دنوں کے برابر رکھی جائیں گی۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول 48 ٹیموں کا یہ ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287081</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:01:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04131609dfd9fd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04131609dfd9fd9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیگو جوٹا اور والد کے انتقال پر کوناٹے کا ڈپریشن کا اعتراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287080/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانسیسی ڈیفنڈر ابراہیما کوناٹے نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لیورپول کے ساتھی کھلاڑی ڈیگو جوٹا اور اپنے والد کے انتقال کے بعد شدید ڈپریشن کا شکار رہے لیکن اس کے باوجود پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتگال کے فارورڈ جوٹا اور ان کے بھائی آندرے سلوا گزشتہ جولائی کار حادثے میں ہلاک ہوئے، جبکہ کوناٹے کے والد جنوری میں طویل علالت کے بعد چل بسے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوناٹے نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا کہ فٹبال میں بھی کھلاڑی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس تاثر کو فضول قرار دیا کہ زیادہ پیسہ کمانے والے کھلاڑی ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سیزن لیورپول چھوڑنے والے 27 سالہ کوناٹے نے کہا کہ ان المناک واقعات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا، لیکن کلب کا ملازم ہونے کے ناطے وہ میدان میں واپس لوٹنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد وہ ٹیم کو انجری کے بحران سے نکالنے کے لیے رخصتِ غم سے جلدی واپس آگئے تھے، تاہم وہ ذہنی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پائے۔ فرانس کی طرف سے 27 میچز کھیلنے والے کوناٹے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانسیسی ڈیفنڈر ابراہیما کوناٹے نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لیورپول کے ساتھی کھلاڑی ڈیگو جوٹا اور اپنے والد کے انتقال کے بعد شدید ڈپریشن کا شکار رہے لیکن اس کے باوجود پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔</strong></p>
<p>پرتگال کے فارورڈ جوٹا اور ان کے بھائی آندرے سلوا گزشتہ جولائی کار حادثے میں ہلاک ہوئے، جبکہ کوناٹے کے والد جنوری میں طویل علالت کے بعد چل بسے۔</p>
<p>کوناٹے نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا کہ فٹبال میں بھی کھلاڑی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس تاثر کو فضول قرار دیا کہ زیادہ پیسہ کمانے والے کھلاڑی ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتے۔</p>
<p>رواں سیزن لیورپول چھوڑنے والے 27 سالہ کوناٹے نے کہا کہ ان المناک واقعات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا، لیکن کلب کا ملازم ہونے کے ناطے وہ میدان میں واپس لوٹنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد وہ ٹیم کو انجری کے بحران سے نکالنے کے لیے رخصتِ غم سے جلدی واپس آگئے تھے، تاہم وہ ذہنی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پائے۔ فرانس کی طرف سے 27 میچز کھیلنے والے کوناٹے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287080</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:14:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0413064615d978d.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0413064615d978d.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی فی تولہ قیمت میں 1523 روپے کا اضافہ ، چاندی کے نرخ گرگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287078/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ چاندی کے نرخ گرگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 14.499 ڈالر کے اضافے سے 4468.499 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 1523 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 69 ہزار 285 روپے پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 1305 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 2 ہزار 335 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ  کو سونے کی فی تولہ قیمت 8600 روپے کی بڑی کمی سے 4 لاکھ 67 ہزار 762 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 97 روپے کی کمی سے 7797 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ چاندی کے نرخ گرگئے۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 14.499 ڈالر کے اضافے سے 4468.499 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 1523 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 69 ہزار 285 روپے پر جاپہنچا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 1305 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 2 ہزار 335 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ  کو سونے کی فی تولہ قیمت 8600 روپے کی بڑی کمی سے 4 لاکھ 67 ہزار 762 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 97 روپے کی کمی سے 7797 روپے ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287078</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:51:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041417411750f35.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041417411750f35.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>21 ہلاکتوں کے بعد دہلی میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد سخت کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287077/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی دہلی میں بدھ کے روز ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 12 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد شہر میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دہلی بھر میں گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا، اور جہاں بھی فائر سیفٹی اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پائی گئی وہاں فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔ غیر معیاری عمارتوں کو سیل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آگ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں لگی، جسے مقامی میڈیا کے مطابق قریبی اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ واقعہ 2022 کے بعد شہر کا سب سے مہلک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ہوٹل کے مالک کو گرفتار کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی دہلی میں بدھ کے روز ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 12 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد شہر میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دہلی بھر میں گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا، اور جہاں بھی فائر سیفٹی اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پائی گئی وہاں فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔ غیر معیاری عمارتوں کو سیل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ آگ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں لگی، جسے مقامی میڈیا کے مطابق قریبی اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ واقعہ 2022 کے بعد شہر کا سب سے مہلک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس نے ہوٹل کے مالک کو گرفتار کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287077</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:49:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04124704bddaa2e.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04124704bddaa2e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کو کانگریس میں دھچکا، ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287076/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریپبلکن جماعت کے زیرِ قیادت امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ اس اقدام کو ان کی اپنی جماعت کے اندر جنگ کے تین ماہ سے جاری تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان میں ہونے والی ووٹنگ 215 کے مقابلے میں 208 رہی، جس میں چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر وار پاورز قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد صدر کو اس وقت تک ایران میں امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت دیتی ہے جب تک کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری نہ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ٹرمپ کے لیے کانگریس میں ایک اور سیاسی دھچکا ہے، اگرچہ ریپبلکنز کے پاس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ووٹ فی الحال علامتی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کسی بھی قانون کے مؤثر ہونے کے لیے اسے سینیٹ کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے، اور اس پر بھی قانونی بحث جاری ہے کہ آیا وار پاورز قراردادیں آئینی طور پر نافذ العمل ہو سکتی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ووٹنگ اس بات کی عکاس ہے کہ کچھ ریپبلکن ارکان ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر غیر مطمئن ہیں اور یہ کانگریس کی جانب سے صدارتی جنگی اختیارات محدود کرنے کی ایک نادر دو جماعتی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین قراردادیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم اس بار مخالفت کا فرق انتہائی کم تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے ووٹنگ ملتوی کر دی تھی جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سینیٹ نے بھی ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھایا تھا، تاہم اس پر حتمی ووٹنگ ابھی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ، وارن ڈیوڈسن، برائن فِٹزپٹرک اور تھامس ماسی شامل ہیں، جبکہ سات ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اور صدر کو اکیلے یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب ایران کے خلاف جنگ کے واضح اسٹریٹجک مقاصد سامنے نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن ناقدین اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریپبلکن جماعت کے زیرِ قیادت امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ اس اقدام کو ان کی اپنی جماعت کے اندر جنگ کے تین ماہ سے جاری تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ایوان میں ہونے والی ووٹنگ 215 کے مقابلے میں 208 رہی، جس میں چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر وار پاورز قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد صدر کو اس وقت تک ایران میں امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت دیتی ہے جب تک کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری نہ دے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ٹرمپ کے لیے کانگریس میں ایک اور سیاسی دھچکا ہے، اگرچہ ریپبلکنز کے پاس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت موجود ہے۔</p>
<p>تاہم یہ ووٹ فی الحال علامتی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کسی بھی قانون کے مؤثر ہونے کے لیے اسے سینیٹ کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے، اور اس پر بھی قانونی بحث جاری ہے کہ آیا وار پاورز قراردادیں آئینی طور پر نافذ العمل ہو سکتی ہیں یا نہیں۔</p>
<p>یہ ووٹنگ اس بات کی عکاس ہے کہ کچھ ریپبلکن ارکان ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر غیر مطمئن ہیں اور یہ کانگریس کی جانب سے صدارتی جنگی اختیارات محدود کرنے کی ایک نادر دو جماعتی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین قراردادیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم اس بار مخالفت کا فرق انتہائی کم تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے ووٹنگ ملتوی کر دی تھی جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران سینیٹ نے بھی ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھایا تھا، تاہم اس پر حتمی ووٹنگ ابھی نہیں ہوئی۔</p>
<p>قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ، وارن ڈیوڈسن، برائن فِٹزپٹرک اور تھامس ماسی شامل ہیں، جبکہ سات ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔</p>
<p>ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اور صدر کو اکیلے یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب ایران کے خلاف جنگ کے واضح اسٹریٹجک مقاصد سامنے نہ ہوں۔</p>
<p>ریپبلکن ناقدین اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287076</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:41:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041238409a87fe0.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041238409a87fe0.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں اسرائیلی حملے، 9 فلسطینی شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287074/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں جمعرات کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے علی الصبح تقریباً ایک ہی وقت میں چار رہائشی اپارٹمنٹس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے جن میں والدین بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک عمارت کو شدید تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اندرونی فرنیچر جل چکا تھا اور ملبہ سڑک تک بکھرا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو، جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، میں دیکھا گیا کہ لوگ ایک جلتے ہوئے اپارٹمنٹ سے کمبلوں کی مدد سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور جنگ کے آغاز سے اب تک صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد ممکنہ خطرات کو روکنا ہے، جبکہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت بھی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 930 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں جمعرات کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>طبی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے علی الصبح تقریباً ایک ہی وقت میں چار رہائشی اپارٹمنٹس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے جن میں والدین بھی شامل تھے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک عمارت کو شدید تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اندرونی فرنیچر جل چکا تھا اور ملبہ سڑک تک بکھرا ہوا تھا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو، جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، میں دیکھا گیا کہ لوگ ایک جلتے ہوئے اپارٹمنٹ سے کمبلوں کی مدد سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور جنگ کے آغاز سے اب تک صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد ممکنہ خطرات کو روکنا ہے، جبکہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت بھی دے رہی ہے۔</p>
<p>غزہ کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 930 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287074</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:34:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041233196c98864.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041233196c98864.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر نیٹ ٹیکنالوجیز کو 1 ارب روپے کا بڑا پروجیکٹ مل گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (ایس ٹی ایل) کو جمعرات کو تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے منصوبے کے لیے کامیاب بولی دہندہ قرار دے دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کے معروف  آرگنائزیشن کی جانب سے دیا جانے والا یہ پروجیکٹ ہارڈ ویئر اور متعلقہ خدمات کی فراہمی پر مبنی ہے جس کا مقصد اہم مواصلاتی ڈھانچے (کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر) کو بہتر اور جدید بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس پروجیکٹ پر عمل درآمد مالی سال 2026-27 کے دوران کیا جائے گا اور یہ بھی امید ہے کہ یہ منصوبہ عمل درآمد کی اس مدت کے دوران سپر نیٹ کی آمدنی (ریونیو) میں اضافے اور منافع بخش ہونے میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر، کنیکٹیویٹی، سائبر سیکیورٹی، مینیجڈ سروسز اور ڈیجیٹل تبدیلی  کے سلوشنز فراہم کرنے میں تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی دفاع ٹیلی کمیونیکیشنز، کارپوریٹ سیکٹر (انٹرپرائز)، حکومتی اداروں اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلے ہوئے صارفین (کلائنٹس) کی ایک وسیع رینج کو خدمات فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (ایس ٹی ایل) کو جمعرات کو تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے منصوبے کے لیے کامیاب بولی دہندہ قرار دے دیا گیا۔</strong></p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کے معروف  آرگنائزیشن کی جانب سے دیا جانے والا یہ پروجیکٹ ہارڈ ویئر اور متعلقہ خدمات کی فراہمی پر مبنی ہے جس کا مقصد اہم مواصلاتی ڈھانچے (کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر) کو بہتر اور جدید بنانا ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس پروجیکٹ پر عمل درآمد مالی سال 2026-27 کے دوران کیا جائے گا اور یہ بھی امید ہے کہ یہ منصوبہ عمل درآمد کی اس مدت کے دوران سپر نیٹ کی آمدنی (ریونیو) میں اضافے اور منافع بخش ہونے میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر، کنیکٹیویٹی، سائبر سیکیورٹی، مینیجڈ سروسز اور ڈیجیٹل تبدیلی  کے سلوشنز فراہم کرنے میں تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھتی ہے۔</p>
<p>کمپنی دفاع ٹیلی کمیونیکیشنز، کارپوریٹ سیکٹر (انٹرپرائز)، حکومتی اداروں اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلے ہوئے صارفین (کلائنٹس) کی ایک وسیع رینج کو خدمات فراہم کرتی ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287075</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:32:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041223036783329.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041223036783329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کریمیا میں یوکرینی حملوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287073/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب روس کے زیر قبضہ کریمیا میں یوکرینی حملوں اور روسی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریمیا میں روس کے مقرر کردہ حکام کے مطابق یوکرینی فورسز نے انتظامی شہر سیواستوپول اور سمیفروپول کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ کریمیا کے روسی حمایت یافتہ سربراہ سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ سمیفروپول میں ایک غیر رہائشی علاقے پر حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیواستوپول کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل رازووژائیف نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 20 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، تاہم ڈرون کے ملبے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ شہر میں فضائی حملے کا الرٹ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے 2014 میں کریمیا کو ضم کیا تھا، جو 2022 میں شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر حملے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے، جب ماسکو کے حامی صدر کے فرار کے بعد یہ علاقہ روسی کنٹرول میں آ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوکرین میں بھی روسی حملوں کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت کیف کے قریب بورسپل کے صنعتی علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کے مطابق متاثرہ مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں روسی شیلنگ کے باعث کم از کم تین شہری ہلاک ہو گئے، جبکہ دنیپروپیترووسک ریجن میں ایک اور حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نے روس کے اندر توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک آئل ٹرمینل پر حملہ شامل ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے جنگ کو برابر سطح پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روسی سرحدی علاقے بریانسک میں ایک ڈرون حملے میں ایک کرین آپریٹر ہلاک ہو گیا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب روس کے زیر قبضہ کریمیا میں یوکرینی حملوں اور روسی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</strong></p>
<p>کریمیا میں روس کے مقرر کردہ حکام کے مطابق یوکرینی فورسز نے انتظامی شہر سیواستوپول اور سمیفروپول کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ کریمیا کے روسی حمایت یافتہ سربراہ سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ سمیفروپول میں ایک غیر رہائشی علاقے پر حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔</p>
<p>سیواستوپول کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل رازووژائیف نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 20 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، تاہم ڈرون کے ملبے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ شہر میں فضائی حملے کا الرٹ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔</p>
<p>روس نے 2014 میں کریمیا کو ضم کیا تھا، جو 2022 میں شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر حملے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے، جب ماسکو کے حامی صدر کے فرار کے بعد یہ علاقہ روسی کنٹرول میں آ گیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب یوکرین میں بھی روسی حملوں کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت کیف کے قریب بورسپل کے صنعتی علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کے مطابق متاثرہ مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔</p>
<p>مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں روسی شیلنگ کے باعث کم از کم تین شہری ہلاک ہو گئے، جبکہ دنیپروپیترووسک ریجن میں ایک اور حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>یوکرین نے روس کے اندر توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک آئل ٹرمینل پر حملہ شامل ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے جنگ کو برابر سطح پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>ادھر روسی سرحدی علاقے بریانسک میں ایک ڈرون حملے میں ایک کرین آپریٹر ہلاک ہو گیا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو رہی ہے۔</p>
<p>جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287073</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:31:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04122946c4d3ad7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04122946c4d3ad7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقدس جھوٹ اور نیک نیتی کے ساتھ بدعنوانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287070/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افلاطون نے اپنی کتاب ریپبلک میں مقدس جھوٹ (Noble Lie) کا تصور پیش کیا، یعنی ایسا افسانہ جو حکمران اپنے شہریوں کے لیے گھڑتے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افلاطون کے مطابق ایک فلسفی حکمران اجتماعی بھلائی کی خاطر           جھوٹ بول سکتا ہے؛ وہ اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایک منظم معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بظاہر کافی بے ضرر بات لگتی ہے؛ ایک ایسا جھوٹ جو حکمران کے اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اکثریت کے سکون کے لیے ہو۔ آخرکار، اس سے زیادہ اعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ بے گناہوں کو بچانے، گھبراہٹ کو روکنے یا نظم برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ مقدس جھوٹ صرف ایک جھوٹ نہیں ہوتا؛ یہ ایک فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس میں مہارت، مشق، اور جواز تراشنے کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست شامل ہوتی ہے۔ ایک سادہ، ضروری جھوٹ مزید ایسے جھوٹوں کو جنم دیتا ہے جو پہلے جھوٹ کی وجہ سے ضروری ہو جاتے ہیں۔ نیکی پر مبنی دھوکے سے مکمل تباہی تک کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" href="#مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقدس جھوٹ کا ڈھانچہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جدید دور کی علمیات میں، ایک حکومت معاشی اعداد و شمار چھپا لیتی ہے تاکہ گھبراہٹ نہ پھیلے، ایک ڈاکٹر مریض کو مہلک بیماری کی تشخیص امید برقرار دیکھنے کیلئے نہیں بتاتا، اور ایک رہنما حملے کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے شواہد کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے رحم کا عمل قرار دیتا ہے؛ وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقدس جھوٹا ہمیشہ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے؛ وہ زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؛ وہ زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے کہ لوگوں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر خود ارادیت کے خلاف ایک دلیل ہے۔ لوگ اپنی جہالت میں ممکن ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے مفاد کے خلاف فیصلے کریں، اس لیے جھوٹ بولنے والا ان کے لیے فیصلے کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خود-فریبی-کا-ہنر" href="#خود-فریبی-کا-ہنر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خود فریبی کا ہنر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مقدس جھوٹ کی حقیقی شرافت دوسروں کو دھوکہ دینے میں نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے میں ہے۔ تاکہ جھوٹ مقدس رہے، جھوٹ بولنے والے کو پہلے خود یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ وہ اخلاقی کام کر رہا ہے۔ وہ کبھی بھی، نہ اپنے لیے اور نہ دوسروں کے لیے، ایک ہیرا پھیری کرنے والا یا بزدل نظر نہیں آ سکتا۔ اسے اسے تحفظ یا قربانی کے عمل کے طور پر جواز دینا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ایک پیچیدہ جوازی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جیسے وہ ابھی سچ کے لیے تیار نہیں، یہ صحیح وقت نہیں ہے، مقاصد ذرائع کو جائز بناتے ہیں۔ یہ محض منافقانہ بہانے نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی طور پر مانے گئے عقائد ہوتے ہیں، جو مقدس جھوٹ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایک منافق کو قائل کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی اداکاری سے تھک سکتا ہے، لیکن خود راست باز جھوٹ بولنے والا واقعی اپنی ہی نیکی پر یقین رکھتا ہے اور آئینے میں اپنی بکھری ہوئی تصویر کو پہچان نہیں پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناگزیر-زوال" href="#ناگزیر-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناگزیر زوال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی جھوٹ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔ یہ دھوکے کا بنیادی اصول ہے۔ آج کا جھوٹ کل سہارا مانگتا ہے؛ چھپائے گئے معاشی حقائق کو اگلے مرحلے میں جعلی ترقیاتی اعداد و شمار سے سہارا دینا پڑتا ہے، چھپائی گئی طبی تشخیص کو جعلی رضامندی فارموں اور گھڑے گئے خاندانی مباحثوں سے بدلنا پڑتا ہے، جنگی معلومات کے جھوٹ کو بعد کے کور اپس، مخبروں کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے فائلوں کے انبار سے چھپانا پڑتا ہے۔ ہر نئی تہہ کے ساتھ داؤ بڑھتے جاتے ہیں، اور کسی بھی لمحے حقیقت کا انکشاف صرف شرمندگی نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح جھوٹ بولنے والے کی توجہ دوسروں کو بچانے سے ہٹ کر خود جھوٹ کو بچانے اور اپنی مقدس حیثیت کو برقرار رکھنے پر چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" href="#سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سچ کا بوجھ: جاننے کی ہلکاپن&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس کا متبادل کیا ہے؟ یقیناً بربریت نہیں۔ مشکل سچائیوں کو شائستگی سے بیان کرنا ممکن ہے، معلومات کو مکمل گھڑنے کے بجائے دانشمندی سے منظم کرنا ممکن ہے، اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بہترین دستیاب معلومات کے ساتھ فیصلے کریں—یہاں تک کہ اگر وہ فیصلے خوشگوار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ، اپنی تعریف کے مطابق، دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچ کا دفاع کیا جا سکتا ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے، اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سچ تنقید کے سامنے نہیں ٹوٹتا؛ سچ مضبوط ہوتا ہے۔ سچ پر مبنی معاشرہ، مقدس جھوٹ پر مبنی معاشرے کے مقابلے میں شاید زیادہ انتشار کا شکار، زیادہ سست اور زیادہ بحث طلب ہو، لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے؛ اسے فلسفی بادشاہوں کی ایک جماعت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے اپنے شہریوں کو کمزور اور طفلانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدس جھوٹ دراصل ایک فن ہے، یہ سچ ہے—خود جواز، ہیرا پھیری، اور بتدریج بڑھتے ہوئے فریب کا فن۔ لیکن یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالآخر ریت کے محل کے سوا کچھ نہیں چھوڑتا۔ ہر نئی نسل کے ساتھ یہی احساس دوبارہ جنم لیتا ہے کہ نیک نیتی پر مبنی جھوٹ بھی آخر جھوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس پر معاشرہ اور تمام انسانی تعلقات چند موسموں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھوکے میں کوئی شرافت نہیں ہوتی۔ اس میں صرف وہ وقتی سکون ہوتا ہے جو حقیقت کا سامنا دوبارہ کرنے سے پہلے ملتا ہے، جو اکثر سخت اور طویل سردی کی صورت میں آتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تباہی کے لیے صرف تین عناصر درکار ہوتے ہیں: ایک جھوٹ، ایک نیک نیتی، اور یہ جہالت کہ سچائی ہمیشہ زیادہ مہربان حل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افلاطون نے اپنی کتاب ریپبلک میں مقدس جھوٹ (Noble Lie) کا تصور پیش کیا، یعنی ایسا افسانہ جو حکمران اپنے شہریوں کے لیے گھڑتے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>افلاطون کے مطابق ایک فلسفی حکمران اجتماعی بھلائی کی خاطر           جھوٹ بول سکتا ہے؛ وہ اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایک منظم معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بظاہر کافی بے ضرر بات لگتی ہے؛ ایک ایسا جھوٹ جو حکمران کے اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اکثریت کے سکون کے لیے ہو۔ آخرکار، اس سے زیادہ اعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ بے گناہوں کو بچانے، گھبراہٹ کو روکنے یا نظم برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولا جائے۔</p>
<p>کیونکہ مقدس جھوٹ صرف ایک جھوٹ نہیں ہوتا؛ یہ ایک فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس میں مہارت، مشق، اور جواز تراشنے کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست شامل ہوتی ہے۔ ایک سادہ، ضروری جھوٹ مزید ایسے جھوٹوں کو جنم دیتا ہے جو پہلے جھوٹ کی وجہ سے ضروری ہو جاتے ہیں۔ نیکی پر مبنی دھوکے سے مکمل تباہی تک کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے۔</p>
<h3><a id="مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" href="#مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقدس جھوٹ کا ڈھانچہ</h3>
<p>جدید دور کی علمیات میں، ایک حکومت معاشی اعداد و شمار چھپا لیتی ہے تاکہ گھبراہٹ نہ پھیلے، ایک ڈاکٹر مریض کو مہلک بیماری کی تشخیص امید برقرار دیکھنے کیلئے نہیں بتاتا، اور ایک رہنما حملے کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے شواہد کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے رحم کا عمل قرار دیتا ہے؛ وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔</p>
<p>ایک مقدس جھوٹا ہمیشہ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے؛ وہ زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؛ وہ زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے کہ لوگوں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر خود ارادیت کے خلاف ایک دلیل ہے۔ لوگ اپنی جہالت میں ممکن ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے مفاد کے خلاف فیصلے کریں، اس لیے جھوٹ بولنے والا ان کے لیے فیصلے کرتا ہے۔</p>
<h3><a id="خود-فریبی-کا-ہنر" href="#خود-فریبی-کا-ہنر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خود فریبی کا ہنر</h3>
<p>مقدس جھوٹ کی حقیقی شرافت دوسروں کو دھوکہ دینے میں نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے میں ہے۔ تاکہ جھوٹ مقدس رہے، جھوٹ بولنے والے کو پہلے خود یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ وہ اخلاقی کام کر رہا ہے۔ وہ کبھی بھی، نہ اپنے لیے اور نہ دوسروں کے لیے، ایک ہیرا پھیری کرنے والا یا بزدل نظر نہیں آ سکتا۔ اسے اسے تحفظ یا قربانی کے عمل کے طور پر جواز دینا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے لیے ایک پیچیدہ جوازی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جیسے وہ ابھی سچ کے لیے تیار نہیں، یہ صحیح وقت نہیں ہے، مقاصد ذرائع کو جائز بناتے ہیں۔ یہ محض منافقانہ بہانے نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی طور پر مانے گئے عقائد ہوتے ہیں، جو مقدس جھوٹ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایک منافق کو قائل کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی اداکاری سے تھک سکتا ہے، لیکن خود راست باز جھوٹ بولنے والا واقعی اپنی ہی نیکی پر یقین رکھتا ہے اور آئینے میں اپنی بکھری ہوئی تصویر کو پہچان نہیں پاتا۔</p>
<h3><a id="ناگزیر-زوال" href="#ناگزیر-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناگزیر زوال</h3>
<p>کوئی بھی جھوٹ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔ یہ دھوکے کا بنیادی اصول ہے۔ آج کا جھوٹ کل سہارا مانگتا ہے؛ چھپائے گئے معاشی حقائق کو اگلے مرحلے میں جعلی ترقیاتی اعداد و شمار سے سہارا دینا پڑتا ہے، چھپائی گئی طبی تشخیص کو جعلی رضامندی فارموں اور گھڑے گئے خاندانی مباحثوں سے بدلنا پڑتا ہے، جنگی معلومات کے جھوٹ کو بعد کے کور اپس، مخبروں کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے فائلوں کے انبار سے چھپانا پڑتا ہے۔ ہر نئی تہہ کے ساتھ داؤ بڑھتے جاتے ہیں، اور کسی بھی لمحے حقیقت کا انکشاف صرف شرمندگی نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح جھوٹ بولنے والے کی توجہ دوسروں کو بچانے سے ہٹ کر خود جھوٹ کو بچانے اور اپنی مقدس حیثیت کو برقرار رکھنے پر چلی جاتی ہے۔</p>
<h3><a id="سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" href="#سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سچ کا بوجھ: جاننے کی ہلکاپن</h3>
<p>اس کا متبادل کیا ہے؟ یقیناً بربریت نہیں۔ مشکل سچائیوں کو شائستگی سے بیان کرنا ممکن ہے، معلومات کو مکمل گھڑنے کے بجائے دانشمندی سے منظم کرنا ممکن ہے، اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بہترین دستیاب معلومات کے ساتھ فیصلے کریں—یہاں تک کہ اگر وہ فیصلے خوشگوار نہ ہوں۔</p>
<p>سچ، اپنی تعریف کے مطابق، دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچ کا دفاع کیا جا سکتا ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے، اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سچ تنقید کے سامنے نہیں ٹوٹتا؛ سچ مضبوط ہوتا ہے۔ سچ پر مبنی معاشرہ، مقدس جھوٹ پر مبنی معاشرے کے مقابلے میں شاید زیادہ انتشار کا شکار، زیادہ سست اور زیادہ بحث طلب ہو، لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے؛ اسے فلسفی بادشاہوں کی ایک جماعت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے اپنے شہریوں کو کمزور اور طفلانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>مقدس جھوٹ دراصل ایک فن ہے، یہ سچ ہے—خود جواز، ہیرا پھیری، اور بتدریج بڑھتے ہوئے فریب کا فن۔ لیکن یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالآخر ریت کے محل کے سوا کچھ نہیں چھوڑتا۔ ہر نئی نسل کے ساتھ یہی احساس دوبارہ جنم لیتا ہے کہ نیک نیتی پر مبنی جھوٹ بھی آخر جھوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس پر معاشرہ اور تمام انسانی تعلقات چند موسموں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتے۔</p>
<p>دھوکے میں کوئی شرافت نہیں ہوتی۔ اس میں صرف وہ وقتی سکون ہوتا ہے جو حقیقت کا سامنا دوبارہ کرنے سے پہلے ملتا ہے، جو اکثر سخت اور طویل سردی کی صورت میں آتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تباہی کے لیے صرف تین عناصر درکار ہوتے ہیں: ایک جھوٹ، ایک نیک نیتی، اور یہ جہالت کہ سچائی ہمیشہ زیادہ مہربان حل ہوتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287070</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:18:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04121607f25c4ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04121607f25c4ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیشرفت: اسرائیل، لبنان جنگ بندی پر متفق، ایران ڈیل کا امکان بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان نے کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جسے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ وسیع تر معاہدے کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران جس نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا، اس سے قبل کویت پر حملہ کر چکا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کے ائرپورٹس کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی، ایران نواز حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اس کے تمام جنگجوؤں (آپریٹوز) کے انخلا سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق گزشتہ ماہ جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان پر حملہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا تعاقب کیا جاسکے جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت اور آبنائے (ہرمز) میں ہونے والے یہ حملے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کا امتحان لینے والا تازہ ترین واقعہ ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ آبنائے بڑے پیمانے پر بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے ڈرون اور میزائل حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچنے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں، اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ بعد ازاں کویت ائیرویز اور جزیرا ائیرویز نے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے بعد اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی ایلیٹ پاسدارانِ انقلاب  کا کہنا ہے کہ انہوں نے کویت کے ہوائی اڈے پر کوئی فائرنگ نہیں کی اور اس تباہی کا ذمہ دار امریکی انٹرسیپٹر (دفاعی) میزائلوں کو ٹھہرایا جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج نے اس دعوے کو غلط  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور پنایا نامی ایک بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خطے میں داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سنٹرل کمانڈ  کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں دفاعی حملوں کا ایک نیا سلسلہ (راؤنڈ) شروع کیا ہے جس میں میزائل داغنے کے مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم  پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان نے کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جسے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ وسیع تر معاہدے کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>تہران جس نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا، اس سے قبل کویت پر حملہ کر چکا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کے ائرپورٹس کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے تھے۔</p>
<p>واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی، ایران نواز حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اس کے تمام جنگجوؤں (آپریٹوز) کے انخلا سے مشروط ہے۔</p>
<p>دونوں فریق گزشتہ ماہ جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان پر حملہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا تعاقب کیا جاسکے جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔</p>
<p>کویت اور آبنائے (ہرمز) میں ہونے والے یہ حملے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کا امتحان لینے والا تازہ ترین واقعہ ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ آبنائے بڑے پیمانے پر بند ہے۔</p>
<p>کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے ڈرون اور میزائل حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچنے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں، اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p>سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ بعد ازاں کویت ائیرویز اور جزیرا ائیرویز نے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے بعد اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی ایلیٹ پاسدارانِ انقلاب  کا کہنا ہے کہ انہوں نے کویت کے ہوائی اڈے پر کوئی فائرنگ نہیں کی اور اس تباہی کا ذمہ دار امریکی انٹرسیپٹر (دفاعی) میزائلوں کو ٹھہرایا جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>امریکی فوج نے اس دعوے کو غلط  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور پنایا نامی ایک بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خطے میں داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔</p>
<p>امریکی سنٹرل کمانڈ  کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں دفاعی حملوں کا ایک نیا سلسلہ (راؤنڈ) شروع کیا ہے جس میں میزائل داغنے کے مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم  پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287072</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:14:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041210425b4f2fd.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041210425b4f2fd.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیج میں کشیدگی کے باعث ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح پر برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287071/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج میں تازہ ترین کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کے رجحان میں کمی کے نتیجے میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب جاپانی ین 160 کی اہم نفسیاتی سطح کے آس پاس ہی گردش کرتا رہا جس نے ٹریڈرز کو مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو کویت پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں وہاں کے ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے ہیں۔ ان واقعات نے پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور جنگ کے سفارتی خاتمے کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1604 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3424 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ایشیائی مارکیٹ میں دونوں کرنسیاں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے لیے حساس تصور کیا جانے والا آسٹریلوی ڈالر 0.7132 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے سنبھلتے ہوئے  0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5872 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.47 پر آ گیا، اس سے پچھلے کاروباری سیشن میں یہ انڈیکس 7 اپریل کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی کے فاریکس  اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں اور عالمی بانڈ منافع میں دوبارہ اضافے کے ساتھ ہی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سیف ہیون کے طور پر امریکی ڈالر کی حیثیت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالر کی قیمتوں میں کسی بڑی مندی کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ بینک اس وقت غیر جانبدار پوزیشن پر قائم ہے اور ڈالر کے مضبوط لیکن ایک خاص حد کے اندر ہی برقرار رہنے  کی توقع رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعدادوشمار کے محاذ پر بدھ کو سامنے آنے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی سروسز بزنسزکی جانب سے ادا کی جانے والی قیمتوں کا انڈیکس چھلانگ لگا کر گزشتہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس چیز نے ماہرینِ معیشت کے اس نقطہِ نظر کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) اگلے سال کے کافی حصے تک شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 159.91 کی سطح پر ٹریڈ ہوا جو کہ بدھ کو ریکارڈ کی جانے والی ان نچلی ترین سطحوں سے کچھ بہتر پوزیشن ہے جس کے باعث ین 30 اپریل کے بعد پہلی بار 160 کی اہم ترین (کریٹیکل) حد کو پار کر گیا تھا اور حکام کی جانب سے زبانی انتباہ  کا باعث بنا تھا۔ مارکیٹوں میں 160 کی اس سطح کو بڑے پیمانے پر ایک ایسی آخری حد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں سے حکومت کی جانب سے مارکیٹ میں باقاعدہ مداخلت کا امکان شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ یوئیدا کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے خطرات معاشی سست روی کے خطرات سے بڑھ جائیں تو مرکزی بینک کو شرحِ سود بڑھانے کے فائدے اور نقصان پر لازمی بحث کرنی چاہیے، ان کے اس تبصرے کو اسی ماہ شرحِ سود میں اضافے کے قوی امکان کے سگنل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برکلیز  میں جاپان ریسرچ کے سربراہ اور چیف جاپان اکانومسٹ ناوہیکو بابا نے لکھا کہ  اگرچہ انہوں نے جون کے اجلاس میں شرحِ سود بڑھانے کا واضح اشارہ دینے سے گریز کیا لیکن انہوں نے اس مرحلے پر جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنی گراؤنڈ ورک کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا ک مرکزی بینک کا سخت جارحانہ مؤقف اب مزید مضبوط ہوگیا ہے جس میں وقت پر فیصلہ نہ کر پانے کے خطرے  پر تشویش کا واضح اظہار بھی شامل ہے۔ ہم جون میں شرحِ سود بڑھائے جانے کے اپنے اندازے پر قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بٹ کوائن گر کر چار ماہ کی نچلی ترین سطح پر آ گیا اور 2.8 فیصد کی مندی کے ساتھ 63,119.5 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ ایتھر بھی اسی طرح چار ماہ کی نچلی ترین سطح کو چھوتے ہوئے 1,786 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج میں تازہ ترین کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں میں خطرہ مول لینے کے رجحان میں کمی کے نتیجے میں جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ دوسری جانب جاپانی ین 160 کی اہم نفسیاتی سطح کے آس پاس ہی گردش کرتا رہا جس نے ٹریڈرز کو مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کے الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو کویت پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں وہاں کے ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے ہیں۔ ان واقعات نے پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور جنگ کے سفارتی خاتمے کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔</p>
<p>یورو 1.1604 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3424 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ایشیائی مارکیٹ میں دونوں کرنسیاں مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔</p>
<p>مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے لیے حساس تصور کیا جانے والا آسٹریلوی ڈالر 0.7132 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے سنبھلتے ہوئے  0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5872 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.47 پر آ گیا، اس سے پچھلے کاروباری سیشن میں یہ انڈیکس 7 اپریل کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔</p>
<p>او سی بی سی کے فاریکس  اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں اور عالمی بانڈ منافع میں دوبارہ اضافے کے ساتھ ہی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سیف ہیون کے طور پر امریکی ڈالر کی حیثیت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکی ڈالر کی قیمتوں میں کسی بڑی مندی کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں ہے۔ بینک اس وقت غیر جانبدار پوزیشن پر قائم ہے اور ڈالر کے مضبوط لیکن ایک خاص حد کے اندر ہی برقرار رہنے  کی توقع رکھتا ہے۔</p>
<p>معاشی اعدادوشمار کے محاذ پر بدھ کو سامنے آنے والے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی سروسز بزنسزکی جانب سے ادا کی جانے والی قیمتوں کا انڈیکس چھلانگ لگا کر گزشتہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس چیز نے ماہرینِ معیشت کے اس نقطہِ نظر کو مزید تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو (امریکی مرکزی بینک) اگلے سال کے کافی حصے تک شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھے گا۔</p>
<p>جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 159.91 کی سطح پر ٹریڈ ہوا جو کہ بدھ کو ریکارڈ کی جانے والی ان نچلی ترین سطحوں سے کچھ بہتر پوزیشن ہے جس کے باعث ین 30 اپریل کے بعد پہلی بار 160 کی اہم ترین (کریٹیکل) حد کو پار کر گیا تھا اور حکام کی جانب سے زبانی انتباہ  کا باعث بنا تھا۔ مارکیٹوں میں 160 کی اس سطح کو بڑے پیمانے پر ایک ایسی آخری حد کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں سے حکومت کی جانب سے مارکیٹ میں باقاعدہ مداخلت کا امکان شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ یوئیدا کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے خطرات معاشی سست روی کے خطرات سے بڑھ جائیں تو مرکزی بینک کو شرحِ سود بڑھانے کے فائدے اور نقصان پر لازمی بحث کرنی چاہیے، ان کے اس تبصرے کو اسی ماہ شرحِ سود میں اضافے کے قوی امکان کے سگنل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔</p>
<p>برکلیز  میں جاپان ریسرچ کے سربراہ اور چیف جاپان اکانومسٹ ناوہیکو بابا نے لکھا کہ  اگرچہ انہوں نے جون کے اجلاس میں شرحِ سود بڑھانے کا واضح اشارہ دینے سے گریز کیا لیکن انہوں نے اس مرحلے پر جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنی گراؤنڈ ورک کر دی ہے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا ک مرکزی بینک کا سخت جارحانہ مؤقف اب مزید مضبوط ہوگیا ہے جس میں وقت پر فیصلہ نہ کر پانے کے خطرے  پر تشویش کا واضح اظہار بھی شامل ہے۔ ہم جون میں شرحِ سود بڑھائے جانے کے اپنے اندازے پر قائم ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب بٹ کوائن گر کر چار ماہ کی نچلی ترین سطح پر آ گیا اور 2.8 فیصد کی مندی کے ساتھ 63,119.5 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ ایتھر بھی اسی طرح چار ماہ کی نچلی ترین سطح کو چھوتے ہوئے 1,786 ڈالر پر آ گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287071</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:54:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0411374075677d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0411374075677d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید، ڈالر اور تیل سستا، سونا مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287069/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جسے خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کی قدر میں کمزوری سے سہارا ملا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کی نئی امیدوں اور امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد کے اضافے کے ساتھ 4,464.69 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی مارکیٹ میں اگست کی ترسیل کے لیے مستقبل کے سودے 0.6 فیصد بڑھ کر 4,491.70 ڈالر پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حاملین کے لیے ڈالر کی قیمت میں فروخت ہونے والا سونا خریدنا زیادہ سستا  ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ اب بھی بہت حد تک خام تیل اور ڈالر کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں اوپر جاتا ہے جب ان دونوں کی قیمتوں میں کمی آئے جس کی وجہ سے قیمتوں میں کسی بھی مستقل استحکام یا تیزی کے لیے سونا پوری طرح امریکہ ایران مذاکرات کی مثبت خبروں پر منحصر ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر رضامند ہوگئے جس سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کیلئے ایک وسیع تر معاہدے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی قیادت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنے کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے جو کہ گزشتہ تین ماہ سے جاری اس تنازع پر خود ان کی اپنی ہی جماعت کے ارکان کے درمیان بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدیں بڑھنے سے جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری (ہیج) تصور کیا جاتا ہے تاہم شرحِ سود میں اضافہ اس بغیر منافع/سود والی دھات (سونا) کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک فیڈرل ریزرو کے صدر جان ولیمز نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافے کے خطرات  کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کی توقع نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس وقت امریکہ کی مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹون ایکس کے سینئر اینالسٹ میٹ سمپسن کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم نے ابھی تیزی کے اس رجحان  کا اختتام دیکھ لیا ہے لیکن واضح طور پر اب مارکیٹ میں ایک صفائی یا تصحیح کا وقت آ گیا ہے۔ اس لیے میں سال کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے مارکیٹ میں نادانستہ اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہا ہوں جس میں قیمتوں کا رجحان معمولی برتری کے ساتھ تقریباً 5 ہزار ڈالر کی سطح تک اوپر کی جانب رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ سلور کی قیمت 1 فیصد اضافے کے ساتھ 73.44 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلاٹینم کی قیمت بھی 1 فیصد بڑھ کر 1,878.50 ڈالر ہو گئی جبکہ پلیڈیم کی قیمت میں 0.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 1,309.68 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جسے خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کی قدر میں کمزوری سے سہارا ملا کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کی نئی امیدوں اور امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد کے اضافے کے ساتھ 4,464.69 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی مارکیٹ میں اگست کی ترسیل کے لیے مستقبل کے سودے 0.6 فیصد بڑھ کر 4,491.70 ڈالر پر پہنچ گئے۔</p>
<p>ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حاملین کے لیے ڈالر کی قیمت میں فروخت ہونے والا سونا خریدنا زیادہ سستا  ہوگیا۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ اب بھی بہت حد تک خام تیل اور ڈالر کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں اوپر جاتا ہے جب ان دونوں کی قیمتوں میں کمی آئے جس کی وجہ سے قیمتوں میں کسی بھی مستقل استحکام یا تیزی کے لیے سونا پوری طرح امریکہ ایران مذاکرات کی مثبت خبروں پر منحصر ہوچکا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر رضامند ہوگئے جس سے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کیلئے ایک وسیع تر معاہدے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی قیادت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنے کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے جو کہ گزشتہ تین ماہ سے جاری اس تنازع پر خود ان کی اپنی ہی جماعت کے ارکان کے درمیان بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاس ہے۔</p>
<p>لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدیں بڑھنے سے جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری (ہیج) تصور کیا جاتا ہے تاہم شرحِ سود میں اضافہ اس بغیر منافع/سود والی دھات (سونا) کی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>نیویارک فیڈرل ریزرو کے صدر جان ولیمز نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافے کے خطرات  کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کی توقع نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس وقت امریکہ کی مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>اسٹون ایکس کے سینئر اینالسٹ میٹ سمپسن کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم نے ابھی تیزی کے اس رجحان  کا اختتام دیکھ لیا ہے لیکن واضح طور پر اب مارکیٹ میں ایک صفائی یا تصحیح کا وقت آ گیا ہے۔ اس لیے میں سال کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے مارکیٹ میں نادانستہ اتار چڑھاؤ کی توقع کر رہا ہوں جس میں قیمتوں کا رجحان معمولی برتری کے ساتھ تقریباً 5 ہزار ڈالر کی سطح تک اوپر کی جانب رہے گا۔</p>
<p>اسپاٹ سلور کی قیمت 1 فیصد اضافے کے ساتھ 73.44 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔</p>
<p>پلاٹینم کی قیمت بھی 1 فیصد بڑھ کر 1,878.50 ڈالر ہو گئی جبکہ پلیڈیم کی قیمت میں 0.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 1,309.68 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287069</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:36:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041121497db42b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="339" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041121497db42b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کا مکمل اثر آنا ابھی باقی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287065/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ 2022 کے کموڈٹی سپر سائیکل کی مکمل واپسی تو نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے قریب کچھ ہے، لیکن ہول سیل سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ شروع ہو رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں جھٹکا حالیہ ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے، اور اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات اب بنیادی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا رجحان تھا جو اس وقت ہی ناگزیر نظر آ رہا تھا جب  ڈبلیو پی آئی پہلی بار دو ہندسوں کی سطح پر پہنچا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ڈبلیو پی آئی میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن یہ اب بھی سالانہ تقریباً 13 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔ حیرت انگیز نہیں کہ قابلِ نقل و حمل اشیا اس اضافے کی قیادت کر رہی ہیں، جو گزشتہ دو ماہ میں اوسطاً 38 فیصد بڑھ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل، پیٹرول، مٹی کا تیل (کیروسین آئل)، موبل آئل اور فرنس آئل مل کر ڈبلیو پی آئی باسکٹ کا تقریباً 11 فیصد حصہ بنتے ہیں، جبکہ شہری اور دیہی  سی پی آئی باسکٹس میں یہ حصہ بالترتیب صرف 2.9 فیصد اور 2.5 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724283f55f39.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724283f55f39.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صرف ڈیزل ہی ڈبلیو پی آئی میں 5.5 فیصد وزن رکھتا ہے، اس کے بعد فرنس آئل 3.3 فیصد اور پیٹرول 1.6 فیصد ہے۔ ان کی قیمتوں میں بالترتیب 70 فیصد، 44 فیصد اور 62 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے تنازع کی بار بار بدلتی ہوئی صورتحال، اور حالیہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تیل کی مارکیٹ ابھی مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں آئی۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا ریٹیل مہنگائی تک منتقل ہونا تیز ہوتا ہے، اور اس کے اثرات پہلے ہی سی پی آئی کے اعداد و شمار میں نظر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے پھیلاؤ کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر قابلِ نقل و حمل اشیا اور تیار شدہ مصنوعات کی وسیع تر اقسام سے سامنے آئے گا۔ صابن اور ڈٹرجنٹس، کیمیکلز، تعمیراتی مواد، کپڑے اور پلاسٹک مصنوعات کی قیمتیں ڈبلیو پی آئی میں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ موٹر فیول کے برعکس، ان زمروں میں ریٹیل قیمتوں تک اثر پہنچنے میں عام طور پر تاخیر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724312b1707e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724312b1707e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کی کچھ جھلک پہلے ہی نظر آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر جوتوں کی قیمتیں سی پی آئی میں ماہانہ 29 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسی کے مقابلے میں ڈبلیو پی آئی مہنگائی 51 فیصد ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریٹیل قیمتوں میں مزید ایڈجسٹمنٹ ابھی باقی ہو سکتی ہے۔ آلات اور گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی تیز اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں کچھ نے تاریخ کی بلند ترین ماہانہ بڑھوتری ریکارڈ کی ہے۔ اگر یہ دباؤ آخرکار صارف مہنگائی تک نہ پہنچے تو یہ حیران کن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خوراک کی مہنگائی نسبتاً قابو میں رہی ہے، سوائے گندم کے، جس کی بڑی وجہ بہتر فصلوں کی پیداوار ہے۔ لیکن یہ مزاحمت بھی ایک امتحان کا سامنا کر سکتی ہے۔ آخرکار ہر چیز کو نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے، اور تھوک فروش زیادہ لاجسٹکس لاگت کو ہمیشہ جذب نہیں کر سکتے۔ اب تک وہ بڑی حد تک ایسا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر یقینی صورتحال میں اضافہ اس امکان سے بھی ہو رہا ہے کہ ایک مضبوط ال نینو  موسم جنم لے سکتا ہے۔ اگر موسمی حالات خراب ہوتے ہیں تو مہنگائی کا منظرنامہ بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر خوراک کی قیمتوں کے حوالے سے۔ تاہم یہ ایک الگ کہانی ہے، امید ہے کہ یہ پالیسی سازوں کو اچانک نہ آ پکڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے اس بیانیے میں ڈبلیو پی آئی میں موجود مسلسل بے قاعدگیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات  کے صنعتی بجلی کے ٹیرف کے طریقہ کار پر سوالات موجود ہیں، جہاں لگتا ہے کہ انڈیکس حالیہ سال میں کی گئی کمیوں کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتا اور اس طرح لاگت کو زیادہ دکھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ حیران کن بات کپاس کے دھاگے  کی قیمتوں کا معاملہ ہے، جو ڈبلیو پی آئی میں مسلسل 55 ماہ سے تبدیل نہیں ہوئیں۔ یہ اس زمرے میں آتا ہے جس میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کبھی ہوا ہی نہیں۔ مارکیٹ کے شواہد واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اس عرصے میں دھاگے کی قیمتوں میں بار بار اور بعض اوقات نمایاں اتار چڑھاؤ آیا ہے، لیکن یہ تبدیلیاں سرکاری ڈیٹا میں شامل نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزوریاں مجموعی طور پر ہول سیل مہنگائی کے بڑے پیغام کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کرتیں۔ اگر کچھ ہے تو وہ صرف اشارے کی درستگی کو دھندلا کرتی ہیں۔ اصل اشارہ واضح ہے: ہول سیل قیمتوں میں حالیہ اضافے کا ایک بڑا حصہ ابھی سپلائی چین کے اگلے مراحل سے گزر کر مکمل طور پر صارفین تک نہیں پہنچا۔ موجودہ صورتحال میں، امکان یہی ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی کو ابھی مزید اضافہ پورا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ 2022 کے کموڈٹی سپر سائیکل کی مکمل واپسی تو نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے قریب کچھ ہے، لیکن ہول سیل سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ شروع ہو رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں جھٹکا حالیہ ہول سیل پرائس انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے، اور اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات اب بنیادی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا رجحان تھا جو اس وقت ہی ناگزیر نظر آ رہا تھا جب  ڈبلیو پی آئی پہلی بار دو ہندسوں کی سطح پر پہنچا تھا۔</strong></p>
<p>اگرچہ ڈبلیو پی آئی میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن یہ اب بھی سالانہ تقریباً 13 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔ حیرت انگیز نہیں کہ قابلِ نقل و حمل اشیا اس اضافے کی قیادت کر رہی ہیں، جو گزشتہ دو ماہ میں اوسطاً 38 فیصد بڑھ چکی ہیں۔</p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل، پیٹرول، مٹی کا تیل (کیروسین آئل)، موبل آئل اور فرنس آئل مل کر ڈبلیو پی آئی باسکٹ کا تقریباً 11 فیصد حصہ بنتے ہیں، جبکہ شہری اور دیہی  سی پی آئی باسکٹس میں یہ حصہ بالترتیب صرف 2.9 فیصد اور 2.5 فیصد ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724283f55f39.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724283f55f39.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>صرف ڈیزل ہی ڈبلیو پی آئی میں 5.5 فیصد وزن رکھتا ہے، اس کے بعد فرنس آئل 3.3 فیصد اور پیٹرول 1.6 فیصد ہے۔ ان کی قیمتوں میں بالترتیب 70 فیصد، 44 فیصد اور 62 فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے تنازع کی بار بار بدلتی ہوئی صورتحال، اور حالیہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تیل کی مارکیٹ ابھی مکمل طور پر خطرے سے باہر نہیں آئی۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا ریٹیل مہنگائی تک منتقل ہونا تیز ہوتا ہے، اور اس کے اثرات پہلے ہی سی پی آئی کے اعداد و شمار میں نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p>مہنگائی کے پھیلاؤ کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر قابلِ نقل و حمل اشیا اور تیار شدہ مصنوعات کی وسیع تر اقسام سے سامنے آئے گا۔ صابن اور ڈٹرجنٹس، کیمیکلز، تعمیراتی مواد، کپڑے اور پلاسٹک مصنوعات کی قیمتیں ڈبلیو پی آئی میں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ موٹر فیول کے برعکس، ان زمروں میں ریٹیل قیمتوں تک اثر پہنچنے میں عام طور پر تاخیر ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724312b1707e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/06/040724312b1707e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کی کچھ جھلک پہلے ہی نظر آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر جوتوں کی قیمتیں سی پی آئی میں ماہانہ 29 فیصد بڑھ چکی ہیں، جبکہ اسی کے مقابلے میں ڈبلیو پی آئی مہنگائی 51 فیصد ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریٹیل قیمتوں میں مزید ایڈجسٹمنٹ ابھی باقی ہو سکتی ہے۔ آلات اور گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی تیز اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں کچھ نے تاریخ کی بلند ترین ماہانہ بڑھوتری ریکارڈ کی ہے۔ اگر یہ دباؤ آخرکار صارف مہنگائی تک نہ پہنچے تو یہ حیران کن ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب خوراک کی مہنگائی نسبتاً قابو میں رہی ہے، سوائے گندم کے، جس کی بڑی وجہ بہتر فصلوں کی پیداوار ہے۔ لیکن یہ مزاحمت بھی ایک امتحان کا سامنا کر سکتی ہے۔ آخرکار ہر چیز کو نقل و حمل کی ضرورت ہوتی ہے، اور تھوک فروش زیادہ لاجسٹکس لاگت کو ہمیشہ جذب نہیں کر سکتے۔ اب تک وہ بڑی حد تک ایسا کر رہے ہیں۔</p>
<p>غیر یقینی صورتحال میں اضافہ اس امکان سے بھی ہو رہا ہے کہ ایک مضبوط ال نینو  موسم جنم لے سکتا ہے۔ اگر موسمی حالات خراب ہوتے ہیں تو مہنگائی کا منظرنامہ بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر خوراک کی قیمتوں کے حوالے سے۔ تاہم یہ ایک الگ کہانی ہے، امید ہے کہ یہ پالیسی سازوں کو اچانک نہ آ پکڑے۔</p>
<p>مہنگائی کے اس بیانیے میں ڈبلیو پی آئی میں موجود مسلسل بے قاعدگیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات  کے صنعتی بجلی کے ٹیرف کے طریقہ کار پر سوالات موجود ہیں، جہاں لگتا ہے کہ انڈیکس حالیہ سال میں کی گئی کمیوں کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتا اور اس طرح لاگت کو زیادہ دکھاتا ہے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ حیران کن بات کپاس کے دھاگے  کی قیمتوں کا معاملہ ہے، جو ڈبلیو پی آئی میں مسلسل 55 ماہ سے تبدیل نہیں ہوئیں۔ یہ اس زمرے میں آتا ہے جس میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کبھی ہوا ہی نہیں۔ مارکیٹ کے شواہد واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اس عرصے میں دھاگے کی قیمتوں میں بار بار اور بعض اوقات نمایاں اتار چڑھاؤ آیا ہے، لیکن یہ تبدیلیاں سرکاری ڈیٹا میں شامل نہیں ہوئیں۔</p>
<p>یہ کمزوریاں مجموعی طور پر ہول سیل مہنگائی کے بڑے پیغام کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کرتیں۔ اگر کچھ ہے تو وہ صرف اشارے کی درستگی کو دھندلا کرتی ہیں۔ اصل اشارہ واضح ہے: ہول سیل قیمتوں میں حالیہ اضافے کا ایک بڑا حصہ ابھی سپلائی چین کے اگلے مراحل سے گزر کر مکمل طور پر صارفین تک نہیں پہنچا۔ موجودہ صورتحال میں، امکان یہی ہے کہ صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی کو ابھی مزید اضافہ پورا کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287065</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:19:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041126535fd3cb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041126535fd3cb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل، لبنان میں جنگ بندی معاہدہ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ اس پیش رفت نے ایران کے ساتھ جاری امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے کی امیدیں بڑھا دیں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ فیوچرز 87 سینٹ یا 0.89 فیصد کی کمی کے ساتھ 96.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  خام تیل کی قیمت 78 سینٹ یا 0.81 فیصد گر کر 95.24 ڈالر پر آ گئی جس سے ہفتے کے آغاز میں ہونے والا منافع برقرار نہ رہ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا تھا جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو دیر گئے بتایا کہ وہ جنگ بندی پر عملدرآمد کیلئے رضامند ہوگئے جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں کیونکہ ایران نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں رواں ہفتے کے آخر تک ہی پیشرفت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تہران کے رابطے منقطع نہیں ہوئے، تاہم مذاکرات میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین اس وقت ان دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا آپس میں تبادلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں ریپبلکنز کی قیادت میں کام کرنے والے ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس قرارداد پر عمل درآمد کیلئے اسے سینیٹ کی منظوری اور ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ویٹو کو مسترد کرنے کیلئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بدھ کو بتایا کہ 29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 8 ملین (80 لاکھ) بیرل کی کمی کے ساتھ 433.7 ملین بیرل رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گراوٹ رائٹرز کے سروے میں ماہرینِ معیشت کی جانب سے متوقع 4 ملین (40 لاکھ) بیرل کی کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ذخائر میں کمی اسی رفتار سے جاری رہی تو گرمیوں میں طلب کے عروج  سے پہلے ہی عالمی سطح پر تیل کے ذخائر انتہائی تشویشناک حد تک کم ہو سکتے ہیں حالانکہ مئی کے دوران چین کی خام تیل کی درآمدات میں مارچ کے مقابلے میں روزانہ 6 ملین بیرل کی کمی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈچ مالیاتی گروپ آئی این جی  نے اپنے ایک نوٹ میں کہا کہ تیل کے ان ذخائر نے اب تک مارکیٹ کو سہارا  فراہم کر رکھا ہے، تاہم اگر ہم آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی کی جلد بحالی بھی دیکھ لیں تب بھی یہ ریکوری انتہائی سست اور بتدریج ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ میں مزید کہا گیا  کہ اس صورتحال سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں بھی تیل کے ذخائر میں کمی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خطرہ  موجود رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-2" href="#-2" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-3" href="#-3" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-4" href="#-4" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-5" href="#-5" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ اس پیش رفت نے ایران کے ساتھ جاری امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے کی امیدیں بڑھا دیں جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ فیوچرز 87 سینٹ یا 0.89 فیصد کی کمی کے ساتھ 96.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  خام تیل کی قیمت 78 سینٹ یا 0.81 فیصد گر کر 95.24 ڈالر پر آ گئی جس سے ہفتے کے آغاز میں ہونے والا منافع برقرار نہ رہ سکا۔</p>
<p>بدھ کو برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا تھا جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی تھی۔</p>
<p>اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو دیر گئے بتایا کہ وہ جنگ بندی پر عملدرآمد کیلئے رضامند ہوگئے جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی حتمی معاہدے کی امیدیں روشن ہوگئی ہیں کیونکہ ایران نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں رواں ہفتے کے آخر تک ہی پیشرفت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تہران کے رابطے منقطع نہیں ہوئے، تاہم مذاکرات میں اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین اس وقت ان دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کا آپس میں تبادلہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>امریکہ میں ریپبلکنز کی قیادت میں کام کرنے والے ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔</p>
<p>تاہم اس قرارداد پر عمل درآمد کیلئے اسے سینیٹ کی منظوری اور ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ویٹو کو مسترد کرنے کیلئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>دوسری جانب انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بدھ کو بتایا کہ 29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 8 ملین (80 لاکھ) بیرل کی کمی کے ساتھ 433.7 ملین بیرل رہ گئے۔</p>
<p>یہ گراوٹ رائٹرز کے سروے میں ماہرینِ معیشت کی جانب سے متوقع 4 ملین (40 لاکھ) بیرل کی کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی تھی۔</p>
<p>انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر ذخائر میں کمی اسی رفتار سے جاری رہی تو گرمیوں میں طلب کے عروج  سے پہلے ہی عالمی سطح پر تیل کے ذخائر انتہائی تشویشناک حد تک کم ہو سکتے ہیں حالانکہ مئی کے دوران چین کی خام تیل کی درآمدات میں مارچ کے مقابلے میں روزانہ 6 ملین بیرل کی کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>ڈچ مالیاتی گروپ آئی این جی  نے اپنے ایک نوٹ میں کہا کہ تیل کے ان ذخائر نے اب تک مارکیٹ کو سہارا  فراہم کر رکھا ہے، تاہم اگر ہم آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی کی جلد بحالی بھی دیکھ لیں تب بھی یہ ریکوری انتہائی سست اور بتدریج ہوگی۔</p>
<p>نوٹ میں مزید کہا گیا  کہ اس صورتحال سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تیسری سہ ماہی میں بھی تیل کے ذخائر میں کمی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خطرہ  موجود رہے گا۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-2" href="#-2" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-3" href="#-3" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-4" href="#-4" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-5" href="#-5" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287067</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:19:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041120282314cf0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041120282314cf0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کی واپسی، انڈیکس میں تقریباً 700 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان لوٹ آیا جس کے نتیجے میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں  تقریباً 700 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر ایک بجکر 15 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 675.86 پوائنٹس یا 0.4 فیصد اضافے سے 170,866.50 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے اہم شعبوں بشمول آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹلائزرز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز اور پاور جنریشن میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ ہیوی ویٹ اسٹاکس بشمول ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، حبکو، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 2026-2027 کے لیے وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس پر یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا وفاقی بجٹ ممکنہ طور پر 5 جون کو پیش نہیں کیا جاسکے گا، جیسا کہ ابتدا میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ بعض مالی اقدامات کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار منفی زون میں بند ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی محاذ پر کسی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث سرمایہ کار محتاط نظر آئے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت کے رجحان کو جنم دیا جس کی وجہ سے دن بھر مارکیٹ کا مومنٹم کمزور رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 831.13 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کی کمی کے ساتھ 170,190.64 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا جس کے باعث جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں مندی دیکھی گئی تاہم اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کے سب سے بڑے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز 0.5 فیصد نیچے آگئے۔ تعطیل کے بعد جب جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کھلی تو اس میں 2.6 فیصد تک کی بڑی مندی دیکھی گئی جب کہ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس بھی 1.9 فیصد گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شب وال اسٹریٹ پر اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں کسی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہونے اور دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد تک بڑھ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان لوٹ آیا جس کے نتیجے میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں  تقریباً 700 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔</strong></p>
<p>دوپہر ایک بجکر 15 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 675.86 پوائنٹس یا 0.4 فیصد اضافے سے 170,866.50 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>مارکیٹ کے اہم شعبوں بشمول آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹلائزرز، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز اور پاور جنریشن میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ ہیوی ویٹ اسٹاکس بشمول ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، حبکو، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 2026-2027 کے لیے وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>ایکس پر یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا وفاقی بجٹ ممکنہ طور پر 5 جون کو پیش نہیں کیا جاسکے گا، جیسا کہ ابتدا میں منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ بعض مالی اقدامات کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔</p>
<p>بدھ کو اسٹاک ایکسچینج کا کاروبار منفی زون میں بند ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی محاذ پر کسی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث سرمایہ کار محتاط نظر آئے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ کے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت کے رجحان کو جنم دیا جس کی وجہ سے دن بھر مارکیٹ کا مومنٹم کمزور رہا۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 831.13 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کی کمی کے ساتھ 170,190.64 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا جس کے باعث جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں مندی دیکھی گئی تاہم اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتیں حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کے سب سے بڑے ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز 0.5 فیصد نیچے آگئے۔ تعطیل کے بعد جب جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کھلی تو اس میں 2.6 فیصد تک کی بڑی مندی دیکھی گئی جب کہ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس بھی 1.9 فیصد گرگیا۔</p>
<p>گزشتہ شب وال اسٹریٹ پر اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں کسی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہونے اور دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 2 فیصد تک بڑھ گئیں۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287066</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:15:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04104511664525d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04104511664525d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کو پیٹرول پمپس کی کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر وزارتِ پیٹرولیم نے دو روز کے اندر کوئی جواب نہ دیا تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس کے مستقبل سے متعلق بڑا فیصلہ کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلرز کا کہنا ہے کہ موجودہ کمیشن اسٹرکچر کے تحت پیٹرول پمپس کا کاروبار مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو چکا ہے اور وہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش کے مطابق صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ کاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے مسئلے پر ایک باضابطہ اور حتمی خط وزیرِ پیٹرولیم کو ارسال کیا جائے گا، جس میں ڈیلرز کے مطالبات اور مالی مشکلات کی تفصیل بیان کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے حکومت کو یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر نوٹس نہ لیا گیا تو ان کی 30 رکنی کور کمیٹی فیصلہ کرے گی اور چیئرمین عبدالصمد خان آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ممکنہ آپشنز میں ملک گیر احتجاجی اقدامات یا دیگر سخت فیصلے شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلرز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملک میں ڈیزل کی فروخت تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ اسمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات مارکیٹ پر حاوی ہو رہی ہیں، جس سے قانونی کاروباری ادارے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پانچ بڑی ریفائنریز نے بھی حکومت کو پیٹرولیم اسمگلنگ میں اضافے پر باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال ملکی ریفائننگ انڈسٹری کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیزل کی کم ہوتی فروخت کے باعث اسٹوریج کی گنجائش کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک خدا بخش نے کہا کہ حالیہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران حکومت نے ان سے تعاون طلب کیا تھا، لیکن اب وہ خود شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق جنگی صورتحال اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ نے شعبے کے ورکنگ کیپیٹل کو تیزی سے کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیرِ پیٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی کا دورہ کریں اور زمینی صورتحال اور ڈیلرز کو ہونے والے مالی نقصانات کا جائزہ لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کو پیٹرول پمپس کی کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر وزارتِ پیٹرولیم نے دو روز کے اندر کوئی جواب نہ دیا تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس کے مستقبل سے متعلق بڑا فیصلہ کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>ڈیلرز کا کہنا ہے کہ موجودہ کمیشن اسٹرکچر کے تحت پیٹرول پمپس کا کاروبار مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو چکا ہے اور وہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش کے مطابق صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ کاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کمیشن کے مسئلے پر ایک باضابطہ اور حتمی خط وزیرِ پیٹرولیم کو ارسال کیا جائے گا، جس میں ڈیلرز کے مطالبات اور مالی مشکلات کی تفصیل بیان کی جائے گی۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے حکومت کو یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر نوٹس نہ لیا گیا تو ان کی 30 رکنی کور کمیٹی فیصلہ کرے گی اور چیئرمین عبدالصمد خان آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ممکنہ آپشنز میں ملک گیر احتجاجی اقدامات یا دیگر سخت فیصلے شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈیلرز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملک میں ڈیزل کی فروخت تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ اسمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات مارکیٹ پر حاوی ہو رہی ہیں، جس سے قانونی کاروباری ادارے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب پانچ بڑی ریفائنریز نے بھی حکومت کو پیٹرولیم اسمگلنگ میں اضافے پر باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال ملکی ریفائننگ انڈسٹری کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیزل کی کم ہوتی فروخت کے باعث اسٹوریج کی گنجائش کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ملک خدا بخش نے کہا کہ حالیہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران حکومت نے ان سے تعاون طلب کیا تھا، لیکن اب وہ خود شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق جنگی صورتحال اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ نے شعبے کے ورکنگ کیپیٹل کو تیزی سے کم کر دیا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیرِ پیٹرولیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی کا دورہ کریں اور زمینی صورتحال اور ڈیلرز کو ہونے والے مالی نقصانات کا جائزہ لیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287064</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:15:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04101320cba2870.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04101320cba2870.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب میں سیمنٹ رائلٹی فیصلے پر سوالات اٹھادئیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی آئینی عدالت نے سیمنٹ سازی کے لیے استعمال ہونے والے چونے کے پتھر  اور ارگیلیشس کلے پر پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کی شرح میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز اس کیس کی سماعت کی، جو بڑے پیمانے پر کان کنی کے تحت سیمنٹ مینوفیکچرنگ کے لیے لیز رکھنے والے معدنی حقوق کے حامل افراد سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال جون میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس نعیم اختر افغان کر رہے تھے، نے پنجاب میں قائم سیمنٹ ساز کمپنیوں کو ریلیف دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا جس میں انہیں سیمنٹ کی ایکس فیکٹری قیمت پر 6 فیصد رائلٹی ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ کیس وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کے نظرثانی شدہ رائلٹی نظام کو برقرار رکھا تھا، جس کے تحت چونے کے پتھر پر رائلٹی سیمنٹ کی ایکس فیکٹری فروخت قیمت کے 6 فیصد کے برابر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل مالی سال 2024 میں معدنیات پر 250 روپے فی ٹن کی مقررہ شرح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی عائد کر سکتی ہے، جبکہ تیار شدہ مصنوعات پر رائلٹی لگانا بظاہر ایک ٹیکس کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کس طرح سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی عائد کر سکتی ہے اور ہدایت دی کہ حکومتی وکلا اس معاملے پر حکومت کو آگاہ کریں کہ موجودہ طریقہ کار مناسب نظر نہیں آتا۔ عدالت نے یہ بھی تفصیلات طلب کیں کہ اس رائلٹی کے باعث سیمنٹ کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس روزی خان نے کہا کہ سیمنٹ کی بوریوں پر رائلٹی کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوگا کیونکہ فیکٹری مالکان اضافی لاگت عوام سے وصول کریں گے، اس لیے یہ اقدام صنعت کے بجائے صارفین کو متاثر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلائنگ سیمنٹ کمپنی کی جانب سے وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو صرف معدنیات پر رائلٹی لگانے کا اختیار حاصل ہے اور تیار شدہ مصنوعات پر رائلٹی دراصل ٹیکس کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی لگانا دوہری ایکسائز ڈیوٹی وصول کرنے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کی تاکہ حکومت سے نئی ہدایات حاصل کی جا سکیں، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ کمپنیوں جن میں بیسٹ وے سیمنٹ، میپل لیف سیمنٹ، فوجی سیمنٹ، پاینیر سیمنٹ اور ڈی جی خان سیمنٹ شامل ہیں، نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پنجاب حکومت نے رائلٹی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور اگر فروخت متاثر ہوئی تو صنعت کو نقصان پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ماہرین کے مطابق 6 فیصد رائلٹی تقریباً 1350 سے 1400 روپے فی ٹن بنتی ہے جو خیبر پختونخوا کے مقررہ 350 روپے فی ٹن کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال 79 ملین ٹن سالانہ پیداوار رکھنے والی سیمنٹ انڈسٹری کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، جس میں پہلے ہی شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان لاگت کا فرق موجود ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ پنجاب کی پالیسی برقرار رہنے کی صورت میں صوبوں کے درمیان قیمتوں میں ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، جو ماضی میں صنعت کے اندرونی استحکام کی بنیاد رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فرق سے خیبر پختونخوا کے سیمنٹ سازوں کو پنجاب مارکیٹ میں لاگت کا فائدہ حاصل ہو گیا ہے، جس کے باعث وہ لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں فی بوری 25 سے 30 روپے کم قیمت پر مصنوعات فروخت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی آئینی عدالت نے سیمنٹ سازی کے لیے استعمال ہونے والے چونے کے پتھر  اور ارگیلیشس کلے پر پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کی شرح میں تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز اس کیس کی سماعت کی، جو بڑے پیمانے پر کان کنی کے تحت سیمنٹ مینوفیکچرنگ کے لیے لیز رکھنے والے معدنی حقوق کے حامل افراد سے متعلق ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال جون میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس نعیم اختر افغان کر رہے تھے، نے پنجاب میں قائم سیمنٹ ساز کمپنیوں کو ریلیف دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا جس میں انہیں سیمنٹ کی ایکس فیکٹری قیمت پر 6 فیصد رائلٹی ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ کیس وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کے نظرثانی شدہ رائلٹی نظام کو برقرار رکھا تھا، جس کے تحت چونے کے پتھر پر رائلٹی سیمنٹ کی ایکس فیکٹری فروخت قیمت کے 6 فیصد کے برابر مقرر کی گئی ہے، جو اس سے قبل مالی سال 2024 میں معدنیات پر 250 روپے فی ٹن کی مقررہ شرح تھی۔</p>
<p>سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی عائد کر سکتی ہے، جبکہ تیار شدہ مصنوعات پر رائلٹی لگانا بظاہر ایک ٹیکس کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کس طرح سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی عائد کر سکتی ہے اور ہدایت دی کہ حکومتی وکلا اس معاملے پر حکومت کو آگاہ کریں کہ موجودہ طریقہ کار مناسب نظر نہیں آتا۔ عدالت نے یہ بھی تفصیلات طلب کیں کہ اس رائلٹی کے باعث سیمنٹ کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگا۔</p>
<p>جسٹس روزی خان نے کہا کہ سیمنٹ کی بوریوں پر رائلٹی کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوگا کیونکہ فیکٹری مالکان اضافی لاگت عوام سے وصول کریں گے، اس لیے یہ اقدام صنعت کے بجائے صارفین کو متاثر کرے گا۔</p>
<p>فلائنگ سیمنٹ کمپنی کی جانب سے وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو صرف معدنیات پر رائلٹی لگانے کا اختیار حاصل ہے اور تیار شدہ مصنوعات پر رائلٹی دراصل ٹیکس کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی لگانا دوہری ایکسائز ڈیوٹی وصول کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p>پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کی تاکہ حکومت سے نئی ہدایات حاصل کی جا سکیں، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔</p>
<p>سیمنٹ کمپنیوں جن میں بیسٹ وے سیمنٹ، میپل لیف سیمنٹ، فوجی سیمنٹ، پاینیر سیمنٹ اور ڈی جی خان سیمنٹ شامل ہیں، نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پنجاب حکومت نے رائلٹی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور اگر فروخت متاثر ہوئی تو صنعت کو نقصان پہنچے گا۔</p>
<p>صنعتی ماہرین کے مطابق 6 فیصد رائلٹی تقریباً 1350 سے 1400 روپے فی ٹن بنتی ہے جو خیبر پختونخوا کے مقررہ 350 روپے فی ٹن کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال 79 ملین ٹن سالانہ پیداوار رکھنے والی سیمنٹ انڈسٹری کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، جس میں پہلے ہی شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان لاگت کا فرق موجود ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ پنجاب کی پالیسی برقرار رہنے کی صورت میں صوبوں کے درمیان قیمتوں میں ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، جو ماضی میں صنعت کے اندرونی استحکام کی بنیاد رہی ہے۔</p>
<p>اس فرق سے خیبر پختونخوا کے سیمنٹ سازوں کو پنجاب مارکیٹ میں لاگت کا فائدہ حاصل ہو گیا ہے، جس کے باعث وہ لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں فی بوری 25 سے 30 روپے کم قیمت پر مصنوعات فروخت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287063</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:07:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041005078734dc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041005078734dc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آڈٹ اور نفاذی اقدامات، ایف بی آر کا 2026-27 میں 700 ارب روپے آمدن کا تخمینہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287062/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ٹیکس دہندگان کے بہتر آڈٹ کے ذریعے فیلڈ فارمیشنز کو 92 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ وفاقی بجٹ میں اعلان کیے جانے والے 700 ارب روپے کے نفاذی (انفورسمنٹ) اقدامات کا حصہ ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے دوران مختلف نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے تخمینے مکمل کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر آئندہ مالی سال میں سیلز ٹیکس کی بہتر نگرانی اور درست حساب کتاب کے ذریعے 46 ارب روپے جبکہ پیداوار کی نگرانی کے ذریعے مزید 48 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کی نیلامی سے تقریباً 50 ملین روپے آمدنی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے ٹیکس وصولی کو 2025-26 کے 389 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 778 ارب روپے تک دگنا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے 389 ارب روپے کی وصولی کی ہے، جس میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹ کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں تمباکو سیکٹر سے حاصل کیے گئے 50 ارب روپے سے زائد بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے مالی سال 2024-25 کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر 874 ارب روپے کی وصولی کی تھی، جبکہ 2025-26 میں بھی اس مد میں 389 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ٹیکس دہندگان کے بہتر آڈٹ کے ذریعے فیلڈ فارمیشنز کو 92 ارب روپے کا ٹیکس وصولی ہدف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ وفاقی بجٹ میں اعلان کیے جانے والے 700 ارب روپے کے نفاذی (انفورسمنٹ) اقدامات کا حصہ ہوگا۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کے دوران مختلف نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے تخمینے مکمل کر لیے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر آئندہ مالی سال میں سیلز ٹیکس کی بہتر نگرانی اور درست حساب کتاب کے ذریعے 46 ارب روپے جبکہ پیداوار کی نگرانی کے ذریعے مزید 48 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرے گا۔</p>
<p>غیر ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کی نیلامی سے تقریباً 50 ملین روپے آمدنی متوقع ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے ٹیکس وصولی کو 2025-26 کے 389 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 778 ارب روپے تک دگنا کیا جائے۔</p>
<p>ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے 389 ارب روپے کی وصولی کی ہے، جس میں غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹ کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں تمباکو سیکٹر سے حاصل کیے گئے 50 ارب روپے سے زائد بھی شامل ہیں۔</p>
<p>مزید بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے مالی سال 2024-25 کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر 874 ارب روپے کی وصولی کی تھی، جبکہ 2025-26 میں بھی اس مد میں 389 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287062</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:58:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04095551e39a96e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04095551e39a96e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک 2.0، وزیراعظم کا چین کے ساتھ تعاون مزید وسعت دینے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287061/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز چین کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے اگلے مرحلے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا ہے، جس میں خاص طور پر زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اس وقت سامنے آئی جب چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس کی تفصیلات وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چھیانگ کے لیے  نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور حالیہ دورہ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو نتیجہ خیز اور بامقصد قرار دیتے ہوئے ان کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم کی اسٹریٹجک کوآپریٹو شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اپنے حالیہ دورے کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں ہانگژو میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں  بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے ایم او یوز پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ دونوں فریقین کو اب پہلے سے کیے گئے وعدوں کو عملی نتائج اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے چینی سفیر کے حالیہ دورہ چین کو سہولت فراہم کرنے میں کردار کو سراہا اور کہا کہ دوطرفہ معاہدوں کو عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں قراقرم ہائی وے  کی ری الائنمنٹ منصوبے کو تیز کرنے سمیت سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی و مالی تعاون، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی امور بھی گفتگو کا حصہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور عیدالاضحیٰ کی مبارکباد بھی پیش کی، جو گزشتہ ہفتے منائی گئی۔ انہوں نے وزیراعظم کے 23 سے 26 مئی کے دورہ چین کی کامیابی پر بھی مبارکباد دی اور چین کی جانب سے آہنی دوستی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیجنگ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز چین کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے اگلے مرحلے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا ہے، جس میں خاص طور پر زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔</strong></p>
<p>یہ بات اس وقت سامنے آئی جب چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس کی تفصیلات وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دی گئیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چھیانگ کے لیے  نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور حالیہ دورہ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو نتیجہ خیز اور بامقصد قرار دیتے ہوئے ان کا ذکر کیا۔</p>
<p>انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم کی اسٹریٹجک کوآپریٹو شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اپنے حالیہ دورے کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں ہانگژو میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں  بھی شامل ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے ایم او یوز پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ دونوں فریقین کو اب پہلے سے کیے گئے وعدوں کو عملی نتائج اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>شہباز شریف نے چینی سفیر کے حالیہ دورہ چین کو سہولت فراہم کرنے میں کردار کو سراہا اور کہا کہ دوطرفہ معاہدوں کو عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔</p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں قراقرم ہائی وے  کی ری الائنمنٹ منصوبے کو تیز کرنے سمیت سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>معاشی و مالی تعاون، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی امور بھی گفتگو کا حصہ رہے۔</p>
<p>چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور عیدالاضحیٰ کی مبارکباد بھی پیش کی، جو گزشتہ ہفتے منائی گئی۔ انہوں نے وزیراعظم کے 23 سے 26 مئی کے دورہ چین کی کامیابی پر بھی مبارکباد دی اور چین کی جانب سے آہنی دوستی کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیجنگ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287061</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:50:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04094838555e248.webp" type="image/webp" medium="image" height="1434" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04094838555e248.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی قوانین، قومی اسمبلی کمیٹی نے بغیر بحث دو بلز کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی توانائی سے متعلق قائمہ کمیٹی نے منگل کے روز بغیر بحث کے بجلی کے قوانین میں دو اہم ترامیم کی منظوری دے دی، جن کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور اوپن ایکسیس اور وہیلنگ کے ذریعے کاروباری سطح پر بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل (بی ٹو بی مارکیٹ) کو بروقت فعال بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت ایم این اے شیخ آفتاب احمد نے کی، کیونکہ کمیٹی کے چیئرمین محمد ادریس اپنے آبائی علاقے میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کی جانب سے دو مجوزہ ترامیم پیش کی گئیں، جن میں ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور (ترمیمی بل) 2026 اور الیکٹرسٹی (ترمیمی بل) 2026 شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق 1997 کے ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کا مقصد پاور سیکٹر کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کے مطابق قانونی فریم ورک کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ ان ترامیم کے تحت وفاقی حکومت کے الفاظ کو تبدیل کرکے مجاز اتھارٹیز کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ انتظامی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن ایکسیس اور وہیلنگ کو فروغ دینے کے لیے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بڑے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی خریداری سے دستبرداری کے نوٹس کی مدت ایک سال سے کم کرکے دو ماہ کر دی جائے، تاکہ مسابقتی بی ٹو بی مارکیٹ جلد شروع ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانونی تقاضے مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور اب انہیں موجودہ زمینی حقائق کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ڈسٹری بیوشن کمپنی کی اصطلاح کو بھی تبدیل کرکے سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 1910 کے الیکٹرسٹی ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے اختیارات کو وفاقی حکومت سے متعلقہ اداروں کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معمول کے انتظامی امور میں تاخیر کم ہو اور فیصلہ سازی تیز ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ایم این اے راجہ قمر الاسلام نے رائے دی کہ یہ ترامیم محض طریقہ کار سے متعلق ہیں اور ان پر بحث کی ضرورت نہیں۔ کمیٹی نے اتفاق کرتے ہوئے دونوں بلز کی منظوری بغیر بحث کے دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی توانائی سے متعلق قائمہ کمیٹی نے منگل کے روز بغیر بحث کے بجلی کے قوانین میں دو اہم ترامیم کی منظوری دے دی، جن کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور اوپن ایکسیس اور وہیلنگ کے ذریعے کاروباری سطح پر بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل (بی ٹو بی مارکیٹ) کو بروقت فعال بنانا ہے۔</strong></p>
<p>اجلاس کی صدارت ایم این اے شیخ آفتاب احمد نے کی، کیونکہ کمیٹی کے چیئرمین محمد ادریس اپنے آبائی علاقے میں موجود تھے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کی جانب سے دو مجوزہ ترامیم پیش کی گئیں، جن میں ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور (ترمیمی بل) 2026 اور الیکٹرسٹی (ترمیمی بل) 2026 شامل تھے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق 1997 کے ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کا مقصد پاور سیکٹر کے بدلتے ہوئے ڈھانچے کے مطابق قانونی فریم ورک کو ہم آہنگ کرنا ہے۔ ان ترامیم کے تحت وفاقی حکومت کے الفاظ کو تبدیل کرکے مجاز اتھارٹیز کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ انتظامی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے۔</p>
<p>اوپن ایکسیس اور وہیلنگ کو فروغ دینے کے لیے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ بڑے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی خریداری سے دستبرداری کے نوٹس کی مدت ایک سال سے کم کرکے دو ماہ کر دی جائے، تاکہ مسابقتی بی ٹو بی مارکیٹ جلد شروع ہو سکے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ قانونی تقاضے مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور اب انہیں موجودہ زمینی حقائق کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ڈسٹری بیوشن کمپنی کی اصطلاح کو بھی تبدیل کرکے سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب 1910 کے الیکٹرسٹی ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے اختیارات کو وفاقی حکومت سے متعلقہ اداروں کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معمول کے انتظامی امور میں تاخیر کم ہو اور فیصلہ سازی تیز ہو سکے۔</p>
<p>اجلاس میں ایم این اے راجہ قمر الاسلام نے رائے دی کہ یہ ترامیم محض طریقہ کار سے متعلق ہیں اور ان پر بحث کی ضرورت نہیں۔ کمیٹی نے اتفاق کرتے ہوئے دونوں بلز کی منظوری بغیر بحث کے دے دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287060</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:42:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/040938579ead7cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/040938579ead7cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا مئی تجارتی خسارہ 17.48 فیصد بڑھ کر 34.76 ارب ڈالر تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ کے دوران 17.48 فیصد اضافے کے ساتھ 34.76 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 29.585 ارب ڈالر تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی برآمدات میں 5.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 29.563 ارب ڈالر سے کم ہو کر 27.904 ارب ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، درآمدات میں 5.94 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 59.148 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 62.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں  پر مئی 2026 کے دوران برآمدات میں 1.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مئی 2025 کے 2.67 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 2.705 ارب ڈالر ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سالانہ بنیاد پر درآمدات میں 6.63 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور یہ گزشتہ سال کے 5.662 ارب ڈالر سے کم ہو کر مئی 2026 میں 5.287 ارب ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں  پر بھی برآمدات میں 9.59 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.468 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.705 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، مئی 2026 میں ماہانہ بنیادوں پر درآمدات میں 21.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور ان کا حجم 6.731 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 5.287 ارب ڈالر رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 39.43 فیصد کم ہو کر مئی 2025 کے 4.262 ارب ڈالر سے گھٹ کر مئی 2026 میں 2.582 ارب ڈالر رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ کے دوران 17.48 فیصد اضافے کے ساتھ 34.76 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 29.585 ارب ڈالر تھا۔</strong></p>
<p>پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی برآمدات میں 5.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 29.563 ارب ڈالر سے کم ہو کر 27.904 ارب ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>دوسری جانب، درآمدات میں 5.94 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 59.148 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 62.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں  پر مئی 2026 کے دوران برآمدات میں 1.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مئی 2025 کے 2.67 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 2.705 ارب ڈالر ہو گئیں۔</p>
<p>اسی طرح سالانہ بنیاد پر درآمدات میں 6.63 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور یہ گزشتہ سال کے 5.662 ارب ڈالر سے کم ہو کر مئی 2026 میں 5.287 ارب ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں  پر بھی برآمدات میں 9.59 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.468 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.705 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>دوسری جانب، مئی 2026 میں ماہانہ بنیادوں پر درآمدات میں 21.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور ان کا حجم 6.731 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 5.287 ارب ڈالر رہ گیا۔</p>
<p>اسی طرح ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 39.43 فیصد کم ہو کر مئی 2025 کے 4.262 ارب ڈالر سے گھٹ کر مئی 2026 میں 2.582 ارب ڈالر رہ گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287059</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:31:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04092909c1c69fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04092909c1c69fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے قطر سے ایل این جی کے تین اور اسپاٹ مارکیٹ سے ایک کارگو حاصل کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے موسم گرما میں بجلی کے شعبے اور دیگر اقتصادی شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کے تین کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ ایک اضافی کارگو اسپاٹ مارکیٹ سے خریدا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بدھ کے روز کراچی کی پورٹ قاسم پر 6 اور 7 جون 2026 کی ڈیلیوری ونڈو کے لیے ڈیلیورڈ ایکس شپ  بنیاد پر ایک ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، ترجمان، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے ہمراہ میڈیا نمائندوں سے ایک خصوصی نشست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ مہنگی درآمدی ایل این جی کے متبادل کے طور پر مقامی گیس بجلی گھروں کو صرف 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی بھاری سبسڈی والی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی معمول کی قیمت 3,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ اس قیمت کے نظام کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک سمری تیار کی جا رہی ہے، جسے منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیجا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے بتایا کہ پاور ڈویژن کی درخواست پر حکومت نے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل لاگت کی وصولی کی بنیاد پر ایل این جی کارگوز درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت آنے والی یہ کھیپیں کاسٹ اینڈ فریٹ  بنیاد پر حاصل کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ اب بھی انتہائی کم لاگت اور مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے بعد حکومت نے کامیابی کے ساتھ یومیہ تقریباً 400 ملین مکعب فٹ  گیس کی پیداوار بحال کر لی ہے۔ اس سے قبل او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور ماری پیٹرولیم سمیت بڑی تلاش و پیداوار کمپنیوں کو درپیش تکنیکی مسائل اور سکیورٹی خدشات کے باعث گیس کی فراہمی محدود ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے موسم گرما میں بجلی کے شعبے اور دیگر اقتصادی شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کے تین کارگوز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ ایک اضافی کارگو اسپاٹ مارکیٹ سے خریدا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے بدھ کے روز کراچی کی پورٹ قاسم پر 6 اور 7 جون 2026 کی ڈیلیوری ونڈو کے لیے ڈیلیورڈ ایکس شپ  بنیاد پر ایک ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بولیاں طلب کی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، ترجمان، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے ہمراہ میڈیا نمائندوں سے ایک خصوصی نشست کی۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ مہنگی درآمدی ایل این جی کے متبادل کے طور پر مقامی گیس بجلی گھروں کو صرف 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی بھاری سبسڈی والی قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی معمول کی قیمت 3,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ اس قیمت کے نظام کو باضابطہ بنانے کے لیے ایک سمری تیار کی جا رہی ہے، جسے منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیجا جائے گا۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے بتایا کہ پاور ڈویژن کی درخواست پر حکومت نے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل لاگت کی وصولی کی بنیاد پر ایل این جی کارگوز درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت آنے والی یہ کھیپیں کاسٹ اینڈ فریٹ  بنیاد پر حاصل کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ اب بھی انتہائی کم لاگت اور مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے بعد حکومت نے کامیابی کے ساتھ یومیہ تقریباً 400 ملین مکعب فٹ  گیس کی پیداوار بحال کر لی ہے۔ اس سے قبل او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور ماری پیٹرولیم سمیت بڑی تلاش و پیداوار کمپنیوں کو درپیش تکنیکی مسائل اور سکیورٹی خدشات کے باعث گیس کی فراہمی محدود ہو گئی تھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287058</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:24:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04092214dacbe1c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04092214dacbe1c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا، بجٹ 10 جون کو پیش ہوسکتا ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287057/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز عندیہ دیا ہے کہ حکومت 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اہم مالیاتی امور پر حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث اتحادی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحادی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بات چیت انتہائی مثبت رہی ہے اور رواں ہفتے مزید ایک دور کی مشاورت بھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اتحادی جماعتوں اور تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے، اور  حکومت 10 جون کو ایک بامقصد اور متوازن بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکس عائد کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے بجائے سخت نفاذی اقدامات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے ذریعے محصولات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نائب وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اس بات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو سفارش کی جائے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ بدھ، 10 جون 2026 کو پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ تجویز اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح مشاورت کے دوران سامنے آئی، جس کا مقصد بجٹ کے شیڈول کو حتمی شکل دینا اور پارلیمانی کارروائی کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز وفاقی بجٹ سے قبل معمول کی مشاورت کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تفصیلی اجلاس بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں جاری اخراجات اور ترقیاتی فنڈز کی ترجیحات، بالخصوص پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)، کے علاوہ مالیاتی استحکام، عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور مالی سال 2026-27 کے لیے جامع اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر شیری رحمٰن، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سمیت متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز عندیہ دیا ہے کہ حکومت 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اہم مالیاتی امور پر حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث اتحادی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔</strong></p>
<p>اتحادی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بات چیت انتہائی مثبت رہی ہے اور رواں ہفتے مزید ایک دور کی مشاورت بھی کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، اتحادی جماعتوں اور تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے، اور  حکومت 10 جون کو ایک بامقصد اور متوازن بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں نئے ٹیکس عائد کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے بجائے سخت نفاذی اقدامات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے ذریعے محصولات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب نائب وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اس بات پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو سفارش کی جائے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ بدھ، 10 جون 2026 کو پیش کیا جائے۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ تجویز اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح مشاورت کے دوران سامنے آئی، جس کا مقصد بجٹ کے شیڈول کو حتمی شکل دینا اور پارلیمانی کارروائی کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھانا تھا۔</p>
<p>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز وفاقی بجٹ سے قبل معمول کی مشاورت کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تفصیلی اجلاس بھی کیا۔</p>
<p>اجلاس میں جاری اخراجات اور ترقیاتی فنڈز کی ترجیحات، بالخصوص پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)، کے علاوہ مالیاتی استحکام، عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور مالی سال 2026-27 کے لیے جامع اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر، سینیٹر شیری رحمٰن، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سمیت متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287057</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:16:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقیطاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04091235a04ca99.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04091235a04ca99.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کی صورتحال، وزارتِ بحری امور اور ایف بی آر نے اہم حکمت عملی تیار کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287056/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت بحری امور اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)/کسٹمز نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے مشترکہ طور پر اہم اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرا دیے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، آبنائے ہرمز میں شدید خلل کے باعث عالمی تجارتی راستے متبادل اور مستحکم بحری مراکز کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا جنوبی ساحل اب ایک قابلِ عمل ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، کیونکہ یہ خلیج فارس کے اتنا قریب ہے کہ اپنی جغرافیائی اہمیت برقرار رکھ سکے، جبکہ اتنا دور بھی ہے کہ موجودہ کشیدگی اور انشورنس کے بلند خطرات والے علاقوں سے باہر رہے۔ اس تبدیلی نے پاکستان کو ایک نئے تجارتی نظام کا حصہ بنا دیا ہے، جہاں بندرگاہوں کی کارکردگی اور کارگو کی ڈیجیٹل نگرانی جغرافیائی محل وقوع جتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طلب میں اضافہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ سال 2025 کے دوران کراچی نے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے تقریباً 8,300 ٹی ای یوز  سنبھالے تھے، لیکن صرف مارچ 2026 کے ابتدائی 24 دنوں میں یہ حجم 8,860 ٹی ای یوز تک پہنچ گیا، جو پورے گزشتہ سال کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ اضافہ 1,400 فیصد سے زائد بتایا جا رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کامیاب بندرگاہ صرف قریب ترین بندرگاہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ہوتی ہے جو سامان کے ساتھ معلومات کی ترسیل بھی تیزی سے انجام دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پورٹ کمیونٹی سسٹم (پی سی ایس) پورٹ ورس نے اس بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل سہولت فراہم کی ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہوں پر اس نظام کا نفاذ تیزی سے جاری ہے۔ 21 اپریل کو قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل  پر کامیاب منتقلی کے بعد کراچی گیٹ وے ٹرمینل  کو 6 مئی کو اس نظام سے منسلک کیا جانا طے ہے، جبکہ ایس اے پی ٹی اور کے آئی سی ٹی بھی آئندہ دو ہفتوں میں اس میں شامل ہو جائیں گے۔ اس طرح ملک کے تمام بڑے کنٹینرائزڈ میری ٹائم ٹرمینلز الیکٹرانک ڈلیوری آرڈرز (ای ڈی او) کے لیے ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے تحت آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک 17 ہزار سے زائد ڈلیوری آرڈرز کا اجرا کیا جا چکا ہے، جبکہ پورٹ ورس خاص طور پر دستاویزی کارروائیوں سے متعلق رکاوٹوں کو ختم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ اگرچہ کارگو کے قیام کا دورانیہ مختلف عملی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، تاہم دستی رابطوں اور کارروائیوں میں کمی ٹرمینلز کی کارکردگی بہتر بنانے اور پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مثبت پیش رفت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے وزارتِ بحری امور اور ایف بی آر/کسٹمز نے ایسے اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد صرف سامان کی نقل و حمل نہیں بلکہ پوری ویلیو چین سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے نئے قانونی طریقہ کار، آٹو موبائل شعبے کے لیے خصوصی رو-رو  آپریشنز، اور ایل سی ایل  کارگو کنسولیڈیشن جیسی سہولتیں پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا زیادہ مؤثر حصہ بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہ اقدامات وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ہوئے ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت کو بھی درکار لچک اور سہولت فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور پورٹ ورس کے نظام کو وسعت دے کر ایک ایسا تجارتی ماحول تشکیل دے رہا ہے جو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ آئندہ کئی دہائیوں تک خطے کے ٹرانس شپمنٹ نقشے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت بحری امور اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)/کسٹمز نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے مشترکہ طور پر اہم اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرا دیے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق، آبنائے ہرمز میں شدید خلل کے باعث عالمی تجارتی راستے متبادل اور مستحکم بحری مراکز کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا جنوبی ساحل اب ایک قابلِ عمل ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، کیونکہ یہ خلیج فارس کے اتنا قریب ہے کہ اپنی جغرافیائی اہمیت برقرار رکھ سکے، جبکہ اتنا دور بھی ہے کہ موجودہ کشیدگی اور انشورنس کے بلند خطرات والے علاقوں سے باہر رہے۔ اس تبدیلی نے پاکستان کو ایک نئے تجارتی نظام کا حصہ بنا دیا ہے، جہاں بندرگاہوں کی کارکردگی اور کارگو کی ڈیجیٹل نگرانی جغرافیائی محل وقوع جتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔</p>
<p>اس طلب میں اضافہ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ سال 2025 کے دوران کراچی نے ٹرانس شپمنٹ کارگو کے تقریباً 8,300 ٹی ای یوز  سنبھالے تھے، لیکن صرف مارچ 2026 کے ابتدائی 24 دنوں میں یہ حجم 8,860 ٹی ای یوز تک پہنچ گیا، جو پورے گزشتہ سال کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ اضافہ 1,400 فیصد سے زائد بتایا جا رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کامیاب بندرگاہ صرف قریب ترین بندرگاہ نہیں ہوتی بلکہ وہ ہوتی ہے جو سامان کے ساتھ معلومات کی ترسیل بھی تیزی سے انجام دے سکے۔</p>
<p>پاکستان کے پورٹ کمیونٹی سسٹم (پی سی ایس) پورٹ ورس نے اس بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل سہولت فراہم کی ہے۔ ملک کی بڑی بندرگاہوں پر اس نظام کا نفاذ تیزی سے جاری ہے۔ 21 اپریل کو قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل  پر کامیاب منتقلی کے بعد کراچی گیٹ وے ٹرمینل  کو 6 مئی کو اس نظام سے منسلک کیا جانا طے ہے، جبکہ ایس اے پی ٹی اور کے آئی سی ٹی بھی آئندہ دو ہفتوں میں اس میں شامل ہو جائیں گے۔ اس طرح ملک کے تمام بڑے کنٹینرائزڈ میری ٹائم ٹرمینلز الیکٹرانک ڈلیوری آرڈرز (ای ڈی او) کے لیے ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے تحت آ جائیں گے۔</p>
<p>اب تک 17 ہزار سے زائد ڈلیوری آرڈرز کا اجرا کیا جا چکا ہے، جبکہ پورٹ ورس خاص طور پر دستاویزی کارروائیوں سے متعلق رکاوٹوں کو ختم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔ اگرچہ کارگو کے قیام کا دورانیہ مختلف عملی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، تاہم دستی رابطوں اور کارروائیوں میں کمی ٹرمینلز کی کارکردگی بہتر بنانے اور پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔</p>
<p>اس مثبت پیش رفت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے وزارتِ بحری امور اور ایف بی آر/کسٹمز نے ایسے اسٹرٹیجک اقدامات متعارف کرائے ہیں جن کا مقصد صرف سامان کی نقل و حمل نہیں بلکہ پوری ویلیو چین سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔</p>
<p>بلک کارگو کی ٹرانس شپمنٹ کے لیے نئے قانونی طریقہ کار، آٹو موبائل شعبے کے لیے خصوصی رو-رو  آپریشنز، اور ایل سی ایل  کارگو کنسولیڈیشن جیسی سہولتیں پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا زیادہ مؤثر حصہ بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہ اقدامات وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ہوئے ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت کو بھی درکار لچک اور سہولت فراہم کریں گے۔</p>
<p>حکام کے مطابق، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور پورٹ ورس کے نظام کو وسعت دے کر ایک ایسا تجارتی ماحول تشکیل دے رہا ہے جو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ آئندہ کئی دہائیوں تک خطے کے ٹرانس شپمنٹ نقشے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287056</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:03:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/040901197d4cadc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/040901197d4cadc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
