<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Print</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 11:26:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 11:26:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرینی حملے میں کریمیا میں ایک شخص ہلاک، چار زخمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289080/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی کنٹرول والے جزیرہ نما کریمیا پر یوکرین کے حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی جانب سے مقرر کردہ  کریمیا کے گورنر سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ زخمیوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ماسکو کے مشرق میں واقع اولیانووسک ریجن کے گورنر نے کہا کہ یوکرینی ڈرونز نے ایک توانائی کی تنصیب (انرجی فیسلٹی) کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ورونیژ ریجن کے گورنر الیگزینڈر گوسیف نے کہا کہ رات کے دوران روس میں شہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی خبر رساں اداروں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے رات بھر میں یوکرین کے 223 ڈرونز مار گرائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روسی کنٹرول والے جزیرہ نما کریمیا پر یوکرین کے حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے۔</strong></p>
<p>روس کی جانب سے مقرر کردہ  کریمیا کے گورنر سرگئی اکسیونوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ زخمیوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ادھر ماسکو کے مشرق میں واقع اولیانووسک ریجن کے گورنر نے کہا کہ یوکرینی ڈرونز نے ایک توانائی کی تنصیب (انرجی فیسلٹی) کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی۔</p>
<p>دوسری جانب ورونیژ ریجن کے گورنر الیگزینڈر گوسیف نے کہا کہ رات کے دوران روس میں شہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔</p>
<p>روسی خبر رساں اداروں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے رات بھر میں یوکرین کے 223 ڈرونز مار گرائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289080</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 11:22:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231121478d8d167.gif" type="image/gif" medium="image" height="563" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231121478d8d167.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مارکو روبیو اور سرگئی لاوروف کی منیلا میں اہم ملاقات، یوکرین تنازع پر گفتگو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289078/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو منیلا میں ایک فورم کے موقع پر ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی خبر رساں ادارے ٹاس نے رپورٹ کیا ہے کہ  دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگئی لاوروف اور مارکو روبیو کے درمیان یوکرین تنازع کے حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو منیلا میں ایک فورم کے موقع پر ملاقات کی۔</strong></p>
<p>روسی خبر رساں ادارے ٹاس نے رپورٹ کیا ہے کہ  دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہی۔</p>
<p>سرگئی لاوروف اور مارکو روبیو کے درمیان یوکرین تنازع کے حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289078</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 11:18:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23111720d817b58.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23111720d817b58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی دہلی میں وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج، دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289076/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان بدھ کی شب مختصر جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی میڈیا کے مطابق وسطی نئی دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر 10 ہزار سے زائد افراد جمع ہوئے، جہاں کاکروچ تحریک کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ مئی میں تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاجی مظاہرے وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں شدید احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گئے بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور پلاسٹک کی بوتلیں پھینکیں، جس سے چند اہلکار زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس کو آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دہلی میٹرو انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مرکزی نئی دہلی اور اطراف کے 16 میٹرو اسٹیشن تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات اور امتحانی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفے تک تحریک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان بدھ کی شب مختصر جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔</strong></p>
<p>مقامی میڈیا کے مطابق وسطی نئی دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر 10 ہزار سے زائد افراد جمع ہوئے، جہاں کاکروچ تحریک کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ مئی میں تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔</p>
<p>احتجاجی مظاہرے وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں شدید احتجاج کیا۔</p>
<p>رات گئے بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور پلاسٹک کی بوتلیں پھینکیں، جس سے چند اہلکار زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس کو آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ادھر دہلی میٹرو انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مرکزی نئی دہلی اور اطراف کے 16 میٹرو اسٹیشن تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات اور امتحانی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفے تک تحریک جاری رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289076</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 11:07:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23110449157afc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="673" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23110449157afc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، 100 انڈیکس میں 600 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز کے چند منٹوں بعد ہی خریداری کا رجحان ایک بار پھر لوٹ آگیا جس کی بدولت 100 انڈیکس میں تقریباً 600 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 9:38 بجے بینچ مارک انڈیکس 593.70 پوائنٹس یا 0.34 فیصد اضافے سے 175,023.62 پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمرشل بینکوں، کھاد، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل ، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل ، پی ایس او، میزان بینک، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسلسل خدشات کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہا جس سے بڑے پیمانے پر رسک آؤٹ کا رجحان پیدا ہوا اور سرمایہ کاروں کو بلیو چپ اور سائیکلکل اسٹاکس میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 1,74,429.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں کا اعلان کیا جن سے خطے کے چپ ساز اداروں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے تیل کی قیمتوں کو چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو بھی دوبارہ تازہ کردیا جس کی وجہ سے امریکی ٹریژری ییلڈ 17 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ تاجر یہ شرط لگا رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو جلد از جلد شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے ایک نئے سلسلے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ کروڈ کے سودے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس نے اس تنازع کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس نے عالمی منڈیوں پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفابیٹ اور ٹیسلا کی آمدنی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری اخراجات میں کوئی کمی ظاہر نہیں ہوئی۔ سرچ جائنٹ نے سال کے لیے اپنے سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں میں اضافہ کردیا  اور اب اسے 195 ارب ڈالر سے 205 ارب ڈالر کے درمیان خرچ کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اخراجات کا ایک بڑا حصہ ایشیائی چِپ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی توقع ہے۔ اسی امید کے باعث جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3 فیصد سے زائد بڑھ گیا جس کی قیادت ایس کے ہائنکس اور سام سنگ الیکٹرانکس  کے حصص نے کی جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 1 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی  کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً 1 فیصد بڑھ گیا جو ہفتے کے دوران 3 فیصد اضافے کی راہ پر گامزن ہے اور اس نے دو ہفتے کی مسلسل گراوٹ کے سلسلے کو توڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز کے چند منٹوں بعد ہی خریداری کا رجحان ایک بار پھر لوٹ آگیا جس کی بدولت 100 انڈیکس میں تقریباً 600 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>صبح 9:38 بجے بینچ مارک انڈیکس 593.70 پوائنٹس یا 0.34 فیصد اضافے سے 175,023.62 پر جاپہنچا۔</p>
<p>کمرشل بینکوں، کھاد، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل ، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل ، پی ایس او، میزان بینک، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسلسل خدشات کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہا جس سے بڑے پیمانے پر رسک آؤٹ کا رجحان پیدا ہوا اور سرمایہ کاروں کو بلیو چپ اور سائیکلکل اسٹاکس میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 1,74,429.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں کا اعلان کیا جن سے خطے کے چپ ساز اداروں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے تیل کی قیمتوں کو چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔</p>
<p>تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو بھی دوبارہ تازہ کردیا جس کی وجہ سے امریکی ٹریژری ییلڈ 17 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ تاجر یہ شرط لگا رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو جلد از جلد شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے ایک نئے سلسلے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ کروڈ کے سودے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس نے اس تنازع کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس نے عالمی منڈیوں پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔</p>
<p>الفابیٹ اور ٹیسلا کی آمدنی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری اخراجات میں کوئی کمی ظاہر نہیں ہوئی۔ سرچ جائنٹ نے سال کے لیے اپنے سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں میں اضافہ کردیا  اور اب اسے 195 ارب ڈالر سے 205 ارب ڈالر کے درمیان خرچ کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اس اخراجات کا ایک بڑا حصہ ایشیائی چِپ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی توقع ہے۔ اسی امید کے باعث جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3 فیصد سے زائد بڑھ گیا جس کی قیادت ایس کے ہائنکس اور سام سنگ الیکٹرانکس  کے حصص نے کی جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 1 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی  کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً 1 فیصد بڑھ گیا جو ہفتے کے دوران 3 فیصد اضافے کی راہ پر گامزن ہے اور اس نے دو ہفتے کی مسلسل گراوٹ کے سلسلے کو توڑ دیا ہے۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289075</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 11:01:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231059059cfd1e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231059059cfd1e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم، 65 سال تک کے افراد سے قرض درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289074/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز بتایا کہ کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جن تمام پاکستانی شہریوں کے نام پر کوئی مکان موجود نہیں، وہ وزیراعظم کی سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے اہل ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد گھروں کی موجودہ کمی کو پورا کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسلامک فنانس گروپ، غلام محمد عباسی نے ”وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا“ کے عنوان سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بینک وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر کے افراد سے ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں وصول کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے لیے کسی بھی پیشے کو منفی  یا نااہل  قرار نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صحافی، وکلا، ججز، پالیسی ساز، فوجی اہلکار اور دیگر تمام پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے اس اسکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی (اوورسیز پاکستانی) بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر ایک قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی واپسی کی شرائط پوری کی جا سکیں۔زیادہ عمر کے افراد اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ شراکت داری میں درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ملازمت کرتے ہوں اور ان کی کوئی آمدنی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام محمد عباسی نے کہا کہ تنخواہ کی سلپ رکھنے والے یا نہ رکھنے والے، دونوں طرح کے افراد درخواست دینے کے اہل ہیں، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی ماہانہ آمدنی کتنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کم آمدنی والے طبقے سمیت ہر شخص کو اپنا گھر فراہم کیا جائے۔ قرض کی ماہانہ قسط  قرض لینے والے کی تنخواہ کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، بہت سے درخواست گزاروں کی باضابطہ تنخواہ کے علاوہ بھی آمدنی کے دیگر ذرائع موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 50 ہزار (150,000) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے موجودہ مالی سال میں ان قرضوں پر سبسڈی دینے کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ اگر قرض 20 سال کی زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے حاصل کیا جائے تو آخری 10 سال میں بینک قرض پر مارکیٹ کی بنیاد پر منافع  وصول کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام محمد عباسی نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے تحت قرض کی درخواست پر بینک کوئی پراسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ مارچ 2025 سے اب تک بینکوں کو مجموعی طور پر ایک لاکھ سات ہزار (107,000) درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی گئیں، جب اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے (10 ملین روپے) کر دی گئی تھی اور قرض کی واپسی کے پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد رعایتی شرح منافع مقرر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موصولہ درخواستوں میں سے 27 ہزار سے زائد درخواست گزاروں کے قرض منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ 13 ہزار درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 30 جون 2026 تک بینک تقریباً 6 ہزار سے زائد ہاؤسنگ قرضے جاری کر چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے (4.8 ملین روپے) ہے، جبکہ مجموعی طور پر 26 ارب روپے کے قرضے اس اسکیم کے تحت تقسیم کیے جا چکے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ 30 جون 2026 تک بینکوں کے ذمے ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے واجب الادا تھے، جو 65,414 قرض لینے والوں کو دیے گئے تھے۔اس حساب سے فی قرض کا اوسط حجم تقریباً 45 لاکھ روپے (4.5 ملین روپے) بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام محمد عباسی نے کہا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے جلد ہی علیحدہ اور مخصوص آن لائن پورٹل متعارف کرائے جانے کے بعد آن لائن درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہاؤسنگ فنانس پورٹ فولیو میں ہونے والے قرضوں کے نقصانات کا ابتدائی 10 فیصد خود برداشت کرے گی۔ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (این پی ایلز) کی شرح 5.6 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز بتایا کہ کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جن تمام پاکستانی شہریوں کے نام پر کوئی مکان موجود نہیں، وہ وزیراعظم کی سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے اہل ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد گھروں کی موجودہ کمی کو پورا کرنا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اسلامک فنانس گروپ، غلام محمد عباسی نے ”وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا“ کے عنوان سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بینک وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر کے افراد سے ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں وصول کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے لیے کسی بھی پیشے کو منفی  یا نااہل  قرار نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صحافی، وکلا، ججز، پالیسی ساز، فوجی اہلکار اور دیگر تمام پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے اس اسکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی (اوورسیز پاکستانی) بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں۔</p>
<p>اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر ایک قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی واپسی کی شرائط پوری کی جا سکیں۔زیادہ عمر کے افراد اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ شراکت داری میں درخواست دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ملازمت کرتے ہوں اور ان کی کوئی آمدنی ہو۔</p>
<p>غلام محمد عباسی نے کہا کہ تنخواہ کی سلپ رکھنے والے یا نہ رکھنے والے، دونوں طرح کے افراد درخواست دینے کے اہل ہیں، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی ماہانہ آمدنی کتنی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کم آمدنی والے طبقے سمیت ہر شخص کو اپنا گھر فراہم کیا جائے۔ قرض کی ماہانہ قسط  قرض لینے والے کی تنخواہ کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، بہت سے درخواست گزاروں کی باضابطہ تنخواہ کے علاوہ بھی آمدنی کے دیگر ذرائع موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 50 ہزار (150,000) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے موجودہ مالی سال میں ان قرضوں پر سبسڈی دینے کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ اگر قرض 20 سال کی زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے حاصل کیا جائے تو آخری 10 سال میں بینک قرض پر مارکیٹ کی بنیاد پر منافع  وصول کریں گے۔</p>
<p>غلام محمد عباسی نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے تحت قرض کی درخواست پر بینک کوئی پراسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ مارچ 2025 سے اب تک بینکوں کو مجموعی طور پر ایک لاکھ سات ہزار (107,000) درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی گئیں، جب اسکیم میں ترمیم کرتے ہوئے قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے (10 ملین روپے) کر دی گئی تھی اور قرض کی واپسی کے پہلے 10 سال کے لیے 5 فیصد رعایتی شرح منافع مقرر کی گئی تھی۔</p>
<p>موصولہ درخواستوں میں سے 27 ہزار سے زائد درخواست گزاروں کے قرض منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ 13 ہزار درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 30 جون 2026 تک بینک تقریباً 6 ہزار سے زائد ہاؤسنگ قرضے جاری کر چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے (4.8 ملین روپے) ہے، جبکہ مجموعی طور پر 26 ارب روپے کے قرضے اس اسکیم کے تحت تقسیم کیے جا چکے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ 30 جون 2026 تک بینکوں کے ذمے ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے واجب الادا تھے، جو 65,414 قرض لینے والوں کو دیے گئے تھے۔اس حساب سے فی قرض کا اوسط حجم تقریباً 45 لاکھ روپے (4.5 ملین روپے) بنتا ہے۔</p>
<p>غلام محمد عباسی نے کہا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے جلد ہی علیحدہ اور مخصوص آن لائن پورٹل متعارف کرائے جانے کے بعد آن لائن درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہاؤسنگ فنانس پورٹ فولیو میں ہونے والے قرضوں کے نقصانات کا ابتدائی 10 فیصد خود برداشت کرے گی۔ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (این پی ایلز) کی شرح 5.6 فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289074</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:58:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2310534889723f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2310534889723f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اصلاحاتی پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289073/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی اور بیرونی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ساختی اصلاحات  پر بریفنگ دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں فرسٹ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف)، ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری وسیع تر اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، محصولات کے اہداف حاصل کیے گئے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری، ٹیرف میں تدریجی اصلاح ، قرضوں کا انتظام، مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر بھی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ملاقاتوں کے اختتام پر پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد اور اس کی پیش رفت کو تسلیم کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ایگزم بینک کے سربراہ سے ملاقات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ نے امریکی ایگزم بینک  کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے بھی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور کپاس، سویابین سمیت زرعی اجناس اور ہائیڈروکاربنز کی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت ترجیحی منصوبوں کو یکجا کرنے، کئی سال پر مشتمل مالیاتی منصوبہ بندی تیار کرنے اور امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ قریبی مدت کے منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی تقرری اور اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کیا جائے، تاکہ اسے ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی اور بیرونی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ساختی اصلاحات  پر بریفنگ دی۔</strong></p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں فرسٹ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا شامل تھیں۔</p>
<p>ملاقاتوں کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف)، ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری وسیع تر اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، محصولات کے اہداف حاصل کیے گئے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>ملاقاتوں میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری، ٹیرف میں تدریجی اصلاح ، قرضوں کا انتظام، مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر بھی گفتگو کی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ملاقاتوں کے اختتام پر پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد اور اس کی پیش رفت کو تسلیم کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p><strong>امریکی ایگزم بینک کے سربراہ سے ملاقات</strong></p>
<p>دریں اثنا، واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ نے امریکی ایگزم بینک  کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے بھی ملاقات کی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور کپاس، سویابین سمیت زرعی اجناس اور ہائیڈروکاربنز کی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت ترجیحی منصوبوں کو یکجا کرنے، کئی سال پر مشتمل مالیاتی منصوبہ بندی تیار کرنے اور امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔</p>
<p>دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ قریبی مدت کے منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی تقرری اور اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کیا جائے، تاکہ اسے ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289073</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:42:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23103956343ca34.webp" type="image/webp" medium="image" height="1066" width="1599">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23103956343ca34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایندھن کی فراہمی کو دوبارہ خطرات لاحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیٹرولیم کا شعبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حکومت ایسے وقت میں روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کی طرف جا رہی ہے جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پیٹرول پمپ ڈیلرز اس تبدیلی پر ناراض ہیں کیونکہ نئے نظام کے تحت وہ اسٹاک  پر حاصل ہونے والا وہ اضافی منافع کھو دیں گے جو انہیں قیمتیں بڑھنے کی صورت میں پہلے حاصل ہوتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور تشویش تجارتی ذخائر میں کمی ہے، جو جون کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی، یا اس سے بھی کم، سطح پر آ چکے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں بند رہے تو چند ہی ہفتوں میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کسی حد تک پٹڑی سے اتر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھا چکی تھی اور زیادہ قیمتوں کے باوجود مختلف ذرائع سے سپلائی بھی یقینی بنا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے کفایت شعاری  کے اقدامات بھی نافذ کیے۔ یہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی تھی۔تاہم جب مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد قیمتیں گرنا شروع ہوئیں تو حکومت نے آہستہ آہستہ کفایت شعاری کے اقدامات واپس لینا شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ قیمتوں میں کمی اور کفایت شعاری میں نرمی مل کر طلب میں اضافہ کریں گی، اور بالکل یہی ہوا۔جولائی میں یومیہ اوسط طلب، جسے 21 ہزار ٹن رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، بڑھ کر تقریباً 25 ہزار ٹن یومیہ کی حقیقی فروخت تک پہنچ گئی، جبکہ درآمدات کم سطح پر منصوبہ بند کی گئی تھیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث ایران سے اسمگل ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات بھی تقریباً بند ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقتاً طلب میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیلرز اور مارکیٹ کے دیگر شرکا بھی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کے باعث اسٹاک بڑھا رہے ہیں تاکہ ممکنہ انوینٹری منافع  حاصل کر سکیں۔20 جولائی تک ملک میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر صرف 16 دن کی سپلائی کے برابر رہ گئے تھے، جبکہ راستے میں موجود کارگو شامل کیے جائیں تو یہ 23 دن بنتے ہیں۔ اسی طرح ڈیزل کے ذخائر 21 دن کی سطح پر آ گئے، جبکہ یکم جون کو یہی ذخائر بالترتیب 29 دن اور 44 دن کے برابر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہ صورتحال زیادہ تشویشناک محسوس نہیں ہوتی کیونکہ آئندہ چند ہفتوں تک حالات قابو میں ہیں۔ نئے کارگو راستے میں ہیں اور آئندہ دنوں میں ذخائر بڑھنے کی توقع ہے۔تاہم اگر طلب پر قابو نہ پایا گیا تو خطرات مسلسل بڑھتے جائیں گے۔آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے، اور خام تیل اب زیادہ تر باب المندب کے راستے پہنچ رہا ہے، جسے بھی حوثیوں کی جانب سے بند کیے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایسا ہوا تو خام تیل کی درآمدات کم ہو جائیں گی، جس سے ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی پیداوار متاثر ہوگی، کیونکہ اس کا تقریباً 70 فیصد ملک کے اندر ریفائن کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی کمی کو پورا کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کا صرف 30 فیصد ملک میں ریفائن ہوتا ہے اور باقی ضرورت عمان اور سنگاپور سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، پیٹرول پمپ ڈیلرز نے روزانہ قیمتوں کے نظام کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ماہانہ قیمتوں کے تعین کا پرانا نظام بحال کیا جائے۔حکومت اور پیٹرولیم صنعت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف غیر معقول ہے، اور روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ بہتر ہے۔اس نئے نظام میں ڈیلرز کو بنیادی طور پر فی لیٹر 8 روپے کے مقررہ منافع  انحصار کرنا ہوگا اور انہیں بڑے انوینٹری منافع سے دستبردار ہونا پڑے گا، تاہم یہی نظام قیمتیں کم ہونے کی صورت میں انہیں انوینٹری نقصانات سے بھی محفوظ رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود خدشہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار پیٹرول پمپوں میں سے ایک بڑی تعداد بند ہو سکتی ہے، جس سے خصوصاً چھوٹے شہروں میں سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح پیٹرولیم ذخائر میں کمی کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ مشکل وقت ہے۔ قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور سپلائی میں رکاوٹیں مزید سنگین ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر قومی اور معاشی مفاد میں حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب کم کرنے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیٹرولیم کا شعبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حکومت ایسے وقت میں روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کی طرف جا رہی ہے جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پیٹرول پمپ ڈیلرز اس تبدیلی پر ناراض ہیں کیونکہ نئے نظام کے تحت وہ اسٹاک  پر حاصل ہونے والا وہ اضافی منافع کھو دیں گے جو انہیں قیمتیں بڑھنے کی صورت میں پہلے حاصل ہوتا تھا۔</strong></p>
<p>ایک اور تشویش تجارتی ذخائر میں کمی ہے، جو جون کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً دو تہائی، یا اس سے بھی کم، سطح پر آ چکے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں بند رہے تو چند ہی ہفتوں میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کسی حد تک پٹڑی سے اتر گئی ہے۔</p>
<p>جب جنگ شروع ہوئی تو حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھا چکی تھی اور زیادہ قیمتوں کے باوجود مختلف ذرائع سے سپلائی بھی یقینی بنا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے کفایت شعاری  کے اقدامات بھی نافذ کیے۔ یہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی تھی۔تاہم جب مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد قیمتیں گرنا شروع ہوئیں تو حکومت نے آہستہ آہستہ کفایت شعاری کے اقدامات واپس لینا شروع کر دیے۔</p>
<p>بظاہر اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا کہ قیمتوں میں کمی اور کفایت شعاری میں نرمی مل کر طلب میں اضافہ کریں گی، اور بالکل یہی ہوا۔جولائی میں یومیہ اوسط طلب، جسے 21 ہزار ٹن رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، بڑھ کر تقریباً 25 ہزار ٹن یومیہ کی حقیقی فروخت تک پہنچ گئی، جبکہ درآمدات کم سطح پر منصوبہ بند کی گئی تھیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں خراب سیکیورٹی صورتحال کے باعث ایران سے اسمگل ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات بھی تقریباً بند ہو گئی ہیں۔</p>
<p>حقیقتاً طلب میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیلرز اور مارکیٹ کے دیگر شرکا بھی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کے باعث اسٹاک بڑھا رہے ہیں تاکہ ممکنہ انوینٹری منافع  حاصل کر سکیں۔20 جولائی تک ملک میں پیٹرول کے ذخائر کم ہو کر صرف 16 دن کی سپلائی کے برابر رہ گئے تھے، جبکہ راستے میں موجود کارگو شامل کیے جائیں تو یہ 23 دن بنتے ہیں۔ اسی طرح ڈیزل کے ذخائر 21 دن کی سطح پر آ گئے، جبکہ یکم جون کو یہی ذخائر بالترتیب 29 دن اور 44 دن کے برابر تھے۔</p>
<p>بظاہر یہ صورتحال زیادہ تشویشناک محسوس نہیں ہوتی کیونکہ آئندہ چند ہفتوں تک حالات قابو میں ہیں۔ نئے کارگو راستے میں ہیں اور آئندہ دنوں میں ذخائر بڑھنے کی توقع ہے۔تاہم اگر طلب پر قابو نہ پایا گیا تو خطرات مسلسل بڑھتے جائیں گے۔آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے، اور خام تیل اب زیادہ تر باب المندب کے راستے پہنچ رہا ہے، جسے بھی حوثیوں کی جانب سے بند کیے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>اگر ایسا ہوا تو خام تیل کی درآمدات کم ہو جائیں گی، جس سے ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی پیداوار متاثر ہوگی، کیونکہ اس کا تقریباً 70 فیصد ملک کے اندر ریفائن کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی کمی کو پورا کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کا صرف 30 فیصد ملک میں ریفائن ہوتا ہے اور باقی ضرورت عمان اور سنگاپور سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری طرف، پیٹرول پمپ ڈیلرز نے روزانہ قیمتوں کے نظام کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ماہانہ قیمتوں کے تعین کا پرانا نظام بحال کیا جائے۔حکومت اور پیٹرولیم صنعت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف غیر معقول ہے، اور روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ بہتر ہے۔اس نئے نظام میں ڈیلرز کو بنیادی طور پر فی لیٹر 8 روپے کے مقررہ منافع  انحصار کرنا ہوگا اور انہیں بڑے انوینٹری منافع سے دستبردار ہونا پڑے گا، تاہم یہی نظام قیمتیں کم ہونے کی صورت میں انہیں انوینٹری نقصانات سے بھی محفوظ رکھے گا۔</p>
<p>اس کے باوجود خدشہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار پیٹرول پمپوں میں سے ایک بڑی تعداد بند ہو سکتی ہے، جس سے خصوصاً چھوٹے شہروں میں سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی طرح پیٹرولیم ذخائر میں کمی کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ مشکل وقت ہے۔ قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور سپلائی میں رکاوٹیں مزید سنگین ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>وسیع تر قومی اور معاشی مفاد میں حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب کم کرنے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289072</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:33:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23103104e13c25a.webp" type="image/webp" medium="image" height="425" width="701">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23103104e13c25a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی صنعتی پالیسی درست سمت سے ہٹ گئی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289071/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت  کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے  کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات  کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست  نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت  پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں  کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط  کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع  بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق  کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔  اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی  میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات  پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش  شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید  سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز  کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ  اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست  کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری  پر مبنی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی  جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط  معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی  ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات  کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔</p>
<p>بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت  کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔</p>
<p>رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے  کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔</p>
<p>یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات  کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔</p>
<p>صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔</p>
<p>یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست  نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔</p>
<p>اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔</p>
<p>اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔</p>
<p>یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت  پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں  کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط  کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع  بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق  کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔  اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی  میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات  پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش  شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید  سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز  کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ  اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست  کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری  پر مبنی ہوں۔</p>
<p>جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی  جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط  معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی  ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات  کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289071</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:22:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231020017e5878d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231020017e5878d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، ایران کا سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289069/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران نے سیکیورٹی، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں سامنے آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں وزارت داخلہ پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ وفاقی کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں وزرائے داخلہ نے پہلے ون آن ون ملاقات کی اور پھر اپنے اپنے وفود کے ہمراہ تفصیلی مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مربوط اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے بالخصوص افغان سرحد سے متعلق سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی اقدامات دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ایف آئی اے، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران نے سیکیورٹی، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں سامنے آیا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں وزارت داخلہ پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ وفاقی کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں وزرائے داخلہ نے پہلے ون آن ون ملاقات کی اور پھر اپنے اپنے وفود کے ہمراہ تفصیلی مذاکرات کیے۔</p>
<p>ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مربوط اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔</p>
<p>فریقین نے بالخصوص افغان سرحد سے متعلق سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔</p>
<p>ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی اقدامات دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔</p>
<p>ایرانی وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ایف آئی اے، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289069</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:41:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23093957fe17751.webp" type="image/webp" medium="image" height="546" width="820">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23093957fe17751.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل اور حکومت کی اقتصادی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس  سے بڑھا کر بی  کر دی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بہتری معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں یہ بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، مالیاتی خسارہ کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات درست سمت میں گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی فیصلے کیے، جن کے مثبت نتائج کو اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ اس اپ گریڈ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس کامیابی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، معاشی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مضبوط اور پائیدار معاشی بنیادوں کے قیام کے لیے مکمل سنجیدگی اور عزم کے ساتھ اقتصادی اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل اور حکومت کی اقتصادی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم آفس کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس  سے بڑھا کر بی  کر دی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بہتری معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاس ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں یہ بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، مالیاتی خسارہ کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات درست سمت میں گامزن ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی فیصلے کیے، جن کے مثبت نتائج کو اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ اس اپ گریڈ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس کامیابی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، معاشی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مضبوط اور پائیدار معاشی بنیادوں کے قیام کے لیے مکمل سنجیدگی اور عزم کے ساتھ اقتصادی اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289068</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:36:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/230933383dbf5e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/230933383dbf5e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی بینک کا ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے علاقائی روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے جدید انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر اے ڈی بی نے پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے والے اس اہم منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹرز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی اے ڈی بی کے نائب صدور ینگ منگ یانگ، فاطمہ یاسمین، دیگر اعلیٰ حکام اور پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنشیتا محسن سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور انفرااسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبہ حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی قومی انفرااسٹرکچر اسکیم ہے۔ انہوں نے منصوبے کے لیے اے ڈی بی کی قیادت میں کنسورشیم فنانسنگ کی حمایت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ قرض کی منظوری اور منصوبے پر پیش رفت کے مراحل کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے نائب صدور نے اس منصوبے کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری، علاقائی روابط کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، رابطوں اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور امریکا۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری، عالمی توانائی، بحری سلامتی اور تجارتی سپلائی چینز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے علاقائی روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے جدید انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر اے ڈی بی نے پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے والے اس اہم منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹرز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی اے ڈی بی کے نائب صدور ینگ منگ یانگ، فاطمہ یاسمین، دیگر اعلیٰ حکام اور پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنشیتا محسن سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور انفرااسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبہ حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی قومی انفرااسٹرکچر اسکیم ہے۔ انہوں نے منصوبے کے لیے اے ڈی بی کی قیادت میں کنسورشیم فنانسنگ کی حمایت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ قرض کی منظوری اور منصوبے پر پیش رفت کے مراحل کو تیز کیا جائے۔</p>
<p>اے ڈی بی کے نائب صدور نے اس منصوبے کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری، علاقائی روابط کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>دریں اثنا اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، رابطوں اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور امریکا۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری، عالمی توانائی، بحری سلامتی اور تجارتی سپلائی چینز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289067</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:28:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2309262299fc53f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2309262299fc53f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی، ڈالر مستحکم، ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر اور شرح سود سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، معمولی 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 101.05 پر آ گیا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ڈالر کی مجموعی طلب کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 95.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1418 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد بڑھ کر 0.7012 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ تقریباً 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3383 ڈالر پر پہنچ گیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد کمی کے بعد 65,741 ڈالر جبکہ ایتھر 1,925 ڈالر پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 163.1 کی سطح پر رہا، جو تقریباً 40 برس کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت زرمبادلہ مارکیٹ میں فیصلہ کن مداخلت کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جمعرات کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر اور شرح سود سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دی۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، معمولی 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 101.05 پر آ گیا۔ تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ڈالر کی مجموعی طلب کو سہارا دیا۔</p>
<p>ادھر برینٹ خام تیل کی قیمت 1.3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 95.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے دعوؤں نے عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔</p>
<p>بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث امریکی دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے۔</p>
<p>یورو 0.07 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1418 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد بڑھ کر 0.7012 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ تقریباً 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1.3383 ڈالر پر پہنچ گیا۔ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد کمی کے بعد 65,741 ڈالر جبکہ ایتھر 1,925 ڈالر پر آ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں 163.1 کی سطح پر رہا، جو تقریباً 40 برس کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت زرمبادلہ مارکیٹ میں فیصلہ کن مداخلت کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289066</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:10:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23090841dbbf740.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23090841dbbf740.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، سونے کی قیمتوں میں اضافہ رک گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289065/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں جمعرات کو سونے کی قیمتیں تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آئندہ ہفتے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے اجلاس پر سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز رہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ  معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,133.39 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ گزشتہ سیشن میں سونے کی قیمت 4,165.87 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی، جو 7 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,136.80 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ڈیڑھ فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی ڈالر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ اسی دوران دو سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، کیونکہ مہنگے تیل سے افراطِ زر دوبارہ بڑھنے اور شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا، جہاں شرح سود برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم فیوچر مارکیٹ سال کے اختتام تک کم از کم ایک مرتبہ شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کر رہی ہے۔ بلند شرح سود غیر منافع بخش اثاثے ہونے کی وجہ سے سونے کی کشش کو کم کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 59.78 ڈالر، پلاٹینم 0.1 فیصد بڑھ کر 1,646.57 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 0.4 فیصد اضافے کے بعد 1,296.50 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں جمعرات کو سونے کی قیمتیں تقریباً دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آئندہ ہفتے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے اجلاس پر سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز رہیں۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ  معمولی تبدیلی کے ساتھ 4,133.39 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ گزشتہ سیشن میں سونے کی قیمت 4,165.87 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی، جو 7 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,136.80 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔</p>
<p>ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ڈیڑھ فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی ڈالر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ اسی دوران دو سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، کیونکہ مہنگے تیل سے افراطِ زر دوبارہ بڑھنے اور شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا، جہاں شرح سود برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم فیوچر مارکیٹ سال کے اختتام تک کم از کم ایک مرتبہ شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کر رہی ہے۔ بلند شرح سود غیر منافع بخش اثاثے ہونے کی وجہ سے سونے کی کشش کو کم کر دیتی ہے۔</p>
<p>دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 59.78 ڈالر، پلاٹینم 0.1 فیصد بڑھ کر 1,646.57 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 0.4 فیصد اضافے کے بعد 1,296.50 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289065</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:53:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23085103c441a86.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23085103c441a86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی میں شدت، خام تیل چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو 1.5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں چھ ہفتوں سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ 94.07 ڈالر پر بند ہوا تھا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.44 ڈالر یا 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق اس نے ایران میں مسلسل بارہویں رات بھی حملے کیے۔ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکا ایران کے پل یا بجلی گھر کو نشانہ بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکر واپس مڑ گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے اور امریکی کارروائیاں جاری رہنے تک کوئی بھی جہاز ایران سے رابطے کے بغیر گزرنے کی اجازت نہیں پائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحری سلامتی سے متعلق اطلاعات کے مطابق سعودی پرچم بردار ٹینکر اینسیلیا بحیرۂ احمر میں حملے کی زد میں آیا۔ حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی وارننگ کے بعد تقریباً 10 جہاز واپس لوٹ گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی محکمۂ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر 20 لاکھ بیرل بڑھ گئے، جبکہ تجزیہ کار 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی کی توجہ سپلائی کے خطرات پر مرکوز رہی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو 1.5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں چھ ہفتوں سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ 94.07 ڈالر پر بند ہوا تھا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.44 ڈالر یا 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>امریکی فوج کے مطابق اس نے ایران میں مسلسل بارہویں رات بھی حملے کیے۔ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکا ایران کے پل یا بجلی گھر کو نشانہ بنائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکر واپس مڑ گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے اور امریکی کارروائیاں جاری رہنے تک کوئی بھی جہاز ایران سے رابطے کے بغیر گزرنے کی اجازت نہیں پائے گا۔</p>
<p>ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحری سلامتی سے متعلق اطلاعات کے مطابق سعودی پرچم بردار ٹینکر اینسیلیا بحیرۂ احمر میں حملے کی زد میں آیا۔ حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی وارننگ کے بعد تقریباً 10 جہاز واپس لوٹ گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ادھر امریکی محکمۂ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر 20 لاکھ بیرل بڑھ گئے، جبکہ تجزیہ کار 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی کی توجہ سپلائی کے خطرات پر مرکوز رہی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289064</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:44:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2308383841d5fcc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2308383841d5fcc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول 6.39 روپے اور ڈیزل 7.83 روپے مزید مہنگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت  نے نئے نظام کے تحت 23 جولائی کیلئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم ڈویژن  کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی  لٹر اضافہ کردیا جس سے پٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے سے بڑھ کر 327 روپے 12 پیسے فی لٹر ہو گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح  ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی  لٹر اضافہ کیا گیا  جس سے ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے سے بڑھ کر 375 روپے 4 پیسے فی  لٹر پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 23 جولائی کے لیے ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن حکومت کے نئے یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ایندھن کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق روزانہ بنیاد پر ردوبدل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت  نے نئے نظام کے تحت 23 جولائی کیلئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔</strong></p>
<p>پٹرولیم ڈویژن  کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی  لٹر اضافہ کردیا جس سے پٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے سے بڑھ کر 327 روپے 12 پیسے فی لٹر ہو گئی ۔</p>
<p>اسی طرح  ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی  لٹر اضافہ کیا گیا  جس سے ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے سے بڑھ کر 375 روپے 4 پیسے فی  لٹر پر پہنچ گئی۔</p>
<p>پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 23 جولائی کے لیے ہوں گی۔</p>
<p>نوٹیفکیشن حکومت کے نئے یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت ایندھن کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق روزانہ بنیاد پر ردوبدل کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289063</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 00:20:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23000824c7f8f58.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23000824c7f8f58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رحمت شاہ افغانستان کی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کے کپتان مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289062/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مڈل آرڈر بلے باز رحمت شاہ کو افغانستان کی ٹیسٹ اور ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) ٹیموں کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے بدھ کو اس کا اعلان کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت میں یہ تبدیلی حشمت اللہ شاہدی کے منگل کو کپتانی سے مستعفی ہونے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے ساتھ ان کا پانچ سالہ دور اختتام پذیر ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہدی کی قیادت میں افغانستان نے 2023 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ سابق عالمی چیمپئن انگلینڈ، پاکستان اور سری لنکا کو شکست دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا، ”افغانستان کرکٹ بورڈ حشمت اللہ شاہدی کی کپتان کی حیثیت سے خدمات، لگن اور قیادت کو سراہتا ہے اور ان کے آئندہ سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا، ”بین الاقوامی کرکٹ، قیادت اور ٹیم کے مجموعی ڈھانچے سے متعلق وسیع تجربے کی بدولت رحمت شاہ اس اہم ذمہ داری نبھانے کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رحمت شاہ، جو 2021 سے حشمت اللہ شاہدی کے نائب کپتان رہے ہیں، اپنی کپتانی کا آغاز آئندہ ماہ آئرلینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز سے کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مڈل آرڈر بلے باز رحمت شاہ کو افغانستان کی ٹیسٹ اور ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) ٹیموں کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ نے بدھ کو اس کا اعلان کیا۔</strong></p>
<p>قیادت میں یہ تبدیلی حشمت اللہ شاہدی کے منگل کو کپتانی سے مستعفی ہونے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے ساتھ ان کا پانچ سالہ دور اختتام پذیر ہوگیا۔</p>
<p>شاہدی کی قیادت میں افغانستان نے 2023 ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی، جبکہ سابق عالمی چیمپئن انگلینڈ، پاکستان اور سری لنکا کو شکست دی تھی۔</p>
<p>افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا، ”افغانستان کرکٹ بورڈ حشمت اللہ شاہدی کی کپتان کی حیثیت سے خدمات، لگن اور قیادت کو سراہتا ہے اور ان کے آئندہ سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔“</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا، ”بین الاقوامی کرکٹ، قیادت اور ٹیم کے مجموعی ڈھانچے سے متعلق وسیع تجربے کی بدولت رحمت شاہ اس اہم ذمہ داری نبھانے کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔“</p>
<p>رحمت شاہ، جو 2021 سے حشمت اللہ شاہدی کے نائب کپتان رہے ہیں، اپنی کپتانی کا آغاز آئندہ ماہ آئرلینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز سے کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289062</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 22:17:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2222120269080cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2222120269080cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سعودی عرب اور جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289061/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے بدھ کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ دھمکیاں آزادیٔ جہاز رانی کو نقصان پہنچانے، بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سمندری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول دفاعِ ذات کے حق میں قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ایک بار پھر مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے بدھ کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔</strong></p>
<p>دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ دھمکیاں آزادیٔ جہاز رانی کو نقصان پہنچانے، بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔</p>
<p>وزارت نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سمندری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول دفاعِ ذات کے حق میں قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>پاکستان نے ایک بار پھر مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289061</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:19:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23091834493758f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23091834493758f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے چھوٹے جوہری ری ایکٹرز منصوبے پر پیش رفت تیز کر دی، 2033 تک پانچ یونٹس نصب کرنے کا ہدف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کر دی ہے اور 2033 تک کم از کم پانچ ری ایکٹرز فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، کیونکہ ملک بجلی کی پیداوار کے لیے فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز اس وقت 220 میگاواٹ کے بھارت اسمال ماڈیولر ری ایکٹر، 55 میگاواٹ کے ایک ری ایکٹر اور ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر پر کام کر رہا ہے، جسے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی توانائی کے محکمے کے وزیر جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ میں تحریری جواب میں بتایا کہ اٹامک انرجی کمیشن نے مہاراشٹر کے علاقے تاراپور کو 220 میگاواٹ اور 55 میگاواٹ کے منصوبوں کے لیے مقام کے طور پر منظور کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صاف توانائی کے استعمال میں توسیع کا خواہاں بھارت گزشتہ سال نجی شعبے کی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے جوہری بجلی پیدا کرنے کا شعبہ کھول چکا ہے۔ ملک کا ہدف موجودہ 8.8 گیگاواٹ کے مقابلے میں 2047 تک جوہری بجلی کی پیداواری صلاحیت 100 گیگاواٹ تک بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر کے مطابق بھارت 2031-32 تک اپنی نصب شدہ جوہری پیداواری صلاحیت کو تقریباً 22 گیگاواٹ تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اہم کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا، روس اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک اس وقت چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز تیار کر رہے ہیں، جنہیں صنعتوں کو صاف توانائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ادارہ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا، جو اس وقت ملک میں جوہری بجلی گھروں کا واحد آپریٹر ہے، 50 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ سرکاری کمپنی این ٹی پی سی بھی 30 گیگاواٹ جوہری بجلی کی صلاحیت قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اڈانی گروپ سمیت متعدد نجی کمپنیاں، جن میں ٹاٹا پاور اور ریلائنس انڈسٹریز بھی شامل ہیں، اس شعبے میں سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آرز) کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کر دی ہے اور 2033 تک کم از کم پانچ ری ایکٹرز فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، کیونکہ ملک بجلی کی پیداوار کے لیے فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔</strong></p>
<p>بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز اس وقت 220 میگاواٹ کے بھارت اسمال ماڈیولر ری ایکٹر، 55 میگاواٹ کے ایک ری ایکٹر اور ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر پر کام کر رہا ہے، جسے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایٹمی توانائی کے محکمے کے وزیر جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ میں تحریری جواب میں بتایا کہ اٹامک انرجی کمیشن نے مہاراشٹر کے علاقے تاراپور کو 220 میگاواٹ اور 55 میگاواٹ کے منصوبوں کے لیے مقام کے طور پر منظور کر لیا ہے۔</p>
<p>صاف توانائی کے استعمال میں توسیع کا خواہاں بھارت گزشتہ سال نجی شعبے کی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے جوہری بجلی پیدا کرنے کا شعبہ کھول چکا ہے۔ ملک کا ہدف موجودہ 8.8 گیگاواٹ کے مقابلے میں 2047 تک جوہری بجلی کی پیداواری صلاحیت 100 گیگاواٹ تک بڑھانا ہے۔</p>
<p>وزیر کے مطابق بھارت 2031-32 تک اپنی نصب شدہ جوہری پیداواری صلاحیت کو تقریباً 22 گیگاواٹ تک لے جانا چاہتا ہے، جس میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اہم کردار ادا کریں گے۔</p>
<p>امریکا، روس اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک اس وقت چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز تیار کر رہے ہیں، جنہیں صنعتوں کو صاف توانائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>سرکاری ادارہ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا، جو اس وقت ملک میں جوہری بجلی گھروں کا واحد آپریٹر ہے، 50 گیگاواٹ پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ سرکاری کمپنی این ٹی پی سی بھی 30 گیگاواٹ جوہری بجلی کی صلاحیت قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اڈانی گروپ سمیت متعدد نجی کمپنیاں، جن میں ٹاٹا پاور اور ریلائنس انڈسٹریز بھی شامل ہیں، اس شعبے میں سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289060</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 21:06:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/222059420b9ae46.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/222059420b9ae46.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سے مذاکرات کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال مؤخر کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) نے بدھ کو حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر ہڑتال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک اور دور کے مذاکرات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے آئندہ دو ہفتوں میں پٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر ہڑتال مؤخر کر دی جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/UEuEL1LFgww'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/UEuEL1LFgww?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”28 فروری سے آج تک حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے تقریباً 100 ارب روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ معاشرے کے انتہائی کمزور طبقے کے لیے سبسڈی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے یہ بات امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جب ایسوسی ایشن نے یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بدھ کی شب سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے کہا، ”خطے پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال پر ان کی آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) کے عہدیداروں سے بات ہوئی، جنہوں نے حکومتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایران اور امریکا دونوں کے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کم کرنے میں مدد دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول پمپ مالکان کے تحفظات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کے مارجن کا معاملہ تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے ایک سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھی پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دو ہفتے بعد پٹرولیم شعبے کے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کا بھی جائزہ لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان نئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اسی روز سے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ ایندھن کی قیمتیں جاری کرے گی، جبکہ شفافیت بڑھانے کے لیے قیمتوں کی تفصیلی وضاحت اردو زبان میں بھی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) نے بدھ کو حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر ہڑتال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔</strong></p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک اور دور کے مذاکرات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے آئندہ دو ہفتوں میں پٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر ہڑتال مؤخر کر دی جائے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/UEuEL1LFgww'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/UEuEL1LFgww?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا، ”28 فروری سے آج تک حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے تقریباً 100 ارب روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ معاشرے کے انتہائی کمزور طبقے کے لیے سبسڈی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔“</p>
<p>وزیر مملکت نے یہ بات امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جب ایسوسی ایشن نے یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بدھ کی شب سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے کہا، ”خطے پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال پر ان کی آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) کے عہدیداروں سے بات ہوئی، جنہوں نے حکومتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایران اور امریکا دونوں کے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کم کرنے میں مدد دی جا سکے۔</p>
<p>پٹرول پمپ مالکان کے تحفظات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کے مارجن کا معاملہ تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے ایک سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھی پیش کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دو ہفتے بعد پٹرولیم شعبے کے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کا بھی جائزہ لے گی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان نئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اسی روز سے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ ایندھن کی قیمتیں جاری کرے گی، جبکہ شفافیت بڑھانے کے لیے قیمتوں کی تفصیلی وضاحت اردو زبان میں بھی فراہم کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289059</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:17:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23091746c704419.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23091746c704419.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، آبنائے ہرمز میں ہر جہاز کو نشانہ بنانے کے جواب میں پل اور بجلی گھر تباہ کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جب بھی تہران کسی بحری جہاز کو نشانہ بنائے گا، امریکا اس کے جواب میں ایران کے کسی پل یا بجلی گھر پر حملہ کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/221916021250e21.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/221916021250e21.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”جب بھی اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرے گا، امریکا ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو بمباری کر کے تباہ کر دے گا، خواہ وہ تہران سمیت دارالحکومت کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ طے پانے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حملوں میں شدت آ گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش مزید گہری ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ دوبارہ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، بین الاقوامی قانون کے متعدد ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، کیونکہ عالمی قوانین کے تحت شہری تنصیبات پر حملوں کی ممانعت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جب بھی تہران کسی بحری جہاز کو نشانہ بنائے گا، امریکا اس کے جواب میں ایران کے کسی پل یا بجلی گھر پر حملہ کرے گا۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/221916021250e21.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/221916021250e21.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”جب بھی اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ہتھیار سے حملہ کرے گا، امریکا ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو بمباری کر کے تباہ کر دے گا، خواہ وہ تہران سمیت دارالحکومت کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔“</p>
<p>گزشتہ ماہ طے پانے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حملوں میں شدت آ گئی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش مزید گہری ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ دوبارہ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، بین الاقوامی قانون کے متعدد ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، کیونکہ عالمی قوانین کے تحت شہری تنصیبات پر حملوں کی ممانعت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289058</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 19:40:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22191807e5cc79a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22191807e5cc79a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف کا مقامی روبوٹکس ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے قومی جدت طرازی کا نظام قائم کرنے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289056/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قومی جدت طرازی کے ایک متحدہ نظام کا حصہ بنیں اور پاکستان میں مقامی علم اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”انڈس آر اے ایس – روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے انقلاب سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، تاہم یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہماری جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور کسان ایک ایسے قومی جدت طرازی کے نظام کا حصہ بنیں جہاں ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی ہو، پاکستان کی ملکیت ہو اور ملک ہی میں مسلسل آگے بڑھایا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے زور دیا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کا انقلاب صرف ترقی یافتہ معیشتوں، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور گلوبل ساؤتھ میں کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان جدت کاروں اور محروم طبقات کی زندگی بہتر بنا کر جامع معاشی ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہمیں واضح ریگولیٹری اور اخلاقی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا تاکہ خودکار نظام محفوظ، قابلِ اعتماد، شفاف ہوں اور ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں استعمال کیے جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ، جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین، مختلف برانڈز، کمپنیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس موقع پر دو اہم حکومتی اقدامات کا بھی اعلان کیا، جن کا مقصد ملک میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے مستقبل کو نئی سمت دینا ہے۔ ان میں ”اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام“ کا اجرا شامل ہے، جس کے تحت پاکستان کی تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی کاروباری اداروں اور اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی ملازمتوں میں تبدیل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 20 ملین ڈالر کے ابتدائی سرمائے سے پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد ملک کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جس روبوٹس اور خودکار مشینوں کے مستقبل کا خواہاں ہے، وہ محض ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ 25 کروڑ باہمت عوام کی کہانی ہے، جو نئے امکانات تلاش کرنے، عالمی مقابلے میں آگے بڑھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنے کے عزم سے سرشار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”یہ دراصل ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کی کہانی ہے، جن کے خواب تجسس کی چنگاری سے روشن ہوتے ہیں، جن کی صلاحیتیں بے حد و حساب ہیں اور جن کی اختراعی سوچ پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایسے تاریخی موقع پر کھڑا ہے جسے ”ہم نہ گنوائیں گے اور نہ ہی گنوانے دیں گے، ان شاء اللہ“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”پاکستان ایسا ملک نہیں ہوگا جو دوسروں کے فیصلوں کا صرف وارث بنے، بلکہ ہم جدت، کاروباری صلاحیت، خودانحصاری اور انتھک محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود رقم کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مسلسل محنت، عزم اور قربانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان تعمیر کیا جائے گا، جس پر ہماری آئندہ نسلیں فخر کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انڈس آر اے ایس ایکسپو کو ”ایک تاریخی اقدام“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز میں نمایاں مقام حاصل کرے گا جو اکیسویں صدی کی سمت کا تعین کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی تھی، جس میں حکومتوں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، محققین اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے مستقبل کی سمت متعین کرنے پر غور کیا۔ ان کے بقول آر اے ایس ایکسپو نے اس وژن کو عملی شکل دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جدت کو ایسے قابلِ عمل حل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو معیشت کو مضبوط، قومی سلامتی کو مستحکم اور عوام کی زندگی کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم تاریخ کے ایک غیرمعمولی دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں مشینیں اب صرف حساب کتاب نہیں کرتیں بلکہ دیکھ سکتی ہیں، فیصلے کر سکتی ہیں اور تیزی سے عمل بھی کر سکتی ہیں۔ جو چیز کبھی محض تصور سمجھی جاتی تھی، آج ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کسان قدرتی حالات کے رحم و کرم پر ہوتے تھے اور انہیں پانی کی قلت، پیداواری لاگت میں اضافے، چھوٹے زرعی رقبوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی بدولت زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جبکہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی یہی ٹیکنالوجی ایسے علاقوں تک رسائی اور انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوئی جہاں سڑکیں اور پل بہہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں مقامی خودکار صلاحیتوں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک قیادت میں ہماری مسلح افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجیز اختیار کی ہیں، جن میں سے بعض کا مظاہرہ میں نے اس ہال کے باہر خود دیکھا۔ میں نے ایسے سیمولیٹرز دیکھے جو سو فیصد پاکستان میں تیار اور اسمبل کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرونز کی مقامی تیاری کا تناسب 60 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، ماہرین، پیشہ ور افراد اور ٹیکنوکریٹس کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کے تعاون سے جدید خودکار نظاموں کے مؤثر استعمال کے ذریعے ملکی سرحدوں اور سائبر محاذ کا بھرپور دفاع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کے تحفظ کا غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے بلکہ جدید خودکار دفاعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے مقامی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور عملی استعداد بھی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”یہ دفاعی پیش رفت ہماری قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے، جو ہمارے دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط، ناقابلِ تسخیر اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر بنائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کرنے والے ممالک ہی مستقبل کی عالمی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین پر اپنی ملکیت قائم کرے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خودانحصاری قومی فیصلہ ہے اور اب اس پر عملدرآمد کا وقت آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا واضح وژن اختیار کیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت، روزگار اور قومی مسابقت کی اصل محرک بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہی ہے جہاں وہ عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا، جو ہماری صنعت کی مضبوطی اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اسی دوران پاکستان ای-گورننس ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 14 درجے اور آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 27 درجے بہتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قومی جدت طرازی کے ایک متحدہ نظام کا حصہ بنیں اور پاکستان میں مقامی علم اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔</strong></p>
<p>”انڈس آر اے ایس – روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے انقلاب سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، تاہم یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہماری جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور کسان ایک ایسے قومی جدت طرازی کے نظام کا حصہ بنیں جہاں ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی ہو، پاکستان کی ملکیت ہو اور ملک ہی میں مسلسل آگے بڑھایا جائے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے زور دیا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کا انقلاب صرف ترقی یافتہ معیشتوں، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور گلوبل ساؤتھ میں کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان جدت کاروں اور محروم طبقات کی زندگی بہتر بنا کر جامع معاشی ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔</p>
<p>ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہمیں واضح ریگولیٹری اور اخلاقی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا تاکہ خودکار نظام محفوظ، قابلِ اعتماد، شفاف ہوں اور ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں استعمال کیے جائیں۔“</p>
<p>وزیراعظم نے جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ، جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔</p>
<p>تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین، مختلف برانڈز، کمپنیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس موقع پر دو اہم حکومتی اقدامات کا بھی اعلان کیا، جن کا مقصد ملک میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے مستقبل کو نئی سمت دینا ہے۔ ان میں ”اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام“ کا اجرا شامل ہے، جس کے تحت پاکستان کی تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی کاروباری اداروں اور اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی ملازمتوں میں تبدیل کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے 20 ملین ڈالر کے ابتدائی سرمائے سے پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد ملک کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جس روبوٹس اور خودکار مشینوں کے مستقبل کا خواہاں ہے، وہ محض ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ 25 کروڑ باہمت عوام کی کہانی ہے، جو نئے امکانات تلاش کرنے، عالمی مقابلے میں آگے بڑھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنے کے عزم سے سرشار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”یہ دراصل ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کی کہانی ہے، جن کے خواب تجسس کی چنگاری سے روشن ہوتے ہیں، جن کی صلاحیتیں بے حد و حساب ہیں اور جن کی اختراعی سوچ پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔“</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایسے تاریخی موقع پر کھڑا ہے جسے ”ہم نہ گنوائیں گے اور نہ ہی گنوانے دیں گے، ان شاء اللہ“۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”پاکستان ایسا ملک نہیں ہوگا جو دوسروں کے فیصلوں کا صرف وارث بنے، بلکہ ہم جدت، کاروباری صلاحیت، خودانحصاری اور انتھک محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود رقم کریں گے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مسلسل محنت، عزم اور قربانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان تعمیر کیا جائے گا، جس پر ہماری آئندہ نسلیں فخر کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے انڈس آر اے ایس ایکسپو کو ”ایک تاریخی اقدام“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز میں نمایاں مقام حاصل کرے گا جو اکیسویں صدی کی سمت کا تعین کریں گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی تھی، جس میں حکومتوں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، محققین اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے مستقبل کی سمت متعین کرنے پر غور کیا۔ ان کے بقول آر اے ایس ایکسپو نے اس وژن کو عملی شکل دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جدت کو ایسے قابلِ عمل حل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو معیشت کو مضبوط، قومی سلامتی کو مستحکم اور عوام کی زندگی کو بہتر بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم تاریخ کے ایک غیرمعمولی دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں مشینیں اب صرف حساب کتاب نہیں کرتیں بلکہ دیکھ سکتی ہیں، فیصلے کر سکتی ہیں اور تیزی سے عمل بھی کر سکتی ہیں۔ جو چیز کبھی محض تصور سمجھی جاتی تھی، آج ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کسان قدرتی حالات کے رحم و کرم پر ہوتے تھے اور انہیں پانی کی قلت، پیداواری لاگت میں اضافے، چھوٹے زرعی رقبوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی بدولت زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جبکہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی یہی ٹیکنالوجی ایسے علاقوں تک رسائی اور انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوئی جہاں سڑکیں اور پل بہہ گئے تھے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں مقامی خودکار صلاحیتوں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک قیادت میں ہماری مسلح افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجیز اختیار کی ہیں، جن میں سے بعض کا مظاہرہ میں نے اس ہال کے باہر خود دیکھا۔ میں نے ایسے سیمولیٹرز دیکھے جو سو فیصد پاکستان میں تیار اور اسمبل کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرونز کی مقامی تیاری کا تناسب 60 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، ماہرین، پیشہ ور افراد اور ٹیکنوکریٹس کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کے تعاون سے جدید خودکار نظاموں کے مؤثر استعمال کے ذریعے ملکی سرحدوں اور سائبر محاذ کا بھرپور دفاع کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کے تحفظ کا غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے بلکہ جدید خودکار دفاعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے مقامی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور عملی استعداد بھی رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”یہ دفاعی پیش رفت ہماری قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے، جو ہمارے دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط، ناقابلِ تسخیر اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر بنائے گی۔“</p>
<p>اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کرنے والے ممالک ہی مستقبل کی عالمی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین پر اپنی ملکیت قائم کرے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خودانحصاری قومی فیصلہ ہے اور اب اس پر عملدرآمد کا وقت آ چکا ہے۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا واضح وژن اختیار کیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت، روزگار اور قومی مسابقت کی اصل محرک بن چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہی ہے جہاں وہ عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا، جو ہماری صنعت کی مضبوطی اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اسی دوران پاکستان ای-گورننس ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 14 درجے اور آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 27 درجے بہتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289056</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 19:03:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22185232ab42e1f.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22185232ab42e1f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی مزید متاثر ہوگئی ، مارکو روبیو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289057/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے  کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے، جس کے باعث جاری تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کی دو اہم ترین آبی گزرگاہوں کو شدید متاثر کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد بحیرہ احمر میں ایشیا جانے والے مزید چار سعودی خام تیل بردار جہازوں نے اپنا راستہ بدل لیا ہے۔ ایران کی جانب سے تنگہ ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اب روزانہ لاکھوں بیرل سعودی تیل ینبع بندرگاہ بھیجا جا رہا ہے، تاہم نہر سویز کا طویل راستہ ترسیل میں ہفتوں کی تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے مرکزی اور مغربی علاقوں میں حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ تہران نے کویت میں پانی اور توانائی کے مراکز اور کویت، بحرین و اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ بھی تیار ہے، وگرنہ اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے تنگہ ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو دنیا کے لیے خطرناک قرار دیا۔ دوسری طرف پاکستانی ثالثی میں 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان نے سعودی تیل کی برآمدات روکے جانے کی حوثی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑھتی کشیدگی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں اور انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے  کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے، جس کے باعث جاری تنازع نے عالمی سطح پر توانائی کی دو اہم ترین آبی گزرگاہوں کو شدید متاثر کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد بحیرہ احمر میں ایشیا جانے والے مزید چار سعودی خام تیل بردار جہازوں نے اپنا راستہ بدل لیا ہے۔ ایران کی جانب سے تنگہ ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اب روزانہ لاکھوں بیرل سعودی تیل ینبع بندرگاہ بھیجا جا رہا ہے، تاہم نہر سویز کا طویل راستہ ترسیل میں ہفتوں کی تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے مرکزی اور مغربی علاقوں میں حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ تہران نے کویت میں پانی اور توانائی کے مراکز اور کویت، بحرین و اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ بھی تیار ہے، وگرنہ اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے تنگہ ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو دنیا کے لیے خطرناک قرار دیا۔ دوسری طرف پاکستانی ثالثی میں 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان نے سعودی تیل کی برآمدات روکے جانے کی حوثی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔</p>
<p>اس بڑھتی کشیدگی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں اور انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289057</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 18:58:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/221849557d580e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/221849557d580e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، بھارت تجارتی معاہدے پر تین سے چار ماہ میں دستخط کر سکتے ہیں،امریکی عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289055/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تجارتی معاہدہ آئندہ تین سے چار ماہ میں طے پا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر منیلا میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا، ”معاہدہ تیار ہے، ہمارے پاس اس کا مسودہ موجود ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اب صرف واشنگٹن کی جانب سے سیکشن 301 کے تحت جاری تجارتی تحقیقات کی تکمیل باقی ہے۔ یہ قانون غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے متعلق ہے اور امریکا کو ٹیرف عائد کرنے یا دیگر جوابی اقدامات کا اختیار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور نئی دہلی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق معاہدہ تقریباً مکمل ہے اور تاخیر کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بنیادی اختلاف کے بجائے امریکا کی جاری تجارتی تحقیقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 60 ممالک پر مشتمل سیکشن 301 کی ایک تحقیق رواں یا آئندہ ہفتے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بقول، ”جیسے ہی یہ اور دیگر تحقیقات مکمل ہوں گی، نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی پیش رفت دیکھنے میں آئے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کی متوقع تکمیل کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا، ”شاید مزید تین سے چار ماہ۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واشنگٹن پہلے ہی بھارت سمیت درجنوں ممالک پر جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت روکنے میں ناکامی کے الزام میں 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ یکم اگست سے امریکا درآمد کی جانے والی جنیرک ادویات پر دو سال تک کوئی ٹیرف عائد نہیں کرے گا، تاہم اس کے بعد ایک سال کے لیے 100 فیصد اور پھر 200 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا، جس سے بھارت کی دواساز صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت جنیرک ادویات برآمد کرنے والے ممالک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، کیونکہ 2025 میں اس کی 25.8 ارب ڈالر مالیت کی دواساز برآمدات میں سے 9.7 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 38 فیصد، صرف امریکا کو برآمد کی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تجارتی معاہدہ آئندہ تین سے چار ماہ میں طے پا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔</strong></p>
<p>آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر منیلا میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا، ”معاہدہ تیار ہے، ہمارے پاس اس کا مسودہ موجود ہے۔“</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اب صرف واشنگٹن کی جانب سے سیکشن 301 کے تحت جاری تجارتی تحقیقات کی تکمیل باقی ہے۔ یہ قانون غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے متعلق ہے اور امریکا کو ٹیرف عائد کرنے یا دیگر جوابی اقدامات کا اختیار دیتا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن اور نئی دہلی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق معاہدہ تقریباً مکمل ہے اور تاخیر کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بنیادی اختلاف کے بجائے امریکا کی جاری تجارتی تحقیقات ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 60 ممالک پر مشتمل سیکشن 301 کی ایک تحقیق رواں یا آئندہ ہفتے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بقول، ”جیسے ہی یہ اور دیگر تحقیقات مکمل ہوں گی، نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی پیش رفت دیکھنے میں آئے گی۔“</p>
<p>معاہدے کی متوقع تکمیل کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا، ”شاید مزید تین سے چار ماہ۔“</p>
<p>دوسری جانب واشنگٹن پہلے ہی بھارت سمیت درجنوں ممالک پر جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت روکنے میں ناکامی کے الزام میں 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دے چکا ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ یکم اگست سے امریکا درآمد کی جانے والی جنیرک ادویات پر دو سال تک کوئی ٹیرف عائد نہیں کرے گا، تاہم اس کے بعد ایک سال کے لیے 100 فیصد اور پھر 200 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا، جس سے بھارت کی دواساز صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بھارت جنیرک ادویات برآمد کرنے والے ممالک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، کیونکہ 2025 میں اس کی 25.8 ارب ڈالر مالیت کی دواساز برآمدات میں سے 9.7 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 38 فیصد، صرف امریکا کو برآمد کی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289055</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 18:21:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/221817082204ecf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/221817082204ecf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ہم منصب روبیو سے جمعرات کو منیلا میں ملاقات ہوگی، روسی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289054/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو منیلا میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاوروف نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ ملاقات ہر صورت مفید ہوگی۔ سوالات پوچھنا اور ان کے جوابات حاصل کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات جمعرات کی صبح فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماسکو نے اپنے اہم اتحادی ایران پر امریکا کے حالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہو گئی ہے اور روس بدستور اس مطالبے پر قائم ہے کہ یوکرین اپنے مزید علاقے اس کے حوالے کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے، جنہوں نے بتایا کہ عشائیے کے دوران ان کی لاوروف سے مختصر ملاقات ہوئی، منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں یوکرین کی جنگ پر بھی بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”میرے خیال میں یوکرین کی جنگ نے کئی حوالوں سے روس اور امریکا کے لیے دیگر معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا، ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ممکنہ تعاون کے دیگر شعبوں کی تلاش نہیں کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”اسی کے ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ یوکرین کی جنگ اپنے انجام کو پہنچے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”لہٰذا ہم یہ معاملہ اٹھائیں گے اور امریکا اس جنگ کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے بدستور تیار اور آمادہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی جانب سے روس کی توانائی تنصیبات پر طویل فاصلے تک حملوں کی مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنگ میں ایسا رخ آ سکتا ہے جو بالآخر اس کے خاتمے کا سبب بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے نتیجے میں دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل روس کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو منیلا میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>لاوروف نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ ملاقات ہر صورت مفید ہوگی۔ سوالات پوچھنا اور ان کے جوابات حاصل کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات جمعرات کی صبح فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ہوگی۔</p>
<p>ماسکو نے اپنے اہم اتحادی ایران پر امریکا کے حالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہو گئی ہے اور روس بدستور اس مطالبے پر قائم ہے کہ یوکرین اپنے مزید علاقے اس کے حوالے کرے۔</p>
<p>روبیو نے، جنہوں نے بتایا کہ عشائیے کے دوران ان کی لاوروف سے مختصر ملاقات ہوئی، منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں یوکرین کی جنگ پر بھی بات کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”میرے خیال میں یوکرین کی جنگ نے کئی حوالوں سے روس اور امریکا کے لیے دیگر معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔“</p>
<p>ان کا کہنا تھا، ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ممکنہ تعاون کے دیگر شعبوں کی تلاش نہیں کریں گے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”اسی کے ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ یوکرین کی جنگ اپنے انجام کو پہنچے۔“</p>
<p>”لہٰذا ہم یہ معاملہ اٹھائیں گے اور امریکا اس جنگ کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے بدستور تیار اور آمادہ ہے۔“</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی جانب سے روس کی توانائی تنصیبات پر طویل فاصلے تک حملوں کی مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنگ میں ایسا رخ آ سکتا ہے جو بالآخر اس کے خاتمے کا سبب بنے۔</p>
<p>ان حملوں کے نتیجے میں دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل روس کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289054</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 17:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/221722168a0c394.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/221722168a0c394.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی نئی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی: جی ایم ٹی اینز اور بین الاقوامی صکوک کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289053/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) اور بین الاقوامی صکوک پروگراموں کے لیے بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیمز کی تقرری محض مالیاتی مشیروں کے انتخاب تک محدود نہیں۔ یہ اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ ملک ضرورت پڑنے پر دوبارہ عالمی قرض مارکیٹوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقرریاں، جو تین سال کے لیے مؤثر ہوں گی، حکومت کو عالمی سرمایہ کاری بینکوں کے ساتھ مل کر یورو بانڈز، بین الاقوامی صکوک اور روپے مالیت مگر امریکی ڈالر میں تصفیہ ہونے والے بانڈز سمیت خودمختار قرضہ جاتی سیکیورٹیز کے ممکنہ اجرا کی تیاری کا موقع فراہم کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حکمتِ عملی کا محور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایم ٹی این پروگرام دراصل ایک ایسا پہلے سے منظور شدہ فریم ورک ہوتا ہے، جس کے تحت حکومتیں اور کمپنیاں ہر مرتبہ قرض لینے کے لیے نئی قانونی اور دستاویزی کارروائی مکمل کیے بغیر عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز جاری کر سکتی ہیں۔ ایک مرتبہ یہ پروگرام قائم ہو جائے اور تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کر لیے جائیں تو موزوں مارکیٹ حالات میں عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں ممکن ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایم ٹی این بذاتِ خود نہ قرض ہے اور نہ ہی بانڈ، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے تحت کئی برسوں کے دوران مختلف کرنسیوں، مختلف مدتِ میعاد اور مختلف حجم کے بانڈز جاری کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی قرض کے حصول کے ساتھ ساتھ پاکستان بین الاقوامی صکوک کے اجرا کی تیاری بھی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صکوک اسلامی مالیاتی دستاویز ہے، جو معاشی اعتبار سے روایتی بانڈ جیسا کردار ادا کرتا ہے، تاہم اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے، جہاں سود کی ادائیگی ممنوع ہے۔ سود وصول کرنے کے بجائے سرمایہ کاروں کو بنیادی اثاثوں یا معاہداتی نقد بہاؤ سے منسلک منافع حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی صکوک کے ذریعے پاکستان جیسے ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی مالیاتی منڈیوں کے ان سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جہاں شریعت سے ہم آہنگ سرمایہ کاری کی طلب نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق حالیہ تقرریوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان فوری طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں سے فنڈز حاصل کرنے جا رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد مستحکم، متنوع اور پائیدار بیرونی مالیاتی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے بروقت رجوع کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں، مضبوط زرمبادلہ ذخائر، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کا عکاس بھی ہے، جن کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے لیے دوبارہ عالمی قرض مارکیٹوں میں واپسی کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) اور بین الاقوامی صکوک پروگراموں کے لیے بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیمز کی تقرری محض مالیاتی مشیروں کے انتخاب تک محدود نہیں۔ یہ اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ ملک ضرورت پڑنے پر دوبارہ عالمی قرض مارکیٹوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ تقرریاں، جو تین سال کے لیے مؤثر ہوں گی، حکومت کو عالمی سرمایہ کاری بینکوں کے ساتھ مل کر یورو بانڈز، بین الاقوامی صکوک اور روپے مالیت مگر امریکی ڈالر میں تصفیہ ہونے والے بانڈز سمیت خودمختار قرضہ جاتی سیکیورٹیز کے ممکنہ اجرا کی تیاری کا موقع فراہم کریں گی۔</p>
<p>اس حکمتِ عملی کا محور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام ہے۔</p>
<p>جی ایم ٹی این پروگرام دراصل ایک ایسا پہلے سے منظور شدہ فریم ورک ہوتا ہے، جس کے تحت حکومتیں اور کمپنیاں ہر مرتبہ قرض لینے کے لیے نئی قانونی اور دستاویزی کارروائی مکمل کیے بغیر عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز جاری کر سکتی ہیں۔ ایک مرتبہ یہ پروگرام قائم ہو جائے اور تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کر لیے جائیں تو موزوں مارکیٹ حالات میں عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں ممکن ہو جاتی ہے۔</p>
<p>جی ایم ٹی این بذاتِ خود نہ قرض ہے اور نہ ہی بانڈ، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے تحت کئی برسوں کے دوران مختلف کرنسیوں، مختلف مدتِ میعاد اور مختلف حجم کے بانڈز جاری کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>روایتی قرض کے حصول کے ساتھ ساتھ پاکستان بین الاقوامی صکوک کے اجرا کی تیاری بھی کر رہا ہے۔</p>
<p>صکوک اسلامی مالیاتی دستاویز ہے، جو معاشی اعتبار سے روایتی بانڈ جیسا کردار ادا کرتا ہے، تاہم اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے، جہاں سود کی ادائیگی ممنوع ہے۔ سود وصول کرنے کے بجائے سرمایہ کاروں کو بنیادی اثاثوں یا معاہداتی نقد بہاؤ سے منسلک منافع حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی صکوک کے ذریعے پاکستان جیسے ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی مالیاتی منڈیوں کے ان سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جہاں شریعت سے ہم آہنگ سرمایہ کاری کی طلب نمایاں ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق حالیہ تقرریوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان فوری طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں سے فنڈز حاصل کرنے جا رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد مستحکم، متنوع اور پائیدار بیرونی مالیاتی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے بروقت رجوع کر سکے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں، مضبوط زرمبادلہ ذخائر، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کا عکاس بھی ہے، جن کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے لیے دوبارہ عالمی قرض مارکیٹوں میں واپسی کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289053</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 17:16:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170759f79fcd1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22170759f79fcd1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید مضبوط ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ اپنی بہتری کا سلسلہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 277.91 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو منگل کو  مقامی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا بدھ کو بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور امریکی ٹریژری ییلڈ نے ڈالر کو مزید مضبوط کردیا جس کی وجہ سے ین تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا اور تاجر ممکنہ جاپانی مداخلت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شب امریکی ڈالر نے بیشتر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں نمایاں مضبوطی حاصل کی جس کے باعث یورو عارضی طور پر 1.14 ڈالر سے بھی نیچے چلا گیا۔ بعد ازاں ڈالر اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا جبکہ امریکی افواج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمتِ عملی کی ماہر سمارا حمود نے کہا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت اور تیل کی قیمتوں سے اس کے عمومی مثبت تعلق کے باعث امریکی ڈالر کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو کی قدر آخری اطلاعات تک 1.1401 ڈالر رہی جبکہ آسٹریلوی ڈالر 70 امریکی سینٹ کی سطح کے قریب برقرار رہا اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5825 ڈالر کی اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے کچھ اوپر ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ بھی دباؤ کا شکار رہا اور 200 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے پھسل کر 1.3385 ڈالر تک آ گیا کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ برطانیہ کے نئے وزیرِ خزانہ جان ہیلی حکومتی اخراجات کے لیے مالی وسائل کیسے فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپیہ اپنی بہتری کا سلسلہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی بہتری سے 277.91 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو منگل کو  مقامی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا بدھ کو بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور امریکی ٹریژری ییلڈ نے ڈالر کو مزید مضبوط کردیا جس کی وجہ سے ین تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا اور تاجر ممکنہ جاپانی مداخلت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا رہے۔</p>
<p>گزشتہ شب امریکی ڈالر نے بیشتر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں نمایاں مضبوطی حاصل کی جس کے باعث یورو عارضی طور پر 1.14 ڈالر سے بھی نیچے چلا گیا۔ بعد ازاں ڈالر اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا جبکہ امریکی افواج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے جاری رکھے۔</p>
<p>کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی حکمتِ عملی کی ماہر سمارا حمود نے کہا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو محفوظ سرمایہ کاری کی حیثیت اور تیل کی قیمتوں سے اس کے عمومی مثبت تعلق کے باعث امریکی ڈالر کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔</p>
<p>یورو کی قدر آخری اطلاعات تک 1.1401 ڈالر رہی جبکہ آسٹریلوی ڈالر 70 امریکی سینٹ کی سطح کے قریب برقرار رہا اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5825 ڈالر کی اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے کچھ اوپر ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ بھی دباؤ کا شکار رہا اور 200 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے پھسل کر 1.3385 ڈالر تک آ گیا کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ برطانیہ کے نئے وزیرِ خزانہ جان ہیلی حکومتی اخراجات کے لیے مالی وسائل کیسے فراہم کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289052</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 16:12:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22161132862d6db.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22161132862d6db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں 10 دہشت گرد ہلاک، دو خواتین خودکش بمبار دھرلی گئیں، آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289051/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں قائم ”فتنہ الہندوستان“ اور“فتنہ الخوارج“ کے گٹھ جوڑ سے تعلق رکھنے والے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے تسلسل میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے باقی ماندہ عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع مشترکہ آپریشنز جاری ہیں۔بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقے کو پاک کرنے اور ہدف شدہ کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ضلع سوراب میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ضلع مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد ہلاک اور ایک سہولت کار سمیت دو خاتون خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل جولائی کے شروع میں بلوچستان میں تین بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں کم از کم 54 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف دہشت گردانہ حملوں میں 42 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ حالیہ حملے مخالف فورسز کی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں کی ایک منظم مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ حملے بھارت سے جڑی ان دشمن قوتوں کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی عزت، خوشحالی اور استحکام کو برداشت نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں قائم ”فتنہ الہندوستان“ اور“فتنہ الخوارج“ کے گٹھ جوڑ سے تعلق رکھنے والے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے تسلسل میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے باقی ماندہ عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع مشترکہ آپریشنز جاری ہیں۔بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقے کو پاک کرنے اور ہدف شدہ کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ضلع سوراب میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ضلع مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد ہلاک اور ایک سہولت کار سمیت دو خاتون خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا گیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل جولائی کے شروع میں بلوچستان میں تین بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں کم از کم 54 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف دہشت گردانہ حملوں میں 42 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ حالیہ حملے مخالف فورسز کی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں کی ایک منظم مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ حملے بھارت سے جڑی ان دشمن قوتوں کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی عزت، خوشحالی اور استحکام کو برداشت نہیں کر سکتیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289051</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 16:09:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22160144f436064.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22160144f436064.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289050/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے بدھ کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو مائنس بی سے بڑھا کر بی کردیا۔ ایجنسی نے اس بہتری کی وجہ ادارہ جاتی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کو قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک پاکستان کے بہتر سیاسی اور ادارہ جاتی ماحول کے بارے میں ہمارے نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ پائیدار معاشی اصلاحات مستحکم ترقی اور مالیاتی استحکام کے ایک طویل دور کا باعث بنیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ سرکاری ذرائع سے مسلسل مالی معاونت پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد فراہم کرے گی جبکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران ملک اپنی کمرشل کریڈٹ لائنز کی تجدید بھی جاری رکھنے میں کامیاب رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں سے محصولات کی وصولی میں بہتری آئی اور مالیاتی استحکام کا عمل تیز ہوا جس کے نتیجے میں قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی کے مطابق آئی ایم ایف کی حمایت سے نافذ کی جانے والی اصلاحات نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور مالیاتی و بیرونی شعبوں پر موجود دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی (ایس اینڈ پی) نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس نمو کو آئی ایم ایف پروگرام کی اصلاحات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران سے پیدا ہونے والے معمولی قیمتوں کے دباؤ کی مدد حاصل ہوگی۔ایس اینڈ پی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں سیاسی غیر یقینی صورتحال میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے مخلوط حکومت اصلاحات کو آگے بڑھانے اور بغیر کسی بڑے عوامی دباؤ کے آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اصلاحات پر پیشرفت سے اخراجات پر قابو رکھنے اور ٹیکس آمدنی کا دائرہ کار بڑھانے کی بہتر صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب بھی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2010 کی دہائی کے اوائل سے ملک کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن حالات خراب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، جیسا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نظر آیا، غلط فہمیوں اور ناگہانی جھڑپوں کا سبب بن سکتی ہے جو کریڈٹ کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریٹنگ میں بہتری ”اعتماد کا ووٹ“ ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے ریٹنگ میں اس بہتری کو پاکستان کی معاشی بحالی پر ایک اور بڑا اعتماد کا ووٹ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آخری بار 2016-17 کے دوران ”بی“ سوورن ریٹنگ پر تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2079881937695682935?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2079881937695682935%7Ctwgr%5Ee5828c362ac5f7620ec0a0e23657a1cf5fa31832%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431261'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2079881937695682935?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2079881937695682935%7Ctwgr%5Ee5828c362ac5f7620ec0a0e23657a1cf5fa31832%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431261"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی سائٹ  ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی نے پاکستان کی مضبوط ہوتی ہوئی ادارہ جاتی صلاحیت، اہم معاشی اصلاحات پر کامیاب عملدرآمد، تیز تر مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مستحکم میکرو اکنامک صورتحال کو ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: یہ مستحکم نقطہ نظر اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلسل اصلاحات سے پائیدار معاشی نمو اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے بدھ کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو مائنس بی سے بڑھا کر بی کردیا۔ ایجنسی نے اس بہتری کی وجہ ادارہ جاتی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کو قرار دیا۔</strong></p>
<p>ایس اینڈ پی نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک پاکستان کے بہتر سیاسی اور ادارہ جاتی ماحول کے بارے میں ہمارے نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ پائیدار معاشی اصلاحات مستحکم ترقی اور مالیاتی استحکام کے ایک طویل دور کا باعث بنیں گی۔</p>
<p>ایس اینڈ پی نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ سرکاری ذرائع سے مسلسل مالی معاونت پاکستان کو اپنی بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد فراہم کرے گی جبکہ آئندہ 12 ماہ کے دوران ملک اپنی کمرشل کریڈٹ لائنز کی تجدید بھی جاری رکھنے میں کامیاب رہے گا۔</p>
<p>ایجنسی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں سے محصولات کی وصولی میں بہتری آئی اور مالیاتی استحکام کا عمل تیز ہوا جس کے نتیجے میں قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔</p>
<p>ایس اینڈ پی کے مطابق آئی ایم ایف کی حمایت سے نافذ کی جانے والی اصلاحات نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور مالیاتی و بیرونی شعبوں پر موجود دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p><strong>جی ڈی پی کی شرح نمو 3.5 فیصد</strong></p>
<p>عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی (ایس اینڈ پی) نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس نمو کو آئی ایم ایف پروگرام کی اصلاحات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران سے پیدا ہونے والے معمولی قیمتوں کے دباؤ کی مدد حاصل ہوگی۔ایس اینڈ پی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں سیاسی غیر یقینی صورتحال میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے مخلوط حکومت اصلاحات کو آگے بڑھانے اور بغیر کسی بڑے عوامی دباؤ کے آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اصلاحات پر پیشرفت سے اخراجات پر قابو رکھنے اور ٹیکس آمدنی کا دائرہ کار بڑھانے کی بہتر صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب بھی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2010 کی دہائی کے اوائل سے ملک کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن حالات خراب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، جیسا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نظر آیا، غلط فہمیوں اور ناگہانی جھڑپوں کا سبب بن سکتی ہے جو کریڈٹ کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>ریٹنگ میں بہتری ”اعتماد کا ووٹ“ ہے</strong></p>
<p>مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے ریٹنگ میں اس بہتری کو پاکستان کی معاشی بحالی پر ایک اور بڑا اعتماد کا ووٹ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان آخری بار 2016-17 کے دوران ”بی“ سوورن ریٹنگ پر تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2079881937695682935?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2079881937695682935%7Ctwgr%5Ee5828c362ac5f7620ec0a0e23657a1cf5fa31832%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431261'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2079881937695682935?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2079881937695682935%7Ctwgr%5Ee5828c362ac5f7620ec0a0e23657a1cf5fa31832%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431261"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سماجی رابطے کی سائٹ  ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایس اینڈ پی نے پاکستان کی مضبوط ہوتی ہوئی ادارہ جاتی صلاحیت، اہم معاشی اصلاحات پر کامیاب عملدرآمد، تیز تر مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مستحکم میکرو اکنامک صورتحال کو ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا: یہ مستحکم نقطہ نظر اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلسل اصلاحات سے پائیدار معاشی نمو اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289050</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 16:54:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22154703023d19a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22154703023d19a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین میں سیلابی موسم عروج پر، شمالی علاقوں میں غیر معمولی بارشوں کا الرٹ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین میں ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک سیلابی موسم کے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ جولائی کے آخری ہفتے سے اگست کے اوائل تک شدید بارشوں کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی موسمیاتی مرکز کے مطابق شمالی چین، مشرقی اندرونی منگولیا اور شمال مشرقی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی، جبکہ بیجنگ، تیانجن اور ہیبی کے کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے 20 سے 50 فیصد زیادہ رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث بارشوں کا سلسلہ مغرب اور شمال کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جس سے مرطوب علاقوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے جیسے ثانوی خطرات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کی یونیورسٹی آف وکٹوریہ کے پروفیسر ژانگ شوئبن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب چین کے لیے مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا مسئلہ بن چکی ہے، اس لیے صرف روک تھام نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں چین کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ گزشتہ جمعہ جنوب مغربی شہر چونگ چنگ کے ضلع پنگ شوئی میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 34 افراد اب بھی لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی مرکز نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں غیر معمولی بارشیں اچانک سیلاب، شہری آبادیوں میں پانی جمع ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں، لہٰذا متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین میں ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک سیلابی موسم کے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ جولائی کے آخری ہفتے سے اگست کے اوائل تک شدید بارشوں کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔</strong></p>
<p>قومی موسمیاتی مرکز کے مطابق شمالی چین، مشرقی اندرونی منگولیا اور شمال مشرقی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی، جبکہ بیجنگ، تیانجن اور ہیبی کے کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے 20 سے 50 فیصد زیادہ رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث بارشوں کا سلسلہ مغرب اور شمال کی جانب منتقل ہو رہا ہے، جس سے مرطوب علاقوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے جیسے ثانوی خطرات بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>کینیڈا کی یونیورسٹی آف وکٹوریہ کے پروفیسر ژانگ شوئبن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب چین کے لیے مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا مسئلہ بن چکی ہے، اس لیے صرف روک تھام نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں چین کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ گزشتہ جمعہ جنوب مغربی شہر چونگ چنگ کے ضلع پنگ شوئی میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 34 افراد اب بھی لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔</p>
<p>موسمیاتی مرکز نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں غیر معمولی بارشیں اچانک سیلاب، شہری آبادیوں میں پانی جمع ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں، لہٰذا متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289048</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 15:45:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22154412549cd4e.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22154412549cd4e.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور چیمبر کا افریقی ممالک سے تجارتی روابط مضبوط بنانے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289047/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنزانیہ کے لیے نامزد پاکستانی ہائی کمشنر حسنین یوسف نے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد، نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ندیم انصاری اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کی جانب توجہ دینا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افریقہ ایک وسیع اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں پاکستانی مصنوعات، خصوصاً آٹو پارٹس، انجینئرنگ مصنوعات اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے نمایاں مواقع موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر نئی منڈیوں کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے انسانی وسائل کے لیے بھی افریقی ممالک میں وسیع مواقع موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہیم الرحمن سہگل نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد ترسیلاتِ زر خلیجی ممالک سے آتی ہیں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث متبادل منڈیوں اور مواقع کی تلاش ناگزیر ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افریقہ اور امریکی براعظم کے ممالک اربوں ڈالر کی درآمدات کرتے ہیں اور پاکستان کو ان منڈیوں میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نامزد ہائی کمشنر سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی برآمدات کے فروغ، کاروباری روابط کے استحکام اور سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد میں بھرپور تعاون فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اس حوالے سے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور نجی شعبہ نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر نامزد پاکستانی ہائی کمشنر حسنین یوسف نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افریقہ ایک ابھرتی ہوئی اور مواقع سے بھرپور مارکیٹ ہے جہاں پاکستانی کاروباری برادری کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تنزانیہ سمیت افریقی ممالک میں تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری تعاون اور پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسنین یوسف نے کہا کہ باہمی ٹیم ورک اور مسلسل رابطوں کے ذریعے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور وہ لاہور چیمبر اور پاکستانی کاروباری برادری کی ہر ممکن معاونت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تنزانیہ کے لیے نامزد پاکستانی ہائی کمشنر حسنین یوسف نے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</strong></p>
<p>اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد، نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ندیم انصاری اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔</p>
<p>صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کی جانب توجہ دینا ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افریقہ ایک وسیع اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں پاکستانی مصنوعات، خصوصاً آٹو پارٹس، انجینئرنگ مصنوعات اور دیگر صنعتی شعبوں کے لیے نمایاں مواقع موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر نئی منڈیوں کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے انسانی وسائل کے لیے بھی افریقی ممالک میں وسیع مواقع موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فہیم الرحمن سہگل نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد ترسیلاتِ زر خلیجی ممالک سے آتی ہیں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث متبادل منڈیوں اور مواقع کی تلاش ناگزیر ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افریقہ اور امریکی براعظم کے ممالک اربوں ڈالر کی درآمدات کرتے ہیں اور پاکستان کو ان منڈیوں میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے نامزد ہائی کمشنر سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی برآمدات کے فروغ، کاروباری روابط کے استحکام اور سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد میں بھرپور تعاون فراہم کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اس حوالے سے فعال کردار ادا کر رہا ہے اور نجی شعبہ نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر نامزد پاکستانی ہائی کمشنر حسنین یوسف نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افریقہ ایک ابھرتی ہوئی اور مواقع سے بھرپور مارکیٹ ہے جہاں پاکستانی کاروباری برادری کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تنزانیہ سمیت افریقی ممالک میں تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری تعاون اور پاکستانی افرادی قوت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>حسنین یوسف نے کہا کہ باہمی ٹیم ورک اور مسلسل رابطوں کے ذریعے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور وہ لاہور چیمبر اور پاکستانی کاروباری برادری کی ہر ممکن معاونت کریں گے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289047</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 15:37:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22143445fece329.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22143445fece329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
