<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 15:08:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 15:08:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سستے ڈرون جنگ کی معاشیات کو کس طرح بدل رہے ہیں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291828/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مئی 2026 میں تقریباً 2 ہزار ڈالر مالیت کے ایک یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرون نے کیف کے اوپر ایک روسی ’شاہد‘ ڈرون کا تعاقب کرکے اسے نشانہ بنایا۔ ’شاہد‘ کی تیاری پر تقریباً 35 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے، جبکہ اس کام کے لیے روایتی طور پر استعمال ہونے والے میزائل کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ ایک واقعہ اس بات کی مکمل عکاسی کرتا ہے کہ جنگی معیشت کس طرح یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور دنیا کی طاقتور ترین افواج کو خود کو بدلتی صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیوں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دہائیوں تک دفاعی شعبے کی معاشیات ایک ہی سمت میں آگے بڑھتی رہی: لاگت میں مسلسل اضافہ۔ لڑاکا طیارے زیادہ جدید اور انتہائی مہنگے ہوتے گئے، میزائل زیادہ درست اور زیادہ پرتعیش ہوتے گئے، جبکہ جنگی جہاز اس قدر پیچیدہ اور جدید ہوگئے کہ بحری افواج ان کی تعداد کم رکھنے پر مجبور ہوگئیں۔ ٹیکنالوجی میں برتری کا مطلب یہ تھا کہ انتہائی جدید اور مہنگی مشینیں کم تعداد میں تیار کی جائیں اور ان کی دیکھ بھال پر بھی بھاری اخراجات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر 5 ہزار ڈالر سے کم قیمت والا ڈرون منظرنامے میں آگیا، جو ایک استعمال شدہ گاڑی سے بھی سستا ہے، جسے لان موور یا موپیڈ کے عام دستیاب انجنوں سے تیار کیا جاسکتا ہے اور جو اپنا ہدف تباہ کرتے ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ ان اڑنے والے ہتھیاروں نے انتہائی درست حملوں کو ایک تیزی سے بدلتے اور کم لاگت والے جنگی طریقے میں تبدیل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے دفاعی نظام کے پرانے ماڈل میں موجود ایک ہی کمزوری کو نمایاں کردیا ہے۔ اب چند ہزار ڈالر میں ایک سادہ خودکار ہتھیار تیار کرکے کسی ہدف کی جانب ایک ہی رات میں درجنوں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں بھیجا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب نشانہ بننے والے ملک کو اکثر ایسے دفاعی انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت لاکھوں یا سیکڑوں ہزاروں ڈالر تک ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ ہر انفرادی ڈرون کو کامیابی سے روکنے کے باوجود جنگی اخراجات کے حساب میں شکست کھا سکتے ہیں۔ اور اس میں ان ڈرونز کی لاگت بھی شامل نہیں جو دفاعی حصار توڑ کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ ہر ڈرون کو روکنا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ جو نقصان پہنچتا ہے وہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی باقی ڈرونز کو روکنے پر آنے والی لاگت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین — متاثر بھی اور عملی طور پر استعمال کرنے والا بھی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے صرف 2025 میں یوکرین کے خلاف تقریباً 54 ہزار طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون استعمال کیے، جبکہ بعض راتوں میں ان کی تعداد 500 سے بھی زیادہ رہی۔ یوکرین نے اس کے جواب میں کم لاگت والے ڈرون شکن نظام تیار کیا ہے، جس میں عموماً ایک ہزار سے 3 ہزار ڈالر مالیت کے ایسے انٹرسیپٹر ڈرون شامل ہیں جنہیں ’شاہد‘ طرز کے ڈرونز کا تعاقب کرکے انہیں تباہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2026 تک یہ نظام ملک بھر میں روس کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز میں سے 91.7 فیصد کو روکنے میں کامیاب رہا، جبکہ فروری میں کیف کے اوپر اس کی شرح تقریباً 70 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یوکرین صرف دفاع تک محدود نہیں رہا۔ اس کی اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون مہم نے روس کی 10 بڑی آئل ریفائنریوں میں سے 8 کو نشانہ بنایا، بعض کو ایک سے زیادہ مرتبہ، جبکہ ان میں سے ایک ریفائنری سرحد سے تقریباً ایک ہزار میل دور واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق ان حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ پیداوار کئی ماہ تک متاثر رہی اور سائبیریا تک ایندھن کی قلت پیدا ہونے میں بھی اس مہم نے کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی سستے ڈرون کی معاشیات کا دوسرا رخ ہے: یوکرین روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو اس کی مجموعی مالیت کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت سے شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223120415d26c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223120415d26c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ نے اسی مسئلے کی ایک زیادہ بڑے پیمانے اور تیز رفتار شکل ہمارے سامنے پیش کی۔ 2026 کی امریکا ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے امریکی، اسرائیلی اور خلیجی اہداف پر روزانہ تقریباً 700 ڈرون اور میزائل داغے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکا اور اس کے شراکت داروں کے مشترکہ فضائی دفاعی نظام نے 6 ہزار سے زیادہ یک طرفہ حملہ آور ڈرونز اور 1,500 سے زائد بیلسٹک میزائل مار گرائے۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مطابق اس کارروائی پر مجموعی طور پر 34 سے 42 ارب ڈالر تک لاگت آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ’شاہد‘ خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈرونز کی قیمت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار ڈالر فی ڈرون ہے۔ لاگت کا یہ تناسب حیران کن ہے: 35 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ایسا جوابی اقدام کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کی لاگت اس سے سیکڑوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دفاعی نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوا اور جو حملے دفاعی حصار توڑ کر اپنے اہداف تک پہنچے، ان کے نتائج سنگین تھے۔ 22 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ قطر میں واقع العدید ایئربیس، جو خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، ایرانی بیلسٹک میزائل کے براہِ راست حملے کی زد میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کے علی السالم اڈے پر ایک حملے میں ایک اطالوی ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوگیا، جبکہ دو یوروفائٹر ٹائفون طیاروں کو نقصان پہنچا۔ ڈرونز نے کویت کی ایک آئل ریفائنری اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات پر ایک حملے میں ایک شہری ہلاک ہوا، جبکہ الظفرہ ایئربیس کے قریب تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ امریکی بحریہ کے خطے میں علاقائی ہیڈکوارٹر کی میزبانی کرنے والے بحرین کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223204086f8ce.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223204086f8ce.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ اس بنیادی حساب کو تبدیل نہیں کرتا کہ ایران نے اس کے خلاف دفاع کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کہیں کم رقم خرچ کی۔ تاہم اس مساوات میں کم لاگت والے فریق کا فائدہ صرف اخراجات برداشت کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے مہنگے فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو بھی تباہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں روکنا کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو، ممالک اس صلاحیت میں سرمایہ کاری جاری رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام تباہ کیے جانے کے بعد جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا تناسب بدل گیا۔ 26 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال کم اور ایک لاکھ ڈالر مالیت کے جے ڈی اے ایم رہنمائی یافتہ بموں کا استعمال زیادہ ہوگیا، جس سے جنگ کی یومیہ لاگت میں نمایاں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک بنیادی سبق برقرار رہتا ہے: ایسے ہتھیاروں کے خلاف دفاع صرف ایک مہنگے نظام کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔ سستے خطرات سے نمٹنے کے لیے کم لاگت والے ذرائع درکار ہوتے ہیں جبکہ مہنگے نظام ان خطرات کے لیے محفوظ رکھنے چاہییں جہاں واقعی ان کی ضرورت ہو۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ آپ خواہ کوئی بھی دفاعی نظام تیار کرلیں، ان میں سے کچھ حملہ آور ہتھیار بہرحال اپنا راستہ بنا لیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233091009341.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233091009341.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="روس-کا-مسلسل-جدید-بنایا-جانے-والا-ہتھیار" href="#روس-کا-مسلسل-جدید-بنایا-جانے-والا-ہتھیار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روس کا مسلسل جدید بنایا جانے والا ہتھیار&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;روس نے ایرانی ساختہ ’شاہد‘ ڈرون کے ڈیزائن کو ایک ایسے ہتھیار میں تبدیل کردیا ہے جسے مسلسل اپ ڈیٹ کیے جانے والے سافٹ ویئر سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ ابتدائی ماڈلز میں جی پی ایس کو جڑتی نیویگیشن کے نظام کے ساتھ مل کر استعمال کیا جاتا تھا۔ یوکرین کی جانب سے ریڈیو سگنلز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت بہتر ہونے کے ساتھ روس نے پہلے ایسے اینٹینا نصب کیے جو جیمنگ کے خلاف مزاحمت رکھتے تھے، پھر کیمرے شامل کیے گئے، اس کے بعد مقامی سم کارڈز پر چلنے والے راسپ بیری پائی کمپیوٹرز اور فور جی موڈمز کو متبادل مواصلاتی ذریعے کے طور پر شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ نئے ماڈلز اب 120 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ایک دوسرے کو سگنل منتقل کرسکتے ہیں، جبکہ بعض کو فائبر آپٹک ڈرونز کے ساتھ جوڑا گیا ہے جنہیں جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی انفرادی ٹیکنالوجی جدید ترین یا غیر معمولی نوعیت کی نہیں۔ لیکن ان سب کو یکجا کرنے سے ایک ایسا ہتھیار وجود میں آتا ہے جو حملوں اور رکاوٹوں کے باوجود مؤثر رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی ایسے ہتھیار کی تیاری کے لیے، جسے روکنا مشکل ہو، لازماً ایک غیرمعمولی مصنوعی ذہانت کے نظام کی ضرورت نہیں؛ اس مقصد کے لیے کئی کم لاگت والے نظاموں کو تہہ در تہہ جوڑنا بھی کافی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233474f17396.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233474f17396.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکا-بھی-اس-حقیقت-کو-سمجھنے-لگا-ہے" href="#امریکا-بھی-اس-حقیقت-کو-سمجھنے-لگا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکا بھی اس حقیقت کو سمجھنے لگا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ کے دوران امریکی فوج نے تقریباً 15 ہزار ڈالر فی یونٹ کی لاگت سے 13 ہزار ’میروپس‘ انٹرسیپٹر ڈرونز کا ہنگامی آرڈر دیا، اس امید کے ساتھ کہ بڑے پیمانے پر تیاری کے نتیجے میں فی ڈرون لاگت 10 ہزار ڈالر سے بھی کم ہوجائے گی۔ ان ڈرونز کا مقصد 30 ہزار سے 50 ہزار ڈالر مالیت کے ’شاہد‘ طرز کے اہداف کو نشانہ بنانا ہے۔ پینٹاگون کے ’ڈرون ڈومیننس پروگرام‘ میں ابتدائی طور پر 30 ہزار ڈرونز تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن کی اوسط قیمت تقریباً 5 ہزار ڈالر فی ڈرون رکھی گئی۔ پروگرام کے بعد کے مراحل میں تقریباً 2,300 ڈالر فی ڈرون کی لاگت سے 1 لاکھ 50 ہزار یونٹس تک تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام صرف طویل فاصلے تک حملوں تک محدود نہیں، بلکہ ’گینٹلیٹ ٹو‘ میں قریبی فاصلے کے ایسے مشنز بھی شامل ہیں جن میں عمارتوں، خندقوں، بنکرز اور دیگر محدود جگہوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز استعمال کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی وسیع تر حکمت عملی میں اب دفاعی نظاموں کی درجہ بندی صرف بلندی کے اعتبار سے نہیں بلکہ لاگت کے لحاظ سے بھی کی جارہی ہے: سب سے اوپر پیٹریاٹ اور تھاڈ، درمیانی سطح پر نسبتاً سستے میزائل اور طیارے، جبکہ نچلی سطح پر توپیں اور خودکار انٹرسیپٹرز شامل ہیں۔ تاہم اس حکمت عملی کی ایک حقیقی حد بھی موجود ہے۔ جنگ سے پہلے پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار ماہانہ صرف 60 سے 65 میزائل تک تھی، اور دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی انٹرسیپٹرز کو اس رفتار سے استعمال کررہی تھی کہ فیکٹریاں انہیں اتنی تیزی سے دوبارہ تیار نہیں کرپارہی تھیں۔ چند درجن انتہائی مہنگے اور پیچیدہ میزائل تیار کرنے والی پیداواری لائن کے ذریعے ایسے دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا جو ہر ماہ ہزاروں کم لاگت والے ڈسپوزیبل ڈرون تیار کررہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنس انوویشن یونٹ کے نائب ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ افسر ٹریوس میٹز، جو گزشتہ موسم خزاں سے پینٹاگون کے ’ڈرون ڈومیننس پروگرام‘ کی نگرانی کررہے ہیں، نے بتایا کہ یوکرین رواں سال 60 لاکھ سے 70 لاکھ چھوٹے ’فرسٹ پرسن ویو‘ حملہ آور ڈرون تیار کرے گا، یعنی تقریباً 5 لاکھ ڈرون ماہانہ۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اس-سے-حقیقتاً-کیا-تبدیلی-آئے-گی" href="#اس-سے-حقیقتاً-کیا-تبدیلی-آئے-گی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اس سے حقیقتاً کیا تبدیلی آئے گی؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس تمام پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ ایک کروڑ ڈالر مالیت کا لڑاکا طیارہ بے کار ہوگیا ہے۔ تاہم اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ جدید افواج کو صلاحیت کے دونوں سروں کی ضرورت ہے: انتہائی جدید اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہتھیار بھی اور بڑی تعداد میں استعمال کیے جانے والے کم لاگت والے ہتھیار بھی۔ بڑے پیمانے پر تیاری کا فائدہ حملے اور دفاع، دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔ ایک سستے ڈرون کو بہتر نیویگیشن، سیلولر رابطے، میش نیٹ ورکنگ اور کچھ مصنوعی ذہانت فراہم کردی جائے تو اس کی صلاحیت میں اضافہ اس کی قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ہوسکتا ہے۔ یوں یہ پرانا مفروضہ بدل جاتا ہے کہ زیادہ ذہین اور جدید نظام لازماً زیادہ مہنگا بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی ہتھیاروں کی دوڑ کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوگا کہ کون سب سے بہترین میزائل یا لڑاکا طیارہ تیار کرتا ہے۔ اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون کم لاگت کے ہارڈویئر، جدید سافٹ ویئر، مزاحمت رکھنے والی نیویگیشن اور بڑے پیمانے پر پیداواری صلاحیت کو سب سے تیزی سے یکجا کرسکتا ہے، جبکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ دفاع کتنا ہی مؤثر کیوں نہ ہو، مخالف کی جانب سے داغے گئے کچھ ہتھیار پھر بھی اپنے ہدف تک پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ ’بزنس ریکارڈر‘ یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مئی 2026 میں تقریباً 2 ہزار ڈالر مالیت کے ایک یوکرینی انٹرسیپٹر ڈرون نے کیف کے اوپر ایک روسی ’شاہد‘ ڈرون کا تعاقب کرکے اسے نشانہ بنایا۔ ’شاہد‘ کی تیاری پر تقریباً 35 ہزار ڈالر لاگت آتی ہے، جبکہ اس کام کے لیے روایتی طور پر استعمال ہونے والے میزائل کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ ایک واقعہ اس بات کی مکمل عکاسی کرتا ہے کہ جنگی معیشت کس طرح یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور دنیا کی طاقتور ترین افواج کو خود کو بدلتی صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیوں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔</strong></p>
<p>کئی دہائیوں تک دفاعی شعبے کی معاشیات ایک ہی سمت میں آگے بڑھتی رہی: لاگت میں مسلسل اضافہ۔ لڑاکا طیارے زیادہ جدید اور انتہائی مہنگے ہوتے گئے، میزائل زیادہ درست اور زیادہ پرتعیش ہوتے گئے، جبکہ جنگی جہاز اس قدر پیچیدہ اور جدید ہوگئے کہ بحری افواج ان کی تعداد کم رکھنے پر مجبور ہوگئیں۔ ٹیکنالوجی میں برتری کا مطلب یہ تھا کہ انتہائی جدید اور مہنگی مشینیں کم تعداد میں تیار کی جائیں اور ان کی دیکھ بھال پر بھی بھاری اخراجات کیے جائیں۔</p>
<p>پھر 5 ہزار ڈالر سے کم قیمت والا ڈرون منظرنامے میں آگیا، جو ایک استعمال شدہ گاڑی سے بھی سستا ہے، جسے لان موور یا موپیڈ کے عام دستیاب انجنوں سے تیار کیا جاسکتا ہے اور جو اپنا ہدف تباہ کرتے ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ ان اڑنے والے ہتھیاروں نے انتہائی درست حملوں کو ایک تیزی سے بدلتے اور کم لاگت والے جنگی طریقے میں تبدیل کردیا ہے۔</p>
<p>یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے دفاعی نظام کے پرانے ماڈل میں موجود ایک ہی کمزوری کو نمایاں کردیا ہے۔ اب چند ہزار ڈالر میں ایک سادہ خودکار ہتھیار تیار کرکے کسی ہدف کی جانب ایک ہی رات میں درجنوں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں بھیجا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب نشانہ بننے والے ملک کو اکثر ایسے دفاعی انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت لاکھوں یا سیکڑوں ہزاروں ڈالر تک ہوتی ہے۔</p>
<p>آپ ہر انفرادی ڈرون کو کامیابی سے روکنے کے باوجود جنگی اخراجات کے حساب میں شکست کھا سکتے ہیں۔ اور اس میں ان ڈرونز کی لاگت بھی شامل نہیں جو دفاعی حصار توڑ کر اپنے ہدف تک پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ ہر ڈرون کو روکنا ممکن نہیں ہوتا، جبکہ جو نقصان پہنچتا ہے وہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی باقی ڈرونز کو روکنے پر آنے والی لاگت۔</p>
<p><strong>یوکرین — متاثر بھی اور عملی طور پر استعمال کرنے والا بھی</strong></p>
<p>روس نے صرف 2025 میں یوکرین کے خلاف تقریباً 54 ہزار طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون استعمال کیے، جبکہ بعض راتوں میں ان کی تعداد 500 سے بھی زیادہ رہی۔ یوکرین نے اس کے جواب میں کم لاگت والے ڈرون شکن نظام تیار کیا ہے، جس میں عموماً ایک ہزار سے 3 ہزار ڈالر مالیت کے ایسے انٹرسیپٹر ڈرون شامل ہیں جنہیں ’شاہد‘ طرز کے ڈرونز کا تعاقب کرکے انہیں تباہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>مئی 2026 تک یہ نظام ملک بھر میں روس کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز میں سے 91.7 فیصد کو روکنے میں کامیاب رہا، جبکہ فروری میں کیف کے اوپر اس کی شرح تقریباً 70 فیصد تھی۔</p>
<p>تاہم یوکرین صرف دفاع تک محدود نہیں رہا۔ اس کی اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی ڈرون مہم نے روس کی 10 بڑی آئل ریفائنریوں میں سے 8 کو نشانہ بنایا، بعض کو ایک سے زیادہ مرتبہ، جبکہ ان میں سے ایک ریفائنری سرحد سے تقریباً ایک ہزار میل دور واقع ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق ان حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ پیداوار کئی ماہ تک متاثر رہی اور سائبیریا تک ایندھن کی قلت پیدا ہونے میں بھی اس مہم نے کردار ادا کیا۔</p>
<p>یہی سستے ڈرون کی معاشیات کا دوسرا رخ ہے: یوکرین روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو اس کی مجموعی مالیت کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت سے شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223120415d26c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223120415d26c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مشرق وسطیٰ نے اسی مسئلے کی ایک زیادہ بڑے پیمانے اور تیز رفتار شکل ہمارے سامنے پیش کی۔ 2026 کی امریکا ایران جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے امریکی، اسرائیلی اور خلیجی اہداف پر روزانہ تقریباً 700 ڈرون اور میزائل داغے۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکا اور اس کے شراکت داروں کے مشترکہ فضائی دفاعی نظام نے 6 ہزار سے زیادہ یک طرفہ حملہ آور ڈرونز اور 1,500 سے زائد بیلسٹک میزائل مار گرائے۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مطابق اس کارروائی پر مجموعی طور پر 34 سے 42 ارب ڈالر تک لاگت آئی۔</p>
<p>ایران کے ’شاہد‘ خاندان سے تعلق رکھنے والے ڈرونز کی قیمت تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار ڈالر فی ڈرون ہے۔ لاگت کا یہ تناسب حیران کن ہے: 35 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ایسا جوابی اقدام کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کی لاگت اس سے سیکڑوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔</p>
<p>یہ دفاعی نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوا اور جو حملے دفاعی حصار توڑ کر اپنے اہداف تک پہنچے، ان کے نتائج سنگین تھے۔ 22 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ قطر میں واقع العدید ایئربیس، جو خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، ایرانی بیلسٹک میزائل کے براہِ راست حملے کی زد میں آیا۔</p>
<p>کویت کے علی السالم اڈے پر ایک حملے میں ایک اطالوی ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوگیا، جبکہ دو یوروفائٹر ٹائفون طیاروں کو نقصان پہنچا۔ ڈرونز نے کویت کی ایک آئل ریفائنری اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات پر ایک حملے میں ایک شہری ہلاک ہوا، جبکہ الظفرہ ایئربیس کے قریب تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ امریکی بحریہ کے خطے میں علاقائی ہیڈکوارٹر کی میزبانی کرنے والے بحرین کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223204086f8ce.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/28223204086f8ce.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ سب کچھ اس بنیادی حساب کو تبدیل نہیں کرتا کہ ایران نے اس کے خلاف دفاع کرتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں کہیں کم رقم خرچ کی۔ تاہم اس مساوات میں کم لاگت والے فریق کا فائدہ صرف اخراجات برداشت کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے مہنگے فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو بھی تباہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں روکنا کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو، ممالک اس صلاحیت میں سرمایہ کاری جاری رکھتے ہیں۔</p>
<p>امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام تباہ کیے جانے کے بعد جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا تناسب بدل گیا۔ 26 لاکھ ڈالر مالیت کے ٹوماہاک میزائلوں کا استعمال کم اور ایک لاکھ ڈالر مالیت کے جے ڈی اے ایم رہنمائی یافتہ بموں کا استعمال زیادہ ہوگیا، جس سے جنگ کی یومیہ لاگت میں نمایاں کمی آئی۔</p>
<p>اس سے ایک بنیادی سبق برقرار رہتا ہے: ایسے ہتھیاروں کے خلاف دفاع صرف ایک مہنگے نظام کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔ سستے خطرات سے نمٹنے کے لیے کم لاگت والے ذرائع درکار ہوتے ہیں جبکہ مہنگے نظام ان خطرات کے لیے محفوظ رکھنے چاہییں جہاں واقعی ان کی ضرورت ہو۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ آپ خواہ کوئی بھی دفاعی نظام تیار کرلیں، ان میں سے کچھ حملہ آور ہتھیار بہرحال اپنا راستہ بنا لیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233091009341.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233091009341.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h3><a id="روس-کا-مسلسل-جدید-بنایا-جانے-والا-ہتھیار" href="#روس-کا-مسلسل-جدید-بنایا-جانے-والا-ہتھیار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>روس کا مسلسل جدید بنایا جانے والا ہتھیار</strong></h3>
<p>روس نے ایرانی ساختہ ’شاہد‘ ڈرون کے ڈیزائن کو ایک ایسے ہتھیار میں تبدیل کردیا ہے جسے مسلسل اپ ڈیٹ کیے جانے والے سافٹ ویئر سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ ابتدائی ماڈلز میں جی پی ایس کو جڑتی نیویگیشن کے نظام کے ساتھ مل کر استعمال کیا جاتا تھا۔ یوکرین کی جانب سے ریڈیو سگنلز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت بہتر ہونے کے ساتھ روس نے پہلے ایسے اینٹینا نصب کیے جو جیمنگ کے خلاف مزاحمت رکھتے تھے، پھر کیمرے شامل کیے گئے، اس کے بعد مقامی سم کارڈز پر چلنے والے راسپ بیری پائی کمپیوٹرز اور فور جی موڈمز کو متبادل مواصلاتی ذریعے کے طور پر شامل کیا گیا۔</p>
<p>کچھ نئے ماڈلز اب 120 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ایک دوسرے کو سگنل منتقل کرسکتے ہیں، جبکہ بعض کو فائبر آپٹک ڈرونز کے ساتھ جوڑا گیا ہے جنہیں جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی انفرادی ٹیکنالوجی جدید ترین یا غیر معمولی نوعیت کی نہیں۔ لیکن ان سب کو یکجا کرنے سے ایک ایسا ہتھیار وجود میں آتا ہے جو حملوں اور رکاوٹوں کے باوجود مؤثر رہنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی ایسے ہتھیار کی تیاری کے لیے، جسے روکنا مشکل ہو، لازماً ایک غیرمعمولی مصنوعی ذہانت کے نظام کی ضرورت نہیں؛ اس مقصد کے لیے کئی کم لاگت والے نظاموں کو تہہ در تہہ جوڑنا بھی کافی ہوسکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233474f17396.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/09/282233474f17396.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<h3><a id="امریکا-بھی-اس-حقیقت-کو-سمجھنے-لگا-ہے" href="#امریکا-بھی-اس-حقیقت-کو-سمجھنے-لگا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>امریکا بھی اس حقیقت کو سمجھنے لگا ہے</strong></h3>
<p>ایران جنگ کے دوران امریکی فوج نے تقریباً 15 ہزار ڈالر فی یونٹ کی لاگت سے 13 ہزار ’میروپس‘ انٹرسیپٹر ڈرونز کا ہنگامی آرڈر دیا، اس امید کے ساتھ کہ بڑے پیمانے پر تیاری کے نتیجے میں فی ڈرون لاگت 10 ہزار ڈالر سے بھی کم ہوجائے گی۔ ان ڈرونز کا مقصد 30 ہزار سے 50 ہزار ڈالر مالیت کے ’شاہد‘ طرز کے اہداف کو نشانہ بنانا ہے۔ پینٹاگون کے ’ڈرون ڈومیننس پروگرام‘ میں ابتدائی طور پر 30 ہزار ڈرونز تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جن کی اوسط قیمت تقریباً 5 ہزار ڈالر فی ڈرون رکھی گئی۔ پروگرام کے بعد کے مراحل میں تقریباً 2,300 ڈالر فی ڈرون کی لاگت سے 1 لاکھ 50 ہزار یونٹس تک تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام صرف طویل فاصلے تک حملوں تک محدود نہیں، بلکہ ’گینٹلیٹ ٹو‘ میں قریبی فاصلے کے ایسے مشنز بھی شامل ہیں جن میں عمارتوں، خندقوں، بنکرز اور دیگر محدود جگہوں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز استعمال کیے جائیں گے۔</p>
<p>امریکا کی وسیع تر حکمت عملی میں اب دفاعی نظاموں کی درجہ بندی صرف بلندی کے اعتبار سے نہیں بلکہ لاگت کے لحاظ سے بھی کی جارہی ہے: سب سے اوپر پیٹریاٹ اور تھاڈ، درمیانی سطح پر نسبتاً سستے میزائل اور طیارے، جبکہ نچلی سطح پر توپیں اور خودکار انٹرسیپٹرز شامل ہیں۔ تاہم اس حکمت عملی کی ایک حقیقی حد بھی موجود ہے۔ جنگ سے پہلے پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار ماہانہ صرف 60 سے 65 میزائل تک تھی، اور دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی انٹرسیپٹرز کو اس رفتار سے استعمال کررہی تھی کہ فیکٹریاں انہیں اتنی تیزی سے دوبارہ تیار نہیں کرپارہی تھیں۔ چند درجن انتہائی مہنگے اور پیچیدہ میزائل تیار کرنے والی پیداواری لائن کے ذریعے ایسے دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا جو ہر ماہ ہزاروں کم لاگت والے ڈسپوزیبل ڈرون تیار کررہا ہو۔</p>
<p>ڈیفنس انوویشن یونٹ کے نائب ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ افسر ٹریوس میٹز، جو گزشتہ موسم خزاں سے پینٹاگون کے ’ڈرون ڈومیننس پروگرام‘ کی نگرانی کررہے ہیں، نے بتایا کہ یوکرین رواں سال 60 لاکھ سے 70 لاکھ چھوٹے ’فرسٹ پرسن ویو‘ حملہ آور ڈرون تیار کرے گا، یعنی تقریباً 5 لاکھ ڈرون ماہانہ۔</p>
<h3><a id="اس-سے-حقیقتاً-کیا-تبدیلی-آئے-گی" href="#اس-سے-حقیقتاً-کیا-تبدیلی-آئے-گی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>اس سے حقیقتاً کیا تبدیلی آئے گی؟</strong></h3>
<p>اس تمام پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ ایک کروڑ ڈالر مالیت کا لڑاکا طیارہ بے کار ہوگیا ہے۔ تاہم اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ جدید افواج کو صلاحیت کے دونوں سروں کی ضرورت ہے: انتہائی جدید اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہتھیار بھی اور بڑی تعداد میں استعمال کیے جانے والے کم لاگت والے ہتھیار بھی۔ بڑے پیمانے پر تیاری کا فائدہ حملے اور دفاع، دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔ ایک سستے ڈرون کو بہتر نیویگیشن، سیلولر رابطے، میش نیٹ ورکنگ اور کچھ مصنوعی ذہانت فراہم کردی جائے تو اس کی صلاحیت میں اضافہ اس کی قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ہوسکتا ہے۔ یوں یہ پرانا مفروضہ بدل جاتا ہے کہ زیادہ ذہین اور جدید نظام لازماً زیادہ مہنگا بھی ہوگا۔</p>
<p>اگلی ہتھیاروں کی دوڑ کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوگا کہ کون سب سے بہترین میزائل یا لڑاکا طیارہ تیار کرتا ہے۔ اصل مقابلہ اس بات پر ہوگا کہ کون کم لاگت کے ہارڈویئر، جدید سافٹ ویئر، مزاحمت رکھنے والی نیویگیشن اور بڑے پیمانے پر پیداواری صلاحیت کو سب سے تیزی سے یکجا کرسکتا ہے، جبکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ دفاع کتنا ہی مؤثر کیوں نہ ہو، مخالف کی جانب سے داغے گئے کچھ ہتھیار پھر بھی اپنے ہدف تک پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ ’بزنس ریکارڈر‘ یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291828</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 01:37:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اعجاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/290059397917232.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/290059397917232.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خود ہی سے باتیں کرتی حکومت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291746/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹنگ میں جب پیغام پہنچانے والے پر اعتماد نہ ہو تو پیغام کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی تحریر کتنی اچھی ہے، یا ویڈیو کتنی عمدگی سے بنائی گئی ہے۔ جب لوگ یہ طے کر لیں کہ وہ بات کرنے والے پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر کوئی آپ کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پاکستان کا ایک بڑا حصہ اپنی ہی حکومت کے ساتھ بالکل اسی کیفیت سے دوچار ہے۔ یہ صورتِ حال منصفانہ ہے یا نہیں، اس سوال کو کسی اور کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ میں جس بات پر توجہ دینا چاہتا ہوں وہ اس سب کے نیچے موجود ایک بنیادی مسئلہ ہے—ایسا مسئلہ جسے بہرحال حل کرنا ہوگا، چاہے کل پورا ملک مکمل طور پر حکومت پر اعتماد کرنے کا فیصلہ ہی کیوں نہ کر لے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا کا نگران ادارہ خود سوشل میڈیا پر موجود نہ ہو تو یہ معمولی کمی نہیں بلکہ تقریباً نام ہی کی نفی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ہر ادارے کا کوئی سربراہ، چیئرمین، مینیجنگ ڈائریکٹر یا وزیر ہوتا ہے اور اس شخص کو کام کرتے ہوئے دکھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہی شخص مواد کی پوری حکمتِ عملی بن جائے؛ ان کے اجلاس، دورے، مصافحے اور دستخط شدہ دستاویزات اس معلومات کی جگہ لے لیں جس کے لیے عوام واقعی آئے ہیں۔ پاکستان کے چند سرکاری اکاؤنٹس کھول کر دیکھیں تو یہ بات فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ وہ عوام سے بات نہیں کر رہے، بلکہ عوام کے سامنے اپنے بارے میں بات کر رہے ہیں اور اسے ابلاغ سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل میں نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، یہ وہ ادارہ ہے جسے پاکستان نے حال ہی میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قائم کیا ہے۔ میں نے پہلے گوگل پر تلاش کیا لیکن کوئی ویب سائٹ نہیں ملی۔ میں نے سوچا، ٹھیک ہے، اسے قائم ہوئے ابھی چند ہی ماہ ہوئے ہیں، شاید ویب سائٹ موجود ہو مگر گوگل نے ابھی اسے درست طور پر انڈیکس نہ کیا ہو۔ چنانچہ میں نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کیا، ایکس چیک کیا، فیس بک چیک کیا۔ دونوں جگہ کوئی سرکاری اکاؤنٹ نہیں ملا۔ اس مرحلے پر مجھے واقعی اپنی تلاش کی صلاحیت پر شک ہونے لگا، کیونکہ سوشل میڈیا کا نگران ادارہ خود سوشل میڈیا پر موجود نہ ہو تو یہ معمولی کمی نہیں بلکہ تقریباً نام ہی کی نفی ہے۔ اگر یہ کسی اور ہینڈل کے تحت موجود ہے اور مجھے نہیں ملا تو میں واقعی جاننا چاہوں گا، کیونکہ اس وقت ایک دہائی قبل ریٹائر ہونے والے کرکٹرز کے فین پیجز تلاش کرنا اس اتھارٹی کو تلاش کرنے سے زیادہ آسان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس پر طنز خود بخود بن جاتا ہے۔ لیکن اسی مسئلے کی کم نمایاں شکل ایک ایسے ادارے میں نظر آتی ہے جس نے کم از کم زیادہ کوشش کی تھی۔ حکومت کے پانچ نکاتی اقتصادی منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کا آغاز 2024 کے اختتام پر بھرپور انداز میں کیا گیا تھا؛ وزارتی بیانات، میڈیا کوریج اور باقاعدہ افتتاحی ویب سائٹ، سب کچھ موجود تھا۔ آج اس ویب سائٹ کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کافی عرصے سے کسی نے اس کے انتظامی حصے کا رخ ہی نہیں کیا۔ ان کا لنکڈ اِن اکاؤنٹ تقریباً ایک سال سے کوئی پوسٹ نہیں کر سکا۔ فیس بک پیج، یہ ماننا پڑے گا، فعال ہے، بلکہ باقاعدگی سے پوسٹس بھی کرتا ہے، لیکن ذرا دیکھیں کہ وہاں شائع کیا کیا جا رہا ہے تو تقریباً سارا مواد دوسروں کی پوسٹس دوبارہ شیئر کرنے تک محدود ہے: وزارت کی پوسٹس، وزیر کے اجلاس، ان کے بیانات اور ان کی ویڈیوز۔ پیج زندہ ہے، لیکن راستے میں کہیں ’’اڑان پاکستان‘‘ کے بارے میں ہونا چھوڑ کر ’’ان‘‘ کے بارے میں ہونا شروع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں یہاں ایسے تمام اکاؤنٹس کے نام گنوانے نہیں بیٹھا، زیادہ تر اس لیے کہ میں ایسا کر بھی نہیں سکتا؛ ایسے اکاؤنٹس بہت زیادہ ہیں۔ چند بدقسمت محکموں کو نشانہ بنانا اس معاملے کو ایک محدود مسئلے کے طور پر پیش کرے گا، حالانکہ حقیقت میں یہ تقریباً معمول بن چکا ہے۔ کسی بھی سرکاری اکاؤنٹ کو اتفاقاً کھول کر دیکھیں، آپ کو عموماً ایک ہی طرح کا مواد ملے گا: اجلاس، مفاہمتی یادداشتیں اور وفود کے دورے۔ ایسے جملے جو کسی ایسے شخص نے لکھے ہوں جو بظاہر موضوع کو گہرائی سے سمجھتا تھا، لیکن لکھتے لکھتے کہیں یہ بھول گیا کہ اسے پڑھنے والے زیادہ تر لوگ شاید اس موضوع کو اتنا نہیں سمجھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا ذکر الگ سے ہونا چاہیے، کیونکہ یہاں ناکامی کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔ جہاں تک میری سمجھ ہے، اس کا اصل کام سہولت کاری ہے؛ متعلقہ محکموں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور ضروری منظوریوں کی راہ ہموار کرنا، نہ کہ خود براہِ راست سرمایہ کاری لانا۔ لیکن اس کے قیام کے برسوں بعد بھی پاکستانی سوشل میڈیا، وی لاگرز، ناقدین اور حکومت کے حامیوں میں ایک ہی سوال بار بار گردش کرتا ہے: ایس آئی ایف سی آخر کتنی سرمایہ کاری لایا ہے؟ ممکن ہے میں اس کے مینڈیٹ کو غلط سمجھ رہا ہوں۔ یا شاید اس کے ابلاغی نظام نے ابھی تک اس کے اپنے نام میں موجود ایک اہم لفظ، ’’سہولت کاری‘‘، کو اتنی وضاحت سے سمجھایا ہی نہیں کہ وہ لوگوں کے ذہن میں بیٹھ سکے۔ بہرحال، جب کسی ادارے کے بارے میں عوام کا سب سے عام سوال ہی غلط سوال ہو تو یہ شاذ ہی عوام کی سمجھ کی ناکامی ہوتی ہے۔ عموماً یہ ادارے کی وضاحت کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ادارہ مرکزیت پر مبنی سوچ ان لوگوں تک بھی پہنچتی ہے جو شہروں سے سب سے دور ہیں۔ صرف ویب سائٹ اور کبھی کبھار جاری ہونے والی پریس ریلیز پر مبنی ابلاغی حکمتِ عملی خاموشی سے یہ فرض کر لیتی ہے کہ لوگوں کے پاس قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، انگریزی پڑھنے کی صلاحیت، اسمارٹ فون، وقت، اعتماد اور قانونی نوٹس کی زبان میں لکھی ویب سائٹ پر مختلف مراحل سے گزرنے کا صبر موجود ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی پرانی اس عمومی سوچ سے کہیں زیادہ ہے کہ ’’دیہی لوگ آن لائن نہیں‘‘، لیکن رسائی اور قابلِ استعمال رسائی ایک ہی چیز نہیں۔ کوئی شخص تکنیکی طور پر آن لائن ہو سکتا ہے لیکن زبان، فارمیٹ، لاگت، ڈیوائس کے معیار یا قریب موجود کسی ایسے فرد کی عدم موجودگی کی وجہ سے پھر بھی اس سہولت سے محروم رہ سکتا ہے جو اسے طریقۂ کار سمجھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بہت سے نوجوان بھی باہر رہ جاتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے ابتدا ہی سے پریس ریلیز پر مکمل اعتماد نہیں کیا اور اپنی معلومات گروپ چیٹس، مختصر ویڈیوز اور ان تخلیق کاروں سے حاصل کرتے ہیں جنہیں وہ واقعی فالو کرتے ہیں، نہ کہ کسی وزارت کے اس اکاؤنٹ سے جو دستخطی تقریب کی تصویر پوسٹ کر رہا ہو۔ کسی نے جان بوجھ کر ان دونوں گروہوں کو باہر رکھنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ صرف ان لوگوں کے لیے نظام بنانا جن تک پہنچنا آسان ہو، خود بخود دوسروں کو خاموشی سے باہر کر دیتا ہے، بغیر اس کے کہ کسی کو باقاعدہ ایسا فیصلہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا ہونا ناگزیر نہیں تھا، اور حقیقتاً یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر میں یہ سب لکھ رہا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کے حصول کے عمل کا بڑا حصہ موبائل ایپ پر منتقل کر دیا، جس میں موبائل بایومیٹرک تصدیق بھی شامل ہے، تاکہ بہت سے درخواست گزار برانچ جانے کے بجائے اپنا کام مکمل کر سکیں۔ لاکھوں افراد نے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور استعمال کی، کیونکہ کسی نے صرف پسِ پشت موجود ڈیٹا بیس کے بجائے فون تھامے ہوئے شخص کے بارے میں بھی سوچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے برسوں پہلے، کووڈ 19 کے دوران، حکومت نے ایک نہایت سادہ کام کیا تھا جو اس کے بعد آنے والی بیشتر ڈیجیٹل مہمات سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔ کال ملنے سے پہلے سنائی دینے والی ریکارڈ شدہ آواز میں صحت سے متعلق آگاہی کا پیغام شامل کر دیا گیا، چنانچہ کال منسلک ہونے سے پہلے ہی آپ وہ پیغام سن چکے ہوتے تھے۔ نہ کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا تھی، نہ کسی ویب سائٹ کو تلاش کرنا تھا۔ پیغام خود اس کام کا حصہ بن گیا تھا جو لوگ پہلے ہی روزانہ درجنوں مرتبہ کرتے تھے، اور اس کے لیے انہیں پہلے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے نہیں لگتا کہ انسٹاگرام کی زیادہ خوبصورت گرڈ یا سست رفتاری سے بنائی گئی ٹک ٹاک طرز کی ویڈیوز پاکستان کے اپنی حکومت پر موجود اعتماد کے اتنے گہرے بحران کو حل کر سکتی ہیں۔ ایسا نہیں ہوگا، اور میں اس کے برعکس دعویٰ بھی نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس بڑے مسئلے کے عین نیچے ایک چھوٹا اور کہیں زیادہ قابلِ انتظام مسئلہ موجود ہے، اور کم از کم اس کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ جن اداروں کا میں نے یہاں ذکر کیا ہے، ان میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ اپنے بارے میں کیسے بات کرنی ہے۔ تقریباً کسی نے یہ نہیں سیکھا کہ کسی دوسرے سے کیسے بات کرنی ہے۔ یہ خلا سیاست کا مسئلہ نہیں، اور سچ کہوں تو یہ پیسے کا مسئلہ بھی نہیں۔ ان میں سے بیشتر اداروں کے پاس واضح طور پر اتنا بجٹ ہے کہ وہ ایک ویب سائٹ بنا سکیں اور کیمروں کی موجودگی میں ایک افتتاحی تقریب منعقد کر سکیں۔ مسئلہ ان دونوں سے کہیں چھوٹا اور زیادہ غیر دلچسپ نوعیت کا ایک فیصلہ ہے، جو ابھی تک زیادہ تر کیا ہی نہیں گیا: اگلی پوسٹ اس شخص کے لیے لکھی جائے جو اسے پڑھنے والا ہے، نہ کہ اس شخص کے لیے جو اسے منظور کرنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون میں بیان کردہ خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارکیٹنگ میں جب پیغام پہنچانے والے پر اعتماد نہ ہو تو پیغام کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی تحریر کتنی اچھی ہے، یا ویڈیو کتنی عمدگی سے بنائی گئی ہے۔ جب لوگ یہ طے کر لیں کہ وہ بات کرنے والے پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر کوئی آپ کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>اس وقت پاکستان کا ایک بڑا حصہ اپنی ہی حکومت کے ساتھ بالکل اسی کیفیت سے دوچار ہے۔ یہ صورتِ حال منصفانہ ہے یا نہیں، اس سوال کو کسی اور کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ میں جس بات پر توجہ دینا چاہتا ہوں وہ اس سب کے نیچے موجود ایک بنیادی مسئلہ ہے—ایسا مسئلہ جسے بہرحال حل کرنا ہوگا، چاہے کل پورا ملک مکمل طور پر حکومت پر اعتماد کرنے کا فیصلہ ہی کیوں نہ کر لے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><strong>سوشل میڈیا کا نگران ادارہ خود سوشل میڈیا پر موجود نہ ہو تو یہ معمولی کمی نہیں بلکہ تقریباً نام ہی کی نفی ہے۔</strong></p>
</blockquote>
<p>ہر ادارے کا کوئی سربراہ، چیئرمین، مینیجنگ ڈائریکٹر یا وزیر ہوتا ہے اور اس شخص کو کام کرتے ہوئے دکھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہی شخص مواد کی پوری حکمتِ عملی بن جائے؛ ان کے اجلاس، دورے، مصافحے اور دستخط شدہ دستاویزات اس معلومات کی جگہ لے لیں جس کے لیے عوام واقعی آئے ہیں۔ پاکستان کے چند سرکاری اکاؤنٹس کھول کر دیکھیں تو یہ بات فوراً واضح ہو جاتی ہے۔ وہ عوام سے بات نہیں کر رہے، بلکہ عوام کے سامنے اپنے بارے میں بات کر رہے ہیں اور اسے ابلاغ سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔</p>
<p>چند روز قبل میں نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، یہ وہ ادارہ ہے جسے پاکستان نے حال ہی میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قائم کیا ہے۔ میں نے پہلے گوگل پر تلاش کیا لیکن کوئی ویب سائٹ نہیں ملی۔ میں نے سوچا، ٹھیک ہے، اسے قائم ہوئے ابھی چند ہی ماہ ہوئے ہیں، شاید ویب سائٹ موجود ہو مگر گوگل نے ابھی اسے درست طور پر انڈیکس نہ کیا ہو۔ چنانچہ میں نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کیا، ایکس چیک کیا، فیس بک چیک کیا۔ دونوں جگہ کوئی سرکاری اکاؤنٹ نہیں ملا۔ اس مرحلے پر مجھے واقعی اپنی تلاش کی صلاحیت پر شک ہونے لگا، کیونکہ سوشل میڈیا کا نگران ادارہ خود سوشل میڈیا پر موجود نہ ہو تو یہ معمولی کمی نہیں بلکہ تقریباً نام ہی کی نفی ہے۔ اگر یہ کسی اور ہینڈل کے تحت موجود ہے اور مجھے نہیں ملا تو میں واقعی جاننا چاہوں گا، کیونکہ اس وقت ایک دہائی قبل ریٹائر ہونے والے کرکٹرز کے فین پیجز تلاش کرنا اس اتھارٹی کو تلاش کرنے سے زیادہ آسان ہے۔</p>
<p>یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس پر طنز خود بخود بن جاتا ہے۔ لیکن اسی مسئلے کی کم نمایاں شکل ایک ایسے ادارے میں نظر آتی ہے جس نے کم از کم زیادہ کوشش کی تھی۔ حکومت کے پانچ نکاتی اقتصادی منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کا آغاز 2024 کے اختتام پر بھرپور انداز میں کیا گیا تھا؛ وزارتی بیانات، میڈیا کوریج اور باقاعدہ افتتاحی ویب سائٹ، سب کچھ موجود تھا۔ آج اس ویب سائٹ کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کافی عرصے سے کسی نے اس کے انتظامی حصے کا رخ ہی نہیں کیا۔ ان کا لنکڈ اِن اکاؤنٹ تقریباً ایک سال سے کوئی پوسٹ نہیں کر سکا۔ فیس بک پیج، یہ ماننا پڑے گا، فعال ہے، بلکہ باقاعدگی سے پوسٹس بھی کرتا ہے، لیکن ذرا دیکھیں کہ وہاں شائع کیا کیا جا رہا ہے تو تقریباً سارا مواد دوسروں کی پوسٹس دوبارہ شیئر کرنے تک محدود ہے: وزارت کی پوسٹس، وزیر کے اجلاس، ان کے بیانات اور ان کی ویڈیوز۔ پیج زندہ ہے، لیکن راستے میں کہیں ’’اڑان پاکستان‘‘ کے بارے میں ہونا چھوڑ کر ’’ان‘‘ کے بارے میں ہونا شروع ہو گیا ہے۔</p>
<p>میں یہاں ایسے تمام اکاؤنٹس کے نام گنوانے نہیں بیٹھا، زیادہ تر اس لیے کہ میں ایسا کر بھی نہیں سکتا؛ ایسے اکاؤنٹس بہت زیادہ ہیں۔ چند بدقسمت محکموں کو نشانہ بنانا اس معاملے کو ایک محدود مسئلے کے طور پر پیش کرے گا، حالانکہ حقیقت میں یہ تقریباً معمول بن چکا ہے۔ کسی بھی سرکاری اکاؤنٹ کو اتفاقاً کھول کر دیکھیں، آپ کو عموماً ایک ہی طرح کا مواد ملے گا: اجلاس، مفاہمتی یادداشتیں اور وفود کے دورے۔ ایسے جملے جو کسی ایسے شخص نے لکھے ہوں جو بظاہر موضوع کو گہرائی سے سمجھتا تھا، لیکن لکھتے لکھتے کہیں یہ بھول گیا کہ اسے پڑھنے والے زیادہ تر لوگ شاید اس موضوع کو اتنا نہیں سمجھتے۔</p>
<p>خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا ذکر الگ سے ہونا چاہیے، کیونکہ یہاں ناکامی کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔ جہاں تک میری سمجھ ہے، اس کا اصل کام سہولت کاری ہے؛ متعلقہ محکموں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور ضروری منظوریوں کی راہ ہموار کرنا، نہ کہ خود براہِ راست سرمایہ کاری لانا۔ لیکن اس کے قیام کے برسوں بعد بھی پاکستانی سوشل میڈیا، وی لاگرز، ناقدین اور حکومت کے حامیوں میں ایک ہی سوال بار بار گردش کرتا ہے: ایس آئی ایف سی آخر کتنی سرمایہ کاری لایا ہے؟ ممکن ہے میں اس کے مینڈیٹ کو غلط سمجھ رہا ہوں۔ یا شاید اس کے ابلاغی نظام نے ابھی تک اس کے اپنے نام میں موجود ایک اہم لفظ، ’’سہولت کاری‘‘، کو اتنی وضاحت سے سمجھایا ہی نہیں کہ وہ لوگوں کے ذہن میں بیٹھ سکے۔ بہرحال، جب کسی ادارے کے بارے میں عوام کا سب سے عام سوال ہی غلط سوال ہو تو یہ شاذ ہی عوام کی سمجھ کی ناکامی ہوتی ہے۔ عموماً یہ ادارے کی وضاحت کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔</p>
<p>یہی ادارہ مرکزیت پر مبنی سوچ ان لوگوں تک بھی پہنچتی ہے جو شہروں سے سب سے دور ہیں۔ صرف ویب سائٹ اور کبھی کبھار جاری ہونے والی پریس ریلیز پر مبنی ابلاغی حکمتِ عملی خاموشی سے یہ فرض کر لیتی ہے کہ لوگوں کے پاس قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، انگریزی پڑھنے کی صلاحیت، اسمارٹ فون، وقت، اعتماد اور قانونی نوٹس کی زبان میں لکھی ویب سائٹ پر مختلف مراحل سے گزرنے کا صبر موجود ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی پرانی اس عمومی سوچ سے کہیں زیادہ ہے کہ ’’دیہی لوگ آن لائن نہیں‘‘، لیکن رسائی اور قابلِ استعمال رسائی ایک ہی چیز نہیں۔ کوئی شخص تکنیکی طور پر آن لائن ہو سکتا ہے لیکن زبان، فارمیٹ، لاگت، ڈیوائس کے معیار یا قریب موجود کسی ایسے فرد کی عدم موجودگی کی وجہ سے پھر بھی اس سہولت سے محروم رہ سکتا ہے جو اسے طریقۂ کار سمجھا سکے۔</p>
<p>اس سے بہت سے نوجوان بھی باہر رہ جاتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جنہوں نے ابتدا ہی سے پریس ریلیز پر مکمل اعتماد نہیں کیا اور اپنی معلومات گروپ چیٹس، مختصر ویڈیوز اور ان تخلیق کاروں سے حاصل کرتے ہیں جنہیں وہ واقعی فالو کرتے ہیں، نہ کہ کسی وزارت کے اس اکاؤنٹ سے جو دستخطی تقریب کی تصویر پوسٹ کر رہا ہو۔ کسی نے جان بوجھ کر ان دونوں گروہوں کو باہر رکھنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ صرف ان لوگوں کے لیے نظام بنانا جن تک پہنچنا آسان ہو، خود بخود دوسروں کو خاموشی سے باہر کر دیتا ہے، بغیر اس کے کہ کسی کو باقاعدہ ایسا فیصلہ کرنا پڑے۔</p>
<p>ایسا ہونا ناگزیر نہیں تھا، اور حقیقتاً یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر میں یہ سب لکھ رہا ہوں۔</p>
<p>نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کے حصول کے عمل کا بڑا حصہ موبائل ایپ پر منتقل کر دیا، جس میں موبائل بایومیٹرک تصدیق بھی شامل ہے، تاکہ بہت سے درخواست گزار برانچ جانے کے بجائے اپنا کام مکمل کر سکیں۔ لاکھوں افراد نے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کی اور استعمال کی، کیونکہ کسی نے صرف پسِ پشت موجود ڈیٹا بیس کے بجائے فون تھامے ہوئے شخص کے بارے میں بھی سوچا تھا۔</p>
<p>اس سے برسوں پہلے، کووڈ 19 کے دوران، حکومت نے ایک نہایت سادہ کام کیا تھا جو اس کے بعد آنے والی بیشتر ڈیجیٹل مہمات سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔ کال ملنے سے پہلے سنائی دینے والی ریکارڈ شدہ آواز میں صحت سے متعلق آگاہی کا پیغام شامل کر دیا گیا، چنانچہ کال منسلک ہونے سے پہلے ہی آپ وہ پیغام سن چکے ہوتے تھے۔ نہ کوئی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا تھی، نہ کسی ویب سائٹ کو تلاش کرنا تھا۔ پیغام خود اس کام کا حصہ بن گیا تھا جو لوگ پہلے ہی روزانہ درجنوں مرتبہ کرتے تھے، اور اس کے لیے انہیں پہلے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔</p>
<p>مجھے نہیں لگتا کہ انسٹاگرام کی زیادہ خوبصورت گرڈ یا سست رفتاری سے بنائی گئی ٹک ٹاک طرز کی ویڈیوز پاکستان کے اپنی حکومت پر موجود اعتماد کے اتنے گہرے بحران کو حل کر سکتی ہیں۔ ایسا نہیں ہوگا، اور میں اس کے برعکس دعویٰ بھی نہیں کر رہا۔</p>
<p>لیکن اس بڑے مسئلے کے عین نیچے ایک چھوٹا اور کہیں زیادہ قابلِ انتظام مسئلہ موجود ہے، اور کم از کم اس کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ جن اداروں کا میں نے یہاں ذکر کیا ہے، ان میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ اپنے بارے میں کیسے بات کرنی ہے۔ تقریباً کسی نے یہ نہیں سیکھا کہ کسی دوسرے سے کیسے بات کرنی ہے۔ یہ خلا سیاست کا مسئلہ نہیں، اور سچ کہوں تو یہ پیسے کا مسئلہ بھی نہیں۔ ان میں سے بیشتر اداروں کے پاس واضح طور پر اتنا بجٹ ہے کہ وہ ایک ویب سائٹ بنا سکیں اور کیمروں کی موجودگی میں ایک افتتاحی تقریب منعقد کر سکیں۔ مسئلہ ان دونوں سے کہیں چھوٹا اور زیادہ غیر دلچسپ نوعیت کا ایک فیصلہ ہے، جو ابھی تک زیادہ تر کیا ہی نہیں گیا: اگلی پوسٹ اس شخص کے لیے لکھی جائے جو اسے پڑھنے والا ہے، نہ کہ اس شخص کے لیے جو اسے منظور کرنے والا ہے۔</p>
<p>اس مضمون میں بیان کردہ خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291746</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Sep 2026 22:07:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہر یار خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2621541554cce91.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2621541554cce91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمام الیکٹرک گاڑیاں یکساں نہیں، نئی آٹو پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291505/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی مجوزہ آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 مجموعی طور پر درست سمت کا تعین کرتی ہے: ٹرانسپورٹ کو برقی بنانا، ملک کے پٹرولیم درآمدی بل میں کمی لانا، زرمبادلہ کی بچت کرنا اور برآمدات پر مبنی آٹو موٹیو صنعت تشکیل دینا، یہ سب قابلِ قدر مقاصد ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات، زیادہ مقامی ویلیو ایڈیشن، زیادہ مسابقت، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کی جانب مجوزہ منتقلی پاکستان کے آٹو موٹیو شعبے کے لیے ایک اہم ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی مختلف ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی کے طریقہ کار میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے۔ بنیادی کمزوری یہ ہے کہ مراعات کے معاملے میں بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ای ایچ ویز) کو ایک دوسرے کے برابر سمجھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ تجویز میں تینوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح یکساں طور پر 1 فیصد رکھنے کے ساتھ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، حالانکہ ان کی پروپلژن ٹیکنالوجی، بجلی پر چلنے کی صلاحیت اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی لانے کی استعداد میں نمایاں فرق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کا حل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مضبوط ترین مراعات صرف بی ای ویز تک محدود کر دی جائیں۔ پاکستان کی پالیسی کو بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو الیکٹرک پروپلژن ٹیکنالوجیز کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے، جبکہ پی ای ایچ ویز کو ایک علیحدہ عبوری زمرے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ای وی مکمل طور پر برقی طاقت سے چلتی ہے۔ مناسب طور پر متعین کردہ آر ای ای وی بھی مکمل طور پر ایک الیکٹرک ٹریکشن موٹر کے ذریعے چلتی ہے، جبکہ اس کا اندرونی احتراقی انجن صرف گاڑی میں موجود جنریٹر کے طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے اور پہیوں کو براہِ راست میکانکی طاقت فراہم نہیں کرتا۔ اس طرح آر ای ای ویز برقی پروپلژن کے فوائد فراہم کر سکتی ہیں جبکہ پاکستان میں بی ای ویز کو ابتدائی طور پر اپنانے کی ایک بڑی رکاوٹ، یعنی محدود چارجنگ انفراسٹرکچر اور گاڑی کی رینج ختم ہونے کے خدشے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ای ایچ ویز مختلف ہیں۔ ان کا اندرونی احتراقی انجن بھی براہِ راست گاڑی چلانے میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس لیے انہیں خودکار طور پر بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کے برابر مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔ اس کے بجائے پی ای ایچ ویز کے لیے مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے منسلک کیا جانا چاہیے، جس میں صرف بجلی پر چلنے کی رینج، بیٹری کی گنجائش، ایندھن کا استعمال، اخراج اور پٹرولیم کے استعمال میں ثابت شدہ کمی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے مراعات کا ایک زیادہ منطقی ڈھانچہ تشکیل پائے گا، جس کے ذریعے ان ٹیکنالوجیز کو قبل از وقت خارج کیے بغیر پاکستان کی برقی منتقلی کو تیز کیا جا سکے گا جو اس منتقلی میں مدد دے سکتی ہیں۔ مقصد صرف بیٹری یا پلگ کی موجودگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی برق کاری اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی سطح کو انعام دینا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارجنگ انفراسٹرکچر کے چیلنج پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز پر درآمدی ڈیوٹی کم کرکے 1 فیصد کرنے اور بیٹری سوئپنگ انفراسٹرکچر کے لیے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں، لیکن انہیں ایک وسیع تر قومی چارجنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے جس میں شاہراہیں، شہر، کمرشل فلیٹس، رہائشی مقامات اور تیز رفتار چارجنگ کوریڈورز شامل ہوں۔ مناسب چارجنگ انفراسٹرکچر کے بغیر خالص الیکٹرک گاڑیوں کو صارفین کی جانب سے اپنانا محدود رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کی فنانسنگ سے متعلق تجویز ایک اور خوش آئند قدم ہے۔ این ای وی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنا اور فنانسنگ کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنا گاڑیوں کی استطاعت میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے اور صارفین کی جانب سے انہیں اپنانے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔ اس طرح کی فنانسنگ سپورٹ حقیقی این ای وی ٹیکنالوجیز پر مرکوز رہنی چاہیے اور اسی طرح برق کاری کی سطح اور ماحولیاتی کارکردگی کے مطابق مختلف کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر پالیسی فریم ورک میں بھی قابلِ قدر خصوصیات موجود ہیں۔ لازمی برآمدی ذمہ داریاں پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کو تقریباً مکمل طور پر مقامی مارکیٹ پر انحصار کرنے کے رجحان سے دور لے جائیں گی۔ کاروں، جیپوں اور ایس یو ویز کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ برآمدات 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداوار کی مالیت کے 12 فیصد تک بڑھائی جائیں، جبکہ اس کے بعد بھی اسی طرح کی شرائط برقرار رہیں گی۔ او ای ایمز اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے پالیسی میں 2026-31 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 4.59 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات سے منسلک سپورٹ میکانزم کی تجویز بھی حوصلہ افزا ہے۔ اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو خالص ایف او بی برآمدی مالیت کا 10 فیصد دیا جا سکتا ہے، جبکہ برآمدی مالیت میں سالانہ کم از کم 5 فیصد اضافہ ہونے کی صورت میں مزید 5 فیصد دیا جائے گا۔ اس طرح کی سپورٹ کو حقیقی برآمدی آمدنی اور تھرڈ پارٹی آڈٹس سے منسلک کرنا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، برآمدی مراعات میں بتدریج صرف برآمد کی جانے والی مصنوعات کے حجم کے بجائے اضافی برآمدات، زیادہ مقامی ویلیو ایڈیشن اور عالمی سپلائی چینز میں حقیقی انضمام کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر پاکستان کو اپنی آٹو موٹیو صنعت کو صرف اسمبلنگ پر مبنی صنعت سے ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے تو یہ امر انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے مجوزہ کم از کم مقامی ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے۔ روایتی گاڑیوں کے لیے 2030-31 تک 40 فیصد ایم ڈی وی اے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ این ای ویز کے لیے مجوزہ شرط ابتدائی طور پر 10 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہو جائے گی۔ این ای وی صنعت کو اپنے ابتدائی ترقیاتی مرحلے کے دوران معقول حد تک زیادہ لچک کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم مقامی پیداوار کو بتدریج صرف آخری مرحلے کی اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر بیٹریوں، بیٹری مینجمنٹ سسٹمز، الیکٹرک موٹرز، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ سسٹمز، تھرمل مینجمنٹ سسٹمز اور دیگر اسٹریٹجک پرزہ جات تک لے جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ٹیرف میں معقولیت پیدا کرنا ایک اور بڑی ساختی اصلاح ہے۔ پالیسی میں ٹیرف میں نمایاں کمی، بالآخر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے اور زیادہ شفاف، قواعد پر مبنی طریقہ کار کے حق میں ایس آر او پر مبنی مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر اسے مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو اس سے مسابقت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت، قیمتوں، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مالیاتی اثرات این ای وی مراعات کو زیادہ بہتر انداز میں ہدف بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پالیسی میں ڈی ایل ٹی ایل اخراجات اور این ای وی سے متعلق ٹیکس مراعات کے مقابلے میں تقریباً 349.9 ارب روپے کی اضافی ایف ای ڈی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 21.1 ارب روپے کا مجموعی متوقع مالیاتی سرپلس بنتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سالانہ مالیاتی پوزیشن 2026-27 میں 46.8 ارب روپے کے سرپلس سے 2030-31 تک 44.1 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہونے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے یہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ محدود مالی وسائل ان ٹیکنالوجیز کی جانب مختص کیے جائیں جو برق کاری، ایندھن کی بچت اور اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کو ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار لیکن کارکردگی پر مبنی این ای وی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو الیکٹرک پروپلژن ٹیکنالوجیز کے طور پر مضبوط معاونت ملنی چاہیے، جبکہ پی ای ایچ ویز کو قابلِ پیمائش الیکٹرانک ڈرائیونگ کی صلاحیت، ایندھن کے متبادل استعمال اور اخراج سے متعلق کارکردگی کی بنیاد پر مراعات کے لیے اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ روایتی نان پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو الگ زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں آر ای ای وی کی ایک واضح تکنیکی تعریف بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر ریگولیٹری اداروں کی جانب سے یکساں طریقے سے اس کی درجہ بندی کی جا سکے۔ درجہ بندی گاڑی میں موجود اندرونی احتراقی انجن کی محض موجودگی کے بجائے گاڑی کے حقیقی پروپلژن ڈھانچے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل، گاڑیوں کے زیادہ مضبوط معیارات، یو این ای سی ای کے معیارات کو اپنانا اور ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کا قیام بھی درست سمت میں اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات پاکستان کے پرزہ جات بنانے والے مینوفیکچررز کو بین الاقوامی سپلائی چینز میں ضم ہونے میں مدد دے سکتے ہیں اور ملک کو برآمدات پر مبنی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے وسیع تر مقصد کی حمایت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کی آٹو موٹیو پالیسی کا مقصد قبل از وقت کسی ایک ٹیکنالوجی کا انتخاب کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد درست سمت کا انتخاب اور برقی کاری کی جانب قابلِ پیمائش پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ای ویز گاڑی کے ایگزاسٹ سے صفر اخراج کی جانب حتمی راستے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حقیقی آر ای ای ویز موجودہ انفراسٹرکچر اور رینج کی حدود سے نمٹتے ہوئے الیکٹرک پروپلژن فراہم کر سکتی ہیں۔ پی ای ایچ ویز عبوری ٹیکنالوجی کے طور پر کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے مراعات میں برق کاری اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کے لیے ان کے حقیقی کردار کی عکاسی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت اس مختلف نوعیت کے حامل این ای وی فریم ورک کو برآمدی ذمہ داریوں، زیادہ مضبوط مقامی پیداوار، شفاف ٹیرف، چارجنگ انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کارکردگی پر مبنی مراعات کے ساتھ یکجا کرتی ہے تو آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 محض ایک صنعتی پالیسی سے بڑھ کر حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو ایک محفوظ اور محدود مقامی اسمبلنگ مارکیٹ سے مسابقتی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز آٹو موٹیو صنعت میں منتقلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی مجوزہ آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 مجموعی طور پر درست سمت کا تعین کرتی ہے: ٹرانسپورٹ کو برقی بنانا، ملک کے پٹرولیم درآمدی بل میں کمی لانا، زرمبادلہ کی بچت کرنا اور برآمدات پر مبنی آٹو موٹیو صنعت تشکیل دینا، یہ سب قابلِ قدر مقاصد ہیں۔</strong></p>
<p>برآمدات، زیادہ مقامی ویلیو ایڈیشن، زیادہ مسابقت، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کی جانب مجوزہ منتقلی پاکستان کے آٹو موٹیو شعبے کے لیے ایک اہم ساختی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>لیکن الیکٹرک گاڑیوں کی مختلف ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی کے طریقہ کار میں زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے۔ بنیادی کمزوری یہ ہے کہ مراعات کے معاملے میں بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ای ایچ ویز) کو ایک دوسرے کے برابر سمجھا گیا ہے۔</p>
<p>موجودہ تجویز میں تینوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح یکساں طور پر 1 فیصد رکھنے کے ساتھ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)، کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، حالانکہ ان کی پروپلژن ٹیکنالوجی، بجلی پر چلنے کی صلاحیت اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی لانے کی استعداد میں نمایاں فرق ہے۔</p>
<p>تاہم اس کا حل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مضبوط ترین مراعات صرف بی ای ویز تک محدود کر دی جائیں۔ پاکستان کی پالیسی کو بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو الیکٹرک پروپلژن ٹیکنالوجیز کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے، جبکہ پی ای ایچ ویز کو ایک علیحدہ عبوری زمرے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>بی ای وی مکمل طور پر برقی طاقت سے چلتی ہے۔ مناسب طور پر متعین کردہ آر ای ای وی بھی مکمل طور پر ایک الیکٹرک ٹریکشن موٹر کے ذریعے چلتی ہے، جبکہ اس کا اندرونی احتراقی انجن صرف گاڑی میں موجود جنریٹر کے طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے اور پہیوں کو براہِ راست میکانکی طاقت فراہم نہیں کرتا۔ اس طرح آر ای ای ویز برقی پروپلژن کے فوائد فراہم کر سکتی ہیں جبکہ پاکستان میں بی ای ویز کو ابتدائی طور پر اپنانے کی ایک بڑی رکاوٹ، یعنی محدود چارجنگ انفراسٹرکچر اور گاڑی کی رینج ختم ہونے کے خدشے سے نمٹنے میں مدد دیتی ہیں۔</p>
<p>پی ای ایچ ویز مختلف ہیں۔ ان کا اندرونی احتراقی انجن بھی براہِ راست گاڑی چلانے میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس لیے انہیں خودکار طور پر بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کے برابر مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔ اس کے بجائے پی ای ایچ ویز کے لیے مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے منسلک کیا جانا چاہیے، جس میں صرف بجلی پر چلنے کی رینج، بیٹری کی گنجائش، ایندھن کا استعمال، اخراج اور پٹرولیم کے استعمال میں ثابت شدہ کمی شامل ہو۔</p>
<p>اس سے مراعات کا ایک زیادہ منطقی ڈھانچہ تشکیل پائے گا، جس کے ذریعے ان ٹیکنالوجیز کو قبل از وقت خارج کیے بغیر پاکستان کی برقی منتقلی کو تیز کیا جا سکے گا جو اس منتقلی میں مدد دے سکتی ہیں۔ مقصد صرف بیٹری یا پلگ کی موجودگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقیقی برق کاری اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی سطح کو انعام دینا ہونا چاہیے۔</p>
<p>چارجنگ انفراسٹرکچر کے چیلنج پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز پر درآمدی ڈیوٹی کم کرکے 1 فیصد کرنے اور بیٹری سوئپنگ انفراسٹرکچر کے لیے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں، لیکن انہیں ایک وسیع تر قومی چارجنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے جس میں شاہراہیں، شہر، کمرشل فلیٹس، رہائشی مقامات اور تیز رفتار چارجنگ کوریڈورز شامل ہوں۔ مناسب چارجنگ انفراسٹرکچر کے بغیر خالص الیکٹرک گاڑیوں کو صارفین کی جانب سے اپنانا محدود رہے گا۔</p>
<p>پالیسی کی فنانسنگ سے متعلق تجویز ایک اور خوش آئند قدم ہے۔ این ای وی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنا اور فنانسنگ کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنا گاڑیوں کی استطاعت میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے اور صارفین کی جانب سے انہیں اپنانے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔ اس طرح کی فنانسنگ سپورٹ حقیقی این ای وی ٹیکنالوجیز پر مرکوز رہنی چاہیے اور اسی طرح برق کاری کی سطح اور ماحولیاتی کارکردگی کے مطابق مختلف کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>وسیع تر پالیسی فریم ورک میں بھی قابلِ قدر خصوصیات موجود ہیں۔ لازمی برآمدی ذمہ داریاں پاکستان کی آٹو موٹیو صنعت کو تقریباً مکمل طور پر مقامی مارکیٹ پر انحصار کرنے کے رجحان سے دور لے جائیں گی۔ کاروں، جیپوں اور ایس یو ویز کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ برآمدات 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداوار کی مالیت کے 12 فیصد تک بڑھائی جائیں، جبکہ اس کے بعد بھی اسی طرح کی شرائط برقرار رہیں گی۔ او ای ایمز اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے پالیسی میں 2026-31 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 4.59 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>برآمدات سے منسلک سپورٹ میکانزم کی تجویز بھی حوصلہ افزا ہے۔ اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو خالص ایف او بی برآمدی مالیت کا 10 فیصد دیا جا سکتا ہے، جبکہ برآمدی مالیت میں سالانہ کم از کم 5 فیصد اضافہ ہونے کی صورت میں مزید 5 فیصد دیا جائے گا۔ اس طرح کی سپورٹ کو حقیقی برآمدی آمدنی اور تھرڈ پارٹی آڈٹس سے منسلک کرنا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔</p>
<p>تاہم، برآمدی مراعات میں بتدریج صرف برآمد کی جانے والی مصنوعات کے حجم کے بجائے اضافی برآمدات، زیادہ مقامی ویلیو ایڈیشن اور عالمی سپلائی چینز میں حقیقی انضمام کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر پاکستان کو اپنی آٹو موٹیو صنعت کو صرف اسمبلنگ پر مبنی صنعت سے ایک مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے تو یہ امر انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>اسی لیے مجوزہ کم از کم مقامی ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے۔ روایتی گاڑیوں کے لیے 2030-31 تک 40 فیصد ایم ڈی وی اے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ این ای ویز کے لیے مجوزہ شرط ابتدائی طور پر 10 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہو جائے گی۔ این ای وی صنعت کو اپنے ابتدائی ترقیاتی مرحلے کے دوران معقول حد تک زیادہ لچک کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم مقامی پیداوار کو بتدریج صرف آخری مرحلے کی اسمبلنگ سے آگے بڑھ کر بیٹریوں، بیٹری مینجمنٹ سسٹمز، الیکٹرک موٹرز، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ سسٹمز، تھرمل مینجمنٹ سسٹمز اور دیگر اسٹریٹجک پرزہ جات تک لے جانا چاہیے۔</p>
<p>مجوزہ ٹیرف میں معقولیت پیدا کرنا ایک اور بڑی ساختی اصلاح ہے۔ پالیسی میں ٹیرف میں نمایاں کمی، بالآخر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے خاتمے اور زیادہ شفاف، قواعد پر مبنی طریقہ کار کے حق میں ایس آر او پر مبنی مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر اسے مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو اس سے مسابقت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت، قیمتوں، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔</p>
<p>تاہم مالیاتی اثرات این ای وی مراعات کو زیادہ بہتر انداز میں ہدف بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پالیسی میں ڈی ایل ٹی ایل اخراجات اور این ای وی سے متعلق ٹیکس مراعات کے مقابلے میں تقریباً 349.9 ارب روپے کی اضافی ایف ای ڈی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 21.1 ارب روپے کا مجموعی متوقع مالیاتی سرپلس بنتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سالانہ مالیاتی پوزیشن 2026-27 میں 46.8 ارب روپے کے سرپلس سے 2030-31 تک 44.1 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہونے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>اس لیے یہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ محدود مالی وسائل ان ٹیکنالوجیز کی جانب مختص کیے جائیں جو برق کاری، ایندھن کی بچت اور اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کو ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار لیکن کارکردگی پر مبنی این ای وی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو الیکٹرک پروپلژن ٹیکنالوجیز کے طور پر مضبوط معاونت ملنی چاہیے، جبکہ پی ای ایچ ویز کو قابلِ پیمائش الیکٹرانک ڈرائیونگ کی صلاحیت، ایندھن کے متبادل استعمال اور اخراج سے متعلق کارکردگی کی بنیاد پر مراعات کے لیے اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ روایتی نان پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو الگ زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>پالیسی میں آر ای ای وی کی ایک واضح تکنیکی تعریف بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر ریگولیٹری اداروں کی جانب سے یکساں طریقے سے اس کی درجہ بندی کی جا سکے۔ درجہ بندی گاڑی میں موجود اندرونی احتراقی انجن کی محض موجودگی کے بجائے گاڑی کے حقیقی پروپلژن ڈھانچے کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔</p>
<p>مجوزہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل، گاڑیوں کے زیادہ مضبوط معیارات، یو این ای سی ای کے معیارات کو اپنانا اور ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کا قیام بھی درست سمت میں اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات پاکستان کے پرزہ جات بنانے والے مینوفیکچررز کو بین الاقوامی سپلائی چینز میں ضم ہونے میں مدد دے سکتے ہیں اور ملک کو برآمدات پر مبنی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے وسیع تر مقصد کی حمایت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کی آٹو موٹیو پالیسی کا مقصد قبل از وقت کسی ایک ٹیکنالوجی کا انتخاب کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد درست سمت کا انتخاب اور برقی کاری کی جانب قابلِ پیمائش پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔</p>
<p>بی ای ویز گاڑی کے ایگزاسٹ سے صفر اخراج کی جانب حتمی راستے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حقیقی آر ای ای ویز موجودہ انفراسٹرکچر اور رینج کی حدود سے نمٹتے ہوئے الیکٹرک پروپلژن فراہم کر سکتی ہیں۔ پی ای ایچ ویز عبوری ٹیکنالوجی کے طور پر کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے مراعات میں برق کاری اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کے لیے ان کے حقیقی کردار کی عکاسی ہونی چاہیے۔</p>
<p>اگر حکومت اس مختلف نوعیت کے حامل این ای وی فریم ورک کو برآمدی ذمہ داریوں، زیادہ مضبوط مقامی پیداوار، شفاف ٹیرف، چارجنگ انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کارکردگی پر مبنی مراعات کے ساتھ یکجا کرتی ہے تو آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 محض ایک صنعتی پالیسی سے بڑھ کر حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو ایک محفوظ اور محدود مقامی اسمبلنگ مارکیٹ سے مسابقتی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز آٹو موٹیو صنعت میں منتقلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291505</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 15:48:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/211545327a4f822.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/211545327a4f822.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا چیلنج صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بطور ایک تعلیمی ٹیکنالوجی کمپنی کی شریک بانی میں اپنا کافی وقت اس بات پر غور کرنے میں صرف کرتی ہوں کہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے عمل کو کس طرح بہتر بنا سکتی ہے۔ تاہم تعلیم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہمارے بچے اے آئی استعمال کریں گے یا نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام انہیں اے آئی کا سوچ سمجھ کر ذمہ داری کے ساتھ اور مساوی بنیادوں پر استعمال سکھائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں حالیہ قومی اجلاس کے دوران تعلیم میں ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا گیا کہ اے آئی تعلیم کو محض زیادہ ڈیجیٹل بنانے کے بجائے اس میں مزید کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟ اس تحقیق میں شریک ایک  تحقیق کار کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ اے آئی کو تعلیم کو زیادہ انسانی، جامع اور مساوی بنانے میں مدد دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کو انسانی اختیار اور تخلیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ خود ایک مقصد بن جانا چاہیے۔ اسکرین ٹائم اور ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے فکرمند والدین کے لیے حل نہ تو اے آئی پر پابندی عائد کرنا ہے اور نہ ہی بچوں کو اس تک غیر محدود رسائی دینا۔ بچوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہیں سیکھنا ہوگا کہ اے آئی سے سوال کیسے کیا جائے، اس کے جوابات کی تصدیق کیسے کی جائے اور اس کی حدود کو کیسے سمجھا جائے۔ ایسی دنیا میں جہاں جوابات فوری طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں، تنقیدی سوچ، بہتر سوالات پوچھنے اور معلومات اور حقیقی سمجھ بوجھ میں فرق کرنے کی صلاحیت مزید اہم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اخلاقیات اور تحفظ کو بعد کی ترجیح نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستان کو عمر کے لحاظ سے موزوں معیارات اور حفاظتی اقدامات پر عالمی سطح پر ابھرتی توجہ کا محتاط جائزہ لینا چاہیے۔ پالیسی سازوں کے لیے یہ چیلنج مزید اہم ہے۔ پاکستان ایسے اے آئی تعلیمی نظام کا متحمل نہیں ہوسکتا جس سے صرف اشرافیہ کے اسکولوں اور خوشحال خاندانوں کو فائدہ پہنچے، کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی عدم مساوات نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق جماعت پنجم کی بنیادی خواندگی اور حساب سے متعلق اشاریوں میں نجی اسکولوں کے طلبہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ سے 10 سے 20 فیصد پوائنٹس بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اب ڈیجیٹل تقسیم کے اے آئی تقسیم میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔ بہتر وسائل رکھنے والے اسکولوں کے بچے اے آئی کے ذریعے کام کرنا، اس پر سوال اٹھانا اور مسائل حل کرنا سیکھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر بچوں کو کم ٹیکنالوجی، کم رہنمائی اور کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی عدم مساوات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے اسے سوچ سمجھ کر اسی مقصد کے تحت ڈیزائن کرنا ہوگا۔ اسی لیے سرمایہ کاری صرف اے آئی ٹولز تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اساتذہ کو اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی تعلیم کو طلبہ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے، فیڈ بیک فراہم کرنے اور طلبہ کی کارکردگی جانچنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اساتذہ ہی حالات و پس منظر کو سمجھتے، طلبہ کی دیکھ بھال کرتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور درست فیصلے کرتے ہیں۔ مستقبل کا مقصد اساتذہ کی جگہ اے آئی لانا نہیں بلکہ انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری مہارتیں اور اعتماد فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے طلبہ کو بھی اس کا بہتر استعمال سکھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے، ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور لاکھوں طلبہ زیادہ قابلِ رسائی اور انفرادی ضروریات کے مطابق تعلیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر ہمیں محدود اور الگ تھلگ تجربات سے آگے بڑھ کر اے آئی خواندگی، اساتذہ کی تربیت، ڈیٹا کے تحفظ، مساوات اور تعلیمی نتائج پر سنجیدہ قومی مکالمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تعلیم کے مستقبل میں اے آئی کے کردار پر بحث کرتے ہوئے ہمیں یہیں سے آغاز کرنا چاہیے۔ ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اے آئی کو کلاس رومز میں کتنی تیزی سے متعارف کرایا جاسکتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس سے فائدہ کسے ہوگا، کون پیچھے رہ سکتا ہے اور کیا ہمارے اساتذہ اس تبدیلی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بطور ایک تعلیمی ٹیکنالوجی کمپنی کی شریک بانی میں اپنا کافی وقت اس بات پر غور کرنے میں صرف کرتی ہوں کہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے عمل کو کس طرح بہتر بنا سکتی ہے۔ تاہم تعلیم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہمارے بچے اے آئی استعمال کریں گے یا نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام انہیں اے آئی کا سوچ سمجھ کر ذمہ داری کے ساتھ اور مساوی بنیادوں پر استعمال سکھائے گا۔</strong></p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں حالیہ قومی اجلاس کے دوران تعلیم میں ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا گیا کہ اے آئی تعلیم کو محض زیادہ ڈیجیٹل بنانے کے بجائے اس میں مزید کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟ اس تحقیق میں شریک ایک  تحقیق کار کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ اے آئی کو تعلیم کو زیادہ انسانی، جامع اور مساوی بنانے میں مدد دینی چاہیے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کو انسانی اختیار اور تخلیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ خود ایک مقصد بن جانا چاہیے۔ اسکرین ٹائم اور ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے فکرمند والدین کے لیے حل نہ تو اے آئی پر پابندی عائد کرنا ہے اور نہ ہی بچوں کو اس تک غیر محدود رسائی دینا۔ بچوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہیں سیکھنا ہوگا کہ اے آئی سے سوال کیسے کیا جائے، اس کے جوابات کی تصدیق کیسے کی جائے اور اس کی حدود کو کیسے سمجھا جائے۔ ایسی دنیا میں جہاں جوابات فوری طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں، تنقیدی سوچ، بہتر سوالات پوچھنے اور معلومات اور حقیقی سمجھ بوجھ میں فرق کرنے کی صلاحیت مزید اہم ہوجائے گی۔</p>
<p>اسی طرح اخلاقیات اور تحفظ کو بعد کی ترجیح نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستان کو عمر کے لحاظ سے موزوں معیارات اور حفاظتی اقدامات پر عالمی سطح پر ابھرتی توجہ کا محتاط جائزہ لینا چاہیے۔ پالیسی سازوں کے لیے یہ چیلنج مزید اہم ہے۔ پاکستان ایسے اے آئی تعلیمی نظام کا متحمل نہیں ہوسکتا جس سے صرف اشرافیہ کے اسکولوں اور خوشحال خاندانوں کو فائدہ پہنچے، کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی عدم مساوات نمایاں ہے۔</p>
<p>یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق جماعت پنجم کی بنیادی خواندگی اور حساب سے متعلق اشاریوں میں نجی اسکولوں کے طلبہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ سے 10 سے 20 فیصد پوائنٹس بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اب ڈیجیٹل تقسیم کے اے آئی تقسیم میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔ بہتر وسائل رکھنے والے اسکولوں کے بچے اے آئی کے ذریعے کام کرنا، اس پر سوال اٹھانا اور مسائل حل کرنا سیکھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر بچوں کو کم ٹیکنالوجی، کم رہنمائی اور کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔</p>
<p>اے آئی عدم مساوات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے اسے سوچ سمجھ کر اسی مقصد کے تحت ڈیزائن کرنا ہوگا۔ اسی لیے سرمایہ کاری صرف اے آئی ٹولز تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>اساتذہ کو اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی تعلیم کو طلبہ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے، فیڈ بیک فراہم کرنے اور طلبہ کی کارکردگی جانچنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اساتذہ ہی حالات و پس منظر کو سمجھتے، طلبہ کی دیکھ بھال کرتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور درست فیصلے کرتے ہیں۔ مستقبل کا مقصد اساتذہ کی جگہ اے آئی لانا نہیں بلکہ انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری مہارتیں اور اعتماد فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے طلبہ کو بھی اس کا بہتر استعمال سکھا سکیں۔</p>
<p>پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے، ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور لاکھوں طلبہ زیادہ قابلِ رسائی اور انفرادی ضروریات کے مطابق تعلیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر ہمیں محدود اور الگ تھلگ تجربات سے آگے بڑھ کر اے آئی خواندگی، اساتذہ کی تربیت، ڈیٹا کے تحفظ، مساوات اور تعلیمی نتائج پر سنجیدہ قومی مکالمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان میں تعلیم کے مستقبل میں اے آئی کے کردار پر بحث کرتے ہوئے ہمیں یہیں سے آغاز کرنا چاہیے۔ ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اے آئی کو کلاس رومز میں کتنی تیزی سے متعارف کرایا جاسکتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس سے فائدہ کسے ہوگا، کون پیچھے رہ سکتا ہے اور کیا ہمارے اساتذہ اس تبدیلی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p><em>یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291075</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Sep 2026 13:20:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انعم صادق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/101257545dcf356.webp" type="image/webp" medium="image" height="959" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/101257545dcf356.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روایتی پی ایس پیز سے آگے: مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ گیٹ ویز اور مرچنٹ پلیٹ فارمز کا فروغ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290844/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیمنٹ گیٹ ویز اور سروس فراہم کرنے والے ادارے بنیادی طور پر لین دین پراسیس کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے مگر آج مارکیٹ میں کہیں زیادہ خودکاری، شفافیت، رفتار، ذہانت اور بڑے پیمانے پر آپریشنز چلانے کی صلاحیت کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فن ٹیک کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال زیادہ تر صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے پر مرکوز رہا ہے، تاہم سب سے بڑے مواقع میں سے ایک پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (پی ایس پیز) کے آپریشنز میں موجود ہے۔ بہت سے پلیٹ فارمز اب بھی صارفین اور کاروباری اداروں کی رجسٹریشن، لین دین کی مطابقت، ادائیگیوں کی تکمیل، ادائیگی کے راستوں کے تعین، شراکت داروں کے انتظام اور معاونت جیسے کاموں کے لیے دستی طریقہ کار پر انحصار کرتے ہیں، جس سے غیر ضروری اخراجات اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس پیز کا اگلا مرحلہ محض بہتر ادائیگی پراسیسنگ نہیں بلکہ آپریشنز کو ذہانت کے ذریعے خودکار بنانا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز کام کے طریقہ کار کو ہموار، کارکردگی کو بہتر، نظام کی فعالیت کو مؤثر اور اخراجات کو کم کرسکتے ہیں۔ اس کے ذریعے پی ایس پیز آپریشنل اخراجات میں اسی تناسب سے اضافہ کیے بغیر تاجروں، شراکت داروں اور آمدنی میں وسعت لاسکتے ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روایتی پی ایس پیز اب کافی کیوں نہیں رہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی پی ایس پیز اور پیمنٹ گیٹ ویز بنیادی طور پر ادائیگیاں قبول کرنے کے لیے بنائے گئے تھے مگر اب تاجر متعدد ادائیگی کے طریقوں، مختلف پی ایس پیز، ایکوائررز اور مختلف چینلز کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے پی ایس پیز اب بھی دستی طریقہ کار اور ایک دوسرے سے منسلک نہ ہونے والے نظام کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لین دین کی مطابقت میں تاخیر، متعدد ڈیش بورڈز، سیٹلمنٹس سے متعلق محدود معلومات، رپورٹنگ میں تاخیر، انوائسز کی دستی تیاری، لین دین کی محدود تلاش، معاونت کے زیادہ اخراجات اور شراکت داروں اور آئی ایس اوز کے کمزور انتظام جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی چیلنج یہ ہے کہ لاکھوں تاجر اب بھی ایسے فرسودہ پیمنٹ پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں جو جدید ادائیگیوں کے نظام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیے گئے۔ مصنوعی ذہانت دہرائے جانے والے کاموں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے آپریشنز کے ہر مرحلے کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ پلیٹ فارمز کا فروغ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت ادائیگیوں کی صنعت کو تبدیل کر رہی ہے۔ زیادہ تر کمپنیاں اب تک صرف فراڈ کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرتی رہی ہیں، تاہم سب سے بڑا موقع مصنوعی ذہانت کے ذریعے ادائیگیوں کے آپریشنز کو خودکار بنانے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کا پی ایس پی صرف لین دین پراسیس نہیں کرے گا بلکہ کاروباری اداروں کو فوری طور پر پیمنٹ لنکس بنانے، سادہ زبان میں لین دین تلاش کرنے، سیٹلمنٹس کی خودکار مطابقت، تاجروں کو کی جانے والی ادائیگیوں کی نگرانی، شراکت داروں کی کارکردگی کا انتظام، تاخیر اور نقدی کے بہاؤ سے متعلق مسائل کی پیش گوئی، ادائیگیوں کی منظوری کی شرح بہتر بنانے، رپورٹس خودکار طور پر تیار کرنے اور تاجروں کے سوالات کے فوری جواب دینے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مرچنٹ اور پیمنٹ آپریشنز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر عام زبان میں ہدایات دے کر پیمنٹ لنکس بنا سکیں گے۔ نظام خودکار طور پر رقم، تفصیل، صارف کی معلومات، میعاد ختم ہونے کی تاریخ، کیو آر کوڈ (اگر ضروری ہو)، ادائیگی کے متعدد طریقے، جن میں کارڈ، والٹ، بینک، پی او ایس اور ”اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں“ (بی این پی ایل) شامل ہیں، کے ساتھ محفوظ لنکس تیار کرے گا اور ادائیگی کی صورتحال کی ریئل ٹائم نگرانی بھی ممکن ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر فلٹرز استعمال کرنے کے بجائے سادہ ہدایات کے ذریعے لین دین تلاش کرسکیں گے، مثلاً زیادہ مالیت کے ناکام لین دین، مختلف علاقوں میں ہونے والی ریفنڈز، کارڈ نیٹ ورک کی سرگرمی یا مخصوص مدت کے دوران ہونے والے چارج بیکس کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ریکنسیلی ایشن اور سیٹلمنٹ مینجمنٹ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے لین دین، سیٹلمنٹ، ادائیگیوں، ریفنڈز، چارج بیکس اور بینکنگ ڈیٹا کی وجہ سے پی ایس پیز اور تاجروں کے لیے ریکنسیلی ایشن اب بھی ایک بڑا آپریشنل چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت ان تمام ذرائع کے ڈیٹا کو خودکار طور پر باہم ملاتی ہے، جس سے عملے کے ذریعے کام کم ہوتا، درستگی بہتر ہوتی، سیٹلمنٹ کی تصدیق تیز ہوتی، بے ضابطگیوں کی جلد نشاندہی ہوتی ہے اور بیلنسز اور مالیاتی آپریشنز کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والی سیٹلمنٹ مانیٹرنگ کے ذریعے تاجر فوری طور پر جان سکتے ہیں کہ انہیں کی جانے والی ادائیگی کی کیا صورتحال ہے، کون سی سیٹلمنٹ غائب ہے، کون سے لین دین زیرِ التوا ہیں اور کتنی فیس منہا کی گئی ہے، بغیر اس کے کہ انہیں رپورٹس کا دستی جائزہ لینا پڑے یا معاونت کے لیے رابطہ کرنا پڑے۔ اس سے شفافیت میں اضافہ، مسائل کے حل میں تیزی اور نقدی کے بہاؤ پر بہتر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والا پیمنٹ آرکیسٹریشن&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے تاجر متعدد بینکوں، ایکوائررز، پی ایس پیز، والٹس اور ”اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں“(بی این پی ایل) فراہم کرنے والوں کے ذریعے کام کرتے ہیں، اس لیے پیمنٹ آرکیسٹریشن کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ ہر انضمام کو الگ الگ منظم کرنے کے بجائے آرکیسٹریشن پلیٹ فارمز ادائیگیوں کے تمام نظام کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر لے آتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ریئل ٹائم میں ادائیگی کے راستے کا بہترین انتخاب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کارکردگی، لاگت اور کامیاب لین دین کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے موزوں ترین فراہم کنندہ کا انتخاب کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کی منظوری کی شرح میں اضافہ، لین دین کے اخراجات میں کمی، ناکام ادائیگیوں میں کمی، صارفین کے بہتر تجربے اور کسی ایک فراہم کنندہ پر انحصار میں کمی واقع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والی معاونت اور رپورٹنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے تاجر معمول کے سوالات، مثلاً لین دین مسترد ہونے، سیٹلمنٹ میں لگنے والے وقت، ریفنڈز اور ماہانہ فیس کی تفصیلات کے لیے معاونت فراہم کرنے والی ٹیموں پر انحصار کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نظام بغیر کسی دستی مداخلت کے ریئل ٹائم اور متعلقہ معلومات فراہم کرتے ہوئے ان درخواستوں کو فوری طور پر حل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت لین دین کے نتائج، سیٹلمنٹ میں تاخیر، کاروباری نمو، موسمی فروخت کے رجحانات، تاجروں کے کاروبار چھوڑنے کے خطرے اور نقدی کی کمی سمیت دیگر امور کی بھی پیش گوئی کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شراکت داروں اور آئی ایس او مینجمنٹ کے لیے مصنوعی ذہانت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیمنٹ کمپنیاں آئی ایس او ایجنٹس، ریفرل پارٹنرز، سیلز ٹیموں، ری سیلرز اور تقسیم کار نیٹ ورکس کے ذریعے کام کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں تعلقات کے انتظام کا نظام بکھرا ہوا اور آپریشنل اخراجات زیادہ ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت شراکت داروں کی مرکزی سطح پر نگرانی، کمیشن کی پیش گوئی، تاجروں کی کارکردگی اور معیار کی درجہ بندی، غیر فعال ایجنٹس کی نشاندہی، درخواستوں میں خطرات کی شناخت اور مختلف شراکت دار چینلز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے تجزیے میں مدد فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیٹا پرائیویسی، سکیورٹی اور پیمنٹ پلیٹ فارمز کا مستقبل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ پلیٹ فارمز کو صارفین کی معلومات، لین دین، تاجروں کا ریکارڈ، سیٹلمنٹس اور آمدنی سے متعلق ڈیٹا سمیت حساس معلومات کا تحفظ مضبوط انکرپشن، رسائی کے مؤثر نظام اور مسلسل نگرانی کے ذریعے یقینی بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس پیز مستقبل میں صرف لین دین پراسیس کرنے والے اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مکمل کاروباری آپریٹنگ سسٹمز میں تبدیل ہوجائیں گے۔ مصنوعی ذہانت کو ابتدائی مرحلے میں اپنانے والے فراہم کنندگان کو آپریشنز اور مسابقت کے میدان میں واضح برتری حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیمنٹ سروس پرووائیڈرز کا مستقبل سادہ لین دین پراسیسنگ سے آگے بڑھ کر ذہین اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ مصنوعی ذہانت ریکنسیلی ایشن، سیٹلمنٹ کی نگرانی، پیمنٹ آرکیسٹریشن، مرچنٹ سپورٹ، رپورٹنگ، لین دین کے تجزیے اور شراکت داروں کے انتظام کو خودکار بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صلاحیتیں پی ایس پیز کو دستی کام کم کرنے، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، کامیاب ادائیگیوں کی شرح بڑھانے اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کیے بغیر کاروبار کو وسعت دینے میں مدد دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس مضمون کا بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیمنٹ گیٹ ویز اور سروس فراہم کرنے والے ادارے بنیادی طور پر لین دین پراسیس کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے مگر آج مارکیٹ میں کہیں زیادہ خودکاری، شفافیت، رفتار، ذہانت اور بڑے پیمانے پر آپریشنز چلانے کی صلاحیت کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>فن ٹیک کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال زیادہ تر صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے پر مرکوز رہا ہے، تاہم سب سے بڑے مواقع میں سے ایک پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (پی ایس پیز) کے آپریشنز میں موجود ہے۔ بہت سے پلیٹ فارمز اب بھی صارفین اور کاروباری اداروں کی رجسٹریشن، لین دین کی مطابقت، ادائیگیوں کی تکمیل، ادائیگی کے راستوں کے تعین، شراکت داروں کے انتظام اور معاونت جیسے کاموں کے لیے دستی طریقہ کار پر انحصار کرتے ہیں، جس سے غیر ضروری اخراجات اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔</p>
<p>پی ایس پیز کا اگلا مرحلہ محض بہتر ادائیگی پراسیسنگ نہیں بلکہ آپریشنز کو ذہانت کے ذریعے خودکار بنانا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز کام کے طریقہ کار کو ہموار، کارکردگی کو بہتر، نظام کی فعالیت کو مؤثر اور اخراجات کو کم کرسکتے ہیں۔ اس کے ذریعے پی ایس پیز آپریشنل اخراجات میں اسی تناسب سے اضافہ کیے بغیر تاجروں، شراکت داروں اور آمدنی میں وسعت لاسکتے ہیں</p>
<p><strong>روایتی پی ایس پیز اب کافی کیوں نہیں رہے؟</strong></p>
<p>روایتی پی ایس پیز اور پیمنٹ گیٹ ویز بنیادی طور پر ادائیگیاں قبول کرنے کے لیے بنائے گئے تھے مگر اب تاجر متعدد ادائیگی کے طریقوں، مختلف پی ایس پیز، ایکوائررز اور مختلف چینلز کا استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>بہت سے پی ایس پیز اب بھی دستی طریقہ کار اور ایک دوسرے سے منسلک نہ ہونے والے نظام کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لین دین کی مطابقت میں تاخیر، متعدد ڈیش بورڈز، سیٹلمنٹس سے متعلق محدود معلومات، رپورٹنگ میں تاخیر، انوائسز کی دستی تیاری، لین دین کی محدود تلاش، معاونت کے زیادہ اخراجات اور شراکت داروں اور آئی ایس اوز کے کمزور انتظام جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>بنیادی چیلنج یہ ہے کہ لاکھوں تاجر اب بھی ایسے فرسودہ پیمنٹ پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں جو جدید ادائیگیوں کے نظام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیے گئے۔ مصنوعی ذہانت دہرائے جانے والے کاموں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے آپریشنز کے ہر مرحلے کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ پلیٹ فارمز کا فروغ</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت ادائیگیوں کی صنعت کو تبدیل کر رہی ہے۔ زیادہ تر کمپنیاں اب تک صرف فراڈ کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرتی رہی ہیں، تاہم سب سے بڑا موقع مصنوعی ذہانت کے ذریعے ادائیگیوں کے آپریشنز کو خودکار بنانے میں ہے۔</p>
<p>مستقبل کا پی ایس پی صرف لین دین پراسیس نہیں کرے گا بلکہ کاروباری اداروں کو فوری طور پر پیمنٹ لنکس بنانے، سادہ زبان میں لین دین تلاش کرنے، سیٹلمنٹس کی خودکار مطابقت، تاجروں کو کی جانے والی ادائیگیوں کی نگرانی، شراکت داروں کی کارکردگی کا انتظام، تاخیر اور نقدی کے بہاؤ سے متعلق مسائل کی پیش گوئی، ادائیگیوں کی منظوری کی شرح بہتر بنانے، رپورٹس خودکار طور پر تیار کرنے اور تاجروں کے سوالات کے فوری جواب دینے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت سے چلنے والے مرچنٹ اور پیمنٹ آپریشنز</strong></p>
<p>تاجر عام زبان میں ہدایات دے کر پیمنٹ لنکس بنا سکیں گے۔ نظام خودکار طور پر رقم، تفصیل، صارف کی معلومات، میعاد ختم ہونے کی تاریخ، کیو آر کوڈ (اگر ضروری ہو)، ادائیگی کے متعدد طریقے، جن میں کارڈ، والٹ، بینک، پی او ایس اور ”اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں“ (بی این پی ایل) شامل ہیں، کے ساتھ محفوظ لنکس تیار کرے گا اور ادائیگی کی صورتحال کی ریئل ٹائم نگرانی بھی ممکن ہوگی۔</p>
<p>تاجر فلٹرز استعمال کرنے کے بجائے سادہ ہدایات کے ذریعے لین دین تلاش کرسکیں گے، مثلاً زیادہ مالیت کے ناکام لین دین، مختلف علاقوں میں ہونے والی ریفنڈز، کارڈ نیٹ ورک کی سرگرمی یا مخصوص مدت کے دوران ہونے والے چارج بیکس کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں گے۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ریکنسیلی ایشن اور سیٹلمنٹ مینجمنٹ</strong></p>
<p>مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے لین دین، سیٹلمنٹ، ادائیگیوں، ریفنڈز، چارج بیکس اور بینکنگ ڈیٹا کی وجہ سے پی ایس پیز اور تاجروں کے لیے ریکنسیلی ایشن اب بھی ایک بڑا آپریشنل چیلنج ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت ان تمام ذرائع کے ڈیٹا کو خودکار طور پر باہم ملاتی ہے، جس سے عملے کے ذریعے کام کم ہوتا، درستگی بہتر ہوتی، سیٹلمنٹ کی تصدیق تیز ہوتی، بے ضابطگیوں کی جلد نشاندہی ہوتی ہے اور بیلنسز اور مالیاتی آپریشنز کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل ہوتی ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت سے چلنے والی سیٹلمنٹ مانیٹرنگ کے ذریعے تاجر فوری طور پر جان سکتے ہیں کہ انہیں کی جانے والی ادائیگی کی کیا صورتحال ہے، کون سی سیٹلمنٹ غائب ہے، کون سے لین دین زیرِ التوا ہیں اور کتنی فیس منہا کی گئی ہے، بغیر اس کے کہ انہیں رپورٹس کا دستی جائزہ لینا پڑے یا معاونت کے لیے رابطہ کرنا پڑے۔ اس سے شفافیت میں اضافہ، مسائل کے حل میں تیزی اور نقدی کے بہاؤ پر بہتر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت سے چلنے والا پیمنٹ آرکیسٹریشن</strong></p>
<p>بڑے تاجر متعدد بینکوں، ایکوائررز، پی ایس پیز، والٹس اور ”اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں“(بی این پی ایل) فراہم کرنے والوں کے ذریعے کام کرتے ہیں، اس لیے پیمنٹ آرکیسٹریشن کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ ہر انضمام کو الگ الگ منظم کرنے کے بجائے آرکیسٹریشن پلیٹ فارمز ادائیگیوں کے تمام نظام کو ایک مرکزی پلیٹ فارم پر لے آتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ریئل ٹائم میں ادائیگی کے راستے کا بہترین انتخاب کرتی ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کارکردگی، لاگت اور کامیاب لین دین کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے موزوں ترین فراہم کنندہ کا انتخاب کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کی منظوری کی شرح میں اضافہ، لین دین کے اخراجات میں کمی، ناکام ادائیگیوں میں کمی، صارفین کے بہتر تجربے اور کسی ایک فراہم کنندہ پر انحصار میں کمی واقع ہوتی ہے۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت سے چلنے والی معاونت اور رپورٹنگ</strong></p>
<p>بہت سے تاجر معمول کے سوالات، مثلاً لین دین مسترد ہونے، سیٹلمنٹ میں لگنے والے وقت، ریفنڈز اور ماہانہ فیس کی تفصیلات کے لیے معاونت فراہم کرنے والی ٹیموں پر انحصار کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نظام بغیر کسی دستی مداخلت کے ریئل ٹائم اور متعلقہ معلومات فراہم کرتے ہوئے ان درخواستوں کو فوری طور پر حل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت لین دین کے نتائج، سیٹلمنٹ میں تاخیر، کاروباری نمو، موسمی فروخت کے رجحانات، تاجروں کے کاروبار چھوڑنے کے خطرے اور نقدی کی کمی سمیت دیگر امور کی بھی پیش گوئی کرسکتی ہے۔</p>
<p><strong>شراکت داروں اور آئی ایس او مینجمنٹ کے لیے مصنوعی ذہانت</strong></p>
<p>پیمنٹ کمپنیاں آئی ایس او ایجنٹس، ریفرل پارٹنرز، سیلز ٹیموں، ری سیلرز اور تقسیم کار نیٹ ورکس کے ذریعے کام کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں تعلقات کے انتظام کا نظام بکھرا ہوا اور آپریشنل اخراجات زیادہ ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت شراکت داروں کی مرکزی سطح پر نگرانی، کمیشن کی پیش گوئی، تاجروں کی کارکردگی اور معیار کی درجہ بندی، غیر فعال ایجنٹس کی نشاندہی، درخواستوں میں خطرات کی شناخت اور مختلف شراکت دار چینلز سے حاصل ہونے والی آمدنی کے تجزیے میں مدد فراہم کرتی ہے۔</p>
<p><strong>ڈیٹا پرائیویسی، سکیورٹی اور پیمنٹ پلیٹ فارمز کا مستقبل</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ پلیٹ فارمز کو صارفین کی معلومات، لین دین، تاجروں کا ریکارڈ، سیٹلمنٹس اور آمدنی سے متعلق ڈیٹا سمیت حساس معلومات کا تحفظ مضبوط انکرپشن، رسائی کے مؤثر نظام اور مسلسل نگرانی کے ذریعے یقینی بنانا ہوگا۔</p>
<p>پی ایس پیز مستقبل میں صرف لین دین پراسیس کرنے والے اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مکمل کاروباری آپریٹنگ سسٹمز میں تبدیل ہوجائیں گے۔ مصنوعی ذہانت کو ابتدائی مرحلے میں اپنانے والے فراہم کنندگان کو آپریشنز اور مسابقت کے میدان میں واضح برتری حاصل ہوگی۔</p>
<p>پیمنٹ سروس پرووائیڈرز کا مستقبل سادہ لین دین پراسیسنگ سے آگے بڑھ کر ذہین اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پیمنٹ پلیٹ فارمز کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ مصنوعی ذہانت ریکنسیلی ایشن، سیٹلمنٹ کی نگرانی، پیمنٹ آرکیسٹریشن، مرچنٹ سپورٹ، رپورٹنگ، لین دین کے تجزیے اور شراکت داروں کے انتظام کو خودکار بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔</p>
<p>یہ صلاحیتیں پی ایس پیز کو دستی کام کم کرنے، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، کامیاب ادائیگیوں کی شرح بڑھانے اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کیے بغیر کاروبار کو وسعت دینے میں مدد دیتی ہیں۔</p>
<p><strong>اس مضمون کا بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290844</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Sep 2026 14:37:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید احسن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/0414034808d3109.webp" type="image/webp" medium="image" height="1182" width="1330">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/0414034808d3109.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل اسلام آباد میں، پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کا نیا باب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290781/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاکھوں پاکستانیوں کے لیے گوگل پہلے ہی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم امتحانی نتائج، کھانوں کی ترکیبوں، کاروباری آئیڈیاز، ملازمت کے مواقع اور ان سوالات کے جوابات کے لیے گوگل سے رجوع کرتے ہیں جنہیں شاید ہم کسی اور سے پوچھنے میں ہچکچائیں۔ تاہم پاکستان، بالخصوص اسلام آباد میں گوگل کی بڑھتی ہوئی عملی موجودگی اس سے کہیں مختلف حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ محض ایک ایسا پلیٹ فارم نہیں رہا جسے پاکستانی استعمال کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ملک کے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی منظرنامے کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کی موجودگی کو صرف ایک کارپوریٹ پیش رفت کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کے امتحان کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں عزائم کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عزائم کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں سے پاکستان اپنی نوجوان آبادی، ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور ڈیجیٹل مستقبل کے بارے میں پُرجوش انداز میں بات کرتا آیا ہے۔ ہم زرمبادلہ کمانے والے فری لانسرز، توجہ حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے والے نوجوان ڈویلپرز کو سراہتے رہے ہیں۔ لیکن صرف جوش و خروش سے ٹیکنالوجی کی معیشت تشکیل نہیں پاتی۔ باصلاحیت افراد کو ایک ایکو سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایکو سسٹم کے لیے ادارے، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچہ، پالیسی کا استحکام اور عالمی نیٹ ورکس تک رسائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں گوگل کی موجودگی اہم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خواہ کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو، آخرکار صرف ایک عمارت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اندر کیا ہوتا ہے اور اس کی موجودگی کے نتیجے میں کیا کچھ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گوگل کی موجودگی کسی نوجوان پاکستانی کو عالمی سطح پر قابلِ قبول ڈیجیٹل مہارت حاصل کرنے میں مدد دے، کسی چھوٹے کاروبار کو مصنوعی ذہانت اپنانے کے قابل بنائے، کسی مقامی کاروباری شخصیت کو عالمی منڈیوں سے جوڑ دے یا کسی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی کو پاکستان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ترغیب دے تو اس کی اہمیت محض ایک فزیکل دفتر سے کہیں بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں زیر تعلیم کسی یونیورسٹی طالب علم کے لیے یہ تصور میں تبدیلی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اب شاید ایسی دور دراز ٹیکنالوجی دکھائی نہ دے جو کہیں سلیکن ویلی میں تیار کی جاتی ہے۔ یہ ایسی ٹیکنالوجی بن سکتی ہے جسے پاکستانی طلبہ سیکھیں، پاکستانی محققین اس پر تحقیق کریں اور پاکستانی کاروباری افراد اسے کاروبار میں تبدیل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہنیت میں یہ تبدیلی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں عزائم کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عزائم کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا گوگل کی موجودگی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک اور ایسی ٹرافی نہیں بننا چاہیے جس کی ہم تصاویر بنائیں، جشن منائیں اور پھر بالآخر اسے بھول جائیں۔ اسے گہری تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گوگل کے اقدامات نے اقتصادی مواقع، ڈیجیٹل مہارتوں، آن لائن تحفظ اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کو اجاگر کیا ہے۔ یہ ترجیحات ان چیلنجز سے گہری مطابقت رکھتی ہیں جن سے پاکستان کو ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے نمٹنا ہوگا۔ ملک کو متعلقہ مہارتوں کے حامل کارکنوں، نئی ٹیکنالوجیز اپنانے کی صلاحیت رکھنے والے کاروباروں اور ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو محض جدت پر گفتگو کرنے کے بجائے اس کی حمایت کے لیے تیار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ٹیکنالوجی تک رسائی اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت میں ایک اہم فرق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کسی نوجوان کے پاس اسمارٹ فون ہو لیکن ڈیجیٹل مہارتیں نہ ہوں۔ کوئی یونیورسٹی کمپیوٹنگ کی ڈگری تو فراہم کرتی ہو لیکن حقیقی دنیا کی ٹیکنالوجیز سے طلبہ کو محدود تجربہ حاصل ہو۔ کسی اسٹارٹ اپ کے پاس ایک امید افزا آئیڈیا ہو لیکن اسے سرمایہ کاری، رہنمائی یا عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ کوئی کاروبار مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہو لیکن اسے اپنانے کے لیے اس کے پاس کوئی عملی لائحہ عمل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا چیلنج محض پاکستان میں ٹیکنالوجی لانا نہیں ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک زیادہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان میں گوگل کی موجودگی سے پاکستان کیا کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب صرف گوگل پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹیوں کو صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داریاں قائم کرنا ہوں گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ ایسی مہارتوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوں جن کی آجروں کو حقیقی طور پر ضرورت ہے۔ تحقیقی اداروں کو عملی مسائل پر کام کرنے کے لیے زیادہ مواقع درکار ہیں۔ کاروباری اداروں کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ساتھ تجربات کرنے کے لیے زیادہ آمادگی دکھانا ہوگی۔ اسٹارٹ اپس کو سرمایہ، رہنمائی اور منڈیوں تک آسان رسائی درکار ہے۔ اور پالیسی سازوں کو طویل مدتی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے ضروری پالیسی تسلسل اور ریگولیٹری اعتماد فراہم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اس تبدیلی کے لیے خاص طور پر موزوں مقام رکھتا ہے۔ یہاں یونیورسٹیاں، حکومتی ادارے، ٹیکنالوجی کمپنیاں، محققین، اسٹارٹ اپس اور نوجوان پیشہ ور افراد کی ایک بڑھتی ہوئی کمیونٹی موجود ہے۔ اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک جیسے منصوبے، جن کی توجہ آئی ٹی جدت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، تحقیق اور انکیوبیشن پر ہے، ممکنہ طور پر ایک بہت بڑے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے اہم حصے بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن صلاحیت کبھی پاکستان کا مسئلہ نہیں رہی۔ مسئلہ عمل درآمد رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس سے پہلے بھی بڑے عزائم پر مبنی اعلانات دیکھ چکے ہیں۔ ہم پاکستان کو ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کے بارے میں بار بار کیے جانے والے وعدے سن چکے ہیں۔ ہم نے اقدامات شروع کیے، پروگرام قائم کیے اور سنگ میل عبور کرنے کا جشن منایا۔ اصل امتحان ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اعلان کے بعد کیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا گوگل کی موجودگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک اور ایسی ٹرافی نہیں بننا چاہیے جس کی ہم تصاویر بنائیں، جشن منائیں اور بالآخر اسے بھول جائیں۔ اسے گہری تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ موقع اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی معیشت ایک گہری تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اس انداز کو تبدیل کررہی ہے کہ کاروبار کیسے چلتے ہیں، لوگ کیسے کام کرتے ہیں اور ممالک کس طرح ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو اس تبدیلی میں حصہ لینے کے لیے ضروری مہارتیں، بنیادی ڈھانچہ اور ادارے تیار کریں گے، اس سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کا غیر متناسب طور پر بڑا حصہ حاصل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس تبدیلی کو کنارے پر بیٹھ کر دیکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری نوجوان آبادی ایک غیر معمولی فائدہ بن سکتی ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب نوجوانوں کو مستقبل کی معیشت میں حصہ لینے کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کیا جائے۔ ڈیجیٹل خواندگی کو بنیادی کمپیوٹر استعمال کرنے کی حد سے آگے لے جانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل کاروباری صلاحیتوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کا بامعنی حصہ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصول کاروباری اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ٹیکنالوجی کی کہانی صرف بیرون ملک صارفین کو خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ فری لانسنگ اہم ہے، لیکن اس سے بڑا ہدف ویلیو چین میں آگے بڑھنا ہونا چاہیے؛ یعنی انفرادی خدمات فروخت کرنے سے آگے بڑھ کر پاکستان سے مصنوعات، دانشورانہ ملکیت، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے حل تیار کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ مقام ہے جہاں گوگل کی موجودگی کئی گنا اثر پیدا کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کوئی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کسی ملک میں اپنی موجودگی کو گہرا کرتی ہے تو دوسری کمپنیاں بھی اس کا نوٹس لیتی ہیں۔ سرمایہ کار باصلاحیت افراد کے ذخیرے کا جائزہ لیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں مارکیٹ کا جائزہ لیتی ہیں۔ کاروباری افراد نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ یونیورسٹیاں نئی شراکت داریوں پر غور کرتی ہیں۔ یوں ایکو سسٹم کے مختلف حصے آپس میں جڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ کئی گنا اثر خود بخود پیدا نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی کمپنیاں صرف ہماری صلاحیتوں پر نظر نہیں رکھ رہیں۔ وہ ہماری پالیسیوں، بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری، ٹیکس نظام، ڈیٹا سے متعلق ضوابط، کاروبار کرنے میں آسانی اور ایک قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری کا ماحول برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی دیکھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان چاہتا ہے کہ گوگل کی موجودگی کسی بڑی پیش رفت کا آغاز بنے تو اسے ملک کو ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے مسلسل زیادہ پرکشش بنانا ہوگا، صرف ایک کمپنی کے لیے نہیں بلکہ اگلی 10، 50 اور 100 کمپنیوں کے لیے بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے گوگل کی آمد کو ہمیں اپنے لیے ایک چیلنج کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہماری یونیورسٹیاں وہ انجینئرز اور محققین تیار کرسکتی ہیں جن کی ڈیجیٹل معیشت کو ضرورت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہمارے پالیسی ساز ایسے ضوابط تشکیل دے سکتے ہیں جو شہریوں کا تحفظ بھی کریں اور جدت کو گھٹنے نہ ٹیکنے دیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہمارے کاروباری ادارے مصنوعی ذہانت اپنانے کے لیے کافی تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہمارے اسٹارٹ اپس محض بقا کی سطح سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مقابلہ کرسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید سب سے اہم بات، کیا پاکستان ایسا ماحول پیدا کرسکتا ہے جہاں باصلاحیت نوجوان یہاں اپنا مستقبل تعمیر کرنا ایک پرکشش انتخاب سمجھیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات گوگل سے کہیں بڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان کی معاشی سمت سے متعلق سوالات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اور گوگل نے پہلے ہی ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان میں پہلی کورم بک اسمبلی لائن کے قیام جیسی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے کیونکہ ان کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کو مہارتوں، مینوفیکچرنگ اور وسیع تر معاشی سرگرمیوں سے جوڑا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کامیابی کا اصل پیمانہ کئی سال بعد سامنے آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے اس پاکستانی اسٹارٹ اپ سے ناپا جائے گا جو عالمی منڈیوں تک پہنچے گا۔ اس یونیورسٹی کی لیبارٹری سے ناپا جائے گا جو تجارتی اعتبار سے قیمتی تحقیق پیش کرے گی۔ اس نوجوان ڈویلپر سے ناپا جائے گا جو اسلام آباد سے ایک عالمی مصنوعات تیار کرے گا۔ اس چھوٹے کاروبار سے ناپا جائے گا جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت بہتر بنائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کمپنی سے ناپا جائے گا جو پاکستان کو اپنے علاقائی مرکز کے طور پر منتخب کرے گی۔ اور اس پاکستانی پیشہ ور فرد سے ناپا جائے گا جو یہ دریافت کرے گا کہ عالمی مواقع حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے کئی دہائیاں یہ کہتے ہوئے گزار دی ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ ڈیجیٹل معیشت ہمیں آخرکار یہ ثابت کرنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، ہاں، ہمیں اسلام آباد میں گوگل کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ہمیں صرف تالیاں بجانے کے بجائے بلند عزائم کے ساتھ اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ گوگل پاکستان کے لیے کیا کرسکتا ہے، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ ایک دفتر ایک دن میں قائم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ٹیکنالوجی کا ایکو سسٹم تشکیل دینے میں برسوں لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کا حتمی پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ اسلام آباد میں گوگل کا دفتر موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کیا ایک دن کوئی پاکستانی کاروباری شخصیت یہاں اگلا گوگل قائم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاکھوں پاکستانیوں کے لیے گوگل پہلے ہی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم امتحانی نتائج، کھانوں کی ترکیبوں، کاروباری آئیڈیاز، ملازمت کے مواقع اور ان سوالات کے جوابات کے لیے گوگل سے رجوع کرتے ہیں جنہیں شاید ہم کسی اور سے پوچھنے میں ہچکچائیں۔ تاہم پاکستان، بالخصوص اسلام آباد میں گوگل کی بڑھتی ہوئی عملی موجودگی اس سے کہیں مختلف حیثیت رکھتی ہے۔</strong></p>
<p>اب یہ محض ایک ایسا پلیٹ فارم نہیں رہا جسے پاکستانی استعمال کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ملک کے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی منظرنامے کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کی موجودگی کو صرف ایک کارپوریٹ پیش رفت کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کے امتحان کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان میں عزائم کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عزائم کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہو۔</p>
</blockquote>
<p>کئی برسوں سے پاکستان اپنی نوجوان آبادی، ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور ڈیجیٹل مستقبل کے بارے میں پُرجوش انداز میں بات کرتا آیا ہے۔ ہم زرمبادلہ کمانے والے فری لانسرز، توجہ حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے والے نوجوان ڈویلپرز کو سراہتے رہے ہیں۔ لیکن صرف جوش و خروش سے ٹیکنالوجی کی معیشت تشکیل نہیں پاتی۔ باصلاحیت افراد کو ایک ایکو سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایکو سسٹم کے لیے ادارے، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچہ، پالیسی کا استحکام اور عالمی نیٹ ورکس تک رسائی ضروری ہے۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں گوگل کی موجودگی اہم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>دفتر خواہ کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو، آخرکار صرف ایک عمارت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اندر کیا ہوتا ہے اور اس کی موجودگی کے نتیجے میں کیا کچھ ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر گوگل کی موجودگی کسی نوجوان پاکستانی کو عالمی سطح پر قابلِ قبول ڈیجیٹل مہارت حاصل کرنے میں مدد دے، کسی چھوٹے کاروبار کو مصنوعی ذہانت اپنانے کے قابل بنائے، کسی مقامی کاروباری شخصیت کو عالمی منڈیوں سے جوڑ دے یا کسی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی کو پاکستان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ترغیب دے تو اس کی اہمیت محض ایک فزیکل دفتر سے کہیں بڑھ جائے گی۔</p>
<p>اسلام آباد میں زیر تعلیم کسی یونیورسٹی طالب علم کے لیے یہ تصور میں تبدیلی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اب شاید ایسی دور دراز ٹیکنالوجی دکھائی نہ دے جو کہیں سلیکن ویلی میں تیار کی جاتی ہے۔ یہ ایسی ٹیکنالوجی بن سکتی ہے جسے پاکستانی طلبہ سیکھیں، پاکستانی محققین اس پر تحقیق کریں اور پاکستانی کاروباری افراد اسے کاروبار میں تبدیل کریں۔</p>
<p>ذہنیت میں یہ تبدیلی اہم ہے۔</p>
<p>پاکستان میں عزائم کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عزائم کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہو۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>لہٰذا گوگل کی موجودگی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک اور ایسی ٹرافی نہیں بننا چاہیے جس کی ہم تصاویر بنائیں، جشن منائیں اور پھر بالآخر اسے بھول جائیں۔ اسے گہری تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔</p>
</blockquote>
<p>پاکستان میں گوگل کے اقدامات نے اقتصادی مواقع، ڈیجیٹل مہارتوں، آن لائن تحفظ اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کو اجاگر کیا ہے۔ یہ ترجیحات ان چیلنجز سے گہری مطابقت رکھتی ہیں جن سے پاکستان کو ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے نمٹنا ہوگا۔ ملک کو متعلقہ مہارتوں کے حامل کارکنوں، نئی ٹیکنالوجیز اپنانے کی صلاحیت رکھنے والے کاروباروں اور ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو محض جدت پر گفتگو کرنے کے بجائے اس کی حمایت کے لیے تیار ہوں۔</p>
<p>لیکن ٹیکنالوجی تک رسائی اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت میں ایک اہم فرق ہے۔</p>
<p>ممکن ہے کسی نوجوان کے پاس اسمارٹ فون ہو لیکن ڈیجیٹل مہارتیں نہ ہوں۔ کوئی یونیورسٹی کمپیوٹنگ کی ڈگری تو فراہم کرتی ہو لیکن حقیقی دنیا کی ٹیکنالوجیز سے طلبہ کو محدود تجربہ حاصل ہو۔ کسی اسٹارٹ اپ کے پاس ایک امید افزا آئیڈیا ہو لیکن اسے سرمایہ کاری، رہنمائی یا عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ کوئی کاروبار مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہو لیکن اسے اپنانے کے لیے اس کے پاس کوئی عملی لائحہ عمل نہ ہو۔</p>
<p>لہٰذا چیلنج محض پاکستان میں ٹیکنالوجی لانا نہیں ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کی جائے۔</p>
<p>یہاں ایک زیادہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان میں گوگل کی موجودگی سے پاکستان کیا کرے گا؟</p>
<p>اس کا جواب صرف گوگل پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔</p>
<p>یونیورسٹیوں کو صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داریاں قائم کرنا ہوں گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ ایسی مہارتوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوں جن کی آجروں کو حقیقی طور پر ضرورت ہے۔ تحقیقی اداروں کو عملی مسائل پر کام کرنے کے لیے زیادہ مواقع درکار ہیں۔ کاروباری اداروں کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ساتھ تجربات کرنے کے لیے زیادہ آمادگی دکھانا ہوگی۔ اسٹارٹ اپس کو سرمایہ، رہنمائی اور منڈیوں تک آسان رسائی درکار ہے۔ اور پالیسی سازوں کو طویل مدتی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے ضروری پالیسی تسلسل اور ریگولیٹری اعتماد فراہم کرنا ہوگا۔</p>
<p>اسلام آباد اس تبدیلی کے لیے خاص طور پر موزوں مقام رکھتا ہے۔ یہاں یونیورسٹیاں، حکومتی ادارے، ٹیکنالوجی کمپنیاں، محققین، اسٹارٹ اپس اور نوجوان پیشہ ور افراد کی ایک بڑھتی ہوئی کمیونٹی موجود ہے۔ اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک جیسے منصوبے، جن کی توجہ آئی ٹی جدت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، تحقیق اور انکیوبیشن پر ہے، ممکنہ طور پر ایک بہت بڑے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے اہم حصے بن سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن صلاحیت کبھی پاکستان کا مسئلہ نہیں رہی۔ مسئلہ عمل درآمد رہا ہے۔</p>
<p>ہم اس سے پہلے بھی بڑے عزائم پر مبنی اعلانات دیکھ چکے ہیں۔ ہم پاکستان کو ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کے بارے میں بار بار کیے جانے والے وعدے سن چکے ہیں۔ ہم نے اقدامات شروع کیے، پروگرام قائم کیے اور سنگ میل عبور کرنے کا جشن منایا۔ اصل امتحان ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اعلان کے بعد کیا ہوتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا گوگل کی موجودگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک اور ایسی ٹرافی نہیں بننا چاہیے جس کی ہم تصاویر بنائیں، جشن منائیں اور بالآخر اسے بھول جائیں۔ اسے گہری تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔</p>
<p>یہ موقع اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی معیشت ایک گہری تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اس انداز کو تبدیل کررہی ہے کہ کاروبار کیسے چلتے ہیں، لوگ کیسے کام کرتے ہیں اور ممالک کس طرح ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو اس تبدیلی میں حصہ لینے کے لیے ضروری مہارتیں، بنیادی ڈھانچہ اور ادارے تیار کریں گے، اس سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کا غیر متناسب طور پر بڑا حصہ حاصل کریں گے۔</p>
<p>پاکستان اس تبدیلی کو کنارے پر بیٹھ کر دیکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>ہماری نوجوان آبادی ایک غیر معمولی فائدہ بن سکتی ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب نوجوانوں کو مستقبل کی معیشت میں حصہ لینے کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کیا جائے۔ ڈیجیٹل خواندگی کو بنیادی کمپیوٹر استعمال کرنے کی حد سے آگے لے جانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل کاروباری صلاحیتوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کا بامعنی حصہ بنانا ہوگا۔</p>
<p>یہی اصول کاروباری اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی ٹیکنالوجی کی کہانی صرف بیرون ملک صارفین کو خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ فری لانسنگ اہم ہے، لیکن اس سے بڑا ہدف ویلیو چین میں آگے بڑھنا ہونا چاہیے؛ یعنی انفرادی خدمات فروخت کرنے سے آگے بڑھ کر پاکستان سے مصنوعات، دانشورانہ ملکیت، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے حل تیار کرنا۔</p>
<p>یہ وہ مقام ہے جہاں گوگل کی موجودگی کئی گنا اثر پیدا کرسکتی ہے۔</p>
<p>جب کوئی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کسی ملک میں اپنی موجودگی کو گہرا کرتی ہے تو دوسری کمپنیاں بھی اس کا نوٹس لیتی ہیں۔ سرمایہ کار باصلاحیت افراد کے ذخیرے کا جائزہ لیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں مارکیٹ کا جائزہ لیتی ہیں۔ کاروباری افراد نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ یونیورسٹیاں نئی شراکت داریوں پر غور کرتی ہیں۔ یوں ایکو سسٹم کے مختلف حصے آپس میں جڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>لیکن یہ کئی گنا اثر خود بخود پیدا نہیں ہوگا۔</p>
<p>بین الاقوامی کمپنیاں صرف ہماری صلاحیتوں پر نظر نہیں رکھ رہیں۔ وہ ہماری پالیسیوں، بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری، ٹیکس نظام، ڈیٹا سے متعلق ضوابط، کاروبار کرنے میں آسانی اور ایک قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری کا ماحول برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی دیکھ رہی ہیں۔</p>
<p>اگر پاکستان چاہتا ہے کہ گوگل کی موجودگی کسی بڑی پیش رفت کا آغاز بنے تو اسے ملک کو ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے مسلسل زیادہ پرکشش بنانا ہوگا، صرف ایک کمپنی کے لیے نہیں بلکہ اگلی 10، 50 اور 100 کمپنیوں کے لیے بھی۔</p>
<p>اسی لیے گوگل کی آمد کو ہمیں اپنے لیے ایک چیلنج کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔</p>
<p>کیا ہماری یونیورسٹیاں وہ انجینئرز اور محققین تیار کرسکتی ہیں جن کی ڈیجیٹل معیشت کو ضرورت ہے؟</p>
<p>کیا ہمارے پالیسی ساز ایسے ضوابط تشکیل دے سکتے ہیں جو شہریوں کا تحفظ بھی کریں اور جدت کو گھٹنے نہ ٹیکنے دیں؟</p>
<p>کیا ہمارے کاروباری ادارے مصنوعی ذہانت اپنانے کے لیے کافی تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں؟</p>
<p>کیا ہمارے اسٹارٹ اپس محض بقا کی سطح سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مقابلہ کرسکتے ہیں؟</p>
<p>اور شاید سب سے اہم بات، کیا پاکستان ایسا ماحول پیدا کرسکتا ہے جہاں باصلاحیت نوجوان یہاں اپنا مستقبل تعمیر کرنا ایک پرکشش انتخاب سمجھیں؟</p>
<p>یہ سوالات گوگل سے کہیں بڑے ہیں۔</p>
<p>یہ پاکستان کی معاشی سمت سے متعلق سوالات ہیں۔</p>
<p>حکومت اور گوگل نے پہلے ہی ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان میں پہلی کورم بک اسمبلی لائن کے قیام جیسی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے کیونکہ ان کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کو مہارتوں، مینوفیکچرنگ اور وسیع تر معاشی سرگرمیوں سے جوڑا جارہا ہے۔</p>
<p>لیکن کامیابی کا اصل پیمانہ کئی سال بعد سامنے آئے گا۔</p>
<p>اسے اس پاکستانی اسٹارٹ اپ سے ناپا جائے گا جو عالمی منڈیوں تک پہنچے گا۔ اس یونیورسٹی کی لیبارٹری سے ناپا جائے گا جو تجارتی اعتبار سے قیمتی تحقیق پیش کرے گی۔ اس نوجوان ڈویلپر سے ناپا جائے گا جو اسلام آباد سے ایک عالمی مصنوعات تیار کرے گا۔ اس چھوٹے کاروبار سے ناپا جائے گا جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت بہتر بنائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کمپنی سے ناپا جائے گا جو پاکستان کو اپنے علاقائی مرکز کے طور پر منتخب کرے گی۔ اور اس پاکستانی پیشہ ور فرد سے ناپا جائے گا جو یہ دریافت کرے گا کہ عالمی مواقع حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑے۔</p>
<p>یہ وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔</p>
<p>ہم نے کئی دہائیاں یہ کہتے ہوئے گزار دی ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ ڈیجیٹل معیشت ہمیں آخرکار یہ ثابت کرنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔</p>
<p>لہٰذا، ہاں، ہمیں اسلام آباد میں گوگل کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔</p>
<p>لیکن ہمیں صرف تالیاں بجانے کے بجائے بلند عزائم کے ساتھ اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔</p>
<p>ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ گوگل پاکستان کے لیے کیا کرسکتا ہے، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>کیونکہ ایک دفتر ایک دن میں قائم کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>لیکن ٹیکنالوجی کا ایکو سسٹم تشکیل دینے میں برسوں لگتے ہیں۔</p>
<p>اور پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کا حتمی پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ اسلام آباد میں گوگل کا دفتر موجود ہے یا نہیں۔</p>
<p>اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کیا ایک دن کوئی پاکستانی کاروباری شخصیت یہاں اگلا گوگل قائم کرسکتی ہے۔</p>
<hr />
<p><strong>یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290781</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2026 11:00:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ ضمیر کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/031058341ad7862.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/031058341ad7862.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکی انفرااسٹرکچر کو رسک فنانسنگ کے نئے فریم ورک کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290499/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا انفراااسٹرکچر ایک ایسے خطرے سے تیزی سے دوچار ہو رہا ہے جسے اب محض کبھی کبھار پیش آنے والی ہنگامی صورتحال قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے خطرات میں سیلاب، شدید بارشیں، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید گرمی شامل ہیں، جو نہ صرف طبعی اثاثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ تعمیراتی شیڈول، سپلائی چینز، کاروباری آمدنی، عوامی خدمات اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کے لیے سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ ہمیں کتنا انفرااسٹرکچر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کیسے فراہم کیے جائیں جو کسی قدرتی آفت کے وقت انفرااسٹرکچر کی فعالیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 2022 کے سیلاب نے اس چیلنج کی سنگینی واضح کردی تھی۔ پاکستان کی پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ کے مطابق ان سیلابوں سے 30 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات اور معاشی خسارے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ رہائش، زراعت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور عوامی انفرااسٹرکچر کے شعبے نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ بعد ازاں آنے والی قدرتی آفات نے بھی اسی کمزوری کو مزید نمایاں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محدود مالی گنجائش کے حامل ملک کے لیے ہر بڑے بحران کے بعد بار بار تعمیرِ نو کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا انفرااسٹرکچر کی مالی معاونت کے موجودہ ماڈل کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو بنیادی طور پر تعمیرات پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی اثرات کا بھی پیشگی اندازہ لگائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: اگر پاکستان انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے نجی سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور پروجیکٹ فنانس پر زیادہ انحصار کرتا ہے تو موسمیاتی اور قدرتی آفات کے خطرات حقیقت بننے کی صورت میں مالی نقصانات کا بوجھ کس فریق کو اٹھانا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب محض حکومت یا نجی شعبہ نہیں ہوسکتا۔ اس کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ خطرے کی ہر سطح کو منظم کرنے، برداشت کرنے اور دوسرے فریق کو منتقل کرنے کی بہترین صلاحیت کس فریق کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرااسٹرکچرکی اصطلاح صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں۔ اس میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات، توانائی اور بجلی، آبی وسائل اور آبپاشی، فزیکل پلاننگ اور رہائش، شہری انفرااسٹرکچر، سرکاری عمارتیں اور سہولیات، جبکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وفاقی ترقیاتی پروگرام سے اس سرمایہ کاری کے حجم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں انفرااسٹرکچر کے شعبے کے لیے تقریباً 614.7 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے لیے 325.6 ارب روپے، توانائی کے لیے 122.7 ارب روپے، پانی کے لیے 97.8 ارب روپے اور فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لیے 68.6 ارب روپے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر تعمیراتی شعبے نے بھی بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مالی سال 2024-25 میں 6.61 فیصد کی شرح نمو حاصل کی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال میں اس شعبے میں 1.14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس شرح نمو کو پورے انفرااسٹرکچر اسٹاک میں 6.61 فیصد اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ تعمیرات اور انفرااسٹرکچر ایک ہی چیز نہیں مگر یہ ایسے شعبے میں سرگرمیوں کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے جو موسمیاتی اور قدرتی آفات کے خطرات سے تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر نجی سرمایہ کاری سے تعمیر ہونے والی ٹول روڈ کو لے لیجیے۔ رعایتی معاہدے کے تحت سیلاب کا خطرہ پروجیکٹ کمپنی کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی جائیداد، کاروباری تعطل اور ذمہ داری کا انشورنس کرا سکتی ہے، جبکہ ٹھیکیدار اپنی ذمہ داریوں اور ضمانتوں کے پابند ہوتے ہیں۔ تاہم بڑے سیلاب کے بعد سڑک کئی ماہ تک بند رہ سکتی ہے، ٹول سے آمدنی ختم ہوسکتی ہے، قرض کی ادائیگی جاری رہ سکتی ہے اور رابطہ بحال کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ پھر بھی آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں پاکستان کو پہلا سوال خود سے کرنا چاہیے کہ کیا خطرہ واقعی منتقل ہوا ہے یا صرف معاہدے میں اس کی ذمہ داری کسی فریق کو سونپی گئی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدہ کسی فریق پر ذمہ داری عائد تو کرسکتا ہے، لیکن اس سے مالی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔ محدود سرمائے کا حامل ٹھیکیدار محض اس لیے بڑے تباہ کن نقصان کا بوجھ قابلِ اعتماد طور پر برداشت نہیں کرسکتا کہ معاہدے میں اس کی ذمہ داری درج ہے۔ اسی طرح کم حد تک کوریج رکھنے والی انشورنس پالیسی اس حد سے زیادہ بڑے خطرے کا احاطہ نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا دوسرا سوال یہ ہے کہ شناخت کیے گئے خطرے کے مقابلے میں حقیقتاً کتنی مالی رقم دستیاب ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے میں چار امور واضح ہونے چاہئیں: ممکنہ زیادہ سے زیادہ نقصان کتنا ہوسکتا ہے، معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اس خطرے کے مقابلے میں کتنی رقم واقعی مالی ذخائر یا انشورنس سے محفوظ ہے اور بالآخر کتنا مالی بوجھ حکومت پر منتقل ہوسکتا ہے۔ اس طرح قدرتی آفات کے خطرے کو تعمیراتی لاگت، قرضوں کی ادائیگی اور متوقع منافع کی طرح منصوبے کے مالی معاملات کا حصہ بنایا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سوال یہ ہے کہ کسی اثاثے کی مرمت کے دوران آمدنی اور ضروری خدمات کا کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ مرحلہ ہے جہاں روایتی پراپرٹی انشورنس ناکافی ثابت ہوسکتی ہے۔ سیلاب کسی پل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اس سے ہونے والا بڑا معاشی نقصان کئی ماہ تک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل رہنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ بجلی کے کسی منصوبے کو پہنچنے والا نقصان صرف مرمت کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے صارفین کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوسکتی ہے۔ تعمیراتی مقام پر سیلاب منصوبے کی تکمیل میں تاخیر، مالیاتی اخراجات میں اضافے اور آمدنی کے حصول میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو انشورنس کو صرف طبعی اثاثوں کے تحفظ کے طور پر نہیں بلکہ آمدنی، نقدی کی دستیابی اور خدمات کے تسلسل کے تحفظ کے طور پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں پیرامیٹرک انشورنس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پیرامیٹرک انشورنس میں پہلے سے طے شدہ کسی مخصوص پیمانے کے مقررہ حد تک پہنچنے پر ادائیگی کی جاتی ہے، مثلاً بارش کی ایک خاص مقدار، دریا میں پانی کے بہاؤ کی مخصوص سطح، ہوا کی رفتار یا زلزلے کی شدت۔ طویل جسمانی نقصان کے تخمینے کا انتظار کرنے کے بجائے ادائیگی متفقہ پیمانوں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ انفرااسٹرکچر کے لیے یہ روایتی انشورنس کا مؤثر متبادل اور معاون ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر سیلاب کے خطرے سے دوچار سڑک کے لیے طبعی نقصان کی روایتی انشورنس برقرار رکھتے ہوئے شدید بارش یا دریا میں پانی کی مخصوص سطح پر فعال ہونے والی پیرامیٹرک انشورنس بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم ہنگامی مرمت، آلات کی فوری فراہمی، عارضی تعمیراتی کام، متبادل ٹرانسپورٹ کے انتظامات یا کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل کی فوری ضرورت پوری کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا سوال یہ ہے کہ پاکستان کو روایتی طور پر نقصان کی تلافی کے بجائے فوری مالی وسائل کی ضرورت کہاں اور کس حد تک ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی تجربات اس حوالے سے قابلِ غور مثالیں فراہم کرتے ہیں۔ کیریبین کیٹاسٹراف رسک انشورنس فیسلٹی (سی سی آر آئی ایف) نے حکومتوں کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کی یوٹیلیٹیز کے لیے بھی پیرامیٹرک انشورنس تیار کی ہے۔ بجلی کی یوٹیلیٹیز کے لیے اس انشورنس پروڈکٹ کا مقصد خاص طور پر سمندری طوفانوں کے بعد بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں فوری مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں کیریبین سمندر کے جزیرہ ملک گریناڈا کی بجلی کی یوٹیلیٹی کو سمندری طوفان بیریل کے بعد تقریباً 9.3 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ پانی کی یوٹیلیٹی کو سی سی آر آئی ایف کے پیرامیٹرک انشورنس پروگرام کے تحت تقریباً 2.2 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ 2007 میں قیام کے بعد سے سی سی آر آئی ایف  کے وسیع تر نظام کے تحت اب تک تقریباً 39 کروڑ ڈالر کی 78 ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔ صرف 2024 میں سات رکن ممالک کو مجموعی طور پر 8 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں حکومتیں، بجلی و پانی کی یوٹیلیٹیز اور ایک سیاحتی مقام بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیریبین کے ایک اور جزیرہ ملک جمیکا نے کیٹاسٹراف بانڈز کے ذریعے ایک اور اہم مثال قائم کی۔ 2025 میں سمندری طوفان میلیسا کے باعث 15 کروڑ ڈالر مالیت کا پیرامیٹرک کیٹاسٹراف بانڈ فعال ہوگیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید قدرتی آفت کے بعد کیپٹل مارکیٹ کے مالیاتی ذرائع پہلے سے طے شدہ بنیادوں پر فوری مالی وسائل فراہم کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ نہیں تھی کہ اس بانڈ نے جمیکا کے پورے معاشی نقصان کا ازالہ کردیا، کیونکہ ایسا نہیں ہوا۔ اس کی اصل اہمیت یہ تھی کہ تباہ کن خطرے کی ایک مخصوص سطح کو قدرتی آفت آنے سے پہلے ہی منتقل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکسیکو نے بھی اسی طرح قدرتی آفات سے متعلق مالی خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیر سطحی نظام تیار کیا ہے، جس میں زلزلوں اور سمندری طوفانوں کے لیے کیٹاسٹراف بانڈز شامل ہیں۔ ایسے نظام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتوں کو قدرتی آفت آنے کے بعد تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل کی تلاش شروع کرنے کا انتظار ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مثالیں پاکستان کے لیے پانچواں سوال سامنے لاتی ہیں: کیا نجی سرمایہ اور انشورنس مارکیٹس ان خطرات کا کچھ حصہ برداشت کرسکتی ہیں جو اس وقت دوبارہ عوامی مالیاتی کھاتے میں منتقل ہورہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب ہاں میں ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب پاکستان خود انفرااسٹرکچر کے خطرات سے متعلق مالیاتی مارکیٹ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرے۔ اس کے لیے خطرات اور اثاثوں کی سطح پر بہتر اعداد و شمار، قدرتی آفات کے امکانات پر مبنی ماڈلز، قابلِ اعتماد موسمیاتی اور زلزلہ جاتی معلومات، انشورنس کے شفاف حصول کا نظام، ملکی سطح پر انشورنس اور ری انشورنس کی مضبوط صلاحیت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس میں خطرات کی واضح تقسیم ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیرالجہتی ادارے اور عطیہ دہندگان تجارتی خطرات کو مستقل طور پر سبسڈی دینے کے بجائے خطرات کی ماڈلنگ، تکنیکی معاونت، مارکیٹ کی ترقی اور ابتدائی استعداد کار میں اضافے کے لیے مالی معاونت فراہم کرکے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو قدرتی آفات سے متعلق کثیر سطحی مالیاتی نظام بھی اپنانا چاہیے۔ معمول کے اور قابلِ انتظام نقصانات کو دیکھ بھال کے بجٹ، انشورنس کی ابتدائی کٹوتی اور مالی ذخائر کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے۔ درمیانے درجے کی آفات کے لیے ہنگامی مالی سہولت اور روایتی انشورنس استعمال کی جاسکتی ہے۔ شدید مگر کم وقوع پذیر ہونے والی آفات کے خطرات کو انشورنس، ری انشورنس اور پیرامیٹرک مالیاتی ذرائع کے ذریعے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ بڑے پیمانے پر پورے نظام کو متاثر کرنے والی آفات کے لیے رعایتی قرضوں اور بین الاقوامی معاونت کی ضرورت پڑسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن شاید آخری سوال سب سے اہم ہے: جب انشورنس کی رقم موصول ہوگی تو اسے خرچ کرنے کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری ادائیگی کی اہمیت کم ہوجاتی ہے اگر اسے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی فوری بحالی کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔ لہٰذا حکومت اور پروجیکٹ کمپنیاں رقم وصول کرنے اور استعمال کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار، ہنگامی خریداری کے انتظامات، بجٹ میں اخراجات کی اجازت اور ضروری خدمات کی بحالی کے واضح قواعد وضع کریں۔ انشورنس کی رقم پر قرض دہندگان کے حقوق کو بھی انفرااسٹرکچر کی فوری بحالی کے عوامی مفاد سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کوانشورنس کے حصول سے آگے بڑھ کر انفرااسٹرکچر کے خطرات کی مالی معاونت کی طرف پیش قدمی کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی منصوبے تیار کرنے والے اداروں، سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کو قدرتی آفات کے خطرے کو محض ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے مالیاتی خطرے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ مقصد یہ نہیں کہ ہر چیز کا انشورنس کرایا جائے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اہم خطرے سے نمٹنے کے لیے قابلِ اعتماد مالیاتی حکمتِ عملی موجود ہو۔ پاکستان ہر سیلاب، زلزلے یا شدید موسمی صورتحال کو روک نہیں سکتا لیکن وہ یہ ضرور طے کرسکتا ہے کہ قدرتی آفت آنے سے پہلے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی نقصانات کا بوجھ کون اٹھائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرامیٹرک انشورنس دراصل یہی اہم موقع فراہم کرتی ہے کہ اسے روایتی انشورنس، سرکاری مالی وسائل یا طبعی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کا متبادل بنانے کے بجائے ان سب کو ایک ایسے مالیاتی نظام میں مربوط کیا جائے جو اگلی قدرتی آفت کے وقت پاکستان کے انفرااسٹرکچر اور اس پر انحصار کرنے والی معیشت کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا انفراااسٹرکچر ایک ایسے خطرے سے تیزی سے دوچار ہو رہا ہے جسے اب محض کبھی کبھار پیش آنے والی ہنگامی صورتحال قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے خطرات میں سیلاب، شدید بارشیں، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید گرمی شامل ہیں، جو نہ صرف طبعی اثاثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ تعمیراتی شیڈول، سپلائی چینز، کاروباری آمدنی، عوامی خدمات اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کے لیے سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ ہمیں کتنا انفرااسٹرکچر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کیسے فراہم کیے جائیں جو کسی قدرتی آفت کے وقت انفرااسٹرکچر کی فعالیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 2022 کے سیلاب نے اس چیلنج کی سنگینی واضح کردی تھی۔ پاکستان کی پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ کے مطابق ان سیلابوں سے 30 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات اور معاشی خسارے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ رہائش، زراعت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور عوامی انفرااسٹرکچر کے شعبے نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ بعد ازاں آنے والی قدرتی آفات نے بھی اسی کمزوری کو مزید نمایاں کیا ہے۔</p>
<p>محدود مالی گنجائش کے حامل ملک کے لیے ہر بڑے بحران کے بعد بار بار تعمیرِ نو کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا انفرااسٹرکچر کی مالی معاونت کے موجودہ ماڈل کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، جو بنیادی طور پر تعمیرات پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی اثرات کا بھی پیشگی اندازہ لگائے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: اگر پاکستان انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے نجی سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور پروجیکٹ فنانس پر زیادہ انحصار کرتا ہے تو موسمیاتی اور قدرتی آفات کے خطرات حقیقت بننے کی صورت میں مالی نقصانات کا بوجھ کس فریق کو اٹھانا چاہیے؟</p>
<p>اس کا جواب محض حکومت یا نجی شعبہ نہیں ہوسکتا۔ اس کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ خطرے کی ہر سطح کو منظم کرنے، برداشت کرنے اور دوسرے فریق کو منتقل کرنے کی بہترین صلاحیت کس فریق کے پاس ہے۔</p>
<p>انفرااسٹرکچرکی اصطلاح صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں۔ اس میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات، توانائی اور بجلی، آبی وسائل اور آبپاشی، فزیکل پلاننگ اور رہائش، شہری انفرااسٹرکچر، سرکاری عمارتیں اور سہولیات، جبکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر بھی شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے وفاقی ترقیاتی پروگرام سے اس سرمایہ کاری کے حجم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں انفرااسٹرکچر کے شعبے کے لیے تقریباً 614.7 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے لیے 325.6 ارب روپے، توانائی کے لیے 122.7 ارب روپے، پانی کے لیے 97.8 ارب روپے اور فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لیے 68.6 ارب روپے شامل ہیں۔</p>
<p>وسیع تر تعمیراتی شعبے نے بھی بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مالی سال 2024-25 میں 6.61 فیصد کی شرح نمو حاصل کی، جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال میں اس شعبے میں 1.14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس شرح نمو کو پورے انفرااسٹرکچر اسٹاک میں 6.61 فیصد اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ تعمیرات اور انفرااسٹرکچر ایک ہی چیز نہیں مگر یہ ایسے شعبے میں سرگرمیوں کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے جو موسمیاتی اور قدرتی آفات کے خطرات سے تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر نجی سرمایہ کاری سے تعمیر ہونے والی ٹول روڈ کو لے لیجیے۔ رعایتی معاہدے کے تحت سیلاب کا خطرہ پروجیکٹ کمپنی کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی جائیداد، کاروباری تعطل اور ذمہ داری کا انشورنس کرا سکتی ہے، جبکہ ٹھیکیدار اپنی ذمہ داریوں اور ضمانتوں کے پابند ہوتے ہیں۔ تاہم بڑے سیلاب کے بعد سڑک کئی ماہ تک بند رہ سکتی ہے، ٹول سے آمدنی ختم ہوسکتی ہے، قرض کی ادائیگی جاری رہ سکتی ہے اور رابطہ بحال کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ پھر بھی آسکتا ہے۔</p>
<p>یہاں پاکستان کو پہلا سوال خود سے کرنا چاہیے کہ کیا خطرہ واقعی منتقل ہوا ہے یا صرف معاہدے میں اس کی ذمہ داری کسی فریق کو سونپی گئی ہے؟</p>
<p>معاہدہ کسی فریق پر ذمہ داری عائد تو کرسکتا ہے، لیکن اس سے مالی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔ محدود سرمائے کا حامل ٹھیکیدار محض اس لیے بڑے تباہ کن نقصان کا بوجھ قابلِ اعتماد طور پر برداشت نہیں کرسکتا کہ معاہدے میں اس کی ذمہ داری درج ہے۔ اسی طرح کم حد تک کوریج رکھنے والی انشورنس پالیسی اس حد سے زیادہ بڑے خطرے کا احاطہ نہیں کرسکتی۔</p>
<p>لہٰذا دوسرا سوال یہ ہے کہ شناخت کیے گئے خطرے کے مقابلے میں حقیقتاً کتنی مالی رقم دستیاب ہے؟</p>
<p>ہر بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے میں چار امور واضح ہونے چاہئیں: ممکنہ زیادہ سے زیادہ نقصان کتنا ہوسکتا ہے، معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اس خطرے کے مقابلے میں کتنی رقم واقعی مالی ذخائر یا انشورنس سے محفوظ ہے اور بالآخر کتنا مالی بوجھ حکومت پر منتقل ہوسکتا ہے۔ اس طرح قدرتی آفات کے خطرے کو تعمیراتی لاگت، قرضوں کی ادائیگی اور متوقع منافع کی طرح منصوبے کے مالی معاملات کا حصہ بنایا جاسکے گا۔</p>
<p>تیسرا سوال یہ ہے کہ کسی اثاثے کی مرمت کے دوران آمدنی اور ضروری خدمات کا کیا ہوگا؟</p>
<p>یہ وہ مرحلہ ہے جہاں روایتی پراپرٹی انشورنس ناکافی ثابت ہوسکتی ہے۔ سیلاب کسی پل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن اس سے ہونے والا بڑا معاشی نقصان کئی ماہ تک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل رہنے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ بجلی کے کسی منصوبے کو پہنچنے والا نقصان صرف مرمت کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے صارفین کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوسکتی ہے۔ تعمیراتی مقام پر سیلاب منصوبے کی تکمیل میں تاخیر، مالیاتی اخراجات میں اضافے اور آمدنی کے حصول میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو انشورنس کو صرف طبعی اثاثوں کے تحفظ کے طور پر نہیں بلکہ آمدنی، نقدی کی دستیابی اور خدمات کے تسلسل کے تحفظ کے طور پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>یہیں پیرامیٹرک انشورنس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پیرامیٹرک انشورنس میں پہلے سے طے شدہ کسی مخصوص پیمانے کے مقررہ حد تک پہنچنے پر ادائیگی کی جاتی ہے، مثلاً بارش کی ایک خاص مقدار، دریا میں پانی کے بہاؤ کی مخصوص سطح، ہوا کی رفتار یا زلزلے کی شدت۔ طویل جسمانی نقصان کے تخمینے کا انتظار کرنے کے بجائے ادائیگی متفقہ پیمانوں اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اعداد و شمار کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ انفرااسٹرکچر کے لیے یہ روایتی انشورنس کا مؤثر متبادل اور معاون ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر سیلاب کے خطرے سے دوچار سڑک کے لیے طبعی نقصان کی روایتی انشورنس برقرار رکھتے ہوئے شدید بارش یا دریا میں پانی کی مخصوص سطح پر فعال ہونے والی پیرامیٹرک انشورنس بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم ہنگامی مرمت، آلات کی فوری فراہمی، عارضی تعمیراتی کام، متبادل ٹرانسپورٹ کے انتظامات یا کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے درکار ورکنگ کیپیٹل کی فوری ضرورت پوری کرسکتی ہے۔</p>
<p>چوتھا سوال یہ ہے کہ پاکستان کو روایتی طور پر نقصان کی تلافی کے بجائے فوری مالی وسائل کی ضرورت کہاں اور کس حد تک ہے؟</p>
<p>بین الاقوامی تجربات اس حوالے سے قابلِ غور مثالیں فراہم کرتے ہیں۔ کیریبین کیٹاسٹراف رسک انشورنس فیسلٹی (سی سی آر آئی ایف) نے حکومتوں کے ساتھ ساتھ بجلی اور پانی کی یوٹیلیٹیز کے لیے بھی پیرامیٹرک انشورنس تیار کی ہے۔ بجلی کی یوٹیلیٹیز کے لیے اس انشورنس پروڈکٹ کا مقصد خاص طور پر سمندری طوفانوں کے بعد بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کی صورت میں فوری مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>2024 میں کیریبین سمندر کے جزیرہ ملک گریناڈا کی بجلی کی یوٹیلیٹی کو سمندری طوفان بیریل کے بعد تقریباً 9.3 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ پانی کی یوٹیلیٹی کو سی سی آر آئی ایف کے پیرامیٹرک انشورنس پروگرام کے تحت تقریباً 2.2 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ 2007 میں قیام کے بعد سے سی سی آر آئی ایف  کے وسیع تر نظام کے تحت اب تک تقریباً 39 کروڑ ڈالر کی 78 ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔ صرف 2024 میں سات رکن ممالک کو مجموعی طور پر 8 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں حکومتیں، بجلی و پانی کی یوٹیلیٹیز اور ایک سیاحتی مقام بھی شامل تھا۔</p>
<p>کیریبین کے ایک اور جزیرہ ملک جمیکا نے کیٹاسٹراف بانڈز کے ذریعے ایک اور اہم مثال قائم کی۔ 2025 میں سمندری طوفان میلیسا کے باعث 15 کروڑ ڈالر مالیت کا پیرامیٹرک کیٹاسٹراف بانڈ فعال ہوگیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید قدرتی آفت کے بعد کیپٹل مارکیٹ کے مالیاتی ذرائع پہلے سے طے شدہ بنیادوں پر فوری مالی وسائل فراہم کرسکتے ہیں۔</p>
<p>اہم بات یہ نہیں تھی کہ اس بانڈ نے جمیکا کے پورے معاشی نقصان کا ازالہ کردیا، کیونکہ ایسا نہیں ہوا۔ اس کی اصل اہمیت یہ تھی کہ تباہ کن خطرے کی ایک مخصوص سطح کو قدرتی آفت آنے سے پہلے ہی منتقل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>میکسیکو نے بھی اسی طرح قدرتی آفات سے متعلق مالی خطرات سے نمٹنے کے لیے کثیر سطحی نظام تیار کیا ہے، جس میں زلزلوں اور سمندری طوفانوں کے لیے کیٹاسٹراف بانڈز شامل ہیں۔ ایسے نظام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتوں کو قدرتی آفت آنے کے بعد تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل کی تلاش شروع کرنے کا انتظار ضروری نہیں۔</p>
<p>یہ مثالیں پاکستان کے لیے پانچواں سوال سامنے لاتی ہیں: کیا نجی سرمایہ اور انشورنس مارکیٹس ان خطرات کا کچھ حصہ برداشت کرسکتی ہیں جو اس وقت دوبارہ عوامی مالیاتی کھاتے میں منتقل ہورہے ہیں؟</p>
<p>جواب ہاں میں ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب پاکستان خود انفرااسٹرکچر کے خطرات سے متعلق مالیاتی مارکیٹ کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرے۔ اس کے لیے خطرات اور اثاثوں کی سطح پر بہتر اعداد و شمار، قدرتی آفات کے امکانات پر مبنی ماڈلز، قابلِ اعتماد موسمیاتی اور زلزلہ جاتی معلومات، انشورنس کے شفاف حصول کا نظام، ملکی سطح پر انشورنس اور ری انشورنس کی مضبوط صلاحیت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس میں خطرات کی واضح تقسیم ضروری ہے۔</p>
<p>کثیرالجہتی ادارے اور عطیہ دہندگان تجارتی خطرات کو مستقل طور پر سبسڈی دینے کے بجائے خطرات کی ماڈلنگ، تکنیکی معاونت، مارکیٹ کی ترقی اور ابتدائی استعداد کار میں اضافے کے لیے مالی معاونت فراہم کرکے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو قدرتی آفات سے متعلق کثیر سطحی مالیاتی نظام بھی اپنانا چاہیے۔ معمول کے اور قابلِ انتظام نقصانات کو دیکھ بھال کے بجٹ، انشورنس کی ابتدائی کٹوتی اور مالی ذخائر کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے۔ درمیانے درجے کی آفات کے لیے ہنگامی مالی سہولت اور روایتی انشورنس استعمال کی جاسکتی ہے۔ شدید مگر کم وقوع پذیر ہونے والی آفات کے خطرات کو انشورنس، ری انشورنس اور پیرامیٹرک مالیاتی ذرائع کے ذریعے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ بڑے پیمانے پر پورے نظام کو متاثر کرنے والی آفات کے لیے رعایتی قرضوں اور بین الاقوامی معاونت کی ضرورت پڑسکتی ہے۔</p>
<p>لیکن شاید آخری سوال سب سے اہم ہے: جب انشورنس کی رقم موصول ہوگی تو اسے خرچ کرنے کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟</p>
<p>فوری ادائیگی کی اہمیت کم ہوجاتی ہے اگر اسے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی فوری بحالی کے لیے استعمال نہ کیا جاسکے۔ لہٰذا حکومت اور پروجیکٹ کمپنیاں رقم وصول کرنے اور استعمال کرنے کے لیے پہلے سے طے شدہ طریقہ کار، ہنگامی خریداری کے انتظامات، بجٹ میں اخراجات کی اجازت اور ضروری خدمات کی بحالی کے واضح قواعد وضع کریں۔ انشورنس کی رقم پر قرض دہندگان کے حقوق کو بھی انفرااسٹرکچر کی فوری بحالی کے عوامی مفاد سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کوانشورنس کے حصول سے آگے بڑھ کر انفرااسٹرکچر کے خطرات کی مالی معاونت کی طرف پیش قدمی کرنا چاہیے۔</p>
<p>ترقیاتی منصوبے تیار کرنے والے اداروں، سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کو قدرتی آفات کے خطرے کو محض ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے مالیاتی خطرے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ مقصد یہ نہیں کہ ہر چیز کا انشورنس کرایا جائے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اہم خطرے سے نمٹنے کے لیے قابلِ اعتماد مالیاتی حکمتِ عملی موجود ہو۔ پاکستان ہر سیلاب، زلزلے یا شدید موسمی صورتحال کو روک نہیں سکتا لیکن وہ یہ ضرور طے کرسکتا ہے کہ قدرتی آفت آنے سے پہلے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی نقصانات کا بوجھ کون اٹھائے گا۔</p>
<p>پیرامیٹرک انشورنس دراصل یہی اہم موقع فراہم کرتی ہے کہ اسے روایتی انشورنس، سرکاری مالی وسائل یا طبعی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کا متبادل بنانے کے بجائے ان سب کو ایک ایسے مالیاتی نظام میں مربوط کیا جائے جو اگلی قدرتی آفت کے وقت پاکستان کے انفرااسٹرکچر اور اس پر انحصار کرنے والی معیشت کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد دے۔</p>
<p><em>یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290499</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Aug 2026 15:13:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علشبہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/271448234d4bbb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/271448234d4bbb4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائیو جی اسٹینڈ الون –اے آئی سے چلنے والے مستقبل کی طرف اگلا قدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) جس طرح مختلف شعبوں کو نئی شکل دے رہی ہے، کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز اور آپٹیکل کنیکٹیویٹی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم ٹیلی کام نیٹ ورک، بالخصوص 5G اسٹینڈ الون ( فائیوجی ایس اے)، کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اے آئی کی جدت اس وقت تک مؤثر انداز میں وسعت اختیار نہیں کرسکتی جب تک بنیادی کنیکٹیویٹی کا ڈھانچہ بھی اس کے ساتھ ساتھ ترقی نہ کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے اے آئی کا بنیادی ڈھانچہ پختہ ہورہا ہے، اصل چیلنج یہ بن گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز سے اربوں صارفین تک اے آئی کی صلاحیتیں مؤثر انداز میں کیسے پہنچائی جائیں۔ اگر ہم اے آئی کی لامحدود صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو نیٹ ورک کو ہماری ترجیحات میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="روایتی-بنیادی-ڈھانچے-سے-آگے-بڑھنے-کی-ضرورت" href="#روایتی-بنیادی-ڈھانچے-سے-آگے-بڑھنے-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;روایتی بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھنے کی ضرورت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنریٹو اے آئی کے ظہور کے بعد سے اے آئی کی کارکردگی اور ردعمل کو بہتر بنانا صنعتی مباحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ فروری 2026 میں صرف چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار فعال صارفین کی تعداد 90 کروڑ رپورٹ ہوئی۔ صلاحیت، تیز ردعمل اور قابلِ اعتماد سروس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے نیٹ ورکس کو بھی ارتقا پذیر ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی وقت میں کام کرنے والی ملٹی موڈل اے آئی نیٹ ورک ٹریفک کے بالکل نئے انداز پیدا کرتی ہے۔ روایتی موبائل براڈ بینڈ کے برعکس، جسے بڑی حد تک انسانی استعمال کے لیے بہتر بنایا گیا تھا، نئی نسل کے اے آئی اسسٹنٹس اور براہِ راست کاروباری رہنمائی کے نظام آلات اور کلاؤڈ کے درمیان مسلسل معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ان ایپلی کیشنز میں اپ لنک ٹریفک زیادہ، تاخیر کی گنجائش کم اور سیشنز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ انہیں مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نیٹ ورک کو تقسیم شدہ اے آئی &lt;strong&gt;انفرنسنگ&lt;/strong&gt; اور مشین لرننگ کے فعال معاون میں تبدیل ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اے-آئی-کے-اگلی-نسل-کے-تجربات-کو-تقویت-دینا" href="#اے-آئی-کے-اگلی-نسل-کے-تجربات-کو-تقویت-دینا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اے آئی کے اگلی نسل کے تجربات کو تقویت دینا&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نیٹ ورک کی کارکردگی اے آئی کے تجربے کا ایک فیصلہ کن عنصر بنتی جارہی ہے۔ اے آئی اور جدید کنیکٹیویٹی کا باہمی انحصار بڑھتا جارہا ہے: اے آئی نیٹ ورکس سے نئی نوعیت کے تقاضے پیدا کرتی ہے، جبکہ جدید نیٹ ورکس صارفین اور صنعتوں دونوں کے لیے اے آئی کے بالکل نئے استعمالات ممکن بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک مثال اے آئی کا فزیکل اے آئی کی جانب ارتقا ہے—ایسے نظام جو حقیقی دنیا میں حقیقی وقت کے دوران ماحول کو محسوس، صورتحال کا تجزیہ اور کارروائی کرسکیں۔ خودکار گاڑیوں اور ڈرونز، اسمارٹ گلاسز اور دیگر پہننے کے قابل آلات کے علاوہ کاروباری اور صنعتی ماحول میں بھی ان کا استعمال ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ یہ نظام بنیادی طور پر تقسیم شدہ نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کے لیے انہیں فائیو جی ایس اے کی جانب سے فراہم کردہ انتہائی قابلِ اعتماد موبائل کمیونیکیشن اور مختلف نوعیت کی کنیکٹیویٹی درکار ہوتی ہے۔ وقت کے لحاظ سے انتہائی اہم فیصلے اگرچہ تیزی سے ایج پر کیے جائیں گے، تاہم زیادہ کمپیوٹنگ درکار کاموں کے لیے کلاؤڈ پروسیسنگ پر انحصار برقرار رہے گا تاکہ اے آئی کے بھاری کاموں کے دوران آلات ضرورت سے زیادہ گرم نہ ہوں۔ مناسب تاخیر اور گنجائش کے ساتھ فائیو جی ایس اے نیٹ ورکس دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ مواصلاتی تاخیر حقیقی دنیا کے ماحول میں کارکردگی کو متاثر نہ کرے یا نظام کی ناکامی کا سبب نہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اعلیٰ-کارکردگی-کی-حامل-کنیکٹیویٹی-کی-صلاحیت-سے-فائدہ-اٹھانا" href="#اعلیٰ-کارکردگی-کی-حامل-کنیکٹیویٹی-کی-صلاحیت-سے-فائدہ-اٹھانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اعلیٰ کارکردگی کی حامل کنیکٹیویٹی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5G&lt;/strong&gt; تاریخ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والی موبائل ٹیکنالوجی ہے۔ &lt;strong&gt;ایرکسن موبیلیٹی رپورٹ&lt;/strong&gt; کے تازہ ترین ایڈیشن کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 5G سبسکرپشنز کی تعداد &lt;strong&gt;3.1 ارب&lt;/strong&gt; تک پہنچ گئی۔ توقع ہے کہ 2027 کے اختتام تک دنیا بھر میں بنیادی موبائل ایکسس ٹیکنالوجی کے طور پر 5G، 4G کو پیچھے چھوڑ دے گا—یعنی اس کی تجارتی لانچ کے صرف نو برس بعد۔ دنیا بھر میں تقریباً &lt;strong&gt;390 سروس پرووائیڈرز&lt;/strong&gt; تجارتی 5G سروسز متعارف کراچکے ہیں، جبکہ 90 سے زائد نے 5G اسٹینڈ الون سروسز بھی شروع کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی 4G انفراسٹرکچر سے مکمل طور پر آزاد &lt;strong&gt;5G اسٹینڈ الون&lt;/strong&gt; کلاؤڈ نیٹو &lt;strong&gt;5G کور آرکیٹیکچر&lt;/strong&gt; پر مبنی ہے۔ اس کی انتہائی کم تاخیر، زیادہ گنجائش اور جدید صلاحیتیں صارفین کو اے آئی کی پروسیسنگ طاقت سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ &lt;strong&gt;نیٹ ورک سلیسنگ، نیٹ ورک اے پی آئی ایکسپوژر، آٹومیشن&lt;/strong&gt; اور ذہین ٹریفک مینجمنٹ جیسی سہولیات کی معاونت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5G اسٹینڈ الون، 5G کے دور کا اگلا مرحلہ ہے، جسے اے آئی ایپلی کیشنز کے مسلسل ارتقا کے لیے زیادہ کارکردگی، لچک اور ذہانت فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا &lt;strong&gt;پروگرام ایبل پلیٹ فارم&lt;/strong&gt; سروس پرووائیڈرز کو نئی صلاحیتیں تیزی سے تخلیق، متعارف اور اپ گریڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے—اکثر صرف چند گھنٹوں میں—اور وہ بھی جاری آپریشنز میں خلل ڈالے بغیر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹیکنالوجی زیادہ لچک فراہم کرنے کے ساتھ آمدنی کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے سروس پرووائیڈرز 5G کی مکمل صلاحیت بروئے کار لاکر مسابقت میں اپنی برتری برقرار رکھ سکتے ہیں اور صارفین کو بہتر اور بلاتعطل تجربات فراہم کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آج-ہی-5g-sa-کے-ذریعے-اے-آئی-کے-لیے-تیار-نیٹ-ورکس-کی-تعمیر" href="#آج-ہی-5g-sa-کے-ذریعے-اے-آئی-کے-لیے-تیار-نیٹ-ورکس-کی-تعمیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آج ہی 5G SA کے ذریعے اے آئی کے لیے تیار نیٹ ورکس کی تعمیر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے اے آئی کو وسیع پیمانے پر اپنانا اس نیٹ ورک پر منحصر ہے جو اسے منتقل کرتا ہے۔ اے آئی پر مبنی مستقبل کس شکل میں سامنے آئے گا، اس کا انحصار ان بنیادی ڈھانچوں سے متعلق فیصلوں پر ہوگا جو ہم آج کررہے ہیں۔ عالمی سطح پر اے آئی سے چلنے والی اگلی نسل کی ایپلی کیشنز کو فعال بنانے کے لیے 5G SA اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر مبنی باہم مربوط، اوپن اور محفوظ بنیاد ناگزیر ہے۔ سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماؤں کو 5G SA کو محض نیٹ ورک کی ایک اور اپ گریڈیشن نہیں بلکہ اے آئی معیشت کے ایک اسٹریٹیجک ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اے آئی کے مقامی دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں، جہاں قابلِ اعتماد اے آئی صلاحیتیں نیٹ ورکس کی ڈیزائننگ، تنصیب اور آپریشن کا لازمی حصہ بن جائیں گی۔ آج قابلِ توسیع، کلاؤڈ نیٹو 5G SA آرکیٹیکچر تعمیر کرکے ہم 6G اور ایک حقیقی خودکار ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی راہ ہموار کرسکتے ہیں، جو ذہین اور انتہائی مربوط مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور لچکدار بنیاد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مرکزی نوعیت کی اے آئی سے تقسیم شدہ ایجنٹک اے آئی کی جانب منتقلی—جس میں خودمختار اور مخصوص کاموں کے لیے تیار اے آئی ایجنٹس پیچیدہ کام مکمل کرنے کے لیے باہمی تعاون کرتے ہیں—موبائل کمیونیکیشنز پر مزید دباؤ ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ایجنٹس کو حقیقی وقت میں ڈیٹا اور متعلقہ سیاق و سباق حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ایجنٹس کو تلاش کرکے ان سے رابطہ بھی کرنا ہوگا۔ ایسی بہت سی ایپلی کیشنز میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے اور معمولی تاخیر یا معلومات کے سیاق و سباق میں معمولی تبدیلی بھی نتائج کو نمایاں طور پر متاثر کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالی لین دین انجام دینے والے اے آئی ایجنٹس کے لیے زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ یا معلومات کی فراہمی میں تاخیر براہِ راست لین دین کی مالیت کو متاثر کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے موزوں اور عالمی معیار کے نیٹ ورکس فراہم کرنے کے لیے ہمیں روایتی بیسٹ ایفورٹ کنیکٹیویٹی ماڈل سے آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ یہ ابھرتے ہوئے استعمالات کے لیے درکار قابلِ اعتماد، محفوظ اور اعلیٰ کارکردگی کی مسلسل ضمانت نہیں دے سکتے۔ روایتی نیٹ ورکس ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے حجم، انتہائی تیز ردعمل اور اے آئی پر مبنی دنیا کے لیے درکار بے شمار آلات کی کثافت سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت (اے آئی) جس طرح مختلف شعبوں کو نئی شکل دے رہی ہے، کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز اور آپٹیکل کنیکٹیویٹی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم ٹیلی کام نیٹ ورک، بالخصوص 5G اسٹینڈ الون ( فائیوجی ایس اے)، کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اے آئی کی جدت اس وقت تک مؤثر انداز میں وسعت اختیار نہیں کرسکتی جب تک بنیادی کنیکٹیویٹی کا ڈھانچہ بھی اس کے ساتھ ساتھ ترقی نہ کرے۔</strong></p>
<p>جیسے جیسے اے آئی کا بنیادی ڈھانچہ پختہ ہورہا ہے، اصل چیلنج یہ بن گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز سے اربوں صارفین تک اے آئی کی صلاحیتیں مؤثر انداز میں کیسے پہنچائی جائیں۔ اگر ہم اے آئی کی لامحدود صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو نیٹ ورک کو ہماری ترجیحات میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔</p>
<h3><a id="روایتی-بنیادی-ڈھانچے-سے-آگے-بڑھنے-کی-ضرورت" href="#روایتی-بنیادی-ڈھانچے-سے-آگے-بڑھنے-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>روایتی بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھنے کی ضرورت</h3>
<p>جنریٹو اے آئی کے ظہور کے بعد سے اے آئی کی کارکردگی اور ردعمل کو بہتر بنانا صنعتی مباحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ فروری 2026 میں صرف چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار فعال صارفین کی تعداد 90 کروڑ رپورٹ ہوئی۔ صلاحیت، تیز ردعمل اور قابلِ اعتماد سروس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے نیٹ ورکس کو بھی ارتقا پذیر ہونا ہوگا۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی وقت میں کام کرنے والی ملٹی موڈل اے آئی نیٹ ورک ٹریفک کے بالکل نئے انداز پیدا کرتی ہے۔ روایتی موبائل براڈ بینڈ کے برعکس، جسے بڑی حد تک انسانی استعمال کے لیے بہتر بنایا گیا تھا، نئی نسل کے اے آئی اسسٹنٹس اور براہِ راست کاروباری رہنمائی کے نظام آلات اور کلاؤڈ کے درمیان مسلسل معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ان ایپلی کیشنز میں اپ لنک ٹریفک زیادہ، تاخیر کی گنجائش کم اور سیشنز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ انہیں مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نیٹ ورک کو تقسیم شدہ اے آئی <strong>انفرنسنگ</strong> اور مشین لرننگ کے فعال معاون میں تبدیل ہونا ہوگا۔</p>
<h3><a id="اے-آئی-کے-اگلی-نسل-کے-تجربات-کو-تقویت-دینا" href="#اے-آئی-کے-اگلی-نسل-کے-تجربات-کو-تقویت-دینا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اے آئی کے اگلی نسل کے تجربات کو تقویت دینا</h3>
<p>نیٹ ورک کی کارکردگی اے آئی کے تجربے کا ایک فیصلہ کن عنصر بنتی جارہی ہے۔ اے آئی اور جدید کنیکٹیویٹی کا باہمی انحصار بڑھتا جارہا ہے: اے آئی نیٹ ورکس سے نئی نوعیت کے تقاضے پیدا کرتی ہے، جبکہ جدید نیٹ ورکس صارفین اور صنعتوں دونوں کے لیے اے آئی کے بالکل نئے استعمالات ممکن بناتے ہیں۔</p>
<p>اس کی ایک مثال اے آئی کا فزیکل اے آئی کی جانب ارتقا ہے—ایسے نظام جو حقیقی دنیا میں حقیقی وقت کے دوران ماحول کو محسوس، صورتحال کا تجزیہ اور کارروائی کرسکیں۔ خودکار گاڑیوں اور ڈرونز، اسمارٹ گلاسز اور دیگر پہننے کے قابل آلات کے علاوہ کاروباری اور صنعتی ماحول میں بھی ان کا استعمال ہورہا ہے۔</p>
<p>چونکہ یہ نظام بنیادی طور پر تقسیم شدہ نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کے لیے انہیں فائیو جی ایس اے کی جانب سے فراہم کردہ انتہائی قابلِ اعتماد موبائل کمیونیکیشن اور مختلف نوعیت کی کنیکٹیویٹی درکار ہوتی ہے۔ وقت کے لحاظ سے انتہائی اہم فیصلے اگرچہ تیزی سے ایج پر کیے جائیں گے، تاہم زیادہ کمپیوٹنگ درکار کاموں کے لیے کلاؤڈ پروسیسنگ پر انحصار برقرار رہے گا تاکہ اے آئی کے بھاری کاموں کے دوران آلات ضرورت سے زیادہ گرم نہ ہوں۔ مناسب تاخیر اور گنجائش کے ساتھ فائیو جی ایس اے نیٹ ورکس دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ مواصلاتی تاخیر حقیقی دنیا کے ماحول میں کارکردگی کو متاثر نہ کرے یا نظام کی ناکامی کا سبب نہ بنے۔</p>
<h3><a id="اعلیٰ-کارکردگی-کی-حامل-کنیکٹیویٹی-کی-صلاحیت-سے-فائدہ-اٹھانا" href="#اعلیٰ-کارکردگی-کی-حامل-کنیکٹیویٹی-کی-صلاحیت-سے-فائدہ-اٹھانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اعلیٰ کارکردگی کی حامل کنیکٹیویٹی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا</h3>
<p><strong>5G</strong> تاریخ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والی موبائل ٹیکنالوجی ہے۔ <strong>ایرکسن موبیلیٹی رپورٹ</strong> کے تازہ ترین ایڈیشن کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 5G سبسکرپشنز کی تعداد <strong>3.1 ارب</strong> تک پہنچ گئی۔ توقع ہے کہ 2027 کے اختتام تک دنیا بھر میں بنیادی موبائل ایکسس ٹیکنالوجی کے طور پر 5G، 4G کو پیچھے چھوڑ دے گا—یعنی اس کی تجارتی لانچ کے صرف نو برس بعد۔ دنیا بھر میں تقریباً <strong>390 سروس پرووائیڈرز</strong> تجارتی 5G سروسز متعارف کراچکے ہیں، جبکہ 90 سے زائد نے 5G اسٹینڈ الون سروسز بھی شروع کردی ہیں۔</p>
<p>روایتی 4G انفراسٹرکچر سے مکمل طور پر آزاد <strong>5G اسٹینڈ الون</strong> کلاؤڈ نیٹو <strong>5G کور آرکیٹیکچر</strong> پر مبنی ہے۔ اس کی انتہائی کم تاخیر، زیادہ گنجائش اور جدید صلاحیتیں صارفین کو اے آئی کی پروسیسنگ طاقت سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ <strong>نیٹ ورک سلیسنگ، نیٹ ورک اے پی آئی ایکسپوژر، آٹومیشن</strong> اور ذہین ٹریفک مینجمنٹ جیسی سہولیات کی معاونت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔</p>
<p>5G اسٹینڈ الون، 5G کے دور کا اگلا مرحلہ ہے، جسے اے آئی ایپلی کیشنز کے مسلسل ارتقا کے لیے زیادہ کارکردگی، لچک اور ذہانت فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا <strong>پروگرام ایبل پلیٹ فارم</strong> سروس پرووائیڈرز کو نئی صلاحیتیں تیزی سے تخلیق، متعارف اور اپ گریڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے—اکثر صرف چند گھنٹوں میں—اور وہ بھی جاری آپریشنز میں خلل ڈالے بغیر۔</p>
<p>یہ ٹیکنالوجی زیادہ لچک فراہم کرنے کے ساتھ آمدنی کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے سروس پرووائیڈرز 5G کی مکمل صلاحیت بروئے کار لاکر مسابقت میں اپنی برتری برقرار رکھ سکتے ہیں اور صارفین کو بہتر اور بلاتعطل تجربات فراہم کرسکتے ہیں۔</p>
<h3><a id="آج-ہی-5g-sa-کے-ذریعے-اے-آئی-کے-لیے-تیار-نیٹ-ورکس-کی-تعمیر" href="#آج-ہی-5g-sa-کے-ذریعے-اے-آئی-کے-لیے-تیار-نیٹ-ورکس-کی-تعمیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آج ہی 5G SA کے ذریعے اے آئی کے لیے تیار نیٹ ورکس کی تعمیر</h3>
<p>صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے اے آئی کو وسیع پیمانے پر اپنانا اس نیٹ ورک پر منحصر ہے جو اسے منتقل کرتا ہے۔ اے آئی پر مبنی مستقبل کس شکل میں سامنے آئے گا، اس کا انحصار ان بنیادی ڈھانچوں سے متعلق فیصلوں پر ہوگا جو ہم آج کررہے ہیں۔ عالمی سطح پر اے آئی سے چلنے والی اگلی نسل کی ایپلی کیشنز کو فعال بنانے کے لیے 5G SA اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر مبنی باہم مربوط، اوپن اور محفوظ بنیاد ناگزیر ہے۔ سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماؤں کو 5G SA کو محض نیٹ ورک کی ایک اور اپ گریڈیشن نہیں بلکہ اے آئی معیشت کے ایک اسٹریٹیجک ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔</p>
<p>ہم اے آئی کے مقامی دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں، جہاں قابلِ اعتماد اے آئی صلاحیتیں نیٹ ورکس کی ڈیزائننگ، تنصیب اور آپریشن کا لازمی حصہ بن جائیں گی۔ آج قابلِ توسیع، کلاؤڈ نیٹو 5G SA آرکیٹیکچر تعمیر کرکے ہم 6G اور ایک حقیقی خودکار ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی راہ ہموار کرسکتے ہیں، جو ذہین اور انتہائی مربوط مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور لچکدار بنیاد فراہم کرے گا۔</p>
<p>دوسری جانب مرکزی نوعیت کی اے آئی سے تقسیم شدہ ایجنٹک اے آئی کی جانب منتقلی—جس میں خودمختار اور مخصوص کاموں کے لیے تیار اے آئی ایجنٹس پیچیدہ کام مکمل کرنے کے لیے باہمی تعاون کرتے ہیں—موبائل کمیونیکیشنز پر مزید دباؤ ڈالے گی۔</p>
<p>ان ایجنٹس کو حقیقی وقت میں ڈیٹا اور متعلقہ سیاق و سباق حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ایجنٹس کو تلاش کرکے ان سے رابطہ بھی کرنا ہوگا۔ ایسی بہت سی ایپلی کیشنز میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے اور معمولی تاخیر یا معلومات کے سیاق و سباق میں معمولی تبدیلی بھی نتائج کو نمایاں طور پر متاثر کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالی لین دین انجام دینے والے اے آئی ایجنٹس کے لیے زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ یا معلومات کی فراہمی میں تاخیر براہِ راست لین دین کی مالیت کو متاثر کرسکتی ہے۔</p>
<p>اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے موزوں اور عالمی معیار کے نیٹ ورکس فراہم کرنے کے لیے ہمیں روایتی بیسٹ ایفورٹ کنیکٹیویٹی ماڈل سے آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ یہ ابھرتے ہوئے استعمالات کے لیے درکار قابلِ اعتماد، محفوظ اور اعلیٰ کارکردگی کی مسلسل ضمانت نہیں دے سکتے۔ روایتی نیٹ ورکس ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے حجم، انتہائی تیز ردعمل اور اے آئی پر مبنی دنیا کے لیے درکار بے شمار آلات کی کثافت سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290102</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Aug 2026 22:27:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کیون مرفی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/17221326d766c55.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/17221326d766c55.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا ریگولیٹری سینڈ باکس اور عالمی اے آئی ضوابط کے اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40290044/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویژن 2028 حکمت عملی کے تحت 2025 کے اواخر میں مالیاتی خدمات کے لیے ملک کا پہلا ریگولیٹری سینڈ باکس شروع کیا۔ لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ دونوں اداروں کو اس پہلے مرحلے میں درخواست دینے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ ایک کنٹرول شدہ ریگولیٹری ماحول میں حقیقی صارفین کے ڈیٹا کے ساتھ اپنی جدید مصنوعات کی آزمائش کرسکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے 2026 کے اوائل میں شارٹ لسٹ کیے گئے شرکا کی تفصیلات جاری کیں۔ اس گروپ میں فن ٹیک فراہم کنندگان اور نجی بینک شامل ہیں، جن کی مصنوعات تین اہم سروس کیٹیگریز، یعنی ٹیکنالوجی سے فعال ترسیلاتِ زر، اوپن بینکنگ اور ریموٹ مرچنٹ آن بورڈنگ سے متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں ریگولیٹری سینڈ باکسز کو مرکزی بینک اور دیگر ریگولیٹری ادارے لائیو لیبارٹریز کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ اور بلاک چین جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لے کر ان کے ضابطے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسیاں تیار کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری سینڈ باکس ایک واضح روڈ میپ اور مرحلہ وار اجرا کی حکمت عملی کے ساتھ شروع کیا ہے۔ توقع ہے کہ مرکزی بینک بالآخر ملک کے لیے جدید ٹیکنالوجی گورننس کے رہنما اصول تشکیل دے گا، کیونکہ وفاقی حکومت مالیاتی اور غیر مالیاتی دونوں شعبوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو منظم کرنے کے لیے بدستور فرسودہ قانونی ڈھانچوں پر انحصار کررہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز ریگولیٹر اور اس میں شریک اداروں دونوں کے لیے بروقت ہے، ان وجوہات کی بنا پر جن کا سینڈ باکس کی درخواستیں جاری ہونے سے قبل بہت کم لوگوں نے اندازہ لگایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز ایسے وقت ہوا ہے جب دنیا کے دوسرے حصے میں یورپی یونین (ای یو) میں اے آئی کے حوالے سے غیر معمولی ریگولیٹری پیش رفت ہورہی ہے۔ اگرچہ پاکستانی کمپنیاں براہ راست یورپی یونین کے ضوابط کی پابند نہیں ہیں، لیکن جن تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندگان سے وہ خدمات حاصل کرتی ہیں، وہ یقیناً ان ضوابط کے پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بینکاری شعبہ اپنے بنیادی بینکاری پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل کسٹمر پورٹلز اور الیکٹرانک ادائیگیوں کی پروسیسنگ کے انتظام کے لیے بین الاقوامی ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، جیسے ٹیمینوس، اوریکل اور سیلز فورس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان میں سے بہت سے فراہم کنندگان یا تو یورپی یونین میں ہیڈکوارٹر رکھتے ہیں یا وہاں بڑے پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ یورپی یونین  اے آئی ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی سروس فراہم کنندگان کے لیے مقرر کردہ ذمہ داریوں کے براہ راست پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین  اے آئی ایکٹ کو اختیاری تعمیلی فریم ورک کے طور پر متعارف نہیں کرایا گیا۔ اس کے بجائے یہ اے آئی کے لیے ایک مکمل نئے گورننس ڈھانچے کو لازمی قرار دیتا ہے۔ اس میں شفافیت کے تقاضے، نظام میں انسانی نگرانی کے لیے میکانزم اور زیادہ خطرے والے اے آئی سسٹمز کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔ یورپی یونین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والے اے آئی سروس فراہم کنندگان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان لازمی تعمیلی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش میں ان کے آپریشنل اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویلیو چین اکنامکس کی ایک کلاسک مثال کے طور پر سروس فراہم کنندگان یہ اضافی آپریشنل اخراجات خود برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے یہ بوجھ ان کے صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ ان کے کلائنٹس کو بڑھتی ہوئی لائسنس فیس، سبسکرپشنز یا عملدرآمد کے اضافی اخراجات کی صورت میں اضافی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔ اس کا اثر صرف یورپی یونین کے صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مؤثر عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں توقع کی جاسکتی ہے کہ وینڈرز مصنوعات کی 2 الگ لائنیں تیار کریں، ایک یورپی یونین کے صارفین کے لیے اور دوسری بیرون ملک صارفین کے لیے۔ یورپی یونین  اے آئی ایکٹ کے باعث بڑھنے والے آپریشنل اخراجات صرف ان کلائنٹس تک محدود رہنے چاہئیں جو یورپی یونین میں کاروبار کررہے ہیں۔ تاہم مارکیٹ منصفانہ نہیں ہے اور مختلف دائرہ ہائے اختیار میں لاگت کو الگ رکھنے میں شاذ و نادر ہی کامیاب رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کو تاریخ دان اور جدید دور کے ماہرین برسلز ایفیکٹ کہتے ہیں، جس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ یورپی مارکیٹ کا حجم اور قوتِ خرید اتنی زیادہ ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر القومی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی سلوشن فراہم کنندگان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مارکیٹوں اور ان کے مختلف ریگولیٹری معیارات کے مطابق مصنوعات کی الگ اقسام تیار کرنے کے بجائے اپنی مصنوعات کو یورپی یونین کے معیارات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یورپی یونین کے ضوابط عملاً عالمی معیار بن جاتے ہیں اور غیر یورپی ممالک میں رہنے والے صارفین کو بھی ان مصنوعات کے لیے وہی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے جو یورپین یونین میں موجود صارفین سے لی جاتی ہے، کیونکہ مصنوعات یورپی یونین اے آئی ایکٹ کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مالیاتی ادارے جو یورپی یونین سے درآمد شدہ سافٹ ویئر اور سرحد پار کلاؤڈ انفرااسٹرکچر استعمال کرتے ہیں، انہیں ان بین الاقوامی سروس فراہم کنندگان کی جانب سے خدمات کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسٹیٹ بینک کا ریگولیٹری سینڈ باکس پاکستانی بینکوں کے لیے کم لاگت والے متبادل حل تیار کرنے اور مقامی مالیاتی اداروں کو ریگولیٹری اثرات کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پالیسی-سفارش" href="#پالیسی-سفارش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پالیسی سفارش&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;درآمد شدہ سافٹ ویئر اور خدمات کی متوقع بڑھتی ہوئی لاگت صرف ان کے اے آئی اجزا سے متعلق ہوگی، جبکہ ان کے معیاری ورژنز متاثر نہیں ہوں گے۔ یورپی یونین کے اے آئی ضوابط کی وجہ سے آنے والی تعمیلی لاگت کو پیشگی طور پر منظم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اپنے ریگولیٹری سینڈ باکس کو استعمال کرتے ہوئے اسٹارٹ اپس اور فن ٹیکس کو مقامی بینکوں کے لیے اے آئی ایڈ آنز تیار کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ ان میں کے وائے سی/اے ایم ایل، فراڈ کی نشاندہی، کریڈٹ اسکورنگ اور ٹرانزیکشن مانیٹرنگ کے لیے مقامی اے آئی ماڈیولز شامل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی بینک درآمد شدہ سافٹ ویئر پر اپنے بنیادی بینکاری نظام چلاتے اور اپنے انفرااسٹرکچر کا انتظام کرتے رہ سکتے ہیں۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ فن ٹیکس کی جانب سے تیار کردہ کمپوننٹ لیول اے آئی فنکشنلٹی اپنانے کی ترغیب دیں، بشرطیکہ ان اے آئی حلوں کو اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہو۔ یہ حکمت عملی بینکوں کو آپریشنل تسلسل برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ آنے والی تعمیلی لاگت کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویژن 2028 حکمت عملی کے تحت 2025 کے اواخر میں مالیاتی خدمات کے لیے ملک کا پہلا ریگولیٹری سینڈ باکس شروع کیا۔ لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ دونوں اداروں کو اس پہلے مرحلے میں درخواست دینے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ ایک کنٹرول شدہ ریگولیٹری ماحول میں حقیقی صارفین کے ڈیٹا کے ساتھ اپنی جدید مصنوعات کی آزمائش کرسکیں گے۔</strong></p>
<p>ریگولیٹر نے 2026 کے اوائل میں شارٹ لسٹ کیے گئے شرکا کی تفصیلات جاری کیں۔ اس گروپ میں فن ٹیک فراہم کنندگان اور نجی بینک شامل ہیں، جن کی مصنوعات تین اہم سروس کیٹیگریز، یعنی ٹیکنالوجی سے فعال ترسیلاتِ زر، اوپن بینکنگ اور ریموٹ مرچنٹ آن بورڈنگ سے متعلق ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں ریگولیٹری سینڈ باکسز کو مرکزی بینک اور دیگر ریگولیٹری ادارے لائیو لیبارٹریز کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ اور بلاک چین جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا جائزہ لے کر ان کے ضابطے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسیاں تیار کی جاسکیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری سینڈ باکس ایک واضح روڈ میپ اور مرحلہ وار اجرا کی حکمت عملی کے ساتھ شروع کیا ہے۔ توقع ہے کہ مرکزی بینک بالآخر ملک کے لیے جدید ٹیکنالوجی گورننس کے رہنما اصول تشکیل دے گا، کیونکہ وفاقی حکومت مالیاتی اور غیر مالیاتی دونوں شعبوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو منظم کرنے کے لیے بدستور فرسودہ قانونی ڈھانچوں پر انحصار کررہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز ریگولیٹر اور اس میں شریک اداروں دونوں کے لیے بروقت ہے، ان وجوہات کی بنا پر جن کا سینڈ باکس کی درخواستیں جاری ہونے سے قبل بہت کم لوگوں نے اندازہ لگایا تھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس کا آغاز ایسے وقت ہوا ہے جب دنیا کے دوسرے حصے میں یورپی یونین (ای یو) میں اے آئی کے حوالے سے غیر معمولی ریگولیٹری پیش رفت ہورہی ہے۔ اگرچہ پاکستانی کمپنیاں براہ راست یورپی یونین کے ضوابط کی پابند نہیں ہیں، لیکن جن تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندگان سے وہ خدمات حاصل کرتی ہیں، وہ یقیناً ان ضوابط کے پابند ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا بینکاری شعبہ اپنے بنیادی بینکاری پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل کسٹمر پورٹلز اور الیکٹرانک ادائیگیوں کی پروسیسنگ کے انتظام کے لیے بین الاقوامی ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، جیسے ٹیمینوس، اوریکل اور سیلز فورس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان میں سے بہت سے فراہم کنندگان یا تو یورپی یونین میں ہیڈکوارٹر رکھتے ہیں یا وہاں بڑے پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ یورپی یونین  اے آئی ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی سروس فراہم کنندگان کے لیے مقرر کردہ ذمہ داریوں کے براہ راست پابند ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین  اے آئی ایکٹ کو اختیاری تعمیلی فریم ورک کے طور پر متعارف نہیں کرایا گیا۔ اس کے بجائے یہ اے آئی کے لیے ایک مکمل نئے گورننس ڈھانچے کو لازمی قرار دیتا ہے۔ اس میں شفافیت کے تقاضے، نظام میں انسانی نگرانی کے لیے میکانزم اور زیادہ خطرے والے اے آئی سسٹمز کی مسلسل نگرانی شامل ہے۔ یورپی یونین میں ہیڈکوارٹر رکھنے والے اے آئی سروس فراہم کنندگان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان لازمی تعمیلی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش میں ان کے آپریشنل اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ویلیو چین اکنامکس کی ایک کلاسک مثال کے طور پر سروس فراہم کنندگان یہ اضافی آپریشنل اخراجات خود برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے یہ بوجھ ان کے صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ ان کے کلائنٹس کو بڑھتی ہوئی لائسنس فیس، سبسکرپشنز یا عملدرآمد کے اضافی اخراجات کی صورت میں اضافی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔ اس کا اثر صرف یورپی یونین کے صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>ایک مؤثر عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں توقع کی جاسکتی ہے کہ وینڈرز مصنوعات کی 2 الگ لائنیں تیار کریں، ایک یورپی یونین کے صارفین کے لیے اور دوسری بیرون ملک صارفین کے لیے۔ یورپی یونین  اے آئی ایکٹ کے باعث بڑھنے والے آپریشنل اخراجات صرف ان کلائنٹس تک محدود رہنے چاہئیں جو یورپی یونین میں کاروبار کررہے ہیں۔ تاہم مارکیٹ منصفانہ نہیں ہے اور مختلف دائرہ ہائے اختیار میں لاگت کو الگ رکھنے میں شاذ و نادر ہی کامیاب رہی ہے۔</p>
<p>اس رجحان کو تاریخ دان اور جدید دور کے ماہرین برسلز ایفیکٹ کہتے ہیں، جس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ یورپی مارکیٹ کا حجم اور قوتِ خرید اتنی زیادہ ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>کثیر القومی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی سلوشن فراہم کنندگان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف مارکیٹوں اور ان کے مختلف ریگولیٹری معیارات کے مطابق مصنوعات کی الگ اقسام تیار کرنے کے بجائے اپنی مصنوعات کو یورپی یونین کے معیارات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یورپی یونین کے ضوابط عملاً عالمی معیار بن جاتے ہیں اور غیر یورپی ممالک میں رہنے والے صارفین کو بھی ان مصنوعات کے لیے وہی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے جو یورپین یونین میں موجود صارفین سے لی جاتی ہے، کیونکہ مصنوعات یورپی یونین اے آئی ایکٹ کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے مالیاتی ادارے جو یورپی یونین سے درآمد شدہ سافٹ ویئر اور سرحد پار کلاؤڈ انفرااسٹرکچر استعمال کرتے ہیں، انہیں ان بین الاقوامی سروس فراہم کنندگان کی جانب سے خدمات کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسٹیٹ بینک کا ریگولیٹری سینڈ باکس پاکستانی بینکوں کے لیے کم لاگت والے متبادل حل تیار کرنے اور مقامی مالیاتی اداروں کو ریگولیٹری اثرات کے پھیلاؤ اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="پالیسی-سفارش" href="#پالیسی-سفارش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پالیسی سفارش</h3>
<p>درآمد شدہ سافٹ ویئر اور خدمات کی متوقع بڑھتی ہوئی لاگت صرف ان کے اے آئی اجزا سے متعلق ہوگی، جبکہ ان کے معیاری ورژنز متاثر نہیں ہوں گے۔ یورپی یونین کے اے آئی ضوابط کی وجہ سے آنے والی تعمیلی لاگت کو پیشگی طور پر منظم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اپنے ریگولیٹری سینڈ باکس کو استعمال کرتے ہوئے اسٹارٹ اپس اور فن ٹیکس کو مقامی بینکوں کے لیے اے آئی ایڈ آنز تیار کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ ان میں کے وائے سی/اے ایم ایل، فراڈ کی نشاندہی، کریڈٹ اسکورنگ اور ٹرانزیکشن مانیٹرنگ کے لیے مقامی اے آئی ماڈیولز شامل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی بینک درآمد شدہ سافٹ ویئر پر اپنے بنیادی بینکاری نظام چلاتے اور اپنے انفرااسٹرکچر کا انتظام کرتے رہ سکتے ہیں۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ فن ٹیکس کی جانب سے تیار کردہ کمپوننٹ لیول اے آئی فنکشنلٹی اپنانے کی ترغیب دیں، بشرطیکہ ان اے آئی حلوں کو اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری سینڈ باکس میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہو۔ یہ حکمت عملی بینکوں کو آپریشنل تسلسل برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ آنے والی تعمیلی لاگت کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔</p>
<hr />
<p><strong>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40290044</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 12:21:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/161219308659183.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/161219308659183.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مکہ دفاعی معاہدہ اور یومِ آزادیِ پاکستان: خواب کی تعبیر، نئی منزل کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289986/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان جب اپنا یومِ آزادی منا رہا ہے تو سبز ہلالی پرچم محض نوآبادیاتی حکمرانی سے چھینی گئی آزادی کی یادگار کے طور پر نہیں لہرا رہا بلکہ عزم، قربانی اور دوراندیشی کی ایک زندہ علامت بن کر بلند ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال یومِ آزادی کی تقریبات کو تاریخی مکہ دفاعی معاہدے نے مزید معنویت عطا کردی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا یہ سہ فریقی معاہدہ اسلام کے مقدس ترین شہر میں طے پایا، جو مسلم یکجہتی اور اجتماعی سلامتی کے ایک نئے باب کی علامت ہے اور جس میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پاکستان کی 1947ء کے بعد کی ان کامیابیوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا جنہوں نے عالمی سطح پر اس کی حیثیت ازسرِنو متعین کی، جن میں جوہری صلاحیت، عسکری کامیابیاں اور سفارتی پیش رفت نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جوہری-صلاحیت-دفاعی-بازداریت-کی-بنیاد" href="#جوہری-صلاحیت-دفاعی-بازداریت-کی-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جوہری صلاحیت: دفاعی بازداریت کی بنیاد&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا جوہری پروگرام، جو علاقائی رقابتوں کے سائے میں ضرورت کے تحت وجود میں آیا، آج بھی اس کے دفاعی نظریے کا بنیادی ستون ہے۔ 1998ء کے کامیاب جوہری تجربات محض تکنیکی کامیابی نہیں تھے بلکہ خودمختاری کا اعلان تھے کہ جنوبی ایشیا کے سلامتی کے منظرنامے میں پاکستان کو دوبارہ کبھی دباؤ میں نہیں لایا جاسکے گا اور نہ ہی نظرانداز کیا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوہری صلاحیت نے اسلام آباد کو تزویراتی توازن فراہم کیا، جارحیت کو روکنے میں مدد دی اور اسے مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کی صلاحیت بخشی۔ یومِ آزادی پر یہ کامیابی یاد دلاتی ہے کہ آزادی کا تحفظ صرف نظریات سے نہیں بلکہ قابلِ اعتبار دفاعی بازداریت سے بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="2025ء-کی-فتح-ایک-فیصلہ-کن-لمحہ" href="#2025ء-کی-فتح-ایک-فیصلہ-کن-لمحہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2025ء کی فتح: ایک فیصلہ کن لمحہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;2025ء میں بھارت کے خلاف شاندار فتح محض میدانِ جنگ کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی تیاری، حوصلے اور قومی یکجہتی کی توثیق بھی تھی۔ ایسے تنازع میں جس نے برداشت اور عزم کا امتحان لیا، پاکستان کی مسلح افواج نے غیر معمولی عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا جبکہ پوری قوم یکجا ہوکر کھڑی ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فتح نے اعتماد بحال کیا، شکوک و شبہات دور کیے اور واضح کردیا کہ پاکستان کی دفاعی پوزیشن محض دعووں تک محدود نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اب یومِ آزادی کی تقریبات میں اس قوم کا فخر بھی شامل ہے جس نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی خودمختاری کا دفاع کیا اور ثابت کیا کہ استقامت اس کے قومی مزاج میں رچی بسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سفارتی-کامیابی-ایران-اور-امریکا-کے-درمیان-ثالث" href="#سفارتی-کامیابی-ایران-اور-امریکا-کے-درمیان-ثالث" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سفارتی کامیابی: ایران اور امریکا کے درمیان ثالث&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہم پاکستان کی سفارتی ارتقا کی کہانی ہے۔ کبھی عالمی سیاست میں ایک ثانوی کردار تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب عالمی بحرانوں میں ایک قابلِ اعتبار ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان، جو طویل عرصے سے شدید کشیدگی میں مبتلا دو حریف ہیں، مذاکرات میں پاکستان کا کردار ایک اہم سنگِ میل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پسِ پردہ مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان نے ثابت کیا کہ اس کی تزویراتی جغرافیائی حیثیت اور تاریخی تعلقات کو صرف طاقت کے لیے نہیں بلکہ امن کے فروغ کے لیے بھی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ یہ سفارتی کامیابی کوئی اتفاق نہیں تھی بلکہ &lt;strong&gt;مکہ دفاعی معاہدے کی بنیاد فراہم کرنے والی پیش رفت&lt;/strong&gt; تھی، جس کا تصور مذاکرات، بازداریت اور مشترکہ ذمہ داری پر مبنی اجتماعی سلامتی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مکہ-دفاعی-معاہدہ-وعدہ-بھی-ذمہ-داری-بھی" href="#مکہ-دفاعی-معاہدہ-وعدہ-بھی-ذمہ-داری-بھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مکہ دفاعی معاہدہ: وعدہ بھی، ذمہ داری بھی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مکہ میں طے پانے والا یہ معاہدہ علامتی اور عملی، دونوں اعتبار سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض مفاداتی اتحاد سے آگے بڑھ کر روحانی اور تزویراتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کے کئی فوائد ہیں: دفاعی تعاون میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا موقع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ اجتماعی دفاع کا مطلب اجتماعی خطرہ بھی ہے۔ پاکستان کو یکجہتی اور دانش مندی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ اس کی ذمہ داریاں اسے ایسے تنازعات میں نہ الجھائیں جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک وعدہ بھی ہے اور امتحان بھی—پاکستان کی اس صلاحیت کا کہ وہ عسکری قوت کو سفارتی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یومِ-آزادی-کا-تناظر" href="#یومِ-آزادی-کا-تناظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;یومِ آزادی کا تناظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں یومِ آزادی محض پریڈوں اور تقاریر کی رسمی تقریب نہیں۔ یہ غوروفکر کا موقع ہے: 1947ء کی قربانیوں، لڑی جانے والی جنگوں کی آزمائشوں، جوہری بازداریت کی کامیابی اور سفارتی پیش رفت پر سوچنے کا موقع۔ یہ تجدیدِ عہد کا لمحہ بھی ہے، جب پاکستان مکہ معاہدے کے ذریعے مسلم یکجہتی کے مرکز میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ 14 اگست کو بلند ہونے والا پرچم صرف ماضی کی جدوجہد کی علامت نہیں بلکہ مستقبل کی امنگوں کا استعارہ بھی ہے—ایسا پاکستان جو محفوظ، باوقار اور علاقائی امن کی تشکیل میں ناگزیر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="درپیش-چیلنجز" href="#درپیش-چیلنجز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;درپیش چیلنجز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تاہم جشن کے جذبے کو حقیقت پسندی سے متوازن رکھنا ہوگا۔ پاکستان کو معاشی کمزوریوں، سیاسی کشمکش اور بیرونی ذمہ داریوں کو ملکی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے مستقل چیلنج کا سامنا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اگرچہ امکانات سے بھرپور ہے، تاہم دانش مندی سے نہ سنبھالا گیا تو اسلام آباد کو ایسے تنازعات میں الجھا سکتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سفارتی ثالثی کے لیے مسلسل اعتبار ضروری ہے۔ پاکستان کو جانبداری سے گریز اور غیر جانب دارانہ حیثیت برقرار رکھنا ہوگی تاکہ اس پر اعتماد قائم رہے۔ لہٰذا یومِ آزادی یہ یاد دہانی بھی ہے کہ آزادی کوئی جامد شے نہیں؛ اسے چوکسی، اصلاحات اور دوراندیشی کے ذریعے مسلسل مضبوط کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اختتامیہ-صبحِ-آزادی-کی-تعبیر" href="#اختتامیہ-صبحِ-آزادی-کی-تعبیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اختتامیہ: صبحِ آزادی کی تعبیر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جب آزادی کی ایک اور سالگرہ منا رہا ہے تو عسکری کامیابیوں، جوہری بازداریت، سفارتی فتوحات اور مکہ دفاعی معاہدے کا امتزاج ایک نئے پاکستان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ تقسیم کے کٹھن مرحلے سے بازداریت اور سفارت کاری کی کامیابیوں تک پاکستان کا سفر دشوار بھی رہا اور حوصلہ افزا بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے نتیجے میں وجود میں آنے والا یہ معاہدہ ایک اختتام بھی ہے اور ایک نئی ابتدا بھی—دہائیوں پر محیط عالمی سطح پر اپنی شناخت منوانے کی جدوجہد کا نقطۂ عروج اور اجتماعی سلامتی کے ضامن کے طور پر ایک نئے کردار کا آغاز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیض احمد فیض نے کبھی کہا تھا: ’’یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر‘‘۔ آج پاکستان اس مایوسی کو رد کرسکتا ہے۔ صبح طلوع ہوچکی ہے—محض ایک خواب یا خوش فہمی کی صورت میں نہیں بلکہ حقیقت کی شکل میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یومِ آزادی محض جشن نہیں بلکہ عزم کا اعلان ہے۔ پاکستان اب صرف تاریخ کا بچ جانے والا کردار نہیں بلکہ اپنی تقدیر کی تشکیل کرنے والی قوت ہے؛ ایسا ملک جو امکانات کو احتیاط، طاقت کو دانائی اور خودمختاری کو یکجہتی کے ساتھ متوازن کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلند لہراتا سبز ہلالی پرچم اعلان کرتا ہے کہ پاکستان کی آزادی صرف محفوظ ہی نہیں، بلکہ نئے دور کے چیلنجز کے لیے ازسرِنو مستحکم، نئے مفہوم سے ہم آہنگ اور مزید مضبوط بھی کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: ضروری نہیں کہ مضمون بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان جب اپنا یومِ آزادی منا رہا ہے تو سبز ہلالی پرچم محض نوآبادیاتی حکمرانی سے چھینی گئی آزادی کی یادگار کے طور پر نہیں لہرا رہا بلکہ عزم، قربانی اور دوراندیشی کی ایک زندہ علامت بن کر بلند ہے۔</strong></p>
<p>اس سال یومِ آزادی کی تقریبات کو تاریخی مکہ دفاعی معاہدے نے مزید معنویت عطا کردی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا یہ سہ فریقی معاہدہ اسلام کے مقدس ترین شہر میں طے پایا، جو مسلم یکجہتی اور اجتماعی سلامتی کے ایک نئے باب کی علامت ہے اور جس میں پاکستان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے پاکستان کی 1947ء کے بعد کی ان کامیابیوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا جنہوں نے عالمی سطح پر اس کی حیثیت ازسرِنو متعین کی، جن میں جوہری صلاحیت، عسکری کامیابیاں اور سفارتی پیش رفت نمایاں ہیں۔</p>
<h3><a id="جوہری-صلاحیت-دفاعی-بازداریت-کی-بنیاد" href="#جوہری-صلاحیت-دفاعی-بازداریت-کی-بنیاد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جوہری صلاحیت: دفاعی بازداریت کی بنیاد</h3>
<p>پاکستان کا جوہری پروگرام، جو علاقائی رقابتوں کے سائے میں ضرورت کے تحت وجود میں آیا، آج بھی اس کے دفاعی نظریے کا بنیادی ستون ہے۔ 1998ء کے کامیاب جوہری تجربات محض تکنیکی کامیابی نہیں تھے بلکہ خودمختاری کا اعلان تھے کہ جنوبی ایشیا کے سلامتی کے منظرنامے میں پاکستان کو دوبارہ کبھی دباؤ میں نہیں لایا جاسکے گا اور نہ ہی نظرانداز کیا جاسکے گا۔</p>
<p>جوہری صلاحیت نے اسلام آباد کو تزویراتی توازن فراہم کیا، جارحیت کو روکنے میں مدد دی اور اسے مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کی صلاحیت بخشی۔ یومِ آزادی پر یہ کامیابی یاد دلاتی ہے کہ آزادی کا تحفظ صرف نظریات سے نہیں بلکہ قابلِ اعتبار دفاعی بازداریت سے بھی ہوتا ہے۔</p>
<h3><a id="2025ء-کی-فتح-ایک-فیصلہ-کن-لمحہ" href="#2025ء-کی-فتح-ایک-فیصلہ-کن-لمحہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2025ء کی فتح: ایک فیصلہ کن لمحہ</h3>
<p>2025ء میں بھارت کے خلاف شاندار فتح محض میدانِ جنگ کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی تیاری، حوصلے اور قومی یکجہتی کی توثیق بھی تھی۔ ایسے تنازع میں جس نے برداشت اور عزم کا امتحان لیا، پاکستان کی مسلح افواج نے غیر معمولی عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا جبکہ پوری قوم یکجا ہوکر کھڑی ہوگئی۔</p>
<p>اس فتح نے اعتماد بحال کیا، شکوک و شبہات دور کیے اور واضح کردیا کہ پاکستان کی دفاعی پوزیشن محض دعووں تک محدود نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اب یومِ آزادی کی تقریبات میں اس قوم کا فخر بھی شامل ہے جس نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی خودمختاری کا دفاع کیا اور ثابت کیا کہ استقامت اس کے قومی مزاج میں رچی بسی ہے۔</p>
<h3><a id="سفارتی-کامیابی-ایران-اور-امریکا-کے-درمیان-ثالث" href="#سفارتی-کامیابی-ایران-اور-امریکا-کے-درمیان-ثالث" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سفارتی کامیابی: ایران اور امریکا کے درمیان ثالث</h3>
<p>اتنی ہی اہم پاکستان کی سفارتی ارتقا کی کہانی ہے۔ کبھی عالمی سیاست میں ایک ثانوی کردار تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب عالمی بحرانوں میں ایک قابلِ اعتبار ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان، جو طویل عرصے سے شدید کشیدگی میں مبتلا دو حریف ہیں، مذاکرات میں پاکستان کا کردار ایک اہم سنگِ میل تھا۔</p>
<p>پسِ پردہ مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان نے ثابت کیا کہ اس کی تزویراتی جغرافیائی حیثیت اور تاریخی تعلقات کو صرف طاقت کے لیے نہیں بلکہ امن کے فروغ کے لیے بھی بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ یہ سفارتی کامیابی کوئی اتفاق نہیں تھی بلکہ <strong>مکہ دفاعی معاہدے کی بنیاد فراہم کرنے والی پیش رفت</strong> تھی، جس کا تصور مذاکرات، بازداریت اور مشترکہ ذمہ داری پر مبنی اجتماعی سلامتی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔</p>
<h3><a id="مکہ-دفاعی-معاہدہ-وعدہ-بھی-ذمہ-داری-بھی" href="#مکہ-دفاعی-معاہدہ-وعدہ-بھی-ذمہ-داری-بھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مکہ دفاعی معاہدہ: وعدہ بھی، ذمہ داری بھی</h3>
<p>مکہ میں طے پانے والا یہ معاہدہ علامتی اور عملی، دونوں اعتبار سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ محض مفاداتی اتحاد سے آگے بڑھ کر روحانی اور تزویراتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کے کئی فوائد ہیں: دفاعی تعاون میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا موقع۔</p>
<p>تاہم اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ اجتماعی دفاع کا مطلب اجتماعی خطرہ بھی ہے۔ پاکستان کو یکجہتی اور دانش مندی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ اس کی ذمہ داریاں اسے ایسے تنازعات میں نہ الجھائیں جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک وعدہ بھی ہے اور امتحان بھی—پاکستان کی اس صلاحیت کا کہ وہ عسکری قوت کو سفارتی بصیرت کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے۔</p>
<h3><a id="یومِ-آزادی-کا-تناظر" href="#یومِ-آزادی-کا-تناظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>یومِ آزادی کا تناظر</h3>
<p>اس پس منظر میں یومِ آزادی محض پریڈوں اور تقاریر کی رسمی تقریب نہیں۔ یہ غوروفکر کا موقع ہے: 1947ء کی قربانیوں، لڑی جانے والی جنگوں کی آزمائشوں، جوہری بازداریت کی کامیابی اور سفارتی پیش رفت پر سوچنے کا موقع۔ یہ تجدیدِ عہد کا لمحہ بھی ہے، جب پاکستان مکہ معاہدے کے ذریعے مسلم یکجہتی کے مرکز میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>چنانچہ 14 اگست کو بلند ہونے والا پرچم صرف ماضی کی جدوجہد کی علامت نہیں بلکہ مستقبل کی امنگوں کا استعارہ بھی ہے—ایسا پاکستان جو محفوظ، باوقار اور علاقائی امن کی تشکیل میں ناگزیر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔</p>
<h3><a id="درپیش-چیلنجز" href="#درپیش-چیلنجز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>درپیش چیلنجز</h3>
<p>تاہم جشن کے جذبے کو حقیقت پسندی سے متوازن رکھنا ہوگا۔ پاکستان کو معاشی کمزوریوں، سیاسی کشمکش اور بیرونی ذمہ داریوں کو ملکی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے مستقل چیلنج کا سامنا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اگرچہ امکانات سے بھرپور ہے، تاہم دانش مندی سے نہ سنبھالا گیا تو اسلام آباد کو ایسے تنازعات میں الجھا سکتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوں۔</p>
<p>اسی طرح سفارتی ثالثی کے لیے مسلسل اعتبار ضروری ہے۔ پاکستان کو جانبداری سے گریز اور غیر جانب دارانہ حیثیت برقرار رکھنا ہوگی تاکہ اس پر اعتماد قائم رہے۔ لہٰذا یومِ آزادی یہ یاد دہانی بھی ہے کہ آزادی کوئی جامد شے نہیں؛ اسے چوکسی، اصلاحات اور دوراندیشی کے ذریعے مسلسل مضبوط کرنا پڑتا ہے۔</p>
<h3><a id="اختتامیہ-صبحِ-آزادی-کی-تعبیر" href="#اختتامیہ-صبحِ-آزادی-کی-تعبیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اختتامیہ: صبحِ آزادی کی تعبیر</h3>
<p>پاکستان جب آزادی کی ایک اور سالگرہ منا رہا ہے تو عسکری کامیابیوں، جوہری بازداریت، سفارتی فتوحات اور مکہ دفاعی معاہدے کا امتزاج ایک نئے پاکستان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ تقسیم کے کٹھن مرحلے سے بازداریت اور سفارت کاری کی کامیابیوں تک پاکستان کا سفر دشوار بھی رہا اور حوصلہ افزا بھی۔</p>
<p>پاکستان کی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے نتیجے میں وجود میں آنے والا یہ معاہدہ ایک اختتام بھی ہے اور ایک نئی ابتدا بھی—دہائیوں پر محیط عالمی سطح پر اپنی شناخت منوانے کی جدوجہد کا نقطۂ عروج اور اجتماعی سلامتی کے ضامن کے طور پر ایک نئے کردار کا آغاز۔</p>
<p>فیض احمد فیض نے کبھی کہا تھا: ’’یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر‘‘۔ آج پاکستان اس مایوسی کو رد کرسکتا ہے۔ صبح طلوع ہوچکی ہے—محض ایک خواب یا خوش فہمی کی صورت میں نہیں بلکہ حقیقت کی شکل میں۔</p>
<p>لہٰذا یومِ آزادی محض جشن نہیں بلکہ عزم کا اعلان ہے۔ پاکستان اب صرف تاریخ کا بچ جانے والا کردار نہیں بلکہ اپنی تقدیر کی تشکیل کرنے والی قوت ہے؛ ایسا ملک جو امکانات کو احتیاط، طاقت کو دانائی اور خودمختاری کو یکجہتی کے ساتھ متوازن کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>بلند لہراتا سبز ہلالی پرچم اعلان کرتا ہے کہ پاکستان کی آزادی صرف محفوظ ہی نہیں، بلکہ نئے دور کے چیلنجز کے لیے ازسرِنو مستحکم، نئے مفہوم سے ہم آہنگ اور مزید مضبوط بھی کی جارہی ہے۔</p>
<p>نوٹ: ضروری نہیں کہ مضمون بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289986</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 20:18:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایس ایم حالی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/142002232162ec9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/142002232162ec9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کا اگلا امتحان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289820/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ماہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ’’کیش لیس پاکستان‘‘ اقدام کے پہلے سال کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار چونکا دینے والے تھے۔ سالانہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب ہو گئی ہے۔ فعال ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے چار گنا بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ رجسٹرڈ ڈیجیٹل بینکاری صارفین کی تعداد اب 13 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہے۔ جبکہ ملک میں ہونے والے تمام ریٹیل ادائیگیوں کے 92 فیصد لین دین اب ڈیجیٹل ذرائع سے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں نقد رقم سے دوری کا عمل زیادہ تر مبصرین کی توقعات کے مقابلے میں کہیں تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ اب بینکاری شعبے اور اس کے نگران اداروں کے لیے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے موجود بنیادی ڈھانچہ آنے والی تیزی کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے دسمبر 2026 تک 25 اہم وفاقی اور صوبائی اداروں کی ادائیگیوں کو قومی فوری ادائیگی کے نظام راست  کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی نشاندہی کی ہے۔ حکومت کی جانب سے افراد کو کی جانے والی تقریباً 75 فیصد ادائیگیاں پہلے ہی ڈیجیٹل طور پر قبول کی جا رہی ہیں۔ جب باقی ادائیگیاں بھی اسی نظام کا حصہ بنیں گی، جن میں پنشن، سماجی امداد اور خریداری کے لیے ادائیگیاں شامل ہیں، تو پاکستان کے بینکاری نظام کے ذریعے گزرنے والی لین دین کی مجموعی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی دور کی بات نہیں۔ راست نے 2025 میں 50 ٹریلین روپے مالیت کی ادائیگیوں پر کارروائی کی۔ اس پلیٹ فارم کے انفرادی صارفین کی تعداد اب 4 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ اس رفتار سے ہونے والی ترقی ایسے نظاموں پر حقیقی دباؤ ڈالتی ہے جو ایک مختلف دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بھی پرانے طرز کے تصدیقی اور ٹرانزیکشن پراسیسنگ پلیٹ فارمز پر چلنے والے بینک اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے نظام جو ایک گھنٹے میں ہزاروں ٹرانزیکشنز سنبھالنے کے لیے بنائے گئے تھے، اب ان سے لاکھوں لین دین نمٹانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ جب یہ نظام مطلوبہ صلاحیت سے کم پڑ جاتے ہیں تو صارفین کے لیے اس کے نتائج واضح ہوتے ہیں: تنخواہ اکاؤنٹ میں موصول نہ ہونا، مرچنٹ کی ادائیگی مسترد ہو جانا یا صارف کا اپنے ہی پیسوں تک رسائی سے محروم ہو جانا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کسی خراب تجربے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اعتماد کا فقدان پہلی مرتبہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام استعمال کرنے والوں کے لیے غیر متناسب طور پر زیادہ ہوتا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنا بھی غیر معمولی طور پر مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اپنے طور پر قابلِ تحسین ہے۔ خواتین کی مالیاتی شمولیت 2018 میں 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ مردوں اور خواتین کے درمیان مالیاتی شمولیت کا فرق 47 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گیا ہے۔ بینکنگ آن ایکویلیٹی پالیسی کے آغاز کے بعد فعال بینک اکاؤنٹس رکھنے والی خواتین کی تعداد 2 کروڑ سے بڑھ کر 3 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ حقیقی کامیابیاں ہیں، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مسلسل پالیسی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن حال ہی میں مالیاتی نظام کے ڈیجیٹل حصے میں شامل ہونے والی آبادی سروس میں خرابی کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ہے، کیونکہ ان کا اعتماد ابھی مضبوط نہیں ہوا۔ کراچی میں کام کرنے والا کوئی تنخواہ دار پیشہ ور اگر ناکام ٹرانزیکشن کا سامنا کرے تو وہ ایک گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کر لے گا۔ لیکن دیہی علاقے میں رہنے والی ایسی خاتون جو پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد ڈیجیٹل ذریعے سے وصول کر رہی ہو اور اسے نظام دستیاب نہ ملے، ممکن ہے دوبارہ کوشش ہی نہ کرے اور واپس نقد رقم کے استعمال کی طرف چلی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی خراب تجربے کے بعد پیدا ہونے والا اعتماد کا فقدان پہلی مرتبہ صارفین کے لیے غیر معمولی طور پر بڑا ہوتا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں سادا پے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے نسبتاً محدود سطح پر اس صورتحال کی مثال پیش کی۔ خلیج میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں بحرین میں اے ڈبلیو ایس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو فن ٹیک کمپنی کی موبائل ایپلی کیشن مکمل طور پر بند ہوگئی۔ اے ٹی ایمز اور پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز پر کارڈز بدستور کام کر رہے تھے، لیکن ایپ، جو زیادہ تر صارفین کے لیے بنیادی رابطے کا ذریعہ ہے، قابلِ رسائی نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے فنڈز محفوظ رہے اور سروس میں پیدا ہونے والا تعطل دور کر دیا گیا۔ اس کے باوجود اس واقعے نے ایک ایسے بنیادی نکتے کو واضح کیا جسے نظر انداز کرنا آسان ہے: جیسے جیسے پاکستان کی زیادہ سے زیادہ مالیاتی سرگرمیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہی ہیں، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کے نتائج صرف اس ایک ادارے تک محدود نہیں رہتے جہاں خرابی پیدا ہوتی ہے، بلکہ اس کے اثرات پورے ڈیجیٹل مالیاتی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غور کیجیے کہ آئندہ 12 سے 24 ماہ کے دوران پاکستان کے ادائیگیوں کے نظام سے کونسی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ راست-بُنا  انضمام اب فعال ہو چکا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام کو عرب مانیٹری فنڈ کے سرحد پار ادائیگیوں کے پلیٹ فارم سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے پاکستانی روپے میں حقیقی وقت میں ترسیلاتِ زر بھیجنا ممکن ہو گیا ہے۔ مالی سال 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے بڑے ترسیلاتی راستوں کے طور پر نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرزم پلس جو آئی ایس او 20022 معیار پر مبنی نیا حقیقی وقت کا بین البینک سیٹلمنٹ میکانزم ہے، بھی فعال ہو چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سائبر شیلڈ حکمت عملی بھی شروع کر دی گئی ہے، جس کا مقصد ریگولیٹڈ اداروں میں سائبر لچک اور نظام کی مضبوطی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے ہر پیش رفت بینکوں کے بنیادی ڈھانچے پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔ سرحد پار فوری ادائیگیوں کے لیے ایک ہی نظام میں حقیقی وقت میں پراسیسنگ، پابندیوں کی جانچ  اور ادائیگیوں کی حتمی تکمیل ضروری ہے۔ آئی ایس او 20022 کے تحت پیغام رسانی کے لیے پرانے فارمیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ تفصیلی اور پیچیدہ ڈیٹا کو سنبھالنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ مرچنٹ ایکوائرنگ کے بڑھتے ہوئے حجم، جہاں فعال مرچنٹس کی تعداد 20 لاکھ اور مسلسل بڑھ رہی ہے، ایسے تصدیقی نظاموں کا تقاضا کرتے ہیں جو کارکردگی متاثر کیے بغیر بڑے پیمانے پر لین دین سنبھال سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ بینک پہلے ہی اسی سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ حبیب میٹرو روزانہ 32 لاکھ 50 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز پراسیس کر رہا ہے اور اس نے اپنی کارڈ جاری کرنے اور ٹرانزیکشن پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اگلے مرحلے میں درکار اضافی صلاحیت اور پیچیدگی کو سنبھالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزان بینک بھی اپنے کارڈ جاری کرنے والے پلیٹ فارم میں اسی نوعیت کی اپ گریڈیشن مکمل کر چکا ہے اور اب روزانہ 70 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز پراسیس کرتا ہے، جبکہ عروج کے اوقات میں لین دین کی تعداد فی سیکنڈ 1,300 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس نوعیت کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرمایہ کاری ہے جو پورے شعبے میں زیادہ وسیع پیمانے پر نظر آنی چاہیے: یعنی صارف کو براہِ راست نظر آنے والی سطح پر ہی نہیں بلکہ اس کے نیچے موجود بنیادی نظام میں سرمایہ کاری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں عموماً صارف کو براہِ راست نظر آنے والی سطح پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے: ایپ، کیو آر کوڈ یا ڈیجیٹل والٹ۔ تاہم آنے والے برسوں میں پاکستانی بینکوں کے درمیان مسابقتی برتری کا تعین بڑی حد تک اس بات سے ہوگا کہ ان سب کی بنیاد میں کیا موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بینک جو جدید اور وسیع پیمانے پر قابلِ توسیع پلیٹ فارمز پر راست ادائیگیوں، سرحد پار ترسیلاتِ زر اور مرچنٹ ایکوائرنگ کے لین دین کو مؤثر طریقے سے پراسیس کر سکیں گے، وہ سب سے زیادہ قیمتی مالیاتی لین دین کو اپنی جانب راغب کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس وہ ادارے جو اب بھی دستی متبادل طریقوں، ایسے بیچ پراسیسنگ نظاموں پر انحصار کرتے ہیں جہاں اب حقیقی وقت میں پراسیسنگ متوقع ہے، یا ایسے سسٹم ڈاؤن ٹائم پر انحصار کرتے ہیں جسے صارفین اب برداشت نہیں کرتے، وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ ضروری نہیں کہ وہ دوسرے بینکوں سے پیچھے رہیں، بلکہ ممکن ہے کہ وہ ان فن ٹیک کمپنیوں اور ادائیگیوں کے سروس فراہم کنندگان سے پیچھے رہ جائیں جو ابتدا ہی سے بڑے پیمانے پر لین دین سنبھالنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایک ایسی معیشت سے، جو بڑی حد تک نقد رقم پر انحصار کرتی تھی، ایسے نظام کی جانب منتقلی جہاں ریٹیل لین دین کا 92 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے، ایک ایسی کامیابی ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔کیش لیس پاکستان اقدام نے واضح سمت متعین کردی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کا ویژن 2028 فریم ورک اس سمت کی حمایت کے لیے ضروری ریگولیٹری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مشکل مرحلہ باقی ہے: یہ یقینی بنانا کہ اس پورے نظام کی بنیاد بننے والا بینکاری بنیادی ڈھانچہ واقعی ان وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کی کہانی لکھی جا چکی ہے۔ اب بنیادی ڈھانچے کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ماہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ’’کیش لیس پاکستان‘‘ اقدام کے پہلے سال کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار چونکا دینے والے تھے۔ سالانہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب ہو گئی ہے۔ فعال ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے چار گنا بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ رجسٹرڈ ڈیجیٹل بینکاری صارفین کی تعداد اب 13 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہے۔ جبکہ ملک میں ہونے والے تمام ریٹیل ادائیگیوں کے 92 فیصد لین دین اب ڈیجیٹل ذرائع سے کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں نقد رقم سے دوری کا عمل زیادہ تر مبصرین کی توقعات کے مقابلے میں کہیں تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ اب بینکاری شعبے اور اس کے نگران اداروں کے لیے اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے موجود بنیادی ڈھانچہ آنے والی تیزی کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>حکومت نے دسمبر 2026 تک 25 اہم وفاقی اور صوبائی اداروں کی ادائیگیوں کو قومی فوری ادائیگی کے نظام راست  کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی نشاندہی کی ہے۔ حکومت کی جانب سے افراد کو کی جانے والی تقریباً 75 فیصد ادائیگیاں پہلے ہی ڈیجیٹل طور پر قبول کی جا رہی ہیں۔ جب باقی ادائیگیاں بھی اسی نظام کا حصہ بنیں گی، جن میں پنشن، سماجی امداد اور خریداری کے لیے ادائیگیاں شامل ہیں، تو پاکستان کے بینکاری نظام کے ذریعے گزرنے والی لین دین کی مجموعی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>یہ کوئی دور کی بات نہیں۔ راست نے 2025 میں 50 ٹریلین روپے مالیت کی ادائیگیوں پر کارروائی کی۔ اس پلیٹ فارم کے انفرادی صارفین کی تعداد اب 4 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ اس رفتار سے ہونے والی ترقی ایسے نظاموں پر حقیقی دباؤ ڈالتی ہے جو ایک مختلف دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے تھے۔</p>
<p>اب بھی پرانے طرز کے تصدیقی اور ٹرانزیکشن پراسیسنگ پلیٹ فارمز پر چلنے والے بینک اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے نظام جو ایک گھنٹے میں ہزاروں ٹرانزیکشنز سنبھالنے کے لیے بنائے گئے تھے، اب ان سے لاکھوں لین دین نمٹانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ جب یہ نظام مطلوبہ صلاحیت سے کم پڑ جاتے ہیں تو صارفین کے لیے اس کے نتائج واضح ہوتے ہیں: تنخواہ اکاؤنٹ میں موصول نہ ہونا، مرچنٹ کی ادائیگی مسترد ہو جانا یا صارف کا اپنے ہی پیسوں تک رسائی سے محروم ہو جانا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کسی خراب تجربے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اعتماد کا فقدان پہلی مرتبہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام استعمال کرنے والوں کے لیے غیر متناسب طور پر زیادہ ہوتا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنا بھی غیر معمولی طور پر مشکل ہوتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت اپنے طور پر قابلِ تحسین ہے۔ خواتین کی مالیاتی شمولیت 2018 میں 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ مردوں اور خواتین کے درمیان مالیاتی شمولیت کا فرق 47 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گیا ہے۔ بینکنگ آن ایکویلیٹی پالیسی کے آغاز کے بعد فعال بینک اکاؤنٹس رکھنے والی خواتین کی تعداد 2 کروڑ سے بڑھ کر 3 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ حقیقی کامیابیاں ہیں، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مسلسل پالیسی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہیں۔</p>
<p>لیکن حال ہی میں مالیاتی نظام کے ڈیجیٹل حصے میں شامل ہونے والی آبادی سروس میں خرابی کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ہے، کیونکہ ان کا اعتماد ابھی مضبوط نہیں ہوا۔ کراچی میں کام کرنے والا کوئی تنخواہ دار پیشہ ور اگر ناکام ٹرانزیکشن کا سامنا کرے تو وہ ایک گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کر لے گا۔ لیکن دیہی علاقے میں رہنے والی ایسی خاتون جو پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے ملنے والی مالی امداد ڈیجیٹل ذریعے سے وصول کر رہی ہو اور اسے نظام دستیاب نہ ملے، ممکن ہے دوبارہ کوشش ہی نہ کرے اور واپس نقد رقم کے استعمال کی طرف چلی جائے۔</p>
<p>کسی خراب تجربے کے بعد پیدا ہونے والا اعتماد کا فقدان پہلی مرتبہ صارفین کے لیے غیر معمولی طور پر بڑا ہوتا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>مارچ میں سادا پے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے نسبتاً محدود سطح پر اس صورتحال کی مثال پیش کی۔ خلیج میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں بحرین میں اے ڈبلیو ایس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو فن ٹیک کمپنی کی موبائل ایپلی کیشن مکمل طور پر بند ہوگئی۔ اے ٹی ایمز اور پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز پر کارڈز بدستور کام کر رہے تھے، لیکن ایپ، جو زیادہ تر صارفین کے لیے بنیادی رابطے کا ذریعہ ہے، قابلِ رسائی نہیں رہی۔</p>
<p>صارفین کے فنڈز محفوظ رہے اور سروس میں پیدا ہونے والا تعطل دور کر دیا گیا۔ اس کے باوجود اس واقعے نے ایک ایسے بنیادی نکتے کو واضح کیا جسے نظر انداز کرنا آسان ہے: جیسے جیسے پاکستان کی زیادہ سے زیادہ مالیاتی سرگرمیاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو رہی ہیں، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کے نتائج صرف اس ایک ادارے تک محدود نہیں رہتے جہاں خرابی پیدا ہوتی ہے، بلکہ اس کے اثرات پورے ڈیجیٹل مالیاتی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔</p>
<p>غور کیجیے کہ آئندہ 12 سے 24 ماہ کے دوران پاکستان کے ادائیگیوں کے نظام سے کونسی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ راست-بُنا  انضمام اب فعال ہو چکا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام کو عرب مانیٹری فنڈ کے سرحد پار ادائیگیوں کے پلیٹ فارم سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے پاکستانی روپے میں حقیقی وقت میں ترسیلاتِ زر بھیجنا ممکن ہو گیا ہے۔ مالی سال 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے بڑے ترسیلاتی راستوں کے طور پر نمایاں رہے۔</p>
<p>پرزم پلس جو آئی ایس او 20022 معیار پر مبنی نیا حقیقی وقت کا بین البینک سیٹلمنٹ میکانزم ہے، بھی فعال ہو چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سائبر شیلڈ حکمت عملی بھی شروع کر دی گئی ہے، جس کا مقصد ریگولیٹڈ اداروں میں سائبر لچک اور نظام کی مضبوطی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>ان میں سے ہر پیش رفت بینکوں کے بنیادی ڈھانچے پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے۔ سرحد پار فوری ادائیگیوں کے لیے ایک ہی نظام میں حقیقی وقت میں پراسیسنگ، پابندیوں کی جانچ  اور ادائیگیوں کی حتمی تکمیل ضروری ہے۔ آئی ایس او 20022 کے تحت پیغام رسانی کے لیے پرانے فارمیٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ تفصیلی اور پیچیدہ ڈیٹا کو سنبھالنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ مرچنٹ ایکوائرنگ کے بڑھتے ہوئے حجم، جہاں فعال مرچنٹس کی تعداد 20 لاکھ اور مسلسل بڑھ رہی ہے، ایسے تصدیقی نظاموں کا تقاضا کرتے ہیں جو کارکردگی متاثر کیے بغیر بڑے پیمانے پر لین دین سنبھال سکیں۔</p>
<p>کچھ بینک پہلے ہی اسی سمت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ حبیب میٹرو روزانہ 32 لاکھ 50 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز پراسیس کر رہا ہے اور اس نے اپنی کارڈ جاری کرنے اور ٹرانزیکشن پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اگلے مرحلے میں درکار اضافی صلاحیت اور پیچیدگی کو سنبھالا جا سکے۔</p>
<p>میزان بینک بھی اپنے کارڈ جاری کرنے والے پلیٹ فارم میں اسی نوعیت کی اپ گریڈیشن مکمل کر چکا ہے اور اب روزانہ 70 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز پراسیس کرتا ہے، جبکہ عروج کے اوقات میں لین دین کی تعداد فی سیکنڈ 1,300 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔</p>
<p>یہ اس نوعیت کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق سرمایہ کاری ہے جو پورے شعبے میں زیادہ وسیع پیمانے پر نظر آنی چاہیے: یعنی صارف کو براہِ راست نظر آنے والی سطح پر ہی نہیں بلکہ اس کے نیچے موجود بنیادی نظام میں سرمایہ کاری۔</p>
<p>ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں عموماً صارف کو براہِ راست نظر آنے والی سطح پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے: ایپ، کیو آر کوڈ یا ڈیجیٹل والٹ۔ تاہم آنے والے برسوں میں پاکستانی بینکوں کے درمیان مسابقتی برتری کا تعین بڑی حد تک اس بات سے ہوگا کہ ان سب کی بنیاد میں کیا موجود ہے۔</p>
<p>وہ بینک جو جدید اور وسیع پیمانے پر قابلِ توسیع پلیٹ فارمز پر راست ادائیگیوں، سرحد پار ترسیلاتِ زر اور مرچنٹ ایکوائرنگ کے لین دین کو مؤثر طریقے سے پراسیس کر سکیں گے، وہ سب سے زیادہ قیمتی مالیاتی لین دین کو اپنی جانب راغب کریں گے۔</p>
<p>اس کے برعکس وہ ادارے جو اب بھی دستی متبادل طریقوں، ایسے بیچ پراسیسنگ نظاموں پر انحصار کرتے ہیں جہاں اب حقیقی وقت میں پراسیسنگ متوقع ہے، یا ایسے سسٹم ڈاؤن ٹائم پر انحصار کرتے ہیں جسے صارفین اب برداشت نہیں کرتے، وہ پیچھے رہ جائیں گے۔ ضروری نہیں کہ وہ دوسرے بینکوں سے پیچھے رہیں، بلکہ ممکن ہے کہ وہ ان فن ٹیک کمپنیوں اور ادائیگیوں کے سروس فراہم کنندگان سے پیچھے رہ جائیں جو ابتدا ہی سے بڑے پیمانے پر لین دین سنبھالنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے تھے۔</p>
<p>پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایک ایسی معیشت سے، جو بڑی حد تک نقد رقم پر انحصار کرتی تھی، ایسے نظام کی جانب منتقلی جہاں ریٹیل لین دین کا 92 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے، ایک ایسی کامیابی ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔کیش لیس پاکستان اقدام نے واضح سمت متعین کردی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کا ویژن 2028 فریم ورک اس سمت کی حمایت کے لیے ضروری ریگولیٹری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اب مشکل مرحلہ باقی ہے: یہ یقینی بنانا کہ اس پورے نظام کی بنیاد بننے والا بینکاری بنیادی ڈھانچہ واقعی ان وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کی کہانی لکھی جا چکی ہے۔ اب بنیادی ڈھانچے کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازماً بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289820</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 10:47:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرخ علی بیگ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/11104426870f29a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/11104426870f29a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی ایچ پی وی ویکسین مہم کی کامیابی کا دارومدار عوامی اعتماد پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289735/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر چند برس بعد کوئی نہ کوئی ملک صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتا ہے۔ کہیں نئی ویکسین متعارف کرائی جاتی ہے، کہیں کسی بیماری کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہوتی ہے اور کہیں بچوں کی ایک پوری نسل کو ان بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے جو کبھی لاکھوں جانیں لے لیتی تھیں۔ پاکستان میں حالیہ طور پر ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین متعارف کرایا جانا بھی ایسا ہی ایک اہم سنگِ میل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی بار پاکستان کے پاس مستقبل میں سروائیکل کینسر کے ہزاروں کیسز کی روک تھام کا موقع ہے، جو دنیا بھر میں خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ویکسین متعارف کرانا صرف پہلا قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی ویکسین خریدی یا تقسیم کی گئی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو یہ ویکسین لگوانے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ صرف سائنسی شواہد سے نہیں بلکہ اعتماد، مؤثر آگاہی اور اطمینان سے تشکیل پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے نئے دور میں داخل ہوتے ہوئے شاید اسی سب سے اہم سبق کو اپنانا ہوگا۔ سروائیکل کینسر اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ان چند اقسام کے کینسر میں شامل ہے جن کی بڑی حد تک روک تھام ممکن ہے۔ ہیومن پیپیلوما وائرس کی بعض زیادہ خطرناک اقسام کا مسلسل انفیکشن تقریباً تمام سروائیکل کینسر کیسز کا سبب بنتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والے وسیع سائنسی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ ایچ پی وی ویکسین انفیکشن، کینسر سے قبل پیدا ہونے والے سروائیکل زخموں اور، بڑھتے ہوئے شواہد کے مطابق، خود سروائیکل کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے ممالک ان فوائد کا مشاہدہ شروع کرچکے ہیں۔ پاکستان بھی اب اس عالمی کوشش کا حصہ بن گیا ہے اور اسے لڑکیوں کی ایک پوری نسل کی صحت کا مستقبل بدلنے کا موقع حاصل ہے۔ تاہم قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں ویکسین متعارف کرانا اسے کسی سائنسی جریدے میں متعارف کرانے سے بالکل مختلف ہے۔ سائنسی شواہد اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن معاشرے ایک مختلف سوال کرتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا ہم اس پر اعتماد کرسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری اپنی تحقیق بھی اس چیلنج کے حوالے سے ایک اہم منظرنامہ پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوبل برڈن آف ایچ پی وی ( گلوب- ایچ پی وی) اسٹڈی کے تحت ہم نے حال ہی میں پاکستان میں شہری کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین میں ایچ پی وی انفیکشن کے حوالے سے آبادی کی سطح پر ہونے والی بڑی مطالعات میں سے ایک کی۔ اس تحقیق کے ذریعے ملک بھر میں ایچ پی وی ویکسین کے نفاذ سے قبل اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی مختلف جینیاتی اقسام سے متعلق تازہ بنیادی اعداد و شمار حاصل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وبائیاتی نتائج سائنسی اعتبار سے اہم ہیں، تاہم ایک اور مشاہدہ بھی اتنی ہی توجہ کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں سروائیکل کینسر اور ایچ پی وی کے بارے میں آگاہی انتہائی محدود پائی گئی۔ بہت سی خواتین کے لیے سروائیکل کینسر ایک اجنبی بیماری تھی، کئی نے ایچ پی وی کا نام تک نہیں سنا تھا اور اسکریننگ کی سہولت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم اس محدود آگاہی کے باوجود بہت سی خواتین نے واضح اور احترام کے ساتھ معلومات فراہم کیے جانے کے بعد حفاظتی اقدامات میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر ہمارے لیے حوصلہ افزا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشرے سائنس کو مسترد نہیں کررہے، وہ فیصلے کرنے سے پہلے قابلِ فہم اور قابلِ اعتماد معلومات چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحتِ عامہ کے شعبے میں اکثر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ سائنسی حقائق فراہم کردینا رویوں میں تبدیلی کے لیے کافی ہے۔ تاہم کئی دہائیوں پر محیط عملی تحقیق اس کے برعکس نتائج پیش کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ صحت سے متعلق فیصلے اعتماد پر مبنی تعلقات کے ذریعے کرتے ہیں۔ والدین ڈاکٹروں، نرسوں، اساتذہ، خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور بہت سے پاکستانی خاندانوں کے لیے قابلِ احترام مذہبی علما سے اطمینان اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کو تسلیم کرنا سائنس کو کمزور نہیں کرتا بلکہ صحتِ عامہ کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ کامیاب حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام یہ سمجھتے ہیں کہ اعتماد ہدایات دینے سے نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ جب معلومات ان آوازوں کے ذریعے پہنچتی ہیں جنہیں لوگ پہلے سے جانتے اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں تو معاشرے صحت سے متعلق اقدامات قبول کرنے پر زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے کمیونٹی سے رابطے کو محض ایک اختیاری آگاہی سرگرمی کے بجائے ایچ پی وی ویکسین کے نفاذ کا بنیادی جزو سمجھا جانا چاہیے۔ طبی عملے کو ویکسین کی حفاظت، مؤثریت اور زرخیزی سے متعلق سوالات کے جواب اعتماد اور ہمدردی کے ساتھ دینے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو بھی مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہئیں کیونکہ والدین کے ساتھ رابطے میں وہ اکثر سب سے پہلے سامنے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیونٹی تنظیمیں بھی اس امر میں مدد دے سکتی ہیں کہ غلط معلومات سے پہلے درست معلومات خاندانوں تک پہنچ جائیں۔ اسی طرح مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بہت سے پاکستانی خاندانوں کے لیے مذہب اور صحت ایک دوسرے کے متضاد اثرات نہیں بلکہ رہنمائی کے دو باہم معاون ذرائع ہیں۔ اسلام میں جان کے تحفظ (حفظ النفس)، بیماری سے بچاؤ اور مفید علاج اختیار کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔ یہ اصول طویل عرصے سے حفاظتی صحت کے اقدامات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک نے ایچ پی وی ویکسین کو اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگراموں میں کامیابی سے شامل کیا ہے۔ پاکستان کے صحت کے حکام بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ممتاز اسلامی علما ایچ پی وی ویکسین کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اسلامی اقدار سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے مذہب کی جانب سے سائنس کی توثیق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بلکہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ سائنس اور مذہب ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں: آنے والی نسلوں کی صحت اور زندگی کا تحفظ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملی سطح پر ویکسین کے نفاذ سے متعلق تحقیق سے ایک اور اہم سبق بھی سامنے آتا ہے۔ وہ ممالک جہاں ویکسینیشن پروگرام مسلسل کامیاب رہتے ہیں، عموماً کسی ایک حکمتِ عملی پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ سائنسی شواہد، شفاف آگاہی، سیاسی عزم، مضبوط بنیادی صحت کے نظام، کمیونٹی شراکت داری اور عوامی اعتماد کو یکجا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعتماد کسی بحران کے دوران قائم نہیں ہوتا۔ اسے اس سے بہت پہلے پروان چڑھانا پڑتا ہے، جب تک غلط معلومات کو پھیلنے کا موقع نہ ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ شروع ہی سے کمیونٹی کو اعتماد میں لیا جائے، خدشات کو احترام سے سنا جائے، مشکل سوالات کے دیانت دارانہ جواب دیے جائیں اور ہر خاندان کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی رائے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ایچ پی وی ویکسین متعارف کراکے تاریخی پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس پروگرام کو محض ایک اور مہم بننے کے بجائے پائیدار کامیابی کے حامل صحتِ عامہ کے پروگرام میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے لیے ویکسین کی فراہمی سے آگے بڑھ کر ویکسین پر عوام کا اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعتماد اس وقت بڑھتا ہے جب سائنسی شواہد کو واضح انداز میں بیان کیا جائے اور طبی عملے کو ضروری معاونت فراہم کی جائے۔ اعتماد اس وقت بھی بڑھتا ہے جب اسکول، کمیونٹیز اور مذہبی رہنما محض تماشائی نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔ سب سے بڑھ کر اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کو قائل کرنے کے بجائے ان کے خدشات اور احساسات کا احترام کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دن پاکستان کے ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام کے حقیقی اثرات کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگایا جائے گا کہ کتنی لڑکیوں کو ویکسین لگائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ بامعنی صورت میں سامنے آئیں گے: وہ مائیں جو سروائیکل کینسر کا شکار نہیں ہوں گی، وہ بیٹیاں جو قابلِ علاج بیماری سے محفوظ رہتے ہوئے پروان چڑھیں گی اور وہ خاندان جو ایسی عورت کو کھونے کے غم سے محفوظ رہیں گے جس کی زندگی بچائی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویکسین سروائیکل کینسر سے بچاؤ کرتی ہے، لیکن اعتماد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ویکسین اپنا یہ وعدہ پورا کرسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر چند برس بعد کوئی نہ کوئی ملک صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتا ہے۔ کہیں نئی ویکسین متعارف کرائی جاتی ہے، کہیں کسی بیماری کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہوتی ہے اور کہیں بچوں کی ایک پوری نسل کو ان بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے جو کبھی لاکھوں جانیں لے لیتی تھیں۔ پاکستان میں حالیہ طور پر ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین متعارف کرایا جانا بھی ایسا ہی ایک اہم سنگِ میل ہے۔</strong></p>
<p>پہلی بار پاکستان کے پاس مستقبل میں سروائیکل کینسر کے ہزاروں کیسز کی روک تھام کا موقع ہے، جو دنیا بھر میں خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔</p>
<p>تاہم تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ویکسین متعارف کرانا صرف پہلا قدم ہے۔</p>
<p>کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ کتنی ویکسین خریدی یا تقسیم کی گئی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو یہ ویکسین لگوانے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ صرف سائنسی شواہد سے نہیں بلکہ اعتماد، مؤثر آگاہی اور اطمینان سے تشکیل پاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے نئے دور میں داخل ہوتے ہوئے شاید اسی سب سے اہم سبق کو اپنانا ہوگا۔ سروائیکل کینسر اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ان چند اقسام کے کینسر میں شامل ہے جن کی بڑی حد تک روک تھام ممکن ہے۔ ہیومن پیپیلوما وائرس کی بعض زیادہ خطرناک اقسام کا مسلسل انفیکشن تقریباً تمام سروائیکل کینسر کیسز کا سبب بنتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والے وسیع سائنسی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ ایچ پی وی ویکسین انفیکشن، کینسر سے قبل پیدا ہونے والے سروائیکل زخموں اور، بڑھتے ہوئے شواہد کے مطابق، خود سروائیکل کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔</p>
<p>بہت سے ممالک ان فوائد کا مشاہدہ شروع کرچکے ہیں۔ پاکستان بھی اب اس عالمی کوشش کا حصہ بن گیا ہے اور اسے لڑکیوں کی ایک پوری نسل کی صحت کا مستقبل بدلنے کا موقع حاصل ہے۔ تاہم قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں ویکسین متعارف کرانا اسے کسی سائنسی جریدے میں متعارف کرانے سے بالکل مختلف ہے۔ سائنسی شواہد اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔</p>
<p>لیکن معاشرے ایک مختلف سوال کرتے ہیں:</p>
<p>کیا ہم اس پر اعتماد کرسکتے ہیں؟</p>
<p>ہماری اپنی تحقیق بھی اس چیلنج کے حوالے سے ایک اہم منظرنامہ پیش کرتی ہے۔</p>
<p>گلوبل برڈن آف ایچ پی وی ( گلوب- ایچ پی وی) اسٹڈی کے تحت ہم نے حال ہی میں پاکستان میں شہری کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین میں ایچ پی وی انفیکشن کے حوالے سے آبادی کی سطح پر ہونے والی بڑی مطالعات میں سے ایک کی۔ اس تحقیق کے ذریعے ملک بھر میں ایچ پی وی ویکسین کے نفاذ سے قبل اس وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی مختلف جینیاتی اقسام سے متعلق تازہ بنیادی اعداد و شمار حاصل کیے گئے۔</p>
<p>اگرچہ وبائیاتی نتائج سائنسی اعتبار سے اہم ہیں، تاہم ایک اور مشاہدہ بھی اتنی ہی توجہ کا مستحق ہے۔</p>
<p>شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں سروائیکل کینسر اور ایچ پی وی کے بارے میں آگاہی انتہائی محدود پائی گئی۔ بہت سی خواتین کے لیے سروائیکل کینسر ایک اجنبی بیماری تھی، کئی نے ایچ پی وی کا نام تک نہیں سنا تھا اور اسکریننگ کی سہولت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ تاہم اس محدود آگاہی کے باوجود بہت سی خواتین نے واضح اور احترام کے ساتھ معلومات فراہم کیے جانے کے بعد حفاظتی اقدامات میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔</p>
<p>یہ امر ہمارے لیے حوصلہ افزا ہونا چاہیے۔</p>
<p>معاشرے سائنس کو مسترد نہیں کررہے، وہ فیصلے کرنے سے پہلے قابلِ فہم اور قابلِ اعتماد معلومات چاہتے ہیں۔</p>
<p>صحتِ عامہ کے شعبے میں اکثر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ سائنسی حقائق فراہم کردینا رویوں میں تبدیلی کے لیے کافی ہے۔ تاہم کئی دہائیوں پر محیط عملی تحقیق اس کے برعکس نتائج پیش کرتی ہے۔</p>
<p>لوگ صحت سے متعلق فیصلے اعتماد پر مبنی تعلقات کے ذریعے کرتے ہیں۔ والدین ڈاکٹروں، نرسوں، اساتذہ، خاندان کے افراد، پڑوسیوں اور بہت سے پاکستانی خاندانوں کے لیے قابلِ احترام مذہبی علما سے اطمینان اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>اس حقیقت کو تسلیم کرنا سائنس کو کمزور نہیں کرتا بلکہ صحتِ عامہ کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ کامیاب حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام یہ سمجھتے ہیں کہ اعتماد ہدایات دینے سے نہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ جب معلومات ان آوازوں کے ذریعے پہنچتی ہیں جنہیں لوگ پہلے سے جانتے اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں تو معاشرے صحت سے متعلق اقدامات قبول کرنے پر زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے کمیونٹی سے رابطے کو محض ایک اختیاری آگاہی سرگرمی کے بجائے ایچ پی وی ویکسین کے نفاذ کا بنیادی جزو سمجھا جانا چاہیے۔ طبی عملے کو ویکسین کی حفاظت، مؤثریت اور زرخیزی سے متعلق سوالات کے جواب اعتماد اور ہمدردی کے ساتھ دینے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔ اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو بھی مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہئیں کیونکہ والدین کے ساتھ رابطے میں وہ اکثر سب سے پہلے سامنے آتے ہیں۔</p>
<p>کمیونٹی تنظیمیں بھی اس امر میں مدد دے سکتی ہیں کہ غلط معلومات سے پہلے درست معلومات خاندانوں تک پہنچ جائیں۔ اسی طرح مذہبی رہنماؤں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بہت سے پاکستانی خاندانوں کے لیے مذہب اور صحت ایک دوسرے کے متضاد اثرات نہیں بلکہ رہنمائی کے دو باہم معاون ذرائع ہیں۔ اسلام میں جان کے تحفظ (حفظ النفس)، بیماری سے بچاؤ اور مفید علاج اختیار کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔ یہ اصول طویل عرصے سے حفاظتی صحت کے اقدامات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب، انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک نے ایچ پی وی ویکسین کو اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگراموں میں کامیابی سے شامل کیا ہے۔ پاکستان کے صحت کے حکام بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ممتاز اسلامی علما ایچ پی وی ویکسین کی حمایت کرتے ہیں اور اسے اسلامی اقدار سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اسے مذہب کی جانب سے سائنس کی توثیق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بلکہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ سائنس اور مذہب ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرسکتے ہیں: آنے والی نسلوں کی صحت اور زندگی کا تحفظ۔</p>
<p>عملی سطح پر ویکسین کے نفاذ سے متعلق تحقیق سے ایک اور اہم سبق بھی سامنے آتا ہے۔ وہ ممالک جہاں ویکسینیشن پروگرام مسلسل کامیاب رہتے ہیں، عموماً کسی ایک حکمتِ عملی پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ سائنسی شواہد، شفاف آگاہی، سیاسی عزم، مضبوط بنیادی صحت کے نظام، کمیونٹی شراکت داری اور عوامی اعتماد کو یکجا کرتے ہیں۔</p>
<p>اعتماد کسی بحران کے دوران قائم نہیں ہوتا۔ اسے اس سے بہت پہلے پروان چڑھانا پڑتا ہے، جب تک غلط معلومات کو پھیلنے کا موقع نہ ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ شروع ہی سے کمیونٹی کو اعتماد میں لیا جائے، خدشات کو احترام سے سنا جائے، مشکل سوالات کے دیانت دارانہ جواب دیے جائیں اور ہر خاندان کو یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی رائے اہم ہے۔</p>
<p>پاکستان نے ایچ پی وی ویکسین متعارف کراکے تاریخی پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ اس پروگرام کو محض ایک اور مہم بننے کے بجائے پائیدار کامیابی کے حامل صحتِ عامہ کے پروگرام میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے لیے ویکسین کی فراہمی سے آگے بڑھ کر ویکسین پر عوام کا اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔</p>
<p>اعتماد اس وقت بڑھتا ہے جب سائنسی شواہد کو واضح انداز میں بیان کیا جائے اور طبی عملے کو ضروری معاونت فراہم کی جائے۔ اعتماد اس وقت بھی بڑھتا ہے جب اسکول، کمیونٹیز اور مذہبی رہنما محض تماشائی نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔ سب سے بڑھ کر اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کو قائل کرنے کے بجائے ان کے خدشات اور احساسات کا احترام کیا جائے۔</p>
<p>ایک دن پاکستان کے ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام کے حقیقی اثرات کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگایا جائے گا کہ کتنی لڑکیوں کو ویکسین لگائی گئی۔</p>
<p>اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ بامعنی صورت میں سامنے آئیں گے: وہ مائیں جو سروائیکل کینسر کا شکار نہیں ہوں گی، وہ بیٹیاں جو قابلِ علاج بیماری سے محفوظ رہتے ہوئے پروان چڑھیں گی اور وہ خاندان جو ایسی عورت کو کھونے کے غم سے محفوظ رہیں گے جس کی زندگی بچائی جاسکتی تھی۔</p>
<p>ویکسین سروائیکل کینسر سے بچاؤ کرتی ہے، لیکن اعتماد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ویکسین اپنا یہ وعدہ پورا کرسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289735</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 00:56:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر مسلمہ اعجاز احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/09003245cd78c58.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/09003245cd78c58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دفاعی اور نجی شعبے میں اے آئی کا انضمام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289704/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں اسلام آباد میں انڈس آر اے ایس (روبوٹکس اینڈ خودمختار نظام) ایکسپو 2026 کے انعقاد نے نہ صرف ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی نمائش کا موقع فراہم کیا بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کی کہ پاکستان قومی ترقی اور سلامتی میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودمختار نظام کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی آٹومیشن اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ سے لے کر صحت عامہ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور دفاع تک، اے آئی تیزی سے ایک ایسی اسٹریٹجک صلاحیت بنتی جا رہی ہے جو ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ نوجوان اور تیزی سے وسعت پذیر ٹیکنالوجی کے شعبے اور پیچیدہ ہوتے علاقائی سکیورٹی ماحول کے حامل ملک کے لیے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور خودمختار نظاموں میں سرمایہ کاری محض ایک موقع نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی اے آئی کو بنیادی طور پر وائس اسسٹنٹس اور سفارشات دینے والے الگورتھمز تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسے دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے جنگ لڑنے کے طریقے اور فیصلہ سازی کا انداز تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ مسلح تنازعات کے مستقبل کے حوالے سے اہم اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا، چین، روس، اسرائیل، برطانیہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے متعدد اتحادی ممالک سمیت بڑی فوجی طاقتوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ نظام اب انٹیلی جنس کا تجزیہ کرنے، لاجسٹکس کو مربوط بنانے، فوجی اہداف کی نشاندہی کرنے، سائبر حملوں سے دفاع اور خودمختار یا نیم خودمختار گاڑیاں چلانے کے لیے تیزی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تیزی سے ہونے والی اس پیش رفت نے متعدد دفاعی تجزیہ کاروں کو اے آئی کا موازنہ بارود، طیاروں اور جوہری ہتھیاروں کی ایجاد سے آنے والے فوجی انقلاب سے کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تاہم ان ٹیکنالوجیز کے برعکس مصنوعی ذہانت مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جتنا زیادہ ڈیٹا پروسیس کرتی ہے اور پیچیدہ ماحول سے جتنا زیادہ تعامل کرتی ہے، اتنی ہی بہتر ہوتی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-کا-نیا-میدان" href="#جنگ-کا-نیا-میدان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا نیا میدان&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جدید جنگیں معلومات کی وسیع مقدار پیدا کرتی ہیں۔ سیٹلائٹس، نگرانی کرنے والے ڈرونز، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی رابطوں کی جاسوسی اور سوشل میڈیا روزانہ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس پیدا کرتے ہیں۔ انسانی تجزیہ کار اب تنہا اس معلومات کو اتنی تیزی سے پراسیس نہیں کر سکتے کہ جنگی میدان میں حکمتِ عملی کی برتری برقرار رکھی جا سکے۔ مصنوعی ذہانت اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشین لرننگ پر مبنی نظام سیٹلائٹ تصاویر سے فوجیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی نشاندہی، حقیقی وقت میں میزائل داغے جانے کا پتا لگانے اور انٹیلی جنس رپورٹس کو اہمیت کے لحاظ سے ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا پروجیکٹ میون اس بات کی مثال ہے کہ اے آئی کس طرح بصری ڈیٹا کی وسیع مقدار کو انسانی تجزیہ کاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پروسیس کرسکتی ہے، جس سے زیادہ تیز اور بہتر معلومات پر مبنی فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔ دنیا کے دیگر تنازعات میں بھی ایسی ہی ٹیکنالوجیز آزمائی یا استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک نظری صلاحیت نہیں رہی بلکہ عملی جنگی حقیقت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" href="#ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈرونز مزید ذہین ہوگئے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنگ میں اے آئی کے استعمال کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک بغیر پائلٹ فضائی نظام کا تیزی سے ارتقا ہے۔ ابتدا میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز اب خودکار پرواز، اہداف کی شناخت اور دیگر بغیر پائلٹ نظاموں کے ساتھ مربوط کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ تجرباتی پروگرامز میں ڈرونز کے ایسے گروہوں، جنہیں عموماً ’’سوارمز‘‘ کہا جاتا ہے، کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، میدانِ جنگ کی بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے اور مربوط نقل و حرکت کے ذریعے دشمن کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;حالیہ امریکا اور ایران تنازع کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے طیارے سے باہر نکلنے سے قبل ایک حیران کن منظر دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو فضا میں ایک ساتھ منڈلاتے اور ایسی تشکیل میں حرکت کرتے دیکھا جو جیلی فش سے مشابہ تھی۔ ڈرونز کی اس طرح کی اجتماعی نقل و حرکت جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سائبر-محاذ" href="#سائبر-محاذ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سائبر محاذ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت میدانِ جنگ سے باہر بھی جنگی حکمتِ عملی کو تبدیل کر رہی ہے۔ جدید سائبر کارروائیوں میں رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اے آئی سسٹمز سافٹ ویئر کی کمزوریوں کی نشاندہی، نقصان دہ نیٹ ورک سرگرمی کا پتا لگانے اور سائبر حملوں کا منٹوں یا گھنٹوں کے بجائے چند سیکنڈز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، مخالف عناصر بھی اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر خودکار فِشنگ مہمات چلانے، قابلِ یقین جعلی شناختیں بنانے اور غیر معمولی پیمانے پر پیچیدہ گمراہ کن معلومات پھیلانے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی سے تیار کردہ ایسی آڈیو اور ویڈیو بھی ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی خطرہ بن چکی ہیں جو حقیقی شخصیات کی انتہائی قابلِ یقین نقل کرسکتی ہیں۔ فوجی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے مواد کو سیاسی رہنماؤں کی نقالی، جعلی فوجی احکامات جاری کرنے یا بحران کے دوران عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگ-کا-مستقبل" href="#جنگ-کا-مستقبل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا مستقبل&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے فوجیوں کی جگہ مکمل طور پر لینے کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے اسے فورس ملٹی پلائر کے طور پر استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جو فوجی اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی، نہ کہ انہیں مکمل طور پر تبدیل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کی جنگوں میں ممکنہ طور پر انسانی آپریٹرز کی دور دراز ٹیمیں خودمختار ڈرونز، روبوٹک زمینی گاڑیوں اور اے آئی سے معاونت یافتہ کمانڈ سسٹمز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت فوج میں بھرتی، تربیت اور دفاعی صنعتوں کے ڈھانچے کو بھی تبدیل کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں روایتی فوجی شعبوں کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنس دانوں اور سائبر سکیورٹی ماہرین کی طلب بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی فوجی کارروائیوں میں زیادہ درستگی، تیز تر فیصلہ سازی اور فوجی اہلکاروں کے بہتر تحفظ کے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ جوابدہی، سائبر سکیورٹی، گمراہ کن معلومات اور طاقت کے استعمال پر انسانی کنٹرول کے ممکنہ خاتمے جیسے نئے خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتیں فوجی اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں کو مختصر اور زیادہ درست بنائے گی یا انہیں مزید تیز، پیچیدہ اور قابو سے باہر کرنا مشکل بنا دے گی؟ اس سوال کا جواب نہ صرف جنگ کے اگلے دور بلکہ خود بین الاقوامی سلامتی کے مستقبل کا تعین کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" href="#پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو اے آئی کے دور کے لیے تیار کرنا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;انڈس آر اے ایس ایکسپو سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، لیکن یہ نمائش محض پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس رفتار کو طویل مدتی سرمایہ کاری، تحقیق اور جدت میں تبدیل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے ممالک اے آئی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ مستقبل کی اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کا انحصار بتدریج ٹیکنالوجی پر بڑھتا جائے گا۔ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مقامی سطح پر اے آئی کے حل تیار کرنے کا مقصد صرف غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا نہیں بلکہ مقامی ماہرین کی صلاحیتیں پروان چڑھانا، اعلیٰ قدر کی ملازمتیں پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ اہم ٹیکنالوجیز ہماری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوشش صرف حکومت تک محدود نہیں رہ سکتی۔ جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور دفاعی شعبے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جامعات کو زیادہ عملی نوعیت کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جبکہ صنعت کو امید افزا خیالات کو ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دینی چاہیے جو شہری اور دفاعی دونوں شعبوں میں استعمال ہوسکیں۔ محققین اور مینوفیکچررز کے درمیان مضبوط شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جدت صرف لیبارٹریوں تک محدود نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہمیت افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی بھی ہے۔ پاکستان دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اگر اسے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ ایک بڑی طاقت ثابت ہوسکتی ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، میرپور، گلگت اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیکنالوجی نمائشوں، روبوٹکس مقابلوں اور اے آئی جدت کے چیلنجز کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کیا جانا چاہیے۔ ایسے پروگرام طلبہ کو نئے خیالات سے روشناس کرانے، انہیں صنعت سے جوڑنے اور اکثر ایسے کیریئرز کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو کسی سادہ مظاہرے یا گفتگو سے شروع ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی میں قیادت کرنے والے ممالک ضروری نہیں کہ وہی ہوں جن کی افواج سب سے بڑی ہیں، بلکہ وہ ممالک آگے ہوں گے جن کے تحقیقی ادارے مضبوط، انجینئرز سب سے زیادہ ہنرمند اور خیالات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سب سے بہتر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اس مستقبل کا حصہ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اختراع کاروں کو مواقع، وسائل اور اعتماد فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں اسلام آباد میں انڈس آر اے ایس (روبوٹکس اینڈ خودمختار نظام) ایکسپو 2026 کے انعقاد نے نہ صرف ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی نمائش کا موقع فراہم کیا بلکہ اس امر کی بھی عکاسی کی کہ پاکستان قومی ترقی اور سلامتی میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودمختار نظام کے بڑھتے ہوئے کردار کو تسلیم کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>صنعتی آٹومیشن اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ سے لے کر صحت عامہ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور دفاع تک، اے آئی تیزی سے ایک ایسی اسٹریٹجک صلاحیت بنتی جا رہی ہے جو ہر ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ نوجوان اور تیزی سے وسعت پذیر ٹیکنالوجی کے شعبے اور پیچیدہ ہوتے علاقائی سکیورٹی ماحول کے حامل ملک کے لیے مقامی سطح پر اے آئی تحقیق اور خودمختار نظاموں میں سرمایہ کاری محض ایک موقع نہیں بلکہ اسٹریٹجک ضرورت ہے۔</p>
<p>کبھی اے آئی کو بنیادی طور پر وائس اسسٹنٹس اور سفارشات دینے والے الگورتھمز تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسے دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے جنگ لڑنے کے طریقے اور فیصلہ سازی کا انداز تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ مسلح تنازعات کے مستقبل کے حوالے سے اہم اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا، چین، روس، اسرائیل، برطانیہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے متعدد اتحادی ممالک سمیت بڑی فوجی طاقتوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجیز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ نظام اب انٹیلی جنس کا تجزیہ کرنے، لاجسٹکس کو مربوط بنانے، فوجی اہداف کی نشاندہی کرنے، سائبر حملوں سے دفاع اور خودمختار یا نیم خودمختار گاڑیاں چلانے کے لیے تیزی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>تیزی سے ہونے والی اس پیش رفت نے متعدد دفاعی تجزیہ کاروں کو اے آئی کا موازنہ بارود، طیاروں اور جوہری ہتھیاروں کی ایجاد سے آنے والے فوجی انقلاب سے کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تاہم ان ٹیکنالوجیز کے برعکس مصنوعی ذہانت مسلسل ارتقا پذیر ہے اور جتنا زیادہ ڈیٹا پروسیس کرتی ہے اور پیچیدہ ماحول سے جتنا زیادہ تعامل کرتی ہے، اتنی ہی بہتر ہوتی جاتی ہے۔</p>
<h3><a id="جنگ-کا-نیا-میدان" href="#جنگ-کا-نیا-میدان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنگ کا نیا میدان</strong></h3>
<p>جدید جنگیں معلومات کی وسیع مقدار پیدا کرتی ہیں۔ سیٹلائٹس، نگرانی کرنے والے ڈرونز، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی رابطوں کی جاسوسی اور سوشل میڈیا روزانہ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس پیدا کرتے ہیں۔ انسانی تجزیہ کار اب تنہا اس معلومات کو اتنی تیزی سے پراسیس نہیں کر سکتے کہ جنگی میدان میں حکمتِ عملی کی برتری برقرار رکھی جا سکے۔ مصنوعی ذہانت اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دے رہی ہے۔</p>
<p>مشین لرننگ پر مبنی نظام سیٹلائٹ تصاویر سے فوجیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی نشاندہی، حقیقی وقت میں میزائل داغے جانے کا پتا لگانے اور انٹیلی جنس رپورٹس کو اہمیت کے لحاظ سے ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا پروجیکٹ میون اس بات کی مثال ہے کہ اے آئی کس طرح بصری ڈیٹا کی وسیع مقدار کو انسانی تجزیہ کاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پروسیس کرسکتی ہے، جس سے زیادہ تیز اور بہتر معلومات پر مبنی فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔</p>
<p>روس۔یوکرین اور امریکا۔ایران کے جاری تنازعات میں بھی اے آئی کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جہاں سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، ڈرونز کی رہنمائی، میدانِ جنگ کی نقشہ سازی اور متعدد ذرائع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی تیز رفتار پروسیسنگ میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا رہی ہے۔ دنیا کے دیگر تنازعات میں بھی ایسی ہی ٹیکنالوجیز آزمائی یا استعمال کی جا رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک نظری صلاحیت نہیں رہی بلکہ عملی جنگی حقیقت بن چکی ہے۔</p>
<h3><a id="ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" href="#ڈرونز-مزید-ذہین-ہوگئے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈرونز مزید ذہین ہوگئے</strong></h3>
<p>جنگ میں اے آئی کے استعمال کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک بغیر پائلٹ فضائی نظام کا تیزی سے ارتقا ہے۔ ابتدا میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز اب خودکار پرواز، اہداف کی شناخت اور دیگر بغیر پائلٹ نظاموں کے ساتھ مربوط کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>کچھ تجرباتی پروگرامز میں ڈرونز کے ایسے گروہوں، جنہیں عموماً ’’سوارمز‘‘ کہا جاتا ہے، کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، میدانِ جنگ کی بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے اور مربوط نقل و حرکت کے ذریعے دشمن کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھانے کی صلاحیت دی جا رہی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔</p>
</blockquote>
<p>حالیہ امریکا اور ایران تنازع کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے طیارے سے باہر نکلنے سے قبل ایک حیران کن منظر دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق اس نے متعدد ایرانی ڈرونز کو فضا میں ایک ساتھ منڈلاتے اور ایسی تشکیل میں حرکت کرتے دیکھا جو جیلی فش سے مشابہ تھی۔ ڈرونز کی اس طرح کی اجتماعی نقل و حرکت جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔</p>
<h3><a id="سائبر-محاذ" href="#سائبر-محاذ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سائبر محاذ</strong></h3>
<p>مصنوعی ذہانت میدانِ جنگ سے باہر بھی جنگی حکمتِ عملی کو تبدیل کر رہی ہے۔ جدید سائبر کارروائیوں میں رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اے آئی سسٹمز سافٹ ویئر کی کمزوریوں کی نشاندہی، نقصان دہ نیٹ ورک سرگرمی کا پتا لگانے اور سائبر حملوں کا منٹوں یا گھنٹوں کے بجائے چند سیکنڈز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، مخالف عناصر بھی اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر خودکار فِشنگ مہمات چلانے، قابلِ یقین جعلی شناختیں بنانے اور غیر معمولی پیمانے پر پیچیدہ گمراہ کن معلومات پھیلانے لگے ہیں۔</p>
<p>اے آئی سے تیار کردہ ایسی آڈیو اور ویڈیو بھی ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی خطرہ بن چکی ہیں جو حقیقی شخصیات کی انتہائی قابلِ یقین نقل کرسکتی ہیں۔ فوجی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے مواد کو سیاسی رہنماؤں کی نقالی، جعلی فوجی احکامات جاری کرنے یا بحران کے دوران عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="جنگ-کا-مستقبل" href="#جنگ-کا-مستقبل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنگ کا مستقبل</strong></h3>
<p>مصنوعی ذہانت سے فوجیوں کی جگہ مکمل طور پر لینے کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے اسے فورس ملٹی پلائر کے طور پر استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جو فوجی اہلکاروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی، نہ کہ انہیں مکمل طور پر تبدیل کرے گی۔</p>
<p>مستقبل کی جنگوں میں ممکنہ طور پر انسانی آپریٹرز کی دور دراز ٹیمیں خودمختار ڈرونز، روبوٹک زمینی گاڑیوں اور اے آئی سے معاونت یافتہ کمانڈ سسٹمز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ فوجی کامیابی کا انحصار اب صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہیں رہے گا بلکہ کمپیوٹنگ طاقت، سافٹ ویئر میں جدت اور معیاری ڈیٹا تک رسائی بھی فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت فوج میں بھرتی، تربیت اور دفاعی صنعتوں کے ڈھانچے کو بھی تبدیل کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں روایتی فوجی شعبوں کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنس دانوں اور سائبر سکیورٹی ماہرین کی طلب بڑھے گی۔</p>
<p>اے آئی فوجی کارروائیوں میں زیادہ درستگی، تیز تر فیصلہ سازی اور فوجی اہلکاروں کے بہتر تحفظ کے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے ساتھ جوابدہی، سائبر سکیورٹی، گمراہ کن معلومات اور طاقت کے استعمال پر انسانی کنٹرول کے ممکنہ خاتمے جیسے نئے خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>حکومتیں فوجی اے آئی میں بھاری سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں کو مختصر اور زیادہ درست بنائے گی یا انہیں مزید تیز، پیچیدہ اور قابو سے باہر کرنا مشکل بنا دے گی؟ اس سوال کا جواب نہ صرف جنگ کے اگلے دور بلکہ خود بین الاقوامی سلامتی کے مستقبل کا تعین کرسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" href="#پاکستان-کو-اے-آئی-کے-دور-کے-لیے-تیار-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پاکستان کو اے آئی کے دور کے لیے تیار کرنا</strong></h3>
<p>انڈس آر اے ایس ایکسپو سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، لیکن یہ نمائش محض پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج اس رفتار کو طویل مدتی سرمایہ کاری، تحقیق اور جدت میں تبدیل کرنا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر کے ممالک اے آئی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ مستقبل کی اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کا انحصار بتدریج ٹیکنالوجی پر بڑھتا جائے گا۔ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مقامی سطح پر اے آئی کے حل تیار کرنے کا مقصد صرف غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا نہیں بلکہ مقامی ماہرین کی صلاحیتیں پروان چڑھانا، اعلیٰ قدر کی ملازمتیں پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ اہم ٹیکنالوجیز ہماری اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار ہوں۔</p>
<p>یہ کوشش صرف حکومت تک محدود نہیں رہ سکتی۔ جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس اور دفاعی شعبے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جامعات کو زیادہ عملی نوعیت کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جبکہ صنعت کو امید افزا خیالات کو ایسی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مدد دینی چاہیے جو شہری اور دفاعی دونوں شعبوں میں استعمال ہوسکیں۔ محققین اور مینوفیکچررز کے درمیان مضبوط شراکت داری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جدت صرف لیبارٹریوں تک محدود نہ رہے۔</p>
<p>اتنی ہی اہمیت افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی بھی ہے۔ پاکستان دنیا کی نوجوان ترین آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور اگر اسے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ ایک بڑی طاقت ثابت ہوسکتی ہے۔ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، میرپور، گلگت اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیکنالوجی نمائشوں، روبوٹکس مقابلوں اور اے آئی جدت کے چیلنجز کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کیا جانا چاہیے۔ ایسے پروگرام طلبہ کو نئے خیالات سے روشناس کرانے، انہیں صنعت سے جوڑنے اور اکثر ایسے کیریئرز کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو کسی سادہ مظاہرے یا گفتگو سے شروع ہوتے ہیں۔</p>
<p>اے آئی میں قیادت کرنے والے ممالک ضروری نہیں کہ وہی ہوں جن کی افواج سب سے بڑی ہیں، بلکہ وہ ممالک آگے ہوں گے جن کے تحقیقی ادارے مضبوط، انجینئرز سب سے زیادہ ہنرمند اور خیالات کو عملی حل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سب سے بہتر ہوگی۔</p>
<p>پاکستان میں اس مستقبل کا حصہ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اختراع کاروں کو مواقع، وسائل اور اعتماد فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔</p>
<p>یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے خیالات کی عکاسی کرتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289704</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 00:43:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اعجاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/080033059786928.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/080033059786928.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ایس پی پلس کی بقا کا انحصار عملدرآمد پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے جی ایس پی پلس کی شرائط پوری کرنے کے لیے قانونی ڈھانچہ تیار کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت صرف کیا ہے۔ ملک نے مطلوبہ عالمی معاہدوں کی توثیق کی، قوانین منظور کیے اور وہ رپورٹس بھی جمع کرائیں جن کا مطالبہ یورپی یونین کرتی ہے۔ کم از کم اس پہلو سے پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل مشکل، جیسا کہ یورپی کمیشن نے 16 جولائی کی اپنی تازہ ترین جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ میں واضح کیا ہے، یہ ہے کہ اب صرف یہ قانونی فریم ورک ہی معیار نہیں رہا۔ 2027 سے پاکستان کا جائزہ اس بنیاد پر کم لیا جائے گا کہ اس نے کیا قوانین بنائے ہیں، بلکہ اس بنیاد پر زیادہ لیا جائے گا کہ وہ قوانین عملی طور پر کس حد تک نافذ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے شعبے کے لیے جو جی ایس پی پلس سے حاصل ہونے والے زیادہ تر فوائد کا مرکز ہے، یہ تبدیلی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت اپنی سب سے اہم منڈی کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قوانین پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں۔ ریگولیشن (ای یو) 2026/1395 کے تحت 2027 سے 2036 تک جی ایس پی اسکیم کو چلایا جائے گا، جبکہ پاکستان کو نئے نظام میں 31 دسمبر 2028 تک شامل رکھا گیا ہے۔ تاہم ترجیحی تجارتی سہولتوں کا جاری رہنا خودکار نہیں ہوگا۔ 2029 کے بعد مراعات برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو عبوری مدت ختم ہونے سے پہلے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے ساتھ لازمی یقین دہانیاں اور ترجیحی اقدامات کا منصوبہ بھی شامل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;16 جولائی کی جائزہ رپورٹ وہ بنیادی دستاویز ہے جس کی بنیاد پر مستقبل کی درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کئی شعبوں میں پیچھے گیا ہے، جبکہ مثبت تبدیلی محدود رہی ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زیادہ تر پیش رفت صرف قانون سازی تک محدود رہی اور عملی سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ یہی عملدرآمد کا خلا ہے، یعنی قوانین موجود ہیں لیکن یورپی یونین کی توقعات کے مطابق ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 8.96 ارب ڈالر رہیں۔ جی ایس پی پلس سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والے شعبوں میں کپڑے اور ٹیکسٹائل، چمڑے اور فر سے بنی مصنوعات، تیار شدہ خوراک و مشروبات اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپڑے کی صنعت پاکستان کی مجموعی برآمدات اور جی ایس پی پلس مراعات کے استعمال میں سب سے بڑا حصہ رکھتی ہے، جہاں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 95.3 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپی تجارت میں ان مصنوعات کے لیے پاکستان کی ترجیحی مارکیٹ تک رسائی پر انحصار بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کو برآمد کیے جانے والے پانچ بڑے شعبوں میں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد تک رہی۔ چونکہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات چند شعبوں تک زیادہ محدود ہیں، اس لیے تجارت کی کارکردگی مخصوص شعبوں کو درپیش مسائل، جیسے توانائی کی قیمتیں، تعمیری و تعمیریاتی معیار پر عمل درآمد کے اخراجات اور طلب کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی برآمد کنندگان جی ایس پی پلس سہولت کو مکمل طور پر استعمال کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان ان عالمی معاہدوں پر کس حد تک عمل درآمد کر رہا ہے جن پر یہ اسکیم قائم ہے اور جو اس کی اہلیت کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصل تشویش کا مقام ہے کہ صنعت جی ایس پی پلس سے زیادہ تر فوائد حاصل کرتی ہے، لیکن ان معیارات کی تکمیل پر اس کا اختیار محدود ہے جن پر یہ سہولت برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جائزے کو مکمل ناکامیوں کی فہرست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یورپی کمیشن نے کئی مثبت اقدامات کا اعتراف بھی کیا ہے، جن میں اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن کا قیام، سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، انسداد تشدد قانون کے تحت قواعد، کم عمری کی شادی سے متعلق قانون سازی اور آئی ایل او کے جبری مشقت کے پروٹوکول کی توثیق شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن رپورٹ کا زیادہ زور ایسے معاملات پر ہے جو کسی بھی برآمدی کمپنی کے اختیار سے باہر ہیں۔ کراچی یا فیصل آباد کی کوئی ٹیکسٹائل مل اپنی مصنوعات کے لیے مقرر تمام معیار مکمل کر سکتی ہے، لیکن پھر بھی جی ایس پی پلس سہولت ایسے اشاریوں کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہے جن میں صنعت کا کوئی کردار نہیں اور جنہیں درست کرنے کا اختیار بھی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت نے اپنی ذمہ داری کے دائرے میں آنے والے معاملات پر نمایاں پیش رفت کی ہے اور یورپی خریداروں کی توقعات پوری کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری سے اقدامات کیے ہیں، جو اب اس جائزے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی شعبے میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایل ای ای ڈی سرٹیفائیڈ ٹیکسٹائل پلانٹس کی تعداد نمایاں ہے۔ کئی صنعتی یونٹس پانی اور توانائی کے استعمال میں نصف یا اس سے زیادہ کمی کر چکے ہیں۔ بڑے برآمد کنندگان اپنے فضلے کے علاج  اور پانی کی ری سائیکلنگ کے نظام چلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنیاں زیرو ڈسچارج آف ہیزرڈس کیمیکلز (زیڈ ڈی ایچ سی) پروگرام اوراویکو-ٹیکس معیار پر عمل کر رہی ہیں، جبکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات کے باعث کئی اداروں نے اپنی جگہ پر شمسی توانائی کے نظام نصب کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے بیٹر کاٹن پروگرام کی حمایت کر رہی ہے، جس کے ذریعے لاکھوں کسان خاندانوں کو کم پانی اور کم کیڑے مار ادویات کے استعمال میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محنت کشوں اور انسانی حقوق کے شعبے میں، جہاں جی ایس پی پلس کی شرائط سب سے زیادہ سخت ہیں، برآمد کنندگان کئی برسوں سے اپنی صنعتوں کو آزاد سماجی آڈٹس کے لیے کھولتے آئے ہیں۔ یہ آڈٹس بنیادی آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق رہنما اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں، جن میں ایمفوری بی ایس سی آئی، سیڈیکس سیمیٹا، رییب اور ایس اے8000 شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان آڈٹس میں اجرتوں اور کام کے اوقات، صحت و تحفظ، تنظیم سازی کی آزادی، اور بچوں و جبری مشقت کے خاتمے جیسے معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان معیارات پر پورا اترنا ہر اس آرڈر کی بنیادی شرط ہے جو کوئی یورپی برانڈ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت نے ان معیارات کو یورپی سپلائی چینز میں اپنی موجودگی کی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق دیکھا جائے تو برآمدی صنعتوں کے پیداواری یونٹس پاکستان کی معیشت کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ جواب دہی اور سخت نگرانی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان یہ ترجیحی سہولت کھو دیتا ہے تو اس کے اثرات شدید اور فوری ہوں گے۔ جن ٹیرف سے موجودہ وقت میں چھوٹ حاصل ہے وہ دوبارہ عائد ہو جائیں گے، اور وہ ملبوسات جو اس وقت یورپی منڈیوں میں ڈیوٹی فری داخل ہوتے ہیں، ان پر تقریباً 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریدار اپنی خریداری کے ذرائع تبدیل کر سکتے ہیں، مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ کم ہو سکتا ہے، اور اس کا مالی بوجھ پہلے ہی بلند توانائی قیمتوں اور محدود مالی وسائل کا سامنا کرنے والے شعبے پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دباؤ صرف آخری تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ بھارت نے جنوری میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، اور اس کے سرکاری شیڈول کے مطابق معاہدہ نافذ ہونے کے بعد ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تمام ٹیرف لائنز، جن پر اس وقت 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہے صفر ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مارکیٹ رسائی 32 عالمی کنونشنز کی نگرانی سے مشروط نہیں ہوگی بلکہ ایک باقاعدہ تجارتی معاہدے کے تحت ہوگی۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد بھارت انہی مصنوعات میں اسی یورپی مارکیٹ میں پاکستان سے کم قیمت پر مقابلہ کر سکے گا، اور امکان ہے کہ یورپی یونین کو بھارت کی ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان سے آگے نکل جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بنگلہ دیش بھی ایک اہم مقابل فریق ہے۔ بنگلہ دیش کو 24 نومبر 2026 کو کم ترقی یافتہ ملک  کے درجے سے نکلنا ہے، تاہم یورپی یونین کے عبوری قوانین کے تحت اسے گریجویشن کے بعد مزید تین سال تک، یعنی 2029 کے آخر تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف پاکستان کو 2028 کے بعد جی ایس پی پلس کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے باعث اسے ایک ایسے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں ایک طرف آزاد تجارتی معاہدے کے تحت فائدہ اٹھانے والا بھارت ہوگا اور دوسری جانب عبوری تحفظ حاصل کرنے والا بنگلہ دیش۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کا حل حکومت کو تلاش کرنا ہوگا، اور یہ خطرے کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومت کو ہر سفارتی اور تجارتی ذریعہ استعمال کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس حوالے سے پیش رفت کی ہے اور جی ایس پی پلس کی دوبارہ درخواست کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت تیزی کی ہے، کیونکہ 2028 کے اختتام تک دستیاب وقت بہت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کو یورپی کمیشن، اس کے تکنیکی اداروں اور نگرانی کرنے والے فورمز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے، جبکہ صوبائی حکومتوں، محنت کے محکموں، عدالتی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ کوشش کا حصہ بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازی کا مشکل مرحلہ بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ عالمی کنونشنز کی توثیق کی جا چکی ہے اور قوانین بھی بنا دیے گئے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قوانین کو عملی طور پر نافذ کیا جائے اور اس ترجیحی سہولت کا دفاع کیا جائے جو پاکستان کی بڑی صنعتوں میں سے ایک اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو سہارا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال کا وقت زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل کام عملدرآمد ہے، اور اسے مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے جی ایس پی پلس کی شرائط پوری کرنے کے لیے قانونی ڈھانچہ تیار کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت صرف کیا ہے۔ ملک نے مطلوبہ عالمی معاہدوں کی توثیق کی، قوانین منظور کیے اور وہ رپورٹس بھی جمع کرائیں جن کا مطالبہ یورپی یونین کرتی ہے۔ کم از کم اس پہلو سے پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم اصل مشکل، جیسا کہ یورپی کمیشن نے 16 جولائی کی اپنی تازہ ترین جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ میں واضح کیا ہے، یہ ہے کہ اب صرف یہ قانونی فریم ورک ہی معیار نہیں رہا۔ 2027 سے پاکستان کا جائزہ اس بنیاد پر کم لیا جائے گا کہ اس نے کیا قوانین بنائے ہیں، بلکہ اس بنیاد پر زیادہ لیا جائے گا کہ وہ قوانین عملی طور پر کس حد تک نافذ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ایسے شعبے کے لیے جو جی ایس پی پلس سے حاصل ہونے والے زیادہ تر فوائد کا مرکز ہے، یہ تبدیلی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت اپنی سب سے اہم منڈی کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔</p>
<p>نئے قوانین پہلے ہی نافذ ہو چکے ہیں۔ ریگولیشن (ای یو) 2026/1395 کے تحت 2027 سے 2036 تک جی ایس پی اسکیم کو چلایا جائے گا، جبکہ پاکستان کو نئے نظام میں 31 دسمبر 2028 تک شامل رکھا گیا ہے۔ تاہم ترجیحی تجارتی سہولتوں کا جاری رہنا خودکار نہیں ہوگا۔ 2029 کے بعد مراعات برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو عبوری مدت ختم ہونے سے پہلے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے ساتھ لازمی یقین دہانیاں اور ترجیحی اقدامات کا منصوبہ بھی شامل کرنا ہوگا۔</p>
<p>16 جولائی کی جائزہ رپورٹ وہ بنیادی دستاویز ہے جس کی بنیاد پر مستقبل کی درخواست کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کئی شعبوں میں پیچھے گیا ہے، جبکہ مثبت تبدیلی محدود رہی ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زیادہ تر پیش رفت صرف قانون سازی تک محدود رہی اور عملی سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ یہی عملدرآمد کا خلا ہے، یعنی قوانین موجود ہیں لیکن یورپی یونین کی توقعات کے مطابق ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 8.96 ارب ڈالر رہیں۔ جی ایس پی پلس سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والے شعبوں میں کپڑے اور ٹیکسٹائل، چمڑے اور فر سے بنی مصنوعات، تیار شدہ خوراک و مشروبات اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔</p>
<p>کپڑے کی صنعت پاکستان کی مجموعی برآمدات اور جی ایس پی پلس مراعات کے استعمال میں سب سے بڑا حصہ رکھتی ہے، جہاں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 95.3 فیصد ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپی تجارت میں ان مصنوعات کے لیے پاکستان کی ترجیحی مارکیٹ تک رسائی پر انحصار بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کو برآمد کیے جانے والے پانچ بڑے شعبوں میں ترجیحی سہولتوں کے استعمال کی شرح تقریباً 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد تک رہی۔ چونکہ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات چند شعبوں تک زیادہ محدود ہیں، اس لیے تجارت کی کارکردگی مخصوص شعبوں کو درپیش مسائل، جیسے توانائی کی قیمتیں، تعمیری و تعمیریاتی معیار پر عمل درآمد کے اخراجات اور طلب کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی برآمد کنندگان جی ایس پی پلس سہولت کو مکمل طور پر استعمال کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان ان عالمی معاہدوں پر کس حد تک عمل درآمد کر رہا ہے جن پر یہ اسکیم قائم ہے اور جو اس کی اہلیت کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>یہی اصل تشویش کا مقام ہے کہ صنعت جی ایس پی پلس سے زیادہ تر فوائد حاصل کرتی ہے، لیکن ان معیارات کی تکمیل پر اس کا اختیار محدود ہے جن پر یہ سہولت برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس جائزے کو مکمل ناکامیوں کی فہرست سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یورپی کمیشن نے کئی مثبت اقدامات کا اعتراف بھی کیا ہے، جن میں اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن کا قیام، سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، انسداد تشدد قانون کے تحت قواعد، کم عمری کی شادی سے متعلق قانون سازی اور آئی ایل او کے جبری مشقت کے پروٹوکول کی توثیق شامل ہیں۔</p>
<p>لیکن رپورٹ کا زیادہ زور ایسے معاملات پر ہے جو کسی بھی برآمدی کمپنی کے اختیار سے باہر ہیں۔ کراچی یا فیصل آباد کی کوئی ٹیکسٹائل مل اپنی مصنوعات کے لیے مقرر تمام معیار مکمل کر سکتی ہے، لیکن پھر بھی جی ایس پی پلس سہولت ایسے اشاریوں کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہے جن میں صنعت کا کوئی کردار نہیں اور جنہیں درست کرنے کا اختیار بھی نہیں۔</p>
<p>صنعت نے اپنی ذمہ داری کے دائرے میں آنے والے معاملات پر نمایاں پیش رفت کی ہے اور یورپی خریداروں کی توقعات پوری کرنے کے لیے اپنی سرمایہ کاری سے اقدامات کیے ہیں، جو اب اس جائزے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>ماحولیاتی شعبے میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایل ای ای ڈی سرٹیفائیڈ ٹیکسٹائل پلانٹس کی تعداد نمایاں ہے۔ کئی صنعتی یونٹس پانی اور توانائی کے استعمال میں نصف یا اس سے زیادہ کمی کر چکے ہیں۔ بڑے برآمد کنندگان اپنے فضلے کے علاج  اور پانی کی ری سائیکلنگ کے نظام چلا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ کمپنیاں زیرو ڈسچارج آف ہیزرڈس کیمیکلز (زیڈ ڈی ایچ سی) پروگرام اوراویکو-ٹیکس معیار پر عمل کر رہی ہیں، جبکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات کے باعث کئی اداروں نے اپنی جگہ پر شمسی توانائی کے نظام نصب کر لیے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے بیٹر کاٹن پروگرام کی حمایت کر رہی ہے، جس کے ذریعے لاکھوں کسان خاندانوں کو کم پانی اور کم کیڑے مار ادویات کے استعمال میں مدد ملی ہے۔</p>
<p>محنت کشوں اور انسانی حقوق کے شعبے میں، جہاں جی ایس پی پلس کی شرائط سب سے زیادہ سخت ہیں، برآمد کنندگان کئی برسوں سے اپنی صنعتوں کو آزاد سماجی آڈٹس کے لیے کھولتے آئے ہیں۔ یہ آڈٹس بنیادی آئی ایل او کنونشنز اور اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق رہنما اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہیں، جن میں ایمفوری بی ایس سی آئی، سیڈیکس سیمیٹا، رییب اور ایس اے8000 شامل ہیں۔</p>
<p>ان آڈٹس میں اجرتوں اور کام کے اوقات، صحت و تحفظ، تنظیم سازی کی آزادی، اور بچوں و جبری مشقت کے خاتمے جیسے معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان معیارات پر پورا اترنا ہر اس آرڈر کی بنیادی شرط ہے جو کوئی یورپی برانڈ دیتا ہے۔</p>
<p>صنعت نے ان معیارات کو یورپی سپلائی چینز میں اپنی موجودگی کی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق دیکھا جائے تو برآمدی صنعتوں کے پیداواری یونٹس پاکستان کی معیشت کے ان حصوں میں شامل ہیں جہاں سب سے زیادہ جواب دہی اور سخت نگرانی موجود ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان یہ ترجیحی سہولت کھو دیتا ہے تو اس کے اثرات شدید اور فوری ہوں گے۔ جن ٹیرف سے موجودہ وقت میں چھوٹ حاصل ہے وہ دوبارہ عائد ہو جائیں گے، اور وہ ملبوسات جو اس وقت یورپی منڈیوں میں ڈیوٹی فری داخل ہوتے ہیں، ان پر تقریباً 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہو سکتی ہے۔</p>
<p>خریدار اپنی خریداری کے ذرائع تبدیل کر سکتے ہیں، مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ کم ہو سکتا ہے، اور اس کا مالی بوجھ پہلے ہی بلند توانائی قیمتوں اور محدود مالی وسائل کا سامنا کرنے والے شعبے پر پڑے گا۔</p>
<p>تاہم دباؤ صرف آخری تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ بھارت نے جنوری میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، اور اس کے سرکاری شیڈول کے مطابق معاہدہ نافذ ہونے کے بعد ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تمام ٹیرف لائنز، جن پر اس وقت 12 فیصد تک ڈیوٹی عائد ہے صفر ہو جائیں گی۔</p>
<p>یہ مارکیٹ رسائی 32 عالمی کنونشنز کی نگرانی سے مشروط نہیں ہوگی بلکہ ایک باقاعدہ تجارتی معاہدے کے تحت ہوگی۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد بھارت انہی مصنوعات میں اسی یورپی مارکیٹ میں پاکستان سے کم قیمت پر مقابلہ کر سکے گا، اور امکان ہے کہ یورپی یونین کو بھارت کی ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان سے آگے نکل جائیں گی۔</p>
<p>دوسری جانب بنگلہ دیش بھی ایک اہم مقابل فریق ہے۔ بنگلہ دیش کو 24 نومبر 2026 کو کم ترقی یافتہ ملک  کے درجے سے نکلنا ہے، تاہم یورپی یونین کے عبوری قوانین کے تحت اسے گریجویشن کے بعد مزید تین سال تک، یعنی 2029 کے آخر تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل رہے گی۔</p>
<p>دوسری طرف پاکستان کو 2028 کے بعد جی ایس پی پلس کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی، جس کے باعث اسے ایک ایسے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں ایک طرف آزاد تجارتی معاہدے کے تحت فائدہ اٹھانے والا بھارت ہوگا اور دوسری جانب عبوری تحفظ حاصل کرنے والا بنگلہ دیش۔</p>
<p>اس صورتحال کا حل حکومت کو تلاش کرنا ہوگا، اور یہ خطرے کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومت کو ہر سفارتی اور تجارتی ذریعہ استعمال کرنا ہوگا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس حوالے سے پیش رفت کی ہے اور جی ایس پی پلس کی دوبارہ درخواست کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت تیزی کی ہے، کیونکہ 2028 کے اختتام تک دستیاب وقت بہت محدود ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کو یورپی کمیشن، اس کے تکنیکی اداروں اور نگرانی کرنے والے فورمز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے، جبکہ صوبائی حکومتوں، محنت کے محکموں، عدالتی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ کوشش کا حصہ بنانا چاہیے۔</p>
<p>قانون سازی کا مشکل مرحلہ بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ عالمی کنونشنز کی توثیق کی جا چکی ہے اور قوانین بھی بنا دیے گئے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قوانین کو عملی طور پر نافذ کیا جائے اور اس ترجیحی سہولت کا دفاع کیا جائے جو پاکستان کی بڑی صنعتوں میں سے ایک اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو سہارا دیتی ہے۔</p>
<p>دو سال کا وقت زیادہ نہیں ہوتا۔ اصل کام عملدرآمد ہے، اور اسے مکمل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289408</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 10:15:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فواد انور)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/31101245e37b09f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/31101245e37b09f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے کھربوں روپے کے نئے مواقع کھول سکتی ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہی ہے۔ کبھی اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، کبھی اس کی افادیت اور کارکردگی کو سراہا گیا، اور کبھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی ایجاد پر بھی ایسے ہی ردِعمل سامنے آئے تھے، اور صدیوں بعد آج مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تازہ ترین شکل کو بھی اسی نوعیت کے رویوں کا سامنا ہے۔ تاہم تخلیقی مصنوعی ذہانت (جنریٹو اے آئی) کی موجودہ نسل نے اپنی رفتار، آسان رسائی اور ڈیٹا پر مبنی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اور حکومتِ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال جون میں پاکستان نے قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا مسودہ جاری کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اے آئی پالیسی متعارف کرائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد یہ پیش رفت اگرچہ سست ضرور ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک ناگزیر قدم تصور کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاقی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈین سائٹ لیبز، جو لورئیل اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سمیت مختلف اداروں کو مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے، نے اپنی پالیسی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سفارشات پر مؤثر سرمایہ کاری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان میں 9.7 کھرب روپے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نعمان احمد کے مطابق پاکستان میں اے آئی کے شعبے کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ ”صحت، مالیات، لاجسٹکس یا تیز رفتار استعمال کی اشیا کے شعبے سمیت کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا پاکستانی پیشہ ور بغیر کسی تکنیکی شریک بانی کی مدد کے اے آئی ٹول کو اپنے روزمرہ کام کا حصہ بنا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”یہی وہ مرحلہ ہوگا جب محض آگاہی سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال عام ہو جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نظام-میں-موجود-خامیاں" href="#نظام-میں-موجود-خامیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نظام میں موجود خامیاں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان کی حکومت مصنوعی ذہانت کے حوالے سے درست سمت میں بیانات دے رہی ہے، لیکن عملی پیش رفت کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن سورس ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت تک رسائی کو زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نعمان احمد اپنی کمپنی کے تجربات کی روشنی میں اس خدشے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”ہمیں بار بار ایک ہی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تربیت کے بعد افراد کی صلاحیت تو موجود تھی، لیکن ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی ماحول اس رفتار سے تبدیل نہیں ہوا۔ ہمارے تجارتی منصوبوں نے مسلسل ایسے بنیادی خلا نمایاں کیے جنہیں صرف مشاورت کے ذریعے نچلی سطح سے دور نہیں کیا جا سکتا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان کو ایسے ضابطوں کی ضرورت ہے جو جدت کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے واضح رہنمائی فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”میری رائے میں پاکستان کو فوری طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایسا مؤثر ڈیٹا تحفظ کا فریم ورک جو واقعی قابلِ عمل ہو، صحت اور مالیاتی خدمات جیسے حساس شعبوں میں اے آئی کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول، اور سرکاری خریداری کے ایسے قواعد جن کے تحت سرکاری ادارے موجودہ قانونی ابہام کے بغیر اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو عملی طور پر کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ محض نظریاتی بنیادوں پر اس کے لیے قوانین وضع کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے، ”ایسے افراد کی تیار کردہ قانون سازی جنہوں نے کسی پاکستانی ادارے میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال دیکھا ہی نہ ہو، یا تو بے اثر ثابت ہوتی ہے یا پھر جدت کو مفلوج کر دیتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" href="#تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تبدیلی کے خلاف مزاحمت&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑی رکاوٹ پاکستان کے کاروباری رہنماؤں کی سوچ ہے۔ نعمان احمد کے مطابق تین بڑی غلط فہمیاں عام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اے آئی صرف آئی ٹی کا مسئلہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ دراصل کاروباری طریقۂ کار کا معاملہ ہے۔ اگر چیف فنانشل آفیسر کو یہ معلوم نہ ہو کہ کن پیمانوں پر کارکردگی جانچنی ہے، ہیومن ریسورسز کے سربراہ کو ملازمتوں پر اثرات کا خوف ہو، اور چیف ایگزیکٹو نے یہ طے ہی نہ کیا ہو کہ ادارہ اے آئی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صرف چیف ٹیکنالوجی آفیسر اے آئی نافذ نہیں کر سکتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انتظار کریں گے جب اے آئی مزید پختہ ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ادارے انتظار کر رہے ہیں، ان کے زیادہ فیصلہ کن حریف آگے بڑھ رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہمارے لوگ اس کے لیے تیار نہیں۔ یہ تصور تقریباً ہمیشہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ پاکستانی پیشہ ور افراد جب حقیقی ماحول میں حقیقی اے آئی ٹولز سے باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں تو اکثر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی یہ بات بے بنیاد نہیں۔ پاکستانی ادارے پہلے ہی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ رواں سال لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کو گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان کا پہلا قومی اے آئی ہب قائم کرنے کے لیے گرانٹ ملی، جس کی توجہ زچہ و بچہ کی صحت پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت یہ ادارہ آوازِ صحت کے نام سے ایک آواز پر مبنی ایپلی کیشن تیار کر رہا ہے، جو بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والے طبی کارکنوں کے لیے مخصوص ہے اور اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق مخصوص مقامی مسائل کے حل کے لیے تیار کی جانے والی ”سمال اے آئی“ ایپلی کیشنز محدود وسائل کے باوجود تیز اور ٹھوس نتائج دے سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آج ہی مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="روزگار-میں-تبدیلی" href="#روزگار-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;روزگار میں تبدیلی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت سے متعلق سب سے بڑا خدشہ ملازمتوں کے خاتمے کا ہے، تاہم نعمان احمد اس کے مجموعی اثرات کو مثبت قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”مصنوعی ذہانت صرف ملازمتیں پیدا یا ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت بدل دیتی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان اور خود کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے والی افرادی قوت موجود ہے۔ اگر تعلیمی اور تربیتی نظام تیزی سے خود کو ڈھال لے تو نئی ملازمتوں تک رسائی ممکن ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع دوگنا ہو چکے ہیں، تاہم اسی کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی ذہین افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کی کئی ارب ڈالر مالیت کی منڈی اور وہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود نعمان احمد زیادہ پرامید ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی زیادہ قدر اور بہتر معاوضے والی اے آئی ملازمتیں کیسے پیدا کی جائیں کہ ملک چھوڑنے کی قیمت زیادہ محسوس ہو۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کو سنجیدگی سے اپنا رہے ہوں تاکہ بہترین ماہرین کے پاس پاکستان میں رہنے کی ٹھوس وجہ موجود ہو۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" href="#کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیا بنیادی تعلیم سے پہلے اے آئی؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ملک میں کمزور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور تعلیمی مسائل کے باعث بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت بنیادی تعلیم سے توجہ ہٹا سکتی ہے، مگر نعمان احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں موبائل بینکاری نے ان افراد تک بھی مالی خدمات پہنچائیں جن کا کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔ واٹس ایپ ایسے لوگ بھی روزانہ استعمال کرتے ہیں جنہیں پڑھنے لکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے غیر رسمی معیشت میں جگہ بنا لے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید مصنوعی ذہانت کو تعلیم کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک ضلع میں دسویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے پڑھائی ود اے آئی نامی پلیٹ فارم کے استعمال کے بعد امتحانات میں کامیابی کی شرح میں 96.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ پلیٹ فارم انگریزی اور ہندی میں ریاضی کے سوالات حل کرنے اور اساتذہ کے لیے ورک شیٹس تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضمون کے اختتام پر نعمان احمد کہتے ہیں:”اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی سمت کا تعین کون کرے گا؟ میری خواہش ہے کہ ہم اس عمل کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خلا-کو-پُر-کرنا" href="#خلا-کو-پُر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خلا کو پُر کرنا&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ایک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ یہ ان متعدد چیلنجز میں سے ایک ہے جن پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم اگر یہ رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو مصنوعی ذہانت تجارت، روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور حتیٰ کہ معاشی تبدیلی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نعمان احمد کے مطابق، ”مصنوعی ذہانت پیشہ ورانہ تاریخ میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کیونکہ یہ علم تک رسائی اور مضبوط ادارہ جاتی مواقع کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ”ملتان کا کوئی پہلی نسل کا پیشہ ور، اگر اس کے پاس درست فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مناسب اے آئی ٹولز موجود ہوں، تو اب ایسا کام انجام دے سکتا ہے جو کسی ممتاز جامعہ سے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ درجے کے ادارے میں کام کرنے والے فرد کے معیار کا مقابلہ کر سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سوچے سمجھے اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تربیتی پروگرام، مناسب قیمتوں کا نظام اور علاقائی اور قومی زبانوں میں اے آئی کی دستیابی شامل ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت صرف بااثر حلقوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ”یہ خیرات نہیں بلکہ پاکستان کی اکثریتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا طریقہ ہے۔ جن بہترین ماہرین کو ہم نے تربیت دی، ان میں سے اکثر کا تعلق بھی ایسے ہی پس منظر سے تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات کی حامل ہے، لیکن پاکستان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ڈیجیٹل اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کتنی مؤثر انداز میں دور کرتی ہے، اس شعبے میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہے اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنے والا کس قدر مؤثر قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکنالوجی ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہی ہے۔ کبھی اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، کبھی اس کی افادیت اور کارکردگی کو سراہا گیا، اور کبھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔</strong></p>
<p>چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی ایجاد پر بھی ایسے ہی ردِعمل سامنے آئے تھے، اور صدیوں بعد آج مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تازہ ترین شکل کو بھی اسی نوعیت کے رویوں کا سامنا ہے۔ تاہم تخلیقی مصنوعی ذہانت (جنریٹو اے آئی) کی موجودہ نسل نے اپنی رفتار، آسان رسائی اور ڈیٹا پر مبنی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اور حکومتِ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔</p>
<p>رواں سال جون میں پاکستان نے قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا مسودہ جاری کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اے آئی پالیسی متعارف کرائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد یہ پیش رفت اگرچہ سست ضرور ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک ناگزیر قدم تصور کی جا رہی ہے۔</p>
<p>اطلاقی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈین سائٹ لیبز، جو لورئیل اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سمیت مختلف اداروں کو مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے، نے اپنی پالیسی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سفارشات پر مؤثر سرمایہ کاری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان میں 9.7 کھرب روپے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نعمان احمد کے مطابق پاکستان میں اے آئی کے شعبے کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ ”صحت، مالیات، لاجسٹکس یا تیز رفتار استعمال کی اشیا کے شعبے سمیت کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا پاکستانی پیشہ ور بغیر کسی تکنیکی شریک بانی کی مدد کے اے آئی ٹول کو اپنے روزمرہ کام کا حصہ بنا سکے۔“</p>
<p>ان کے بقول، ”یہی وہ مرحلہ ہوگا جب محض آگاہی سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال عام ہو جائے گا۔“</p>
<h3><a id="نظام-میں-موجود-خامیاں" href="#نظام-میں-موجود-خامیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نظام میں موجود خامیاں</strong></h3>
<p>اگرچہ پاکستان کی حکومت مصنوعی ذہانت کے حوالے سے درست سمت میں بیانات دے رہی ہے، لیکن عملی پیش رفت کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔</p>
<p>اوپن سورس ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت تک رسائی کو زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے یا نہیں۔</p>
<p>نعمان احمد اپنی کمپنی کے تجربات کی روشنی میں اس خدشے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”ہمیں بار بار ایک ہی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تربیت کے بعد افراد کی صلاحیت تو موجود تھی، لیکن ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی ماحول اس رفتار سے تبدیل نہیں ہوا۔ ہمارے تجارتی منصوبوں نے مسلسل ایسے بنیادی خلا نمایاں کیے جنہیں صرف مشاورت کے ذریعے نچلی سطح سے دور نہیں کیا جا سکتا تھا۔“</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان کو ایسے ضابطوں کی ضرورت ہے جو جدت کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے واضح رہنمائی فراہم کریں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”میری رائے میں پاکستان کو فوری طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایسا مؤثر ڈیٹا تحفظ کا فریم ورک جو واقعی قابلِ عمل ہو، صحت اور مالیاتی خدمات جیسے حساس شعبوں میں اے آئی کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول، اور سرکاری خریداری کے ایسے قواعد جن کے تحت سرکاری ادارے موجودہ قانونی ابہام کے بغیر اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکیں۔“</p>
<p>ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو عملی طور پر کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ محض نظریاتی بنیادوں پر اس کے لیے قوانین وضع کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے، ”ایسے افراد کی تیار کردہ قانون سازی جنہوں نے کسی پاکستانی ادارے میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال دیکھا ہی نہ ہو، یا تو بے اثر ثابت ہوتی ہے یا پھر جدت کو مفلوج کر دیتی ہے۔“</p>
<h3><a id="تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" href="#تبدیلی-کے-خلاف-مزاحمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تبدیلی کے خلاف مزاحمت</strong></h3>
<p>ایک اور بڑی رکاوٹ پاکستان کے کاروباری رہنماؤں کی سوچ ہے۔ نعمان احمد کے مطابق تین بڑی غلط فہمیاں عام ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اے آئی صرف آئی ٹی کا مسئلہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ دراصل کاروباری طریقۂ کار کا معاملہ ہے۔ اگر چیف فنانشل آفیسر کو یہ معلوم نہ ہو کہ کن پیمانوں پر کارکردگی جانچنی ہے، ہیومن ریسورسز کے سربراہ کو ملازمتوں پر اثرات کا خوف ہو، اور چیف ایگزیکٹو نے یہ طے ہی نہ کیا ہو کہ ادارہ اے آئی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صرف چیف ٹیکنالوجی آفیسر اے آئی نافذ نہیں کر سکتا۔“</p>
<p>”دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انتظار کریں گے جب اے آئی مزید پختہ ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ادارے انتظار کر رہے ہیں، ان کے زیادہ فیصلہ کن حریف آگے بڑھ رہے ہیں۔“</p>
<p>”تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہمارے لوگ اس کے لیے تیار نہیں۔ یہ تصور تقریباً ہمیشہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ پاکستانی پیشہ ور افراد جب حقیقی ماحول میں حقیقی اے آئی ٹولز سے باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں تو اکثر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔“</p>
<p>ان کی یہ بات بے بنیاد نہیں۔ پاکستانی ادارے پہلے ہی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ رواں سال لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کو گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان کا پہلا قومی اے آئی ہب قائم کرنے کے لیے گرانٹ ملی، جس کی توجہ زچہ و بچہ کی صحت پر مرکوز ہے۔</p>
<p>اس وقت یہ ادارہ آوازِ صحت کے نام سے ایک آواز پر مبنی ایپلی کیشن تیار کر رہا ہے، جو بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والے طبی کارکنوں کے لیے مخصوص ہے اور اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق مخصوص مقامی مسائل کے حل کے لیے تیار کی جانے والی ”سمال اے آئی“ ایپلی کیشنز محدود وسائل کے باوجود تیز اور ٹھوس نتائج دے سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آج ہی مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔</p>
<h3><a id="روزگار-میں-تبدیلی" href="#روزگار-میں-تبدیلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>روزگار میں تبدیلی</strong></h3>
<p>مصنوعی ذہانت سے متعلق سب سے بڑا خدشہ ملازمتوں کے خاتمے کا ہے، تاہم نعمان احمد اس کے مجموعی اثرات کو مثبت قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول، ”مصنوعی ذہانت صرف ملازمتیں پیدا یا ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت بدل دیتی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان اور خود کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے والی افرادی قوت موجود ہے۔ اگر تعلیمی اور تربیتی نظام تیزی سے خود کو ڈھال لے تو نئی ملازمتوں تک رسائی ممکن ہے۔“</p>
<p>ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع دوگنا ہو چکے ہیں، تاہم اسی کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی ذہین افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کی کئی ارب ڈالر مالیت کی منڈی اور وہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود نعمان احمد زیادہ پرامید ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی زیادہ قدر اور بہتر معاوضے والی اے آئی ملازمتیں کیسے پیدا کی جائیں کہ ملک چھوڑنے کی قیمت زیادہ محسوس ہو۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کو سنجیدگی سے اپنا رہے ہوں تاکہ بہترین ماہرین کے پاس پاکستان میں رہنے کی ٹھوس وجہ موجود ہو۔“</p>
<h3><a id="کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" href="#کیا-بنیادی-تعلیم-سے-پہلے-اے-آئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیا بنیادی تعلیم سے پہلے اے آئی؟</strong></h3>
<p>ملک میں کمزور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور تعلیمی مسائل کے باعث بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت بنیادی تعلیم سے توجہ ہٹا سکتی ہے، مگر نعمان احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں موبائل بینکاری نے ان افراد تک بھی مالی خدمات پہنچائیں جن کا کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔ واٹس ایپ ایسے لوگ بھی روزانہ استعمال کرتے ہیں جنہیں پڑھنے لکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے غیر رسمی معیشت میں جگہ بنا لے گی۔“</p>
<p>شاید مصنوعی ذہانت کو تعلیم کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک ضلع میں دسویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے پڑھائی ود اے آئی نامی پلیٹ فارم کے استعمال کے بعد امتحانات میں کامیابی کی شرح میں 96.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ پلیٹ فارم انگریزی اور ہندی میں ریاضی کے سوالات حل کرنے اور اساتذہ کے لیے ورک شیٹس تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>مضمون کے اختتام پر نعمان احمد کہتے ہیں:”اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی سمت کا تعین کون کرے گا؟ میری خواہش ہے کہ ہم اس عمل کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہوں۔“</p>
<h3><a id="خلا-کو-پُر-کرنا" href="#خلا-کو-پُر-کرنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خلا کو پُر کرنا</strong></h3>
<p>پاکستان کی ایک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ یہ ان متعدد چیلنجز میں سے ایک ہے جن پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم اگر یہ رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو مصنوعی ذہانت تجارت، روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور حتیٰ کہ معاشی تبدیلی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>نعمان احمد کے مطابق، ”مصنوعی ذہانت پیشہ ورانہ تاریخ میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کیونکہ یہ علم تک رسائی اور مضبوط ادارہ جاتی مواقع کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔“</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ”ملتان کا کوئی پہلی نسل کا پیشہ ور، اگر اس کے پاس درست فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مناسب اے آئی ٹولز موجود ہوں، تو اب ایسا کام انجام دے سکتا ہے جو کسی ممتاز جامعہ سے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ درجے کے ادارے میں کام کرنے والے فرد کے معیار کا مقابلہ کر سکے۔“</p>
<p>ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سوچے سمجھے اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تربیتی پروگرام، مناسب قیمتوں کا نظام اور علاقائی اور قومی زبانوں میں اے آئی کی دستیابی شامل ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت صرف بااثر حلقوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>ان کے بقول، ”یہ خیرات نہیں بلکہ پاکستان کی اکثریتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا طریقہ ہے۔ جن بہترین ماہرین کو ہم نے تربیت دی، ان میں سے اکثر کا تعلق بھی ایسے ہی پس منظر سے تھا۔“</p>
<p>اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات کی حامل ہے، لیکن پاکستان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ڈیجیٹل اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کتنی مؤثر انداز میں دور کرتی ہے، اس شعبے میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہے اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنے والا کس قدر مؤثر قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289297</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 17:18:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خدیجہ حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/281703050aa1532.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/281703050aa1532.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کم پیچیدگیاں، زیادہ اعتماد: پاکستان میں بینکاری کا مستقبل سادہ ڈیجیٹل نظام سے وابستہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو مزید بینکنگ ایپلی کیشنز کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے کم پیچیدگیوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالیاتی ٹولز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو رفتار اور سہولت کا وعدہ کرتے ہیں۔ ڈاؤن لوڈز میں اضافہ ہوا، لین دین کا حجم بڑھا، اور صرف مالی سال 2025 میں ریٹیل ادائیگیاں 9.1 ارب ٹرانزیکشنز سے تجاوز کر گئیں، جن کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی، جبکہ اب ڈیجیٹل ذرائع تمام ریٹیل لین دین کا تقریباً 88 فیصد حصہ بن چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ فعال ہے، تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، اور پیش رفت کی سمت بالکل واضح ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، صرف حجم بڑھ جانے سے خودبخود سادگی پیدا نہیں ہوتی۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے آج بھی بینکنگ ایک پیچیدہ، ضابطہ جاتی  اور غیر یقینی عمل محسوس ہوتی ہے۔ فارم سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے، مختلف چارجز کی وضاحت درکار ہوتی ہے، اور ڈیجیٹل انٹرفیس احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ معمولی سی غلطی بھی مہنگی ثابت ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ یہی خاموش ہچکچاہٹ اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ڈیجیٹل متبادل موجود ہونے کے باوجود لوگ نقد رقم  کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد رقم آج بھی ایک سادہ وجہ کی بنا پر مقبول ہے: یہ آسان، فوری اور قابلِ پیش گوئی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس تک اب ڈیجیٹل بینکنگ کو پہنچنا ہوگا۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں بینکنگ کا انحصار فزیکل موجودگی  پر رہا، جو استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ بینکوں کی شاخوں کا وسیع نیٹ ورک مستقل مزاجی کا تاثر دیتا تھا، دستاویزی کارروائیاں قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی تھیں، اور آمنے سامنے ملاقات صارفین کو اعتماد فراہم کرتی تھی۔ اگرچہ موبائل والٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے بھی مقبولیت حاصل کی، مگر مجموعی نظام اب بھی برانچز اور روایتی طریقۂ کار کے گرد ہی ترتیب دیا گیا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ڈیجیٹل فرسٹ بینک بالکل مختلف بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل نظام کو پرانے ڈھانچے پر اضافی سہولت کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پورے نظام کی بنیادی ساخت  بنایا جاتا ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے ، تصدیق اور خدمات کی فراہمی کو ابتدا ہی سے حقیقی وقت میں انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ تاخیر سے کام کرنے کے بجائے فوری ردعمل  کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے کے انداز کو بھی بدل دیتی ہے۔ جب بینک کی فزیکل موجودگی اعتماد کا بنیادی پیمانہ نہ رہے، تو یہ ذمہ داری ڈیجیٹل ڈیزائن کو سنبھالنی پڑتی ہے۔ طریقۂ کار اتنا واضح ہونا چاہیے کہ شکوک کم ہوں، سیکیورٹی اتنی نمایاں ہو کہ اعتماد پیدا کرے، اور ضرورت کے وقت معاونت آسانی سے دستیاب رہے تاکہ صارف کو اطمینان حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم طے ہوگا کہ کتنی نئی سہولیات متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان کے مالیاتی شعبے کی سمت ایک اور اہم انداز میں بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اسلامی بینکاری اب مجموعی بینکاری نظام کا ایک نمایاں اور مسلسل بڑھتا ہوا حصہ بن چکی ہے۔ اسلامی بینکاری کے اثاثے اب مجموعی بینکاری شعبے کے اثاثوں کا 22.9 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ ڈپازٹس میں اس کا حصہ اس سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلامی بینکاری اب مرکزی دھارے  کا حصہ بن چکی ہے۔یہ پیش رفت ایک عملی سوال بھی سامنے لاتی ہے: کیا شریعت کے مطابق بینکاری  کو اس انداز میں فراہم کیا جا سکتا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کے لیے بھی آسان محسوس ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے صارفین کے لیے مسئلہ ترجیح نہیں بلکہ پیچیدگی ہے۔ مختلف بینکاری مصنوعات کا ڈھانچہ کئی تہوں پر مشتمل محسوس ہوتا ہے، اصطلاحات تکنیکی معلوم ہوتی ہیں، اور مختلف مصنوعات کا موازنہ کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کو بڑے پیمانے پر عام پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننا ہے تو اسے شفافیت  اور یکسانیت کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ اسے ایسا محسوس ہونا چاہیے کہ اسے سمجھنا فطری ہو، نہ کہ کسی ہدایت نامے کی ضرورت پڑے۔ڈیجیٹل فرسٹ ڈھانچے اور اسلامک فرسٹ نقطۂ نظر کا امتزاج ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ جو ادارہ ابتدا ہی سے ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم کیا گیا ہو، اسے پرانے نظام میں شریعت سے مطابقت پیدا کرنے یا پہلے سے موجود پیچیدہ طریقۂ کار کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنی بنیاد ہی میں منظم ڈھانچہ، وضاحت اور شریعت سے ہم آہنگی کو شامل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری میں تجدید  کا مطلب صرف نئی سہولیات شامل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا سوچا سمجھا ازسرِنو ڈیزائن ہونا چاہیے جو لوگوں کے آج کے لین دین کے طریقوں کے مطابق ہو۔پاکستان میں اس کا مطلب ایسی بینکنگ ہے جس میں داخل ہونا آسان ہو، جسے سمجھنا آسان ہو، اور جو روزمرہ استعمال میں یکساں اور قابلِ اعتماد ہو۔اگر ڈیجیٹل بینکنگ واقعی عام پاکستانیوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے روزمرہ زندگی کے عام لمحات سے آغاز کرنا ہوگا،اسکول کی فیس ادا کرنے کے لیے آدھا دن ضائع نہ کرنا پڑے۔گھر والوں کو رقم بھیجنے کے لیے قطار میں نہ کھڑا ہونا پڑے،بیلنس چیک کرتے وقت کسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ ہو،مختلف چارجز کو کسی کی مدد کے بغیر سمجھا جا سکے اور بینک اکاؤنٹ کھولتے وقت صارف خود کو الجھن کا شکار محسوس نہ کرے۔یہ کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں بلکہ صرف جائز اور معقول توقعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم وابستہ ہوگا کہ کتنی نئی خصوصیات  متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں ختم کی جاتی ہیں۔ سادگی مالیاتی شمولیت  کو فروغ دیتی ہے، وضاحت اعتماد پیدا کرتی ہے، اور مستقل مزاجی وقت کے ساتھ لوگوں کے رویّے بدل دیتی ہے۔پاکستان کا مالیاتی شعبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ڈیجیٹل رفتار، شریعت سے مطابقت، اور صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات اس کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ جو ادارے اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، انہیں نظم و ضبط اور واضح توجہ کے ساتھ اس کا جواب دینا ہوگا۔صرف ٹیکنالوجی اعتماد پیدا نہیں کر سکتی؛ سوچا سمجھا، صارف دوست اور مؤثر ڈیزائن ہی اعتماد کی حقیقی بنیاد بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: اس مضمون میں بیان کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو مزید بینکنگ ایپلی کیشنز کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے کم پیچیدگیوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالیاتی ٹولز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو رفتار اور سہولت کا وعدہ کرتے ہیں۔ ڈاؤن لوڈز میں اضافہ ہوا، لین دین کا حجم بڑھا، اور صرف مالی سال 2025 میں ریٹیل ادائیگیاں 9.1 ارب ٹرانزیکشنز سے تجاوز کر گئیں، جن کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی، جبکہ اب ڈیجیٹل ذرائع تمام ریٹیل لین دین کا تقریباً 88 فیصد حصہ بن چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ فعال ہے، تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، اور پیش رفت کی سمت بالکل واضح ہے۔</strong></p>
<p>تاہم، صرف حجم بڑھ جانے سے خودبخود سادگی پیدا نہیں ہوتی۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے آج بھی بینکنگ ایک پیچیدہ، ضابطہ جاتی  اور غیر یقینی عمل محسوس ہوتی ہے۔ فارم سمجھنے کی ضرورت پڑتی ہے، مختلف چارجز کی وضاحت درکار ہوتی ہے، اور ڈیجیٹل انٹرفیس احتیاط سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ معمولی سی غلطی بھی مہنگی ثابت ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ یہی خاموش ہچکچاہٹ اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ڈیجیٹل متبادل موجود ہونے کے باوجود لوگ نقد رقم  کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>نقد رقم آج بھی ایک سادہ وجہ کی بنا پر مقبول ہے: یہ آسان، فوری اور قابلِ پیش گوئی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس تک اب ڈیجیٹل بینکنگ کو پہنچنا ہوگا۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں بینکنگ کا انحصار فزیکل موجودگی  پر رہا، جو استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ بینکوں کی شاخوں کا وسیع نیٹ ورک مستقل مزاجی کا تاثر دیتا تھا، دستاویزی کارروائیاں قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی تھیں، اور آمنے سامنے ملاقات صارفین کو اعتماد فراہم کرتی تھی۔ اگرچہ موبائل والٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے بھی مقبولیت حاصل کی، مگر مجموعی نظام اب بھی برانچز اور روایتی طریقۂ کار کے گرد ہی ترتیب دیا گیا رہا۔</p>
<p>ایک ڈیجیٹل فرسٹ بینک بالکل مختلف بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل نظام کو پرانے ڈھانچے پر اضافی سہولت کے طور پر شامل نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پورے نظام کی بنیادی ساخت  بنایا جاتا ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے ، تصدیق اور خدمات کی فراہمی کو ابتدا ہی سے حقیقی وقت میں انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ تاخیر سے کام کرنے کے بجائے فوری ردعمل  کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اعتماد قائم کرنے کے انداز کو بھی بدل دیتی ہے۔ جب بینک کی فزیکل موجودگی اعتماد کا بنیادی پیمانہ نہ رہے، تو یہ ذمہ داری ڈیجیٹل ڈیزائن کو سنبھالنی پڑتی ہے۔ طریقۂ کار اتنا واضح ہونا چاہیے کہ شکوک کم ہوں، سیکیورٹی اتنی نمایاں ہو کہ اعتماد پیدا کرے، اور ضرورت کے وقت معاونت آسانی سے دستیاب رہے تاکہ صارف کو اطمینان حاصل ہو۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم طے ہوگا کہ کتنی نئی سہولیات متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>اسی دوران پاکستان کے مالیاتی شعبے کی سمت ایک اور اہم انداز میں بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اسلامی بینکاری اب مجموعی بینکاری نظام کا ایک نمایاں اور مسلسل بڑھتا ہوا حصہ بن چکی ہے۔ اسلامی بینکاری کے اثاثے اب مجموعی بینکاری شعبے کے اثاثوں کا 22.9 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ ڈپازٹس میں اس کا حصہ اس سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلامی بینکاری اب مرکزی دھارے  کا حصہ بن چکی ہے۔یہ پیش رفت ایک عملی سوال بھی سامنے لاتی ہے: کیا شریعت کے مطابق بینکاری  کو اس انداز میں فراہم کیا جا سکتا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کے لیے بھی آسان محسوس ہو؟</p>
<p>بہت سے صارفین کے لیے مسئلہ ترجیح نہیں بلکہ پیچیدگی ہے۔ مختلف بینکاری مصنوعات کا ڈھانچہ کئی تہوں پر مشتمل محسوس ہوتا ہے، اصطلاحات تکنیکی معلوم ہوتی ہیں، اور مختلف مصنوعات کا موازنہ کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔ اگر اسلامی بینکاری کو بڑے پیمانے پر عام پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننا ہے تو اسے شفافیت  اور یکسانیت کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ اسے ایسا محسوس ہونا چاہیے کہ اسے سمجھنا فطری ہو، نہ کہ کسی ہدایت نامے کی ضرورت پڑے۔ڈیجیٹل فرسٹ ڈھانچے اور اسلامک فرسٹ نقطۂ نظر کا امتزاج ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ جو ادارہ ابتدا ہی سے ڈیجیٹل بنیادوں پر قائم کیا گیا ہو، اسے پرانے نظام میں شریعت سے مطابقت پیدا کرنے یا پہلے سے موجود پیچیدہ طریقۂ کار کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اپنی بنیاد ہی میں منظم ڈھانچہ، وضاحت اور شریعت سے ہم آہنگی کو شامل کر سکتا ہے۔</p>
<p>بینکاری میں تجدید  کا مطلب صرف نئی سہولیات شامل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا سوچا سمجھا ازسرِنو ڈیزائن ہونا چاہیے جو لوگوں کے آج کے لین دین کے طریقوں کے مطابق ہو۔پاکستان میں اس کا مطلب ایسی بینکنگ ہے جس میں داخل ہونا آسان ہو، جسے سمجھنا آسان ہو، اور جو روزمرہ استعمال میں یکساں اور قابلِ اعتماد ہو۔اگر ڈیجیٹل بینکنگ واقعی عام پاکستانیوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے روزمرہ زندگی کے عام لمحات سے آغاز کرنا ہوگا،اسکول کی فیس ادا کرنے کے لیے آدھا دن ضائع نہ کرنا پڑے۔گھر والوں کو رقم بھیجنے کے لیے قطار میں نہ کھڑا ہونا پڑے،بیلنس چیک کرتے وقت کسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ ہو،مختلف چارجز کو کسی کی مدد کے بغیر سمجھا جا سکے اور بینک اکاؤنٹ کھولتے وقت صارف خود کو الجھن کا شکار محسوس نہ کرے۔یہ کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں بلکہ صرف جائز اور معقول توقعات ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں بینکنگ کا مستقبل اس بات سے کم وابستہ ہوگا کہ کتنی نئی خصوصیات  متعارف کرائی جاتی ہیں، اور اس بات سے زیادہ کہ کتنی رکاوٹیں ختم کی جاتی ہیں۔ سادگی مالیاتی شمولیت  کو فروغ دیتی ہے، وضاحت اعتماد پیدا کرتی ہے، اور مستقل مزاجی وقت کے ساتھ لوگوں کے رویّے بدل دیتی ہے۔پاکستان کا مالیاتی شعبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ڈیجیٹل رفتار، شریعت سے مطابقت، اور صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات اس کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ جو ادارے اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، انہیں نظم و ضبط اور واضح توجہ کے ساتھ اس کا جواب دینا ہوگا۔صرف ٹیکنالوجی اعتماد پیدا نہیں کر سکتی؛ سوچا سمجھا، صارف دوست اور مؤثر ڈیزائن ہی اعتماد کی حقیقی بنیاد بن سکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: اس مضمون میں بیان کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289269</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 10:29:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد ہمایوں سجاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/28102814a53a18d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/28102814a53a18d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی صنعتی پالیسی درست سمت سے ہٹ گئی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289071/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت  کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے  کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات  کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست  نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت  پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں  کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط  کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع  بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق  کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔  اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی  میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات  پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش  شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید  سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز  کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ  اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست  کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری  پر مبنی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی  جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط  معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی  ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات  کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔</p>
<p>بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت  کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔</p>
<p>رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے  کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔</p>
<p>یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات  کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔</p>
<p>صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔</p>
<p>یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست  نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔</p>
<p>اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔</p>
<p>اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔</p>
<p>یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت  پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں  کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط  کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع  بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق  کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔  اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی  میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات  پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش  شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید  سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز  کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ  اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست  کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری  پر مبنی ہوں۔</p>
<p>جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی  جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط  معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی  ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات  کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289071</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:22:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231020017e5878d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231020017e5878d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمباکو نوشی اب بھی جیت رہی ہے، اس کے خلاف جنگ پر ازسرِنو غور کا وقت آ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سگریٹ کے ہر پیکٹ پر صحت سے متعلق واضح اور خوفناک انتباہی تصاویر اور تحریریں موجود ہوتی ہیں۔ لاکھوں سگریٹ نوش روزانہ انہیں دیکھتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ان انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے پیکٹ دوبارہ جیب میں رکھتے ہیں اور ایک اور سگریٹ سلگا لیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں مختلف ممالک نے تمباکو پر ٹیکس بڑھائے، قوانین مزید سخت کیے، سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصویری انتباہات شائع کیے اور تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات پر سرمایہ کاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھی یہ تمام اقدامات اختیار کیے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد آج بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں، جبکہ تمباکو ملک میں قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں بدستور شامل ہے۔ کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحتِ عامہ کی حکمتِ عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کا تصور سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نسبتاً کم نقصان دہ متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کے خلاف دلیل نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس، اشتہارات پر پابندیاں اور انتباہی لیبل آج بھی اہم ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ اقدامات اکیلے کبھی کافی نہیں تھے، اور شواہد کئی برسوں سے یہی بتا رہے ہیں۔ تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) وہ گمشدہ کڑی ہے جس پر پاکستان اب بھی کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین ہی سگریٹ نوشی کو جان لیوا بناتی ہے، مگر سائنسی شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔ نکوٹین یقیناً نشہ آور ہے، لیکن پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کی اصل وجہ وہ دھواں اور ہزاروں زہریلے کیمیائی مادے ہیں جو تمباکو جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر نکوٹین تمباکو جلائے بغیر جسم تک پہنچائی جائے تو ایسے متبادل کی خطرے کی نوعیت روایتی سگریٹ سے نمایاں طور پر مختلف ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نقصان کو کم کرنے والا متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لاکھوں ایسے افراد کے لیے جو کئی بار سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر کے ناکام ہو چکے ہیں یا جنہیں تمباکو نوشی ترک کرنے میں پیشہ ورانہ مدد میسر نہیں، یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشے کی لت صرف آگاہی کی کمی کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوش بخوبی جانتے ہیں کہ سگریٹ صحت کے لیے مضر ہیں، لیکن وہ اس عادت میں جکڑے ہوئے ہیں کیونکہ سگریٹ چھوڑنا واقعی آسان نہیں۔ ایسے میں لوگوں سے صرف یہ کہنا کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیں، مگر انہیں کوئی متبادل فراہم نہ کرنا، صحتِ عامہ کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایسا مشورہ ہے جس کے ساتھ کوئی عملی حل موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متبادل مصنوعات سے متعلق بین الاقوامی شواہد اب محدود نہیں رہے۔ نیوزی لینڈ میں، جہاں ویپنگ عام ہو چکی ہے، حکومت نے ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم نقصان دہ متبادل تسلیم کیا ہے اور اس سوچ کو اپنی قومی ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سویڈن نے مختلف راستہ اختیار کیا۔ وہاں اسنس (Snus) — ایک زبانی طور پر استعمال ہونے والی تمباکو مصنوعات، جس کے خطرات روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کہیں کم سمجھے جاتے ہیں — کے وسیع استعمال کے باعث دنیا میں تمباکو نوشی کی شرح سب سے کم سطح پر آ گئی۔ یہ مختلف تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ہر ملک کے لیے ایک ہی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی، کیونکہ مختلف معاشروں میں مختلف مصنوعات اور حکمتِ عملیاں بہتر نتائج دیتی ہیں۔ اسی لیے تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے اقدامات بھی ہر ملک کے حالات کے مطابق ترتیب دیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات پر کھلے اور حقیقت پسندانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اب تک اس سمت میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی۔ ملک میں ہر سال ایک لاکھ 63 ہزار 500 سے زائد افراد تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ہر صوبے، ہر آمدنی والے طبقے اور ہر عمر کے گروہ میں سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے زیادہ جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تمباکو نوشی ترک کرانے کی سہولتیں اب بھی محدود ہیں، جبکہ ان افراد کے لیے متبادل ذرائع پر عوامی سطح پر بہت کم بحث ہوتی ہے جو سگریٹ چھوڑنے سے قاصر ہیں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ صحتِ عامہ کی ایسی حکمتِ عملی، جو صرف ایک ہی راستہ یعنی مکمل طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے پر زور دے، ہر سگریٹ نوش تک نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اس بحث میں تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کے تصور کو بھی شامل کیا جائے تو ان افراد کے لیے صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بصورتِ دیگر سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ واقعی توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ خدشہ بجا ہے کہ نکوٹین پر مبنی متبادل مصنوعات ایسے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔ تاہم ان خدشات کو خاموش رہنے کا جواز بنانے کے بجائے مؤثر ضابطہ سازی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات کے بارے میں دیانت داری اور کھلے انداز میں آگاہی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر یہ سب نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ متبادل مصنوعات پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں، لوگ انہیں خرید بھی رہے ہیں اور استعمال بھی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کرنا ہی اصل ہدف ہونا چاہیے، مگر جو افراد فی الحال اس ہدف تک نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے مناسب ضابطوں اور واضح حفاظتی اقدامات کے ساتھ متبادل ذرائع فراہم کیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس سیکھنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ بین الاقوامی تجربات قیمتی اسباق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر سے سامنے آنے والے ابتدائی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے سگریٹ نوش کسی سرکاری پالیسی یا رہنمائی کے بغیر ہی خود سے متبادل مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اب بھی جس چیز کی کمی ہے، وہ صحتِ عامہ کے اداروں کی جانب سے ٹوبیکو ہارم ریڈکشن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی آمادگی ہے۔ اس رویے میں تبدیلی ناگزیر ہے، کیونکہ عملی اقدام نہ کرنے کی قیمت ہر سال ان اموات کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جن کی تعداد بدستور ناقابلِ قبول حد تک بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سگریٹ کے ہر پیکٹ پر صحت سے متعلق واضح اور خوفناک انتباہی تصاویر اور تحریریں موجود ہوتی ہیں۔ لاکھوں سگریٹ نوش روزانہ انہیں دیکھتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ان انتباہات کو نظرانداز کرتے ہوئے پیکٹ دوبارہ جیب میں رکھتے ہیں اور ایک اور سگریٹ سلگا لیتے ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں مختلف ممالک نے تمباکو پر ٹیکس بڑھائے، قوانین مزید سخت کیے، سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصویری انتباہات شائع کیے اور تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہمات پر سرمایہ کاری کی۔</p>
<p>پاکستان نے بھی یہ تمام اقدامات اختیار کیے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں افراد آج بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں، جبکہ تمباکو ملک میں قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں بدستور شامل ہے۔ کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صحتِ عامہ کی حکمتِ عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کا تصور سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نسبتاً کم نقصان دہ متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کے خلاف دلیل نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس، اشتہارات پر پابندیاں اور انتباہی لیبل آج بھی اہم ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ اقدامات اکیلے کبھی کافی نہیں تھے، اور شواہد کئی برسوں سے یہی بتا رہے ہیں۔ تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) وہ گمشدہ کڑی ہے جس پر پاکستان اب بھی کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہے۔</p>
<p>زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین ہی سگریٹ نوشی کو جان لیوا بناتی ہے، مگر سائنسی شواہد اس کی تائید نہیں کرتے۔ نکوٹین یقیناً نشہ آور ہے، لیکن پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کی اصل وجہ وہ دھواں اور ہزاروں زہریلے کیمیائی مادے ہیں جو تمباکو جلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر نکوٹین تمباکو جلائے بغیر جسم تک پہنچائی جائے تو ایسے متبادل کی خطرے کی نوعیت روایتی سگریٹ سے نمایاں طور پر مختلف ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سگریٹ نوشوں سے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی، بلکہ انہیں زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے اور کم از کم نقصان کو کم کرنے والا متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ لاکھوں ایسے افراد کے لیے جو کئی بار سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر کے ناکام ہو چکے ہیں یا جنہیں تمباکو نوشی ترک کرنے میں پیشہ ورانہ مدد میسر نہیں، یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔</p>
<p>نشے کی لت صرف آگاہی کی کمی کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں سگریٹ نوش بخوبی جانتے ہیں کہ سگریٹ صحت کے لیے مضر ہیں، لیکن وہ اس عادت میں جکڑے ہوئے ہیں کیونکہ سگریٹ چھوڑنا واقعی آسان نہیں۔ ایسے میں لوگوں سے صرف یہ کہنا کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دیں، مگر انہیں کوئی متبادل فراہم نہ کرنا، صحتِ عامہ کی مؤثر حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایسا مشورہ ہے جس کے ساتھ کوئی عملی حل موجود نہیں۔</p>
<p>متبادل مصنوعات سے متعلق بین الاقوامی شواہد اب محدود نہیں رہے۔ نیوزی لینڈ میں، جہاں ویپنگ عام ہو چکی ہے، حکومت نے ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم نقصان دہ متبادل تسلیم کیا ہے اور اس سوچ کو اپنی قومی ٹوبیکو ہارم ریڈکشن حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سویڈن نے مختلف راستہ اختیار کیا۔ وہاں اسنس (Snus) — ایک زبانی طور پر استعمال ہونے والی تمباکو مصنوعات، جس کے خطرات روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کہیں کم سمجھے جاتے ہیں — کے وسیع استعمال کے باعث دنیا میں تمباکو نوشی کی شرح سب سے کم سطح پر آ گئی۔ یہ مختلف تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ ہر ملک کے لیے ایک ہی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی، کیونکہ مختلف معاشروں میں مختلف مصنوعات اور حکمتِ عملیاں بہتر نتائج دیتی ہیں۔ اسی لیے تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی کے اقدامات بھی ہر ملک کے حالات کے مطابق ترتیب دیے جانے چاہییں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات پر کھلے اور حقیقت پسندانہ انداز میں گفتگو کی جائے۔</p>
</blockquote>
<p>پاکستان نے اب تک اس سمت میں کوئی مؤثر پیش رفت نہیں کی۔ ملک میں ہر سال ایک لاکھ 63 ہزار 500 سے زائد افراد تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد ہر صوبے، ہر آمدنی والے طبقے اور ہر عمر کے گروہ میں سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلے کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے زیادہ جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔</p>
<p>ملک میں تمباکو نوشی ترک کرانے کی سہولتیں اب بھی محدود ہیں، جبکہ ان افراد کے لیے متبادل ذرائع پر عوامی سطح پر بہت کم بحث ہوتی ہے جو سگریٹ چھوڑنے سے قاصر ہیں یا ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ صحتِ عامہ کی ایسی حکمتِ عملی، جو صرف ایک ہی راستہ یعنی مکمل طور پر تمباکو نوشی ترک کرنے پر زور دے، ہر سگریٹ نوش تک نہیں پہنچ سکتی۔ اگر اس بحث میں تمباکو کے نقصانات میں کمی (ٹوبیکو ہارم ریڈکشن) کے تصور کو بھی شامل کیا جائے تو ان افراد کے لیے صحت کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بصورتِ دیگر سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔</p>
<p>ٹوبیکو ہارم ریڈکشن سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ واقعی توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ خدشہ بجا ہے کہ نکوٹین پر مبنی متبادل مصنوعات ایسے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف راغب کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی۔ تاہم ان خدشات کو خاموش رہنے کا جواز بنانے کے بجائے مؤثر ضابطہ سازی کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ موجودہ سگریٹ نوشوں کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت متبادل مصنوعات تک رسائی دی جائے، ان کے استعمال کے لیے عمر کی واضح حد مقرر کی جائے اور ان سے وابستہ خطرات کے بارے میں دیانت داری اور کھلے انداز میں آگاہی فراہم کی جائے۔</p>
<p>لیکن اگر یہ سب نہ کیا جائے تو کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ متبادل مصنوعات پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں، لوگ انہیں خرید بھی رہے ہیں اور استعمال بھی کر رہے ہیں۔ بلاشبہ تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کرنا ہی اصل ہدف ہونا چاہیے، مگر جو افراد فی الحال اس ہدف تک نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے مناسب ضابطوں اور واضح حفاظتی اقدامات کے ساتھ متبادل ذرائع فراہم کیے جانے چاہییں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس سیکھنے کے لیے شواہد موجود ہیں۔ بین الاقوامی تجربات قیمتی اسباق فراہم کرتے ہیں، جبکہ ملک کے اندر سے سامنے آنے والے ابتدائی اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بہت سے سگریٹ نوش کسی سرکاری پالیسی یا رہنمائی کے بغیر ہی خود سے متبادل مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اب بھی جس چیز کی کمی ہے، وہ صحتِ عامہ کے اداروں کی جانب سے ٹوبیکو ہارم ریڈکشن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی آمادگی ہے۔ اس رویے میں تبدیلی ناگزیر ہے، کیونکہ عملی اقدام نہ کرنے کی قیمت ہر سال ان اموات کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے، جن کی تعداد بدستور ناقابلِ قبول حد تک بلند ہے۔</p>
<p>نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288864</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 21:12:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سوہا عثمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/172053388157f57.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/172053388157f57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مصنوعی ذہانت پاکستان میں انشورنس کوریج بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288792/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی دہائیوں سے انشورنس (بیمہ کاری) کی صنعت ترقی پذیر دنیا کے اربوں غیر محفوظ لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ کبھی بھی پالیسیوں کا ڈیزائن یا ان کی قیمت نہیں تھی بلکہ اصل رکاوٹ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے براہِ راست رابطہ اور گفتگو کا ناممکن ہونا تھا مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) نے شاید یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا میں ہر سال لاکھوں چھوٹے کاروباری حضرات، کسان اور محنت کش خاندان ایسے مالیاتی جھٹکوں کا شکار ہوتے ہیں جنہیں انشورنس کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ کبھی سیلاب فصل تباہ کر دیتا ہے  تو کبھی کوئی بیماری خاندان کی عمر بھر کی جمع پونجی نگل جاتی ہے۔ کسی حادثاتی آگ کے نتیجے میں نسلوں سے کھڑا کیا گیا کاروبار لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ایسے واقعے میں نقصان صرف حادثے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد کے حالات اسے مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جیسے بھاری سود پر قرضے لینا، بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا اور سالہا سال کی محنت کا ضائع ہو جانا۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں ہیں بلکہ یہ اس فرسودہ نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انشورنس کی سہولت موجود نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی نے ان غریب طبقوں سے نقصان کے تحفظ کے موضوع پر ڈھنگ سے بات ہی نہیں کی۔یہ تضاد انتہائی واضح ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشی ڈھانچے میں انشورنس گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، وہیں ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ امیر ممالک میں انشورنس کا حجم ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جو پورے ایشیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس خلیج کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں خاندان اور کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کے سامنے بالکل بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں انشورنس کی اس کم رسائی کا ذمہ دار عام طور پر غربت، مالیاتی شعور کی کمی اور روایتی یا مذہبی ہچکچاہٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ اصل رکاوٹ نہیں ہیں۔ اصل  مسئلہ جس کا انشورنس کمپنیوں نے کبھی ایمانداری سے اعتراف نہیں کیا وہ انشورنس کو لوگوں تک پہنچانے کا ناقص نظام اور رسائی کی کمی ہے۔انشورنس دیگر مالیاتی مصنوعات (جیسے بینک اکاؤنٹ وغیرہ) سے بالکل مختلف ہے۔ گاہک اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، کلیم (رقم کی واپسی) کی صورت میں کیا ہوگا اور وہ اپنی محنت کی کمائی کسی ایسے ادارے کے سپرد کیوں کریں جس پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات کے لیے انتہائی صبر اور مہارت سے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس توجہ اور رہنمائی پر اخراجات آتے ہیں۔ کم آمدنی والے کروڑوں صارفین تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں انسانی مشیروں (ایجنٹس) کو ملازمت پر رکھنا معاشی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں اس سروس کی ضرورت ہے۔ شہروں کے متوسط طبقے کے لیے بنایا گیا یہ روایتی نظام دیہی علاقوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک پہنچتے ہی مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ صنعت دہائیوں سے اس مسئلے سے واقف ہونے کے باوجود اسے حل کرنے سے قاصر رہی ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر اس صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور اس کے اثرات صرف انشورنس تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کا اصل کمال دفتری کاموں کو خودکار بنانا یا کال سینٹر کے عملے کو تبدیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل فائدہ اس رسائی کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اب پہلی بار کوئی بھی انشورنس کمپنی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک بہترین تربیت یافتہ  اے آئی ایجنٹ  تعینات کر سکتا ہے، جو مقامی زبانوں میں دن رات کے کسی بھی حصے میں بیک وقت ہزاروں صارفین سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی لاگت اتنی کم ہے کہ معمولی پریمیم (قسط) دینے والے غریب گاہکوں کو سروس فراہم کرنا بھی کمپنیوں کے لیے منافع بخش بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام عام خودکار چیٹ بوٹس کی طرح نہیں ہیں جو صرف چند طے شدہ آپشنز دیتے ہیں۔ جدید ترین زبانیں سمجھنے والے یہ  اے آئی مشیر انشورنس کے دائرہ کار کے بارے میں مخصوص سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، پالیسی کی شرائط آسان زبان میں سمجھا سکتے ہیں، کلیم کا طریقہ کار واضح کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فون پر ایک ہی گفتگو کے دوران پالیسی کی خرید و فروخت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے مگر انشورنس کی شرح انتہائی کم ہے یہ ٹیکنالوجی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔پاکستان جیسے کم انشورنس والے ملک میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی تجربات نے اس کے شاندار امکانات کو ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ماڈل کا پاکستان کے ایک شرعی ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم  تکافل بازار پر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ان ابتدائی نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نفاذ کے چند ہی مہینوں میں اس اے آئی ایجنٹ نے نہ صرف صارفین کو تکافل کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان کے خدشات دور کیے، بلکہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ان گفتگو کو گاڑی اور صحت کی انشورنس کی براہِ راست خریداری میں تبدیل کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگر صارفین کو بھروسہ، آسان رسائی اور سستی انشورنس فراہم کی جائے تو اس کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کی کم شرح کا تعلق مانگ کی کمی سے نہیں، بلکہ رسائی کے فقدان سے ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے پاس لوگوں کے گھروں تک پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انشورنس کی شرح میں اضافہ صرف خاندانوں کا ہی تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، قدرتی آفات کے بعد حکومت پر بوجھ کم کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ جن ممالک میں انشورنس کا نظام مضبوط ہوتا ہے وہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں اور جلد سنبھل جاتے ہیں۔تاہم موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی اپنی حدود بھی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پیچیدہ تجارتی خطرات، بڑی لائف انشورنس پالیسیاں اور متنازع کلیمز کے معاملات میں اب بھی تجربہ کار انسانی ماہرین کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم متبادل نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر صحت، گاڑی، سفر اور حادثاتی انشورنس جیسی ذاتی اور سادہ پالیسیوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر اس نظام کو بغیر کسی نگرانی کے لاپروائی سے استعمال کیا جائے تو صارفین کو غلط مصنوعات بیچنے اور نقصان پہنچانے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر پاکستان جیسی مارکیٹوں کے لیے نقصان دہ ہوگا جہاں پہلے ہی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں نگران اداروں (ریگولیٹرز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے انشورنس کی فروخت بڑھے گی ویسے ہی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہوگی۔ مقصد جدت کو روکنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں عام صارفین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی محض موجودہ نظام کو بہتر نہیں بنائے گی بلکہ یہ اس نظام کو ہر فرد کی پہنچ میں لے آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس کے شعبے کی اصلاحات کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انشورنس کو اب محض ایک ثانوی صنعت نہیں، بلکہ معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فنڈنگ کا ایک حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فروخت، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور عوامی شعور کے لیے مختص کیا جائے تو پاکستان روایتی طریقوں کی کئی دہائیوں کی مسافت کو چند سالوں میں طے کرکے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے کامیاب ماڈل وہ نہیں ہوگا جہاں انسانوں کو بالکل ہٹا دیا جائے بلکہ وہ ہوگا جہاں انسانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جلا بخشی جائے۔ ایک ماہر انسانی ایجنٹ دن میں مشکل سے 20 لوگوں سے تفصیلی گفتگو کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے آئی سسٹم بیک وقت ہزاروں لوگوں سے بات چیت کرکے صرف انتہائی پیچیدہ کیسز کو انسانی ماہرین کی طرف بھیج سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رسائی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ انسانی مہارت وہاں کام آتی ہے جہاں حتمی فیصلے کی ضرورت ہو۔انشورنس پاکستان میں معاشی تحفظ کا وہ ستون ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ صحت کی انشورنس رکھنے والے خاندان کسی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد قرضوں کے دلدل میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار ناگہانی آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے فکر ہو کر فصلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور جب انشورنس نقصانات کا بوجھ خود اٹھاتی ہے تو حکومتوں پر مالی دباؤ کم  اور خاندان تباہی سے بچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ غیر بیمہ شدہ آبادی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ ماڈل بہت مہنگا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ شاید پاکستان جیسے ممالک میں انشورنس کی کم شرح کی وجہ غربت یا ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ایک حد تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ماضی میں دنیا کے پاس اربوں لوگوں سے ان کے مالی تحفظ کے بارے میں سستے داموں گفتگو کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں  بلکہ وہ چابی ہے جو اس نظام کو ہر خاص و عام کے لیے ممکن بنا دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی دہائیوں سے انشورنس (بیمہ کاری) کی صنعت ترقی پذیر دنیا کے اربوں غیر محفوظ لوگوں تک پہنچنے کی کوششوں میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ کبھی بھی پالیسیوں کا ڈیزائن یا ان کی قیمت نہیں تھی بلکہ اصل رکاوٹ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں سے براہِ راست رابطہ اور گفتگو کا ناممکن ہونا تھا مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) نے شاید یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا میں ہر سال لاکھوں چھوٹے کاروباری حضرات، کسان اور محنت کش خاندان ایسے مالیاتی جھٹکوں کا شکار ہوتے ہیں جنہیں انشورنس کے ذریعے روکا جا سکتا تھا۔ کبھی سیلاب فصل تباہ کر دیتا ہے  تو کبھی کوئی بیماری خاندان کی عمر بھر کی جمع پونجی نگل جاتی ہے۔ کسی حادثاتی آگ کے نتیجے میں نسلوں سے کھڑا کیا گیا کاروبار لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔</p>
<p>ہر ایسے واقعے میں نقصان صرف حادثے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے بعد کے حالات اسے مزید سنگین بنا دیتے ہیں؛ جیسے بھاری سود پر قرضے لینا، بچوں کو اسکول سے اٹھا لینا اور سالہا سال کی محنت کا ضائع ہو جانا۔ یہ محض انفرادی سانحات نہیں ہیں بلکہ یہ اس فرسودہ نظام کا منطقی نتیجہ ہیں جو ان لوگوں تک پہنچنے کے لیے بنایا ہی نہیں گیا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا اس لیے نہیں کہ انشورنس کی سہولت موجود نہیں، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی نے ان غریب طبقوں سے نقصان کے تحفظ کے موضوع پر ڈھنگ سے بات ہی نہیں کی۔یہ تضاد انتہائی واضح ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے معاشی ڈھانچے میں انشورنس گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، وہیں ترقی پذیر ممالک کی اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ امیر ممالک میں انشورنس کا حجم ان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7 فیصد سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے، جو پورے ایشیا میں سب سے کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس خلیج کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں خاندان اور کاروبار کسی بھی ناگہانی آفت کے سامنے بالکل بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں انشورنس کی اس کم رسائی کا ذمہ دار عام طور پر غربت، مالیاتی شعور کی کمی اور روایتی یا مذہبی ہچکچاہٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن یہ اصل رکاوٹ نہیں ہیں۔ اصل  مسئلہ جس کا انشورنس کمپنیوں نے کبھی ایمانداری سے اعتراف نہیں کیا وہ انشورنس کو لوگوں تک پہنچانے کا ناقص نظام اور رسائی کی کمی ہے۔انشورنس دیگر مالیاتی مصنوعات (جیسے بینک اکاؤنٹ وغیرہ) سے بالکل مختلف ہے۔ گاہک اس کے بارے میں سوالات پوچھتے ہیں۔ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں، کلیم (رقم کی واپسی) کی صورت میں کیا ہوگا اور وہ اپنی محنت کی کمائی کسی ایسے ادارے کے سپرد کیوں کریں جس پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ان تمام سوالات کے لیے انتہائی صبر اور مہارت سے جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اس توجہ اور رہنمائی پر اخراجات آتے ہیں۔ کم آمدنی والے کروڑوں صارفین تک پہنچنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں انسانی مشیروں (ایجنٹس) کو ملازمت پر رکھنا معاشی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد ان لوگوں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں اس سروس کی ضرورت ہے۔ شہروں کے متوسط طبقے کے لیے بنایا گیا یہ روایتی نظام دیہی علاقوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں تک پہنچتے ہی مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً یہ صنعت دہائیوں سے اس مسئلے سے واقف ہونے کے باوجود اسے حل کرنے سے قاصر رہی ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو بڑے پیمانے پر اس صورتحال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے  اور اس کے اثرات صرف انشورنس تک محدود نہیں رہیں گے۔ مصنوعی ذہانت کا اصل کمال دفتری کاموں کو خودکار بنانا یا کال سینٹر کے عملے کو تبدیل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل فائدہ اس رسائی کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اب پہلی بار کوئی بھی انشورنس کمپنی یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک بہترین تربیت یافتہ  اے آئی ایجنٹ  تعینات کر سکتا ہے، جو مقامی زبانوں میں دن رات کے کسی بھی حصے میں بیک وقت ہزاروں صارفین سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی لاگت اتنی کم ہے کہ معمولی پریمیم (قسط) دینے والے غریب گاہکوں کو سروس فراہم کرنا بھی کمپنیوں کے لیے منافع بخش بن جاتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ نظام عام خودکار چیٹ بوٹس کی طرح نہیں ہیں جو صرف چند طے شدہ آپشنز دیتے ہیں۔ جدید ترین زبانیں سمجھنے والے یہ  اے آئی مشیر انشورنس کے دائرہ کار کے بارے میں مخصوص سوالات کے جواب دے سکتے ہیں، پالیسی کی شرائط آسان زبان میں سمجھا سکتے ہیں، کلیم کا طریقہ کار واضح کر سکتے ہیں اور اسمارٹ فون پر ایک ہی گفتگو کے دوران پالیسی کی خرید و فروخت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسمارٹ فونز کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے مگر انشورنس کی شرح انتہائی کم ہے یہ ٹیکنالوجی انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔پاکستان جیسے کم انشورنس والے ملک میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی تجربات نے اس کے شاندار امکانات کو ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ماڈل کا پاکستان کے ایک شرعی ڈیجیٹل انشورنس پلیٹ فارم  تکافل بازار پر کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ان ابتدائی نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نفاذ کے چند ہی مہینوں میں اس اے آئی ایجنٹ نے نہ صرف صارفین کو تکافل کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور ان کے خدشات دور کیے، بلکہ بغیر کسی انسانی مداخلت کے ان گفتگو کو گاڑی اور صحت کی انشورنس کی براہِ راست خریداری میں تبدیل کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگر صارفین کو بھروسہ، آسان رسائی اور سستی انشورنس فراہم کی جائے تو اس کی مانگ توقع سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انشورنس کی کم شرح کا تعلق مانگ کی کمی سے نہیں، بلکہ رسائی کے فقدان سے ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے پاس لوگوں کے گھروں تک پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انشورنس کی شرح میں اضافہ صرف خاندانوں کا ہی تحفظ نہیں کرتا، بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، قدرتی آفات کے بعد حکومت پر بوجھ کم کرتا ہے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ جن ممالک میں انشورنس کا نظام مضبوط ہوتا ہے وہ معاشی بحرانوں کا مقابلہ زیادہ بہتر طریقے سے کرتے ہیں اور جلد سنبھل جاتے ہیں۔تاہم موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی اپنی حدود بھی ہیں جنہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ پیچیدہ تجارتی خطرات، بڑی لائف انشورنس پالیسیاں اور متنازع کلیمز کے معاملات میں اب بھی تجربہ کار انسانی ماہرین کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کوئی بھی کمپیوٹر سسٹم متبادل نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر صحت، گاڑی، سفر اور حادثاتی انشورنس جیسی ذاتی اور سادہ پالیسیوں کے لیے بہترین ہے۔ اگر اس نظام کو بغیر کسی نگرانی کے لاپروائی سے استعمال کیا جائے تو صارفین کو غلط مصنوعات بیچنے اور نقصان پہنچانے کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر پاکستان جیسی مارکیٹوں کے لیے نقصان دہ ہوگا جہاں پہلے ہی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں نگران اداروں (ریگولیٹرز) کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جیسے جیسے اے آئی کے ذریعے انشورنس کی فروخت بڑھے گی ویسے ہی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے لیے واضح قوانین کی ضرورت ہوگی۔ مقصد جدت کو روکنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں عام صارفین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی محض موجودہ نظام کو بہتر نہیں بنائے گی بلکہ یہ اس نظام کو ہر فرد کی پہنچ میں لے آئے گی۔</p>
</blockquote>
<p>حال ہی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس کے شعبے کی اصلاحات کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ انشورنس کو اب محض ایک ثانوی صنعت نہیں، بلکہ معاشی مضبوطی کا ایک اہم ستون تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فنڈنگ کا ایک حصہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فروخت، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور عوامی شعور کے لیے مختص کیا جائے تو پاکستان روایتی طریقوں کی کئی دہائیوں کی مسافت کو چند سالوں میں طے کرکے دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p>سب سے کامیاب ماڈل وہ نہیں ہوگا جہاں انسانوں کو بالکل ہٹا دیا جائے بلکہ وہ ہوگا جہاں انسانی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جلا بخشی جائے۔ ایک ماہر انسانی ایجنٹ دن میں مشکل سے 20 لوگوں سے تفصیلی گفتگو کر سکتا ہے، جبکہ ایک اے آئی سسٹم بیک وقت ہزاروں لوگوں سے بات چیت کرکے صرف انتہائی پیچیدہ کیسز کو انسانی ماہرین کی طرف بھیج سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رسائی کو ممکن بناتی ہے، جبکہ انسانی مہارت وہاں کام آتی ہے جہاں حتمی فیصلے کی ضرورت ہو۔انشورنس پاکستان میں معاشی تحفظ کا وہ ستون ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ صحت کی انشورنس رکھنے والے خاندان کسی طبی ہنگامی صورتحال کے بعد قرضوں کے دلدل میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار ناگہانی آفت کے بعد دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے فکر ہو کر فصلوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور جب انشورنس نقصانات کا بوجھ خود اٹھاتی ہے تو حکومتوں پر مالی دباؤ کم  اور خاندان تباہی سے بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ غیر بیمہ شدہ آبادی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کے نیٹ ورک کو پھیلانے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ وہ ماڈل بہت مہنگا تھا۔ مصنوعی ذہانت نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے کہ شاید پاکستان جیسے ممالک میں انشورنس کی کم شرح کی وجہ غربت یا ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ایک حد تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ماضی میں دنیا کے پاس اربوں لوگوں سے ان کے مالی تحفظ کے بارے میں سستے داموں گفتگو کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اے آئی اب صرف ایک سہولت نہیں  بلکہ وہ چابی ہے جو اس نظام کو ہر خاص و عام کے لیے ممکن بنا دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288792</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 13:35:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیضان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/161304132a80eeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/161304132a80eeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو مزید اسکول نہیں، بہتر تعلیمی نظام کی ضرورت ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر انتخابی مہم میں تعلیمی انقلاب کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے کلاس رومز ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس ماہ جاری ہونے والے سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے نئے جائزہ رپورٹ نے اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے جس کا والدین اور اساتذہ کو طویل عرصے سے احساس تھا؛ مئی 2024 میں اعلان کردہ پاکستان کی تعلیمی ہنگامی حالت نے روڈ میپس تو فراہم کیے، مگر عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ تک اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.8 فیصد رہ گئے ہیں، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی تجویز کردہ 4 سے 6 فیصد شرح سے کہیں کم ہیں۔ یہ شرح 2018 میں تقریباً 2 فیصد تھی۔ سندھ میں تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تناسب 81 فیصد ہے۔ اس کے بعد اساتذہ کی تربیت، تدریسی مواد اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپی حقیقت ہے، جو خود ان اعداد سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں بچوں کو سیکنڈری اسکول پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں راجن پور کے 48 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایسے خلا نہیں جنہیں صرف مزید اسکول تعمیر کر کے پُر کیا جا سکے، بلکہ یہ اس نظام کی علامات ہیں جسے کبھی ان بچوں تک پہنچنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا جنہیں آج وہ تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں اکثر لوگ کسی جادوئی حل کی تلاش کرتے ہیں، لیکن دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام ایک مشترک اصول پر قائم ہیں: وہ تعداد بڑھانے سے پہلے معیار بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، وہ مستقبل میں کم پیداواری صلاحیت، کمزور معاشی ترقی اور قومی صلاحیت کے ضیاع کی علامت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;فن لینڈ اس حوالے سے شاید سب سے زیادہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں بچے سات سال کی عمر میں باقاعدہ تعلیم شروع کرتے ہیں، ابتدائی برسوں میں انہیں بہت کم ہوم ورک دیا جاتا ہے، وہ کئی دوسرے ممالک کے طلبہ کے مقابلے میں کم وقت کلاس روم میں گزارتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پڑھنے، ریاضی اور سائنس میں مسلسل دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کی کامیابی صرف مختصر تدریسی اوقات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہاں اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، بنیادی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، غیر ضروری امتحانات کم رکھے جاتے ہیں اور اسکولوں کو یہ آزادی دی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کو صرف امتحان کی تیاری کے بجائے حقیقی تعلیم دیں اور رٹّا سسٹم سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی معیشت کی ضروریات کے مطابق نصاب کو مسلسل تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کی طرف منتقل کیا، صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے خطے میں ویتنام اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی کامیابی کے لیے دولت لازمی شرط نہیں۔ اگرچہ اس کی آمدنی کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے، لیکن اس نے مسلسل اساتذہ کے معیار، بنیادی خواندگی، جوابدہی اور نصاب میں اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس سے ایک واضح سبق ملتا ہے کہ مؤثر طرزِ حکمرانی محض اخراجات بڑھانے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام کامیاب مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے: کامیابی کی بنیاد جی ڈی پی نہیں بلکہ اچھی گورننس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فن لینڈ یا سنگاپور کا ماڈل من و عن اختیار نہیں کر سکتا۔ ملک کے مالی وسائل محدود ہیں، صوبائی حکومتوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور لاکھوں بچے اب بھی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ اس لیے اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو عملی بھی ہوں اور کم لاگت بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ ذیل چار اصلاحات نسبتاً کم لاگت میں نمایاں نتائج دے سکتی ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;اول، بنیادی تعلیم کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے۔ ہر بچے کو تیسری جماعت تک پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں ضرور حاصل ہونی چاہئیں۔ بین الاقوامی شواہد سے ثابت ہے کہ اگر یہ خلا ابتدائی مرحلے پر پُر نہ کیا جائے تو بعد میں اسے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;دوم، اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور وقتی تربیتی ورکشاپس کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا نظام متعارف کرایا جائے۔ بہتر تدریس نصاب میں بار بار تبدیلی سے کہیں زیادہ مؤثر نتائج دیتی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سوم، ثانوی تعلیم کو بورڈ امتحانات پر مبنی رٹّا سسٹم سے نکال کر پروجیکٹ پر مبنی جانچ، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی، اور فنی و تکنیکی تعلیم کی طرف منتقل کیا جائے، اور جرمنی کے اپرنٹس شپ ماڈل کی طرح اسے الگ نظام کے بجائے مرکزی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے، نہ کہ صرف نسبتاً کمزور طلبہ تک محدود رکھا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;چہارم، بہتر اعداد و شمار کا نظام قائم کیا جائے۔ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں تجویز کردہ قومی طلبہ رجسٹری کو نادرا کے بے فارم نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ وسائل ان اضلاع اور بچوں تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ وسائل سب جگہ یکساں مگر ناکافی مقدار میں تقسیم کر دیے جائیں۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی بھی حقیقت پسندانہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ملک بھر میں مہنگی لیپ ٹاپ اسکیمیں شروع کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، پاکستان کم لاگت والے ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز، اساتذہ کی معاونت کے لیے ایپلی کیشنز، اور پسماندہ اضلاع کے لیے آف لائن تعلیمی مواد کو فروغ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے اُن موجودہ سرکاری و نجی شراکت داریوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں جن کے تحت کام کرنے والی تنظیمیں پہلے ہی، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات میں، تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں کامیابی دکھا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر ڈیٹا سسٹمز اس بات کی نشاندہی کریں کہ اسکول سے باہر بچے کہاں رہتے ہیں، تاکہ وسائل کو یکساں طور پر تمام اضلاع میں تقسیم کرنے کے بجائے اُن علاقوں اور بچوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی اصلاحات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ہر نئی حکومت نے آتے ہی تعلیمی پالیسیاں تبدیل کر دیں، جس کے نتیجے میں طویل المدتی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ایک قومی تعلیمی فریم ورک تشکیل دے، جس میں خواندگی، اساتذہ کے معیار، اسکولوں میں حاضری اور روزگار کے قابل بنانے کی صلاحیت  سے متعلق دس سالہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس فریم ورک کے تحت صوبوں کو عمل درآمد میں لچک دی جا سکتی ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی تبدیلیوں سے قطع نظر پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات نہ کرنے کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، اس کا مطلب  کم پیداواری صلاحیت، سست معاشی ترقی، سماجی امداد پر زیادہ انحصار، اور قومی صلاحیت کا ضیاع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فن لینڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ زیادہ تدریسی اوقات لازماً بہتر تعلیم کا مطلب نہیں ہوتے۔ سنگاپور یہ سبق دیتا ہے کہ تعلیم کو معیشت کی ضروریات کے ساتھ مسلسل ترقی کرنا چاہیے۔ ویتنام یہ دکھاتا ہے کہ اچھی گورننس دولت سے بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مقصد ان ممالک کی اندھی تقلید کرنا نہیں، بلکہ ان عوامل کو اپنانا ہے جنہوں نے انہیں کامیاب بنایا۔ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جائے، بنیادی تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اور تعلیم کو قلیل المدتی سیاسی مفادات کی پہنچ سے باہر رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر انتخابی مہم میں تعلیمی انقلاب کا وعدہ کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان کے کلاس رومز ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس ماہ جاری ہونے والے سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے نئے جائزہ رپورٹ نے اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے جس کا والدین اور اساتذہ کو طویل عرصے سے احساس تھا؛ مئی 2024 میں اعلان کردہ پاکستان کی تعلیمی ہنگامی حالت نے روڈ میپس تو فراہم کیے، مگر عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔</strong></p>
<p>اس وقت 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ تک اسکول جانے کی عمر کے بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.8 فیصد رہ گئے ہیں، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کی تجویز کردہ 4 سے 6 فیصد شرح سے کہیں کم ہیں۔ یہ شرح 2018 میں تقریباً 2 فیصد تھی۔ سندھ میں تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ تناسب 81 فیصد ہے۔ اس کے بعد اساتذہ کی تربیت، تدریسی مواد اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔</p>
<p>اصل مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپی حقیقت ہے، جو خود ان اعداد سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جبکہ بعض اضلاع میں بچوں کو سیکنڈری اسکول پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں راجن پور کے 48 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایسے خلا نہیں جنہیں صرف مزید اسکول تعمیر کر کے پُر کیا جا سکے، بلکہ یہ اس نظام کی علامات ہیں جسے کبھی ان بچوں تک پہنچنے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا جنہیں آج وہ تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔</p>
<p>ایسے حالات میں اکثر لوگ کسی جادوئی حل کی تلاش کرتے ہیں، لیکن دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام ایک مشترک اصول پر قائم ہیں: وہ تعداد بڑھانے سے پہلے معیار بہتر بناتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، وہ مستقبل میں کم پیداواری صلاحیت، کمزور معاشی ترقی اور قومی صلاحیت کے ضیاع کی علامت ہوتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>فن لینڈ اس حوالے سے شاید سب سے زیادہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں بچے سات سال کی عمر میں باقاعدہ تعلیم شروع کرتے ہیں، ابتدائی برسوں میں انہیں بہت کم ہوم ورک دیا جاتا ہے، وہ کئی دوسرے ممالک کے طلبہ کے مقابلے میں کم وقت کلاس روم میں گزارتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پڑھنے، ریاضی اور سائنس میں مسلسل دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کی کامیابی صرف مختصر تدریسی اوقات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہاں اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، بنیادی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے، غیر ضروری امتحانات کم رکھے جاتے ہیں اور اسکولوں کو یہ آزادی دی جاتی ہے کہ وہ طلبہ کو صرف امتحان کی تیاری کے بجائے حقیقی تعلیم دیں اور رٹّا سسٹم سے گریز کریں۔</p>
<p>سنگاپور نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنی معیشت کی ضروریات کے مطابق نصاب کو مسلسل تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کی طرف منتقل کیا، صرف داخلوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دی۔</p>
<p>ہمارے خطے میں ویتنام اس بات کی مثال ہے کہ تعلیمی کامیابی کے لیے دولت لازمی شرط نہیں۔ اگرچہ اس کی آمدنی کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے، لیکن اس نے مسلسل اساتذہ کے معیار، بنیادی خواندگی، جوابدہی اور نصاب میں اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس سے ایک واضح سبق ملتا ہے کہ مؤثر طرزِ حکمرانی محض اخراجات بڑھانے سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔</p>
<p>تمام کامیاب مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے: کامیابی کی بنیاد جی ڈی پی نہیں بلکہ اچھی گورننس ہے۔</p>
<p>پاکستان فن لینڈ یا سنگاپور کا ماڈل من و عن اختیار نہیں کر سکتا۔ ملک کے مالی وسائل محدود ہیں، صوبائی حکومتوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں اور لاکھوں بچے اب بھی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔ اس لیے اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو عملی بھی ہوں اور کم لاگت بھی۔</p>
<p>مندرجہ ذیل چار اصلاحات نسبتاً کم لاگت میں نمایاں نتائج دے سکتی ہیں:</p>
<ul>
<li>اول، بنیادی تعلیم کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے۔ ہر بچے کو تیسری جماعت تک پڑھنے، لکھنے اور ریاضی کی بنیادی مہارتیں ضرور حاصل ہونی چاہئیں۔ بین الاقوامی شواہد سے ثابت ہے کہ اگر یہ خلا ابتدائی مرحلے پر پُر نہ کیا جائے تو بعد میں اسے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔</li>
<li>دوم، اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور وقتی تربیتی ورکشاپس کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا نظام متعارف کرایا جائے۔ بہتر تدریس نصاب میں بار بار تبدیلی سے کہیں زیادہ مؤثر نتائج دیتی ہے۔</li>
<li>سوم، ثانوی تعلیم کو بورڈ امتحانات پر مبنی رٹّا سسٹم سے نکال کر پروجیکٹ پر مبنی جانچ، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی، اور فنی و تکنیکی تعلیم کی طرف منتقل کیا جائے، اور جرمنی کے اپرنٹس شپ ماڈل کی طرح اسے الگ نظام کے بجائے مرکزی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جائے، نہ کہ صرف نسبتاً کمزور طلبہ تک محدود رکھا جائے۔</li>
<li>چہارم، بہتر اعداد و شمار کا نظام قائم کیا جائے۔ سول سروسز اکیڈمی کی رپورٹ میں تجویز کردہ قومی طلبہ رجسٹری کو نادرا کے بے فارم نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ وسائل ان اضلاع اور بچوں تک پہنچ سکیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ وسائل سب جگہ یکساں مگر ناکافی مقدار میں تقسیم کر دیے جائیں۔</li>
</ul>
<p>ٹیکنالوجی بھی حقیقت پسندانہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ ملک بھر میں مہنگی لیپ ٹاپ اسکیمیں شروع کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، پاکستان کم لاگت والے ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز، اساتذہ کی معاونت کے لیے ایپلی کیشنز، اور پسماندہ اضلاع کے لیے آف لائن تعلیمی مواد کو فروغ دے سکتا ہے۔</p>
<p>صوبے اُن موجودہ سرکاری و نجی شراکت داریوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں جن کے تحت کام کرنے والی تنظیمیں پہلے ہی، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات میں، تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں کامیابی دکھا چکی ہیں۔</p>
<p>بہتر ڈیٹا سسٹمز اس بات کی نشاندہی کریں کہ اسکول سے باہر بچے کہاں رہتے ہیں، تاکہ وسائل کو یکساں طور پر تمام اضلاع میں تقسیم کرنے کے بجائے اُن علاقوں اور بچوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>تعلیمی اصلاحات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ہر نئی حکومت نے آتے ہی تعلیمی پالیسیاں تبدیل کر دیں، جس کے نتیجے میں طویل المدتی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔</p>
<p>پارلیمنٹ کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ایک قومی تعلیمی فریم ورک تشکیل دے، جس میں خواندگی، اساتذہ کے معیار، اسکولوں میں حاضری اور روزگار کے قابل بنانے کی صلاحیت  سے متعلق دس سالہ قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس فریم ورک کے تحت صوبوں کو عمل درآمد میں لچک دی جا سکتی ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سیاسی تبدیلیوں سے قطع نظر پالیسی کا تسلسل برقرار رہے۔</p>
<p>اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات کا خرچ برداشت کر سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تعلیم میں اصلاحات نہ کرنے کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟</p>
<p>ہر وہ بچہ جو بنیادی مہارتیں حاصل کیے بغیر اسکول چھوڑ دیتا ہے، اس کا مطلب  کم پیداواری صلاحیت، سست معاشی ترقی، سماجی امداد پر زیادہ انحصار، اور قومی صلاحیت کا ضیاع ہے۔</p>
<p>فن لینڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ زیادہ تدریسی اوقات لازماً بہتر تعلیم کا مطلب نہیں ہوتے۔ سنگاپور یہ سبق دیتا ہے کہ تعلیم کو معیشت کی ضروریات کے ساتھ مسلسل ترقی کرنا چاہیے۔ ویتنام یہ دکھاتا ہے کہ اچھی گورننس دولت سے بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا مقصد ان ممالک کی اندھی تقلید کرنا نہیں، بلکہ ان عوامل کو اپنانا ہے جنہوں نے انہیں کامیاب بنایا۔ اساتذہ میں سرمایہ کاری کی جائے، بنیادی تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اور تعلیم کو قلیل المدتی سیاسی مفادات کی پہنچ سے باہر رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288729</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:53:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اعجاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15105135867cd0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15105135867cd0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف قدیم شہرت اب کافی نہیں، چیلنجر برانڈز کا عروج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288674/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کئی دہائیوں تک لگژری مصنوعات کی صنعت ایک آزمودہ فارمولے پر کامیابی سے چلتی رہی۔ تاریخی ورثہ، انفرادیت اور سماجی وقار اس صنعت کے بنیادی ستون تھے۔ جتنا پرانا فیشن ہاؤس ہوتا، اتنا ہی زیادہ پرکشش سمجھا جاتا۔ معروف لوگو کامیابی کی علامت بن جاتا، جبکہ محدود دستیابی ان مصنوعات کی کشش میں اضافہ کرتی تھی۔ مگر اب یہ فارمولہ آہستہ آہستہ، مگر یقینی طور پر، اپنی گرفت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں بزنس آف فیشن (بی او ایف) کی ایک رپورٹ اور میکنزی اینڈ کمپنی کی تازہ تحقیق ”فیس ٹو فیس ود لگژری کلائنٹس“ کے مطابق، آج کے لگژری صارفین اب ایسی چیز کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر کہیں زیادہ مؤثر ہے، یعنی برانڈ کے ساتھ جذباتی وابستگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور چین میں دو ہزار سے زائد لگژری صارفین پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ جذباتی تعلق اب کسی برانڈ کی مقبولیت کا سب سے اہم محرک بن چکا ہے، جو تاریخی ورثے، اعلیٰ دستکاری اور فیشن کے رجحانات سے بھی زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امریکا میں 68 فیصد لگژری صارفین کا کہنا تھا کہ چیلنجر برانڈز ان کی شناخت کی سب سے بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد شناخت اور مضبوط مقصد کی بدولت اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لگژری اب صرف اس بات کا نام نہیں رہی کہ صارف کے پاس کیا ہے، بلکہ اس بات کا اظہار بھی بن گئی ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی شناخت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان روایتی لگژری برانڈز کے لیے اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ چھوٹے اور آزاد فیشن برانڈز، خصوصاً پاکستان میں ابھرنے والے نئے برانڈز، کے لیے ایک غیر متوقع موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد جمالیاتی شناخت اور مضبوط مقصد کے ذریعے اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔ عموماً یہ نسبتاً نئے، زیادہ لچکدار اور اپنی کمیونٹی سے گہرا تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہ دہائیوں پر محیط ورثے پر انحصار کرنے کے بجائے اصلیت (غیر مصنوعی) کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ خود صارفین کا رویہ بھی بدل رہا ہے۔ رویوں کے ماہرینِ نفسیات عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ لوگ خریداری کے فیصلے صرف منطق کی بنیاد پر نہیں کرتے۔ ہم اکثر ایسی اشیا خریدتے ہیں جو ہماری شناخت کی تشکیل اور اس کے اظہار میں مدد دیتی ہیں۔ شاید فیشن کی صنعت کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ اس تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ لباس دراصل خاموش ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے، جو دوسروں کو ہماری پسند، اقدار اور اب بڑھتے ہوئے ان مقاصد کے بارے میں بھی بتاتا ہے جن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس آف فیشن اور میکنزی کی مشترکہ رپورٹ بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔ صارفین اب صرف سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے لگژری مصنوعات نہیں خریدتے بلکہ وہ ایسی خریداری چاہتے ہیں جو ان کے لیے ذاتی معنویت رکھتی ہو۔ وہ ایسے برانڈز کی تلاش میں ہیں جو ان کی خواہشات، نظریات اور طرزِ زندگی کی عکاسی کریں، نہ کہ محض ان کی مالی حیثیت کا اظہار ہوں۔ اگرچہ تاریخی ورثہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے، لیکن دیرپا کشش پیدا کرنے کے لیے اب وہ اکیلا کافی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نفسیاتی تبدیلی فیشن برانڈز کے ابلاغی انداز پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی برسوں تک مارکیٹنگ کی توجہ صرف تیار شدہ مصنوعات، اشتہاری تصاویر، مشہور شخصیات کی توثیق اور دلکش فوٹوگرافی پر مرکوز رہی۔ مگر اب صارفین صرف ظاہری تصویر سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ لباس پر کڑھائی کس نے کی، کپڑا کہاں تیار ہوا، کلیکشن کے پیچھے کیا سوچ تھی اور آخر اس برانڈ کے وجود کا مقصد کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اب صارف صرف مصنوعات نہیں بلکہ برانڈ کی کہانی بھی خرید رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;محققین اس رجحان کو ”نیریٹو ٹرانسپورٹیشن“ کہتے ہیں، یعنی ایسا عمل جس میں ایک مؤثر کہانی لوگوں کو جذباتی طور پر اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ممکن ہے صارف کسی مصنوعات کی تفصیل بھول جائے، لیکن وہ اس ہنرمند کی کہانی نہیں بھولتا جس نے ایک لباس پر ہفتوں کڑھائی کی ہو، یا اس بانی کی داستان جس نے روایتی دستکاری کو زندہ رکھنے کے مقصد سے اپنا برانڈ قائم کیا ہو۔ ایسی کہانیاں جذباتی یادداشت پیدا کرتی ہیں، اور یہی جذباتی وابستگی برانڈ سے وفاداری کی مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے آزاد اور چھوٹے فیشن برانڈز کو نمایاں برتری حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی لگژری گروپس کے برعکس، چھوٹے برانڈز عموماً کسی بانی کے وژن، ہنرمندوں سے براہِ راست تعلق اور نہایت ذاتی تخلیقی عمل پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں مارکیٹنگ ٹیمیں تخلیق نہیں کرتیں، بلکہ وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج صرف انہیں مؤثر انداز میں بیان کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی فیشن انڈسٹری کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ”سلو فیشن“ عالمی رجحان بننے سے بہت پہلے پاکستان کے متعدد ڈیزائنرز اور ہنرمند محدود مقدار میں ایسے ملبوسات تیار کر رہے تھے جنہیں روایتی تکنیکوں کے ذریعے مکمل کرنے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی ماہ لگ جاتے تھے۔ ہاتھ کی کڑھائی، آئینہ کاری، بلاک پرنٹنگ، بُنائی اور علاقائی ٹیکسٹائل روایات ہمیشہ سے پاکستان کی تخلیقی معیشت کا بنیادی حصہ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کہانیوں کو ہمیشہ مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ مقامی فیشن مارکیٹنگ میں اکثر توجہ تخلیقی عمل کے بجائے صرف چکاچوند اور دلکشی پر مرکوز رہی۔ مہمات میں خوبصورت لباس تو نمایاں کیا گیا، مگر اسے تخلیق کرنے والے ہنرمند پس منظر میں ہی رہے۔ اگرچہ وہ مصنوعات کا بنیادی حصہ تھے، لیکن ان کی شناخت اکثر اوجھل رہی۔ اب یہ صورتحال بتدریج بدل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھر میں متعدد آزاد فیشن برانڈز اب کہانی سنانے (اسٹوری ٹیلنگ) کو اپنی ابلاغی حکمتِ عملی کا مرکز بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یوں وہ صرف خوبصورت لباس کی تعریف کی دعوت نہیں دیتے بلکہ صارفین کو پورے تخلیقی سفر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس آف فیشن کی رپورٹ کے مطابق لگژری برانڈز کو اب صرف یہ بتانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے کہ ان کی مصنوعات کیا ہیں، بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ انہیں اختیار کرنے کے بعد صارف کی شناخت اور شخصیت میں کیا اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ دستکاری اب ایک امتیازی خوبی نہیں بلکہ ایک بنیادی توقع بن چکی ہے، جبکہ اصل فرق اب معنویت پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کاروباری شخصیات کے لیے یہ مشاہدہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس وہ سرمایہ موجود ہے جو راتوں رات پیدا نہیں کیا جا سکتا؛ یعنی نسل در نسل منتقل ہونے والی دستکاری، ٹیکسٹائل کی بھرپور روایات اور باصلاحیت کاروباری افراد۔ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے ماحول میں یہ خصوصیات محض بڑے پیمانے یا بھاری اشتہاری بجٹ سے کہیں زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً صرف اچھی کہانی کسی ناقص معیار کی مصنوعات کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ دلکش بیانیہ اوسط درجے کی مصنوعات کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ لیکن جب غیر معمولی دستکاری کے ساتھ حقیقی اور مؤثر کہانی بھی شامل ہو جائے تو ایک منفرد اثر پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت صارف لباس کو محض خرید و فروخت کی شے نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑی داستان کا حصہ تصور کرتا ہے؛ ایسی داستان جو ثقافت، تخلیقی صلاحیت اور انسانی رشتوں سے جڑی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی تازہ ترین لگژری تحقیق کا سب سے اہم سبق ہے۔ مستقبل کا فیشن لازماً ان برانڈز کا نہیں ہوگا جن کی تاریخ سب سے طویل یا آواز سب سے بلند ہے، بلکہ ان کا ہوگا جو صارف کے دل میں حقیقی جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی آزاد فیشن انڈسٹری کے لیے یہ محض ایک نیا رجحان نہیں بلکہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ یہ پہچانے کہ اس کی سب سے بڑی مسابقتی برتری ہمیشہ سے اس کے پاس موجود رہی ہے۔ دستکاری کبھی مسئلہ نہیں تھی؛ اصل ضرورت اب یہ ہے کہ اس کے پیچھے موجود کہانیاں بھی اسی محبت، محنت اور نفاست کے ساتھ بیان کی جائیں جس طرح خود یہ ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کئی دہائیوں تک لگژری مصنوعات کی صنعت ایک آزمودہ فارمولے پر کامیابی سے چلتی رہی۔ تاریخی ورثہ، انفرادیت اور سماجی وقار اس صنعت کے بنیادی ستون تھے۔ جتنا پرانا فیشن ہاؤس ہوتا، اتنا ہی زیادہ پرکشش سمجھا جاتا۔ معروف لوگو کامیابی کی علامت بن جاتا، جبکہ محدود دستیابی ان مصنوعات کی کشش میں اضافہ کرتی تھی۔ مگر اب یہ فارمولہ آہستہ آہستہ، مگر یقینی طور پر، اپنی گرفت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں بزنس آف فیشن (بی او ایف) کی ایک رپورٹ اور میکنزی اینڈ کمپنی کی تازہ تحقیق ”فیس ٹو فیس ود لگژری کلائنٹس“ کے مطابق، آج کے لگژری صارفین اب ایسی چیز کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر کہیں زیادہ مؤثر ہے، یعنی برانڈ کے ساتھ جذباتی وابستگی۔</p>
<p>امریکا اور چین میں دو ہزار سے زائد لگژری صارفین پر کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ جذباتی تعلق اب کسی برانڈ کی مقبولیت کا سب سے اہم محرک بن چکا ہے، جو تاریخی ورثے، اعلیٰ دستکاری اور فیشن کے رجحانات سے بھی زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امریکا میں 68 فیصد لگژری صارفین کا کہنا تھا کہ چیلنجر برانڈز ان کی شناخت کی سب سے بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد شناخت اور مضبوط مقصد کی بدولت اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لگژری اب صرف اس بات کا نام نہیں رہی کہ صارف کے پاس کیا ہے، بلکہ اس بات کا اظہار بھی بن گئی ہے کہ وہ کون ہے اور اس کی شناخت کیا ہے۔</p>
<p>یہ رجحان روایتی لگژری برانڈز کے لیے اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ چھوٹے اور آزاد فیشن برانڈز، خصوصاً پاکستان میں ابھرنے والے نئے برانڈز، کے لیے ایک غیر متوقع موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>چیلنجر برانڈ نام ہی کی طرح ایسا برانڈ ہوتا ہے جو روایتی بڑے برانڈز کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ برانڈ اپنے بڑے حجم، طویل تاریخ یا مارکیٹ پر غلبے کے ذریعے نہیں بلکہ واضح نظریے، منفرد جمالیاتی شناخت اور مضبوط مقصد کے ذریعے اپنی الگ پہچان بناتے ہیں۔ عموماً یہ نسبتاً نئے، زیادہ لچکدار اور اپنی کمیونٹی سے گہرا تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہ دہائیوں پر محیط ورثے پر انحصار کرنے کے بجائے اصلیت (غیر مصنوعی) کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ خود صارفین کا رویہ بھی بدل رہا ہے۔ رویوں کے ماہرینِ نفسیات عرصے سے کہتے آئے ہیں کہ لوگ خریداری کے فیصلے صرف منطق کی بنیاد پر نہیں کرتے۔ ہم اکثر ایسی اشیا خریدتے ہیں جو ہماری شناخت کی تشکیل اور اس کے اظہار میں مدد دیتی ہیں۔ شاید فیشن کی صنعت کسی بھی دوسرے شعبے سے زیادہ اس تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ لباس دراصل خاموش ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے، جو دوسروں کو ہماری پسند، اقدار اور اب بڑھتے ہوئے ان مقاصد کے بارے میں بھی بتاتا ہے جن کی ہم حمایت کرتے ہیں۔</p>
<p>بزنس آف فیشن اور میکنزی کی مشترکہ رپورٹ بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔ صارفین اب صرف سماجی حیثیت کے اظہار کے لیے لگژری مصنوعات نہیں خریدتے بلکہ وہ ایسی خریداری چاہتے ہیں جو ان کے لیے ذاتی معنویت رکھتی ہو۔ وہ ایسے برانڈز کی تلاش میں ہیں جو ان کی خواہشات، نظریات اور طرزِ زندگی کی عکاسی کریں، نہ کہ محض ان کی مالی حیثیت کا اظہار ہوں۔ اگرچہ تاریخی ورثہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے، لیکن دیرپا کشش پیدا کرنے کے لیے اب وہ اکیلا کافی نہیں رہا۔</p>
<p>یہ نفسیاتی تبدیلی فیشن برانڈز کے ابلاغی انداز پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔</p>
<p>کئی برسوں تک مارکیٹنگ کی توجہ صرف تیار شدہ مصنوعات، اشتہاری تصاویر، مشہور شخصیات کی توثیق اور دلکش فوٹوگرافی پر مرکوز رہی۔ مگر اب صارفین صرف ظاہری تصویر سے مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ لباس پر کڑھائی کس نے کی، کپڑا کہاں تیار ہوا، کلیکشن کے پیچھے کیا سوچ تھی اور آخر اس برانڈ کے وجود کا مقصد کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اب صارف صرف مصنوعات نہیں بلکہ برانڈ کی کہانی بھی خرید رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>محققین اس رجحان کو ”نیریٹو ٹرانسپورٹیشن“ کہتے ہیں، یعنی ایسا عمل جس میں ایک مؤثر کہانی لوگوں کو جذباتی طور پر اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ممکن ہے صارف کسی مصنوعات کی تفصیل بھول جائے، لیکن وہ اس ہنرمند کی کہانی نہیں بھولتا جس نے ایک لباس پر ہفتوں کڑھائی کی ہو، یا اس بانی کی داستان جس نے روایتی دستکاری کو زندہ رکھنے کے مقصد سے اپنا برانڈ قائم کیا ہو۔ ایسی کہانیاں جذباتی یادداشت پیدا کرتی ہیں، اور یہی جذباتی وابستگی برانڈ سے وفاداری کی مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے آزاد اور چھوٹے فیشن برانڈز کو نمایاں برتری حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>عالمی لگژری گروپس کے برعکس، چھوٹے برانڈز عموماً کسی بانی کے وژن، ہنرمندوں سے براہِ راست تعلق اور نہایت ذاتی تخلیقی عمل پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیاں مارکیٹنگ ٹیمیں تخلیق نہیں کرتیں، بلکہ وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج صرف انہیں مؤثر انداز میں بیان کرنا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی فیشن انڈسٹری کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ”سلو فیشن“ عالمی رجحان بننے سے بہت پہلے پاکستان کے متعدد ڈیزائنرز اور ہنرمند محدود مقدار میں ایسے ملبوسات تیار کر رہے تھے جنہیں روایتی تکنیکوں کے ذریعے مکمل کرنے میں کئی ہفتے بلکہ بعض اوقات کئی ماہ لگ جاتے تھے۔ ہاتھ کی کڑھائی، آئینہ کاری، بلاک پرنٹنگ، بُنائی اور علاقائی ٹیکسٹائل روایات ہمیشہ سے پاکستان کی تخلیقی معیشت کا بنیادی حصہ رہی ہیں۔</p>
<p>تاہم ان کہانیوں کو ہمیشہ مؤثر انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ مقامی فیشن مارکیٹنگ میں اکثر توجہ تخلیقی عمل کے بجائے صرف چکاچوند اور دلکشی پر مرکوز رہی۔ مہمات میں خوبصورت لباس تو نمایاں کیا گیا، مگر اسے تخلیق کرنے والے ہنرمند پس منظر میں ہی رہے۔ اگرچہ وہ مصنوعات کا بنیادی حصہ تھے، لیکن ان کی شناخت اکثر اوجھل رہی۔ اب یہ صورتحال بتدریج بدل رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان بھر میں متعدد آزاد فیشن برانڈز اب کہانی سنانے (اسٹوری ٹیلنگ) کو اپنی ابلاغی حکمتِ عملی کا مرکز بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اب صرف مصنوعات کی نمائش کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں برانڈ کے بانی اپنی سوچ اور تخلیقی محرکات سے آگاہ کرتے ہیں، اپنے ہنرمندوں کو متعارف کراتے ہیں اور خاکے سے تیار لباس تک کے محنت طلب سفر کو صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یوں وہ صرف خوبصورت لباس کی تعریف کی دعوت نہیں دیتے بلکہ صارفین کو پورے تخلیقی سفر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔</p>
<p>بزنس آف فیشن کی رپورٹ کے مطابق لگژری برانڈز کو اب صرف یہ بتانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے کہ ان کی مصنوعات کیا ہیں، بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ انہیں اختیار کرنے کے بعد صارف کی شناخت اور شخصیت میں کیا اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ دستکاری اب ایک امتیازی خوبی نہیں بلکہ ایک بنیادی توقع بن چکی ہے، جبکہ اصل فرق اب معنویت پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستانی کاروباری شخصیات کے لیے یہ مشاہدہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس وہ سرمایہ موجود ہے جو راتوں رات پیدا نہیں کیا جا سکتا؛ یعنی نسل در نسل منتقل ہونے والی دستکاری، ٹیکسٹائل کی بھرپور روایات اور باصلاحیت کاروباری افراد۔ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے ماحول میں یہ خصوصیات محض بڑے پیمانے یا بھاری اشتہاری بجٹ سے کہیں زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>یقیناً صرف اچھی کہانی کسی ناقص معیار کی مصنوعات کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ دلکش بیانیہ اوسط درجے کی مصنوعات کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ لیکن جب غیر معمولی دستکاری کے ساتھ حقیقی اور مؤثر کہانی بھی شامل ہو جائے تو ایک منفرد اثر پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت صارف لباس کو محض خرید و فروخت کی شے نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑی داستان کا حصہ تصور کرتا ہے؛ ایسی داستان جو ثقافت، تخلیقی صلاحیت اور انسانی رشتوں سے جڑی ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید یہی تازہ ترین لگژری تحقیق کا سب سے اہم سبق ہے۔ مستقبل کا فیشن لازماً ان برانڈز کا نہیں ہوگا جن کی تاریخ سب سے طویل یا آواز سب سے بلند ہے، بلکہ ان کا ہوگا جو صارف کے دل میں حقیقی جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی آزاد فیشن انڈسٹری کے لیے یہ محض ایک نیا رجحان نہیں بلکہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ یہ پہچانے کہ اس کی سب سے بڑی مسابقتی برتری ہمیشہ سے اس کے پاس موجود رہی ہے۔ دستکاری کبھی مسئلہ نہیں تھی؛ اصل ضرورت اب یہ ہے کہ اس کے پیچھے موجود کہانیاں بھی اسی محبت، محنت اور نفاست کے ساتھ بیان کی جائیں جس طرح خود یہ ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288674</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 00:01:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فاطمہ بخاری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13234115e5df3c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13234115e5df3c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی ایل آئی ایس پلس : پاکستان میں زرعی خطرات سے تحفظ کے نظام کی تشکیلِ نو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288541/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے، 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی  اور لاکھوں دیہی گھرانوں کی کفالت کرتی ہے۔ تاہم یہ شعبہ ملک کے سب سے زیادہ کمزور حصوں میں سے بھی ایک ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، کیڑے مکوڑوں کے حملوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسم کا تیزی سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نہ صرف سرمائے تک رسائی ضروری ہے، بلکہ انشورنس (بیمہ کاری) کے ذریعے خطرات سے نمٹنے کا ایک مضبوط نظام بھی ناگزیر ہے۔زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان میں فصلوں کی انشورنس کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔ یہاں کاشت شدہ زمین کا محض 2 فیصد سے بھی کم حصہ رسمی انشورنس کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ بھارت اور چین جیسی علاقائی معیشتوں میں یہ کوریج بہت زیادہ ہے، جہاں زرعی انشورنس قومی غذائی تحفظ اور دیہی ترقی کی حکمت عملیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر انشورنس کے اس بڑے خلا کو پُر کرنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 2008 میں  ”کراپ لون انشورنس اسکیم“(سی ایل آئی ایس) متعارف کرائی تھی، جس میں بعد میں 2014 میں ترمیم کی گئی۔ اس کا مقصد کسانوں اور قرض دینے والے اداروں کو قدرتی آفات کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات سے بچانا اور بینکوں کو زرعی قرضے بڑھانے کی ترغیب دینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس پرانی اسکیم نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن چند انتظامی اور عملی مشکلات کی وجہ سے اس کی افادیت محدود رہی۔ مثال کے طور پر نقصانات کے کلیمز (معاوضے) کا دارومدار زیادہ تر حکومت کی جانب سے کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر ہوتا تھا، جس کی وجہ سے اکثر معاوضے کی ادائیگی میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ انشورنس کا دائرہ کار محدود تھا، ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے مینول طریقوں پر انحصار کیا جاتا تھا اور کسانوں میں اس حوالے سے شعور بھی کافی کم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہی چیلنجز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب ”کراپ لون انشورنس اسکیم پلس“ (سی ایل آئی ایس پلس) کا آغاز کیا ہے، جو اس پروگرام کی شروعات سے لے کر اب تک پاکستان کے زرعی انشورنس فریم ورک میں سب سے بڑی اور اہم اصلاحات کی نمائندگی کرتا ہے۔اس نئی سی ایل آئی ایس پلس اسکیم میں کئی انقلابی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھا کر اس میں آلو جیسی مزید فصلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ فصلوں کی پیداوار کے لیے دیے جانے والے قرضوں پر انشورنس اب بھی لازمی رہے گی۔ اب اس اسکیم میں سیٹلائٹ کی تصاویر، ریموٹ سینسنگ (دور سے جائزہ لینے والی ٹیکنالوجی)، ڈیجیٹل سروے اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی خدمات شامل کی گئی ہیں، تاکہ فصلوں کے نقصان کا تیزی سے، غیر جانبدارانہ اور شفاف اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئی اسکیم کی سب سے بڑی جدت پاکستان میں پہلی بار ”کنسورشیم پر مبنی زرعی رسک پولنگ ماڈل“ (مختلف انشورنس کمپنیوں کا مل کر خطرات کا بوجھ اٹھانا) متعارف کرانا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت حصہ لینے والی انشورنس کمپنیاں مل کر زرعی خطرات کا بیمہ کریں گی، جس سے انشورنس انڈسٹری کی گنجائش اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ اس پروگرام کا مجموعی دائرہ کار تقریباً تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہ ماڈل مارکیٹ کو استحکام فراہم ، بڑی قدرتی آفات کے خطرات کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم  کرتے ہوئے کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو فصلوں کی انشورنس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت کسانوں کے تحفظ کو بھی کافی حد تک بڑھایا گیا ہے۔ بینک کے بقایا زرعی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اہل کسانوں کو ایک بار آمدنی کی مد میں مالی امداد (انکم سپورٹ) بھی دی جا سکے گی اور ساتھ ہی ذاتی حادثے اور چوٹ کی صورت میں بھی فوائد ملیں گے۔ حکومتِ پاکستان چھوٹے کسانوں کے لیے انشورنس کے پریمیم (قسطوں) پر سبسڈی (مالی رعایت) دینا جاری رکھے گی، تاکہ یہ انشورنس ان کی جیب پر بھاری نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ مالی شمولیت ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کی کامیابی سے نئی تشکیل اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی)، کمرشل بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے زرعی خطرات کی مالیات اور حکومتی پریمیم سبسڈی کی فراہمی میں اہم پالیسی سازی کا کردار ادا کیا ہے۔ ایس ای سی پی نے سب کے لیے انشورنس (انکلوسیو انشورنس) کے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دیا ہے۔ آئی اے پی نے انڈسٹری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اس مشترکہ ماڈل کو آگے بڑھانے میں ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اس پورے عمل میں تکنیکی مدد، بین الاقوامی مہارت اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں کو اپنانے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس انڈسٹری کے لیے یہ اسکیم جغرافیائی تجزیات (جغرافیائی ڈیٹا)، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کلیمز کی تیز تر ادائیگی کے ذریعے زرعی انشورنس کے نظام کو جدید بنانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ بینکوں کے لیے یہ ان کے قرضوں کے ڈوبنے کے خطرے کو کم کرتی ہے اور انہیں زیادہ زرعی قرضے دینے کی ترغیب دیتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسانوں کو بار بار آنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف ایک مضبوط مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے اب مالیاتی استحکام اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنی کہ زرعی پیداوار۔ لہٰذا ”سی ایل آئی ایس پلس“ محض ایک انشورنس پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، مالی شمولیت اور موسمیاتی لچک (موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت) میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں زرعی انشورنس کے منظر نامے کو بدلنے، تحفظ کے خلا کو کم کرنے اور خطے میں موسمیاتی طور پر اسمارٹ   زرعی رسک مینجمنٹ کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زراعت پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے، 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی  اور لاکھوں دیہی گھرانوں کی کفالت کرتی ہے۔ تاہم یہ شعبہ ملک کے سب سے زیادہ کمزور حصوں میں سے بھی ایک ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، کیڑے مکوڑوں کے حملوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسم کا تیزی سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</strong></p>
<p>زرعی شعبے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے نہ صرف سرمائے تک رسائی ضروری ہے، بلکہ انشورنس (بیمہ کاری) کے ذریعے خطرات سے نمٹنے کا ایک مضبوط نظام بھی ناگزیر ہے۔زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان میں فصلوں کی انشورنس کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔ یہاں کاشت شدہ زمین کا محض 2 فیصد سے بھی کم حصہ رسمی انشورنس کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ بھارت اور چین جیسی علاقائی معیشتوں میں یہ کوریج بہت زیادہ ہے، جہاں زرعی انشورنس قومی غذائی تحفظ اور دیہی ترقی کی حکمت عملیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی خطرات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر انشورنس کے اس بڑے خلا کو پُر کرنا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 2008 میں  ”کراپ لون انشورنس اسکیم“(سی ایل آئی ایس) متعارف کرائی تھی، جس میں بعد میں 2014 میں ترمیم کی گئی۔ اس کا مقصد کسانوں اور قرض دینے والے اداروں کو قدرتی آفات کی وجہ سے فصلوں کے نقصانات سے بچانا اور بینکوں کو زرعی قرضے بڑھانے کی ترغیب دینا تھا۔</p>
<p>اگرچہ اس پرانی اسکیم نے زرعی قرضوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن چند انتظامی اور عملی مشکلات کی وجہ سے اس کی افادیت محدود رہی۔ مثال کے طور پر نقصانات کے کلیمز (معاوضے) کا دارومدار زیادہ تر حکومت کی جانب سے کسی علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر ہوتا تھا، جس کی وجہ سے اکثر معاوضے کی ادائیگی میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ انشورنس کا دائرہ کار محدود تھا، ٹیکنالوجی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے مینول طریقوں پر انحصار کیا جاتا تھا اور کسانوں میں اس حوالے سے شعور بھی کافی کم تھا۔</p>
<p>انہی چیلنجز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب ”کراپ لون انشورنس اسکیم پلس“ (سی ایل آئی ایس پلس) کا آغاز کیا ہے، جو اس پروگرام کی شروعات سے لے کر اب تک پاکستان کے زرعی انشورنس فریم ورک میں سب سے بڑی اور اہم اصلاحات کی نمائندگی کرتا ہے۔اس نئی سی ایل آئی ایس پلس اسکیم میں کئی انقلابی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ انشورنس کے دائرہ کار کو بڑھا کر اس میں آلو جیسی مزید فصلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ فصلوں کی پیداوار کے لیے دیے جانے والے قرضوں پر انشورنس اب بھی لازمی رہے گی۔ اب اس اسکیم میں سیٹلائٹ کی تصاویر، ریموٹ سینسنگ (دور سے جائزہ لینے والی ٹیکنالوجی)، ڈیجیٹل سروے اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی خدمات شامل کی گئی ہیں، تاکہ فصلوں کے نقصان کا تیزی سے، غیر جانبدارانہ اور شفاف اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>اس نئی اسکیم کی سب سے بڑی جدت پاکستان میں پہلی بار ”کنسورشیم پر مبنی زرعی رسک پولنگ ماڈل“ (مختلف انشورنس کمپنیوں کا مل کر خطرات کا بوجھ اٹھانا) متعارف کرانا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت حصہ لینے والی انشورنس کمپنیاں مل کر زرعی خطرات کا بیمہ کریں گی، جس سے انشورنس انڈسٹری کی گنجائش اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ اس پروگرام کا مجموعی دائرہ کار تقریباً تین گنا بڑھ جائے گا۔ یہ ماڈل مارکیٹ کو استحکام فراہم ، بڑی قدرتی آفات کے خطرات کو مختلف کمپنیوں میں تقسیم  کرتے ہوئے کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو فصلوں کی انشورنس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔</p>
<p>اس منصوبے کے تحت کسانوں کے تحفظ کو بھی کافی حد تک بڑھایا گیا ہے۔ بینک کے بقایا زرعی قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اہل کسانوں کو ایک بار آمدنی کی مد میں مالی امداد (انکم سپورٹ) بھی دی جا سکے گی اور ساتھ ہی ذاتی حادثے اور چوٹ کی صورت میں بھی فوائد ملیں گے۔ حکومتِ پاکستان چھوٹے کسانوں کے لیے انشورنس کے پریمیم (قسطوں) پر سبسڈی (مالی رعایت) دینا جاری رکھے گی، تاکہ یہ انشورنس ان کی جیب پر بھاری نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ مالی شمولیت ممکن ہو سکے۔</p>
<p>اس اسکیم کی کامیابی سے نئی تشکیل اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی اے پی)، کمرشل بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کے مشترکہ تعاون کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے زرعی خطرات کی مالیات اور حکومتی پریمیم سبسڈی کی فراہمی میں اہم پالیسی سازی کا کردار ادا کیا ہے۔ ایس ای سی پی نے سب کے لیے انشورنس (انکلوسیو انشورنس) کے ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے اور ڈیجیٹل جدت کو فروغ دیا ہے۔ آئی اے پی نے انڈسٹری کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اس مشترکہ ماڈل کو آگے بڑھانے میں ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اس پورے عمل میں تکنیکی مدد، بین الاقوامی مہارت اور عالمی سطح کے بہترین طریقوں کو اپنانے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔</p>
<p>انشورنس انڈسٹری کے لیے یہ اسکیم جغرافیائی تجزیات (جغرافیائی ڈیٹا)، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کلیمز کی تیز تر ادائیگی کے ذریعے زرعی انشورنس کے نظام کو جدید بنانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ بینکوں کے لیے یہ ان کے قرضوں کے ڈوبنے کے خطرے کو کم کرتی ہے اور انہیں زیادہ زرعی قرضے دینے کی ترغیب دیتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسانوں کو بار بار آنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف ایک مضبوط مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے اب مالیاتی استحکام اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنی کہ زرعی پیداوار۔ لہٰذا ”سی ایل آئی ایس پلس“ محض ایک انشورنس پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ غذائی تحفظ، مالی شمولیت اور موسمیاتی لچک (موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت) میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں زرعی انشورنس کے منظر نامے کو بدلنے، تحفظ کے خلا کو کم کرنے اور خطے میں موسمیاتی طور پر اسمارٹ   زرعی رسک مینجمنٹ کے لیے ایک رول ماڈل بن کر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288541</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 14:10:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد حشام)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10135353a8a2753.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10135353a8a2753.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں اصلاحات کا نفاذ : دیوانے کا خواب یا لاحاصل کوشش؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288257/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپنے وجود کے بیشتر حصے میں پاکستان نوآبادیاتی دور سے وراثت میں ملنے والے قوانین کے تحت چلایا جاتا رہا ہے، ایسے قوانین جو ایک مختلف وقت اور سچ  پوچھیں تو ایک بالکل مختلف دنیا کے لیے لکھے گئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب باقی دنیا آگے بڑھ گئی  اور ٹیکنالوجی نے کاروباری لائسنس کے حصول کو سیکنڈوں کا کام بنا دیا ہے، پاکستان طویل قطاروں، ضرورت سے زیادہ کاغذی کارروائی اور کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں پھنسا رہا۔ اس کا اصل نقصان پاکستان میں کاروبار کرنے والوں کو سب سے زیادہ اٹھانا پڑا۔ بالآخر سال 2024 میں حکومت نے ملک کے فرسودہ ریگولیٹری نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عزم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب سے اس عمل کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ نئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ عزائم تو حقیقی ہیں لیکن جو وعدہ کیا جا رہا ہے اور جو کچھ حقیقت میں نافذ ہو رہا ہے، اس کے درمیان کا فاصلہ بھی اتنا ہی تلخ  اور اسی فاصلے کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سی اصلاحات کے نفاذ کے لیے پہلے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنا، متعلقہ قانونی اداروں سے ان کی منظوری لینا اور پھر آخر کار انہیں کابینہ یا پارلیمنٹ سے پاس کروانا۔ نظریاتی حد تک تو یہ ایک معقول عمل لگتا ہے، لیکن عملی طور پر اصلاحات کے یہ مسودے مہینوں، اور بعض اوقات برسوں سرکاری دفاتر میں پڑے رہتے ہیں اور ایک ایسی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جو کبھی بھی تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر اس میں انسانی عنصر بھی شامل ہے۔ سرکاری افسران کا باقاعدگی سے ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب وہ جاتے ہیں تو اکثر اپنے ساتھ اس اصلاحاتی کام کی رفتار بھی لے کرچلے جاتے ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ نیا آنے والا شخص بالکل صفر سے شروعات کرتا ہے، اگر وہ شروعات کرے تو ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں جو کسی ایسی اصلاح کے لیے کسی کو جوابدہ ٹھہرائے جو تبادلے کے بعد خاموشی سے دم توڑ جاتی ہے۔ اس ماحول میں تاخیر کے کوئی حقیقی نقصانات نہیں ہیں اور اسی لیے یہ کلچر پروان چڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات کی ایک بڑی تعداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری محکموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک ادارے کے پاس ان سب کو متحرک کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ رابطہ کاری کرنے والا ادارہ فالو اپ کر سکتا ہے، یاد دہانیاں بھیج سکتا ہے اور سفارشات پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ بالکل واضح نکلتا ہے، ہر محکمہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا پہلے قدم اٹھائے گا اور آخر کار دونوں ہی کچھ نہیں کرتے۔اسی طرح وفاق اور صوبوں کی تقسیم اس میں مزید ایک اور الجھن پیدا کرتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل 18ویں ترمیم کے نتیجے میں جب صوبوں کو زیادہ اختیارات منتقل کیے گئے تو وفاق کے بہت سے اصلاحاتی فیصلے اب خود بخود پورے ملک پر لاگو نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں دستخط شدہ معاہدے کی لاہور یا کراچی میں اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ متعلقہ صوبہ الگ سے اس پر متفق نہ ہو جائے اور اس معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ یوں اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں، جو کہ کئی معاملات میں اصل مسئلے سے بھی زیادہ الجھن پیدا کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی پر منحصر ہےجس میں نئے آن لائن سسٹمز، ڈیجیٹل پورٹلز اور یکجا کیے گئے ڈیٹا بیسز شامل ہیں۔ یہ چیزیں سننے میں تو بہت سادہ لگتی ہیں لیکن اب یہ خود تاخیر کی ایک الگ وجہ بن چکی ہیں۔ سرکاری محکمے اپنے ڈیجیٹل سسٹمز بنانے اور انہیں چلانے کے لیے مکمل طور پر ایک ہی ٹیکنالوجی کے ادارے پر انحصار کرتے ہیں اور جب وہ ادارہ سست روی کا شکار ہو یا اس پر کام کا زیادہ بوجھ ہو تو اس کے پیچھے موجود ہر چیز ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ پورٹلز سالہا سال ”زیرِ تعمیر“ رہتے ہیں اور سسٹمز غیر معینہ مدت تک ”بس تیار ہونے والے ہیں“ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ جب فنڈز منظور ہو جاتے ہیں اور کسی منصوبے کو ہری جھنڈی مل جاتی ہے، تب بھی رقم اکثر وقت پر متعلقہ محکمے تک نہیں پہنچ پاتی یا بالکل ہی نہیں پہنچتی۔ کام کے آرڈرز جاری ہونے کے علاوہ  معاہدوں پر دستخط بھی ہو جاتے ہیں اور پھر۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ فنڈز منظوریوں کی ایک ایسی سست رفتار زنجیر میں پھنس جاتے ہیں جس کے پاس جلدی کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ انسان کو اس اسپیڈ شیٹ (دستاویز) پر ترس آنے لگتا ہے جو کسی کی میز پر پڑی ہوتی ہے، جو منظور شدہ اور مکمل بجٹ کے ساتھ ہونے کے باوجود کہیں آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس طرح کچھ ایسی اصلاحات بھی ہیں جو ایک بہت ہی معمولی چیز کی وجہ سے رک جاتی ہیں یعنی ایک خالی کرسی۔ کچھ فیصلے صرف ایک بورڈ، کمیٹی یا اتھارٹی ہی لے سکتی ہے  اور اتفاق سے اس ادارے کے سربراہ کا عہدہ خالی ہوتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ مدت ختم ہو گئی، نشست ابھی تک بھری نہیں گئی اور قانونی طور پر کسی دوسرے کے پاس قدم آگے بڑھانے کا اختیار ہی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصلاحات سیاسی عزم یا بجٹ کی منظوری کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے رکی رہتی ہیں کہ کوئی آئے اور اس خالی کرسی پر بیٹھے۔ چنانچہ  یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ” کیا پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ واقعی ایک لاحاصل کوشش یا سراب کا پیچھا کرنا ہے؟“  مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ جس عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اسے یکسر مسترد کر دینا ناانصافی ہوگی۔ نیت سچی ہے، رفتار میں تیزی آئی ہے  اور ایمانداری سے یہ نشاندہی کرنے کا جذبہ کہ چیزیں کہاں غلط ہو رہی ہیں، خود اتنی بڑی بات ہے جو بہت سی حکومتیں نہیں کر پاتیں۔ اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات جتنی بھی تلخ لگے، سچ یہی ہے کہ اچھی نیت سے لائسنس کا حصول آسان نہیں ہو جاتا۔ بلند و بانگ اہداف سے کوئی پورٹل  فعال نہیں ہو جاتا۔ پاکستان کسی سراب کا پیچھا نہیں کر رہا بلکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ منزل کہاں ہے۔ اس نے اس منزل کے بارے میں کئی تفصیلی رپورٹیں بھی لکھ رکھی ہیں۔ جو چیز اس نے اب تک تیار نہیں کی، وہ اس منزل کو حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کار ہے۔ جب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، یہ دوڑ جاری رہے گی اور کامیابی، ہمیشہ کی طرح پہنچ سے بس تھوڑی ہی دور رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ : ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اپنے وجود کے بیشتر حصے میں پاکستان نوآبادیاتی دور سے وراثت میں ملنے والے قوانین کے تحت چلایا جاتا رہا ہے، ایسے قوانین جو ایک مختلف وقت اور سچ  پوچھیں تو ایک بالکل مختلف دنیا کے لیے لکھے گئے تھے۔</strong></p>
<p>جب باقی دنیا آگے بڑھ گئی  اور ٹیکنالوجی نے کاروباری لائسنس کے حصول کو سیکنڈوں کا کام بنا دیا ہے، پاکستان طویل قطاروں، ضرورت سے زیادہ کاغذی کارروائی اور کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں پھنسا رہا۔ اس کا اصل نقصان پاکستان میں کاروبار کرنے والوں کو سب سے زیادہ اٹھانا پڑا۔ بالآخر سال 2024 میں حکومت نے ملک کے فرسودہ ریگولیٹری نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عزم کیا ہے۔</p>
<p>تب سے اس عمل کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ نئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ عزائم تو حقیقی ہیں لیکن جو وعدہ کیا جا رہا ہے اور جو کچھ حقیقت میں نافذ ہو رہا ہے، اس کے درمیان کا فاصلہ بھی اتنا ہی تلخ  اور اسی فاصلے کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔</p>
<p>بہت سی اصلاحات کے نفاذ کے لیے پہلے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنا، متعلقہ قانونی اداروں سے ان کی منظوری لینا اور پھر آخر کار انہیں کابینہ یا پارلیمنٹ سے پاس کروانا۔ نظریاتی حد تک تو یہ ایک معقول عمل لگتا ہے، لیکن عملی طور پر اصلاحات کے یہ مسودے مہینوں، اور بعض اوقات برسوں سرکاری دفاتر میں پڑے رہتے ہیں اور ایک ایسی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جو کبھی بھی تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر اس میں انسانی عنصر بھی شامل ہے۔ سرکاری افسران کا باقاعدگی سے ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب وہ جاتے ہیں تو اکثر اپنے ساتھ اس اصلاحاتی کام کی رفتار بھی لے کرچلے جاتے ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ نیا آنے والا شخص بالکل صفر سے شروعات کرتا ہے، اگر وہ شروعات کرے تو ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں جو کسی ایسی اصلاح کے لیے کسی کو جوابدہ ٹھہرائے جو تبادلے کے بعد خاموشی سے دم توڑ جاتی ہے۔ اس ماحول میں تاخیر کے کوئی حقیقی نقصانات نہیں ہیں اور اسی لیے یہ کلچر پروان چڑھتا ہے۔</p>
<p>اصلاحات کی ایک بڑی تعداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری محکموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک ادارے کے پاس ان سب کو متحرک کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ رابطہ کاری کرنے والا ادارہ فالو اپ کر سکتا ہے، یاد دہانیاں بھیج سکتا ہے اور سفارشات پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ بالکل واضح نکلتا ہے، ہر محکمہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا پہلے قدم اٹھائے گا اور آخر کار دونوں ہی کچھ نہیں کرتے۔اسی طرح وفاق اور صوبوں کی تقسیم اس میں مزید ایک اور الجھن پیدا کرتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل 18ویں ترمیم کے نتیجے میں جب صوبوں کو زیادہ اختیارات منتقل کیے گئے تو وفاق کے بہت سے اصلاحاتی فیصلے اب خود بخود پورے ملک پر لاگو نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں دستخط شدہ معاہدے کی لاہور یا کراچی میں اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ متعلقہ صوبہ الگ سے اس پر متفق نہ ہو جائے اور اس معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ یوں اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں، جو کہ کئی معاملات میں اصل مسئلے سے بھی زیادہ الجھن پیدا کر دیتی ہیں۔</p>
<p>اصلاحات کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی پر منحصر ہےجس میں نئے آن لائن سسٹمز، ڈیجیٹل پورٹلز اور یکجا کیے گئے ڈیٹا بیسز شامل ہیں۔ یہ چیزیں سننے میں تو بہت سادہ لگتی ہیں لیکن اب یہ خود تاخیر کی ایک الگ وجہ بن چکی ہیں۔ سرکاری محکمے اپنے ڈیجیٹل سسٹمز بنانے اور انہیں چلانے کے لیے مکمل طور پر ایک ہی ٹیکنالوجی کے ادارے پر انحصار کرتے ہیں اور جب وہ ادارہ سست روی کا شکار ہو یا اس پر کام کا زیادہ بوجھ ہو تو اس کے پیچھے موجود ہر چیز ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ پورٹلز سالہا سال ”زیرِ تعمیر“ رہتے ہیں اور سسٹمز غیر معینہ مدت تک ”بس تیار ہونے والے ہیں“ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔</p>
<p>حتیٰ کہ جب فنڈز منظور ہو جاتے ہیں اور کسی منصوبے کو ہری جھنڈی مل جاتی ہے، تب بھی رقم اکثر وقت پر متعلقہ محکمے تک نہیں پہنچ پاتی یا بالکل ہی نہیں پہنچتی۔ کام کے آرڈرز جاری ہونے کے علاوہ  معاہدوں پر دستخط بھی ہو جاتے ہیں اور پھر۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ فنڈز منظوریوں کی ایک ایسی سست رفتار زنجیر میں پھنس جاتے ہیں جس کے پاس جلدی کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ انسان کو اس اسپیڈ شیٹ (دستاویز) پر ترس آنے لگتا ہے جو کسی کی میز پر پڑی ہوتی ہے، جو منظور شدہ اور مکمل بجٹ کے ساتھ ہونے کے باوجود کہیں آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس طرح کچھ ایسی اصلاحات بھی ہیں جو ایک بہت ہی معمولی چیز کی وجہ سے رک جاتی ہیں یعنی ایک خالی کرسی۔ کچھ فیصلے صرف ایک بورڈ، کمیٹی یا اتھارٹی ہی لے سکتی ہے  اور اتفاق سے اس ادارے کے سربراہ کا عہدہ خالی ہوتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ مدت ختم ہو گئی، نشست ابھی تک بھری نہیں گئی اور قانونی طور پر کسی دوسرے کے پاس قدم آگے بڑھانے کا اختیار ہی نہیں ہے۔</p>
<p>اصلاحات سیاسی عزم یا بجٹ کی منظوری کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے رکی رہتی ہیں کہ کوئی آئے اور اس خالی کرسی پر بیٹھے۔ چنانچہ  یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ” کیا پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ واقعی ایک لاحاصل کوشش یا سراب کا پیچھا کرنا ہے؟“  مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ جس عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اسے یکسر مسترد کر دینا ناانصافی ہوگی۔ نیت سچی ہے، رفتار میں تیزی آئی ہے  اور ایمانداری سے یہ نشاندہی کرنے کا جذبہ کہ چیزیں کہاں غلط ہو رہی ہیں، خود اتنی بڑی بات ہے جو بہت سی حکومتیں نہیں کر پاتیں۔ اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات جتنی بھی تلخ لگے، سچ یہی ہے کہ اچھی نیت سے لائسنس کا حصول آسان نہیں ہو جاتا۔ بلند و بانگ اہداف سے کوئی پورٹل  فعال نہیں ہو جاتا۔ پاکستان کسی سراب کا پیچھا نہیں کر رہا بلکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ منزل کہاں ہے۔ اس نے اس منزل کے بارے میں کئی تفصیلی رپورٹیں بھی لکھ رکھی ہیں۔ جو چیز اس نے اب تک تیار نہیں کی، وہ اس منزل کو حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کار ہے۔ جب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، یہ دوڑ جاری رہے گی اور کامیابی، ہمیشہ کی طرح پہنچ سے بس تھوڑی ہی دور رہے گی۔</p>
<p>نوٹ : ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288257</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 14:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (میمونہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/03140112426ff85.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/03140112426ff85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمباکو ٹیکس پالیسی کو معاشی ہم آہنگی کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288204/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک مرتبہ پھر ملک کے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام کو توجہ کا مرکز بنا کر سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو محصولات بڑھانے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور غیر قانونی تجارت پر قابو پانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تمباکو اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے ساتھ اختیار کی گئی ٹیکس پالیسی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ بجٹ میں نفاذ پر مبنی بعض اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور چند مخصوص مصنوعات پر ٹیکس میں ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کے ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات سے گریز کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے نمایاں تبدیلی الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوئیڈز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ نئی نوعیت کی نکوٹین مصنوعات کو زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ تاہم ای-لیکوئیڈز پر فی کلوگرام کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کا موجودہ طریقہ ایک اہم پالیسی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ ای-لیکوئیڈز عموماً حجم  کی اکائیوں میں پیک، فروخت اور استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے وزن کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنا ان کی قیمت کے تعین، ٹیکس کی تعمیل اور نفاذ کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ٹیکس انتظامیہ کے نقطۂ نظر سے حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا موجودہ ٹیکس یونٹ اس مصنوعات کے لیے موزوں ہے جسے وہ ریگولیٹ اور ٹیکس کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور زیادہ اہم پالیسی مسئلہ ایسیٹیٹ ٹَو  کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 44,000 روپے فی کلوگرام سے کم کر کے 10,000 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ ایسیٹیٹ ٹَو سگریٹ کے فلٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک بنیادی خام مال ہے۔ اس پر ڈیوٹی میں کمی سے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب خود سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح مالیاتی پالیسی میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک اہم خام مال پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کیے جانے کو حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت، دستاویزی معیشت اور پیداوار کی نگرانی پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً اہم مسائل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے محصولات کے ضیاع، کمزور نفاذ اور دستاویزی و غیر دستاویزی معیشت کے درمیان موجود خلا کا شکار رہا ہے۔ نگرانی کے زیادہ مؤثر نظام سے محصولات میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم صرف نفاذ ہی ایک مربوط ایکسائز پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا، خصوصاً اس وقت جب برائے نام ٹیکس شرحیں طویل عرصے تک تبدیل نہ کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں۔ افراطِ زر کے ماحول میں جب برائے نام ٹیکس شرحیں برقرار رہتی ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حقیقی قدر کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بظاہر ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی گئی، لیکن افراطِ زر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی حقیقی قدر کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مؤثر ٹیکس بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ محصولات کی کمی کا سامنا کرنے والی معیشت کے لیے اس کے براہِ راست اثرات ٹیکس بویانسی اور مالیاتی کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ اگر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کو افراطِ زر کے مطابق وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ یا انڈیکس نہ کیا جائے تو حکومت صرف اس وجہ سے ممکنہ محصولات سے محروم ہو سکتی ہے کہ ٹیکس نظام قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ سے قبل ہونے والی بحث سے بھی یہ واضح ہوا کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی اب بھی مالیاتی پالیسی کا ایک متنازع شعبہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کے نظام میں تیسرے درجے  کو متعارف کرانے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اسے حتمی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ایسا درجہ نسبتاً سستے سگریٹ برانڈز پر مؤثر ٹیکس بوجھ کو کم کر سکتا تھا اور موجودہ ایکسائز ڈھانچے کو کمزور کر دیتا۔ لہٰذا اس تجویز کو بجٹ میں شامل نہ کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایسی ساختی تبدیلی سے بھی گریز کیا جو ٹیکس کی بنیاد کو مزید کمزور کر سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتیجہ کسی پالیسی خلا  میں سامنے نہیں آیا۔ تحقیقی اداروں اور پالیسی سے وابستہ فریقین، جن میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) بھی شامل ہے، نے شواہد پر مبنی تجاویز، گول میز مباحثوں ، رائے پر مبنی مضامین، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے بجٹ پر ہونے والی بحث میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کوششوں نے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے کو محصولات میں اضافے، ٹیکس نفاذ اور عوامی مالیات  سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بنائے رکھا۔ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ پالیسی مباحثے کا رخ غیر قانونی تجارت اور نگرانی کے نظام کی جانب زیادہ ہو گیا، جس کی وجہ سے موجودہ بجٹ میں ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ اور نفاذ سے متعلق اقدامات پر زیادہ زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ کے لیے پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک زیادہ مربوط اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اول، سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ افراطِ زر خاموشی سے ان کی حقیقی قدر کو کم نہ کر دے۔ دوم، حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایسیٹیٹ ٹَو جیسے خام مال پر دی جانے والی ٹیکس رعایت کیا اس کی مجموعی محصولات اور ایکسائز پالیسی کے مقاصد سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ سوم، ای-لیکوئیڈز  پر عائد ٹیکس کے نظام کو تکنیکی بنیادوں پر مزید بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کی اکائی  مارکیٹ میں رائج طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہو اور اس پر عمل درآمد زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو کے شعبے میں ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی گنجائش موجود ہے۔ تمباکو کی کاشت، اس کی خشکائی ، سگریٹ سازی اور اس سے پیدا ہونے والا فضلہ ماحول پر قابلِ پیمائش اخراجات عائد کرتے ہیں۔ اگر جنگلات کی کٹائی، ایندھن کے استعمال، کاربن اخراج اور فضلے سے متعلق مستند اعداد و شمار دستیاب ہوں تو مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حصے کے طور پر تمباکو کی مصنوعات پر کاربن لیوی یا ماحولیاتی سرچارج عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ 2026-27 یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا ایک اہم، لیکن تاحال غیر حل شدہ شعبہ ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے ایک بڑے خام مال پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے، جس سے پالیسی کے اندر ہم آہنگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تمباکو پر ٹیکس زیادہ ہونا چاہیے یا کم۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکس کا موجودہ نظام معاشی اعتبار سے مربوط، انتظامی لحاظ سے قابلِ نفاذ اور حقیقی معنوں میں حکومتی محصولات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس کا ایک مضبوط اور مؤثر نظام ایسا ہونا چاہیے جو مؤثر نگرانی، افراطِ زر سے ہم آہنگ ایکسائز پالیسی، خام مال کے حوالے سے معقول ٹیکس پالیسی اور ماحولیاتی اخراجات کو مدنظر رکھنے جیسے عناصر کو یکجا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک مرتبہ پھر ملک کے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام کو توجہ کا مرکز بنا کر سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکومت کو محصولات بڑھانے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور غیر قانونی تجارت پر قابو پانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، تمباکو اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے ساتھ اختیار کی گئی ٹیکس پالیسی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتی ہے۔ بجٹ میں نفاذ پر مبنی بعض اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور چند مخصوص مصنوعات پر ٹیکس میں ردوبدل کیا گیا ہے، تاہم سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کے ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر اصلاحات سے گریز کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>سب سے نمایاں تبدیلی الیکٹرانک سگریٹ میں استعمال ہونے والے ای-لیکوئیڈز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 10,000 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 16,500 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس ضرورت کو تسلیم کرتی ہے کہ نئی نوعیت کی نکوٹین مصنوعات کو زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ تاہم ای-لیکوئیڈز پر فی کلوگرام کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کا موجودہ طریقہ ایک اہم پالیسی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ ای-لیکوئیڈز عموماً حجم  کی اکائیوں میں پیک، فروخت اور استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے وزن کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنا ان کی قیمت کے تعین، ٹیکس کی تعمیل اور نفاذ کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ٹیکس انتظامیہ کے نقطۂ نظر سے حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ آیا موجودہ ٹیکس یونٹ اس مصنوعات کے لیے موزوں ہے جسے وہ ریگولیٹ اور ٹیکس کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>ایک اور زیادہ اہم پالیسی مسئلہ ایسیٹیٹ ٹَو  کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو 44,000 روپے فی کلوگرام سے کم کر کے 10,000 روپے فی کلوگرام کرنا ہے۔ ایسیٹیٹ ٹَو سگریٹ کے فلٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک بنیادی خام مال ہے۔ اس پر ڈیوٹی میں کمی سے سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب خود سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس طرح مالیاتی پالیسی میں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف حکومت نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف سگریٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک اہم خام مال پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ نہ کیے جانے کو حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جس میں اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت، دستاویزی معیشت اور پیداوار کی نگرانی پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً اہم مسائل ہیں۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے محصولات کے ضیاع، کمزور نفاذ اور دستاویزی و غیر دستاویزی معیشت کے درمیان موجود خلا کا شکار رہا ہے۔ نگرانی کے زیادہ مؤثر نظام سے محصولات میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم صرف نفاذ ہی ایک مربوط ایکسائز پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا، خصوصاً اس وقت جب برائے نام ٹیکس شرحیں طویل عرصے تک تبدیل نہ کی جائیں۔</p>
<p>سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں۔ افراطِ زر کے ماحول میں جب برائے نام ٹیکس شرحیں برقرار رہتی ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حقیقی قدر کم ہوتی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بظاہر ٹیکس میں کوئی کمی نہیں کی گئی، لیکن افراطِ زر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی حقیقی قدر کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مؤثر ٹیکس بوجھ بھی کم ہو جاتا ہے۔ محصولات کی کمی کا سامنا کرنے والی معیشت کے لیے اس کے براہِ راست اثرات ٹیکس بویانسی اور مالیاتی کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ اگر مخصوص ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کو افراطِ زر کے مطابق وقتاً فوقتاً ایڈجسٹ یا انڈیکس نہ کیا جائے تو حکومت صرف اس وجہ سے ممکنہ محصولات سے محروم ہو سکتی ہے کہ ٹیکس نظام قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتا۔</p>
<p>بجٹ سے قبل ہونے والی بحث سے بھی یہ واضح ہوا کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی اب بھی مالیاتی پالیسی کا ایک متنازع شعبہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی کے نظام میں تیسرے درجے  کو متعارف کرانے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم اسے حتمی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ایسا درجہ نسبتاً سستے سگریٹ برانڈز پر مؤثر ٹیکس بوجھ کو کم کر سکتا تھا اور موجودہ ایکسائز ڈھانچے کو کمزور کر دیتا۔ لہٰذا اس تجویز کو بجٹ میں شامل نہ کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایسی ساختی تبدیلی سے بھی گریز کیا جو ٹیکس کی بنیاد کو مزید کمزور کر سکتی تھی۔</p>
<p>یہ نتیجہ کسی پالیسی خلا  میں سامنے نہیں آیا۔ تحقیقی اداروں اور پالیسی سے وابستہ فریقین، جن میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) بھی شامل ہے، نے شواہد پر مبنی تجاویز، گول میز مباحثوں ، رائے پر مبنی مضامین، متعلقہ فریقوں سے مشاورت اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے بجٹ پر ہونے والی بحث میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کوششوں نے تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے کو محصولات میں اضافے، ٹیکس نفاذ اور عوامی مالیات  سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بنائے رکھا۔ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ پالیسی مباحثے کا رخ غیر قانونی تجارت اور نگرانی کے نظام کی جانب زیادہ ہو گیا، جس کی وجہ سے موجودہ بجٹ میں ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ اور نفاذ سے متعلق اقدامات پر زیادہ زور دیا گیا۔</p>
<p>آئندہ کے لیے پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک زیادہ مربوط اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اول، سگریٹ پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ افراطِ زر خاموشی سے ان کی حقیقی قدر کو کم نہ کر دے۔ دوم، حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ایسیٹیٹ ٹَو جیسے خام مال پر دی جانے والی ٹیکس رعایت کیا اس کی مجموعی محصولات اور ایکسائز پالیسی کے مقاصد سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ سوم، ای-لیکوئیڈز  پر عائد ٹیکس کے نظام کو تکنیکی بنیادوں پر مزید بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کی اکائی  مارکیٹ میں رائج طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہو اور اس پر عمل درآمد زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔</p>
<p>تمباکو کے شعبے میں ماحولیاتی ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی گنجائش موجود ہے۔ تمباکو کی کاشت، اس کی خشکائی ، سگریٹ سازی اور اس سے پیدا ہونے والا فضلہ ماحول پر قابلِ پیمائش اخراجات عائد کرتے ہیں۔ اگر جنگلات کی کٹائی، ایندھن کے استعمال، کاربن اخراج اور فضلے سے متعلق مستند اعداد و شمار دستیاب ہوں تو مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے حصے کے طور پر تمباکو کی مصنوعات پر کاربن لیوی یا ماحولیاتی سرچارج عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ 2026-27 یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے کا معاملہ پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا ایک اہم، لیکن تاحال غیر حل شدہ شعبہ ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے ایک بڑے خام مال پر ڈیوٹی بھی کم کر دی ہے، جس سے پالیسی کے اندر ہم آہنگی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تمباکو پر ٹیکس زیادہ ہونا چاہیے یا کم۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ٹیکس کا موجودہ نظام معاشی اعتبار سے مربوط، انتظامی لحاظ سے قابلِ نفاذ اور حقیقی معنوں میں حکومتی محصولات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ تمباکو پر ٹیکس کا ایک مضبوط اور مؤثر نظام ایسا ہونا چاہیے جو مؤثر نگرانی، افراطِ زر سے ہم آہنگ ایکسائز پالیسی، خام مال کے حوالے سے معقول ٹیکس پالیسی اور ماحولیاتی اخراجات کو مدنظر رکھنے جیسے عناصر کو یکجا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288204</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 11:31:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/02112835ff27cf9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/02112835ff27cf9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھوسیڈائڈیز کی واپسی: میلوس اور جدید ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288140/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کلاسیکی تاریخ کے اوراق میں بہت کم ایسی تحریریں ملتی ہیں جو طاقت کی سیاست کی حقیقت کو تھوسیڈائڈیز کے ”میلین مکالمے“ (میلین ڈائیلاگ) کی طرح اتنی وضاحت اور بے لاگ انداز میں پیش کرتی ہوں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں تحریر کیے گئے اس مکالمے میں اُس گفتگو کو قلم بند کیا گیا ہے جو بحری قوت کے اعتبار سے غالب ریاست ایتھنز اور چھوٹے جزیرے میلوس کے درمیان ہوئی۔ پیلوپونیشین جنگ کے دوران میلوس غیر جانب دار رہنا چاہتا تھا، مگر ایتھنز نے اس سے مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا، جبکہ میلوس نے انصاف اور اخلاقی اصولوں کا سہارا لیا۔ ایتھنز نے ایسی تمام اخلاقی اپیلوں کو بے رحمی سے مسترد کرتے ہوئے وہ مشہور الفاظ کہے جو بعد ازاں طاقت کی سیاست کی علامت بن گئے: ”طاقتور وہی کرتے ہیں جو ان کے بس میں ہوتا ہے، جبکہ کمزور وہی سہتے ہیں جو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب 2026 کی طرف آئیے، جہاں اس مکالمے کی بازگشت ایران-امریکا محاذ آرائی میں صاف سنائی دیتی ہے۔ رواں سال شروع ہونے والی جنگ، جو تباہ کن حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر منتج ہوئی، اب نازک نوعیت کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا انداز، ایک جانب ٹرمپ کا سخت گیر اور بالا دستی جتانے والا رویہ اور دوسری جانب ایران کا محتاط اور متوازن طرزِ عمل ، حیرت انگیز حد تک ایتھنز اور میلوس کے درمیان ہونے والے اس قدیم مکالمے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ تازہ کشیدگی، جو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم والے ایک مال بردار جہاز پر ایران کے ڈرون حملے اور اس کے جواب میں امریکا کی جانب سے ایران کے 10 فوجی ٹھکانوں پر جوابی حملوں کے بعد بھڑکی، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی کس قدر نازک ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ اب بھی شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوسیڈائڈیز کی روایت میں ایتھنز طاقت کی بے لگام سیاست کی علامت تھا۔ اس نے اخلاقی دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ بقا کا واحد راستہ طاقتور کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن نے بھی ایک سخت گیر اور بالا دستی جتانے والی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ ٹرمپ کی زبان بھی کم و بیش اتنی ہی بے لچک تھی۔ انہوں نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، یہاں تک کہا کہ ایرانی وفد کے پاس شاید واپس جانے کے لیے اپنا ملک بھی نہ بچے۔ انہوں نے ایران کی امن تجاویز کے اہم نکات مسترد کر دیے اور امریکا کے اندر اختلافِ رائے کو بھی ”غداری“ قرار دیا۔ مال بردار جہاز کے واقعے کے بعد ایران کے ڈرون مراکز اور ریڈار تنصیبات پر حالیہ امریکی حملے بھی اسی طاقت کے اظہار کی عکاسی کرتے ہیں، گویا جدید دور میں ایتھنز ایک بار پھر میلوس کو یہی پیغام دے رہا ہو کہ غیر جانب داری کوئی راستہ نہیں، بقا صرف اطاعت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران نے، میلوس کی طرح، اپنے موقف پر قائم رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کا پیغام واضح تھا کہ امن کی کوشش ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں بلکہ انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کے ذریعے بے گناہ جانوں کی قربانیوں کا احترام کرنے کا شعوری فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے مذاکرات کار امن کو شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ قرار دیتے رہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے دوحہ میں امریکی نمائندوں کے ساتھ کسی طے شدہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف اپنی شرائط پر بات چیت کرے گا۔ میدانِ جنگ میں مزاحمت اور مذاکرات کی میز پر تحمل کا یہی امتزاج اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے ایران اصولی مؤقف اور قومی بقا کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں واقعات میں مماثلت غیر معمولی ہے۔ میلین مکالمے میں ایتھنز کا استدلال تھا کہ مزاحمت بے سود ہے کیونکہ نتائج کا فیصلہ طاقت کرتی ہے، جبکہ میلوس کا مؤقف تھا کہ انصاف کی اپنی اہمیت ہے اور غیر جانب دار رہنا اس کا حق ہے۔ 2026 میں ٹرمپ کا امریکا ایتھنز کے کردار میں دکھائی دیتا ہے، جو اپنی برتری جتاتا، ایران کے مؤقف کو نظرانداز کرتا اور تباہی کی دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ ایران نے میلوس کی طرح وقار، تحمل اور اخلاقی برتری پر اصرار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دونوں حالات میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ میلوس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا؛ اس کے مرد قتل کر دیے گئے اور عورتوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اس کے برعکس ایران، شدید نقصانات اٹھانے کے باوجود، مٹ نہیں سکا۔ تباہ کن حملوں کے بعد بھی مذاکرات کی صلاحیت برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا میں محض عسکری طاقت ہر صورت فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ٹیکنالوجی، بین الاقوامی اتحاد اور عالمی ضمیر یکطرفہ طاقت کے استعمال پر کچھ نہ کچھ قدغن ضرور عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی کارروائی نہیں تھے بلکہ تہذیبی اقدار کی آزمائش بھی تھے۔ ایران کے طرزِ عمل نے سیاسی بلوغت کا تاثر دیا۔ امن کو اپنے شہدا کے لیے خراجِ عقیدت قرار دینا اور اپنے مذاکراتی وفد کو مسلسل بیرونی ہدایات کے بغیر بات چیت کا اختیار دینا، تہران کے تحمل اور اعتماد کی علامت تھا۔ اس کے برعکس ٹرمپ کا رویہ اس غرور کی عکاسی کرتا تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف طاقت ہی ہر نتیجے کا فیصلہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری اسلام آباد کے صبر، سفارتی مہارت اور خطے کے استحکام سے وابستگی کی عکاس تھی۔ پاکستان نے خاموشی مگر مستقل مزاجی سے رابطوں کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ رکاوٹوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔ اس کی یہی ثابت قدمی مذاکرات کو اس وقت بھی زندہ رکھنے کا باعث بنی جب سخت بیانات اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح ایتھنز کو یہ خدشہ تھا کہ میلوس کی غیر جانب داری دوسرے چھوٹے علاقوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن جائے گی، اسی طرح واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران کی ثابت قدمی خطے کے دیگر ممالک کو بھی مزاحمت پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں سرِفہرست اسرائیل ہے۔ امریکی پالیسی سازی پر اس کا اثر و رسوخ کھل کر سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیلی قیادت مسلسل واشنگٹن پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے اور کسی مفاہمت کی راہ اختیار نہ کرے۔ اس بیرونی اثراندازی نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور جو عمل دو طرفہ امن کی کوشش ہو سکتا تھا، وہ مختلف مفادات کی کشمکش کا میدان بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز اب بھی اس تنازع کا سب سے حساس مرکز ہے۔ ایران اس پر مکمل اختیار کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی بحری بیڑے تہران کی نگرانی کے بغیر بحری راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں معمولی سی خلاف ورزی بھی مذاکراتی عمل کو ناکام بنا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام دونوں پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی داخلی سیاسی صورتِ حال اور خلیج میں موجود دیرینہ کشیدگیاں بھی پیش رفت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ آج اس تنازع کے مضمرات تھوسیڈائڈیز کے عہد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ مذاکرات کی ناکامی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے اور نازک بین الاقوامی اتحادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھوسیڈائڈیز کا ”میلین مکالمہ“ آج بھی ایک دائمی تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سبق دیتا ہے کہ بے لگام طاقت بالآخر المیے کو جنم دیتی ہے اور انصاف کو نظرانداز کرنے کا انجام تباہی ہوتا ہے۔ 2026 کی ایران-امریکا جنگ میں، مصنف کے مطابق، ٹرمپ کا سخت گیر رویہ ایتھنز کے غرور کی یاد دلاتا ہے، جبکہ ایران کا تحمل میلوس کے وقار کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ تاہم میلوس کے برعکس، ایران نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مذاکرات بھی کیے اور امن کے اپنے حق پر بھی اصرار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام منظرنامے میں امید کی کرن ایران کی یہی بقا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ شہدا کا خون انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کی تحریک بن سکتا ہے، اور سفارت کاری، خواہ کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو، تباہی سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پوری دنیا کی نظریں دوحہ پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے، جبکہ تہران کسی باضابطہ مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے صبر، مستقل مزاجی اور سفارتی کوششوں نے اس عمل کو زندہ رکھا ہے۔ امید یہی ہے کہ تاریخ خود کو دوبارہ نہیں دہرائے گی، میلوس کا سبق فراموش نہیں ہوگا اور طاقت بالآخر اصولوں کے ساتھ بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا سیکھ لے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کلاسیکی تاریخ کے اوراق میں بہت کم ایسی تحریریں ملتی ہیں جو طاقت کی سیاست کی حقیقت کو تھوسیڈائڈیز کے ”میلین مکالمے“ (میلین ڈائیلاگ) کی طرح اتنی وضاحت اور بے لاگ انداز میں پیش کرتی ہوں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں تحریر کیے گئے اس مکالمے میں اُس گفتگو کو قلم بند کیا گیا ہے جو بحری قوت کے اعتبار سے غالب ریاست ایتھنز اور چھوٹے جزیرے میلوس کے درمیان ہوئی۔ پیلوپونیشین جنگ کے دوران میلوس غیر جانب دار رہنا چاہتا تھا، مگر ایتھنز نے اس سے مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا، جبکہ میلوس نے انصاف اور اخلاقی اصولوں کا سہارا لیا۔ ایتھنز نے ایسی تمام اخلاقی اپیلوں کو بے رحمی سے مسترد کرتے ہوئے وہ مشہور الفاظ کہے جو بعد ازاں طاقت کی سیاست کی علامت بن گئے: ”طاقتور وہی کرتے ہیں جو ان کے بس میں ہوتا ہے، جبکہ کمزور وہی سہتے ہیں جو ان کی قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔“</strong></p>
<p>اب 2026 کی طرف آئیے، جہاں اس مکالمے کی بازگشت ایران-امریکا محاذ آرائی میں صاف سنائی دیتی ہے۔ رواں سال شروع ہونے والی جنگ، جو تباہ کن حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر منتج ہوئی، اب نازک نوعیت کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات کا انداز، ایک جانب ٹرمپ کا سخت گیر اور بالا دستی جتانے والا رویہ اور دوسری جانب ایران کا محتاط اور متوازن طرزِ عمل ، حیرت انگیز حد تک ایتھنز اور میلوس کے درمیان ہونے والے اس قدیم مکالمے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔ تازہ کشیدگی، جو آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم والے ایک مال بردار جہاز پر ایران کے ڈرون حملے اور اس کے جواب میں امریکا کی جانب سے ایران کے 10 فوجی ٹھکانوں پر جوابی حملوں کے بعد بھڑکی، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جنگ بندی کس قدر نازک ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ اب بھی شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔</p>
<p>تھوسیڈائڈیز کی روایت میں ایتھنز طاقت کی بے لگام سیاست کی علامت تھا۔ اس نے اخلاقی دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ بقا کا واحد راستہ طاقتور کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن نے بھی ایک سخت گیر اور بالا دستی جتانے والی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ ٹرمپ کی زبان بھی کم و بیش اتنی ہی بے لچک تھی۔ انہوں نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکیاں دیں، یہاں تک کہا کہ ایرانی وفد کے پاس شاید واپس جانے کے لیے اپنا ملک بھی نہ بچے۔ انہوں نے ایران کی امن تجاویز کے اہم نکات مسترد کر دیے اور امریکا کے اندر اختلافِ رائے کو بھی ”غداری“ قرار دیا۔ مال بردار جہاز کے واقعے کے بعد ایران کے ڈرون مراکز اور ریڈار تنصیبات پر حالیہ امریکی حملے بھی اسی طاقت کے اظہار کی عکاسی کرتے ہیں، گویا جدید دور میں ایتھنز ایک بار پھر میلوس کو یہی پیغام دے رہا ہو کہ غیر جانب داری کوئی راستہ نہیں، بقا صرف اطاعت میں ہے۔</p>
<p>تاہم ایران نے، میلوس کی طرح، اپنے موقف پر قائم رہنے کا راستہ اختیار کیا۔ ایران کا پیغام واضح تھا کہ امن کی کوشش ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں بلکہ انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کے ذریعے بے گناہ جانوں کی قربانیوں کا احترام کرنے کا شعوری فیصلہ ہے۔</p>
<p>اگرچہ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، لیکن اس کے مذاکرات کار امن کو شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ قرار دیتے رہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے دوحہ میں امریکی نمائندوں کے ساتھ کسی طے شدہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران صرف اپنی شرائط پر بات چیت کرے گا۔ میدانِ جنگ میں مزاحمت اور مذاکرات کی میز پر تحمل کا یہی امتزاج اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے ذریعے ایران اصولی مؤقف اور قومی بقا کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>ان دونوں واقعات میں مماثلت غیر معمولی ہے۔ میلین مکالمے میں ایتھنز کا استدلال تھا کہ مزاحمت بے سود ہے کیونکہ نتائج کا فیصلہ طاقت کرتی ہے، جبکہ میلوس کا مؤقف تھا کہ انصاف کی اپنی اہمیت ہے اور غیر جانب دار رہنا اس کا حق ہے۔ 2026 میں ٹرمپ کا امریکا ایتھنز کے کردار میں دکھائی دیتا ہے، جو اپنی برتری جتاتا، ایران کے مؤقف کو نظرانداز کرتا اور تباہی کی دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ ایران نے میلوس کی طرح وقار، تحمل اور اخلاقی برتری پر اصرار کیا۔</p>
<p>تاہم دونوں حالات میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ میلوس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا؛ اس کے مرد قتل کر دیے گئے اور عورتوں کو غلام بنا لیا گیا۔ اس کے برعکس ایران، شدید نقصانات اٹھانے کے باوجود، مٹ نہیں سکا۔ تباہ کن حملوں کے بعد بھی مذاکرات کی صلاحیت برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا میں محض عسکری طاقت ہر صورت فیصلہ کن کامیابی کی ضمانت نہیں۔ ٹیکنالوجی، بین الاقوامی اتحاد اور عالمی ضمیر یکطرفہ طاقت کے استعمال پر کچھ نہ کچھ قدغن ضرور عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی کارروائی نہیں تھے بلکہ تہذیبی اقدار کی آزمائش بھی تھے۔ ایران کے طرزِ عمل نے سیاسی بلوغت کا تاثر دیا۔ امن کو اپنے شہدا کے لیے خراجِ عقیدت قرار دینا اور اپنے مذاکراتی وفد کو مسلسل بیرونی ہدایات کے بغیر بات چیت کا اختیار دینا، تہران کے تحمل اور اعتماد کی علامت تھا۔ اس کے برعکس ٹرمپ کا رویہ اس غرور کی عکاسی کرتا تھا جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف طاقت ہی ہر نتیجے کا فیصلہ کرتی ہے۔</p>
<p>یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ شدید دباؤ کے باوجود ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری اسلام آباد کے صبر، سفارتی مہارت اور خطے کے استحکام سے وابستگی کی عکاس تھی۔ پاکستان نے خاموشی مگر مستقل مزاجی سے رابطوں کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ رکاوٹوں اور اشتعال انگیزی کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہ سکے۔ اس کی یہی ثابت قدمی مذاکرات کو اس وقت بھی زندہ رکھنے کا باعث بنی جب سخت بیانات اس عمل کو پٹڑی سے اتارنے کے درپے تھے۔</p>
<p>جس طرح ایتھنز کو یہ خدشہ تھا کہ میلوس کی غیر جانب داری دوسرے چھوٹے علاقوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن جائے گی، اسی طرح واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ ایران کی ثابت قدمی خطے کے دیگر ممالک کو بھی مزاحمت پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں سرِفہرست اسرائیل ہے۔ امریکی پالیسی سازی پر اس کا اثر و رسوخ کھل کر سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیلی قیادت مسلسل واشنگٹن پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے اور کسی مفاہمت کی راہ اختیار نہ کرے۔ اس بیرونی اثراندازی نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور جو عمل دو طرفہ امن کی کوشش ہو سکتا تھا، وہ مختلف مفادات کی کشمکش کا میدان بن گیا ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز اب بھی اس تنازع کا سب سے حساس مرکز ہے۔ ایران اس پر مکمل اختیار کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی بحری بیڑے تہران کی نگرانی کے بغیر بحری راستے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں معمولی سی خلاف ورزی بھی مذاکراتی عمل کو ناکام بنا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام دونوں پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی داخلی سیاسی صورتِ حال اور خلیج میں موجود دیرینہ کشیدگیاں بھی پیش رفت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ آج اس تنازع کے مضمرات تھوسیڈائڈیز کے عہد کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ مذاکرات کی ناکامی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے، عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے اور نازک بین الاقوامی اتحادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔</p>
<p>تھوسیڈائڈیز کا ”میلین مکالمہ“ آج بھی ایک دائمی تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سبق دیتا ہے کہ بے لگام طاقت بالآخر المیے کو جنم دیتی ہے اور انصاف کو نظرانداز کرنے کا انجام تباہی ہوتا ہے۔ 2026 کی ایران-امریکا جنگ میں، مصنف کے مطابق، ٹرمپ کا سخت گیر رویہ ایتھنز کے غرور کی یاد دلاتا ہے، جبکہ ایران کا تحمل میلوس کے وقار کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ تاہم میلوس کے برعکس، ایران نہ صرف اپنی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ مذاکرات بھی کیے اور امن کے اپنے حق پر بھی اصرار کیا۔</p>
<p>اس تمام منظرنامے میں امید کی کرن ایران کی یہی بقا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ شہدا کا خون انتقام کے بجائے تعمیرِ نو کی تحریک بن سکتا ہے، اور سفارت کاری، خواہ کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو، تباہی سے بچنے کا ایک راستہ فراہم کر سکتی ہے۔</p>
<p>اب پوری دنیا کی نظریں دوحہ پر مرکوز ہیں۔ واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مذاکرات ضرور ہوں گے، جبکہ تہران کسی باضابطہ مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے صبر، مستقل مزاجی اور سفارتی کوششوں نے اس عمل کو زندہ رکھا ہے۔ امید یہی ہے کہ تاریخ خود کو دوبارہ نہیں دہرائے گی، میلوس کا سبق فراموش نہیں ہوگا اور طاقت بالآخر اصولوں کے ساتھ بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا سیکھ لے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288140</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 23:44:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایس ایم حالی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/302301082dfe685.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/302301082dfe685.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر ازسرِنو غور کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تدریسی عملے (فیکلٹی) کی رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) کے ڈائریکٹر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) سمیت مختلف انتظامی عہدوں پر تقرری روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عہدے بنیادی طور پر انتظامی امور، سیکریٹریل ذمہ داریوں، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور متعلقہ فریقوں و عوام سے رابطے سے متعلق ہوتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکلٹی کو ایسی انتظامی ذمہ داریوں میں مصروف کرنا انہیں سماجی و معاشی ترقی، تحقیق اور فنڈز کے حصول جیسے بنیادی فرائض سے دور کر دیتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں یہ معمول ہے کہ اساتذہ سیکریٹریل اور انتظامی ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے اپنا زیادہ وقت تحقیق، تدریس، مشاورتی خدمات اور پالیسی سازی میں صرف کرتے ہیں۔ پاکستان کی جامعات میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سینئر اساتذہ کو ان انتظامی اور سیکریٹریل عہدوں پر تعینات کرنے کا رجحان اندرونی سیاست، ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا نتیجہ تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ پابندی نجی شعبے کی جامعات پر کیوں عائد نہیں کی گئی؟ نجی جامعات کے لیے تو مشاورتی اور کنسلٹنسی خدمات کے ذریعے فنڈز کا حصول زیادہ اہم ہے کیونکہ انہیں حکومتی مالی معاونت حاصل نہیں ہوتی، بصورت دیگر مالی بوجھ بالآخر طلبہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکلٹی کی انتظامی اور ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں نے سینئر اساتذہ کو بتدریج بیوروکریٹ بنا دیا، جبکہ جامعات میں آڈٹ اور تعمیل کا ایسا نظام متعارف ہوا جس نے آزادانہ تدریس اور معیاری تحقیق کو محدود کر دیا۔ اس ماحول میں نجی جامعات میں تحقیق محض طلبہ کو راغب کر کے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن گئی، جبکہ سرکاری جامعات مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ مالی مشکلات کے باعث غیر یقینی صورت اختیار کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جامعات اپنی مالی ضروریات کیسے پوری کریں؟ جب حکومتی فنڈنگ دستیاب تھی تو سرکاری جامعات کی انتظامیہ کے لیے وسائل پیدا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اصل توجہ ان وسائل کے استعمال پر مرکوز رہی۔ تعلیمی اداروں میں ذاتی مفادات اور اندرونی سیاست ہی ٹیکس دہندگان کے وسائل کے غیر مؤثر استعمال کی بڑی وجہ بنی۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری کے نام پر ٹیکس دہندگان کا سرمایہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے خرچ کیا جاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان فنڈز کا بڑا حصہ جامعات کے اساتذہ کو مالی مراعات دینے پر صرف ہوا۔ اعلیٰ تنخواہی درجات میں تیز رفتار ترقیاں، ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت پرکشش تنخواہیں، انکم ٹیکس میں رعایت، بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے سفری و رہائشی اخراجات، تحقیقی مقالات کی اشاعت کی فیس، اور پاکستانی جامعات کی کانفرنسوں میں غیر ملکی مقررین کے اعزازیے، رہائش اور سفری اخراجات، وہ نمایاں مدات ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر برداشت کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً ان بھاری اخراجات کے لیے اضافی مالی وسائل بھی پیدا کیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں سے گرانٹس، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حصول، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ، اور مختلف اشیا و خدمات پر سبسڈیز میں کمی یا ان کا خاتمہ وہ ذرائع تھے جن سے اعلیٰ تعلیم پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی۔ تاہم اس حکمت عملی کے قدرتی نتائج میں قرضوں کے بوجھ اور افراطِ زر میں اضافہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے میں جامعات کی تیزی سے بڑھتی تعداد اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مراعات نے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اس طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی درمیانے اور کم درجے کی جامعات نے تیز رفتار ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرام متعارف کرائے اور داخلہ پالیسیوں میں نرمی کر دی۔ ان اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے پاکستانی طلبہ کے داخلوں سے حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں، یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل، لندن سے شائع ہونے والے دی اکانومسٹ اور دیگر ممتاز تھنک ٹینکس نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ کی جامعات مالی مشکلات کے باعث اپنے اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا شکار ہوں گی۔ اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے پر بھاری فنڈز خرچ کیے، جن میں سفر، رہائش، وظائف، ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2005 میں ایک سینئر ماہر تعلیم نے اس پالیسی کے ممکنہ سنگین نتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے، مگر زیادہ تر کا رخ دوسرے درجے کے تعلیمی اداروں کی طرف ہے۔ آج یورپ، چین، جاپان اور ملائیشیا کی اوسط درجے کی جامعات سے ڈگری حاصل کرنے والے یہی پاکستانی اساتذہ ملک کی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو دہائیوں میں قومی خزانے اور ٹیکس دہندگان کے وسائل سے پی ایچ ڈی کرنے والے ان افراد کی عملی کارکردگی کیا رہی؟ صنعت میں ان کی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جامعات میں بھی ان کی علمی خدمات جانچنے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نجی شعبے میں جامعات کی بڑھتی تعداد، پاکستان میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح ہر جامعہ میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) کا قیام، سرقہ شناسی (اینٹی پلیچیارازم) سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل لائبریری کی فراہمی، دو غیر ملکی ممتحنین سے پی ایچ ڈی تحقیق کا جائزہ، ڈبلیو کیٹیگری کے تحقیقی جریدے میں کم از کم ایک مقالے کی اشاعت، اور پی ایچ ڈی مقالوں کے مرکزی ذخیرے (سینٹرالائزڈ ریپوزیٹری) جیسے اقدامات کو بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ تمام کامیابیاں نہ تو معاشی ترقی، نہ تکنیکی پیش رفت اور نہ ہی تحقیق کے معیار میں کسی نمایاں بہتری کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ پالیسی سازوں کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن ان پالیسیوں کی افادیت ضرور زیرِ بحث ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں حقیقی نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دستیاب وسائل کا مؤثر اور درست استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی جامعات کے اساتذہ کی تحقیقی اشاعتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی نہ تو سائنسی ترقی، نہ تکنیکی جدت اور نہ ہی معاشی نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیقی مقالات کی بڑی تعداد میں ایک ہی نوعیت کی روایتی تحقیق درحقیقت ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا ایک مہنگا ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیقی مقالات کی اشاعت سے متعلق فیسوں، جن میں آرٹیکل جمع کرانے کی فیس، آرٹیکل پروسیسنگ چارجز، صفحاتی فیس، ری پرنٹ فیس، فاسٹ ٹریک پیئر ریویو فیس، لسانی تدوین کے اخراجات اور اوپن ایکسس (گولڈ آپشن) فیس شامل ہیں، کے علاوہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور مختلف اداروں کی رکنیت کی مد میں بھی بھاری زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ہوا۔ ان اخراجات کی بڑی حد تک مالی معاونت ہائر ایجوکیشن کمیشن کرتا ہے، جبکہ بالآخر اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان یا جامعات کے طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواہ یہ اخراجات قومی خزانے سے پورے کیے جائیں یا ذاتی وسائل سے، زرمبادلہ کا یہ مسلسل اخراج ان نمائشی اور سطحی تحقیقی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا بنیادی مقصد مختلف عالمی درجہ بندی کرنے والے اداروں کے معیار پر بہتر رینکنگ حاصل کرنا ہے۔ ایسی درجہ بندی کے لیے زیادہ تحقیقی اشاعتیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت، دستاویزی شواہد اور صنعت کے ساتھ روابط کا ریکارڈ بنیادی تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بورڈ آف گورنرز اور مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں کا باقاعدہ ریکارڈ، ان کی تشکیل، مختلف شعبوں کی رسمی کارروائیاں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈبلیو کیٹیگری کے جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبوں (جن میں اکثریت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے مکمل ہوتی ہے) کو اعلیٰ درجہ بندی کے اہم پیمانے تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، ایجادات، اختراعات، سائنسی دریافتیں، فکری ارتقا، سیاسی نظام اور طرزِ حکمرانی میں بہتری، سماجی اقدار کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور معاشرتی ترقی جیسے اہداف جامعات کے بنیادی مقاصد میں شامل ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کی دنیا میں تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی اصل طاقت ان کی جامعات ہیں، جو عالمی سطح کی اعلیٰ جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان جامعات میں فیکلٹی کے انتخاب کے لیے اعلیٰ معیار کی تحقیق ایک بنیادی شرط ہے، لیکن وہاں تحقیق کا معیار اس کے نتائج اور افادیت سے جانچا جاتا ہے، نہ کہ صرف تحقیقی مقالات یا حوالہ جات (سےٹیشن) کی تعداد سے۔ ان جامعات کے مضبوط انڈرگریجویٹ پروگرام بھی ان کے اساتذہ کی تحقیقی صلاحیتوں کا ہی ثمر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی معیار کی جامعات میں طلبہ کے انتخاب کا نظام بھی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں مرکزی امتحانی نظام امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت، مقداری مہارت، زبان پر عبور اور متعلقہ مضمون کے علم کو جانچتا ہے اور اسی بنیاد پر بہترین اور اوسط درجے کے امیدواروں میں فرق کرتا ہے۔ یوں ہر مرحلے پر باصلاحیت ذہنوں کا انتخاب یقینی بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات میں داخلے کے بعد تعلیمی اخراجات کی مالی معاونت کے لیے بھی مختلف ذرائع موجود ہوتے ہیں، جن میں بینک قرضے، اثاثوں کے عوض مالی سہولت، ممکنہ آجر کی مالی ضمانت، وظائف اور اسکالرشپس شامل ہیں۔ بہترین جامعات میں بہترین اساتذہ اور بہترین طلبہ ہی مستقبل کے کامیاب رہنما، سائنس دان، محقق، پالیسی ساز اور مدبر پیدا کرتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں تو پالیسی سازوں اور جامعات کی انتظامیہ کو عالمی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور جامعات کے معاملات میں سیاسی اثرورسوخ، لابنگ اور اقربا پروری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی خودمختاری کے نام پر لابنگ اور یونین ازم نے اعلیٰ تعلیم کے زوال میں اہم کردار ادا کیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کو بھی متاثر کیا۔ جامعات کی خودمختاری اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کا پسندیدہ نعرہ بن چکی ہے، حالانکہ قومی ذرائع ابلاغ میں اس خودمختاری کے غلط استعمال کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ افسوس کہ اس خودمختاری کو بااثر جامعہ سربراہان نے اپنی خواہشات کے مطابق قواعد و ضوابط میں ردوبدل اور ان کی من مانی تشریح کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ فیکلٹی کی تقرری، طلبہ کے داخلے، پوزیشن ہولڈرز کے تعین، تحقیقی مقالات کی منظوری اور سلیکشن بورڈز کی تشکیل کے معیار میں بار بار تبدیلیاں تعلیمی خودمختاری کے نام پر معمول بن چکی ہیں۔ اس قسم کی فکری بدعنوانی کا ملک کے سیاسی نظام یا سول بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑیں ذاتی مفادات، اقربا پروری اور پسند و ناپسند میں پیوست ہیں۔ بعض اوقات اس میں نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب بھی شامل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونین ازم اور مختلف گروہ بندیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تدریسی اور تحقیقی معیار جانچنے کے اصول بھی نرم کر دیے۔ ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے 2005 میں واضح طور پر کہا تھا کہ سرکاری جامعات میں موجود نام نہاد ”ماہرین تعلیم“ اور ”دانشور“ مقامی جامعات سے حاصل کردہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کے ذریعے اپنے ہی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے این ٹی ایس یا جی آرای امتحان لازمی قرار دیا تھا، مگر بڑی سرکاری جامعات کے اساتذہ اس شرط پر پورا نہ اتر سکے تو ان جامعات کی اکیڈمک کونسلز نے یہ شرط ہی ختم کر دی۔ اسی طرح ابتدا میں اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے لیے آئی ایس آئی تھامسن(ویب آف سائنس) سے تسلیم شدہ تحقیقی جرائد میں مخصوص تعداد میں مقالات شائع کرنا ضروری تھا، لیکن بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈبلیو،ایکس،وائی اورزیڈ کیٹیگری کے جرائد متعارف کرا کے اس معیار کو بھی نرم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصاب سازی کی کمیٹیوں کو جمہوری انداز دینے کے نام پر تمام جامعات کو قومی نصاب کی تیاری میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں نصاب کمیٹیوں میں اکثریت چھوٹے شہروں کی جامعات یا نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی ہو گئی، اور یہی اکثریت نصاب کی حتمی منظوری کی مجاز بھی بن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں سرکاری جامعات کے بعض شعبوں اور تحقیقی مراکز کی بندش، علیحدگی یا خودمختار حیثیت کے خاتمے جیسے مسائل بھی اسی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف شعبوں اور مراکز کی پائیداری اور معاشی افادیت کا جائزہ عموماً ان کے اخراجات اور معاشی و سماجی نتائج کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں قائم کوئی تحقیقی مرکز اگر اسے حقیقی خودمختاری دی جائے تو ملکی معیشت اور معاشرے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی جامعہ کا ایک اور تحقیقی مرکز بھی عوامی وسائل کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود انتہائی محدود نتائج دے رہا ہے۔ اگر اس کے مجموعی بجٹ کو فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایم فل طالب علم پر آنے والی لاگت دو کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی سرکاری جامعات میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کس طرح نااہلی، غیر مؤثر انتظام اور وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2006&lt;/strong&gt; میں ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جامعات کے طرزِ حکمرانی (گورننس) میں اصلاحات کیے بغیر اصلاحاتی پروگرام نافذ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، بدانتظامی اور اقربا پروری نے غیر معمولی فروغ پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" href="#پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بلاشبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو درپیش ان بنیادی اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل تجاویز پر غور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات کی پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کا تنوع ناگزیر ہے۔ تحقیق، اختراعات، مشاورتی خدمات، سابق طلبہ (المنائی) کے عطیات، داخلہ و ٹیوشن فیس، سرکاری و نجی شراکت داری اور مخیر حضرات کے عطیات وہ اہم ذرائع ہیں جن سے جامعات کی مالی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان میں سرکاری جامعات کی مالیات کا بنیادی انحصار قومی خزانے پر ہے، جبکہ نجی جامعات کی آمدنی کا بڑا ذریعہ طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس ہے۔ حتیٰ کہ جامعات میں جاری بیشتر تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت بھی ان اداروں کی جانب سے نہیں کی جاتی جو ان تحقیقات کے اصل مستفید ہونے چاہییں، مثلاً صنعتی ادارے، تجارتی کمپنیاں اور پالیسی سازی کے ادارے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی و تجارتی شعبے میں بھی تحقیقی نتائج سے استفادہ کرنے کا مطلوبہ شعور موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں تحقیق کے لیے گرانٹس زیادہ تر ہائر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر سرکاری ادارے فراہم کرتے ہیں، جو مالی وسائل کا پائیدار ذریعہ نہیں۔ اس طرزِ عمل سے طویل المدتی منصوبہ بندی، اختراعات اور علم کی تخلیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری جامعات کی مالی معاونت اور نجی جامعات کے طلبہ کی مدد کے لیے سوشل کنٹری بیوشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جاتی ہے۔ امریکا میں سرکاری آمدنی کا 37 فیصد، برطانیہ میں 21 فیصد اور اسرائیل میں 17 فیصد حصہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عالمی اوسط 37 فیصد ہے۔ باقی آمدنی انکم ٹیکس، منافع، دولت، اشیا و خدمات اور بین الاقوامی تجارت پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل کنٹری بیوشنز اور عام ٹیکسوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مصرف آئینی طور پر پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اسے عمومی سرکاری اخراجات پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ماضی میں اقرا سرچارج، دفاعی سرچارج اور کاٹن سیس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اسی طرز پر اعلیٰ تعلیم کی مالی معاونت کے لیے پاکستان کے مالیاتی نظام میں بھی مخصوص سماجی شراکتوں کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی و معاشی ترقی کے اشاریوں کی پیمائش میں اعلیٰ تعلیم کو ہمیشہ سائنس و ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، ہائی ٹیک مصنوعات، اختراعات اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، نہ کہ شرحِ خواندگی کے اشاریوں کے ساتھ۔ خواندگی اور اعلیٰ تعلیم، تعلیم کے دو الگ شعبے ہیں جن کی کارکردگی، وسائل اور نتائج جانچنے کے پیمانے بھی مختلف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کی تعداد میں معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض مقداری اضافہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اگرچہ اعلیٰ تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس ضرورت کو مضبوط پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کم لاگت پر پوسٹ گریجویٹ کالجوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے، اور کئی برسوں تک کامیاب کارکردگی دکھانے کے بعد ہی انہیں جامعہ کا درجہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعات کی حکمرانی اور مالی معاونت کے نظام میں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی کردار آمدنی میں عدم مساوات کم کرنا اور غربت میں کمی لانا ہے۔ تاریخی طور پر جامعات نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کو خوشحال طبقے میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر اب جامعات خود آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، اور اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ان کا فیس پر مبنی آمدنی کے نظام پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تدریسی عملے (فیکلٹی) کی رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) کے ڈائریکٹر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) سمیت مختلف انتظامی عہدوں پر تقرری روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عہدے بنیادی طور پر انتظامی امور، سیکریٹریل ذمہ داریوں، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور متعلقہ فریقوں و عوام سے رابطے سے متعلق ہوتے ہیں۔</strong></p>
<p>فیکلٹی کو ایسی انتظامی ذمہ داریوں میں مصروف کرنا انہیں سماجی و معاشی ترقی، تحقیق اور فنڈز کے حصول جیسے بنیادی فرائض سے دور کر دیتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں یہ معمول ہے کہ اساتذہ سیکریٹریل اور انتظامی ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے اپنا زیادہ وقت تحقیق، تدریس، مشاورتی خدمات اور پالیسی سازی میں صرف کرتے ہیں۔ پاکستان کی جامعات میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سینئر اساتذہ کو ان انتظامی اور سیکریٹریل عہدوں پر تعینات کرنے کا رجحان اندرونی سیاست، ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا نتیجہ تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ پابندی نجی شعبے کی جامعات پر کیوں عائد نہیں کی گئی؟ نجی جامعات کے لیے تو مشاورتی اور کنسلٹنسی خدمات کے ذریعے فنڈز کا حصول زیادہ اہم ہے کیونکہ انہیں حکومتی مالی معاونت حاصل نہیں ہوتی، بصورت دیگر مالی بوجھ بالآخر طلبہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>فیکلٹی کی انتظامی اور ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں نے سینئر اساتذہ کو بتدریج بیوروکریٹ بنا دیا، جبکہ جامعات میں آڈٹ اور تعمیل کا ایسا نظام متعارف ہوا جس نے آزادانہ تدریس اور معیاری تحقیق کو محدود کر دیا۔ اس ماحول میں نجی جامعات میں تحقیق محض طلبہ کو راغب کر کے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن گئی، جبکہ سرکاری جامعات مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ مالی مشکلات کے باعث غیر یقینی صورت اختیار کر چکی ہے۔</p>
<p>یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جامعات اپنی مالی ضروریات کیسے پوری کریں؟ جب حکومتی فنڈنگ دستیاب تھی تو سرکاری جامعات کی انتظامیہ کے لیے وسائل پیدا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اصل توجہ ان وسائل کے استعمال پر مرکوز رہی۔ تعلیمی اداروں میں ذاتی مفادات اور اندرونی سیاست ہی ٹیکس دہندگان کے وسائل کے غیر مؤثر استعمال کی بڑی وجہ بنی۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری کے نام پر ٹیکس دہندگان کا سرمایہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے خرچ کیا جاتا رہا۔</p>
<p>ان فنڈز کا بڑا حصہ جامعات کے اساتذہ کو مالی مراعات دینے پر صرف ہوا۔ اعلیٰ تنخواہی درجات میں تیز رفتار ترقیاں، ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت پرکشش تنخواہیں، انکم ٹیکس میں رعایت، بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے سفری و رہائشی اخراجات، تحقیقی مقالات کی اشاعت کی فیس، اور پاکستانی جامعات کی کانفرنسوں میں غیر ملکی مقررین کے اعزازیے، رہائش اور سفری اخراجات، وہ نمایاں مدات ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر برداشت کیا گیا۔</p>
<p>یقیناً ان بھاری اخراجات کے لیے اضافی مالی وسائل بھی پیدا کیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں سے گرانٹس، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حصول، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ، اور مختلف اشیا و خدمات پر سبسڈیز میں کمی یا ان کا خاتمہ وہ ذرائع تھے جن سے اعلیٰ تعلیم پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی۔ تاہم اس حکمت عملی کے قدرتی نتائج میں قرضوں کے بوجھ اور افراطِ زر میں اضافہ شامل ہیں۔</p>
<p>نجی شعبے میں جامعات کی تیزی سے بڑھتی تعداد اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مراعات نے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اس طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی درمیانے اور کم درجے کی جامعات نے تیز رفتار ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرام متعارف کرائے اور داخلہ پالیسیوں میں نرمی کر دی۔ ان اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے پاکستانی طلبہ کے داخلوں سے حاصل ہوا۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں، یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل، لندن سے شائع ہونے والے دی اکانومسٹ اور دیگر ممتاز تھنک ٹینکس نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ کی جامعات مالی مشکلات کے باعث اپنے اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا شکار ہوں گی۔ اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے پر بھاری فنڈز خرچ کیے، جن میں سفر، رہائش، وظائف، ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات شامل تھے۔</p>
<p>2005 میں ایک سینئر ماہر تعلیم نے اس پالیسی کے ممکنہ سنگین نتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے، مگر زیادہ تر کا رخ دوسرے درجے کے تعلیمی اداروں کی طرف ہے۔ آج یورپ، چین، جاپان اور ملائیشیا کی اوسط درجے کی جامعات سے ڈگری حاصل کرنے والے یہی پاکستانی اساتذہ ملک کی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ دو دہائیوں میں قومی خزانے اور ٹیکس دہندگان کے وسائل سے پی ایچ ڈی کرنے والے ان افراد کی عملی کارکردگی کیا رہی؟ صنعت میں ان کی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جامعات میں بھی ان کی علمی خدمات جانچنے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔</p>
<p>اپنی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نجی شعبے میں جامعات کی بڑھتی تعداد، پاکستان میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح ہر جامعہ میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) کا قیام، سرقہ شناسی (اینٹی پلیچیارازم) سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل لائبریری کی فراہمی، دو غیر ملکی ممتحنین سے پی ایچ ڈی تحقیق کا جائزہ، ڈبلیو کیٹیگری کے تحقیقی جریدے میں کم از کم ایک مقالے کی اشاعت، اور پی ایچ ڈی مقالوں کے مرکزی ذخیرے (سینٹرالائزڈ ریپوزیٹری) جیسے اقدامات کو بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ تمام کامیابیاں نہ تو معاشی ترقی، نہ تکنیکی پیش رفت اور نہ ہی تحقیق کے معیار میں کسی نمایاں بہتری کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ پالیسی سازوں کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن ان پالیسیوں کی افادیت ضرور زیرِ بحث ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں حقیقی نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دستیاب وسائل کا مؤثر اور درست استعمال کیا جائے۔</p>
<p>پاکستانی جامعات کے اساتذہ کی تحقیقی اشاعتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی نہ تو سائنسی ترقی، نہ تکنیکی جدت اور نہ ہی معاشی نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیقی مقالات کی بڑی تعداد میں ایک ہی نوعیت کی روایتی تحقیق درحقیقت ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا ایک مہنگا ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیقی مقالات کی اشاعت سے متعلق فیسوں، جن میں آرٹیکل جمع کرانے کی فیس، آرٹیکل پروسیسنگ چارجز، صفحاتی فیس، ری پرنٹ فیس، فاسٹ ٹریک پیئر ریویو فیس، لسانی تدوین کے اخراجات اور اوپن ایکسس (گولڈ آپشن) فیس شامل ہیں، کے علاوہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور مختلف اداروں کی رکنیت کی مد میں بھی بھاری زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ہوا۔ ان اخراجات کی بڑی حد تک مالی معاونت ہائر ایجوکیشن کمیشن کرتا ہے، جبکہ بالآخر اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان یا جامعات کے طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>خواہ یہ اخراجات قومی خزانے سے پورے کیے جائیں یا ذاتی وسائل سے، زرمبادلہ کا یہ مسلسل اخراج ان نمائشی اور سطحی تحقیقی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا بنیادی مقصد مختلف عالمی درجہ بندی کرنے والے اداروں کے معیار پر بہتر رینکنگ حاصل کرنا ہے۔ ایسی درجہ بندی کے لیے زیادہ تحقیقی اشاعتیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت، دستاویزی شواہد اور صنعت کے ساتھ روابط کا ریکارڈ بنیادی تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح بورڈ آف گورنرز اور مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں کا باقاعدہ ریکارڈ، ان کی تشکیل، مختلف شعبوں کی رسمی کارروائیاں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈبلیو کیٹیگری کے جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبوں (جن میں اکثریت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے مکمل ہوتی ہے) کو اعلیٰ درجہ بندی کے اہم پیمانے تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، ایجادات، اختراعات، سائنسی دریافتیں، فکری ارتقا، سیاسی نظام اور طرزِ حکمرانی میں بہتری، سماجی اقدار کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور معاشرتی ترقی جیسے اہداف جامعات کے بنیادی مقاصد میں شامل ہی نہیں۔</p>
<p>آج کی دنیا میں تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی اصل طاقت ان کی جامعات ہیں، جو عالمی سطح کی اعلیٰ جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان جامعات میں فیکلٹی کے انتخاب کے لیے اعلیٰ معیار کی تحقیق ایک بنیادی شرط ہے، لیکن وہاں تحقیق کا معیار اس کے نتائج اور افادیت سے جانچا جاتا ہے، نہ کہ صرف تحقیقی مقالات یا حوالہ جات (سےٹیشن) کی تعداد سے۔ ان جامعات کے مضبوط انڈرگریجویٹ پروگرام بھی ان کے اساتذہ کی تحقیقی صلاحیتوں کا ہی ثمر ہوتے ہیں۔</p>
<p>عالمی معیار کی جامعات میں طلبہ کے انتخاب کا نظام بھی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں مرکزی امتحانی نظام امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت، مقداری مہارت، زبان پر عبور اور متعلقہ مضمون کے علم کو جانچتا ہے اور اسی بنیاد پر بہترین اور اوسط درجے کے امیدواروں میں فرق کرتا ہے۔ یوں ہر مرحلے پر باصلاحیت ذہنوں کا انتخاب یقینی بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>جامعات میں داخلے کے بعد تعلیمی اخراجات کی مالی معاونت کے لیے بھی مختلف ذرائع موجود ہوتے ہیں، جن میں بینک قرضے، اثاثوں کے عوض مالی سہولت، ممکنہ آجر کی مالی ضمانت، وظائف اور اسکالرشپس شامل ہیں۔ بہترین جامعات میں بہترین اساتذہ اور بہترین طلبہ ہی مستقبل کے کامیاب رہنما، سائنس دان، محقق، پالیسی ساز اور مدبر پیدا کرتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں تو پالیسی سازوں اور جامعات کی انتظامیہ کو عالمی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور جامعات کے معاملات میں سیاسی اثرورسوخ، لابنگ اور اقربا پروری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی خودمختاری کے نام پر لابنگ اور یونین ازم نے اعلیٰ تعلیم کے زوال میں اہم کردار ادا کیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کو بھی متاثر کیا۔ جامعات کی خودمختاری اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کا پسندیدہ نعرہ بن چکی ہے، حالانکہ قومی ذرائع ابلاغ میں اس خودمختاری کے غلط استعمال کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ افسوس کہ اس خودمختاری کو بااثر جامعہ سربراہان نے اپنی خواہشات کے مطابق قواعد و ضوابط میں ردوبدل اور ان کی من مانی تشریح کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ فیکلٹی کی تقرری، طلبہ کے داخلے، پوزیشن ہولڈرز کے تعین، تحقیقی مقالات کی منظوری اور سلیکشن بورڈز کی تشکیل کے معیار میں بار بار تبدیلیاں تعلیمی خودمختاری کے نام پر معمول بن چکی ہیں۔ اس قسم کی فکری بدعنوانی کا ملک کے سیاسی نظام یا سول بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑیں ذاتی مفادات، اقربا پروری اور پسند و ناپسند میں پیوست ہیں۔ بعض اوقات اس میں نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب بھی شامل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یونین ازم اور مختلف گروہ بندیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تدریسی اور تحقیقی معیار جانچنے کے اصول بھی نرم کر دیے۔ ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے 2005 میں واضح طور پر کہا تھا کہ سرکاری جامعات میں موجود نام نہاد ”ماہرین تعلیم“ اور ”دانشور“ مقامی جامعات سے حاصل کردہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کے ذریعے اپنے ہی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے این ٹی ایس یا جی آرای امتحان لازمی قرار دیا تھا، مگر بڑی سرکاری جامعات کے اساتذہ اس شرط پر پورا نہ اتر سکے تو ان جامعات کی اکیڈمک کونسلز نے یہ شرط ہی ختم کر دی۔ اسی طرح ابتدا میں اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے لیے آئی ایس آئی تھامسن(ویب آف سائنس) سے تسلیم شدہ تحقیقی جرائد میں مخصوص تعداد میں مقالات شائع کرنا ضروری تھا، لیکن بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈبلیو،ایکس،وائی اورزیڈ کیٹیگری کے جرائد متعارف کرا کے اس معیار کو بھی نرم کر دیا۔</p>
<p>نصاب سازی کی کمیٹیوں کو جمہوری انداز دینے کے نام پر تمام جامعات کو قومی نصاب کی تیاری میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں نصاب کمیٹیوں میں اکثریت چھوٹے شہروں کی جامعات یا نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی ہو گئی، اور یہی اکثریت نصاب کی حتمی منظوری کی مجاز بھی بن گئی۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں سرکاری جامعات کے بعض شعبوں اور تحقیقی مراکز کی بندش، علیحدگی یا خودمختار حیثیت کے خاتمے جیسے مسائل بھی اسی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف شعبوں اور مراکز کی پائیداری اور معاشی افادیت کا جائزہ عموماً ان کے اخراجات اور معاشی و سماجی نتائج کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں قائم کوئی تحقیقی مرکز اگر اسے حقیقی خودمختاری دی جائے تو ملکی معیشت اور معاشرے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اسی جامعہ کا ایک اور تحقیقی مرکز بھی عوامی وسائل کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود انتہائی محدود نتائج دے رہا ہے۔ اگر اس کے مجموعی بجٹ کو فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایم فل طالب علم پر آنے والی لاگت دو کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی سرکاری جامعات میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کس طرح نااہلی، غیر مؤثر انتظام اور وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p><strong>2006</strong> میں ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جامعات کے طرزِ حکمرانی (گورننس) میں اصلاحات کیے بغیر اصلاحاتی پروگرام نافذ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، بدانتظامی اور اقربا پروری نے غیر معمولی فروغ پایا۔</p>
<h3><a id="پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" href="#پالیسی-سازوں-اور-ریگولیٹری-اداروں-کو-کیا-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟</strong></h3>
<p>بلاشبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو درپیش ان بنیادی اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل تجاویز پر غور کرنا چاہیے۔</p>
<p>جامعات کی پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کا تنوع ناگزیر ہے۔ تحقیق، اختراعات، مشاورتی خدمات، سابق طلبہ (المنائی) کے عطیات، داخلہ و ٹیوشن فیس، سرکاری و نجی شراکت داری اور مخیر حضرات کے عطیات وہ اہم ذرائع ہیں جن سے جامعات کی مالی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم پاکستان میں سرکاری جامعات کی مالیات کا بنیادی انحصار قومی خزانے پر ہے، جبکہ نجی جامعات کی آمدنی کا بڑا ذریعہ طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس ہے۔ حتیٰ کہ جامعات میں جاری بیشتر تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت بھی ان اداروں کی جانب سے نہیں کی جاتی جو ان تحقیقات کے اصل مستفید ہونے چاہییں، مثلاً صنعتی ادارے، تجارتی کمپنیاں اور پالیسی سازی کے ادارے۔</p>
<p>صنعتی و تجارتی شعبے میں بھی تحقیقی نتائج سے استفادہ کرنے کا مطلوبہ شعور موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں تحقیق کے لیے گرانٹس زیادہ تر ہائر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر سرکاری ادارے فراہم کرتے ہیں، جو مالی وسائل کا پائیدار ذریعہ نہیں۔ اس طرزِ عمل سے طویل المدتی منصوبہ بندی، اختراعات اور علم کی تخلیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔</p>
<p>ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری جامعات کی مالی معاونت اور نجی جامعات کے طلبہ کی مدد کے لیے سوشل کنٹری بیوشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جاتی ہے۔ امریکا میں سرکاری آمدنی کا 37 فیصد، برطانیہ میں 21 فیصد اور اسرائیل میں 17 فیصد حصہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عالمی اوسط 37 فیصد ہے۔ باقی آمدنی انکم ٹیکس، منافع، دولت، اشیا و خدمات اور بین الاقوامی تجارت پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے۔</p>
<p>سوشل کنٹری بیوشنز اور عام ٹیکسوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مصرف آئینی طور پر پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اسے عمومی سرکاری اخراجات پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ماضی میں اقرا سرچارج، دفاعی سرچارج اور کاٹن سیس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اسی طرز پر اعلیٰ تعلیم کی مالی معاونت کے لیے پاکستان کے مالیاتی نظام میں بھی مخصوص سماجی شراکتوں کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>سماجی و معاشی ترقی کے اشاریوں کی پیمائش میں اعلیٰ تعلیم کو ہمیشہ سائنس و ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، ہائی ٹیک مصنوعات، اختراعات اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، نہ کہ شرحِ خواندگی کے اشاریوں کے ساتھ۔ خواندگی اور اعلیٰ تعلیم، تعلیم کے دو الگ شعبے ہیں جن کی کارکردگی، وسائل اور نتائج جانچنے کے پیمانے بھی مختلف ہوتے ہیں۔</p>
<p>جامعات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کی تعداد میں معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض مقداری اضافہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اگرچہ اعلیٰ تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس ضرورت کو مضبوط پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کم لاگت پر پوسٹ گریجویٹ کالجوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے، اور کئی برسوں تک کامیاب کارکردگی دکھانے کے بعد ہی انہیں جامعہ کا درجہ دیا جائے۔</p>
<p>جامعات کی حکمرانی اور مالی معاونت کے نظام میں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی کردار آمدنی میں عدم مساوات کم کرنا اور غربت میں کمی لانا ہے۔ تاریخی طور پر جامعات نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کو خوشحال طبقے میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر اب جامعات خود آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، اور اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ان کا فیس پر مبنی آمدنی کے نظام پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔</p>
<p>نوٹ: ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288075</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 19:31:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ایوب مہر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/29191223cd7ddc2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/29191223cd7ddc2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی دور کیلئے مستقبل کی مارکیٹرز کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288019/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) تقریباً ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اور مارکیٹنگ ان شعبوں میں شامل ہے جہاں انتہائی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ خودکار کانٹینٹ تخلیق، پریڈکٹو اینالیٹکس، ذاتی نوعیت کے کسٹمر تجربات اور ذہین سرچ آپٹیمائزیشن سے لے کر، اے آئی اس طریقۂ کار کو نئی شکل دے رہی ہے جس کے ذریعے ادارے صارفین سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مارکیٹنگ کے لیے درکار مہارتیں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے کاروبار تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر انحصار کر رہے ہیں، تعلیمی اداروں کو بھی ان پیش رفتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ جامعات، کالجز اور تربیتی ادارے کس حد تک مؤثر انداز میں اے آئی کو اپنی تدریس، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں میں شامل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم میں صارفین کے رویّے ، برانڈنگ، ایڈورٹائزنگ، مارکیٹ ریسرچ، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (ایس ای او) جیسے شعبوں پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ تمام مضامین اب بھی اہم ہیں، لیکن اے آئی مارکیٹنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے درکار مہارتوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس لیے مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو نہ صرف مارکیٹنگ کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی بلکہ یہ بھی جاننا ہوگا کہ اے آئی سسٹمز ڈیٹا کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں، فیصلوں کو خودکار کیسے بناتے ہیں اور صارفین کے رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے میں سب سے نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک ڈیٹا لٹریسی  کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ جدید مارکیٹنگ مہمات ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن لین دین سے بہت بڑی مقدار میں معلومات پیدا کرتی ہیں۔ چونکہ اے آئی ٹیکنالوجیز اس ڈیٹا کو انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پراسیس کر سکتی ہیں، اس لیے طلبہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ڈیٹا کی تشریح کیسے کی جائے، بامعنی رجحانات کی نشاندہی کیسے کی جائے اور معلومات کی بنیاد پر مؤثر اسٹریٹجک فیصلے کیسے کیے جائیں۔ اس طرح ایسی تعلیم، جو مارکیٹنگ کے علم کو تجزیاتی مہارتوں کے ساتھ یکجا کرے، جدید دور کی ملازمتوں کے لیے گریجویٹس کو تیار کرنے میں نہایت اہم ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران اے آئی سے چلنے والے ٹولز اس طریقے کو بھی تبدیل کر رہے ہیں جس کے ذریعے مارکیٹرز کانٹینٹ تخلیق کرتے ہیں۔ جنریٹو اے آئی سسٹمز چند ہی سیکنڈز میں مضامین، سوشل میڈیا پوسٹس، اشتہارات، مصنوعات کی تفصیلات اور صارفین کے لیے پیغامات تیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسانی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ اس سے تعلیم کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو یہ سکھانا ہوگا کہ اے آئی کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے، اے آئی کے تیار کردہ مواد کا تنقیدی جائزہ کیسے لیا جائے، اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ وہ درست، اخلاقی اور برانڈ کی اقدار سے ہم آہنگ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے مستقبل کے تعلیمی کورسز میں اے آئی کو مارکیٹرز کا متبادل سمجھنے کے بجائے انسان اور اے آئی کے باہمی اشتراک پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانٹینٹ کی تخلیق کے علاوہ ایس ای او بھی بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ روایتی ایس ای او حکمتِ عملیوں کا انحصار زیادہ تر کی ورڈ ریسرچ، ٹیکنیکل آپٹیمائزیشن اور لنک بلڈنگ پر ہوتا تھا۔ تاہم اے آئی سے چلنے والے سرچ سسٹمز اب صارف کی نیت ، کانٹینٹ کے معیار اور سیاق و سباق سے مطابقت  کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ نتیجتاً، مارکیٹنگ کے نصاب کو اس انداز میں جدید بنایا جانا چاہیے کہ طلبہ اے آئی سے معاونت یافتہ ایس ای او ٹولز، سرچ رویّوں کے تجزیے اور ان نئی ٹیکنالوجیز کا عملی علم حاصل کر سکیں جو آن لائن  وزیبلیٹی کا تعین کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کے ہر پہلو میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے یہ تکنیکی شعبے ترقی کر رہے ہیں، ویسے ہی تجزیاتی سوچ  کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگرچہ اے آئی سسٹمز سفارشات اور پیش گوئیاں فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کی پیش گوئیاں ہمیشہ درست یا غیر جانبدار نہیں ہوتیں۔ اس لیے مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کو خودکار نتائج پر سوال اٹھانے اور درست فہم و فراست کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے۔ اس ضرورت کے پیش نظر، تعلیمی اداروں کو مسئلہ حل کرنے، گہرے تجزیے اور منطقی استدلال پر زیادہ زور دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر اخلاقیات اب ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا بنیادی ستون بنتی جا رہی ہیں۔ اے آئی سسٹمز بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، جس میں اکثر ذاتی اور حساس معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے رازداری، شفافیت، ڈیٹا کے تحفظ اور انصاف سے متعلق نہایت اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلبہ کو ان تمام مسائل کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکیں۔ چنانچہ مستقبل کے نصاب میں ڈیجیٹل ایتھکس ، گورننس  اور ریگولیٹری کمپلائنس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخلاقیات کے علاوہ ایک اور بڑی تبدیلی بین الشعبہ جاتی تعلیم  کی ضرورت ہے۔ مارکیٹنگ اب صرف کاروباری علم تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا تعلق ٹیکنالوجی، نفسیات، ڈیٹا سائنس اور بزنس اینالیٹکس سے بھی جڑ چکا ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل کی تعلیم مختلف شعبوں کے درمیان اشتراک کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاکہ طلبہ ایسے منصوبوں پر کام کر سکیں جن میں صارفین کی نفسیات ، مشین لرننگ  اور ڈیٹا ویژولائزیشن جیسے شعبے یکجا ہوں۔ یہ حقیقی صنعتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مارکیٹنگ ٹیمیں ڈیٹا سائنٹسٹس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی ماحول خود بھی اے آئی کی بدولت تبدیل ہو رہا ہے۔ ذہین تدریسی نظام  اور ایڈاپٹو لرننگ پلیٹ فارمز تعلیم کو زیادہ ذاتی نوعیت کی، مؤثر اور لچکدار بنا رہے ہیں۔ یہ ٹولز طلبہ کی سیکھنے میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مناسب مطالعاتی وسائل تجویز کر سکتے ہیں اور فوری فیڈ بیک فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ اپنی زیادہ توجہ رہنمائی، مباحثے اور عملی اطلاق پر مرکوز کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی تعلیمی تجربہ بہتر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ ترقی  کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے مارکیٹنگ کا علم بھی مختصر وقت میں پرانا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جامعات اور تربیتی اداروں کو مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے، جیسے مختصر کورسز، سرٹیفیکیشنز، ورکشاپس اور آن لائن پروگرامز، جو مارکیٹنگ میں اے آئی کے استعمال پر مرکوز ہوں۔ اس طرح تاحیات تعلیم  پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ناگزیر بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بھی مستقبل کی مارکیٹنگ کی تعلیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ علمی تحقیق اداروں کو نئی ٹیکنالوجیز، صارفین کے رویّوں اور ڈیجیٹل حکمتِ عملیوں کی مؤثریت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ شواہد پر مبنی تحقیق نہ صرف تدریسی مواد کو بہتر بناتی ہے بلکہ صنعت کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ جامعات جو اے آئی اور مارکیٹنگ سے متعلق تحقیق میں سرمایہ کاری کریں گی، وہ مستقبل میں اس شعبے کے معیار اور سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کے کلاس رومز میں تجرباتی تعلیم  پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ طلبہ حقیقی ڈیٹا سیٹس ، اے آئی پر مبنی مارکیٹنگ پلیٹ فارمز، کسٹمر اینالیٹکس ٹولز  اور ڈیجیٹل کیمپین سیمولیشنز  کے ساتھ عملی کام کریں گے۔ چونکہ آج کے آجر ایسے گریجویٹس کو ترجیح دیتے ہیں جن کے پاس عملی مہارتیں موجود ہوں، اس لیے انٹرن شپس ، صنعتی شراکت داریاں اور پروجیکٹ بیسڈ لرننگ  کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم عنصر عالمگیریت ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اب قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہی کیونکہ مارکیٹنگ مہمات اکثر بین الاقوامی صارفین کو ہدف بناتی ہیں۔ اگرچہ اے آئی عالمی سطح پر رابطوں کو آسان بناتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ثقافتی اختلافات اور لوکلائزیشن سے متعلق نئے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا طلبہ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ عالمی منڈیوں میں کام کر سکیں اور ساتھ ہی اخلاقی اور ثقافتی حساسیت پر مبنی مارکیٹنگ کے اصولوں کو بھی برقرار رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ صرف معلومات فراہم کرنے والے ہونے کے بجائے، لیکچررز اب زیادہ سے زیادہ مینٹور ، معاون  اور رہنما  کا کردار ادا کریں گے۔ چونکہ اے آئی بہت تیزی سے معلومات فراہم کر سکتی ہے، اس لیے تعلیم کی اصل اہمیت تخلیقی صلاحیت، درست فیصلہ سازی، اسٹریٹجک سوچ  اور اخلاقی شعور پیدا کرنے میں ہوگی۔ یہ انسانی صلاحیتیں اس وقت بھی ناگزیر رہیں گی جب ٹیکنالوجی مزید ترقی یافتہ ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، سیکھنے کے عمل اور پیشہ ورانہ مشق میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔ کامیابی کے لیے ایسا متوازن طریقۂ کار درکار ہوگا جو ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت، اخلاقیات اور تجزیاتی سوچ کو یکجا کرے۔ وہ تعلیمی ادارے جو مضبوط علمی بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان تبدیلیوں کو اپنائیں گے، وہ مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو ایک ایسے دنیا کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکیں گے جو تیزی سے زیادہ ذہین، ڈیٹا پر مبنی اور اے آئی پر مبنی بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) تقریباً ہر صنعت کو تبدیل کر رہی ہے، اور مارکیٹنگ ان شعبوں میں شامل ہے جہاں انتہائی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ خودکار کانٹینٹ تخلیق، پریڈکٹو اینالیٹکس، ذاتی نوعیت کے کسٹمر تجربات اور ذہین سرچ آپٹیمائزیشن سے لے کر، اے آئی اس طریقۂ کار کو نئی شکل دے رہی ہے جس کے ذریعے ادارے صارفین سے رابطہ کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں مارکیٹنگ کے لیے درکار مہارتیں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔</strong></p>
<p>جیسے جیسے کاروبار تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر انحصار کر رہے ہیں، تعلیمی اداروں کو بھی ان پیش رفتوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ جامعات، کالجز اور تربیتی ادارے کس حد تک مؤثر انداز میں اے آئی کو اپنی تدریس، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں میں شامل کرتے ہیں۔</p>
<p>روایتی طور پر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم میں صارفین کے رویّے ، برانڈنگ، ایڈورٹائزنگ، مارکیٹ ریسرچ، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (ایس ای او) جیسے شعبوں پر توجہ دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ تمام مضامین اب بھی اہم ہیں، لیکن اے آئی مارکیٹنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے درکار مہارتوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ اس لیے مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو نہ صرف مارکیٹنگ کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی بلکہ یہ بھی جاننا ہوگا کہ اے آئی سسٹمز ڈیٹا کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں، فیصلوں کو خودکار کیسے بناتے ہیں اور صارفین کے رویّوں پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس شعبے میں سب سے نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک ڈیٹا لٹریسی  کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہے۔ جدید مارکیٹنگ مہمات ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن لین دین سے بہت بڑی مقدار میں معلومات پیدا کرتی ہیں۔ چونکہ اے آئی ٹیکنالوجیز اس ڈیٹا کو انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پراسیس کر سکتی ہیں، اس لیے طلبہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ ڈیٹا کی تشریح کیسے کی جائے، بامعنی رجحانات کی نشاندہی کیسے کی جائے اور معلومات کی بنیاد پر مؤثر اسٹریٹجک فیصلے کیسے کیے جائیں۔ اس طرح ایسی تعلیم، جو مارکیٹنگ کے علم کو تجزیاتی مہارتوں کے ساتھ یکجا کرے، جدید دور کی ملازمتوں کے لیے گریجویٹس کو تیار کرنے میں نہایت اہم ثابت ہوگی۔</p>
<p>اسی دوران اے آئی سے چلنے والے ٹولز اس طریقے کو بھی تبدیل کر رہے ہیں جس کے ذریعے مارکیٹرز کانٹینٹ تخلیق کرتے ہیں۔ جنریٹو اے آئی سسٹمز چند ہی سیکنڈز میں مضامین، سوشل میڈیا پوسٹس، اشتہارات، مصنوعات کی تفصیلات اور صارفین کے لیے پیغامات تیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسانی تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ اس سے تعلیم کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو یہ سکھانا ہوگا کہ اے آئی کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے، اے آئی کے تیار کردہ مواد کا تنقیدی جائزہ کیسے لیا جائے، اور یہ کیسے یقینی بنایا جائے کہ وہ درست، اخلاقی اور برانڈ کی اقدار سے ہم آہنگ رہے۔</p>
<p>اسی وجہ سے مستقبل کے تعلیمی کورسز میں اے آئی کو مارکیٹرز کا متبادل سمجھنے کے بجائے انسان اور اے آئی کے باہمی اشتراک پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>کانٹینٹ کی تخلیق کے علاوہ ایس ای او بھی بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ روایتی ایس ای او حکمتِ عملیوں کا انحصار زیادہ تر کی ورڈ ریسرچ، ٹیکنیکل آپٹیمائزیشن اور لنک بلڈنگ پر ہوتا تھا۔ تاہم اے آئی سے چلنے والے سرچ سسٹمز اب صارف کی نیت ، کانٹینٹ کے معیار اور سیاق و سباق سے مطابقت  کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ نتیجتاً، مارکیٹنگ کے نصاب کو اس انداز میں جدید بنایا جانا چاہیے کہ طلبہ اے آئی سے معاونت یافتہ ایس ای او ٹولز، سرچ رویّوں کے تجزیے اور ان نئی ٹیکنالوجیز کا عملی علم حاصل کر سکیں جو آن لائن  وزیبلیٹی کا تعین کرتی ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کے ہر پہلو میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔</p>
</blockquote>
<p>جیسے جیسے یہ تکنیکی شعبے ترقی کر رہے ہیں، ویسے ہی تجزیاتی سوچ  کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگرچہ اے آئی سسٹمز سفارشات اور پیش گوئیاں فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان کی پیش گوئیاں ہمیشہ درست یا غیر جانبدار نہیں ہوتیں۔ اس لیے مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کو خودکار نتائج پر سوال اٹھانے اور درست فہم و فراست کا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنی چاہیے۔ اس ضرورت کے پیش نظر، تعلیمی اداروں کو مسئلہ حل کرنے، گہرے تجزیے اور منطقی استدلال پر زیادہ زور دینا ہوگا۔</p>
<p>خاص طور پر اخلاقیات اب ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا بنیادی ستون بنتی جا رہی ہیں۔ اے آئی سسٹمز بڑے پیمانے پر ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، جس میں اکثر ذاتی اور حساس معلومات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس صورتِ حال سے رازداری، شفافیت، ڈیٹا کے تحفظ اور انصاف سے متعلق نہایت اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>طلبہ کو ان تمام مسائل کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر سکیں۔ چنانچہ مستقبل کے نصاب میں ڈیجیٹل ایتھکس ، گورننس  اور ریگولیٹری کمپلائنس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔</p>
<p>اخلاقیات کے علاوہ ایک اور بڑی تبدیلی بین الشعبہ جاتی تعلیم  کی ضرورت ہے۔ مارکیٹنگ اب صرف کاروباری علم تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس کا تعلق ٹیکنالوجی، نفسیات، ڈیٹا سائنس اور بزنس اینالیٹکس سے بھی جڑ چکا ہے۔ اسی وجہ سے مستقبل کی تعلیم مختلف شعبوں کے درمیان اشتراک کی حوصلہ افزائی کرے گی، تاکہ طلبہ ایسے منصوبوں پر کام کر سکیں جن میں صارفین کی نفسیات ، مشین لرننگ  اور ڈیٹا ویژولائزیشن جیسے شعبے یکجا ہوں۔ یہ حقیقی صنعتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مارکیٹنگ ٹیمیں ڈیٹا سائنٹسٹس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔</p>
<p>تعلیمی ماحول خود بھی اے آئی کی بدولت تبدیل ہو رہا ہے۔ ذہین تدریسی نظام  اور ایڈاپٹو لرننگ پلیٹ فارمز تعلیم کو زیادہ ذاتی نوعیت کی، مؤثر اور لچکدار بنا رہے ہیں۔ یہ ٹولز طلبہ کی سیکھنے میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، مناسب مطالعاتی وسائل تجویز کر سکتے ہیں اور فوری فیڈ بیک فراہم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اساتذہ اپنی زیادہ توجہ رہنمائی، مباحثے اور عملی اطلاق پر مرکوز کر سکتے ہیں، جس سے مجموعی تعلیمی تجربہ بہتر ہوتا ہے۔</p>
<p>ان تبدیلیوں کے ساتھ پیشہ ورانہ ترقی  کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے مارکیٹنگ کا علم بھی مختصر وقت میں پرانا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جامعات اور تربیتی اداروں کو مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے، جیسے مختصر کورسز، سرٹیفیکیشنز، ورکشاپس اور آن لائن پروگرامز، جو مارکیٹنگ میں اے آئی کے استعمال پر مرکوز ہوں۔ اس طرح تاحیات تعلیم  پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ناگزیر بن جائے گی۔</p>
<p>تحقیق بھی مستقبل کی مارکیٹنگ کی تعلیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ علمی تحقیق اداروں کو نئی ٹیکنالوجیز، صارفین کے رویّوں اور ڈیجیٹل حکمتِ عملیوں کی مؤثریت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ شواہد پر مبنی تحقیق نہ صرف تدریسی مواد کو بہتر بناتی ہے بلکہ صنعت کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ جامعات جو اے آئی اور مارکیٹنگ سے متعلق تحقیق میں سرمایہ کاری کریں گی، وہ مستقبل میں اس شعبے کے معیار اور سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔</p>
<p>مستقبل کے کلاس رومز میں تجرباتی تعلیم  پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ طلبہ حقیقی ڈیٹا سیٹس ، اے آئی پر مبنی مارکیٹنگ پلیٹ فارمز، کسٹمر اینالیٹکس ٹولز  اور ڈیجیٹل کیمپین سیمولیشنز  کے ساتھ عملی کام کریں گے۔ چونکہ آج کے آجر ایسے گریجویٹس کو ترجیح دیتے ہیں جن کے پاس عملی مہارتیں موجود ہوں، اس لیے انٹرن شپس ، صنعتی شراکت داریاں اور پروجیکٹ بیسڈ لرننگ  کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔</p>
<p>ایک اور اہم عنصر عالمگیریت ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اب قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہی کیونکہ مارکیٹنگ مہمات اکثر بین الاقوامی صارفین کو ہدف بناتی ہیں۔ اگرچہ اے آئی عالمی سطح پر رابطوں کو آسان بناتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ثقافتی اختلافات اور لوکلائزیشن سے متعلق نئے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا طلبہ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ عالمی منڈیوں میں کام کر سکیں اور ساتھ ہی اخلاقی اور ثقافتی حساسیت پر مبنی مارکیٹنگ کے اصولوں کو بھی برقرار رکھیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر اساتذہ کا کردار بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ صرف معلومات فراہم کرنے والے ہونے کے بجائے، لیکچررز اب زیادہ سے زیادہ مینٹور ، معاون  اور رہنما  کا کردار ادا کریں گے۔ چونکہ اے آئی بہت تیزی سے معلومات فراہم کر سکتی ہے، اس لیے تعلیم کی اصل اہمیت تخلیقی صلاحیت، درست فیصلہ سازی، اسٹریٹجک سوچ  اور اخلاقی شعور پیدا کرنے میں ہوگی۔ یہ انسانی صلاحیتیں اس وقت بھی ناگزیر رہیں گی جب ٹیکنالوجی مزید ترقی یافتہ ہو جائے گی۔</p>
<p>آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم کا مستقبل تدریس، سیکھنے کے عمل اور پیشہ ورانہ مشق میں اے آئی کے مؤثر انضمام پر منحصر ہوگا۔ کامیابی کے لیے ایسا متوازن طریقۂ کار درکار ہوگا جو ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت، اخلاقیات اور تجزیاتی سوچ کو یکجا کرے۔ وہ تعلیمی ادارے جو مضبوط علمی بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان تبدیلیوں کو اپنائیں گے، وہ مستقبل کے مارکیٹنگ پروفیشنلز کو ایک ایسے دنیا کے لیے بہتر طور پر تیار کر سکیں گے جو تیزی سے زیادہ ذہین، ڈیٹا پر مبنی اور اے آئی پر مبنی بنتی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288019</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 13:20:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق خلیق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/28131751bf8b4a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/28131751bf8b4a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرسبز پناہ گاہ سے کنکریٹ کے جنگل تک: شکرپڑیاں کی آہستہ آہستہ مٹتی شناخت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کا شکرپڑیاں، جو کبھی سرسبز و شاداب قدرتی مناظر سے مزین ایک وسیع و عریض خطہ تھا، شہری توسیع کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بتدریج سکڑتا جا رہا ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا حصہ سمجھے جانے والے اس جنگلاتی اور قدرتی علاقے کو وقت کے ساتھ مختلف اہم تنصیبات اور عمارتوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج اس علاقے میں پریڈ گراؤنڈ، پاک چین فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد کلب، گن اینڈ کنٹری کلب، لوک ورثہ، اوپن ایئر تھیٹر اور متعدد اعلیٰ معیار کے ہوٹل قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث شکرپڑیاں کی باقی ماندہ قدرتی خوبصورتی اور سبزہ بھی تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'  alt=' This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے خلاف مہم چلانے والے حسن خان کے مطابق، ایچ-8 میں ایکسپریس وے کے ساتھ واقع گرین بیلٹ کے ایک حصے میں یادگاری مقام کی تعمیر کے لیے مکمل نشوونما پانے والے درخت کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’چونکہ یہ مقام شکرپڑیاں کے اس پارک ایریا کے بالمقابل واقع ہے، اس لیے ان درختوں کی کٹائی نے شکرپڑیاں کی سرسبزی کو مزید متاثر کیا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سرگرمی کے اثرات مقامی رہائشیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی علوم کی طالبہ صغریٰ سلیم، جو اکثر شام کے وقت اس علاقے میں چہل قدمی کرتی ہیں، کہتی ہیں، ’’اب اس علاقے سے گزرتے ہوئے نہ وہ ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے۔ اس کی جگہ اب شور، گردوغبار اور گرمی نے لے لی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) مختلف منصوبوں کے لیے ہزاروں درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کر چکی ہے، جہاں اکثر دفاعی اور رہائشی ترجیحات کو ماحولیاتی تحفظ پر فوقیت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد، جو کبھی جنوبی ایشیا کے سب سے سرسبز دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا، آج وہاں پرندوں کی آوازوں کی جگہ چین سا کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ماہرِ ماحولیات یوسف خان نے کہا، ’’شہر کے اہم علاقوں، خصوصاً شکرپڑیاں، چک شہزاد اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے منسلک سیکٹرز میں حالیہ بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں بالغ درخت کاٹے جا چکے ہیں، جن میں سے بعض کی کٹائی براہِ راست سڑکوں کی تعمیر اور ہاؤسنگ منصوبوں سے منسلک ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث کی گئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان سمیت ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ معاملہ محض الرجی پیدا کرنے والی اقسام کے درخت ہٹانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہری توسیع کے لیے زمین صاف کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سائنس دانوں اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اپنی سبز چادر کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی میں بگاڑ اور شہری علاقوں میں حدت کے بڑھتے ہوئے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شہر کا درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جس میں جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری درخت، جو موسم کے توازن، مٹی کے استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، جس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں، اسی رفتار سے ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جا رہے۔ کبھی نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ’’گارڈن سٹی‘‘ کے طور پر تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب تیزی سے کنکریٹ کے غلبے والے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے باسی آلودگی، شدید موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'  alt=' This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مشاہدات کے مطابق اگرچہ بعض درختوں کی کٹائی عوامی صحت کے پیشِ نظر پیپر ملبری کے درختوں کے انتظام سے متعلق ہے، تاہم سبزے کے نمایاں نقصان کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف زمین کی صفائی کے نتیجے میں بالترتیب تقریباً پانچ ہیکٹر اور 10 سے 15 ہیکٹر رقبے پر شہری درختوں اور نباتاتی ڈھانچے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے کے مقام پر بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے اور کھدائی کا عمل دیکھا گیا، جبکہ موقع پر دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایک یادگار کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل ارتھ کی مختلف ادوار کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر زمین صاف کرنے کا عمل مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ 2023 میں یہ رقبہ تقریباً ڈیڑھ ہیکٹر تھا جو 2025 تک بڑھ کر ساڑھے چھ ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ اس توسیع نے پہلے سے غیر متاثرہ زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہیکٹر ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تجزیے کے وقت کسی قسم کی شجرکاری یا سبزہ بحالی کے اقدامات دکھائی نہیں دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین صاف کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ماحول دوست منصوبہ بندی کے فقدان پر خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے ڈائریکٹر فاریسٹ محمد ابراہیم خان نے کہا، ’’انفراسٹرکچر سے متعلق کسی بھی منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے قبل قانون کے مطابق ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لیا جانا چاہیے، اس کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں اور ایسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے جس میں ماحولیاتی نقصان سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے کہا کہ شہر کی سبز چادر کی بحالی کے لیے اتھارٹی نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے 45 ہزار پودے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اسلام آباد میں تقریباً 30 ہزار بالغ درختوں کی کٹائی کے ازالے کے لیے شجرکاری کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’درخواست کیے گئے پودوں میں مقامی اقسام، مثلاً ارجن، کچنار، املتاس، جاکارانڈا، ٹیکوما، سریس اور پھلائی شامل ہیں تاکہ آئندہ شجرکاری مہم کے ذریعے شہر کی سبز رونق بحال کی جا سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق مسئلہ صرف شجرکاری کا نہیں، بلکہ اصل تشویش شفافیت کے فقدان سے متعلق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مشاورت اور کھلے پن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول، ڈبلیو ڈبلیو ایف خطوط اور رپورٹس کے ذریعے اپنی سفارشات متعلقہ حکام تک پہنچا چکی ہے، جن میں وفاقی دارالحکومت کی سبزہ زار شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کا شکرپڑیاں، جو کبھی سرسبز و شاداب قدرتی مناظر سے مزین ایک وسیع و عریض خطہ تھا، شہری توسیع کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بتدریج سکڑتا جا رہا ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا حصہ سمجھے جانے والے اس جنگلاتی اور قدرتی علاقے کو وقت کے ساتھ مختلف اہم تنصیبات اور عمارتوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آج اس علاقے میں پریڈ گراؤنڈ، پاک چین فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد کلب، گن اینڈ کنٹری کلب، لوک ورثہ، اوپن ایئر تھیٹر اور متعدد اعلیٰ معیار کے ہوٹل قائم ہیں۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث شکرپڑیاں کی باقی ماندہ قدرتی خوبصورتی اور سبزہ بھی تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222146edbfaff.webp'  alt=' This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)</figcaption>
    </figure>
<p>اس اقدام کے خلاف مہم چلانے والے حسن خان کے مطابق، ایچ-8 میں ایکسپریس وے کے ساتھ واقع گرین بیلٹ کے ایک حصے میں یادگاری مقام کی تعمیر کے لیے مکمل نشوونما پانے والے درخت کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’چونکہ یہ مقام شکرپڑیاں کے اس پارک ایریا کے بالمقابل واقع ہے، اس لیے ان درختوں کی کٹائی نے شکرپڑیاں کی سرسبزی کو مزید متاثر کیا ہے۔‘‘</p>
<p>اس سرگرمی کے اثرات مقامی رہائشیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہو رہے ہیں۔</p>
<p>طبی علوم کی طالبہ صغریٰ سلیم، جو اکثر شام کے وقت اس علاقے میں چہل قدمی کرتی ہیں، کہتی ہیں، ’’اب اس علاقے سے گزرتے ہوئے نہ وہ ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے۔ اس کی جگہ اب شور، گردوغبار اور گرمی نے لے لی ہے۔‘‘</p>
<p>کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) مختلف منصوبوں کے لیے ہزاروں درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کر چکی ہے، جہاں اکثر دفاعی اور رہائشی ترجیحات کو ماحولیاتی تحفظ پر فوقیت دی جاتی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد، جو کبھی جنوبی ایشیا کے سب سے سرسبز دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا، آج وہاں پرندوں کی آوازوں کی جگہ چین سا کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ماہرِ ماحولیات یوسف خان نے کہا، ’’شہر کے اہم علاقوں، خصوصاً شکرپڑیاں، چک شہزاد اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے منسلک سیکٹرز میں حالیہ بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے۔‘‘</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں بالغ درخت کاٹے جا چکے ہیں، جن میں سے بعض کی کٹائی براہِ راست سڑکوں کی تعمیر اور ہاؤسنگ منصوبوں سے منسلک ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث کی گئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان سمیت ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ معاملہ محض الرجی پیدا کرنے والی اقسام کے درخت ہٹانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہری توسیع کے لیے زمین صاف کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سائنس دانوں اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اپنی سبز چادر کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی میں بگاڑ اور شہری علاقوں میں حدت کے بڑھتے ہوئے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شہر کا درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جس میں جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>شہری درخت، جو موسم کے توازن، مٹی کے استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، جس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں، اسی رفتار سے ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جا رہے۔ کبھی نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ’’گارڈن سٹی‘‘ کے طور پر تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب تیزی سے کنکریٹ کے غلبے والے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے باسی آلودگی، شدید موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/06/23222318e73c392.webp'  alt=' This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)</figcaption>
    </figure>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مشاہدات کے مطابق اگرچہ بعض درختوں کی کٹائی عوامی صحت کے پیشِ نظر پیپر ملبری کے درختوں کے انتظام سے متعلق ہے، تاہم سبزے کے نمایاں نقصان کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف زمین کی صفائی کے نتیجے میں بالترتیب تقریباً پانچ ہیکٹر اور 10 سے 15 ہیکٹر رقبے پر شہری درختوں اور نباتاتی ڈھانچے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے کے مقام پر بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے اور کھدائی کا عمل دیکھا گیا، جبکہ موقع پر دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایک یادگار کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔</p>
<p>گوگل ارتھ کی مختلف ادوار کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر زمین صاف کرنے کا عمل مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ 2023 میں یہ رقبہ تقریباً ڈیڑھ ہیکٹر تھا جو 2025 تک بڑھ کر ساڑھے چھ ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ اس توسیع نے پہلے سے غیر متاثرہ زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہیکٹر ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تجزیے کے وقت کسی قسم کی شجرکاری یا سبزہ بحالی کے اقدامات دکھائی نہیں دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین صاف کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ماحول دوست منصوبہ بندی کے فقدان پر خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے ڈائریکٹر فاریسٹ محمد ابراہیم خان نے کہا، ’’انفراسٹرکچر سے متعلق کسی بھی منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے قبل قانون کے مطابق ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لیا جانا چاہیے، اس کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں اور ایسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے جس میں ماحولیاتی نقصان سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے۔‘‘</p>
<p>سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے کہا کہ شہر کی سبز چادر کی بحالی کے لیے اتھارٹی نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے 45 ہزار پودے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اسلام آباد میں تقریباً 30 ہزار بالغ درختوں کی کٹائی کے ازالے کے لیے شجرکاری کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’درخواست کیے گئے پودوں میں مقامی اقسام، مثلاً ارجن، کچنار، املتاس، جاکارانڈا، ٹیکوما، سریس اور پھلائی شامل ہیں تاکہ آئندہ شجرکاری مہم کے ذریعے شہر کی سبز رونق بحال کی جا سکے۔‘‘</p>
<p>ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق مسئلہ صرف شجرکاری کا نہیں، بلکہ اصل تشویش شفافیت کے فقدان سے متعلق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مشاورت اور کھلے پن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول، ڈبلیو ڈبلیو ایف خطوط اور رپورٹس کے ذریعے اپنی سفارشات متعلقہ حکام تک پہنچا چکی ہے، جن میں وفاقی دارالحکومت کی سبزہ زار شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔</p>
<p>نوٹ: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287925</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 23:08:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اعظم شام)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/24225149c77e2bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/24225149c77e2bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیٹ بندش سے ڈیجٹیل معیشت کی تباہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287651/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیلیوری رائیڈر دانش عبدالرازق  مئی 2023 میں شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار تھے۔ نہ صرف انہوں نے چار دن میں 8,000 روپے سے زائد کھو دیے بلکہ اپنے بچوں، بیوی اور والدہ کو بھوکا سوتے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیکیا کے 32 سالہ ملازم  جو ایک پاکستانی رائیڈ ہیلنگ سروس اور پارسل ڈیلیوری کمپنی ہے - کا انحصار موبائل انٹرنیٹ پر ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آرڈرز کی لوکیشن حاصل اور ٹریک کر سکے۔ لیکن جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لیے ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں تو ان کا کام مکمل طور پر رک گیا۔ ٹوئٹر، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسی سائٹس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ تک رسائی چار دن بعد بحال ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانش کہتے ہیں کہ گھر میں حالات تیزی سے خراب ہو گئے، تصور کریں آپ اپنی ملازمت پر جا رہے ہیں اور ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ گھر میں کھانا نہیں ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور مزید بتاتے ہیں کہ ان کی روزانہ کی آمدنی ان کے خاندان کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی ہے جس میں ان کی بیوی، والدہ اور دو بچے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ 10 وی پی این کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں انٹرنیٹ بندشوں کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا جو 1.62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی رپورٹ کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز میں آرڈرز کی تعداد میں 75 فیصد کمی جبکہ آن لائن ٹیکسی سروسز میں 97 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;29 سالہ سوہا یاسین سوویئرز کی بانی ہیں، جو پاکستان اور یو اے ای میں کام کرنے والا ایک معروف کپڑوں کا برانڈ ہے۔ 2018 سے یہ برانڈ غیر معمولی ترقی کر چکا ہے اور تیزی سے مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ اس کے آٹھ ریٹیل آؤٹ لیٹس ہیں اور انسٹاگرام و فیس بک پر مجموعی طور پر 831,000 فالوورز ہیں۔ تاہم بار بار انٹرنیٹ کی بندش اس کی مسلسل کامیابی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ بندش کے دوران، فیس بک اور گوگل اشتہارات میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود، سوویئرز کے آن لائن آرڈرز میں 20 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ سوہا کہتی ہیں کہ ایک دن میں آرڈرز کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پورے دن کا منافع اچانک غائب ہو جاتا ہے (بندش کے دوران)۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش دل توڑ دینے والی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اشتہارات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں اور ڈیلیوری سروسز بند ہونے سے آرڈرز میں تاخیر بھی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر کاروباروں میں بھی مالی نقصان کی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ نوفل خان سوگ کیکس کے بانی، جو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا آن لائن پلیٹ فارم ہے، انٹرنیٹ بندش کو اپنا سب سے بڑا خوف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر صارفین ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو انتہائی سست انٹرنیٹ رفتار کی وجہ سے وہ خریداری مکمل کرنے سے پہلے ہی لاگ آؤٹ کر دیتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ 8 سیکنڈ میں لوڈ ہو رہی تھی، جبکہ عام طور پر یہ 1.5 سیکنڈ میں مکمل لوڈ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ اس سے صارف کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ بند کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ملک کو انٹرنیٹ پابندیوں کے نفاذ کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 2025 میں 20 سے زائد انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز رپورٹ ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے طویل انٹرنیٹ بندش پاکستان میں ہوئی جہاں سابق فاٹا کے 45 لاکھ افراد کو 2016 سے 2021 تک تقریباً چار سال تک انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ڈیجیٹل عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا رکاوٹ ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جو فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا کہ ان کی رقم ایسے کاروباروں میں لگ رہی ہے جو کسی بھی وقت… ایسی چیز سے متاثر ہو سکتے ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں اور جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے تھی، یہ ایک بڑا صدمہ تھا، سینن ڈی سوزا، کو-فاؤنڈر انویسٹرز لاؤنج کہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کم کرتے ہیں، جو کہ ایک ابھرتے ہوئے نظام کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کاروبار مستقبل میں انٹرنیٹ بندشوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض دنوں میں جب انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی ہوتی ہے، نوفل اور سوہا سوشل میڈیا اشتہارات کے اخراجات کم یا بند کر دیتے ہیں۔ اس نے سوہا کو اپنے برانڈ کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلانے اور پاکستان پر مکمل انحصار کم کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوہا کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے کاروبار کے لیے بہترین بات یہ ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بڑھائیں اور ایک ہی ذریعہ یعنی پاکستان پر انحصار نہ کریں۔ برانڈ کے 20 فیصد آرڈرز بین الاقوامی مارکیٹس سے آتے ہیں اور سوہا عالمی موجودگی کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان دنیا کی ٹاپ پانچ فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے جہاں 3 ملین سے زائد فری لانسرز موجود ہیں۔ اگرچہ حکومت نے فری لانسرز کے لیے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں، لیکن یہ کوششیں بے معنی ہو جاتی ہیں اگر انٹرنیٹ ہی موجود نہ ہو، جو آن لائن کام کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے فائیور  نے عارضی طور پر پاکستانی فری لانسرز کو گیگز تک رسائی سے روک دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینن کہتے ہیں یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ صرف وہ معاہدہ نہیں جسے میں کھو رہا ہوں، میں مستقبل کا کام بھی کھو رہا ہوں کیونکہ کلائنٹ یہ کہے گا کہ آپ ایک ناقابلِ اعتماد سپلائر ہیں، حالانکہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ میرے اختیار میں نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ تک رسائی ایک ضرورت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی کمی بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے: ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، جیسے فوڈ ڈیلیوری، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر بنیادی کام، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے باعث رویوں میں تبدیلی کو سالوں لگتے ہیں۔ بار بار انٹرنیٹ بندش کے پیش نظر راتوں رات تبدیلی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینن کہتے ہیں لوگوں نے اپنی زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں اس مفروضے پر کی ہیں کہ انٹرنیٹ کبھی متاثر نہیں ہوگا۔ راستوں اور نشانیوں کو یاد رکھنے پر انحصار کم ہو گیا ہے کیونکہ آپ گوگل میپس استعمال کر سکتے ہیں۔ اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں بغیر نقشے کے کسی جگہ پہنچوں، تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ کئی مہینوں سے میں نے یہ عمل گوگل میپس کے سپرد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیلیوری رائیڈر دانش عبدالرازق  مئی 2023 میں شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار تھے۔ نہ صرف انہوں نے چار دن میں 8,000 روپے سے زائد کھو دیے بلکہ اپنے بچوں، بیوی اور والدہ کو بھوکا سوتے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔</strong></p>
<p>بائیکیا کے 32 سالہ ملازم  جو ایک پاکستانی رائیڈ ہیلنگ سروس اور پارسل ڈیلیوری کمپنی ہے - کا انحصار موبائل انٹرنیٹ پر ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آرڈرز کی لوکیشن حاصل اور ٹریک کر سکے۔ لیکن جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لیے ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں تو ان کا کام مکمل طور پر رک گیا۔ ٹوئٹر، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسی سائٹس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ تک رسائی چار دن بعد بحال ہوئی۔</p>
<p>دانش کہتے ہیں کہ گھر میں حالات تیزی سے خراب ہو گئے، تصور کریں آپ اپنی ملازمت پر جا رہے ہیں اور ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ گھر میں کھانا نہیں ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور مزید بتاتے ہیں کہ ان کی روزانہ کی آمدنی ان کے خاندان کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی ہے جس میں ان کی بیوی، والدہ اور دو بچے شامل ہیں۔</p>
<p>ٹاپ 10 وی پی این کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں انٹرنیٹ بندشوں کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا جو 1.62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی رپورٹ کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز میں آرڈرز کی تعداد میں 75 فیصد کمی جبکہ آن لائن ٹیکسی سروسز میں 97 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔</p>
<p>29 سالہ سوہا یاسین سوویئرز کی بانی ہیں، جو پاکستان اور یو اے ای میں کام کرنے والا ایک معروف کپڑوں کا برانڈ ہے۔ 2018 سے یہ برانڈ غیر معمولی ترقی کر چکا ہے اور تیزی سے مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ اس کے آٹھ ریٹیل آؤٹ لیٹس ہیں اور انسٹاگرام و فیس بک پر مجموعی طور پر 831,000 فالوورز ہیں۔ تاہم بار بار انٹرنیٹ کی بندش اس کی مسلسل کامیابی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>انٹرنیٹ بندش کے دوران، فیس بک اور گوگل اشتہارات میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود، سوویئرز کے آن لائن آرڈرز میں 20 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ سوہا کہتی ہیں کہ ایک دن میں آرڈرز کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پورے دن کا منافع اچانک غائب ہو جاتا ہے (بندش کے دوران)۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش دل توڑ دینے والی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اشتہارات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں اور ڈیلیوری سروسز بند ہونے سے آرڈرز میں تاخیر بھی ہوتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح دیگر کاروباروں میں بھی مالی نقصان کی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ نوفل خان سوگ کیکس کے بانی، جو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا آن لائن پلیٹ فارم ہے، انٹرنیٹ بندش کو اپنا سب سے بڑا خوف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر صارفین ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو انتہائی سست انٹرنیٹ رفتار کی وجہ سے وہ خریداری مکمل کرنے سے پہلے ہی لاگ آؤٹ کر دیتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ 8 سیکنڈ میں لوڈ ہو رہی تھی، جبکہ عام طور پر یہ 1.5 سیکنڈ میں مکمل لوڈ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ اس سے صارف کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ بند کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ملک کو انٹرنیٹ پابندیوں کے نفاذ کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 2025 میں 20 سے زائد انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز رپورٹ ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے طویل انٹرنیٹ بندش پاکستان میں ہوئی جہاں سابق فاٹا کے 45 لاکھ افراد کو 2016 سے 2021 تک تقریباً چار سال تک انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پاکستان میں ڈیجیٹل عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا رکاوٹ ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جو فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا کہ ان کی رقم ایسے کاروباروں میں لگ رہی ہے جو کسی بھی وقت… ایسی چیز سے متاثر ہو سکتے ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں اور جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے تھی، یہ ایک بڑا صدمہ تھا، سینن ڈی سوزا، کو-فاؤنڈر انویسٹرز لاؤنج کہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کم کرتے ہیں، جو کہ ایک ابھرتے ہوئے نظام کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔</p>
<p>پاکستانی کاروبار مستقبل میں انٹرنیٹ بندشوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض دنوں میں جب انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی ہوتی ہے، نوفل اور سوہا سوشل میڈیا اشتہارات کے اخراجات کم یا بند کر دیتے ہیں۔ اس نے سوہا کو اپنے برانڈ کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلانے اور پاکستان پر مکمل انحصار کم کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔</p>
<p>سوہا کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے کاروبار کے لیے بہترین بات یہ ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بڑھائیں اور ایک ہی ذریعہ یعنی پاکستان پر انحصار نہ کریں۔ برانڈ کے 20 فیصد آرڈرز بین الاقوامی مارکیٹس سے آتے ہیں اور سوہا عالمی موجودگی کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان دنیا کی ٹاپ پانچ فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے جہاں 3 ملین سے زائد فری لانسرز موجود ہیں۔ اگرچہ حکومت نے فری لانسرز کے لیے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں، لیکن یہ کوششیں بے معنی ہو جاتی ہیں اگر انٹرنیٹ ہی موجود نہ ہو، جو آن لائن کام کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے فائیور  نے عارضی طور پر پاکستانی فری لانسرز کو گیگز تک رسائی سے روک دیا تھا۔</p>
<p>سینن کہتے ہیں یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ صرف وہ معاہدہ نہیں جسے میں کھو رہا ہوں، میں مستقبل کا کام بھی کھو رہا ہوں کیونکہ کلائنٹ یہ کہے گا کہ آپ ایک ناقابلِ اعتماد سپلائر ہیں، حالانکہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ میرے اختیار میں نہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ تک رسائی ایک ضرورت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی کمی بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے: ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، جیسے فوڈ ڈیلیوری، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر بنیادی کام، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے باعث رویوں میں تبدیلی کو سالوں لگتے ہیں۔ بار بار انٹرنیٹ بندش کے پیش نظر راتوں رات تبدیلی ممکن نہیں۔</p>
<p>سینن کہتے ہیں لوگوں نے اپنی زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں اس مفروضے پر کی ہیں کہ انٹرنیٹ کبھی متاثر نہیں ہوگا۔ راستوں اور نشانیوں کو یاد رکھنے پر انحصار کم ہو گیا ہے کیونکہ آپ گوگل میپس استعمال کر سکتے ہیں۔ اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں بغیر نقشے کے کسی جگہ پہنچوں، تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ کئی مہینوں سے میں نے یہ عمل گوگل میپس کے سپرد کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287651</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 12:16:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جویریہ خالد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/18121300f130814.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/18121300f130814.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تندرستی کی راہ میں فزیو تھراپسٹس کا بڑھتا ہوا کلیدی کردار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287513/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جدید طبی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مریضوں کا علاج اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے چونکا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والی کل اموات میں سے 74 فیصد اموات دل کے عارضے، شوگر، کینسر اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں جیسے غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بوڑھی ہوتی آبادی، حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور علاج کے بدلتے تقاضوں نے اب ایک ایسے مربوط نظام کو ناگزیر بنا دیا ہے جہاں پورا طبی عمل صرف بیماری کے بجائے براہِ راست مریض کی ذات پر توجہ مرکوز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں، ہڈیوں، پٹھوں کے مسائل، فالج کے باعث پیدا ہونے والی معذوریوں اور سڑک کے حادثات میں لگنے والی چوٹوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے کثیر الشعبہ بحالیِ صحت (ملٹی ڈسپلینری ری ہیبلی ٹیشن) کی خدمات کی طلب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں صحت کے نظام اب علاج کے روایتی اور الگ تھلگ طریقوں کو چھوڑ کر باہمی تعاون پر مبنی طریقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں مریضوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد ماہرین مل کر کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی نے کثیر الشعبہ طبی ٹیموں کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین جامع علاج فراہم کرنے کے لیے اپنے علم اور مہارتوں کو یکجا کرتے ہیں۔ ان ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس ایسے مددگار بن کر ابھرے ہیں جن کا کردار روایتی بحالیِ صحت سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آج وہ تشخیصی عمل، بیماریوں سے بچاؤ، علاج کی منصوبہ بندی، صحت یابی اور صحت کے وسیع تر مسائل کے طویل مدتی انتظام میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی طبی شعبے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو جدید طب کے متعدد شعبوں میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ایک کثیر الشعبہ طبی ٹیم عام طور پر ڈاکٹروں، نرسوں، فزیو تھراپسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ غذائیت، فارماسسٹس اور سوشل ورکرز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر پیشہ ور اپنے شعبے کی مخصوص مہارت لاتا ہے لیکن اس ٹیم کی اصل طاقت باہمی تعاون میں پنہاں ہے۔ الگ الگ کام کرنے کے بجائے ٹیم کے ارکان باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اقدامات میں ہم آہنگی لاتے ہیں اور مشترکہ اہداف کا تعین کرتے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مریضوں کو ہمہ جہت اور مؤثر دیکھ بھال ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اشتراک پر مبنی ماڈل کے فوائد فالج کی بحالی کے عمل میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ فالج سے صحت یاب ہونے والے مریض کو نیورولوجسٹ کی طبی نگرانی، نرسنگ عملے کی مسلسل مانیٹرنگ، حرکت اور نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے فزیو تھراپی، روزمرہ کی سرگرمیاں دوبارہ سیکھنے کے لیے آکیوپیشنل تھراپی، بول چال کو بہتر بنانے کے لیے اسپیچ تھراپی اور جذباتی مسائل سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مربوط ٹیم ورک کے ذریعے صحت یابی کے ہر پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بہترین نتائج برآمد ہوتے  اور مریضوں میں خود انحصاری بڑھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر الشعبہ ٹیموں میں فزیو تھراپسٹس کا کردار گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کافی وسیع ہوا ہے۔ روایتی طور پر چوٹوں سے نجات اور جسمانی بحالی سے منسوب کی جانے والی فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی شعبہ بن چکی ہے جو جدید طب کے کئی میدانوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ فزیو تھراپسٹس اب اسپتالوں کی شدید نگہداشت، آرتھوپیڈکس (ہڈیوں کے امراض)، اعصابی بحالی، اسپورٹس میڈیسن، انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو)، درد کے انتظام کی خدمات، کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں، عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال اور دائمی بیماریوں کے علاج میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی مہارتوں میں حرکات و سکنات کا تجزیہ، افعال کا جائزہ، ورزش کی تجویز، مینوئل تھراپی (جسمانی چھیڑ چھاڑ)، بحالی کی منصوبہ بندی، درد کا انتظام اور مریضوں کی آگاہی شامل ہے۔ یہ وسیع دائرہ کار انہیں تشخیص یا چوٹ کے پہلے لمحے سے لے کر صحت یابی اور صحت کے طویل مدتی تحفظ تک علاج کے تمام مراحل میں مریضوں کی مدد کرنے کے قابل بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر الشعبہ ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس کا ایک اہم ترین تعاون باہمی اشتراک کے ذریعے مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ مؤثر ٹیم ورک علاج کے ایسے منصوبے تیار کرتا ہے جو زیادہ منظم، ذاتی نوعیت کے اور مریض کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں۔ فزیو تھراپسٹس اکثر طبی تشخیص اور جسمانی افعال کی بحالی کے درمیان ایک کڑی کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر آرتھوپیڈک آپریشنز جیسے کہ گھٹنے یا چولہے کی تبدیلی کی سرجری کے بعد سرجن ساختی مسئلے کو حل کرتے ہیں جبکہ فزیو تھراپسٹ بحالی کے عمل کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ مریضوں کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے، نقل و حرکت کو بہتر بنانے، توازن بحال کرنے اور چلنے پھرنے میں اعتماد بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مریض کی ترقی کی قریبی نگرانی کرکے اور اس کے مطابق علاج کے منصوبوں میں تبدیلی کر کے فزیو تھراپسٹ صحت یابی کو تیز تر بناتے اور پچیدگیوں کو کم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق بھی اس اشتراک پر مبنی طریقہ کار کی افادیت کی تائید کرتی ہے۔ بین الاقوامی بحالیِ صحت کے لٹریچر میں شائع ہونے والے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کثیر الشعبہ بحالی سے افعال بہتر ہوتے ہیں، معذوری میں کمی آتی  اور فالج یا دیگر معذور کرنے والے امراض سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا ری ہیبلی ٹیشن 2023  اقدام عالمی سطح پر معذوری کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے صحت کے نظام میں بحالی کی خدمات کو ضم کرنے پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائمی بیماریوں کے انتظام میں فزیو تھراپی کی اہمیت بالکل واضح ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ذیابیطس، موٹاپا، گٹھیا، دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے دائمی امراض جیسی حالتوں کے لیے قلیل مدتی علاج کے بجائے طویل مدتی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ فزیو تھراپسٹس سائنسی شواہد پر مبنی ورزش کے ایسے پروگرام تیار کرکے اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو جسمانی تندرستی کو بہتر بناتے، علامات کو کم کرتے اور زندگی کے مجموعی معیار کو بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گٹھیا کے مریض مخصوص ورزشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو جوڑوں کی جکڑن کو کم کرتی، نقل و حرکت کو بہتر بناتی  اور ان کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتی ہیں۔ اسی طرح دل کے امراض میں مبتلا افراد فزیو تھراپسٹس کی نگرانی میں تیار کردہ کارڈیک ری ہیبلیٹیشن پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں، جو قلبی صحت کو بہتر بنانے اور مستقبل کی پچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور ماہرینِ غذائیت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے فزیو تھراپسٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ علاج صرف ادویات تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں لائف اسٹائل کی تبدیلی اور جسمانی سرگرمیاں بھی شامل ہوں، جو کہ طویل مدتی امراض کے انتظام کے بنیادی عناصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعصابی بحالی ایک اور ایسا شعبہ ہے جہاں فزیو تھراپسٹس ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں، پارکنسنز (کپکپاہٹ کا مرض)، ملٹی پل اسکلیروسیس یا دماغی چوٹوں سے متاثرہ مریضوں کو اکثر شدید جسمانی اور فعالیاتی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فزیو تھراپسٹس حرکت، ہم آہنگی، توازن، طاقت اور خود انحصاری کو بہتر بنانے کے لیے شواہد پر مبنی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بار بار ٹاسک ٹریننگ، نیوروپلاسٹیسی پر مبنی طریقوں اور منظم ورزش کے پروگراموں کے ذریعے، وہ مریضوں کو کھوئے ہوئے افعال دوبارہ حاصل کرنے اور نئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ اعصابی بحالی کا انحصار زیادہ تر ٹیم ورک پر ہوتا ہے۔ فزیو تھراپسٹ اعصابی کیفیات کے جسمانی اور ذہنی دونوں اثرات سے نمٹنے کے لیے نیورولوجسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات اور نرسنگ عملے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ مربوط طریقہ کار صحت یابی کو بہتر بناتا اور مریضوں کو زیادہ سے زیادہ خود انحصاری حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپورٹس میڈیسن ایک اور شعبہ ہے جس میں فزیو تھراپسٹس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جدید دور کے کھلاڑیوں کو ایسی مخصوص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف چوٹ کے علاج بلکہ چوٹوں سے بچاؤ اور کارکردگی بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ اسپورٹس میڈیسن میں کام کرنے والے فزیو تھراپسٹ اسپورٹس ڈاکٹروں، کوچز، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کے ماہرین، ماہرینِ غذائیت اور ماہرینِ نفسیات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں چوٹ کا جائزہ، بحالی کی منصوبہ بندی، کھیل میں واپسی کا ٹیسٹ، کارکردگی کو بہترین بنانا اور چوٹ سے بچاؤ کے لیے ورزش کے پروگرام تیار کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھر میں جیسے جیسے پیشہ ورانہ اور شوقیہ کھیلوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، اسپورٹس فزیو تھراپی کی خدمات کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھلاڑی اب طویل مدتی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ چوٹ لگنے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی بحالی اور چوٹ سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فزیو تھراپی کی ترقی کو فروغ دینے والا ایک اور عنصر شواہد پر مبنی پریکٹس پر بڑھتا ہوا زور ہے۔ جدید فزیو تھراپسٹس علاج کے فیصلوں کے لیے سائنسی تحقیق اور کلینیکل گائیڈ لائنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار یقینی بناتا ہے کہ کیے جانے والے اقدامات محفوظ، مؤثر اور موجودہ بہترین طریقوں کے مطابق ہوں۔ بہت سے فزیو تھراپسٹ تحقیق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، علمی اشاعتوں میں اپنا حصہ ڈالتے اور ری ہیبلیٹیشن سائنس کو آگے بڑھانے کے لیے یونیورسٹیوں اور طبی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی گائیڈ لائنز بھی کثیر الشعبہ دیکھ بھال میں فزیو تھراپی کے کردار کی تائید کرتی ہیں۔ برطانیہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (این آئی سی آئی) اور ڈبلیو ایچ او دونوں ہی ورزش کے ذریعے علاج، بحالیِ صحت اور مریض مرکز کثیر الشعبہ انتظام کو کئی دائمی اور معذور کرنے والے امراض کے لیے علاج کا ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سفارشات جدید نظامِ صحت میں فزیو تھراپسٹس کے بطور کلیدی مددگار بڑھتے ہوئے اعتراف کو تقویت دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریضوں کی تعلیم و آگاہی بھی فزیو تھراپی کی پریکٹس کا ایک بنیادی ستون ہے۔ فزیو تھراپسٹس لوگوں کو اٹھنے بیٹھنے کے درست انداز، ارگونومکس، ورزش، چوٹ سے بچاؤ، کام کی جگہ پر صحت اور صحت مند طرزِ زندگی کی عادات کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں۔ مریضوں کو علم اور عملی مہارتوں سے بااختیار بنا کر وہ مستقبل میں چوٹوں کے خطرے کو کم کرنے اور طویل مدتی فلاح و بہبود میں مدد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کام کے مقامات، اسکولوں اور کمیونٹی سیٹنگز میں حفاظتی یا بچاؤ کی فزیو تھراپی بھی تیزی سے اہم ہو رہی ہے۔ ابتدائی طبی مداخلت کے پروگرام علاج کے اخراجات کو کم کر سکتے، معذوری کو کم سے کم  اور زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں  جہاں صحت کے وسائل اکثر محدود ہوتے ہیں، بیماریوں سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں میں عوامی صحت کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی بھی اس پیشے کو بدل رہی ہے۔ ڈیجیٹل اسیسمنٹ ٹولز، ٹیلی ری ہیبلیٹیشن (دور بیٹھ کر بحالی) کی خدمات، پہننے کے قابل مانیٹرنگ ڈیوائسز، موشن انالیسس سسٹمز اور ورچوئل رئیلٹی پر مبنی بحالی کے پروگرام اب عام ہو رہے ہیں۔ یہ ایجادات فزیو تھراپسٹس کو زیادہ درست، قابلِ رسائی اور ذاتی نوعیت کا علاج فراہم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ خاص طور پر ٹیلی ری ہیبلیٹیشن پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ان خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے شاندار مواقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام جدید ترقیوں کے باوجود فزیو تھراپی میں انسانی عنصر کا کوئی نعم البدل نہیں۔اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی دیکھ بھال، کلینیکل فیصلہ سازی، بات چیت، ہمدردی اور مریض کی حوصلہ افزائی اب بھی کامیاب بحالی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی علاج کی فراہمی کو بہتر تو بنا سکتی  ہے لیکن یہ فزیو تھراپسٹ اور مریض کے درمیان شفا بخش تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائمی بیماریوں، معذوری اور چوٹوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا سامنا کرنے والی اس دنیا میں فزیو تھراپی کی اہمیت مسلسل بڑھتی رہے گی۔ سائنسی علم، عملی مہارتوں اور انسانی ہمدردی کو یکجا کر کے فزیو تھراپسٹ صحت کے ایک ایسے مستقبل کو تشکیل دینے میں مدد کر رہے ہیں جو زیادہ مربوط اور مؤثر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جدید طبی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مریضوں کا علاج اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے چونکا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہونے والی کل اموات میں سے 74 فیصد اموات دل کے عارضے، شوگر، کینسر اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں جیسے غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔</strong></p>
<p>دوسری جانب بوڑھی ہوتی آبادی، حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور علاج کے بدلتے تقاضوں نے اب ایک ایسے مربوط نظام کو ناگزیر بنا دیا ہے جہاں پورا طبی عمل صرف بیماری کے بجائے براہِ راست مریض کی ذات پر توجہ مرکوز کرے۔</p>
<p>پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں، ہڈیوں، پٹھوں کے مسائل، فالج کے باعث پیدا ہونے والی معذوریوں اور سڑک کے حادثات میں لگنے والی چوٹوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے کثیر الشعبہ بحالیِ صحت (ملٹی ڈسپلینری ری ہیبلی ٹیشن) کی خدمات کی طلب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں صحت کے نظام اب علاج کے روایتی اور الگ تھلگ طریقوں کو چھوڑ کر باہمی تعاون پر مبنی طریقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں مریضوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد ماہرین مل کر کام کرتے ہیں۔</p>
<p>اس تبدیلی نے کثیر الشعبہ طبی ٹیموں کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، جہاں مختلف شعبوں کے ماہرین جامع علاج فراہم کرنے کے لیے اپنے علم اور مہارتوں کو یکجا کرتے ہیں۔ ان ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس ایسے مددگار بن کر ابھرے ہیں جن کا کردار روایتی بحالیِ صحت سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ آج وہ تشخیصی عمل، بیماریوں سے بچاؤ، علاج کی منصوبہ بندی، صحت یابی اور صحت کے وسیع تر مسائل کے طویل مدتی انتظام میں سرگرمی سے حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی طبی شعبے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو جدید طب کے متعدد شعبوں میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ ایک کثیر الشعبہ طبی ٹیم عام طور پر ڈاکٹروں، نرسوں، فزیو تھراپسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ غذائیت، فارماسسٹس اور سوشل ورکرز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر پیشہ ور اپنے شعبے کی مخصوص مہارت لاتا ہے لیکن اس ٹیم کی اصل طاقت باہمی تعاون میں پنہاں ہے۔ الگ الگ کام کرنے کے بجائے ٹیم کے ارکان باقاعدگی سے رابطہ رکھتے ہیں، معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اقدامات میں ہم آہنگی لاتے ہیں اور مشترکہ اہداف کا تعین کرتے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مریضوں کو ہمہ جہت اور مؤثر دیکھ بھال ملے۔</p>
<p>اس اشتراک پر مبنی ماڈل کے فوائد فالج کی بحالی کے عمل میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ فالج سے صحت یاب ہونے والے مریض کو نیورولوجسٹ کی طبی نگرانی، نرسنگ عملے کی مسلسل مانیٹرنگ، حرکت اور نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے فزیو تھراپی، روزمرہ کی سرگرمیاں دوبارہ سیکھنے کے لیے آکیوپیشنل تھراپی، بول چال کو بہتر بنانے کے لیے اسپیچ تھراپی اور جذباتی مسائل سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ مربوط ٹیم ورک کے ذریعے صحت یابی کے ہر پہلو پر توجہ دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بہترین نتائج برآمد ہوتے  اور مریضوں میں خود انحصاری بڑھتی ہے۔</p>
<p>کثیر الشعبہ ٹیموں میں فزیو تھراپسٹس کا کردار گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کافی وسیع ہوا ہے۔ روایتی طور پر چوٹوں سے نجات اور جسمانی بحالی سے منسوب کی جانے والی فزیو تھراپی اب ایک انتہائی خصوصی شعبہ بن چکی ہے جو جدید طب کے کئی میدانوں میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ فزیو تھراپسٹس اب اسپتالوں کی شدید نگہداشت، آرتھوپیڈکس (ہڈیوں کے امراض)، اعصابی بحالی، اسپورٹس میڈیسن، انتہائی نگہداشت کے یونٹس (آئی سی یو)، درد کے انتظام کی خدمات، کمیونٹی ہیلتھ پروگراموں، عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال اور دائمی بیماریوں کے علاج میں شامل ہیں۔</p>
<p>ان کی مہارتوں میں حرکات و سکنات کا تجزیہ، افعال کا جائزہ، ورزش کی تجویز، مینوئل تھراپی (جسمانی چھیڑ چھاڑ)، بحالی کی منصوبہ بندی، درد کا انتظام اور مریضوں کی آگاہی شامل ہے۔ یہ وسیع دائرہ کار انہیں تشخیص یا چوٹ کے پہلے لمحے سے لے کر صحت یابی اور صحت کے طویل مدتی تحفظ تک علاج کے تمام مراحل میں مریضوں کی مدد کرنے کے قابل بناتا ہے۔</p>
<p>کثیر الشعبہ ٹیموں کے اندر فزیو تھراپسٹس کا ایک اہم ترین تعاون باہمی اشتراک کے ذریعے مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ مؤثر ٹیم ورک علاج کے ایسے منصوبے تیار کرتا ہے جو زیادہ منظم، ذاتی نوعیت کے اور مریض کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں۔ فزیو تھراپسٹس اکثر طبی تشخیص اور جسمانی افعال کی بحالی کے درمیان ایک کڑی کا کام کرتے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر آرتھوپیڈک آپریشنز جیسے کہ گھٹنے یا چولہے کی تبدیلی کی سرجری کے بعد سرجن ساختی مسئلے کو حل کرتے ہیں جبکہ فزیو تھراپسٹ بحالی کے عمل کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ مریضوں کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے، نقل و حرکت کو بہتر بنانے، توازن بحال کرنے اور چلنے پھرنے میں اعتماد بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مریض کی ترقی کی قریبی نگرانی کرکے اور اس کے مطابق علاج کے منصوبوں میں تبدیلی کر کے فزیو تھراپسٹ صحت یابی کو تیز تر بناتے اور پچیدگیوں کو کم کرتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق بھی اس اشتراک پر مبنی طریقہ کار کی افادیت کی تائید کرتی ہے۔ بین الاقوامی بحالیِ صحت کے لٹریچر میں شائع ہونے والے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ کثیر الشعبہ بحالی سے افعال بہتر ہوتے ہیں، معذوری میں کمی آتی  اور فالج یا دیگر معذور کرنے والے امراض سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے معیارِ زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا ری ہیبلی ٹیشن 2023  اقدام عالمی سطح پر معذوری کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے صحت کے نظام میں بحالی کی خدمات کو ضم کرنے پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>دائمی بیماریوں کے انتظام میں فزیو تھراپی کی اہمیت بالکل واضح ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ذیابیطس، موٹاپا، گٹھیا، دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے دائمی امراض جیسی حالتوں کے لیے قلیل مدتی علاج کے بجائے طویل مدتی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ فزیو تھراپسٹس سائنسی شواہد پر مبنی ورزش کے ایسے پروگرام تیار کرکے اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو جسمانی تندرستی کو بہتر بناتے، علامات کو کم کرتے اور زندگی کے مجموعی معیار کو بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>گٹھیا کے مریض مخصوص ورزشوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو جوڑوں کی جکڑن کو کم کرتی، نقل و حرکت کو بہتر بناتی  اور ان کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھتی ہیں۔ اسی طرح دل کے امراض میں مبتلا افراد فزیو تھراپسٹس کی نگرانی میں تیار کردہ کارڈیک ری ہیبلیٹیشن پروگراموں میں حصہ لے سکتے ہیں، جو قلبی صحت کو بہتر بنانے اور مستقبل کی پچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور ماہرینِ غذائیت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے فزیو تھراپسٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ علاج صرف ادویات تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں لائف اسٹائل کی تبدیلی اور جسمانی سرگرمیاں بھی شامل ہوں، جو کہ طویل مدتی امراض کے انتظام کے بنیادی عناصر ہیں۔</p>
<p>اعصابی بحالی ایک اور ایسا شعبہ ہے جہاں فزیو تھراپسٹس ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں، پارکنسنز (کپکپاہٹ کا مرض)، ملٹی پل اسکلیروسیس یا دماغی چوٹوں سے متاثرہ مریضوں کو اکثر شدید جسمانی اور فعالیاتی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فزیو تھراپسٹس حرکت، ہم آہنگی، توازن، طاقت اور خود انحصاری کو بہتر بنانے کے لیے شواہد پر مبنی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بار بار ٹاسک ٹریننگ، نیوروپلاسٹیسی پر مبنی طریقوں اور منظم ورزش کے پروگراموں کے ذریعے، وہ مریضوں کو کھوئے ہوئے افعال دوبارہ حاصل کرنے اور نئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ اعصابی بحالی کا انحصار زیادہ تر ٹیم ورک پر ہوتا ہے۔ فزیو تھراپسٹ اعصابی کیفیات کے جسمانی اور ذہنی دونوں اثرات سے نمٹنے کے لیے نیورولوجسٹس، آکیوپیشنل تھراپسٹس، اسپیچ تھراپسٹس، ماہرینِ نفسیات اور نرسنگ عملے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ مربوط طریقہ کار صحت یابی کو بہتر بناتا اور مریضوں کو زیادہ سے زیادہ خود انحصاری حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>اسپورٹس میڈیسن ایک اور شعبہ ہے جس میں فزیو تھراپسٹس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جدید دور کے کھلاڑیوں کو ایسی مخصوص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف چوٹ کے علاج بلکہ چوٹوں سے بچاؤ اور کارکردگی بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کرے۔ اسپورٹس میڈیسن میں کام کرنے والے فزیو تھراپسٹ اسپورٹس ڈاکٹروں، کوچز، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کے ماہرین، ماہرینِ غذائیت اور ماہرینِ نفسیات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں چوٹ کا جائزہ، بحالی کی منصوبہ بندی، کھیل میں واپسی کا ٹیسٹ، کارکردگی کو بہترین بنانا اور چوٹ سے بچاؤ کے لیے ورزش کے پروگرام تیار کرنا شامل ہے۔</p>
<p>پاکستان بھر میں جیسے جیسے پیشہ ورانہ اور شوقیہ کھیلوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، اسپورٹس فزیو تھراپی کی خدمات کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کھلاڑی اب طویل مدتی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ چوٹ لگنے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی بحالی اور چوٹ سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔</p>
<p>فزیو تھراپی کی ترقی کو فروغ دینے والا ایک اور عنصر شواہد پر مبنی پریکٹس پر بڑھتا ہوا زور ہے۔ جدید فزیو تھراپسٹس علاج کے فیصلوں کے لیے سائنسی تحقیق اور کلینیکل گائیڈ لائنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار یقینی بناتا ہے کہ کیے جانے والے اقدامات محفوظ، مؤثر اور موجودہ بہترین طریقوں کے مطابق ہوں۔ بہت سے فزیو تھراپسٹ تحقیق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، علمی اشاعتوں میں اپنا حصہ ڈالتے اور ری ہیبلیٹیشن سائنس کو آگے بڑھانے کے لیے یونیورسٹیوں اور طبی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی گائیڈ لائنز بھی کثیر الشعبہ دیکھ بھال میں فزیو تھراپی کے کردار کی تائید کرتی ہیں۔ برطانیہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس (این آئی سی آئی) اور ڈبلیو ایچ او دونوں ہی ورزش کے ذریعے علاج، بحالیِ صحت اور مریض مرکز کثیر الشعبہ انتظام کو کئی دائمی اور معذور کرنے والے امراض کے لیے علاج کا ناگزیر حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سفارشات جدید نظامِ صحت میں فزیو تھراپسٹس کے بطور کلیدی مددگار بڑھتے ہوئے اعتراف کو تقویت دیتی ہیں۔</p>
<p>مریضوں کی تعلیم و آگاہی بھی فزیو تھراپی کی پریکٹس کا ایک بنیادی ستون ہے۔ فزیو تھراپسٹس لوگوں کو اٹھنے بیٹھنے کے درست انداز، ارگونومکس، ورزش، چوٹ سے بچاؤ، کام کی جگہ پر صحت اور صحت مند طرزِ زندگی کی عادات کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں۔ مریضوں کو علم اور عملی مہارتوں سے بااختیار بنا کر وہ مستقبل میں چوٹوں کے خطرے کو کم کرنے اور طویل مدتی فلاح و بہبود میں مدد کرتے ہیں۔</p>
<p>کام کے مقامات، اسکولوں اور کمیونٹی سیٹنگز میں حفاظتی یا بچاؤ کی فزیو تھراپی بھی تیزی سے اہم ہو رہی ہے۔ ابتدائی طبی مداخلت کے پروگرام علاج کے اخراجات کو کم کر سکتے، معذوری کو کم سے کم  اور زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں  جہاں صحت کے وسائل اکثر محدود ہوتے ہیں، بیماریوں سے بچاؤ کی حکمتِ عملیوں میں عوامی صحت کے نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی بھی اس پیشے کو بدل رہی ہے۔ ڈیجیٹل اسیسمنٹ ٹولز، ٹیلی ری ہیبلیٹیشن (دور بیٹھ کر بحالی) کی خدمات، پہننے کے قابل مانیٹرنگ ڈیوائسز، موشن انالیسس سسٹمز اور ورچوئل رئیلٹی پر مبنی بحالی کے پروگرام اب عام ہو رہے ہیں۔ یہ ایجادات فزیو تھراپسٹس کو زیادہ درست، قابلِ رسائی اور ذاتی نوعیت کا علاج فراہم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ خاص طور پر ٹیلی ری ہیبلیٹیشن پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ان خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے شاندار مواقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>ان تمام جدید ترقیوں کے باوجود فزیو تھراپی میں انسانی عنصر کا کوئی نعم البدل نہیں۔اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی دیکھ بھال، کلینیکل فیصلہ سازی، بات چیت، ہمدردی اور مریض کی حوصلہ افزائی اب بھی کامیاب بحالی میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی علاج کی فراہمی کو بہتر تو بنا سکتی  ہے لیکن یہ فزیو تھراپسٹ اور مریض کے درمیان شفا بخش تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی۔</p>
<p>دائمی بیماریوں، معذوری اور چوٹوں کی بڑھتی ہوئی شرح کا سامنا کرنے والی اس دنیا میں فزیو تھراپی کی اہمیت مسلسل بڑھتی رہے گی۔ سائنسی علم، عملی مہارتوں اور انسانی ہمدردی کو یکجا کر کے فزیو تھراپسٹ صحت کے ایک ایسے مستقبل کو تشکیل دینے میں مدد کر رہے ہیں جو زیادہ مربوط اور مؤثر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287513</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 14:57:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی اوسط)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/141426340f6000a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/141426340f6000a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
