<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Print</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:46:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 21:46:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حزب اللہ کے انکار سے لبنان میں جنگ بندی اور ایران جنگ کے خاتمے کی امیدیں دھندلا گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287103/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان کی حزب اللہ نے جمعرات کو لبنان میں نئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اپنی فوجیں ملک سے واپس نہیں بلائے گا۔ اس پیش رفت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لبنان میں لڑائی رکوانے اور تہران کے ساتھ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے لیے لبنان میں جنگ بندی کو لازمی شرط قرار دے رکھا ہے، اور حالیہ دنوں میں عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے یا ان میں شدت لائی تو وہ اپنے اتحادی حزب اللہ کی حمایت میں براہِ راست مداخلت بھی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا کہ متعلقہ تمام فریقوں کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی نافذ العمل ہو جائے گی۔ تاہم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”مزاحمت جاری رہے گی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نعیم قاسم کے بیان پر اسرائیل، لبنان یا امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بدھ کو اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے میں حزب اللہ فریق نہیں ہے، تاہم جنگ بندی کے نفاذ کی صورت میں اسے بھی حملے روکنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیل نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج نہ تو علاقے سے انخلا کرے گی اور نہ ہی لبنان میں اپنی کارروائیاں روکے گی۔ اسرائیل نے مارچ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس، جس نے 1982 میں حزب اللہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، کے کمانڈر نے کہا کہ ”مزاحمت کا کم از کم مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل ان پوزیشنوں پر واپس جائے جہاں وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے موجود تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب کے ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ ”علاقائی جنگ میں جنگ بندی قبول کرنے کے لیے ہماری ابتدائی شرط تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر جنگ بندی تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنے حملے بند کرنا ہوں گے، زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سرحدوں کے پیچھے واپس جانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں 2 مارچ کو دوبارہ شروع ہو گئی تھیں، جب گروپ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں آنے والے تہران کی حمایت میں اسرائیلی اہداف پر فائرنگ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ اپریل سے واشنگٹن کی جانب سے متعدد بار جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خلیج-میں-کشیدگی-میں-اضافہ" href="#خلیج-میں-کشیدگی-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خلیج میں کشیدگی میں اضافہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں جنگ بندی کی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں تشدد کی نئی لہر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ ختم کرانے کی کوششوں کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ بدھ کو ایران اور امریکی افواج نے خلیج میں ایک دوسرے پر حملے کیے، جو اپریل کے اوائل میں ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی بمباری رکنے کے بعد ہونے والی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ایرانی افواج نے کویت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی بڑی حد تک بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ لبنان میں ممکنہ جنگ بندی واشنگٹن اور تہران کو جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونِ ملک جنگ کے خاتمے اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے دباؤ کا سامنا کرنے والے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جلد پیش رفت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ایسا ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام تک ہو جائے،“، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس مدت کے دوران کس پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو لبنان میں جاری تنازع سے الگ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-کا-کویت-ایئرپورٹ-کو-نشانہ-بنانے-کی-تردید" href="#ایران-کا-کویت-ایئرپورٹ-کو-نشانہ-بنانے-کی-تردید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران کا کویت ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی تردید&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کو ہونے والے حملوں میں کویت کے ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ تباہی امریکی دفاعی میزائلوں کے باعث ہوئی، جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور ایک امریکی فضائی اڈے پر حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کسی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوششوں کے بعد جنوبی ایران میں ”دفاعی کارروائیوں“ کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم پر بھی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-نے-امن-معاہدے-کے-لیے-شرائط-مقرر-کر-دیں" href="#ایران-نے-امن-معاہدے-کے-لیے-شرائط-مقرر-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران نے امن معاہدے کے لیے شرائط مقرر کر دیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، تاہم دونوں فریق اب تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دے سکے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت زیادہ پیچیدہ معاملات پر مذاکرات بعد کے مرحلے میں کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے دشمن میدانِ جنگ میں پہلے ہی شکست کھا چکے ہیں اور اب ملک کے اندر انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جنگ کے آغاز پر فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد منصب سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں جنگ بندی کو کسی بھی معاہدے کی شرط قرار دینے کے علاوہ تہران اربوں ڈالر کی تیل آمدن تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں چھوٹ، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق مؤثر کردار کا بھی خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعرات کو رکن ممالک کو ایک رپورٹ ارسال کی، جس میں ایران سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک سال قبل اپنی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کرے اور جوہری تنصیبات کے معائنے کا عمل مکمل طور پر بحال کرنے کی اجازت دے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لبنان کی حزب اللہ نے جمعرات کو لبنان میں نئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اپنی فوجیں ملک سے واپس نہیں بلائے گا۔ اس پیش رفت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لبنان میں لڑائی رکوانے اور تہران کے ساتھ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔</strong></p>
<p>ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے لیے لبنان میں جنگ بندی کو لازمی شرط قرار دے رکھا ہے، اور حالیہ دنوں میں عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے یا ان میں شدت لائی تو وہ اپنے اتحادی حزب اللہ کی حمایت میں براہِ راست مداخلت بھی کر سکتا ہے۔</p>
<p>لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا کہ متعلقہ تمام فریقوں کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی نافذ العمل ہو جائے گی۔ تاہم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”مزاحمت جاری رہے گی“۔</p>
<p>نعیم قاسم کے بیان پر اسرائیل، لبنان یا امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بدھ کو اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے میں حزب اللہ فریق نہیں ہے، تاہم جنگ بندی کے نفاذ کی صورت میں اسے بھی حملے روکنا ہوں گے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیل نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج نہ تو علاقے سے انخلا کرے گی اور نہ ہی لبنان میں اپنی کارروائیاں روکے گی۔ اسرائیل نے مارچ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔</p>
<p>ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس، جس نے 1982 میں حزب اللہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، کے کمانڈر نے کہا کہ ”مزاحمت کا کم از کم مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل ان پوزیشنوں پر واپس جائے جہاں وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے موجود تھا۔“</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب کے ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ ”علاقائی جنگ میں جنگ بندی قبول کرنے کے لیے ہماری ابتدائی شرط تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر جنگ بندی تھی۔“</p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنے حملے بند کرنا ہوں گے، زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سرحدوں کے پیچھے واپس جانا ہوگا۔</p>
<p>حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں 2 مارچ کو دوبارہ شروع ہو گئی تھیں، جب گروپ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں آنے والے تہران کی حمایت میں اسرائیلی اہداف پر فائرنگ کی تھی۔</p>
<p>یہ جنگ اپریل سے واشنگٹن کی جانب سے متعدد بار جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود جاری ہے۔</p>
<h3><a id="خلیج-میں-کشیدگی-میں-اضافہ" href="#خلیج-میں-کشیدگی-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خلیج میں کشیدگی میں اضافہ</h3>
<p>لبنان میں جنگ بندی کی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں تشدد کی نئی لہر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ ختم کرانے کی کوششوں کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ بدھ کو ایران اور امریکی افواج نے خلیج میں ایک دوسرے پر حملے کیے، جو اپریل کے اوائل میں ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی بمباری رکنے کے بعد ہونے والی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق ایرانی افواج نے کویت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔</p>
<p>آبنائے ہرمز، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی بڑی حد تک بند ہے۔</p>
<p>جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ لبنان میں ممکنہ جنگ بندی واشنگٹن اور تہران کو جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔</p>
<p>اندرونِ ملک جنگ کے خاتمے اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے دباؤ کا سامنا کرنے والے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جلد پیش رفت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ایسا ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام تک ہو جائے،“، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس مدت کے دوران کس پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو لبنان میں جاری تنازع سے الگ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔</p>
<h3><a id="ایران-کا-کویت-ایئرپورٹ-کو-نشانہ-بنانے-کی-تردید" href="#ایران-کا-کویت-ایئرپورٹ-کو-نشانہ-بنانے-کی-تردید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران کا کویت ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی تردید</h3>
<p>کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کو ہونے والے حملوں میں کویت کے ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ تباہی امریکی دفاعی میزائلوں کے باعث ہوئی، جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور ایک امریکی فضائی اڈے پر حملے کیے۔</p>
<p>تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کسی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوششوں کے بعد جنوبی ایران میں ”دفاعی کارروائیوں“ کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم پر بھی حملے کیے گئے۔</p>
<h3><a id="ایران-نے-امن-معاہدے-کے-لیے-شرائط-مقرر-کر-دیں" href="#ایران-نے-امن-معاہدے-کے-لیے-شرائط-مقرر-کر-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران نے امن معاہدے کے لیے شرائط مقرر کر دیں</h3>
<p>گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، تاہم دونوں فریق اب تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دے سکے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت زیادہ پیچیدہ معاملات پر مذاکرات بعد کے مرحلے میں کیے جائیں گے۔</p>
<p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے دشمن میدانِ جنگ میں پہلے ہی شکست کھا چکے ہیں اور اب ملک کے اندر انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جنگ کے آغاز پر فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد منصب سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے۔</p>
<p>لبنان میں جنگ بندی کو کسی بھی معاہدے کی شرط قرار دینے کے علاوہ تہران اربوں ڈالر کی تیل آمدن تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں چھوٹ، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق مؤثر کردار کا بھی خواہاں ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعرات کو رکن ممالک کو ایک رپورٹ ارسال کی، جس میں ایران سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک سال قبل اپنی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کرے اور جوہری تنصیبات کے معائنے کا عمل مکمل طور پر بحال کرنے کی اجازت دے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287103</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:27:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0421124509c4769.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0421124509c4769.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور تاجکستان کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے 3 سالہ روڈ میپ پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287100/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے تین سالہ روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق دوشنبے میں تجارت، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی تعاون سے متعلق مشترکہ کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے اختتام پر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری اور تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دلیر شفقیر نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے توانائی، تجارت، صنعت، صحت، ٹرانسپورٹ، زراعت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیا، سیاحت، کھیلوں اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے تجارتی وفود کے تبادلے، کاروباری شخصیات کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں (بی ٹو بی) اور آن لائن کاروباری روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے ٹیرف، ضوابط اور تعاون کے ترجیحی شعبوں سے متعلق معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی اور پاکستان کے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دیے جانے کا خیرمقدم کیا گیا۔ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور دونوں ممالک نے اس کی جلد تکمیل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں حکومتوں نے سرکاری سطح پر خریداری کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان کی ایجنسی برائے ریاستی مادی ذخائر اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان مجوزہ معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے میں دونوں فریقوں نے کاسا-1000 منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے باقی ماندہ کام بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور تاجکستان نے جون 2026 میں استنبول میں ہونے والے کاسا-1000 مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ منصوبے سے متعلق تجارتی اور آپریشنل نوعیت کے باقی ماندہ مسائل حل کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجکستان نے اپنے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے پاکستان کے آئل اینڈ گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تاجک ماہرین کو تکنیکی تعاون اور تربیتی مواقع فراہم کرنے کی بھی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت کے شعبے میں دونوں فریقوں نے زرعی تجارت کے فروغ اور زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی اور موسمی زرعی مصنوعات سے متعلق معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کپاس، گندم، آلو اور سبزیوں سمیت زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام پر تعاون بڑھانے، زرعی تعاون کے لیے روڈ میپ کو حتمی شکل دینے اور نباتاتی و حیوانی صحت (فائٹو سینیٹری اور ویٹرنری) کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں تعلیمی اور سائنسی تعاون پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ تاجکستان نے تاجکستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے درمیان انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنِ تعمیر کے شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے آبی وسائل، پن بجلی، ماحولیات اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اجلاس کے شریک سربراہان نے ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز کی بھی توثیق کی، جبکہ پائیدار سیاحت کے فروغ پر خاص زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران سردار اویس احمد خان لغاری نے تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی اور پاکستانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں کاسا-1000 منصوبے کی بروقت تکمیل، تجارتی اور رابطہ کاری راہداریوں کی ترقی، براہِ راست پروازوں کے آغاز اور ویزا سہولتوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجک وزیراعظم نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ تواتر سے ملاقاتوں کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے تجارت، زراعت، توانائی، سیاحت اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے طریقہ کار تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے تین سالہ روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق دوشنبے میں تجارت، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی تعاون سے متعلق مشترکہ کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے اختتام پر کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری اور تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دلیر شفقیر نے کی۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے توانائی، تجارت، صنعت، صحت، ٹرانسپورٹ، زراعت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیا، سیاحت، کھیلوں اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔</p>
<p>پاکستان نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے تجارتی وفود کے تبادلے، کاروباری شخصیات کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں (بی ٹو بی) اور آن لائن کاروباری روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے ٹیرف، ضوابط اور تعاون کے ترجیحی شعبوں سے متعلق معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>اجلاس میں تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی اور پاکستان کے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دیے جانے کا خیرمقدم کیا گیا۔ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور دونوں ممالک نے اس کی جلد تکمیل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>دونوں حکومتوں نے سرکاری سطح پر خریداری کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان کی ایجنسی برائے ریاستی مادی ذخائر اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان مجوزہ معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>توانائی کے شعبے میں دونوں فریقوں نے کاسا-1000 منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے باقی ماندہ کام بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>پاکستان اور تاجکستان نے جون 2026 میں استنبول میں ہونے والے کاسا-1000 مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ منصوبے سے متعلق تجارتی اور آپریشنل نوعیت کے باقی ماندہ مسائل حل کیے جا سکیں۔</p>
<p>تاجکستان نے اپنے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔</p>
<p>دونوں ممالک نے پاکستان کے آئل اینڈ گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تاجک ماہرین کو تکنیکی تعاون اور تربیتی مواقع فراہم کرنے کی بھی توثیق کی۔</p>
<p>زراعت کے شعبے میں دونوں فریقوں نے زرعی تجارت کے فروغ اور زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی اور موسمی زرعی مصنوعات سے متعلق معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ کپاس، گندم، آلو اور سبزیوں سمیت زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام پر تعاون بڑھانے، زرعی تعاون کے لیے روڈ میپ کو حتمی شکل دینے اور نباتاتی و حیوانی صحت (فائٹو سینیٹری اور ویٹرنری) کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں تعلیمی اور سائنسی تعاون پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ تاجکستان نے تاجکستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے درمیان انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنِ تعمیر کے شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔</p>
<p>دونوں ممالک نے آبی وسائل، پن بجلی، ماحولیات اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>مشترکہ اجلاس کے شریک سربراہان نے ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز کی بھی توثیق کی، جبکہ پائیدار سیاحت کے فروغ پر خاص زور دیا گیا۔</p>
<p>دورے کے دوران سردار اویس احمد خان لغاری نے تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی اور پاکستانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔</p>
<p>ملاقات میں کاسا-1000 منصوبے کی بروقت تکمیل، تجارتی اور رابطہ کاری راہداریوں کی ترقی، براہِ راست پروازوں کے آغاز اور ویزا سہولتوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>تاجک وزیراعظم نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ تواتر سے ملاقاتوں کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>دونوں ممالک نے تجارت، زراعت، توانائی، سیاحت اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے طریقہ کار تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287100</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:05:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/042036562758965.webp" type="image/webp" medium="image" height="1066" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/042036562758965.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 27-2026 : وفاقی حکومت 10 جون کو بجٹ پیش کرے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سرکاری عہدیدار نے  تصدیق کی ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے لیے اپنی مالیاتی ترجیحات اور پالیسی اقدامات کا خاکہ پیش کرنے کے لیے بدھ  10 جون کو مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کی تصدیق مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سبکدوش ہونے والے مالی سال کے دوران ملک کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ فراہم کرنے کے لیے ’اقتصادی سروے 26-2025‘ منگل 9 جون 2026 کو جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کا بجٹ آنے والے مالی سال کے لیے وفاق کی مالیاتی ترجیحات اور پالیسی اقدامات کا تعین کرے گا۔ اس سے قبل رواں ہفتے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے بدھ  3 جون کو شیڈول اپنا اہم اجلاس ملتوی کر دیا تھا، تاکہ آئندہ بجٹ پر مزید مشاورت کی جا سکے۔ این ای سی کا یہ اجلاس اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس آئینی ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ وفاقی بجٹ کی باضابطہ رونمائی سے قبل اہم میکرو اکنامک اہداف کی منظوری دے اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کی توثیق کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سرکاری عہدیدار نے  تصدیق کی ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے لیے اپنی مالیاتی ترجیحات اور پالیسی اقدامات کا خاکہ پیش کرنے کے لیے بدھ  10 جون کو مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرے گی۔</strong></p>
<p>اس بات کی تصدیق مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سبکدوش ہونے والے مالی سال کے دوران ملک کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ فراہم کرنے کے لیے ’اقتصادی سروے 26-2025‘ منگل 9 جون 2026 کو جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ  وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کا بجٹ آنے والے مالی سال کے لیے وفاق کی مالیاتی ترجیحات اور پالیسی اقدامات کا تعین کرے گا۔ اس سے قبل رواں ہفتے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے بدھ  3 جون کو شیڈول اپنا اہم اجلاس ملتوی کر دیا تھا، تاکہ آئندہ بجٹ پر مزید مشاورت کی جا سکے۔ این ای سی کا یہ اجلاس اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس آئینی ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ وفاقی بجٹ کی باضابطہ رونمائی سے قبل اہم میکرو اکنامک اہداف کی منظوری دے اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کی توثیق کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287102</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:29:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041920531b6ed86.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041920531b6ed86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرمبادلہ کے ذخائر 43 ملین ڈالر اضافے کے ساتھ 17.9 ارب ڈالر ہو گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287101/</link>
      <description>&lt;p&gt;مرکزی بینک کی جانب سے  جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیادوں پر 43 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد 29 مئی 2026 تک ان کی مجموعی مالیت 17.19 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 22.636 ارب ڈالر رہی۔ ان مجموعی ذخائر میں سے 17.190 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 5.446 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تازہ ترین اعداد و شمار اس سے پچھلے ہفتے کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر سے موازنہ ظاہر کرتے ہیں جو 22.647 ارب ڈالر تھے، جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 17.147 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ مرکزی بینک نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ  29 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 43 ملین امریکی ڈالر کے اضافے سے 17,190.4 ملین (17.19 ارب) امریکی ڈالر ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مرکزی بینک کی جانب سے  جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیادوں پر 43 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد 29 مئی 2026 تک ان کی مجموعی مالیت 17.19 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 22.636 ارب ڈالر رہی۔ ان مجموعی ذخائر میں سے 17.190 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 5.446 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>یہ تازہ ترین اعداد و شمار اس سے پچھلے ہفتے کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر سے موازنہ ظاہر کرتے ہیں جو 22.647 ارب ڈالر تھے، جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 17.147 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ مرکزی بینک نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ  29 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 43 ملین امریکی ڈالر کے اضافے سے 17,190.4 ملین (17.19 ارب) امریکی ڈالر ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287101</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:17:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0419123402475b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="333" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0419123402475b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نور مقدم کیس: سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو نور مقدم قتل کیس میں اپنا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا اور سزائے موت کو برقرار رکھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے ظاہرجعفر کی ذہنی صحت کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلائل کے آغاز میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ سب سے پہلے تو یہ تسلیم کرتا ہوں کہ مقتولہ نور مقدم کے ساتھ زیادتی ہوئی اور میں متاثرہ کے اہل خانہ سے معافی مانگتا ہوں تاہم میرے دلائل کا محور مجرم کی اس وقت ذہنی حالت تھی جو جائے وقوعہ پر موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ ان کے موکل نے قتل نہیں کیا۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت اور مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے موکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کے دوران جیل میں ملزم کو مسلسل ادویات دی جاتی رہیں، اور ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائپولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا کے لیے ادویات لیتا تھا۔ ان کے مطابق ایسے امراض میں مریض میں جارحانہ رویہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں جس میں بتایا جائے کہ مجرم کا علاج کب سے شروع ہوا، واقعہ کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں: مجرم کو یہ بیماری کب ہوئی، کس ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا؟ ظاہر جعفر کے دوست ضرور ہوں گے، اس کے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی مکمل میڈیکل ہسٹری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب خواجہ حارث نے عدالت میں لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا خط پیش کیا تو جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ یہ خط 2022 کا ہے۔ کیا ملزم واقعے کے بعد خود لندن گیا تھا کہ یہ خط لے آیا؟ آپ کا مؤقف یہ ہے کہ ملزم کو اپنی پسند کا وکیل نہیں ملا، تاہم یہ حیران کن بات ہے کہ اسے اپنی پسند کا وکیل تو نہ مل سکا مگر لندن سے اس کے لیے خط آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجرم کے وکیل نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ مقتولہ کے تو مختلف ٹیسٹ کیے گئے لیکن ملزم کا کوئی ڈرگ ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ استغاثہ نے ملزم کا ڈرگ ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا؟ ان کے مطابق ٹرائل کے دوران میڈیا کوریج اور دباؤ کے باعث یہ ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر یہ تاثر عام تھا کہ ملزم کو منشیات کا عادی ثابت کر کے بچا لیا جائے گا، اور ان کے بقول معذرت کے ساتھ، ٹرائل کے دوران جج بھی میڈیا کے دباؤ میں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت نہ تو اخباری رپورٹنگ کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتی ہے، اور یہ نکتہ ہم چند روز قبل سنی مسیح کیس میں واضح کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب، آپ کے دلائل میں تضاد ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ واقعے کے وقت ملزم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سوشل میڈیا کے بیانیے کی خود توثیق کر رہے ہیں۔ فرض کریں اگر ہم یہ بات تسلیم بھی کر لیں کہ ملزم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اس صورت میں نظرثانی درخواست میں آپ کو آخر مطلوبہ ریلیف کیا چاہیے؟ اگر ڈرگ ٹیسٹ ہو بھی جاتا تو اس سے کیا فرق پڑتا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کے دوران انہوں نے ملزم کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کیس میں بھی سپریم کورٹ میں اسی نوعیت کی متفرق درخواست دائر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے عدالتی فیصلوں کے مطابق نظرثانی میں عدالت میرٹ پر غور کر سکتی ہے، اور سپریم کورٹ نے پہلے بھی ری ٹرائل کا حکم دیا ہے۔ تاہم وہ ری ٹرائل نہیں بلکہ سزا میں نرمی کی استدعا کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق سزائے موت دیتے وقت تمام حقائق کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث صاحب، اگر آپ جیسے وکیل کی خدمات ابتدا میں حاصل کی جاتیں تو ملزم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ہم کافی دیر سے آپ کو سن رہے ہیں، براہِ کرم تحمل کا مظاہرہ کریں؛ آپ تین گھنٹے سے ہمیں غیر ضروری بحث میں الجھائے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی تھی اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ معاملہ اب حتمی ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی اور سزائے موت برقرار رکھی۔ مقتولہ نور مقدم کے والدین کی نمائندگی وکیل شاہ خاور نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی ذہنی صحت کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کے دوران یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ ملزم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا بکرا سمجھتا تھا، اور ان کے مطابق ان کا مؤکل ذہنی مریض ہے جو صحیح طور پر دستخط بھی نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ جج صاحبان بھی صبح اخبارات پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں، اور بعض لوگوں کو بلند آواز میں وی لاگنگ کی عادت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ میڈیکل ہسٹری عموماً بہت طویل ہوتی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ آج باقی تمام مقدمات ملتوی کیے جا رہے ہیں، اور ویسے بھی ہمارے بچے آج یہاں موجود نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران خواجہ حارث نے اخباری رپورٹنگ کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم یہاں خبریں سننے نہیں بیٹھے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کبھی ایک بات کہی جاتی ہے اور رپورٹ کچھ اور ہو جاتی ہے؛ اخبار کی رپورٹ ایک چیز ہے اور وی لاگ میں کچھ اور۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیس کا پس منظر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نور مقدم کا قتل 20 جولائی 2021 کو اس وقت پیش آیا جب مقتولہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں واقع ایک گھر سے برآمد ہوئی۔ اسی روز پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا۔ یہ لرزہ خیز واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا اور ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی، جبکہ زیادتی کے الزام میں اسے 25 سال قیدِ سخت بامشقت کی سزا بھی دی گئی۔ اسی کیس میں گھر میں موجود اس کے دو ملازمین محمد افتخار اور جان محمد کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مقدمے میں ظاہر جعفر کے والدین، معروف کاروباری شخصیات ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو اکتوبر 2021 میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد نامزد کیا گیا، تاہم بعد ازاں عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر دونوں کو بری کر دیا۔ اسی طرح تھراپی ورکس کے چھ ملازمین، جو پولیس سے قبل جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، کو بھی ابتدائی طور پر ملزم نامزد کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے انہیں بھی بری کر دیا۔ استغاثہ کے مطابق والدین اور تھراپی ورکس کے اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر شواہد چھپانے اور جرم کو دبانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید سخت فیصلے میں عدالت نے زیادتی کے جرم میں دی گئی 25 سال قید کو بھی تبدیل کرتے ہوئے سزائے موت میں بدل دیا۔ ملازمین کو سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلیں بھی مسترد کر دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد اگلے ماہ ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی سزا “شواہد کے غلط تجزیے” کا نتیجہ ہے اور ماتحت عدالتیں ایف آئی آر میں موجود “بنیادی خامیوں” کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2026 میں سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی جبکہ زیادتی کے جرم میں دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعرات کو نور مقدم قتل کیس میں اپنا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا اور سزائے موت کو برقرار رکھا۔</strong></p>
<p>عدالت عظمیٰ نے ظاہرجعفر کی ذہنی صحت کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔</p>
<p>جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔</p>
<p>دلائل کے آغاز میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ سب سے پہلے تو یہ تسلیم کرتا ہوں کہ مقتولہ نور مقدم کے ساتھ زیادتی ہوئی اور میں متاثرہ کے اہل خانہ سے معافی مانگتا ہوں تاہم میرے دلائل کا محور مجرم کی اس وقت ذہنی حالت تھی جو جائے وقوعہ پر موجود تھی۔</p>
<p>ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ ان کے موکل نے قتل نہیں کیا۔ ان کے مطابق واقعے کے وقت اور مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے موکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کے دوران جیل میں ملزم کو مسلسل ادویات دی جاتی رہیں، اور ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائپولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا کے لیے ادویات لیتا تھا۔ ان کے مطابق ایسے امراض میں مریض میں جارحانہ رویہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں جس میں بتایا جائے کہ مجرم کا علاج کب سے شروع ہوا، واقعہ کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں: مجرم کو یہ بیماری کب ہوئی، کس ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا؟ ظاہر جعفر کے دوست ضرور ہوں گے، اس کے اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی مکمل میڈیکل ہسٹری ہوگی۔</p>
<p>جب خواجہ حارث نے عدالت میں لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا خط پیش کیا تو جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ یہ خط 2022 کا ہے۔ کیا ملزم واقعے کے بعد خود لندن گیا تھا کہ یہ خط لے آیا؟ آپ کا مؤقف یہ ہے کہ ملزم کو اپنی پسند کا وکیل نہیں ملا، تاہم یہ حیران کن بات ہے کہ اسے اپنی پسند کا وکیل تو نہ مل سکا مگر لندن سے اس کے لیے خط آ گیا۔</p>
<p>مجرم کے وکیل نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ مقتولہ کے تو مختلف ٹیسٹ کیے گئے لیکن ملزم کا کوئی ڈرگ ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ استغاثہ نے ملزم کا ڈرگ ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا؟ ان کے مطابق ٹرائل کے دوران میڈیا کوریج اور دباؤ کے باعث یہ ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر یہ تاثر عام تھا کہ ملزم کو منشیات کا عادی ثابت کر کے بچا لیا جائے گا، اور ان کے بقول معذرت کے ساتھ، ٹرائل کے دوران جج بھی میڈیا کے دباؤ میں رہے۔</p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت نہ تو اخباری رپورٹنگ کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتی ہے، اور یہ نکتہ ہم چند روز قبل سنی مسیح کیس میں واضح کر چکے ہیں۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب، آپ کے دلائل میں تضاد ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ واقعے کے وقت ملزم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سوشل میڈیا کے بیانیے کی خود توثیق کر رہے ہیں۔ فرض کریں اگر ہم یہ بات تسلیم بھی کر لیں کہ ملزم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔</p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اس صورت میں نظرثانی درخواست میں آپ کو آخر مطلوبہ ریلیف کیا چاہیے؟ اگر ڈرگ ٹیسٹ ہو بھی جاتا تو اس سے کیا فرق پڑتا؟</p>
<p>خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کے دوران انہوں نے ملزم کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کیس میں بھی سپریم کورٹ میں اسی نوعیت کی متفرق درخواست دائر کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے عدالتی فیصلوں کے مطابق نظرثانی میں عدالت میرٹ پر غور کر سکتی ہے، اور سپریم کورٹ نے پہلے بھی ری ٹرائل کا حکم دیا ہے۔ تاہم وہ ری ٹرائل نہیں بلکہ سزا میں نرمی کی استدعا کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق سزائے موت دیتے وقت تمام حقائق کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔</p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث صاحب، اگر آپ جیسے وکیل کی خدمات ابتدا میں حاصل کی جاتیں تو ملزم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ہم کافی دیر سے آپ کو سن رہے ہیں، براہِ کرم تحمل کا مظاہرہ کریں؛ آپ تین گھنٹے سے ہمیں غیر ضروری بحث میں الجھائے ہوئے ہیں۔</p>
<p>جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی تھی اور اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، لہٰذا یہ معاملہ اب حتمی ہو چکا ہے۔</p>
<p>عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی اور سزائے موت برقرار رکھی۔ مقتولہ نور مقدم کے والدین کی نمائندگی وکیل شاہ خاور نے کی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی ذہنی صحت کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔</p>
<p>خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کے دوران یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ ملزم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا بکرا سمجھتا تھا، اور ان کے مطابق ان کا مؤکل ذہنی مریض ہے جو صحیح طور پر دستخط بھی نہیں کر سکتا۔</p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ جج صاحبان بھی صبح اخبارات پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں، اور بعض لوگوں کو بلند آواز میں وی لاگنگ کی عادت ہوتی ہے۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ میڈیکل ہسٹری عموماً بہت طویل ہوتی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ آج باقی تمام مقدمات ملتوی کیے جا رہے ہیں، اور ویسے بھی ہمارے بچے آج یہاں موجود نہیں ہیں۔</p>
<p>سماعت کے دوران خواجہ حارث نے اخباری رپورٹنگ کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم یہاں خبریں سننے نہیں بیٹھے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کبھی ایک بات کہی جاتی ہے اور رپورٹ کچھ اور ہو جاتی ہے؛ اخبار کی رپورٹ ایک چیز ہے اور وی لاگ میں کچھ اور۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔</p>
<p><strong>کیس کا پس منظر</strong></p>
<p>نور مقدم کا قتل 20 جولائی 2021 کو اس وقت پیش آیا جب مقتولہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں واقع ایک گھر سے برآمد ہوئی۔ اسی روز پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا۔ یہ لرزہ خیز واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا اور ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔</p>
<p>فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی، جبکہ زیادتی کے الزام میں اسے 25 سال قیدِ سخت بامشقت کی سزا بھی دی گئی۔ اسی کیس میں گھر میں موجود اس کے دو ملازمین محمد افتخار اور جان محمد کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔</p>
<p>اسی مقدمے میں ظاہر جعفر کے والدین، معروف کاروباری شخصیات ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو اکتوبر 2021 میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد نامزد کیا گیا، تاہم بعد ازاں عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر دونوں کو بری کر دیا۔ اسی طرح تھراپی ورکس کے چھ ملازمین، جو پولیس سے قبل جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، کو بھی ابتدائی طور پر ملزم نامزد کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے انہیں بھی بری کر دیا۔ استغاثہ کے مطابق والدین اور تھراپی ورکس کے اہلکاروں پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر شواہد چھپانے اور جرم کو دبانے کی کوشش کی۔</p>
<p>مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قتل کے جرم میں سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید سخت فیصلے میں عدالت نے زیادتی کے جرم میں دی گئی 25 سال قید کو بھی تبدیل کرتے ہوئے سزائے موت میں بدل دیا۔ ملازمین کو سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلیں بھی مسترد کر دی گئیں۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد اگلے ماہ ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی سزا “شواہد کے غلط تجزیے” کا نتیجہ ہے اور ماتحت عدالتیں ایف آئی آر میں موجود “بنیادی خامیوں” کو سمجھنے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>مئی 2026 میں سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی جبکہ زیادتی کے جرم میں دی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287098</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:58:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041824518e1ba57.webp" type="image/webp" medium="image" height="447" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041824518e1ba57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہریوں کو زبردستی سرحد پار بھیجنے کی متعدد بھارتی کوششیں ناکام بنا دیں، بنگلہ دیش کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے  کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کی جانب سے لوگوں کو زبردستی اپنے ملک میں دھکیلنے کی کئی کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔ اس واقعے نے مبینہ غیر قانونی ہجرت پر دیرینہ تنازع کو دوبارہ ہوا دی ہے اور دونوں جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان سرحد دنیا کی طویل ترین زمینی سرحدوں میں سے ایک ہے، جو مختلف نوعیت کے جغرافیائی خطوں پر 4,000 کلومیٹر (2,500 میل) سے زیادہ طویل ہے، جس کی وجہ سے اس کی نگرانی انتہائی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی پی) نے بتایا کہ اس نے سرحد کے مختلف حصوں پر بھارتی حکام کی جانب سے دراندازی کی 10 کوششوں کا پتا لگایا۔ دوسری طرف بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو سرحدی ریاستوں تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام میں برسرِاقتدار ہے کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کو ترجیح دے گی اور گزشتہ سال سے وہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”غیر قانونی درانداز“ قرار دے کر بنگلہ دیش دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ 2024 میں بنگلہ دیش کی بھارت نواز طویل المیعاد رہنما شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بی جی بی نے ایک بیان میں کہا کہ  کسی بھی فرد یا گروپ کو سرحد کے ذریعے بنگلہ دیش میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی بارڈر مینجمنٹ کے اصولوں اور دوطرفہ مفاہمت کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کی ”سختی سے مزاحمت“ کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں نے گزشتہ ماہ ان خدشات کے پیشِ نظر سرحد کے بعض حصوں پر گشت تیز کر دیا تھا اور عوامی آگاہی مہم شروع کی تھی کہ بھارت غیر قانونی طور پر لوگوں کو بنگلہ دیش میں دھکیل رہا ہے۔ حکام حقوقِ انسانی کے گروپوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق ان ”پش انز“ کے تحت تصدیق اور وطن واپسی کے باقاعدہ طریقہ کار کے بغیر ہی لوگوں کو غیر رسمی طور پر بنگلہ دیش منتقل کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے مئی میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس نے بنگلہ دیش سے بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم 2,860 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشیوں کی شہریت کی تصدیق کرنے کا کہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز جنوب مغربی سرحدی ضلع جھینایدہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں بی جی بی نے الزام لگایا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بارڈر گیٹ کھول کر ایک قیدیوں کی وین میں 30 سے 35 افراد کو بنگلہ دیشی علاقے کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی۔ بی جی بی کے مطابق انہوں نے بھارتی گاڑی کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ڈھاکہ نے بارہا کہا ہے کہ بنگلہ دیشی شہری کے طور پر شناخت ہونے والے کسی بھی شخص کو سرحد پار دھکیلنے کے بجائے باقاعدہ قانونی اور سفارتی ذرائع سے واپس بھیجا جانا چاہیے۔ ڈھاکہ کے سرکاری حکام نے بتایا کہ اس مسئلے پر 8 سے 11 جون تک نئی دہلی میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے ڈائریکٹر جنرل کی سطح کے مذاکرات میں بات چیت متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے  کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کی جانب سے لوگوں کو زبردستی اپنے ملک میں دھکیلنے کی کئی کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔ اس واقعے نے مبینہ غیر قانونی ہجرت پر دیرینہ تنازع کو دوبارہ ہوا دی ہے اور دونوں جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔</strong></p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان سرحد دنیا کی طویل ترین زمینی سرحدوں میں سے ایک ہے، جو مختلف نوعیت کے جغرافیائی خطوں پر 4,000 کلومیٹر (2,500 میل) سے زیادہ طویل ہے، جس کی وجہ سے اس کی نگرانی انتہائی مشکل ہے۔</p>
<p>بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی پی) نے بتایا کہ اس نے سرحد کے مختلف حصوں پر بھارتی حکام کی جانب سے دراندازی کی 10 کوششوں کا پتا لگایا۔ دوسری طرف بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو سرحدی ریاستوں تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام میں برسرِاقتدار ہے کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کو ترجیح دے گی اور گزشتہ سال سے وہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”غیر قانونی درانداز“ قرار دے کر بنگلہ دیش دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ 2024 میں بنگلہ دیش کی بھارت نواز طویل المیعاد رہنما شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بی جی بی نے ایک بیان میں کہا کہ  کسی بھی فرد یا گروپ کو سرحد کے ذریعے بنگلہ دیش میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی بارڈر مینجمنٹ کے اصولوں اور دوطرفہ مفاہمت کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کی ”سختی سے مزاحمت“ کی جائے گی۔</p>
<p>بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں نے گزشتہ ماہ ان خدشات کے پیشِ نظر سرحد کے بعض حصوں پر گشت تیز کر دیا تھا اور عوامی آگاہی مہم شروع کی تھی کہ بھارت غیر قانونی طور پر لوگوں کو بنگلہ دیش میں دھکیل رہا ہے۔ حکام حقوقِ انسانی کے گروپوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق ان ”پش انز“ کے تحت تصدیق اور وطن واپسی کے باقاعدہ طریقہ کار کے بغیر ہی لوگوں کو غیر رسمی طور پر بنگلہ دیش منتقل کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے مئی میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس نے بنگلہ دیش سے بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم 2,860 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشیوں کی شہریت کی تصدیق کرنے کا کہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز جنوب مغربی سرحدی ضلع جھینایدہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں بی جی بی نے الزام لگایا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بارڈر گیٹ کھول کر ایک قیدیوں کی وین میں 30 سے 35 افراد کو بنگلہ دیشی علاقے کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی۔ بی جی بی کے مطابق انہوں نے بھارتی گاڑی کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ڈھاکہ نے بارہا کہا ہے کہ بنگلہ دیشی شہری کے طور پر شناخت ہونے والے کسی بھی شخص کو سرحد پار دھکیلنے کے بجائے باقاعدہ قانونی اور سفارتی ذرائع سے واپس بھیجا جانا چاہیے۔ ڈھاکہ کے سرکاری حکام نے بتایا کہ اس مسئلے پر 8 سے 11 جون تک نئی دہلی میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے ڈائریکٹر جنرل کی سطح کے مذاکرات میں بات چیت متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287099</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:44:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04183420de722c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04183420de722c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا ایران جنگ ختم کرنے کی امریکی ایوان کی قرارداد پر شدید ردعمل، ووٹ کو غیر محبِ وطن قرار دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287097/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ سے امریکی افواج کی واپسی کی قرارداد کی منظوری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک  غیر محبِ وطن قدم قرار دیا ہے جس سے تہران کے ساتھ مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ علامتی قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور ہوئی، جس میں 4 ریپبلکن اراکین نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ اب یہ سینیٹ کو بھیجی جائے گی جہاں ٹرمپ کی جانب سے اسے ویٹو کیے جانے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی اجازت کے بغیر فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کیے، جو آئین اور وار پاورز ایکٹ کے تحت 60 دن کی مہلت گزرنے کے بعد غیر قانونی بن چکے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا کہ یہ ووٹ ان کے حتمی مذاکرات کے عین درمیان میں لایا گیا ہے اور ڈیموکریٹس ملک کی کامیابی پر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے منحرف ریپبلکنز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ سے امریکی افواج کی واپسی کی قرارداد کی منظوری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک  غیر محبِ وطن قدم قرار دیا ہے جس سے تہران کے ساتھ مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ علامتی قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور ہوئی، جس میں 4 ریپبلکن اراکین نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ اب یہ سینیٹ کو بھیجی جائے گی جہاں ٹرمپ کی جانب سے اسے ویٹو کیے جانے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی اجازت کے بغیر فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کیے، جو آئین اور وار پاورز ایکٹ کے تحت 60 دن کی مہلت گزرنے کے بعد غیر قانونی بن چکے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا کہ یہ ووٹ ان کے حتمی مذاکرات کے عین درمیان میں لایا گیا ہے اور ڈیموکریٹس ملک کی کامیابی پر اپنی سیاست چمکانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے منحرف ریپبلکنز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287097</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:17:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04181234de9cb7b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04181234de9cb7b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی بحران کے دوران بھارت وینزویلا کے ساتھ تجارتی ہم آہنگی بڑھانے کا خواہاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت اور وینزویلا نے جمعرات کو توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ نئی دہلی نے کہا ہے کہ کاراکس اسے اس شعبے میں ایک ترجیحی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز   ایک بڑے وزارتی وفد کے ہمراہ بھارت کے دورے پر ہیں اور انہوں نے جمعرات کو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی  سے بات چیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ میں سیکرٹری (مشرق) رودرندر ٹنڈن نے مذاکرات کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا مرکز توانائی کے اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم منصوبوں میں تعاون رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا: ”ہم ایک ایسی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو دوستانہ ہے اور بھارت کے ساتھ شراکت داری چاہتی ہے۔ ہم بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہتے ہیں۔ وینزویلا روایتی طور پر ہمارا قریبی دوست رہا ہے۔ ہم نے بین الاقوامی سطح پر بہت قریبی تعاون کیا ہے، اس لیے ہم دراصل تعلقات کو معمول پر لا رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا توانائی کے شعبے میں بھارت کو ایک ”ترجیحی شراکت دار“ کے طور پر دیکھتا ہے، اور ڈیلسی روڈریگز اپنے دورے کے دوران بھارت میں تیل صاف کرنے کی تنصیبات کا بھی دورہ کریں گی، جو 7 جون کو مکمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں بھارتی توانائی شعبے کے اعلیٰ رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گی، &lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt; نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بھارت-وینزویلا-کے-تیل-کا-اہم-خریدار" href="#بھارت-وینزویلا-کے-تیل-کا-اہم-خریدار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارت وینزویلا کے تیل کا اہم خریدار&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بھارت مئی میں وینزویلا کے تیل کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا، جس نے روزانہ 427,000 بیرل کی خریداری کی، اور اس فہرست میں وہ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، رائٹرز کے مطابق۔ بھارت کی ریلائنس انڈسٹریز حالیہ مہینوں میں وینزویلا کے خام تیل کے تین بڑے خریداروں میں شامل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےپلر ڈیٹا (Kpler data) کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا مئی میں بھارت کو تیل فراہم کرنے والا چوتھا بڑا ملک بننے کے راستے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روڈریگز کے دورے کا وقت اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والا ملک ہے، سپلائی میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا ہے—یہ وہ اہم بحری راستہ ہے جس سے جنوبی ایشیا کی 40 فیصد سے زائد خام تیل کی درآمدات گزرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے گزشتہ سال وینزویلا سے تیل کی خریداری روک دی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد صوابدیدی ٹیرف کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں فروری میں پابندیوں میں نرمی کے بعد، واشنگٹن اور کراکس کے درمیان ایک اہم تیل معاہدے کے تحت خریداری دوبارہ شروع کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت، جو جنوری میں امریکی حکام کے ہاتھوں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد طے پایا، واشنگٹن کو وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن پر بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کنٹرول حاصل ہے، جن کی نگرانی امریکی محکمہ خزانہ کرتا ہے، جبکہ تجارتی شرائط بھی اسی کی رہنمائی میں طے پاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت اور وینزویلا نے جمعرات کو توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ نئی دہلی نے کہا ہے کہ کاراکس اسے اس شعبے میں ایک ترجیحی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز   ایک بڑے وزارتی وفد کے ہمراہ بھارت کے دورے پر ہیں اور انہوں نے جمعرات کو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی  سے بات چیت کی ہے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ میں سیکرٹری (مشرق) رودرندر ٹنڈن نے مذاکرات کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا مرکز توانائی کے اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم منصوبوں میں تعاون رہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا: ”ہم ایک ایسی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو دوستانہ ہے اور بھارت کے ساتھ شراکت داری چاہتی ہے۔ ہم بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہتے ہیں۔ وینزویلا روایتی طور پر ہمارا قریبی دوست رہا ہے۔ ہم نے بین الاقوامی سطح پر بہت قریبی تعاون کیا ہے، اس لیے ہم دراصل تعلقات کو معمول پر لا رہے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا توانائی کے شعبے میں بھارت کو ایک ”ترجیحی شراکت دار“ کے طور پر دیکھتا ہے، اور ڈیلسی روڈریگز اپنے دورے کے دوران بھارت میں تیل صاف کرنے کی تنصیبات کا بھی دورہ کریں گی، جو 7 جون کو مکمل ہوگا۔</p>
<p>وہ مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں بھارتی توانائی شعبے کے اعلیٰ رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گی، <strong>رائٹرز</strong> نے رپورٹ کیا۔</p>
<h3><a id="بھارت-وینزویلا-کے-تیل-کا-اہم-خریدار" href="#بھارت-وینزویلا-کے-تیل-کا-اہم-خریدار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارت وینزویلا کے تیل کا اہم خریدار</h3>
<p>بھارت مئی میں وینزویلا کے تیل کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا، جس نے روزانہ 427,000 بیرل کی خریداری کی، اور اس فہرست میں وہ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، رائٹرز کے مطابق۔ بھارت کی ریلائنس انڈسٹریز حالیہ مہینوں میں وینزویلا کے خام تیل کے تین بڑے خریداروں میں شامل ہو گئی ہے۔</p>
<p>کےپلر ڈیٹا (Kpler data) کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا مئی میں بھارت کو تیل فراہم کرنے والا چوتھا بڑا ملک بننے کے راستے پر ہے۔</p>
<p>روڈریگز کے دورے کا وقت اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والا ملک ہے، سپلائی میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا ہے—یہ وہ اہم بحری راستہ ہے جس سے جنوبی ایشیا کی 40 فیصد سے زائد خام تیل کی درآمدات گزرتی ہیں۔</p>
<p>بھارت نے گزشتہ سال وینزویلا سے تیل کی خریداری روک دی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد صوابدیدی ٹیرف کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں فروری میں پابندیوں میں نرمی کے بعد، واشنگٹن اور کراکس کے درمیان ایک اہم تیل معاہدے کے تحت خریداری دوبارہ شروع کر دی گئی۔</p>
<p>معاہدے کے تحت، جو جنوری میں امریکی حکام کے ہاتھوں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد طے پایا، واشنگٹن کو وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن پر بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کنٹرول حاصل ہے، جن کی نگرانی امریکی محکمہ خزانہ کرتا ہے، جبکہ تجارتی شرائط بھی اسی کی رہنمائی میں طے پاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287095</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04172817aef097f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04172817aef097f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میدانِ جنگ میں دشمن کی شکست کے بعد ایران کے سپریم لیڈر کی تفریق اور انتشار کے خلاف وارننگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے دشمن میدانِ جنگ میں شکست کھانے کے بعد اب عوام کے عزم کو کمزور کرنے اور اندرونی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای نے ان خطرات کے پیشِ نظر قومی اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو عوام میں مایوسی یا ناامیدی پیدا کرے، دشمن کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیغام اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کی برسی اور ایک بڑے شیعہ مذہبی تہوار کے سلسلے میں منعقدہ تقاریب کے دوران ان کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے دشمن میدانِ جنگ میں شکست کھانے کے بعد اب عوام کے عزم کو کمزور کرنے اور اندرونی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای نے ان خطرات کے پیشِ نظر قومی اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو عوام میں مایوسی یا ناامیدی پیدا کرے، دشمن کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p>یہ پیغام اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کی برسی اور ایک بڑے شیعہ مذہبی تہوار کے سلسلے میں منعقدہ تقاریب کے دوران ان کی جانب سے پڑھ کر سنایا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287096</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:40:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04173528b687aaa.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04173528b687aaa.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے خصوصی گاڑیوں اور مشینری پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287094/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے خصوصی گاڑیوں اور مشینری پر عائد کسٹمز ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خام مال، خصوصاً کینسر کی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی معیشت کی مجموعی صورتحال اور قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد کے جائزہ اجلاس میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کی فعال اور شفاف کارکردگی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ این ٹی سی کو سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی سہولت کاری میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا کہ دنیا میں رائج بہترین عالمی طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کو اپناتے ہوئے این ٹی سی کے نظام میں جدت لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ میں بتایا گیا کہ قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت مختلف شعبوں کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی، جس کا مقصد برآمدات پر مبنی اقتصادی نمو کے اہداف حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاجسٹکس شعبے کی ترقی اور فروغ کے لیے ریفرز (ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ یونٹس)، کنٹینرز اور سیمی ٹریلرز پر عائد ڈیوٹیز بھی ختم کر دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے تعمیراتی شعبے کے فروغ کے لیے خصوصی گاڑیوں اور مشینری پر عائد کسٹمز ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خام مال، خصوصاً کینسر کی ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔</p>
<p>یہ پیش رفت بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی معیشت کی مجموعی صورتحال اور قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد کے جائزہ اجلاس میں سامنے آئی۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے اہداف کا حصول حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک میں صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کی فعال اور شفاف کارکردگی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ این ٹی سی کو سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کی سہولت کاری میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ دنیا میں رائج بہترین عالمی طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کو اپناتے ہوئے این ٹی سی کے نظام میں جدت لائی جائے۔</p>
<p>اجلاس کو قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>بریفنگ میں بتایا گیا کہ قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت مختلف شعبوں کے لیے ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی، جس کا مقصد برآمدات پر مبنی اقتصادی نمو کے اہداف حاصل کرنا ہے۔</p>
<p>لاجسٹکس شعبے کی ترقی اور فروغ کے لیے ریفرز (ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ یونٹس)، کنٹینرز اور سیمی ٹریلرز پر عائد ڈیوٹیز بھی ختم کر دی جائیں گی۔</p>
<p>اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287094</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:10:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041702016a0a41e.webp" type="image/webp" medium="image" height="852" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041702016a0a41e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹرز کا فائنل ٹیکس رجیم فوری بحال کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287093/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز نے کہا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کی تجاویز اور مطالبات اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ خزانہ اور وزیراعظم  کے سامنے پیش کردیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان  کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو دوبارہ بحال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم میں منتقل کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ایکسپورٹ سیکٹرکو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے انہیں دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم  میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل موئز نے مزید کہا کہ دوسرا اہم مطالبہ سپر ٹیکس کا فوری خاتمہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں حکومت ایسا ٹیکس نظام متعارف کرائے جو صنعتکاروں اور تاجروں کے لیے سازگار ہو تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاجر اور صنعتکار ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز نے کہا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کی تجاویز اور مطالبات اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ خزانہ اور وزیراعظم  کے سامنے پیش کردیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان  کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو دوبارہ بحال کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) کو فائنل ٹیکس رجیم سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم میں منتقل کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ایکسپورٹ سیکٹرکو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے انہیں دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم  میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>فیصل موئز نے مزید کہا کہ دوسرا اہم مطالبہ سپر ٹیکس کا فوری خاتمہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں حکومت ایسا ٹیکس نظام متعارف کرائے جو صنعتکاروں اور تاجروں کے لیے سازگار ہو تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاجر اور صنعتکار ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔</p>
<p>اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287093</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:36:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041632235e290e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041632235e290e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز برقرار رکھتا ہے، دفترِ خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287092/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے واضح طور پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیوٹی) کے تحت اپنے حقوق  کے تحفظ اور  اہم قومی مفادات کی پاسداری کے لیے تمام ضروری آپشنز برقرار رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس میں منتقل کرنے کے منصوبے کے لیے ٹینڈر (بولیوں) کی دعوت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑ کر دریائے بیاس کے نظام میں شامل کرنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاہدوں کے قوانین خصوصاً ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین بشمول 1997 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے اصولوں کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع سلال ڈیم کے ریزروائر سے مٹی کی صفائی (سلٹ فلشنگ) کے مج مجوزہ منصوبے کو بھی شدید تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سے پانی پر کنٹرول کی ایسی صلاحیت حاصل ہو جائے گی جس کی اجازت نہ تو سندھ طاس معاہدے میں ہے اور نہ ہی 1978 کے سلال معاہدے میں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے ان منصوبوں کے بارے میں نہ تو باضابطہ طور پر کوئی رابطہ کیا ہے نہ کوئی نوٹس شیئر کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی مشاورت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کے خطرناک اثرات نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے 25 کروڑ عوام کی بقا اور بہبود کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی غیر قانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے جس کے پورے خطے کے عوام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت سے کہیں کہ وہ پانی کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہے، ایسے منصوبوں کو ترک کرے جن کا مقصد پاکستان کے قانونی پانی کو روکنا، کم کرنا یا اس کا رخ موڑنا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کو بحال کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئس سفیر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا دورہ جموں و کشمیر کی اس حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا، جس کا حل ایک آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ابراہم ایکارڈز پر پاکستان کا موقف مستقل ہے۔ ہمارا معیار 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار اور جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور اس سلسلے میں ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان پر کہ آنے والے ویک اینڈ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، ترجمان نے اسے ایک مثبت جذبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی دوبارہ ميزبانی کے لیے تیار ہے اور وہ چاہے گا کہ یہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے واضح طور پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیوٹی) کے تحت اپنے حقوق  کے تحفظ اور  اہم قومی مفادات کی پاسداری کے لیے تمام ضروری آپشنز برقرار رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس میں منتقل کرنے کے منصوبے کے لیے ٹینڈر (بولیوں) کی دعوت سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑ کر دریائے بیاس کے نظام میں شامل کرنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاہدوں کے قوانین خصوصاً ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین بشمول 1997 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن کے اصولوں کو بھی نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع سلال ڈیم کے ریزروائر سے مٹی کی صفائی (سلٹ فلشنگ) کے مج مجوزہ منصوبے کو بھی شدید تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سے پانی پر کنٹرول کی ایسی صلاحیت حاصل ہو جائے گی جس کی اجازت نہ تو سندھ طاس معاہدے میں ہے اور نہ ہی 1978 کے سلال معاہدے میں دی گئی۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے ان منصوبوں کے بارے میں نہ تو باضابطہ طور پر کوئی رابطہ کیا ہے نہ کوئی نوٹس شیئر کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی مشاورت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کے خطرناک اثرات نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے 25 کروڑ عوام کی بقا اور بہبود کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی غیر قانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام کا شکار کریں گے جس کے پورے خطے کے عوام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت سے کہیں کہ وہ پانی کو دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہے، ایسے منصوبوں کو ترک کرے جن کا مقصد پاکستان کے قانونی پانی کو روکنا، کم کرنا یا اس کا رخ موڑنا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کو بحال کرے۔</p>
<p>سوئس سفیر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا دورہ جموں و کشمیر کی اس حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا، جس کا حل ایک آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
<p>ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ابراہم ایکارڈز پر پاکستان کا موقف مستقل ہے۔ ہمارا معیار 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار اور جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور اس سلسلے میں ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تازہ بیان پر کہ آنے والے ویک اینڈ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، ترجمان نے اسے ایک مثبت جذبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی دوبارہ ميزبانی کے لیے تیار ہے اور وہ چاہے گا کہ یہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287092</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:22:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041613552e28ec7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041613552e28ec7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹر بینک مارکیٹ: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید تگڑا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287091/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے  کی بہتری کے ساتھ 278.42 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 278.45 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1604 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی ٹریڈ 1.3424 ڈالر پر ہوئی اور ایشیائی مارکیٹ کے دوران اب تک دونوں کرنسیوں کے نرخ مجموعی طور پر بغیر کسی بڑی تبدیلی کے برقرار (فلیٹ) رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے والا آسٹریلوی ڈالر 0.7132 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے سنبھلتے ہوئے 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5872 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.47 پر رہا۔ اس سے پچھلے کاروباری سیشن کے دوران ڈالر انڈیکس 7 اپریل کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی بی سی بینک کے فاریکس اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کا کہنا ہے کہ جیو پولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں اور عالمی بانڈ ییلڈز  میں دوبارہ اضافے کے باعث ایسا لگتا ہے کہ ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت ایک بار پھر مضبوط ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ڈالر میں کسی بڑی مندی  کے ٹھوس آثار نظر نہیں آتے اور ان کا بینک فی الحال اس معاملے پر غیر جانبدار مؤقف برقرار رکھتے ہوئے ڈالر کی قدر کو مضبوط لیکن ایک مخصوص حد کے اندر اتار چڑھاؤ کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے  کی بہتری کے ساتھ 278.42 پر بند ہوئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 278.45 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب جمعرات کو امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب اپنی حالیہ مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>یورو 1.1604 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ کی ٹریڈ 1.3424 ڈالر پر ہوئی اور ایشیائی مارکیٹ کے دوران اب تک دونوں کرنسیوں کے نرخ مجموعی طور پر بغیر کسی بڑی تبدیلی کے برقرار (فلیٹ) رہے۔</p>
<p>دوسری جانب مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے والا آسٹریلوی ڈالر 0.7132 ڈالر پر برقرار رہا جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر ایک ہفتے کی کم ترین سطح سے سنبھلتے ہوئے 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 0.5872 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 99.47 پر رہا۔ اس سے پچھلے کاروباری سیشن کے دوران ڈالر انڈیکس 7 اپریل کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔</p>
<p>او سی بی سی بینک کے فاریکس اسٹریٹجسٹ سم موہ سیونگ کا کہنا ہے کہ جیو پولیٹیکل تناؤ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں اور عالمی بانڈ ییلڈز  میں دوبارہ اضافے کے باعث ایسا لگتا ہے کہ ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت ایک بار پھر مضبوط ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ڈالر میں کسی بڑی مندی  کے ٹھوس آثار نظر نہیں آتے اور ان کا بینک فی الحال اس معاملے پر غیر جانبدار مؤقف برقرار رکھتے ہوئے ڈالر کی قدر کو مضبوط لیکن ایک مخصوص حد کے اندر اتار چڑھاؤ کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287091</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:20:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04161622a3ff612.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04161622a3ff612.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب کینیڈا گیٹ وے ایکسپو 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287090/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ ٹریڈ ڈیولپرز انکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رانا محمد تنویر نے وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں کینیڈا گیٹ وے ایکسپو اور لائف اسٹائل ایکسپو بزنس اینڈ انوسٹرز کانفرنس 2026 میں پنجاب کی شرکت اور پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں اطراف سے پاکستان اور کینیڈا کے مابین دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بزنس ٹو بزنس  روابط بڑھانے اور اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے مواقع پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ ٹریڈ ڈیولپرز انکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رانا محمد تنویر نے وزیر صنعت و تجارت پنجاب چوہدری شافع حسین سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔</strong></p>
<p>ملاقات میں کینیڈا گیٹ وے ایکسپو اور لائف اسٹائل ایکسپو بزنس اینڈ انوسٹرز کانفرنس 2026 میں پنجاب کی شرکت اور پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں اطراف سے پاکستان اور کینیڈا کے مابین دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بزنس ٹو بزنس  روابط بڑھانے اور اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے مواقع پر بھی غور کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287090</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:12:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041607166606b94.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041607166606b94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وناسپتی مینوفیکچررز کا ایف بی آر سے گھی اور آئل انڈسٹری کے ریفنڈز فوری ادا کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گھی اور خوردنی تیل کی صنعت کے طویل عرصے سے رکے  اربوں روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر نے اس شعبے کیلئے شدید مالی اور لیکویڈٹی  کا بحران پیدا کردیا ہے جس کے باعث مینوفیکچررز کیلئے روزمرہ کے کاروباری امورچلانا اور ضروری خام مال کی درآمدات کو برقرار رکھنا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8-B  کے تحت گھی اور آئل انڈسٹری کے واجب الادا اربوں روپے کے ریفنڈز ابھی تک ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادائیگیاں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں اور حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے مینوفیکچررز  پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ریفنڈز خود اس انڈسٹری کا اپنا پیسہ ہیں جو پہلے ہی ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کے پاس جمع کرایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ عمر ریحان کے مطابق حکومت کو صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور معیشت کا پہیہ چلتا رکھنے کے لیے ان فندز کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیوسے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گھی اور خوردنی تیل کی صنعت کے طویل عرصے سے رکے  اربوں روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر نے اس شعبے کیلئے شدید مالی اور لیکویڈٹی  کا بحران پیدا کردیا ہے جس کے باعث مینوفیکچررز کیلئے روزمرہ کے کاروباری امورچلانا اور ضروری خام مال کی درآمدات کو برقرار رکھنا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 8-B  کے تحت گھی اور آئل انڈسٹری کے واجب الادا اربوں روپے کے ریفنڈز ابھی تک ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ہیں ۔</p>
<p>یہ ادائیگیاں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں اور حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ سے مینوفیکچررز  پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ریفنڈز خود اس انڈسٹری کا اپنا پیسہ ہیں جو پہلے ہی ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کے پاس جمع کرایا جا چکا ہے۔</p>
<p>شیخ عمر ریحان کے مطابق حکومت کو صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور معیشت کا پہیہ چلتا رکھنے کے لیے ان فندز کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287089</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:03:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04160024fcfbaa1.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04160024fcfbaa1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پام آئل مارکیٹ پر دباؤ، حریف خوردنی تیلوں اور خام تیل کی قیمتیں گرنے سے مندی کا رجحان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287088/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل  کی قیمتوں میں گزشتہ سیشن میں اضافے کے بعد کمی واقع ہوئی کیونکہ کمزور برآمدی طلب اور سویا آئل اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں اگست کی ترسیل کے لیے پام آئل کا بینچ مارک معاہدہ دوپہر کے وقفے تک 36 رنگٹ یا 0.77 فیصد کمی کے ساتھ 4,641 رنگٹ (1,156.49 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوالالمپور میں قائم تجارتی فرم آئس برگ ایکس ایس ڈی این بی ایچ ڈی کے پروپرائٹری ٹریڈر ڈیوڈ اینگ کا کہنا ہے کہ ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران سویا بین کے تیل اور خام تیل کی قیمتوں میں مندی کے باعث مارکیٹ نیچے آئی جبکہ حال ہی میں کروڈ پام آئل کی طلب میں آنے والی کمی نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلیان کا سب سے زیادہ فعال سویا آئل معاہدہ 0.65 فیصد گرگیا جبکہ پام آئل کا معاہدہ 1.19 فیصد کمی کا شکار ہوا۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ پر سویا آئل کی قیمتوں میں بھی 0.36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پام آئل عالمی مارکیٹ میں دوسرے حریف خوردنی تیلوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی سبزیوں کے تیل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ دوسری جانب کارگو سرویئرز کے تخمینے کے مطابق، مئی  میں ملائیشین پام آئل کی مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 8.8 فیصد سے 15.5 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل  کی قیمتوں میں گزشتہ سیشن میں اضافے کے بعد کمی واقع ہوئی کیونکہ کمزور برآمدی طلب اور سویا آئل اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔</strong></p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں اگست کی ترسیل کے لیے پام آئل کا بینچ مارک معاہدہ دوپہر کے وقفے تک 36 رنگٹ یا 0.77 فیصد کمی کے ساتھ 4,641 رنگٹ (1,156.49 امریکی ڈالر) فی میٹرک ٹن پر آ گیا۔</p>
<p>کوالالمپور میں قائم تجارتی فرم آئس برگ ایکس ایس ڈی این بی ایچ ڈی کے پروپرائٹری ٹریڈر ڈیوڈ اینگ کا کہنا ہے کہ ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران سویا بین کے تیل اور خام تیل کی قیمتوں میں مندی کے باعث مارکیٹ نیچے آئی جبکہ حال ہی میں کروڈ پام آئل کی طلب میں آنے والی کمی نے بھی مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔</p>
<p>ڈیلیان کا سب سے زیادہ فعال سویا آئل معاہدہ 0.65 فیصد گرگیا جبکہ پام آئل کا معاہدہ 1.19 فیصد کمی کا شکار ہوا۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ پر سویا آئل کی قیمتوں میں بھی 0.36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>پام آئل عالمی مارکیٹ میں دوسرے حریف خوردنی تیلوں کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتا ہے کیونکہ یہ عالمی سبزیوں کے تیل کی مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ دوسری جانب کارگو سرویئرز کے تخمینے کے مطابق، مئی  میں ملائیشین پام آئل کی مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 8.8 فیصد سے 15.5 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287088</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:48:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041544361863c8b.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041544361863c8b.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل بینک اور چارٹر فار کمپیشن پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287085/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے پروگرام این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کے تحت چارٹر فار کمپیشن پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعاون کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پیشہ ورانہ ویلنَس سپورٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام مشاورت اور معاونتی خدمات کے ذریعے ذہنی صحت کے شعبے میں آگاہی اور بہتری کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شراکت داری کے تحت ملازمین کیلئے ملک گیر سطح پر ورچوئل آگاہی سیشنز کا اہتمام کیا جائے گا جن میں اسٹریس مینجمنٹ، جذباتی مضبوطی، ذہنی صحت، اضطراب کا موثر انتظام، صحت مند حدود اور پائیدار خود نگہداشت جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائیگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو چارٹر فار کمپیشن پاکستان سے وابستہ مستند ذہنی صحت کے ماہرین کے ذریعے خفیہ ٹیلی کونسلنگ کے ساتھ فزیکل مشاورتی خدمات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں دونوں اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جنہوں نے جذباتی فلاح و بہبود کے فروغ، صحت مند ورک پلیس کلچر اور زیادہ معاون کام کے ماحول کی تشکیل کے مشترکہ عزم کی تصدیق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، ذہنی توازن اور معاون نظاموں تک رسائی کو فروغ دینا ہے تاکہ صحت مند، متوازن اور مضبوط افرادی قوت تشکیل دی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کے پروگرام این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کے تحت چارٹر فار کمپیشن پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کردیے ہیں۔</strong></p>
<p>اس تعاون کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو پیشہ ورانہ ویلنَس سپورٹ تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام مشاورت اور معاونتی خدمات کے ذریعے ذہنی صحت کے شعبے میں آگاہی اور بہتری کو فروغ دے گا۔</p>
<p>اس شراکت داری کے تحت ملازمین کیلئے ملک گیر سطح پر ورچوئل آگاہی سیشنز کا اہتمام کیا جائے گا جن میں اسٹریس مینجمنٹ، جذباتی مضبوطی، ذہنی صحت، اضطراب کا موثر انتظام، صحت مند حدود اور پائیدار خود نگہداشت جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائیگا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو چارٹر فار کمپیشن پاکستان سے وابستہ مستند ذہنی صحت کے ماہرین کے ذریعے خفیہ ٹیلی کونسلنگ کے ساتھ فزیکل مشاورتی خدمات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں دونوں اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جنہوں نے جذباتی فلاح و بہبود کے فروغ، صحت مند ورک پلیس کلچر اور زیادہ معاون کام کے ماحول کی تشکیل کے مشترکہ عزم کی تصدیق ہے۔</p>
<p>این بی پی ویلنَس فرسٹ 2.0 کا مقصد ملازمین میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، ذہنی توازن اور معاون نظاموں تک رسائی کو فروغ دینا ہے تاکہ صحت مند، متوازن اور مضبوط افرادی قوت تشکیل دی جاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287085</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:40:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0414215865ed8c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0414215865ed8c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایورسٹ پر چھ روز لاپتا رہنے والا نیپالی کوہ پیما زندہ مل گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپال کے ایک تجربہ کار کوہ پیما گائیڈ، جو ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز سے لاپتا تھے اور جنہیں مردہ سمجھ لیا گیا تھا، معجزانہ طور پر زندہ مل گئے۔ حکام کے مطابق وہ شدید برفانی حالات میں اکیلے رینگتے ہوئے تقریباً بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچاس سال سے زائد عمر کے دوا شیرپا، جو اپنی غیر معمولی مہارت کے باعث مشہور کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے نام پر ہلیری کہلاتے ہیں، 30 مئی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بالائی حصوں میں لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں، تاہم کئی روز تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی صبح ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (ایس پی سی سی) کی ایک ٹیم نے انہیں ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب انتہائی کمزور حالت میں رینگتے ہوئے پایا۔ بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں پر معمولی فراسٹ بائٹ کے آثار ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی اہلیہ دمو شیرپا نے بتایا کہ خاندان نے ان کی زندگی سے امید چھوڑ دی تھی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے آخری مذہبی رسومات بھی شروع کر دی تھیں، لیکن زندہ ملنے کی خبر نے سب کو بے حد خوشی میں مبتلا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی کوہ پیما کرس تھرال، جنہوں نے دوا شیرپا کے ساتھ چوٹی سر کی تھی، نے بتایا کہ خراب موسم اور انتہائی دشوار حالات کے باعث واپسی کا سفر معمول سے کہیں زیادہ طویل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دوا شیرپا سینکڑوں بار ایسی مہمات مکمل کر چکے تھے، اسی لیے انہیں یقین تھا کہ وہ خود راستہ بنا لیں گے، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپال کے ایک تجربہ کار کوہ پیما گائیڈ، جو ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز سے لاپتا تھے اور جنہیں مردہ سمجھ لیا گیا تھا، معجزانہ طور پر زندہ مل گئے۔ حکام کے مطابق وہ شدید برفانی حالات میں اکیلے رینگتے ہوئے تقریباً بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔</strong></p>
<p>پچاس سال سے زائد عمر کے دوا شیرپا، جو اپنی غیر معمولی مہارت کے باعث مشہور کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کے نام پر ہلیری کہلاتے ہیں، 30 مئی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بالائی حصوں میں لاپتا ہو گئے تھے۔ ان کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں، تاہم کئی روز تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔</p>
<p>جمعرات کی صبح ساگرماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (ایس پی سی سی) کی ایک ٹیم نے انہیں ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب انتہائی کمزور حالت میں رینگتے ہوئے پایا۔ بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں پر معمولی فراسٹ بائٹ کے آثار ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔</p>
<p>ان کی اہلیہ دمو شیرپا نے بتایا کہ خاندان نے ان کی زندگی سے امید چھوڑ دی تھی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے آخری مذہبی رسومات بھی شروع کر دی تھیں، لیکن زندہ ملنے کی خبر نے سب کو بے حد خوشی میں مبتلا کر دیا۔</p>
<p>برطانوی کوہ پیما کرس تھرال، جنہوں نے دوا شیرپا کے ساتھ چوٹی سر کی تھی، نے بتایا کہ خراب موسم اور انتہائی دشوار حالات کے باعث واپسی کا سفر معمول سے کہیں زیادہ طویل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دوا شیرپا سینکڑوں بار ایسی مہمات مکمل کر چکے تھے، اسی لیے انہیں یقین تھا کہ وہ خود راستہ بنا لیں گے، اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287084</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 14:24:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0414215559567ad.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0414215559567ad.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکو ڈک منصوبہ: سیکیورٹی اور خریداری کے امور کا جائزہ لینے کے لیے بیرک کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287083/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان کے ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے سیکیورٹی پروٹوکولز اور خریداری کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے بیرک مائننگ کارپوریشن کے نمائندے بدھ کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ وفد جدید ترین آلات کی خریداری اور کمپنی کے قرضہ جات کے فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں شراکت دار ادارے او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے بتایا کہ وفد سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے، تاکہ مزید مالیات اور سیکیورٹی کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔ معاہدے کے تحت اس جائزے میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کتنے اضافی فنڈز درکار ہو سکتے ہیں،تاہم سیکیورٹی فراہم کرنا مکمل طور پر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں قرض دہندگان نے موجودہ پروٹوکولز پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مزید مالیاتی اداروں نے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ریکو ڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد شیئرز بیرک کارپوریشن، 25 فیصد وفاقی حکومت اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان کے ریکو ڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے سیکیورٹی پروٹوکولز اور خریداری کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے کے لیے بیرک مائننگ کارپوریشن کے نمائندے بدھ کو اسلام آباد پہنچ گئے۔ یہ وفد جدید ترین آلات کی خریداری اور کمپنی کے قرضہ جات کے فریم ورک کو وسعت دینے پر بات چیت کرے گا۔</strong></p>
<p>منصوبے میں شراکت دار ادارے او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے بتایا کہ وفد سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے، تاکہ مزید مالیات اور سیکیورٹی کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔ معاہدے کے تحت اس جائزے میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کتنے اضافی فنڈز درکار ہو سکتے ہیں،تاہم سیکیورٹی فراہم کرنا مکمل طور پر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں قرض دہندگان نے موجودہ پروٹوکولز پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مزید مالیاتی اداروں نے منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ریکو ڈک مائننگ کمپنی میں 50 فیصد شیئرز بیرک کارپوریشن، 25 فیصد وفاقی حکومت اور 25 فیصد حکومتِ بلوچستان کے پاس ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287083</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:59:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041355226d17f69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041355226d17f69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوالیفائر ماجا چلنسکا فرنچ اوپن ٹینس کے سیمی فائنل میں پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287082/</link>
      <description>&lt;p&gt;پولینڈ کی 24 سالہ کوالیفائر کھلاڑی مایا  چلنسکا نے فرنچ اوپن میں اپنی شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے روس کی انا کالنسکایا کو شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل میں 22 ویں سیڈ روس کی انا کالنسکایا کو 7-6 اور 6-3 سے ہرا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ چلنسکا اوپن ایرا میں رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی تاریخ کی دوسری، جبکہ کسی بھی گرینڈ سلیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی چھٹی کوالیفائر کھلاڑی بن گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ہونے والے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اب ان کا مقابلہ ورلڈ نمبر ون آرینا سبالینکا یا روس کی ڈیانا شنائیڈر سے ہوگا۔ مایا چلنسکا  کا کہنا تھا کہ وہ میچ کے دوران دباؤ اور تناؤ کا شکار تھیں لیکن انہوں نے صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھی۔ وہ ہر میچ جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کامیابی پر بیحد خوش ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پولینڈ کی 24 سالہ کوالیفائر کھلاڑی مایا  چلنسکا نے فرنچ اوپن میں اپنی شاندار کارکردگی جاری رکھتے ہوئے روس کی انا کالنسکایا کو شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ انہوں نے کوارٹر فائنل میں 22 ویں سیڈ روس کی انا کالنسکایا کو 7-6 اور 6-3 سے ہرا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ چلنسکا اوپن ایرا میں رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی تاریخ کی دوسری، جبکہ کسی بھی گرینڈ سلیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی چھٹی کوالیفائر کھلاڑی بن گئی ہیں۔</p>
<p>ہفتے کو ہونے والے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے اب ان کا مقابلہ ورلڈ نمبر ون آرینا سبالینکا یا روس کی ڈیانا شنائیڈر سے ہوگا۔ مایا چلنسکا  کا کہنا تھا کہ وہ میچ کے دوران دباؤ اور تناؤ کا شکار تھیں لیکن انہوں نے صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھی۔ وہ ہر میچ جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس کامیابی پر بیحد خوش ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287082</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:35:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041322352ab752a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041322352ab752a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی خدشات : فیفا ورلڈ کپ کے مقامات پر دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلوں پر پابندی عائد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287081/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ورلڈ کپ میچوں کے دوران شائقین کے اسٹیڈیم میں دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں آخری لمحات میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا، جبکہ اس سے قبل خالی اور شفاف پلاسٹک بوتلیں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ اقدام اسٹیڈیم میں بوتلیں یا کین پھینکنے سے کھلاڑیوں اور مداحوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میچوں کے دوران 26 سے 28  سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باعث شائقین نے گرمی اور پینے کے پانی کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم فیفا کا کہنا ہے کہ میزبان شہروں کے تعاون سے اسٹیڈیم کے باہر کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اسٹیڈیم کے اندر پانی کی قیمتیں عام دنوں کے برابر رکھی جائیں گی۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول 48 ٹیموں کا یہ ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ورلڈ کپ میچوں کے دوران شائقین کے اسٹیڈیم میں دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں لانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔</strong></p>
<p>فیفا نے اسٹیڈیم ضابطہ اخلاق میں آخری لمحات میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا، جبکہ اس سے قبل خالی اور شفاف پلاسٹک بوتلیں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ اقدام اسٹیڈیم میں بوتلیں یا کین پھینکنے سے کھلاڑیوں اور مداحوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب میچوں کے دوران 26 سے 28  سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے باعث شائقین نے گرمی اور پینے کے پانی کی دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم فیفا کا کہنا ہے کہ میزبان شہروں کے تعاون سے اسٹیڈیم کے باہر کولنگ ٹینٹس، پنکھے اور ہائیڈریشن اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جبکہ اسٹیڈیم کے اندر پانی کی قیمتیں عام دنوں کے برابر رکھی جائیں گی۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں شیڈول 48 ٹیموں کا یہ ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287081</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:01:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04131609dfd9fd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04131609dfd9fd9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیگو جوٹا اور والد کے انتقال پر کوناٹے کا ڈپریشن کا اعتراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287080/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانسیسی ڈیفنڈر ابراہیما کوناٹے نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لیورپول کے ساتھی کھلاڑی ڈیگو جوٹا اور اپنے والد کے انتقال کے بعد شدید ڈپریشن کا شکار رہے لیکن اس کے باوجود پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتگال کے فارورڈ جوٹا اور ان کے بھائی آندرے سلوا گزشتہ جولائی کار حادثے میں ہلاک ہوئے، جبکہ کوناٹے کے والد جنوری میں طویل علالت کے بعد چل بسے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوناٹے نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا کہ فٹبال میں بھی کھلاڑی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس تاثر کو فضول قرار دیا کہ زیادہ پیسہ کمانے والے کھلاڑی ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سیزن لیورپول چھوڑنے والے 27 سالہ کوناٹے نے کہا کہ ان المناک واقعات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا، لیکن کلب کا ملازم ہونے کے ناطے وہ میدان میں واپس لوٹنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد وہ ٹیم کو انجری کے بحران سے نکالنے کے لیے رخصتِ غم سے جلدی واپس آگئے تھے، تاہم وہ ذہنی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پائے۔ فرانس کی طرف سے 27 میچز کھیلنے والے کوناٹے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانسیسی ڈیفنڈر ابراہیما کوناٹے نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لیورپول کے ساتھی کھلاڑی ڈیگو جوٹا اور اپنے والد کے انتقال کے بعد شدید ڈپریشن کا شکار رہے لیکن اس کے باوجود پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔</strong></p>
<p>پرتگال کے فارورڈ جوٹا اور ان کے بھائی آندرے سلوا گزشتہ جولائی کار حادثے میں ہلاک ہوئے، جبکہ کوناٹے کے والد جنوری میں طویل علالت کے بعد چل بسے۔</p>
<p>کوناٹے نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا کہ فٹبال میں بھی کھلاڑی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں اور اس کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس تاثر کو فضول قرار دیا کہ زیادہ پیسہ کمانے والے کھلاڑی ڈپریشن کا شکار نہیں ہو سکتے۔</p>
<p>رواں سیزن لیورپول چھوڑنے والے 27 سالہ کوناٹے نے کہا کہ ان المناک واقعات نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا، لیکن کلب کا ملازم ہونے کے ناطے وہ میدان میں واپس لوٹنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد وہ ٹیم کو انجری کے بحران سے نکالنے کے لیے رخصتِ غم سے جلدی واپس آگئے تھے، تاہم وہ ذہنی طور پر پوری طرح سنبھل نہیں پائے۔ فرانس کی طرف سے 27 میچز کھیلنے والے کوناٹے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287080</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:14:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0413064615d978d.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0413064615d978d.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی فی تولہ قیمت میں 1523 روپے کا اضافہ ، چاندی کے نرخ گرگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287078/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ چاندی کے نرخ گرگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 14.499 ڈالر کے اضافے سے 4468.499 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 1523 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 69 ہزار 285 روپے پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 1305 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 2 ہزار 335 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ  کو سونے کی فی تولہ قیمت 8600 روپے کی بڑی کمی سے 4 لاکھ 67 ہزار 762 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 97 روپے کی کمی سے 7797 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ چاندی کے نرخ گرگئے۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 14.499 ڈالر کے اضافے سے 4468.499 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 1523 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 69 ہزار 285 روپے پر جاپہنچا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 1305 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 2 ہزار 335 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ  کو سونے کی فی تولہ قیمت 8600 روپے کی بڑی کمی سے 4 لاکھ 67 ہزار 762 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 97 روپے کی کمی سے 7797 روپے ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287078</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:51:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041417411750f35.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041417411750f35.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>21 ہلاکتوں کے بعد دہلی میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد سخت کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287077/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی دہلی میں بدھ کے روز ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 12 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد شہر میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دہلی بھر میں گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا، اور جہاں بھی فائر سیفٹی اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پائی گئی وہاں فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔ غیر معیاری عمارتوں کو سیل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آگ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں لگی، جسے مقامی میڈیا کے مطابق قریبی اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ واقعہ 2022 کے بعد شہر کا سب سے مہلک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ہوٹل کے مالک کو گرفتار کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی دہلی میں بدھ کے روز ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 12 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد شہر میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دہلی بھر میں گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی عمارتوں کا معائنہ کیا جائے گا، اور جہاں بھی فائر سیفٹی اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پائی گئی وہاں فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔ غیر معیاری عمارتوں کو سیل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ آگ دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں لگی، جسے مقامی میڈیا کے مطابق قریبی اسپتال میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ واقعہ 2022 کے بعد شہر کا سب سے مہلک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پولیس نے ہوٹل کے مالک کو گرفتار کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287077</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:49:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04124704bddaa2e.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04124704bddaa2e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کو کانگریس میں دھچکا، ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287076/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریپبلکن جماعت کے زیرِ قیادت امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ اس اقدام کو ان کی اپنی جماعت کے اندر جنگ کے تین ماہ سے جاری تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان میں ہونے والی ووٹنگ 215 کے مقابلے میں 208 رہی، جس میں چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر وار پاورز قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد صدر کو اس وقت تک ایران میں امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت دیتی ہے جب تک کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری نہ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ٹرمپ کے لیے کانگریس میں ایک اور سیاسی دھچکا ہے، اگرچہ ریپبلکنز کے پاس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ ووٹ فی الحال علامتی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کسی بھی قانون کے مؤثر ہونے کے لیے اسے سینیٹ کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے، اور اس پر بھی قانونی بحث جاری ہے کہ آیا وار پاورز قراردادیں آئینی طور پر نافذ العمل ہو سکتی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ووٹنگ اس بات کی عکاس ہے کہ کچھ ریپبلکن ارکان ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر غیر مطمئن ہیں اور یہ کانگریس کی جانب سے صدارتی جنگی اختیارات محدود کرنے کی ایک نادر دو جماعتی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین قراردادیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم اس بار مخالفت کا فرق انتہائی کم تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے ووٹنگ ملتوی کر دی تھی جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سینیٹ نے بھی ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھایا تھا، تاہم اس پر حتمی ووٹنگ ابھی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ، وارن ڈیوڈسن، برائن فِٹزپٹرک اور تھامس ماسی شامل ہیں، جبکہ سات ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اور صدر کو اکیلے یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب ایران کے خلاف جنگ کے واضح اسٹریٹجک مقاصد سامنے نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن ناقدین اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریپبلکن جماعت کے زیرِ قیادت امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے۔ اس اقدام کو ان کی اپنی جماعت کے اندر جنگ کے تین ماہ سے جاری تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ایوان میں ہونے والی ووٹنگ 215 کے مقابلے میں 208 رہی، جس میں چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر وار پاورز قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ قرارداد صدر کو اس وقت تک ایران میں امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت دیتی ہے جب تک کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری نہ دے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ٹرمپ کے لیے کانگریس میں ایک اور سیاسی دھچکا ہے، اگرچہ ریپبلکنز کے پاس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت موجود ہے۔</p>
<p>تاہم یہ ووٹ فی الحال علامتی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کسی بھی قانون کے مؤثر ہونے کے لیے اسے سینیٹ کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے، اور اس پر بھی قانونی بحث جاری ہے کہ آیا وار پاورز قراردادیں آئینی طور پر نافذ العمل ہو سکتی ہیں یا نہیں۔</p>
<p>یہ ووٹنگ اس بات کی عکاس ہے کہ کچھ ریپبلکن ارکان ٹرمپ کی جنگی پالیسی پر غیر مطمئن ہیں اور یہ کانگریس کی جانب سے صدارتی جنگی اختیارات محدود کرنے کی ایک نادر دو جماعتی کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین قراردادیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم اس بار مخالفت کا فرق انتہائی کم تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے ووٹنگ ملتوی کر دی تھی جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران سینیٹ نے بھی ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھایا تھا، تاہم اس پر حتمی ووٹنگ ابھی نہیں ہوئی۔</p>
<p>قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ، وارن ڈیوڈسن، برائن فِٹزپٹرک اور تھامس ماسی شامل ہیں، جبکہ سات ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔</p>
<p>ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اور صدر کو اکیلے یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب ایران کے خلاف جنگ کے واضح اسٹریٹجک مقاصد سامنے نہ ہوں۔</p>
<p>ریپبلکن ناقدین اسے سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287076</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:41:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041238409a87fe0.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041238409a87fe0.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ میں اسرائیلی حملے، 9 فلسطینی شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287074/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں جمعرات کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے علی الصبح تقریباً ایک ہی وقت میں چار رہائشی اپارٹمنٹس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے جن میں والدین بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک عمارت کو شدید تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اندرونی فرنیچر جل چکا تھا اور ملبہ سڑک تک بکھرا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو، جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، میں دیکھا گیا کہ لوگ ایک جلتے ہوئے اپارٹمنٹ سے کمبلوں کی مدد سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور جنگ کے آغاز سے اب تک صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد ممکنہ خطرات کو روکنا ہے، جبکہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت بھی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 930 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں جمعرات کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 9 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>طبی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے علی الصبح تقریباً ایک ہی وقت میں چار رہائشی اپارٹمنٹس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور 15 زخمی ہو گئے۔ ایک حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے جن میں والدین بھی شامل تھے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے ان واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک عمارت کو شدید تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اندرونی فرنیچر جل چکا تھا اور ملبہ سڑک تک بکھرا ہوا تھا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو، جس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، میں دیکھا گیا کہ لوگ ایک جلتے ہوئے اپارٹمنٹ سے کمبلوں کی مدد سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>طبی حکام کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، اور جنگ کے آغاز سے اب تک صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد ممکنہ خطرات کو روکنا ہے، جبکہ وہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت بھی دے رہی ہے۔</p>
<p>غزہ کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 930 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287074</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:34:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041233196c98864.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041233196c98864.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر نیٹ ٹیکنالوجیز کو 1 ارب روپے کا بڑا پروجیکٹ مل گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (ایس ٹی ایل) کو جمعرات کو تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے منصوبے کے لیے کامیاب بولی دہندہ قرار دے دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کے معروف  آرگنائزیشن کی جانب سے دیا جانے والا یہ پروجیکٹ ہارڈ ویئر اور متعلقہ خدمات کی فراہمی پر مبنی ہے جس کا مقصد اہم مواصلاتی ڈھانچے (کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر) کو بہتر اور جدید بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس پروجیکٹ پر عمل درآمد مالی سال 2026-27 کے دوران کیا جائے گا اور یہ بھی امید ہے کہ یہ منصوبہ عمل درآمد کی اس مدت کے دوران سپر نیٹ کی آمدنی (ریونیو) میں اضافے اور منافع بخش ہونے میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر، کنیکٹیویٹی، سائبر سیکیورٹی، مینیجڈ سروسز اور ڈیجیٹل تبدیلی  کے سلوشنز فراہم کرنے میں تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی دفاع ٹیلی کمیونیکیشنز، کارپوریٹ سیکٹر (انٹرپرائز)، حکومتی اداروں اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلے ہوئے صارفین (کلائنٹس) کی ایک وسیع رینج کو خدمات فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ (ایس ٹی ایل) کو جمعرات کو تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے منصوبے کے لیے کامیاب بولی دہندہ قرار دے دیا گیا۔</strong></p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کے معروف  آرگنائزیشن کی جانب سے دیا جانے والا یہ پروجیکٹ ہارڈ ویئر اور متعلقہ خدمات کی فراہمی پر مبنی ہے جس کا مقصد اہم مواصلاتی ڈھانچے (کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر) کو بہتر اور جدید بنانا ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس پروجیکٹ پر عمل درآمد مالی سال 2026-27 کے دوران کیا جائے گا اور یہ بھی امید ہے کہ یہ منصوبہ عمل درآمد کی اس مدت کے دوران سپر نیٹ کی آمدنی (ریونیو) میں اضافے اور منافع بخش ہونے میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>سپر نیٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر، کنیکٹیویٹی، سائبر سیکیورٹی، مینیجڈ سروسز اور ڈیجیٹل تبدیلی  کے سلوشنز فراہم کرنے میں تین دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھتی ہے۔</p>
<p>کمپنی دفاع ٹیلی کمیونیکیشنز، کارپوریٹ سیکٹر (انٹرپرائز)، حکومتی اداروں اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلے ہوئے صارفین (کلائنٹس) کی ایک وسیع رینج کو خدمات فراہم کرتی ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287075</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:32:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041223036783329.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041223036783329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کریمیا میں یوکرینی حملوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287073/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب روس کے زیر قبضہ کریمیا میں یوکرینی حملوں اور روسی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریمیا میں روس کے مقرر کردہ حکام کے مطابق یوکرینی فورسز نے انتظامی شہر سیواستوپول اور سمیفروپول کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ کریمیا کے روسی حمایت یافتہ سربراہ سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ سمیفروپول میں ایک غیر رہائشی علاقے پر حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیواستوپول کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل رازووژائیف نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 20 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، تاہم ڈرون کے ملبے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ شہر میں فضائی حملے کا الرٹ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے 2014 میں کریمیا کو ضم کیا تھا، جو 2022 میں شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر حملے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے، جب ماسکو کے حامی صدر کے فرار کے بعد یہ علاقہ روسی کنٹرول میں آ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یوکرین میں بھی روسی حملوں کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت کیف کے قریب بورسپل کے صنعتی علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کے مطابق متاثرہ مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں روسی شیلنگ کے باعث کم از کم تین شہری ہلاک ہو گئے، جبکہ دنیپروپیترووسک ریجن میں ایک اور حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نے روس کے اندر توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک آئل ٹرمینل پر حملہ شامل ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے جنگ کو برابر سطح پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روسی سرحدی علاقے بریانسک میں ایک ڈرون حملے میں ایک کرین آپریٹر ہلاک ہو گیا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب روس کے زیر قبضہ کریمیا میں یوکرینی حملوں اور روسی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</strong></p>
<p>کریمیا میں روس کے مقرر کردہ حکام کے مطابق یوکرینی فورسز نے انتظامی شہر سیواستوپول اور سمیفروپول کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ کریمیا کے روسی حمایت یافتہ سربراہ سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ سمیفروپول میں ایک غیر رہائشی علاقے پر حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔</p>
<p>سیواستوپول کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل رازووژائیف نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 20 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، تاہم ڈرون کے ملبے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ شہر میں فضائی حملے کا الرٹ تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔</p>
<p>روس نے 2014 میں کریمیا کو ضم کیا تھا، جو 2022 میں شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر حملے سے بھی پہلے کا واقعہ ہے، جب ماسکو کے حامی صدر کے فرار کے بعد یہ علاقہ روسی کنٹرول میں آ گیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب یوکرین میں بھی روسی حملوں کے نتیجے میں نقصان کی اطلاعات ہیں۔ دارالحکومت کیف کے قریب بورسپل کے صنعتی علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس میں ایک شخص زخمی ہوا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کے مطابق متاثرہ مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔</p>
<p>مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں روسی شیلنگ کے باعث کم از کم تین شہری ہلاک ہو گئے، جبکہ دنیپروپیترووسک ریجن میں ایک اور حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>یوکرین نے روس کے اندر توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک آئل ٹرمینل پر حملہ شامل ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملے جنگ کو برابر سطح پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>ادھر روسی سرحدی علاقے بریانسک میں ایک ڈرون حملے میں ایک کرین آپریٹر ہلاک ہو گیا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو رہی ہے۔</p>
<p>جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پہلے سے زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287073</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:31:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04122946c4d3ad7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04122946c4d3ad7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقدس جھوٹ اور نیک نیتی کے ساتھ بدعنوانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287070/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افلاطون نے اپنی کتاب ریپبلک میں مقدس جھوٹ (Noble Lie) کا تصور پیش کیا، یعنی ایسا افسانہ جو حکمران اپنے شہریوں کے لیے گھڑتے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افلاطون کے مطابق ایک فلسفی حکمران اجتماعی بھلائی کی خاطر           جھوٹ بول سکتا ہے؛ وہ اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایک منظم معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بظاہر کافی بے ضرر بات لگتی ہے؛ ایک ایسا جھوٹ جو حکمران کے اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اکثریت کے سکون کے لیے ہو۔ آخرکار، اس سے زیادہ اعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ بے گناہوں کو بچانے، گھبراہٹ کو روکنے یا نظم برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ مقدس جھوٹ صرف ایک جھوٹ نہیں ہوتا؛ یہ ایک فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس میں مہارت، مشق، اور جواز تراشنے کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست شامل ہوتی ہے۔ ایک سادہ، ضروری جھوٹ مزید ایسے جھوٹوں کو جنم دیتا ہے جو پہلے جھوٹ کی وجہ سے ضروری ہو جاتے ہیں۔ نیکی پر مبنی دھوکے سے مکمل تباہی تک کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" href="#مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقدس جھوٹ کا ڈھانچہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جدید دور کی علمیات میں، ایک حکومت معاشی اعداد و شمار چھپا لیتی ہے تاکہ گھبراہٹ نہ پھیلے، ایک ڈاکٹر مریض کو مہلک بیماری کی تشخیص امید برقرار دیکھنے کیلئے نہیں بتاتا، اور ایک رہنما حملے کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے شواہد کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے رحم کا عمل قرار دیتا ہے؛ وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقدس جھوٹا ہمیشہ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے؛ وہ زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؛ وہ زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے کہ لوگوں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر خود ارادیت کے خلاف ایک دلیل ہے۔ لوگ اپنی جہالت میں ممکن ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے مفاد کے خلاف فیصلے کریں، اس لیے جھوٹ بولنے والا ان کے لیے فیصلے کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خود-فریبی-کا-ہنر" href="#خود-فریبی-کا-ہنر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خود فریبی کا ہنر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مقدس جھوٹ کی حقیقی شرافت دوسروں کو دھوکہ دینے میں نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے میں ہے۔ تاکہ جھوٹ مقدس رہے، جھوٹ بولنے والے کو پہلے خود یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ وہ اخلاقی کام کر رہا ہے۔ وہ کبھی بھی، نہ اپنے لیے اور نہ دوسروں کے لیے، ایک ہیرا پھیری کرنے والا یا بزدل نظر نہیں آ سکتا۔ اسے اسے تحفظ یا قربانی کے عمل کے طور پر جواز دینا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ایک پیچیدہ جوازی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جیسے وہ ابھی سچ کے لیے تیار نہیں، یہ صحیح وقت نہیں ہے، مقاصد ذرائع کو جائز بناتے ہیں۔ یہ محض منافقانہ بہانے نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی طور پر مانے گئے عقائد ہوتے ہیں، جو مقدس جھوٹ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایک منافق کو قائل کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی اداکاری سے تھک سکتا ہے، لیکن خود راست باز جھوٹ بولنے والا واقعی اپنی ہی نیکی پر یقین رکھتا ہے اور آئینے میں اپنی بکھری ہوئی تصویر کو پہچان نہیں پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناگزیر-زوال" href="#ناگزیر-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناگزیر زوال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی جھوٹ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔ یہ دھوکے کا بنیادی اصول ہے۔ آج کا جھوٹ کل سہارا مانگتا ہے؛ چھپائے گئے معاشی حقائق کو اگلے مرحلے میں جعلی ترقیاتی اعداد و شمار سے سہارا دینا پڑتا ہے، چھپائی گئی طبی تشخیص کو جعلی رضامندی فارموں اور گھڑے گئے خاندانی مباحثوں سے بدلنا پڑتا ہے، جنگی معلومات کے جھوٹ کو بعد کے کور اپس، مخبروں کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے فائلوں کے انبار سے چھپانا پڑتا ہے۔ ہر نئی تہہ کے ساتھ داؤ بڑھتے جاتے ہیں، اور کسی بھی لمحے حقیقت کا انکشاف صرف شرمندگی نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح جھوٹ بولنے والے کی توجہ دوسروں کو بچانے سے ہٹ کر خود جھوٹ کو بچانے اور اپنی مقدس حیثیت کو برقرار رکھنے پر چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" href="#سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سچ کا بوجھ: جاننے کی ہلکاپن&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس کا متبادل کیا ہے؟ یقیناً بربریت نہیں۔ مشکل سچائیوں کو شائستگی سے بیان کرنا ممکن ہے، معلومات کو مکمل گھڑنے کے بجائے دانشمندی سے منظم کرنا ممکن ہے، اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بہترین دستیاب معلومات کے ساتھ فیصلے کریں—یہاں تک کہ اگر وہ فیصلے خوشگوار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ، اپنی تعریف کے مطابق، دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچ کا دفاع کیا جا سکتا ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے، اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سچ تنقید کے سامنے نہیں ٹوٹتا؛ سچ مضبوط ہوتا ہے۔ سچ پر مبنی معاشرہ، مقدس جھوٹ پر مبنی معاشرے کے مقابلے میں شاید زیادہ انتشار کا شکار، زیادہ سست اور زیادہ بحث طلب ہو، لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے؛ اسے فلسفی بادشاہوں کی ایک جماعت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے اپنے شہریوں کو کمزور اور طفلانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدس جھوٹ دراصل ایک فن ہے، یہ سچ ہے—خود جواز، ہیرا پھیری، اور بتدریج بڑھتے ہوئے فریب کا فن۔ لیکن یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالآخر ریت کے محل کے سوا کچھ نہیں چھوڑتا۔ ہر نئی نسل کے ساتھ یہی احساس دوبارہ جنم لیتا ہے کہ نیک نیتی پر مبنی جھوٹ بھی آخر جھوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس پر معاشرہ اور تمام انسانی تعلقات چند موسموں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھوکے میں کوئی شرافت نہیں ہوتی۔ اس میں صرف وہ وقتی سکون ہوتا ہے جو حقیقت کا سامنا دوبارہ کرنے سے پہلے ملتا ہے، جو اکثر سخت اور طویل سردی کی صورت میں آتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تباہی کے لیے صرف تین عناصر درکار ہوتے ہیں: ایک جھوٹ، ایک نیک نیتی، اور یہ جہالت کہ سچائی ہمیشہ زیادہ مہربان حل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افلاطون نے اپنی کتاب ریپبلک میں مقدس جھوٹ (Noble Lie) کا تصور پیش کیا، یعنی ایسا افسانہ جو حکمران اپنے شہریوں کے لیے گھڑتے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>افلاطون کے مطابق ایک فلسفی حکمران اجتماعی بھلائی کی خاطر           جھوٹ بول سکتا ہے؛ وہ اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایک منظم معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بظاہر کافی بے ضرر بات لگتی ہے؛ ایک ایسا جھوٹ جو حکمران کے اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اکثریت کے سکون کے لیے ہو۔ آخرکار، اس سے زیادہ اعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ بے گناہوں کو بچانے، گھبراہٹ کو روکنے یا نظم برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولا جائے۔</p>
<p>کیونکہ مقدس جھوٹ صرف ایک جھوٹ نہیں ہوتا؛ یہ ایک فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس میں مہارت، مشق، اور جواز تراشنے کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست شامل ہوتی ہے۔ ایک سادہ، ضروری جھوٹ مزید ایسے جھوٹوں کو جنم دیتا ہے جو پہلے جھوٹ کی وجہ سے ضروری ہو جاتے ہیں۔ نیکی پر مبنی دھوکے سے مکمل تباہی تک کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے۔</p>
<h3><a id="مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" href="#مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقدس جھوٹ کا ڈھانچہ</h3>
<p>جدید دور کی علمیات میں، ایک حکومت معاشی اعداد و شمار چھپا لیتی ہے تاکہ گھبراہٹ نہ پھیلے، ایک ڈاکٹر مریض کو مہلک بیماری کی تشخیص امید برقرار دیکھنے کیلئے نہیں بتاتا، اور ایک رہنما حملے کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے شواہد کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے رحم کا عمل قرار دیتا ہے؛ وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔</p>
<p>ایک مقدس جھوٹا ہمیشہ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے؛ وہ زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؛ وہ زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے کہ لوگوں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر خود ارادیت کے خلاف ایک دلیل ہے۔ لوگ اپنی جہالت میں ممکن ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے مفاد کے خلاف فیصلے کریں، اس لیے جھوٹ بولنے والا ان کے لیے فیصلے کرتا ہے۔</p>
<h3><a id="خود-فریبی-کا-ہنر" href="#خود-فریبی-کا-ہنر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خود فریبی کا ہنر</h3>
<p>مقدس جھوٹ کی حقیقی شرافت دوسروں کو دھوکہ دینے میں نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے میں ہے۔ تاکہ جھوٹ مقدس رہے، جھوٹ بولنے والے کو پہلے خود یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ وہ اخلاقی کام کر رہا ہے۔ وہ کبھی بھی، نہ اپنے لیے اور نہ دوسروں کے لیے، ایک ہیرا پھیری کرنے والا یا بزدل نظر نہیں آ سکتا۔ اسے اسے تحفظ یا قربانی کے عمل کے طور پر جواز دینا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے لیے ایک پیچیدہ جوازی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جیسے وہ ابھی سچ کے لیے تیار نہیں، یہ صحیح وقت نہیں ہے، مقاصد ذرائع کو جائز بناتے ہیں۔ یہ محض منافقانہ بہانے نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی طور پر مانے گئے عقائد ہوتے ہیں، جو مقدس جھوٹ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایک منافق کو قائل کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی اداکاری سے تھک سکتا ہے، لیکن خود راست باز جھوٹ بولنے والا واقعی اپنی ہی نیکی پر یقین رکھتا ہے اور آئینے میں اپنی بکھری ہوئی تصویر کو پہچان نہیں پاتا۔</p>
<h3><a id="ناگزیر-زوال" href="#ناگزیر-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناگزیر زوال</h3>
<p>کوئی بھی جھوٹ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔ یہ دھوکے کا بنیادی اصول ہے۔ آج کا جھوٹ کل سہارا مانگتا ہے؛ چھپائے گئے معاشی حقائق کو اگلے مرحلے میں جعلی ترقیاتی اعداد و شمار سے سہارا دینا پڑتا ہے، چھپائی گئی طبی تشخیص کو جعلی رضامندی فارموں اور گھڑے گئے خاندانی مباحثوں سے بدلنا پڑتا ہے، جنگی معلومات کے جھوٹ کو بعد کے کور اپس، مخبروں کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے فائلوں کے انبار سے چھپانا پڑتا ہے۔ ہر نئی تہہ کے ساتھ داؤ بڑھتے جاتے ہیں، اور کسی بھی لمحے حقیقت کا انکشاف صرف شرمندگی نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح جھوٹ بولنے والے کی توجہ دوسروں کو بچانے سے ہٹ کر خود جھوٹ کو بچانے اور اپنی مقدس حیثیت کو برقرار رکھنے پر چلی جاتی ہے۔</p>
<h3><a id="سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" href="#سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سچ کا بوجھ: جاننے کی ہلکاپن</h3>
<p>اس کا متبادل کیا ہے؟ یقیناً بربریت نہیں۔ مشکل سچائیوں کو شائستگی سے بیان کرنا ممکن ہے، معلومات کو مکمل گھڑنے کے بجائے دانشمندی سے منظم کرنا ممکن ہے، اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بہترین دستیاب معلومات کے ساتھ فیصلے کریں—یہاں تک کہ اگر وہ فیصلے خوشگوار نہ ہوں۔</p>
<p>سچ، اپنی تعریف کے مطابق، دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچ کا دفاع کیا جا سکتا ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے، اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سچ تنقید کے سامنے نہیں ٹوٹتا؛ سچ مضبوط ہوتا ہے۔ سچ پر مبنی معاشرہ، مقدس جھوٹ پر مبنی معاشرے کے مقابلے میں شاید زیادہ انتشار کا شکار، زیادہ سست اور زیادہ بحث طلب ہو، لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے؛ اسے فلسفی بادشاہوں کی ایک جماعت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے اپنے شہریوں کو کمزور اور طفلانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>مقدس جھوٹ دراصل ایک فن ہے، یہ سچ ہے—خود جواز، ہیرا پھیری، اور بتدریج بڑھتے ہوئے فریب کا فن۔ لیکن یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالآخر ریت کے محل کے سوا کچھ نہیں چھوڑتا۔ ہر نئی نسل کے ساتھ یہی احساس دوبارہ جنم لیتا ہے کہ نیک نیتی پر مبنی جھوٹ بھی آخر جھوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس پر معاشرہ اور تمام انسانی تعلقات چند موسموں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتے۔</p>
<p>دھوکے میں کوئی شرافت نہیں ہوتی۔ اس میں صرف وہ وقتی سکون ہوتا ہے جو حقیقت کا سامنا دوبارہ کرنے سے پہلے ملتا ہے، جو اکثر سخت اور طویل سردی کی صورت میں آتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تباہی کے لیے صرف تین عناصر درکار ہوتے ہیں: ایک جھوٹ، ایک نیک نیتی، اور یہ جہالت کہ سچائی ہمیشہ زیادہ مہربان حل ہوتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287070</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:18:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04121607f25c4ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04121607f25c4ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں بڑی پیشرفت: اسرائیل، لبنان جنگ بندی پر متفق، ایران ڈیل کا امکان بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان نے کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جسے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ وسیع تر معاہدے کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران جس نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا، اس سے قبل کویت پر حملہ کر چکا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کے ائرپورٹس کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی، ایران نواز حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اس کے تمام جنگجوؤں (آپریٹوز) کے انخلا سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق گزشتہ ماہ جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان پر حملہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا تعاقب کیا جاسکے جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت اور آبنائے (ہرمز) میں ہونے والے یہ حملے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کا امتحان لینے والا تازہ ترین واقعہ ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ آبنائے بڑے پیمانے پر بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے ڈرون اور میزائل حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچنے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں، اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ بعد ازاں کویت ائیرویز اور جزیرا ائیرویز نے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے بعد اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی ایلیٹ پاسدارانِ انقلاب  کا کہنا ہے کہ انہوں نے کویت کے ہوائی اڈے پر کوئی فائرنگ نہیں کی اور اس تباہی کا ذمہ دار امریکی انٹرسیپٹر (دفاعی) میزائلوں کو ٹھہرایا جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج نے اس دعوے کو غلط  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور پنایا نامی ایک بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خطے میں داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سنٹرل کمانڈ  کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں دفاعی حملوں کا ایک نیا سلسلہ (راؤنڈ) شروع کیا ہے جس میں میزائل داغنے کے مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم  پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کو بتایا کہ اسرائیل اور لبنان نے کشیدگی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے جنگ بندی پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جسے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ وسیع تر معاہدے کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>تہران جس نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو جزوی طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے خاتمے سے مشروط کر رکھا تھا، اس سے قبل کویت پر حملہ کر چکا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کے ائرپورٹس کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے تھے۔</p>
<p>واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی، ایران نواز حزب اللہ کی طرف سے مکمل جنگ بندی اور جنوبی لیتانی سیکٹر سے اس کے تمام جنگجوؤں (آپریٹوز) کے انخلا سے مشروط ہے۔</p>
<p>دونوں فریق گزشتہ ماہ جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان پر حملہ کیا تھا تاکہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ کا تعاقب کیا جاسکے جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔</p>
<p>کویت اور آبنائے (ہرمز) میں ہونے والے یہ حملے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کمزور جنگ بندی کا امتحان لینے والا تازہ ترین واقعہ ہیں جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ آبنائے بڑے پیمانے پر بند ہے۔</p>
<p>کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے ڈرون اور میزائل حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچنے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں معطل کر دی گئیں، اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p>سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ بعد ازاں کویت ائیرویز اور جزیرا ائیرویز نے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے بعد اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی ایلیٹ پاسدارانِ انقلاب  کا کہنا ہے کہ انہوں نے کویت کے ہوائی اڈے پر کوئی فائرنگ نہیں کی اور اس تباہی کا ذمہ دار امریکی انٹرسیپٹر (دفاعی) میزائلوں کو ٹھہرایا جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>امریکی فوج نے اس دعوے کو غلط  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>اس سے قبل، ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر، ایک امریکی فضائی اڈے اور پنایا نامی ایک بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خطے میں داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔</p>
<p>امریکی سنٹرل کمانڈ  کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں دفاعی حملوں کا ایک نیا سلسلہ (راؤنڈ) شروع کیا ہے جس میں میزائل داغنے کے مقامات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ ایرانی حملوں کی کوششوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم  پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287072</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:14:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/041210425b4f2fd.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/041210425b4f2fd.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
