<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Print</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 04:45:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 03 Oct 2026 04:45:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دراز پاکستان کے ایم ڈی بین یی: اصل پیش رفت خریداری کی فریکوئنسی بڑھانے سے آئے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292051/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی ای کامرس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھنے والے ماہر ہیں اور علی بابا گروپ کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں دراز کے آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر کمپنی کی ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین یی نے 2015 میں علی بابا گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل وہ بی ٹو بی عالمی مارکیٹنگ اور کاروباری ترقی کی ٹیموں کی قیادت کرچکے ہیں، جہاں ان کی ذمہ داری عالمی اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ مل کر علی بابا کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دینا تھی۔ انہوں نے ٹی مال امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کی عالمی کاروباری ترقی کی ٹیم کی بھی قیادت کی، جس کے ذریعے عالمی برانڈز کو ٹی مال گلوبل کے پلیٹ فارم اور براہِ راست خریداری کے ماڈلز کے تحت چینی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین یی نے 2018 میں لازادا میں خطے میں سرحد پار کاروبار کے سربراہ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ دراز گروپ میں موجودہ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل وہ لازادا فلپائن کے چیف بزنس آفیسر بھی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین یی نے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور سے ایم بی اے اور میک ماسٹر یونیورسٹی، ہیملٹن سے کامرس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ان سے حالیہ گفتگو کے منتخب اور ترمیم شدہ اقتباسات درج ذیل ہیں:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; آپ نے حال ہی میں دراز پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی ہے، تاہم پاکستانی مارکیٹ آپ کے لیے نئی نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان کے باقاعدہ دوروں کے دوران صارفین کے رویے اور مجموعی ریٹیل منظرنامے میں آپ کو سب سے نمایاں تبدیلیاں کیا محسوس ہوئی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; سب سے نمایاں تبدیلی مارکیٹ کے دونوں فریقوں میں پختگی کی ہے۔ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد میں نے برانڈز، فروخت کنندگان اور شراکت داروں سے ملاقاتوں میں خاصا وقت صرف کیا ہے اور جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہوئی، وہ ان کی بلند خواہشات ہیں۔ کاروباری ادارے ڈیجیٹل تقسیم اور طویل مدتی برانڈ سازی کو کہیں زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جبکہ عالمی برانڈز بھی پاکستان کو تیزی سے ایک اہم ترقی کی حامل مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین بھی اسی رفتار سے تبدیل ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ انتخاب کرنے والے، قیمت کے معاملے میں زیادہ حساس اور مصنوعات کے تنوع، ترسیل اور مستقل معیار کے حوالے سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ یہ رجحان بڑے شہروں سے باہر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان اس مرحلے سے آگے بڑھ رہا ہے جہاں ای کامرس بنیادی طور پر رسائی اور تجربہ کرنے تک محدود تھی، اور اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس بات پر بھی بڑھتا ہوا اثر ڈال رہے ہیں کہ لوگ خریداری کیسے کرتے ہیں اور کاروبار اپنی ترقی کی منصوبہ بندی کس طرح کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; دراز گزشتہ 14 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے ای کامرس منظرنامے کا حصہ ہے۔ آپ اب تک کے اس سفر کو کس طرح دیکھتے ہیں اور کمپنی کے اگلے مرحلے کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; دراز کے پہلے 14 سال رسائی پیدا کرنے کے بارے میں تھے: کاروباروں کو آن لائن لانا، صارفین کا اعتماد حاصل کرنا اور ایک پیچیدہ مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کا نظام تشکیل دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہماری ترجیح پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ ہم مزید کاروباروں، خصوصاً بڑے شہروں سے باہر موجود کاروباری اداروں کو اپنے ماحولیاتی نظام کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن کامیابی کا پیمانہ صرف فروخت کنندگان کی تعداد نہیں ہونا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ فروخت کنندگان زیادہ مضبوط کاروبار بن رہے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے فروخت کنندگان کے لیے اس کا مطلب بہتر طلب سے متعلق معلومات، مصنوعات کے تنوع، انوینٹری کی منصوبہ بندی اور آرڈر کی تکمیل کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ قائم شدہ برانڈز کو مختلف نوعیت کی معاونت درکار ہوتی ہے، اسی لیے ہم خصوصی پروگرام تیار کررہے ہیں جن کا مقصد دراز پر کاروبار کرنا آسان بنانا اور پہلے سے کامیاب برانڈز کو اضافی ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اگلا مرحلہ صرف شرکت بڑھانے کے بجائے اس کی &lt;strong&gt;معیار اور افادیت بہتر بنانے&lt;/strong&gt; پر مرکوز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; ڈی ای ایکس اس ارتقا کی ایک مثال ہے، جہاں دراز کا لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اب مارکیٹ پلیس سے باہر بھی کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ یہ تبدیلی کتنی اہم ہے اور کیا یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں دراز کے وسیع تر کردار کی جانب اشارہ کرتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; ڈی ای ایکس اس لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے دراز اس وقت بھی قدر پیدا کرسکتا ہے جب لین دین ہمارے مارکیٹ پلیس پر نہ ہو۔ نومبر 2025 سے ڈی ای ایکس تقریباً 6 گنا بڑھ چکا ہے اور اب 200 سے زائد بڑے برانڈز کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ کراچی اور لاہور میں ہمارے ڈسٹری بیوشن سینٹرز فی سورٹر تقریباً 10 ہزار پارسلز فی گھنٹہ پراسیس کرسکتے ہیں، جبکہ پورا نیٹ ورک روزانہ 10 لاکھ تک پارسلز سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب برانڈز اپنی ویب سائٹس، سوشل کامرس کاروبار اور اومنی چینل ماڈلز تیار کرتے ہیں تو آرڈر کی تکمیل مشترکہ انفرااسٹرکچر بن جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کاروبار اپنی قومی سطح کی لاجسٹکس نیٹ ورک الگ سے قائم کرے۔ ڈی ای ایکس انہیں پہلے سے موجود سہولتوں سے منسلک ہونے کا موقع دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی توجہ مصنوعات، صارفین اور ترقی پر مرکوز کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; دراز نے حال ہی میں لائسنس یافتہ ای فارمیسی کے ذریعے صحت کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔ کیا یہ دراز کے لیے ڈیجیٹل کامرس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کی علامت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; یہ اختیاری آن لائن خریداری سے روزمرہ اور بنیادی ضروریات کی جانب ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ صحت کا شعبہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں صرف سہولت کافی نہیں؛ صارفین کو مصنوعات کی اصلیت، ضوابط کی پابندی اور بروقت فراہمی پر بھی اعتماد درکار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری لائسنس یافتہ ای فارمیسی پہلے ہی 20 سے زائد ادویات ساز اور صحت سے متعلق برانڈز کی 450 سے زیادہ مصنوعات پیش کررہی ہے اور دراز کی سروس والے شہروں میں ان کی ترسیل کی سہولت دستیاب ہے۔ ہمیں طلب بھی مضبوط نظر آرہی ہے۔ مثال کے طور پر ایبٹ کی پلیٹ فارم پر فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موقع یہ ہے کہ ای کامرس سے صارفین کو حاصل ہونے والے اعتماد اور سہولت کو ان شعبوں تک پہنچایا جائے جہاں قابلِ اعتماد خدمات کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; پاکستان کے ای کامرس سفر میں نقد ادائیگی کا تاریخی طور پر اہم کردار رہا ہے، تاہم ڈیجیٹل ادائیگیاں بڑھ رہی ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں آپ اس توازن کو کس طرح تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; نقد ادائیگی نے ای کامرس میں اعتماد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً پہلی مرتبہ خریداری کرنے والے صارفین کے لیے۔ تاہم یہ توازن پہلے ہی تبدیل ہورہا ہے۔ ہماری تقریباً 30 فیصد فروخت اب ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے ہوتی ہے اور زیادہ مالیت کی خریداریوں میں اس کا استعمال خاصا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے توقع ہے کہ بینکوں، ڈیجیٹل والٹس اور ادائیگی کے نیٹ ورکس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان اور زیادہ فائدہ مند ہونے کے ساتھ یہ تناسب بتدریج بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد ادائیگی نے ای کامرس میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دی، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اس شعبے میں کارکردگی بڑھانے میں مدد کریں گی۔ پیشگی ادائیگی کا تناسب بڑھنے سے لین دین میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور پورے ماحولیاتی نظام کے لیے کاروباری ماڈل زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; علی بابا اور دراز دونوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے عمومی جوش و خروش سے ہٹ کر، آپ دراز کے کاروبار، صارفین اور فروخت کنندگان کے لیے مصنوعی ذہانت کو سب سے زیادہ مؤثر کہاں دیکھتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; مصنوعی ذہانت صارفین کے لیے خریداری کو زیادہ متعلقہ اور کاروباروں کے لیے زیادہ مؤثر بناسکتی ہے۔ خریداروں کے لیے اس کا مطلب بہتر سرچ، مصنوعات کی دریافت اور شخصی نوعیت کی تجاویز ہیں۔ فروخت کنندگان اور برانڈز کے لیے یہ طلب کی پیش گوئی، مصنوعات کے انتخاب، مواد کی تیاری اور مارکیٹنگ کو بہتر بناسکتی ہے۔ اندرونی طور پر یہ صارفین کی خدمات، فراڈ کی روک تھام اور لاجسٹکس کی منصوبہ بندی کو بھی مضبوط کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی بابا کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مصنوعی ذہانت کی نمایاں صلاحیتوں تک رسائی حاصل ہے، لیکن اصل موقع مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں اپنی زبانیں، خریداری کے رویے، قیمتوں کے حوالے سے حساسیت اور مصنوعات دریافت کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اس وقت کہیں زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے جب وہ اس تناظر کو سمجھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسے درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ صارف کی ضرورت اور اسے مطلوبہ چیز ملنے کے درمیان فاصلے کو کم کرسکتی ہے، اور اسی طرح اچھی مصنوعات رکھنے والے کاروباری فرد اور ترقی کے موقع کے درمیان فاصلے کو بھی کم کرسکتی ہے۔ یہ ہمارے اس مشن سے براہِ راست ہم آہنگ ہے کہ تجارت کے ذریعے معاشروں کو ترقی دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر، دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں آپ پاکستان کو اس وقت ای کامرس کے ارتقا کے کس مرحلے پر دیکھتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; پاکستان کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صارفین کی طلب اور کاروباری سرگرمی نے اس سے متعلق بعض نظاموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی ہے۔ ایسے صارفین کی کمی نہیں جو ڈیجیٹل طریقے سے خریداری کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایسے کاروباروں کی جو آن لائن فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ خلا ان لین دین کے گرد موجود ماحولیاتی نظام کی گہرائی میں ہے، جس میں ادائیگیاں، کاروباروں کی دستاویزی حیثیت، لاجسٹکس کا پھیلاؤ اور کاروباری صلاحیتیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ پختہ مارکیٹوں میں یہ معاون نظام ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خریداری کی فریکوئنسی بڑھتی، رکاوٹیں کم ہوتی اور کاروباری بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو صارفین میں نئی طلب پیدا کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ موجودہ طلب کو زیادہ پختہ کاروباری ماحولیاتی نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو مارکیٹ میں نمایاں گہرائی پیدا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آر ریسرچ: آخرکار کون سے عوامل یہ طے کریں گے کہ پاکستان نسبتاً کم ای کامرس رسائی سے آگے بڑھ کر زیادہ وسیع ڈیجیٹل کامرس معیشت میں تبدیل ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین یی: اصل پیش رفت صرف ای کامرس آزمانے والے لوگوں کی تعداد بڑھنے سے نہیں بلکہ خریداری کی فریکوئنسی بڑھنے سے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای کامرس کی رسائی اس وقت تیزی سے بڑھنا شروع ہوتی ہے جب کوئی صارف جو پہلے سال میں چند مرتبہ آن لائن خریداری کرتا تھا، اسے معمول کا حصہ بنالے، اور جب کوئی کاروبار ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو محض تشہیری ذریعے کے بجائے طلب کے ایک بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ضروری ہے کہ آن لائن کامرس کسی حقیقی مسئلے کا متبادل ذرائع سے بہتر حل پیش کرے، خواہ یہ مصنوعات کے تنوع، قیمت، سہولت یا ان علاقوں تک رسائی کی صورت میں ہو جہاں روایتی ریٹیل محدود ہے۔ تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ یہ نظام دوبارہ خریداری کرنے والے صارفین اور پائیدار کاروباری بنیاد فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم موڑ اس وقت آئے گا جب آن لائن خرید و فروخت کبھی کبھار کی سرگرمی کے بجائے معمول بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; پاکستان میں ای کامرس کی صلاحیت کو اکثر اجاگر کیا جاتا ہے، لیکن بلند لاجسٹکس لاگت، بڑے غیر رسمی ریٹیل شعبے، ٹیکس اور ضوابط سے متعلق غیر یقینی صورتحال اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان میں سے آج صنعت کو وسعت دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ کون سی ہے اور اس میں خاص طور پر کیا تبدیلی درکار ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; سب سے مشکل رکاوٹ رسمی ڈیجیٹل کامرس اور ایک ایسی ریٹیل معیشت کے درمیان معاشی فرق ہے جو اب بھی بڑی حد تک غیر رسمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاجسٹکس کی لاگت میں زیادہ کثافت، ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر کاروبار کے ذریعے بہتری لائی جاسکتی ہے۔ لیکن اس نظام پر قابو پانا زیادہ مشکل ہے جہاں کاروبار کو دستاویزی اور باقاعدہ ہونے کی صورت میں ایسے اخراجات اور ذمہ داریاں اٹھانا پڑتی ہیں جن سے غیر رسمی حریف بچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آسان تر تعمیل، آن لائن اور آف لائن یکساں نوعیت کے لین دین کے لیے زیادہ غیر جانب دارانہ ماحول اور اتنی پالیسی پیش گوئی ممکن بنائی جائے کہ کاروبار کئی برسوں کے تناظر میں سرمایہ کاری کرسکیں اور باقاعدہ معیشت کا حصہ بننا تجارتی طور پر پرکشش ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل لین دین پہلے ہی شفافیت پیدا کررہا ہے۔ موقع یہ ہے کہ اس شفافیت کو رسمی معیشت کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ پہلے سے دستاویزی کاروباروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; پاکستان میں نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک مختلف شعبوں میں مقامی صارف برانڈز کی نئی نسل کا ابھرنا ہے۔ اس سے ملک کے ریٹیل اور کاروباری ماحولیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; صارف برانڈ بنانے کی معاشیات تبدیل ہورہی ہیں۔ کاروباری افراد مصنوعات آزما سکتے ہیں، ڈیجیٹل طور پر صارفین کی اپنی کمیونٹی تشکیل دے سکتے ہیں اور ملک بھر میں صارفین تک پہنچ سکتے ہیں، اس کے لیے انہیں ابتدا ہی میں فزیکل ریٹیل پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صارفین بھی اس وقت نئے مقامی برانڈز آزمانے کے لیے پہلے سے زیادہ آمادہ ہیں، بشرطیکہ مصنوعات اور ان کی پیشکش مضبوط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں دراز پر یہ رجحان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ رواں سال اب تک ہم تقریباً 200 نئے برانڈز کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرچکے ہیں، جبکہ اکتوبر سے دسمبر کی سہ ماہی کے لیے مزید برانڈز زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج ابتدائی کامیابی کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ دراز آرڈر کی تکمیل، طلب اور انوینٹری کی منصوبہ بندی، مصنوعات کی نمائش اور صارفین تک رسائی میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ نئے شامل ہونے والے برانڈز کی پلیٹ فارم پر فروخت میں اوسطاً تقریباً 8 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب موقع صرف مزید برانڈز بنانے کا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے کا ہے جن میں مضبوط ترین برانڈز زیادہ تیزی سے قومی سطح کے کاروبار بن سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی آر ریسرچ:&lt;/strong&gt; کئی برسوں سے پاکستان کا مشاہدہ کرنے اور اب براہِ راست کاروباری ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، آپ پانچ برس بعد دراز پاکستان اور مجموعی ای کامرس ماحولیاتی نظام کو کس شکل میں دیکھنا چاہیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین یی:&lt;/strong&gt; میں چاہوں گا کہ پاکستان ایسے مزید کاروبار پیدا کرے جو ڈیجیٹل کامرس کے ذریعے قائم ہوں، نہ کہ صرف ایسے کاروبار جن کی فروخت کا ایک حصہ آن لائن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی کا سب سے نمایاں پیمانہ یہ ہوگا کہ چھوٹے فروخت کنندگان باقاعدہ اور پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے کاروبار بنیں، مقامی کاروبار قومی سطح کے صارف برانڈز میں تبدیل ہوں اور مزید کمپنیاں یہ فیصلہ کرنے کے لیے حقیقی وقت کی طلب سے فائدہ اٹھائیں کہ کیا پیدا کرنا، کتنا ذخیرہ کرنا اور کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دراز کے لیے ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اس ترقی کے سفر کو آسان بنایا جائے۔ اگر ڈیجیٹل کامرس صارفین تک رسائی کی لاگت کم کرسکے اور پاکستان کے کسی بھی حصے میں موجود ایک اچھے کاروبار کو ملک گیر سطح پر ترقی کرنے کا موقع دے، بغیر اس کے کہ اسے پہلے ملک بھر میں فزیکل نیٹ ورک قائم کرنا پڑے، تو ہم نے صرف ایک بڑی مارکیٹ پلیس سے کہیں زیادہ بامعنی چیز تشکیل دی ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین یی ای کامرس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھنے والے ماہر ہیں اور علی بابا گروپ کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں دراز کے آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں اور اپنے تجربے کی بنیاد پر کمپنی کی ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>بین یی نے 2015 میں علی بابا گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل وہ بی ٹو بی عالمی مارکیٹنگ اور کاروباری ترقی کی ٹیموں کی قیادت کرچکے ہیں، جہاں ان کی ذمہ داری عالمی اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ مل کر علی بابا کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دینا تھی۔ انہوں نے ٹی مال امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کی عالمی کاروباری ترقی کی ٹیم کی بھی قیادت کی، جس کے ذریعے عالمی برانڈز کو ٹی مال گلوبل کے پلیٹ فارم اور براہِ راست خریداری کے ماڈلز کے تحت چینی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد دی گئی۔</p>
<p>بین یی نے 2018 میں لازادا میں خطے میں سرحد پار کاروبار کے سربراہ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ دراز گروپ میں موجودہ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل وہ لازادا فلپائن کے چیف بزنس آفیسر بھی رہے۔</p>
<p>بین یی نے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور سے ایم بی اے اور میک ماسٹر یونیورسٹی، ہیملٹن سے کامرس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔</p>
<p><strong>ان سے حالیہ گفتگو کے منتخب اور ترمیم شدہ اقتباسات درج ذیل ہیں:</strong></p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> آپ نے حال ہی میں دراز پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی ہے، تاہم پاکستانی مارکیٹ آپ کے لیے نئی نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان کے باقاعدہ دوروں کے دوران صارفین کے رویے اور مجموعی ریٹیل منظرنامے میں آپ کو سب سے نمایاں تبدیلیاں کیا محسوس ہوئی ہیں؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> سب سے نمایاں تبدیلی مارکیٹ کے دونوں فریقوں میں پختگی کی ہے۔ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد میں نے برانڈز، فروخت کنندگان اور شراکت داروں سے ملاقاتوں میں خاصا وقت صرف کیا ہے اور جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہوئی، وہ ان کی بلند خواہشات ہیں۔ کاروباری ادارے ڈیجیٹل تقسیم اور طویل مدتی برانڈ سازی کو کہیں زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جبکہ عالمی برانڈز بھی پاکستان کو تیزی سے ایک اہم ترقی کی حامل مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>صارفین بھی اسی رفتار سے تبدیل ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ انتخاب کرنے والے، قیمت کے معاملے میں زیادہ حساس اور مصنوعات کے تنوع، ترسیل اور مستقل معیار کے حوالے سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔ یہ رجحان بڑے شہروں سے باہر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان اس مرحلے سے آگے بڑھ رہا ہے جہاں ای کامرس بنیادی طور پر رسائی اور تجربہ کرنے تک محدود تھی، اور اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس بات پر بھی بڑھتا ہوا اثر ڈال رہے ہیں کہ لوگ خریداری کیسے کرتے ہیں اور کاروبار اپنی ترقی کی منصوبہ بندی کس طرح کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> دراز گزشتہ 14 برس سے زیادہ عرصے سے پاکستان کے ای کامرس منظرنامے کا حصہ ہے۔ آپ اب تک کے اس سفر کو کس طرح دیکھتے ہیں اور کمپنی کے اگلے مرحلے کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> دراز کے پہلے 14 سال رسائی پیدا کرنے کے بارے میں تھے: کاروباروں کو آن لائن لانا، صارفین کا اعتماد حاصل کرنا اور ایک پیچیدہ مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کا نظام تشکیل دینا۔</p>
<p>اب ہماری ترجیح پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے۔ ہم مزید کاروباروں، خصوصاً بڑے شہروں سے باہر موجود کاروباری اداروں کو اپنے ماحولیاتی نظام کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن کامیابی کا پیمانہ صرف فروخت کنندگان کی تعداد نہیں ہونا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ فروخت کنندگان زیادہ مضبوط کاروبار بن رہے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>چھوٹے فروخت کنندگان کے لیے اس کا مطلب بہتر طلب سے متعلق معلومات، مصنوعات کے تنوع، انوینٹری کی منصوبہ بندی اور آرڈر کی تکمیل کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ قائم شدہ برانڈز کو مختلف نوعیت کی معاونت درکار ہوتی ہے، اسی لیے ہم خصوصی پروگرام تیار کررہے ہیں جن کا مقصد دراز پر کاروبار کرنا آسان بنانا اور پہلے سے کامیاب برانڈز کو اضافی ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اگلا مرحلہ صرف شرکت بڑھانے کے بجائے اس کی <strong>معیار اور افادیت بہتر بنانے</strong> پر مرکوز ہوگا۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> ڈی ای ایکس اس ارتقا کی ایک مثال ہے، جہاں دراز کا لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اب مارکیٹ پلیس سے باہر بھی کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ یہ تبدیلی کتنی اہم ہے اور کیا یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں دراز کے وسیع تر کردار کی جانب اشارہ کرتی ہے؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> ڈی ای ایکس اس لیے اہم ہے کہ اس کے ذریعے دراز اس وقت بھی قدر پیدا کرسکتا ہے جب لین دین ہمارے مارکیٹ پلیس پر نہ ہو۔ نومبر 2025 سے ڈی ای ایکس تقریباً 6 گنا بڑھ چکا ہے اور اب 200 سے زائد بڑے برانڈز کو خدمات فراہم کررہا ہے۔ کراچی اور لاہور میں ہمارے ڈسٹری بیوشن سینٹرز فی سورٹر تقریباً 10 ہزار پارسلز فی گھنٹہ پراسیس کرسکتے ہیں، جبکہ پورا نیٹ ورک روزانہ 10 لاکھ تک پارسلز سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>جب برانڈز اپنی ویب سائٹس، سوشل کامرس کاروبار اور اومنی چینل ماڈلز تیار کرتے ہیں تو آرڈر کی تکمیل مشترکہ انفرااسٹرکچر بن جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر کاروبار اپنی قومی سطح کی لاجسٹکس نیٹ ورک الگ سے قائم کرے۔ ڈی ای ایکس انہیں پہلے سے موجود سہولتوں سے منسلک ہونے کا موقع دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی توجہ مصنوعات، صارفین اور ترقی پر مرکوز کرسکیں۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> دراز نے حال ہی میں لائسنس یافتہ ای فارمیسی کے ذریعے صحت کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔ کیا یہ دراز کے لیے ڈیجیٹل کامرس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کی علامت ہے؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> یہ اختیاری آن لائن خریداری سے روزمرہ اور بنیادی ضروریات کی جانب ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ صحت کا شعبہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہاں صرف سہولت کافی نہیں؛ صارفین کو مصنوعات کی اصلیت، ضوابط کی پابندی اور بروقت فراہمی پر بھی اعتماد درکار ہوتا ہے۔</p>
<p>ہماری لائسنس یافتہ ای فارمیسی پہلے ہی 20 سے زائد ادویات ساز اور صحت سے متعلق برانڈز کی 450 سے زیادہ مصنوعات پیش کررہی ہے اور دراز کی سروس والے شہروں میں ان کی ترسیل کی سہولت دستیاب ہے۔ ہمیں طلب بھی مضبوط نظر آرہی ہے۔ مثال کے طور پر ایبٹ کی پلیٹ فارم پر فروخت میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>موقع یہ ہے کہ ای کامرس سے صارفین کو حاصل ہونے والے اعتماد اور سہولت کو ان شعبوں تک پہنچایا جائے جہاں قابلِ اعتماد خدمات کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> پاکستان کے ای کامرس سفر میں نقد ادائیگی کا تاریخی طور پر اہم کردار رہا ہے، تاہم ڈیجیٹل ادائیگیاں بڑھ رہی ہیں۔ آئندہ چند برسوں میں آپ اس توازن کو کس طرح تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> نقد ادائیگی نے ای کامرس میں اعتماد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً پہلی مرتبہ خریداری کرنے والے صارفین کے لیے۔ تاہم یہ توازن پہلے ہی تبدیل ہورہا ہے۔ ہماری تقریباً 30 فیصد فروخت اب ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے ہوتی ہے اور زیادہ مالیت کی خریداریوں میں اس کا استعمال خاصا زیادہ ہے۔</p>
<p>مجھے توقع ہے کہ بینکوں، ڈیجیٹل والٹس اور ادائیگی کے نیٹ ورکس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان اور زیادہ فائدہ مند ہونے کے ساتھ یہ تناسب بتدریج بڑھے گا۔</p>
<p>نقد ادائیگی نے ای کامرس میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دی، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اس شعبے میں کارکردگی بڑھانے میں مدد کریں گی۔ پیشگی ادائیگی کا تناسب بڑھنے سے لین دین میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور پورے ماحولیاتی نظام کے لیے کاروباری ماڈل زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> علی بابا اور دراز دونوں میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے عمومی جوش و خروش سے ہٹ کر، آپ دراز کے کاروبار، صارفین اور فروخت کنندگان کے لیے مصنوعی ذہانت کو سب سے زیادہ مؤثر کہاں دیکھتے ہیں؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> مصنوعی ذہانت صارفین کے لیے خریداری کو زیادہ متعلقہ اور کاروباروں کے لیے زیادہ مؤثر بناسکتی ہے۔ خریداروں کے لیے اس کا مطلب بہتر سرچ، مصنوعات کی دریافت اور شخصی نوعیت کی تجاویز ہیں۔ فروخت کنندگان اور برانڈز کے لیے یہ طلب کی پیش گوئی، مصنوعات کے انتخاب، مواد کی تیاری اور مارکیٹنگ کو بہتر بناسکتی ہے۔ اندرونی طور پر یہ صارفین کی خدمات، فراڈ کی روک تھام اور لاجسٹکس کی منصوبہ بندی کو بھی مضبوط کرسکتی ہے۔</p>
<p>علی بابا کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مصنوعی ذہانت کی نمایاں صلاحیتوں تک رسائی حاصل ہے، لیکن اصل موقع مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں اپنی زبانیں، خریداری کے رویے، قیمتوں کے حوالے سے حساسیت اور مصنوعات دریافت کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اس وقت کہیں زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے جب وہ اس تناظر کو سمجھتی ہے۔</p>
<p>اگر اسے درست انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ صارف کی ضرورت اور اسے مطلوبہ چیز ملنے کے درمیان فاصلے کو کم کرسکتی ہے، اور اسی طرح اچھی مصنوعات رکھنے والے کاروباری فرد اور ترقی کے موقع کے درمیان فاصلے کو بھی کم کرسکتی ہے۔ یہ ہمارے اس مشن سے براہِ راست ہم آہنگ ہے کہ تجارت کے ذریعے معاشروں کو ترقی دی جائے۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر، دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں آپ پاکستان کو اس وقت ای کامرس کے ارتقا کے کس مرحلے پر دیکھتے ہیں؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> پاکستان کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صارفین کی طلب اور کاروباری سرگرمی نے اس سے متعلق بعض نظاموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی ہے۔ ایسے صارفین کی کمی نہیں جو ڈیجیٹل طریقے سے خریداری کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایسے کاروباروں کی جو آن لائن فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ خلا ان لین دین کے گرد موجود ماحولیاتی نظام کی گہرائی میں ہے، جس میں ادائیگیاں، کاروباروں کی دستاویزی حیثیت، لاجسٹکس کا پھیلاؤ اور کاروباری صلاحیتیں شامل ہیں۔</p>
<p>زیادہ پختہ مارکیٹوں میں یہ معاون نظام ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خریداری کی فریکوئنسی بڑھتی، رکاوٹیں کم ہوتی اور کاروباری بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو صارفین میں نئی طلب پیدا کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ موجودہ طلب کو زیادہ پختہ کاروباری ماحولیاتی نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو مارکیٹ میں نمایاں گہرائی پیدا ہوسکتی ہے۔</p>
<p>بی آر ریسرچ: آخرکار کون سے عوامل یہ طے کریں گے کہ پاکستان نسبتاً کم ای کامرس رسائی سے آگے بڑھ کر زیادہ وسیع ڈیجیٹل کامرس معیشت میں تبدیل ہوتا ہے؟</p>
<p>بین یی: اصل پیش رفت صرف ای کامرس آزمانے والے لوگوں کی تعداد بڑھنے سے نہیں بلکہ خریداری کی فریکوئنسی بڑھنے سے آئے گی۔</p>
<p>ای کامرس کی رسائی اس وقت تیزی سے بڑھنا شروع ہوتی ہے جب کوئی صارف جو پہلے سال میں چند مرتبہ آن لائن خریداری کرتا تھا، اسے معمول کا حصہ بنالے، اور جب کوئی کاروبار ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو محض تشہیری ذریعے کے بجائے طلب کے ایک بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کردے۔</p>
<p>اس کے لیے ضروری ہے کہ آن لائن کامرس کسی حقیقی مسئلے کا متبادل ذرائع سے بہتر حل پیش کرے، خواہ یہ مصنوعات کے تنوع، قیمت، سہولت یا ان علاقوں تک رسائی کی صورت میں ہو جہاں روایتی ریٹیل محدود ہے۔ تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ یہ نظام دوبارہ خریداری کرنے والے صارفین اور پائیدار کاروباری بنیاد فراہم کرے۔</p>
<p>اہم موڑ اس وقت آئے گا جب آن لائن خرید و فروخت کبھی کبھار کی سرگرمی کے بجائے معمول بن جائے گی۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> پاکستان میں ای کامرس کی صلاحیت کو اکثر اجاگر کیا جاتا ہے، لیکن بلند لاجسٹکس لاگت، بڑے غیر رسمی ریٹیل شعبے، ٹیکس اور ضوابط سے متعلق غیر یقینی صورتحال اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ان میں سے آج صنعت کو وسعت دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ کون سی ہے اور اس میں خاص طور پر کیا تبدیلی درکار ہے؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> سب سے مشکل رکاوٹ رسمی ڈیجیٹل کامرس اور ایک ایسی ریٹیل معیشت کے درمیان معاشی فرق ہے جو اب بھی بڑی حد تک غیر رسمی ہے۔</p>
<p>لاجسٹکس کی لاگت میں زیادہ کثافت، ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر کاروبار کے ذریعے بہتری لائی جاسکتی ہے۔ لیکن اس نظام پر قابو پانا زیادہ مشکل ہے جہاں کاروبار کو دستاویزی اور باقاعدہ ہونے کی صورت میں ایسے اخراجات اور ذمہ داریاں اٹھانا پڑتی ہیں جن سے غیر رسمی حریف بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>مقصد یہ ہونا چاہیے کہ آسان تر تعمیل، آن لائن اور آف لائن یکساں نوعیت کے لین دین کے لیے زیادہ غیر جانب دارانہ ماحول اور اتنی پالیسی پیش گوئی ممکن بنائی جائے کہ کاروبار کئی برسوں کے تناظر میں سرمایہ کاری کرسکیں اور باقاعدہ معیشت کا حصہ بننا تجارتی طور پر پرکشش ہو۔</p>
<p>ڈیجیٹل لین دین پہلے ہی شفافیت پیدا کررہا ہے۔ موقع یہ ہے کہ اس شفافیت کو رسمی معیشت کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ پہلے سے دستاویزی کاروباروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے لیے۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> پاکستان میں نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک مختلف شعبوں میں مقامی صارف برانڈز کی نئی نسل کا ابھرنا ہے۔ اس سے ملک کے ریٹیل اور کاروباری ماحولیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> صارف برانڈ بنانے کی معاشیات تبدیل ہورہی ہیں۔ کاروباری افراد مصنوعات آزما سکتے ہیں، ڈیجیٹل طور پر صارفین کی اپنی کمیونٹی تشکیل دے سکتے ہیں اور ملک بھر میں صارفین تک پہنچ سکتے ہیں، اس کے لیے انہیں ابتدا ہی میں فزیکل ریٹیل پر بھاری سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب صارفین بھی اس وقت نئے مقامی برانڈز آزمانے کے لیے پہلے سے زیادہ آمادہ ہیں، بشرطیکہ مصنوعات اور ان کی پیشکش مضبوط ہو۔</p>
<p>ہمیں دراز پر یہ رجحان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ رواں سال اب تک ہم تقریباً 200 نئے برانڈز کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرچکے ہیں، جبکہ اکتوبر سے دسمبر کی سہ ماہی کے لیے مزید برانڈز زیر غور ہیں۔</p>
<p>چیلنج ابتدائی کامیابی کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ دراز آرڈر کی تکمیل، طلب اور انوینٹری کی منصوبہ بندی، مصنوعات کی نمائش اور صارفین تک رسائی میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ نئے شامل ہونے والے برانڈز کی پلیٹ فارم پر فروخت میں اوسطاً تقریباً 8 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>اب موقع صرف مزید برانڈز بنانے کا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے کا ہے جن میں مضبوط ترین برانڈز زیادہ تیزی سے قومی سطح کے کاروبار بن سکیں۔</p>
<p><strong>بی آر ریسرچ:</strong> کئی برسوں سے پاکستان کا مشاہدہ کرنے اور اب براہِ راست کاروباری ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، آپ پانچ برس بعد دراز پاکستان اور مجموعی ای کامرس ماحولیاتی نظام کو کس شکل میں دیکھنا چاہیں گے؟</p>
<p><strong>بین یی:</strong> میں چاہوں گا کہ پاکستان ایسے مزید کاروبار پیدا کرے جو ڈیجیٹل کامرس کے ذریعے قائم ہوں، نہ کہ صرف ایسے کاروبار جن کی فروخت کا ایک حصہ آن لائن ہو۔</p>
<p>ترقی کا سب سے نمایاں پیمانہ یہ ہوگا کہ چھوٹے فروخت کنندگان باقاعدہ اور پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے کاروبار بنیں، مقامی کاروبار قومی سطح کے صارف برانڈز میں تبدیل ہوں اور مزید کمپنیاں یہ فیصلہ کرنے کے لیے حقیقی وقت کی طلب سے فائدہ اٹھائیں کہ کیا پیدا کرنا، کتنا ذخیرہ کرنا اور کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے۔</p>
<p>دراز کے لیے ہماری خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اس ترقی کے سفر کو آسان بنایا جائے۔ اگر ڈیجیٹل کامرس صارفین تک رسائی کی لاگت کم کرسکے اور پاکستان کے کسی بھی حصے میں موجود ایک اچھے کاروبار کو ملک گیر سطح پر ترقی کرنے کا موقع دے، بغیر اس کے کہ اسے پہلے ملک بھر میں فزیکل نیٹ ورک قائم کرنا پڑے، تو ہم نے صرف ایک بڑی مارکیٹ پلیس سے کہیں زیادہ بامعنی چیز تشکیل دی ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292051</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 00:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0300342860e27a3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0300342860e27a3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزگار کی منڈی میں سست روی، فیڈ کی اکتوبر میں شرح سود نہ بڑھانے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292050/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جمعہ کو جاری ہونے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ توقع سے زیادہ سست پڑ رہی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کو شرح سود میں دوبارہ اضافے سے قبل انتظار کرنے کی مزید وجہ مل گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ محنت کے مطابق امریکی آجروں نے گزشتہ ماہ صرف 29 ہزار ملازمتوں کا اضافہ کیا، جو ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے متوقع 90 ہزار کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اگست میں ملازمتوں میں اضافے کے اعداد و شمار پر بھی نظرثانی کرتے ہوئے انہیں کم کردیا گیا۔ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد سے بڑھ کر 4.2 فیصد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ نے گزشتہ ماہ قلیل مدتی قرض لینے کی لاگت میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا تھا تاکہ افراطِ زر کو 2 فیصد کے ہدف کی جانب واپس لایا جاسکے۔ پالیسی سازوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران جنگ اور افراطِ زر میں اضافے کا باعث بننے والے دیگر عوامل برقرار رہے تو وہ سال کے اختتام تک شرح سود میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں، بشرطیکہ لیبر مارکیٹ کی صورتحال مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد شرح سود کے فیوچرز معاہدوں میں فیڈ کے اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھائے جانے کا امکان پانچ میں سے ایک سے بھی کم رہ گیا، جو اس سے قبل چار میں سے ایک سے زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈرز نے دسمبر میں شرح سود بڑھائے جانے کے امکانات پر بھی اپنی شرطیں کم کردیں، تاہم مارکیٹ اب بھی اس اقدام کا امکان تقریباً 90 فیصد ظاہر کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جمعہ کو جاری ہونے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق امریکی لیبر مارکیٹ توقع سے زیادہ سست پڑ رہی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کو شرح سود میں دوبارہ اضافے سے قبل انتظار کرنے کی مزید وجہ مل گئی ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ محنت کے مطابق امریکی آجروں نے گزشتہ ماہ صرف 29 ہزار ملازمتوں کا اضافہ کیا، جو ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے متوقع 90 ہزار کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اگست میں ملازمتوں میں اضافے کے اعداد و شمار پر بھی نظرثانی کرتے ہوئے انہیں کم کردیا گیا۔ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد سے بڑھ کر 4.2 فیصد ہوگئی۔</p>
<p>فیڈ نے گزشتہ ماہ قلیل مدتی قرض لینے کی لاگت میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا تھا تاکہ افراطِ زر کو 2 فیصد کے ہدف کی جانب واپس لایا جاسکے۔ پالیسی سازوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران جنگ اور افراطِ زر میں اضافے کا باعث بننے والے دیگر عوامل برقرار رہے تو وہ سال کے اختتام تک شرح سود میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں، بشرطیکہ لیبر مارکیٹ کی صورتحال مستحکم رہے۔</p>
<p>جمعہ کو اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد شرح سود کے فیوچرز معاہدوں میں فیڈ کے اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھائے جانے کا امکان پانچ میں سے ایک سے بھی کم رہ گیا، جو اس سے قبل چار میں سے ایک سے زیادہ تھا۔</p>
<p>ٹریڈرز نے دسمبر میں شرح سود بڑھائے جانے کے امکانات پر بھی اپنی شرطیں کم کردیں، تاہم مارکیٹ اب بھی اس اقدام کا امکان تقریباً 90 فیصد ظاہر کررہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292050</guid>
      <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 00:26:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/03002322f293eb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/03002322f293eb5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول 2 روپے 10 پیسے، ڈیزل 30 پیسے فی لیٹر مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292049/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے 3 سے 5 اکتوبر 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 30 پیسے بڑھا کر 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں نظرثانی کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/02231210abf9d53.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/02231210abf9d53.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ نظرثانی شدہ قیمتیں عالمی منڈی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے منسلک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول اب 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا، جو پہلے 390 روپے 66 پیسے تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے، جو پہلے 399 روپے 34 پیسے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں نظرثانی عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت، بالخصوص پلاٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی کے باعث کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو حکومت نے پٹرول کی قیمت 3 روپے 26 پیسے بڑھا کر 390 روپے 66 پیسے فی لیٹر کردی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 1 روپے 1 پیسے کم کرکے 399 روپے 34 پیسے فی لیٹر کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، جمعہ کو یورپ میں اضافی ڈیزل اور خام تیل کے ذخائر جاری کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتیں 3 ڈالر سے زیادہ گر گئیں جبکہ یورپی گیس آئل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں بھی 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی محدود رسد سے متعلق خدشات میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1409 بجے برینٹ خام تیل کی قیمت 3.06 ڈالر یا 3 فیصد کمی سے 99.25 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 3.95 ڈالر یا 4.25 فیصد کمی سے 88.92 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں بینچ مارک معاہدے ہفتہ وار بنیاد پر کمی کے لیے تیار ہیں، برینٹ کی قیمت رواں ہفتے اب تک تقریباً 4.7 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 3.7 فیصد کم ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی گیس آئل کے مستقبل کے سودے، جو ڈیزل کی قیمتوں کے لیے بینچ مارک سمجھے جاتے ہیں، تقریباً 4.3 فیصد کمی سے 1,386.75 ڈالر فی میٹرک ٹن ہوگئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے 3 سے 5 اکتوبر 2026 کے لیے پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 30 پیسے بڑھا کر 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے۔</strong></p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت کے پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں نظرثانی کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/02231210abf9d53.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/10/02231210abf9d53.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ نظرثانی شدہ قیمتیں عالمی منڈی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے منسلک ہیں۔</p>
<p>پٹرول اب 392 روپے 76 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا، جو پہلے 390 روپے 66 پیسے تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 399 روپے 64 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے، جو پہلے 399 روپے 34 پیسے تھی۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں نظرثانی عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت، بالخصوص پلاٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلی کے باعث کی گئی ہے۔</p>
<p>جمعرات کو حکومت نے پٹرول کی قیمت 3 روپے 26 پیسے بڑھا کر 390 روپے 66 پیسے فی لیٹر کردی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 1 روپے 1 پیسے کم کرکے 399 روپے 34 پیسے فی لیٹر کردی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا، جمعہ کو یورپ میں اضافی ڈیزل اور خام تیل کے ذخائر جاری کرنے سے متعلق مذاکرات کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتیں 3 ڈالر سے زیادہ گر گئیں جبکہ یورپی گیس آئل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں بھی 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی محدود رسد سے متعلق خدشات میں کمی آئی۔</p>
<p>گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1409 بجے برینٹ خام تیل کی قیمت 3.06 ڈالر یا 3 فیصد کمی سے 99.25 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 3.95 ڈالر یا 4.25 فیصد کمی سے 88.92 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>دونوں بینچ مارک معاہدے ہفتہ وار بنیاد پر کمی کے لیے تیار ہیں، برینٹ کی قیمت رواں ہفتے اب تک تقریباً 4.7 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 3.7 فیصد کم ہوچکی ہے۔</p>
<p>یورپی گیس آئل کے مستقبل کے سودے، جو ڈیزل کی قیمتوں کے لیے بینچ مارک سمجھے جاتے ہیں، تقریباً 4.3 فیصد کمی سے 1,386.75 ڈالر فی میٹرک ٹن ہوگئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292049</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:40:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0223340299afbf8.webp" type="image/webp" medium="image" height="453" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0223340299afbf8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ، اوپیک پلس نے تیل پیداواری صلاحیت کا جائزہ مؤخر کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ اوپیک پلس کی جانب سے رکن ممالک کے 2027 کے تیل پیداواری کوٹے کے تعین کے لیے کیے جانے والے جائزے میں تاخیر ہوگئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک پلس، جس میں پٹرولیم برآمد کنندہ ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے علاوہ روس اور دیگر اتحادی ممالک شامل ہیں، نے 2027 کے کوٹے مقرر کرنے سے قبل تمام رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینے کا فیصلہ 2025 کے اواخر میں کیا تھا، جسے ستمبر 2026 کے اختتام تک مکمل ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جائزے کی تکمیل کی مقررہ مدت گزر چکی ہے، جبکہ ان میں سے ایک ذریعے نے بتایا کہ اب یہ جائزہ نومبر کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک نے تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں پیداواری صلاحیت بڑھانے والے منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر کہا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی فراہم نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس مشق کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک اہم پیمانہ ہے جسے پیداوار کے اہداف پر مذاکرات میں استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے مفروضوں کو متاثر کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جاری منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر بتایا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی جمع نہیں کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ پیداوار کے اہداف کے تعین سے متعلق مذاکرات میں استعمال ہونے والا ایک اہم پیمانہ ہے۔ منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے تخمینوں کو متاثر کرسکتی ہے اور ممکنہ طور پر رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ کم لگایا گیا ہے، انہیں کم پیداواری کوٹے کے لیے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ جن پیداوار کنندگان نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، وہ زیادہ کوٹے کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات، جو اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کے عکاس کے طور پر اوپیک پلس سے زیادہ کوٹے کا مطالبہ کرتا رہا تھا، مئی میں اتحاد سے الگ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے جون میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ عراق بھی زیادہ پیداواری کوٹے کا خواہاں ہے اور اوپیک سے علیحدگی پر غور کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاملے سے واقف دو ذرائع نے بتایا کہ اوپیک پلس کی جانب سے رکن ممالک کے 2027 کے تیل پیداواری کوٹے کے تعین کے لیے کیے جانے والے جائزے میں تاخیر ہوگئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں، جس سے مستقبل کی پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>اوپیک پلس، جس میں پٹرولیم برآمد کنندہ ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے علاوہ روس اور دیگر اتحادی ممالک شامل ہیں، نے 2027 کے کوٹے مقرر کرنے سے قبل تمام رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینے کا فیصلہ 2025 کے اواخر میں کیا تھا، جسے ستمبر 2026 کے اختتام تک مکمل ہونا تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق جائزے کی تکمیل کی مقررہ مدت گزر چکی ہے، جبکہ ان میں سے ایک ذریعے نے بتایا کہ اب یہ جائزہ نومبر کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>اوپیک نے تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<h3><a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی</h3>
<p>مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں پیداواری صلاحیت بڑھانے والے منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر کہا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی فراہم نہیں کیے۔</p>
<p>یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس مشق کو مزید پیچیدہ بنارہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک اہم پیمانہ ہے جسے پیداوار کے اہداف پر مذاکرات میں استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے مفروضوں کو متاثر کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔</p>
<h3><a id="پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" href="#پیداواری-صلاحیت-کے-تخمینے-غیر-یقینی-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>پیداواری صلاحیت کے تخمینے غیر یقینی</h3>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث اوپیک پلس کے بعض رکن ممالک میں تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے جاری منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل میں کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکیں گے۔ ذرائع نے ممالک کے نام بتائے بغیر بتایا کہ تمام رکن ممالک نے جائزے کے لیے درکار اعداد و شمار بھی جمع نہیں کرائے۔</p>
<p>یہ غیر یقینی صورتحال اوپیک پلس کے لیے ایک سیاسی طور پر حساس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ پیداواری صلاحیت کے تخمینے اس بات پر اثرانداز ہونے کا امکان ہے کہ ہر رکن ملک کو کتنی مقدار میں تیل پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>اس جائزے کا مقصد یہ جانچنے کے لیے تازہ ترین آزادانہ تخمینہ فراہم کرنا ہے کہ ہر رکن ملک پائیدار بنیادوں پر کتنی مقدار میں تیل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ پیداوار کے اہداف کے تعین سے متعلق مذاکرات میں استعمال ہونے والا ایک اہم پیمانہ ہے۔ منصوبہ بند پیداواری صلاحیت میں اضافے میں تاخیر ان جائزوں کی بنیاد بننے والے تخمینوں کو متاثر کرسکتی ہے اور ممکنہ طور پر رکن ممالک کے مستقبل کے تیل پیداواری کوٹے پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔</p>
<p>جن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا تخمینہ کم لگایا گیا ہے، انہیں کم پیداواری کوٹے کے لیے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ جن پیداوار کنندگان نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، وہ زیادہ کوٹے کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات، جو اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کے عکاس کے طور پر اوپیک پلس سے زیادہ کوٹے کا مطالبہ کرتا رہا تھا، مئی میں اتحاد سے الگ ہوگیا۔</p>
<p>ذرائع نے جون میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ عراق بھی زیادہ پیداواری کوٹے کا خواہاں ہے اور اوپیک سے علیحدگی پر غور کرچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292048</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:31:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02231711b1a93c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02231711b1a93c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بحیرہ احمر کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے سعودی عرب کا حوثیوں کے خلاف حملے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292047/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;علاقائی اور مغربی حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے لیے زیر غور آپشنز میں بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے ساحلی علاقے میں پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر بیک وقت حملہ شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 ایسے افراد کے مطابق جو تیاریوں سے واقف ہیں، یہ کارروائی آئندہ چند ہفتوں میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، جس کی قیادت زمین پر موجود یمنی فورسز کریں گی جن کی نگرانی ریاض کرتا ہے، جبکہ انہیں سعودی فضائی حملوں کی مدد حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان افراد نے سکیورٹی معاملات پر گفتگو کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا پہلے ہی یمن میں سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک بھی سعودی عرب کو زیادہ تر دفاعی نوعیت کی فوجی امداد دے رہے ہیں، تاہم سعودی اتحادیوں کی براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی توقع نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کرتے ہوئے عرب اتحاد کی قیادت سنبھالی تھی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی تھی، جسے حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء سے بے دخل کر دیا تھا۔ فریقین کے درمیان 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم رواں سال ایران جنگ کے نتیجے میں حالات بگڑ گئے اور حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور تیل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی منصوبہ بندی میں شامل اس مجوزہ کارروائی کا ایک اہم مقصد حوثیوں کی گزشتہ ماہ ہونے والی تیز رفتار پیش قدمی کو واپس پلٹانا ہے، جس کے دوران انہوں نے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب پر قبضہ کرلیا تھا۔ خلیجی اور یمنی حکام کے علاوہ مغربی سفارت کار بھی اس منصوبے سے واقف افراد میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی اور یمنی حکام کے مطابق سعودی عرب حملے کے لیے 2 ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے: ایک باب المندب کے گرد و نواح تک محدود حملہ، یا اس سے زیادہ وسیع فوجی کارروائی جس میں یمن کے مختلف محاذوں پر بیک وقت مربوط حملے کیے جائیں، جن میں البیضا، مأرب، تعز اور الجوف کے گورنریٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام حکام کے مطابق کارروائی کے حجم کے لحاظ سے ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجیوں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی اور یمنی حکومتوں، حوثیوں اور امریکی فوج کے ترجمانوں نے سعودی منصوبوں پر تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع اہم بحری گزرگاہ ہے، جو بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ رواں سال آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی سفارت کار اور خلیجی عہدیدار کے مطابق ریاض اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جب تک حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول برقرار ہے، ان کے ساتھ یمن میں امن مذاکرات کے نئے دور میں داخل نہیں ہوا جاسکتا، کیونکہ اس سے حوثیوں کو عالمی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی تیاریوں سے واقف 6 افراد کارروائی کے آغاز کا درست وقت نہیں بتا سکے۔ ان کے اندازے ایک ہفتے کے اندر کارروائی شروع ہونے سے لے کر نومبر کے اوائل میں امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں امریکا کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی نے کہا کہ ان کے خیال میں کارروائی محدود دائرے تک رہے گی اور یقینی طور پر 2015 میں سعودی قیادت میں ہونے والی کارروائی سے کہیں کم بڑے پیمانے کی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’وہ جتنا حوثیوں کو مکمل طور پر شکست دینا چاہتے ہیں، اتنا ہی انہیں اس صورتِ حال کو بھی بحال کرنا ہوگا جو باب المندب کے ساتھ حوثیوں کے علاقے پر کنٹرول سے پہلے تھی۔ بہتر ہوگا کہ کارروائی نسبتاً محدود ہو، ساحلی علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا جائے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-ترکیہ-اور-پاکستان" href="#ٹرمپ-ترکیہ-اور-پاکستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ، ترکیہ اور پاکستان&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن، جو سعودی عرب کا سب سے طاقتور اتحادی ہے، سعودی فضائی کارروائیوں میں معاونت کے لیے فوجی مشیر اور انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جس میں اہداف سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، ایک مغربی سفارت کار کے مطابق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی معاونت کی سطح محدود رہ سکتی ہے۔ رائٹرز پہلے رپورٹ کرچکا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہِ راست فوجی مدد، مثلاً فضائی حملوں، کی درخواست مسترد کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ترکیہ، جن کے ساتھ سعودی عرب نے گزشتہ ماہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، نے یمن میں سعودی عرب کے زیر استعمال فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے، پاکستانی اور علاقائی حکام نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ پاکستان نے 4 مال بردار طیاروں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپ خانے کی تنصیبات، ڈرونز اور ڈرون شکن نظام سمیت فوجی سازوسامان عدن بھیجا تھا، جو سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے، ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دوسرے پاکستانی عہدیدار، خلیجی عہدیدار اور مغربی سفارت کار کے مطابق پاکستانی فوجی مشیر بھی یمنی فورسز کی معاونت کے لیے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے موجودہ جنگ سے قبل خریدے گئے ترک ڈرونز بھی یمن میں تعینات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی حکام کے مطابق یمن میں نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کی ایک بڑی تشویش حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے اپنی تیل تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق ریاض نے کئی اتحادیوں سے دفاعی نظام کے لیے مدد طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں، جن کا مقصد مملکت کی زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کو روکنے میں مدد دینا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ان فوجیوں کی تعیناتی گزشتہ سال شروع ہونے والی مختلف مرحلوں کی کارروائیوں اور حالیہ کشیدگی کے بعد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے یمن میں جنگی کارروائیوں کے لیے فوجی بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی اور ترک وزارتِ دفاع نے ریاض کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت کے بارے میں تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر ینبع کے تحفظ میں مدد کے لیے دفاعی نظام اور فوجی دستے سعودی عرب بھیجے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یمنی-فورسز-میں-انتشار" href="#یمنی-فورسز-میں-انتشار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یمنی فورسز میں انتشار&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یمن کے اندر کسی بھی زمینی کارروائی کے لیے مختلف یمنی جنگجو دھڑوں پر مشتمل ایک غیر متحد اتحاد پر انحصار کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے تجزیہ کار محمد الباشا نے کہا، ’’حوثیوں کے خلاف بہت سی قوتیں اب بھی منظم یا اس نوعیت کی طویل کارروائی کے لیے تیار نہیں جن کے ذریعے ایک منظم حوثی فوجی قوت کو پیچھے دھکیلا جاسکے۔ حوثیوں کی جانب سے بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ ڈالے جانے کے باعث ان قوتوں کی اس وقت بھی آزمائش جاری ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکومت کے نقطۂ نظر سے قریب سمجھے جانے والے سعودی سیاسی تجزیہ کار علی شھابی نے خبردار کیا کہ حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی کا نتیجہ زمینی فورسز کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اب تک ترجیح زمینی پوزیشنوں کا دفاع اور محاذ کو مستحکم کرنا رہی ہے، تاہم وہ یقینی طور پر اب کارروائی شروع کریں گے۔ کامیابی کا زیادہ تر انحصار مقامی فورسز کی کارکردگی کے معیار پر ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>علاقائی اور مغربی حکام نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے لیے زیر غور آپشنز میں بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے ساحلی علاقے میں پیش قدمی یا متعدد محاذوں پر بیک وقت حملہ شامل ہے۔</strong></p>
<p>6 ایسے افراد کے مطابق جو تیاریوں سے واقف ہیں، یہ کارروائی آئندہ چند ہفتوں میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، جس کی قیادت زمین پر موجود یمنی فورسز کریں گی جن کی نگرانی ریاض کرتا ہے، جبکہ انہیں سعودی فضائی حملوں کی مدد حاصل ہوگی۔</p>
<p>ان افراد نے سکیورٹی معاملات پر گفتگو کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا پہلے ہی یمن میں سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی اور یورپی ممالک بھی سعودی عرب کو زیادہ تر دفاعی نوعیت کی فوجی امداد دے رہے ہیں، تاہم سعودی اتحادیوں کی براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی توقع نہیں۔</p>
<p>سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کرتے ہوئے عرب اتحاد کی قیادت سنبھالی تھی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی تھی، جسے حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء سے بے دخل کر دیا تھا۔ فریقین کے درمیان 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی، تاہم رواں سال ایران جنگ کے نتیجے میں حالات بگڑ گئے اور حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور تیل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کردیے۔</p>
<p>سعودی عرب کی منصوبہ بندی میں شامل اس مجوزہ کارروائی کا ایک اہم مقصد حوثیوں کی گزشتہ ماہ ہونے والی تیز رفتار پیش قدمی کو واپس پلٹانا ہے، جس کے دوران انہوں نے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب پر قبضہ کرلیا تھا۔ خلیجی اور یمنی حکام کے علاوہ مغربی سفارت کار بھی اس منصوبے سے واقف افراد میں شامل ہیں۔</p>
<p>خلیجی اور یمنی حکام کے مطابق سعودی عرب حملے کے لیے 2 ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے: ایک باب المندب کے گرد و نواح تک محدود حملہ، یا اس سے زیادہ وسیع فوجی کارروائی جس میں یمن کے مختلف محاذوں پر بیک وقت مربوط حملے کیے جائیں، جن میں البیضا، مأرب، تعز اور الجوف کے گورنریٹس شامل ہیں۔</p>
<p>تمام حکام کے مطابق کارروائی کے حجم کے لحاظ سے ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجیوں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>سعودی اور یمنی حکومتوں، حوثیوں اور امریکی فوج کے ترجمانوں نے سعودی منصوبوں پر تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع اہم بحری گزرگاہ ہے، جو بحیرہ روم اور ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ رواں سال آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہے۔</p>
<p>مغربی سفارت کار اور خلیجی عہدیدار کے مطابق ریاض اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جب تک حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول برقرار ہے، ان کے ساتھ یمن میں امن مذاکرات کے نئے دور میں داخل نہیں ہوا جاسکتا، کیونکہ اس سے حوثیوں کو عالمی سطح پر نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>سعودی تیاریوں سے واقف 6 افراد کارروائی کے آغاز کا درست وقت نہیں بتا سکے۔ ان کے اندازے ایک ہفتے کے اندر کارروائی شروع ہونے سے لے کر نومبر کے اوائل میں امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مختلف ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب میں امریکا کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی نے کہا کہ ان کے خیال میں کارروائی محدود دائرے تک رہے گی اور یقینی طور پر 2015 میں سعودی قیادت میں ہونے والی کارروائی سے کہیں کم بڑے پیمانے کی ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’وہ جتنا حوثیوں کو مکمل طور پر شکست دینا چاہتے ہیں، اتنا ہی انہیں اس صورتِ حال کو بھی بحال کرنا ہوگا جو باب المندب کے ساتھ حوثیوں کے علاقے پر کنٹرول سے پہلے تھی۔ بہتر ہوگا کہ کارروائی نسبتاً محدود ہو، ساحلی علاقوں کو دوبارہ حاصل کیا جائے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جائے۔‘‘</p>
<h3><a id="ٹرمپ-ترکیہ-اور-پاکستان" href="#ٹرمپ-ترکیہ-اور-پاکستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>ٹرمپ، ترکیہ اور پاکستان</h3>
<p>واشنگٹن، جو سعودی عرب کا سب سے طاقتور اتحادی ہے، سعودی فضائی کارروائیوں میں معاونت کے لیے فوجی مشیر اور انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، جس میں اہداف سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، ایک مغربی سفارت کار کے مطابق۔</p>
<p>تاہم امریکی معاونت کی سطح محدود رہ سکتی ہے۔ رائٹرز پہلے رپورٹ کرچکا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہِ راست فوجی مدد، مثلاً فضائی حملوں، کی درخواست مسترد کردی تھی۔</p>
<p>پاکستان اور ترکیہ، جن کے ساتھ سعودی عرب نے گزشتہ ماہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، نے یمن میں سعودی عرب کے زیر استعمال فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے، پاکستانی اور علاقائی حکام نے بتایا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ پاکستان نے 4 مال بردار طیاروں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام، ہلکی توپ خانے کی تنصیبات، ڈرونز اور ڈرون شکن نظام سمیت فوجی سازوسامان عدن بھیجا تھا، جو سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے، ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے بتایا۔</p>
<p>ایک دوسرے پاکستانی عہدیدار، خلیجی عہدیدار اور مغربی سفارت کار کے مطابق پاکستانی فوجی مشیر بھی یمنی فورسز کی معاونت کے لیے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے موجودہ جنگ سے قبل خریدے گئے ترک ڈرونز بھی یمن میں تعینات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>علاقائی حکام کے مطابق یمن میں نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کی ایک بڑی تشویش حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے اپنی تیل تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق ریاض نے کئی اتحادیوں سے دفاعی نظام کے لیے مدد طلب کی ہے۔</p>
<p>دوسرے پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب میں 30 ہزار سے 40 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں، جن کا مقصد مملکت کی زمینی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کو روکنے میں مدد دینا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ان فوجیوں کی تعیناتی گزشتہ سال شروع ہونے والی مختلف مرحلوں کی کارروائیوں اور حالیہ کشیدگی کے بعد ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے یمن میں جنگی کارروائیوں کے لیے فوجی بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔</p>
<p>پاکستانی اور ترک وزارتِ دفاع نے ریاض کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت کے بارے میں تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>دریں اثنا، فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر ینبع کے تحفظ میں مدد کے لیے دفاعی نظام اور فوجی دستے سعودی عرب بھیجے گا۔</p>
<h3><a id="یمنی-فورسز-میں-انتشار" href="#یمنی-فورسز-میں-انتشار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>یمنی فورسز میں انتشار</h3>
<p>یمن کے اندر کسی بھی زمینی کارروائی کے لیے مختلف یمنی جنگجو دھڑوں پر مشتمل ایک غیر متحد اتحاد پر انحصار کرنا ہوگا۔</p>
<p>یمن کے تجزیہ کار محمد الباشا نے کہا، ’’حوثیوں کے خلاف بہت سی قوتیں اب بھی منظم یا اس نوعیت کی طویل کارروائی کے لیے تیار نہیں جن کے ذریعے ایک منظم حوثی فوجی قوت کو پیچھے دھکیلا جاسکے۔ حوثیوں کی جانب سے بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ ڈالے جانے کے باعث ان قوتوں کی اس وقت بھی آزمائش جاری ہے۔‘‘</p>
<p>سعودی حکومت کے نقطۂ نظر سے قریب سمجھے جانے والے سعودی سیاسی تجزیہ کار علی شھابی نے خبردار کیا کہ حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی کا نتیجہ زمینی فورسز کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اب تک ترجیح زمینی پوزیشنوں کا دفاع اور محاذ کو مستحکم کرنا رہی ہے، تاہم وہ یقینی طور پر اب کارروائی شروع کریں گے۔ کامیابی کا زیادہ تر انحصار مقامی فورسز کی کارکردگی کے معیار پر ہوگا۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292047</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 22:11:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/022203175d6811a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/022203175d6811a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکہ معاہدے کے تحت دفاعی کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہوگا، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292046/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی دفاعی کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہوگا، جس میں زمینی صورتِ حال، بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دفتر خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، ’’متعلقہ حکام تقریباً تیار ہیں اور مکہ معاہدے کے تحت زمینی صورتِ حال، بالخصوص سعودی عرب کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلے کے بعد اجلاس کے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مصروفیات کا جائزہ لیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں سال سفارتی سرگرمیاں ’’اوسط سے کہیں زیادہ‘‘ رہیں۔ وزیراعظم نے فلسطین اور جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، پاک بھارت تنازع اور امریکا ایران کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خلل عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرے اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور دفتر خارجہ کی خدمات کو سراہا، جبکہ اسحاق ڈار نے امریکا ایران ثالثی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز، کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 47 سال میں پہلی بار امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جہاں 21 گھنٹوں پر محیط 6 نشستوں کے بعد 18 جون کو معاہدے پر دستخط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں، تاہم حکومت نے مالی مشکلات اور آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود 800 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لاکھوں مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایندھن ریلیف اسکیم کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پیش کردہ کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پُرامن حل سے متعلق قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی، جو 12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکہ معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ کم از کم 6 مسلم ممالک نے اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم سیکریٹریٹ مکمل طور پر فعال ہونے تک نئے ارکان کو شامل کرنے پر غور نہیں کیا جاسکتا، جس میں کم از کم ایک سال لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے 3 بانی ممالک کی طے کردہ اصولوں کو تسلیم کرتے ہوں۔ رکنیت سے متعلق فیصلے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکہ معاہدے پر 7 اگست کو دستخط ہوئے تھے اور اس کا پہلا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوا۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نیویارک میں جبکہ تینوں ممالک کے آرمی چیفس کا اجلاس ریاض میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوالات کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازع کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ عالمی جنگوں کے بعد بھی متحارب ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ادارے قائم کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ’’بالکل واضح‘‘ ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے، 5 اگست 2019 کے بھارت کے اقدامات واپس لیے جانے چاہئیں اور آبادی کے تناسب میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا، تاہم اس مرتبہ دفتر خارجہ نے بھارت کے بیانیے کو تقویت نہیں پکڑنے دی اور بلا تاخیر آزادانہ و غیر جانب دار تحقیقات کی پیشکش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق بھارت نے جب 15 مقامات پر حملوں اور ایف 16 طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تو پاکستان نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ سول و عسکری قیادت نے طے کیا ہے کہ پاکستان ’’پانی کا ایک قطرہ بھی‘‘ نہیں چھوڑے گا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی امانت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ انہوں نے غزہ کے معاملے پر مصر کی میزبانی میں عرب اسلامی گروپ کے 8 ممالک کے اجلاس، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے 4 ملکی اجلاس، مصنوعی ذہانت کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ، جموں و کشمیر اور افغانستان سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاسوں اور وبائی امراض سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبر کو انہوں نے ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کے غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی، جبکہ فرانس کی میزبانی میں 2 ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا خواہاں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کے روز کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی دفاعی کمیٹی کا اجلاس جلد ریاض میں ہوگا، جس میں زمینی صورتِ حال، بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔</strong></p>
<p>انہوں نے دفتر خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا، ’’متعلقہ حکام تقریباً تیار ہیں اور مکہ معاہدے کے تحت زمینی صورتِ حال، بالخصوص سعودی عرب کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلے کے بعد اجلاس کے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مصروفیات کا جائزہ لیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں سال سفارتی سرگرمیاں ’’اوسط سے کہیں زیادہ‘‘ رہیں۔ وزیراعظم نے فلسطین اور جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، پاک بھارت تنازع اور امریکا ایران کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خلل عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ افغانستان سے لاحق سکیورٹی خطرے اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔</p>
<p>وزیراعظم نے فیلڈ مارشل اور دفتر خارجہ کی خدمات کو سراہا، جبکہ اسحاق ڈار نے امریکا ایران ثالثی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز، کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 47 سال میں پہلی بار امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا، جہاں 21 گھنٹوں پر محیط 6 نشستوں کے بعد 18 جون کو معاہدے پر دستخط ہوئے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں، تاہم حکومت نے مالی مشکلات اور آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود 800 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لاکھوں مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایندھن ریلیف اسکیم کی منظوری دی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پیش کردہ کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پُرامن حل سے متعلق قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی، جو 12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا۔</p>
<p>مکہ معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ کم از کم 6 مسلم ممالک نے اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم سیکریٹریٹ مکمل طور پر فعال ہونے تک نئے ارکان کو شامل کرنے پر غور نہیں کیا جاسکتا، جس میں کم از کم ایک سال لگے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے 3 بانی ممالک کی طے کردہ اصولوں کو تسلیم کرتے ہوں۔ رکنیت سے متعلق فیصلے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر کریں گے۔</p>
<p>مکہ معاہدے پر 7 اگست کو دستخط ہوئے تھے اور اس کا پہلا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوا۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نیویارک میں جبکہ تینوں ممالک کے آرمی چیفس کا اجلاس ریاض میں ہوا۔</p>
<p>سوالات کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازع کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ عالمی جنگوں کے بعد بھی متحارب ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ادارے قائم کرنا پڑے۔</p>
<p>کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ’’بالکل واضح‘‘ ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے، 5 اگست 2019 کے بھارت کے اقدامات واپس لیے جانے چاہئیں اور آبادی کے تناسب میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا، تاہم اس مرتبہ دفتر خارجہ نے بھارت کے بیانیے کو تقویت نہیں پکڑنے دی اور بلا تاخیر آزادانہ و غیر جانب دار تحقیقات کی پیشکش کی۔</p>
<p>ان کے مطابق بھارت نے جب 15 مقامات پر حملوں اور ایف 16 طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تو پاکستان نے ان دعوؤں کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کی اپنی ساکھ متاثر ہوئی۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ سول و عسکری قیادت نے طے کیا ہے کہ پاکستان ’’پانی کا ایک قطرہ بھی‘‘ نہیں چھوڑے گا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی امانت ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ انہوں نے غزہ کے معاملے پر مصر کی میزبانی میں عرب اسلامی گروپ کے 8 ممالک کے اجلاس، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے 4 ملکی اجلاس، مصنوعی ذہانت کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ، جموں و کشمیر اور افغانستان سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاسوں اور وبائی امراض سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبر کو انہوں نے ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کے غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی، جبکہ فرانس کی میزبانی میں 2 ریاستی حل سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا خواہاں ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292046</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 21:07:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/022059178bfd082.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/022059178bfd082.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات کے عہدیدار نے فلائی دبئی واقعے کو ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا، پائلٹ کی تعریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292045/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعے کو کہا کہ رواں ہفتے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والا واقعہ ’’دہشت گرد کارروائی‘‘ تھا، جبکہ انہوں نے اس کپتان کو خراجِ تحسین پیش کیا جس نے اپنے کو پائلٹ کے حملے کے بعد طیارے کو تباہ ہونے سے بچانے میں مدد کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر کہا کہ بھارتی شہری سمت مچھار ’’حقیقی ہیرو‘‘ ہیں اور ’’ہر طرح کی پذیرائی‘‘ کے مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرقاش نے کہا، ’’ایک سنگین دہشت گرد کارروائی اور ممکنہ تباہی کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے بہادری اور ذمہ داری کے حقیقی مفہوم کی عملی مثال پیش کی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;174 افراد کو لے جانے والے طیارے کو پائلٹ پر کو پائلٹ کے چاقو سے حملے کے بعد سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اصل صورتِ حال اور حملہ آور کے محرکات کی متحدہ عرب امارات میں تحقیقات جاری ہیں، جہاں دونوں افراد کو منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرقاش نے کہا، ’’انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر چوکس اور محتاط رہنا بدستور ناگزیر ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر گفتگو کرتے ہوئے مچھار نے جمعے کو بتایا کہ حملے کے دوران انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کے لیے ’’آخری بار پوری قوت سے دھکا‘‘ دیا، جس کے نتیجے میں مسافروں اور عملے کو مداخلت کرنے اور طیارے کا دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کا موقع مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے میں زیادہ تر اسرائیلی مسافر سوار تھے جبکہ پرواز کے عملے کے آٹھ ارکان بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعے کو کہا کہ رواں ہفتے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والا واقعہ ’’دہشت گرد کارروائی‘‘ تھا، جبکہ انہوں نے اس کپتان کو خراجِ تحسین پیش کیا جس نے اپنے کو پائلٹ کے حملے کے بعد طیارے کو تباہ ہونے سے بچانے میں مدد کی۔</strong></p>
<p>صدارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر کہا کہ بھارتی شہری سمت مچھار ’’حقیقی ہیرو‘‘ ہیں اور ’’ہر طرح کی پذیرائی‘‘ کے مستحق ہیں۔</p>
<p>قرقاش نے کہا، ’’ایک سنگین دہشت گرد کارروائی اور ممکنہ تباہی کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے بہادری اور ذمہ داری کے حقیقی مفہوم کی عملی مثال پیش کی۔‘‘</p>
<p>174 افراد کو لے جانے والے طیارے کو پائلٹ پر کو پائلٹ کے چاقو سے حملے کے بعد سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔</p>
<p>واقعے کی اصل صورتِ حال اور حملہ آور کے محرکات کی متحدہ عرب امارات میں تحقیقات جاری ہیں، جہاں دونوں افراد کو منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>قرقاش نے کہا، ’’انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر چوکس اور محتاط رہنا بدستور ناگزیر ہے۔‘‘</p>
<p>واقعے کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر گفتگو کرتے ہوئے مچھار نے جمعے کو بتایا کہ حملے کے دوران انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کے لیے ’’آخری بار پوری قوت سے دھکا‘‘ دیا، جس کے نتیجے میں مسافروں اور عملے کو مداخلت کرنے اور طیارے کا دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کا موقع مل گیا۔</p>
<p>طیارے میں زیادہ تر اسرائیلی مسافر سوار تھے جبکہ پرواز کے عملے کے آٹھ ارکان بھی موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292045</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:57:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0220303847e194c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0220303847e194c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیتن یاہو کا فلائی دبئی واقعے میں کسی قوت کے ملوث ہونے پر ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانے کی وارننگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292044/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ فلائی دبئی کے واقعے کے پیچھے کسی بھی قوت کے ملوث ہونے کی صورت میں اسرائیل اسے ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانے پر مجبور کرے گا، تاہم انہوں نے اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ اس واقعے میں کسی ملک کا ہاتھ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، ’’وقت گزرنے کے ساتھ صورتِ حال مزید واضح ہوتی جا رہی ہے: حملہ آور تمام مسافروں سمیت طیارہ گرانے کے ارادے سے آیا تھا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کو پائلٹ حملہ آور کے بارے میں نیتن یاہو نے کہا، ’’ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اسے کسی نے بھیجا تھا، اور جس نے بھی اسے بھیجا ہوگا، اسے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو نے کسی ملک کو ممکنہ ذمہ دار قرار نہیں دیا، تاہم وہ کئی برس سے فوری طور پر ایران پر انگلی اٹھاتے رہے ہیں، جس پر اسرائیل اور امریکا نے فروری میں حملہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے اپریل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کرائی تھی جو اب تقریباً ختم ہوچکی ہے، نے جمعرات کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ’’سن رہے ہیں‘‘ کہ اس واقعے میں ایران ملوث ہے اور اگر ایسا ثابت ہوا تو ایران کو ’’بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور امریکا نے 1979 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد سے دنیا بھر میں ہونے والے متعدد حملوں کو ایران سے منسلک کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایران کا طیارے اغوا کرنے کے واقعات سے تعلق بہت کم معروف ہے۔ طیارہ اغوا کرنا 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں القاعدہ جبکہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی کارروائیوں کی نمایاں خصوصیت رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ پائلٹ کا تعلق عمان سے تھا، جبکہ انہوں نے پہلے یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا تھا کہ وہ ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق بدھ کو تل ابیب جانے والی پرواز کے معاون پائلٹ نے بھارتی پائلٹ کو چاقو مار دیا، جس کے بعد پائلٹ نے مسافروں کو کاک پٹ میں آنے کی اجازت دی تاکہ وہ حملہ آور کو قابو کر سکیں۔ طیارے نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ فلائی دبئی کے واقعے کے پیچھے کسی بھی قوت کے ملوث ہونے کی صورت میں اسرائیل اسے ’’بہت بھاری قیمت‘‘ چکانے پر مجبور کرے گا، تاہم انہوں نے اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ اس واقعے میں کسی ملک کا ہاتھ تھا۔</strong></p>
<p>نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، ’’وقت گزرنے کے ساتھ صورتِ حال مزید واضح ہوتی جا رہی ہے: حملہ آور تمام مسافروں سمیت طیارہ گرانے کے ارادے سے آیا تھا۔‘‘</p>
<p>کو پائلٹ حملہ آور کے بارے میں نیتن یاہو نے کہا، ’’ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اسے کسی نے بھیجا تھا، اور جس نے بھی اسے بھیجا ہوگا، اسے بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘</p>
<p>نیتن یاہو نے کسی ملک کو ممکنہ ذمہ دار قرار نہیں دیا، تاہم وہ کئی برس سے فوری طور پر ایران پر انگلی اٹھاتے رہے ہیں، جس پر اسرائیل اور امریکا نے فروری میں حملہ کیا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے اپریل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کرائی تھی جو اب تقریباً ختم ہوچکی ہے، نے جمعرات کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ’’سن رہے ہیں‘‘ کہ اس واقعے میں ایران ملوث ہے اور اگر ایسا ثابت ہوا تو ایران کو ’’بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا‘‘۔</p>
<p>اسرائیل اور امریکا نے 1979 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد سے دنیا بھر میں ہونے والے متعدد حملوں کو ایران سے منسلک کیا ہے۔</p>
<p>تاہم، ایران کا طیارے اغوا کرنے کے واقعات سے تعلق بہت کم معروف ہے۔ طیارہ اغوا کرنا 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں القاعدہ جبکہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کی کارروائیوں کی نمایاں خصوصیت رہا ہے۔</p>
<p>نیتن یاہو اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ پائلٹ کا تعلق عمان سے تھا، جبکہ انہوں نے پہلے یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا تھا کہ وہ ذہنی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق بدھ کو تل ابیب جانے والی پرواز کے معاون پائلٹ نے بھارتی پائلٹ کو چاقو مار دیا، جس کے بعد پائلٹ نے مسافروں کو کاک پٹ میں آنے کی اجازت دی تاکہ وہ حملہ آور کو قابو کر سکیں۔ طیارے نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292044</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 20:27:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0220210525fcff9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0220210525fcff9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کور کمانڈرز کانفرنس: 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوششوں پر فیصلہ کن کارروائی کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے بتایا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں اندرونی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی بہانے سے ملک میں بدامنی یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے ”کسی بھی صورت“ فیصلہ کن انداز میں قانون کی حکمرانی کے مطابق نمٹا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق کانفرنس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہفتے تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے روز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے ہیں اور امید ظاہر کی کہ اگلے روز بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس کی پہلے مقررہ تاریخ 27 ستمبر تبدیل کردی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ مجوزہ لانگ مارچ ملتوی نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ متعدد شہروں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے فوجی املاک اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ حملوں کا نشانہ بننے والی اہم تنصیبات میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس)، راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) اور میانوالی ایئربیس شامل تھے، جہاں توڑ پھوڑ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور حکومت کی جانب سے ملک گیر کریک ڈاؤن کے بعد بڑی تعداد میں افراد اب بھی جیلوں میں قید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کور کمانڈرز کانفرنس نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع اور ہدفی کارروائی کے حق کا بھی اعادہ کیا اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے ملک میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت کی صورت میں اس کے نتائج کی ذمہ داری افغان طالبان کی قیادت پر عائد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو سراہا، تاہم زور دیا کہ ایسی کارروائیوں کے ساتھ غیر عسکری اقدامات بھی کیے جانے چاہئیں، جن میں نچلی سطح پر عوامی ضروریات کو مرکز بنانے والی طرزِ حکمرانی، عوام سے زیادہ رابطہ، دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور پولیس کی استعدادِ کار میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان اور وژن عزمِ استحکام کے تحت آگے بڑھائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمانڈروں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کا بھی اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے ان ارکان کے لیے فاتحہ خوانی کی جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اختتامی کلمات میں فیلڈ مارشل منیر نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مختلف شعبوں کے باہمی انضمام کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلح افواج قوم کی حمایت سے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے بتایا ہے کہ جمعہ کو ہونے والی 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں اندرونی استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی بہانے سے ملک میں بدامنی یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے ”کسی بھی صورت“ فیصلہ کن انداز میں قانون کی حکمرانی کے مطابق نمٹا جائے گا۔</strong></p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق کانفرنس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں کی۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کے تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہفتے تک ملتوی کردیے گئے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے روز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے ہیں اور امید ظاہر کی کہ اگلے روز بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔</p>
<p>اپوزیشن نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس کی پہلے مقررہ تاریخ 27 ستمبر تبدیل کردی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ مجوزہ لانگ مارچ ملتوی نہیں کریں گے۔</p>
<p>9 مئی 2023 کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ متعدد شہروں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے فوجی املاک اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ حملوں کا نشانہ بننے والی اہم تنصیبات میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس)، راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) اور میانوالی ایئربیس شامل تھے، جہاں توڑ پھوڑ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔</p>
<p>اس کے بعد سے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور حکومت کی جانب سے ملک گیر کریک ڈاؤن کے بعد بڑی تعداد میں افراد اب بھی جیلوں میں قید ہیں۔</p>
<p>کور کمانڈرز کانفرنس نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع اور ہدفی کارروائی کے حق کا بھی اعادہ کیا اور آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>فورم نے ملک میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت کی صورت میں اس کے نتائج کی ذمہ داری افغان طالبان کی قیادت پر عائد ہوگی۔</p>
<p>کمانڈروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو سراہا، تاہم زور دیا کہ ایسی کارروائیوں کے ساتھ غیر عسکری اقدامات بھی کیے جانے چاہئیں، جن میں نچلی سطح پر عوامی ضروریات کو مرکز بنانے والی طرزِ حکمرانی، عوام سے زیادہ رابطہ، دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور پولیس کی استعدادِ کار میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان اور وژن عزمِ استحکام کے تحت آگے بڑھائے جائیں گے۔</p>
<p>کمانڈروں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p>فورم نے حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کا بھی اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کشمیر کے حل کی حمایت کی۔</p>
<p>فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے ان ارکان کے لیے فاتحہ خوانی کی جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>اختتامی کلمات میں فیلڈ مارشل منیر نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کمانڈروں کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مختلف شعبوں کے باہمی انضمام کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلح افواج قوم کی حمایت سے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292043</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:08:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/tGAmMeVIEz0/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/tGAmMeVIEz0/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=tGAmMeVIEz0"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/tGAmMeVIEz0/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/tGAmMeVIEz0/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=tGAmMeVIEz0"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا تجارتی خسارہ ستمبر میں 6 فیصد بڑھ کر 3.6 ارب ڈالر ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بیورو شماریات (پی بی ایس) کے جمعہ کو جاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 6 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2025 میں برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 3.35 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ستمبر 2026 میں برآمدات میں اضافے کے باوجود تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2026 میں ملکی برآمدات 17.6 فیصد اضافے سے 2.94 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ 2.5 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب درآمدات 11 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 6.49 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ میں 5.85 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں پر بھی ستمبر میں تجارتی خسارہ اگست 2026 کے 3.29 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 9.37 ارب ڈالر کے مقابلے میں 15 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 10.79 ارب ڈالر ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران برآمدات تقریباً 11 فیصد بڑھ کر 8.42 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.59 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پہلی سہ ماہی میں درآمدات 13 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 19.22 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 16.97 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بیورو شماریات (پی بی ایس) کے جمعہ کو جاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 6 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر ہوگیا۔</strong></p>
<p>ستمبر 2025 میں برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 3.35 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ستمبر 2026 میں برآمدات میں اضافے کے باوجود تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا۔</p>
<p>ستمبر 2026 میں ملکی برآمدات 17.6 فیصد اضافے سے 2.94 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ 2.5 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب درآمدات 11 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 6.49 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ میں 5.85 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں پر بھی ستمبر میں تجارتی خسارہ اگست 2026 کے 3.29 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد بڑھ گیا۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 9.37 ارب ڈالر کے مقابلے میں 15 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 10.79 ارب ڈالر ہوگیا۔</p>
<p>اس دوران برآمدات تقریباً 11 فیصد بڑھ کر 8.42 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.59 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>دوسری جانب پہلی سہ ماہی میں درآمدات 13 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 19.22 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 16.97 ارب ڈالر تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292042</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 17:28:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0217203360012f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0217203360012f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صومالیہ میں اغوا ہونے والے جہاز سے بازیاب 4 پاکستانی کل وطن پہنچیں گے، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292041/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صومالیہ کے ساحل پر ایم وی آنر 25 کے اغوا سے بازیاب چار پاکستانی عملہ ہفتے کو کراچی پہنچے گا۔ یہ بات نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق واقعے سے متاثرہ 10 پاکستانی عملے میں سے چار ارکان یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی کو دفتر خارجہ اور جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی مسلسل کوششوں کے بعد بحفاظت بازیاب کرالیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2105952670145990680?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105952670145990680%7Ctwgr%5E37eff64c2fc88fb7ed2076595b8f04d7a3fca8a5%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442351'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2105952670145990680?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105952670145990680%7Ctwgr%5E37eff64c2fc88fb7ed2076595b8f04d7a3fca8a5%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442351"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حادثے میں جان بحق ہونے والے تین پاکستانی عملے کے ارکان رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری   کی میتیں بھی پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام ضروری قانونی اور دیگر کارروائیاں فوری طور پر مکمل کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان  عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین  کپتان کے ساتھ جہاز پر ہی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ان کی محفوظ منتقلی اور جلد از جلد وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ فعال طور پر رابطہ کاری کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دفترِ خارجہ اس معاملے سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور تمام پاکستانی شہریوں بشمول متوفین کی میتوں کی جلد از جلد واپسی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دفترِ خارجہ متاثرہ خاندانوں کو تمام ممکنہ تعاون فراہم کرتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صومالیہ کے ساحل پر ایم وی آنر 25 کے اغوا سے بازیاب چار پاکستانی عملہ ہفتے کو کراچی پہنچے گا۔ یہ بات نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتائی۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق واقعے سے متاثرہ 10 پاکستانی عملے میں سے چار ارکان یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی کو دفتر خارجہ اور جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی مسلسل کوششوں کے بعد بحفاظت بازیاب کرالیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MIshaqDar50/status/2105952670145990680?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105952670145990680%7Ctwgr%5E37eff64c2fc88fb7ed2076595b8f04d7a3fca8a5%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442351'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MIshaqDar50/status/2105952670145990680?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105952670145990680%7Ctwgr%5E37eff64c2fc88fb7ed2076595b8f04d7a3fca8a5%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442351"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ حادثے میں جان بحق ہونے والے تین پاکستانی عملے کے ارکان رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری   کی میتیں بھی پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام ضروری قانونی اور دیگر کارروائیاں فوری طور پر مکمل کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان  عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین  کپتان کے ساتھ جہاز پر ہی موجود ہیں۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ان کی محفوظ منتقلی اور جلد از جلد وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دوست ممالک کے ساتھ فعال طور پر رابطہ کاری کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دفترِ خارجہ اس معاملے سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور تمام پاکستانی شہریوں بشمول متوفین کی میتوں کی جلد از جلد واپسی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دفترِ خارجہ متاثرہ خاندانوں کو تمام ممکنہ تعاون فراہم کرتا رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292041</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 17:14:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/021708058bfd082.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/021708058bfd082.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسابقتی ماحول ملے تو ٹیکسٹائل برآمدات میں مزید 3 ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے، اپٹما</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292039/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے نو منتخب چیئرمین اسد شفیع نے کہا ہے کہ اگر ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کیا جائے تو رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات میں مزید 3 ارب ڈالر اور آئندہ دو سے تین برسوں میں مزید 10 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسد شفیع نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح حکومت اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ویلیو ایڈڈ برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں فائبر سے فیشن تک ٹیکسٹائل کی مکمل ویلیو چین موجود ہے جس میں اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ، فنشنگ، گارمنٹس، اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل کے شعبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اپٹما کا مقصد اس ملکی ویلیو چین کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے زیادہ تیار شدہ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرنا ہوگا، کیونکہ مقامی خام مال اور ان پٹس کا زیادہ استعمال روزگار، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کا زیادہ حصہ ملک میں برقرار رکھنے کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو منتخب چیئرمین اسد شفیع نے مزید کہا کہ پاکستان اس حوالے سے پہلے ہی پیش رفت کر چکا ہے اور اب ٹیکسٹائل کی 80 فیصد سے زائد برآمدات ویلیو ایڈڈ صارف مصنوعات، مثلاً اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل، پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے نو منتخب چیئرمین اسد شفیع نے کہا ہے کہ اگر ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کیا جائے تو رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات میں مزید 3 ارب ڈالر اور آئندہ دو سے تین برسوں میں مزید 10 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔</strong></p>
<p>چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسد شفیع نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح حکومت اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ویلیو ایڈڈ برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں فائبر سے فیشن تک ٹیکسٹائل کی مکمل ویلیو چین موجود ہے جس میں اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ، فنشنگ، گارمنٹس، اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل کے شعبے شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اپٹما کا مقصد اس ملکی ویلیو چین کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے زیادہ تیار شدہ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرنا ہوگا، کیونکہ مقامی خام مال اور ان پٹس کا زیادہ استعمال روزگار، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کا زیادہ حصہ ملک میں برقرار رکھنے کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>نو منتخب چیئرمین اسد شفیع نے مزید کہا کہ پاکستان اس حوالے سے پہلے ہی پیش رفت کر چکا ہے اور اب ٹیکسٹائل کی 80 فیصد سے زائد برآمدات ویلیو ایڈڈ صارف مصنوعات، مثلاً اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل، پر مشتمل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292039</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:46:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02164432f95d94f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02164432f95d94f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیپٹن جاوید اقبال پی ایس اے اے کے چیئرمین منتخب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292038/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیپٹن جاوید اقبال پاکستان شپز ایجنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے اے ) کے 2026 تا 2028 کی مدت کے لیے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس اے اے کی سالانہ جنرل میٹنگ  30 ستمبر 2026 کو ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم سعید خان سینئر وائس چیئرمین، جاوید اقبال وائس چیئرمین جبکہ عبدالرؤف، تیمور بدات، سید عدنان احمد محمودی، زین مکانی، فہد شیراز، ایس ایم مصطفیٰ احمد اور امین سردار علی 2026 تا 2028 کی مدت کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین منتخب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیپٹن جاوید اقبال پاکستان شپز ایجنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے اے ) کے 2026 تا 2028 کی مدت کے لیے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>پی ایس اے اے کی سالانہ جنرل میٹنگ  30 ستمبر 2026 کو ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔</p>
<p>عاصم سعید خان سینئر وائس چیئرمین، جاوید اقبال وائس چیئرمین جبکہ عبدالرؤف، تیمور بدات، سید عدنان احمد محمودی، زین مکانی، فہد شیراز، ایس ایم مصطفیٰ احمد اور امین سردار علی 2026 تا 2028 کی مدت کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین منتخب ہوئے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292038</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:43:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02164301de5ef81.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02164301de5ef81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ سے صنعت شدید متاثر ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292037/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم  کے صدر میاں زاہد حسین نے فورس میجر شق کے تحت قطر کی جانب سے پاکستان کو 5 نومبر تک ایل این جی کی فراہمی معطل کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ فورس میجر ایک قانونی شق ہے جو قدرتی آفات، حادثات یا ناگزیر ہنگامی حالات پیش آنے کی صورت میں فریقین کو اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ قطر دنیا کی ایل این جی کی 20 فیصد سپلائی فراہم کرتا ہے اور خبردار کیا کہ امریکا-ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی اس رکاوٹ سے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک میں قدرتی گیس اور درآمدی ایل این جی کی اوسط سالانہ غیر محدود طلب 1.27 سے 1.46 ٹریلین مکعب فٹ  کے درمیان رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گیس راشننگ اور پائپ لائن کی محدود گنجائش کے باعث حقیقی کھپت سالانہ بمشکل 1.1 سے 1.2 ٹریلین مکعب فٹ تک محدود رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران ایران-امریکا جنگ کے باعث صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ پاکستان صرف 17 ایل این جی کارگو حاصل کر سکا۔ ان کے مطابق قطر سے آخری ایل این جی کھیپ 22 ستمبر کو پہنچی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاروبار کرنے کی بلند لاگت کے باعث صنعتیں پہلے ہی عالمی منڈی میں مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل این جی کی فراہمی میں متوقع کمی پاکستانی فیکٹریوں کو پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی برآمد کنندگان بین الاقوامی خریداروں سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور آرڈرز منسوخ ہو گئے تو اس کے ملکی برآمدی شعبے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے نشاندہی کی کہ وزارتِ توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن اس سے قبل اوپن مارکیٹ سے اسپاٹ کارگو خرید چکے ہیں اور موجودہ حالات میں ملک میں گیس کی طلب و رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی کے اسپاٹ کارگو خریدنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ عارضی مالی بوجھ صنعتی سرگرمیوں کی ممکنہ بندش، پیداواری صلاحیت مفلوج ہونے اور برآمدات میں تباہ کن کمی کے ممکنہ نقصان کے مقابلے میں کہیں کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی سطح پر دستیاب گیس کے ذخائر اور درآمدی ایل این جی کو ترجیحی بنیادوں پر صنعتی عمل اور برآمدی شعبے کے لیے مختص کیا جانا چاہیے تاکہ قومی معیشت کی رفتار برقرار رکھی جا سکے اور وسائل کے معاشی طور پر مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں حالیہ جنگ کے باوجود پاکستان کی معاشی اور سفارتی کارکردگی کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے کہا کہ صنعتی پہیے کو پوری صلاحیت کے ساتھ رواں رکھنا ہی کامیابی کا حقیقی پیمانہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم  کے صدر میاں زاہد حسین نے فورس میجر شق کے تحت قطر کی جانب سے پاکستان کو 5 نومبر تک ایل این جی کی فراہمی معطل کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ فورس میجر ایک قانونی شق ہے جو قدرتی آفات، حادثات یا ناگزیر ہنگامی حالات پیش آنے کی صورت میں فریقین کو اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ قطر دنیا کی ایل این جی کی 20 فیصد سپلائی فراہم کرتا ہے اور خبردار کیا کہ امریکا-ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی اس رکاوٹ سے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک میں قدرتی گیس اور درآمدی ایل این جی کی اوسط سالانہ غیر محدود طلب 1.27 سے 1.46 ٹریلین مکعب فٹ  کے درمیان رہی ہے۔</p>
<p>تاہم گیس راشننگ اور پائپ لائن کی محدود گنجائش کے باعث حقیقی کھپت سالانہ بمشکل 1.1 سے 1.2 ٹریلین مکعب فٹ تک محدود رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران ایران-امریکا جنگ کے باعث صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ پاکستان صرف 17 ایل این جی کارگو حاصل کر سکا۔ ان کے مطابق قطر سے آخری ایل این جی کھیپ 22 ستمبر کو پہنچی تھی۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاروبار کرنے کی بلند لاگت کے باعث صنعتیں پہلے ہی عالمی منڈی میں مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>ایل این جی کی فراہمی میں متوقع کمی پاکستانی فیکٹریوں کو پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دے گی۔</p>
<p>ترجمہ:</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی برآمد کنندگان بین الاقوامی خریداروں سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور آرڈرز منسوخ ہو گئے تو اس کے ملکی برآمدی شعبے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے نشاندہی کی کہ وزارتِ توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن اس سے قبل اوپن مارکیٹ سے اسپاٹ کارگو خرید چکے ہیں اور موجودہ حالات میں ملک میں گیس کی طلب و رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی کے اسپاٹ کارگو خریدنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ عارضی مالی بوجھ صنعتی سرگرمیوں کی ممکنہ بندش، پیداواری صلاحیت مفلوج ہونے اور برآمدات میں تباہ کن کمی کے ممکنہ نقصان کے مقابلے میں کہیں کم ہوگا۔</p>
<p>ملکی سطح پر دستیاب گیس کے ذخائر اور درآمدی ایل این جی کو ترجیحی بنیادوں پر صنعتی عمل اور برآمدی شعبے کے لیے مختص کیا جانا چاہیے تاکہ قومی معیشت کی رفتار برقرار رکھی جا سکے اور وسائل کے معاشی طور پر مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں حالیہ جنگ کے باوجود پاکستان کی معاشی اور سفارتی کارکردگی کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے کہا کہ صنعتی پہیے کو پوری صلاحیت کے ساتھ رواں رکھنا ہی کامیابی کا حقیقی پیمانہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292037</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:39:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/021638277aadb8a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/021638277aadb8a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پریمیم گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی آن لائن بولی شروع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292036/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) اور پنجاب ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے اکتوبر میں ہونے والی پریمیم گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی نیلامی کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کردیا ہے۔ شہری 31 اکتوبر تک ای آکشن پورٹل کے ذریعے اپنی پسند کے موٹر سائیکل، کار اور کمرشل گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز کے لیے بولی دے سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے مطابق جمعرات کو، ای آکشن پلیٹ فارم موٹر سائیکلوں، موٹر کاروں اور کمرشل گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی نیلامی کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ کامیاب بولی دہندگان کی تفصیلات بھی ایپلی کیشن کے ذریعے دستیاب کرائی جاتی ہیں جس سے پورے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے پی آئی ٹی بی کے چیئرمین فیصل یوسف نے کہا کہ ای آکشن پلیٹ فارم جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے شہریوں کو اپنی پسند کے گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی نیلامی میں حصہ لینے کے لیے ایک آسان، محفوظ اور شفاف طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیلامی کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے سے یہ پلیٹ فارم کارکردگی میں بہتری، خدمات کی تیز تر فراہمی اور شفافیت کو فروغ دیتا ہے جبکہ شہریوں کے لیے سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی کو بھی تقویت ملتی ہے۔ یہ پنجاب حکومت کے ڈیجیٹل عوامی خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایسے اختراعی حل فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو شہریوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) اور پنجاب ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے اکتوبر میں ہونے والی پریمیم گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی نیلامی کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کردیا ہے۔ شہری 31 اکتوبر تک ای آکشن پورٹل کے ذریعے اپنی پسند کے موٹر سائیکل، کار اور کمرشل گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز کے لیے بولی دے سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے مطابق جمعرات کو، ای آکشن پلیٹ فارم موٹر سائیکلوں، موٹر کاروں اور کمرشل گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی نیلامی کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ کامیاب بولی دہندگان کی تفصیلات بھی ایپلی کیشن کے ذریعے دستیاب کرائی جاتی ہیں جس سے پورے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جاتی ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے پی آئی ٹی بی کے چیئرمین فیصل یوسف نے کہا کہ ای آکشن پلیٹ فارم جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے شہریوں کو اپنی پسند کے گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں کی نیلامی میں حصہ لینے کے لیے ایک آسان، محفوظ اور شفاف طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نیلامی کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے سے یہ پلیٹ فارم کارکردگی میں بہتری، خدمات کی تیز تر فراہمی اور شفافیت کو فروغ دیتا ہے جبکہ شہریوں کے لیے سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی کو بھی تقویت ملتی ہے۔ یہ پنجاب حکومت کے ڈیجیٹل عوامی خدمات کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایسے اختراعی حل فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو شہریوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292036</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:33:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/021633435bc6717.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/021633435bc6717.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گورنر سندھ کا ساحلی و سمندری وسائل کے پائیدار استعمال پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292035/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گورنرسندھ سید محمد نہال ہاشمی نے صوبے کے ساحلی اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے فروغ کے لیے حکومت، نجی شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مزید مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات گورنر ہاؤس میں صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، بلیو اکانومی، ساحلی سیاحت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہال ہاشمی نے کہا کہ سندھ کی وسیع ساحلی پٹی اور سمندری وسائل ماہی گیری، بحری تجارت، سیاحت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں، بالخصوص جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ان مواقع سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ انتظام بھی ضروری ہے۔ ساحلی شعبوں کی ترقی سے مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے کہا کہ حکومت ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد اور کاروباری برادری کے لیے سہولتوں، بنیادی ڈھانچے اور جدید طریقۂ کار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو متاثر کیے بغیر آبی کھیلوں اور ساحلی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی ملکانی نے گورنر کو ماہی گیری کے شعبے میں جاری اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ سمندری وسائل کے تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری اور بلیو اکانومی کے فروغ سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گورنرسندھ سید محمد نہال ہاشمی نے صوبے کے ساحلی اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے فروغ کے لیے حکومت، نجی شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مزید مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے یہ بات گورنر ہاؤس میں صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، بلیو اکانومی، ساحلی سیاحت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>نہال ہاشمی نے کہا کہ سندھ کی وسیع ساحلی پٹی اور سمندری وسائل ماہی گیری، بحری تجارت، سیاحت اور دیگر معاشی سرگرمیوں کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں، بالخصوص جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ان مواقع سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ سمندری وسائل کا ذمہ دارانہ انتظام بھی ضروری ہے۔ ساحلی شعبوں کی ترقی سے مقامی آبادی کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>گورنر نے کہا کہ حکومت ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد اور کاروباری برادری کے لیے سہولتوں، بنیادی ڈھانچے اور جدید طریقۂ کار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p>ملاقات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو متاثر کیے بغیر آبی کھیلوں اور ساحلی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔</p>
<p>محمد علی ملکانی نے گورنر کو ماہی گیری کے شعبے میں جاری اقدامات اور آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ سمندری وسائل کے تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، ساحلی علاقوں میں سرمایہ کاری اور بلیو اکانومی کے فروغ سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292035</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:30:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02163040e9b4902.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02163040e9b4902.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روک دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292034/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روک دی ہیں، معاملے سے آگاہ چار افراد نے بتایا۔ بیجنگ کی جانب سے ملکی ذخائر محفوظ رکھنے کے اس اقدام سے جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں میں سپلائی مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے پر بیجنگ نے مارچ میں ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ چین نے جولائی میں ان پابندیوں میں نرمی کی اور اس کے بعد سے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی برآمدات کو ماہانہ بنیادوں پر منظم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ذرائع کے مطابق چین نے جمعرات کو ایک ہفتے کی تعطیلات کا آغاز کیا لیکن دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ مرکز میں موجود بڑی ریفائنریوں کو اکتوبر میں ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر علاقوں کو پٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا بیجنگ 7 اکتوبر کو تعطیلات ختم ہونے کے بعد ریفائنریوں کو برآمدات کی اجازت دوبارہ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار ملکی ایندھن کے ذخائر اور ریفائننگ پیداوار پر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے سرکاری تعطیل کے دوران تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیاں ایران جنگ کے باعث ایندھن کی سپلائی میں کمی اور یوکرین کی جانب سے روسی ریفائننگ تنصیبات پر حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹ رہی ہیں۔ ایسے میں چین کی جانب سے برآمدات روکنے کے اقدام سے بعض ممالک میں ایندھن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی ریفائنریوں نے اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روک دی ہیں، معاملے سے آگاہ چار افراد نے بتایا۔ بیجنگ کی جانب سے ملکی ذخائر محفوظ رکھنے کے اس اقدام سے جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن کی منڈیوں میں سپلائی مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>ایران جنگ شروع ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے پر بیجنگ نے مارچ میں ایندھن کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کنندہ چین نے جولائی میں ان پابندیوں میں نرمی کی اور اس کے بعد سے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی برآمدات کو ماہانہ بنیادوں پر منظم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ذرائع کے مطابق چین نے جمعرات کو ایک ہفتے کی تعطیلات کا آغاز کیا لیکن دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ مرکز میں موجود بڑی ریفائنریوں کو اکتوبر میں ہانگ کانگ اور مکاؤ کے علاوہ دیگر علاقوں کو پٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کہ آیا بیجنگ 7 اکتوبر کو تعطیلات ختم ہونے کے بعد ریفائنریوں کو برآمدات کی اجازت دوبارہ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار ملکی ایندھن کے ذخائر اور ریفائننگ پیداوار پر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے سرکاری تعطیل کے دوران تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔</p>
<p>عالمی منڈیاں ایران جنگ کے باعث ایندھن کی سپلائی میں کمی اور یوکرین کی جانب سے روسی ریفائننگ تنصیبات پر حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹ رہی ہیں۔ ایسے میں چین کی جانب سے برآمدات روکنے کے اقدام سے بعض ممالک میں ایندھن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292034</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:27:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02162706caaee4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02162706caaee4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹڈاپ کوئٹہ دفتر میں خواتین کاروباری شخصیات کا اجلاس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292033/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) ریجنل آفس کوئٹہ میں ویکس نیٹ کی پہلی ایڈیشن کوئٹہ کے انعقاد کے سلسلے میں کاروباری خواتین کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر ٹڈاپ ریجنل آفس کوئٹہ، نور علی اچکزئی نے کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں ویکس نیٹ کوئٹہ کے انعقاد، خواتین کاروباری شخصیات کی شرکت، مصنوعات کی نمائش، منڈیوں سے روابط اور کاروباری مواقع سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ٹڈاپ ریجنل آفس کوئٹہ کے ڈائریکٹر نور علی اچکزئی نے کہا کہ خواتین کاروباری شخصیات قومی معیشت اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکس نیٹ کوئٹہ خواتین کو اپنی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، نئے کاروباری روابط قائم کرنے اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) ریجنل آفس کوئٹہ میں ویکس نیٹ کی پہلی ایڈیشن کوئٹہ کے انعقاد کے سلسلے میں کاروباری خواتین کے ساتھ ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈائریکٹر ٹڈاپ ریجنل آفس کوئٹہ، نور علی اچکزئی نے کی۔</strong></p>
<p>اجلاس میں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں ویکس نیٹ کوئٹہ کے انعقاد، خواتین کاروباری شخصیات کی شرکت، مصنوعات کی نمائش، منڈیوں سے روابط اور کاروباری مواقع سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>اس موقع پر ٹڈاپ ریجنل آفس کوئٹہ کے ڈائریکٹر نور علی اچکزئی نے کہا کہ خواتین کاروباری شخصیات قومی معیشت اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکس نیٹ کوئٹہ خواتین کو اپنی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، نئے کاروباری روابط قائم کرنے اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292033</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:22:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02122212a7af192.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02122212a7af192.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاما کا نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل صنعت کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292032/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے سیکریٹری صنعت و پیداوار سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل صنعت کو اعتماد میں لیا جائے اور پالیسی کا مسودہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطالبہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اسے جلد منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مجوزہ پالیسی میں برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف اضافی ٹیرف عائد کرنے اور حتیٰ کہ مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاما کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ صنعت برآمدات بڑھانے، پاکستان کی آٹوموٹیو برآمدی صلاحیت کو فروغ دینے اور ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں شعبے کے کردار کو بڑھانے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم یہ اہداف صنعت کے خلاف تادیبی اقدامات کے بجائے مناسب مراعات، سہولت کاری اور ایک مستحکم و قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صنعت ایسی پالیسی کی تشکیل کے لیے وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے پرعزم ہے جو مقامی صنعت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور بتدریج پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ و برآمدی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی نے مزید کہا کہ برآمدات کا فروغ ایک طویل مدتی عمل ہے جس کے لیے ٹیکنالوجی، مصنوعات کی ترقی، مقامی پیداوار، پیمانے کی معیشت، بین الاقوامی سرٹیفکیشنز، نئی منڈیوں کی ترقی اور مسابقتی سپلائی چینز کے قیام میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمدی اہداف حاصل کرنے کی صنعت کی صلاحیت کا انحصار بعض ایسے عوامل پر بھی ہے جو مینوفیکچررز کے کنٹرول سے باہر ہیں، جن میں بین الاقوامی منڈیوں کی صورتحال، شرحِ مبادلہ، تجارتی معاہدے، لاجسٹکس اور مجموعی کاروباری ماحول کی مسابقتی صلاحیت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاما کے مطابق نئی آٹو پالیسی ایک مستحکم، شفاف اور مشاورتی فریم ورک پر مبنی ہونی چاہیے، جس میں واضح اور قابلِ حصول اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس کے ساتھ مینوفیکچررز اور وینڈر انڈسٹری کو برآمدات اور عالمی مسابقت کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب دینے والی مراعات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے سیکریٹری صنعت و پیداوار سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل صنعت کو اعتماد میں لیا جائے اور پالیسی کا مسودہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا جائے۔</strong></p>
<p>یہ مطالبہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اسے جلد منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مجوزہ پالیسی میں برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف اضافی ٹیرف عائد کرنے اور حتیٰ کہ مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>پاما کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ صنعت برآمدات بڑھانے، پاکستان کی آٹوموٹیو برآمدی صلاحیت کو فروغ دینے اور ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں شعبے کے کردار کو بڑھانے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، تاہم یہ اہداف صنعت کے خلاف تادیبی اقدامات کے بجائے مناسب مراعات، سہولت کاری اور ایک مستحکم و قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صنعت ایسی پالیسی کی تشکیل کے لیے وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے پرعزم ہے جو مقامی صنعت کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے اور بتدریج پاکستان کو ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ و برآمدی مرکز بنانے میں معاون ثابت ہو۔</p>
<p>ڈی جی نے مزید کہا کہ برآمدات کا فروغ ایک طویل مدتی عمل ہے جس کے لیے ٹیکنالوجی، مصنوعات کی ترقی، مقامی پیداوار، پیمانے کی معیشت، بین الاقوامی سرٹیفکیشنز، نئی منڈیوں کی ترقی اور مسابقتی سپلائی چینز کے قیام میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمدی اہداف حاصل کرنے کی صنعت کی صلاحیت کا انحصار بعض ایسے عوامل پر بھی ہے جو مینوفیکچررز کے کنٹرول سے باہر ہیں، جن میں بین الاقوامی منڈیوں کی صورتحال، شرحِ مبادلہ، تجارتی معاہدے، لاجسٹکس اور مجموعی کاروباری ماحول کی مسابقتی صلاحیت شامل ہیں۔</p>
<p>پاما کے مطابق نئی آٹو پالیسی ایک مستحکم، شفاف اور مشاورتی فریم ورک پر مبنی ہونی چاہیے، جس میں واضح اور قابلِ حصول اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس کے ساتھ مینوفیکچررز اور وینڈر انڈسٹری کو برآمدات اور عالمی مسابقت کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب دینے والی مراعات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292032</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:13:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02161257d12076c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02161257d12076c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین نے ایف پی-7 ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل پہلی بار جنگ میں استعمال کر لیا، زیلنسکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292031/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین نے اپنے تیار کردہ ایف پی-7 ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کو پہلی بار جنگی کارروائی میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر بیان میں میزائل کے پہلے جنگی استعمال کی تص میزائل دفاعی منصوبے فریجا کے تحت بیلسٹک میزائل شکن نظام کے طور پر تصدیق کرتے ہوئے اس کی تیاری جاری رکھنے کا اعلان کیا، تاہم یہ نہیں بتایا کہ میزائل کہاں اور کس ہدف کے خلاف استعمال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینی فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ایف پی-7 ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل ہے، جس کی رینج تقریباً 200 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ اس کا موازنہ امریکی ساختہ اے ٹی اے سی ایم ایس سے بھی کیا جا رہا ہے، تاہم اسے نسبتاً کم لاگت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزائل بنانے والی کمپنی فائر پوائنٹ کے مطابق ایف پی-7 کو یورپی میزائل دفاعی منصوبے فریجا کے تحت بیلسٹک میزائل شکن نظام کے طور پر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین نے اپنے تیار کردہ ایف پی-7 ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کو پہلی بار جنگی کارروائی میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر بیان میں میزائل کے پہلے جنگی استعمال کی تص میزائل دفاعی منصوبے فریجا کے تحت بیلسٹک میزائل شکن نظام کے طور پر تصدیق کرتے ہوئے اس کی تیاری جاری رکھنے کا اعلان کیا، تاہم یہ نہیں بتایا کہ میزائل کہاں اور کس ہدف کے خلاف استعمال کیا گیا۔</strong></p>
<p>یوکرینی فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ایف پی-7 ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل ہے، جس کی رینج تقریباً 200 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ اس کا موازنہ امریکی ساختہ اے ٹی اے سی ایم ایس سے بھی کیا جا رہا ہے، تاہم اسے نسبتاً کم لاگت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>میزائل بنانے والی کمپنی فائر پوائنٹ کے مطابق ایف پی-7 کو یورپی میزائل دفاعی منصوبے فریجا کے تحت بیلسٹک میزائل شکن نظام کے طور پر بھی تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292031</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 16:05:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0216033956affa0.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0216033956affa0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹربینک مارکیٹ: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید تگڑا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292030/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.07 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کومقامی کرنسی 277.10 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی ڈالر جمعہ کو مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن رہا اور 17 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے باعث دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ تیل کی بلند قیمتوں سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کے مطابق جمعرات کو عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے نتیجے میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 5.344 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.249 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 102.08 پر رہا اور رواں ہفتے تقریباً ایک فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔ یہ ڈالر کا مسلسل تیسرا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1237 ڈالر پر رہا اور مئی 2025 کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے جبکہ جاپانی ین 158 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مضبوط ہوگیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.07 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کومقامی کرنسی 277.10 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>ادھر امریکی ڈالر جمعہ کو مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن رہا اور 17 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے باعث دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ تیل کی بلند قیمتوں سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھ گئے۔</p>
<p>روئٹرز کے مطابق جمعرات کو عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے نتیجے میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 5.344 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.249 فیصد رہی۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 102.08 پر رہا اور رواں ہفتے تقریباً ایک فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔ یہ ڈالر کا مسلسل تیسرا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔</p>
<p>یورو 1.1237 ڈالر پر رہا اور مئی 2025 کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے جبکہ جاپانی ین 158 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292030</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 15:56:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02163515c3825fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02163515c3825fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کی پاکستان کو تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے تکنیکی معاونت کی پیشکش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292029/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے پاکستان کو سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے میں اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ملک کے ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے اور کاروباری ماحول بہتر کرنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سی ایم جی او بی ای کی وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کی ترجیحات اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔ ان کے ہمراہ ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک اور سینئر ماہرِ اقتصادیات لوئی ڈین بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے تکنیکی معاونت، مہارت اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کی معاشی اصلاحات کے لیے برطانیہ کی مسلسل حمایت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی معاشی تبدیلی میں معاونت جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے، خصوصاً سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک مضبوط بنانے میں تکنیکی معاونت کے ذریعے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کے کامیاب اجرا کو بھی سراہا اور اسے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ برطانیہ کی معاونت کو پاکستان کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عملی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں جانب سے مالیاتی انتظام، ٹیکس وصولی کے نظام، ڈیجیٹلائزیشن، اخراجات کی کارکردگی، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، سرکاری سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت مختلف اصلاحاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ اصلاحات پر عمل درآمد میں یکسانیت برقرار رہے اور کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کاروباری ماحول بہتر بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے ذریعے کے طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر بھی گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے پی پی پی منصوبوں کے لیے بہتر تیاری، تجارتی اعتبار سے مضبوط ڈھانچے اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ برطانوی فریق نے صوبائی سطح سمیت متعلقہ تکنیکی مہارت کے ذریعے ان کوششوں میں معاونت میں دلچسپی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور پاکستان میں برطانوی کاروباری اداروں کی مزید شمولیت کی حوصلہ افزائی کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانوی کمپنیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نیٹ ورک نجی شعبے کی ترقی، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی اور عالمی سطح پر توسیع میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے ہوا بازی کے شعبے میں تعاون کے مواقع، جن میں ممکنہ بین الاقوامی مالی معاونت اور سرمایہ کاری بھی شامل ہے، پر تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی فریق نے بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا، جبکہ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس عمل میں متعلقہ تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے پاکستان کو سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے میں اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ملک کے ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے اور کاروباری ماحول بہتر کرنے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سی ایم جی او بی ای کی وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کی ترجیحات اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔ ان کے ہمراہ ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک اور سینئر ماہرِ اقتصادیات لوئی ڈین بھی موجود تھے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے تکنیکی معاونت، مہارت اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کی معاشی اصلاحات کے لیے برطانیہ کی مسلسل حمایت کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار، جامع اور ذمہ دارانہ ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس میں پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔</p>
<p>برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی معاشی تبدیلی میں معاونت جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے، خصوصاً سرمایہ کاری، تجارت اور نجی شعبے کی ترقی کے لیے ادارہ جاتی اور پالیسی فریم ورک مضبوط بنانے میں تکنیکی معاونت کے ذریعے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کے کامیاب اجرا کو بھی سراہا اور اسے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ برطانیہ کی معاونت کو پاکستان کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عملی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے۔</p>
<p>دونوں جانب سے مالیاتی انتظام، ٹیکس وصولی کے نظام، ڈیجیٹلائزیشن، اخراجات کی کارکردگی، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، سرکاری سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت مختلف اصلاحاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ اصلاحات پر عمل درآمد میں یکسانیت برقرار رہے اور کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا کیا جاسکے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کاروباری ماحول بہتر بنانے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔</p>
<p>ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنے کے ذریعے کے طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر بھی گفتگو ہوئی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے پی پی پی منصوبوں کے لیے بہتر تیاری، تجارتی اعتبار سے مضبوط ڈھانچے اور ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ برطانوی فریق نے صوبائی سطح سمیت متعلقہ تکنیکی مہارت کے ذریعے ان کوششوں میں معاونت میں دلچسپی ظاہر کی۔</p>
<p>ملاقات میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور پاکستان میں برطانوی کاروباری اداروں کی مزید شمولیت کی حوصلہ افزائی کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔</p>
<p>برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانوی کمپنیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نیٹ ورک نجی شعبے کی ترقی، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی اور عالمی سطح پر توسیع میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے ہوا بازی کے شعبے میں تعاون کے مواقع، جن میں ممکنہ بین الاقوامی مالی معاونت اور سرمایہ کاری بھی شامل ہے، پر تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی فریق نے بین الاقوامی مالیاتی شراکت داروں کے ممکنہ کردار کو اجاگر کیا، جبکہ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس عمل میں متعلقہ تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292029</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 15:50:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/021544097831196.webp" type="image/webp" medium="image" height="864" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/021544097831196.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات، بات چیت ایک روز کیلئے ملتوی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292028/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کے دو ادوار کے بعد بات چیت ہفتے کے روز تک ملتوی کردی گئی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات ہفتے کو دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر کے کمیٹی روم میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے روز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے مؤقف سامنے رکھ دیے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت اگلے روز بھی جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ ٹیم میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن ٹیم میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا دور دوپہر 12 بجے شروع ہوا، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر شرکا کو بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی ٹیموں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے، تاہم یہ اختلافات ڈیڈ لاک کا باعث نہیں بنے اور بات چیت جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق راجہ ناصر عباس اور رانا ثناء اللہ کے درمیان عدالتی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں پر تنقید اور تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں اپنا کام کررہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی وفد نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں اسلام آباد کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکی مناسب سیاسی طرز عمل نہیں۔ حکومتی نمائندوں نے زور دیا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر ایاز صادق نے مذاکرات کے دوران مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ باہمی مفاہمت کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا دور نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا۔ تجاویز اور سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریقوں نے اپنے اپنے ارکان کے ساتھ الگ الگ مشاورت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما اسپیکر کے چیمبر میں موجود رہے اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیر بحث معاملات سے اپنی قیادت کو آگاہ کیا۔ حکومتی نمائندوں نے اسپیکر چیمبر کے کانفرنس روم میں اپوزیشن کے مطالبات اور سفارشات پر الگ مشاورت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی روم میں داخل ہونے سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف مذاکرات میں سہولت کاری کررہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت کامیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیکر نے سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت ’’الحمدللہ رب العالمین‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات اور مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سیاسی مسائل کے حل کی کوششوں کے لیے ان کا دفتر کھلا رہے گا۔ عہدے اور مناصب عارضی ہوتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ وہ فورم ہے جہاں مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے مذاکرات سے قبل طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات میں امید کے ساتھ شریک ہوگی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ملک کے مفاد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بار بار اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے بجائے سیاسی طریقہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کا مقصد ممکنہ حل کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلال چوہدری نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات جمعرات کو اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد شروع ہوئے، جس کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس سے قبل مارچ کی تاریخ 27 ستمبر مقرر کی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ طے شدہ مارچ ملتوی نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات ایسے وقت ہورہے ہیں جب وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزرا نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ جمعرات کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کے دو ادوار کے بعد بات چیت ہفتے کے روز تک ملتوی کردی گئی۔ دونوں فریقوں نے مذاکرات ہفتے کو دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر کے کمیٹی روم میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مذاکرات کے پہلے روز کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے اپنے مؤقف سامنے رکھ دیے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت اگلے روز بھی جاری رہے گی۔</p>
<p>حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ ٹیم میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ شامل تھے۔</p>
<p>اپوزیشن ٹیم میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔</p>
<p>پہلا دور دوپہر 12 بجے شروع ہوا، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر شرکا کو بریفنگ دی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی ٹیموں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات سامنے آئے، تاہم یہ اختلافات ڈیڈ لاک کا باعث نہیں بنے اور بات چیت جاری رہی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق راجہ ناصر عباس اور رانا ثناء اللہ کے درمیان عدالتی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں پر تنقید اور تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں اپنا کام کررہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔</p>
<p>حکومتی وفد نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں اسلام آباد کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکی مناسب سیاسی طرز عمل نہیں۔ حکومتی نمائندوں نے زور دیا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>اسپیکر ایاز صادق نے مذاکرات کے دوران مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ باہمی مفاہمت کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔</p>
<p>دوسرا دور نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا۔ تجاویز اور سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریقوں نے اپنے اپنے ارکان کے ساتھ الگ الگ مشاورت کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما اسپیکر کے چیمبر میں موجود رہے اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیر بحث معاملات سے اپنی قیادت کو آگاہ کیا۔ حکومتی نمائندوں نے اسپیکر چیمبر کے کانفرنس روم میں اپوزیشن کے مطالبات اور سفارشات پر الگ مشاورت کی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کمیٹی روم میں داخل ہونے سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ صرف مذاکرات میں سہولت کاری کررہے ہیں اور امید ہے کہ بات چیت کامیاب ہوگی۔</p>
<p>اسپیکر نے سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت ’’الحمدللہ رب العالمین‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات اور مسائل حل کرنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سیاسی مسائل کے حل کی کوششوں کے لیے ان کا دفتر کھلا رہے گا۔ عہدے اور مناصب عارضی ہوتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ وہ فورم ہے جہاں مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کے مذاکرات سے قبل طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت مذاکرات میں امید کے ساتھ شریک ہوگی اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ملک کے مفاد میں ہے۔</p>
<p>انہوں نے بار بار اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے بجائے سیاسی طریقہ اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کا مقصد ممکنہ حل کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔</p>
<p>طلال چوہدری نے کہا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔</p>
<p>مذاکرات جمعرات کو اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس کے بعد شروع ہوئے، جس کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کرلی ہے۔</p>
<p>اپوزیشن نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس سے قبل مارچ کی تاریخ 27 ستمبر مقرر کی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ طے شدہ مارچ ملتوی نہیں کریں گے۔</p>
<p>مذاکرات ایسے وقت ہورہے ہیں جب وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزرا نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ جمعرات کو ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292028</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 23:10:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02150349929fde6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02150349929fde6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں احتجاج روکنے کے اقدامات، کراچی میں مال بردار کنٹینرز کے ڈھیر لگ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292027/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے اقدامات کے باعث ملک کی مرکزی بندرگاہ کراچی میں مال بردار کنٹینرز جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز پولیس کی جانب سے گاڑیاں ضبط کیے جانے کے خدشے کے باعث پنجاب سمیت شمالی علاقوں کی جانب سفر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد سابق وزیراعظم کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق حکام نے تقریباً 5 ستمبر سے گاڑیوں کو روکنا شروع کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانے والی سڑکوں پر کئی ہفتوں سے ریت سے بھرے اور آپس میں ویلڈ کیے گئے فولادی کنٹینرز رکھے جا رہے ہیں تاکہ احتجاج کے شرکا کا راستہ روکا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا اسلم نے کہا کہ یہ احتجاج روکنے کا مناسب طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق ستمبر میں مارچ سے قبل پولیس نے 2,000 سے زائد گاڑیاں اپنی تحویل میں لیں، جن میں سے متعدد سامان سے لدی ہوئی تھیں اور انہیں کئی روز تک روک کر رکھا گیا، جبکہ مالکان کو بہت کم یا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات سے اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، پشاور اور اٹک جانے والی مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ بعض ٹرانسپورٹرز نے گوجرانوالہ سے آگے سفر روک دیا ہے، جبکہ کچھ متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا محمد اسلم کے مطابق کنٹینر ضبط ہونے کی صورت میں یومیہ کھڑے رہنے کے اخراجات 30,000 سے 40,000 روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سامان کی تاخیر سے ترسیل اور ٹرکوں کے غیر استعمال شدہ رہنے سے بھی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں تاخیر کی وجہ سے قطع نظر ادائیگی کا تقاضا کرتی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹرز پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 10.26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کا اشاریہ 27.43 فیصد بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ بھی احتجاج کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے اقدامات کے باعث ملک کی مرکزی بندرگاہ کراچی میں مال بردار کنٹینرز جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز پولیس کی جانب سے گاڑیاں ضبط کیے جانے کے خدشے کے باعث پنجاب سمیت شمالی علاقوں کی جانب سفر کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد سابق وزیراعظم کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ مارچ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا۔</p>
<p>کراچی گڈز کیریئرز ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق حکام نے تقریباً 5 ستمبر سے گاڑیوں کو روکنا شروع کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانے والی سڑکوں پر کئی ہفتوں سے ریت سے بھرے اور آپس میں ویلڈ کیے گئے فولادی کنٹینرز رکھے جا رہے ہیں تاکہ احتجاج کے شرکا کا راستہ روکا جاسکے۔</p>
<p>رانا اسلم نے کہا کہ یہ احتجاج روکنے کا مناسب طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق ستمبر میں مارچ سے قبل پولیس نے 2,000 سے زائد گاڑیاں اپنی تحویل میں لیں، جن میں سے متعدد سامان سے لدی ہوئی تھیں اور انہیں کئی روز تک روک کر رکھا گیا، جبکہ مالکان کو بہت کم یا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔</p>
<p>ان اقدامات سے اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، پشاور اور اٹک جانے والی مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ بعض ٹرانسپورٹرز نے گوجرانوالہ سے آگے سفر روک دیا ہے، جبکہ کچھ متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں۔</p>
<p>رانا محمد اسلم کے مطابق کنٹینر ضبط ہونے کی صورت میں یومیہ کھڑے رہنے کے اخراجات 30,000 سے 40,000 روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سامان کی تاخیر سے ترسیل اور ٹرکوں کے غیر استعمال شدہ رہنے سے بھی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں تاخیر کی وجہ سے قطع نظر ادائیگی کا تقاضا کرتی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹرز پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر میں صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 10.26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانسپورٹ کی قیمتوں کا اشاریہ 27.43 فیصد بڑھا۔</p>
<p>ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ بھی احتجاج کرسکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292027</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 15:07:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02150518d16154e.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02150518d16154e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک کی ایگزم بینک کیلئے ایکسپورٹ فنانس مصنوعات تیار کرنے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292026/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک نے اضافی تجارتی سرگرمیوں کو معاونت فراہم کرنے کیلئے ایکسپورٹ-امپورٹ بینک آف پاکستان (ایگزم بینک) کے لیے برآمدی فنانسنگ کی مصنوعات تیار کرنے کی تجویز دی جبکہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے نے سرمایہ کاری، برآمدات اور نجی شعبے کی ترقی کے فروغ کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری ایک بیان کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے ایک وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ وفد کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاآبازار کررہی تھیں۔ ملاقات میں جاری اقتصادی اصلاحات کی شراکت داری کے تحت پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور معاشی نمو، روزگار، مالیاتی انتظام، محصولات میں اضافے، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عمل درآمد کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے عالمی بینک کی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں اصلاحاتی ترجیحات کو ہدفی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے اور متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کی منصوبہ بندی سے مؤثر عمل درآمد کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توجہ ایسے عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہیے جو معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں عالمی بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، فنانسنگ تک رسائی، مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت اور لیبر مارکیٹ سے متعلق نتائج میں بہتری لانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے سرمایہ کاری کے فریم ورک، کاروباری اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی اورایس ایم ایز کیلئے فنانسنگ تک رسائی سے متعلق مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں وزیراعظم کے ایکسس ٹو فنانس اقدام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں دیوالیہ پن کے لیے یکساں فریم ورک، ایس ایم ای فنانسنگ کی معاونت کے لیے فیکٹرنگ سے متعلق قانون سازی اور ضوابط، کمرشل فنانسنگ کے دائرہ کار میں توسیع اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے عالمی بینک نے دواسازی اور طبی مصنوعات اور زراعت کے شعبوں میں مجوزہ اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان میں بیجوں کی رجسٹریشن کے نظام میں بہتری، بعض اجناس کو ضابطوں سے مستثنیٰ کرنا اور بین الاقوامی خریداری اور منڈیوں میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے بین الاقوامی ایکریڈیٹیشنز کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں ہنرمندیوں کی ترقی اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں قومی ووکیشنل کوالیفکیشنز فریم ورک میں بہتری، پاکستانی ہنرمندیوں کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ منظوری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی معاونت سے بیرونِ ملک باقاعدہ ہجرت کے راستے وضع کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد نے قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد اور ٹیرف اصلاحات کے لیے جاری تجزیاتی معاونت کا جائزہ لیا جس میں آٹوموٹیو سیکٹر اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق امور بھی شامل تھے۔ گفتگو میں مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور عالمی ویلیو چینز میں پاکستان کے مزید انضمام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اور محصولات سے متعلق اصلاحات کے حوالے سے ملاقات میں ٹیکس پالیسی کی استعداد کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں درمیانی مدت کی محصولات کی حکمتِ عملی اور محصولات سے متعلق پالیسی کی ماڈلنگ کے لیے معاونت بھی شامل ہے۔ اجلاس میں جی ایس ٹی میں ہم آہنگی کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں خدمات کے لیے قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں میں زیادہ یکسانیت، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور ڈیٹا شیئرنگ کے زیادہ مؤثر انتظامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں زرعی آمدنی ٹیکس اصلاحات پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین اور قواعد پر عملدرآمد، نیز رجسٹریشن، ریٹرن جمع کرانے اور ٹیکس ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام کا نفاذ شامل ہے۔ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے اور وفاق و صوبوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں صوبائی پراپرٹی ٹیکس اصلاحات پر بھی بات چیت کی گئی جس میں جائیداد کی قدر کے تعین کے طریقۂ کار کو بہتر اور یکساں بنانے، ڈیجیٹل نظام کو مضبوط کرنے اور بتدریج زیادہ مارکیٹ پر مبنی ویلیوایشن فریم ورک کی جانب بڑھنے کی کوششیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی کیپٹل مارکیٹ کے حوالے سے ملاقات میں کیپٹل مارکیٹس ڈیولپمنٹ کونسل کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ اصلاحات کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی معاونت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد ملکی کیپٹل مارکیٹ کو مزید وسعت دینا، فنانسنگ کے ذرائع میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاری و سرمایہ تشکیل کے لیے سازگار نظام کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کے لیے عالمی بینک کی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ادارہ جاتی مؤثریت مضبوط بنانے اور سرکاری وسائل کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں مارکیٹ کے خطرات کے انتظام کے لیے مالیاتی آلات، ملکی بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں سے تعلقات کے حوالے سے ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے جاری تکنیکی تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کی جانب پیش رفت کے حوالے سے عالمی بینک کی تجزیاتی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے وفد نے وزیرِ خزانہ کو طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی مؤثریت سے متعلق جاری تجزیاتی کام پر بھی بریفنگ دی۔ اس موقع پر حکومت کی کارکردگی، ضابطہ جاتی معیار، شفافیت، احتساب اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اور قابلِ پیمائش اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک نے اضافی تجارتی سرگرمیوں کو معاونت فراہم کرنے کیلئے ایکسپورٹ-امپورٹ بینک آف پاکستان (ایگزم بینک) کے لیے برآمدی فنانسنگ کی مصنوعات تیار کرنے کی تجویز دی جبکہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے نے سرمایہ کاری، برآمدات اور نجی شعبے کی ترقی کے فروغ کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا۔</strong></p>
<p>جمعہ کو جاری ایک بیان کے مطابق یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے ایک وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ وفد کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگاآبازار کررہی تھیں۔ ملاقات میں جاری اقتصادی اصلاحات کی شراکت داری کے تحت پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور معاشی نمو، روزگار، مالیاتی انتظام، محصولات میں اضافے، کیپٹل مارکیٹ کی ترقی، تجارت و سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں میں عمل درآمد کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے عالمی بینک کی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں اصلاحاتی ترجیحات کو ہدفی اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنے اور متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔</p>
<p>بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کی منصوبہ بندی سے مؤثر عمل درآمد کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ توجہ ایسے عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہیے جو معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی کاروباری ماحول میں قابلِ پیمائش بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔</p>
<p>ملاقات میں عالمی بینک کے مجوزہ گروتھ اینڈ جابز آپریشن پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، فنانسنگ تک رسائی، مختلف شعبوں کی پیداواری صلاحیت اور لیبر مارکیٹ سے متعلق نتائج میں بہتری لانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک نے سرمایہ کاری کے فریم ورک، کاروباری اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی اورایس ایم ایز کیلئے فنانسنگ تک رسائی سے متعلق مجوزہ اقدامات سے آگاہ کیا۔</p>
<p>مذاکرات میں وزیراعظم کے ایکسس ٹو فنانس اقدام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں دیوالیہ پن کے لیے یکساں فریم ورک، ایس ایم ای فنانسنگ کی معاونت کے لیے فیکٹرنگ سے متعلق قانون سازی اور ضوابط، کمرشل فنانسنگ کے دائرہ کار میں توسیع اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>شعبہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے عالمی بینک نے دواسازی اور طبی مصنوعات اور زراعت کے شعبوں میں مجوزہ اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان میں بیجوں کی رجسٹریشن کے نظام میں بہتری، بعض اجناس کو ضابطوں سے مستثنیٰ کرنا اور بین الاقوامی خریداری اور منڈیوں میں شرکت کو آسان بنانے کے لیے بین الاقوامی ایکریڈیٹیشنز کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔</p>
<p>ملاقات میں ہنرمندیوں کی ترقی اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں قومی ووکیشنل کوالیفکیشنز فریم ورک میں بہتری، پاکستانی ہنرمندیوں کی بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ منظوری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی معاونت سے بیرونِ ملک باقاعدہ ہجرت کے راستے وضع کرنا شامل ہیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد نے قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد اور ٹیرف اصلاحات کے لیے جاری تجزیاتی معاونت کا جائزہ لیا جس میں آٹوموٹیو سیکٹر اور مستقبل کی ٹیرف اصلاحات سے متعلق امور بھی شامل تھے۔ گفتگو میں مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، برآمدات اور عالمی ویلیو چینز میں پاکستان کے مزید انضمام کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔</p>
<p>مالیاتی اور محصولات سے متعلق اصلاحات کے حوالے سے ملاقات میں ٹیکس پالیسی کی استعداد کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی معاونت کا جائزہ لیا گیا جس میں درمیانی مدت کی محصولات کی حکمتِ عملی اور محصولات سے متعلق پالیسی کی ماڈلنگ کے لیے معاونت بھی شامل ہے۔ اجلاس میں جی ایس ٹی میں ہم آہنگی کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں خدمات کے لیے قواعد، تعریفوں اور درجہ بندیوں میں زیادہ یکسانیت، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور ڈیٹا شیئرنگ کے زیادہ مؤثر انتظامات شامل ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں زرعی آمدنی ٹیکس اصلاحات پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں ترمیم شدہ صوبائی قوانین اور قواعد پر عملدرآمد، نیز رجسٹریشن، ریٹرن جمع کرانے اور ٹیکس ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام کا نفاذ شامل ہے۔ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے اور وفاق و صوبوں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>مذاکرات میں صوبائی پراپرٹی ٹیکس اصلاحات پر بھی بات چیت کی گئی جس میں جائیداد کی قدر کے تعین کے طریقۂ کار کو بہتر اور یکساں بنانے، ڈیجیٹل نظام کو مضبوط کرنے اور بتدریج زیادہ مارکیٹ پر مبنی ویلیوایشن فریم ورک کی جانب بڑھنے کی کوششیں شامل ہیں۔</p>
<p>ملکی کیپٹل مارکیٹ کے حوالے سے ملاقات میں کیپٹل مارکیٹس ڈیولپمنٹ کونسل کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ اصلاحات کا روڈ میپ تیار کرنے کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی معاونت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد ملکی کیپٹل مارکیٹ کو مزید وسعت دینا، فنانسنگ کے ذرائع میں اضافہ کرنا اور سرمایہ کاری و سرمایہ تشکیل کے لیے سازگار نظام کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>ملاقات میں سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور حکومت کے رائٹ سائزنگ ایجنڈے کے لیے عالمی بینک کی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ادارہ جاتی مؤثریت مضبوط بنانے اور سرکاری وسائل کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تکنیکی معاونت شامل ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے قرضوں کے انتظام کی صلاحیت اور ملکی بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات میں مارکیٹ کے خطرات کے انتظام کے لیے مالیاتی آلات، ملکی بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سرمایہ کاروں سے تعلقات کے حوالے سے ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے جاری تکنیکی تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کی جانب پیش رفت کے حوالے سے عالمی بینک کی تجزیاتی معاونت کا بھی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>عالمی بینک کے وفد نے وزیرِ خزانہ کو طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی مؤثریت سے متعلق جاری تجزیاتی کام پر بھی بریفنگ دی۔ اس موقع پر حکومت کی کارکردگی، ضابطہ جاتی معیار، شفافیت، احتساب اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اور قابلِ پیمائش اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292026</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 14:57:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0214571873e0070.webp" type="image/webp" medium="image" height="822" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0214571873e0070.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سویڈش، نورڈک کمپنیوں اور پاکستانی ٹیکسٹائل سازوں کا ماحول دوست حل تلاش کرنے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292022/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سویڈن کے سسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم کے تحت دوسری کاروباری روابط کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں سویڈن اور دیگر نورڈک ممالک کی کمپنیوں، پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز اور صنعتی شراکت داروں نے شرکت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن کے سفارت خانے اور بزنس سویڈن نے 2024 میں اس پلیٹ فارم کا آغاز کیا تھا۔ اس کا مقصد سویڈش اور پاکستانی متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرکے  ٹیکسٹائل کی پائیدار پیداوار سے متعلق مکالمے، علم کے تبادلے اور کاروباری تعاون کو فروغ دینا، جبکہ پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے میں ماحول دوست تبدیلی کے لیے عملی حل تلاش کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پلیٹ فارم کے تحت پہلے موسمِ بہار 2025 میں اسلام آباد میں ماحول دوست توانائی تک رسائی کے موضوع پر پالیسی مکالمہ منعقد کیا گیا، جس کے بعد گزشتہ سال کراچی میں پہلی کاروباری روابط کی تقریب ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال موسمِ بہار میں منعقد ہونے والے پہلے یورپی یونین بزنس فورم میں بھی سسٹین ایبل ٹیکسٹائل سے متعلق مکمل اجلاس میں اس پلیٹ فارم نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کی کاروباری روابط کی تقریب میں سویڈش برانڈز آئی کے ای اے اور ایچ اینڈ ایم کے ساتھ کام کرنے والے مقامی سپلائرز، نورڈک ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکسٹائل شعبے کے دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔ بات چیت میں توانائی کی بچت، پانی کے انتظام، وسائل کے مؤثر استعمال اور صاف ستھری پیداواری سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں عملی حل پر توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ ایسے مالیاتی طریقہ کار پر بھی گفتگو ہوئی جو کمپنیوں کو ماحول دوست سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔ سویڈش کمپنیاں، جن میں آئی کے ای اے اور ایچ اینڈ ایم شامل ہیں، اپنی پوری سپلائی چین میں پائیداری کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی سپلائرز کے ساتھ قریبی تعاون کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تقریب نے مقامی سپلائرز کو نورڈک ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے رابطے کا موقع فراہم کیا، جو زیادہ مؤثر اور پائیدار پیداوار میں مدد دینے والے حل پیش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لِنڈے نے کہا کہ ماحول دوست تبدیلی کا عمل کسی ایک کمپنی یا ملک کی کوششوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے پوری ویلیو چین میں تعاون ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج ہونے والی بات چیت کا عملی نوعیت کا ہونا میرے لیے خاص طور پر حوصلہ افزا تھا۔ پاکستانی سپلائرز نے اپنے مسائل بیان کیے، جبکہ سویڈش اور نورڈک کمپنیوں نے اپنے حل اور تجربات پیش کیے۔ یہ بالکل اسی قسم کا مکالمہ ہے جو نئی شراکت داریوں اور حقیقی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس سویڈن کے نائب صدر برائے ایشیا پیسیفک خطہ، سنگاپور، ایمیل اکنڈر نے کہا کہ بزنس سویڈن کی شمولیت کا مقصد پائیداری کے عزائم کو کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات پاکستانی صنعت کی ضروریات اور سویڈش و نورڈک کمپنیوں کے پیش کردہ حل کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آج ہونے والی گفتگو اس تقریب کے بعد بھی جاری رہے گی اور ٹھوس تعاون میں تبدیل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کی تقریب میں مالی معاونت سے متعلق بات چیت کو بھی کاروباری روابط کے عمل کا حصہ بنایا گیا، جس سے اس اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ کمپنیوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور اپنے پیداواری عمل کو بہتر بنانے کے لیے مالی وسائل تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن کے لیے پائیداری اور ماحول دوست تبدیلی کا فروغ پاکستان اور اس کے نجی شعبے کے ساتھ وسیع تر تعاون سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم ایسا عملی فورم فراہم کرتا ہے جہاں سویڈن کی مہارت اور جدت کو پاکستان کے مضبوط ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ شعبے سے جوڑا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری کاروباری روابط کی تقریب اس پلیٹ فارم کی جاری سرگرمیوں میں ایک اور قدم ہے۔ آئندہ توجہ تقریب کے دوران قائم ہونے والے روابط کو مزید فروغ دینے، مزید مکالموں، فالو اَپ ملاقاتوں اور سویڈش، نورڈک اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان ممکنہ شراکت داریوں کی معاونت پر مرکوز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن کےسسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم کا آغاز 2024 میں اسلام آباد میں سویڈن کے سفارت خانے اور بزنس سویڈن نے کیا تھا۔ اس کا مقصد سویڈش، نورڈک اور پاکستانی متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرکے پالیسی مکالمے، علم کے تبادلے، ٹیکنالوجی اور کاروباری تعاون کے ذریعے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے میں ماحول دوست تبدیلی کی معاونت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سویڈن کے سسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم کے تحت دوسری کاروباری روابط کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں سویڈن اور دیگر نورڈک ممالک کی کمپنیوں، پاکستانی ٹیکسٹائل مینوفیکچررز اور صنعتی شراکت داروں نے شرکت کی۔</strong></p>
<p>سویڈن کے سفارت خانے اور بزنس سویڈن نے 2024 میں اس پلیٹ فارم کا آغاز کیا تھا۔ اس کا مقصد سویڈش اور پاکستانی متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرکے  ٹیکسٹائل کی پائیدار پیداوار سے متعلق مکالمے، علم کے تبادلے اور کاروباری تعاون کو فروغ دینا، جبکہ پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے میں ماحول دوست تبدیلی کے لیے عملی حل تلاش کرنا ہے۔</p>
<p>اس پلیٹ فارم کے تحت پہلے موسمِ بہار 2025 میں اسلام آباد میں ماحول دوست توانائی تک رسائی کے موضوع پر پالیسی مکالمہ منعقد کیا گیا، جس کے بعد گزشتہ سال کراچی میں پہلی کاروباری روابط کی تقریب ہوئی۔</p>
<p>رواں سال موسمِ بہار میں منعقد ہونے والے پہلے یورپی یونین بزنس فورم میں بھی سسٹین ایبل ٹیکسٹائل سے متعلق مکمل اجلاس میں اس پلیٹ فارم نے شرکت کی۔</p>
<p>اس سال کی کاروباری روابط کی تقریب میں سویڈش برانڈز آئی کے ای اے اور ایچ اینڈ ایم کے ساتھ کام کرنے والے مقامی سپلائرز، نورڈک ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکسٹائل شعبے کے دیگر شراکت داروں نے شرکت کی۔ بات چیت میں توانائی کی بچت، پانی کے انتظام، وسائل کے مؤثر استعمال اور صاف ستھری پیداواری سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں عملی حل پر توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ ایسے مالیاتی طریقہ کار پر بھی گفتگو ہوئی جو کمپنیوں کو ماحول دوست سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔ سویڈش کمپنیاں، جن میں آئی کے ای اے اور ایچ اینڈ ایم شامل ہیں، اپنی پوری سپلائی چین میں پائیداری کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی سپلائرز کے ساتھ قریبی تعاون کررہی ہیں۔</p>
<p>اس تقریب نے مقامی سپلائرز کو نورڈک ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے رابطے کا موقع فراہم کیا، جو زیادہ مؤثر اور پائیدار پیداوار میں مدد دینے والے حل پیش کرتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لِنڈے نے کہا کہ ماحول دوست تبدیلی کا عمل کسی ایک کمپنی یا ملک کی کوششوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے پوری ویلیو چین میں تعاون ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج ہونے والی بات چیت کا عملی نوعیت کا ہونا میرے لیے خاص طور پر حوصلہ افزا تھا۔ پاکستانی سپلائرز نے اپنے مسائل بیان کیے، جبکہ سویڈش اور نورڈک کمپنیوں نے اپنے حل اور تجربات پیش کیے۔ یہ بالکل اسی قسم کا مکالمہ ہے جو نئی شراکت داریوں اور حقیقی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>بزنس سویڈن کے نائب صدر برائے ایشیا پیسیفک خطہ، سنگاپور، ایمیل اکنڈر نے کہا کہ بزنس سویڈن کی شمولیت کا مقصد پائیداری کے عزائم کو کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد دینا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات پاکستانی صنعت کی ضروریات اور سویڈش و نورڈک کمپنیوں کے پیش کردہ حل کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آج ہونے والی گفتگو اس تقریب کے بعد بھی جاری رہے گی اور ٹھوس تعاون میں تبدیل ہوگی۔</p>
<p>رواں سال کی تقریب میں مالی معاونت سے متعلق بات چیت کو بھی کاروباری روابط کے عمل کا حصہ بنایا گیا، جس سے اس اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ کمپنیوں کو ماحول دوست ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور اپنے پیداواری عمل کو بہتر بنانے کے لیے مالی وسائل تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔</p>
<p>سویڈن کے لیے پائیداری اور ماحول دوست تبدیلی کا فروغ پاکستان اور اس کے نجی شعبے کے ساتھ وسیع تر تعاون سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم ایسا عملی فورم فراہم کرتا ہے جہاں سویڈن کی مہارت اور جدت کو پاکستان کے مضبوط ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ شعبے سے جوڑا جاسکتا ہے۔</p>
<p>دوسری کاروباری روابط کی تقریب اس پلیٹ فارم کی جاری سرگرمیوں میں ایک اور قدم ہے۔ آئندہ توجہ تقریب کے دوران قائم ہونے والے روابط کو مزید فروغ دینے، مزید مکالموں، فالو اَپ ملاقاتوں اور سویڈش، نورڈک اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان ممکنہ شراکت داریوں کی معاونت پر مرکوز ہوگی۔</p>
<p>سویڈن کےسسٹین ایبل ٹیکسٹائل پلیٹ فارم کا آغاز 2024 میں اسلام آباد میں سویڈن کے سفارت خانے اور بزنس سویڈن نے کیا تھا۔ اس کا مقصد سویڈش، نورڈک اور پاکستانی متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرکے پالیسی مکالمے، علم کے تبادلے، ٹیکنالوجی اور کاروباری تعاون کے ذریعے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے میں ماحول دوست تبدیلی کی معاونت کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292022</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 14:51:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02144829fcd6758.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02144829fcd6758.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی آمدنی ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتِ سندھ کی منظوری سے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) نے ٹیکس سال 2025-26 کے لیے زرعی آمدنی ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر کے مطابق، جن ٹیکس دہندگان کو اپنے زرعی آمدنی ٹیکس ریٹرنز 30 ستمبر 2026 تک جمع کرانے تھے، وہ اب اپنے ریٹرنز 31 اکتوبر 2026 تک جمع کرا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتِ سندھ کی منظوری سے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) نے ٹیکس سال 2025-26 کے لیے زرعی آمدنی ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی ہے۔</strong></p>
<p>سرکلر کے مطابق، جن ٹیکس دہندگان کو اپنے زرعی آمدنی ٹیکس ریٹرنز 30 ستمبر 2026 تک جمع کرانے تھے، وہ اب اپنے ریٹرنز 31 اکتوبر 2026 تک جمع کرا سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292024</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 14:13:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0214130610be4c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0214130610be4c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امتیاز حسین ایف پی سی سی آئی کی پاک امریکا بزنس کونسل کے دوبارہ چیئرمین مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف پاکستانی تاجر شیخ امتیاز حسین کو ایک بار پھر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی پاکستان-امریکا بزنس کونسل کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے جو پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی مسلسل قیادت اور عزم کا اعادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ امتیاز حسین پاکستان کی کاروباری برادری کی ایک نمایاں شخصیت ہیں اور وہ مختلف قومی و بین الاقوامی کاروباری فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ایک تجربہ کار کاروباری شخصیت اور بزنس لیڈر کی حیثیت سے وہ پاکستان کی برآمدات کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت میں سہولت کاری اور بین الاقوامی کاروباری شراکت داریوں کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی دوبارہ تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے علاقائی امن، استحکام، تعمیری دوطرفہ تعاون اور اقتصادی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا جو بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے اقتصادی تعلقات میں بے پناہ امکانات موجود ہیں اور ہمارا مقصد ان امکانات کو دونوں ممالک کے کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے لیے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے، میں پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے نئے راستے پیدا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھوں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان-امریکا بزنس کونسل دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی میں تعاون، منڈیوں تک رسائی اور کاروبار سے کاروبار کے روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گی جبکہ پاکستانی اور امریکی کاروباری برادریوں کے درمیان مزید روابط کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا اور زیادہ مضبوط، پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داریاں قائم کرنا ہے۔ ہم دونوں ممالک میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، کاروباری تنظیموں، سرمایہ کاروں اور تجارتی اداروں کے ساتھ فعال رابطہ رکھیں گے تاکہ نئے مواقع کی نشاندہی کی جاسکے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف پاکستانی تاجر شیخ امتیاز حسین کو ایک بار پھر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی پاکستان-امریکا بزنس کونسل کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے جو پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی مسلسل قیادت اور عزم کا اعادہ ہے۔</strong></p>
<p>شیخ امتیاز حسین پاکستان کی کاروباری برادری کی ایک نمایاں شخصیت ہیں اور وہ مختلف قومی و بین الاقوامی کاروباری فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ ایک تجربہ کار کاروباری شخصیت اور بزنس لیڈر کی حیثیت سے وہ پاکستان کی برآمدات کے فروغ، غیر ملکی سرمایہ کاری، تجارت میں سہولت کاری اور بین الاقوامی کاروباری شراکت داریوں کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>اپنی دوبارہ تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے علاقائی امن، استحکام، تعمیری دوطرفہ تعاون اور اقتصادی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا جو بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے اقتصادی تعلقات میں بے پناہ امکانات موجود ہیں اور ہمارا مقصد ان امکانات کو دونوں ممالک کے کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے لیے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے، میں پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے نئے راستے پیدا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھوں گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان-امریکا بزنس کونسل دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی میں تعاون، منڈیوں تک رسائی اور کاروبار سے کاروبار کے روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز کرے گی جبکہ پاکستانی اور امریکی کاروباری برادریوں کے درمیان مزید روابط کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا اور زیادہ مضبوط، پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داریاں قائم کرنا ہے۔ ہم دونوں ممالک میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، کاروباری تنظیموں، سرمایہ کاروں اور تجارتی اداروں کے ساتھ فعال رابطہ رکھیں گے تاکہ نئے مواقع کی نشاندہی کی جاسکے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292023</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 14:05:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02140430a3d1957.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02140430a3d1957.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں 2 فیصد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292021/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستمبر 2026 کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 2 فیصد کمی کے بعد 1.35 ملین ٹن رہ گئی جس کی بنیادی وجہ ڈیزل اور پٹرول کی فروخت کے حجم میں کمی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق فرنس آئل کو نکال کر رواں ماہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (اوایم سیز) کی مجموعی فروخت سالانہ بنیاد پر 8 فیصد کمی کے ساتھ 1.25 ملین ٹن رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ستمبر میں فرنس آئل  کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 601 فیصد اضافے کے ساتھ 93,000 ٹن تک پہنچ گئی جبکہ ایک سال قبل یہ صرف 13,000 ٹن تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد کمی سے 525,000 ٹن رہی جبکہ پٹرول کی فروخت کا حجم 5 فیصد کم ہو کر 652,000 ٹن رہ گیا۔ دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت بھی 8 فیصد کمی کے ساتھ 76,000 ٹن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت میں 7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت کا حجم 25 فیصد بڑھ کر 525,000 ٹن ہو گیا۔ ماہ کے دوران فرنس آئل کی فروخت میں 5 فیصد جبکہ پٹرول کے حجم میں 2 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ ماہانہ بنیادوں پر اضافے کی بنیادی وجہ موسمی عوامل کے باعث ماہ کے دوران ڈیزل کی فروخت کے حجم میں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی  کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مجموعی فروخت سالانہ 6 فیصد اضافے سے 4.12 ملین ٹن رہی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.89 ملین ٹن تھی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فرنس آئل کی فروخت میں 470 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فرنس آئل کو خارج کر دیا جائے تورواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں فروخت تقریباً مستحکم رہی اور 3.85 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جو ایک سال قبل بھی 3.85 ملین ٹن تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی ستمبر میں فروخت سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کے ساتھ 639,000 ٹن رہی جس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی فروخت کے حجم میں 9 فیصد اور پٹرول کی فروخت میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔ پی ایس او کی فروخت میں ماہانہ بنیادوں پر بھی 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) کی فروخت 116,000 ٹن رہی جو سالانہ بنیادوں پر غیر تبدیل شدہ ہے جبکہ وافی انرجی پاکستان کی فروخت کا حجم 6 فیصد کمی کے ساتھ 110,000 ٹن رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیسکول پیٹرولیم کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد کمی سے 37,000 ٹن رہی، جس میں پٹرول کی فروخت کے حجم میں 26 فیصد کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پی ایس او کی مجموعی فروخت سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافے سے 1.91 ملین ٹن رہی جبکہ اے پی ایل کی فروخت کا حجم 11 فیصد اضافے کے ساتھ 364,000 ٹن ہو گیا۔ وافی کی فروخت 6 فیصد اضافے سے 348,000 ٹن رہی جبکہ حیسکول کی فروخت کا حجم 12 فیصد کمی کے ساتھ 114,000 ٹن ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ستمبر 2026 کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 2 فیصد کمی کے بعد 1.35 ملین ٹن رہ گئی جس کی بنیادی وجہ ڈیزل اور پٹرول کی فروخت کے حجم میں کمی ہے۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق فرنس آئل کو نکال کر رواں ماہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (اوایم سیز) کی مجموعی فروخت سالانہ بنیاد پر 8 فیصد کمی کے ساتھ 1.25 ملین ٹن رہ گئی۔</p>
<p>تاہم ستمبر میں فرنس آئل  کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 601 فیصد اضافے کے ساتھ 93,000 ٹن تک پہنچ گئی جبکہ ایک سال قبل یہ صرف 13,000 ٹن تھی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد کمی سے 525,000 ٹن رہی جبکہ پٹرول کی فروخت کا حجم 5 فیصد کم ہو کر 652,000 ٹن رہ گیا۔ دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت بھی 8 فیصد کمی کے ساتھ 76,000 ٹن رہی۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت میں 7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت کا حجم 25 فیصد بڑھ کر 525,000 ٹن ہو گیا۔ ماہ کے دوران فرنس آئل کی فروخت میں 5 فیصد جبکہ پٹرول کے حجم میں 2 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ ماہانہ بنیادوں پر اضافے کی بنیادی وجہ موسمی عوامل کے باعث ماہ کے دوران ڈیزل کی فروخت کے حجم میں اضافہ ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی  کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مجموعی فروخت سالانہ 6 فیصد اضافے سے 4.12 ملین ٹن رہی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.89 ملین ٹن تھی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ فرنس آئل کی فروخت میں 470 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>تاہم فرنس آئل کو خارج کر دیا جائے تورواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں فروخت تقریباً مستحکم رہی اور 3.85 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی جو ایک سال قبل بھی 3.85 ملین ٹن تھی۔</p>
<p>بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی ستمبر میں فروخت سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کے ساتھ 639,000 ٹن رہی جس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی فروخت کے حجم میں 9 فیصد اور پٹرول کی فروخت میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔ پی ایس او کی فروخت میں ماہانہ بنیادوں پر بھی 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) کی فروخت 116,000 ٹن رہی جو سالانہ بنیادوں پر غیر تبدیل شدہ ہے جبکہ وافی انرجی پاکستان کی فروخت کا حجم 6 فیصد کمی کے ساتھ 110,000 ٹن رہا۔</p>
<p>حیسکول پیٹرولیم کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد کمی سے 37,000 ٹن رہی، جس میں پٹرول کی فروخت کے حجم میں 26 فیصد کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پی ایس او کی مجموعی فروخت سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافے سے 1.91 ملین ٹن رہی جبکہ اے پی ایل کی فروخت کا حجم 11 فیصد اضافے کے ساتھ 364,000 ٹن ہو گیا۔ وافی کی فروخت 6 فیصد اضافے سے 348,000 ٹن رہی جبکہ حیسکول کی فروخت کا حجم 12 فیصد کمی کے ساتھ 114,000 ٹن ریکارڈ کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292021</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 13:54:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02133708f19a02c.gif" type="image/gif" medium="image" height="675" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02133708f19a02c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میسی ہسپانوی کلب ایلڈینسے کے اکثریتی مالک بن گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292020/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ارجنٹائن اور بارسلونا کے سابق اسٹار لیونل میسی نے اسپین کے سیکنڈ ڈویژن کلب سی ڈی ایلڈینسے کی خریداری مکمل کرلی ہے، تاہم معاہدہ ریگولیٹری منظوری سے مشروط ہے۔ کلب نے جمعرات کو یہ اعلان کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;39 سالہ میسی رواں سال اسپین کے دوسرے فٹبال کلب کے اکثریتی مالک بن گئے ہیں۔ اس سے قبل اپریل میں انہوں نے یو ای کورنیلا خرید لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی، جو اس وقت انٹر میامی کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے گزشتہ ماہ کولمبیا کے سرمایہ کاری گروپ سے ایلڈینسے کے تمام شیئرز خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ گروپ کلب کا سابق اکثریتی شیئر ہولڈر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1921 میں قائم ہونے والے ایلڈینسے نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ لیونل میسی کی جانب سے کلب کی خریداری اس کی 100 سال سے زائد تاریخ میں ایک نئے اور دلچسپ باب کا آغاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلڈینسے کو امید ہے کہ اس معاہدے سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جو سیگنڈا ڈویژن میں سات میچوں میں چار شکستوں کے ساتھ 19ویں نمبر پر ہے اور ریلیگیشن سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ارجنٹائن اور بارسلونا کے سابق اسٹار لیونل میسی نے اسپین کے سیکنڈ ڈویژن کلب سی ڈی ایلڈینسے کی خریداری مکمل کرلی ہے، تاہم معاہدہ ریگولیٹری منظوری سے مشروط ہے۔ کلب نے جمعرات کو یہ اعلان کیا۔</strong></p>
<p>39 سالہ میسی رواں سال اسپین کے دوسرے فٹبال کلب کے اکثریتی مالک بن گئے ہیں۔ اس سے قبل اپریل میں انہوں نے یو ای کورنیلا خرید لیا تھا۔</p>
<p>میسی، جو اس وقت انٹر میامی کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے گزشتہ ماہ کولمبیا کے سرمایہ کاری گروپ سے ایلڈینسے کے تمام شیئرز خریدنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ گروپ کلب کا سابق اکثریتی شیئر ہولڈر تھا۔</p>
<p>1921 میں قائم ہونے والے ایلڈینسے نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ لیونل میسی کی جانب سے کلب کی خریداری اس کی 100 سال سے زائد تاریخ میں ایک نئے اور دلچسپ باب کا آغاز ہے۔</p>
<p>ایلڈینسے کو امید ہے کہ اس معاہدے سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جو سیگنڈا ڈویژن میں سات میچوں میں چار شکستوں کے ساتھ 19ویں نمبر پر ہے اور ریلیگیشن سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292020</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 13:54:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02135202ae9cc8f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02135202ae9cc8f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
