<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 06:20:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 08 Aug 2026 06:20:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفاعی اور نجی شعبے میں اے آئی کا انضمام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289704/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں اسلام آباد میں انڈس آر اے ایس (روبوٹکس اینڈ خودمختار نظام) ایکسپو 2026 کے انعقاد نے نہ صرف ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی نمائش کا موقع فراہم کیا بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کی کہ پاکستان قومی ترقی اور سلامتی میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودمختار نظام کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی آٹومیشن اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ سے لے کر صحت عامہ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور دفاع تک، اے آئی تیزی سے ایک ایسی اسٹریٹجک صلاحیت بنتی جا رہی ہے جو ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ نوجوان اور تیزی سے وسعت پذیر ٹیکنالوجی کے شعبے اور پیچیدہ ہوتے علاقائی سکیورٹی ماحول کے حامل ملک کے لیے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور خودمختار نظاموں میں سرمایہ کاری محض ایک موقع نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی اے آئی کو بنیادی طور پر وائس اسسٹنٹس اور سفارشات دینے والے الگورتھمز تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسے دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے جنگ لڑنے کے طریقے اور فیصلہ سازی کا انداز تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ مسلح تنازعات کے مستقبل کے حوالے سے اہم اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا، چین، روس، اسرائیل، برطانیہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے متعدد اتحادی ممالک سمیت بڑی فوجی طاقتوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ نظام اب انٹیلی جنس کا تجزیہ کرنے، لاجسٹکس کو مربوط بنانے، فوجی اہداف کی نشاندہی کرنے، سائبر حملوں سے دفاع اور خودمختار یا نیم خودمختار گاڑیاں چلانے کے لیے تیزی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تیزی سے ہونے والی اس پیش رفت نے متعدد دفاعی تجزیہ کاروں کو اے آئی کا موازنہ بارود، طیاروں اور جوہری ہتھیاروں کی ایجاد سے آنے والے فوجی انقلاب سے کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تاہم ان ٹیکنالوجیز کے برعکس مصنوعی ذہانت مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جتنا زیادہ ڈیٹا پروسیس کرتی ہے اور پیچیدہ ماحول سے جتنا زیادہ تعامل کرتی ہے، اتنی ہی بہتر ہوتی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-کا-نیا-میدان" href="#جنگ-کا-نیا-میدان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا نیا میدان&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جدید جنگیں معلومات کی وسیع مقدار پیدا کرتی ہیں۔ سیٹلائٹس، نگرانی کرنے والے ڈرونز، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی رابطوں کی جاسوسی اور سوشل میڈیا روزانہ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس پیدا کرتے ہیں۔ انسانی تجزیہ کار اب تنہا اس معلومات کو اتنی تیزی سے پراسیس نہیں کر سکتے کہ جنگی میدان میں حکمتِ عملی کی برتری برقرار رکھی جا سکے۔ مصنوعی ذہانت اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشین لرننگ پر مبنی نظام سیٹلائٹ تصاویر سے فوجیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی نشاندہی، حقیقی وقت میں میزائل داغے جانے کا پتا لگانے اور انٹیلی جنس رپورٹس کو اہمیت کے لحاظ سے ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا پروجیکٹ میون اس بات کی مثال ہے کہ اے آئی کس طرح بصری ڈیٹا کی وسیع مقدار کو انسانی تجزیہ کاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پروسیس کرسکتی ہے، جس سے زیادہ تیز اور بہتر معلومات پر مبنی فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔ دنیا کے دیگر تنازعات میں بھی ایسی ہی ٹیکنالوجیز آزمائی یا استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک نظری صلاحیت نہیں رہی بلکہ عملی جنگی حقیقت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" href="#ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈرونز مزید ذہین ہوگئے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنگ میں اے آئی کے استعمال کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک بغیر پائلٹ فضائی نظام کا تیزی سے ارتقا ہے۔ ابتدا میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز اب خودکار پرواز، اہداف کی شناخت اور دیگر بغیر پائلٹ نظاموں کے ساتھ مربوط کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ تجرباتی پروگرامز میں ڈرونز کے ایسے گروہوں، جنہیں عموماً ’’سوارمز‘‘ کہا جاتا ہے، کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، میدانِ جنگ کی بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے اور مربوط نقل و حرکت کے ذریعے دشمن کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;حالیہ امریکا اور ایران تنازع کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے طیارے سے باہر نکلنے سے قبل ایک حیران کن منظر دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو فضا میں ایک ساتھ منڈلاتے اور ایسی تشکیل میں حرکت کرتے دیکھا جو جیلی فش سے مشابہ تھی۔ ڈرونز کی اس طرح کی اجتماعی نقل و حرکت جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سائبر-محاذ" href="#سائبر-محاذ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سائبر محاذ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت میدانِ جنگ سے باہر بھی جنگی حکمتِ عملی کو تبدیل کر رہی ہے۔ جدید سائبر کارروائیوں میں رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اے آئی سسٹمز سافٹ ویئر کی کمزوریوں کی نشاندہی، نقصان دہ نیٹ ورک سرگرمی کا پتا لگانے اور سائبر حملوں کا منٹوں یا گھنٹوں کے بجائے چند سیکنڈز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، مخالف عناصر بھی اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر خودکار فِشنگ مہمات چلانے، قابلِ یقین جعلی شناختیں بنانے اور غیر معمولی پیمانے پر پیچیدہ گمراہ کن معلومات پھیلانے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی سے تیار کردہ ایسی آڈیو اور ویڈیو بھی ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی خطرہ بن چکی ہیں جو حقیقی شخصیات کی انتہائی قابلِ یقین نقل کرسکتی ہیں۔ فوجی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے مواد کو سیاسی رہنماؤں کی نقالی، جعلی فوجی احکامات جاری کرنے یا بحران کے دوران عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-کا-مستقبل" href="#جنگ-کا-مستقبل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا مستقبل&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے فوجیوں کی جگہ مکمل طور پر لینے کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے اسے فورس ملٹی پلائر کے طور پر استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جو فوجی اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی، نہ کہ انہیں مکمل طور پر تبدیل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کی جنگوں میں ممکنہ طور پر انسانی آپریٹرز کی دور دراز ٹیمیں خودمختار ڈرونز، روبوٹک زمینی گاڑیوں اور اے آئی سے معاونت یافتہ کمانڈ سسٹمز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت فوج میں بھرتی، تربیت اور دفاعی صنعتوں کے ڈھانچے کو بھی تبدیل کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں روایتی فوجی شعبوں کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنس دانوں اور سائبر سکیورٹی ماہرین کی طلب بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی فوجی کارروائیوں میں زیادہ درستگی، تیز تر فیصلہ سازی اور فوجی اہلکاروں کے بہتر تحفظ کے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ جوابدہی، سائبر سکیورٹی، گمراہ کن معلومات اور طاقت کے استعمال پر انسانی کنٹرول کے ممکنہ خاتمے جیسے نئے خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتیں فوجی اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں کو مختصر اور زیادہ درست بنائے گی یا انہیں مزید تیز، پیچیدہ اور قابو سے باہر کرنا مشکل بنا دے گی؟ اس سوال کا جواب نہ صرف جنگ کے اگلے دور بلکہ خود بین الاقوامی سلامتی کے مستقبل کا تعین کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" href="#پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو اے آئی کے دور کے لیے تیار کرنا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;انڈس آر اے ایس ایکسپو سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، لیکن یہ نمائش محض پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس رفتار کو طویل مدتی سرمایہ کاری، تحقیق اور جدت میں تبدیل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے ممالک اے آئی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ مستقبل کی اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کا انحصار بتدریج ٹیکنالوجی پر بڑھتا جائے گا۔ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مقامی سطح پر اے آئی کے حل تیار کرنے کا مقصد صرف غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا نہیں بلکہ مقامی ماہرین کی صلاحیتیں پروان چڑھانا، اعلیٰ قدر کی ملازمتیں پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ اہم ٹیکنالوجیز ہماری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوشش صرف حکومت تک محدود نہیں رہ سکتی۔ جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور دفاعی شعبے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جامعات کو زیادہ عملی نوعیت کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جبکہ صنعت کو امید افزا خیالات کو ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دینی چاہیے جو شہری اور دفاعی دونوں شعبوں میں استعمال ہوسکیں۔ محققین اور مینوفیکچررز کے درمیان مضبوط شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جدت صرف لیبارٹریوں تک محدود نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہمیت افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی بھی ہے۔ پاکستان دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اگر اسے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ ایک بڑی طاقت ثابت ہوسکتی ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، میرپور، گلگت اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیکنالوجی نمائشوں، روبوٹکس مقابلوں اور اے آئی جدت کے چیلنجز کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کیا جانا چاہیے۔ ایسے پروگرام طلبہ کو نئے خیالات سے روشناس کرانے، انہیں صنعت سے جوڑنے اور اکثر ایسے کیریئرز کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو کسی سادہ مظاہرے یا گفتگو سے شروع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی میں قیادت کرنے والے ممالک ضروری نہیں کہ وہی ہوں جن کی افواج سب سے بڑی ہیں، بلکہ وہ ممالک آگے ہوں گے جن کے تحقیقی ادارے مضبوط، انجینئرز سب سے زیادہ ہنرمند اور خیالات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سب سے بہتر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اس مستقبل کا حصہ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اختراع کاروں کو مواقع، وسائل اور اعتماد فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں اسلام آباد میں انڈس آر اے ایس (روبوٹکس اینڈ خودمختار نظام) ایکسپو 2026 کے انعقاد نے نہ صرف ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی نمائش کا موقع فراہم کیا بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کی کہ پاکستان قومی ترقی اور سلامتی میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودمختار نظام کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>صنعتی آٹومیشن اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ سے لے کر صحت عامہ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور دفاع تک، اے آئی تیزی سے ایک ایسی اسٹریٹجک صلاحیت بنتی جا رہی ہے جو ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ نوجوان اور تیزی سے وسعت پذیر ٹیکنالوجی کے شعبے اور پیچیدہ ہوتے علاقائی سکیورٹی ماحول کے حامل ملک کے لیے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور خودمختار نظاموں میں سرمایہ کاری محض ایک موقع نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت ہے۔</p>
<p>کبھی اے آئی کو بنیادی طور پر وائس اسسٹنٹس اور سفارشات دینے والے الگورتھمز تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسے دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے جنگ لڑنے کے طریقے اور فیصلہ سازی کا انداز تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ مسلح تنازعات کے مستقبل کے حوالے سے اہم اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا، چین، روس، اسرائیل، برطانیہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے متعدد اتحادی ممالک سمیت بڑی فوجی طاقتوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ نظام اب انٹیلی جنس کا تجزیہ کرنے، لاجسٹکس کو مربوط بنانے، فوجی اہداف کی نشاندہی کرنے، سائبر حملوں سے دفاع اور خودمختار یا نیم خودمختار گاڑیاں چلانے کے لیے تیزی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>تیزی سے ہونے والی اس پیش رفت نے متعدد دفاعی تجزیہ کاروں کو اے آئی کا موازنہ بارود، طیاروں اور جوہری ہتھیاروں کی ایجاد سے آنے والے فوجی انقلاب سے کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تاہم ان ٹیکنالوجیز کے برعکس مصنوعی ذہانت مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جتنا زیادہ ڈیٹا پروسیس کرتی ہے اور پیچیدہ ماحول سے جتنا زیادہ تعامل کرتی ہے، اتنی ہی بہتر ہوتی جاتی ہے۔</p>
<h3><a id="جنگ-کا-نیا-میدان" href="#جنگ-کا-نیا-میدان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنگ کا نیا میدان</strong></h3>
<p>جدید جنگیں معلومات کی وسیع مقدار پیدا کرتی ہیں۔ سیٹلائٹس، نگرانی کرنے والے ڈرونز، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی رابطوں کی جاسوسی اور سوشل میڈیا روزانہ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس پیدا کرتے ہیں۔ انسانی تجزیہ کار اب تنہا اس معلومات کو اتنی تیزی سے پراسیس نہیں کر سکتے کہ جنگی میدان میں حکمتِ عملی کی برتری برقرار رکھی جا سکے۔ مصنوعی ذہانت اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دے رہی ہے۔</p>
<p>مشین لرننگ پر مبنی نظام سیٹلائٹ تصاویر سے فوجیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی نشاندہی، حقیقی وقت میں میزائل داغے جانے کا پتا لگانے اور انٹیلی جنس رپورٹس کو اہمیت کے لحاظ سے ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا پروجیکٹ میون اس بات کی مثال ہے کہ اے آئی کس طرح بصری ڈیٹا کی وسیع مقدار کو انسانی تجزیہ کاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پروسیس کرسکتی ہے، جس سے زیادہ تیز اور بہتر معلومات پر مبنی فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔</p>
<p>روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔ دنیا کے دیگر تنازعات میں بھی ایسی ہی ٹیکنالوجیز آزمائی یا استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک نظری صلاحیت نہیں رہی بلکہ عملی جنگی حقیقت بن چکی ہے۔</p>
<h3><a id="ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" href="#ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈرونز مزید ذہین ہوگئے</strong></h3>
<p>جنگ میں اے آئی کے استعمال کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک بغیر پائلٹ فضائی نظام کا تیزی سے ارتقا ہے۔ ابتدا میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز اب خودکار پرواز، اہداف کی شناخت اور دیگر بغیر پائلٹ نظاموں کے ساتھ مربوط کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>کچھ تجرباتی پروگرامز میں ڈرونز کے ایسے گروہوں، جنہیں عموماً ’’سوارمز‘‘ کہا جاتا ہے، کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، میدانِ جنگ کی بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے اور مربوط نقل و حرکت کے ذریعے دشمن کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت دی جا رہی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔</p>
</blockquote>
<p>حالیہ امریکا اور ایران تنازع کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے طیارے سے باہر نکلنے سے قبل ایک حیران کن منظر دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو فضا میں ایک ساتھ منڈلاتے اور ایسی تشکیل میں حرکت کرتے دیکھا جو جیلی فش سے مشابہ تھی۔ ڈرونز کی اس طرح کی اجتماعی نقل و حرکت جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔</p>
<h3><a id="سائبر-محاذ" href="#سائبر-محاذ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سائبر محاذ</strong></h3>
<p>مصنوعی ذہانت میدانِ جنگ سے باہر بھی جنگی حکمتِ عملی کو تبدیل کر رہی ہے۔ جدید سائبر کارروائیوں میں رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اے آئی سسٹمز سافٹ ویئر کی کمزوریوں کی نشاندہی، نقصان دہ نیٹ ورک سرگرمی کا پتا لگانے اور سائبر حملوں کا منٹوں یا گھنٹوں کے بجائے چند سیکنڈز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، مخالف عناصر بھی اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر خودکار فِشنگ مہمات چلانے، قابلِ یقین جعلی شناختیں بنانے اور غیر معمولی پیمانے پر پیچیدہ گمراہ کن معلومات پھیلانے لگے ہیں۔</p>
<p>اے آئی سے تیار کردہ ایسی آڈیو اور ویڈیو بھی ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی خطرہ بن چکی ہیں جو حقیقی شخصیات کی انتہائی قابلِ یقین نقل کرسکتی ہیں۔ فوجی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے مواد کو سیاسی رہنماؤں کی نقالی، جعلی فوجی احکامات جاری کرنے یا بحران کے دوران عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="جنگ-کا-مستقبل" href="#جنگ-کا-مستقبل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنگ کا مستقبل</strong></h3>
<p>مصنوعی ذہانت سے فوجیوں کی جگہ مکمل طور پر لینے کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے اسے فورس ملٹی پلائر کے طور پر استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جو فوجی اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی، نہ کہ انہیں مکمل طور پر تبدیل کرے گی۔</p>
<p>مستقبل کی جنگوں میں ممکنہ طور پر انسانی آپریٹرز کی دور دراز ٹیمیں خودمختار ڈرونز، روبوٹک زمینی گاڑیوں اور اے آئی سے معاونت یافتہ کمانڈ سسٹمز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت فوج میں بھرتی، تربیت اور دفاعی صنعتوں کے ڈھانچے کو بھی تبدیل کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں روایتی فوجی شعبوں کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنس دانوں اور سائبر سکیورٹی ماہرین کی طلب بڑھے گی۔</p>
<p>اے آئی فوجی کارروائیوں میں زیادہ درستگی، تیز تر فیصلہ سازی اور فوجی اہلکاروں کے بہتر تحفظ کے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ جوابدہی، سائبر سکیورٹی، گمراہ کن معلومات اور طاقت کے استعمال پر انسانی کنٹرول کے ممکنہ خاتمے جیسے نئے خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>حکومتیں فوجی اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں کو مختصر اور زیادہ درست بنائے گی یا انہیں مزید تیز، پیچیدہ اور قابو سے باہر کرنا مشکل بنا دے گی؟ اس سوال کا جواب نہ صرف جنگ کے اگلے دور بلکہ خود بین الاقوامی سلامتی کے مستقبل کا تعین کرسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" href="#پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پاکستان کو اے آئی کے دور کے لیے تیار کرنا</strong></h3>
<p>انڈس آر اے ایس ایکسپو سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، لیکن یہ نمائش محض پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس رفتار کو طویل مدتی سرمایہ کاری، تحقیق اور جدت میں تبدیل کرنا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر کے ممالک اے آئی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ مستقبل کی اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کا انحصار بتدریج ٹیکنالوجی پر بڑھتا جائے گا۔ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مقامی سطح پر اے آئی کے حل تیار کرنے کا مقصد صرف غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا نہیں بلکہ مقامی ماہرین کی صلاحیتیں پروان چڑھانا، اعلیٰ قدر کی ملازمتیں پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ اہم ٹیکنالوجیز ہماری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار ہوں۔</p>
<p>یہ کوشش صرف حکومت تک محدود نہیں رہ سکتی۔ جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور دفاعی شعبے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جامعات کو زیادہ عملی نوعیت کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جبکہ صنعت کو امید افزا خیالات کو ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دینی چاہیے جو شہری اور دفاعی دونوں شعبوں میں استعمال ہوسکیں۔ محققین اور مینوفیکچررز کے درمیان مضبوط شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جدت صرف لیبارٹریوں تک محدود نہ رہے۔</p>
<p>اتنی ہی اہمیت افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی بھی ہے۔ پاکستان دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اگر اسے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ ایک بڑی طاقت ثابت ہوسکتی ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، میرپور، گلگت اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیکنالوجی نمائشوں، روبوٹکس مقابلوں اور اے آئی جدت کے چیلنجز کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کیا جانا چاہیے۔ ایسے پروگرام طلبہ کو نئے خیالات سے روشناس کرانے، انہیں صنعت سے جوڑنے اور اکثر ایسے کیریئرز کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو کسی سادہ مظاہرے یا گفتگو سے شروع ہوتے ہیں۔</p>
<p>اے آئی میں قیادت کرنے والے ممالک ضروری نہیں کہ وہی ہوں جن کی افواج سب سے بڑی ہیں، بلکہ وہ ممالک آگے ہوں گے جن کے تحقیقی ادارے مضبوط، انجینئرز سب سے زیادہ ہنرمند اور خیالات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سب سے بہتر ہوگی۔</p>
<p>پاکستان میں اس مستقبل کا حصہ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اختراع کاروں کو مواقع، وسائل اور اعتماد فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔</p>
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289704</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 00:43:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اعجاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/080033059786928.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/080033059786928.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ایس پی پلس کی بقا کا انحصار عملدرآمد پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے جی ایس پی پلس کی شرائط پوری کرنے کے لیے قانونی ڈھانچہ تیار کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت صرف کیا ہے۔ ملک نے مطلوبہ عالمی معاہدوں کی توثیق کی، قوانین منظور کیے اور وہ رپورٹس بھی جمع کرائیں جن کا مطالبہ یورپی یونین کرتی ہے۔ کم از کم اس پہلو سے پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل مشکل، جیسا کہ یورپی کمیشن نے 16 جولائی کی اپنی تازہ ترین جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ میں واضح کیا ہے، یہ ہے کہ اب صرف یہ قانونی فریم ورک ہی معیار نہیں رہا۔ 2027 سے پاکستان کا جائزہ اس بنیاد پر کم لیا جائے گا کہ اس نے کیا قوانین بنائے ہیں، بلکہ اس بنیاد پر زیادہ لیا جائے گا کہ وہ قوانین عملی طور پر کس حد تک نافذ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے شعبے کے لیے جو جی ایس پی پلس سے حاصل ہونے والے زیادہ تر فوائد کا مرکز ہے، یہ تبدیلی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت اپنی سب سے اہم منڈی کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قوانین پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں۔ ریگولیشن (ای یو) 2026/1395 کے تحت 2027 سے 2036 تک جی ایس پی اسکیم کو چلایا جائے گا، جبکہ پاکستان کو نئے نظام میں 31 دسمبر 2028 تک شامل رکھا گیا ہے۔ تاہم ترجیحی تجارتی سہولتوں کا جاری رہنا خودکار نہیں ہوگا۔ 2029 کے بعد مراعات برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو عبوری مدت ختم ہونے سے پہلے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے ساتھ لازمی یقین دہانیاں اور ترجیحی اقدامات کا منصوبہ بھی شامل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 جولائی کی جائزہ رپورٹ وہ بنیادی دستاویز ہے جس کی بنیاد پر مستقبل کی درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کئی شعبوں میں پیچھے گیا ہے، جبکہ مثبت تبدیلی محدود رہی ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زیادہ تر پیش رفت صرف قانون سازی تک محدود رہی اور عملی سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ یہی عملدرآمد کا خلا ہے، یعنی قوانین موجود ہیں لیکن یورپی یونین کی توقعات کے مطابق ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 8.96 ارب ڈالر رہیں۔ جی ایس پی پلس سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والے شعبوں میں کپڑے اور ٹیکسٹائل، چمڑے اور فر سے بنی مصنوعات، تیار شدہ خوراک و مشروبات اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپڑے کی صنعت پاکستان کی مجموعی برآمدات اور جی ایس پی پلس مراعات کے استعمال میں سب سے بڑا حصہ رکھتی ہے، جہاں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 95.3 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپی تجارت میں ان مصنوعات کے لیے پاکستان کی ترجیحی مارکیٹ تک رسائی پر انحصار بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کو برآمد کیے جانے والے پانچ بڑے شعبوں میں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد تک رہی۔ چونکہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات چند شعبوں تک زیادہ محدود ہیں، اس لیے تجارت کی کارکردگی مخصوص شعبوں کو درپیش مسائل، جیسے توانائی کی قیمتیں، تعمیری و تعمیریاتی معیار پر عمل درآمد کے اخراجات اور طلب کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی برآمد کنندگان جی ایس پی پلس سہولت کو مکمل طور پر استعمال کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان ان عالمی معاہدوں پر کس حد تک عمل درآمد کر رہا ہے جن پر یہ اسکیم قائم ہے اور جو اس کی اہلیت کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصل تشویش کا مقام ہے کہ صنعت جی ایس پی پلس سے زیادہ تر فوائد حاصل کرتی ہے، لیکن ان معیارات کی تکمیل پر اس کا اختیار محدود ہے جن پر یہ سہولت برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جائزے کو مکمل ناکامیوں کی فہرست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یورپی کمیشن نے کئی مثبت اقدامات کا اعتراف بھی کیا ہے، جن میں اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن کا قیام، سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، انسداد تشدد قانون کے تحت قواعد، کم عمری کی شادی سے متعلق قانون سازی اور آئی ایل او کے جبری مشقت کے پروٹوکول کی توثیق شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن رپورٹ کا زیادہ زور ایسے معاملات پر ہے جو کسی بھی برآمدی کمپنی کے اختیار سے باہر ہیں۔ کراچی یا فیصل آباد کی کوئی ٹیکسٹائل مل اپنی مصنوعات کے لیے مقرر تمام معیار مکمل کر سکتی ہے، لیکن پھر بھی جی ایس پی پلس سہولت ایسے اشاریوں کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہے جن میں صنعت کا کوئی کردار نہیں اور جنہیں درست کرنے کا اختیار بھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت نے اپنی ذمہ داری کے دائرے میں آنے والے معاملات پر نمایاں پیش رفت کی ہے اور یورپی خریداروں کی توقعات پوری کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری سے اقدامات کیے ہیں، جو اب اس جائزے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی شعبے میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایل ای ای ڈی سرٹیفائیڈ ٹیکسٹائل پلانٹس کی تعداد نمایاں ہے۔ کئی صنعتی یونٹس پانی اور توانائی کے استعمال میں نصف یا اس سے زیادہ کمی کر چکے ہیں۔ بڑے برآمد کنندگان اپنے فضلے کے علاج  اور پانی کی ری سائیکلنگ کے نظام چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنیاں زیرو ڈسچارج آف ہیزرڈس کیمیکلز (زیڈ ڈی ایچ سی) پروگرام اوراویکو-ٹیکس معیار پر عمل کر رہی ہیں، جبکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات کے باعث کئی اداروں نے اپنی جگہ پر شمسی توانائی کے نظام نصب کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے بیٹر کاٹن پروگرام کی حمایت کر رہی ہے، جس کے ذریعے لاکھوں کسان خاندانوں کو کم پانی اور کم کیڑے مار ادویات کے استعمال میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محنت کشوں اور انسانی حقوق کے شعبے میں، جہاں جی ایس پی پلس کی شرائط سب سے زیادہ سخت ہیں، برآمد کنندگان کئی برسوں سے اپنی صنعتوں کو آزاد سماجی آڈٹس کے لیے کھولتے آئے ہیں۔ یہ آڈٹس بنیادی آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق رہنما اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں، جن میں ایمفوری بی ایس سی آئی، سیڈیکس سیمیٹا، رییب اور ایس اے8000 شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان آڈٹس میں اجرتوں اور کام کے اوقات، صحت و تحفظ، تنظیم سازی کی آزادی، اور بچوں و جبری مشقت کے خاتمے جیسے معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان معیارات پر پورا اترنا ہر اس آرڈر کی بنیادی شرط ہے جو کوئی یورپی برانڈ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت نے ان معیارات کو یورپی سپلائی چینز میں اپنی موجودگی کی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق دیکھا جائے تو برآمدی صنعتوں کے پیداواری یونٹس پاکستان کی معیشت کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ جواب دہی اور سخت نگرانی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان یہ ترجیحی سہولت کھو دیتا ہے تو اس کے اثرات شدید اور فوری ہوں گے۔ جن ٹیرف سے موجودہ وقت میں چھوٹ حاصل ہے وہ دوبارہ عائد ہو جائیں گے، اور وہ ملبوسات جو اس وقت یورپی منڈیوں میں ڈیوٹی فری داخل ہوتے ہیں، ان پر تقریباً 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریدار اپنی خریداری کے ذرائع تبدیل کر سکتے ہیں، مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ کم ہو سکتا ہے، اور اس کا مالی بوجھ پہلے ہی بلند توانائی قیمتوں اور محدود مالی وسائل کا سامنا کرنے والے شعبے پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دباؤ صرف آخری تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ بھارت نے جنوری میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، اور اس کے سرکاری شیڈول کے مطابق معاہدہ نافذ ہونے کے بعد ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تمام ٹیرف لائنز، جن پر اس وقت 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہے صفر ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مارکیٹ رسائی 32 عالمی کنونشنز کی نگرانی سے مشروط نہیں ہوگی بلکہ ایک باقاعدہ تجارتی معاہدے کے تحت ہوگی۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد بھارت انہی مصنوعات میں اسی یورپی مارکیٹ میں پاکستان سے کم قیمت پر مقابلہ کر سکے گا، اور امکان ہے کہ یورپی یونین کو بھارت کی ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان سے آگے نکل جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بنگلہ دیش بھی ایک اہم مقابل فریق ہے۔ بنگلہ دیش کو 24 نومبر 2026 کو کم ترقی یافتہ ملک  کے درجے سے نکلنا ہے، تاہم یورپی یونین کے عبوری قوانین کے تحت اسے گریجویشن کے بعد مزید تین سال تک، یعنی 2029 کے آخر تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف پاکستان کو 2028 کے بعد جی ایس پی پلس کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے باعث اسے ایک ایسے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں ایک طرف آزاد تجارتی معاہدے کے تحت فائدہ اٹھانے والا بھارت ہوگا اور دوسری جانب عبوری تحفظ حاصل کرنے والا بنگلہ دیش۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کا حل حکومت کو تلاش کرنا ہوگا، اور یہ خطرے کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومت کو ہر سفارتی اور تجارتی ذریعہ استعمال کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس حوالے سے پیش رفت کی ہے اور جی ایس پی پلس کی دوبارہ درخواست کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت تیزی کی ہے، کیونکہ 2028 کے اختتام تک دستیاب وقت بہت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کو یورپی کمیشن، اس کے تکنیکی اداروں اور نگرانی کرنے والے فورمز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے، جبکہ صوبائی حکومتوں، محنت کے محکموں، عدالتی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ کوشش کا حصہ بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازی کا مشکل مرحلہ بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ عالمی کنونشنز کی توثیق کی جا چکی ہے اور قوانین بھی بنا دیے گئے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قوانین کو عملی طور پر نافذ کیا جائے اور اس ترجیحی سہولت کا دفاع کیا جائے جو پاکستان کی بڑی صنعتوں میں سے ایک اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو سہارا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال کا وقت زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل کام عملدرآمد ہے، اور اسے مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے جی ایس پی پلس کی شرائط پوری کرنے کے لیے قانونی ڈھانچہ تیار کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت صرف کیا ہے۔ ملک نے مطلوبہ عالمی معاہدوں کی توثیق کی، قوانین منظور کیے اور وہ رپورٹس بھی جمع کرائیں جن کا مطالبہ یورپی یونین کرتی ہے۔ کم از کم اس پہلو سے پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم اصل مشکل، جیسا کہ یورپی کمیشن نے 16 جولائی کی اپنی تازہ ترین جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ میں واضح کیا ہے، یہ ہے کہ اب صرف یہ قانونی فریم ورک ہی معیار نہیں رہا۔ 2027 سے پاکستان کا جائزہ اس بنیاد پر کم لیا جائے گا کہ اس نے کیا قوانین بنائے ہیں، بلکہ اس بنیاد پر زیادہ لیا جائے گا کہ وہ قوانین عملی طور پر کس حد تک نافذ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ایسے شعبے کے لیے جو جی ایس پی پلس سے حاصل ہونے والے زیادہ تر فوائد کا مرکز ہے، یہ تبدیلی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت اپنی سب سے اہم منڈی کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔</p>
<p>نئے قوانین پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں۔ ریگولیشن (ای یو) 2026/1395 کے تحت 2027 سے 2036 تک جی ایس پی اسکیم کو چلایا جائے گا، جبکہ پاکستان کو نئے نظام میں 31 دسمبر 2028 تک شامل رکھا گیا ہے۔ تاہم ترجیحی تجارتی سہولتوں کا جاری رہنا خودکار نہیں ہوگا۔ 2029 کے بعد مراعات برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو عبوری مدت ختم ہونے سے پہلے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے ساتھ لازمی یقین دہانیاں اور ترجیحی اقدامات کا منصوبہ بھی شامل کرنا ہوگا۔</p>
<p>16 جولائی کی جائزہ رپورٹ وہ بنیادی دستاویز ہے جس کی بنیاد پر مستقبل کی درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کئی شعبوں میں پیچھے گیا ہے، جبکہ مثبت تبدیلی محدود رہی ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زیادہ تر پیش رفت صرف قانون سازی تک محدود رہی اور عملی سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ یہی عملدرآمد کا خلا ہے، یعنی قوانین موجود ہیں لیکن یورپی یونین کی توقعات کے مطابق ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 8.96 ارب ڈالر رہیں۔ جی ایس پی پلس سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والے شعبوں میں کپڑے اور ٹیکسٹائل، چمڑے اور فر سے بنی مصنوعات، تیار شدہ خوراک و مشروبات اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔</p>
<p>کپڑے کی صنعت پاکستان کی مجموعی برآمدات اور جی ایس پی پلس مراعات کے استعمال میں سب سے بڑا حصہ رکھتی ہے، جہاں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 95.3 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپی تجارت میں ان مصنوعات کے لیے پاکستان کی ترجیحی مارکیٹ تک رسائی پر انحصار بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کو برآمد کیے جانے والے پانچ بڑے شعبوں میں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد تک رہی۔ چونکہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات چند شعبوں تک زیادہ محدود ہیں، اس لیے تجارت کی کارکردگی مخصوص شعبوں کو درپیش مسائل، جیسے توانائی کی قیمتیں، تعمیری و تعمیریاتی معیار پر عمل درآمد کے اخراجات اور طلب کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی برآمد کنندگان جی ایس پی پلس سہولت کو مکمل طور پر استعمال کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان ان عالمی معاہدوں پر کس حد تک عمل درآمد کر رہا ہے جن پر یہ اسکیم قائم ہے اور جو اس کی اہلیت کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>یہی اصل تشویش کا مقام ہے کہ صنعت جی ایس پی پلس سے زیادہ تر فوائد حاصل کرتی ہے، لیکن ان معیارات کی تکمیل پر اس کا اختیار محدود ہے جن پر یہ سہولت برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس جائزے کو مکمل ناکامیوں کی فہرست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یورپی کمیشن نے کئی مثبت اقدامات کا اعتراف بھی کیا ہے، جن میں اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن کا قیام، سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، انسداد تشدد قانون کے تحت قواعد، کم عمری کی شادی سے متعلق قانون سازی اور آئی ایل او کے جبری مشقت کے پروٹوکول کی توثیق شامل ہیں۔</p>
<p>لیکن رپورٹ کا زیادہ زور ایسے معاملات پر ہے جو کسی بھی برآمدی کمپنی کے اختیار سے باہر ہیں۔ کراچی یا فیصل آباد کی کوئی ٹیکسٹائل مل اپنی مصنوعات کے لیے مقرر تمام معیار مکمل کر سکتی ہے، لیکن پھر بھی جی ایس پی پلس سہولت ایسے اشاریوں کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہے جن میں صنعت کا کوئی کردار نہیں اور جنہیں درست کرنے کا اختیار بھی نہیں۔</p>
<p>صنعت نے اپنی ذمہ داری کے دائرے میں آنے والے معاملات پر نمایاں پیش رفت کی ہے اور یورپی خریداروں کی توقعات پوری کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری سے اقدامات کیے ہیں، جو اب اس جائزے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>ماحولیاتی شعبے میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایل ای ای ڈی سرٹیفائیڈ ٹیکسٹائل پلانٹس کی تعداد نمایاں ہے۔ کئی صنعتی یونٹس پانی اور توانائی کے استعمال میں نصف یا اس سے زیادہ کمی کر چکے ہیں۔ بڑے برآمد کنندگان اپنے فضلے کے علاج  اور پانی کی ری سائیکلنگ کے نظام چلا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ کمپنیاں زیرو ڈسچارج آف ہیزرڈس کیمیکلز (زیڈ ڈی ایچ سی) پروگرام اوراویکو-ٹیکس معیار پر عمل کر رہی ہیں، جبکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات کے باعث کئی اداروں نے اپنی جگہ پر شمسی توانائی کے نظام نصب کر لیے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے بیٹر کاٹن پروگرام کی حمایت کر رہی ہے، جس کے ذریعے لاکھوں کسان خاندانوں کو کم پانی اور کم کیڑے مار ادویات کے استعمال میں مدد ملی ہے۔</p>
<p>محنت کشوں اور انسانی حقوق کے شعبے میں، جہاں جی ایس پی پلس کی شرائط سب سے زیادہ سخت ہیں، برآمد کنندگان کئی برسوں سے اپنی صنعتوں کو آزاد سماجی آڈٹس کے لیے کھولتے آئے ہیں۔ یہ آڈٹس بنیادی آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق رہنما اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں، جن میں ایمفوری بی ایس سی آئی، سیڈیکس سیمیٹا، رییب اور ایس اے8000 شامل ہیں۔</p>
<p>ان آڈٹس میں اجرتوں اور کام کے اوقات، صحت و تحفظ، تنظیم سازی کی آزادی، اور بچوں و جبری مشقت کے خاتمے جیسے معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان معیارات پر پورا اترنا ہر اس آرڈر کی بنیادی شرط ہے جو کوئی یورپی برانڈ دیتا ہے۔</p>
<p>صنعت نے ان معیارات کو یورپی سپلائی چینز میں اپنی موجودگی کی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق دیکھا جائے تو برآمدی صنعتوں کے پیداواری یونٹس پاکستان کی معیشت کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ جواب دہی اور سخت نگرانی موجود ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان یہ ترجیحی سہولت کھو دیتا ہے تو اس کے اثرات شدید اور فوری ہوں گے۔ جن ٹیرف سے موجودہ وقت میں چھوٹ حاصل ہے وہ دوبارہ عائد ہو جائیں گے، اور وہ ملبوسات جو اس وقت یورپی منڈیوں میں ڈیوٹی فری داخل ہوتے ہیں، ان پر تقریباً 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہو سکتی ہے۔</p>
<p>خریدار اپنی خریداری کے ذرائع تبدیل کر سکتے ہیں، مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ کم ہو سکتا ہے، اور اس کا مالی بوجھ پہلے ہی بلند توانائی قیمتوں اور محدود مالی وسائل کا سامنا کرنے والے شعبے پر پڑے گا۔</p>
<p>تاہم دباؤ صرف آخری تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ بھارت نے جنوری میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، اور اس کے سرکاری شیڈول کے مطابق معاہدہ نافذ ہونے کے بعد ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تمام ٹیرف لائنز، جن پر اس وقت 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہے صفر ہو جائیں گی۔</p>
<p>یہ مارکیٹ رسائی 32 عالمی کنونشنز کی نگرانی سے مشروط نہیں ہوگی بلکہ ایک باقاعدہ تجارتی معاہدے کے تحت ہوگی۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد بھارت انہی مصنوعات میں اسی یورپی مارکیٹ میں پاکستان سے کم قیمت پر مقابلہ کر سکے گا، اور امکان ہے کہ یورپی یونین کو بھارت کی ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان سے آگے نکل جائیں گی۔</p>
<p>دوسری جانب بنگلہ دیش بھی ایک اہم مقابل فریق ہے۔ بنگلہ دیش کو 24 نومبر 2026 کو کم ترقی یافتہ ملک  کے درجے سے نکلنا ہے، تاہم یورپی یونین کے عبوری قوانین کے تحت اسے گریجویشن کے بعد مزید تین سال تک، یعنی 2029 کے آخر تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل رہے گی۔</p>
<p>دوسری طرف پاکستان کو 2028 کے بعد جی ایس پی پلس کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے باعث اسے ایک ایسے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں ایک طرف آزاد تجارتی معاہدے کے تحت فائدہ اٹھانے والا بھارت ہوگا اور دوسری جانب عبوری تحفظ حاصل کرنے والا بنگلہ دیش۔</p>
<p>اس صورتحال کا حل حکومت کو تلاش کرنا ہوگا، اور یہ خطرے کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومت کو ہر سفارتی اور تجارتی ذریعہ استعمال کرنا ہوگا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس حوالے سے پیش رفت کی ہے اور جی ایس پی پلس کی دوبارہ درخواست کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت تیزی کی ہے، کیونکہ 2028 کے اختتام تک دستیاب وقت بہت محدود ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کو یورپی کمیشن، اس کے تکنیکی اداروں اور نگرانی کرنے والے فورمز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے، جبکہ صوبائی حکومتوں، محنت کے محکموں، عدالتی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ کوشش کا حصہ بنانا چاہیے۔</p>
<p>قانون سازی کا مشکل مرحلہ بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ عالمی کنونشنز کی توثیق کی جا چکی ہے اور قوانین بھی بنا دیے گئے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قوانین کو عملی طور پر نافذ کیا جائے اور اس ترجیحی سہولت کا دفاع کیا جائے جو پاکستان کی بڑی صنعتوں میں سے ایک اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو سہارا دیتی ہے۔</p>
<p>دو سال کا وقت زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل کام عملدرآمد ہے، اور اسے مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289408</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 10:15:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فواد انور)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/31101245e37b09f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/31101245e37b09f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے کھربوں روپے کے نئے مواقع کھول سکتی ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہی ہے۔ کبھی اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، کبھی اس کی افادیت اور کارکردگی کو سراہا گیا، اور کبھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی ایجاد پر بھی ایسے ہی ردِعمل سامنے آئے تھے، اور صدیوں بعد آج مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تازہ ترین شکل کو بھی اسی نوعیت کے رویوں کا سامنا ہے۔ تاہم تخلیقی مصنوعی ذہانت (جنریٹو اے آئی) کی موجودہ نسل نے اپنی رفتار، آسان رسائی اور ڈیٹا پر مبنی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اور حکومتِ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال جون میں پاکستان نے قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا مسودہ جاری کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اے آئی پالیسی متعارف کرائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد یہ پیش رفت اگرچہ سست ضرور ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک ناگزیر قدم تصور کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاقی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈین سائٹ لیبز، جو لورئیل اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سمیت مختلف اداروں کو مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے، نے اپنی پالیسی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سفارشات پر مؤثر سرمایہ کاری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان میں 9.7 کھرب روپے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نعمان احمد کے مطابق پاکستان میں اے آئی کے شعبے کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ ”صحت، مالیات، لاجسٹکس یا تیز رفتار استعمال کی اشیا کے شعبے سمیت کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا پاکستانی پیشہ ور بغیر کسی تکنیکی شریک بانی کی مدد کے اے آئی ٹول کو اپنے روزمرہ کام کا حصہ بنا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”یہی وہ مرحلہ ہوگا جب محض آگاہی سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال عام ہو جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نظام-میں-موجود-خامیاں" href="#نظام-میں-موجود-خامیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نظام میں موجود خامیاں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان کی حکومت مصنوعی ذہانت کے حوالے سے درست سمت میں بیانات دے رہی ہے، لیکن عملی پیش رفت کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن سورس ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت تک رسائی کو زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نعمان احمد اپنی کمپنی کے تجربات کی روشنی میں اس خدشے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”ہمیں بار بار ایک ہی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تربیت کے بعد افراد کی صلاحیت تو موجود تھی، لیکن ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی ماحول اس رفتار سے تبدیل نہیں ہوا۔ ہمارے تجارتی منصوبوں نے مسلسل ایسے بنیادی خلا نمایاں کیے جنہیں صرف مشاورت کے ذریعے نچلی سطح سے دور نہیں کیا جا سکتا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان کو ایسے ضابطوں کی ضرورت ہے جو جدت کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے واضح رہنمائی فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”میری رائے میں پاکستان کو فوری طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایسا مؤثر ڈیٹا تحفظ کا فریم ورک جو واقعی قابلِ عمل ہو، صحت اور مالیاتی خدمات جیسے حساس شعبوں میں اے آئی کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول، اور سرکاری خریداری کے ایسے قواعد جن کے تحت سرکاری ادارے موجودہ قانونی ابہام کے بغیر اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو عملی طور پر کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ محض نظریاتی بنیادوں پر اس کے لیے قوانین وضع کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے، ”ایسے افراد کی تیار کردہ قانون سازی جنہوں نے کسی پاکستانی ادارے میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال دیکھا ہی نہ ہو، یا تو بے اثر ثابت ہوتی ہے یا پھر جدت کو مفلوج کر دیتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" href="#تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تبدیلی کے خلاف مزاحمت&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑی رکاوٹ پاکستان کے کاروباری رہنماؤں کی سوچ ہے۔ نعمان احمد کے مطابق تین بڑی غلط فہمیاں عام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اے آئی صرف آئی ٹی کا مسئلہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ دراصل کاروباری طریقۂ کار کا معاملہ ہے۔ اگر چیف فنانشل آفیسر کو یہ معلوم نہ ہو کہ کن پیمانوں پر کارکردگی جانچنی ہے، ہیومن ریسورسز کے سربراہ کو ملازمتوں پر اثرات کا خوف ہو، اور چیف ایگزیکٹو نے یہ طے ہی نہ کیا ہو کہ ادارہ اے آئی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صرف چیف ٹیکنالوجی آفیسر اے آئی نافذ نہیں کر سکتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انتظار کریں گے جب اے آئی مزید پختہ ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ادارے انتظار کر رہے ہیں، ان کے زیادہ فیصلہ کن حریف آگے بڑھ رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہمارے لوگ اس کے لیے تیار نہیں۔ یہ تصور تقریباً ہمیشہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ پاکستانی پیشہ ور افراد جب حقیقی ماحول میں حقیقی اے آئی ٹولز سے باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں تو اکثر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی یہ بات بے بنیاد نہیں۔ پاکستانی ادارے پہلے ہی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ رواں سال لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کو گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان کا پہلا قومی اے آئی ہب قائم کرنے کے لیے گرانٹ ملی، جس کی توجہ زچہ و بچہ کی صحت پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت یہ ادارہ آوازِ صحت کے نام سے ایک آواز پر مبنی ایپلی کیشن تیار کر رہا ہے، جو بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والے طبی کارکنوں کے لیے مخصوص ہے اور اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق مخصوص مقامی مسائل کے حل کے لیے تیار کی جانے والی ”سمال اے آئی“ ایپلی کیشنز محدود وسائل کے باوجود تیز اور ٹھوس نتائج دے سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آج ہی مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="روزگار-میں-تبدیلی" href="#روزگار-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روزگار میں تبدیلی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے متعلق سب سے بڑا خدشہ ملازمتوں کے خاتمے کا ہے، تاہم نعمان احمد اس کے مجموعی اثرات کو مثبت قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”مصنوعی ذہانت صرف ملازمتیں پیدا یا ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت بدل دیتی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان اور خود کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے والی افرادی قوت موجود ہے۔ اگر تعلیمی اور تربیتی نظام تیزی سے خود کو ڈھال لے تو نئی ملازمتوں تک رسائی ممکن ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع دوگنا ہو چکے ہیں، تاہم اسی کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی ذہین افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کی کئی ارب ڈالر مالیت کی منڈی اور وہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود نعمان احمد زیادہ پرامید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی زیادہ قدر اور بہتر معاوضے والی اے آئی ملازمتیں کیسے پیدا کی جائیں کہ ملک چھوڑنے کی قیمت زیادہ محسوس ہو۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کو سنجیدگی سے اپنا رہے ہوں تاکہ بہترین ماہرین کے پاس پاکستان میں رہنے کی ٹھوس وجہ موجود ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" href="#کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیا بنیادی تعلیم سے پہلے اے آئی؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ملک میں کمزور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور تعلیمی مسائل کے باعث بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت بنیادی تعلیم سے توجہ ہٹا سکتی ہے، مگر نعمان احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں موبائل بینکاری نے ان افراد تک بھی مالی خدمات پہنچائیں جن کا کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔ واٹس ایپ ایسے لوگ بھی روزانہ استعمال کرتے ہیں جنہیں پڑھنے لکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے غیر رسمی معیشت میں جگہ بنا لے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید مصنوعی ذہانت کو تعلیم کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک ضلع میں دسویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے پڑھائی ود اے آئی نامی پلیٹ فارم کے استعمال کے بعد امتحانات میں کامیابی کی شرح میں 96.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ پلیٹ فارم انگریزی اور ہندی میں ریاضی کے سوالات حل کرنے اور اساتذہ کے لیے ورک شیٹس تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضمون کے اختتام پر نعمان احمد کہتے ہیں:”اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی سمت کا تعین کون کرے گا؟ میری خواہش ہے کہ ہم اس عمل کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خلا-کو-پُر-کرنا" href="#خلا-کو-پُر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خلا کو پُر کرنا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ایک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ یہ ان متعدد چیلنجز میں سے ایک ہے جن پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم اگر یہ رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو مصنوعی ذہانت تجارت، روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور حتیٰ کہ معاشی تبدیلی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نعمان احمد کے مطابق، ”مصنوعی ذہانت پیشہ ورانہ تاریخ میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کیونکہ یہ علم تک رسائی اور مضبوط ادارہ جاتی مواقع کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”ملتان کا کوئی پہلی نسل کا پیشہ ور، اگر اس کے پاس درست فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مناسب اے آئی ٹولز موجود ہوں، تو اب ایسا کام انجام دے سکتا ہے جو کسی ممتاز جامعہ سے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ درجے کے ادارے میں کام کرنے والے فرد کے معیار کا مقابلہ کر سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سوچے سمجھے اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تربیتی پروگرام، مناسب قیمتوں کا نظام اور علاقائی اور قومی زبانوں میں اے آئی کی دستیابی شامل ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت صرف بااثر حلقوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”یہ خیرات نہیں بلکہ پاکستان کی اکثریتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا طریقہ ہے۔ جن بہترین ماہرین کو ہم نے تربیت دی، ان میں سے اکثر کا تعلق بھی ایسے ہی پس منظر سے تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات کی حامل ہے، لیکن پاکستان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ڈیجیٹل اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کتنی مؤثر انداز میں دور کرتی ہے، اس شعبے میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہے اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنے والا کس قدر مؤثر قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکنالوجی ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہی ہے۔ کبھی اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، کبھی اس کی افادیت اور کارکردگی کو سراہا گیا، اور کبھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔</strong></p>
<p>چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی ایجاد پر بھی ایسے ہی ردِعمل سامنے آئے تھے، اور صدیوں بعد آج مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تازہ ترین شکل کو بھی اسی نوعیت کے رویوں کا سامنا ہے۔ تاہم تخلیقی مصنوعی ذہانت (جنریٹو اے آئی) کی موجودہ نسل نے اپنی رفتار، آسان رسائی اور ڈیٹا پر مبنی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اور حکومتِ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔</p>
<p>رواں سال جون میں پاکستان نے قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا مسودہ جاری کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اے آئی پالیسی متعارف کرائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد یہ پیش رفت اگرچہ سست ضرور ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک ناگزیر قدم تصور کی جا رہی ہے۔</p>
<p>اطلاقی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈین سائٹ لیبز، جو لورئیل اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سمیت مختلف اداروں کو مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے، نے اپنی پالیسی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سفارشات پر مؤثر سرمایہ کاری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان میں 9.7 کھرب روپے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نعمان احمد کے مطابق پاکستان میں اے آئی کے شعبے کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ ”صحت، مالیات، لاجسٹکس یا تیز رفتار استعمال کی اشیا کے شعبے سمیت کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا پاکستانی پیشہ ور بغیر کسی تکنیکی شریک بانی کی مدد کے اے آئی ٹول کو اپنے روزمرہ کام کا حصہ بنا سکے۔“</p>
<p>ان کے بقول، ”یہی وہ مرحلہ ہوگا جب محض آگاہی سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال عام ہو جائے گا۔“</p>
<h3><a id="نظام-میں-موجود-خامیاں" href="#نظام-میں-موجود-خامیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نظام میں موجود خامیاں</strong></h3>
<p>اگرچہ پاکستان کی حکومت مصنوعی ذہانت کے حوالے سے درست سمت میں بیانات دے رہی ہے، لیکن عملی پیش رفت کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔</p>
<p>اوپن سورس ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت تک رسائی کو زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے یا نہیں۔</p>
<p>نعمان احمد اپنی کمپنی کے تجربات کی روشنی میں اس خدشے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”ہمیں بار بار ایک ہی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تربیت کے بعد افراد کی صلاحیت تو موجود تھی، لیکن ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی ماحول اس رفتار سے تبدیل نہیں ہوا۔ ہمارے تجارتی منصوبوں نے مسلسل ایسے بنیادی خلا نمایاں کیے جنہیں صرف مشاورت کے ذریعے نچلی سطح سے دور نہیں کیا جا سکتا تھا۔“</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان کو ایسے ضابطوں کی ضرورت ہے جو جدت کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے واضح رہنمائی فراہم کریں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”میری رائے میں پاکستان کو فوری طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایسا مؤثر ڈیٹا تحفظ کا فریم ورک جو واقعی قابلِ عمل ہو، صحت اور مالیاتی خدمات جیسے حساس شعبوں میں اے آئی کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول، اور سرکاری خریداری کے ایسے قواعد جن کے تحت سرکاری ادارے موجودہ قانونی ابہام کے بغیر اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکیں۔“</p>
<p>ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو عملی طور پر کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ محض نظریاتی بنیادوں پر اس کے لیے قوانین وضع کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے، ”ایسے افراد کی تیار کردہ قانون سازی جنہوں نے کسی پاکستانی ادارے میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال دیکھا ہی نہ ہو، یا تو بے اثر ثابت ہوتی ہے یا پھر جدت کو مفلوج کر دیتی ہے۔“</p>
<h3><a id="تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" href="#تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تبدیلی کے خلاف مزاحمت</strong></h3>
<p>ایک اور بڑی رکاوٹ پاکستان کے کاروباری رہنماؤں کی سوچ ہے۔ نعمان احمد کے مطابق تین بڑی غلط فہمیاں عام ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اے آئی صرف آئی ٹی کا مسئلہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ دراصل کاروباری طریقۂ کار کا معاملہ ہے۔ اگر چیف فنانشل آفیسر کو یہ معلوم نہ ہو کہ کن پیمانوں پر کارکردگی جانچنی ہے، ہیومن ریسورسز کے سربراہ کو ملازمتوں پر اثرات کا خوف ہو، اور چیف ایگزیکٹو نے یہ طے ہی نہ کیا ہو کہ ادارہ اے آئی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صرف چیف ٹیکنالوجی آفیسر اے آئی نافذ نہیں کر سکتا۔“</p>
<p>”دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انتظار کریں گے جب اے آئی مزید پختہ ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ادارے انتظار کر رہے ہیں، ان کے زیادہ فیصلہ کن حریف آگے بڑھ رہے ہیں۔“</p>
<p>”تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہمارے لوگ اس کے لیے تیار نہیں۔ یہ تصور تقریباً ہمیشہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ پاکستانی پیشہ ور افراد جب حقیقی ماحول میں حقیقی اے آئی ٹولز سے باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں تو اکثر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔“</p>
<p>ان کی یہ بات بے بنیاد نہیں۔ پاکستانی ادارے پہلے ہی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ رواں سال لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کو گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان کا پہلا قومی اے آئی ہب قائم کرنے کے لیے گرانٹ ملی، جس کی توجہ زچہ و بچہ کی صحت پر مرکوز ہے۔</p>
<p>اس وقت یہ ادارہ آوازِ صحت کے نام سے ایک آواز پر مبنی ایپلی کیشن تیار کر رہا ہے، جو بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والے طبی کارکنوں کے لیے مخصوص ہے اور اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق مخصوص مقامی مسائل کے حل کے لیے تیار کی جانے والی ”سمال اے آئی“ ایپلی کیشنز محدود وسائل کے باوجود تیز اور ٹھوس نتائج دے سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آج ہی مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔</p>
<h3><a id="روزگار-میں-تبدیلی" href="#روزگار-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>روزگار میں تبدیلی</strong></h3>
<p>مصنوعی ذہانت سے متعلق سب سے بڑا خدشہ ملازمتوں کے خاتمے کا ہے، تاہم نعمان احمد اس کے مجموعی اثرات کو مثبت قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول، ”مصنوعی ذہانت صرف ملازمتیں پیدا یا ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت بدل دیتی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان اور خود کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے والی افرادی قوت موجود ہے۔ اگر تعلیمی اور تربیتی نظام تیزی سے خود کو ڈھال لے تو نئی ملازمتوں تک رسائی ممکن ہے۔“</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع دوگنا ہو چکے ہیں، تاہم اسی کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی ذہین افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کی کئی ارب ڈالر مالیت کی منڈی اور وہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود نعمان احمد زیادہ پرامید ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی زیادہ قدر اور بہتر معاوضے والی اے آئی ملازمتیں کیسے پیدا کی جائیں کہ ملک چھوڑنے کی قیمت زیادہ محسوس ہو۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کو سنجیدگی سے اپنا رہے ہوں تاکہ بہترین ماہرین کے پاس پاکستان میں رہنے کی ٹھوس وجہ موجود ہو۔“</p>
<h3><a id="کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" href="#کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیا بنیادی تعلیم سے پہلے اے آئی؟</strong></h3>
<p>ملک میں کمزور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور تعلیمی مسائل کے باعث بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت بنیادی تعلیم سے توجہ ہٹا سکتی ہے، مگر نعمان احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں موبائل بینکاری نے ان افراد تک بھی مالی خدمات پہنچائیں جن کا کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔ واٹس ایپ ایسے لوگ بھی روزانہ استعمال کرتے ہیں جنہیں پڑھنے لکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے غیر رسمی معیشت میں جگہ بنا لے گی۔“</p>
<p>شاید مصنوعی ذہانت کو تعلیم کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک ضلع میں دسویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے پڑھائی ود اے آئی نامی پلیٹ فارم کے استعمال کے بعد امتحانات میں کامیابی کی شرح میں 96.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ پلیٹ فارم انگریزی اور ہندی میں ریاضی کے سوالات حل کرنے اور اساتذہ کے لیے ورک شیٹس تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>مضمون کے اختتام پر نعمان احمد کہتے ہیں:”اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی سمت کا تعین کون کرے گا؟ میری خواہش ہے کہ ہم اس عمل کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہوں۔“</p>
<h3><a id="خلا-کو-پُر-کرنا" href="#خلا-کو-پُر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خلا کو پُر کرنا</strong></h3>
<p>پاکستان کی ایک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ یہ ان متعدد چیلنجز میں سے ایک ہے جن پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم اگر یہ رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو مصنوعی ذہانت تجارت، روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور حتیٰ کہ معاشی تبدیلی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>نعمان احمد کے مطابق، ”مصنوعی ذہانت پیشہ ورانہ تاریخ میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کیونکہ یہ علم تک رسائی اور مضبوط ادارہ جاتی مواقع کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔“</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”ملتان کا کوئی پہلی نسل کا پیشہ ور، اگر اس کے پاس درست فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مناسب اے آئی ٹولز موجود ہوں، تو اب ایسا کام انجام دے سکتا ہے جو کسی ممتاز جامعہ سے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ درجے کے ادارے میں کام کرنے والے فرد کے معیار کا مقابلہ کر سکے۔“</p>
<p>ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سوچے سمجھے اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تربیتی پروگرام، مناسب قیمتوں کا نظام اور علاقائی اور قومی زبانوں میں اے آئی کی دستیابی شامل ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت صرف بااثر حلقوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>ان کے بقول، ”یہ خیرات نہیں بلکہ پاکستان کی اکثریتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا طریقہ ہے۔ جن بہترین ماہرین کو ہم نے تربیت دی، ان میں سے اکثر کا تعلق بھی ایسے ہی پس منظر سے تھا۔“</p>
<p>اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات کی حامل ہے، لیکن پاکستان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ڈیجیٹل اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کتنی مؤثر انداز میں دور کرتی ہے، اس شعبے میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہے اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنے والا کس قدر مؤثر قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289297</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 17:18:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خدیجہ حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/281703050aa1532.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/281703050aa1532.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کم پیچیدگیاں، زیادہ اعتماد: پاکستان میں بینکاری کا مستقبل سادہ ڈیجیٹل نظام سے وابستہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو مزید بینکنگ ایپلی کیشنز کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے کم پیچیدگیوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالیاتی ٹولز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو رفتار اور سہولت کا وعدہ کرتے ہیں۔ ڈاؤن لوڈز میں اضافہ ہوا، لین دین کا حجم بڑھا، اور صرف مالی سال 2025 میں ریٹیل ادائیگیاں 9.1 ارب ٹرانزیکشنز سے تجاوز کر گئیں، جن کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی، جبکہ اب ڈیجیٹل ذرائع تمام ریٹیل لین دین کا تقریباً 88 فیصد حصہ بن چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ فعال ہے، تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، اور پیش رفت کی سمت بالکل واضح ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، صرف حجم بڑھ جانے سے خودبخود سادگی پیدا نہیں ہوتی۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے آج بھی بینکنگ ایک پیچیدہ، ضابطہ جاتی  اور غیر یقینی عمل محسوس ہوتی ہے۔ فارم سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے، مختلف چارجز کی وضاحت درکار ہوتی ہے، اور ڈیجیٹل انٹرفیس احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ معمولی سی غلطی بھی مہنگی ثابت ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ یہی خاموش ہچکچاہٹ اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ڈیجیٹل متبادل موجود ہونے کے باوجود لوگ نقد رقم  کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد رقم آج بھی ایک سادہ وجہ کی بنا پر مقبول ہے: یہ آسان، فوری اور قابلِ پیش گوئی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس تک اب ڈیجیٹل بینکنگ کو پہنچنا ہوگا۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں بینکنگ کا انحصار فزیکل موجودگی  پر رہا، جو استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ بینکوں کی شاخوں کا وسیع نیٹ ورک مستقل مزاجی کا تاثر دیتا تھا، دستاویزی کارروائیاں قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی تھیں، اور آمنے سامنے ملاقات صارفین کو اعتماد فراہم کرتی تھی۔ اگرچہ موبائل والٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے بھی مقبولیت حاصل کی، مگر مجموعی نظام اب بھی برانچز اور روایتی طریقۂ کار کے گرد ہی ترتیب دیا گیا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ڈیجیٹل فرسٹ بینک بالکل مختلف بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل نظام کو پرانے ڈھانچے پر اضافی سہولت کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پورے نظام کی بنیادی ساخت  بنایا جاتا ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے ، تصدیق اور خدمات کی فراہمی کو ابتدا ہی سے حقیقی وقت میں انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ تاخیر سے کام کرنے کے بجائے فوری ردعمل  کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے کے انداز کو بھی بدل دیتی ہے۔ جب بینک کی فزیکل موجودگی اعتماد کا بنیادی پیمانہ نہ رہے، تو یہ ذمہ داری ڈیجیٹل ڈیزائن کو سنبھالنی پڑتی ہے۔ طریقۂ کار اتنا واضح ہونا چاہیے کہ شکوک کم ہوں، سیکیورٹی اتنی نمایاں ہو کہ اعتماد پیدا کرے، اور ضرورت کے وقت معاونت آسانی سے دستیاب رہے تاکہ صارف کو اطمینان حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم طے ہوگا کہ کتنی نئی سہولیات متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان کے مالیاتی شعبے کی سمت ایک اور اہم انداز میں بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اسلامی بینکاری اب مجموعی بینکاری نظام کا ایک نمایاں اور مسلسل بڑھتا ہوا حصہ بن چکی ہے۔ اسلامی بینکاری کے اثاثے اب مجموعی بینکاری شعبے کے اثاثوں کا 22.9 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ ڈپازٹس میں اس کا حصہ اس سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلامی بینکاری اب مرکزی دھارے  کا حصہ بن چکی ہے۔یہ پیش رفت ایک عملی سوال بھی سامنے لاتی ہے: کیا شریعت کے مطابق بینکاری  کو اس انداز میں فراہم کیا جا سکتا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کے لیے بھی آسان محسوس ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے صارفین کے لیے مسئلہ ترجیح نہیں بلکہ پیچیدگی ہے۔ مختلف بینکاری مصنوعات کا ڈھانچہ کئی تہوں پر مشتمل محسوس ہوتا ہے، اصطلاحات تکنیکی معلوم ہوتی ہیں، اور مختلف مصنوعات کا موازنہ کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کو بڑے پیمانے پر عام پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننا ہے تو اسے شفافیت  اور یکسانیت کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ اسے ایسا محسوس ہونا چاہیے کہ اسے سمجھنا فطری ہو، نہ کہ کسی ہدایت نامے کی ضرورت پڑے۔ڈیجیٹل فرسٹ ڈھانچے اور اسلامک فرسٹ نقطۂ نظر کا امتزاج ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ جو ادارہ ابتدا ہی سے ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم کیا گیا ہو، اسے پرانے نظام میں شریعت سے مطابقت پیدا کرنے یا پہلے سے موجود پیچیدہ طریقۂ کار کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنی بنیاد ہی میں منظم ڈھانچہ، وضاحت اور شریعت سے ہم آہنگی کو شامل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری میں تجدید  کا مطلب صرف نئی سہولیات شامل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا سوچا سمجھا ازسرِنو ڈیزائن ہونا چاہیے جو لوگوں کے آج کے لین دین کے طریقوں کے مطابق ہو۔پاکستان میں اس کا مطلب ایسی بینکنگ ہے جس میں داخل ہونا آسان ہو، جسے سمجھنا آسان ہو، اور جو روزمرہ استعمال میں یکساں اور قابلِ اعتماد ہو۔اگر ڈیجیٹل بینکنگ واقعی عام پاکستانیوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے روزمرہ زندگی کے عام لمحات سے آغاز کرنا ہوگا،اسکول کی فیس ادا کرنے کے لیے آدھا دن ضائع نہ کرنا پڑے۔گھر والوں کو رقم بھیجنے کے لیے قطار میں نہ کھڑا ہونا پڑے،بیلنس چیک کرتے وقت کسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ ہو،مختلف چارجز کو کسی کی مدد کے بغیر سمجھا جا سکے اور بینک اکاؤنٹ کھولتے وقت صارف خود کو الجھن کا شکار محسوس نہ کرے۔یہ کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں بلکہ صرف جائز اور معقول توقعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم وابستہ ہوگا کہ کتنی نئی خصوصیات  متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں ختم کی جاتی ہیں۔ سادگی مالیاتی شمولیت  کو فروغ دیتی ہے، وضاحت اعتماد پیدا کرتی ہے، اور مستقل مزاجی وقت کے ساتھ لوگوں کے رویّے بدل دیتی ہے۔پاکستان کا مالیاتی شعبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ڈیجیٹل رفتار، شریعت سے مطابقت، اور صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات اس کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ جو ادارے اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، انہیں نظم و ضبط اور واضح توجہ کے ساتھ اس کا جواب دینا ہوگا۔صرف ٹیکنالوجی اعتماد پیدا نہیں کر سکتی؛ سوچا سمجھا، صارف دوست اور مؤثر ڈیزائن ہی اعتماد کی حقیقی بنیاد بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: اس مضمون میں بیان کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو مزید بینکنگ ایپلی کیشنز کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے کم پیچیدگیوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالیاتی ٹولز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو رفتار اور سہولت کا وعدہ کرتے ہیں۔ ڈاؤن لوڈز میں اضافہ ہوا، لین دین کا حجم بڑھا، اور صرف مالی سال 2025 میں ریٹیل ادائیگیاں 9.1 ارب ٹرانزیکشنز سے تجاوز کر گئیں، جن کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی، جبکہ اب ڈیجیٹل ذرائع تمام ریٹیل لین دین کا تقریباً 88 فیصد حصہ بن چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ فعال ہے، تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، اور پیش رفت کی سمت بالکل واضح ہے۔</strong></p>
<p>تاہم، صرف حجم بڑھ جانے سے خودبخود سادگی پیدا نہیں ہوتی۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے آج بھی بینکنگ ایک پیچیدہ، ضابطہ جاتی  اور غیر یقینی عمل محسوس ہوتی ہے۔ فارم سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے، مختلف چارجز کی وضاحت درکار ہوتی ہے، اور ڈیجیٹل انٹرفیس احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ معمولی سی غلطی بھی مہنگی ثابت ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ یہی خاموش ہچکچاہٹ اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ڈیجیٹل متبادل موجود ہونے کے باوجود لوگ نقد رقم  کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>نقد رقم آج بھی ایک سادہ وجہ کی بنا پر مقبول ہے: یہ آسان، فوری اور قابلِ پیش گوئی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس تک اب ڈیجیٹل بینکنگ کو پہنچنا ہوگا۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں بینکنگ کا انحصار فزیکل موجودگی  پر رہا، جو استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ بینکوں کی شاخوں کا وسیع نیٹ ورک مستقل مزاجی کا تاثر دیتا تھا، دستاویزی کارروائیاں قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی تھیں، اور آمنے سامنے ملاقات صارفین کو اعتماد فراہم کرتی تھی۔ اگرچہ موبائل والٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے بھی مقبولیت حاصل کی، مگر مجموعی نظام اب بھی برانچز اور روایتی طریقۂ کار کے گرد ہی ترتیب دیا گیا رہا۔</p>
<p>ایک ڈیجیٹل فرسٹ بینک بالکل مختلف بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل نظام کو پرانے ڈھانچے پر اضافی سہولت کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پورے نظام کی بنیادی ساخت  بنایا جاتا ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے ، تصدیق اور خدمات کی فراہمی کو ابتدا ہی سے حقیقی وقت میں انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ تاخیر سے کام کرنے کے بجائے فوری ردعمل  کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے کے انداز کو بھی بدل دیتی ہے۔ جب بینک کی فزیکل موجودگی اعتماد کا بنیادی پیمانہ نہ رہے، تو یہ ذمہ داری ڈیجیٹل ڈیزائن کو سنبھالنی پڑتی ہے۔ طریقۂ کار اتنا واضح ہونا چاہیے کہ شکوک کم ہوں، سیکیورٹی اتنی نمایاں ہو کہ اعتماد پیدا کرے، اور ضرورت کے وقت معاونت آسانی سے دستیاب رہے تاکہ صارف کو اطمینان حاصل ہو۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم طے ہوگا کہ کتنی نئی سہولیات متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>اسی دوران پاکستان کے مالیاتی شعبے کی سمت ایک اور اہم انداز میں بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اسلامی بینکاری اب مجموعی بینکاری نظام کا ایک نمایاں اور مسلسل بڑھتا ہوا حصہ بن چکی ہے۔ اسلامی بینکاری کے اثاثے اب مجموعی بینکاری شعبے کے اثاثوں کا 22.9 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ ڈپازٹس میں اس کا حصہ اس سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلامی بینکاری اب مرکزی دھارے  کا حصہ بن چکی ہے۔یہ پیش رفت ایک عملی سوال بھی سامنے لاتی ہے: کیا شریعت کے مطابق بینکاری  کو اس انداز میں فراہم کیا جا سکتا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کے لیے بھی آسان محسوس ہو؟</p>
<p>بہت سے صارفین کے لیے مسئلہ ترجیح نہیں بلکہ پیچیدگی ہے۔ مختلف بینکاری مصنوعات کا ڈھانچہ کئی تہوں پر مشتمل محسوس ہوتا ہے، اصطلاحات تکنیکی معلوم ہوتی ہیں، اور مختلف مصنوعات کا موازنہ کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کو بڑے پیمانے پر عام پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننا ہے تو اسے شفافیت  اور یکسانیت کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ اسے ایسا محسوس ہونا چاہیے کہ اسے سمجھنا فطری ہو، نہ کہ کسی ہدایت نامے کی ضرورت پڑے۔ڈیجیٹل فرسٹ ڈھانچے اور اسلامک فرسٹ نقطۂ نظر کا امتزاج ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ جو ادارہ ابتدا ہی سے ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم کیا گیا ہو، اسے پرانے نظام میں شریعت سے مطابقت پیدا کرنے یا پہلے سے موجود پیچیدہ طریقۂ کار کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنی بنیاد ہی میں منظم ڈھانچہ، وضاحت اور شریعت سے ہم آہنگی کو شامل کر سکتا ہے۔</p>
<p>بینکاری میں تجدید  کا مطلب صرف نئی سہولیات شامل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا سوچا سمجھا ازسرِنو ڈیزائن ہونا چاہیے جو لوگوں کے آج کے لین دین کے طریقوں کے مطابق ہو۔پاکستان میں اس کا مطلب ایسی بینکنگ ہے جس میں داخل ہونا آسان ہو، جسے سمجھنا آسان ہو، اور جو روزمرہ استعمال میں یکساں اور قابلِ اعتماد ہو۔اگر ڈیجیٹل بینکنگ واقعی عام پاکستانیوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے روزمرہ زندگی کے عام لمحات سے آغاز کرنا ہوگا،اسکول کی فیس ادا کرنے کے لیے آدھا دن ضائع نہ کرنا پڑے۔گھر والوں کو رقم بھیجنے کے لیے قطار میں نہ کھڑا ہونا پڑے،بیلنس چیک کرتے وقت کسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ ہو،مختلف چارجز کو کسی کی مدد کے بغیر سمجھا جا سکے اور بینک اکاؤنٹ کھولتے وقت صارف خود کو الجھن کا شکار محسوس نہ کرے۔یہ کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں بلکہ صرف جائز اور معقول توقعات ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم وابستہ ہوگا کہ کتنی نئی خصوصیات  متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں ختم کی جاتی ہیں۔ سادگی مالیاتی شمولیت  کو فروغ دیتی ہے، وضاحت اعتماد پیدا کرتی ہے، اور مستقل مزاجی وقت کے ساتھ لوگوں کے رویّے بدل دیتی ہے۔پاکستان کا مالیاتی شعبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ڈیجیٹل رفتار، شریعت سے مطابقت، اور صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات اس کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ جو ادارے اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، انہیں نظم و ضبط اور واضح توجہ کے ساتھ اس کا جواب دینا ہوگا۔صرف ٹیکنالوجی اعتماد پیدا نہیں کر سکتی؛ سوچا سمجھا، صارف دوست اور مؤثر ڈیزائن ہی اعتماد کی حقیقی بنیاد بن سکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: اس مضمون میں بیان کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289269</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 10:29:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد ہمایوں سجاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/28102814a53a18d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/28102814a53a18d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی صنعتی پالیسی درست سمت سے ہٹ گئی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289071/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت  کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے  کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات  کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست  نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت  پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں  کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط  کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع  بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق  کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔  اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی  میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات  پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش  شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید  سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز  کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ  اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست  کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری  پر مبنی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی  جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط  معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی  ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات  کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔</p>
<p>بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت  کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔</p>
<p>رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے  کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔</p>
<p>یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات  کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔</p>
<p>صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔</p>
<p>یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست  نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔</p>
<p>اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔</p>
<p>اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔</p>
<p>یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت  پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں  کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط  کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع  بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق  کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔  اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی  میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات  پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش  شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید  سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز  کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ  اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست  کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری  پر مبنی ہوں۔</p>
<p>جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی  جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط  معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی  ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات  کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289071</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:22:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231020017e5878d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231020017e5878d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمباکو نوشی اب بھی جیت رہی ہے، اس کے خلاف جنگ پر ازسرِنو غور کا وقت آ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سگریٹ کے ہر پیکٹ پر صحت سے متعلق واضح اور خوفناک انتباہی تصاویر اور تحریریں موجود ہوتی ہیں۔ لاکھوں سگریٹ نوش روزانہ انہیں دیکھتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ان انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے پیکٹ دوبارہ جیب میں رکھتے ہیں اور ایک اور سگریٹ سلگا لیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں مختلف ممالک نے تمباکو پر ٹیکس بڑھائے، قوانین مزید سخت کیے، سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصویری انتباہات شائع کیے اور تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات پر سرمایہ کاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھی یہ تمام اقدامات اختیار کیے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد آج بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں، جبکہ تمباکو ملک میں قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں بدستور شامل ہے۔ کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحتِ عامہ کی حکمتِ عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کا تصور سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نسبتاً کم نقصان دہ متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کے خلاف دلیل نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس، اشتہارات پر پابندیاں اور انتباہی لیبل آج بھی اہم ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ اقدامات اکیلے کبھی کافی نہیں تھے، اور شواہد کئی برسوں سے یہی بتا رہے ہیں۔ تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) وہ گمشدہ کڑی ہے جس پر پاکستان اب بھی کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین ہی سگریٹ نوشی کو جان لیوا بناتی ہے، مگر سائنسی شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔ نکوٹین یقیناً نشہ آور ہے، لیکن پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کی اصل وجہ وہ دھواں اور ہزاروں زہریلے کیمیائی مادے ہیں جو تمباکو جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر نکوٹین تمباکو جلائے بغیر جسم تک پہنچائی جائے تو ایسے متبادل کی خطرے کی نوعیت روایتی سگریٹ سے نمایاں طور پر مختلف ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نقصان کو کم کرنے والا متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لاکھوں ایسے افراد کے لیے جو کئی بار سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر کے ناکام ہو چکے ہیں یا جنہیں تمباکو نوشی ترک کرنے میں پیشہ ورانہ مدد میسر نہیں، یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشے کی لت صرف آگاہی کی کمی کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوش بخوبی جانتے ہیں کہ سگریٹ صحت کے لیے مضر ہیں، لیکن وہ اس عادت میں جکڑے ہوئے ہیں کیونکہ سگریٹ چھوڑنا واقعی آسان نہیں۔ ایسے میں لوگوں سے صرف یہ کہنا کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیں، مگر انہیں کوئی متبادل فراہم نہ کرنا، صحتِ عامہ کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایسا مشورہ ہے جس کے ساتھ کوئی عملی حل موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متبادل مصنوعات سے متعلق بین الاقوامی شواہد اب محدود نہیں رہے۔ نیوزی لینڈ میں، جہاں ویپنگ عام ہو چکی ہے، حکومت نے ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم نقصان دہ متبادل تسلیم کیا ہے اور اس سوچ کو اپنی قومی ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سویڈن نے مختلف راستہ اختیار کیا۔ وہاں اسنس (Snus) — ایک زبانی طور پر استعمال ہونے والی تمباکو مصنوعات، جس کے خطرات روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کہیں کم سمجھے جاتے ہیں — کے وسیع استعمال کے باعث دنیا میں تمباکو نوشی کی شرح سب سے کم سطح پر آ گئی۔ یہ مختلف تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ہر ملک کے لیے ایک ہی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی، کیونکہ مختلف معاشروں میں مختلف مصنوعات اور حکمتِ عملیاں بہتر نتائج دیتی ہیں۔ اسی لیے تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے اقدامات بھی ہر ملک کے حالات کے مطابق ترتیب دیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات پر کھلے اور حقیقت پسندانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اب تک اس سمت میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی۔ ملک میں ہر سال ایک لاکھ 63 ہزار 500 سے زائد افراد تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ہر صوبے، ہر آمدنی والے طبقے اور ہر عمر کے گروہ میں سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے زیادہ جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تمباکو نوشی ترک کرانے کی سہولتیں اب بھی محدود ہیں، جبکہ ان افراد کے لیے متبادل ذرائع پر عوامی سطح پر بہت کم بحث ہوتی ہے جو سگریٹ چھوڑنے سے قاصر ہیں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ صحتِ عامہ کی ایسی حکمتِ عملی، جو صرف ایک ہی راستہ یعنی مکمل طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے پر زور دے، ہر سگریٹ نوش تک نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اس بحث میں تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کے تصور کو بھی شامل کیا جائے تو ان افراد کے لیے صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بصورتِ دیگر سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ واقعی توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ خدشہ بجا ہے کہ نکوٹین پر مبنی متبادل مصنوعات ایسے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔ تاہم ان خدشات کو خاموش رہنے کا جواز بنانے کے بجائے مؤثر ضابطہ سازی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات کے بارے میں دیانت داری اور کھلے انداز میں آگاہی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر یہ سب نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ متبادل مصنوعات پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں، لوگ انہیں خرید بھی رہے ہیں اور استعمال بھی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کرنا ہی اصل ہدف ہونا چاہیے، مگر جو افراد فی الحال اس ہدف تک نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے مناسب ضابطوں اور واضح حفاظتی اقدامات کے ساتھ متبادل ذرائع فراہم کیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس سیکھنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ بین الاقوامی تجربات قیمتی اسباق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر سے سامنے آنے والے ابتدائی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے سگریٹ نوش کسی سرکاری پالیسی یا رہنمائی کے بغیر ہی خود سے متبادل مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اب بھی جس چیز کی کمی ہے، وہ صحتِ عامہ کے اداروں کی جانب سے ٹوبیکو ہارم ریڈکشن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی آمادگی ہے۔ اس رویے میں تبدیلی ناگزیر ہے، کیونکہ عملی اقدام نہ کرنے کی قیمت ہر سال ان اموات کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جن کی تعداد بدستور ناقابلِ قبول حد تک بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سگریٹ کے ہر پیکٹ پر صحت سے متعلق واضح اور خوفناک انتباہی تصاویر اور تحریریں موجود ہوتی ہیں۔ لاکھوں سگریٹ نوش روزانہ انہیں دیکھتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ان انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے پیکٹ دوبارہ جیب میں رکھتے ہیں اور ایک اور سگریٹ سلگا لیتے ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں مختلف ممالک نے تمباکو پر ٹیکس بڑھائے، قوانین مزید سخت کیے، سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصویری انتباہات شائع کیے اور تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات پر سرمایہ کاری کی۔</p>
<p>پاکستان نے بھی یہ تمام اقدامات اختیار کیے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد آج بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں، جبکہ تمباکو ملک میں قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں بدستور شامل ہے۔ کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحتِ عامہ کی حکمتِ عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کا تصور سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نسبتاً کم نقصان دہ متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کے خلاف دلیل نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس، اشتہارات پر پابندیاں اور انتباہی لیبل آج بھی اہم ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ اقدامات اکیلے کبھی کافی نہیں تھے، اور شواہد کئی برسوں سے یہی بتا رہے ہیں۔ تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) وہ گمشدہ کڑی ہے جس پر پاکستان اب بھی کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔</p>
<p>زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین ہی سگریٹ نوشی کو جان لیوا بناتی ہے، مگر سائنسی شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔ نکوٹین یقیناً نشہ آور ہے، لیکن پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کی اصل وجہ وہ دھواں اور ہزاروں زہریلے کیمیائی مادے ہیں جو تمباکو جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر نکوٹین تمباکو جلائے بغیر جسم تک پہنچائی جائے تو ایسے متبادل کی خطرے کی نوعیت روایتی سگریٹ سے نمایاں طور پر مختلف ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نقصان کو کم کرنے والا متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لاکھوں ایسے افراد کے لیے جو کئی بار سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر کے ناکام ہو چکے ہیں یا جنہیں تمباکو نوشی ترک کرنے میں پیشہ ورانہ مدد میسر نہیں، یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔</p>
<p>نشے کی لت صرف آگاہی کی کمی کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوش بخوبی جانتے ہیں کہ سگریٹ صحت کے لیے مضر ہیں، لیکن وہ اس عادت میں جکڑے ہوئے ہیں کیونکہ سگریٹ چھوڑنا واقعی آسان نہیں۔ ایسے میں لوگوں سے صرف یہ کہنا کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیں، مگر انہیں کوئی متبادل فراہم نہ کرنا، صحتِ عامہ کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایسا مشورہ ہے جس کے ساتھ کوئی عملی حل موجود نہیں۔</p>
<p>متبادل مصنوعات سے متعلق بین الاقوامی شواہد اب محدود نہیں رہے۔ نیوزی لینڈ میں، جہاں ویپنگ عام ہو چکی ہے، حکومت نے ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم نقصان دہ متبادل تسلیم کیا ہے اور اس سوچ کو اپنی قومی ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سویڈن نے مختلف راستہ اختیار کیا۔ وہاں اسنس (Snus) — ایک زبانی طور پر استعمال ہونے والی تمباکو مصنوعات، جس کے خطرات روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کہیں کم سمجھے جاتے ہیں — کے وسیع استعمال کے باعث دنیا میں تمباکو نوشی کی شرح سب سے کم سطح پر آ گئی۔ یہ مختلف تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ہر ملک کے لیے ایک ہی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی، کیونکہ مختلف معاشروں میں مختلف مصنوعات اور حکمتِ عملیاں بہتر نتائج دیتی ہیں۔ اسی لیے تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے اقدامات بھی ہر ملک کے حالات کے مطابق ترتیب دیے جانے چاہییں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات پر کھلے اور حقیقت پسندانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔</p>
</blockquote>
<p>پاکستان نے اب تک اس سمت میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی۔ ملک میں ہر سال ایک لاکھ 63 ہزار 500 سے زائد افراد تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ہر صوبے، ہر آمدنی والے طبقے اور ہر عمر کے گروہ میں سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے زیادہ جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔</p>
<p>ملک میں تمباکو نوشی ترک کرانے کی سہولتیں اب بھی محدود ہیں، جبکہ ان افراد کے لیے متبادل ذرائع پر عوامی سطح پر بہت کم بحث ہوتی ہے جو سگریٹ چھوڑنے سے قاصر ہیں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ صحتِ عامہ کی ایسی حکمتِ عملی، جو صرف ایک ہی راستہ یعنی مکمل طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے پر زور دے، ہر سگریٹ نوش تک نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اس بحث میں تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کے تصور کو بھی شامل کیا جائے تو ان افراد کے لیے صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بصورتِ دیگر سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔</p>
<p>ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ واقعی توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ خدشہ بجا ہے کہ نکوٹین پر مبنی متبادل مصنوعات ایسے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔ تاہم ان خدشات کو خاموش رہنے کا جواز بنانے کے بجائے مؤثر ضابطہ سازی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات کے بارے میں دیانت داری اور کھلے انداز میں آگاہی فراہم کی جائے۔</p>
<p>لیکن اگر یہ سب نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ متبادل مصنوعات پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں، لوگ انہیں خرید بھی رہے ہیں اور استعمال بھی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کرنا ہی اصل ہدف ہونا چاہیے، مگر جو افراد فی الحال اس ہدف تک نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے مناسب ضابطوں اور واضح حفاظتی اقدامات کے ساتھ متبادل ذرائع فراہم کیے جانے چاہییں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس سیکھنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ بین الاقوامی تجربات قیمتی اسباق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر سے سامنے آنے والے ابتدائی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے سگریٹ نوش کسی سرکاری پالیسی یا رہنمائی کے بغیر ہی خود سے متبادل مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اب بھی جس چیز کی کمی ہے، وہ صحتِ عامہ کے اداروں کی جانب سے ٹوبیکو ہارم ریڈکشن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی آمادگی ہے۔ اس رویے میں تبدیلی ناگزیر ہے، کیونکہ عملی اقدام نہ کرنے کی قیمت ہر سال ان اموات کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جن کی تعداد بدستور ناقابلِ قبول حد تک بلند ہے۔</p>
<p>نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288864</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 21:12:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سوہا عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/172053388157f57.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/172053388157f57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مصنوعی ذہانت پاکستان میں انشورنس کوریج بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288792/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی دہائیوں سے انشورنس (بیمہ کاری) کی صنعت ترقی پذیر دنیا کے اربوں غیر محفوظ لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ کبھی بھی پالیسیوں کا ڈیزائن یا ان کی قیمت نہیں تھی بلکہ اصل رکاوٹ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے براہِ راست رابطہ اور گفتگو کا ناممکن ہونا تھا مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) نے شاید یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا میں ہر سال لاکھوں چھوٹے کاروباری حضرات، کسان اور محنت کش خاندان ایسے مالیاتی جھٹکوں کا شکار ہوتے ہیں جنہیں انشورنس کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ کبھی سیلاب فصل تباہ کر دیتا ہے  تو کبھی کوئی بیماری خاندان کی عمر بھر کی جمع پونجی نگل جاتی ہے۔ کسی حادثاتی آگ کے نتیجے میں نسلوں سے کھڑا کیا گیا کاروبار لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ایسے واقعے میں نقصان صرف حادثے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد کے حالات اسے مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جیسے بھاری سود پر قرضے لینا، بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا اور سالہا سال کی محنت کا ضائع ہو جانا۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں ہیں بلکہ یہ اس فرسودہ نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انشورنس کی سہولت موجود نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی نے ان غریب طبقوں سے نقصان کے تحفظ کے موضوع پر ڈھنگ سے بات ہی نہیں کی۔یہ تضاد انتہائی واضح ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشی ڈھانچے میں انشورنس گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، وہیں ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ امیر ممالک میں انشورنس کا حجم ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جو پورے ایشیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس خلیج کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں خاندان اور کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کے سامنے بالکل بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں انشورنس کی اس کم رسائی کا ذمہ دار عام طور پر غربت، مالیاتی شعور کی کمی اور روایتی یا مذہبی ہچکچاہٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ اصل رکاوٹ نہیں ہیں۔ اصل  مسئلہ جس کا انشورنس کمپنیوں نے کبھی ایمانداری سے اعتراف نہیں کیا وہ انشورنس کو لوگوں تک پہنچانے کا ناقص نظام اور رسائی کی کمی ہے۔انشورنس دیگر مالیاتی مصنوعات (جیسے بینک اکاؤنٹ وغیرہ) سے بالکل مختلف ہے۔ گاہک اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، کلیم (رقم کی واپسی) کی صورت میں کیا ہوگا اور وہ اپنی محنت کی کمائی کسی ایسے ادارے کے سپرد کیوں کریں جس پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات کے لیے انتہائی صبر اور مہارت سے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس توجہ اور رہنمائی پر اخراجات آتے ہیں۔ کم آمدنی والے کروڑوں صارفین تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں انسانی مشیروں (ایجنٹس) کو ملازمت پر رکھنا معاشی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں اس سروس کی ضرورت ہے۔ شہروں کے متوسط طبقے کے لیے بنایا گیا یہ روایتی نظام دیہی علاقوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک پہنچتے ہی مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ صنعت دہائیوں سے اس مسئلے سے واقف ہونے کے باوجود اسے حل کرنے سے قاصر رہی ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر اس صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور اس کے اثرات صرف انشورنس تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کا اصل کمال دفتری کاموں کو خودکار بنانا یا کال سینٹر کے عملے کو تبدیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل فائدہ اس رسائی کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اب پہلی بار کوئی بھی انشورنس کمپنی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک بہترین تربیت یافتہ  اے آئی ایجنٹ  تعینات کر سکتا ہے، جو مقامی زبانوں میں دن رات کے کسی بھی حصے میں بیک وقت ہزاروں صارفین سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی لاگت اتنی کم ہے کہ معمولی پریمیم (قسط) دینے والے غریب گاہکوں کو سروس فراہم کرنا بھی کمپنیوں کے لیے منافع بخش بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام عام خودکار چیٹ بوٹس کی طرح نہیں ہیں جو صرف چند طے شدہ آپشنز دیتے ہیں۔ جدید ترین زبانیں سمجھنے والے یہ  اے آئی مشیر انشورنس کے دائرہ کار کے بارے میں مخصوص سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، پالیسی کی شرائط آسان زبان میں سمجھا سکتے ہیں، کلیم کا طریقہ کار واضح کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فون پر ایک ہی گفتگو کے دوران پالیسی کی خرید و فروخت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے مگر انشورنس کی شرح انتہائی کم ہے یہ ٹیکنالوجی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔پاکستان جیسے کم انشورنس والے ملک میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی تجربات نے اس کے شاندار امکانات کو ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ماڈل کا پاکستان کے ایک شرعی ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم  تکافل بازار پر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ان ابتدائی نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نفاذ کے چند ہی مہینوں میں اس اے آئی ایجنٹ نے نہ صرف صارفین کو تکافل کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان کے خدشات دور کیے، بلکہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ان گفتگو کو گاڑی اور صحت کی انشورنس کی براہِ راست خریداری میں تبدیل کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگر صارفین کو بھروسہ، آسان رسائی اور سستی انشورنس فراہم کی جائے تو اس کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کی کم شرح کا تعلق مانگ کی کمی سے نہیں، بلکہ رسائی کے فقدان سے ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے پاس لوگوں کے گھروں تک پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انشورنس کی شرح میں اضافہ صرف خاندانوں کا ہی تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، قدرتی آفات کے بعد حکومت پر بوجھ کم کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ جن ممالک میں انشورنس کا نظام مضبوط ہوتا ہے وہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں اور جلد سنبھل جاتے ہیں۔تاہم موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی اپنی حدود بھی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پیچیدہ تجارتی خطرات، بڑی لائف انشورنس پالیسیاں اور متنازع کلیمز کے معاملات میں اب بھی تجربہ کار انسانی ماہرین کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم متبادل نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر صحت، گاڑی، سفر اور حادثاتی انشورنس جیسی ذاتی اور سادہ پالیسیوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر اس نظام کو بغیر کسی نگرانی کے لاپروائی سے استعمال کیا جائے تو صارفین کو غلط مصنوعات بیچنے اور نقصان پہنچانے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر پاکستان جیسی مارکیٹوں کے لیے نقصان دہ ہوگا جہاں پہلے ہی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں نگران اداروں (ریگولیٹرز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے انشورنس کی فروخت بڑھے گی ویسے ہی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہوگی۔ مقصد جدت کو روکنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں عام صارفین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی محض موجودہ نظام کو بہتر نہیں بنائے گی بلکہ یہ اس نظام کو ہر فرد کی پہنچ میں لے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس کے شعبے کی اصلاحات کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انشورنس کو اب محض ایک ثانوی صنعت نہیں، بلکہ معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فنڈنگ کا ایک حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فروخت، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور عوامی شعور کے لیے مختص کیا جائے تو پاکستان روایتی طریقوں کی کئی دہائیوں کی مسافت کو چند سالوں میں طے کرکے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے کامیاب ماڈل وہ نہیں ہوگا جہاں انسانوں کو بالکل ہٹا دیا جائے بلکہ وہ ہوگا جہاں انسانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جلا بخشی جائے۔ ایک ماہر انسانی ایجنٹ دن میں مشکل سے 20 لوگوں سے تفصیلی گفتگو کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے آئی سسٹم بیک وقت ہزاروں لوگوں سے بات چیت کرکے صرف انتہائی پیچیدہ کیسز کو انسانی ماہرین کی طرف بھیج سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رسائی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ انسانی مہارت وہاں کام آتی ہے جہاں حتمی فیصلے کی ضرورت ہو۔انشورنس پاکستان میں معاشی تحفظ کا وہ ستون ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ صحت کی انشورنس رکھنے والے خاندان کسی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد قرضوں کے دلدل میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار ناگہانی آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے فکر ہو کر فصلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور جب انشورنس نقصانات کا بوجھ خود اٹھاتی ہے تو حکومتوں پر مالی دباؤ کم  اور خاندان تباہی سے بچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ غیر بیمہ شدہ آبادی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ ماڈل بہت مہنگا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ شاید پاکستان جیسے ممالک میں انشورنس کی کم شرح کی وجہ غربت یا ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ایک حد تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ماضی میں دنیا کے پاس اربوں لوگوں سے ان کے مالی تحفظ کے بارے میں سستے داموں گفتگو کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں  بلکہ وہ چابی ہے جو اس نظام کو ہر خاص و عام کے لیے ممکن بنا دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی دہائیوں سے انشورنس (بیمہ کاری) کی صنعت ترقی پذیر دنیا کے اربوں غیر محفوظ لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ کبھی بھی پالیسیوں کا ڈیزائن یا ان کی قیمت نہیں تھی بلکہ اصل رکاوٹ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے براہِ راست رابطہ اور گفتگو کا ناممکن ہونا تھا مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) نے شاید یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا میں ہر سال لاکھوں چھوٹے کاروباری حضرات، کسان اور محنت کش خاندان ایسے مالیاتی جھٹکوں کا شکار ہوتے ہیں جنہیں انشورنس کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ کبھی سیلاب فصل تباہ کر دیتا ہے  تو کبھی کوئی بیماری خاندان کی عمر بھر کی جمع پونجی نگل جاتی ہے۔ کسی حادثاتی آگ کے نتیجے میں نسلوں سے کھڑا کیا گیا کاروبار لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔</p>
<p>ہر ایسے واقعے میں نقصان صرف حادثے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد کے حالات اسے مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جیسے بھاری سود پر قرضے لینا، بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا اور سالہا سال کی محنت کا ضائع ہو جانا۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں ہیں بلکہ یہ اس فرسودہ نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انشورنس کی سہولت موجود نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی نے ان غریب طبقوں سے نقصان کے تحفظ کے موضوع پر ڈھنگ سے بات ہی نہیں کی۔یہ تضاد انتہائی واضح ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشی ڈھانچے میں انشورنس گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، وہیں ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ امیر ممالک میں انشورنس کا حجم ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جو پورے ایشیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس خلیج کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں خاندان اور کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کے سامنے بالکل بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں انشورنس کی اس کم رسائی کا ذمہ دار عام طور پر غربت، مالیاتی شعور کی کمی اور روایتی یا مذہبی ہچکچاہٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ اصل رکاوٹ نہیں ہیں۔ اصل  مسئلہ جس کا انشورنس کمپنیوں نے کبھی ایمانداری سے اعتراف نہیں کیا وہ انشورنس کو لوگوں تک پہنچانے کا ناقص نظام اور رسائی کی کمی ہے۔انشورنس دیگر مالیاتی مصنوعات (جیسے بینک اکاؤنٹ وغیرہ) سے بالکل مختلف ہے۔ گاہک اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، کلیم (رقم کی واپسی) کی صورت میں کیا ہوگا اور وہ اپنی محنت کی کمائی کسی ایسے ادارے کے سپرد کیوں کریں جس پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات کے لیے انتہائی صبر اور مہارت سے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اس توجہ اور رہنمائی پر اخراجات آتے ہیں۔ کم آمدنی والے کروڑوں صارفین تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں انسانی مشیروں (ایجنٹس) کو ملازمت پر رکھنا معاشی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں اس سروس کی ضرورت ہے۔ شہروں کے متوسط طبقے کے لیے بنایا گیا یہ روایتی نظام دیہی علاقوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک پہنچتے ہی مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ صنعت دہائیوں سے اس مسئلے سے واقف ہونے کے باوجود اسے حل کرنے سے قاصر رہی ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر اس صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور اس کے اثرات صرف انشورنس تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کا اصل کمال دفتری کاموں کو خودکار بنانا یا کال سینٹر کے عملے کو تبدیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل فائدہ اس رسائی کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اب پہلی بار کوئی بھی انشورنس کمپنی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک بہترین تربیت یافتہ  اے آئی ایجنٹ  تعینات کر سکتا ہے، جو مقامی زبانوں میں دن رات کے کسی بھی حصے میں بیک وقت ہزاروں صارفین سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی لاگت اتنی کم ہے کہ معمولی پریمیم (قسط) دینے والے غریب گاہکوں کو سروس فراہم کرنا بھی کمپنیوں کے لیے منافع بخش بن جاتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ نظام عام خودکار چیٹ بوٹس کی طرح نہیں ہیں جو صرف چند طے شدہ آپشنز دیتے ہیں۔ جدید ترین زبانیں سمجھنے والے یہ  اے آئی مشیر انشورنس کے دائرہ کار کے بارے میں مخصوص سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، پالیسی کی شرائط آسان زبان میں سمجھا سکتے ہیں، کلیم کا طریقہ کار واضح کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فون پر ایک ہی گفتگو کے دوران پالیسی کی خرید و فروخت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے مگر انشورنس کی شرح انتہائی کم ہے یہ ٹیکنالوجی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔پاکستان جیسے کم انشورنس والے ملک میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی تجربات نے اس کے شاندار امکانات کو ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ماڈل کا پاکستان کے ایک شرعی ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم  تکافل بازار پر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ان ابتدائی نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نفاذ کے چند ہی مہینوں میں اس اے آئی ایجنٹ نے نہ صرف صارفین کو تکافل کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان کے خدشات دور کیے، بلکہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ان گفتگو کو گاڑی اور صحت کی انشورنس کی براہِ راست خریداری میں تبدیل کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگر صارفین کو بھروسہ، آسان رسائی اور سستی انشورنس فراہم کی جائے تو اس کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کی کم شرح کا تعلق مانگ کی کمی سے نہیں، بلکہ رسائی کے فقدان سے ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے پاس لوگوں کے گھروں تک پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انشورنس کی شرح میں اضافہ صرف خاندانوں کا ہی تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، قدرتی آفات کے بعد حکومت پر بوجھ کم کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ جن ممالک میں انشورنس کا نظام مضبوط ہوتا ہے وہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں اور جلد سنبھل جاتے ہیں۔تاہم موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی اپنی حدود بھی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پیچیدہ تجارتی خطرات، بڑی لائف انشورنس پالیسیاں اور متنازع کلیمز کے معاملات میں اب بھی تجربہ کار انسانی ماہرین کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم متبادل نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر صحت، گاڑی، سفر اور حادثاتی انشورنس جیسی ذاتی اور سادہ پالیسیوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر اس نظام کو بغیر کسی نگرانی کے لاپروائی سے استعمال کیا جائے تو صارفین کو غلط مصنوعات بیچنے اور نقصان پہنچانے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر پاکستان جیسی مارکیٹوں کے لیے نقصان دہ ہوگا جہاں پہلے ہی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں نگران اداروں (ریگولیٹرز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے انشورنس کی فروخت بڑھے گی ویسے ہی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہوگی۔ مقصد جدت کو روکنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں عام صارفین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی محض موجودہ نظام کو بہتر نہیں بنائے گی بلکہ یہ اس نظام کو ہر فرد کی پہنچ میں لے آئے گی۔</p>
</blockquote>
<p>حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس کے شعبے کی اصلاحات کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انشورنس کو اب محض ایک ثانوی صنعت نہیں، بلکہ معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فنڈنگ کا ایک حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فروخت، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور عوامی شعور کے لیے مختص کیا جائے تو پاکستان روایتی طریقوں کی کئی دہائیوں کی مسافت کو چند سالوں میں طے کرکے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p>سب سے کامیاب ماڈل وہ نہیں ہوگا جہاں انسانوں کو بالکل ہٹا دیا جائے بلکہ وہ ہوگا جہاں انسانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جلا بخشی جائے۔ ایک ماہر انسانی ایجنٹ دن میں مشکل سے 20 لوگوں سے تفصیلی گفتگو کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے آئی سسٹم بیک وقت ہزاروں لوگوں سے بات چیت کرکے صرف انتہائی پیچیدہ کیسز کو انسانی ماہرین کی طرف بھیج سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رسائی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ انسانی مہارت وہاں کام آتی ہے جہاں حتمی فیصلے کی ضرورت ہو۔انشورنس پاکستان میں معاشی تحفظ کا وہ ستون ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ صحت کی انشورنس رکھنے والے خاندان کسی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد قرضوں کے دلدل میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار ناگہانی آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے فکر ہو کر فصلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور جب انشورنس نقصانات کا بوجھ خود اٹھاتی ہے تو حکومتوں پر مالی دباؤ کم  اور خاندان تباہی سے بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ غیر بیمہ شدہ آبادی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ ماڈل بہت مہنگا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ شاید پاکستان جیسے ممالک میں انشورنس کی کم شرح کی وجہ غربت یا ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ایک حد تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ماضی میں دنیا کے پاس اربوں لوگوں سے ان کے مالی تحفظ کے بارے میں سستے داموں گفتگو کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں  بلکہ وہ چابی ہے جو اس نظام کو ہر خاص و عام کے لیے ممکن بنا دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288792</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 13:35:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیضان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/161304132a80eeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/161304132a80eeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو مزید اسکول نہیں، بہتر تعلیمی نظام کی ضرورت ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر انتخابی مہم میں تعلیمی انقلاب کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے کلاس رومز ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس ماہ جاری ہونے والے سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے نئے جائزہ رپورٹ نے اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے جس کا والدین اور اساتذہ کو طویل عرصے سے احساس تھا؛ مئی 2024 میں اعلان کردہ پاکستان کی تعلیمی ہنگامی حالت نے روڈ میپس تو فراہم کیے، مگر عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ تک اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.8 فیصد رہ گئے ہیں، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی تجویز کردہ 4 سے 6 فیصد شرح سے کہیں کم ہیں۔ یہ شرح 2018 میں تقریباً 2 فیصد تھی۔ سندھ میں تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تناسب 81 فیصد ہے۔ اس کے بعد اساتذہ کی تربیت، تدریسی مواد اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپی حقیقت ہے، جو خود ان اعداد سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں بچوں کو سیکنڈری اسکول پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں راجن پور کے 48 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایسے خلا نہیں جنہیں صرف مزید اسکول تعمیر کر کے پُر کیا جا سکے، بلکہ یہ اس نظام کی علامات ہیں جسے کبھی ان بچوں تک پہنچنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا جنہیں آج وہ تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں اکثر لوگ کسی جادوئی حل کی تلاش کرتے ہیں، لیکن دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام ایک مشترک اصول پر قائم ہیں: وہ تعداد بڑھانے سے پہلے معیار بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، وہ مستقبل میں کم پیداواری صلاحیت، کمزور معاشی ترقی اور قومی صلاحیت کے ضیاع کی علامت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;فن لینڈ اس حوالے سے شاید سب سے زیادہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں بچے سات سال کی عمر میں باقاعدہ تعلیم شروع کرتے ہیں، ابتدائی برسوں میں انہیں بہت کم ہوم ورک دیا جاتا ہے، وہ کئی دوسرے ممالک کے طلبہ کے مقابلے میں کم وقت کلاس روم میں گزارتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پڑھنے، ریاضی اور سائنس میں مسلسل دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کی کامیابی صرف مختصر تدریسی اوقات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہاں اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، بنیادی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، غیر ضروری امتحانات کم رکھے جاتے ہیں اور اسکولوں کو یہ آزادی دی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کو صرف امتحان کی تیاری کے بجائے حقیقی تعلیم دیں اور رٹّا سسٹم سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی معیشت کی ضروریات کے مطابق نصاب کو مسلسل تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کی طرف منتقل کیا، صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے خطے میں ویتنام اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی کامیابی کے لیے دولت لازمی شرط نہیں۔ اگرچہ اس کی آمدنی کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے، لیکن اس نے مسلسل اساتذہ کے معیار، بنیادی خواندگی، جوابدہی اور نصاب میں اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس سے ایک واضح سبق ملتا ہے کہ مؤثر طرزِ حکمرانی محض اخراجات بڑھانے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام کامیاب مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے: کامیابی کی بنیاد جی ڈی پی نہیں بلکہ اچھی گورننس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فن لینڈ یا سنگاپور کا ماڈل من و عن اختیار نہیں کر سکتا۔ ملک کے مالی وسائل محدود ہیں، صوبائی حکومتوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور لاکھوں بچے اب بھی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ اس لیے اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو عملی بھی ہوں اور کم لاگت بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ ذیل چار اصلاحات نسبتاً کم لاگت میں نمایاں نتائج دے سکتی ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;اول، بنیادی تعلیم کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے۔ ہر بچے کو تیسری جماعت تک پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں ضرور حاصل ہونی چاہئیں۔ بین الاقوامی شواہد سے ثابت ہے کہ اگر یہ خلا ابتدائی مرحلے پر پُر نہ کیا جائے تو بعد میں اسے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;دوم، اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور وقتی تربیتی ورکشاپس کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا نظام متعارف کرایا جائے۔ بہتر تدریس نصاب میں بار بار تبدیلی سے کہیں زیادہ مؤثر نتائج دیتی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سوم، ثانوی تعلیم کو بورڈ امتحانات پر مبنی رٹّا سسٹم سے نکال کر پروجیکٹ پر مبنی جانچ، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی، اور فنی و تکنیکی تعلیم کی طرف منتقل کیا جائے، اور جرمنی کے اپرنٹس شپ ماڈل کی طرح اسے الگ نظام کے بجائے مرکزی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے، نہ کہ صرف نسبتاً کمزور طلبہ تک محدود رکھا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;چہارم، بہتر اعداد و شمار کا نظام قائم کیا جائے۔ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں تجویز کردہ قومی طلبہ رجسٹری کو نادرا کے بے فارم نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ وسائل ان اضلاع اور بچوں تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ وسائل سب جگہ یکساں مگر ناکافی مقدار میں تقسیم کر دیے جائیں۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی بھی حقیقت پسندانہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ملک بھر میں مہنگی لیپ ٹاپ اسکیمیں شروع کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، پاکستان کم لاگت والے ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز، اساتذہ کی معاونت کے لیے ایپلی کیشنز، اور پسماندہ اضلاع کے لیے آف لائن تعلیمی مواد کو فروغ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے اُن موجودہ سرکاری و نجی شراکت داریوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں جن کے تحت کام کرنے والی تنظیمیں پہلے ہی، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات میں، تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں کامیابی دکھا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر ڈیٹا سسٹمز اس بات کی نشاندہی کریں کہ اسکول سے باہر بچے کہاں رہتے ہیں، تاکہ وسائل کو یکساں طور پر تمام اضلاع میں تقسیم کرنے کے بجائے اُن علاقوں اور بچوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی اصلاحات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ہر نئی حکومت نے آتے ہی تعلیمی پالیسیاں تبدیل کر دیں، جس کے نتیجے میں طویل المدتی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ایک قومی تعلیمی فریم ورک تشکیل دے، جس میں خواندگی، اساتذہ کے معیار، اسکولوں میں حاضری اور روزگار کے قابل بنانے کی صلاحیت  سے متعلق دس سالہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس فریم ورک کے تحت صوبوں کو عمل درآمد میں لچک دی جا سکتی ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی تبدیلیوں سے قطع نظر پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات نہ کرنے کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، اس کا مطلب  کم پیداواری صلاحیت، سست معاشی ترقی، سماجی امداد پر زیادہ انحصار، اور قومی صلاحیت کا ضیاع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فن لینڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ زیادہ تدریسی اوقات لازماً بہتر تعلیم کا مطلب نہیں ہوتے۔ سنگاپور یہ سبق دیتا ہے کہ تعلیم کو معیشت کی ضروریات کے ساتھ مسلسل ترقی کرنا چاہیے۔ ویتنام یہ دکھاتا ہے کہ اچھی گورننس دولت سے بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مقصد ان ممالک کی اندھی تقلید کرنا نہیں، بلکہ ان عوامل کو اپنانا ہے جنہوں نے انہیں کامیاب بنایا۔ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جائے، بنیادی تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اور تعلیم کو قلیل المدتی سیاسی مفادات کی پہنچ سے باہر رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر انتخابی مہم میں تعلیمی انقلاب کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے کلاس رومز ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس ماہ جاری ہونے والے سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے نئے جائزہ رپورٹ نے اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے جس کا والدین اور اساتذہ کو طویل عرصے سے احساس تھا؛ مئی 2024 میں اعلان کردہ پاکستان کی تعلیمی ہنگامی حالت نے روڈ میپس تو فراہم کیے، مگر عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔</strong></p>
<p>اس وقت 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ تک اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.8 فیصد رہ گئے ہیں، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی تجویز کردہ 4 سے 6 فیصد شرح سے کہیں کم ہیں۔ یہ شرح 2018 میں تقریباً 2 فیصد تھی۔ سندھ میں تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تناسب 81 فیصد ہے۔ اس کے بعد اساتذہ کی تربیت، تدریسی مواد اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔</p>
<p>اصل مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپی حقیقت ہے، جو خود ان اعداد سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں بچوں کو سیکنڈری اسکول پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں راجن پور کے 48 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایسے خلا نہیں جنہیں صرف مزید اسکول تعمیر کر کے پُر کیا جا سکے، بلکہ یہ اس نظام کی علامات ہیں جسے کبھی ان بچوں تک پہنچنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا جنہیں آج وہ تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔</p>
<p>ایسے حالات میں اکثر لوگ کسی جادوئی حل کی تلاش کرتے ہیں، لیکن دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام ایک مشترک اصول پر قائم ہیں: وہ تعداد بڑھانے سے پہلے معیار بہتر بناتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، وہ مستقبل میں کم پیداواری صلاحیت، کمزور معاشی ترقی اور قومی صلاحیت کے ضیاع کی علامت ہوتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>فن لینڈ اس حوالے سے شاید سب سے زیادہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں بچے سات سال کی عمر میں باقاعدہ تعلیم شروع کرتے ہیں، ابتدائی برسوں میں انہیں بہت کم ہوم ورک دیا جاتا ہے، وہ کئی دوسرے ممالک کے طلبہ کے مقابلے میں کم وقت کلاس روم میں گزارتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پڑھنے، ریاضی اور سائنس میں مسلسل دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کی کامیابی صرف مختصر تدریسی اوقات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہاں اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، بنیادی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، غیر ضروری امتحانات کم رکھے جاتے ہیں اور اسکولوں کو یہ آزادی دی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کو صرف امتحان کی تیاری کے بجائے حقیقی تعلیم دیں اور رٹّا سسٹم سے گریز کریں۔</p>
<p>سنگاپور نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی معیشت کی ضروریات کے مطابق نصاب کو مسلسل تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کی طرف منتقل کیا، صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دی۔</p>
<p>ہمارے خطے میں ویتنام اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی کامیابی کے لیے دولت لازمی شرط نہیں۔ اگرچہ اس کی آمدنی کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے، لیکن اس نے مسلسل اساتذہ کے معیار، بنیادی خواندگی، جوابدہی اور نصاب میں اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس سے ایک واضح سبق ملتا ہے کہ مؤثر طرزِ حکمرانی محض اخراجات بڑھانے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔</p>
<p>تمام کامیاب مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے: کامیابی کی بنیاد جی ڈی پی نہیں بلکہ اچھی گورننس ہے۔</p>
<p>پاکستان فن لینڈ یا سنگاپور کا ماڈل من و عن اختیار نہیں کر سکتا۔ ملک کے مالی وسائل محدود ہیں، صوبائی حکومتوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور لاکھوں بچے اب بھی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ اس لیے اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو عملی بھی ہوں اور کم لاگت بھی۔</p>
<p>مندرجہ ذیل چار اصلاحات نسبتاً کم لاگت میں نمایاں نتائج دے سکتی ہیں:</p>
<ul>
<li>اول، بنیادی تعلیم کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے۔ ہر بچے کو تیسری جماعت تک پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں ضرور حاصل ہونی چاہئیں۔ بین الاقوامی شواہد سے ثابت ہے کہ اگر یہ خلا ابتدائی مرحلے پر پُر نہ کیا جائے تو بعد میں اسے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔</li>
<li>دوم، اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور وقتی تربیتی ورکشاپس کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا نظام متعارف کرایا جائے۔ بہتر تدریس نصاب میں بار بار تبدیلی سے کہیں زیادہ مؤثر نتائج دیتی ہے۔</li>
<li>سوم، ثانوی تعلیم کو بورڈ امتحانات پر مبنی رٹّا سسٹم سے نکال کر پروجیکٹ پر مبنی جانچ، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی، اور فنی و تکنیکی تعلیم کی طرف منتقل کیا جائے، اور جرمنی کے اپرنٹس شپ ماڈل کی طرح اسے الگ نظام کے بجائے مرکزی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے، نہ کہ صرف نسبتاً کمزور طلبہ تک محدود رکھا جائے۔</li>
<li>چہارم، بہتر اعداد و شمار کا نظام قائم کیا جائے۔ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں تجویز کردہ قومی طلبہ رجسٹری کو نادرا کے بے فارم نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ وسائل ان اضلاع اور بچوں تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ وسائل سب جگہ یکساں مگر ناکافی مقدار میں تقسیم کر دیے جائیں۔</li>
</ul>
<p>ٹیکنالوجی بھی حقیقت پسندانہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ملک بھر میں مہنگی لیپ ٹاپ اسکیمیں شروع کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، پاکستان کم لاگت والے ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز، اساتذہ کی معاونت کے لیے ایپلی کیشنز، اور پسماندہ اضلاع کے لیے آف لائن تعلیمی مواد کو فروغ دے سکتا ہے۔</p>
<p>صوبے اُن موجودہ سرکاری و نجی شراکت داریوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں جن کے تحت کام کرنے والی تنظیمیں پہلے ہی، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات میں، تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں کامیابی دکھا چکی ہیں۔</p>
<p>بہتر ڈیٹا سسٹمز اس بات کی نشاندہی کریں کہ اسکول سے باہر بچے کہاں رہتے ہیں، تاکہ وسائل کو یکساں طور پر تمام اضلاع میں تقسیم کرنے کے بجائے اُن علاقوں اور بچوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>تعلیمی اصلاحات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ہر نئی حکومت نے آتے ہی تعلیمی پالیسیاں تبدیل کر دیں، جس کے نتیجے میں طویل المدتی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔</p>
<p>پارلیمنٹ کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ایک قومی تعلیمی فریم ورک تشکیل دے، جس میں خواندگی، اساتذہ کے معیار، اسکولوں میں حاضری اور روزگار کے قابل بنانے کی صلاحیت  سے متعلق دس سالہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس فریم ورک کے تحت صوبوں کو عمل درآمد میں لچک دی جا سکتی ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی تبدیلیوں سے قطع نظر پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔</p>
<p>اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات نہ کرنے کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟</p>
<p>ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، اس کا مطلب  کم پیداواری صلاحیت، سست معاشی ترقی، سماجی امداد پر زیادہ انحصار، اور قومی صلاحیت کا ضیاع ہے۔</p>
<p>فن لینڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ زیادہ تدریسی اوقات لازماً بہتر تعلیم کا مطلب نہیں ہوتے۔ سنگاپور یہ سبق دیتا ہے کہ تعلیم کو معیشت کی ضروریات کے ساتھ مسلسل ترقی کرنا چاہیے۔ ویتنام یہ دکھاتا ہے کہ اچھی گورننس دولت سے بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا مقصد ان ممالک کی اندھی تقلید کرنا نہیں، بلکہ ان عوامل کو اپنانا ہے جنہوں نے انہیں کامیاب بنایا۔ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جائے، بنیادی تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اور تعلیم کو قلیل المدتی سیاسی مفادات کی پہنچ سے باہر رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288729</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:53:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اعجاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15105135867cd0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15105135867cd0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف قدیم شہرت اب کافی نہیں، چیلنجر برانڈز کا عروج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288674/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی دہائیوں تک لگژری مصنوعات کی صنعت ایک آزمودہ فارمولے پر کامیابی سے چلتی رہی۔ تاریخی ورثہ، انفرادیت اور سماجی وقار اس صنعت کے بنیادی ستون تھے۔ جتنا پرانا فیشن ہاؤس ہوتا، اتنا ہی زیادہ پرکشش سمجھا جاتا۔ معروف لوگو کامیابی کی علامت بن جاتا، جبکہ محدود دستیابی ان مصنوعات کی کشش میں اضافہ کرتی تھی۔ مگر اب یہ فارمولہ آہستہ آہستہ، مگر یقینی طور پر، اپنی گرفت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں بزنس آف فیشن (بی او ایف) کی ایک رپورٹ اور میکنزی اینڈ کمپنی کی تازہ تحقیق ”فیس ٹو فیس ود لگژری کلائنٹس“ کے مطابق، آج کے لگژری صارفین اب ایسی چیز کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر کہیں زیادہ مؤثر ہے، یعنی برانڈ کے ساتھ جذباتی وابستگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور چین میں دو ہزار سے زائد لگژری صارفین پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ جذباتی تعلق اب کسی برانڈ کی مقبولیت کا سب سے اہم محرک بن چکا ہے، جو تاریخی ورثے، اعلیٰ دستکاری اور فیشن کے رجحانات سے بھی زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امریکا میں 68 فیصد لگژری صارفین کا کہنا تھا کہ چیلنجر برانڈز ان کی شناخت کی سب سے بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد شناخت اور مضبوط مقصد کی بدولت اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لگژری اب صرف اس بات کا نام نہیں رہی کہ صارف کے پاس کیا ہے، بلکہ اس بات کا اظہار بھی بن گئی ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی شناخت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان روایتی لگژری برانڈز کے لیے اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ چھوٹے اور آزاد فیشن برانڈز، خصوصاً پاکستان میں ابھرنے والے نئے برانڈز، کے لیے ایک غیر متوقع موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد جمالیاتی شناخت اور مضبوط مقصد کے ذریعے اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔ عموماً یہ نسبتاً نئے، زیادہ لچکدار اور اپنی کمیونٹی سے گہرا تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہ دہائیوں پر محیط ورثے پر انحصار کرنے کے بجائے اصلیت (غیر مصنوعی) کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ خود صارفین کا رویہ بھی بدل رہا ہے۔ رویوں کے ماہرینِ نفسیات عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ لوگ خریداری کے فیصلے صرف منطق کی بنیاد پر نہیں کرتے۔ ہم اکثر ایسی اشیا خریدتے ہیں جو ہماری شناخت کی تشکیل اور اس کے اظہار میں مدد دیتی ہیں۔ شاید فیشن کی صنعت کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ اس تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ لباس دراصل خاموش ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے، جو دوسروں کو ہماری پسند، اقدار اور اب بڑھتے ہوئے ان مقاصد کے بارے میں بھی بتاتا ہے جن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس آف فیشن اور میکنزی کی مشترکہ رپورٹ بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔ صارفین اب صرف سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے لگژری مصنوعات نہیں خریدتے بلکہ وہ ایسی خریداری چاہتے ہیں جو ان کے لیے ذاتی معنویت رکھتی ہو۔ وہ ایسے برانڈز کی تلاش میں ہیں جو ان کی خواہشات، نظریات اور طرزِ زندگی کی عکاسی کریں، نہ کہ محض ان کی مالی حیثیت کا اظہار ہوں۔ اگرچہ تاریخی ورثہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے، لیکن دیرپا کشش پیدا کرنے کے لیے اب وہ اکیلا کافی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نفسیاتی تبدیلی فیشن برانڈز کے ابلاغی انداز پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں تک مارکیٹنگ کی توجہ صرف تیار شدہ مصنوعات، اشتہاری تصاویر، مشہور شخصیات کی توثیق اور دلکش فوٹوگرافی پر مرکوز رہی۔ مگر اب صارفین صرف ظاہری تصویر سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ لباس پر کڑھائی کس نے کی، کپڑا کہاں تیار ہوا، کلیکشن کے پیچھے کیا سوچ تھی اور آخر اس برانڈ کے وجود کا مقصد کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اب صارف صرف مصنوعات نہیں بلکہ برانڈ کی کہانی بھی خرید رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;محققین اس رجحان کو ”نیریٹو ٹرانسپورٹیشن“ کہتے ہیں، یعنی ایسا عمل جس میں ایک مؤثر کہانی لوگوں کو جذباتی طور پر اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ممکن ہے صارف کسی مصنوعات کی تفصیل بھول جائے، لیکن وہ اس ہنرمند کی کہانی نہیں بھولتا جس نے ایک لباس پر ہفتوں کڑھائی کی ہو، یا اس بانی کی داستان جس نے روایتی دستکاری کو زندہ رکھنے کے مقصد سے اپنا برانڈ قائم کیا ہو۔ ایسی کہانیاں جذباتی یادداشت پیدا کرتی ہیں، اور یہی جذباتی وابستگی برانڈ سے وفاداری کی مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے آزاد اور چھوٹے فیشن برانڈز کو نمایاں برتری حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی لگژری گروپس کے برعکس، چھوٹے برانڈز عموماً کسی بانی کے وژن، ہنرمندوں سے براہِ راست تعلق اور نہایت ذاتی تخلیقی عمل پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں مارکیٹنگ ٹیمیں تخلیق نہیں کرتیں، بلکہ وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج صرف انہیں مؤثر انداز میں بیان کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی فیشن انڈسٹری کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ”سلو فیشن“ عالمی رجحان بننے سے بہت پہلے پاکستان کے متعدد ڈیزائنرز اور ہنرمند محدود مقدار میں ایسے ملبوسات تیار کر رہے تھے جنہیں روایتی تکنیکوں کے ذریعے مکمل کرنے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی ماہ لگ جاتے تھے۔ ہاتھ کی کڑھائی، آئینہ کاری، بلاک پرنٹنگ، بُنائی اور علاقائی ٹیکسٹائل روایات ہمیشہ سے پاکستان کی تخلیقی معیشت کا بنیادی حصہ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کہانیوں کو ہمیشہ مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ مقامی فیشن مارکیٹنگ میں اکثر توجہ تخلیقی عمل کے بجائے صرف چکاچوند اور دلکشی پر مرکوز رہی۔ مہمات میں خوبصورت لباس تو نمایاں کیا گیا، مگر اسے تخلیق کرنے والے ہنرمند پس منظر میں ہی رہے۔ اگرچہ وہ مصنوعات کا بنیادی حصہ تھے، لیکن ان کی شناخت اکثر اوجھل رہی۔ اب یہ صورتحال بتدریج بدل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھر میں متعدد آزاد فیشن برانڈز اب کہانی سنانے (اسٹوری ٹیلنگ) کو اپنی ابلاغی حکمتِ عملی کا مرکز بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یوں وہ صرف خوبصورت لباس کی تعریف کی دعوت نہیں دیتے بلکہ صارفین کو پورے تخلیقی سفر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس آف فیشن کی رپورٹ کے مطابق لگژری برانڈز کو اب صرف یہ بتانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے کہ ان کی مصنوعات کیا ہیں، بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ انہیں اختیار کرنے کے بعد صارف کی شناخت اور شخصیت میں کیا اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ دستکاری اب ایک امتیازی خوبی نہیں بلکہ ایک بنیادی توقع بن چکی ہے، جبکہ اصل فرق اب معنویت پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کاروباری شخصیات کے لیے یہ مشاہدہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس وہ سرمایہ موجود ہے جو راتوں رات پیدا نہیں کیا جا سکتا؛ یعنی نسل در نسل منتقل ہونے والی دستکاری، ٹیکسٹائل کی بھرپور روایات اور باصلاحیت کاروباری افراد۔ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے ماحول میں یہ خصوصیات محض بڑے پیمانے یا بھاری اشتہاری بجٹ سے کہیں زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً صرف اچھی کہانی کسی ناقص معیار کی مصنوعات کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ دلکش بیانیہ اوسط درجے کی مصنوعات کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ لیکن جب غیر معمولی دستکاری کے ساتھ حقیقی اور مؤثر کہانی بھی شامل ہو جائے تو ایک منفرد اثر پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت صارف لباس کو محض خرید و فروخت کی شے نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑی داستان کا حصہ تصور کرتا ہے؛ ایسی داستان جو ثقافت، تخلیقی صلاحیت اور انسانی رشتوں سے جڑی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی تازہ ترین لگژری تحقیق کا سب سے اہم سبق ہے۔ مستقبل کا فیشن لازماً ان برانڈز کا نہیں ہوگا جن کی تاریخ سب سے طویل یا آواز سب سے بلند ہے، بلکہ ان کا ہوگا جو صارف کے دل میں حقیقی جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی آزاد فیشن انڈسٹری کے لیے یہ محض ایک نیا رجحان نہیں بلکہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ یہ پہچانے کہ اس کی سب سے بڑی مسابقتی برتری ہمیشہ سے اس کے پاس موجود رہی ہے۔ دستکاری کبھی مسئلہ نہیں تھی؛ اصل ضرورت اب یہ ہے کہ اس کے پیچھے موجود کہانیاں بھی اسی محبت، محنت اور نفاست کے ساتھ بیان کی جائیں جس طرح خود یہ ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی دہائیوں تک لگژری مصنوعات کی صنعت ایک آزمودہ فارمولے پر کامیابی سے چلتی رہی۔ تاریخی ورثہ، انفرادیت اور سماجی وقار اس صنعت کے بنیادی ستون تھے۔ جتنا پرانا فیشن ہاؤس ہوتا، اتنا ہی زیادہ پرکشش سمجھا جاتا۔ معروف لوگو کامیابی کی علامت بن جاتا، جبکہ محدود دستیابی ان مصنوعات کی کشش میں اضافہ کرتی تھی۔ مگر اب یہ فارمولہ آہستہ آہستہ، مگر یقینی طور پر، اپنی گرفت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں بزنس آف فیشن (بی او ایف) کی ایک رپورٹ اور میکنزی اینڈ کمپنی کی تازہ تحقیق ”فیس ٹو فیس ود لگژری کلائنٹس“ کے مطابق، آج کے لگژری صارفین اب ایسی چیز کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر کہیں زیادہ مؤثر ہے، یعنی برانڈ کے ساتھ جذباتی وابستگی۔</p>
<p>امریکا اور چین میں دو ہزار سے زائد لگژری صارفین پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ جذباتی تعلق اب کسی برانڈ کی مقبولیت کا سب سے اہم محرک بن چکا ہے، جو تاریخی ورثے، اعلیٰ دستکاری اور فیشن کے رجحانات سے بھی زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امریکا میں 68 فیصد لگژری صارفین کا کہنا تھا کہ چیلنجر برانڈز ان کی شناخت کی سب سے بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد شناخت اور مضبوط مقصد کی بدولت اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لگژری اب صرف اس بات کا نام نہیں رہی کہ صارف کے پاس کیا ہے، بلکہ اس بات کا اظہار بھی بن گئی ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی شناخت کیا ہے۔</p>
<p>یہ رجحان روایتی لگژری برانڈز کے لیے اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ چھوٹے اور آزاد فیشن برانڈز، خصوصاً پاکستان میں ابھرنے والے نئے برانڈز، کے لیے ایک غیر متوقع موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد جمالیاتی شناخت اور مضبوط مقصد کے ذریعے اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔ عموماً یہ نسبتاً نئے، زیادہ لچکدار اور اپنی کمیونٹی سے گہرا تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہ دہائیوں پر محیط ورثے پر انحصار کرنے کے بجائے اصلیت (غیر مصنوعی) کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ خود صارفین کا رویہ بھی بدل رہا ہے۔ رویوں کے ماہرینِ نفسیات عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ لوگ خریداری کے فیصلے صرف منطق کی بنیاد پر نہیں کرتے۔ ہم اکثر ایسی اشیا خریدتے ہیں جو ہماری شناخت کی تشکیل اور اس کے اظہار میں مدد دیتی ہیں۔ شاید فیشن کی صنعت کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ اس تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ لباس دراصل خاموش ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے، جو دوسروں کو ہماری پسند، اقدار اور اب بڑھتے ہوئے ان مقاصد کے بارے میں بھی بتاتا ہے جن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>بزنس آف فیشن اور میکنزی کی مشترکہ رپورٹ بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔ صارفین اب صرف سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے لگژری مصنوعات نہیں خریدتے بلکہ وہ ایسی خریداری چاہتے ہیں جو ان کے لیے ذاتی معنویت رکھتی ہو۔ وہ ایسے برانڈز کی تلاش میں ہیں جو ان کی خواہشات، نظریات اور طرزِ زندگی کی عکاسی کریں، نہ کہ محض ان کی مالی حیثیت کا اظہار ہوں۔ اگرچہ تاریخی ورثہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے، لیکن دیرپا کشش پیدا کرنے کے لیے اب وہ اکیلا کافی نہیں رہا۔</p>
<p>یہ نفسیاتی تبدیلی فیشن برانڈز کے ابلاغی انداز پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔</p>
<p>کئی برسوں تک مارکیٹنگ کی توجہ صرف تیار شدہ مصنوعات، اشتہاری تصاویر، مشہور شخصیات کی توثیق اور دلکش فوٹوگرافی پر مرکوز رہی۔ مگر اب صارفین صرف ظاہری تصویر سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ لباس پر کڑھائی کس نے کی، کپڑا کہاں تیار ہوا، کلیکشن کے پیچھے کیا سوچ تھی اور آخر اس برانڈ کے وجود کا مقصد کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اب صارف صرف مصنوعات نہیں بلکہ برانڈ کی کہانی بھی خرید رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>محققین اس رجحان کو ”نیریٹو ٹرانسپورٹیشن“ کہتے ہیں، یعنی ایسا عمل جس میں ایک مؤثر کہانی لوگوں کو جذباتی طور پر اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ممکن ہے صارف کسی مصنوعات کی تفصیل بھول جائے، لیکن وہ اس ہنرمند کی کہانی نہیں بھولتا جس نے ایک لباس پر ہفتوں کڑھائی کی ہو، یا اس بانی کی داستان جس نے روایتی دستکاری کو زندہ رکھنے کے مقصد سے اپنا برانڈ قائم کیا ہو۔ ایسی کہانیاں جذباتی یادداشت پیدا کرتی ہیں، اور یہی جذباتی وابستگی برانڈ سے وفاداری کی مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے آزاد اور چھوٹے فیشن برانڈز کو نمایاں برتری حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>عالمی لگژری گروپس کے برعکس، چھوٹے برانڈز عموماً کسی بانی کے وژن، ہنرمندوں سے براہِ راست تعلق اور نہایت ذاتی تخلیقی عمل پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں مارکیٹنگ ٹیمیں تخلیق نہیں کرتیں، بلکہ وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج صرف انہیں مؤثر انداز میں بیان کرنا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی فیشن انڈسٹری کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ”سلو فیشن“ عالمی رجحان بننے سے بہت پہلے پاکستان کے متعدد ڈیزائنرز اور ہنرمند محدود مقدار میں ایسے ملبوسات تیار کر رہے تھے جنہیں روایتی تکنیکوں کے ذریعے مکمل کرنے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی ماہ لگ جاتے تھے۔ ہاتھ کی کڑھائی، آئینہ کاری، بلاک پرنٹنگ، بُنائی اور علاقائی ٹیکسٹائل روایات ہمیشہ سے پاکستان کی تخلیقی معیشت کا بنیادی حصہ رہی ہیں۔</p>
<p>تاہم ان کہانیوں کو ہمیشہ مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ مقامی فیشن مارکیٹنگ میں اکثر توجہ تخلیقی عمل کے بجائے صرف چکاچوند اور دلکشی پر مرکوز رہی۔ مہمات میں خوبصورت لباس تو نمایاں کیا گیا، مگر اسے تخلیق کرنے والے ہنرمند پس منظر میں ہی رہے۔ اگرچہ وہ مصنوعات کا بنیادی حصہ تھے، لیکن ان کی شناخت اکثر اوجھل رہی۔ اب یہ صورتحال بتدریج بدل رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان بھر میں متعدد آزاد فیشن برانڈز اب کہانی سنانے (اسٹوری ٹیلنگ) کو اپنی ابلاغی حکمتِ عملی کا مرکز بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یوں وہ صرف خوبصورت لباس کی تعریف کی دعوت نہیں دیتے بلکہ صارفین کو پورے تخلیقی سفر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔</p>
<p>بزنس آف فیشن کی رپورٹ کے مطابق لگژری برانڈز کو اب صرف یہ بتانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے کہ ان کی مصنوعات کیا ہیں، بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ انہیں اختیار کرنے کے بعد صارف کی شناخت اور شخصیت میں کیا اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ دستکاری اب ایک امتیازی خوبی نہیں بلکہ ایک بنیادی توقع بن چکی ہے، جبکہ اصل فرق اب معنویت پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستانی کاروباری شخصیات کے لیے یہ مشاہدہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس وہ سرمایہ موجود ہے جو راتوں رات پیدا نہیں کیا جا سکتا؛ یعنی نسل در نسل منتقل ہونے والی دستکاری، ٹیکسٹائل کی بھرپور روایات اور باصلاحیت کاروباری افراد۔ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے ماحول میں یہ خصوصیات محض بڑے پیمانے یا بھاری اشتہاری بجٹ سے کہیں زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>یقیناً صرف اچھی کہانی کسی ناقص معیار کی مصنوعات کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ دلکش بیانیہ اوسط درجے کی مصنوعات کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ لیکن جب غیر معمولی دستکاری کے ساتھ حقیقی اور مؤثر کہانی بھی شامل ہو جائے تو ایک منفرد اثر پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت صارف لباس کو محض خرید و فروخت کی شے نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑی داستان کا حصہ تصور کرتا ہے؛ ایسی داستان جو ثقافت، تخلیقی صلاحیت اور انسانی رشتوں سے جڑی ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید یہی تازہ ترین لگژری تحقیق کا سب سے اہم سبق ہے۔ مستقبل کا فیشن لازماً ان برانڈز کا نہیں ہوگا جن کی تاریخ سب سے طویل یا آواز سب سے بلند ہے، بلکہ ان کا ہوگا جو صارف کے دل میں حقیقی جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی آزاد فیشن انڈسٹری کے لیے یہ محض ایک نیا رجحان نہیں بلکہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ یہ پہچانے کہ اس کی سب سے بڑی مسابقتی برتری ہمیشہ سے اس کے پاس موجود رہی ہے۔ دستکاری کبھی مسئلہ نہیں تھی؛ اصل ضرورت اب یہ ہے کہ اس کے پیچھے موجود کہانیاں بھی اسی محبت، محنت اور نفاست کے ساتھ بیان کی جائیں جس طرح خود یہ ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288674</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 00:01:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فاطمہ بخاری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13234115e5df3c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13234115e5df3c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی ایل آئی ایس پلس : پاکستان میں زرعی خطرات سے تحفظ کے نظام کی تشکیلِ نو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288541/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے، 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی  اور لاکھوں دیہی گھرانوں کی کفالت کرتی ہے۔ تاہم یہ شعبہ ملک کے سب سے زیادہ کمزور حصوں میں سے بھی ایک ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، کیڑے مکوڑوں کے حملوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسم کا تیزی سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نہ صرف سرمائے تک رسائی ضروری ہے، بلکہ انشورنس (بیمہ کاری) کے ذریعے خطرات سے نمٹنے کا ایک مضبوط نظام بھی ناگزیر ہے۔زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان میں فصلوں کی انشورنس کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔ یہاں کاشت شدہ زمین کا محض 2 فیصد سے بھی کم حصہ رسمی انشورنس کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ بھارت اور چین جیسی علاقائی معیشتوں میں یہ کوریج بہت زیادہ ہے، جہاں زرعی انشورنس قومی غذائی تحفظ اور دیہی ترقی کی حکمت عملیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر انشورنس کے اس بڑے خلا کو پُر کرنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 2008 میں  ”کراپ لون انشورنس اسکیم“(سی ایل آئی ایس) متعارف کرائی تھی، جس میں بعد میں 2014 میں ترمیم کی گئی۔ اس کا مقصد کسانوں اور قرض دینے والے اداروں کو قدرتی آفات کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات سے بچانا اور بینکوں کو زرعی قرضے بڑھانے کی ترغیب دینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس پرانی اسکیم نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن چند انتظامی اور عملی مشکلات کی وجہ سے اس کی افادیت محدود رہی۔ مثال کے طور پر نقصانات کے کلیمز (معاوضے) کا دارومدار زیادہ تر حکومت کی جانب سے کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر ہوتا تھا، جس کی وجہ سے اکثر معاوضے کی ادائیگی میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ انشورنس کا دائرہ کار محدود تھا، ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے مینول طریقوں پر انحصار کیا جاتا تھا اور کسانوں میں اس حوالے سے شعور بھی کافی کم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہی چیلنجز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب ”کراپ لون انشورنس اسکیم پلس“ (سی ایل آئی ایس پلس) کا آغاز کیا ہے، جو اس پروگرام کی شروعات سے لے کر اب تک پاکستان کے زرعی انشورنس فریم ورک میں سب سے بڑی اور اہم اصلاحات کی نمائندگی کرتا ہے۔اس نئی سی ایل آئی ایس پلس اسکیم میں کئی انقلابی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھا کر اس میں آلو جیسی مزید فصلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ فصلوں کی پیداوار کے لیے دیے جانے والے قرضوں پر انشورنس اب بھی لازمی رہے گی۔ اب اس اسکیم میں سیٹلائٹ کی تصاویر، ریموٹ سینسنگ (دور سے جائزہ لینے والی ٹیکنالوجی)، ڈیجیٹل سروے اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی خدمات شامل کی گئی ہیں، تاکہ فصلوں کے نقصان کا تیزی سے، غیر جانبدارانہ اور شفاف اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئی اسکیم کی سب سے بڑی جدت پاکستان میں پہلی بار ”کنسورشیم پر مبنی زرعی رسک پولنگ ماڈل“ (مختلف انشورنس کمپنیوں کا مل کر خطرات کا بوجھ اٹھانا) متعارف کرانا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت حصہ لینے والی انشورنس کمپنیاں مل کر زرعی خطرات کا بیمہ کریں گی، جس سے انشورنس انڈسٹری کی گنجائش اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ اس پروگرام کا مجموعی دائرہ کار تقریباً تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہ ماڈل مارکیٹ کو استحکام فراہم ، بڑی قدرتی آفات کے خطرات کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم  کرتے ہوئے کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو فصلوں کی انشورنس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت کسانوں کے تحفظ کو بھی کافی حد تک بڑھایا گیا ہے۔ بینک کے بقایا زرعی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اہل کسانوں کو ایک بار آمدنی کی مد میں مالی امداد (انکم سپورٹ) بھی دی جا سکے گی اور ساتھ ہی ذاتی حادثے اور چوٹ کی صورت میں بھی فوائد ملیں گے۔ حکومتِ پاکستان چھوٹے کسانوں کے لیے انشورنس کے پریمیم (قسطوں) پر سبسڈی (مالی رعایت) دینا جاری رکھے گی، تاکہ یہ انشورنس ان کی جیب پر بھاری نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ مالی شمولیت ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کی کامیابی سے نئی تشکیل اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی)، کمرشل بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے زرعی خطرات کی مالیات اور حکومتی پریمیم سبسڈی کی فراہمی میں اہم پالیسی سازی کا کردار ادا کیا ہے۔ ایس ای سی پی نے سب کے لیے انشورنس (انکلوسیو انشورنس) کے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دیا ہے۔ آئی اے پی نے انڈسٹری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اس مشترکہ ماڈل کو آگے بڑھانے میں ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اس پورے عمل میں تکنیکی مدد، بین الاقوامی مہارت اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں کو اپنانے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس انڈسٹری کے لیے یہ اسکیم جغرافیائی تجزیات (جغرافیائی ڈیٹا)، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کلیمز کی تیز تر ادائیگی کے ذریعے زرعی انشورنس کے نظام کو جدید بنانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ بینکوں کے لیے یہ ان کے قرضوں کے ڈوبنے کے خطرے کو کم کرتی ہے اور انہیں زیادہ زرعی قرضے دینے کی ترغیب دیتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسانوں کو بار بار آنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف ایک مضبوط مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے اب مالیاتی استحکام اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنی کہ زرعی پیداوار۔ لہٰذا ”سی ایل آئی ایس پلس“ محض ایک انشورنس پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، مالی شمولیت اور موسمیاتی لچک (موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت) میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں زرعی انشورنس کے منظر نامے کو بدلنے، تحفظ کے خلا کو کم کرنے اور خطے میں موسمیاتی طور پر اسمارٹ   زرعی رسک مینجمنٹ کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے، 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی  اور لاکھوں دیہی گھرانوں کی کفالت کرتی ہے۔ تاہم یہ شعبہ ملک کے سب سے زیادہ کمزور حصوں میں سے بھی ایک ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، کیڑے مکوڑوں کے حملوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسم کا تیزی سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</strong></p>
<p>زرعی شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نہ صرف سرمائے تک رسائی ضروری ہے، بلکہ انشورنس (بیمہ کاری) کے ذریعے خطرات سے نمٹنے کا ایک مضبوط نظام بھی ناگزیر ہے۔زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان میں فصلوں کی انشورنس کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔ یہاں کاشت شدہ زمین کا محض 2 فیصد سے بھی کم حصہ رسمی انشورنس کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ بھارت اور چین جیسی علاقائی معیشتوں میں یہ کوریج بہت زیادہ ہے، جہاں زرعی انشورنس قومی غذائی تحفظ اور دیہی ترقی کی حکمت عملیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر انشورنس کے اس بڑے خلا کو پُر کرنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 2008 میں  ”کراپ لون انشورنس اسکیم“(سی ایل آئی ایس) متعارف کرائی تھی، جس میں بعد میں 2014 میں ترمیم کی گئی۔ اس کا مقصد کسانوں اور قرض دینے والے اداروں کو قدرتی آفات کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات سے بچانا اور بینکوں کو زرعی قرضے بڑھانے کی ترغیب دینا تھا۔</p>
<p>اگرچہ اس پرانی اسکیم نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن چند انتظامی اور عملی مشکلات کی وجہ سے اس کی افادیت محدود رہی۔ مثال کے طور پر نقصانات کے کلیمز (معاوضے) کا دارومدار زیادہ تر حکومت کی جانب سے کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر ہوتا تھا، جس کی وجہ سے اکثر معاوضے کی ادائیگی میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ انشورنس کا دائرہ کار محدود تھا، ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے مینول طریقوں پر انحصار کیا جاتا تھا اور کسانوں میں اس حوالے سے شعور بھی کافی کم تھا۔</p>
<p>انہی چیلنجز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب ”کراپ لون انشورنس اسکیم پلس“ (سی ایل آئی ایس پلس) کا آغاز کیا ہے، جو اس پروگرام کی شروعات سے لے کر اب تک پاکستان کے زرعی انشورنس فریم ورک میں سب سے بڑی اور اہم اصلاحات کی نمائندگی کرتا ہے۔اس نئی سی ایل آئی ایس پلس اسکیم میں کئی انقلابی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھا کر اس میں آلو جیسی مزید فصلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ فصلوں کی پیداوار کے لیے دیے جانے والے قرضوں پر انشورنس اب بھی لازمی رہے گی۔ اب اس اسکیم میں سیٹلائٹ کی تصاویر، ریموٹ سینسنگ (دور سے جائزہ لینے والی ٹیکنالوجی)، ڈیجیٹل سروے اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی خدمات شامل کی گئی ہیں، تاکہ فصلوں کے نقصان کا تیزی سے، غیر جانبدارانہ اور شفاف اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>اس نئی اسکیم کی سب سے بڑی جدت پاکستان میں پہلی بار ”کنسورشیم پر مبنی زرعی رسک پولنگ ماڈل“ (مختلف انشورنس کمپنیوں کا مل کر خطرات کا بوجھ اٹھانا) متعارف کرانا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت حصہ لینے والی انشورنس کمپنیاں مل کر زرعی خطرات کا بیمہ کریں گی، جس سے انشورنس انڈسٹری کی گنجائش اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ اس پروگرام کا مجموعی دائرہ کار تقریباً تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہ ماڈل مارکیٹ کو استحکام فراہم ، بڑی قدرتی آفات کے خطرات کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم  کرتے ہوئے کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو فصلوں کی انشورنس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔</p>
<p>اس منصوبے کے تحت کسانوں کے تحفظ کو بھی کافی حد تک بڑھایا گیا ہے۔ بینک کے بقایا زرعی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اہل کسانوں کو ایک بار آمدنی کی مد میں مالی امداد (انکم سپورٹ) بھی دی جا سکے گی اور ساتھ ہی ذاتی حادثے اور چوٹ کی صورت میں بھی فوائد ملیں گے۔ حکومتِ پاکستان چھوٹے کسانوں کے لیے انشورنس کے پریمیم (قسطوں) پر سبسڈی (مالی رعایت) دینا جاری رکھے گی، تاکہ یہ انشورنس ان کی جیب پر بھاری نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ مالی شمولیت ممکن ہو سکے۔</p>
<p>اس اسکیم کی کامیابی سے نئی تشکیل اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی)، کمرشل بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے زرعی خطرات کی مالیات اور حکومتی پریمیم سبسڈی کی فراہمی میں اہم پالیسی سازی کا کردار ادا کیا ہے۔ ایس ای سی پی نے سب کے لیے انشورنس (انکلوسیو انشورنس) کے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دیا ہے۔ آئی اے پی نے انڈسٹری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اس مشترکہ ماڈل کو آگے بڑھانے میں ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اس پورے عمل میں تکنیکی مدد، بین الاقوامی مہارت اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں کو اپنانے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔</p>
<p>انشورنس انڈسٹری کے لیے یہ اسکیم جغرافیائی تجزیات (جغرافیائی ڈیٹا)، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کلیمز کی تیز تر ادائیگی کے ذریعے زرعی انشورنس کے نظام کو جدید بنانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ بینکوں کے لیے یہ ان کے قرضوں کے ڈوبنے کے خطرے کو کم کرتی ہے اور انہیں زیادہ زرعی قرضے دینے کی ترغیب دیتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسانوں کو بار بار آنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف ایک مضبوط مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے اب مالیاتی استحکام اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنی کہ زرعی پیداوار۔ لہٰذا ”سی ایل آئی ایس پلس“ محض ایک انشورنس پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، مالی شمولیت اور موسمیاتی لچک (موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت) میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں زرعی انشورنس کے منظر نامے کو بدلنے، تحفظ کے خلا کو کم کرنے اور خطے میں موسمیاتی طور پر اسمارٹ   زرعی رسک مینجمنٹ کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288541</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 14:10:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد حشام)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10135353a8a2753.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10135353a8a2753.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں اصلاحات کا نفاذ : دیوانے کا خواب یا لاحاصل کوشش؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288257/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپنے وجود کے بیشتر حصے میں پاکستان نوآبادیاتی دور سے وراثت میں ملنے والے قوانین کے تحت چلایا جاتا رہا ہے، ایسے قوانین جو ایک مختلف وقت اور سچ  پوچھیں تو ایک بالکل مختلف دنیا کے لیے لکھے گئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب باقی دنیا آگے بڑھ گئی  اور ٹیکنالوجی نے کاروباری لائسنس کے حصول کو سیکنڈوں کا کام بنا دیا ہے، پاکستان طویل قطاروں، ضرورت سے زیادہ کاغذی کارروائی اور کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں پھنسا رہا۔ اس کا اصل نقصان پاکستان میں کاروبار کرنے والوں کو سب سے زیادہ اٹھانا پڑا۔ بالآخر سال 2024 میں حکومت نے ملک کے فرسودہ ریگولیٹری نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عزم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب سے اس عمل کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ نئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ عزائم تو حقیقی ہیں لیکن جو وعدہ کیا جا رہا ہے اور جو کچھ حقیقت میں نافذ ہو رہا ہے، اس کے درمیان کا فاصلہ بھی اتنا ہی تلخ  اور اسی فاصلے کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سی اصلاحات کے نفاذ کے لیے پہلے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنا، متعلقہ قانونی اداروں سے ان کی منظوری لینا اور پھر آخر کار انہیں کابینہ یا پارلیمنٹ سے پاس کروانا۔ نظریاتی حد تک تو یہ ایک معقول عمل لگتا ہے، لیکن عملی طور پر اصلاحات کے یہ مسودے مہینوں، اور بعض اوقات برسوں سرکاری دفاتر میں پڑے رہتے ہیں اور ایک ایسی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جو کبھی بھی تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر اس میں انسانی عنصر بھی شامل ہے۔ سرکاری افسران کا باقاعدگی سے ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب وہ جاتے ہیں تو اکثر اپنے ساتھ اس اصلاحاتی کام کی رفتار بھی لے کرچلے جاتے ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ نیا آنے والا شخص بالکل صفر سے شروعات کرتا ہے، اگر وہ شروعات کرے تو ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں جو کسی ایسی اصلاح کے لیے کسی کو جوابدہ ٹھہرائے جو تبادلے کے بعد خاموشی سے دم توڑ جاتی ہے۔ اس ماحول میں تاخیر کے کوئی حقیقی نقصانات نہیں ہیں اور اسی لیے یہ کلچر پروان چڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات کی ایک بڑی تعداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری محکموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک ادارے کے پاس ان سب کو متحرک کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ رابطہ کاری کرنے والا ادارہ فالو اپ کر سکتا ہے، یاد دہانیاں بھیج سکتا ہے اور سفارشات پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ بالکل واضح نکلتا ہے، ہر محکمہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا پہلے قدم اٹھائے گا اور آخر کار دونوں ہی کچھ نہیں کرتے۔اسی طرح وفاق اور صوبوں کی تقسیم اس میں مزید ایک اور الجھن پیدا کرتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل 18ویں ترمیم کے نتیجے میں جب صوبوں کو زیادہ اختیارات منتقل کیے گئے تو وفاق کے بہت سے اصلاحاتی فیصلے اب خود بخود پورے ملک پر لاگو نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں دستخط شدہ معاہدے کی لاہور یا کراچی میں اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ متعلقہ صوبہ الگ سے اس پر متفق نہ ہو جائے اور اس معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ یوں اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں، جو کہ کئی معاملات میں اصل مسئلے سے بھی زیادہ الجھن پیدا کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی پر منحصر ہےجس میں نئے آن لائن سسٹمز، ڈیجیٹل پورٹلز اور یکجا کیے گئے ڈیٹا بیسز شامل ہیں۔ یہ چیزیں سننے میں تو بہت سادہ لگتی ہیں لیکن اب یہ خود تاخیر کی ایک الگ وجہ بن چکی ہیں۔ سرکاری محکمے اپنے ڈیجیٹل سسٹمز بنانے اور انہیں چلانے کے لیے مکمل طور پر ایک ہی ٹیکنالوجی کے ادارے پر انحصار کرتے ہیں اور جب وہ ادارہ سست روی کا شکار ہو یا اس پر کام کا زیادہ بوجھ ہو تو اس کے پیچھے موجود ہر چیز ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ پورٹلز سالہا سال ”زیرِ تعمیر“ رہتے ہیں اور سسٹمز غیر معینہ مدت تک ”بس تیار ہونے والے ہیں“ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ جب فنڈز منظور ہو جاتے ہیں اور کسی منصوبے کو ہری جھنڈی مل جاتی ہے، تب بھی رقم اکثر وقت پر متعلقہ محکمے تک نہیں پہنچ پاتی یا بالکل ہی نہیں پہنچتی۔ کام کے آرڈرز جاری ہونے کے علاوہ  معاہدوں پر دستخط بھی ہو جاتے ہیں اور پھر۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ فنڈز منظوریوں کی ایک ایسی سست رفتار زنجیر میں پھنس جاتے ہیں جس کے پاس جلدی کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ انسان کو اس اسپیڈ شیٹ (دستاویز) پر ترس آنے لگتا ہے جو کسی کی میز پر پڑی ہوتی ہے، جو منظور شدہ اور مکمل بجٹ کے ساتھ ہونے کے باوجود کہیں آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس طرح کچھ ایسی اصلاحات بھی ہیں جو ایک بہت ہی معمولی چیز کی وجہ سے رک جاتی ہیں یعنی ایک خالی کرسی۔ کچھ فیصلے صرف ایک بورڈ، کمیٹی یا اتھارٹی ہی لے سکتی ہے  اور اتفاق سے اس ادارے کے سربراہ کا عہدہ خالی ہوتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ مدت ختم ہو گئی، نشست ابھی تک بھری نہیں گئی اور قانونی طور پر کسی دوسرے کے پاس قدم آگے بڑھانے کا اختیار ہی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات سیاسی عزم یا بجٹ کی منظوری کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے رکی رہتی ہیں کہ کوئی آئے اور اس خالی کرسی پر بیٹھے۔ چنانچہ  یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ” کیا پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ واقعی ایک لاحاصل کوشش یا سراب کا پیچھا کرنا ہے؟“  مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ جس عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اسے یکسر مسترد کر دینا ناانصافی ہوگی۔ نیت سچی ہے، رفتار میں تیزی آئی ہے  اور ایمانداری سے یہ نشاندہی کرنے کا جذبہ کہ چیزیں کہاں غلط ہو رہی ہیں، خود اتنی بڑی بات ہے جو بہت سی حکومتیں نہیں کر پاتیں۔ اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات جتنی بھی تلخ لگے، سچ یہی ہے کہ اچھی نیت سے لائسنس کا حصول آسان نہیں ہو جاتا۔ بلند و بانگ اہداف سے کوئی پورٹل  فعال نہیں ہو جاتا۔ پاکستان کسی سراب کا پیچھا نہیں کر رہا بلکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ منزل کہاں ہے۔ اس نے اس منزل کے بارے میں کئی تفصیلی رپورٹیں بھی لکھ رکھی ہیں۔ جو چیز اس نے اب تک تیار نہیں کی، وہ اس منزل کو حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کار ہے۔ جب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، یہ دوڑ جاری رہے گی اور کامیابی، ہمیشہ کی طرح پہنچ سے بس تھوڑی ہی دور رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ : ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اپنے وجود کے بیشتر حصے میں پاکستان نوآبادیاتی دور سے وراثت میں ملنے والے قوانین کے تحت چلایا جاتا رہا ہے، ایسے قوانین جو ایک مختلف وقت اور سچ  پوچھیں تو ایک بالکل مختلف دنیا کے لیے لکھے گئے تھے۔</strong></p>
<p>جب باقی دنیا آگے بڑھ گئی  اور ٹیکنالوجی نے کاروباری لائسنس کے حصول کو سیکنڈوں کا کام بنا دیا ہے، پاکستان طویل قطاروں، ضرورت سے زیادہ کاغذی کارروائی اور کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں پھنسا رہا۔ اس کا اصل نقصان پاکستان میں کاروبار کرنے والوں کو سب سے زیادہ اٹھانا پڑا۔ بالآخر سال 2024 میں حکومت نے ملک کے فرسودہ ریگولیٹری نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عزم کیا ہے۔</p>
<p>تب سے اس عمل کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ نئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ عزائم تو حقیقی ہیں لیکن جو وعدہ کیا جا رہا ہے اور جو کچھ حقیقت میں نافذ ہو رہا ہے، اس کے درمیان کا فاصلہ بھی اتنا ہی تلخ  اور اسی فاصلے کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔</p>
<p>بہت سی اصلاحات کے نفاذ کے لیے پہلے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنا، متعلقہ قانونی اداروں سے ان کی منظوری لینا اور پھر آخر کار انہیں کابینہ یا پارلیمنٹ سے پاس کروانا۔ نظریاتی حد تک تو یہ ایک معقول عمل لگتا ہے، لیکن عملی طور پر اصلاحات کے یہ مسودے مہینوں، اور بعض اوقات برسوں سرکاری دفاتر میں پڑے رہتے ہیں اور ایک ایسی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جو کبھی بھی تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر اس میں انسانی عنصر بھی شامل ہے۔ سرکاری افسران کا باقاعدگی سے ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب وہ جاتے ہیں تو اکثر اپنے ساتھ اس اصلاحاتی کام کی رفتار بھی لے کرچلے جاتے ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ نیا آنے والا شخص بالکل صفر سے شروعات کرتا ہے، اگر وہ شروعات کرے تو ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں جو کسی ایسی اصلاح کے لیے کسی کو جوابدہ ٹھہرائے جو تبادلے کے بعد خاموشی سے دم توڑ جاتی ہے۔ اس ماحول میں تاخیر کے کوئی حقیقی نقصانات نہیں ہیں اور اسی لیے یہ کلچر پروان چڑھتا ہے۔</p>
<p>اصلاحات کی ایک بڑی تعداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری محکموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک ادارے کے پاس ان سب کو متحرک کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ رابطہ کاری کرنے والا ادارہ فالو اپ کر سکتا ہے، یاد دہانیاں بھیج سکتا ہے اور سفارشات پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ بالکل واضح نکلتا ہے، ہر محکمہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا پہلے قدم اٹھائے گا اور آخر کار دونوں ہی کچھ نہیں کرتے۔اسی طرح وفاق اور صوبوں کی تقسیم اس میں مزید ایک اور الجھن پیدا کرتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل 18ویں ترمیم کے نتیجے میں جب صوبوں کو زیادہ اختیارات منتقل کیے گئے تو وفاق کے بہت سے اصلاحاتی فیصلے اب خود بخود پورے ملک پر لاگو نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں دستخط شدہ معاہدے کی لاہور یا کراچی میں اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ متعلقہ صوبہ الگ سے اس پر متفق نہ ہو جائے اور اس معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ یوں اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں، جو کہ کئی معاملات میں اصل مسئلے سے بھی زیادہ الجھن پیدا کر دیتی ہیں۔</p>
<p>اصلاحات کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی پر منحصر ہےجس میں نئے آن لائن سسٹمز، ڈیجیٹل پورٹلز اور یکجا کیے گئے ڈیٹا بیسز شامل ہیں۔ یہ چیزیں سننے میں تو بہت سادہ لگتی ہیں لیکن اب یہ خود تاخیر کی ایک الگ وجہ بن چکی ہیں۔ سرکاری محکمے اپنے ڈیجیٹل سسٹمز بنانے اور انہیں چلانے کے لیے مکمل طور پر ایک ہی ٹیکنالوجی کے ادارے پر انحصار کرتے ہیں اور جب وہ ادارہ سست روی کا شکار ہو یا اس پر کام کا زیادہ بوجھ ہو تو اس کے پیچھے موجود ہر چیز ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ پورٹلز سالہا سال ”زیرِ تعمیر“ رہتے ہیں اور سسٹمز غیر معینہ مدت تک ”بس تیار ہونے والے ہیں“ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔</p>
<p>حتیٰ کہ جب فنڈز منظور ہو جاتے ہیں اور کسی منصوبے کو ہری جھنڈی مل جاتی ہے، تب بھی رقم اکثر وقت پر متعلقہ محکمے تک نہیں پہنچ پاتی یا بالکل ہی نہیں پہنچتی۔ کام کے آرڈرز جاری ہونے کے علاوہ  معاہدوں پر دستخط بھی ہو جاتے ہیں اور پھر۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ فنڈز منظوریوں کی ایک ایسی سست رفتار زنجیر میں پھنس جاتے ہیں جس کے پاس جلدی کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ انسان کو اس اسپیڈ شیٹ (دستاویز) پر ترس آنے لگتا ہے جو کسی کی میز پر پڑی ہوتی ہے، جو منظور شدہ اور مکمل بجٹ کے ساتھ ہونے کے باوجود کہیں آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس طرح کچھ ایسی اصلاحات بھی ہیں جو ایک بہت ہی معمولی چیز کی وجہ سے رک جاتی ہیں یعنی ایک خالی کرسی۔ کچھ فیصلے صرف ایک بورڈ، کمیٹی یا اتھارٹی ہی لے سکتی ہے  اور اتفاق سے اس ادارے کے سربراہ کا عہدہ خالی ہوتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ مدت ختم ہو گئی، نشست ابھی تک بھری نہیں گئی اور قانونی طور پر کسی دوسرے کے پاس قدم آگے بڑھانے کا اختیار ہی نہیں ہے۔</p>
<p>اصلاحات سیاسی عزم یا بجٹ کی منظوری کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے رکی رہتی ہیں کہ کوئی آئے اور اس خالی کرسی پر بیٹھے۔ چنانچہ  یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ” کیا پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ واقعی ایک لاحاصل کوشش یا سراب کا پیچھا کرنا ہے؟“  مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ جس عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اسے یکسر مسترد کر دینا ناانصافی ہوگی۔ نیت سچی ہے، رفتار میں تیزی آئی ہے  اور ایمانداری سے یہ نشاندہی کرنے کا جذبہ کہ چیزیں کہاں غلط ہو رہی ہیں، خود اتنی بڑی بات ہے جو بہت سی حکومتیں نہیں کر پاتیں۔ اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات جتنی بھی تلخ لگے، سچ یہی ہے کہ اچھی نیت سے لائسنس کا حصول آسان نہیں ہو جاتا۔ بلند و بانگ اہداف سے کوئی پورٹل  فعال نہیں ہو جاتا۔ پاکستان کسی سراب کا پیچھا نہیں کر رہا بلکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ منزل کہاں ہے۔ اس نے اس منزل کے بارے میں کئی تفصیلی رپورٹیں بھی لکھ رکھی ہیں۔ جو چیز اس نے اب تک تیار نہیں کی، وہ اس منزل کو حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کار ہے۔ جب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، یہ دوڑ جاری رہے گی اور کامیابی، ہمیشہ کی طرح پہنچ سے بس تھوڑی ہی دور رہے گی۔</p>
<p>نوٹ : ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288257</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 14:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (میمونہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/03140112426ff85.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/03140112426ff85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمباکو ٹیکس پالیسی کو معاشی ہم آہنگی کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288204/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک مرتبہ پھر ملک کے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام کو توجہ کا مرکز بنا کر سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو محصولات بڑھانے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور غیر قانونی تجارت پر قابو پانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تمباکو اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے ساتھ اختیار کی گئی ٹیکس پالیسی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ بجٹ میں نفاذ پر مبنی بعض اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور چند مخصوص مصنوعات پر ٹیکس میں ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کے ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات سے گریز کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے نمایاں تبدیلی الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوئیڈز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ نئی نوعیت کی نکوٹین مصنوعات کو زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ تاہم ای-لیکوئیڈز پر فی کلوگرام کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کا موجودہ طریقہ ایک اہم پالیسی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ ای-لیکوئیڈز عموماً حجم  کی اکائیوں میں پیک، فروخت اور استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے وزن کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنا ان کی قیمت کے تعین، ٹیکس کی تعمیل اور نفاذ کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ٹیکس انتظامیہ کے نقطۂ نظر سے حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا موجودہ ٹیکس یونٹ اس مصنوعات کے لیے موزوں ہے جسے وہ ریگولیٹ اور ٹیکس کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور زیادہ اہم پالیسی مسئلہ ایسیٹیٹ ٹَو  کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 44,000 روپے فی کلوگرام سے کم کر کے 10,000 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ ایسیٹیٹ ٹَو سگریٹ کے فلٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک بنیادی خام مال ہے۔ اس پر ڈیوٹی میں کمی سے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب خود سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح مالیاتی پالیسی میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک اہم خام مال پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کیے جانے کو حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت، دستاویزی معیشت اور پیداوار کی نگرانی پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً اہم مسائل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے محصولات کے ضیاع، کمزور نفاذ اور دستاویزی و غیر دستاویزی معیشت کے درمیان موجود خلا کا شکار رہا ہے۔ نگرانی کے زیادہ مؤثر نظام سے محصولات میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم صرف نفاذ ہی ایک مربوط ایکسائز پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا، خصوصاً اس وقت جب برائے نام ٹیکس شرحیں طویل عرصے تک تبدیل نہ کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں۔ افراطِ زر کے ماحول میں جب برائے نام ٹیکس شرحیں برقرار رہتی ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حقیقی قدر کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بظاہر ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی گئی، لیکن افراطِ زر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی حقیقی قدر کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مؤثر ٹیکس بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ محصولات کی کمی کا سامنا کرنے والی معیشت کے لیے اس کے براہِ راست اثرات ٹیکس بویانسی اور مالیاتی کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ اگر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کو افراطِ زر کے مطابق وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ یا انڈیکس نہ کیا جائے تو حکومت صرف اس وجہ سے ممکنہ محصولات سے محروم ہو سکتی ہے کہ ٹیکس نظام قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ سے قبل ہونے والی بحث سے بھی یہ واضح ہوا کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی اب بھی مالیاتی پالیسی کا ایک متنازع شعبہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کے نظام میں تیسرے درجے  کو متعارف کرانے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اسے حتمی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ایسا درجہ نسبتاً سستے سگریٹ برانڈز پر مؤثر ٹیکس بوجھ کو کم کر سکتا تھا اور موجودہ ایکسائز ڈھانچے کو کمزور کر دیتا۔ لہٰذا اس تجویز کو بجٹ میں شامل نہ کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایسی ساختی تبدیلی سے بھی گریز کیا جو ٹیکس کی بنیاد کو مزید کمزور کر سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتیجہ کسی پالیسی خلا  میں سامنے نہیں آیا۔ تحقیقی اداروں اور پالیسی سے وابستہ فریقین، جن میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) بھی شامل ہے، نے شواہد پر مبنی تجاویز، گول میز مباحثوں ، رائے پر مبنی مضامین، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے بجٹ پر ہونے والی بحث میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کوششوں نے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے کو محصولات میں اضافے، ٹیکس نفاذ اور عوامی مالیات  سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بنائے رکھا۔ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ پالیسی مباحثے کا رخ غیر قانونی تجارت اور نگرانی کے نظام کی جانب زیادہ ہو گیا، جس کی وجہ سے موجودہ بجٹ میں ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ اور نفاذ سے متعلق اقدامات پر زیادہ زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ کے لیے پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک زیادہ مربوط اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اول، سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ افراطِ زر خاموشی سے ان کی حقیقی قدر کو کم نہ کر دے۔ دوم، حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایسیٹیٹ ٹَو جیسے خام مال پر دی جانے والی ٹیکس رعایت کیا اس کی مجموعی محصولات اور ایکسائز پالیسی کے مقاصد سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ سوم، ای-لیکوئیڈز  پر عائد ٹیکس کے نظام کو تکنیکی بنیادوں پر مزید بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کی اکائی  مارکیٹ میں رائج طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہو اور اس پر عمل درآمد زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو کے شعبے میں ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی گنجائش موجود ہے۔ تمباکو کی کاشت، اس کی خشکائی ، سگریٹ سازی اور اس سے پیدا ہونے والا فضلہ ماحول پر قابلِ پیمائش اخراجات عائد کرتے ہیں۔ اگر جنگلات کی کٹائی، ایندھن کے استعمال، کاربن اخراج اور فضلے سے متعلق مستند اعداد و شمار دستیاب ہوں تو مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حصے کے طور پر تمباکو کی مصنوعات پر کاربن لیوی یا ماحولیاتی سرچارج عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ 2026-27 یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا ایک اہم، لیکن تاحال غیر حل شدہ شعبہ ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے ایک بڑے خام مال پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے، جس سے پالیسی کے اندر ہم آہنگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تمباکو پر ٹیکس زیادہ ہونا چاہیے یا کم۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکس کا موجودہ نظام معاشی اعتبار سے مربوط، انتظامی لحاظ سے قابلِ نفاذ اور حقیقی معنوں میں حکومتی محصولات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس کا ایک مضبوط اور مؤثر نظام ایسا ہونا چاہیے جو مؤثر نگرانی، افراطِ زر سے ہم آہنگ ایکسائز پالیسی، خام مال کے حوالے سے معقول ٹیکس پالیسی اور ماحولیاتی اخراجات کو مدنظر رکھنے جیسے عناصر کو یکجا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک مرتبہ پھر ملک کے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام کو توجہ کا مرکز بنا کر سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو محصولات بڑھانے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور غیر قانونی تجارت پر قابو پانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تمباکو اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے ساتھ اختیار کی گئی ٹیکس پالیسی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ بجٹ میں نفاذ پر مبنی بعض اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور چند مخصوص مصنوعات پر ٹیکس میں ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کے ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات سے گریز کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>سب سے نمایاں تبدیلی الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوئیڈز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ نئی نوعیت کی نکوٹین مصنوعات کو زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ تاہم ای-لیکوئیڈز پر فی کلوگرام کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کا موجودہ طریقہ ایک اہم پالیسی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ ای-لیکوئیڈز عموماً حجم  کی اکائیوں میں پیک، فروخت اور استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے وزن کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنا ان کی قیمت کے تعین، ٹیکس کی تعمیل اور نفاذ کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ٹیکس انتظامیہ کے نقطۂ نظر سے حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا موجودہ ٹیکس یونٹ اس مصنوعات کے لیے موزوں ہے جسے وہ ریگولیٹ اور ٹیکس کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>ایک اور زیادہ اہم پالیسی مسئلہ ایسیٹیٹ ٹَو  کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 44,000 روپے فی کلوگرام سے کم کر کے 10,000 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ ایسیٹیٹ ٹَو سگریٹ کے فلٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک بنیادی خام مال ہے۔ اس پر ڈیوٹی میں کمی سے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب خود سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح مالیاتی پالیسی میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک اہم خام مال پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کیے جانے کو حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت، دستاویزی معیشت اور پیداوار کی نگرانی پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً اہم مسائل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے محصولات کے ضیاع، کمزور نفاذ اور دستاویزی و غیر دستاویزی معیشت کے درمیان موجود خلا کا شکار رہا ہے۔ نگرانی کے زیادہ مؤثر نظام سے محصولات میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم صرف نفاذ ہی ایک مربوط ایکسائز پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا، خصوصاً اس وقت جب برائے نام ٹیکس شرحیں طویل عرصے تک تبدیل نہ کی جائیں۔</p>
<p>سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں۔ افراطِ زر کے ماحول میں جب برائے نام ٹیکس شرحیں برقرار رہتی ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حقیقی قدر کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بظاہر ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی گئی، لیکن افراطِ زر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی حقیقی قدر کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مؤثر ٹیکس بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ محصولات کی کمی کا سامنا کرنے والی معیشت کے لیے اس کے براہِ راست اثرات ٹیکس بویانسی اور مالیاتی کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ اگر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کو افراطِ زر کے مطابق وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ یا انڈیکس نہ کیا جائے تو حکومت صرف اس وجہ سے ممکنہ محصولات سے محروم ہو سکتی ہے کہ ٹیکس نظام قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتا۔</p>
<p>بجٹ سے قبل ہونے والی بحث سے بھی یہ واضح ہوا کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی اب بھی مالیاتی پالیسی کا ایک متنازع شعبہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کے نظام میں تیسرے درجے  کو متعارف کرانے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اسے حتمی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ایسا درجہ نسبتاً سستے سگریٹ برانڈز پر مؤثر ٹیکس بوجھ کو کم کر سکتا تھا اور موجودہ ایکسائز ڈھانچے کو کمزور کر دیتا۔ لہٰذا اس تجویز کو بجٹ میں شامل نہ کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایسی ساختی تبدیلی سے بھی گریز کیا جو ٹیکس کی بنیاد کو مزید کمزور کر سکتی تھی۔</p>
<p>یہ نتیجہ کسی پالیسی خلا  میں سامنے نہیں آیا۔ تحقیقی اداروں اور پالیسی سے وابستہ فریقین، جن میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) بھی شامل ہے، نے شواہد پر مبنی تجاویز، گول میز مباحثوں ، رائے پر مبنی مضامین، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے بجٹ پر ہونے والی بحث میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کوششوں نے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے کو محصولات میں اضافے، ٹیکس نفاذ اور عوامی مالیات  سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بنائے رکھا۔ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ پالیسی مباحثے کا رخ غیر قانونی تجارت اور نگرانی کے نظام کی جانب زیادہ ہو گیا، جس کی وجہ سے موجودہ بجٹ میں ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ اور نفاذ سے متعلق اقدامات پر زیادہ زور دیا گیا۔</p>
<p>آئندہ کے لیے پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک زیادہ مربوط اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اول، سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ افراطِ زر خاموشی سے ان کی حقیقی قدر کو کم نہ کر دے۔ دوم، حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایسیٹیٹ ٹَو جیسے خام مال پر دی جانے والی ٹیکس رعایت کیا اس کی مجموعی محصولات اور ایکسائز پالیسی کے مقاصد سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ سوم، ای-لیکوئیڈز  پر عائد ٹیکس کے نظام کو تکنیکی بنیادوں پر مزید بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کی اکائی  مارکیٹ میں رائج طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہو اور اس پر عمل درآمد زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔</p>
<p>تمباکو کے شعبے میں ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی گنجائش موجود ہے۔ تمباکو کی کاشت، اس کی خشکائی ، سگریٹ سازی اور اس سے پیدا ہونے والا فضلہ ماحول پر قابلِ پیمائش اخراجات عائد کرتے ہیں۔ اگر جنگلات کی کٹائی، ایندھن کے استعمال، کاربن اخراج اور فضلے سے متعلق مستند اعداد و شمار دستیاب ہوں تو مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حصے کے طور پر تمباکو کی مصنوعات پر کاربن لیوی یا ماحولیاتی سرچارج عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ 2026-27 یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا ایک اہم، لیکن تاحال غیر حل شدہ شعبہ ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے ایک بڑے خام مال پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے، جس سے پالیسی کے اندر ہم آہنگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تمباکو پر ٹیکس زیادہ ہونا چاہیے یا کم۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکس کا موجودہ نظام معاشی اعتبار سے مربوط، انتظامی لحاظ سے قابلِ نفاذ اور حقیقی معنوں میں حکومتی محصولات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس کا ایک مضبوط اور مؤثر نظام ایسا ہونا چاہیے جو مؤثر نگرانی، افراطِ زر سے ہم آہنگ ایکسائز پالیسی، خام مال کے حوالے سے معقول ٹیکس پالیسی اور ماحولیاتی اخراجات کو مدنظر رکھنے جیسے عناصر کو یکجا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288204</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 11:31:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/02112835ff27cf9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/02112835ff27cf9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھوسیڈائڈیز کی واپسی: میلوس اور جدید ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288140/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کلاسیکی تاریخ کے اوراق میں بہت کم ایسی تحریریں ملتی ہیں جو طاقت کی سیاست کی حقیقت کو تھوسیڈائڈیز کے ”میلین مکالمے“ (میلین ڈائیلاگ) کی طرح اتنی وضاحت اور بے لاگ انداز میں پیش کرتی ہوں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں تحریر کیے گئے اس مکالمے میں اُس گفتگو کو قلم بند کیا گیا ہے جو بحری قوت کے اعتبار سے غالب ریاست ایتھنز اور چھوٹے جزیرے میلوس کے درمیان ہوئی۔ پیلوپونیشین جنگ کے دوران میلوس غیر جانب دار رہنا چاہتا تھا، مگر ایتھنز نے اس سے مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا، جبکہ میلوس نے انصاف اور اخلاقی اصولوں کا سہارا لیا۔ ایتھنز نے ایسی تمام اخلاقی اپیلوں کو بے رحمی سے مسترد کرتے ہوئے وہ مشہور الفاظ کہے جو بعد ازاں طاقت کی سیاست کی علامت بن گئے: ”طاقتور وہی کرتے ہیں جو ان کے بس میں ہوتا ہے، جبکہ کمزور وہی سہتے ہیں جو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب 2026 کی طرف آئیے، جہاں اس مکالمے کی بازگشت ایران-امریکا محاذ آرائی میں صاف سنائی دیتی ہے۔ رواں سال شروع ہونے والی جنگ، جو تباہ کن حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر منتج ہوئی، اب نازک نوعیت کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا انداز، ایک جانب ٹرمپ کا سخت گیر اور بالا دستی جتانے والا رویہ اور دوسری جانب ایران کا محتاط اور متوازن طرزِ عمل ، حیرت انگیز حد تک ایتھنز اور میلوس کے درمیان ہونے والے اس قدیم مکالمے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ تازہ کشیدگی، جو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم والے ایک مال بردار جہاز پر ایران کے ڈرون حملے اور اس کے جواب میں امریکا کی جانب سے ایران کے 10 فوجی ٹھکانوں پر جوابی حملوں کے بعد بھڑکی، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی کس قدر نازک ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ اب بھی شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوسیڈائڈیز کی روایت میں ایتھنز طاقت کی بے لگام سیاست کی علامت تھا۔ اس نے اخلاقی دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ بقا کا واحد راستہ طاقتور کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن نے بھی ایک سخت گیر اور بالا دستی جتانے والی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ ٹرمپ کی زبان بھی کم و بیش اتنی ہی بے لچک تھی۔ انہوں نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، یہاں تک کہا کہ ایرانی وفد کے پاس شاید واپس جانے کے لیے اپنا ملک بھی نہ بچے۔ انہوں نے ایران کی امن تجاویز کے اہم نکات مسترد کر دیے اور امریکا کے اندر اختلافِ رائے کو بھی ”غداری“ قرار دیا۔ مال بردار جہاز کے واقعے کے بعد ایران کے ڈرون مراکز اور ریڈار تنصیبات پر حالیہ امریکی حملے بھی اسی طاقت کے اظہار کی عکاسی کرتے ہیں، گویا جدید دور میں ایتھنز ایک بار پھر میلوس کو یہی پیغام دے رہا ہو کہ غیر جانب داری کوئی راستہ نہیں، بقا صرف اطاعت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران نے، میلوس کی طرح، اپنے موقف پر قائم رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کا پیغام واضح تھا کہ امن کی کوشش ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں بلکہ انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کے ذریعے بے گناہ جانوں کی قربانیوں کا احترام کرنے کا شعوری فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے مذاکرات کار امن کو شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ قرار دیتے رہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے دوحہ میں امریکی نمائندوں کے ساتھ کسی طے شدہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف اپنی شرائط پر بات چیت کرے گا۔ میدانِ جنگ میں مزاحمت اور مذاکرات کی میز پر تحمل کا یہی امتزاج اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے ایران اصولی مؤقف اور قومی بقا کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں واقعات میں مماثلت غیر معمولی ہے۔ میلین مکالمے میں ایتھنز کا استدلال تھا کہ مزاحمت بے سود ہے کیونکہ نتائج کا فیصلہ طاقت کرتی ہے، جبکہ میلوس کا مؤقف تھا کہ انصاف کی اپنی اہمیت ہے اور غیر جانب دار رہنا اس کا حق ہے۔ 2026 میں ٹرمپ کا امریکا ایتھنز کے کردار میں دکھائی دیتا ہے، جو اپنی برتری جتاتا، ایران کے مؤقف کو نظرانداز کرتا اور تباہی کی دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ ایران نے میلوس کی طرح وقار، تحمل اور اخلاقی برتری پر اصرار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دونوں حالات میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ میلوس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا؛ اس کے مرد قتل کر دیے گئے اور عورتوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اس کے برعکس ایران، شدید نقصانات اٹھانے کے باوجود، مٹ نہیں سکا۔ تباہ کن حملوں کے بعد بھی مذاکرات کی صلاحیت برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا میں محض عسکری طاقت ہر صورت فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ٹیکنالوجی، بین الاقوامی اتحاد اور عالمی ضمیر یکطرفہ طاقت کے استعمال پر کچھ نہ کچھ قدغن ضرور عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی کارروائی نہیں تھے بلکہ تہذیبی اقدار کی آزمائش بھی تھے۔ ایران کے طرزِ عمل نے سیاسی بلوغت کا تاثر دیا۔ امن کو اپنے شہدا کے لیے خراجِ عقیدت قرار دینا اور اپنے مذاکراتی وفد کو مسلسل بیرونی ہدایات کے بغیر بات چیت کا اختیار دینا، تہران کے تحمل اور اعتماد کی علامت تھا۔ اس کے برعکس ٹرمپ کا رویہ اس غرور کی عکاسی کرتا تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف طاقت ہی ہر نتیجے کا فیصلہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری اسلام آباد کے صبر، سفارتی مہارت اور خطے کے استحکام سے وابستگی کی عکاس تھی۔ پاکستان نے خاموشی مگر مستقل مزاجی سے رابطوں کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ رکاوٹوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔ اس کی یہی ثابت قدمی مذاکرات کو اس وقت بھی زندہ رکھنے کا باعث بنی جب سخت بیانات اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح ایتھنز کو یہ خدشہ تھا کہ میلوس کی غیر جانب داری دوسرے چھوٹے علاقوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن جائے گی، اسی طرح واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران کی ثابت قدمی خطے کے دیگر ممالک کو بھی مزاحمت پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں سرِفہرست اسرائیل ہے۔ امریکی پالیسی سازی پر اس کا اثر و رسوخ کھل کر سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیلی قیادت مسلسل واشنگٹن پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے اور کسی مفاہمت کی راہ اختیار نہ کرے۔ اس بیرونی اثراندازی نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور جو عمل دو طرفہ امن کی کوشش ہو سکتا تھا، وہ مختلف مفادات کی کشمکش کا میدان بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز اب بھی اس تنازع کا سب سے حساس مرکز ہے۔ ایران اس پر مکمل اختیار کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی بحری بیڑے تہران کی نگرانی کے بغیر بحری راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں معمولی سی خلاف ورزی بھی مذاکراتی عمل کو ناکام بنا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام دونوں پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی داخلی سیاسی صورتِ حال اور خلیج میں موجود دیرینہ کشیدگیاں بھی پیش رفت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ آج اس تنازع کے مضمرات تھوسیڈائڈیز کے عہد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ مذاکرات کی ناکامی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے اور نازک بین الاقوامی اتحادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوسیڈائڈیز کا ”میلین مکالمہ“ آج بھی ایک دائمی تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سبق دیتا ہے کہ بے لگام طاقت بالآخر المیے کو جنم دیتی ہے اور انصاف کو نظرانداز کرنے کا انجام تباہی ہوتا ہے۔ 2026 کی ایران-امریکا جنگ میں، مصنف کے مطابق، ٹرمپ کا سخت گیر رویہ ایتھنز کے غرور کی یاد دلاتا ہے، جبکہ ایران کا تحمل میلوس کے وقار کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ تاہم میلوس کے برعکس، ایران نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مذاکرات بھی کیے اور امن کے اپنے حق پر بھی اصرار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام منظرنامے میں امید کی کرن ایران کی یہی بقا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ شہدا کا خون انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کی تحریک بن سکتا ہے، اور سفارت کاری، خواہ کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو، تباہی سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پوری دنیا کی نظریں دوحہ پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے، جبکہ تہران کسی باضابطہ مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے صبر، مستقل مزاجی اور سفارتی کوششوں نے اس عمل کو زندہ رکھا ہے۔ امید یہی ہے کہ تاریخ خود کو دوبارہ نہیں دہرائے گی، میلوس کا سبق فراموش نہیں ہوگا اور طاقت بالآخر اصولوں کے ساتھ بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا سیکھ لے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کلاسیکی تاریخ کے اوراق میں بہت کم ایسی تحریریں ملتی ہیں جو طاقت کی سیاست کی حقیقت کو تھوسیڈائڈیز کے ”میلین مکالمے“ (میلین ڈائیلاگ) کی طرح اتنی وضاحت اور بے لاگ انداز میں پیش کرتی ہوں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں تحریر کیے گئے اس مکالمے میں اُس گفتگو کو قلم بند کیا گیا ہے جو بحری قوت کے اعتبار سے غالب ریاست ایتھنز اور چھوٹے جزیرے میلوس کے درمیان ہوئی۔ پیلوپونیشین جنگ کے دوران میلوس غیر جانب دار رہنا چاہتا تھا، مگر ایتھنز نے اس سے مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا، جبکہ میلوس نے انصاف اور اخلاقی اصولوں کا سہارا لیا۔ ایتھنز نے ایسی تمام اخلاقی اپیلوں کو بے رحمی سے مسترد کرتے ہوئے وہ مشہور الفاظ کہے جو بعد ازاں طاقت کی سیاست کی علامت بن گئے: ”طاقتور وہی کرتے ہیں جو ان کے بس میں ہوتا ہے، جبکہ کمزور وہی سہتے ہیں جو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔“</strong></p>
<p>اب 2026 کی طرف آئیے، جہاں اس مکالمے کی بازگشت ایران-امریکا محاذ آرائی میں صاف سنائی دیتی ہے۔ رواں سال شروع ہونے والی جنگ، جو تباہ کن حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر منتج ہوئی، اب نازک نوعیت کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا انداز، ایک جانب ٹرمپ کا سخت گیر اور بالا دستی جتانے والا رویہ اور دوسری جانب ایران کا محتاط اور متوازن طرزِ عمل ، حیرت انگیز حد تک ایتھنز اور میلوس کے درمیان ہونے والے اس قدیم مکالمے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ تازہ کشیدگی، جو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم والے ایک مال بردار جہاز پر ایران کے ڈرون حملے اور اس کے جواب میں امریکا کی جانب سے ایران کے 10 فوجی ٹھکانوں پر جوابی حملوں کے بعد بھڑکی، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی کس قدر نازک ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ اب بھی شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔</p>
<p>تھوسیڈائڈیز کی روایت میں ایتھنز طاقت کی بے لگام سیاست کی علامت تھا۔ اس نے اخلاقی دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ بقا کا واحد راستہ طاقتور کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن نے بھی ایک سخت گیر اور بالا دستی جتانے والی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ ٹرمپ کی زبان بھی کم و بیش اتنی ہی بے لچک تھی۔ انہوں نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، یہاں تک کہا کہ ایرانی وفد کے پاس شاید واپس جانے کے لیے اپنا ملک بھی نہ بچے۔ انہوں نے ایران کی امن تجاویز کے اہم نکات مسترد کر دیے اور امریکا کے اندر اختلافِ رائے کو بھی ”غداری“ قرار دیا۔ مال بردار جہاز کے واقعے کے بعد ایران کے ڈرون مراکز اور ریڈار تنصیبات پر حالیہ امریکی حملے بھی اسی طاقت کے اظہار کی عکاسی کرتے ہیں، گویا جدید دور میں ایتھنز ایک بار پھر میلوس کو یہی پیغام دے رہا ہو کہ غیر جانب داری کوئی راستہ نہیں، بقا صرف اطاعت میں ہے۔</p>
<p>تاہم ایران نے، میلوس کی طرح، اپنے موقف پر قائم رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کا پیغام واضح تھا کہ امن کی کوشش ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں بلکہ انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کے ذریعے بے گناہ جانوں کی قربانیوں کا احترام کرنے کا شعوری فیصلہ ہے۔</p>
<p>اگرچہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے مذاکرات کار امن کو شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ قرار دیتے رہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے دوحہ میں امریکی نمائندوں کے ساتھ کسی طے شدہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف اپنی شرائط پر بات چیت کرے گا۔ میدانِ جنگ میں مزاحمت اور مذاکرات کی میز پر تحمل کا یہی امتزاج اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے ایران اصولی مؤقف اور قومی بقا کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>ان دونوں واقعات میں مماثلت غیر معمولی ہے۔ میلین مکالمے میں ایتھنز کا استدلال تھا کہ مزاحمت بے سود ہے کیونکہ نتائج کا فیصلہ طاقت کرتی ہے، جبکہ میلوس کا مؤقف تھا کہ انصاف کی اپنی اہمیت ہے اور غیر جانب دار رہنا اس کا حق ہے۔ 2026 میں ٹرمپ کا امریکا ایتھنز کے کردار میں دکھائی دیتا ہے، جو اپنی برتری جتاتا، ایران کے مؤقف کو نظرانداز کرتا اور تباہی کی دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ ایران نے میلوس کی طرح وقار، تحمل اور اخلاقی برتری پر اصرار کیا۔</p>
<p>تاہم دونوں حالات میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ میلوس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا؛ اس کے مرد قتل کر دیے گئے اور عورتوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اس کے برعکس ایران، شدید نقصانات اٹھانے کے باوجود، مٹ نہیں سکا۔ تباہ کن حملوں کے بعد بھی مذاکرات کی صلاحیت برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا میں محض عسکری طاقت ہر صورت فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ٹیکنالوجی، بین الاقوامی اتحاد اور عالمی ضمیر یکطرفہ طاقت کے استعمال پر کچھ نہ کچھ قدغن ضرور عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی کارروائی نہیں تھے بلکہ تہذیبی اقدار کی آزمائش بھی تھے۔ ایران کے طرزِ عمل نے سیاسی بلوغت کا تاثر دیا۔ امن کو اپنے شہدا کے لیے خراجِ عقیدت قرار دینا اور اپنے مذاکراتی وفد کو مسلسل بیرونی ہدایات کے بغیر بات چیت کا اختیار دینا، تہران کے تحمل اور اعتماد کی علامت تھا۔ اس کے برعکس ٹرمپ کا رویہ اس غرور کی عکاسی کرتا تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف طاقت ہی ہر نتیجے کا فیصلہ کرتی ہے۔</p>
<p>یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری اسلام آباد کے صبر، سفارتی مہارت اور خطے کے استحکام سے وابستگی کی عکاس تھی۔ پاکستان نے خاموشی مگر مستقل مزاجی سے رابطوں کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ رکاوٹوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔ اس کی یہی ثابت قدمی مذاکرات کو اس وقت بھی زندہ رکھنے کا باعث بنی جب سخت بیانات اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے تھے۔</p>
<p>جس طرح ایتھنز کو یہ خدشہ تھا کہ میلوس کی غیر جانب داری دوسرے چھوٹے علاقوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن جائے گی، اسی طرح واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران کی ثابت قدمی خطے کے دیگر ممالک کو بھی مزاحمت پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں سرِفہرست اسرائیل ہے۔ امریکی پالیسی سازی پر اس کا اثر و رسوخ کھل کر سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیلی قیادت مسلسل واشنگٹن پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے اور کسی مفاہمت کی راہ اختیار نہ کرے۔ اس بیرونی اثراندازی نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور جو عمل دو طرفہ امن کی کوشش ہو سکتا تھا، وہ مختلف مفادات کی کشمکش کا میدان بن گیا ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز اب بھی اس تنازع کا سب سے حساس مرکز ہے۔ ایران اس پر مکمل اختیار کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی بحری بیڑے تہران کی نگرانی کے بغیر بحری راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں معمولی سی خلاف ورزی بھی مذاکراتی عمل کو ناکام بنا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام دونوں پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی داخلی سیاسی صورتِ حال اور خلیج میں موجود دیرینہ کشیدگیاں بھی پیش رفت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ آج اس تنازع کے مضمرات تھوسیڈائڈیز کے عہد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ مذاکرات کی ناکامی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے اور نازک بین الاقوامی اتحادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔</p>
<p>تھوسیڈائڈیز کا ”میلین مکالمہ“ آج بھی ایک دائمی تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سبق دیتا ہے کہ بے لگام طاقت بالآخر المیے کو جنم دیتی ہے اور انصاف کو نظرانداز کرنے کا انجام تباہی ہوتا ہے۔ 2026 کی ایران-امریکا جنگ میں، مصنف کے مطابق، ٹرمپ کا سخت گیر رویہ ایتھنز کے غرور کی یاد دلاتا ہے، جبکہ ایران کا تحمل میلوس کے وقار کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ تاہم میلوس کے برعکس، ایران نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مذاکرات بھی کیے اور امن کے اپنے حق پر بھی اصرار کیا۔</p>
<p>اس تمام منظرنامے میں امید کی کرن ایران کی یہی بقا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ شہدا کا خون انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کی تحریک بن سکتا ہے، اور سفارت کاری، خواہ کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو، تباہی سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔</p>
<p>اب پوری دنیا کی نظریں دوحہ پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے، جبکہ تہران کسی باضابطہ مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے صبر، مستقل مزاجی اور سفارتی کوششوں نے اس عمل کو زندہ رکھا ہے۔ امید یہی ہے کہ تاریخ خود کو دوبارہ نہیں دہرائے گی، میلوس کا سبق فراموش نہیں ہوگا اور طاقت بالآخر اصولوں کے ساتھ بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا سیکھ لے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288140</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 23:44:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایس ایم حالی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/302301082dfe685.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/302301082dfe685.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر ازسرِنو غور کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تدریسی عملے (فیکلٹی) کی رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) کے ڈائریکٹر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) سمیت مختلف انتظامی عہدوں پر تقرری روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عہدے بنیادی طور پر انتظامی امور، سیکریٹریل ذمہ داریوں، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور متعلقہ فریقوں و عوام سے رابطے سے متعلق ہوتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکلٹی کو ایسی انتظامی ذمہ داریوں میں مصروف کرنا انہیں سماجی و معاشی ترقی، تحقیق اور فنڈز کے حصول جیسے بنیادی فرائض سے دور کر دیتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں یہ معمول ہے کہ اساتذہ سیکریٹریل اور انتظامی ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے اپنا زیادہ وقت تحقیق، تدریس، مشاورتی خدمات اور پالیسی سازی میں صرف کرتے ہیں۔ پاکستان کی جامعات میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سینئر اساتذہ کو ان انتظامی اور سیکریٹریل عہدوں پر تعینات کرنے کا رجحان اندرونی سیاست، ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا نتیجہ تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ پابندی نجی شعبے کی جامعات پر کیوں عائد نہیں کی گئی؟ نجی جامعات کے لیے تو مشاورتی اور کنسلٹنسی خدمات کے ذریعے فنڈز کا حصول زیادہ اہم ہے کیونکہ انہیں حکومتی مالی معاونت حاصل نہیں ہوتی، بصورت دیگر مالی بوجھ بالآخر طلبہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکلٹی کی انتظامی اور ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں نے سینئر اساتذہ کو بتدریج بیوروکریٹ بنا دیا، جبکہ جامعات میں آڈٹ اور تعمیل کا ایسا نظام متعارف ہوا جس نے آزادانہ تدریس اور معیاری تحقیق کو محدود کر دیا۔ اس ماحول میں نجی جامعات میں تحقیق محض طلبہ کو راغب کر کے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن گئی، جبکہ سرکاری جامعات مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ مالی مشکلات کے باعث غیر یقینی صورت اختیار کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جامعات اپنی مالی ضروریات کیسے پوری کریں؟ جب حکومتی فنڈنگ دستیاب تھی تو سرکاری جامعات کی انتظامیہ کے لیے وسائل پیدا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اصل توجہ ان وسائل کے استعمال پر مرکوز رہی۔ تعلیمی اداروں میں ذاتی مفادات اور اندرونی سیاست ہی ٹیکس دہندگان کے وسائل کے غیر مؤثر استعمال کی بڑی وجہ بنی۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری کے نام پر ٹیکس دہندگان کا سرمایہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے خرچ کیا جاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان فنڈز کا بڑا حصہ جامعات کے اساتذہ کو مالی مراعات دینے پر صرف ہوا۔ اعلیٰ تنخواہی درجات میں تیز رفتار ترقیاں، ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت پرکشش تنخواہیں، انکم ٹیکس میں رعایت، بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے سفری و رہائشی اخراجات، تحقیقی مقالات کی اشاعت کی فیس، اور پاکستانی جامعات کی کانفرنسوں میں غیر ملکی مقررین کے اعزازیے، رہائش اور سفری اخراجات، وہ نمایاں مدات ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر برداشت کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً ان بھاری اخراجات کے لیے اضافی مالی وسائل بھی پیدا کیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں سے گرانٹس، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حصول، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ، اور مختلف اشیا و خدمات پر سبسڈیز میں کمی یا ان کا خاتمہ وہ ذرائع تھے جن سے اعلیٰ تعلیم پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی۔ تاہم اس حکمت عملی کے قدرتی نتائج میں قرضوں کے بوجھ اور افراطِ زر میں اضافہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے میں جامعات کی تیزی سے بڑھتی تعداد اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مراعات نے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اس طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی درمیانے اور کم درجے کی جامعات نے تیز رفتار ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرام متعارف کرائے اور داخلہ پالیسیوں میں نرمی کر دی۔ ان اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے پاکستانی طلبہ کے داخلوں سے حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں، یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل، لندن سے شائع ہونے والے دی اکانومسٹ اور دیگر ممتاز تھنک ٹینکس نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ کی جامعات مالی مشکلات کے باعث اپنے اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا شکار ہوں گی۔ اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے پر بھاری فنڈز خرچ کیے، جن میں سفر، رہائش، وظائف، ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2005 میں ایک سینئر ماہر تعلیم نے اس پالیسی کے ممکنہ سنگین نتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے، مگر زیادہ تر کا رخ دوسرے درجے کے تعلیمی اداروں کی طرف ہے۔ آج یورپ، چین، جاپان اور ملائیشیا کی اوسط درجے کی جامعات سے ڈگری حاصل کرنے والے یہی پاکستانی اساتذہ ملک کی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو دہائیوں میں قومی خزانے اور ٹیکس دہندگان کے وسائل سے پی ایچ ڈی کرنے والے ان افراد کی عملی کارکردگی کیا رہی؟ صنعت میں ان کی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جامعات میں بھی ان کی علمی خدمات جانچنے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نجی شعبے میں جامعات کی بڑھتی تعداد، پاکستان میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح ہر جامعہ میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) کا قیام، سرقہ شناسی (اینٹی پلیچیارازم) سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل لائبریری کی فراہمی، دو غیر ملکی ممتحنین سے پی ایچ ڈی تحقیق کا جائزہ، ڈبلیو کیٹیگری کے تحقیقی جریدے میں کم از کم ایک مقالے کی اشاعت، اور پی ایچ ڈی مقالوں کے مرکزی ذخیرے (سینٹرالائزڈ ریپوزیٹری) جیسے اقدامات کو بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ تمام کامیابیاں نہ تو معاشی ترقی، نہ تکنیکی پیش رفت اور نہ ہی تحقیق کے معیار میں کسی نمایاں بہتری کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ پالیسی سازوں کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن ان پالیسیوں کی افادیت ضرور زیرِ بحث ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں حقیقی نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دستیاب وسائل کا مؤثر اور درست استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی جامعات کے اساتذہ کی تحقیقی اشاعتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی نہ تو سائنسی ترقی، نہ تکنیکی جدت اور نہ ہی معاشی نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیقی مقالات کی بڑی تعداد میں ایک ہی نوعیت کی روایتی تحقیق درحقیقت ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا ایک مہنگا ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیقی مقالات کی اشاعت سے متعلق فیسوں، جن میں آرٹیکل جمع کرانے کی فیس، آرٹیکل پروسیسنگ چارجز، صفحاتی فیس، ری پرنٹ فیس، فاسٹ ٹریک پیئر ریویو فیس، لسانی تدوین کے اخراجات اور اوپن ایکسس (گولڈ آپشن) فیس شامل ہیں، کے علاوہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور مختلف اداروں کی رکنیت کی مد میں بھی بھاری زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ہوا۔ ان اخراجات کی بڑی حد تک مالی معاونت ہائر ایجوکیشن کمیشن کرتا ہے، جبکہ بالآخر اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان یا جامعات کے طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواہ یہ اخراجات قومی خزانے سے پورے کیے جائیں یا ذاتی وسائل سے، زرمبادلہ کا یہ مسلسل اخراج ان نمائشی اور سطحی تحقیقی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا بنیادی مقصد مختلف عالمی درجہ بندی کرنے والے اداروں کے معیار پر بہتر رینکنگ حاصل کرنا ہے۔ ایسی درجہ بندی کے لیے زیادہ تحقیقی اشاعتیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت، دستاویزی شواہد اور صنعت کے ساتھ روابط کا ریکارڈ بنیادی تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بورڈ آف گورنرز اور مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں کا باقاعدہ ریکارڈ، ان کی تشکیل، مختلف شعبوں کی رسمی کارروائیاں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈبلیو کیٹیگری کے جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبوں (جن میں اکثریت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے مکمل ہوتی ہے) کو اعلیٰ درجہ بندی کے اہم پیمانے تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، ایجادات، اختراعات، سائنسی دریافتیں، فکری ارتقا، سیاسی نظام اور طرزِ حکمرانی میں بہتری، سماجی اقدار کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور معاشرتی ترقی جیسے اہداف جامعات کے بنیادی مقاصد میں شامل ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کی دنیا میں تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی اصل طاقت ان کی جامعات ہیں، جو عالمی سطح کی اعلیٰ جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان جامعات میں فیکلٹی کے انتخاب کے لیے اعلیٰ معیار کی تحقیق ایک بنیادی شرط ہے، لیکن وہاں تحقیق کا معیار اس کے نتائج اور افادیت سے جانچا جاتا ہے، نہ کہ صرف تحقیقی مقالات یا حوالہ جات (سےٹیشن) کی تعداد سے۔ ان جامعات کے مضبوط انڈرگریجویٹ پروگرام بھی ان کے اساتذہ کی تحقیقی صلاحیتوں کا ہی ثمر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی معیار کی جامعات میں طلبہ کے انتخاب کا نظام بھی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں مرکزی امتحانی نظام امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت، مقداری مہارت، زبان پر عبور اور متعلقہ مضمون کے علم کو جانچتا ہے اور اسی بنیاد پر بہترین اور اوسط درجے کے امیدواروں میں فرق کرتا ہے۔ یوں ہر مرحلے پر باصلاحیت ذہنوں کا انتخاب یقینی بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات میں داخلے کے بعد تعلیمی اخراجات کی مالی معاونت کے لیے بھی مختلف ذرائع موجود ہوتے ہیں، جن میں بینک قرضے، اثاثوں کے عوض مالی سہولت، ممکنہ آجر کی مالی ضمانت، وظائف اور اسکالرشپس شامل ہیں۔ بہترین جامعات میں بہترین اساتذہ اور بہترین طلبہ ہی مستقبل کے کامیاب رہنما، سائنس دان، محقق، پالیسی ساز اور مدبر پیدا کرتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں تو پالیسی سازوں اور جامعات کی انتظامیہ کو عالمی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور جامعات کے معاملات میں سیاسی اثرورسوخ، لابنگ اور اقربا پروری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی خودمختاری کے نام پر لابنگ اور یونین ازم نے اعلیٰ تعلیم کے زوال میں اہم کردار ادا کیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کو بھی متاثر کیا۔ جامعات کی خودمختاری اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کا پسندیدہ نعرہ بن چکی ہے، حالانکہ قومی ذرائع ابلاغ میں اس خودمختاری کے غلط استعمال کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ افسوس کہ اس خودمختاری کو بااثر جامعہ سربراہان نے اپنی خواہشات کے مطابق قواعد و ضوابط میں ردوبدل اور ان کی من مانی تشریح کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ فیکلٹی کی تقرری، طلبہ کے داخلے، پوزیشن ہولڈرز کے تعین، تحقیقی مقالات کی منظوری اور سلیکشن بورڈز کی تشکیل کے معیار میں بار بار تبدیلیاں تعلیمی خودمختاری کے نام پر معمول بن چکی ہیں۔ اس قسم کی فکری بدعنوانی کا ملک کے سیاسی نظام یا سول بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑیں ذاتی مفادات، اقربا پروری اور پسند و ناپسند میں پیوست ہیں۔ بعض اوقات اس میں نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب بھی شامل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونین ازم اور مختلف گروہ بندیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تدریسی اور تحقیقی معیار جانچنے کے اصول بھی نرم کر دیے۔ ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے 2005 میں واضح طور پر کہا تھا کہ سرکاری جامعات میں موجود نام نہاد ”ماہرین تعلیم“ اور ”دانشور“ مقامی جامعات سے حاصل کردہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کے ذریعے اپنے ہی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے این ٹی ایس یا جی آرای امتحان لازمی قرار دیا تھا، مگر بڑی سرکاری جامعات کے اساتذہ اس شرط پر پورا نہ اتر سکے تو ان جامعات کی اکیڈمک کونسلز نے یہ شرط ہی ختم کر دی۔ اسی طرح ابتدا میں اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے لیے آئی ایس آئی تھامسن(ویب آف سائنس) سے تسلیم شدہ تحقیقی جرائد میں مخصوص تعداد میں مقالات شائع کرنا ضروری تھا، لیکن بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈبلیو،ایکس،وائی اورزیڈ کیٹیگری کے جرائد متعارف کرا کے اس معیار کو بھی نرم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصاب سازی کی کمیٹیوں کو جمہوری انداز دینے کے نام پر تمام جامعات کو قومی نصاب کی تیاری میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں نصاب کمیٹیوں میں اکثریت چھوٹے شہروں کی جامعات یا نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی ہو گئی، اور یہی اکثریت نصاب کی حتمی منظوری کی مجاز بھی بن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں سرکاری جامعات کے بعض شعبوں اور تحقیقی مراکز کی بندش، علیحدگی یا خودمختار حیثیت کے خاتمے جیسے مسائل بھی اسی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف شعبوں اور مراکز کی پائیداری اور معاشی افادیت کا جائزہ عموماً ان کے اخراجات اور معاشی و سماجی نتائج کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں قائم کوئی تحقیقی مرکز اگر اسے حقیقی خودمختاری دی جائے تو ملکی معیشت اور معاشرے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی جامعہ کا ایک اور تحقیقی مرکز بھی عوامی وسائل کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود انتہائی محدود نتائج دے رہا ہے۔ اگر اس کے مجموعی بجٹ کو فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایم فل طالب علم پر آنے والی لاگت دو کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی سرکاری جامعات میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کس طرح نااہلی، غیر مؤثر انتظام اور وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2006&lt;/strong&gt; میں ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جامعات کے طرزِ حکمرانی (گورننس) میں اصلاحات کیے بغیر اصلاحاتی پروگرام نافذ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، بدانتظامی اور اقربا پروری نے غیر معمولی فروغ پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" href="#پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بلاشبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو درپیش ان بنیادی اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل تجاویز پر غور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات کی پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کا تنوع ناگزیر ہے۔ تحقیق، اختراعات، مشاورتی خدمات، سابق طلبہ (المنائی) کے عطیات، داخلہ و ٹیوشن فیس، سرکاری و نجی شراکت داری اور مخیر حضرات کے عطیات وہ اہم ذرائع ہیں جن سے جامعات کی مالی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان میں سرکاری جامعات کی مالیات کا بنیادی انحصار قومی خزانے پر ہے، جبکہ نجی جامعات کی آمدنی کا بڑا ذریعہ طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس ہے۔ حتیٰ کہ جامعات میں جاری بیشتر تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت بھی ان اداروں کی جانب سے نہیں کی جاتی جو ان تحقیقات کے اصل مستفید ہونے چاہییں، مثلاً صنعتی ادارے، تجارتی کمپنیاں اور پالیسی سازی کے ادارے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی و تجارتی شعبے میں بھی تحقیقی نتائج سے استفادہ کرنے کا مطلوبہ شعور موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں تحقیق کے لیے گرانٹس زیادہ تر ہائر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر سرکاری ادارے فراہم کرتے ہیں، جو مالی وسائل کا پائیدار ذریعہ نہیں۔ اس طرزِ عمل سے طویل المدتی منصوبہ بندی، اختراعات اور علم کی تخلیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری جامعات کی مالی معاونت اور نجی جامعات کے طلبہ کی مدد کے لیے سوشل کنٹری بیوشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جاتی ہے۔ امریکا میں سرکاری آمدنی کا 37 فیصد، برطانیہ میں 21 فیصد اور اسرائیل میں 17 فیصد حصہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عالمی اوسط 37 فیصد ہے۔ باقی آمدنی انکم ٹیکس، منافع، دولت، اشیا و خدمات اور بین الاقوامی تجارت پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل کنٹری بیوشنز اور عام ٹیکسوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مصرف آئینی طور پر پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اسے عمومی سرکاری اخراجات پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ماضی میں اقرا سرچارج، دفاعی سرچارج اور کاٹن سیس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اسی طرز پر اعلیٰ تعلیم کی مالی معاونت کے لیے پاکستان کے مالیاتی نظام میں بھی مخصوص سماجی شراکتوں کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی و معاشی ترقی کے اشاریوں کی پیمائش میں اعلیٰ تعلیم کو ہمیشہ سائنس و ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، ہائی ٹیک مصنوعات، اختراعات اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، نہ کہ شرحِ خواندگی کے اشاریوں کے ساتھ۔ خواندگی اور اعلیٰ تعلیم، تعلیم کے دو الگ شعبے ہیں جن کی کارکردگی، وسائل اور نتائج جانچنے کے پیمانے بھی مختلف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کی تعداد میں معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض مقداری اضافہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اگرچہ اعلیٰ تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس ضرورت کو مضبوط پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کم لاگت پر پوسٹ گریجویٹ کالجوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے، اور کئی برسوں تک کامیاب کارکردگی دکھانے کے بعد ہی انہیں جامعہ کا درجہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات کی حکمرانی اور مالی معاونت کے نظام میں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی کردار آمدنی میں عدم مساوات کم کرنا اور غربت میں کمی لانا ہے۔ تاریخی طور پر جامعات نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کو خوشحال طبقے میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر اب جامعات خود آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، اور اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ان کا فیس پر مبنی آمدنی کے نظام پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تدریسی عملے (فیکلٹی) کی رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) کے ڈائریکٹر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) سمیت مختلف انتظامی عہدوں پر تقرری روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عہدے بنیادی طور پر انتظامی امور، سیکریٹریل ذمہ داریوں، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور متعلقہ فریقوں و عوام سے رابطے سے متعلق ہوتے ہیں۔</strong></p>
<p>فیکلٹی کو ایسی انتظامی ذمہ داریوں میں مصروف کرنا انہیں سماجی و معاشی ترقی، تحقیق اور فنڈز کے حصول جیسے بنیادی فرائض سے دور کر دیتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں یہ معمول ہے کہ اساتذہ سیکریٹریل اور انتظامی ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے اپنا زیادہ وقت تحقیق، تدریس، مشاورتی خدمات اور پالیسی سازی میں صرف کرتے ہیں۔ پاکستان کی جامعات میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سینئر اساتذہ کو ان انتظامی اور سیکریٹریل عہدوں پر تعینات کرنے کا رجحان اندرونی سیاست، ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا نتیجہ تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ پابندی نجی شعبے کی جامعات پر کیوں عائد نہیں کی گئی؟ نجی جامعات کے لیے تو مشاورتی اور کنسلٹنسی خدمات کے ذریعے فنڈز کا حصول زیادہ اہم ہے کیونکہ انہیں حکومتی مالی معاونت حاصل نہیں ہوتی، بصورت دیگر مالی بوجھ بالآخر طلبہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>فیکلٹی کی انتظامی اور ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں نے سینئر اساتذہ کو بتدریج بیوروکریٹ بنا دیا، جبکہ جامعات میں آڈٹ اور تعمیل کا ایسا نظام متعارف ہوا جس نے آزادانہ تدریس اور معیاری تحقیق کو محدود کر دیا۔ اس ماحول میں نجی جامعات میں تحقیق محض طلبہ کو راغب کر کے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن گئی، جبکہ سرکاری جامعات مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ مالی مشکلات کے باعث غیر یقینی صورت اختیار کر چکی ہے۔</p>
<p>یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جامعات اپنی مالی ضروریات کیسے پوری کریں؟ جب حکومتی فنڈنگ دستیاب تھی تو سرکاری جامعات کی انتظامیہ کے لیے وسائل پیدا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اصل توجہ ان وسائل کے استعمال پر مرکوز رہی۔ تعلیمی اداروں میں ذاتی مفادات اور اندرونی سیاست ہی ٹیکس دہندگان کے وسائل کے غیر مؤثر استعمال کی بڑی وجہ بنی۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری کے نام پر ٹیکس دہندگان کا سرمایہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے خرچ کیا جاتا رہا۔</p>
<p>ان فنڈز کا بڑا حصہ جامعات کے اساتذہ کو مالی مراعات دینے پر صرف ہوا۔ اعلیٰ تنخواہی درجات میں تیز رفتار ترقیاں، ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت پرکشش تنخواہیں، انکم ٹیکس میں رعایت، بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے سفری و رہائشی اخراجات، تحقیقی مقالات کی اشاعت کی فیس، اور پاکستانی جامعات کی کانفرنسوں میں غیر ملکی مقررین کے اعزازیے، رہائش اور سفری اخراجات، وہ نمایاں مدات ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر برداشت کیا گیا۔</p>
<p>یقیناً ان بھاری اخراجات کے لیے اضافی مالی وسائل بھی پیدا کیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں سے گرانٹس، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حصول، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ، اور مختلف اشیا و خدمات پر سبسڈیز میں کمی یا ان کا خاتمہ وہ ذرائع تھے جن سے اعلیٰ تعلیم پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی۔ تاہم اس حکمت عملی کے قدرتی نتائج میں قرضوں کے بوجھ اور افراطِ زر میں اضافہ شامل ہیں۔</p>
<p>نجی شعبے میں جامعات کی تیزی سے بڑھتی تعداد اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مراعات نے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اس طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی درمیانے اور کم درجے کی جامعات نے تیز رفتار ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرام متعارف کرائے اور داخلہ پالیسیوں میں نرمی کر دی۔ ان اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے پاکستانی طلبہ کے داخلوں سے حاصل ہوا۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں، یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل، لندن سے شائع ہونے والے دی اکانومسٹ اور دیگر ممتاز تھنک ٹینکس نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ کی جامعات مالی مشکلات کے باعث اپنے اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا شکار ہوں گی۔ اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے پر بھاری فنڈز خرچ کیے، جن میں سفر، رہائش، وظائف، ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات شامل تھے۔</p>
<p>2005 میں ایک سینئر ماہر تعلیم نے اس پالیسی کے ممکنہ سنگین نتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے، مگر زیادہ تر کا رخ دوسرے درجے کے تعلیمی اداروں کی طرف ہے۔ آج یورپ، چین، جاپان اور ملائیشیا کی اوسط درجے کی جامعات سے ڈگری حاصل کرنے والے یہی پاکستانی اساتذہ ملک کی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ دو دہائیوں میں قومی خزانے اور ٹیکس دہندگان کے وسائل سے پی ایچ ڈی کرنے والے ان افراد کی عملی کارکردگی کیا رہی؟ صنعت میں ان کی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جامعات میں بھی ان کی علمی خدمات جانچنے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔</p>
<p>اپنی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نجی شعبے میں جامعات کی بڑھتی تعداد، پاکستان میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح ہر جامعہ میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) کا قیام، سرقہ شناسی (اینٹی پلیچیارازم) سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل لائبریری کی فراہمی، دو غیر ملکی ممتحنین سے پی ایچ ڈی تحقیق کا جائزہ، ڈبلیو کیٹیگری کے تحقیقی جریدے میں کم از کم ایک مقالے کی اشاعت، اور پی ایچ ڈی مقالوں کے مرکزی ذخیرے (سینٹرالائزڈ ریپوزیٹری) جیسے اقدامات کو بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ تمام کامیابیاں نہ تو معاشی ترقی، نہ تکنیکی پیش رفت اور نہ ہی تحقیق کے معیار میں کسی نمایاں بہتری کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ پالیسی سازوں کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن ان پالیسیوں کی افادیت ضرور زیرِ بحث ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں حقیقی نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دستیاب وسائل کا مؤثر اور درست استعمال کیا جائے۔</p>
<p>پاکستانی جامعات کے اساتذہ کی تحقیقی اشاعتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی نہ تو سائنسی ترقی، نہ تکنیکی جدت اور نہ ہی معاشی نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیقی مقالات کی بڑی تعداد میں ایک ہی نوعیت کی روایتی تحقیق درحقیقت ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا ایک مہنگا ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیقی مقالات کی اشاعت سے متعلق فیسوں، جن میں آرٹیکل جمع کرانے کی فیس، آرٹیکل پروسیسنگ چارجز، صفحاتی فیس، ری پرنٹ فیس، فاسٹ ٹریک پیئر ریویو فیس، لسانی تدوین کے اخراجات اور اوپن ایکسس (گولڈ آپشن) فیس شامل ہیں، کے علاوہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور مختلف اداروں کی رکنیت کی مد میں بھی بھاری زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ہوا۔ ان اخراجات کی بڑی حد تک مالی معاونت ہائر ایجوکیشن کمیشن کرتا ہے، جبکہ بالآخر اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان یا جامعات کے طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>خواہ یہ اخراجات قومی خزانے سے پورے کیے جائیں یا ذاتی وسائل سے، زرمبادلہ کا یہ مسلسل اخراج ان نمائشی اور سطحی تحقیقی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا بنیادی مقصد مختلف عالمی درجہ بندی کرنے والے اداروں کے معیار پر بہتر رینکنگ حاصل کرنا ہے۔ ایسی درجہ بندی کے لیے زیادہ تحقیقی اشاعتیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت، دستاویزی شواہد اور صنعت کے ساتھ روابط کا ریکارڈ بنیادی تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح بورڈ آف گورنرز اور مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں کا باقاعدہ ریکارڈ، ان کی تشکیل، مختلف شعبوں کی رسمی کارروائیاں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈبلیو کیٹیگری کے جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبوں (جن میں اکثریت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے مکمل ہوتی ہے) کو اعلیٰ درجہ بندی کے اہم پیمانے تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، ایجادات، اختراعات، سائنسی دریافتیں، فکری ارتقا، سیاسی نظام اور طرزِ حکمرانی میں بہتری، سماجی اقدار کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور معاشرتی ترقی جیسے اہداف جامعات کے بنیادی مقاصد میں شامل ہی نہیں۔</p>
<p>آج کی دنیا میں تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی اصل طاقت ان کی جامعات ہیں، جو عالمی سطح کی اعلیٰ جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان جامعات میں فیکلٹی کے انتخاب کے لیے اعلیٰ معیار کی تحقیق ایک بنیادی شرط ہے، لیکن وہاں تحقیق کا معیار اس کے نتائج اور افادیت سے جانچا جاتا ہے، نہ کہ صرف تحقیقی مقالات یا حوالہ جات (سےٹیشن) کی تعداد سے۔ ان جامعات کے مضبوط انڈرگریجویٹ پروگرام بھی ان کے اساتذہ کی تحقیقی صلاحیتوں کا ہی ثمر ہوتے ہیں۔</p>
<p>عالمی معیار کی جامعات میں طلبہ کے انتخاب کا نظام بھی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں مرکزی امتحانی نظام امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت، مقداری مہارت، زبان پر عبور اور متعلقہ مضمون کے علم کو جانچتا ہے اور اسی بنیاد پر بہترین اور اوسط درجے کے امیدواروں میں فرق کرتا ہے۔ یوں ہر مرحلے پر باصلاحیت ذہنوں کا انتخاب یقینی بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>جامعات میں داخلے کے بعد تعلیمی اخراجات کی مالی معاونت کے لیے بھی مختلف ذرائع موجود ہوتے ہیں، جن میں بینک قرضے، اثاثوں کے عوض مالی سہولت، ممکنہ آجر کی مالی ضمانت، وظائف اور اسکالرشپس شامل ہیں۔ بہترین جامعات میں بہترین اساتذہ اور بہترین طلبہ ہی مستقبل کے کامیاب رہنما، سائنس دان، محقق، پالیسی ساز اور مدبر پیدا کرتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں تو پالیسی سازوں اور جامعات کی انتظامیہ کو عالمی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور جامعات کے معاملات میں سیاسی اثرورسوخ، لابنگ اور اقربا پروری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی خودمختاری کے نام پر لابنگ اور یونین ازم نے اعلیٰ تعلیم کے زوال میں اہم کردار ادا کیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کو بھی متاثر کیا۔ جامعات کی خودمختاری اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کا پسندیدہ نعرہ بن چکی ہے، حالانکہ قومی ذرائع ابلاغ میں اس خودمختاری کے غلط استعمال کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ افسوس کہ اس خودمختاری کو بااثر جامعہ سربراہان نے اپنی خواہشات کے مطابق قواعد و ضوابط میں ردوبدل اور ان کی من مانی تشریح کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ فیکلٹی کی تقرری، طلبہ کے داخلے، پوزیشن ہولڈرز کے تعین، تحقیقی مقالات کی منظوری اور سلیکشن بورڈز کی تشکیل کے معیار میں بار بار تبدیلیاں تعلیمی خودمختاری کے نام پر معمول بن چکی ہیں۔ اس قسم کی فکری بدعنوانی کا ملک کے سیاسی نظام یا سول بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑیں ذاتی مفادات، اقربا پروری اور پسند و ناپسند میں پیوست ہیں۔ بعض اوقات اس میں نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب بھی شامل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یونین ازم اور مختلف گروہ بندیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تدریسی اور تحقیقی معیار جانچنے کے اصول بھی نرم کر دیے۔ ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے 2005 میں واضح طور پر کہا تھا کہ سرکاری جامعات میں موجود نام نہاد ”ماہرین تعلیم“ اور ”دانشور“ مقامی جامعات سے حاصل کردہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کے ذریعے اپنے ہی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے این ٹی ایس یا جی آرای امتحان لازمی قرار دیا تھا، مگر بڑی سرکاری جامعات کے اساتذہ اس شرط پر پورا نہ اتر سکے تو ان جامعات کی اکیڈمک کونسلز نے یہ شرط ہی ختم کر دی۔ اسی طرح ابتدا میں اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے لیے آئی ایس آئی تھامسن(ویب آف سائنس) سے تسلیم شدہ تحقیقی جرائد میں مخصوص تعداد میں مقالات شائع کرنا ضروری تھا، لیکن بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈبلیو،ایکس،وائی اورزیڈ کیٹیگری کے جرائد متعارف کرا کے اس معیار کو بھی نرم کر دیا۔</p>
<p>نصاب سازی کی کمیٹیوں کو جمہوری انداز دینے کے نام پر تمام جامعات کو قومی نصاب کی تیاری میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں نصاب کمیٹیوں میں اکثریت چھوٹے شہروں کی جامعات یا نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی ہو گئی، اور یہی اکثریت نصاب کی حتمی منظوری کی مجاز بھی بن گئی۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں سرکاری جامعات کے بعض شعبوں اور تحقیقی مراکز کی بندش، علیحدگی یا خودمختار حیثیت کے خاتمے جیسے مسائل بھی اسی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف شعبوں اور مراکز کی پائیداری اور معاشی افادیت کا جائزہ عموماً ان کے اخراجات اور معاشی و سماجی نتائج کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں قائم کوئی تحقیقی مرکز اگر اسے حقیقی خودمختاری دی جائے تو ملکی معیشت اور معاشرے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اسی جامعہ کا ایک اور تحقیقی مرکز بھی عوامی وسائل کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود انتہائی محدود نتائج دے رہا ہے۔ اگر اس کے مجموعی بجٹ کو فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایم فل طالب علم پر آنے والی لاگت دو کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی سرکاری جامعات میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کس طرح نااہلی، غیر مؤثر انتظام اور وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p><strong>2006</strong> میں ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جامعات کے طرزِ حکمرانی (گورننس) میں اصلاحات کیے بغیر اصلاحاتی پروگرام نافذ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، بدانتظامی اور اقربا پروری نے غیر معمولی فروغ پایا۔</p>
<h3><a id="پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" href="#پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟</strong></h3>
<p>بلاشبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو درپیش ان بنیادی اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل تجاویز پر غور کرنا چاہیے۔</p>
<p>جامعات کی پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کا تنوع ناگزیر ہے۔ تحقیق، اختراعات، مشاورتی خدمات، سابق طلبہ (المنائی) کے عطیات، داخلہ و ٹیوشن فیس، سرکاری و نجی شراکت داری اور مخیر حضرات کے عطیات وہ اہم ذرائع ہیں جن سے جامعات کی مالی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم پاکستان میں سرکاری جامعات کی مالیات کا بنیادی انحصار قومی خزانے پر ہے، جبکہ نجی جامعات کی آمدنی کا بڑا ذریعہ طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس ہے۔ حتیٰ کہ جامعات میں جاری بیشتر تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت بھی ان اداروں کی جانب سے نہیں کی جاتی جو ان تحقیقات کے اصل مستفید ہونے چاہییں، مثلاً صنعتی ادارے، تجارتی کمپنیاں اور پالیسی سازی کے ادارے۔</p>
<p>صنعتی و تجارتی شعبے میں بھی تحقیقی نتائج سے استفادہ کرنے کا مطلوبہ شعور موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں تحقیق کے لیے گرانٹس زیادہ تر ہائر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر سرکاری ادارے فراہم کرتے ہیں، جو مالی وسائل کا پائیدار ذریعہ نہیں۔ اس طرزِ عمل سے طویل المدتی منصوبہ بندی، اختراعات اور علم کی تخلیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔</p>
<p>ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری جامعات کی مالی معاونت اور نجی جامعات کے طلبہ کی مدد کے لیے سوشل کنٹری بیوشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جاتی ہے۔ امریکا میں سرکاری آمدنی کا 37 فیصد، برطانیہ میں 21 فیصد اور اسرائیل میں 17 فیصد حصہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عالمی اوسط 37 فیصد ہے۔ باقی آمدنی انکم ٹیکس، منافع، دولت، اشیا و خدمات اور بین الاقوامی تجارت پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے۔</p>
<p>سوشل کنٹری بیوشنز اور عام ٹیکسوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مصرف آئینی طور پر پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اسے عمومی سرکاری اخراجات پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ماضی میں اقرا سرچارج، دفاعی سرچارج اور کاٹن سیس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اسی طرز پر اعلیٰ تعلیم کی مالی معاونت کے لیے پاکستان کے مالیاتی نظام میں بھی مخصوص سماجی شراکتوں کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>سماجی و معاشی ترقی کے اشاریوں کی پیمائش میں اعلیٰ تعلیم کو ہمیشہ سائنس و ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، ہائی ٹیک مصنوعات، اختراعات اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، نہ کہ شرحِ خواندگی کے اشاریوں کے ساتھ۔ خواندگی اور اعلیٰ تعلیم، تعلیم کے دو الگ شعبے ہیں جن کی کارکردگی، وسائل اور نتائج جانچنے کے پیمانے بھی مختلف ہوتے ہیں۔</p>
<p>جامعات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کی تعداد میں معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض مقداری اضافہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اگرچہ اعلیٰ تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس ضرورت کو مضبوط پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کم لاگت پر پوسٹ گریجویٹ کالجوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے، اور کئی برسوں تک کامیاب کارکردگی دکھانے کے بعد ہی انہیں جامعہ کا درجہ دیا جائے۔</p>
<p>جامعات کی حکمرانی اور مالی معاونت کے نظام میں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی کردار آمدنی میں عدم مساوات کم کرنا اور غربت میں کمی لانا ہے۔ تاریخی طور پر جامعات نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کو خوشحال طبقے میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر اب جامعات خود آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، اور اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ان کا فیس پر مبنی آمدنی کے نظام پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔</p>
<p>نوٹ: ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288075</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 19:31:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ایوب مہر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/29191223cd7ddc2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/29191223cd7ddc2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی دور کیلئے مستقبل کی مارکیٹرز کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288019/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) تقریباً ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اور مارکیٹنگ ان شعبوں میں شامل ہے جہاں انتہائی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ خودکار کانٹینٹ تخلیق، پریڈکٹو اینالیٹکس، ذاتی نوعیت کے کسٹمر تجربات اور ذہین سرچ آپٹیمائزیشن سے لے کر، اے آئی اس طریقۂ کار کو نئی شکل دے رہی ہے جس کے ذریعے ادارے صارفین سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مارکیٹنگ کے لیے درکار مہارتیں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے کاروبار تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر انحصار کر رہے ہیں، تعلیمی اداروں کو بھی ان پیش رفتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ جامعات، کالجز اور تربیتی ادارے کس حد تک مؤثر انداز میں اے آئی کو اپنی تدریس، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں میں شامل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم میں صارفین کے رویّے ، برانڈنگ، ایڈورٹائزنگ، مارکیٹ ریسرچ، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (ایس ای او) جیسے شعبوں پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ تمام مضامین اب بھی اہم ہیں، لیکن اے آئی مارکیٹنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے درکار مہارتوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس لیے مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو نہ صرف مارکیٹنگ کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی بلکہ یہ بھی جاننا ہوگا کہ اے آئی سسٹمز ڈیٹا کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں، فیصلوں کو خودکار کیسے بناتے ہیں اور صارفین کے رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے میں سب سے نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک ڈیٹا لٹریسی  کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ جدید مارکیٹنگ مہمات ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن لین دین سے بہت بڑی مقدار میں معلومات پیدا کرتی ہیں۔ چونکہ اے آئی ٹیکنالوجیز اس ڈیٹا کو انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پراسیس کر سکتی ہیں، اس لیے طلبہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ڈیٹا کی تشریح کیسے کی جائے، بامعنی رجحانات کی نشاندہی کیسے کی جائے اور معلومات کی بنیاد پر مؤثر اسٹریٹجک فیصلے کیسے کیے جائیں۔ اس طرح ایسی تعلیم، جو مارکیٹنگ کے علم کو تجزیاتی مہارتوں کے ساتھ یکجا کرے، جدید دور کی ملازمتوں کے لیے گریجویٹس کو تیار کرنے میں نہایت اہم ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران اے آئی سے چلنے والے ٹولز اس طریقے کو بھی تبدیل کر رہے ہیں جس کے ذریعے مارکیٹرز کانٹینٹ تخلیق کرتے ہیں۔ جنریٹو اے آئی سسٹمز چند ہی سیکنڈز میں مضامین، سوشل میڈیا پوسٹس، اشتہارات، مصنوعات کی تفصیلات اور صارفین کے لیے پیغامات تیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسانی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ اس سے تعلیم کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو یہ سکھانا ہوگا کہ اے آئی کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے، اے آئی کے تیار کردہ مواد کا تنقیدی جائزہ کیسے لیا جائے، اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ وہ درست، اخلاقی اور برانڈ کی اقدار سے ہم آہنگ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے مستقبل کے تعلیمی کورسز میں اے آئی کو مارکیٹرز کا متبادل سمجھنے کے بجائے انسان اور اے آئی کے باہمی اشتراک پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانٹینٹ کی تخلیق کے علاوہ ایس ای او بھی بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ روایتی ایس ای او حکمتِ عملیوں کا انحصار زیادہ تر کی ورڈ ریسرچ، ٹیکنیکل آپٹیمائزیشن اور لنک بلڈنگ پر ہوتا تھا۔ تاہم اے آئی سے چلنے والے سرچ سسٹمز اب صارف کی نیت ، کانٹینٹ کے معیار اور سیاق و سباق سے مطابقت  کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ نتیجتاً، مارکیٹنگ کے نصاب کو اس انداز میں جدید بنایا جانا چاہیے کہ طلبہ اے آئی سے معاونت یافتہ ایس ای او ٹولز، سرچ رویّوں کے تجزیے اور ان نئی ٹیکنالوجیز کا عملی علم حاصل کر سکیں جو آن لائن  وزیبلیٹی کا تعین کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کے ہر پہلو میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے یہ تکنیکی شعبے ترقی کر رہے ہیں، ویسے ہی تجزیاتی سوچ  کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگرچہ اے آئی سسٹمز سفارشات اور پیش گوئیاں فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کی پیش گوئیاں ہمیشہ درست یا غیر جانبدار نہیں ہوتیں۔ اس لیے مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کو خودکار نتائج پر سوال اٹھانے اور درست فہم و فراست کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے۔ اس ضرورت کے پیش نظر، تعلیمی اداروں کو مسئلہ حل کرنے، گہرے تجزیے اور منطقی استدلال پر زیادہ زور دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر اخلاقیات اب ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا بنیادی ستون بنتی جا رہی ہیں۔ اے آئی سسٹمز بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، جس میں اکثر ذاتی اور حساس معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے رازداری، شفافیت، ڈیٹا کے تحفظ اور انصاف سے متعلق نہایت اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلبہ کو ان تمام مسائل کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکیں۔ چنانچہ مستقبل کے نصاب میں ڈیجیٹل ایتھکس ، گورننس  اور ریگولیٹری کمپلائنس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخلاقیات کے علاوہ ایک اور بڑی تبدیلی بین الشعبہ جاتی تعلیم  کی ضرورت ہے۔ مارکیٹنگ اب صرف کاروباری علم تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا تعلق ٹیکنالوجی، نفسیات، ڈیٹا سائنس اور بزنس اینالیٹکس سے بھی جڑ چکا ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل کی تعلیم مختلف شعبوں کے درمیان اشتراک کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاکہ طلبہ ایسے منصوبوں پر کام کر سکیں جن میں صارفین کی نفسیات ، مشین لرننگ  اور ڈیٹا ویژولائزیشن جیسے شعبے یکجا ہوں۔ یہ حقیقی صنعتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مارکیٹنگ ٹیمیں ڈیٹا سائنٹسٹس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی ماحول خود بھی اے آئی کی بدولت تبدیل ہو رہا ہے۔ ذہین تدریسی نظام  اور ایڈاپٹو لرننگ پلیٹ فارمز تعلیم کو زیادہ ذاتی نوعیت کی، مؤثر اور لچکدار بنا رہے ہیں۔ یہ ٹولز طلبہ کی سیکھنے میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مناسب مطالعاتی وسائل تجویز کر سکتے ہیں اور فوری فیڈ بیک فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ اپنی زیادہ توجہ رہنمائی، مباحثے اور عملی اطلاق پر مرکوز کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی تعلیمی تجربہ بہتر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ ترقی  کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے مارکیٹنگ کا علم بھی مختصر وقت میں پرانا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جامعات اور تربیتی اداروں کو مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے، جیسے مختصر کورسز، سرٹیفیکیشنز، ورکشاپس اور آن لائن پروگرامز، جو مارکیٹنگ میں اے آئی کے استعمال پر مرکوز ہوں۔ اس طرح تاحیات تعلیم  پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ناگزیر بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بھی مستقبل کی مارکیٹنگ کی تعلیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ علمی تحقیق اداروں کو نئی ٹیکنالوجیز، صارفین کے رویّوں اور ڈیجیٹل حکمتِ عملیوں کی مؤثریت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ شواہد پر مبنی تحقیق نہ صرف تدریسی مواد کو بہتر بناتی ہے بلکہ صنعت کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ جامعات جو اے آئی اور مارکیٹنگ سے متعلق تحقیق میں سرمایہ کاری کریں گی، وہ مستقبل میں اس شعبے کے معیار اور سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کے کلاس رومز میں تجرباتی تعلیم  پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ طلبہ حقیقی ڈیٹا سیٹس ، اے آئی پر مبنی مارکیٹنگ پلیٹ فارمز، کسٹمر اینالیٹکس ٹولز  اور ڈیجیٹل کیمپین سیمولیشنز  کے ساتھ عملی کام کریں گے۔ چونکہ آج کے آجر ایسے گریجویٹس کو ترجیح دیتے ہیں جن کے پاس عملی مہارتیں موجود ہوں، اس لیے انٹرن شپس ، صنعتی شراکت داریاں اور پروجیکٹ بیسڈ لرننگ  کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم عنصر عالمگیریت ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اب قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہی کیونکہ مارکیٹنگ مہمات اکثر بین الاقوامی صارفین کو ہدف بناتی ہیں۔ اگرچہ اے آئی عالمی سطح پر رابطوں کو آسان بناتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ثقافتی اختلافات اور لوکلائزیشن سے متعلق نئے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا طلبہ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ عالمی منڈیوں میں کام کر سکیں اور ساتھ ہی اخلاقی اور ثقافتی حساسیت پر مبنی مارکیٹنگ کے اصولوں کو بھی برقرار رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ صرف معلومات فراہم کرنے والے ہونے کے بجائے، لیکچررز اب زیادہ سے زیادہ مینٹور ، معاون  اور رہنما  کا کردار ادا کریں گے۔ چونکہ اے آئی بہت تیزی سے معلومات فراہم کر سکتی ہے، اس لیے تعلیم کی اصل اہمیت تخلیقی صلاحیت، درست فیصلہ سازی، اسٹریٹجک سوچ  اور اخلاقی شعور پیدا کرنے میں ہوگی۔ یہ انسانی صلاحیتیں اس وقت بھی ناگزیر رہیں گی جب ٹیکنالوجی مزید ترقی یافتہ ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، سیکھنے کے عمل اور پیشہ ورانہ مشق میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔ کامیابی کے لیے ایسا متوازن طریقۂ کار درکار ہوگا جو ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت، اخلاقیات اور تجزیاتی سوچ کو یکجا کرے۔ وہ تعلیمی ادارے جو مضبوط علمی بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان تبدیلیوں کو اپنائیں گے، وہ مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو ایک ایسے دنیا کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکیں گے جو تیزی سے زیادہ ذہین، ڈیٹا پر مبنی اور اے آئی پر مبنی بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) تقریباً ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اور مارکیٹنگ ان شعبوں میں شامل ہے جہاں انتہائی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ خودکار کانٹینٹ تخلیق، پریڈکٹو اینالیٹکس، ذاتی نوعیت کے کسٹمر تجربات اور ذہین سرچ آپٹیمائزیشن سے لے کر، اے آئی اس طریقۂ کار کو نئی شکل دے رہی ہے جس کے ذریعے ادارے صارفین سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مارکیٹنگ کے لیے درکار مہارتیں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔</strong></p>
<p>جیسے جیسے کاروبار تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر انحصار کر رہے ہیں، تعلیمی اداروں کو بھی ان پیش رفتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ جامعات، کالجز اور تربیتی ادارے کس حد تک مؤثر انداز میں اے آئی کو اپنی تدریس، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں میں شامل کرتے ہیں۔</p>
<p>روایتی طور پر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم میں صارفین کے رویّے ، برانڈنگ، ایڈورٹائزنگ، مارکیٹ ریسرچ، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (ایس ای او) جیسے شعبوں پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ تمام مضامین اب بھی اہم ہیں، لیکن اے آئی مارکیٹنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے درکار مہارتوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس لیے مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو نہ صرف مارکیٹنگ کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی بلکہ یہ بھی جاننا ہوگا کہ اے آئی سسٹمز ڈیٹا کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں، فیصلوں کو خودکار کیسے بناتے ہیں اور صارفین کے رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس شعبے میں سب سے نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک ڈیٹا لٹریسی  کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ جدید مارکیٹنگ مہمات ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن لین دین سے بہت بڑی مقدار میں معلومات پیدا کرتی ہیں۔ چونکہ اے آئی ٹیکنالوجیز اس ڈیٹا کو انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پراسیس کر سکتی ہیں، اس لیے طلبہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ڈیٹا کی تشریح کیسے کی جائے، بامعنی رجحانات کی نشاندہی کیسے کی جائے اور معلومات کی بنیاد پر مؤثر اسٹریٹجک فیصلے کیسے کیے جائیں۔ اس طرح ایسی تعلیم، جو مارکیٹنگ کے علم کو تجزیاتی مہارتوں کے ساتھ یکجا کرے، جدید دور کی ملازمتوں کے لیے گریجویٹس کو تیار کرنے میں نہایت اہم ثابت ہوگی۔</p>
<p>اسی دوران اے آئی سے چلنے والے ٹولز اس طریقے کو بھی تبدیل کر رہے ہیں جس کے ذریعے مارکیٹرز کانٹینٹ تخلیق کرتے ہیں۔ جنریٹو اے آئی سسٹمز چند ہی سیکنڈز میں مضامین، سوشل میڈیا پوسٹس، اشتہارات، مصنوعات کی تفصیلات اور صارفین کے لیے پیغامات تیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسانی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ اس سے تعلیم کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو یہ سکھانا ہوگا کہ اے آئی کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے، اے آئی کے تیار کردہ مواد کا تنقیدی جائزہ کیسے لیا جائے، اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ وہ درست، اخلاقی اور برانڈ کی اقدار سے ہم آہنگ رہے۔</p>
<p>اسی وجہ سے مستقبل کے تعلیمی کورسز میں اے آئی کو مارکیٹرز کا متبادل سمجھنے کے بجائے انسان اور اے آئی کے باہمی اشتراک پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>کانٹینٹ کی تخلیق کے علاوہ ایس ای او بھی بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ روایتی ایس ای او حکمتِ عملیوں کا انحصار زیادہ تر کی ورڈ ریسرچ، ٹیکنیکل آپٹیمائزیشن اور لنک بلڈنگ پر ہوتا تھا۔ تاہم اے آئی سے چلنے والے سرچ سسٹمز اب صارف کی نیت ، کانٹینٹ کے معیار اور سیاق و سباق سے مطابقت  کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ نتیجتاً، مارکیٹنگ کے نصاب کو اس انداز میں جدید بنایا جانا چاہیے کہ طلبہ اے آئی سے معاونت یافتہ ایس ای او ٹولز، سرچ رویّوں کے تجزیے اور ان نئی ٹیکنالوجیز کا عملی علم حاصل کر سکیں جو آن لائن  وزیبلیٹی کا تعین کرتی ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کے ہر پہلو میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔</p>
</blockquote>
<p>جیسے جیسے یہ تکنیکی شعبے ترقی کر رہے ہیں، ویسے ہی تجزیاتی سوچ  کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگرچہ اے آئی سسٹمز سفارشات اور پیش گوئیاں فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کی پیش گوئیاں ہمیشہ درست یا غیر جانبدار نہیں ہوتیں۔ اس لیے مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کو خودکار نتائج پر سوال اٹھانے اور درست فہم و فراست کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے۔ اس ضرورت کے پیش نظر، تعلیمی اداروں کو مسئلہ حل کرنے، گہرے تجزیے اور منطقی استدلال پر زیادہ زور دینا ہوگا۔</p>
<p>خاص طور پر اخلاقیات اب ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا بنیادی ستون بنتی جا رہی ہیں۔ اے آئی سسٹمز بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، جس میں اکثر ذاتی اور حساس معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے رازداری، شفافیت، ڈیٹا کے تحفظ اور انصاف سے متعلق نہایت اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>طلبہ کو ان تمام مسائل کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکیں۔ چنانچہ مستقبل کے نصاب میں ڈیجیٹل ایتھکس ، گورننس  اور ریگولیٹری کمپلائنس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔</p>
<p>اخلاقیات کے علاوہ ایک اور بڑی تبدیلی بین الشعبہ جاتی تعلیم  کی ضرورت ہے۔ مارکیٹنگ اب صرف کاروباری علم تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا تعلق ٹیکنالوجی، نفسیات، ڈیٹا سائنس اور بزنس اینالیٹکس سے بھی جڑ چکا ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل کی تعلیم مختلف شعبوں کے درمیان اشتراک کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاکہ طلبہ ایسے منصوبوں پر کام کر سکیں جن میں صارفین کی نفسیات ، مشین لرننگ  اور ڈیٹا ویژولائزیشن جیسے شعبے یکجا ہوں۔ یہ حقیقی صنعتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مارکیٹنگ ٹیمیں ڈیٹا سائنٹسٹس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔</p>
<p>تعلیمی ماحول خود بھی اے آئی کی بدولت تبدیل ہو رہا ہے۔ ذہین تدریسی نظام  اور ایڈاپٹو لرننگ پلیٹ فارمز تعلیم کو زیادہ ذاتی نوعیت کی، مؤثر اور لچکدار بنا رہے ہیں۔ یہ ٹولز طلبہ کی سیکھنے میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مناسب مطالعاتی وسائل تجویز کر سکتے ہیں اور فوری فیڈ بیک فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ اپنی زیادہ توجہ رہنمائی، مباحثے اور عملی اطلاق پر مرکوز کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی تعلیمی تجربہ بہتر ہوتا ہے۔</p>
<p>ان تبدیلیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ ترقی  کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے مارکیٹنگ کا علم بھی مختصر وقت میں پرانا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جامعات اور تربیتی اداروں کو مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے، جیسے مختصر کورسز، سرٹیفیکیشنز، ورکشاپس اور آن لائن پروگرامز، جو مارکیٹنگ میں اے آئی کے استعمال پر مرکوز ہوں۔ اس طرح تاحیات تعلیم  پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ناگزیر بن جائے گی۔</p>
<p>تحقیق بھی مستقبل کی مارکیٹنگ کی تعلیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ علمی تحقیق اداروں کو نئی ٹیکنالوجیز، صارفین کے رویّوں اور ڈیجیٹل حکمتِ عملیوں کی مؤثریت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ شواہد پر مبنی تحقیق نہ صرف تدریسی مواد کو بہتر بناتی ہے بلکہ صنعت کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ جامعات جو اے آئی اور مارکیٹنگ سے متعلق تحقیق میں سرمایہ کاری کریں گی، وہ مستقبل میں اس شعبے کے معیار اور سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔</p>
<p>مستقبل کے کلاس رومز میں تجرباتی تعلیم  پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ طلبہ حقیقی ڈیٹا سیٹس ، اے آئی پر مبنی مارکیٹنگ پلیٹ فارمز، کسٹمر اینالیٹکس ٹولز  اور ڈیجیٹل کیمپین سیمولیشنز  کے ساتھ عملی کام کریں گے۔ چونکہ آج کے آجر ایسے گریجویٹس کو ترجیح دیتے ہیں جن کے پاس عملی مہارتیں موجود ہوں، اس لیے انٹرن شپس ، صنعتی شراکت داریاں اور پروجیکٹ بیسڈ لرننگ  کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔</p>
<p>ایک اور اہم عنصر عالمگیریت ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اب قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہی کیونکہ مارکیٹنگ مہمات اکثر بین الاقوامی صارفین کو ہدف بناتی ہیں۔ اگرچہ اے آئی عالمی سطح پر رابطوں کو آسان بناتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ثقافتی اختلافات اور لوکلائزیشن سے متعلق نئے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا طلبہ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ عالمی منڈیوں میں کام کر سکیں اور ساتھ ہی اخلاقی اور ثقافتی حساسیت پر مبنی مارکیٹنگ کے اصولوں کو بھی برقرار رکھیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ صرف معلومات فراہم کرنے والے ہونے کے بجائے، لیکچررز اب زیادہ سے زیادہ مینٹور ، معاون  اور رہنما  کا کردار ادا کریں گے۔ چونکہ اے آئی بہت تیزی سے معلومات فراہم کر سکتی ہے، اس لیے تعلیم کی اصل اہمیت تخلیقی صلاحیت، درست فیصلہ سازی، اسٹریٹجک سوچ  اور اخلاقی شعور پیدا کرنے میں ہوگی۔ یہ انسانی صلاحیتیں اس وقت بھی ناگزیر رہیں گی جب ٹیکنالوجی مزید ترقی یافتہ ہو جائے گی۔</p>
<p>آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، سیکھنے کے عمل اور پیشہ ورانہ مشق میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔ کامیابی کے لیے ایسا متوازن طریقۂ کار درکار ہوگا جو ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت، اخلاقیات اور تجزیاتی سوچ کو یکجا کرے۔ وہ تعلیمی ادارے جو مضبوط علمی بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان تبدیلیوں کو اپنائیں گے، وہ مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو ایک ایسے دنیا کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکیں گے جو تیزی سے زیادہ ذہین، ڈیٹا پر مبنی اور اے آئی پر مبنی بنتی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288019</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 13:20:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق خلیق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/28131751bf8b4a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/28131751bf8b4a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرسبز پناہ گاہ سے کنکریٹ کے جنگل تک: شکرپڑیاں کی آہستہ آہستہ مٹتی شناخت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کا شکرپڑیاں، جو کبھی سرسبز و شاداب قدرتی مناظر سے مزین ایک وسیع و عریض خطہ تھا، شہری توسیع کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بتدریج سکڑتا جا رہا ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا حصہ سمجھے جانے والے اس جنگلاتی اور قدرتی علاقے کو وقت کے ساتھ مختلف اہم تنصیبات اور عمارتوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج اس علاقے میں پریڈ گراؤنڈ، پاک چین فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد کلب، گن اینڈ کنٹری کلب، لوک ورثہ، اوپن ایئر تھیٹر اور متعدد اعلیٰ معیار کے ہوٹل قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث شکرپڑیاں کی باقی ماندہ قدرتی خوبصورتی اور سبزہ بھی تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'  alt=' This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے خلاف مہم چلانے والے حسن خان کے مطابق، ایچ-8 میں ایکسپریس وے کے ساتھ واقع گرین بیلٹ کے ایک حصے میں یادگاری مقام کی تعمیر کے لیے مکمل نشوونما پانے والے درخت کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’چونکہ یہ مقام شکرپڑیاں کے اس پارک ایریا کے بالمقابل واقع ہے، اس لیے ان درختوں کی کٹائی نے شکرپڑیاں کی سرسبزی کو مزید متاثر کیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سرگرمی کے اثرات مقامی رہائشیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی علوم کی طالبہ صغریٰ سلیم، جو اکثر شام کے وقت اس علاقے میں چہل قدمی کرتی ہیں، کہتی ہیں، ’’اب اس علاقے سے گزرتے ہوئے نہ وہ ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے۔ اس کی جگہ اب شور، گردوغبار اور گرمی نے لے لی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) مختلف منصوبوں کے لیے ہزاروں درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کر چکی ہے، جہاں اکثر دفاعی اور رہائشی ترجیحات کو ماحولیاتی تحفظ پر فوقیت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد، جو کبھی جنوبی ایشیا کے سب سے سرسبز دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا، آج وہاں پرندوں کی آوازوں کی جگہ چین سا کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ماہرِ ماحولیات یوسف خان نے کہا، ’’شہر کے اہم علاقوں، خصوصاً شکرپڑیاں، چک شہزاد اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے منسلک سیکٹرز میں حالیہ بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں بالغ درخت کاٹے جا چکے ہیں، جن میں سے بعض کی کٹائی براہِ راست سڑکوں کی تعمیر اور ہاؤسنگ منصوبوں سے منسلک ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث کی گئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان سمیت ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ معاملہ محض الرجی پیدا کرنے والی اقسام کے درخت ہٹانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہری توسیع کے لیے زمین صاف کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سائنس دانوں اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اپنی سبز چادر کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی میں بگاڑ اور شہری علاقوں میں حدت کے بڑھتے ہوئے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شہر کا درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جس میں جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری درخت، جو موسم کے توازن، مٹی کے استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، جس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں، اسی رفتار سے ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جا رہے۔ کبھی نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ’’گارڈن سٹی‘‘ کے طور پر تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب تیزی سے کنکریٹ کے غلبے والے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے باسی آلودگی، شدید موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'  alt=' This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مشاہدات کے مطابق اگرچہ بعض درختوں کی کٹائی عوامی صحت کے پیشِ نظر پیپر ملبری کے درختوں کے انتظام سے متعلق ہے، تاہم سبزے کے نمایاں نقصان کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف زمین کی صفائی کے نتیجے میں بالترتیب تقریباً پانچ ہیکٹر اور 10 سے 15 ہیکٹر رقبے پر شہری درختوں اور نباتاتی ڈھانچے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے کے مقام پر بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے اور کھدائی کا عمل دیکھا گیا، جبکہ موقع پر دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایک یادگار کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل ارتھ کی مختلف ادوار کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر زمین صاف کرنے کا عمل مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ 2023 میں یہ رقبہ تقریباً ڈیڑھ ہیکٹر تھا جو 2025 تک بڑھ کر ساڑھے چھ ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ اس توسیع نے پہلے سے غیر متاثرہ زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہیکٹر ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تجزیے کے وقت کسی قسم کی شجرکاری یا سبزہ بحالی کے اقدامات دکھائی نہیں دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین صاف کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ماحول دوست منصوبہ بندی کے فقدان پر خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے ڈائریکٹر فاریسٹ محمد ابراہیم خان نے کہا، ’’انفراسٹرکچر سے متعلق کسی بھی منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے قبل قانون کے مطابق ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لیا جانا چاہیے، اس کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں اور ایسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے جس میں ماحولیاتی نقصان سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے کہا کہ شہر کی سبز چادر کی بحالی کے لیے اتھارٹی نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے 45 ہزار پودے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اسلام آباد میں تقریباً 30 ہزار بالغ درختوں کی کٹائی کے ازالے کے لیے شجرکاری کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’درخواست کیے گئے پودوں میں مقامی اقسام، مثلاً ارجن، کچنار، املتاس، جاکارانڈا، ٹیکوما، سریس اور پھلائی شامل ہیں تاکہ آئندہ شجرکاری مہم کے ذریعے شہر کی سبز رونق بحال کی جا سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق مسئلہ صرف شجرکاری کا نہیں، بلکہ اصل تشویش شفافیت کے فقدان سے متعلق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مشاورت اور کھلے پن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول، ڈبلیو ڈبلیو ایف خطوط اور رپورٹس کے ذریعے اپنی سفارشات متعلقہ حکام تک پہنچا چکی ہے، جن میں وفاقی دارالحکومت کی سبزہ زار شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کا شکرپڑیاں، جو کبھی سرسبز و شاداب قدرتی مناظر سے مزین ایک وسیع و عریض خطہ تھا، شہری توسیع کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بتدریج سکڑتا جا رہا ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا حصہ سمجھے جانے والے اس جنگلاتی اور قدرتی علاقے کو وقت کے ساتھ مختلف اہم تنصیبات اور عمارتوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آج اس علاقے میں پریڈ گراؤنڈ، پاک چین فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد کلب، گن اینڈ کنٹری کلب، لوک ورثہ، اوپن ایئر تھیٹر اور متعدد اعلیٰ معیار کے ہوٹل قائم ہیں۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث شکرپڑیاں کی باقی ماندہ قدرتی خوبصورتی اور سبزہ بھی تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'  alt=' This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)</figcaption>
    </figure>
<p>اس اقدام کے خلاف مہم چلانے والے حسن خان کے مطابق، ایچ-8 میں ایکسپریس وے کے ساتھ واقع گرین بیلٹ کے ایک حصے میں یادگاری مقام کی تعمیر کے لیے مکمل نشوونما پانے والے درخت کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’چونکہ یہ مقام شکرپڑیاں کے اس پارک ایریا کے بالمقابل واقع ہے، اس لیے ان درختوں کی کٹائی نے شکرپڑیاں کی سرسبزی کو مزید متاثر کیا ہے۔‘‘</p>
<p>اس سرگرمی کے اثرات مقامی رہائشیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہو رہے ہیں۔</p>
<p>طبی علوم کی طالبہ صغریٰ سلیم، جو اکثر شام کے وقت اس علاقے میں چہل قدمی کرتی ہیں، کہتی ہیں، ’’اب اس علاقے سے گزرتے ہوئے نہ وہ ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے۔ اس کی جگہ اب شور، گردوغبار اور گرمی نے لے لی ہے۔‘‘</p>
<p>کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) مختلف منصوبوں کے لیے ہزاروں درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کر چکی ہے، جہاں اکثر دفاعی اور رہائشی ترجیحات کو ماحولیاتی تحفظ پر فوقیت دی جاتی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد، جو کبھی جنوبی ایشیا کے سب سے سرسبز دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا، آج وہاں پرندوں کی آوازوں کی جگہ چین سا کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ماہرِ ماحولیات یوسف خان نے کہا، ’’شہر کے اہم علاقوں، خصوصاً شکرپڑیاں، چک شہزاد اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے منسلک سیکٹرز میں حالیہ بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے۔‘‘</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں بالغ درخت کاٹے جا چکے ہیں، جن میں سے بعض کی کٹائی براہِ راست سڑکوں کی تعمیر اور ہاؤسنگ منصوبوں سے منسلک ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث کی گئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان سمیت ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ معاملہ محض الرجی پیدا کرنے والی اقسام کے درخت ہٹانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہری توسیع کے لیے زمین صاف کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سائنس دانوں اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اپنی سبز چادر کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی میں بگاڑ اور شہری علاقوں میں حدت کے بڑھتے ہوئے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شہر کا درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جس میں جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>شہری درخت، جو موسم کے توازن، مٹی کے استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، جس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں، اسی رفتار سے ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جا رہے۔ کبھی نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ’’گارڈن سٹی‘‘ کے طور پر تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب تیزی سے کنکریٹ کے غلبے والے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے باسی آلودگی، شدید موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'  alt=' This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)</figcaption>
    </figure>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مشاہدات کے مطابق اگرچہ بعض درختوں کی کٹائی عوامی صحت کے پیشِ نظر پیپر ملبری کے درختوں کے انتظام سے متعلق ہے، تاہم سبزے کے نمایاں نقصان کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف زمین کی صفائی کے نتیجے میں بالترتیب تقریباً پانچ ہیکٹر اور 10 سے 15 ہیکٹر رقبے پر شہری درختوں اور نباتاتی ڈھانچے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے کے مقام پر بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے اور کھدائی کا عمل دیکھا گیا، جبکہ موقع پر دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایک یادگار کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔</p>
<p>گوگل ارتھ کی مختلف ادوار کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر زمین صاف کرنے کا عمل مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ 2023 میں یہ رقبہ تقریباً ڈیڑھ ہیکٹر تھا جو 2025 تک بڑھ کر ساڑھے چھ ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ اس توسیع نے پہلے سے غیر متاثرہ زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہیکٹر ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تجزیے کے وقت کسی قسم کی شجرکاری یا سبزہ بحالی کے اقدامات دکھائی نہیں دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین صاف کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ماحول دوست منصوبہ بندی کے فقدان پر خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے ڈائریکٹر فاریسٹ محمد ابراہیم خان نے کہا، ’’انفراسٹرکچر سے متعلق کسی بھی منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے قبل قانون کے مطابق ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لیا جانا چاہیے، اس کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں اور ایسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے جس میں ماحولیاتی نقصان سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے۔‘‘</p>
<p>سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے کہا کہ شہر کی سبز چادر کی بحالی کے لیے اتھارٹی نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے 45 ہزار پودے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اسلام آباد میں تقریباً 30 ہزار بالغ درختوں کی کٹائی کے ازالے کے لیے شجرکاری کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’درخواست کیے گئے پودوں میں مقامی اقسام، مثلاً ارجن، کچنار، املتاس، جاکارانڈا، ٹیکوما، سریس اور پھلائی شامل ہیں تاکہ آئندہ شجرکاری مہم کے ذریعے شہر کی سبز رونق بحال کی جا سکے۔‘‘</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق مسئلہ صرف شجرکاری کا نہیں، بلکہ اصل تشویش شفافیت کے فقدان سے متعلق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مشاورت اور کھلے پن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول، ڈبلیو ڈبلیو ایف خطوط اور رپورٹس کے ذریعے اپنی سفارشات متعلقہ حکام تک پہنچا چکی ہے، جن میں وفاقی دارالحکومت کی سبزہ زار شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔</p>
<p>نوٹ: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287925</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:08:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اعظم شام)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24225149c77e2bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24225149c77e2bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیٹ بندش سے ڈیجٹیل معیشت کی تباہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287651/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیلیوری رائیڈر دانش عبدالرازق  مئی 2023 میں شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار تھے۔ نہ صرف انہوں نے چار دن میں 8,000 روپے سے زائد کھو دیے بلکہ اپنے بچوں، بیوی اور والدہ کو بھوکا سوتے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیکیا کے 32 سالہ ملازم  جو ایک پاکستانی رائیڈ ہیلنگ سروس اور پارسل ڈیلیوری کمپنی ہے - کا انحصار موبائل انٹرنیٹ پر ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آرڈرز کی لوکیشن حاصل اور ٹریک کر سکے۔ لیکن جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لیے ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں تو ان کا کام مکمل طور پر رک گیا۔ ٹوئٹر، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسی سائٹس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ تک رسائی چار دن بعد بحال ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانش کہتے ہیں کہ گھر میں حالات تیزی سے خراب ہو گئے، تصور کریں آپ اپنی ملازمت پر جا رہے ہیں اور ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ گھر میں کھانا نہیں ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور مزید بتاتے ہیں کہ ان کی روزانہ کی آمدنی ان کے خاندان کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی ہے جس میں ان کی بیوی، والدہ اور دو بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ 10 وی پی این کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں انٹرنیٹ بندشوں کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا جو 1.62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی رپورٹ کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز میں آرڈرز کی تعداد میں 75 فیصد کمی جبکہ آن لائن ٹیکسی سروسز میں 97 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;29 سالہ سوہا یاسین سوویئرز کی بانی ہیں، جو پاکستان اور یو اے ای میں کام کرنے والا ایک معروف کپڑوں کا برانڈ ہے۔ 2018 سے یہ برانڈ غیر معمولی ترقی کر چکا ہے اور تیزی سے مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ اس کے آٹھ ریٹیل آؤٹ لیٹس ہیں اور انسٹاگرام و فیس بک پر مجموعی طور پر 831,000 فالوورز ہیں۔ تاہم بار بار انٹرنیٹ کی بندش اس کی مسلسل کامیابی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ بندش کے دوران، فیس بک اور گوگل اشتہارات میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود، سوویئرز کے آن لائن آرڈرز میں 20 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ سوہا کہتی ہیں کہ ایک دن میں آرڈرز کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پورے دن کا منافع اچانک غائب ہو جاتا ہے (بندش کے دوران)۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش دل توڑ دینے والی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اشتہارات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں اور ڈیلیوری سروسز بند ہونے سے آرڈرز میں تاخیر بھی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر کاروباروں میں بھی مالی نقصان کی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ نوفل خان سوگ کیکس کے بانی، جو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا آن لائن پلیٹ فارم ہے، انٹرنیٹ بندش کو اپنا سب سے بڑا خوف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر صارفین ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو انتہائی سست انٹرنیٹ رفتار کی وجہ سے وہ خریداری مکمل کرنے سے پہلے ہی لاگ آؤٹ کر دیتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ 8 سیکنڈ میں لوڈ ہو رہی تھی، جبکہ عام طور پر یہ 1.5 سیکنڈ میں مکمل لوڈ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ اس سے صارف کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ بند کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ملک کو انٹرنیٹ پابندیوں کے نفاذ کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 2025 میں 20 سے زائد انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز رپورٹ ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے طویل انٹرنیٹ بندش پاکستان میں ہوئی جہاں سابق فاٹا کے 45 لاکھ افراد کو 2016 سے 2021 تک تقریباً چار سال تک انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ڈیجیٹل عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا رکاوٹ ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جو فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا کہ ان کی رقم ایسے کاروباروں میں لگ رہی ہے جو کسی بھی وقت… ایسی چیز سے متاثر ہو سکتے ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں اور جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے تھی، یہ ایک بڑا صدمہ تھا، سینن ڈی سوزا، کو-فاؤنڈر انویسٹرز لاؤنج کہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کم کرتے ہیں، جو کہ ایک ابھرتے ہوئے نظام کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کاروبار مستقبل میں انٹرنیٹ بندشوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض دنوں میں جب انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی ہوتی ہے، نوفل اور سوہا سوشل میڈیا اشتہارات کے اخراجات کم یا بند کر دیتے ہیں۔ اس نے سوہا کو اپنے برانڈ کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلانے اور پاکستان پر مکمل انحصار کم کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوہا کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے کاروبار کے لیے بہترین بات یہ ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بڑھائیں اور ایک ہی ذریعہ یعنی پاکستان پر انحصار نہ کریں۔ برانڈ کے 20 فیصد آرڈرز بین الاقوامی مارکیٹس سے آتے ہیں اور سوہا عالمی موجودگی کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دنیا کی ٹاپ پانچ فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے جہاں 3 ملین سے زائد فری لانسرز موجود ہیں۔ اگرچہ حکومت نے فری لانسرز کے لیے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں، لیکن یہ کوششیں بے معنی ہو جاتی ہیں اگر انٹرنیٹ ہی موجود نہ ہو، جو آن لائن کام کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے فائیور  نے عارضی طور پر پاکستانی فری لانسرز کو گیگز تک رسائی سے روک دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینن کہتے ہیں یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ صرف وہ معاہدہ نہیں جسے میں کھو رہا ہوں، میں مستقبل کا کام بھی کھو رہا ہوں کیونکہ کلائنٹ یہ کہے گا کہ آپ ایک ناقابلِ اعتماد سپلائر ہیں، حالانکہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ میرے اختیار میں نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ تک رسائی ایک ضرورت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی کمی بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے: ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، جیسے فوڈ ڈیلیوری، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر بنیادی کام، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے باعث رویوں میں تبدیلی کو سالوں لگتے ہیں۔ بار بار انٹرنیٹ بندش کے پیش نظر راتوں رات تبدیلی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینن کہتے ہیں لوگوں نے اپنی زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں اس مفروضے پر کی ہیں کہ انٹرنیٹ کبھی متاثر نہیں ہوگا۔ راستوں اور نشانیوں کو یاد رکھنے پر انحصار کم ہو گیا ہے کیونکہ آپ گوگل میپس استعمال کر سکتے ہیں۔ اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں بغیر نقشے کے کسی جگہ پہنچوں، تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ کئی مہینوں سے میں نے یہ عمل گوگل میپس کے سپرد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیلیوری رائیڈر دانش عبدالرازق  مئی 2023 میں شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار تھے۔ نہ صرف انہوں نے چار دن میں 8,000 روپے سے زائد کھو دیے بلکہ اپنے بچوں، بیوی اور والدہ کو بھوکا سوتے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔</strong></p>
<p>بائیکیا کے 32 سالہ ملازم  جو ایک پاکستانی رائیڈ ہیلنگ سروس اور پارسل ڈیلیوری کمپنی ہے - کا انحصار موبائل انٹرنیٹ پر ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آرڈرز کی لوکیشن حاصل اور ٹریک کر سکے۔ لیکن جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لیے ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں تو ان کا کام مکمل طور پر رک گیا۔ ٹوئٹر، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسی سائٹس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ تک رسائی چار دن بعد بحال ہوئی۔</p>
<p>دانش کہتے ہیں کہ گھر میں حالات تیزی سے خراب ہو گئے، تصور کریں آپ اپنی ملازمت پر جا رہے ہیں اور ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ گھر میں کھانا نہیں ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور مزید بتاتے ہیں کہ ان کی روزانہ کی آمدنی ان کے خاندان کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی ہے جس میں ان کی بیوی، والدہ اور دو بچے شامل ہیں۔</p>
<p>ٹاپ 10 وی پی این کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں انٹرنیٹ بندشوں کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا جو 1.62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی رپورٹ کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز میں آرڈرز کی تعداد میں 75 فیصد کمی جبکہ آن لائن ٹیکسی سروسز میں 97 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔</p>
<p>29 سالہ سوہا یاسین سوویئرز کی بانی ہیں، جو پاکستان اور یو اے ای میں کام کرنے والا ایک معروف کپڑوں کا برانڈ ہے۔ 2018 سے یہ برانڈ غیر معمولی ترقی کر چکا ہے اور تیزی سے مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ اس کے آٹھ ریٹیل آؤٹ لیٹس ہیں اور انسٹاگرام و فیس بک پر مجموعی طور پر 831,000 فالوورز ہیں۔ تاہم بار بار انٹرنیٹ کی بندش اس کی مسلسل کامیابی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>انٹرنیٹ بندش کے دوران، فیس بک اور گوگل اشتہارات میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود، سوویئرز کے آن لائن آرڈرز میں 20 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ سوہا کہتی ہیں کہ ایک دن میں آرڈرز کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پورے دن کا منافع اچانک غائب ہو جاتا ہے (بندش کے دوران)۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش دل توڑ دینے والی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اشتہارات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں اور ڈیلیوری سروسز بند ہونے سے آرڈرز میں تاخیر بھی ہوتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح دیگر کاروباروں میں بھی مالی نقصان کی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ نوفل خان سوگ کیکس کے بانی، جو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا آن لائن پلیٹ فارم ہے، انٹرنیٹ بندش کو اپنا سب سے بڑا خوف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر صارفین ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو انتہائی سست انٹرنیٹ رفتار کی وجہ سے وہ خریداری مکمل کرنے سے پہلے ہی لاگ آؤٹ کر دیتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ 8 سیکنڈ میں لوڈ ہو رہی تھی، جبکہ عام طور پر یہ 1.5 سیکنڈ میں مکمل لوڈ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ اس سے صارف کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ بند کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ملک کو انٹرنیٹ پابندیوں کے نفاذ کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 2025 میں 20 سے زائد انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز رپورٹ ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے طویل انٹرنیٹ بندش پاکستان میں ہوئی جہاں سابق فاٹا کے 45 لاکھ افراد کو 2016 سے 2021 تک تقریباً چار سال تک انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پاکستان میں ڈیجیٹل عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا رکاوٹ ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جو فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا کہ ان کی رقم ایسے کاروباروں میں لگ رہی ہے جو کسی بھی وقت… ایسی چیز سے متاثر ہو سکتے ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں اور جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے تھی، یہ ایک بڑا صدمہ تھا، سینن ڈی سوزا، کو-فاؤنڈر انویسٹرز لاؤنج کہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کم کرتے ہیں، جو کہ ایک ابھرتے ہوئے نظام کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔</p>
<p>پاکستانی کاروبار مستقبل میں انٹرنیٹ بندشوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض دنوں میں جب انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی ہوتی ہے، نوفل اور سوہا سوشل میڈیا اشتہارات کے اخراجات کم یا بند کر دیتے ہیں۔ اس نے سوہا کو اپنے برانڈ کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلانے اور پاکستان پر مکمل انحصار کم کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔</p>
<p>سوہا کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے کاروبار کے لیے بہترین بات یہ ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بڑھائیں اور ایک ہی ذریعہ یعنی پاکستان پر انحصار نہ کریں۔ برانڈ کے 20 فیصد آرڈرز بین الاقوامی مارکیٹس سے آتے ہیں اور سوہا عالمی موجودگی کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان دنیا کی ٹاپ پانچ فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے جہاں 3 ملین سے زائد فری لانسرز موجود ہیں۔ اگرچہ حکومت نے فری لانسرز کے لیے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں، لیکن یہ کوششیں بے معنی ہو جاتی ہیں اگر انٹرنیٹ ہی موجود نہ ہو، جو آن لائن کام کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے فائیور  نے عارضی طور پر پاکستانی فری لانسرز کو گیگز تک رسائی سے روک دیا تھا۔</p>
<p>سینن کہتے ہیں یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ صرف وہ معاہدہ نہیں جسے میں کھو رہا ہوں، میں مستقبل کا کام بھی کھو رہا ہوں کیونکہ کلائنٹ یہ کہے گا کہ آپ ایک ناقابلِ اعتماد سپلائر ہیں، حالانکہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ میرے اختیار میں نہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ تک رسائی ایک ضرورت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی کمی بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے: ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، جیسے فوڈ ڈیلیوری، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر بنیادی کام، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے باعث رویوں میں تبدیلی کو سالوں لگتے ہیں۔ بار بار انٹرنیٹ بندش کے پیش نظر راتوں رات تبدیلی ممکن نہیں۔</p>
<p>سینن کہتے ہیں لوگوں نے اپنی زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں اس مفروضے پر کی ہیں کہ انٹرنیٹ کبھی متاثر نہیں ہوگا۔ راستوں اور نشانیوں کو یاد رکھنے پر انحصار کم ہو گیا ہے کیونکہ آپ گوگل میپس استعمال کر سکتے ہیں۔ اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں بغیر نقشے کے کسی جگہ پہنچوں، تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ کئی مہینوں سے میں نے یہ عمل گوگل میپس کے سپرد کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287651</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 12:16:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جویریہ خالد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18121300f130814.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18121300f130814.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تندرستی کی راہ میں فزیو تھراپسٹس کا بڑھتا ہوا کلیدی کردار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287513/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جدید طبی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مریضوں کا علاج اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے چونکا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والی کل اموات میں سے 74 فیصد اموات دل کے عارضے، شوگر، کینسر اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں جیسے غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بوڑھی ہوتی آبادی، حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور علاج کے بدلتے تقاضوں نے اب ایک ایسے مربوط نظام کو ناگزیر بنا دیا ہے جہاں پورا طبی عمل صرف بیماری کے بجائے براہِ راست مریض کی ذات پر توجہ مرکوز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں، ہڈیوں، پٹھوں کے مسائل، فالج کے باعث پیدا ہونے والی معذوریوں اور سڑک کے حادثات میں لگنے والی چوٹوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے کثیر الشعبہ بحالیِ صحت (ملٹی ڈسپلینری ری ہیبلی ٹیشن) کی خدمات کی طلب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں صحت کے نظام اب علاج کے روایتی اور الگ تھلگ طریقوں کو چھوڑ کر باہمی تعاون پر مبنی طریقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں مریضوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد ماہرین مل کر کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی نے کثیر الشعبہ طبی ٹیموں کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین جامع علاج فراہم کرنے کے لیے اپنے علم اور مہارتوں کو یکجا کرتے ہیں۔ ان ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس ایسے مددگار بن کر ابھرے ہیں جن کا کردار روایتی بحالیِ صحت سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آج وہ تشخیصی عمل، بیماریوں سے بچاؤ، علاج کی منصوبہ بندی، صحت یابی اور صحت کے وسیع تر مسائل کے طویل مدتی انتظام میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی طبی شعبے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو جدید طب کے متعدد شعبوں میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ایک کثیر الشعبہ طبی ٹیم عام طور پر ڈاکٹروں، نرسوں، فزیو تھراپسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ غذائیت، فارماسسٹس اور سوشل ورکرز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر پیشہ ور اپنے شعبے کی مخصوص مہارت لاتا ہے لیکن اس ٹیم کی اصل طاقت باہمی تعاون میں پنہاں ہے۔ الگ الگ کام کرنے کے بجائے ٹیم کے ارکان باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اقدامات میں ہم آہنگی لاتے ہیں اور مشترکہ اہداف کا تعین کرتے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مریضوں کو ہمہ جہت اور مؤثر دیکھ بھال ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اشتراک پر مبنی ماڈل کے فوائد فالج کی بحالی کے عمل میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ فالج سے صحت یاب ہونے والے مریض کو نیورولوجسٹ کی طبی نگرانی، نرسنگ عملے کی مسلسل مانیٹرنگ، حرکت اور نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے فزیو تھراپی، روزمرہ کی سرگرمیاں دوبارہ سیکھنے کے لیے آکیوپیشنل تھراپی، بول چال کو بہتر بنانے کے لیے اسپیچ تھراپی اور جذباتی مسائل سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مربوط ٹیم ورک کے ذریعے صحت یابی کے ہر پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بہترین نتائج برآمد ہوتے  اور مریضوں میں خود انحصاری بڑھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر الشعبہ ٹیموں میں فزیو تھراپسٹس کا کردار گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کافی وسیع ہوا ہے۔ روایتی طور پر چوٹوں سے نجات اور جسمانی بحالی سے منسوب کی جانے والی فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی شعبہ بن چکی ہے جو جدید طب کے کئی میدانوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ فزیو تھراپسٹس اب اسپتالوں کی شدید نگہداشت، آرتھوپیڈکس (ہڈیوں کے امراض)، اعصابی بحالی، اسپورٹس میڈیسن، انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو)، درد کے انتظام کی خدمات، کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں، عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال اور دائمی بیماریوں کے علاج میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی مہارتوں میں حرکات و سکنات کا تجزیہ، افعال کا جائزہ، ورزش کی تجویز، مینوئل تھراپی (جسمانی چھیڑ چھاڑ)، بحالی کی منصوبہ بندی، درد کا انتظام اور مریضوں کی آگاہی شامل ہے۔ یہ وسیع دائرہ کار انہیں تشخیص یا چوٹ کے پہلے لمحے سے لے کر صحت یابی اور صحت کے طویل مدتی تحفظ تک علاج کے تمام مراحل میں مریضوں کی مدد کرنے کے قابل بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر الشعبہ ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس کا ایک اہم ترین تعاون باہمی اشتراک کے ذریعے مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ مؤثر ٹیم ورک علاج کے ایسے منصوبے تیار کرتا ہے جو زیادہ منظم، ذاتی نوعیت کے اور مریض کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں۔ فزیو تھراپسٹس اکثر طبی تشخیص اور جسمانی افعال کی بحالی کے درمیان ایک کڑی کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر آرتھوپیڈک آپریشنز جیسے کہ گھٹنے یا چولہے کی تبدیلی کی سرجری کے بعد سرجن ساختی مسئلے کو حل کرتے ہیں جبکہ فزیو تھراپسٹ بحالی کے عمل کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ مریضوں کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے، نقل و حرکت کو بہتر بنانے، توازن بحال کرنے اور چلنے پھرنے میں اعتماد بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مریض کی ترقی کی قریبی نگرانی کرکے اور اس کے مطابق علاج کے منصوبوں میں تبدیلی کر کے فزیو تھراپسٹ صحت یابی کو تیز تر بناتے اور پچیدگیوں کو کم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بھی اس اشتراک پر مبنی طریقہ کار کی افادیت کی تائید کرتی ہے۔ بین الاقوامی بحالیِ صحت کے لٹریچر میں شائع ہونے والے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کثیر الشعبہ بحالی سے افعال بہتر ہوتے ہیں، معذوری میں کمی آتی  اور فالج یا دیگر معذور کرنے والے امراض سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا ری ہیبلی ٹیشن 2023  اقدام عالمی سطح پر معذوری کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے صحت کے نظام میں بحالی کی خدمات کو ضم کرنے پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائمی بیماریوں کے انتظام میں فزیو تھراپی کی اہمیت بالکل واضح ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ذیابیطس، موٹاپا، گٹھیا، دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے دائمی امراض جیسی حالتوں کے لیے قلیل مدتی علاج کے بجائے طویل مدتی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ فزیو تھراپسٹس سائنسی شواہد پر مبنی ورزش کے ایسے پروگرام تیار کرکے اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو جسمانی تندرستی کو بہتر بناتے، علامات کو کم کرتے اور زندگی کے مجموعی معیار کو بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گٹھیا کے مریض مخصوص ورزشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو جوڑوں کی جکڑن کو کم کرتی، نقل و حرکت کو بہتر بناتی  اور ان کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتی ہیں۔ اسی طرح دل کے امراض میں مبتلا افراد فزیو تھراپسٹس کی نگرانی میں تیار کردہ کارڈیک ری ہیبلیٹیشن پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں، جو قلبی صحت کو بہتر بنانے اور مستقبل کی پچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور ماہرینِ غذائیت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے فزیو تھراپسٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ علاج صرف ادویات تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں لائف اسٹائل کی تبدیلی اور جسمانی سرگرمیاں بھی شامل ہوں، جو کہ طویل مدتی امراض کے انتظام کے بنیادی عناصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعصابی بحالی ایک اور ایسا شعبہ ہے جہاں فزیو تھراپسٹس ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں، پارکنسنز (کپکپاہٹ کا مرض)، ملٹی پل اسکلیروسیس یا دماغی چوٹوں سے متاثرہ مریضوں کو اکثر شدید جسمانی اور فعالیاتی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فزیو تھراپسٹس حرکت، ہم آہنگی، توازن، طاقت اور خود انحصاری کو بہتر بنانے کے لیے شواہد پر مبنی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بار بار ٹاسک ٹریننگ، نیوروپلاسٹیسی پر مبنی طریقوں اور منظم ورزش کے پروگراموں کے ذریعے، وہ مریضوں کو کھوئے ہوئے افعال دوبارہ حاصل کرنے اور نئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ اعصابی بحالی کا انحصار زیادہ تر ٹیم ورک پر ہوتا ہے۔ فزیو تھراپسٹ اعصابی کیفیات کے جسمانی اور ذہنی دونوں اثرات سے نمٹنے کے لیے نیورولوجسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات اور نرسنگ عملے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ مربوط طریقہ کار صحت یابی کو بہتر بناتا اور مریضوں کو زیادہ سے زیادہ خود انحصاری حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپورٹس میڈیسن ایک اور شعبہ ہے جس میں فزیو تھراپسٹس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جدید دور کے کھلاڑیوں کو ایسی مخصوص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف چوٹ کے علاج بلکہ چوٹوں سے بچاؤ اور کارکردگی بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ اسپورٹس میڈیسن میں کام کرنے والے فزیو تھراپسٹ اسپورٹس ڈاکٹروں، کوچز، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کے ماہرین، ماہرینِ غذائیت اور ماہرینِ نفسیات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں چوٹ کا جائزہ، بحالی کی منصوبہ بندی، کھیل میں واپسی کا ٹیسٹ، کارکردگی کو بہترین بنانا اور چوٹ سے بچاؤ کے لیے ورزش کے پروگرام تیار کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھر میں جیسے جیسے پیشہ ورانہ اور شوقیہ کھیلوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، اسپورٹس فزیو تھراپی کی خدمات کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھلاڑی اب طویل مدتی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ چوٹ لگنے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی بحالی اور چوٹ سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فزیو تھراپی کی ترقی کو فروغ دینے والا ایک اور عنصر شواہد پر مبنی پریکٹس پر بڑھتا ہوا زور ہے۔ جدید فزیو تھراپسٹس علاج کے فیصلوں کے لیے سائنسی تحقیق اور کلینیکل گائیڈ لائنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار یقینی بناتا ہے کہ کیے جانے والے اقدامات محفوظ، مؤثر اور موجودہ بہترین طریقوں کے مطابق ہوں۔ بہت سے فزیو تھراپسٹ تحقیق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، علمی اشاعتوں میں اپنا حصہ ڈالتے اور ری ہیبلیٹیشن سائنس کو آگے بڑھانے کے لیے یونیورسٹیوں اور طبی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی گائیڈ لائنز بھی کثیر الشعبہ دیکھ بھال میں فزیو تھراپی کے کردار کی تائید کرتی ہیں۔ برطانیہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (این آئی سی آئی) اور ڈبلیو ایچ او دونوں ہی ورزش کے ذریعے علاج، بحالیِ صحت اور مریض مرکز کثیر الشعبہ انتظام کو کئی دائمی اور معذور کرنے والے امراض کے لیے علاج کا ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سفارشات جدید نظامِ صحت میں فزیو تھراپسٹس کے بطور کلیدی مددگار بڑھتے ہوئے اعتراف کو تقویت دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریضوں کی تعلیم و آگاہی بھی فزیو تھراپی کی پریکٹس کا ایک بنیادی ستون ہے۔ فزیو تھراپسٹس لوگوں کو اٹھنے بیٹھنے کے درست انداز، ارگونومکس، ورزش، چوٹ سے بچاؤ، کام کی جگہ پر صحت اور صحت مند طرزِ زندگی کی عادات کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں۔ مریضوں کو علم اور عملی مہارتوں سے بااختیار بنا کر وہ مستقبل میں چوٹوں کے خطرے کو کم کرنے اور طویل مدتی فلاح و بہبود میں مدد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کام کے مقامات، اسکولوں اور کمیونٹی سیٹنگز میں حفاظتی یا بچاؤ کی فزیو تھراپی بھی تیزی سے اہم ہو رہی ہے۔ ابتدائی طبی مداخلت کے پروگرام علاج کے اخراجات کو کم کر سکتے، معذوری کو کم سے کم  اور زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں  جہاں صحت کے وسائل اکثر محدود ہوتے ہیں، بیماریوں سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں میں عوامی صحت کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی بھی اس پیشے کو بدل رہی ہے۔ ڈیجیٹل اسیسمنٹ ٹولز، ٹیلی ری ہیبلیٹیشن (دور بیٹھ کر بحالی) کی خدمات، پہننے کے قابل مانیٹرنگ ڈیوائسز، موشن انالیسس سسٹمز اور ورچوئل رئیلٹی پر مبنی بحالی کے پروگرام اب عام ہو رہے ہیں۔ یہ ایجادات فزیو تھراپسٹس کو زیادہ درست، قابلِ رسائی اور ذاتی نوعیت کا علاج فراہم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ خاص طور پر ٹیلی ری ہیبلیٹیشن پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ان خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے شاندار مواقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام جدید ترقیوں کے باوجود فزیو تھراپی میں انسانی عنصر کا کوئی نعم البدل نہیں۔اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی دیکھ بھال، کلینیکل فیصلہ سازی، بات چیت، ہمدردی اور مریض کی حوصلہ افزائی اب بھی کامیاب بحالی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی علاج کی فراہمی کو بہتر تو بنا سکتی  ہے لیکن یہ فزیو تھراپسٹ اور مریض کے درمیان شفا بخش تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائمی بیماریوں، معذوری اور چوٹوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا سامنا کرنے والی اس دنیا میں فزیو تھراپی کی اہمیت مسلسل بڑھتی رہے گی۔ سائنسی علم، عملی مہارتوں اور انسانی ہمدردی کو یکجا کر کے فزیو تھراپسٹ صحت کے ایک ایسے مستقبل کو تشکیل دینے میں مدد کر رہے ہیں جو زیادہ مربوط اور مؤثر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جدید طبی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مریضوں کا علاج اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے چونکا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والی کل اموات میں سے 74 فیصد اموات دل کے عارضے، شوگر، کینسر اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں جیسے غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔</strong></p>
<p>دوسری جانب بوڑھی ہوتی آبادی، حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور علاج کے بدلتے تقاضوں نے اب ایک ایسے مربوط نظام کو ناگزیر بنا دیا ہے جہاں پورا طبی عمل صرف بیماری کے بجائے براہِ راست مریض کی ذات پر توجہ مرکوز کرے۔</p>
<p>پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں، ہڈیوں، پٹھوں کے مسائل، فالج کے باعث پیدا ہونے والی معذوریوں اور سڑک کے حادثات میں لگنے والی چوٹوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے کثیر الشعبہ بحالیِ صحت (ملٹی ڈسپلینری ری ہیبلی ٹیشن) کی خدمات کی طلب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں صحت کے نظام اب علاج کے روایتی اور الگ تھلگ طریقوں کو چھوڑ کر باہمی تعاون پر مبنی طریقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں مریضوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد ماہرین مل کر کام کرتے ہیں۔</p>
<p>اس تبدیلی نے کثیر الشعبہ طبی ٹیموں کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین جامع علاج فراہم کرنے کے لیے اپنے علم اور مہارتوں کو یکجا کرتے ہیں۔ ان ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس ایسے مددگار بن کر ابھرے ہیں جن کا کردار روایتی بحالیِ صحت سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آج وہ تشخیصی عمل، بیماریوں سے بچاؤ، علاج کی منصوبہ بندی، صحت یابی اور صحت کے وسیع تر مسائل کے طویل مدتی انتظام میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی طبی شعبے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو جدید طب کے متعدد شعبوں میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ایک کثیر الشعبہ طبی ٹیم عام طور پر ڈاکٹروں، نرسوں، فزیو تھراپسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ غذائیت، فارماسسٹس اور سوشل ورکرز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر پیشہ ور اپنے شعبے کی مخصوص مہارت لاتا ہے لیکن اس ٹیم کی اصل طاقت باہمی تعاون میں پنہاں ہے۔ الگ الگ کام کرنے کے بجائے ٹیم کے ارکان باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اقدامات میں ہم آہنگی لاتے ہیں اور مشترکہ اہداف کا تعین کرتے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مریضوں کو ہمہ جہت اور مؤثر دیکھ بھال ملے۔</p>
<p>اس اشتراک پر مبنی ماڈل کے فوائد فالج کی بحالی کے عمل میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ فالج سے صحت یاب ہونے والے مریض کو نیورولوجسٹ کی طبی نگرانی، نرسنگ عملے کی مسلسل مانیٹرنگ، حرکت اور نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے فزیو تھراپی، روزمرہ کی سرگرمیاں دوبارہ سیکھنے کے لیے آکیوپیشنل تھراپی، بول چال کو بہتر بنانے کے لیے اسپیچ تھراپی اور جذباتی مسائل سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مربوط ٹیم ورک کے ذریعے صحت یابی کے ہر پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بہترین نتائج برآمد ہوتے  اور مریضوں میں خود انحصاری بڑھتی ہے۔</p>
<p>کثیر الشعبہ ٹیموں میں فزیو تھراپسٹس کا کردار گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کافی وسیع ہوا ہے۔ روایتی طور پر چوٹوں سے نجات اور جسمانی بحالی سے منسوب کی جانے والی فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی شعبہ بن چکی ہے جو جدید طب کے کئی میدانوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ فزیو تھراپسٹس اب اسپتالوں کی شدید نگہداشت، آرتھوپیڈکس (ہڈیوں کے امراض)، اعصابی بحالی، اسپورٹس میڈیسن، انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو)، درد کے انتظام کی خدمات، کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں، عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال اور دائمی بیماریوں کے علاج میں شامل ہیں۔</p>
<p>ان کی مہارتوں میں حرکات و سکنات کا تجزیہ، افعال کا جائزہ، ورزش کی تجویز، مینوئل تھراپی (جسمانی چھیڑ چھاڑ)، بحالی کی منصوبہ بندی، درد کا انتظام اور مریضوں کی آگاہی شامل ہے۔ یہ وسیع دائرہ کار انہیں تشخیص یا چوٹ کے پہلے لمحے سے لے کر صحت یابی اور صحت کے طویل مدتی تحفظ تک علاج کے تمام مراحل میں مریضوں کی مدد کرنے کے قابل بناتا ہے۔</p>
<p>کثیر الشعبہ ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس کا ایک اہم ترین تعاون باہمی اشتراک کے ذریعے مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ مؤثر ٹیم ورک علاج کے ایسے منصوبے تیار کرتا ہے جو زیادہ منظم، ذاتی نوعیت کے اور مریض کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں۔ فزیو تھراپسٹس اکثر طبی تشخیص اور جسمانی افعال کی بحالی کے درمیان ایک کڑی کا کام کرتے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر آرتھوپیڈک آپریشنز جیسے کہ گھٹنے یا چولہے کی تبدیلی کی سرجری کے بعد سرجن ساختی مسئلے کو حل کرتے ہیں جبکہ فزیو تھراپسٹ بحالی کے عمل کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ مریضوں کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے، نقل و حرکت کو بہتر بنانے، توازن بحال کرنے اور چلنے پھرنے میں اعتماد بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مریض کی ترقی کی قریبی نگرانی کرکے اور اس کے مطابق علاج کے منصوبوں میں تبدیلی کر کے فزیو تھراپسٹ صحت یابی کو تیز تر بناتے اور پچیدگیوں کو کم کرتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق بھی اس اشتراک پر مبنی طریقہ کار کی افادیت کی تائید کرتی ہے۔ بین الاقوامی بحالیِ صحت کے لٹریچر میں شائع ہونے والے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کثیر الشعبہ بحالی سے افعال بہتر ہوتے ہیں، معذوری میں کمی آتی  اور فالج یا دیگر معذور کرنے والے امراض سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا ری ہیبلی ٹیشن 2023  اقدام عالمی سطح پر معذوری کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے صحت کے نظام میں بحالی کی خدمات کو ضم کرنے پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>دائمی بیماریوں کے انتظام میں فزیو تھراپی کی اہمیت بالکل واضح ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ذیابیطس، موٹاپا، گٹھیا، دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے دائمی امراض جیسی حالتوں کے لیے قلیل مدتی علاج کے بجائے طویل مدتی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ فزیو تھراپسٹس سائنسی شواہد پر مبنی ورزش کے ایسے پروگرام تیار کرکے اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو جسمانی تندرستی کو بہتر بناتے، علامات کو کم کرتے اور زندگی کے مجموعی معیار کو بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>گٹھیا کے مریض مخصوص ورزشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو جوڑوں کی جکڑن کو کم کرتی، نقل و حرکت کو بہتر بناتی  اور ان کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتی ہیں۔ اسی طرح دل کے امراض میں مبتلا افراد فزیو تھراپسٹس کی نگرانی میں تیار کردہ کارڈیک ری ہیبلیٹیشن پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں، جو قلبی صحت کو بہتر بنانے اور مستقبل کی پچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور ماہرینِ غذائیت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے فزیو تھراپسٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ علاج صرف ادویات تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں لائف اسٹائل کی تبدیلی اور جسمانی سرگرمیاں بھی شامل ہوں، جو کہ طویل مدتی امراض کے انتظام کے بنیادی عناصر ہیں۔</p>
<p>اعصابی بحالی ایک اور ایسا شعبہ ہے جہاں فزیو تھراپسٹس ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں، پارکنسنز (کپکپاہٹ کا مرض)، ملٹی پل اسکلیروسیس یا دماغی چوٹوں سے متاثرہ مریضوں کو اکثر شدید جسمانی اور فعالیاتی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فزیو تھراپسٹس حرکت، ہم آہنگی، توازن، طاقت اور خود انحصاری کو بہتر بنانے کے لیے شواہد پر مبنی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بار بار ٹاسک ٹریننگ، نیوروپلاسٹیسی پر مبنی طریقوں اور منظم ورزش کے پروگراموں کے ذریعے، وہ مریضوں کو کھوئے ہوئے افعال دوبارہ حاصل کرنے اور نئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ اعصابی بحالی کا انحصار زیادہ تر ٹیم ورک پر ہوتا ہے۔ فزیو تھراپسٹ اعصابی کیفیات کے جسمانی اور ذہنی دونوں اثرات سے نمٹنے کے لیے نیورولوجسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات اور نرسنگ عملے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ مربوط طریقہ کار صحت یابی کو بہتر بناتا اور مریضوں کو زیادہ سے زیادہ خود انحصاری حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>اسپورٹس میڈیسن ایک اور شعبہ ہے جس میں فزیو تھراپسٹس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جدید دور کے کھلاڑیوں کو ایسی مخصوص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف چوٹ کے علاج بلکہ چوٹوں سے بچاؤ اور کارکردگی بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ اسپورٹس میڈیسن میں کام کرنے والے فزیو تھراپسٹ اسپورٹس ڈاکٹروں، کوچز، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کے ماہرین، ماہرینِ غذائیت اور ماہرینِ نفسیات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں چوٹ کا جائزہ، بحالی کی منصوبہ بندی، کھیل میں واپسی کا ٹیسٹ، کارکردگی کو بہترین بنانا اور چوٹ سے بچاؤ کے لیے ورزش کے پروگرام تیار کرنا شامل ہے۔</p>
<p>پاکستان بھر میں جیسے جیسے پیشہ ورانہ اور شوقیہ کھیلوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، اسپورٹس فزیو تھراپی کی خدمات کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھلاڑی اب طویل مدتی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ چوٹ لگنے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی بحالی اور چوٹ سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔</p>
<p>فزیو تھراپی کی ترقی کو فروغ دینے والا ایک اور عنصر شواہد پر مبنی پریکٹس پر بڑھتا ہوا زور ہے۔ جدید فزیو تھراپسٹس علاج کے فیصلوں کے لیے سائنسی تحقیق اور کلینیکل گائیڈ لائنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار یقینی بناتا ہے کہ کیے جانے والے اقدامات محفوظ، مؤثر اور موجودہ بہترین طریقوں کے مطابق ہوں۔ بہت سے فزیو تھراپسٹ تحقیق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، علمی اشاعتوں میں اپنا حصہ ڈالتے اور ری ہیبلیٹیشن سائنس کو آگے بڑھانے کے لیے یونیورسٹیوں اور طبی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی گائیڈ لائنز بھی کثیر الشعبہ دیکھ بھال میں فزیو تھراپی کے کردار کی تائید کرتی ہیں۔ برطانیہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (این آئی سی آئی) اور ڈبلیو ایچ او دونوں ہی ورزش کے ذریعے علاج، بحالیِ صحت اور مریض مرکز کثیر الشعبہ انتظام کو کئی دائمی اور معذور کرنے والے امراض کے لیے علاج کا ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سفارشات جدید نظامِ صحت میں فزیو تھراپسٹس کے بطور کلیدی مددگار بڑھتے ہوئے اعتراف کو تقویت دیتی ہیں۔</p>
<p>مریضوں کی تعلیم و آگاہی بھی فزیو تھراپی کی پریکٹس کا ایک بنیادی ستون ہے۔ فزیو تھراپسٹس لوگوں کو اٹھنے بیٹھنے کے درست انداز، ارگونومکس، ورزش، چوٹ سے بچاؤ، کام کی جگہ پر صحت اور صحت مند طرزِ زندگی کی عادات کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں۔ مریضوں کو علم اور عملی مہارتوں سے بااختیار بنا کر وہ مستقبل میں چوٹوں کے خطرے کو کم کرنے اور طویل مدتی فلاح و بہبود میں مدد کرتے ہیں۔</p>
<p>کام کے مقامات، اسکولوں اور کمیونٹی سیٹنگز میں حفاظتی یا بچاؤ کی فزیو تھراپی بھی تیزی سے اہم ہو رہی ہے۔ ابتدائی طبی مداخلت کے پروگرام علاج کے اخراجات کو کم کر سکتے، معذوری کو کم سے کم  اور زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں  جہاں صحت کے وسائل اکثر محدود ہوتے ہیں، بیماریوں سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں میں عوامی صحت کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی بھی اس پیشے کو بدل رہی ہے۔ ڈیجیٹل اسیسمنٹ ٹولز، ٹیلی ری ہیبلیٹیشن (دور بیٹھ کر بحالی) کی خدمات، پہننے کے قابل مانیٹرنگ ڈیوائسز، موشن انالیسس سسٹمز اور ورچوئل رئیلٹی پر مبنی بحالی کے پروگرام اب عام ہو رہے ہیں۔ یہ ایجادات فزیو تھراپسٹس کو زیادہ درست، قابلِ رسائی اور ذاتی نوعیت کا علاج فراہم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ خاص طور پر ٹیلی ری ہیبلیٹیشن پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ان خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے شاندار مواقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>ان تمام جدید ترقیوں کے باوجود فزیو تھراپی میں انسانی عنصر کا کوئی نعم البدل نہیں۔اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی دیکھ بھال، کلینیکل فیصلہ سازی، بات چیت، ہمدردی اور مریض کی حوصلہ افزائی اب بھی کامیاب بحالی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی علاج کی فراہمی کو بہتر تو بنا سکتی  ہے لیکن یہ فزیو تھراپسٹ اور مریض کے درمیان شفا بخش تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی۔</p>
<p>دائمی بیماریوں، معذوری اور چوٹوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا سامنا کرنے والی اس دنیا میں فزیو تھراپی کی اہمیت مسلسل بڑھتی رہے گی۔ سائنسی علم، عملی مہارتوں اور انسانی ہمدردی کو یکجا کر کے فزیو تھراپسٹ صحت کے ایک ایسے مستقبل کو تشکیل دینے میں مدد کر رہے ہیں جو زیادہ مربوط اور مؤثر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287513</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 14:57:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی اوسط)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/141426340f6000a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/141426340f6000a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر، ایک ارب ڈالر کے باوجود عالمی نقشے سے غائب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287316/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس سال کسی وقت پاکستان کے فری لانسرز اپنی پہلی ایک ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کریں گے۔ اپریل تک کے دس مہینوں میں انہوں نے تقریباً 959 ملین ڈالر ملک میں لائے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، جبکہ اس مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں مجموعی آئی ٹی ایکسپورٹس 3.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے مطابق ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت 2.37 ملین سے زائد رجسٹرڈ فری لانسرز لاہور کے بیڈ رومز، کراچی کے کرائے کے دفاتر اور فیصل آباد کی چھتوں سے لاگ اِن ہو کر ڈالرز میں کلائنٹس کو بل کر رہے ہیں اور یہ رقم واپس ملک میں لا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایک اور نسبتاً خاموش تبدیلی بھی ہوئی۔ لاہور پہلی بار ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (ڈبلیو آئی پی او) کی عالمی انوویشن کلسٹرز کی فہرست میں شامل ہوا، اور اسلام آباد بھی اس فہرست میں پہلے سے موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں جب ہماری برآمدی آمدن میں اضافہ ہوا، پاکستان گلوبل انوویشن انڈیکس میں نیچے آ گیا، جو کسی بھی ملک کی نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پیمانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں سنگ میل، چند ہفتوں کے فرق سے، اس بات کے ثبوت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں کہ پاکستان آخرکار ایک انوویشن اکانومی بن چکا ہے۔ لیکن یہ دونوں ایک ہی کامیابی نہیں ہیں۔ ایک یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم دنیا کے نالج ورک سے زیادہ کما رہے ہیں، جبکہ دوسرا یہ بتاتا ہے کہ ہم خود علم پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ ہم پہلی چیز میں بہتر ہو رہے ہیں، لیکن جیسا کہ رینکنگ ظاہر کرتی ہے، دوسری میں پیچھے جا رہے ہیں۔ ان دونوں کو ایک سمجھنا ہمیں آمدنی پر خوش ہونے دیتا ہے، جبکہ وہ چیز جس سے حقیقی انوویشن اکانومی بنتی ہے، وہ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عجیب حقیقت پر غور کریں۔ اسی عرصے میں جب ہماری برآمدی آمدن بڑھی، پاکستان گلوبل انوویشن انڈیکس میں نیچے آ گیا، جو کسی بھی ملک کی نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پیمانہ ہے۔ ہم اب 139 معیشتوں میں 99ویں نمبر پر ہیں، جو 2022 میں 87واں تھا، اور ان عوامل میں 124ویں نمبر پر ہیں جو انوویشن کو حقیقت میں تشکیل دیتے ہیں، جیسے ریسرچ اخراجات، ادارے اور مہارتیں۔ اگرچہ لاہور اور اسلام آباد کو آخرکار عالمی کلسٹرز میں شامل کیا گیا ہے، لیکن دونوں دنیا کے ٹاپ 100 کلسٹرز کے قریب بھی نہیں ہیں۔ اس طرح ڈالرز بڑھ رہے ہیں جبکہ انوویشن کی درجہ بندی گر رہی ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کیسے درست ہو سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں اس لیے درست ہیں کیونکہ عالمی نالج اکانومی سے کمائی کرنا اور اس کے اندر مستقل مقام بنانا ایک ہی چیز نہیں ہے۔ ہمارے آئی ٹی اور فری لانس آمدنی کا بڑا حصہ اب بھی نسبتاً کم قیمت حصے سے آتا ہے: کسی اور کی ہدایات کے مطابق کوڈ لکھنا، کسی غیر ملکی کمپنی کے تصور کردہ انٹرفیس کو ڈیزائن کرنا، یا کسی اور کے پلیٹ فارم کا ڈیٹا صاف کرنا۔ یہ ایک ایماندار اور ہنر مندانہ کام ہے، اور ایک ایسے ملک کے لیے جو زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہے، یہ واقعی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایک ابتدائی سیڑھی بھی بن سکتا ہے۔ کچھ کمپنیاں اور فری لانسرز ان معاہدوں کے ذریعے اعلیٰ ویلیو مصنوعات، اپنی انٹلیکچوئل پراپرٹی اور اپنے کلائنٹس تک پہنچ جاتے ہیں، اور پالیسی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سمت میں لے جانے میں مدد کرنی چاہیے۔ لیکن یہ ترقی خود بخود نہیں ہوتی، اور فی الحال زیادہ تر ویلیو، آئیڈیا، پیٹنٹ، برانڈ اور منافع بیرون ملک ہی رہتا ہے۔ یہ زیادہ تر فٹبال سٹچ کرنے کے ڈیجیٹل ورژن کے قریب ہے، نہ کہ کھیل تخلیق کرنے کے۔ جو چیز واپس آتی ہے وہ زیادہ تر اجرت ہے، ابھی تک ایجاد کی صلاحیت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق میری اس تحقیق کے مرکز میں ہے کہ جدت شہروں کے درمیان کیسے منتقل ہوتی ہے۔ واضح نتیجہ، اور صرف میرا نہیں، یہ ہے کہ جدت پھیل نہیں رہی بلکہ چند مخصوص شہروں میں مرکوز ہو رہی ہے۔ چند بڑے عالمی شہر مزید آگے بڑھ رہے ہیں، اور ان کے اور باقی دنیا کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ جو شہر اس دائرے میں شامل ہوئے ہیں، انہوں نے یہ کام صرف سستی لیبر بیچ کر نہیں کیا۔ انہوں نے معروف عالمی مراکز کے ساتھ حقیقی علمی روابط قائم کیے، مشترکہ ایجاد اور مشترکہ ترقی کی، تاکہ علم واپس آ کر اپنے ملک میں جڑ پکڑ سکے۔ جو شہر صرف اپنے ہاتھ عالمی معیشت کو کرائے پر دیتے ہیں وہ اس کے کنارے پر رہتے ہیں۔ جو شہر سیکھتے ہیں وہ اوپر چڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;برآمدات کا حجم آسان عدد ہے؛ یہ سب سے اہم نہیں۔ ڈالر کے اعداد کے ساتھ ہمیں مشترکہ پیٹنٹس، مشترکہ تحقیقاتی اشاعتیں اور ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ مشترکہ ایجاد جیسے پیمانے بھی دیکھنے چاہئیں، جو اصل میں یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ کوئی جگہ اوپر جائے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان اپنے سب سے بڑے موقع کو کم استعمال کر رہا ہے۔ وہ ملک جو پہلی بار عالمی انوویشن ٹاپ 10 میں داخل ہوا ہے اور اب پیٹنٹ فائلنگ میں دنیا کی قیادت کرنے والے ممالک میں شامل ہے، چین ہے، جس کے ساتھ ہمارا خطے میں سب سے قریبی معاشی شراکت داریوں میں سے ایک تعلق ہے۔ لیکن یہ شراکت داری زیادہ تر توانائی اور ٹرانسپورٹ تک محدود رہی ہے۔ صرف توانائی کے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی مجموعی کمٹڈ فنڈنگ کا تقریباً دو تہائی حصہ بناتے ہیں، جبکہ باقی زیادہ تر حصہ سڑکوں اور بندرگاہوں میں گیا ہے۔ وہ صنعتی تعاون کا مرحلہ جس کا مقصد پاکستانی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا تھا، پیچھے رہ گیا ہے، اور اس کے تحت منصوبہ بند نو اسپیشل اکنامک زونز میں سے صرف چند ہی فعال ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ مشترکہ تحقیق، مشترکہ لیبارٹریاں اور مشترکہ پیٹنٹ فائلنگ—یعنی وہ سرگرمیاں جو واقعی اختراع کرنے کی صلاحیت منتقل کرتی ہیں—تقریباً نظر انداز رہی ہیں۔ علیحدہ تحقیق میں، میرے شریک مصنفین اور میں نے پایا کہ چینی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ ایجاد ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی نالج نیٹ ورکس میں اپنی حیثیت بہتر بنانے کے زیادہ قابلِ اعتماد طریقوں میں سے ایک ہے۔ ہمارے پاس اس کے لیے بہترین پارٹنر موجود ہے، لیکن ہم نے اس تعلق کو اب تک زیادہ تر پاور پلانٹس اور سڑکیں بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن صرف رابطہ قائم کرنا ہی حل کا نصف حصہ ہے۔ چین کے ساتھ ایک بہترین شراکت داری بھی اس وقت تک کم فائدہ دے گی جب تک نیا علم ملک کے اندر جڑ نہ پکڑے۔ ایک ایسا ملک جو صرف علم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے، لیکن جس کے پاس یونیورسٹیاں، کمپنیاں اور محققین نہ ہوں جو اس سے سیکھ سکیں اور اس پر اپنی کوئی چیز بنا سکیں، وہ اس سرگرمی کی نسبت بہت کم ویلیو اپنے پاس رکھتا ہے۔ ایک خاص حد کے بعد، عالمی بہاؤ کے درمیان بیٹھنا فائدہ دینا بند کر دیتا ہے، جب تک آپ اس سے سیکھ بھی نہ رہے ہوں جو آپ کے پاس سے گزر رہا ہے۔ اس لیے مقصد صرف زیادہ سے زیادہ کنیکٹ ہونا نہیں بلکہ کنیکٹ ہونا اور اس سے سیکھنا ہے جس سے ہم جڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ریمیٹینس (ترسیلاتِ زر) کوئی پیٹنٹ نہیں ہے، اور اجرت کسی ملک کے نقشے پر جگہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم اسے سنجیدگی سے لیں تو یہ کیا صورت اختیار کرے گا؟ سب سے پہلے، ہمیں صرف وہ چیزیں ناپنا بند کرنا ہوں گی جو ہمیں خوش کرتی ہیں۔ ایکسپورٹ کا حجم ایک آسان عدد ہے؛ یہ سب سے اہم نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں مشترکہ پیٹنٹس، مشترکہ تحقیقاتی اشاعتیں اور ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ مشترکہ ایجاد جیسے پیمانے بھی دیکھنے چاہئیں، جو اصل میں یہ بتاتے ہیں کہ کوئی ملک اوپر جائے گا یا نہیں۔ دوسرا، چین کے ساتھ ہماری آئندہ شراکت داری کو شعوری طور پر تعمیرات اور اسمبلنگ سے ہٹا کر مشترکہ تحقیق و ترقی کی طرف موڑنا ہوگا: مشترکہ لیبارٹریاں، مشترکہ پیٹنٹس، مشترکہ طور پر نگرانی کیے گئے محققین، ایسے شرائط کے ساتھ کہ علم صرف استعمال نہ ہو بلکہ یہاں منتقل بھی ہو اور یہیں محفوظ بھی رہے۔ تیسرا، لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ابھرتے ہوئے کلسٹرز کو وہ چیز درکار ہے جو غیر ملکی معاہدے کو مستقل مقامی صلاحیت میں بدلتی ہے: فنڈڈ ریسرچ، یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان حقیقی روابط، اور ایسی کمپنیاں جو صرف پارٹنر کو ڈیلیور کرنے کے بجائے اس سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ فری لانس اکانومی کی کامیابی کو کم نہیں کرتا۔ ڈھائی ملین پاکستانیوں کا عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنا اور کامیاب ہونا، لوڈ شیڈنگ اور انٹرنیٹ بندش کے باوجود، ایک حقیقی قومی کامیابی ہے، اور ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل جشن کا حق رکھتا ہے۔ لیکن ریمیٹینس کوئی پیٹنٹ نہیں ہے، اور اجرت کسی نقشے پر مقام نہیں ہے۔ اگر ہم ایکسپورٹ کے اعداد و شمار کو یہ سمجھ کر مطمئن ہو جائیں کہ بنیادی مسئلہ حل ہو گیا ہے، تو ہم ان رینکنگز میں اوپر جاتے رہیں گے جو آمدنی ناپتی ہیں، لیکن ان میں نیچے آتے رہیں گے جو یہ دیکھتی ہیں کہ ہم ایجاد کر سکتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس سال یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کو اپنا وقت بیچ سکتا ہے۔ اگلی دہائی جس مشکل اور زیادہ قیمتی کام کا فیصلہ کرے گی، وہ یہ ہے کہ ہم ایسے آئیڈیاز بنانا سیکھیں جن کے لیے دنیا کو ہمارے پاس آنا پڑے، اور جب وہ آئے تو ہم انہیں اپنے پاس برقرار رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اس سال کسی وقت پاکستان کے فری لانسرز اپنی پہلی ایک ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کریں گے۔ اپریل تک کے دس مہینوں میں انہوں نے تقریباً 959 ملین ڈالر ملک میں لائے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، جبکہ اس مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں مجموعی آئی ٹی ایکسپورٹس 3.39 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے مطابق ہیں۔</strong></p>
<p>اس وقت 2.37 ملین سے زائد رجسٹرڈ فری لانسرز لاہور کے بیڈ رومز، کراچی کے کرائے کے دفاتر اور فیصل آباد کی چھتوں سے لاگ اِن ہو کر ڈالرز میں کلائنٹس کو بل کر رہے ہیں اور یہ رقم واپس ملک میں لا رہے ہیں۔</p>
<p>اسی دوران ایک اور نسبتاً خاموش تبدیلی بھی ہوئی۔ لاہور پہلی بار ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (ڈبلیو آئی پی او) کی عالمی انوویشن کلسٹرز کی فہرست میں شامل ہوا، اور اسلام آباد بھی اس فہرست میں پہلے سے موجود ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اسی عرصے میں جب ہماری برآمدی آمدن میں اضافہ ہوا، پاکستان گلوبل انوویشن انڈیکس میں نیچے آ گیا، جو کسی بھی ملک کی نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پیمانہ ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ دونوں سنگ میل، چند ہفتوں کے فرق سے، اس بات کے ثبوت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں کہ پاکستان آخرکار ایک انوویشن اکانومی بن چکا ہے۔ لیکن یہ دونوں ایک ہی کامیابی نہیں ہیں۔ ایک یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم دنیا کے نالج ورک سے زیادہ کما رہے ہیں، جبکہ دوسرا یہ بتاتا ہے کہ ہم خود علم پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ ہم پہلی چیز میں بہتر ہو رہے ہیں، لیکن جیسا کہ رینکنگ ظاہر کرتی ہے، دوسری میں پیچھے جا رہے ہیں۔ ان دونوں کو ایک سمجھنا ہمیں آمدنی پر خوش ہونے دیتا ہے، جبکہ وہ چیز جس سے حقیقی انوویشن اکانومی بنتی ہے، وہ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>ایک عجیب حقیقت پر غور کریں۔ اسی عرصے میں جب ہماری برآمدی آمدن بڑھی، پاکستان گلوبل انوویشن انڈیکس میں نیچے آ گیا، جو کسی بھی ملک کی نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پیمانہ ہے۔ ہم اب 139 معیشتوں میں 99ویں نمبر پر ہیں، جو 2022 میں 87واں تھا، اور ان عوامل میں 124ویں نمبر پر ہیں جو انوویشن کو حقیقت میں تشکیل دیتے ہیں، جیسے ریسرچ اخراجات، ادارے اور مہارتیں۔ اگرچہ لاہور اور اسلام آباد کو آخرکار عالمی کلسٹرز میں شامل کیا گیا ہے، لیکن دونوں دنیا کے ٹاپ 100 کلسٹرز کے قریب بھی نہیں ہیں۔ اس طرح ڈالرز بڑھ رہے ہیں جبکہ انوویشن کی درجہ بندی گر رہی ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کیسے درست ہو سکتی ہیں؟</p>
<p>یہ دونوں اس لیے درست ہیں کیونکہ عالمی نالج اکانومی سے کمائی کرنا اور اس کے اندر مستقل مقام بنانا ایک ہی چیز نہیں ہے۔ ہمارے آئی ٹی اور فری لانس آمدنی کا بڑا حصہ اب بھی نسبتاً کم قیمت حصے سے آتا ہے: کسی اور کی ہدایات کے مطابق کوڈ لکھنا، کسی غیر ملکی کمپنی کے تصور کردہ انٹرفیس کو ڈیزائن کرنا، یا کسی اور کے پلیٹ فارم کا ڈیٹا صاف کرنا۔ یہ ایک ایماندار اور ہنر مندانہ کام ہے، اور ایک ایسے ملک کے لیے جو زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہے، یہ واقعی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایک ابتدائی سیڑھی بھی بن سکتا ہے۔ کچھ کمپنیاں اور فری لانسرز ان معاہدوں کے ذریعے اعلیٰ ویلیو مصنوعات، اپنی انٹلیکچوئل پراپرٹی اور اپنے کلائنٹس تک پہنچ جاتے ہیں، اور پالیسی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سمت میں لے جانے میں مدد کرنی چاہیے۔ لیکن یہ ترقی خود بخود نہیں ہوتی، اور فی الحال زیادہ تر ویلیو، آئیڈیا، پیٹنٹ، برانڈ اور منافع بیرون ملک ہی رہتا ہے۔ یہ زیادہ تر فٹبال سٹچ کرنے کے ڈیجیٹل ورژن کے قریب ہے، نہ کہ کھیل تخلیق کرنے کے۔ جو چیز واپس آتی ہے وہ زیادہ تر اجرت ہے، ابھی تک ایجاد کی صلاحیت نہیں۔</p>
<p>یہ فرق میری اس تحقیق کے مرکز میں ہے کہ جدت شہروں کے درمیان کیسے منتقل ہوتی ہے۔ واضح نتیجہ، اور صرف میرا نہیں، یہ ہے کہ جدت پھیل نہیں رہی بلکہ چند مخصوص شہروں میں مرکوز ہو رہی ہے۔ چند بڑے عالمی شہر مزید آگے بڑھ رہے ہیں، اور ان کے اور باقی دنیا کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔ جو شہر اس دائرے میں شامل ہوئے ہیں، انہوں نے یہ کام صرف سستی لیبر بیچ کر نہیں کیا۔ انہوں نے معروف عالمی مراکز کے ساتھ حقیقی علمی روابط قائم کیے، مشترکہ ایجاد اور مشترکہ ترقی کی، تاکہ علم واپس آ کر اپنے ملک میں جڑ پکڑ سکے۔ جو شہر صرف اپنے ہاتھ عالمی معیشت کو کرائے پر دیتے ہیں وہ اس کے کنارے پر رہتے ہیں۔ جو شہر سیکھتے ہیں وہ اوپر چڑھتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>برآمدات کا حجم آسان عدد ہے؛ یہ سب سے اہم نہیں۔ ڈالر کے اعداد کے ساتھ ہمیں مشترکہ پیٹنٹس، مشترکہ تحقیقاتی اشاعتیں اور ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ مشترکہ ایجاد جیسے پیمانے بھی دیکھنے چاہئیں، جو اصل میں یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ کوئی جگہ اوپر جائے گی یا نہیں۔</p>
</blockquote>
<p>یہ وہ جگہ ہے جہاں پاکستان اپنے سب سے بڑے موقع کو کم استعمال کر رہا ہے۔ وہ ملک جو پہلی بار عالمی انوویشن ٹاپ 10 میں داخل ہوا ہے اور اب پیٹنٹ فائلنگ میں دنیا کی قیادت کرنے والے ممالک میں شامل ہے، چین ہے، جس کے ساتھ ہمارا خطے میں سب سے قریبی معاشی شراکت داریوں میں سے ایک تعلق ہے۔ لیکن یہ شراکت داری زیادہ تر توانائی اور ٹرانسپورٹ تک محدود رہی ہے۔ صرف توانائی کے منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی مجموعی کمٹڈ فنڈنگ کا تقریباً دو تہائی حصہ بناتے ہیں، جبکہ باقی زیادہ تر حصہ سڑکوں اور بندرگاہوں میں گیا ہے۔ وہ صنعتی تعاون کا مرحلہ جس کا مقصد پاکستانی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا تھا، پیچھے رہ گیا ہے، اور اس کے تحت منصوبہ بند نو اسپیشل اکنامک زونز میں سے صرف چند ہی فعال ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ مشترکہ تحقیق، مشترکہ لیبارٹریاں اور مشترکہ پیٹنٹ فائلنگ—یعنی وہ سرگرمیاں جو واقعی اختراع کرنے کی صلاحیت منتقل کرتی ہیں—تقریباً نظر انداز رہی ہیں۔ علیحدہ تحقیق میں، میرے شریک مصنفین اور میں نے پایا کہ چینی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ ایجاد ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی نالج نیٹ ورکس میں اپنی حیثیت بہتر بنانے کے زیادہ قابلِ اعتماد طریقوں میں سے ایک ہے۔ ہمارے پاس اس کے لیے بہترین پارٹنر موجود ہے، لیکن ہم نے اس تعلق کو اب تک زیادہ تر پاور پلانٹس اور سڑکیں بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔</p>
<p>لیکن صرف رابطہ قائم کرنا ہی حل کا نصف حصہ ہے۔ چین کے ساتھ ایک بہترین شراکت داری بھی اس وقت تک کم فائدہ دے گی جب تک نیا علم ملک کے اندر جڑ نہ پکڑے۔ ایک ایسا ملک جو صرف علم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے، لیکن جس کے پاس یونیورسٹیاں، کمپنیاں اور محققین نہ ہوں جو اس سے سیکھ سکیں اور اس پر اپنی کوئی چیز بنا سکیں، وہ اس سرگرمی کی نسبت بہت کم ویلیو اپنے پاس رکھتا ہے۔ ایک خاص حد کے بعد، عالمی بہاؤ کے درمیان بیٹھنا فائدہ دینا بند کر دیتا ہے، جب تک آپ اس سے سیکھ بھی نہ رہے ہوں جو آپ کے پاس سے گزر رہا ہے۔ اس لیے مقصد صرف زیادہ سے زیادہ کنیکٹ ہونا نہیں بلکہ کنیکٹ ہونا اور اس سے سیکھنا ہے جس سے ہم جڑتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ریمیٹینس (ترسیلاتِ زر) کوئی پیٹنٹ نہیں ہے، اور اجرت کسی ملک کے نقشے پر جگہ نہیں ہے۔</p>
</blockquote>
<p>اگر ہم اسے سنجیدگی سے لیں تو یہ کیا صورت اختیار کرے گا؟ سب سے پہلے، ہمیں صرف وہ چیزیں ناپنا بند کرنا ہوں گی جو ہمیں خوش کرتی ہیں۔ ایکسپورٹ کا حجم ایک آسان عدد ہے؛ یہ سب سے اہم نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں مشترکہ پیٹنٹس، مشترکہ تحقیقاتی اشاعتیں اور ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ مشترکہ ایجاد جیسے پیمانے بھی دیکھنے چاہئیں، جو اصل میں یہ بتاتے ہیں کہ کوئی ملک اوپر جائے گا یا نہیں۔ دوسرا، چین کے ساتھ ہماری آئندہ شراکت داری کو شعوری طور پر تعمیرات اور اسمبلنگ سے ہٹا کر مشترکہ تحقیق و ترقی کی طرف موڑنا ہوگا: مشترکہ لیبارٹریاں، مشترکہ پیٹنٹس، مشترکہ طور پر نگرانی کیے گئے محققین، ایسے شرائط کے ساتھ کہ علم صرف استعمال نہ ہو بلکہ یہاں منتقل بھی ہو اور یہیں محفوظ بھی رہے۔ تیسرا، لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ابھرتے ہوئے کلسٹرز کو وہ چیز درکار ہے جو غیر ملکی معاہدے کو مستقل مقامی صلاحیت میں بدلتی ہے: فنڈڈ ریسرچ، یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان حقیقی روابط، اور ایسی کمپنیاں جو صرف پارٹنر کو ڈیلیور کرنے کے بجائے اس سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔</p>
<p>یہ سب کچھ فری لانس اکانومی کی کامیابی کو کم نہیں کرتا۔ ڈھائی ملین پاکستانیوں کا عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنا اور کامیاب ہونا، لوڈ شیڈنگ اور انٹرنیٹ بندش کے باوجود، ایک حقیقی قومی کامیابی ہے، اور ایک ارب ڈالر کا سنگِ میل جشن کا حق رکھتا ہے۔ لیکن ریمیٹینس کوئی پیٹنٹ نہیں ہے، اور اجرت کسی نقشے پر مقام نہیں ہے۔ اگر ہم ایکسپورٹ کے اعداد و شمار کو یہ سمجھ کر مطمئن ہو جائیں کہ بنیادی مسئلہ حل ہو گیا ہے، تو ہم ان رینکنگز میں اوپر جاتے رہیں گے جو آمدنی ناپتی ہیں، لیکن ان میں نیچے آتے رہیں گے جو یہ دیکھتی ہیں کہ ہم ایجاد کر سکتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>پاکستان نے اس سال یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کو اپنا وقت بیچ سکتا ہے۔ اگلی دہائی جس مشکل اور زیادہ قیمتی کام کا فیصلہ کرے گی، وہ یہ ہے کہ ہم ایسے آئیڈیاز بنانا سیکھیں جن کے لیے دنیا کو ہمارے پاس آنا پڑے، اور جب وہ آئے تو ہم انہیں اپنے پاس برقرار رکھ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287316</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 10:56:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر سلمٰی زمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/101052018bec78a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/101052018bec78a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ کی ساکھ کا بحران: پاکستان کے تخمینے کتنے درست ہیں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287266/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر سال جون سے پہلے کے مہینے کاروبار، میڈیا اور پالیسی کی دنیا میں انتہائی حساس اور سرگرمی سے بھرپور ہو جاتے ہیں۔ وفاقی بجٹ گفتگو کا مرکزی موضوع بن جاتا ہے: صنعت کار تنظیمیں مراعات کے لیے لابنگ کرتی ہیں، کاروباری ادارے سازگار ٹیکس پالیسی چاہتے ہیں، وزارتیں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں، اور وزارتِ خزانہ ملکی اندرونی تقاضوں اور بین الاقوامی قرض دہندگان کی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر، بجٹ کا مقصد رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ چاہے عوامی شعبہ ہو یا نجی، یہ ایک مستقبل بین دستاویز ہوتی ہے جو ترجیحات طے کرتی ہے، وسائل کی تقسیم کرتی ہے، اور یہ اشارہ دیتی ہے کہ متعلقہ ادارہ آئندہ سال اپنی آمدن اور اخراجات کو کس طرح منظم کرے گا۔ حکومتی سطح پر بجٹ ایک پالیسی نیت کا اظہار بھی ہوتا ہے: یہ شہریوں، کاروباروں اور مارکیٹوں کو بتاتا ہے کہ عوامی پیسہ کہاں خرچ ہونے کی توقع ہے، آمدن کیسے حاصل کی جائے گی، اور حکومت کس حد تک سمجھوتے کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بجٹ سخت معنوں میں لازمی  نہیں ہوتا، لیکن اس کی ساکھ اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ حکومت اپنے اعلان کردہ راستے پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ عزم اکثر کمزور نظر آتا ہے۔ معمول کے طور پر، بجٹ پیش ہونے کے چند ہی ہفتوں یا مہینوں بعد اس میں نمایاں تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصل بجٹ کو ایک طے شدہ منصوبے کے بجائے ایک ابتدائی مسودہ سمجھا جاتا ہے۔ سال کے اختتام تک، نظرثانی شدہ اعداد و شمار بھی اکثر حتمی نتائج سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر سال کے دوران بجٹ میں نمایاں تبدیلیاں ہو جائیں، اور پھر بھی حتمی نتائج نظرثانی شدہ منصوبوں سے بھی مختلف رہیں، تو کیا یہ حکومتی ترجیحات اور پبلک فنانس مینجمنٹ کے لیے ایک مؤثر رہنما کے طور پر واقعی مفید ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جائزہ لینے کے لیے یہ اسکور کارڈ مالی سال 21 سے مالی سال 25 تک اصل بجٹ شدہ اعداد و شمار، نظرثانی شدہ تخمینوں اور حقیقی نتائج کا موازنہ کرتا ہے۔ اس سے یہ واضح تصویر ملتی ہے کہ مالی سال کے دوران مالی تخمینے کس حد تک تبدیل ہوتے ہیں، اور بجٹ کے وقت منظور کیے گئے اعداد و شمار حتمی نتائج کے ساتھ کتنے قریب یا دور ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08220640533c366.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08220640533c366.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سمجھا جا سکتا ہے کہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اصل بجٹ کے مقابلے میں حقیقی نتائج نظرثانی شدہ تخمینوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں، چاہے وہ آمدن ہو یا اخراجات۔ اوسط انحراف آمدنی کے حوالے سے 7.0 فیصد پوائنٹس کم ہو جاتا ہے، جبکہ اخراجات کے حوالے سے یہ فرق 13.5 فیصد پوائنٹس تک کم ہو جاتا ہے جب حقیقی نتائج کا موازنہ نظرثانی شدہ تخمینوں سے کیا جائے بجائے اصل بجٹ کے۔ یہ مجموعی رجحان انفرادی اخراجاتی مدات میں بھی نظر آتا ہے۔ سبسڈیز اصل بجٹ سے اوسطاً 57 فیصد تک مختلف رہیں، لیکن جب انہیں نظرثانی شدہ تخمینوں کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ فرق صرف 2 فیصد تک رہ جاتا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی بھی اسی طرح کا رجحان ظاہر کرتی ہے، جہاں اصل بجٹ سے اوسطاً 9 فیصد اضافہ دیکھا گیا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینے کے مقابلے میں یہ فرق صرف 0.1 فیصد رہ گیا۔ یہ اس بات کو مضبوط کرتا ہے کہ اصل بجٹ ہی اصل معیار ہے، کیونکہ نظرثانی شدہ تخمینہ سال کے دوران کی جانے والی اصلاح ہے، جبکہ اصل بجٹ شہریوں، کاروباروں اور مارکیٹوں کو دی جانے والی عوامی رہنمائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فریم-ورک-اور-اسکورنگ" href="#فریم-ورک-اور-اسکورنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فریم ورک اور اسکورنگ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کی قابلِ اعتمادیت پبلک فنانشل مینجمنٹ میں ایک مرکزی تشویش ہے۔ پبلک ایکسپنڈیچر اینڈ فنانشل اکاؤنٹیبلٹی (پی ای ایف اے) فریم ورک عوامی مالیاتی نظام کی معیار اور مؤثریت کو جانچنے کے لیے ایک معیاری طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ یہ کلیدی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے جن میں بجٹ کی ساکھ، شفافیت، آمدنی اور اخراجات پر کنٹرول، اور بیرونی نگرانی شامل ہیں۔ یہ جائزے نظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور مالیاتی گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای ایف اے کے بجٹ کریڈیبیلٹی کے طریقہ کار کو بنیاد بناتے ہوئے، یہ اسکور کارڈ اس تصور کو ایک زیادہ مخصوص مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ پی ای ایف اے ایک وسیع پبلک فنانشل مینجمنٹ اسیسمنٹ کا حصہ ہے، یہ اسکور کارڈ اسی بنیادی اصول کو استعمال کرتے ہوئے انفرادی اخراجاتی اور آمدنی کے مدات اور مالی سالوں کے دوران تخمینوں کی قابلِ اعتمادیت کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تجزیے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس حد تک مختص کی گئی رقوم حقیقی اخراجات کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہیں، کن مدات میں بار بار ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے، اور کہاں انحراف اتنا زیادہ ہے کہ بجٹ کو منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم کے آلے کے طور پر اس کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر لائن آئٹم کو اے– ڈی اسکورنگ میٹرکس کے ذریعے درجہ بند کیا جاتا ہے، جو فیصدی انحراف کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ تخمینے سے اوپر یا نیچے دونوں انحرافات کو برابر سمجھا جاتا ہے، اور انحراف کی شدت کریڈیبیلٹی اسکور کا تعین کرتی ہے۔ اس طرح یہ اسکور کارڈ بجٹ کے اندر مختلف مدات کے درمیان بجٹ کی ساکھ کا ایک عملی اور ڈیٹا پر مبنی موازنہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082212425c6d887.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082212425c6d887.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بجٹ-کی-کارکردگی-پانچ-سالہ-جائزہ" href="#بجٹ-کی-کارکردگی-پانچ-سالہ-جائزہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بجٹ کی کارکردگی: پانچ سالہ جائزہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نتائج پاکستان کے بجٹ میں ایک غیر مساوی  صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں آمدنی اور اخراجات کے اعتبار درمیان مختلف ہوتا ہے۔ اس ریٹنگ اسکیل کے مطابق، ڈی-گریڈ والے مشاہدات مجموعی تقسیم کا ایک نمایاں حصہ بناتے ہیں۔ یہ دباؤ خاص طور پر آمدنی کے پہلو میں زیادہ واضح ہے، جہاں کمزور اسکورز اخراجات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082215399ee466c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082215399ee466c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 میں بالواسطہ ٹیکسز اصل ہدف سے تقریباً 1.5 کھرب روپے کم رہے، جس کے باعث مجموعی ریونیو کارکردگی میں یہ کمی نمایاں اور اہم  بن گئی۔ اخراجات کے پہلو میں قرضوں کی ادائیگی  اور صوبائی حصہ مجموعی اخراجاتی ڈھانچے پر حاوی ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف فیصدی انحراف نہیں بلکہ بڑے اخراجاتی مدات میں فرق زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08222800e088188.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08222800e088188.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسکور کارڈ مزید یہ ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں بجٹ کی ساکھ  ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ اگرچہ کچھ آمدنی اور اخراجات کے مدات اصل بجٹ اہداف کے ساتھ مجموعی طور پر ہم آہنگ رہتے ہیں، لیکن بعض دیگر مدات میں مسلسل اور بار بار انحراف یہ ظاہر کرتا ہے کہ بجٹ ہمیشہ حقیقی مالی نتائج کا قابلِ اعتماد پیش گو ثابت نہیں ہوتا۔ یہ رجحان یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بجٹ کی پیش بینی مختلف آمدنی اور اخراجاتی مدات میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتی۔ پانچ سالہ عرصے کے دوران صرف 6 میں سے 1 ریونیو مد اور 9 میں سے 3 اخراجاتی مدات زیادہ تر سالوں میں اصل تخمینوں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آمدنی کے پہلو میں براہِ راست ٹیکسز نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، جہاں زیادہ تر سالوں میں اصل تخمینوں کے مقابلے میں وصولیاں قابلِ قبول حد کے اندر رہیں۔ تاہم بالواسطہ ٹیکسز مسلسل اصل بجٹ ہدف سے کم رہے، اور یہ کمی مالی سال 2025 میں سب سے زیادہ نمایاں تھی، جہاں شارٹ فال 20 فیصد سے بھی بڑھ گیا۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بالواسطہ ٹیکسز کل بجٹ آمدنی کا تقریباً 39 فیصد حصہ ہیں، اس لیے اس سطح کا شارٹ فال صرف مالی سال 2025 میں ہی 1,500 ارب روپے سے زائد کے فرق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کا منافع سب سے زیادہ غیر مستحکم مدات ہیں؛ دونوں کے اصل بجٹ تخمینے کئی سالوں میں حقیقی نتائج سے نمایاں طور پر مختلف رہے اور متعدد مواقع پر ڈی اسکور حاصل کیا۔ اسی طرح صوبائی سرپلس ٹرانسفرز بھی زیادہ تر سالوں میں بجٹ شدہ تخمینوں کے مقابلے میں کم رہے، جو بین الحکومتی مالیاتی بہاؤ میں مستقل غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08223155205ccbc.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08223155205ccbc.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اخراجات کے پہلو میں قرضوں کی ادائیگی سب سے زیادہ انحراف والا شعبہ ہے۔ مالی سال 2023 کے بعد سے حقیقی قرض ادائیگیاں مسلسل اصل بجٹ تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ رہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت بجٹ تیاری کے وقت اپنے قرضوں کی ذمہ داریوں کا درست اندازہ لگانے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے۔ سبسڈیز بھی اسی طرز کی کارکردگی دکھاتی ہیں؛ حقیقی اخراجات تقریباً ہر سال بجٹ مختص رقم سے زیادہ رہے، اور اکثر یہ فرق کافی بڑا تھا۔ اس کے برعکس وفاقی پی ایس ڈی پی مسلسل اپنے بجٹ ہدف سے کم رہا، اور تمام پانچ سالوں میں اصل مختص رقم کے مقابلے میں کم خرچ ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/0822351439478ae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/0822351439478ae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجموعی رجحان ایک دو سطحی  کریڈیبیلٹی ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ مدات جو لازمی یا فارمولہ پر مبنی ہیں، جیسے دفاع، پنشنز اور صوبائی ٹرانسفرز، ان میں بجٹ اور حقیقی اعداد و شمار کے درمیان زیادہ ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ جبکہ وہ مدات جو پالیسی ڈسکریشن، بیرونی جھٹکوں یا عملدرآمدی مشکلات کے تابع ہیں، ان میں سب سے زیادہ اور بار بار انحراف دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بجٹ جہاں لازمی اخراجات کے لیے ایک معقول رہنما ثابت ہوتا ہے، وہیں یہ ان شعبوں میں کم قابلِ اعتماد ہے جہاں حکومت کے پاس فیصلہ سازی کی گنجائش زیادہ ہو یا عملدرآمدی چیلنجز درپیش ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایک-زیادہ-قابلِ-اعتماد-بجٹ-کی-طرف" href="#ایک-زیادہ-قابلِ-اعتماد-بجٹ-کی-طرف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایک زیادہ قابلِ اعتماد بجٹ کی طرف&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک قابلِ اعتماد بجٹ کو صرف سالانہ اعلان سے زیادہ ہونا چاہیے۔ ایسا بجٹ جو سال کے دوران نمایاں طور پر تبدیل ہو جائے اور جس کے حتمی نتائج اصل منصوبے سے مسلسل مختلف رہیں، اس کے مقصد پر ایک جائز سوال اٹھاتا ہے۔ اگر پیش کیے گئے اعداد و شمار چند مہینوں میں بار بار تبدیل ہوں اور سال کے اختتام پر بھی مسلسل ہدف حاصل نہ کر سکیں، تو بجٹ ایک قابلِ اعتماد مالی نیت کے بجائے محض ابتدائی تخمینہ بننے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام انحرافات قابلِ اجتناب نہیں ہوتے: مالیاتی انتظام اکثر مہنگائی، مالی دباؤ، پالیسی تبدیلیوں اور بیرونی جھٹکوں کے ردعمل میں ایڈجسٹمنٹ کا تقاضا کرتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہر تخمینہ لازماً درست ہو، بلکہ یہ ہے کہ ایک ہی مدات میں بار بار انحراف بجٹ کے کردار کو کمزور کرتا ہے، جو منصوبہ بندی، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک رہنما ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اس اسکور کارڈ کو اس تناظر میں پڑھا جانا چاہیے کہ یہ ان شعبوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں آئندہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے زیادہ توجہ اور جانچ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو یا دو سے زائد مسلسل سالوں تک وہ بجٹ ہیڈز جو بنیادی کریڈیبیلٹی  سے کم درجے پر آتے ہیں، انہیں اگلے بجٹ سائیکل میں زیادہ سخت جواز  کے معیار کے تابع ہونا چاہیے۔ ان کے تخمینوں کو ریئلائزڈ نتائج کے رولنگ ایوریج  کی بنیاد پر تیار کیا جانا چاہیے، اور جہاں ضروری ہو وہاں انہیں افراطِ زر، پالیسی تبدیلیوں اور میکرو اکنامک مفروضات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے، جبکہ اس بنیاد سے کسی بھی اہم انحراف کو وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بجٹ پیش کرتے وقت واضح طور پر بیان اور جواز فراہم کرنا لازمی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مڈیم ٹرم بجٹ فریم ورک بھی لازمی سالانہ ریکنسیلی ایشن  کے تابع ہونا چاہیے، جس میں ہر بڑے ہیڈ کے لیے یہ دکھایا جائے کہ تین سال پہلے ایم ٹی بی ایف نے کیا پیشگوئی کی تھی، سالانہ بجٹ نے کیا تخمینہ لگایا تھا، سال کے دوران اس میں کیا نظرثانی ہوئی، اور آخر میں اصل میں کیا حاصل ہوا۔ اس سے ذمہ داری کا بوجھ  تبدیل ہو جائے گا: اس کے بجائے کہ پرامید یا غیر حقیقی تخمینے بغیر سوال کے قبول کر لیے جائیں اور انحرافات بعد میں بیان کیے جائیں، اب زیادہ رسک والے بجٹ ہیڈز کو پیشگی طور پر دفاع کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریڈیبیلٹی گیپ کو ختم کرنا اس بات سے ممکن نہیں ہوگا کہ انحرافات کو خود بخود ناکامی سمجھا جائے، بلکہ اس کے لیے بجٹ تخمینوں کے پیچھے موجود مفروضات کو زیادہ شفاف بنانا ہوگا اور بار بار ہونے والے فرق کی وضاحت کو زیادہ منظم اور سخت بنانا ہوگا۔ اس اسکور کارڈ کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ ان پیٹرنز کو بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی نمایاں کر دیتا ہے، تاکہ بحث محض ہیڈلائن مختصات  تک محدود نہ رہے بلکہ ان اعداد و شمار کی قابلِ اعتمادیت تک پہنچ جائے جن پر مالی فیصلے مبنی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر سال جون سے پہلے کے مہینے کاروبار، میڈیا اور پالیسی کی دنیا میں انتہائی حساس اور سرگرمی سے بھرپور ہو جاتے ہیں۔ وفاقی بجٹ گفتگو کا مرکزی موضوع بن جاتا ہے: صنعت کار تنظیمیں مراعات کے لیے لابنگ کرتی ہیں، کاروباری ادارے سازگار ٹیکس پالیسی چاہتے ہیں، وزارتیں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں، اور وزارتِ خزانہ ملکی اندرونی تقاضوں اور بین الاقوامی قرض دہندگان کی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔</strong></p>
<p>بنیادی طور پر، بجٹ کا مقصد رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ چاہے عوامی شعبہ ہو یا نجی، یہ ایک مستقبل بین دستاویز ہوتی ہے جو ترجیحات طے کرتی ہے، وسائل کی تقسیم کرتی ہے، اور یہ اشارہ دیتی ہے کہ متعلقہ ادارہ آئندہ سال اپنی آمدن اور اخراجات کو کس طرح منظم کرے گا۔ حکومتی سطح پر بجٹ ایک پالیسی نیت کا اظہار بھی ہوتا ہے: یہ شہریوں، کاروباروں اور مارکیٹوں کو بتاتا ہے کہ عوامی پیسہ کہاں خرچ ہونے کی توقع ہے، آمدن کیسے حاصل کی جائے گی، اور حکومت کس حد تک سمجھوتے کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>اگرچہ بجٹ سخت معنوں میں لازمی  نہیں ہوتا، لیکن اس کی ساکھ اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ حکومت اپنے اعلان کردہ راستے پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔ پاکستان میں یہ عزم اکثر کمزور نظر آتا ہے۔ معمول کے طور پر، بجٹ پیش ہونے کے چند ہی ہفتوں یا مہینوں بعد اس میں نمایاں تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اصل بجٹ کو ایک طے شدہ منصوبے کے بجائے ایک ابتدائی مسودہ سمجھا جاتا ہے۔ سال کے اختتام تک، نظرثانی شدہ اعداد و شمار بھی اکثر حتمی نتائج سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہوتے۔</p>
<p>اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر سال کے دوران بجٹ میں نمایاں تبدیلیاں ہو جائیں، اور پھر بھی حتمی نتائج نظرثانی شدہ منصوبوں سے بھی مختلف رہیں، تو کیا یہ حکومتی ترجیحات اور پبلک فنانس مینجمنٹ کے لیے ایک مؤثر رہنما کے طور پر واقعی مفید ہے؟</p>
<p>اس کا جائزہ لینے کے لیے یہ اسکور کارڈ مالی سال 21 سے مالی سال 25 تک اصل بجٹ شدہ اعداد و شمار، نظرثانی شدہ تخمینوں اور حقیقی نتائج کا موازنہ کرتا ہے۔ اس سے یہ واضح تصویر ملتی ہے کہ مالی سال کے دوران مالی تخمینے کس حد تک تبدیل ہوتے ہیں، اور بجٹ کے وقت منظور کیے گئے اعداد و شمار حتمی نتائج کے ساتھ کتنے قریب یا دور ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08220640533c366.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08220640533c366.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>سمجھا جا سکتا ہے کہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اصل بجٹ کے مقابلے میں حقیقی نتائج نظرثانی شدہ تخمینوں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں، چاہے وہ آمدن ہو یا اخراجات۔ اوسط انحراف آمدنی کے حوالے سے 7.0 فیصد پوائنٹس کم ہو جاتا ہے، جبکہ اخراجات کے حوالے سے یہ فرق 13.5 فیصد پوائنٹس تک کم ہو جاتا ہے جب حقیقی نتائج کا موازنہ نظرثانی شدہ تخمینوں سے کیا جائے بجائے اصل بجٹ کے۔ یہ مجموعی رجحان انفرادی اخراجاتی مدات میں بھی نظر آتا ہے۔ سبسڈیز اصل بجٹ سے اوسطاً 57 فیصد تک مختلف رہیں، لیکن جب انہیں نظرثانی شدہ تخمینوں کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ فرق صرف 2 فیصد تک رہ جاتا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی بھی اسی طرح کا رجحان ظاہر کرتی ہے، جہاں اصل بجٹ سے اوسطاً 9 فیصد اضافہ دیکھا گیا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینے کے مقابلے میں یہ فرق صرف 0.1 فیصد رہ گیا۔ یہ اس بات کو مضبوط کرتا ہے کہ اصل بجٹ ہی اصل معیار ہے، کیونکہ نظرثانی شدہ تخمینہ سال کے دوران کی جانے والی اصلاح ہے، جبکہ اصل بجٹ شہریوں، کاروباروں اور مارکیٹوں کو دی جانے والی عوامی رہنمائی ہے۔</p>
<h3><a id="فریم-ورک-اور-اسکورنگ" href="#فریم-ورک-اور-اسکورنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فریم ورک اور اسکورنگ</h3>
<p>بجٹ کی قابلِ اعتمادیت پبلک فنانشل مینجمنٹ میں ایک مرکزی تشویش ہے۔ پبلک ایکسپنڈیچر اینڈ فنانشل اکاؤنٹیبلٹی (پی ای ایف اے) فریم ورک عوامی مالیاتی نظام کی معیار اور مؤثریت کو جانچنے کے لیے ایک معیاری طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ یہ کلیدی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے جن میں بجٹ کی ساکھ، شفافیت، آمدنی اور اخراجات پر کنٹرول، اور بیرونی نگرانی شامل ہیں۔ یہ جائزے نظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور مالیاتی گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>پی ای ایف اے کے بجٹ کریڈیبیلٹی کے طریقہ کار کو بنیاد بناتے ہوئے، یہ اسکور کارڈ اس تصور کو ایک زیادہ مخصوص مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ پی ای ایف اے ایک وسیع پبلک فنانشل مینجمنٹ اسیسمنٹ کا حصہ ہے، یہ اسکور کارڈ اسی بنیادی اصول کو استعمال کرتے ہوئے انفرادی اخراجاتی اور آمدنی کے مدات اور مالی سالوں کے دوران تخمینوں کی قابلِ اعتمادیت کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تجزیے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس حد تک مختص کی گئی رقوم حقیقی اخراجات کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہیں، کن مدات میں بار بار ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے، اور کہاں انحراف اتنا زیادہ ہے کہ بجٹ کو منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم کے آلے کے طور پر اس کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے۔</p>
<p>ہر لائن آئٹم کو اے– ڈی اسکورنگ میٹرکس کے ذریعے درجہ بند کیا جاتا ہے، جو فیصدی انحراف کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ تخمینے سے اوپر یا نیچے دونوں انحرافات کو برابر سمجھا جاتا ہے، اور انحراف کی شدت کریڈیبیلٹی اسکور کا تعین کرتی ہے۔ اس طرح یہ اسکور کارڈ بجٹ کے اندر مختلف مدات کے درمیان بجٹ کی ساکھ کا ایک عملی اور ڈیٹا پر مبنی موازنہ فراہم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082212425c6d887.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082212425c6d887.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h3><a id="بجٹ-کی-کارکردگی-پانچ-سالہ-جائزہ" href="#بجٹ-کی-کارکردگی-پانچ-سالہ-جائزہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بجٹ کی کارکردگی: پانچ سالہ جائزہ</h3>
<p>نتائج پاکستان کے بجٹ میں ایک غیر مساوی  صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں آمدنی اور اخراجات کے اعتبار درمیان مختلف ہوتا ہے۔ اس ریٹنگ اسکیل کے مطابق، ڈی-گریڈ والے مشاہدات مجموعی تقسیم کا ایک نمایاں حصہ بناتے ہیں۔ یہ دباؤ خاص طور پر آمدنی کے پہلو میں زیادہ واضح ہے، جہاں کمزور اسکورز اخراجات کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082215399ee466c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/082215399ee466c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مالی سال 2025 میں بالواسطہ ٹیکسز اصل ہدف سے تقریباً 1.5 کھرب روپے کم رہے، جس کے باعث مجموعی ریونیو کارکردگی میں یہ کمی نمایاں اور اہم  بن گئی۔ اخراجات کے پہلو میں قرضوں کی ادائیگی  اور صوبائی حصہ مجموعی اخراجاتی ڈھانچے پر حاوی ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف فیصدی انحراف نہیں بلکہ بڑے اخراجاتی مدات میں فرق زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08222800e088188.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08222800e088188.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسکور کارڈ مزید یہ ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں بجٹ کی ساکھ  ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ اگرچہ کچھ آمدنی اور اخراجات کے مدات اصل بجٹ اہداف کے ساتھ مجموعی طور پر ہم آہنگ رہتے ہیں، لیکن بعض دیگر مدات میں مسلسل اور بار بار انحراف یہ ظاہر کرتا ہے کہ بجٹ ہمیشہ حقیقی مالی نتائج کا قابلِ اعتماد پیش گو ثابت نہیں ہوتا۔ یہ رجحان یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بجٹ کی پیش بینی مختلف آمدنی اور اخراجاتی مدات میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوتی۔ پانچ سالہ عرصے کے دوران صرف 6 میں سے 1 ریونیو مد اور 9 میں سے 3 اخراجاتی مدات زیادہ تر سالوں میں اصل تخمینوں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔</p>
<p>آمدنی کے پہلو میں براہِ راست ٹیکسز نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، جہاں زیادہ تر سالوں میں اصل تخمینوں کے مقابلے میں وصولیاں قابلِ قبول حد کے اندر رہیں۔ تاہم بالواسطہ ٹیکسز مسلسل اصل بجٹ ہدف سے کم رہے، اور یہ کمی مالی سال 2025 میں سب سے زیادہ نمایاں تھی، جہاں شارٹ فال 20 فیصد سے بھی بڑھ گیا۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بالواسطہ ٹیکسز کل بجٹ آمدنی کا تقریباً 39 فیصد حصہ ہیں، اس لیے اس سطح کا شارٹ فال صرف مالی سال 2025 میں ہی 1,500 ارب روپے سے زائد کے فرق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کا منافع سب سے زیادہ غیر مستحکم مدات ہیں؛ دونوں کے اصل بجٹ تخمینے کئی سالوں میں حقیقی نتائج سے نمایاں طور پر مختلف رہے اور متعدد مواقع پر ڈی اسکور حاصل کیا۔ اسی طرح صوبائی سرپلس ٹرانسفرز بھی زیادہ تر سالوں میں بجٹ شدہ تخمینوں کے مقابلے میں کم رہے، جو بین الحکومتی مالیاتی بہاؤ میں مستقل غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08223155205ccbc.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/08223155205ccbc.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اخراجات کے پہلو میں قرضوں کی ادائیگی سب سے زیادہ انحراف والا شعبہ ہے۔ مالی سال 2023 کے بعد سے حقیقی قرض ادائیگیاں مسلسل اصل بجٹ تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ رہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت بجٹ تیاری کے وقت اپنے قرضوں کی ذمہ داریوں کا درست اندازہ لگانے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے۔ سبسڈیز بھی اسی طرز کی کارکردگی دکھاتی ہیں؛ حقیقی اخراجات تقریباً ہر سال بجٹ مختص رقم سے زیادہ رہے، اور اکثر یہ فرق کافی بڑا تھا۔ اس کے برعکس وفاقی پی ایس ڈی پی مسلسل اپنے بجٹ ہدف سے کم رہا، اور تمام پانچ سالوں میں اصل مختص رقم کے مقابلے میں کم خرچ ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/0822351439478ae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/0822351439478ae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مجموعی رجحان ایک دو سطحی  کریڈیبیلٹی ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ مدات جو لازمی یا فارمولہ پر مبنی ہیں، جیسے دفاع، پنشنز اور صوبائی ٹرانسفرز، ان میں بجٹ اور حقیقی اعداد و شمار کے درمیان زیادہ ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ جبکہ وہ مدات جو پالیسی ڈسکریشن، بیرونی جھٹکوں یا عملدرآمدی مشکلات کے تابع ہیں، ان میں سب سے زیادہ اور بار بار انحراف دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بجٹ جہاں لازمی اخراجات کے لیے ایک معقول رہنما ثابت ہوتا ہے، وہیں یہ ان شعبوں میں کم قابلِ اعتماد ہے جہاں حکومت کے پاس فیصلہ سازی کی گنجائش زیادہ ہو یا عملدرآمدی چیلنجز درپیش ہوں۔</p>
<hr />
<h3><a id="ایک-زیادہ-قابلِ-اعتماد-بجٹ-کی-طرف" href="#ایک-زیادہ-قابلِ-اعتماد-بجٹ-کی-طرف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایک زیادہ قابلِ اعتماد بجٹ کی طرف</h3>
<p>ایک قابلِ اعتماد بجٹ کو صرف سالانہ اعلان سے زیادہ ہونا چاہیے۔ ایسا بجٹ جو سال کے دوران نمایاں طور پر تبدیل ہو جائے اور جس کے حتمی نتائج اصل منصوبے سے مسلسل مختلف رہیں، اس کے مقصد پر ایک جائز سوال اٹھاتا ہے۔ اگر پیش کیے گئے اعداد و شمار چند مہینوں میں بار بار تبدیل ہوں اور سال کے اختتام پر بھی مسلسل ہدف حاصل نہ کر سکیں، تو بجٹ ایک قابلِ اعتماد مالی نیت کے بجائے محض ابتدائی تخمینہ بننے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>تمام انحرافات قابلِ اجتناب نہیں ہوتے: مالیاتی انتظام اکثر مہنگائی، مالی دباؤ، پالیسی تبدیلیوں اور بیرونی جھٹکوں کے ردعمل میں ایڈجسٹمنٹ کا تقاضا کرتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہر تخمینہ لازماً درست ہو، بلکہ یہ ہے کہ ایک ہی مدات میں بار بار انحراف بجٹ کے کردار کو کمزور کرتا ہے، جو منصوبہ بندی، شفافیت اور احتساب کے لیے ایک رہنما ہونا چاہیے۔</p>
<p>لہٰذا اس اسکور کارڈ کو اس تناظر میں پڑھا جانا چاہیے کہ یہ ان شعبوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں آئندہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے زیادہ توجہ اور جانچ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>دو یا دو سے زائد مسلسل سالوں تک وہ بجٹ ہیڈز جو بنیادی کریڈیبیلٹی  سے کم درجے پر آتے ہیں، انہیں اگلے بجٹ سائیکل میں زیادہ سخت جواز  کے معیار کے تابع ہونا چاہیے۔ ان کے تخمینوں کو ریئلائزڈ نتائج کے رولنگ ایوریج  کی بنیاد پر تیار کیا جانا چاہیے، اور جہاں ضروری ہو وہاں انہیں افراطِ زر، پالیسی تبدیلیوں اور میکرو اکنامک مفروضات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے، جبکہ اس بنیاد سے کسی بھی اہم انحراف کو وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بجٹ پیش کرتے وقت واضح طور پر بیان اور جواز فراہم کرنا لازمی ہونا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان کا مڈیم ٹرم بجٹ فریم ورک بھی لازمی سالانہ ریکنسیلی ایشن  کے تابع ہونا چاہیے، جس میں ہر بڑے ہیڈ کے لیے یہ دکھایا جائے کہ تین سال پہلے ایم ٹی بی ایف نے کیا پیشگوئی کی تھی، سالانہ بجٹ نے کیا تخمینہ لگایا تھا، سال کے دوران اس میں کیا نظرثانی ہوئی، اور آخر میں اصل میں کیا حاصل ہوا۔ اس سے ذمہ داری کا بوجھ  تبدیل ہو جائے گا: اس کے بجائے کہ پرامید یا غیر حقیقی تخمینے بغیر سوال کے قبول کر لیے جائیں اور انحرافات بعد میں بیان کیے جائیں، اب زیادہ رسک والے بجٹ ہیڈز کو پیشگی طور پر دفاع کرنا ہوگا۔</p>
<p>کریڈیبیلٹی گیپ کو ختم کرنا اس بات سے ممکن نہیں ہوگا کہ انحرافات کو خود بخود ناکامی سمجھا جائے، بلکہ اس کے لیے بجٹ تخمینوں کے پیچھے موجود مفروضات کو زیادہ شفاف بنانا ہوگا اور بار بار ہونے والے فرق کی وضاحت کو زیادہ منظم اور سخت بنانا ہوگا۔ اس اسکور کارڈ کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ ان پیٹرنز کو بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی نمایاں کر دیتا ہے، تاکہ بحث محض ہیڈلائن مختصات  تک محدود نہ رہے بلکہ ان اعداد و شمار کی قابلِ اعتمادیت تک پہنچ جائے جن پر مالی فیصلے مبنی ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287266</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 10:56:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ردا خالدحسن عمیر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0910485074d3203.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0910485074d3203.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقدس جھوٹ اور نیک نیتی کے ساتھ بدعنوانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287070/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افلاطون نے اپنی کتاب ریپبلک میں مقدس جھوٹ (Noble Lie) کا تصور پیش کیا، یعنی ایسا افسانہ جو حکمران اپنے شہریوں کے لیے گھڑتے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افلاطون کے مطابق ایک فلسفی حکمران اجتماعی بھلائی کی خاطر           جھوٹ بول سکتا ہے؛ وہ اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایک منظم معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بظاہر کافی بے ضرر بات لگتی ہے؛ ایک ایسا جھوٹ جو حکمران کے اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اکثریت کے سکون کے لیے ہو۔ آخرکار، اس سے زیادہ اعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ بے گناہوں کو بچانے، گھبراہٹ کو روکنے یا نظم برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ مقدس جھوٹ صرف ایک جھوٹ نہیں ہوتا؛ یہ ایک فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس میں مہارت، مشق، اور جواز تراشنے کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست شامل ہوتی ہے۔ ایک سادہ، ضروری جھوٹ مزید ایسے جھوٹوں کو جنم دیتا ہے جو پہلے جھوٹ کی وجہ سے ضروری ہو جاتے ہیں۔ نیکی پر مبنی دھوکے سے مکمل تباہی تک کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" href="#مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مقدس جھوٹ کا ڈھانچہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جدید دور کی علمیات میں، ایک حکومت معاشی اعداد و شمار چھپا لیتی ہے تاکہ گھبراہٹ نہ پھیلے، ایک ڈاکٹر مریض کو مہلک بیماری کی تشخیص امید برقرار دیکھنے کیلئے نہیں بتاتا، اور ایک رہنما حملے کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے شواہد کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے رحم کا عمل قرار دیتا ہے؛ وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقدس جھوٹا ہمیشہ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے؛ وہ زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؛ وہ زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے کہ لوگوں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر خود ارادیت کے خلاف ایک دلیل ہے۔ لوگ اپنی جہالت میں ممکن ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے مفاد کے خلاف فیصلے کریں، اس لیے جھوٹ بولنے والا ان کے لیے فیصلے کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خود-فریبی-کا-ہنر" href="#خود-فریبی-کا-ہنر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خود فریبی کا ہنر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مقدس جھوٹ کی حقیقی شرافت دوسروں کو دھوکہ دینے میں نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے میں ہے۔ تاکہ جھوٹ مقدس رہے، جھوٹ بولنے والے کو پہلے خود یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ وہ اخلاقی کام کر رہا ہے۔ وہ کبھی بھی، نہ اپنے لیے اور نہ دوسروں کے لیے، ایک ہیرا پھیری کرنے والا یا بزدل نظر نہیں آ سکتا۔ اسے اسے تحفظ یا قربانی کے عمل کے طور پر جواز دینا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ایک پیچیدہ جوازی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جیسے وہ ابھی سچ کے لیے تیار نہیں، یہ صحیح وقت نہیں ہے، مقاصد ذرائع کو جائز بناتے ہیں۔ یہ محض منافقانہ بہانے نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی طور پر مانے گئے عقائد ہوتے ہیں، جو مقدس جھوٹ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایک منافق کو قائل کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی اداکاری سے تھک سکتا ہے، لیکن خود راست باز جھوٹ بولنے والا واقعی اپنی ہی نیکی پر یقین رکھتا ہے اور آئینے میں اپنی بکھری ہوئی تصویر کو پہچان نہیں پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناگزیر-زوال" href="#ناگزیر-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناگزیر زوال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی جھوٹ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔ یہ دھوکے کا بنیادی اصول ہے۔ آج کا جھوٹ کل سہارا مانگتا ہے؛ چھپائے گئے معاشی حقائق کو اگلے مرحلے میں جعلی ترقیاتی اعداد و شمار سے سہارا دینا پڑتا ہے، چھپائی گئی طبی تشخیص کو جعلی رضامندی فارموں اور گھڑے گئے خاندانی مباحثوں سے بدلنا پڑتا ہے، جنگی معلومات کے جھوٹ کو بعد کے کور اپس، مخبروں کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے فائلوں کے انبار سے چھپانا پڑتا ہے۔ ہر نئی تہہ کے ساتھ داؤ بڑھتے جاتے ہیں، اور کسی بھی لمحے حقیقت کا انکشاف صرف شرمندگی نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح جھوٹ بولنے والے کی توجہ دوسروں کو بچانے سے ہٹ کر خود جھوٹ کو بچانے اور اپنی مقدس حیثیت کو برقرار رکھنے پر چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" href="#سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سچ کا بوجھ: جاننے کی ہلکاپن&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس کا متبادل کیا ہے؟ یقیناً بربریت نہیں۔ مشکل سچائیوں کو شائستگی سے بیان کرنا ممکن ہے، معلومات کو مکمل گھڑنے کے بجائے دانشمندی سے منظم کرنا ممکن ہے، اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بہترین دستیاب معلومات کے ساتھ فیصلے کریں—یہاں تک کہ اگر وہ فیصلے خوشگوار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ، اپنی تعریف کے مطابق، دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچ کا دفاع کیا جا سکتا ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے، اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سچ تنقید کے سامنے نہیں ٹوٹتا؛ سچ مضبوط ہوتا ہے۔ سچ پر مبنی معاشرہ، مقدس جھوٹ پر مبنی معاشرے کے مقابلے میں شاید زیادہ انتشار کا شکار، زیادہ سست اور زیادہ بحث طلب ہو، لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے؛ اسے فلسفی بادشاہوں کی ایک جماعت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے اپنے شہریوں کو کمزور اور طفلانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدس جھوٹ دراصل ایک فن ہے، یہ سچ ہے—خود جواز، ہیرا پھیری، اور بتدریج بڑھتے ہوئے فریب کا فن۔ لیکن یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالآخر ریت کے محل کے سوا کچھ نہیں چھوڑتا۔ ہر نئی نسل کے ساتھ یہی احساس دوبارہ جنم لیتا ہے کہ نیک نیتی پر مبنی جھوٹ بھی آخر جھوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس پر معاشرہ اور تمام انسانی تعلقات چند موسموں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھوکے میں کوئی شرافت نہیں ہوتی۔ اس میں صرف وہ وقتی سکون ہوتا ہے جو حقیقت کا سامنا دوبارہ کرنے سے پہلے ملتا ہے، جو اکثر سخت اور طویل سردی کی صورت میں آتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تباہی کے لیے صرف تین عناصر درکار ہوتے ہیں: ایک جھوٹ، ایک نیک نیتی، اور یہ جہالت کہ سچائی ہمیشہ زیادہ مہربان حل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افلاطون نے اپنی کتاب ریپبلک میں مقدس جھوٹ (Noble Lie) کا تصور پیش کیا، یعنی ایسا افسانہ جو حکمران اپنے شہریوں کے لیے گھڑتے ہیں تاکہ سماجی ہم آہنگی اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔</strong></p>
<p>افلاطون کے مطابق ایک فلسفی حکمران اجتماعی بھلائی کی خاطر           جھوٹ بول سکتا ہے؛ وہ اپنے شہریوں کو یہ باور کرا سکتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر ایک منظم معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بظاہر کافی بے ضرر بات لگتی ہے؛ ایک ایسا جھوٹ جو حکمران کے اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اکثریت کے سکون کے لیے ہو۔ آخرکار، اس سے زیادہ اعلیٰ کیا ہو سکتا ہے کہ بے گناہوں کو بچانے، گھبراہٹ کو روکنے یا نظم برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولا جائے۔</p>
<p>کیونکہ مقدس جھوٹ صرف ایک جھوٹ نہیں ہوتا؛ یہ ایک فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس میں مہارت، مشق، اور جواز تراشنے کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست شامل ہوتی ہے۔ ایک سادہ، ضروری جھوٹ مزید ایسے جھوٹوں کو جنم دیتا ہے جو پہلے جھوٹ کی وجہ سے ضروری ہو جاتے ہیں۔ نیکی پر مبنی دھوکے سے مکمل تباہی تک کا راستہ بہت مختصر ہوتا ہے۔</p>
<h3><a id="مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" href="#مقدس-جھوٹ-کا-ڈھانچہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مقدس جھوٹ کا ڈھانچہ</h3>
<p>جدید دور کی علمیات میں، ایک حکومت معاشی اعداد و شمار چھپا لیتی ہے تاکہ گھبراہٹ نہ پھیلے، ایک ڈاکٹر مریض کو مہلک بیماری کی تشخیص امید برقرار دیکھنے کیلئے نہیں بتاتا، اور ایک رہنما حملے کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے شواہد کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے۔ ہر معاملے میں جھوٹ بولنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ اسے رحم کا عمل قرار دیتا ہے؛ وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا ہے تاکہ دوسروں کو بچایا جا سکے۔</p>
<p>ایک مقدس جھوٹا ہمیشہ یہ فرض کرتا ہے کہ وہ سب سے بہتر جانتا ہے؛ وہ زیادہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے؛ وہ زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے کہ لوگوں کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ یہ بنیادی طور پر خود ارادیت کے خلاف ایک دلیل ہے۔ لوگ اپنی جہالت میں ممکن ہے کہ جھوٹ بولنے والے کے مفاد کے خلاف فیصلے کریں، اس لیے جھوٹ بولنے والا ان کے لیے فیصلے کرتا ہے۔</p>
<h3><a id="خود-فریبی-کا-ہنر" href="#خود-فریبی-کا-ہنر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خود فریبی کا ہنر</h3>
<p>مقدس جھوٹ کی حقیقی شرافت دوسروں کو دھوکہ دینے میں نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دینے میں ہے۔ تاکہ جھوٹ مقدس رہے، جھوٹ بولنے والے کو پہلے خود یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ وہ اخلاقی کام کر رہا ہے۔ وہ کبھی بھی، نہ اپنے لیے اور نہ دوسروں کے لیے، ایک ہیرا پھیری کرنے والا یا بزدل نظر نہیں آ سکتا۔ اسے اسے تحفظ یا قربانی کے عمل کے طور پر جواز دینا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے لیے ایک پیچیدہ جوازی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے، جیسے وہ ابھی سچ کے لیے تیار نہیں، یہ صحیح وقت نہیں ہے، مقاصد ذرائع کو جائز بناتے ہیں۔ یہ محض منافقانہ بہانے نہیں ہوتے، بلکہ حقیقی طور پر مانے گئے عقائد ہوتے ہیں، جو مقدس جھوٹ کو مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ ایک منافق کو قائل کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی اداکاری سے تھک سکتا ہے، لیکن خود راست باز جھوٹ بولنے والا واقعی اپنی ہی نیکی پر یقین رکھتا ہے اور آئینے میں اپنی بکھری ہوئی تصویر کو پہچان نہیں پاتا۔</p>
<h3><a id="ناگزیر-زوال" href="#ناگزیر-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناگزیر زوال</h3>
<p>کوئی بھی جھوٹ اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔ یہ دھوکے کا بنیادی اصول ہے۔ آج کا جھوٹ کل سہارا مانگتا ہے؛ چھپائے گئے معاشی حقائق کو اگلے مرحلے میں جعلی ترقیاتی اعداد و شمار سے سہارا دینا پڑتا ہے، چھپائی گئی طبی تشخیص کو جعلی رضامندی فارموں اور گھڑے گئے خاندانی مباحثوں سے بدلنا پڑتا ہے، جنگی معلومات کے جھوٹ کو بعد کے کور اپس، مخبروں کے خلاف کارروائیوں اور مسلسل بڑھتے ہوئے فائلوں کے انبار سے چھپانا پڑتا ہے۔ ہر نئی تہہ کے ساتھ داؤ بڑھتے جاتے ہیں، اور کسی بھی لمحے حقیقت کا انکشاف صرف شرمندگی نہیں بلکہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح جھوٹ بولنے والے کی توجہ دوسروں کو بچانے سے ہٹ کر خود جھوٹ کو بچانے اور اپنی مقدس حیثیت کو برقرار رکھنے پر چلی جاتی ہے۔</p>
<h3><a id="سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" href="#سچ-کا-بوجھ-جاننے-کی-ہلکاپن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سچ کا بوجھ: جاننے کی ہلکاپن</h3>
<p>اس کا متبادل کیا ہے؟ یقیناً بربریت نہیں۔ مشکل سچائیوں کو شائستگی سے بیان کرنا ممکن ہے، معلومات کو مکمل گھڑنے کے بجائے دانشمندی سے منظم کرنا ممکن ہے، اور یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بالغ افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بہترین دستیاب معلومات کے ساتھ فیصلے کریں—یہاں تک کہ اگر وہ فیصلے خوشگوار نہ ہوں۔</p>
<p>سچ، اپنی تعریف کے مطابق، دیکھ بھال کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچ کا دفاع کیا جا سکتا ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے، اور اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سچ تنقید کے سامنے نہیں ٹوٹتا؛ سچ مضبوط ہوتا ہے۔ سچ پر مبنی معاشرہ، مقدس جھوٹ پر مبنی معاشرے کے مقابلے میں شاید زیادہ انتشار کا شکار، زیادہ سست اور زیادہ بحث طلب ہو، لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے؛ اسے فلسفی بادشاہوں کی ایک جماعت کی ضرورت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے اپنے شہریوں کو کمزور اور طفلانہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>مقدس جھوٹ دراصل ایک فن ہے، یہ سچ ہے—خود جواز، ہیرا پھیری، اور بتدریج بڑھتے ہوئے فریب کا فن۔ لیکن یہ ایک ایسا ہنر ہے جو بالآخر ریت کے محل کے سوا کچھ نہیں چھوڑتا۔ ہر نئی نسل کے ساتھ یہی احساس دوبارہ جنم لیتا ہے کہ نیک نیتی پر مبنی جھوٹ بھی آخر جھوٹ ہی ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ یہ اس اعتماد کو کمزور کرتے ہیں جس پر معاشرہ اور تمام انسانی تعلقات چند موسموں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتے۔</p>
<p>دھوکے میں کوئی شرافت نہیں ہوتی۔ اس میں صرف وہ وقتی سکون ہوتا ہے جو حقیقت کا سامنا دوبارہ کرنے سے پہلے ملتا ہے، جو اکثر سخت اور طویل سردی کی صورت میں آتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ تباہی کے لیے صرف تین عناصر درکار ہوتے ہیں: ایک جھوٹ، ایک نیک نیتی، اور یہ جہالت کہ سچائی ہمیشہ زیادہ مہربان حل ہوتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287070</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:18:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/04121607f25c4ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/04121607f25c4ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے شہری علاقوں میں ہائی بلڈ پریشر کے جدید محرکات کو سمجھنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286850/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر سال 17 مئی کو دنیا بھر میں ”ورلڈ ہائیپرٹینشن ڈے“ منایا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری مراکز جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس بحران کی سنگینی کو محسوس کرنے کے لیے شاید ایک مخصوص دن سے بڑھ کر مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اب وہ بیماری نہیں رہی جو صرف پچاس سال کی عمر کے بعد لوگوں کو متاثر کرتی تھی؛ یہ اب پہلے سے کہیں زیادہ جلدی، تیزی سے اور خاموشی سے سامنے آ رہا ہے۔ اس کے محرکات اس بار جدید زندگی کی وہی روزمرہ کی رفتار اور معمولات ہیں جو ہماری طرزِ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار ہماری توجہ کے متقاضی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی 2023 کی ”پاکستان کے لیے ہائی بلڈ پریشر پروفائل“ کے مطابق پاکستان میں 30 سے 79 سال کی عمر کے تقریباً 3 کروڑ 22 لاکھ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 2025 میں اسلام آباد کے ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں کی گئی ایک کمیونٹی بیسڈ کراس سیکشنل تحقیق کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بغیر تشخیص کے، خاموشی سے، لاعلمی میں اور خطرناک حد تک، ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ افراد نہ تو محض ادھیڑ عمر کے ہیں اور نہ ہی بزرگ؛ یہ فائنل ایئر کے طلبہ، جونیئر ایگزیکٹوز، نئے والدین اور رات گئے شہر کی ٹریفک میں سفر کرنے والے رائیڈ شیئر ڈرائیورز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کے قلبی نتائج پہلے ہی پاکستان کے اسپتالوں میں نظر آنے لگے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 40 سال سے کم عمر کے 150 ایسے مریضوں میں، جو ایکیوٹ کورونری سنڈروم کے ساتھ اسپتال لائے گئے، دل کے دورے کی اوسط عمر صرف 34 سال تھی۔ ان مریضوں میں سے پانچ میں سے ایک سے زائد میں ہائی بلڈ پریشر ایک اہم خطرے کے عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ یہ وہ افراد تھے جو اپنی عملی زندگی کے بہترین دور میں تھے، جن میں سے اکثر کو شاید اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کا بلڈ پریشر خاموشی سے ایک بڑے دل کے دورے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آخر کیا بدلا ہے؟ ہم اس عمر میں یہ تبدیلی کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اس کا جواب صرف جینیات میں نہیں بلکہ آج کے شہری پاکستانی طرزِ زندگی کے ڈھانچے میں چھپا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے دباؤ (اسٹریس) سے آغاز کرتے ہیں، کیونکہ 2026 میں مسلسل نفسیاتی دباؤ اب کوئی مبہم یا نرم شکایت نہیں رہا۔ یہ ایک جسمانی (فزیالوجیکل) عمل ہے۔ جب جسم کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے، چاہے وہ کام کی ڈیڈ لائن ہو، مالی پریشانی ہو یا سوشل میڈیا فیڈ کی مسلسل ذہنی یلغار، تو یہ ہائپوتھیلمک پیٹیوٹری ایڈرینل ( ایچ پی اے) محور کو متحرک کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں خون میں کورٹیسول اور ایڈرینالین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور خون کی نالیوں میں سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ کیفیت روزانہ، مہینوں اور برسوں تک بار بار دہرائی جائے تو نتیجہ ایک ایسا عروقی نظام ( ویسکیولر سسٹم) ہوتا ہے جو مسلسل دباؤ کی حالت میں رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایک خاموش مگر گہری غذائی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور ہم اب جا کر اس کے قلبی صحت پر پڑنے والے اثرات کو ناپنا شروع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;2025 میں شائع ہونے والے جریدے فرنٹیئرز ان کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے مطالعے، جو اس بیماری کے عالمی بوجھ 2021 کے ڈیٹا بیس پر مبنی ہے، کے مطابق جدید طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، خاص طور پر بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ، بیٹھے رہنے کا رجحان اور زیادہ شوگر و چکنائی والی خوراک، 15 سے 39 سال کی عمر کے گروپ میں ہائی بلڈ پریشر کے بوجھ کو براہِ راست بڑھا رہی ہیں۔ اسلام آباد کے وہ نوجوان پیشہ ور افراد جو مختلف ٹائم زونز میں کلائنٹ کالز سنبھال رہے ہیں، یا وہ میڈیکل کے طلبہ جو امتحانات سے پہلے مسلسل راتیں جاگ رہے ہیں، ان کے لیے یہ کوئی مفروضہ خطرہ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری زندگی میں جسمانی سرگرمی کا تقریباً مکمل خاتمہ اس دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ہم نے حرکت کو اپنی روزمرہ زندگی سے تقریباً ختم کر دیا ہے۔ دفاتر، جامعات اور گھر تیزی سے بیٹھے رہنے والے ماحول میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ڈیلیوری سروسز ہر چیز دروازے تک پہنچا دیتی ہیں اور ملاقاتیں اسکرینوں پر ہوتی ہیں۔ 2024 میں پب میڈ(سائنسی تحقیقی مقالوں کے عالمی ڈیٹا بیس) میں شائع ہونے والے ایک منظم جائزے (سسٹمیٹک ریویو) نے تصدیق کی ہے کہ بیٹھے رہنے کا رویہ نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کے لیے سب سے اہم شماریاتی طرزِ زندگی خطرات میں سے ایک ہے، خصوصاً جب یہ موٹاپے اور غیر صحت مند خوراک کے ساتھ جڑا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں 2024 کے دوران آغا خان یونیورسٹی کی اسکول بیسڈ تحقیق کے مطابق شہری بچوں میں سے 13 فیصد پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 21 فیصد میں پیٹ کے گرد چربی ( سینٹرل اوبے ستٹی ) دیکھی گئی۔ یہ وہ بچے ہیں جو آنے والے برسوں میں ہائی بلڈ پریشر کے ممکنہ مریض بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر آتی ہے ہماری خوراک، یا زیادہ درست الفاظ میں، وہ چیزیں جو ہم نہیں کھا رہے۔ 2024 میں جریدے نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک طویل المدتی مشاہداتی (پراسپیکٹیو کوہارٹ) تحقیق کے مطابق 47 سال سے کم عمر افراد جنہوں نے زیادہ مقدار میں الٹرا پروسیسڈ فوڈز استعمال کیے، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً دوگنا پایا گیا، ان افراد کے مقابلے میں جو کم مقدار میں ایسی غذائیں کھاتے تھے۔ فائل میں بند بریانی، انسٹنٹ نوڈلز، فزی ڈرنکس اور سڑک کنارے دستیاب پیکڈ اسنیکس عام طور پر زیادہ سوڈیم، صنعتی چکنائیوں اور اضافی کیمیکلز پر مشتمل ہوتے ہیں، جو خون کی نالیوں کی اندرونی جھلی ( اینڈو تھیلیل فنکشن) کو متاثر کرتے ہیں، جسم میں سوڈیم کے اخراج کو کم کرتے ہیں اور شریانوں میں سوزش ( ویسکولر انفلامیشن) کو بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایک خاموش مگر گہری غذائی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور ہم اب جا کر اس کے قلبی اثرات کا اندازہ لگانا شروع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں باری آتی ہے نیند کی، جو شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا عنصر ہے۔ متعدد مطالعات نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ کم نیند اور نوجوان و درمیانی عمر کے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کے درمیان مضبوط تعلق پایا جاتا ہے۔ ایشیا، بشمول پاکستان، دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں رات دیر تک جاگنے کی شرح سب سے زیادہ ہے، جس کی بڑی وجوہات اسکرین کا زیادہ استعمال، سماجی مصروفیات اور ذہنی دباؤ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں ہونے والی ایک کراس سیکشنل (ایک ہی لمحے میں بیماری یا رویے کی جانچ) تحقیق، جس میں پاکستانی شرکاء شامل تھے، نے یہ پایا کہ کم نیند کا تعلق نمایاں طور پر زیادہ ذہنی دباؤ اور قلبی امراض کے خطرے میں اضافے سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیند کی کمی جسم کے ہمدرد اعصابی نظام کی سرگرمی بڑھا دیتی ہے، رات کے وقت بلڈ پریشر میں قدرتی کمی کو متاثر کرتی ہے، اور شریانوں کی سختی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ وہ تمام عمل ہیں جن کی مرمت جسم عام طور پر آدھی رات سے فجر کے درمیان کرتا ہے۔ جب یہ وقت اسکرین کے استعمال، مثلاً انسٹاگرام ریلز یا امتحانات کے دباؤ کی نذر ہو جاتا ہے، تو جسم کو یہ قدرتی بحالی کا موقع نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی تصویر نہایت تشویشناک ہے۔ شہری پاکستان میں رہنے والا ایک 26 سالہ نوجوان جو باقاعدگی سے پراسیسڈ فوڈ کھاتا ہے، دن کا بیشتر حصہ بیٹھا رہتا ہے، چھ گھنٹے سے کم سوتا ہے، اور مالی یا تعلیمی دباؤ کا شکار ہے، وہ صرف طرزِ زندگی کے انتخاب نہیں کر رہا بلکہ خاموشی سے ہائی بلڈ پریشر کی بنیاد رکھ رہا ہے—بغیر کسی واضح علامت کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا حل کیا ہے؟ سب سے مؤثر قدم اب بھی طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ ہفتے میں زیادہ تر دنوں میں 30 سے 45 منٹ کی معتدل ایروبک ورزش سسٹولک بلڈ پریشر کو 4 سے 9 ملی میٹر تک کم کر سکتی ہے، جو بعض ادویات کے اثر کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم نمک اور پراسیسڈ فوڈ سے پاک، جبکہ پھلوں اور سبزیوں سے بھرپور خوراک خون کی نالیوں کے صحت مند توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے معیاری نیند، اور ذہنی دباؤ کو منظم کرنے کے طریقے جیسے ذہنی سکون ( مائنڈ فل نیس)، عبادت یا باقاعدہ جسمانی سرگرمی، وقت کے ساتھ جسم کے تناؤ کے ردعمل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بہت سے مریضوں کے لیے صرف طرزِ زندگی میں تبدیلی کافی نہیں ہوتی۔ اگر غیر ادویاتی اقدامات کے باوجود بلڈ پریشر مسلسل بلند رہے تو طبی علاج ضروری ہو جاتا ہے اور اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ عالمی معیارِ علاج میں کئی مؤثر اور عام دستیاب ادویاتی گروپس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں اینجیوتینسن کنورٹنگ انزائم روکنے والی ادویات( اے سی ای ان ہیبیٹرز) اور اینجیوتینسن II ریسیپٹر بلاکرز(اے آر بیز) شامل ہیں جو دل اور گردوں کی حفاظت کرتے ہوئے خون کی نالیوں کی مزاحمت کم کرتے ہیں؛ کیلشیم چینل بلاکرز جو شریانوں کو پھیلا کر نرم کرتے ہیں؛ تھایازائیڈ ڈائی یوریٹکس جو جسم میں اضافی پانی کم کرتے ہیں؛ اور بیٹا بلاکرز جو دل کی دھڑکن اور کارڈیک آؤٹ پٹ کو کم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام ادویات پاکستان میں دستیاب ہیں، نسبتاً سستی ہیں، اور درست طریقے سے استعمال کی جائیں تو نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اصل مسئلہ علاج کی عدم دستیابی نہیں بلکہ اس خاموش بیماری کے بارے میں آگاہی اور سمجھ کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ورلڈ ہائیپرٹینشن ڈے پر ایک سادہ مگر اہم قدم: اپنا بلڈ پریشر ابھی چیک کریں، اور بہتر نتائج کے لیے اس کا ریکارڈ (چارٹ) رکھیں۔ اگر یہ مسلسل بلند ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مناسب خوراک اور ضرورت پڑنے پر طبی علاج اختیار کریں۔ یہ معمولی سا قدم آنے والے کئی دہائیوں کی صحت کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہ ”خاموش قاتل“ اسی لیے خاموش ہے کیونکہ یہ آپ سے کچھ مانگے بغیر سب کچھ چھین لیتا ہے۔ شہری پاکستان کی تیز رفتار زندگی کو اس کی وجہ نہ بننے دیں کہ آپ نے خطرے کو وقت پر نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر سال 17 مئی کو دنیا بھر میں ”ورلڈ ہائیپرٹینشن ڈے“ منایا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری مراکز جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس بحران کی سنگینی کو محسوس کرنے کے لیے شاید ایک مخصوص دن سے بڑھ کر مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اب وہ بیماری نہیں رہی جو صرف پچاس سال کی عمر کے بعد لوگوں کو متاثر کرتی تھی؛ یہ اب پہلے سے کہیں زیادہ جلدی، تیزی سے اور خاموشی سے سامنے آ رہا ہے۔ اس کے محرکات اس بار جدید زندگی کی وہی روزمرہ کی رفتار اور معمولات ہیں جو ہماری طرزِ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔</strong></p>
<p>اعداد و شمار ہماری توجہ کے متقاضی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی 2023 کی ”پاکستان کے لیے ہائی بلڈ پریشر پروفائل“ کے مطابق پاکستان میں 30 سے 79 سال کی عمر کے تقریباً 3 کروڑ 22 لاکھ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 2025 میں اسلام آباد کے ایچ بی ایس میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں کی گئی ایک کمیونٹی بیسڈ کراس سیکشنل تحقیق کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بغیر تشخیص کے، خاموشی سے، لاعلمی میں اور خطرناک حد تک، ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہے۔</p>
<p>یہ افراد نہ تو محض ادھیڑ عمر کے ہیں اور نہ ہی بزرگ؛ یہ فائنل ایئر کے طلبہ، جونیئر ایگزیکٹوز، نئے والدین اور رات گئے شہر کی ٹریفک میں سفر کرنے والے رائیڈ شیئر ڈرائیورز ہیں۔</p>
<p>اس رجحان کے قلبی نتائج پہلے ہی پاکستان کے اسپتالوں میں نظر آنے لگے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 40 سال سے کم عمر کے 150 ایسے مریضوں میں، جو ایکیوٹ کورونری سنڈروم کے ساتھ اسپتال لائے گئے، دل کے دورے کی اوسط عمر صرف 34 سال تھی۔ ان مریضوں میں سے پانچ میں سے ایک سے زائد میں ہائی بلڈ پریشر ایک اہم خطرے کے عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ یہ وہ افراد تھے جو اپنی عملی زندگی کے بہترین دور میں تھے، جن میں سے اکثر کو شاید اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کا بلڈ پریشر خاموشی سے ایک بڑے دل کے دورے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آخر کیا بدلا ہے؟ ہم اس عمر میں یہ تبدیلی کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اس کا جواب صرف جینیات میں نہیں بلکہ آج کے شہری پاکستانی طرزِ زندگی کے ڈھانچے میں چھپا ہے۔</p>
<p>آئیے دباؤ (اسٹریس) سے آغاز کرتے ہیں، کیونکہ 2026 میں مسلسل نفسیاتی دباؤ اب کوئی مبہم یا نرم شکایت نہیں رہا۔ یہ ایک جسمانی (فزیالوجیکل) عمل ہے۔ جب جسم کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے، چاہے وہ کام کی ڈیڈ لائن ہو، مالی پریشانی ہو یا سوشل میڈیا فیڈ کی مسلسل ذہنی یلغار، تو یہ ہائپوتھیلمک پیٹیوٹری ایڈرینل ( ایچ پی اے) محور کو متحرک کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں خون میں کورٹیسول اور ایڈرینالین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور خون کی نالیوں میں سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ کیفیت روزانہ، مہینوں اور برسوں تک بار بار دہرائی جائے تو نتیجہ ایک ایسا عروقی نظام ( ویسکیولر سسٹم) ہوتا ہے جو مسلسل دباؤ کی حالت میں رہتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان ایک خاموش مگر گہری غذائی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور ہم اب جا کر اس کے قلبی صحت پر پڑنے والے اثرات کو ناپنا شروع کر رہے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>2025 میں شائع ہونے والے جریدے فرنٹیئرز ان کارڈیو ویسکولر میڈیسن کے مطالعے، جو اس بیماری کے عالمی بوجھ 2021 کے ڈیٹا بیس پر مبنی ہے، کے مطابق جدید طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، خاص طور پر بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ، بیٹھے رہنے کا رجحان اور زیادہ شوگر و چکنائی والی خوراک، 15 سے 39 سال کی عمر کے گروپ میں ہائی بلڈ پریشر کے بوجھ کو براہِ راست بڑھا رہی ہیں۔ اسلام آباد کے وہ نوجوان پیشہ ور افراد جو مختلف ٹائم زونز میں کلائنٹ کالز سنبھال رہے ہیں، یا وہ میڈیکل کے طلبہ جو امتحانات سے پہلے مسلسل راتیں جاگ رہے ہیں، ان کے لیے یہ کوئی مفروضہ خطرہ نہیں بلکہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔</p>
<p>شہری زندگی میں جسمانی سرگرمی کا تقریباً مکمل خاتمہ اس دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ہم نے حرکت کو اپنی روزمرہ زندگی سے تقریباً ختم کر دیا ہے۔ دفاتر، جامعات اور گھر تیزی سے بیٹھے رہنے والے ماحول میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ڈیلیوری سروسز ہر چیز دروازے تک پہنچا دیتی ہیں اور ملاقاتیں اسکرینوں پر ہوتی ہیں۔ 2024 میں پب میڈ(سائنسی تحقیقی مقالوں کے عالمی ڈیٹا بیس) میں شائع ہونے والے ایک منظم جائزے (سسٹمیٹک ریویو) نے تصدیق کی ہے کہ بیٹھے رہنے کا رویہ نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کے لیے سب سے اہم شماریاتی طرزِ زندگی خطرات میں سے ایک ہے، خصوصاً جب یہ موٹاپے اور غیر صحت مند خوراک کے ساتھ جڑا ہو۔</p>
<p>کراچی میں 2024 کے دوران آغا خان یونیورسٹی کی اسکول بیسڈ تحقیق کے مطابق شہری بچوں میں سے 13 فیصد پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 21 فیصد میں پیٹ کے گرد چربی ( سینٹرل اوبے ستٹی ) دیکھی گئی۔ یہ وہ بچے ہیں جو آنے والے برسوں میں ہائی بلڈ پریشر کے ممکنہ مریض بن سکتے ہیں۔</p>
<p>پھر آتی ہے ہماری خوراک، یا زیادہ درست الفاظ میں، وہ چیزیں جو ہم نہیں کھا رہے۔ 2024 میں جریدے نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک طویل المدتی مشاہداتی (پراسپیکٹیو کوہارٹ) تحقیق کے مطابق 47 سال سے کم عمر افراد جنہوں نے زیادہ مقدار میں الٹرا پروسیسڈ فوڈز استعمال کیے، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً دوگنا پایا گیا، ان افراد کے مقابلے میں جو کم مقدار میں ایسی غذائیں کھاتے تھے۔ فائل میں بند بریانی، انسٹنٹ نوڈلز، فزی ڈرنکس اور سڑک کنارے دستیاب پیکڈ اسنیکس عام طور پر زیادہ سوڈیم، صنعتی چکنائیوں اور اضافی کیمیکلز پر مشتمل ہوتے ہیں، جو خون کی نالیوں کی اندرونی جھلی ( اینڈو تھیلیل فنکشن) کو متاثر کرتے ہیں، جسم میں سوڈیم کے اخراج کو کم کرتے ہیں اور شریانوں میں سوزش ( ویسکولر انفلامیشن) کو بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان ایک خاموش مگر گہری غذائی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور ہم اب جا کر اس کے قلبی اثرات کا اندازہ لگانا شروع کر رہے ہیں۔</p>
<p>آخر میں باری آتی ہے نیند کی، جو شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا عنصر ہے۔ متعدد مطالعات نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ کم نیند اور نوجوان و درمیانی عمر کے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کے درمیان مضبوط تعلق پایا جاتا ہے۔ ایشیا، بشمول پاکستان، دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں رات دیر تک جاگنے کی شرح سب سے زیادہ ہے، جس کی بڑی وجوہات اسکرین کا زیادہ استعمال، سماجی مصروفیات اور ذہنی دباؤ ہیں۔</p>
<p>2025 میں ہونے والی ایک کراس سیکشنل (ایک ہی لمحے میں بیماری یا رویے کی جانچ) تحقیق، جس میں پاکستانی شرکاء شامل تھے، نے یہ پایا کہ کم نیند کا تعلق نمایاں طور پر زیادہ ذہنی دباؤ اور قلبی امراض کے خطرے میں اضافے سے ہے۔</p>
<p>نیند کی کمی جسم کے ہمدرد اعصابی نظام کی سرگرمی بڑھا دیتی ہے، رات کے وقت بلڈ پریشر میں قدرتی کمی کو متاثر کرتی ہے، اور شریانوں کی سختی کو فروغ دیتی ہے۔ یہ وہ تمام عمل ہیں جن کی مرمت جسم عام طور پر آدھی رات سے فجر کے درمیان کرتا ہے۔ جب یہ وقت اسکرین کے استعمال، مثلاً انسٹاگرام ریلز یا امتحانات کے دباؤ کی نذر ہو جاتا ہے، تو جسم کو یہ قدرتی بحالی کا موقع نہیں ملتا۔</p>
<p>مجموعی تصویر نہایت تشویشناک ہے۔ شہری پاکستان میں رہنے والا ایک 26 سالہ نوجوان جو باقاعدگی سے پراسیسڈ فوڈ کھاتا ہے، دن کا بیشتر حصہ بیٹھا رہتا ہے، چھ گھنٹے سے کم سوتا ہے، اور مالی یا تعلیمی دباؤ کا شکار ہے، وہ صرف طرزِ زندگی کے انتخاب نہیں کر رہا بلکہ خاموشی سے ہائی بلڈ پریشر کی بنیاد رکھ رہا ہے—بغیر کسی واضح علامت کے۔</p>
<p>اس کا حل کیا ہے؟ سب سے مؤثر قدم اب بھی طرزِ زندگی میں تبدیلی ہے۔ ہفتے میں زیادہ تر دنوں میں 30 سے 45 منٹ کی معتدل ایروبک ورزش سسٹولک بلڈ پریشر کو 4 سے 9 ملی میٹر تک کم کر سکتی ہے، جو بعض ادویات کے اثر کے برابر ہے۔</p>
<p>کم نمک اور پراسیسڈ فوڈ سے پاک، جبکہ پھلوں اور سبزیوں سے بھرپور خوراک خون کی نالیوں کے صحت مند توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے معیاری نیند، اور ذہنی دباؤ کو منظم کرنے کے طریقے جیسے ذہنی سکون ( مائنڈ فل نیس)، عبادت یا باقاعدہ جسمانی سرگرمی، وقت کے ساتھ جسم کے تناؤ کے ردعمل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بہت سے مریضوں کے لیے صرف طرزِ زندگی میں تبدیلی کافی نہیں ہوتی۔ اگر غیر ادویاتی اقدامات کے باوجود بلڈ پریشر مسلسل بلند رہے تو طبی علاج ضروری ہو جاتا ہے اور اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ عالمی معیارِ علاج میں کئی مؤثر اور عام دستیاب ادویاتی گروپس شامل ہیں۔</p>
<p>ان میں اینجیوتینسن کنورٹنگ انزائم روکنے والی ادویات( اے سی ای ان ہیبیٹرز) اور اینجیوتینسن II ریسیپٹر بلاکرز(اے آر بیز) شامل ہیں جو دل اور گردوں کی حفاظت کرتے ہوئے خون کی نالیوں کی مزاحمت کم کرتے ہیں؛ کیلشیم چینل بلاکرز جو شریانوں کو پھیلا کر نرم کرتے ہیں؛ تھایازائیڈ ڈائی یوریٹکس جو جسم میں اضافی پانی کم کرتے ہیں؛ اور بیٹا بلاکرز جو دل کی دھڑکن اور کارڈیک آؤٹ پٹ کو کم کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ تمام ادویات پاکستان میں دستیاب ہیں، نسبتاً سستی ہیں، اور درست طریقے سے استعمال کی جائیں تو نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اصل مسئلہ علاج کی عدم دستیابی نہیں بلکہ اس خاموش بیماری کے بارے میں آگاہی اور سمجھ کی کمی ہے۔</p>
<p>اس ورلڈ ہائیپرٹینشن ڈے پر ایک سادہ مگر اہم قدم: اپنا بلڈ پریشر ابھی چیک کریں، اور بہتر نتائج کے لیے اس کا ریکارڈ (چارٹ) رکھیں۔ اگر یہ مسلسل بلند ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مناسب خوراک اور ضرورت پڑنے پر طبی علاج اختیار کریں۔ یہ معمولی سا قدم آنے والے کئی دہائیوں کی صحت کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہ ”خاموش قاتل“ اسی لیے خاموش ہے کیونکہ یہ آپ سے کچھ مانگے بغیر سب کچھ چھین لیتا ہے۔ شہری پاکستان کی تیز رفتار زندگی کو اس کی وجہ نہ بننے دیں کہ آپ نے خطرے کو وقت پر نہیں دیکھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286850</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 21:06:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پروفیسر ڈاکٹر کاشف علی ہاشمی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/2920162302f41c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/2920162302f41c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشترکہ کچنز، فوڈ اکانومی میں تیز رفتار ترقی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286813/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی فوڈ انڈسٹری کا ارتقا روایتی ہائی اسٹریٹ ریسٹورنٹ سے ہٹ کر ایک زیادہ مؤثر اور مشترکہ انفراسٹرکچر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں ریسٹورنٹس مہنگے ڈائننگ ہالز کو ترک کر کے مشترکہ کچن ماڈل اپنا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی صارفین کے رویے میں ایک بڑی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہی ہے، خاص طور پر جنریشن زی اور کم عمر ملینیلز کی وجہ سے۔ اس ڈیجیٹل دور کی نسل کے لیے کھانے کا تجربہ اب کسی فزیکل میز سے جڑا نہیں رہا، بلکہ اس کی تعریف رفتار، ورائٹی اور اسمارٹ فون ایپ کی آسانی سے ہوتی ہے۔ یہ لوگ آن ڈیمانڈ زندگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جہاں روایتی ڈائن اِن تجربہ اکثر اعلیٰ معیار کے کھانوں کی گھر تک ڈیلیوری سے بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماڈل کی کامیابی اس بات میں ہے کہ یہ کھانا بنانے کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے داخلے کی رکاوٹ کو کم کر دیتا ہے۔ ایک عام ریسٹورنٹ کھولنے کے لیے عموماً رئیل اسٹیٹ، اندرونی ڈیزائن اور عملے پر بہت بڑی ابتدائی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ مشترکہ کچنز ان بھاری اخراجات کو ختم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسا مشترکہ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں یوٹیلیٹیز اور خصوصی آلات پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک زیادہ خطرناک جوئے کو ایک اسٹریٹجک قدم میں بدل دیتا ہے، جس سے شیفس کو اپنے فن پر مکمل توجہ دینے کی آزادی ملتی ہے۔ اس سے انہیں یہ سہولت بھی ملتی ہے کہ وہ نئے مینیو آزما سکیں اور مختلف علاقوں میں بغیر اس خوف کے داخل ہو سکیں کہ اگر کوئی مخصوص تصور فوری طور پر کامیاب نہ ہو تو بڑا مالی نقصان ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ کچنز ایک نجی، پیشہ ورانہ اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں کاروبار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ ہوم کچن اور کمرشل برانڈ کے درمیان خلا کو پُر کرتے ہیں، جس سے کاروبار کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر آپریشنز کرے اور ہزاروں نئے صارفین تک پہنچے، جبکہ پیشہ ورانہ معیار بھی برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مارکیٹ میں یہ ماڈل خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ ہمارے شہری ماحول میں منفرد چیلنجز موجود ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے گنجان آباد شہروں میں مرکزی علاقوں میں سستے اور قابل رسائی مقامات تلاش کرنا ایک مشکل کام ہے۔ مشترکہ کچنز اس مسئلے کو حل کرتے ہیں کیونکہ یہ برانڈز کو کم لاگت پر مصروف علاقوں میں اپنی موجودگی قائم کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل دریافت زیادہ عام ہو رہی ہے اور فٹ ٹریفک کی اہمیت کم ہو رہی ہے، یہ ڈیلیوری پر مبنی انفراسٹرکچر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سپلائی ایک ایسے معاشرے کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ہم آہنگ رہے جو اپنی روزمرہ زندگی میں ایپس پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جگہیں جدید دور کے حقیقی انوویشن ہب کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں نئے فوڈ آئیڈیاز پیدا ہوتے ہیں اور حقیقی وقت میں آزمائے جاتے ہیں۔ قابل پیمائش کاروباری ترقی کے علاوہ، مشترکہ کچنز مقامی کمیونٹی کے لیے معاشی، سماجی، ماحولیاتی اور صحت کے لحاظ سے بھی اہم فوائد فراہم کرتے ہیں، جیسا کہ دنیا بھر کی تحقیق میں دیکھا گیا ہے۔ آپریشنز کو مرکزی بنانے سے وہ توانائی کے استعمال کو بہتر طریقے سے منظم کر سکتے ہیں اور خوراک کے ضیاع کو کم کر سکتے ہیں، جس سے ایک زیادہ پائیدار ماحول میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں یہ ماڈل خواتین انٹرپرینیورز کے لیے بھی ایک بڑا موقع پیدا کرتا ہے۔ دیسی کاٹیج انڈسٹری میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے، جہاں خواتین گھر سے کامیاب فوڈ بزنس چلا رہی ہیں۔ تاہم، سماجی و ثقافتی رکاوٹوں یا عوامی سطح پر دکان کھولنے کے لاجسٹک مسائل کی وجہ سے ان کے لیے کاروبار کو اسکیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ کچنز ایک نجی، پیشہ ورانہ اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں کاروبار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ ہوم کچن اور کمرشل برانڈ کے درمیان خلا کو پُر کرتے ہیں، جس سے کاروبار کو بڑے پیمانے پر آپریشنز کرنے اور ہزاروں نئے صارفین تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ پیشہ ورانہ معیار بھی برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جتنا یہ نئے منصوبوں کے لیے اہم ہیں، یہ بھی اہم ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مشترکہ کچن انفراسٹرکچر پہلے سے قائم برانڈز کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جو اپنی توسیع چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، فوڈ پانڈا کچنز ایک ڈیلیوری فرسٹ ماڈل فراہم کرتا ہے جو ریسٹورنٹ پارٹنرز کو نئے مارکیٹس ٹیسٹ کرنے اور کم رسک اور کم لاگت کے ساتھ اپنی موجودگی بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ایک ایسے برانڈ کو جو شہر کے ایک حصے میں شروع ہوا ہو، تقریباً فوری طور پر شہر کے دوسرے حصے میں بھی پہنچنے کے قابل بناتا ہے، اور ڈیٹا بیسڈ انسائٹس کے ذریعے کچنز وہاں لگاتا ہے جہاں طلب سب سے زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، مشترکہ کچنز فوڈ انڈسٹری کو زیادہ شمولیتی اور مضبوط بنانے کے بارے میں ہیں۔ اخراجات کم کرنے اور وسائل کو شیئر کرنے کے ذریعے ہم ایک زیادہ متنوع فوڈ کلچر دیکھ رہے ہیں جہاں نئے اسٹارٹ اپس اور بڑے چینز دونوں ساتھ ترقی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی پاکستان کی فوڈ اکانومی کا ایک زیادہ ذہین اور کمیونٹی پر مبنی مستقبل ہے، جو سہولت اور معیار کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔ روایتی ترقیاتی رکاوٹوں کو ختم کر کے ہم فوڈ انوویشن کی نئی نسل کے لیے راستہ کھول رہے ہیں تاکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ بلندیوں تک پہنچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی فوڈ انڈسٹری کا ارتقا روایتی ہائی اسٹریٹ ریسٹورنٹ سے ہٹ کر ایک زیادہ مؤثر اور مشترکہ انفراسٹرکچر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں ریسٹورنٹس مہنگے ڈائننگ ہالز کو ترک کر کے مشترکہ کچن ماڈل اپنا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ تبدیلی صارفین کے رویے میں ایک بڑی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہی ہے، خاص طور پر جنریشن زی اور کم عمر ملینیلز کی وجہ سے۔ اس ڈیجیٹل دور کی نسل کے لیے کھانے کا تجربہ اب کسی فزیکل میز سے جڑا نہیں رہا، بلکہ اس کی تعریف رفتار، ورائٹی اور اسمارٹ فون ایپ کی آسانی سے ہوتی ہے۔ یہ لوگ آن ڈیمانڈ زندگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جہاں روایتی ڈائن اِن تجربہ اکثر اعلیٰ معیار کے کھانوں کی گھر تک ڈیلیوری سے بدل جاتا ہے۔</p>
<p>اس ماڈل کی کامیابی اس بات میں ہے کہ یہ کھانا بنانے کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے داخلے کی رکاوٹ کو کم کر دیتا ہے۔ ایک عام ریسٹورنٹ کھولنے کے لیے عموماً رئیل اسٹیٹ، اندرونی ڈیزائن اور عملے پر بہت بڑی ابتدائی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ مشترکہ کچنز ان بھاری اخراجات کو ختم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسا مشترکہ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں یوٹیلیٹیز اور خصوصی آلات پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>یہ ایک زیادہ خطرناک جوئے کو ایک اسٹریٹجک قدم میں بدل دیتا ہے، جس سے شیفس کو اپنے فن پر مکمل توجہ دینے کی آزادی ملتی ہے۔ اس سے انہیں یہ سہولت بھی ملتی ہے کہ وہ نئے مینیو آزما سکیں اور مختلف علاقوں میں بغیر اس خوف کے داخل ہو سکیں کہ اگر کوئی مخصوص تصور فوری طور پر کامیاب نہ ہو تو بڑا مالی نقصان ہو جائے گا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>مشترکہ کچنز ایک نجی، پیشہ ورانہ اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں کاروبار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ ہوم کچن اور کمرشل برانڈ کے درمیان خلا کو پُر کرتے ہیں، جس سے کاروبار کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر آپریشنز کرے اور ہزاروں نئے صارفین تک پہنچے، جبکہ پیشہ ورانہ معیار بھی برقرار رہے۔</p>
</blockquote>
<p>پاکستانی مارکیٹ میں یہ ماڈل خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ ہمارے شہری ماحول میں منفرد چیلنجز موجود ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے گنجان آباد شہروں میں مرکزی علاقوں میں سستے اور قابل رسائی مقامات تلاش کرنا ایک مشکل کام ہے۔ مشترکہ کچنز اس مسئلے کو حل کرتے ہیں کیونکہ یہ برانڈز کو کم لاگت پر مصروف علاقوں میں اپنی موجودگی قائم کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل دریافت زیادہ عام ہو رہی ہے اور فٹ ٹریفک کی اہمیت کم ہو رہی ہے، یہ ڈیلیوری پر مبنی انفراسٹرکچر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سپلائی ایک ایسے معاشرے کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ہم آہنگ رہے جو اپنی روزمرہ زندگی میں ایپس پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ جگہیں جدید دور کے حقیقی انوویشن ہب کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں نئے فوڈ آئیڈیاز پیدا ہوتے ہیں اور حقیقی وقت میں آزمائے جاتے ہیں۔ قابل پیمائش کاروباری ترقی کے علاوہ، مشترکہ کچنز مقامی کمیونٹی کے لیے معاشی، سماجی، ماحولیاتی اور صحت کے لحاظ سے بھی اہم فوائد فراہم کرتے ہیں، جیسا کہ دنیا بھر کی تحقیق میں دیکھا گیا ہے۔ آپریشنز کو مرکزی بنانے سے وہ توانائی کے استعمال کو بہتر طریقے سے منظم کر سکتے ہیں اور خوراک کے ضیاع کو کم کر سکتے ہیں، جس سے ایک زیادہ پائیدار ماحول میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں یہ ماڈل خواتین انٹرپرینیورز کے لیے بھی ایک بڑا موقع پیدا کرتا ہے۔ دیسی کاٹیج انڈسٹری میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے، جہاں خواتین گھر سے کامیاب فوڈ بزنس چلا رہی ہیں۔ تاہم، سماجی و ثقافتی رکاوٹوں یا عوامی سطح پر دکان کھولنے کے لاجسٹک مسائل کی وجہ سے ان کے لیے کاروبار کو اسکیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>مشترکہ کچنز ایک نجی، پیشہ ورانہ اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں کاروبار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ ہوم کچن اور کمرشل برانڈ کے درمیان خلا کو پُر کرتے ہیں، جس سے کاروبار کو بڑے پیمانے پر آپریشنز کرنے اور ہزاروں نئے صارفین تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ پیشہ ورانہ معیار بھی برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>جتنا یہ نئے منصوبوں کے لیے اہم ہیں، یہ بھی اہم ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مشترکہ کچن انفراسٹرکچر پہلے سے قائم برانڈز کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جو اپنی توسیع چاہتے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر، فوڈ پانڈا کچنز ایک ڈیلیوری فرسٹ ماڈل فراہم کرتا ہے جو ریسٹورنٹ پارٹنرز کو نئے مارکیٹس ٹیسٹ کرنے اور کم رسک اور کم لاگت کے ساتھ اپنی موجودگی بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ایک ایسے برانڈ کو جو شہر کے ایک حصے میں شروع ہوا ہو، تقریباً فوری طور پر شہر کے دوسرے حصے میں بھی پہنچنے کے قابل بناتا ہے، اور ڈیٹا بیسڈ انسائٹس کے ذریعے کچنز وہاں لگاتا ہے جہاں طلب سب سے زیادہ ہو۔</p>
<p>آخرکار، مشترکہ کچنز فوڈ انڈسٹری کو زیادہ شمولیتی اور مضبوط بنانے کے بارے میں ہیں۔ اخراجات کم کرنے اور وسائل کو شیئر کرنے کے ذریعے ہم ایک زیادہ متنوع فوڈ کلچر دیکھ رہے ہیں جہاں نئے اسٹارٹ اپس اور بڑے چینز دونوں ساتھ ترقی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی پاکستان کی فوڈ اکانومی کا ایک زیادہ ذہین اور کمیونٹی پر مبنی مستقبل ہے، جو سہولت اور معیار کی بڑھتی ہوئی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔ روایتی ترقیاتی رکاوٹوں کو ختم کر کے ہم فوڈ انوویشن کی نئی نسل کے لیے راستہ کھول رہے ہیں تاکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ بلندیوں تک پہنچ سکیں۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286813</guid>
      <pubDate>Thu, 28 May 2026 11:52:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (معین قریشی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/281148590ec464e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/281148590ec464e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کے ہر بیل آؤٹ کا وہ نکتہ جو نظروں سے اوجھل رہا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کے قریب داغے جانے والے میزائلوں اور لندن کے مالیاتی گلیاروں کے درمیان کا فاصلہ محض چند گھنٹوں کا ہے۔ ادھر میزائل فضا میں بلند ہوتے ہیں اور ادھر لندن کے انڈر رائٹرز خلیج فارس میں موجود بحری جہازوں کے وار رسک پریمیم پر نظرثانی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ عالمی ری انشورنس مارکیٹ کی وہ پوشیدہ اور بے رحم مشینری ہے جو تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے بھی پہلے جنگ کا سارا مالیاتی بوجھ ان غریب اور ترقی پذیر ممالک کی جھولی میں ڈال دیتی ہے جنہیں اس تنازع کا علم اخبارات کے ذریعے ہوتا ہے، پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جو پاکستان کو 24 مرتبہ مالی امداد (بیل آؤٹ) فراہم کر چکا ہے اور اس وقت اپنے تاریخ کے سب سے بڑے پروگرام کی نگرانی کر رہا ہے نے پاکستان کی معاشی کمزوریوں کا تعین کرتے وقت اس نظام کو کبھی بھی اپنے پیشِ نظر نہیں رکھا۔میں ری انشورنس کے شعبے میں کام کرتا ہوں، جو کہ عالمی سطح پر خطرات کی منتقلی کی وہ ہول سیل تہہ ہے جہاں بڑے خطرات کو یکجا کیا جاتا ہے ان کی قیمت مقرر کی جاتی ہے اور انھیں اداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ میں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ بحری جنگی خطرات کے کور (میرین وار رسک کور) سے نمٹنے اور یہ دیکھنے میں گزارا ہے کہ لندن کی مارکیٹ ارضی سیاسی (جیو پولیٹیکل) واقعات پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ری انشورنس مارکیٹ کوئی مفروضہ یا خیالی چیز نہیں ہے۔ یہ وہ لاگت ہے جو براہِ راست ہر درآمدی شے کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے، خام تیل سے لے کر کھانا پکانے والی گیس اور اس کھاد تک جو ہماری خوراک اگاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام اس طرح کام کرتا ہے۔ جب خلیج میں ارضی سیاسی تناؤ بڑھتا ہے  تو لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی  اپنے اعلیٰ خطرے والے علاقوں کے دائرہ کار کو وسیع کر دیتی ہے۔ انشورنس کمپنیاں ان پانیوں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی کوریج کی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں یا اسے واپس لے لیتی ہیں۔ 2025 کے وسط میں جیسے ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا خلیج کی طرف جانے والے جہازوں کے ڈھانچے اور مشینری کے پریمیم میں 2024 کی بنیادی سطح کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے اوائل تک ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد پورے خلیج فارس کو اعلیٰ خطرے کا علاقہ قرار دے دیا گیا اور ری انشورنس کی شرحیں چند ہی دنوں میں دس گنا بڑھ گئیں۔ بڑی بحری انشورنس کمپنیوں نے کوریج کو مکمل طور پر معطل کر دیا یا اس کی قیمتوں پر ازسرنو نظرثانی کی۔یہ لاگتیں لندن تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ نیچے کی طرف منتقل ہوتی ہیں شپنگ چارٹر کے نرخوں، فریٹ سرچارجز، اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کے ذریعے جن کا حصول مشکل تر ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ اس ملک کے بیلنس شیٹ پر آ گرتی ہیں جسے اس کارگو کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اس کی ضرورت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی تیل کی درآمدات کا تقریباً 81 فیصد آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔ 2024 میں پاکستان نے صرف خلیجی ممالک سے تقریباً 13.96 ارب ڈالر کا خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو ملک کے پورے درآمدی بل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ جب حالیہ کشیدگی کے بعد کے دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 34 فیصد کا اچھال آیا تو پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر یہ اضافی دباؤ کسی ملکی پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ اس جنگ کا نتیجہ تھا جسے شروع کرنے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور یہ عالمی ری انشورنس مارکیٹ کے ذریعے منتقل ہوا جس پر پاکستان کا عملی طور پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج پاکستان کو ایک ایسی چیز بھی فراہم کرتا ہے جو بلاشبہ تیل سے زیادہ ضروری ہے اور وہ ہے ترسیلاتِ زر۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ یہ کارپوریشنز کی طرف سے سرمایہ کاری کا بہاؤ نہیں ہے۔ یہ لاکھوں پاکستانی مزدوروں، ڈرائیوروں، تعمیراتی کارکنوں اور سروس اسٹاف کی بھیجی گئی اجرتیں ہیں جن کا انحصار خلیجی معیشتوں کے مستحکم رہنے پر ہے اور جن کی رقم بھیجنے کی صلاحیت شپنگ لینز (بحری راستوں) کے کھلے رہنے پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان راستوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ جب یہ اخراجات بڑھتے ہیں  تو انھیں آگے منتقل کر دیا جاتا ہے اور جب پاکستان میں اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو وہ ایک عام پاکستانی خاندان ہی ہوتا ہے جو اس دھچکے کو برداشت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کسی بھی چیز کا محاسبہ اس طریقے میں نہیں کیا جاتا جس کے تحت بین الاقوامی مالیاتی ادارے فی الوقت پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں یا بیل آؤٹ پروگراموں سے منسلک شرائط کو طے کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا موجودہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام، جس کی منظوری 2024 میں دی گئی تھی اور مئی 2026 میں اس کا جائزہ لیا گیا، موسمیاتی جھٹکوں اور ملکی گورننس کی ناکامیوں کو خطرے کے عوامل کے طور پر مناسب طور پر تسلیم کرتا ہے۔ فنڈ نے پاکستان کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد کے لیے ایک  ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی بھی متعارف کرائی ہے لیکن جنگی خطرات کے پریمیم کے جھٹکے، جو کہ باقاعدہ، قابلِ پیمائش اور بار بار ہونے والے ہیں، اس فریم ورک سے بالکل باہر ہیں جو کہ  بنیادی طریقہ کار کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی خطرہ اور ارضی سیاسی خطرہ مختلف ذرائع سے اور مختلف وقتوں میں اثر انداز ہوتے ہیں لیکن درآمدات اور ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والی پاکستان جیسی معیشتوں پر ان کا معاشی اثر ساختی طور پر یکساں ہوتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ سال ایک نسل میں پہلی بار بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کیا لیکن اس کے باوجود اس کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ایسی جنگ کے جھٹکوں کا شکار ہوا جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو جنگی خطرات کے پریمیم کے اشاریوں (انڈیکس) کو جو پہلے ہی لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی کے سرکلرز اور ایڈیشنل وار رسک پریمیم ریٹ کی پبلیکیشنز کے ذریعے عوامی سطح پر ٹریک کیے جاتے ہیں کمزور معیشتوں کے لیے اپنے قرضوں کی پائیداری کے جائزے میں شامل کرنا چاہیے۔ جب پریمیم متعین کردہ حد سے تجاوز کر جائیں تو کسی نئے پروگرام کے مذاکرات کی ضرورت کے بغیر خودکار طور پر قرضوں کی سروسنگ میں ریلیف یا ہنگامی لیکویڈیٹی (فنڈز) تک رسائی فراہم ہونی چاہیے۔ موجودہ ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی ایک قابلِ عمل نمونہ فراہم کرتی ہے۔ اس منطق کو ارضی سیاسی منتقلی کے خطرے تک بڑھانا نہ تو تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے اور نہ ہی مالی طور پر ممنوع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ری انشورنس مارکیٹ کا ایک بنیادی اصول ہے جسے غیر تصدیق شدہ خطرے کا نام دیا جاتا ہے یعنی ایسے خطرات جو آپ کے کھاتوں میں خاموشی سے موجود تو ہوں لیکن ان کا اعتراف کیا گیا ہو نہ ان کی قیمت طے کی گئی ہو۔ معاشی ماہرین اسے ایک مہلک  بلائنڈ اسپاٹ  قرار دیتے ہیں، کیونکہ جس بیماری کی تشخیص ہی نہ ہو اس کا علاج ناممکن ہے۔ پاکستان کے عالمی ساہوکاروں کے لیے جنگی پریمیم کے یہ جھٹکے ہو بہو یہی پوشیدہ خطرہ ہیں۔ یہ خطرہ بھی سچ ہے اور اس سے پہنچنے والا معاشی نقصان بھی حقیقت ہے۔ اب بس دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی جرات کب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز کے قریب داغے جانے والے میزائلوں اور لندن کے مالیاتی گلیاروں کے درمیان کا فاصلہ محض چند گھنٹوں کا ہے۔ ادھر میزائل فضا میں بلند ہوتے ہیں اور ادھر لندن کے انڈر رائٹرز خلیج فارس میں موجود بحری جہازوں کے وار رسک پریمیم پر نظرثانی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ عالمی ری انشورنس مارکیٹ کی وہ پوشیدہ اور بے رحم مشینری ہے جو تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے بھی پہلے جنگ کا سارا مالیاتی بوجھ ان غریب اور ترقی پذیر ممالک کی جھولی میں ڈال دیتی ہے جنہیں اس تنازع کا علم اخبارات کے ذریعے ہوتا ہے، پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جو پاکستان کو 24 مرتبہ مالی امداد (بیل آؤٹ) فراہم کر چکا ہے اور اس وقت اپنے تاریخ کے سب سے بڑے پروگرام کی نگرانی کر رہا ہے نے پاکستان کی معاشی کمزوریوں کا تعین کرتے وقت اس نظام کو کبھی بھی اپنے پیشِ نظر نہیں رکھا۔میں ری انشورنس کے شعبے میں کام کرتا ہوں، جو کہ عالمی سطح پر خطرات کی منتقلی کی وہ ہول سیل تہہ ہے جہاں بڑے خطرات کو یکجا کیا جاتا ہے ان کی قیمت مقرر کی جاتی ہے اور انھیں اداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ میں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ بحری جنگی خطرات کے کور (میرین وار رسک کور) سے نمٹنے اور یہ دیکھنے میں گزارا ہے کہ لندن کی مارکیٹ ارضی سیاسی (جیو پولیٹیکل) واقعات پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ری انشورنس مارکیٹ کوئی مفروضہ یا خیالی چیز نہیں ہے۔ یہ وہ لاگت ہے جو براہِ راست ہر درآمدی شے کی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہے، خام تیل سے لے کر کھانا پکانے والی گیس اور اس کھاد تک جو ہماری خوراک اگاتی ہے۔</p>
<p>یہ نظام اس طرح کام کرتا ہے۔ جب خلیج میں ارضی سیاسی تناؤ بڑھتا ہے  تو لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی  اپنے اعلیٰ خطرے والے علاقوں کے دائرہ کار کو وسیع کر دیتی ہے۔ انشورنس کمپنیاں ان پانیوں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی کوریج کی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں یا اسے واپس لے لیتی ہیں۔ 2025 کے وسط میں جیسے ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا خلیج کی طرف جانے والے جہازوں کے ڈھانچے اور مشینری کے پریمیم میں 2024 کی بنیادی سطح کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔</p>
<p>2026 کے اوائل تک ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد پورے خلیج فارس کو اعلیٰ خطرے کا علاقہ قرار دے دیا گیا اور ری انشورنس کی شرحیں چند ہی دنوں میں دس گنا بڑھ گئیں۔ بڑی بحری انشورنس کمپنیوں نے کوریج کو مکمل طور پر معطل کر دیا یا اس کی قیمتوں پر ازسرنو نظرثانی کی۔یہ لاگتیں لندن تک محدود نہیں رہتیں۔ یہ نیچے کی طرف منتقل ہوتی ہیں شپنگ چارٹر کے نرخوں، فریٹ سرچارجز، اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کے ذریعے جن کا حصول مشکل تر ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ اس ملک کے بیلنس شیٹ پر آ گرتی ہیں جسے اس کارگو کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کو اس کی ضرورت کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی تیل کی درآمدات کا تقریباً 81 فیصد آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔ 2024 میں پاکستان نے صرف خلیجی ممالک سے تقریباً 13.96 ارب ڈالر کا خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو ملک کے پورے درآمدی بل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔ جب حالیہ کشیدگی کے بعد کے دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 34 فیصد کا اچھال آیا تو پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر یہ اضافی دباؤ کسی ملکی پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ اس جنگ کا نتیجہ تھا جسے شروع کرنے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور یہ عالمی ری انشورنس مارکیٹ کے ذریعے منتقل ہوا جس پر پاکستان کا عملی طور پر کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔</p>
<p>خلیج پاکستان کو ایک ایسی چیز بھی فراہم کرتا ہے جو بلاشبہ تیل سے زیادہ ضروری ہے اور وہ ہے ترسیلاتِ زر۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ یہ کارپوریشنز کی طرف سے سرمایہ کاری کا بہاؤ نہیں ہے۔ یہ لاکھوں پاکستانی مزدوروں، ڈرائیوروں، تعمیراتی کارکنوں اور سروس اسٹاف کی بھیجی گئی اجرتیں ہیں جن کا انحصار خلیجی معیشتوں کے مستحکم رہنے پر ہے اور جن کی رقم بھیجنے کی صلاحیت شپنگ لینز (بحری راستوں) کے کھلے رہنے پر منحصر ہے۔</p>
<p>جب ان راستوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ جب یہ اخراجات بڑھتے ہیں  تو انھیں آگے منتقل کر دیا جاتا ہے اور جب پاکستان میں اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو وہ ایک عام پاکستانی خاندان ہی ہوتا ہے جو اس دھچکے کو برداشت کرتا ہے۔</p>
<p>ان میں سے کسی بھی چیز کا محاسبہ اس طریقے میں نہیں کیا جاتا جس کے تحت بین الاقوامی مالیاتی ادارے فی الوقت پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کی پوزیشن کا جائزہ لیتے ہیں یا بیل آؤٹ پروگراموں سے منسلک شرائط کو طے کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا موجودہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام، جس کی منظوری 2024 میں دی گئی تھی اور مئی 2026 میں اس کا جائزہ لیا گیا، موسمیاتی جھٹکوں اور ملکی گورننس کی ناکامیوں کو خطرے کے عوامل کے طور پر مناسب طور پر تسلیم کرتا ہے۔ فنڈ نے پاکستان کو موسمیاتی لچک پیدا کرنے میں مدد کے لیے ایک  ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی بھی متعارف کرائی ہے لیکن جنگی خطرات کے پریمیم کے جھٹکے، جو کہ باقاعدہ، قابلِ پیمائش اور بار بار ہونے والے ہیں، اس فریم ورک سے بالکل باہر ہیں جو کہ  بنیادی طریقہ کار کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>موسمیاتی خطرہ اور ارضی سیاسی خطرہ مختلف ذرائع سے اور مختلف وقتوں میں اثر انداز ہوتے ہیں لیکن درآمدات اور ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والی پاکستان جیسی معیشتوں پر ان کا معاشی اثر ساختی طور پر یکساں ہوتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ سال ایک نسل میں پہلی بار بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کیا لیکن اس کے باوجود اس کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ایسی جنگ کے جھٹکوں کا شکار ہوا جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو جنگی خطرات کے پریمیم کے اشاریوں (انڈیکس) کو جو پہلے ہی لائیڈز جوائنٹ وار کمیٹی کے سرکلرز اور ایڈیشنل وار رسک پریمیم ریٹ کی پبلیکیشنز کے ذریعے عوامی سطح پر ٹریک کیے جاتے ہیں کمزور معیشتوں کے لیے اپنے قرضوں کی پائیداری کے جائزے میں شامل کرنا چاہیے۔ جب پریمیم متعین کردہ حد سے تجاوز کر جائیں تو کسی نئے پروگرام کے مذاکرات کی ضرورت کے بغیر خودکار طور پر قرضوں کی سروسنگ میں ریلیف یا ہنگامی لیکویڈیٹی (فنڈز) تک رسائی فراہم ہونی چاہیے۔ موجودہ ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی ایک قابلِ عمل نمونہ فراہم کرتی ہے۔ اس منطق کو ارضی سیاسی منتقلی کے خطرے تک بڑھانا نہ تو تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے اور نہ ہی مالی طور پر ممنوع ہے۔</p>
<p>ری انشورنس مارکیٹ کا ایک بنیادی اصول ہے جسے غیر تصدیق شدہ خطرے کا نام دیا جاتا ہے یعنی ایسے خطرات جو آپ کے کھاتوں میں خاموشی سے موجود تو ہوں لیکن ان کا اعتراف کیا گیا ہو نہ ان کی قیمت طے کی گئی ہو۔ معاشی ماہرین اسے ایک مہلک  بلائنڈ اسپاٹ  قرار دیتے ہیں، کیونکہ جس بیماری کی تشخیص ہی نہ ہو اس کا علاج ناممکن ہے۔ پاکستان کے عالمی ساہوکاروں کے لیے جنگی پریمیم کے یہ جھٹکے ہو بہو یہی پوشیدہ خطرہ ہیں۔ یہ خطرہ بھی سچ ہے اور اس سے پہنچنے والا معاشی نقصان بھی حقیقت ہے۔ اب بس دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی جرات کب کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286756</guid>
      <pubDate>Tue, 26 May 2026 14:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیضان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/261352092a80eeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/261352092a80eeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل پولیسنگ ٹیمپلیٹ ممکن ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286561/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انتظامیہ  بنیادی طور پر دستیاب وسائل کے ساتھ بروقت فیصلہ سازی کا نام ہے۔ اس میں ڈیٹا ایک نہایت اہم جزو ہے، لیکن اصل امتحان اس بات میں ہوتا ہے کہ اس ڈیٹا کو عملی فیصلوں میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ سرکاری شعبے میں، خاص طور پر پاکستان میں، یہی وہ جگہ ہے جہاں گورننس اکثر ناکام ہو جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) وہ واحد سب سے اہم دستاویز ہے جس کے ذریعے معلومات کو قانونی اور انتظامی کارروائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کا نظام اکثر اس بات میں مشکلات کا شکار رہتا ہے کہ ان ڈیٹا ان پٹس کو مؤثر جرائم کی روک تھام، وسائل کی تقسیم یا کارکردگی کے انتظام میں تبدیل کر سکے۔ نتیجتاً، بہت سے فیصلے اب بھی ایسے لگتے ہیں جیسے رسمی انداز میں لپیٹے گئے اندازوں پر مبنی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(پی ای آر اے)  کے کنٹرول روم کا حالیہ دورہ پاکستان کے سرکاری دفاتر میں ایک غیر معمولی مثال تھا، جو عام طور پر بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ہی اسکرین پر پنجاب کا نقشہ ڈویژن سے ضلع اور پھر تحصیل کی سطح تک کھلتا چلا جاتا تھا۔ ایک ٹاپ ڈاؤن اپروچ تیار کی گئی تھی، جس کے تحت کسی بھی شہر کو زوم کر کے اس کے انفورسمنٹ کے اعداد و شمار ریئل ٹائم میں دیکھے جا سکتے تھے۔ ہر کلک کے ساتھ ایک اور تہہ سامنے آتی تھی: غیر حل شدہ کیسز، وصول کیے گئے جرمانے، اپیلیں، رسپانس ٹائم، فیلڈ سرگرمی اور وِسل بلوور رپورٹس پر کی گئی کارروائی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ڈیٹا کی لیئر تو بنا لی ہے، لیکن ابھی وہ تجزیاتی سطح  نہیں بنا سکا جو آپریشنل ریکارڈز کو مینجمنٹ انٹیلیجنس میں تبدیل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہی میٹرکس ہر یونٹ کے لیے ایک ساتھ، ساتھ ساتھ نظر آتے تھے اور مسلسل اپ ڈیٹ ہوتے رہتے تھے۔ یہ ڈیش بورڈ منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ عوامی سطح پر بھی دستیاب ہو جائے، جو اس خطے میں کسی انفورسمنٹ ادارے کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار اور شماریات معاملات کو جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے مینیجرز ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں تاکہ باخبر فیصلے کیے جا سکیں، وسائل کی تقسیم کی جا سکے اور حکمت عملی بنائی جا سکے۔ پبلک مینجمنٹ کو بھی اسی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای آر اے کا ڈیش بورڈ اس اصول کو نافذ کرنے کی ایک پرعزم کوشش ہے، جس کا مقصد بکھرے ہوئے ریکارڈز کو مینجمنٹ انٹیلیجنس میں تبدیل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر دو انفورسمنٹ اسٹیشنز، جن کی آبادی اور کیس لوڈ ایک جیسا ہو لیکن جرمانوں کی وصولی مختلف ہو، فوری طور پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی تحصیل یا انفورسمنٹ اسٹیشن جہاں بار بار غیر حل شدہ کیسز ہوں، اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ضلع کی سطح پر ریکوریز، جرمانے اور نمٹائے گئے کیسز کی شرح اندرونی انعامات، اصلاحی اقدامات اور بہتر وسائل کی تقسیم میں مدد دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی کو اس کے قیام دسمبر 2024 سے قریب سے دیکھا ہے۔ اعداد و شمار اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ اتھارٹی کی تازہ ترین آپریشنل رپورٹ کے مطابق انسداد تجاوزات چھاپوں کی تعداد صوبہ بھر میں 2 لاکھ 68 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں لاہور میں 66 ہزار سے زائد شامل ہیں، جبکہ 550 خصوصی آپریشنز کے ذریعے تقریباً 28 ہزار کنال سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائس کنٹرول سرگرمیوں میں 34 لاکھ سے زائد انسپیکشنز شامل ہیں، جن کے نتیجے میں 39 کروڑ روپے جرمانہ، 3,421 دکانیں سیل اور 7,745 گرفتاریاں ہوئیں۔ رسمی قانونی کارروائی کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے: پی ای آر اے نے 2025 میں پورے سال میں 125 ایف آئی آرز درج کیں، جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ میں یہ تعداد 328 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر آپریشن کو لاگ کیا جاتا ہے، فیلڈ رپورٹنگ سے منسلک کیا جاتا ہے اور ڈیش بورڈ کے ذریعے قابلِ مشاہدہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹس پی ای آر اے کی قیادت سے لے کر وزیراعلیٰ تک ضلع کی سطح پر پہنچتی ہیں، اور تحصیل و انفورسمنٹ اسٹیشن کی سطح تک مزید تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سیاسی اور انتظامی توجہ مخصوص یونٹس، مخصوص تاخیر اور مخصوص نتائج پر مرکوز ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای آر اے ماڈل کا بڑا ڈیجیٹل اثر اس کے رسمی مینڈیٹ سے باہر بھی جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی پولیس فورسز اتنی ڈیجیٹلائزڈ نہیں کہ وہاں ڈیٹا بیسڈ احتسابی نظام چل سکے، جہاں سینئر افسران لائیو ڈیش بورڈز کے ذریعے جرائم، کارکردگی، تاخیر اور افسر سطح کے نتائج دیکھ سکیں۔ یہ مفروضہ اب درست نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس کا پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم، جو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے بنایا ہے، 2017 سے تمام 714 تھانوں میں فعال ہے، جس میں 2.3 ملین سے زائد ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں۔ کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم نادرا سے منسلک ڈیجیٹل مجرم پروفائلز رکھتا ہے۔ اینٹی وہیکل لفٹنگ سسٹم میں تقریباً 100,000 کیسز موجود ہیں، جبکہ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم شہری شکایات کو ٹریک کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا بیسڈ پولیسنگ ماڈل کے اپنے نقصانات بھی ہیں، اور سب سے بڑا مسئلہ خود شفافیت کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اگر اتنا ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے تو اصل مسئلہ کہاں ہے؟ اس کا جواب شاید یہ ہے کہ پاکستان نے ڈیٹا لیئر تو بنا لی ہے، لیکن ابھی تک وہ تجزیاتی لیئر نہیں بنائی جو آپریشنل ریکارڈز کو مینجمنٹ انٹیلیجنس میں بدل دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای آر اے کے ماڈل کی پیروی قومی پولیسنگ کے لیے مزید اہم ہوتی جا رہی ہے۔ لائیو ٹریکنگ کا امکان، جو ہر تھانے کی سطح پر اپ ڈیٹ ہو، جرائم کی روک تھام میں حیران کن نتائج دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گاڑیوں کی چوری کے کیسز اگر تھانہ، وقت اور ریکوری روٹ کے حساب سے میپ کیے جائیں تو یہ اعداد و شمار فعال گینگز، کمزور چیک پوسٹس اور چوری شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ کا درست نقشہ دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھریلو تشدد کی شکایات کو وقت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ سماجی بے چینی کے علاقوں، بار بار جرائم کرنے والوں اور منشیات کے استعمال کے پیٹرنز کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشہ آور اشیا سے متعلق ایف آئی آرز اگر مقامی علاقوں کے حساب سے میپ کی جائیں تو یہ اسمگلنگ کے راستوں، تقسیم کے مراکز اور ان علاقوں کو بے نقاب کر سکتی ہیں جہاں قانون نافذ کرنے کا عمل یا تو کمزور ہے یا کسی حد تک متاثر ہو چکا ہے۔ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی، ہورڈنگ یا گوداموں پر چھاپوں سے متعلق کیسز یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ غیر رسمی سپلائی چینز کس طرح رسمی معیشت کے نیچے کام کر رہی ہیں۔ اس طرح کوئی پولیس اسٹیشن جہاں شہری شکایات بار بار آئیں، تفتیش میں تاخیر ہو، یا اسی اہلکار کے خلاف بار بار شکایات ہوں، وہ عوامی شکایات اور ناکامی کی ایک اہم علامت بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں انتظامیہ مداخلت کر کے اصلاحی اقدامات کر سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہوگی جو محض اندازوں اور روایتی کہانیوں سے نکل کر پیٹرن ریکگنیشن  کی طرف لے جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس طریقہ کار میں ایک اہم احتیاط بھی موجود ہے۔ ڈیٹا پر مبنی پولیسنگ ماڈل کے اپنے نقصانات ہیں، اور سب سے بڑی رکاوٹ خود شفافیت ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر، خاص طور پر نچلی سطح پر رپورٹنگ انتخابی ہو جائے تو نظام جلد ہی کمزور اور غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ایف آئی آر سسٹم طویل عرصے سے انتخابی رجسٹریشن کے مسئلے کا شکار رہا ہے، جس سے شکایت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کے ذریعے عملی طور پر انصاف سے انکار کیا جاتا ہے۔ ایک ڈیش بورڈ، چاہے کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، اس وقت تک اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتا جب تک اعداد و شمار ایمانداری سے رپورٹ نہ کیے جائیں۔ اسی لیے کسی بھی قومی پولیسنگ ڈیش بورڈ میں یہ چیزیں بھی ٹریک ہونی چاہئیں: ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کی شکایات، ہیلپ لائن ریکارڈز، شہری درخواستیں، اپیل کے پیٹرنز اور سپروائزری مداخلتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی  کا وِسل بلوور چینل ایک اہم سبق فراہم کرتا ہے۔ آزاد ذرائع سے آنے والی معلومات ضروری ہیں کیونکہ صرف سرکاری ریکارڈ بعض اوقات ادارہ جاتی سہولت  کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ زمینی حقیقت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای آر اے کا ڈیزائن اس خطرے کو سنجیدگی سے لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اتھارٹی نے اپنے اہلکاروں کے خلاف 1,377 تادیبی کارروائیاں شروع کی ہیں، جن میں جرمانہ، سرزنش اور منظور شدہ سروس کی ضبطی جیسے سزائیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای آر اے کے قیام کے بعد سے اس کے خلاف دائر 126 عدالتی کیسز میں سے 84 پہلے ہی نمٹا دیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کی انفورسمنٹ کارروائیاں قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہو رہی ہیں، نہ کہ بڑے پیمانے پر قانونی تنازعات کو جنم دے رہی ہیں۔ اتھارٹی کے اگلے مرحلے میں ایک علیحدہ انٹرنل افیئرز فنکشن بھی منصوبہ بندی میں شامل ہے۔ یہ سب زمینی سطح پر ایمانداری کی مکمل ضمانت نہیں دیتے، لیکن یہ ادارہ جاتی کلچر کو ایک قابلِ پیمائش سمت میں ضرور تبدیل کرتے ہیں، اور اس عام رجحان سے دور لے جاتے ہیں جہاں انفورسمنٹ ادارے سب کی تحقیقات کرتے ہیں مگر اپنی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماڈل کو پولیسنگ پر نافذ کرنے کے لیے تین عناصر کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ باڈی کیمرے، جو پہلے ہی پی ای آر اے کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں، انہیں پولیسنگ میں بھی معیاری بنانا ہوگا، تاکہ یہ اہلکاروں کے لیے ثبوت کی حفاظت بھی ہوں اور فیلڈ میں بدانتظامی پر ایک عملی چیک بھی۔ پولیس فورس کا ایچ آر اور ڈسپلنری ڈھانچہ، جس کا بڑا حصہ اب بھی پچھلی صدی کے بنائے گئے قواعد پر چل رہا ہے، اسے اپ ڈیٹ کرنا ہوگا تاکہ ڈیٹا پر مبنی احتساب قانونی طور پر قابلِ عمل ہو سکے۔ اور ڈیش بورڈ کو ایسی جگہ ہونا ہوگا جہاں وہ سینئر افسران کی ہفتہ وار توجہ کو یقینی بنا سکے۔ اس طرح یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کو مضبوط بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کا بڑھتا ہوا مالی دباؤ ڈیجیٹائزیشن کے کیس کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ پنجاب ایک مہنگا صوبہ ہے، اور صرف پولیسنگ ہی عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ استعمال کرتی ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے صوبے کا بجٹ 5.335 ٹریلین روپے ہے، جس میں پولیسنگ کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پی ای آر اے کی اپنی ریکوریز، جیسے جرمانے، ای چالان، واگزار کرائی گئی زمین اور نیلام شدہ ہورڈنگز، پہلے ہی اپنے ابتدائی اٹھارہ ماہ میں تقریباً 1 ارب روپے کی قابلِ پیمائش قدر تک پہنچ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ گاڑیاں، زیادہ عمارتیں، زیادہ عملہ اور زیادہ مراعات ہمیشہ بہتر انفورسمنٹ پیدا نہیں کرتے۔ ڈیٹا پر مبنی مؤثر پولیسنگ ایک ایسا نظام فراہم کر سکتی ہے جو محدود وسائل کو کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ مختص کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے ان علاقوں میں لگایا جا سکتا ہے جہاں جرائم زیادہ ہیں، اور ڈیٹا فیصلہ سازوں کی ریئل ٹائم رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر کسی پولیس اسٹیشن میں مناسب عملے کے باوجود مقدمات کا بوجھ زیادہ ہو تو مسئلہ ممکنہ طور پر مینجمنٹ کا ہو سکتا ہے، نہ کہ افرادی قوت کا۔ یہ فرق خاص طور پر ان صوبوں میں اہم ہو جاتا ہے جہاں مالی وسائل محدود ہوں۔ ڈیٹا ریاست کو اندھا دھند خرچ کرنے کے بجائے دانشمندانہ خرچ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصورات کوئی نئی مثال نہیں رکھتے۔ نیویارک کا کمپ اسٹیٹ  اور بھارت کا سی سی ٹی این ایس یہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح جرائم کے ڈیٹا کو مسلسل جائزے کے ذریعے احتساب میں بدلا جا سکتا ہے۔ پاکستان بھی صفر سے شروع نہیں کر رہا؛ پی ایس آر ایم ایس پہلے ہی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی پولیسنگ ڈیش بورڈ کے لیے تکنیکی بنیاد جزوی طور پر موجود ہے۔ جو چیز ابھی تک موجود نہیں وہ قیادت، نظم و ضبط اور وہ تجزیاتی سطح ہے جو صوبائی ریکارڈز کو تقابلی احتساب میں بدل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای آر اے کا دیرپا کردار شاید اس کے چھاپوں کی تعداد یا زمین کی واگزاری میں نہیں بلکہ اس بات کو ثابت کرنے میں ہو کہ پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی پبلک ایڈمنسٹریشن کام کر سکتی ہے۔ انفرااسٹرکچر موجود ہے۔ اب سوال صرف فیصلے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انتظامیہ  بنیادی طور پر دستیاب وسائل کے ساتھ بروقت فیصلہ سازی کا نام ہے۔ اس میں ڈیٹا ایک نہایت اہم جزو ہے، لیکن اصل امتحان اس بات میں ہوتا ہے کہ اس ڈیٹا کو عملی فیصلوں میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ سرکاری شعبے میں، خاص طور پر پاکستان میں، یہی وہ جگہ ہے جہاں گورننس اکثر ناکام ہو جاتی ہے۔</strong></p>
<p>فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) وہ واحد سب سے اہم دستاویز ہے جس کے ذریعے معلومات کو قانونی اور انتظامی کارروائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کا نظام اکثر اس بات میں مشکلات کا شکار رہتا ہے کہ ان ڈیٹا ان پٹس کو مؤثر جرائم کی روک تھام، وسائل کی تقسیم یا کارکردگی کے انتظام میں تبدیل کر سکے۔ نتیجتاً، بہت سے فیصلے اب بھی ایسے لگتے ہیں جیسے رسمی انداز میں لپیٹے گئے اندازوں پر مبنی ہوں۔</p>
<p>پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی(پی ای آر اے)  کے کنٹرول روم کا حالیہ دورہ پاکستان کے سرکاری دفاتر میں ایک غیر معمولی مثال تھا، جو عام طور پر بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔</p>
<p>ایک ہی اسکرین پر پنجاب کا نقشہ ڈویژن سے ضلع اور پھر تحصیل کی سطح تک کھلتا چلا جاتا تھا۔ ایک ٹاپ ڈاؤن اپروچ تیار کی گئی تھی، جس کے تحت کسی بھی شہر کو زوم کر کے اس کے انفورسمنٹ کے اعداد و شمار ریئل ٹائم میں دیکھے جا سکتے تھے۔ ہر کلک کے ساتھ ایک اور تہہ سامنے آتی تھی: غیر حل شدہ کیسز، وصول کیے گئے جرمانے، اپیلیں، رسپانس ٹائم، فیلڈ سرگرمی اور وِسل بلوور رپورٹس پر کی گئی کارروائی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان نے ڈیٹا کی لیئر تو بنا لی ہے، لیکن ابھی وہ تجزیاتی سطح  نہیں بنا سکا جو آپریشنل ریکارڈز کو مینجمنٹ انٹیلیجنس میں تبدیل کرے۔</p>
</blockquote>
<p>یہی میٹرکس ہر یونٹ کے لیے ایک ساتھ، ساتھ ساتھ نظر آتے تھے اور مسلسل اپ ڈیٹ ہوتے رہتے تھے۔ یہ ڈیش بورڈ منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ عوامی سطح پر بھی دستیاب ہو جائے، جو اس خطے میں کسی انفورسمنٹ ادارے کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار اور شماریات معاملات کو جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے مینیجرز ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں تاکہ باخبر فیصلے کیے جا سکیں، وسائل کی تقسیم کی جا سکے اور حکمت عملی بنائی جا سکے۔ پبلک مینجمنٹ کو بھی اسی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔</p>
<p>پی ای آر اے کا ڈیش بورڈ اس اصول کو نافذ کرنے کی ایک پرعزم کوشش ہے، جس کا مقصد بکھرے ہوئے ریکارڈز کو مینجمنٹ انٹیلیجنس میں تبدیل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر دو انفورسمنٹ اسٹیشنز، جن کی آبادی اور کیس لوڈ ایک جیسا ہو لیکن جرمانوں کی وصولی مختلف ہو، فوری طور پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>کوئی تحصیل یا انفورسمنٹ اسٹیشن جہاں بار بار غیر حل شدہ کیسز ہوں، اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ضلع کی سطح پر ریکوریز، جرمانے اور نمٹائے گئے کیسز کی شرح اندرونی انعامات، اصلاحی اقدامات اور بہتر وسائل کی تقسیم میں مدد دے سکتی ہے۔</p>
<p>میں نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی کو اس کے قیام دسمبر 2024 سے قریب سے دیکھا ہے۔ اعداد و شمار اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ اتھارٹی کی تازہ ترین آپریشنل رپورٹ کے مطابق انسداد تجاوزات چھاپوں کی تعداد صوبہ بھر میں 2 لاکھ 68 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں لاہور میں 66 ہزار سے زائد شامل ہیں، جبکہ 550 خصوصی آپریشنز کے ذریعے تقریباً 28 ہزار کنال سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔</p>
<p>پرائس کنٹرول سرگرمیوں میں 34 لاکھ سے زائد انسپیکشنز شامل ہیں، جن کے نتیجے میں 39 کروڑ روپے جرمانہ، 3,421 دکانیں سیل اور 7,745 گرفتاریاں ہوئیں۔ رسمی قانونی کارروائی کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے: پی ای آر اے نے 2025 میں پورے سال میں 125 ایف آئی آرز درج کیں، جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ میں یہ تعداد 328 تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ہر آپریشن کو لاگ کیا جاتا ہے، فیلڈ رپورٹنگ سے منسلک کیا جاتا ہے اور ڈیش بورڈ کے ذریعے قابلِ مشاہدہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹس پی ای آر اے کی قیادت سے لے کر وزیراعلیٰ تک ضلع کی سطح پر پہنچتی ہیں، اور تحصیل و انفورسمنٹ اسٹیشن کی سطح تک مزید تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سیاسی اور انتظامی توجہ مخصوص یونٹس، مخصوص تاخیر اور مخصوص نتائج پر مرکوز ہو جاتی ہے۔</p>
<p>پی ای آر اے ماڈل کا بڑا ڈیجیٹل اثر اس کے رسمی مینڈیٹ سے باہر بھی جاتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی پولیس فورسز اتنی ڈیجیٹلائزڈ نہیں کہ وہاں ڈیٹا بیسڈ احتسابی نظام چل سکے، جہاں سینئر افسران لائیو ڈیش بورڈز کے ذریعے جرائم، کارکردگی، تاخیر اور افسر سطح کے نتائج دیکھ سکیں۔ یہ مفروضہ اب درست نہیں رہا۔</p>
<p>پنجاب پولیس کا پولیس اسٹیشن ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم، جو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے بنایا ہے، 2017 سے تمام 714 تھانوں میں فعال ہے، جس میں 2.3 ملین سے زائد ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں۔ کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم نادرا سے منسلک ڈیجیٹل مجرم پروفائلز رکھتا ہے۔ اینٹی وہیکل لفٹنگ سسٹم میں تقریباً 100,000 کیسز موجود ہیں، جبکہ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم شہری شکایات کو ٹریک کرتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ڈیٹا بیسڈ پولیسنگ ماڈل کے اپنے نقصانات بھی ہیں، اور سب سے بڑا مسئلہ خود شفافیت کا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>اگر اتنا ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے تو اصل مسئلہ کہاں ہے؟ اس کا جواب شاید یہ ہے کہ پاکستان نے ڈیٹا لیئر تو بنا لی ہے، لیکن ابھی تک وہ تجزیاتی لیئر نہیں بنائی جو آپریشنل ریکارڈز کو مینجمنٹ انٹیلیجنس میں بدل دے۔</p>
<p>پی ای آر اے کے ماڈل کی پیروی قومی پولیسنگ کے لیے مزید اہم ہوتی جا رہی ہے۔ لائیو ٹریکنگ کا امکان، جو ہر تھانے کی سطح پر اپ ڈیٹ ہو، جرائم کی روک تھام میں حیران کن نتائج دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر گاڑیوں کی چوری کے کیسز اگر تھانہ، وقت اور ریکوری روٹ کے حساب سے میپ کیے جائیں تو یہ اعداد و شمار فعال گینگز، کمزور چیک پوسٹس اور چوری شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ کا درست نقشہ دے سکتے ہیں۔</p>
<p>گھریلو تشدد کی شکایات کو وقت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ سماجی بے چینی کے علاقوں، بار بار جرائم کرنے والوں اور منشیات کے استعمال کے پیٹرنز کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔</p>
<p>نشہ آور اشیا سے متعلق ایف آئی آرز اگر مقامی علاقوں کے حساب سے میپ کی جائیں تو یہ اسمگلنگ کے راستوں، تقسیم کے مراکز اور ان علاقوں کو بے نقاب کر سکتی ہیں جہاں قانون نافذ کرنے کا عمل یا تو کمزور ہے یا کسی حد تک متاثر ہو چکا ہے۔ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی، ہورڈنگ یا گوداموں پر چھاپوں سے متعلق کیسز یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ غیر رسمی سپلائی چینز کس طرح رسمی معیشت کے نیچے کام کر رہی ہیں۔ اس طرح کوئی پولیس اسٹیشن جہاں شہری شکایات بار بار آئیں، تفتیش میں تاخیر ہو، یا اسی اہلکار کے خلاف بار بار شکایات ہوں، وہ عوامی شکایات اور ناکامی کی ایک اہم علامت بن جاتا ہے۔</p>
<p>یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں انتظامیہ مداخلت کر کے اصلاحی اقدامات کر سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہوگی جو محض اندازوں اور روایتی کہانیوں سے نکل کر پیٹرن ریکگنیشن  کی طرف لے جاتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس طریقہ کار میں ایک اہم احتیاط بھی موجود ہے۔ ڈیٹا پر مبنی پولیسنگ ماڈل کے اپنے نقصانات ہیں، اور سب سے بڑی رکاوٹ خود شفافیت ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر، خاص طور پر نچلی سطح پر رپورٹنگ انتخابی ہو جائے تو نظام جلد ہی کمزور اور غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ایف آئی آر سسٹم طویل عرصے سے انتخابی رجسٹریشن کے مسئلے کا شکار رہا ہے، جس سے شکایت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کے ذریعے عملی طور پر انصاف سے انکار کیا جاتا ہے۔ ایک ڈیش بورڈ، چاہے کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، اس وقت تک اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتا جب تک اعداد و شمار ایمانداری سے رپورٹ نہ کیے جائیں۔ اسی لیے کسی بھی قومی پولیسنگ ڈیش بورڈ میں یہ چیزیں بھی ٹریک ہونی چاہئیں: ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کی شکایات، ہیلپ لائن ریکارڈز، شہری درخواستیں، اپیل کے پیٹرنز اور سپروائزری مداخلتیں۔</p>
<p>اس تناظر میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی  کا وِسل بلوور چینل ایک اہم سبق فراہم کرتا ہے۔ آزاد ذرائع سے آنے والی معلومات ضروری ہیں کیونکہ صرف سرکاری ریکارڈ بعض اوقات ادارہ جاتی سہولت  کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ زمینی حقیقت کی۔</p>
<p>پی ای آر اے کا ڈیزائن اس خطرے کو سنجیدگی سے لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ اتھارٹی نے اپنے اہلکاروں کے خلاف 1,377 تادیبی کارروائیاں شروع کی ہیں، جن میں جرمانہ، سرزنش اور منظور شدہ سروس کی ضبطی جیسے سزائیں شامل ہیں۔</p>
<p>پی ای آر اے کے قیام کے بعد سے اس کے خلاف دائر 126 عدالتی کیسز میں سے 84 پہلے ہی نمٹا دیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کی انفورسمنٹ کارروائیاں قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر ہو رہی ہیں، نہ کہ بڑے پیمانے پر قانونی تنازعات کو جنم دے رہی ہیں۔ اتھارٹی کے اگلے مرحلے میں ایک علیحدہ انٹرنل افیئرز فنکشن بھی منصوبہ بندی میں شامل ہے۔ یہ سب زمینی سطح پر ایمانداری کی مکمل ضمانت نہیں دیتے، لیکن یہ ادارہ جاتی کلچر کو ایک قابلِ پیمائش سمت میں ضرور تبدیل کرتے ہیں، اور اس عام رجحان سے دور لے جاتے ہیں جہاں انفورسمنٹ ادارے سب کی تحقیقات کرتے ہیں مگر اپنی نہیں۔</p>
<p>اس ماڈل کو پولیسنگ پر نافذ کرنے کے لیے تین عناصر کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ باڈی کیمرے، جو پہلے ہی پی ای آر اے کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں، انہیں پولیسنگ میں بھی معیاری بنانا ہوگا، تاکہ یہ اہلکاروں کے لیے ثبوت کی حفاظت بھی ہوں اور فیلڈ میں بدانتظامی پر ایک عملی چیک بھی۔ پولیس فورس کا ایچ آر اور ڈسپلنری ڈھانچہ، جس کا بڑا حصہ اب بھی پچھلی صدی کے بنائے گئے قواعد پر چل رہا ہے، اسے اپ ڈیٹ کرنا ہوگا تاکہ ڈیٹا پر مبنی احتساب قانونی طور پر قابلِ عمل ہو سکے۔ اور ڈیش بورڈ کو ایسی جگہ ہونا ہوگا جہاں وہ سینئر افسران کی ہفتہ وار توجہ کو یقینی بنا سکے۔ اس طرح یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کو مضبوط بناتے ہیں۔</p>
<p>پنجاب کا بڑھتا ہوا مالی دباؤ ڈیجیٹائزیشن کے کیس کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ پنجاب ایک مہنگا صوبہ ہے، اور صرف پولیسنگ ہی عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ استعمال کرتی ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے صوبے کا بجٹ 5.335 ٹریلین روپے ہے، جس میں پولیسنگ کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پی ای آر اے کی اپنی ریکوریز، جیسے جرمانے، ای چالان، واگزار کرائی گئی زمین اور نیلام شدہ ہورڈنگز، پہلے ہی اپنے ابتدائی اٹھارہ ماہ میں تقریباً 1 ارب روپے کی قابلِ پیمائش قدر تک پہنچ رہی ہیں۔</p>
<p>زیادہ گاڑیاں، زیادہ عمارتیں، زیادہ عملہ اور زیادہ مراعات ہمیشہ بہتر انفورسمنٹ پیدا نہیں کرتے۔ ڈیٹا پر مبنی مؤثر پولیسنگ ایک ایسا نظام فراہم کر سکتی ہے جو محدود وسائل کو کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ مختص کرے۔</p>
<p>اس طرح وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے ان علاقوں میں لگایا جا سکتا ہے جہاں جرائم زیادہ ہیں، اور ڈیٹا فیصلہ سازوں کی ریئل ٹائم رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر کسی پولیس اسٹیشن میں مناسب عملے کے باوجود مقدمات کا بوجھ زیادہ ہو تو مسئلہ ممکنہ طور پر مینجمنٹ کا ہو سکتا ہے، نہ کہ افرادی قوت کا۔ یہ فرق خاص طور پر ان صوبوں میں اہم ہو جاتا ہے جہاں مالی وسائل محدود ہوں۔ ڈیٹا ریاست کو اندھا دھند خرچ کرنے کے بجائے دانشمندانہ خرچ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<p>یہ تصورات کوئی نئی مثال نہیں رکھتے۔ نیویارک کا کمپ اسٹیٹ  اور بھارت کا سی سی ٹی این ایس یہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح جرائم کے ڈیٹا کو مسلسل جائزے کے ذریعے احتساب میں بدلا جا سکتا ہے۔ پاکستان بھی صفر سے شروع نہیں کر رہا؛ پی ایس آر ایم ایس پہلے ہی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کام کر رہا ہے۔</p>
<p>قومی پولیسنگ ڈیش بورڈ کے لیے تکنیکی بنیاد جزوی طور پر موجود ہے۔ جو چیز ابھی تک موجود نہیں وہ قیادت، نظم و ضبط اور وہ تجزیاتی سطح ہے جو صوبائی ریکارڈز کو تقابلی احتساب میں بدل سکے۔</p>
<p>پی ای آر اے کا دیرپا کردار شاید اس کے چھاپوں کی تعداد یا زمین کی واگزاری میں نہیں بلکہ اس بات کو ثابت کرنے میں ہو کہ پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی پبلک ایڈمنسٹریشن کام کر سکتی ہے۔ انفرااسٹرکچر موجود ہے۔ اب سوال صرف فیصلے کا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286561</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 11:23:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مرزا ایم حمزہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/21112028ca48f37.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/21112028ca48f37.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم لیوی کے سیاسی اور معاشی اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے میں 10 فیصد تک گریں تو اسلام آباد نے پیٹرولیم لیوی میں 13.5 فیصد اضافہ کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 70 دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں 55.8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ عالمی مارکیٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ وہ آلہ جو صارفین کے لیے ڈھال کے طور پر شروع کیا گیا تھا اب وفاقی آمدنی کا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جو صوبوں کے ساتھ حصہ داری (این ایف سی) سے بچتا ہے، مہنگائی کو ہوا دیتا ہے اور معیشت کو ایک نقصان دہ پالیسی تضاد کی طرف دھکیل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کا تصور ایک مالیاتی جھٹکا جذب کرنے والے کے طور پر کیا گیا تھا، تاکہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں تو اسے کم کر کے صارفین کو ریلیف دیا جائے اور جب قیمتیں گریں تو اسے بڑھا کر حکومتی آمدنی کو مستحکم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملی طور پر یہ طریقہ کار صرف ایک ہی سمت میں کام کرتا ہے۔ یکم مئی سے 9 مئی کے درمیان برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 10 فیصد گر کر 105 ڈالر سے 95 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ صارفین کو کوئی ریلیف منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 13.91 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، یعنی 103.50 روپے سے بڑھا کر 117.41 روپے کر دی جس سے ریٹیل قیمت 414.78 روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر رجحان اس سے بھی زیادہ چشم کشا ہے۔ یکم مارچ سے اب تک  پیٹرول کی قیمت 266.17 روپے فی لیٹر (جس میں 84.40 روپے لیوی تھی) سے بڑھ کر 414.78 روپے (جس میں 117.41 روپے لیوی ہے) ہو چکی ہے۔ یہ قیمتوں میں 55.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس میں صرف 70 دنوں کے اندر لیوی کے جزو میں 39.1 فیصد اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو چیز استحکام کے آلے کے طور پر بنائی گئی تھی وہ خاموشی سے ایک طاقتور ریونیو مشین میں تبدیل ہو چکی ہے جو صوبائی حصہ داری کو نظر انداز کرتی ہے، مہنگائی بڑھاتی  اور فیول اسٹیشن سے کہیں زیادہ معاشی لاگت مسلط کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کا پسندیدہ ہتھیار کیوں بن گئی ہے؟ اس کی کشش پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں چھپی ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے برعکس جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ بانٹا جاتا ہے، پیٹرولیم لیوی کو نان ٹیکس ریونیو کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے۔ جمع ہونے والا ہر روپیہ ڈیویزیبل پول سے باہر براہِ راست اسلام آباد کے پاس جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی معاشی لاگت اب مہنگائی کی صورت میں واضح ہے۔ اپریل 2026 میں پاکستان میں افراطِ زر (سی پی آئی) سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو جولائی 2024 (11.1 فیصد) کے بعد پہلی بار دوبارہ دہرے ہندسے میں داخل ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔ سی پی آئی باسکٹ میں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن (جس کا وزن 23.63 فیصد ہے) نے 3.52 فیصد پوائنٹس، جبکہ ٹرانسپورٹ (جس کا وزن 5.91 فیصد ہے) نے مزید 2.06 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔اپریل کی مہنگائی میں نصف سے زائد حصہ صرف ایندھن اور اس سے وابستہ شعبوں کا رہا۔ یہ تو صرف براہِ راست اثرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن زراعت، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور خوراک کی تقسیم میں بنیادی لاگت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی پوری معیشت میں پھیل جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا بوجھ بھی انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ فی لیٹر ایک مقررہ چارج کے طور پر یہ لیوی لیاری کے ایک دیہاڑی دار مزدور سے بھی وہی 117.41 روپے نکالتی ہے جو کلفٹن کے ایک کارپوریٹ ایگزیکٹو سے۔ ظاہری بوجھ برابر ہے لیکن آمدنی کے تناسب سے یہ بوجھ شدید غیر مساوی ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتیں قوتِ خرید کو ختم کرتی ہیں، پیداواری لاگت بڑھاتی ہیں اور مہنگائی کو غذا فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر بلند پالیسی ریٹس قرض لینے کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، کریڈٹ گروتھ کو دباتے  اور معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔ گھرانوں کو جینے کے لیے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور کاروبار چلانے کے لیے زیادہ رقم درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید سب سے پریشان کن تضاد خود میکرو اکنامک پالیسی میں ہے۔ پیٹرولیم لیوی بڑھا کر حکومت براہِ راست معیشت میں کاسٹ پش  (پیداواری لاگت سے پیدا ہونے والی) مہنگائی داخل کرتی ہے۔ پھر اسی مہنگائی کو سخت مانیٹری پالیسی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پالیسی ریٹ پہلے ہی بڑھ کر 11.5 فیصد ہو چکا ہے اور مارکیٹیں مہنگائی برقرار رہنے کی صورت میں مزید سختی کی توقع کر رہی ہیں۔ پاکستان خود ساختہ پالیسی سائیکل کے جال میں پھنس گیا ہے، جہاں ریاست کا ایک ہاتھ ایندھن پر ٹیکس لگا کر مہنگائی پیدا کر رہا ہے جبکہ دوسرا ہاتھ شرحِ سود بڑھا کر اسے دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اضافہ تیل کی معاشیات سے زیادہ مالیاتی اہداف کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں مرجلہ وار مزید 53 روپے فی لیٹر اضافے کا اختیار دیا گیا تھا، 9 مئی کی نظرثانی اسی کی پہلی قسط ہے۔ جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران لیوی کی وصولیاں پہلے ہی 1.3 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ سالانہ ہدف 1.468 ٹریلین روپے ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں جتنی زیادہ گرتی ہیں لیوی کو مزید بڑھانے کا مالیاتی لالچ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے میں 10 فیصد تک گریں تو اسلام آباد نے پیٹرولیم لیوی میں 13.5 فیصد اضافہ کر دیا۔</strong></p>
<p>گزشتہ 70 دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں 55.8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ عالمی مارکیٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ وہ آلہ جو صارفین کے لیے ڈھال کے طور پر شروع کیا گیا تھا اب وفاقی آمدنی کا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جو صوبوں کے ساتھ حصہ داری (این ایف سی) سے بچتا ہے، مہنگائی کو ہوا دیتا ہے اور معیشت کو ایک نقصان دہ پالیسی تضاد کی طرف دھکیل رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کا تصور ایک مالیاتی جھٹکا جذب کرنے والے کے طور پر کیا گیا تھا، تاکہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں تو اسے کم کر کے صارفین کو ریلیف دیا جائے اور جب قیمتیں گریں تو اسے بڑھا کر حکومتی آمدنی کو مستحکم کیا جائے۔</p>
<p>عملی طور پر یہ طریقہ کار صرف ایک ہی سمت میں کام کرتا ہے۔ یکم مئی سے 9 مئی کے درمیان برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 10 فیصد گر کر 105 ڈالر سے 95 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ صارفین کو کوئی ریلیف منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 13.91 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، یعنی 103.50 روپے سے بڑھا کر 117.41 روپے کر دی جس سے ریٹیل قیمت 414.78 روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>وسیع تر رجحان اس سے بھی زیادہ چشم کشا ہے۔ یکم مارچ سے اب تک  پیٹرول کی قیمت 266.17 روپے فی لیٹر (جس میں 84.40 روپے لیوی تھی) سے بڑھ کر 414.78 روپے (جس میں 117.41 روپے لیوی ہے) ہو چکی ہے۔ یہ قیمتوں میں 55.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جس میں صرف 70 دنوں کے اندر لیوی کے جزو میں 39.1 فیصد اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>جو چیز استحکام کے آلے کے طور پر بنائی گئی تھی وہ خاموشی سے ایک طاقتور ریونیو مشین میں تبدیل ہو چکی ہے جو صوبائی حصہ داری کو نظر انداز کرتی ہے، مہنگائی بڑھاتی  اور فیول اسٹیشن سے کہیں زیادہ معاشی لاگت مسلط کرتی ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کا پسندیدہ ہتھیار کیوں بن گئی ہے؟ اس کی کشش پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں چھپی ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے برعکس جو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ بانٹا جاتا ہے، پیٹرولیم لیوی کو نان ٹیکس ریونیو کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے اور یہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے۔ جمع ہونے والا ہر روپیہ ڈیویزیبل پول سے باہر براہِ راست اسلام آباد کے پاس جاتا ہے۔</p>
<p>اس کی معاشی لاگت اب مہنگائی کی صورت میں واضح ہے۔ اپریل 2026 میں پاکستان میں افراطِ زر (سی پی آئی) سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گیا، جو جولائی 2024 (11.1 فیصد) کے بعد پہلی بار دوبارہ دہرے ہندسے میں داخل ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔ سی پی آئی باسکٹ میں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن (جس کا وزن 23.63 فیصد ہے) نے 3.52 فیصد پوائنٹس، جبکہ ٹرانسپورٹ (جس کا وزن 5.91 فیصد ہے) نے مزید 2.06 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔اپریل کی مہنگائی میں نصف سے زائد حصہ صرف ایندھن اور اس سے وابستہ شعبوں کا رہا۔ یہ تو صرف براہِ راست اثرات ہیں۔</p>
<p>ایندھن زراعت، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور خوراک کی تقسیم میں بنیادی لاگت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی پوری معیشت میں پھیل جاتی ہے۔</p>
<p>اس کا بوجھ بھی انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ فی لیٹر ایک مقررہ چارج کے طور پر یہ لیوی لیاری کے ایک دیہاڑی دار مزدور سے بھی وہی 117.41 روپے نکالتی ہے جو کلفٹن کے ایک کارپوریٹ ایگزیکٹو سے۔ ظاہری بوجھ برابر ہے لیکن آمدنی کے تناسب سے یہ بوجھ شدید غیر مساوی ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتیں قوتِ خرید کو ختم کرتی ہیں، پیداواری لاگت بڑھاتی ہیں اور مہنگائی کو غذا فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>پھر بلند پالیسی ریٹس قرض لینے کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، کریڈٹ گروتھ کو دباتے  اور معاشی سرگرمیوں کو سست کر دیتے ہیں۔ گھرانوں کو جینے کے لیے زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور کاروبار چلانے کے لیے زیادہ رقم درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید سب سے پریشان کن تضاد خود میکرو اکنامک پالیسی میں ہے۔ پیٹرولیم لیوی بڑھا کر حکومت براہِ راست معیشت میں کاسٹ پش  (پیداواری لاگت سے پیدا ہونے والی) مہنگائی داخل کرتی ہے۔ پھر اسی مہنگائی کو سخت مانیٹری پالیسی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پالیسی ریٹ پہلے ہی بڑھ کر 11.5 فیصد ہو چکا ہے اور مارکیٹیں مہنگائی برقرار رہنے کی صورت میں مزید سختی کی توقع کر رہی ہیں۔ پاکستان خود ساختہ پالیسی سائیکل کے جال میں پھنس گیا ہے، جہاں ریاست کا ایک ہاتھ ایندھن پر ٹیکس لگا کر مہنگائی پیدا کر رہا ہے جبکہ دوسرا ہاتھ شرحِ سود بڑھا کر اسے دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>حالیہ اضافہ تیل کی معاشیات سے زیادہ مالیاتی اہداف کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں مرجلہ وار مزید 53 روپے فی لیٹر اضافے کا اختیار دیا گیا تھا، 9 مئی کی نظرثانی اسی کی پہلی قسط ہے۔ جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران لیوی کی وصولیاں پہلے ہی 1.3 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ سالانہ ہدف 1.468 ٹریلین روپے ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں جتنی زیادہ گرتی ہیں لیوی کو مزید بڑھانے کا مالیاتی لالچ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286237</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:28:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسامہ احسن خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/131404567286865.webp" type="image/webp" medium="image" height="453" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/131404567286865.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کو رہائشی سہولتوں کی کمی اور بوسیدہ انفرااسٹرکچر کے مسائل کا سامنا مگر یہ سب قابل اصلاح ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی جو کبھی ایک گارڈن سٹی کے طور پرجانا جاتا تھا،تاہم اب ایک وسیع و عریض کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ساحلی شہر سے منسوب نسیمِ سحر اور ٹھنڈی سمندری ہواؤں کے برعکس کراچی کی آغوش اب ہر گزرتے سال کے ساتھ ایک تپتے ہوئے اور دم گھٹتے ہوئے حصار میں بدلتی جا رہی ہے۔ یہ اب محض موسم کی سختی یا بے آرامی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے دور رس نتائج خاص طور پر شہر کے پسماندہ اور غریب طبقے کی بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا سب سے بڑا میٹروپولیس اور دنیا کا 13 واں بڑا شہر ہونے کے ناطے کراچی ملک کی بنیادی بندرگاہ اور معاشی مرکز ہے، جس نے حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے۔ 1947 میں محض ساڑھے چار لاکھ آبادی والے اس شہر کی آبادی آج 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے (اور یہ تعداد اب بھی حقیقت سے کم معلوم ہوتی ہے)۔ اس کا شہری منظرنامہ اب بلند و بالا عمارتوں، پھیلی ہوئی غیر رسمی بستیوں اور بوسیدہ انفرااسٹرکچر کا ایک پیوند بن چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی ہو رہی ہے لیکن اس کی رفتار شہر کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی اس برق رفتار مگر غیر منصوبہ بند اور قلیل مدتی توسیع نے ایک ایسے خاموش بحران کو جنم دیا ہے جسے اربن ہیٹ آئی لینڈ کہا جاتا ہے۔ یہ محض کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک ایسا تلخ مشاہدہ ہے جو شہر کے درجہ حرارت میں ہولناک اضافے اور فضائی آلودگی کی سنگینی کی صورت میں شہریوں کے معیارِ زندگی کو تیزی سے نگل رہا ہے۔ کنکریٹ کے اس بے ہنگم پھیلاؤ نے شہر کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو ان کی آخری حدوں تک دھکیل دیا ہے۔ تپش کا یہ بڑھتا ہوا گراف اور بنیادی ڈھانچے کی فرسودگی ہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر آج کراچی کا شمار دنیا کے رہنے کے لیے بدترین شہروں کی فہرست میں ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شہری بھٹی: کراچی کی تپش&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب آپ کو اس کا تصور کرنے کی ضرورت نہیں، یہ ایک حقیقت بن چکا ہے، کراچی کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر جہاں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ کے قریب ہو اور سڑکیں تپش جذب کرنے والے تارکول (اسفالٹ) سے بنی ہوں اور بلند عمارتوں سے گھری ہوں، جو سورج ڈھلنے کے بعد بھی شدید حرارت خارج کرتی رہیں۔ یہی  اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر ہے جسے کراچی کے شہری شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ اثر تب پیدا ہوتا ہے جب شہر تعمیراتی مواد (کنکریٹ، اسفالٹ اور شیشہ) اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرمی کو قید کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درجہ حرارت میں 7 سینٹی گریڈ تک کا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمیوں کے مہینوں میں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے بعد گزشتہ سال کی طرح اکتوبر اور نومبر کے آخر تک غیر معمولی ہیٹ ویوز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں کراچی کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 2.4 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے، جو زیادہ شدید اور طویل ہیٹ ویوز کا باعث بن رہا ہے۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کراچی کی زمین کا 66 فیصد حصہ بنجر جبکہ 21 فیصد تعمیر شدہ رقبے پر مشتمل ہے، جبکہ محض 10.4 فیصد حصہ سبزہ زاروں کے لیے مختص ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کی ساحلی جغرافیہ جو قدرتی طور پر اسے ٹھنڈا رکھ سکتی تھی، اب ہوا میں نمی کے تناسب کی وجہ سے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ شہر کی 62 فیصد آبادی گنجان آباد محلوں میں رہتی ہے جہاں تنگ، دھوپ سے جھلستی گلیاں اور سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک تحقیق میں سبز علاقوں اور ٹھنڈک پیدا کرنے کی صلاحیت کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کراچی ویسٹ اور ملیر کے اضلاع میں یوایچ آئی کا اثر زیادہ شدید ہے جبکہ جن علاقوں میں سبزہ زیادہ ہے وہاں درجہ حرارت نسبتاً کم پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورنگی ٹاؤن اور کورنگی جیسے گنجان آباد علاقے، جہاں درختوں کا سایہ نہیں ہے، نادانستہ طور پر تپش کے جال بن چکے ہیں۔ شارع فیصل، طارق روڈ اور شاہراہِ قائدین جیسے مصروف راستوں پر بھی یہی صورتحال ہے جہاں گاڑیوں سے پیدا ہونے والی تپش برقرار رہتی ہے۔ بلند عمارتیں ہوا کے بہاؤ کو روک دیتی ہیں، جس سے گرمی سورج غروب ہونے کے بعد بھی فضا میں قید رہتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے، جہاں ریڑھی بانوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے سائے کی کمی مشکلات بڑھا دیتی ہے، اگرچہ تحقیق بتاتی ہے کہ شدید دھوپ میں محض سایہ بھی اب کافی نہیں رہا۔ بدقسمتی سے، ناقص شہری منصوبہ بندی اور شجرکاری کے بڑے منصوبوں میں ناکامی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شکستہ حال انفرااسٹرکچر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے شہر میں گرمی قید ہو رہی ہے، یوٹیلیٹی انفرااسٹرکچر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہیٹ ویوز کے دوران بجلی کی طلب میں بے پناہ اضافہ کے الیکٹرک کے نظام پر بوجھ بڑھاتا ہے۔ کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی کی چوری اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، جس سے لائن لاسز بڑھتے ہیں اور بڑے علاقوں کی بجلی متاثر ہوتی ہے۔ پانی کا مسئلہ بھی گرمیوں میں شدت اختیار کر جاتا ہے۔ کراچی کا آبی نظام پرانا اور غیر مؤثر ہے اور ہیٹ ویو کے دوران جب پانی کی طلب بڑھتی ہے تو شہر کے کئی حصوں میں اس کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے، چاہے وہ محلہ امیر ہو یا غریب۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرمی کم کرنے میں سبزے کا کردار: سبزہ ہی نیا سونا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم جانتے ہیں کہ پارکس، باغات اور درختوں کا جھنڈ گرمی کے خلاف قدرت کا بہترین علاج ہے اور کراچی کی اس جنگ میں سب سے بڑی کمی یہی ہے۔ یہ سایہ فراہم کرتے ہیں اور ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے کراچی میں فی کس سبزے کی شرح انتہائی کم ہے، یہاں فی فرد ایک مربع میٹر سے بھی کم سبزہ موجود ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کم از کم 9 مربع میٹر کی سفارش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے دیگر شہروں جیسے سیول اور ممبئی نے سبز راہداریوں اور پارکوں کے ذریعے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی ہے، جو کراچی کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ کراچی نے ماضی میں سڑکوں کے کنارے یوکلپٹس اور پیپل کے درخت لگانے کی کوشش کی لیکن پانی کی زیادہ ضرورت جیسے مسائل نے  کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 جیسے منصوبوں کو غیر مؤثر بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے لیے سبزے میں اضافہ اور بہتر شہری نظم و نسق اب محض خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت اور یوٹیلیٹی مینجمنٹ کی ضرورت بن چکا ہے۔ شہری پارکس اور درخت گرمی کا درجہ حرارت کم کر سکتے ہیں اور بجلی کی کھپت کا دباؤ گھٹا سکتے ہیں مگر اس راہ میں محدود زمین، زیادہ دیکھ بھال کے اخراجات، سیاسی عزم کی کمی اور عمل درآمد کی کمزوری جیسے بڑے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی جو کبھی ایک گارڈن سٹی کے طور پرجانا جاتا تھا،تاہم اب ایک وسیع و عریض کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے۔</strong></p>
<p>ایک ساحلی شہر سے منسوب نسیمِ سحر اور ٹھنڈی سمندری ہواؤں کے برعکس کراچی کی آغوش اب ہر گزرتے سال کے ساتھ ایک تپتے ہوئے اور دم گھٹتے ہوئے حصار میں بدلتی جا رہی ہے۔ یہ اب محض موسم کی سختی یا بے آرامی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے دور رس نتائج خاص طور پر شہر کے پسماندہ اور غریب طبقے کی بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا سب سے بڑا میٹروپولیس اور دنیا کا 13 واں بڑا شہر ہونے کے ناطے کراچی ملک کی بنیادی بندرگاہ اور معاشی مرکز ہے، جس نے حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے۔ 1947 میں محض ساڑھے چار لاکھ آبادی والے اس شہر کی آبادی آج 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے (اور یہ تعداد اب بھی حقیقت سے کم معلوم ہوتی ہے)۔ اس کا شہری منظرنامہ اب بلند و بالا عمارتوں، پھیلی ہوئی غیر رسمی بستیوں اور بوسیدہ انفرااسٹرکچر کا ایک پیوند بن چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی ہو رہی ہے لیکن اس کی رفتار شہر کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>کراچی کی اس برق رفتار مگر غیر منصوبہ بند اور قلیل مدتی توسیع نے ایک ایسے خاموش بحران کو جنم دیا ہے جسے اربن ہیٹ آئی لینڈ کہا جاتا ہے۔ یہ محض کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک ایسا تلخ مشاہدہ ہے جو شہر کے درجہ حرارت میں ہولناک اضافے اور فضائی آلودگی کی سنگینی کی صورت میں شہریوں کے معیارِ زندگی کو تیزی سے نگل رہا ہے۔ کنکریٹ کے اس بے ہنگم پھیلاؤ نے شہر کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو ان کی آخری حدوں تک دھکیل دیا ہے۔ تپش کا یہ بڑھتا ہوا گراف اور بنیادی ڈھانچے کی فرسودگی ہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر آج کراچی کا شمار دنیا کے رہنے کے لیے بدترین شہروں کی فہرست میں ہو رہا ہے۔</p>
<p><strong>شہری بھٹی: کراچی کی تپش</strong></p>
<p>اب آپ کو اس کا تصور کرنے کی ضرورت نہیں، یہ ایک حقیقت بن چکا ہے، کراچی کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر جہاں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ کے قریب ہو اور سڑکیں تپش جذب کرنے والے تارکول (اسفالٹ) سے بنی ہوں اور بلند عمارتوں سے گھری ہوں، جو سورج ڈھلنے کے بعد بھی شدید حرارت خارج کرتی رہیں۔ یہی  اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر ہے جسے کراچی کے شہری شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ اثر تب پیدا ہوتا ہے جب شہر تعمیراتی مواد (کنکریٹ، اسفالٹ اور شیشہ) اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرمی کو قید کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درجہ حرارت میں 7 سینٹی گریڈ تک کا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>گرمیوں کے مہینوں میں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے بعد گزشتہ سال کی طرح اکتوبر اور نومبر کے آخر تک غیر معمولی ہیٹ ویوز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں کراچی کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 2.4 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے، جو زیادہ شدید اور طویل ہیٹ ویوز کا باعث بن رہا ہے۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کراچی کی زمین کا 66 فیصد حصہ بنجر جبکہ 21 فیصد تعمیر شدہ رقبے پر مشتمل ہے، جبکہ محض 10.4 فیصد حصہ سبزہ زاروں کے لیے مختص ہے۔</p>
<p>شہر کی ساحلی جغرافیہ جو قدرتی طور پر اسے ٹھنڈا رکھ سکتی تھی، اب ہوا میں نمی کے تناسب کی وجہ سے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ شہر کی 62 فیصد آبادی گنجان آباد محلوں میں رہتی ہے جہاں تنگ، دھوپ سے جھلستی گلیاں اور سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک تحقیق میں سبز علاقوں اور ٹھنڈک پیدا کرنے کی صلاحیت کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کراچی ویسٹ اور ملیر کے اضلاع میں یوایچ آئی کا اثر زیادہ شدید ہے جبکہ جن علاقوں میں سبزہ زیادہ ہے وہاں درجہ حرارت نسبتاً کم پایا گیا۔</p>
<p>اورنگی ٹاؤن اور کورنگی جیسے گنجان آباد علاقے، جہاں درختوں کا سایہ نہیں ہے، نادانستہ طور پر تپش کے جال بن چکے ہیں۔ شارع فیصل، طارق روڈ اور شاہراہِ قائدین جیسے مصروف راستوں پر بھی یہی صورتحال ہے جہاں گاڑیوں سے پیدا ہونے والی تپش برقرار رہتی ہے۔ بلند عمارتیں ہوا کے بہاؤ کو روک دیتی ہیں، جس سے گرمی سورج غروب ہونے کے بعد بھی فضا میں قید رہتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے، جہاں ریڑھی بانوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے سائے کی کمی مشکلات بڑھا دیتی ہے، اگرچہ تحقیق بتاتی ہے کہ شدید دھوپ میں محض سایہ بھی اب کافی نہیں رہا۔ بدقسمتی سے، ناقص شہری منصوبہ بندی اور شجرکاری کے بڑے منصوبوں میں ناکامی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔</p>
<p><strong>شکستہ حال انفرااسٹرکچر</strong></p>
<p>جیسے جیسے شہر میں گرمی قید ہو رہی ہے، یوٹیلیٹی انفرااسٹرکچر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہیٹ ویوز کے دوران بجلی کی طلب میں بے پناہ اضافہ کے الیکٹرک کے نظام پر بوجھ بڑھاتا ہے۔ کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی کی چوری اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، جس سے لائن لاسز بڑھتے ہیں اور بڑے علاقوں کی بجلی متاثر ہوتی ہے۔ پانی کا مسئلہ بھی گرمیوں میں شدت اختیار کر جاتا ہے۔ کراچی کا آبی نظام پرانا اور غیر مؤثر ہے اور ہیٹ ویو کے دوران جب پانی کی طلب بڑھتی ہے تو شہر کے کئی حصوں میں اس کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے، چاہے وہ محلہ امیر ہو یا غریب۔</p>
<p><strong>گرمی کم کرنے میں سبزے کا کردار: سبزہ ہی نیا سونا ہے</strong></p>
<p>اب ہم جانتے ہیں کہ پارکس، باغات اور درختوں کا جھنڈ گرمی کے خلاف قدرت کا بہترین علاج ہے اور کراچی کی اس جنگ میں سب سے بڑی کمی یہی ہے۔ یہ سایہ فراہم کرتے ہیں اور ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے کراچی میں فی کس سبزے کی شرح انتہائی کم ہے، یہاں فی فرد ایک مربع میٹر سے بھی کم سبزہ موجود ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کم از کم 9 مربع میٹر کی سفارش کرتا ہے۔</p>
<p>دنیا کے دیگر شہروں جیسے سیول اور ممبئی نے سبز راہداریوں اور پارکوں کے ذریعے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی ہے، جو کراچی کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ کراچی نے ماضی میں سڑکوں کے کنارے یوکلپٹس اور پیپل کے درخت لگانے کی کوشش کی لیکن پانی کی زیادہ ضرورت جیسے مسائل نے  کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 جیسے منصوبوں کو غیر مؤثر بنا دیا۔</p>
<p>کراچی کے لیے سبزے میں اضافہ اور بہتر شہری نظم و نسق اب محض خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت اور یوٹیلیٹی مینجمنٹ کی ضرورت بن چکا ہے۔ شہری پارکس اور درخت گرمی کا درجہ حرارت کم کر سکتے ہیں اور بجلی کی کھپت کا دباؤ گھٹا سکتے ہیں مگر اس راہ میں محدود زمین، زیادہ دیکھ بھال کے اخراجات، سیاسی عزم کی کمی اور عمل درآمد کی کمزوری جیسے بڑے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286043</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 16:04:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سمیر فضل)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/0815053232c5e88.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/0815053232c5e88.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرض بحران: برآمدات، آبادی پر کنٹرول اور اصلاحات ہی نکلنے کا واحد راستہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ایک مالیاتی توازن کی انتہائی نازک ڈور پر چل رہا ہے۔ مالی سال 2025 تک مجموعی عوامی قرضہ تقریباً 289.1 بلین ڈالر (80.6 کھرب روپے) تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈٰ پی) تقریباً 407.1 ارب ڈالر رہی۔ اس طرح قرضہ جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا اپنا قانون اس حد کو 60 فیصد پر رکھتا ہے۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لِمیٹیشن ایکٹ — جو 2005 میں منظور ہوا اور 2022 میں اس میں ترمیم کی گئی — یہ واضح طور پر یہ حد مقرر کرتا ہے۔ حکومت صرف بیرونی معیار ہی پر پورا نہیں اتر رہی بلکہ اپنے ہی بنائے گئے قانون کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرضے کی سمت ایک تشویشناک کہانی بیان کرتی ہے، جو صرف بدقسمتی نہیں بلکہ ناقص پالیسی فیصلوں کا نتیجہ ہے:&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06211503d812293.png'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06211503d812293.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جزوی سال شامل ہے۔ †9 ماہ کا ڈیٹا؛ سالانہ بنیاد پر تقریباً 9 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تقریباً ہر حکومت نے اقتدار میں رہتے ہوئے قرض لیا ہے لیکن واپس کم کیا ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ریکارڈ ہے۔ ملک اب ایک ساختی قرض رول اوور ٹریپ میں پھنس چکا ہے: پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرض، جبکہ اصل بوجھ میں کوئی نمایاں کمی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف چین کو تقریباً 68.91 ارب ڈالر واجب الادا ہیں، جس نے 2000 سے اب تک 433 منصوبوں کی مالی معاونت کی ہے۔ جون 2025 میں بیجنگ نے 3.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے ری رول اوور کیے تاکہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اپنے زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھ سکے۔ یہ شراکت داری نہیں بلکہ ایک لائف لائن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال سے نکلنے کا واحد حقیقی راستہ زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کمانا ہے۔ ترسیلات زر مدد دیتی ہیں — مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کا 9.4 فیصد قابلِ ذکر ہے — مگر یہ وہ ساختی کردار ادا نہیں کر سکتیں جو ایک حقیقی برآمدی معیشت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;قرض لے کر خوشحالی حاصل نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے برآمدات بڑھانی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کی برآمدی کارکردگی محض کمزور نہیں بلکہ ایک خاموش قومی بحران ہے۔ برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ 1990 کی دہائی کے تقریباً 16 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں صرف 10.4 فیصد رہ گیا ہے، ورلڈ بینک کے مطابق۔ تقریباً بیس سال سے پاکستان کی برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں۔ اس کی وجہ عالمی تجارت میں کمی نہیں بلکہ غلط پالیسیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں دیگر ممالک نے مختلف راستہ اختیار کیا:&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06212148088cdd3.png'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06212148088cdd3.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش — جو صنعتی طور پر پاکستان سے کم وسائل رکھتا تھا — اب پاکستان سے دو گنا زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ ویتنام نے تقریباً اسی سطح سے آغاز کیا تھا اور اب اس کی برآمدات پاکستان سے گیارہ گنا زیادہ ہیں۔ یہ جغرافیہ کی نہیں بلکہ پالیسی کی کہانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت تقریباً 60 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان اپنی آبادی، محل وقوع اور معاشی خصوصیات کے مطابق صرف نصف صلاحیت استعمال کر رہا ہے۔ یہ خلا پالیسی ناکامی کی واضح اور قابلِ پیمائش قیمت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات کا ارتکاز بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 56 فیصد تھا۔ چمڑا اور چاول شامل کریں تو تقریباً دو تہائی برآمدات کم یا درمیانی ویلیو ایڈڈ اشیا پر مشتمل ہیں۔ ہائی اسکل اور ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدات 2001 میں 3.6 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں صرف 6.4 فیصد تک پہنچیں، جبکہ ویتنام 33.9 فیصد اور چین 41.1 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ ڈیجیٹل سروسز میں پاکستان کا عالمی حصہ صرف 0.1 فیصد ہے، جبکہ بھارت کا 5.8 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی کی لاگت میں فرق ایک سنگین مسئلہ ہے&lt;/strong&gt;: پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت تقریباً 10–11 سینٹ فی کلو واٹ آور بجلی ادا کرتی ہے۔ بنگلہ دیش تقریباً 8 سینٹ اور بھارت اس سے بھی کم ادا کرتا ہے۔ یہ 1.5 سے 2.4 سینٹ کا فرق عالمی مسابقت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ کراس سبسڈائزیشن ماڈل — جس میں صنعت گھریلو بجلی کو سبسڈی دیتی ہے — ایک سیاسی فیصلہ ہے جو پاکستان کی مسابقت کو کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکسیشن پالیسی اصل مسئلہ ہے&lt;/strong&gt;۔ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ٹیکس کی شرحیں دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ مالی سال 2024-25 کا بجٹ ایک بڑا ساختی دھچکا تھا: برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں شامل کر دیا گیا۔ ایف ٹی آر کے تحت 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس حتمی ذمہ داری تھا — آسان، واضح اور کم پیچیدہ۔ اب یہ وضاحت ختم ہو گئی ہے۔ این ٹی آر کے تحت ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس اب بھی موجود ہے مگر حتمی نہیں۔ اس کے بعد 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس منافع پر لاگو ہوتا ہے، اور 10 فیصد تک سپر ٹیکس بھی شامل ہے۔ انفرادی برآمد کنندگان کے لیے یہ شرح 35 فیصد تک پہنچتی ہے، جس پر مزید 10 فیصد لیوی بھی لگتی ہے۔ مجموعی بوجھ تقریباً 52 فیصد منافع تک پہنچ جاتا ہے۔ نقصان کی صورت میں بھی کم از کم ٹرن اوور ٹیکس لاگو رہتا ہے۔ صوبائی ٹیکسز اس کے علاوہ ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس بیس نہ بڑھانے کی ناکامی نے پورا بوجھ  دستاویزی برآمدی شعبے پر ڈال دیا ہے۔ برآمد کنندگان باہر جا رہے ہیں، اور اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقصان صرف ظاہر ہونے والی ٹیکس کی شرحوں تک محدود نہیں۔ این ٹی آر (نارمل ٹیکس رجیم) کی طرف منتقلی نے محض ٹیکس نہیں بڑھایا بلکہ برآمد کنندگان کو ایک پیچیدہ نظام میں الجھا دیا ہے۔ ایف ٹی آر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن این ٹی آر میں یہ ایک مسلسل عمل بن گیا ہے جس میں نوٹسز، سماعتیں، جانچ پڑتال، اسیسمنٹس اور دوبارہ اسیسمنٹس شامل ہیں۔ وہ انتظامی صلاحیت جو آرڈرز جیتنے، مارکیٹس بڑھانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر استعمال ہونی چاہیے تھی، اب وسیع اکاؤنٹنگ ریکارڈز برقرار رکھنے اور ٹیکس دفاتر سے معاملات سنبھالنے میں خرچ ہو رہی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ مسابقتی لاگت ہے جو کسی بھی ٹیرف موازنہ میں نظر نہیں آتی، لیکن ہر برآمد کنندہ اسے محسوس کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب 2021 میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) متعارف کرائی گئی تو اس کی منطق درست تھی: برآمدات ٹیکس نیوٹرل ہونی چاہئیں۔ برآمد کنندگان کو خام مال تک ڈیوٹی فری رسائی اور مقامی سطح پر زیرو ریٹڈ سپلائی دی جانی تھی تاکہ ریفنڈ پر انحصار ختم ہو جائے۔ تاہم اس ڈھانچے کو بعد میں منظم طریقے سے ختم کیا گیا۔ زیرو ریٹنگ واپس لے لی گئی۔ درآمدی خام مال پر ڈیوٹیاں اور ٹیکس دوبارہ نافذ کر دیے گئے۔ جو اسکیم ریفنڈ ختم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اب مکمل طور پر انہی ریفنڈز پر انحصار کرنے لگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ریفنڈ سسٹم اس نقصان کو مزید بڑھاتا ہے۔ سیلز ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ڈرا بیک — جو قانونی طور پر برآمد کنندگان کو واجب الادا ہیں — عام طور پر 6 سے 18 ماہ میں ادا کیے جاتے ہیں۔ اب اضافی ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس مزید لیکویڈیٹی ایف بی ار کے اندر پھنساتا ہے۔ اربوں روپے کا ورکنگ کیپیٹل زیر التوا کلیمز میں بند ہو جاتا ہے، جس سے ریاست عملی طور پر نجی شعبے سے جبری قرض لینے والی بن جاتی ہے جسے وہ سپورٹ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس سیکٹر — جو پہلے ہی زیادہ توانائی لاگت اور مہنگے کریڈٹ کا شکار ہے — انتہائی کمزور ہو جاتا ہے۔ معمولی کیش فلو رکاوٹیں بھی براہ راست آرڈرز کے نقصان اور مارکیٹ شیئر کھونے میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی پالیسی غلط فہمی کو واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ برآمدات پر زیادہ ٹیکس قلیل مدت میں ریونیو میں اضافہ دے سکتے ہیں، لیکن اس کے اثرات تیزی سے بڑھتے ہیں: پیداواری ادارے اخراجات پورے کرنے کے لیے مقامی قیمتیں بڑھاتے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے؛ کم مالی سرپلس کی وجہ سے بی ایم آر (بحالی، جدید کاری اور تبدیلی)، توسیع اور ایکسپورٹ مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے؛ اور برآمدات کی کمی بالآخر اس ٹیکس بیس کو بھی کم کر دیتی ہے جسے حکومت بڑھانا چاہتی تھی۔ برآمدی خام مال پر ٹیکس پائیدار آمدن پیدا نہیں کرتے، بلکہ برآمدات کم کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور ویتنام نے اس کے برعکس ماڈل اپنایا ہے — کم سے کم ٹیکس مشکلات، ڈیوٹی فری خام مال، اور تیز ریفنڈز۔ پاکستان نے اس کے بالکل الٹ راستہ اختیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درستگی کا راستہ واضح ہے۔ برآمد کنندگان کو دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میں لایا جائے — کم، مستحکم اور ایف بی آر سے کم سے کم انسانی رابطے والا نظام۔ مکمل خودکار ریفنڈ سسٹم جس میں 30 دن کی حد ہو، بین الاقوامی معیار ہے، کوئی غیر معمولی ہدف نہیں۔ وزارتِ خزانہ کو ایکسپورٹ ریفنڈ فنڈ قائم کرنا چاہیے، جو فارمولے کے مطابق فنڈ ہو اور سالانہ بجٹ دباؤ سے آزاد ہو۔ اور ای ایف ایس کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے — زیرو ریٹنگ اور برآمدی پیداوار کے لیے ڈیوٹی فری خام مال بطور ساختی ضرورت، نہ کہ وقتی رعایت۔ یہ اصلاحات فوری طور پر اربوں روپے کی ورکنگ کیپیٹل کو آزاد کر دیں گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ واضح اور قابلِ اعتماد پیغام دیں گی کہ برآمدی ترقی واقعی پالیسی کی ترجیح ہے، صرف زبانی دعویٰ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پالیسی عدم استحکام ہر چیز کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے&lt;/strong&gt;۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں پاکستان میں پانچ وزیراعظم، چار وزرائے خزانہ اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تین گورنر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہر تبدیلی کے ساتھ پالیسی الٹ پلٹ ہوتی ہے — نئے فریم ورک، متاثرہ ترغیبات، اور تبدیل شدہ خطرات۔ کوئی بھی برآمد کنندہ ایسے ماحول میں 5 سے 10 سال کی سرمایہ کاری کا فیصلہ نہیں کرتا جہاں توانائی کی قیمتیں، ٹیکس نظام اور شرح تبادلہ کی پالیسیاں ہر حکومت کے ساتھ یا حتیٰ کہ ایک ہی حکومت میں بھی بدلتی رہیں۔ ویتنام کی برآمدی کامیابی دہائیوں پر محیط مستقل اور قابلِ اعتماد پالیسی پر بنی ہے، جبکہ پاکستان نے اس کے برعکس رویہ اپنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پھر آبادی کا مسئلہ ہے — وہ حقیقت جس پر کوئی کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا&lt;/strong&gt;۔ 2025 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 255 ملین ہے، جو سالانہ 1.9 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے — عالمی اوسط 0.9 فیصد سے کہیں زیادہ۔ اس رفتار سے 2100 تک آبادی 511 ملین تک پہنچ جائے گی۔ اگر جی ڈی پی 3 فیصد اور آبادی 1.9 فیصد بڑھے تو فی کس آمدن کی حقیقی شرح صرف 1.1 فیصد رہ جاتی ہے۔ معیشت محض اپنی جگہ قائم رہنے کے لیے بھی سخت محنت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر وہ روپیہ جو ایکسپورٹ انفرااسٹرکچر، صنعتی صلاحیت، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) یا تعلیم پر لگنا چاہیے، وہ ہر روز پیدا ہونے والے 14,684 نئے بچوں کی خوراک، تعلیم اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا بلند ڈیپنڈنسی ریٹ 68.4 اس بات کا مطلب ہے کہ کمزور ورکنگ ایج آبادی ایک بڑے غیر فعال انحصار کرنے والے طبقے کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ تعلیمی نظام پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ بچوں میں نشوونما کی کمی خطے میں بدترین سطحوں میں شامل ہے۔ ایک ایسی ورک فورس جو کم تعلیم یافتہ اور غذائی کمی کا شکار ہو کر لیبر مارکیٹ میں داخل ہو، وہ اعلیٰ معیار، تکنیکی اور پیچیدہ برآمدات پیدا نہیں کر سکتی جو حقیقی زرمبادلہ پیدا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویتنام کا برآمدی معجزہ ایک نوجوان، تعلیم یافتہ اور منظم افرادی قوت پر مبنی تھا — جو دانستہ ڈیموگرافک مینجمنٹ (آبادیاتی منصوبہ بندی) کا نتیجہ تھا۔ بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں ترقی خواتین کی تعلیم میں بہتری اور خاندانی منصوبہ بندی میں پیش رفت کے ساتھ ہوئی۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی موجود ہے، لیکن ابھی اس کے پاس وہ انسانی سرمایہ  موجود نہیں جو اسے برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے اپنی آبادی کو پہلے ہی منظم کیا — جیسے جنوبی کوریا، تائیوان اور ملائیشیا — انہوں نے مالیاتی گنجائش پیدا کی اور اسے برآمدی صنعتی ترقی کی طرف منتقل کیا۔ پاکستان کی مالی گنجائش، قرضوں کی ادائیگی اور حکومت چلانے کے بعد جو بچتی ہے، وہ بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس آبادی، مینوفیکچرنگ بیس، جغرافیائی محلِ وقوع اور ڈائسپورا نیٹ ورکس موجود ہیں جو اسے ایک حقیقی برآمدی پاور ہاؤس بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پالیسی تجاویز: کیا تبدیل ہونا ضروری ہے&lt;/strong&gt;:ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کے پاس 60 ارب ڈالر کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت موجود ہے۔ اس کا آدھا حصہ بھی حاصل کر لیا جائے تو مالی صورتحال بدل سکتی ہے، روپے کو استحکام مل سکتا ہے، قرضوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے، اور لاکھوں ہنر مند نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکس نظام میں اصلاحات&lt;/strong&gt;:برآمد کنندگان کو دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میں منتقل کیا جائے۔ ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کیے جائیں۔ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک لائی جائے۔ مختلف لیویز اور صوبائی ٹیکسز کا بوجھ ختم کیا جائے۔ یہ اصلاحات بتدریج نہیں بلکہ فوری ہونی چاہئیں، اس سے پہلے کہ برآمدی شعبہ ناقابلِ واپسی حد تک متاثر ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی کی مسابقتی قیمت&lt;/strong&gt;:برآمدی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت زیادہ سے زیادہ 7.5 سینٹ فی کلو واٹ آور اور گیس 2,200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہونی چاہیے۔ یہ وہ حد ہے جس کے نیچے پاکستانی برآمدات عالمی سطح پر مسابقتی بن سکتی ہیں۔ پانچ سال پر مشتمل مستقل انرجی کمپیکٹ — جس میں قیمتیں مستحکم ہوں اور سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ ہوں — سرمایہ کاری کے لیے اعتماد فراہم کرے گا۔ کراس سبسڈی ماڈل، جس میں صنعت کو گھریلو صارفین کے لیے بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، کو بنیادی طور پر ختم کرنا ہوگا، عارضی طور پر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شعبہ جاتی تنوع&lt;/strong&gt;:آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز، زرعی ویلیو ایڈڈ مصنوعات، اور حلال فوڈ — پاکستان کے پاس ان تینوں میں غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر پاکستان ایک دہائی میں عالمی ڈیجیٹل سروسز مارکیٹ کا صرف ایک فیصد بھی حاصل کر لے تو سالانہ 10 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل برآمدات ممکن ہیں۔ اس کے لیے پالیسی سطح پر سادہ اقدامات ضروری ہیں: آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس چھوٹ، تیز رفتار براڈ بینڈ، اور مستحکم ریگولیشن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبادی کا انتظام بطور معاشی پالیسی&lt;/strong&gt;:پاکستان کی کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) نے 2030 تک ریپلیسمنٹ لیول فرٹیلیٹی (ٹی ایف آر 2.1) کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فیملی پلاننگ بجٹ کو تین گنا بڑھانا ہوگا، مانع حمل ادویات تک عالمی سطح پر رسائی یقینی بنانا ہوگی، خواتین کی سیکنڈری تعلیم میں لازمی سرمایہ کاری کرنی ہوگی — جو شرحِ پیدائش کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے — اور صوبائی سطح پر احتسابی نظام قائم کرنا ہوگا۔ یہ صرف سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ مالیاتی حساب کتاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے کیلئے بیک وقت تین بڑی تبدیلیاں ضروری ہیں: برآمدات میں بڑی اور پالیسی پر مبنی توسیع — 60 ارب ڈالر کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کو حاصل کرنا؛ آبادی کے مؤثر اور مالی طور پر فنڈڈ انتظام کا سنجیدہ پروگرام جو شرحِ پیدائش کو متوازن سطح تک لے آئے؛ اور توانائی، ٹیکس، ٹیرف اور شرح مبادلہ میں ساختی اصلاحات جو برآمدات کو منافع بخش اور قابلِ پیش گوئی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس آبادی، مینوفیکچرنگ بیس، جغرافیائی محلِ وقوع اور ڈائسپورا نیٹ ورکس موجود ہیں جو اسے ایک حقیقی برآمدی طاقت بنا سکتے ہیں۔ جو چیز اب تک کمی رہی ہے وہ سیاسی عزم ہے — جو برآمد کنندہ کو درآمد کنندہ پر ترجیح دے، طویل المدتی سوچ کو قلیل المدتی فائدے پر فوقیت دے، اور ساختی اصلاحات کو عوامی مراعات پر ترجیح دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کا وقت اب ہے۔ قرض کی گھڑی مسلسل چل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ایک مالیاتی توازن کی انتہائی نازک ڈور پر چل رہا ہے۔ مالی سال 2025 تک مجموعی عوامی قرضہ تقریباً 289.1 بلین ڈالر (80.6 کھرب روپے) تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈٰ پی) تقریباً 407.1 ارب ڈالر رہی۔ اس طرح قرضہ جی ڈی پی کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہاں تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا اپنا قانون اس حد کو 60 فیصد پر رکھتا ہے۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لِمیٹیشن ایکٹ — جو 2005 میں منظور ہوا اور 2022 میں اس میں ترمیم کی گئی — یہ واضح طور پر یہ حد مقرر کرتا ہے۔ حکومت صرف بیرونی معیار ہی پر پورا نہیں اتر رہی بلکہ اپنے ہی بنائے گئے قانون کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے۔</p>
<p>اس قرضے کی سمت ایک تشویشناک کہانی بیان کرتی ہے، جو صرف بدقسمتی نہیں بلکہ ناقص پالیسی فیصلوں کا نتیجہ ہے:</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06211503d812293.png'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06211503d812293.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جزوی سال شامل ہے۔ †9 ماہ کا ڈیٹا؛ سالانہ بنیاد پر تقریباً 9 فیصد۔</p>
<p>پاکستان میں تقریباً ہر حکومت نے اقتدار میں رہتے ہوئے قرض لیا ہے لیکن واپس کم کیا ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ریکارڈ ہے۔ ملک اب ایک ساختی قرض رول اوور ٹریپ میں پھنس چکا ہے: پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرض، جبکہ اصل بوجھ میں کوئی نمایاں کمی نہیں۔</p>
<p>صرف چین کو تقریباً 68.91 ارب ڈالر واجب الادا ہیں، جس نے 2000 سے اب تک 433 منصوبوں کی مالی معاونت کی ہے۔ جون 2025 میں بیجنگ نے 3.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے ری رول اوور کیے تاکہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اپنے زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھ سکے۔ یہ شراکت داری نہیں بلکہ ایک لائف لائن ہے۔</p>
<p>اس صورتحال سے نکلنے کا واحد حقیقی راستہ زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کمانا ہے۔ ترسیلات زر مدد دیتی ہیں — مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کا 9.4 فیصد قابلِ ذکر ہے — مگر یہ وہ ساختی کردار ادا نہیں کر سکتیں جو ایک حقیقی برآمدی معیشت کرتی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>قرض لے کر خوشحالی حاصل نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے برآمدات بڑھانی ہوتی ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کی برآمدی کارکردگی محض کمزور نہیں بلکہ ایک خاموش قومی بحران ہے۔ برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ 1990 کی دہائی کے تقریباً 16 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں صرف 10.4 فیصد رہ گیا ہے، ورلڈ بینک کے مطابق۔ تقریباً بیس سال سے پاکستان کی برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں۔ اس کی وجہ عالمی تجارت میں کمی نہیں بلکہ غلط پالیسیاں ہیں۔</p>
<p>اسی عرصے میں دیگر ممالک نے مختلف راستہ اختیار کیا:</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06212148088cdd3.png'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/06212148088cdd3.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>بنگلہ دیش — جو صنعتی طور پر پاکستان سے کم وسائل رکھتا تھا — اب پاکستان سے دو گنا زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ ویتنام نے تقریباً اسی سطح سے آغاز کیا تھا اور اب اس کی برآمدات پاکستان سے گیارہ گنا زیادہ ہیں۔ یہ جغرافیہ کی نہیں بلکہ پالیسی کی کہانی ہے۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت تقریباً 60 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان اپنی آبادی، محل وقوع اور معاشی خصوصیات کے مطابق صرف نصف صلاحیت استعمال کر رہا ہے۔ یہ خلا پالیسی ناکامی کی واضح اور قابلِ پیمائش قیمت ہے۔</p>
<p>برآمدات کا ارتکاز بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 56 فیصد تھا۔ چمڑا اور چاول شامل کریں تو تقریباً دو تہائی برآمدات کم یا درمیانی ویلیو ایڈڈ اشیا پر مشتمل ہیں۔ ہائی اسکل اور ٹیکنالوجی پر مبنی برآمدات 2001 میں 3.6 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں صرف 6.4 فیصد تک پہنچیں، جبکہ ویتنام 33.9 فیصد اور چین 41.1 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ ڈیجیٹل سروسز میں پاکستان کا عالمی حصہ صرف 0.1 فیصد ہے، جبکہ بھارت کا 5.8 فیصد۔</p>
<p><strong>توانائی کی لاگت میں فرق ایک سنگین مسئلہ ہے</strong>: پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت تقریباً 10–11 سینٹ فی کلو واٹ آور بجلی ادا کرتی ہے۔ بنگلہ دیش تقریباً 8 سینٹ اور بھارت اس سے بھی کم ادا کرتا ہے۔ یہ 1.5 سے 2.4 سینٹ کا فرق عالمی مسابقت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ کراس سبسڈائزیشن ماڈل — جس میں صنعت گھریلو بجلی کو سبسڈی دیتی ہے — ایک سیاسی فیصلہ ہے جو پاکستان کی مسابقت کو کمزور کرتا ہے۔</p>
<p><strong>ٹیکسیشن پالیسی اصل مسئلہ ہے</strong>۔ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ٹیکس کی شرحیں دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ مالی سال 2024-25 کا بجٹ ایک بڑا ساختی دھچکا تھا: برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) میں شامل کر دیا گیا۔ ایف ٹی آر کے تحت 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس حتمی ذمہ داری تھا — آسان، واضح اور کم پیچیدہ۔ اب یہ وضاحت ختم ہو گئی ہے۔ این ٹی آر کے تحت ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس اب بھی موجود ہے مگر حتمی نہیں۔ اس کے بعد 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس منافع پر لاگو ہوتا ہے، اور 10 فیصد تک سپر ٹیکس بھی شامل ہے۔ انفرادی برآمد کنندگان کے لیے یہ شرح 35 فیصد تک پہنچتی ہے، جس پر مزید 10 فیصد لیوی بھی لگتی ہے۔ مجموعی بوجھ تقریباً 52 فیصد منافع تک پہنچ جاتا ہے۔ نقصان کی صورت میں بھی کم از کم ٹرن اوور ٹیکس لاگو رہتا ہے۔ صوبائی ٹیکسز اس کے علاوہ ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس بیس نہ بڑھانے کی ناکامی نے پورا بوجھ  دستاویزی برآمدی شعبے پر ڈال دیا ہے۔ برآمد کنندگان باہر جا رہے ہیں، اور اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔</p>
<p>نقصان صرف ظاہر ہونے والی ٹیکس کی شرحوں تک محدود نہیں۔ این ٹی آر (نارمل ٹیکس رجیم) کی طرف منتقلی نے محض ٹیکس نہیں بڑھایا بلکہ برآمد کنندگان کو ایک پیچیدہ نظام میں الجھا دیا ہے۔ ایف ٹی آر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن این ٹی آر میں یہ ایک مسلسل عمل بن گیا ہے جس میں نوٹسز، سماعتیں، جانچ پڑتال، اسیسمنٹس اور دوبارہ اسیسمنٹس شامل ہیں۔ وہ انتظامی صلاحیت جو آرڈرز جیتنے، مارکیٹس بڑھانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر استعمال ہونی چاہیے تھی، اب وسیع اکاؤنٹنگ ریکارڈز برقرار رکھنے اور ٹیکس دفاتر سے معاملات سنبھالنے میں خرچ ہو رہی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ مسابقتی لاگت ہے جو کسی بھی ٹیرف موازنہ میں نظر نہیں آتی، لیکن ہر برآمد کنندہ اسے محسوس کرتا ہے۔</p>
<p>جب 2021 میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) متعارف کرائی گئی تو اس کی منطق درست تھی: برآمدات ٹیکس نیوٹرل ہونی چاہئیں۔ برآمد کنندگان کو خام مال تک ڈیوٹی فری رسائی اور مقامی سطح پر زیرو ریٹڈ سپلائی دی جانی تھی تاکہ ریفنڈ پر انحصار ختم ہو جائے۔ تاہم اس ڈھانچے کو بعد میں منظم طریقے سے ختم کیا گیا۔ زیرو ریٹنگ واپس لے لی گئی۔ درآمدی خام مال پر ڈیوٹیاں اور ٹیکس دوبارہ نافذ کر دیے گئے۔ جو اسکیم ریفنڈ ختم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، اب مکمل طور پر انہی ریفنڈز پر انحصار کرنے لگی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ریفنڈ سسٹم اس نقصان کو مزید بڑھاتا ہے۔ سیلز ٹیکس ریفنڈز اور ڈیوٹی ڈرا بیک — جو قانونی طور پر برآمد کنندگان کو واجب الادا ہیں — عام طور پر 6 سے 18 ماہ میں ادا کیے جاتے ہیں۔ اب اضافی ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس مزید لیکویڈیٹی ایف بی ار کے اندر پھنساتا ہے۔ اربوں روپے کا ورکنگ کیپیٹل زیر التوا کلیمز میں بند ہو جاتا ہے، جس سے ریاست عملی طور پر نجی شعبے سے جبری قرض لینے والی بن جاتی ہے جسے وہ سپورٹ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس سیکٹر — جو پہلے ہی زیادہ توانائی لاگت اور مہنگے کریڈٹ کا شکار ہے — انتہائی کمزور ہو جاتا ہے۔ معمولی کیش فلو رکاوٹیں بھی براہ راست آرڈرز کے نقصان اور مارکیٹ شیئر کھونے میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>بنیادی پالیسی غلط فہمی کو واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔ برآمدات پر زیادہ ٹیکس قلیل مدت میں ریونیو میں اضافہ دے سکتے ہیں، لیکن اس کے اثرات تیزی سے بڑھتے ہیں: پیداواری ادارے اخراجات پورے کرنے کے لیے مقامی قیمتیں بڑھاتے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے؛ کم مالی سرپلس کی وجہ سے بی ایم آر (بحالی، جدید کاری اور تبدیلی)، توسیع اور ایکسپورٹ مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے؛ اور برآمدات کی کمی بالآخر اس ٹیکس بیس کو بھی کم کر دیتی ہے جسے حکومت بڑھانا چاہتی تھی۔ برآمدی خام مال پر ٹیکس پائیدار آمدن پیدا نہیں کرتے، بلکہ برآمدات کم کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور ویتنام نے اس کے برعکس ماڈل اپنایا ہے — کم سے کم ٹیکس مشکلات، ڈیوٹی فری خام مال، اور تیز ریفنڈز۔ پاکستان نے اس کے بالکل الٹ راستہ اختیار کیا ہے۔</p>
<p>درستگی کا راستہ واضح ہے۔ برآمد کنندگان کو دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میں لایا جائے — کم، مستحکم اور ایف بی آر سے کم سے کم انسانی رابطے والا نظام۔ مکمل خودکار ریفنڈ سسٹم جس میں 30 دن کی حد ہو، بین الاقوامی معیار ہے، کوئی غیر معمولی ہدف نہیں۔ وزارتِ خزانہ کو ایکسپورٹ ریفنڈ فنڈ قائم کرنا چاہیے، جو فارمولے کے مطابق فنڈ ہو اور سالانہ بجٹ دباؤ سے آزاد ہو۔ اور ای ایف ایس کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے — زیرو ریٹنگ اور برآمدی پیداوار کے لیے ڈیوٹی فری خام مال بطور ساختی ضرورت، نہ کہ وقتی رعایت۔ یہ اصلاحات فوری طور پر اربوں روپے کی ورکنگ کیپیٹل کو آزاد کر دیں گی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ واضح اور قابلِ اعتماد پیغام دیں گی کہ برآمدی ترقی واقعی پالیسی کی ترجیح ہے، صرف زبانی دعویٰ نہیں۔</p>
<p><strong>پالیسی عدم استحکام ہر چیز کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے</strong>۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں پاکستان میں پانچ وزیراعظم، چار وزرائے خزانہ اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تین گورنر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہر تبدیلی کے ساتھ پالیسی الٹ پلٹ ہوتی ہے — نئے فریم ورک، متاثرہ ترغیبات، اور تبدیل شدہ خطرات۔ کوئی بھی برآمد کنندہ ایسے ماحول میں 5 سے 10 سال کی سرمایہ کاری کا فیصلہ نہیں کرتا جہاں توانائی کی قیمتیں، ٹیکس نظام اور شرح تبادلہ کی پالیسیاں ہر حکومت کے ساتھ یا حتیٰ کہ ایک ہی حکومت میں بھی بدلتی رہیں۔ ویتنام کی برآمدی کامیابی دہائیوں پر محیط مستقل اور قابلِ اعتماد پالیسی پر بنی ہے، جبکہ پاکستان نے اس کے برعکس رویہ اپنایا ہے۔</p>
<p><strong>پھر آبادی کا مسئلہ ہے — وہ حقیقت جس پر کوئی کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا</strong>۔ 2025 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 255 ملین ہے، جو سالانہ 1.9 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے — عالمی اوسط 0.9 فیصد سے کہیں زیادہ۔ اس رفتار سے 2100 تک آبادی 511 ملین تک پہنچ جائے گی۔ اگر جی ڈی پی 3 فیصد اور آبادی 1.9 فیصد بڑھے تو فی کس آمدن کی حقیقی شرح صرف 1.1 فیصد رہ جاتی ہے۔ معیشت محض اپنی جگہ قائم رہنے کے لیے بھی سخت محنت کرتی ہے۔</p>
<p>ہر وہ روپیہ جو ایکسپورٹ انفرااسٹرکچر، صنعتی صلاحیت، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) یا تعلیم پر لگنا چاہیے، وہ ہر روز پیدا ہونے والے 14,684 نئے بچوں کی خوراک، تعلیم اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا بلند ڈیپنڈنسی ریٹ 68.4 اس بات کا مطلب ہے کہ کمزور ورکنگ ایج آبادی ایک بڑے غیر فعال انحصار کرنے والے طبقے کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ تعلیمی نظام پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ بچوں میں نشوونما کی کمی خطے میں بدترین سطحوں میں شامل ہے۔ ایک ایسی ورک فورس جو کم تعلیم یافتہ اور غذائی کمی کا شکار ہو کر لیبر مارکیٹ میں داخل ہو، وہ اعلیٰ معیار، تکنیکی اور پیچیدہ برآمدات پیدا نہیں کر سکتی جو حقیقی زرمبادلہ پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p>ویتنام کا برآمدی معجزہ ایک نوجوان، تعلیم یافتہ اور منظم افرادی قوت پر مبنی تھا — جو دانستہ ڈیموگرافک مینجمنٹ (آبادیاتی منصوبہ بندی) کا نتیجہ تھا۔ بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری میں ترقی خواتین کی تعلیم میں بہتری اور خاندانی منصوبہ بندی میں پیش رفت کے ساتھ ہوئی۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی موجود ہے، لیکن ابھی اس کے پاس وہ انسانی سرمایہ  موجود نہیں جو اسے برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کر سکے۔</p>
<p>جن ممالک نے اپنی آبادی کو پہلے ہی منظم کیا — جیسے جنوبی کوریا، تائیوان اور ملائیشیا — انہوں نے مالیاتی گنجائش پیدا کی اور اسے برآمدی صنعتی ترقی کی طرف منتقل کیا۔ پاکستان کی مالی گنجائش، قرضوں کی ادائیگی اور حکومت چلانے کے بعد جو بچتی ہے، وہ بہت کم ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان کے پاس آبادی، مینوفیکچرنگ بیس، جغرافیائی محلِ وقوع اور ڈائسپورا نیٹ ورکس موجود ہیں جو اسے ایک حقیقی برآمدی پاور ہاؤس بنا سکتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p><strong>پالیسی تجاویز: کیا تبدیل ہونا ضروری ہے</strong>:ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کے پاس 60 ارب ڈالر کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت موجود ہے۔ اس کا آدھا حصہ بھی حاصل کر لیا جائے تو مالی صورتحال بدل سکتی ہے، روپے کو استحکام مل سکتا ہے، قرضوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے، اور لاکھوں ہنر مند نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:</p>
<p><strong>ٹیکس نظام میں اصلاحات</strong>:برآمد کنندگان کو دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) میں منتقل کیا جائے۔ ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کیے جائیں۔ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک لائی جائے۔ مختلف لیویز اور صوبائی ٹیکسز کا بوجھ ختم کیا جائے۔ یہ اصلاحات بتدریج نہیں بلکہ فوری ہونی چاہئیں، اس سے پہلے کہ برآمدی شعبہ ناقابلِ واپسی حد تک متاثر ہو جائے۔</p>
<p><strong>توانائی کی مسابقتی قیمت</strong>:برآمدی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت زیادہ سے زیادہ 7.5 سینٹ فی کلو واٹ آور اور گیس 2,200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہونی چاہیے۔ یہ وہ حد ہے جس کے نیچے پاکستانی برآمدات عالمی سطح پر مسابقتی بن سکتی ہیں۔ پانچ سال پر مشتمل مستقل انرجی کمپیکٹ — جس میں قیمتیں مستحکم ہوں اور سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ ہوں — سرمایہ کاری کے لیے اعتماد فراہم کرے گا۔ کراس سبسڈی ماڈل، جس میں صنعت کو گھریلو صارفین کے لیے بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، کو بنیادی طور پر ختم کرنا ہوگا، عارضی طور پر نہیں۔</p>
<p><strong>شعبہ جاتی تنوع</strong>:آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز، زرعی ویلیو ایڈڈ مصنوعات، اور حلال فوڈ — پاکستان کے پاس ان تینوں میں غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر پاکستان ایک دہائی میں عالمی ڈیجیٹل سروسز مارکیٹ کا صرف ایک فیصد بھی حاصل کر لے تو سالانہ 10 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل برآمدات ممکن ہیں۔ اس کے لیے پالیسی سطح پر سادہ اقدامات ضروری ہیں: آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس چھوٹ، تیز رفتار براڈ بینڈ، اور مستحکم ریگولیشن۔</p>
<p><strong>آبادی کا انتظام بطور معاشی پالیسی</strong>:پاکستان کی کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) نے 2030 تک ریپلیسمنٹ لیول فرٹیلیٹی (ٹی ایف آر 2.1) کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فیملی پلاننگ بجٹ کو تین گنا بڑھانا ہوگا، مانع حمل ادویات تک عالمی سطح پر رسائی یقینی بنانا ہوگی، خواتین کی سیکنڈری تعلیم میں لازمی سرمایہ کاری کرنی ہوگی — جو شرحِ پیدائش کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے — اور صوبائی سطح پر احتسابی نظام قائم کرنا ہوگا۔ یہ صرف سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ مالیاتی حساب کتاب ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<p>آگے بڑھنے کیلئے بیک وقت تین بڑی تبدیلیاں ضروری ہیں: برآمدات میں بڑی اور پالیسی پر مبنی توسیع — 60 ارب ڈالر کی غیر استعمال شدہ صلاحیت کو حاصل کرنا؛ آبادی کے مؤثر اور مالی طور پر فنڈڈ انتظام کا سنجیدہ پروگرام جو شرحِ پیدائش کو متوازن سطح تک لے آئے؛ اور توانائی، ٹیکس، ٹیرف اور شرح مبادلہ میں ساختی اصلاحات جو برآمدات کو منافع بخش اور قابلِ پیش گوئی بنائیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس آبادی، مینوفیکچرنگ بیس، جغرافیائی محلِ وقوع اور ڈائسپورا نیٹ ورکس موجود ہیں جو اسے ایک حقیقی برآمدی طاقت بنا سکتے ہیں۔ جو چیز اب تک کمی رہی ہے وہ سیاسی عزم ہے — جو برآمد کنندہ کو درآمد کنندہ پر ترجیح دے، طویل المدتی سوچ کو قلیل المدتی فائدے پر فوقیت دے، اور ساختی اصلاحات کو عوامی مراعات پر ترجیح دے۔</p>
<p>اس تبدیلی کا وقت اب ہے۔ قرض کی گھڑی مسلسل چل رہی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285982</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 11:19:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فواد انور)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/07111603b2a5faf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/07111603b2a5faf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائیو جی نیٹ ورکنگ، مائیکرو ویو ٹیکنالوجی کا بڑھتا کردار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285869/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہمارے حالیہ مائیکرو ویو آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ عالمی بیک ہال لینڈ اسکیپ 2030 تک مائیکرو ویو اور فائبر کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تک پہنچ جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکرو ویو بیک ہال مسلسل بڑھ رہا ہے، اور پچھلے تین سالوں میں اس کے انسٹالڈ بیس آف ٹرانسسیورز میں 5 فیصد مضبوط اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے فائیو جی رول آؤٹس خطے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: صارفین یا انٹرپرائز کی بنیادی طلب کو پورا کرنے کے لیے سائٹ مخصوص بیک ہال ٹرانسمیشن بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ کیا ہے؟ اس کا ایک جواب آپ کو حیران کر سکتا ہے اور یہ ہمارے پورٹ فولیو میں 50 سال سے موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائیو جی نیٹ ورکس کے آغاز سے ہر سیل سائٹ کے لیے چند گیگابٹس بیک ہال کی طلب پیدا ہو رہی ہے، جس کے لیے دو آپشنز سامنے آتے ہیں: فائبر اور مائیکرو ویو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج میری توجہ مائیکرو ویو ٹیکنالوجی پر ہے، جو سالوں کے دوران مسلسل ترقی کرتی رہی ہے اور آج اسے وائرلیس فائبر سمجھا جا سکتا ہے، جو 20 گیگابٹ فی سیکنڈ اور اس سے زیادہ سپورٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکرو ویو اب بیک اپ پلان نہیں رہا، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک انتخاب ہے جو آپریٹرز کو تیزی سے آگے بڑھنے، لچک برقرار رکھنے اور اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اہم ہے کہ فائبر کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ اگر کسی سیل سائٹ پر پہلے سے فائبر موجود نہ ہو تو اس کی تعیناتی کی لاگت مائیکرو ویو لنک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین میں نئی فائبر بچھانے میں منصوبہ بندی اور تعیناتی میں زیادہ وقت لگتا ہے، جبکہ مائیکرو ویو ریڈیو کی انسٹالیشن نسبتاً تیز ہوتی ہے۔ دشوار گزار علاقوں میں خاص طور پر پہاڑی خطوں میں فائبر بچھانا زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، جبکہ شہروں میں زیر زمین سرنگوں یا پائپ لائنز کی موجودگی سے یہ نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اکثر مختلف مقامات پر اجازت ناموں اور راستہ کے حقوق  سے متعلق پیچیدگیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ مسائل نیٹ ورک کے نئے سائٹس بنانے میں اسٹرینڈڈ اثاثوں کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عملی طریقہ یہ ہے کہ ابتدا میں تیز رفتار مائیکرو ویو ڈپلائمنٹ کے ذریعے فائیو جی سیل کو فعال کیا جائے، جبکہ مستقبل میں فائبر کو طویل مدتی بیک ہال حل کے طور پر شامل کیا جائے۔ اس سے آمدنی جلد حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ فائبر کنیکٹیویٹی کا انتظار جاری رہتا ہے۔ حساس سائٹس کی صورت میں اوور دی ہاپ انکرپشن کے ذریعے سکیورٹی خدشات بھی دور کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب فائبر دستیاب ہو جائے تو مائیکرو ویو آلات کو یا تو بیک اپ کے طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے یا پھر انہیں آسانی سے دیگر مقامات پر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فائیو جی طلب کو پورا کرنے کے لیے مائیکرو ویو کی اسکیلنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم عموماً روایتی مائیکرو ویو لنک کو 600 میگابٹ فی سیکنڈ تک بیک ہال کی صلاحیت رکھنے والا سمجھتے ہیں—جو ٹو جی اور تھری جی نیٹ ورکس کے لیے کافی تھا، لیکن فور جی کے آغاز کے ساتھ محدود ہو گیا۔ تاہم مائیکرو ویو کی گنجائش بڑھانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ ایک سادہ طریقہ یہ ہے کہ عمودی اور افقی پولرائزیشن دونوں استعمال کر کے سپیکٹرم لائسنس کی گنجائش کو دوگنا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اضافی سپیکٹرم کی لاگت زیادہ ہوتی ہے، اور آج کم فریکوئنسی مائیکرو ویو بینڈز پر فائیو جی، سکس جی ایم ایم ویو، وائی فائی اور سیٹلائٹ گراؤنڈ اسٹیشنز جیسے مختلف مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ زیادہ فریکوئنسی پر منتقل ہوا جائے جو پہلے مائیکرو ویو میں استعمال نہیں ہوتی تھی۔ چند کلومیٹر تک کے لنکس کے لیےای-بینڈ ریڈیو 10 گیگابٹ فی سیکنڈ بیک ہال کی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے، جو ٹو جی، تھری جی، فور جی اور فائیو جی خدمات کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منی لنک کے 50 سال — ہم ابھی شروعات کر رہے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 میں ایرکسن منی-لنک پورٹ فولیو کی 50 ویں سالگرہ ہے، جس کے دوران ایرکسن نے مائیکرو ویو نیٹ ورکس کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے اور آج فائیو جی رول آؤٹس کے لیے ہائی کیپیسٹی سسٹمز فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای-بینڈ اس میں ایک اہم معاون ٹیکنالوجی ہے، اور جیسے جیسے آپریٹرز روایتی مائیکرو ویو لنکس کو ای-بینڈ سلوشنز سے بدل رہے ہیں، ایرکسن اب منی-لنک 6356 فراہم کر رہا ہے، جو 26 ڈی بی ایم آؤٹ پٹ پاور سپورٹ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ صلاحیت والی سائٹس کے لیے دو ای-بینڈ ریڈیوز کو ایک ساتھ ملا کر 20 گیگابٹ فی سیکنڈ تک کی صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے، جو آج ایک حقیقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائیو جی کی دوڑ جاری ہے، اور جو نیٹ ورکس کامیاب ہوں گے وہ تیز تعیناتی، کم لاگت اور اسکیل ایبل انفرااسٹرکچر پر مبنی ہوں گے۔ ایرکسن کا مائیکرو ویو پورٹ فولیو یہ تینوں خصوصیات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہمارے حالیہ مائیکرو ویو آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ عالمی بیک ہال لینڈ اسکیپ 2030 تک مائیکرو ویو اور فائبر کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تک پہنچ جائے گا۔</strong></p>
<p>مائیکرو ویو بیک ہال مسلسل بڑھ رہا ہے، اور پچھلے تین سالوں میں اس کے انسٹالڈ بیس آف ٹرانسسیورز میں 5 فیصد مضبوط اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>جیسے جیسے فائیو جی رول آؤٹس خطے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: صارفین یا انٹرپرائز کی بنیادی طلب کو پورا کرنے کے لیے سائٹ مخصوص بیک ہال ٹرانسمیشن بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ کیا ہے؟ اس کا ایک جواب آپ کو حیران کر سکتا ہے اور یہ ہمارے پورٹ فولیو میں 50 سال سے موجود ہے۔</p>
<p>فائیو جی نیٹ ورکس کے آغاز سے ہر سیل سائٹ کے لیے چند گیگابٹس بیک ہال کی طلب پیدا ہو رہی ہے، جس کے لیے دو آپشنز سامنے آتے ہیں: فائبر اور مائیکرو ویو۔</p>
<p>آج میری توجہ مائیکرو ویو ٹیکنالوجی پر ہے، جو سالوں کے دوران مسلسل ترقی کرتی رہی ہے اور آج اسے وائرلیس فائبر سمجھا جا سکتا ہے، جو 20 گیگابٹ فی سیکنڈ اور اس سے زیادہ سپورٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>مائیکرو ویو اب بیک اپ پلان نہیں رہا، بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک انتخاب ہے جو آپریٹرز کو تیزی سے آگے بڑھنے، لچک برقرار رکھنے اور اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>یہ بات اہم ہے کہ فائبر کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ اگر کسی سیل سائٹ پر پہلے سے فائبر موجود نہ ہو تو اس کی تعیناتی کی لاگت مائیکرو ویو لنک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>زمین میں نئی فائبر بچھانے میں منصوبہ بندی اور تعیناتی میں زیادہ وقت لگتا ہے، جبکہ مائیکرو ویو ریڈیو کی انسٹالیشن نسبتاً تیز ہوتی ہے۔ دشوار گزار علاقوں میں خاص طور پر پہاڑی خطوں میں فائبر بچھانا زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، جبکہ شہروں میں زیر زمین سرنگوں یا پائپ لائنز کی موجودگی سے یہ نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اکثر مختلف مقامات پر اجازت ناموں اور راستہ کے حقوق  سے متعلق پیچیدگیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ مسائل نیٹ ورک کے نئے سائٹس بنانے میں اسٹرینڈڈ اثاثوں کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>ایک عملی طریقہ یہ ہے کہ ابتدا میں تیز رفتار مائیکرو ویو ڈپلائمنٹ کے ذریعے فائیو جی سیل کو فعال کیا جائے، جبکہ مستقبل میں فائبر کو طویل مدتی بیک ہال حل کے طور پر شامل کیا جائے۔ اس سے آمدنی جلد حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ فائبر کنیکٹیویٹی کا انتظار جاری رہتا ہے۔ حساس سائٹس کی صورت میں اوور دی ہاپ انکرپشن کے ذریعے سکیورٹی خدشات بھی دور کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>جب فائبر دستیاب ہو جائے تو مائیکرو ویو آلات کو یا تو بیک اپ کے طور پر برقرار رکھا جا سکتا ہے یا پھر انہیں آسانی سے دیگر مقامات پر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>فائیو جی طلب کو پورا کرنے کے لیے مائیکرو ویو کی اسکیلنگ</strong></p>
<p>ہم عموماً روایتی مائیکرو ویو لنک کو 600 میگابٹ فی سیکنڈ تک بیک ہال کی صلاحیت رکھنے والا سمجھتے ہیں—جو ٹو جی اور تھری جی نیٹ ورکس کے لیے کافی تھا، لیکن فور جی کے آغاز کے ساتھ محدود ہو گیا۔ تاہم مائیکرو ویو کی گنجائش بڑھانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ ایک سادہ طریقہ یہ ہے کہ عمودی اور افقی پولرائزیشن دونوں استعمال کر کے سپیکٹرم لائسنس کی گنجائش کو دوگنا کیا جائے۔</p>
<p>اس سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اضافی سپیکٹرم کی لاگت زیادہ ہوتی ہے، اور آج کم فریکوئنسی مائیکرو ویو بینڈز پر فائیو جی، سکس جی ایم ایم ویو، وائی فائی اور سیٹلائٹ گراؤنڈ اسٹیشنز جیسے مختلف مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ زیادہ فریکوئنسی پر منتقل ہوا جائے جو پہلے مائیکرو ویو میں استعمال نہیں ہوتی تھی۔ چند کلومیٹر تک کے لنکس کے لیےای-بینڈ ریڈیو 10 گیگابٹ فی سیکنڈ بیک ہال کی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے، جو ٹو جی، تھری جی، فور جی اور فائیو جی خدمات کے لیے کافی ہے۔</p>
<p><strong>منی لنک کے 50 سال — ہم ابھی شروعات کر رہے ہیں</strong></p>
<p>2026 میں ایرکسن منی-لنک پورٹ فولیو کی 50 ویں سالگرہ ہے، جس کے دوران ایرکسن نے مائیکرو ویو نیٹ ورکس کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے اور آج فائیو جی رول آؤٹس کے لیے ہائی کیپیسٹی سسٹمز فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>ای-بینڈ اس میں ایک اہم معاون ٹیکنالوجی ہے، اور جیسے جیسے آپریٹرز روایتی مائیکرو ویو لنکس کو ای-بینڈ سلوشنز سے بدل رہے ہیں، ایرکسن اب منی-لنک 6356 فراہم کر رہا ہے، جو 26 ڈی بی ایم آؤٹ پٹ پاور سپورٹ کرتا ہے۔</p>
<p>اعلیٰ صلاحیت والی سائٹس کے لیے دو ای-بینڈ ریڈیوز کو ایک ساتھ ملا کر 20 گیگابٹ فی سیکنڈ تک کی صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے، جو آج ایک حقیقت ہے۔</p>
<p>فائیو جی کی دوڑ جاری ہے، اور جو نیٹ ورکس کامیاب ہوں گے وہ تیز تعیناتی، کم لاگت اور اسکیل ایبل انفرااسٹرکچر پر مبنی ہوں گے۔ ایرکسن کا مائیکرو ویو پورٹ فولیو یہ تینوں خصوصیات فراہم کرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285869</guid>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 12:30:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کیون مرفی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/04122706987ec02.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/04122706987ec02.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خطرے کی معاشی قیمت اور جانوں کا تحفظ، پاکستان میں وی ایس ایل کا نیا پالیسی تصور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285691/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عوامی پالیسی کے ڈھانچے میں کچھ انتہائی طاقتور اوزار پس منظر میں خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ ویلیو آف اسٹیٹسٹیکل لائف (وی ایس ایل) بھی ایسا ہی ایک ذریعہ ہے۔ یہ نہایت مؤثر ہے، مگر مسلسل غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی ایس ایل عوامی صحت، ماحولیاتی ضابطہ کاری، ٹرانسپورٹ سیفٹی اور آفات کے خطرات کے انتظام جیسے شعبوں میں فیصلوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور یہ طے کرتا ہے کہ حکومتیں اخراجات اور بچائی گئی جانوں کے درمیان کیسے توازن قائم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی اہمیت کے باوجود، پاکستان جیسے ممالک میں پالیسی مباحث میں وی ایس ایل کو مناسب طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر وی ایس ایل کا مطلب انسانی زندگی کی قیمت مقرر کرنا نہیں ہے، جو ایک اخلاقی طور پر غلط اور تجزیاتی طور پر غیر درست تصور ہے۔ بلکہ یہ معاشرے کی اس آمادگی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اموات کے خطرے میں معمولی کمی کے لیے کتنی ادائیگی کرنے کو تیار ہے۔ یہ ایک بنیادی معاشی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے: افراد اور معاشرے مسلسل حفاظت اور دیگر اشیا کے درمیان سمجھوتے کرتے ہیں، چاہے وہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بحث زندگی کی قیمت سے خطرے میں کمی کی قدر کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جو زیادہ درست اور پالیسی کے لحاظ سے زیادہ متعلقہ تصور ہے۔ یہ فرق خاص طور پر آفات کے خطرات کے انتظام میں بہت اہم ہو جاتا ہے، جہاں بحران سے پہلے اور بعد میں کیے گئے فیصلے انسانی جانوں کے نقصان کے پیمانے کا تعین کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;وی ایس ایل پالیسی کو ردعمل پر مبنی آفات کے انتظام سے ہٹا کر پیشگی خطرات کے انتظام کی طرف لے جانے میں مدد دیتا ہے، جہاں کسی آفت سے پہلے جانیں بچانا ایک قابلِ پیمائش سرمایہ کاری بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;آفات سے پہلے کے تناظر میں وی ایس ایل تیاری اور بچاؤ کی سرمایہ کاری کے انداز کو بدل سکتا ہے۔ اکثر ابتدائی وارننگ سسٹمز، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفرااسٹرکچر، شہری نکاسی آب کے نظام یا ہیٹ ایکشن پلانز پر خرچ کو اس لیے ترجیح نہیں دی جاتی کیونکہ ان کے فوائد غیر یقینی یا سیاسی طور پر غیر مرئی ہوتے ہیں۔ وی ایس ایل اس خلا کو اس طرح پر کرتا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ممکنہ طور پر بچائی جانے والی جانوں کی قدر کو واضح طور پر عددی شکل میں پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، سیلاب کی پیشگی اطلاع کے نظام یا طوفان سے بچاؤ کے مراکز میں سرمایہ کاری کا تجزیہ صرف انفرااسٹرکچر لاگت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے کہ اس سے اموات کے خطرے میں کتنی کمی آئے گی۔ اس سے پالیسی سازوں کو پیشگی اقدامات کو معاشی طور پر درست ثابت کرنے میں مدد ملتی ہے، نہ کہ انہیں غیر ضروری اخراجات سمجھا جائے۔ یوں وی ایس ایل پالیسی کو ردعمل سے ہٹا کر پیشگی خطرہ مینجمنٹ کی طرف لے جاتا ہے، جہاں کسی آفت سے پہلے جانیں بچانا قابلِ پیمائش سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آفات کے بعد کے حالات میں بھی وی ایس ایل ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر بحالی اور تعمیر نو کی منصوبہ بندی میں۔ کسی آفت کے بعد حکومتوں کو محدود وسائل کی تقسیم کے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں: انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو، روزگار کی بحالی یا مستقبل کی لچک کے نظام کو مضبوط کرنا۔ وی ایس ایل ان فیصلوں میں مدد دیتا ہے کہ کون سی سرمایہ کاری مستقبل میں اموات کے خطرے کو زیادہ مؤثر طریقے سے کم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، زیادہ محفوظ معیار کے مطابق گھروں کی تعمیر، خطرناک علاقوں سے آبادی کی منتقلی یا مضبوط صحت کے نظام میں سرمایہ کاری کو اس بنیاد پر پرکھا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات میں کتنی جانیں محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ وی ایس ایل نقصانات اور تباہی کے تخمینوں میں انسانی جان کے نقصان کی معاشی قدر کو شامل کرنے میں مدد دیتا ہے، تاکہ انسانی نقصانات کو صرف مادی نقصانات کے مقابلے میں کم اہم نہ سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خلا اور موقع کی ایک واضح مثال 2022 کے پاکستان سیلاب کے بعد دیکھی جا سکتی ہے۔ ان سیلابوں سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے اور انفرااسٹرکچر، زراعت اور روزگار کو شدید نقصان پہنچا۔ اگرچہ معاشی نقصانات کو تفصیل سے مالی صورت میں بیان کیا گیا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کی قدر زیادہ تر پالیسی تجزیے میں ضمنی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً بحالی کے مباحث زیادہ تر فزیکل انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز رہے، جبکہ مستقبل میں اموات کے خطرات میں کمی کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ اگر منصوبہ بندی میں ایک منظم وی ایس ایل فریم ورک شامل ہوتا تو یہ تیاری اور بحالی دونوں حکمت عملیوں کو بدل سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب سے پہلے ابتدائی وارننگ سسٹمز، مضبوط رہائشی ڈھانچے اور حفاظتی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو زیادہ مؤثر طریقے سے جواز فراہم کیا جا سکتا تھا، کیونکہ اس سے بچائی جانے والی جانوں کی مقدار کو واضح کیا جا سکتا تھا۔ سیلاب کے بعد وی ایس ایل تعمیر نو کو محفوظ آبادکاری، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفرااسٹرکچر اور مضبوط صحت کے نظام کی طرف لے جا سکتا تھا، جہاں فیصلے صرف لاگت پر نہیں بلکہ مستقبل میں جانوں کے تحفظ کی صلاحیت پر مبنی ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی اور اچانک آنے والی آفات کے علاوہ، پاکستان کو ایسے آہستہ اور مسلسل خطرات کا بھی سامنا ہے جو خاموشی سے بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنتے ہیں۔ فضائی آلودگی اس کی ایک بڑی مثال ہے، خاص طور پر لاہور میں، جو اکثر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیلاب یا زلزلے کے برعکس، اسموگ سے ہونے والی اموات بتدریج ہوتی ہیں اور اکثر معاشی و پالیسی تجزیے میں کم ظاہر ہوتی ہیں۔ یہاں وی ایس ایل خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے۔ فضائی معیار میں بہتری سے اموات کے خطرے میں کمی کی قدر کو عددی شکل میں ظاہر کر کے، پالیسی ساز سخت اخراجی قوانین، صاف ٹرانسپورٹ نظام اور صنعتی ضابطہ کاری جیسے اقدامات کے فوائد کو واضح طور پر ماپ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ابھرتے ہوئے عالمی شواہد اس بات کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ ویلیو آف اسٹیٹسٹیکل لائف (وی ایس ایل) صرف اعلیٰ آمدنی والے ممالک کے لیے ایک لگژری نہیں ہے بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایک عملی اور قابلِ استعمال ٹول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ تصور فضائی معیار کے انتظام کو ایک ماحولیاتی مسئلے سے بدل کر ایک زیادہ منافع بخش معاشی سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، باریک ذرات (پی ایم2.5) کی سطح میں کمی سانس اور دل کی بیماریوں سے ہونے والی قبل از وقت اموات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ جب ان بچائی گئی جانوں کو وی ایس ایل کے ذریعے مالی قدر دی جاتی ہے تو اکثر اس کے فوائد ریگولیٹری اقدامات کی لاگت سے کہیں زیادہ نکلتے ہیں۔ اس سے مضبوط اور مسلسل پالیسی اقدامات کے حق میں دلیل مزید مضبوط ہو جاتی ہے، چاہے ان میں قلیل مدتی معاشی سمجھوتے ہی کیوں نہ شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ وی ایس ایل خطرے کے پورے دائرے میں استعمال ہو سکتا ہے، چاہے وہ اچانک آنے والی آفات ہوں یا آہستہ آہستہ پیدا ہونے والے بحران۔ یہ ایک ایسا مشترکہ پیمانہ فراہم کرتا ہے جو فیصلہ سازی میں ہم آہنگی لاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مختلف شعبوں میں جانوں کے تحفظ کی واضح قدر مقرر کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اس نقطہ نظر کو اپنانے کی فوری ضرورت واضح ہے۔ ملک کو تیزی سے بڑھتے ہوئے مرکب خطرات کا سامنا ہے: بڑھتے ہوئے سیلاب، طویل ہیٹ ویوز، زلزلے اور خراب ہوتی ہوئی فضائی آلودگی۔ یہ خطرات نہ صرف فوری تباہی کا باعث بنتے ہیں بلکہ طویل مدتی کمزوری بھی پیدا کرتے ہیں۔ تاہم وی ایس ایل جیسے مستقل فریم ورک کے بغیر، خطرے میں کمی اور لچکدار بحالی میں سرمایہ کاری اکثر کم اہم سمجھی جاتی ہے، جس سے نقصان اور دوبارہ تعمیر کے چکر چلتے رہتے ہیں بجائے پائیدار استحکام کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھرتے ہوئے عالمی شواہد اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وی ایس ایل صرف امیر ممالک کی سہولت نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عملی آلہ ہے۔ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود ڈیٹا والے ماحول میں بھی وی ایس ایل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اسے مقامی حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پالیسی سازوں کو مختلف شعبوں میں مداخلتوں کا موازنہ ایک ہی پیمانے پر کرنے کی سہولت دیتا ہے، چاہے وہ صحت میں سرمایہ کاری ہو، موسمیاتی موافقت ہو یا آفات کی تیاری، کیونکہ یہ جان بچانے کے فوائد کو معاشی اصطلاحات میں تبدیل کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے لیے گئے وی ایس ایل تخمینوں پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ابتدائی رہنمائی فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ مقامی حقائق کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتے، جیسے غیر رسمی لیبر مارکیٹس، مختلف خطرات کا ادراک اور سماجی و ثقافتی عوامل۔ اس لیے مقامی سطح پر وی ایس ایل کے مخصوص تخمینے تیار کرنا ایک اسٹریٹجک ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ زیادہ درست اور منصفانہ پالیسی فیصلے کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی ایس ایل کو پاکستان کے پالیسی فریم ورک میں شامل کرنا سرمایہ کاری کی ترجیحات کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ موسمیاتی لچک میں یہ ابتدائی وارننگ سسٹمز اور حفاظتی انفرااسٹرکچر کے جان بچانے والے فوائد کو مکمل طور پر شامل کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری منصوبہ بندی میں یہ ہیٹ کم کرنے کی حکمت عملیوں اور فضائی معیار کی بہتری کے حق میں مضبوط دلیل فراہم کرے گا۔ آفات کے بعد بحالی میں یہ تعمیر نو کو زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظاموں کی طرف لے جائے گا، بجائے اس کے کہ صرف پہلے موجود حالت کو بحال کیا جائے۔ تکنیکی تجزیے کے علاوہ وی ایس ایل وسائل کی فراہمی میں بھی بہتری لاتا ہے۔ یہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک واضح اور مؤثر بیانیہ فراہم کرتا ہے، جس کا بنیادی سوال ہوتا ہے: جانیں بچا کر کتنی قدر پیدا کی گئی؟ یہ خاص طور پر کلائمیٹ فنانس اور ڈیزاسٹر رسک فنڈنگ حاصل کرنے میں اہم ہے، جہاں قابلِ پیمائش اثر دکھانا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کچھ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ وی ایس ایل کا تخمینہ مضبوط طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے اور اخلاقی خدشات کو شفاف وضاحت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ وی ایس ایل انسانی زندگی کی نہیں بلکہ خطرے میں کمی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے۔ عوامی فہم اور اعتماد پیدا کرنا اس کے کامیاب نفاذ کے لیے کلیدی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے دیکھتے ہوئے اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان وی ایس ایل کو اپنانے کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ اسے نہ اپنانے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے آفات زیادہ بار بار اور شدید ہوتی جا رہی ہیں اور فضائی آلودگی جیسے مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں، جان بچانے والی سرمایہ کاری کو کم اہم سمجھنے کی قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی ایس ایل کو پالیسی اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا زیادہ پیشگی، شواہد پر مبنی اور انسان مرکز حکمرانی کی طرف ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ آخرکار خطرے کی درست قدر کا تعین اس بات کا اعتراف ہے کہ اصل اہمیت کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، وی ایس ایل صرف ایک پیمانہ نہیں بلکہ ایک ایسا زاویہ نظر فراہم کرتا ہے جو فیصلہ سازی میں انسانی زندگی کو مرکز میں رکھتا ہے، آفت سے پہلے بھی اور بحالی کے بعد بھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عوامی پالیسی کے ڈھانچے میں کچھ انتہائی طاقتور اوزار پس منظر میں خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ ویلیو آف اسٹیٹسٹیکل لائف (وی ایس ایل) بھی ایسا ہی ایک ذریعہ ہے۔ یہ نہایت مؤثر ہے، مگر مسلسل غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔</strong></p>
<p>وی ایس ایل عوامی صحت، ماحولیاتی ضابطہ کاری، ٹرانسپورٹ سیفٹی اور آفات کے خطرات کے انتظام جیسے شعبوں میں فیصلوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور یہ طے کرتا ہے کہ حکومتیں اخراجات اور بچائی گئی جانوں کے درمیان کیسے توازن قائم کریں۔</p>
<p>اس کی اہمیت کے باوجود، پاکستان جیسے ممالک میں پالیسی مباحث میں وی ایس ایل کو مناسب طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>بنیادی طور پر وی ایس ایل کا مطلب انسانی زندگی کی قیمت مقرر کرنا نہیں ہے، جو ایک اخلاقی طور پر غلط اور تجزیاتی طور پر غیر درست تصور ہے۔ بلکہ یہ معاشرے کی اس آمادگی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اموات کے خطرے میں معمولی کمی کے لیے کتنی ادائیگی کرنے کو تیار ہے۔ یہ ایک بنیادی معاشی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے: افراد اور معاشرے مسلسل حفاظت اور دیگر اشیا کے درمیان سمجھوتے کرتے ہیں، چاہے وہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بحث زندگی کی قیمت سے خطرے میں کمی کی قدر کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جو زیادہ درست اور پالیسی کے لحاظ سے زیادہ متعلقہ تصور ہے۔ یہ فرق خاص طور پر آفات کے خطرات کے انتظام میں بہت اہم ہو جاتا ہے، جہاں بحران سے پہلے اور بعد میں کیے گئے فیصلے انسانی جانوں کے نقصان کے پیمانے کا تعین کرتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>وی ایس ایل پالیسی کو ردعمل پر مبنی آفات کے انتظام سے ہٹا کر پیشگی خطرات کے انتظام کی طرف لے جانے میں مدد دیتا ہے، جہاں کسی آفت سے پہلے جانیں بچانا ایک قابلِ پیمائش سرمایہ کاری بن جاتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>آفات سے پہلے کے تناظر میں وی ایس ایل تیاری اور بچاؤ کی سرمایہ کاری کے انداز کو بدل سکتا ہے۔ اکثر ابتدائی وارننگ سسٹمز، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفرااسٹرکچر، شہری نکاسی آب کے نظام یا ہیٹ ایکشن پلانز پر خرچ کو اس لیے ترجیح نہیں دی جاتی کیونکہ ان کے فوائد غیر یقینی یا سیاسی طور پر غیر مرئی ہوتے ہیں۔ وی ایس ایل اس خلا کو اس طرح پر کرتا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے ممکنہ طور پر بچائی جانے والی جانوں کی قدر کو واضح طور پر عددی شکل میں پیش کرتا ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر، سیلاب کی پیشگی اطلاع کے نظام یا طوفان سے بچاؤ کے مراکز میں سرمایہ کاری کا تجزیہ صرف انفرااسٹرکچر لاگت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے کہ اس سے اموات کے خطرے میں کتنی کمی آئے گی۔ اس سے پالیسی سازوں کو پیشگی اقدامات کو معاشی طور پر درست ثابت کرنے میں مدد ملتی ہے، نہ کہ انہیں غیر ضروری اخراجات سمجھا جائے۔ یوں وی ایس ایل پالیسی کو ردعمل سے ہٹا کر پیشگی خطرہ مینجمنٹ کی طرف لے جاتا ہے، جہاں کسی آفت سے پہلے جانیں بچانا قابلِ پیمائش سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔</p>
<p>آفات کے بعد کے حالات میں بھی وی ایس ایل ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر بحالی اور تعمیر نو کی منصوبہ بندی میں۔ کسی آفت کے بعد حکومتوں کو محدود وسائل کی تقسیم کے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں: انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو، روزگار کی بحالی یا مستقبل کی لچک کے نظام کو مضبوط کرنا۔ وی ایس ایل ان فیصلوں میں مدد دیتا ہے کہ کون سی سرمایہ کاری مستقبل میں اموات کے خطرے کو زیادہ مؤثر طریقے سے کم کرتی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر، زیادہ محفوظ معیار کے مطابق گھروں کی تعمیر، خطرناک علاقوں سے آبادی کی منتقلی یا مضبوط صحت کے نظام میں سرمایہ کاری کو اس بنیاد پر پرکھا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات میں کتنی جانیں محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ وی ایس ایل نقصانات اور تباہی کے تخمینوں میں انسانی جان کے نقصان کی معاشی قدر کو شامل کرنے میں مدد دیتا ہے، تاکہ انسانی نقصانات کو صرف مادی نقصانات کے مقابلے میں کم اہم نہ سمجھا جائے۔</p>
<p>اس خلا اور موقع کی ایک واضح مثال 2022 کے پاکستان سیلاب کے بعد دیکھی جا سکتی ہے۔ ان سیلابوں سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے اور انفرااسٹرکچر، زراعت اور روزگار کو شدید نقصان پہنچا۔ اگرچہ معاشی نقصانات کو تفصیل سے مالی صورت میں بیان کیا گیا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کی قدر زیادہ تر پالیسی تجزیے میں ضمنی رہی۔</p>
<p>نتیجتاً بحالی کے مباحث زیادہ تر فزیکل انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز رہے، جبکہ مستقبل میں اموات کے خطرات میں کمی کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ اگر منصوبہ بندی میں ایک منظم وی ایس ایل فریم ورک شامل ہوتا تو یہ تیاری اور بحالی دونوں حکمت عملیوں کو بدل سکتا تھا۔</p>
<p>سیلاب سے پہلے ابتدائی وارننگ سسٹمز، مضبوط رہائشی ڈھانچے اور حفاظتی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو زیادہ مؤثر طریقے سے جواز فراہم کیا جا سکتا تھا، کیونکہ اس سے بچائی جانے والی جانوں کی مقدار کو واضح کیا جا سکتا تھا۔ سیلاب کے بعد وی ایس ایل تعمیر نو کو محفوظ آبادکاری، موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفرااسٹرکچر اور مضبوط صحت کے نظام کی طرف لے جا سکتا تھا، جہاں فیصلے صرف لاگت پر نہیں بلکہ مستقبل میں جانوں کے تحفظ کی صلاحیت پر مبنی ہوتے۔</p>
<p>بڑی اور اچانک آنے والی آفات کے علاوہ، پاکستان کو ایسے آہستہ اور مسلسل خطرات کا بھی سامنا ہے جو خاموشی سے بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنتے ہیں۔ فضائی آلودگی اس کی ایک بڑی مثال ہے، خاص طور پر لاہور میں، جو اکثر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیلاب یا زلزلے کے برعکس، اسموگ سے ہونے والی اموات بتدریج ہوتی ہیں اور اکثر معاشی و پالیسی تجزیے میں کم ظاہر ہوتی ہیں۔ یہاں وی ایس ایل خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے۔ فضائی معیار میں بہتری سے اموات کے خطرے میں کمی کی قدر کو عددی شکل میں ظاہر کر کے، پالیسی ساز سخت اخراجی قوانین، صاف ٹرانسپورٹ نظام اور صنعتی ضابطہ کاری جیسے اقدامات کے فوائد کو واضح طور پر ماپ سکتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ابھرتے ہوئے عالمی شواہد اس بات کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ ویلیو آف اسٹیٹسٹیکل لائف (وی ایس ایل) صرف اعلیٰ آمدنی والے ممالک کے لیے ایک لگژری نہیں ہے بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایک عملی اور قابلِ استعمال ٹول ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ تصور فضائی معیار کے انتظام کو ایک ماحولیاتی مسئلے سے بدل کر ایک زیادہ منافع بخش معاشی سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، باریک ذرات (پی ایم2.5) کی سطح میں کمی سانس اور دل کی بیماریوں سے ہونے والی قبل از وقت اموات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ جب ان بچائی گئی جانوں کو وی ایس ایل کے ذریعے مالی قدر دی جاتی ہے تو اکثر اس کے فوائد ریگولیٹری اقدامات کی لاگت سے کہیں زیادہ نکلتے ہیں۔ اس سے مضبوط اور مسلسل پالیسی اقدامات کے حق میں دلیل مزید مضبوط ہو جاتی ہے، چاہے ان میں قلیل مدتی معاشی سمجھوتے ہی کیوں نہ شامل ہوں۔</p>
<p>مجموعی طور پر یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ وی ایس ایل خطرے کے پورے دائرے میں استعمال ہو سکتا ہے، چاہے وہ اچانک آنے والی آفات ہوں یا آہستہ آہستہ پیدا ہونے والے بحران۔ یہ ایک ایسا مشترکہ پیمانہ فراہم کرتا ہے جو فیصلہ سازی میں ہم آہنگی لاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مختلف شعبوں میں جانوں کے تحفظ کی واضح قدر مقرر کی جائے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اس نقطہ نظر کو اپنانے کی فوری ضرورت واضح ہے۔ ملک کو تیزی سے بڑھتے ہوئے مرکب خطرات کا سامنا ہے: بڑھتے ہوئے سیلاب، طویل ہیٹ ویوز، زلزلے اور خراب ہوتی ہوئی فضائی آلودگی۔ یہ خطرات نہ صرف فوری تباہی کا باعث بنتے ہیں بلکہ طویل مدتی کمزوری بھی پیدا کرتے ہیں۔ تاہم وی ایس ایل جیسے مستقل فریم ورک کے بغیر، خطرے میں کمی اور لچکدار بحالی میں سرمایہ کاری اکثر کم اہم سمجھی جاتی ہے، جس سے نقصان اور دوبارہ تعمیر کے چکر چلتے رہتے ہیں بجائے پائیدار استحکام کے۔</p>
<p>ابھرتے ہوئے عالمی شواہد اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وی ایس ایل صرف امیر ممالک کی سہولت نہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک عملی آلہ ہے۔ مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ محدود ڈیٹا والے ماحول میں بھی وی ایس ایل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اسے مقامی حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پالیسی سازوں کو مختلف شعبوں میں مداخلتوں کا موازنہ ایک ہی پیمانے پر کرنے کی سہولت دیتا ہے، چاہے وہ صحت میں سرمایہ کاری ہو، موسمیاتی موافقت ہو یا آفات کی تیاری، کیونکہ یہ جان بچانے کے فوائد کو معاشی اصطلاحات میں تبدیل کر دیتا ہے۔</p>
<p>تاہم پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے لیے گئے وی ایس ایل تخمینوں پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک ابتدائی رہنمائی فراہم کرتے ہیں، لیکن یہ مقامی حقائق کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کرتے، جیسے غیر رسمی لیبر مارکیٹس، مختلف خطرات کا ادراک اور سماجی و ثقافتی عوامل۔ اس لیے مقامی سطح پر وی ایس ایل کے مخصوص تخمینے تیار کرنا ایک اسٹریٹجک ترجیح ہونی چاہیے، تاکہ زیادہ درست اور منصفانہ پالیسی فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
<p>وی ایس ایل کو پاکستان کے پالیسی فریم ورک میں شامل کرنا سرمایہ کاری کی ترجیحات کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ موسمیاتی لچک میں یہ ابتدائی وارننگ سسٹمز اور حفاظتی انفرااسٹرکچر کے جان بچانے والے فوائد کو مکمل طور پر شامل کرے گا۔</p>
<p>شہری منصوبہ بندی میں یہ ہیٹ کم کرنے کی حکمت عملیوں اور فضائی معیار کی بہتری کے حق میں مضبوط دلیل فراہم کرے گا۔ آفات کے بعد بحالی میں یہ تعمیر نو کو زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظاموں کی طرف لے جائے گا، بجائے اس کے کہ صرف پہلے موجود حالت کو بحال کیا جائے۔ تکنیکی تجزیے کے علاوہ وی ایس ایل وسائل کی فراہمی میں بھی بہتری لاتا ہے۔ یہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک واضح اور مؤثر بیانیہ فراہم کرتا ہے، جس کا بنیادی سوال ہوتا ہے: جانیں بچا کر کتنی قدر پیدا کی گئی؟ یہ خاص طور پر کلائمیٹ فنانس اور ڈیزاسٹر رسک فنڈنگ حاصل کرنے میں اہم ہے، جہاں قابلِ پیمائش اثر دکھانا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم کچھ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ وی ایس ایل کا تخمینہ مضبوط طریقہ کار کا تقاضا کرتا ہے اور اخلاقی خدشات کو شفاف وضاحت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ پالیسی سازوں کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ وی ایس ایل انسانی زندگی کی نہیں بلکہ خطرے میں کمی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے۔ عوامی فہم اور اعتماد پیدا کرنا اس کے کامیاب نفاذ کے لیے کلیدی ہوگا۔</p>
<p>آگے دیکھتے ہوئے اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان وی ایس ایل کو اپنانے کا متحمل ہو سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ اسے نہ اپنانے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے آفات زیادہ بار بار اور شدید ہوتی جا رہی ہیں اور فضائی آلودگی جیسے مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں، جان بچانے والی سرمایہ کاری کو کم اہم سمجھنے کی قیمت بھی بڑھتی جائے گی۔</p>
<p>وی ایس ایل کو پالیسی اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا زیادہ پیشگی، شواہد پر مبنی اور انسان مرکز حکمرانی کی طرف ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔ آخرکار خطرے کی درست قدر کا تعین اس بات کا اعتراف ہے کہ اصل اہمیت کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، وی ایس ایل صرف ایک پیمانہ نہیں بلکہ ایک ایسا زاویہ نظر فراہم کرتا ہے جو فیصلہ سازی میں انسانی زندگی کو مرکز میں رکھتا ہے، آفت سے پہلے بھی اور بحالی کے بعد بھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285691</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 13:38:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علشبہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/29121127db86bb8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/29121127db86bb8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
