<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 20:17:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 20:17:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹانک کی چیک پوسٹ پر حملہ، 15 اہلکار شہید؛ 12 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289154/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے خودکش حملے میں 15 سکیورٹی اہلکار اور ایک سرکاری افسر شہید ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا اور 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج قرار دیا گیا، سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو چیک پوسٹ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے کہا، ”دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو سکیورٹی فورسز کی مستعد اور جرات مندانہ کارروائی نے فوری اور فیصلہ کن انداز میں ناکام بنا دیا۔“ بیان کے مطابق فرار ہونے والے خوارج کو بھی نشانہ بنایا گیا اور 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے بتایا کہ علاقے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام مہم کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ”ہمارے بہادر اہلکاروں کی قربانیاں ہر قیمت پر وطن کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے ٹانک حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حملہ ناکام بنانے اور 12 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی بروقت، جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے 12 فوجی جوانوں، دو پولیس اہلکاروں اور محکمہ جنگلات کے ایک ملازم کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا، ”حکومت پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔“ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک پوری قوت اور عزم کے ساتھ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے خودکش حملے میں 15 سکیورٹی اہلکار اور ایک سرکاری افسر شہید ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا اور 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج قرار دیا گیا، سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔</p>
<p>فوج کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو چیک پوسٹ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔</p>
<p>دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے کہا، ”دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو سکیورٹی فورسز کی مستعد اور جرات مندانہ کارروائی نے فوری اور فیصلہ کن انداز میں ناکام بنا دیا۔“ بیان کے مطابق فرار ہونے والے خوارج کو بھی نشانہ بنایا گیا اور 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔</p>
<p>فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے بتایا کہ علاقے میں باقی ماندہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام مہم کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا، ”ہمارے بہادر اہلکاروں کی قربانیاں ہر قیمت پر وطن کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔“</p>
<p>دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے ٹانک حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>انہوں نے حملہ ناکام بنانے اور 12 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی بروقت، جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی کو سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے 12 فوجی جوانوں، دو پولیس اہلکاروں اور محکمہ جنگلات کے ایک ملازم کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا، ”حکومت پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔“ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک پوری قوت اور عزم کے ساتھ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289154</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 19:06:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241901545ebdac2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241901545ebdac2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس سی او اجلاس : پاکستان اور ایران کا علاقائی امن کے لیے عزم کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289153/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف فارن منسٹرز (سی ایف ایم) کے اجلاس کے موقع پر ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ اور قریبی تعلقات کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین کی جانب سے مذاکرات، ضبطِ نفس، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جون 2026ء میں طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) کے تحت حاصل ہونے والی تفہیم کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کو سراہا۔انہوں نے ایرانی ماہی گیروں اور عملے کے اراکین بشمول امریکہ کی جانب سے روکے گئے جہازوں کے عملے کی محفوظ واپسی میں سہولت کاری فراہم کرنے اور ان کی پاکستان کے راستے ایران محفوظ منتقلی و واپسی کے لیے ایرانی، امریکی اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کاری پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزراء نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ اور باقاعدہ مشاورت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف فارن منسٹرز (سی ایف ایم) کے اجلاس کے موقع پر ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ اور قریبی تعلقات کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین کی جانب سے مذاکرات، ضبطِ نفس، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے جون 2026ء میں طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) کے تحت حاصل ہونے والی تفہیم کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں اس کے تعمیری کردار کو سراہا۔انہوں نے ایرانی ماہی گیروں اور عملے کے اراکین بشمول امریکہ کی جانب سے روکے گئے جہازوں کے عملے کی محفوظ واپسی میں سہولت کاری فراہم کرنے اور ان کی پاکستان کے راستے ایران محفوظ منتقلی و واپسی کے لیے ایرانی، امریکی اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کاری پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزراء نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ اور باقاعدہ مشاورت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289153</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 17:55:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241748355ba8d6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="977" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241748355ba8d6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسحاق ڈار کا ایس سی او سے افغانستان میں طالبان حکومت کو دہشت گردی پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289152/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پر زور دیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ان کی دہشت گردی مخالف اہم ذمہ داریاں یاد دلائے اور ان پر عمل درآمد کروائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اس خطے کو درپیش شدید ترین سیکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ چولپون آتا میں ایس سی او کی کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا نتیجہ تمام ایس سی او رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان دیکھنا ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2080589728748130555?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2080589728748130555%7Ctwgr%5E562ebc41c446b032fd12e3b936525ff0d13e4ab4%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431639'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2080589728748130555?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2080589728748130555%7Ctwgr%5E562ebc41c446b032fd12e3b936525ff0d13e4ab4%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431639"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے بھرتیوں، تربیت اور حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال 2,000 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 560 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور مزید کہا کہ ان میں سے بعض حملوں میں افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔انہوں نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان سے علاقائی اور عالمی امن کے لیے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی صرف دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کو حل کرنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ٹاکس کی سہولت کاری اور میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست سفارتی بات چیت ہوئی اور  اسلام آباد ایم او یو (یادداشتِ نہم) پر دستخط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلام آباد ایم او یو اور جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل اور پرامن حل کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور حاصل کردہ پیشرفت کو معکوس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ایس سی او کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنظیم کے مقاصد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ 2005ء میں مبصر کی حیثیت سے شروع ہونے والا پاکستان کا سفر 2017ء میں مکمل رکنیت تک پہنچنا کثیر الجہتی سفارت کاری کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت سال 26-2025 کے لیے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد رواں سال کے آخر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے اور پھر 2027ء میں پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پرامید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پر زور دیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ان کی دہشت گردی مخالف اہم ذمہ داریاں یاد دلائے اور ان پر عمل درآمد کروائے۔</strong></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اس خطے کو درپیش شدید ترین سیکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ چولپون آتا میں ایس سی او کی کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا نتیجہ تمام ایس سی او رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان دیکھنا ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2080589728748130555?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2080589728748130555%7Ctwgr%5E562ebc41c446b032fd12e3b936525ff0d13e4ab4%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431639'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2080589728748130555?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2080589728748130555%7Ctwgr%5E562ebc41c446b032fd12e3b936525ff0d13e4ab4%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431639"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے بھرتیوں، تربیت اور حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال 2,000 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 560 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور مزید کہا کہ ان میں سے بعض حملوں میں افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔انہوں نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان سے علاقائی اور عالمی امن کے لیے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی صرف دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کو حل کرنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ٹاکس کی سہولت کاری اور میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست سفارتی بات چیت ہوئی اور  اسلام آباد ایم او یو (یادداشتِ نہم) پر دستخط ہوئے۔</p>
<p>نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلام آباد ایم او یو اور جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل اور پرامن حل کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور حاصل کردہ پیشرفت کو معکوس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ایس سی او کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنظیم کے مقاصد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ 2005ء میں مبصر کی حیثیت سے شروع ہونے والا پاکستان کا سفر 2017ء میں مکمل رکنیت تک پہنچنا کثیر الجہتی سفارت کاری کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت سال 26-2025 کے لیے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد رواں سال کے آخر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے اور پھر 2027ء میں پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پرامید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289152</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 17:52:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241734238a4c5fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241734238a4c5fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادویات کی قیمتوں کا تعین شفاف اور شواہد پر مبنی کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289148/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی اور مشاورتی انداز میں کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہون نے ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کی سفارشات پر غور کرنے کیلئے وزیراعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے مطابق کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے نئی ادویات کی قیمتوں، ہارڈ شپ درخواستوں اور ضروری ادویات کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین عوامی مفاد اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ ضروری ادویات تک رسائی، مناسب قیمتوں اور ان کی مسلسل فراہمی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت کی کہ ادویات سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں کی وجوہات بھی عوام کے سامنے واضح انداز میں پیش کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی اور مشاورتی انداز میں کیے جائیں۔</strong></p>
<p>یہ بات انہون نے ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کی سفارشات پر غور کرنے کیلئے وزیراعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے مطابق کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے نئی ادویات کی قیمتوں، ہارڈ شپ درخواستوں اور ضروری ادویات کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین عوامی مفاد اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ ضروری ادویات تک رسائی، مناسب قیمتوں اور ان کی مسلسل فراہمی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت کی کہ ادویات سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں کی وجوہات بھی عوام کے سامنے واضح انداز میں پیش کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289148</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:28:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24162632aa57a18.webp" type="image/webp" medium="image" height="764" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24162632aa57a18.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289131/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2080539704609431957?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2080539704609431957?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنرل عامر رضا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور وسیع تجربے سے اس اہم قومی ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کی مدت کے لیے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے طور پر مقرر کیے جانے کے چھ ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ آئین کی 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیا گیا جس نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے ختم کیے گئے عہدے کی جگہ لے لی۔ یہ عہدہ باضابطہ طور پر 27 نومبر 2025 کو ختم کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ دوہری ذمہ داریوں پر مشتمل ہے جس میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  اور چیف آف آرمی اسٹاف دونوں عہدوں کی ذمہ داریاں یکجا کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (این ایس سی) کے کمانڈر کی تقرری بھی ایک اہم پیش رفت ہے جو اس وقت سے زیرِ غور تھی۔ یہ نیا قائم کیا گیا فور اسٹار جنرل کا عہدہ ہے جس کی ذمہ داری پاکستان کے جوہری کمانڈ اور اسٹریٹجک فورسز کی نگرانی کرنا ہے جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے سپرد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 243 میں کی گئی ترمیم کے مطابق نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ  کے کمانڈر کا تقرر چیف آف آرمی اسٹاف کی سفارش پر وزیراعظم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2080539704609431957?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2080539704609431957?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنرل عامر رضا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور وسیع تجربے سے اس اہم قومی ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھائیں گے۔</p>
<p>یہ پیشرفت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کی مدت کے لیے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے طور پر مقرر کیے جانے کے چھ ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ آئین کی 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیا گیا جس نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے ختم کیے گئے عہدے کی جگہ لے لی۔ یہ عہدہ باضابطہ طور پر 27 نومبر 2025 کو ختم کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ دوہری ذمہ داریوں پر مشتمل ہے جس میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  اور چیف آف آرمی اسٹاف دونوں عہدوں کی ذمہ داریاں یکجا کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (این ایس سی) کے کمانڈر کی تقرری بھی ایک اہم پیش رفت ہے جو اس وقت سے زیرِ غور تھی۔ یہ نیا قائم کیا گیا فور اسٹار جنرل کا عہدہ ہے جس کی ذمہ داری پاکستان کے جوہری کمانڈ اور اسٹریٹجک فورسز کی نگرانی کرنا ہے جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے سپرد تھی۔</p>
<p>آئین کے آرٹیکل 243 میں کی گئی ترمیم کے مطابق نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ  کے کمانڈر کا تقرر چیف آف آرمی اسٹاف کی سفارش پر وزیراعظم کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289131</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:54:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2413453096aa879.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2413453096aa879.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، خصوصاً انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر دراندازی کرنے اور اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان جاری کرنے والے وزرائے خارجہ میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیاں، نیز دیگر مقدس مقامات تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل مسلسل اور منظم انداز میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانا ہے، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کا مکمل اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے سے باز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی بے حرمتی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، خصوصاً انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر دراندازی کرنے اور اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی۔</strong></p>
<p>وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔</p>
<p>مشترکہ بیان جاری کرنے والے وزرائے خارجہ میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیاں، نیز دیگر مقدس مقامات تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل مسلسل اور منظم انداز میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانا ہے، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔</p>
<p>بیان میں یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کا مکمل اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے سے باز رہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی بے حرمتی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289132</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:02:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24135938d993afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24135938d993afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں شدید بارشوں کی پیش گوئی، نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289130/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے جمعہ کو سندھ کے مختلف اضلاع میں 27 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی راجستھان اور ملحقہ علاقوں پر موجود کم دباؤ کا نظام اور بحیرہ عرب سے آنے والی مضبوط مون سون ہوائیں پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے موسم کو متاثر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم ڈی نے بتایا کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد میں جمعہ سے 27 جولائی تک وقفے وقفے سے درمیانی سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز اور ٹھٹھہ میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور اشتہاری بورڈز جیسے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری اور شہید بینظیر آباد میں بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم ڈی نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ محکمہ کے مطابق پیش گوئی کے دوران سندھ میں جاری گرم اور مرطوب موسم میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بارے میں محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ شہر میں موسم جزوی طور پر ابر آلود، گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ مضافاتی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ہفتہ اور اتوار کے دوران شہر کے چند مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی بھی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں ہفتے کے اختتام تک کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے جمعہ کو سندھ کے مختلف اضلاع میں 27 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی راجستھان اور ملحقہ علاقوں پر موجود کم دباؤ کا نظام اور بحیرہ عرب سے آنے والی مضبوط مون سون ہوائیں پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے موسم کو متاثر کر رہی ہیں۔</p>
<p>پی ایم ڈی نے بتایا کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد میں جمعہ سے 27 جولائی تک وقفے وقفے سے درمیانی سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔</p>
<p>اسی دوران گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز اور ٹھٹھہ میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور اشتہاری بورڈز جیسے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری اور شہید بینظیر آباد میں بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پی ایم ڈی نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ محکمہ کے مطابق پیش گوئی کے دوران سندھ میں جاری گرم اور مرطوب موسم میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کراچی کے بارے میں محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ شہر میں موسم جزوی طور پر ابر آلود، گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ مضافاتی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ہفتہ اور اتوار کے دوران شہر کے چند مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی بھی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں ہفتے کے اختتام تک کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289130</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:50:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24134736f0a5bdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="552" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24134736f0a5bdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی شعبہ، وزیراعظم کا نئی چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289113/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں چینی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان کا تعاون ملک کے اناج ذخیرہ کرنے کے نظام کو جدید بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، تاہم اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی افرادی قوت کی تربیت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات چین کی معروف کمپنی فامسن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک چن کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں پاکستان کے اناج ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو جدید بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ شراکت داری قائم ہے اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فامسن کی جانب سے موجودہ اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز کو جدید سہولیات میں تبدیل کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے زور دیا کہ ایسے تمام منصوبوں میں مقامی افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ ملک میں مقامی مہارت پیدا ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران جیک چن نے کہا کہ ان کی کمپنی جدید ذخیرہ کاری کے نظام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے پاکستان کی غذائی تحفظ کی صلاحیت بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کے دوران ان سے ہونے والی ملاقات نے پاکستان میں عملی منصوبوں پر بات چیت کی راہ ہموار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فامسن پاکستان میں گرین سائلوز (ماحول دوست اناج ذخیرہ کرنے کے جدید گوداموں) کے قیام کے لیے ایک ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی، جبکہ موجودہ ذخیرہ گاہوں کو بھی ماحول دوست جدید سائلو سسٹمز میں تبدیل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے مطابق فامسن اور گرین پاکستان انیشیٹو کے درمیان زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پہلے ہی دستخط کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فامسن ایک چینی کمپنی ہے جو زرعی ٹیکنالوجی، جانوروں کی خوراک کی تیاری اور فوڈ پروسیسنگ کے جدید حل فراہم کرنے کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں چینی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان کا تعاون ملک کے اناج ذخیرہ کرنے کے نظام کو جدید بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، تاہم اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی افرادی قوت کی تربیت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔</strong></p>
<p>انہوں نے یہ بات چین کی معروف کمپنی فامسن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک چن کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں پاکستان کے اناج ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو جدید بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ شراکت داری قائم ہے اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔</p>
<p>انہوں نے فامسن کی جانب سے موجودہ اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز کو جدید سہولیات میں تبدیل کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>شہباز شریف نے زور دیا کہ ایسے تمام منصوبوں میں مقامی افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ ملک میں مقامی مہارت پیدا ہو سکے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران جیک چن نے کہا کہ ان کی کمپنی جدید ذخیرہ کاری کے نظام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے پاکستان کی غذائی تحفظ کی صلاحیت بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کے دوران ان سے ہونے والی ملاقات نے پاکستان میں عملی منصوبوں پر بات چیت کی راہ ہموار کی۔</p>
<p>اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فامسن پاکستان میں گرین سائلوز (ماحول دوست اناج ذخیرہ کرنے کے جدید گوداموں) کے قیام کے لیے ایک ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی، جبکہ موجودہ ذخیرہ گاہوں کو بھی ماحول دوست جدید سائلو سسٹمز میں تبدیل کیا جائے گا۔</p>
<p>بریفنگ کے مطابق فامسن اور گرین پاکستان انیشیٹو کے درمیان زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پہلے ہی دستخط کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>فامسن ایک چینی کمپنی ہے جو زرعی ٹیکنالوجی، جانوروں کی خوراک کی تیاری اور فوڈ پروسیسنگ کے جدید حل فراہم کرنے کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289113</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 09:34:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/240932330c33966.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/240932330c33966.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ایس پی پلس، یورپی یونین کی جائزہ رپورٹ پر پاکستان کا اظہار مایوسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289115/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفتر خارجہ نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) سے متعلق حالیہ جائزہ رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کی متوازن تصویر پیش نہیں کی گئی، تاہم ملک کی قانون سازی میں پیش رفت اور 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کے اعتراف کو سراہا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ رپورٹ میں 2014 سے جی ایس پی پلس میں شمولیت کے بعد پاکستان کی جانب سے کیے گئے وسیع اصلاحاتی اقدامات کو مناسب انداز میں اجاگر نہیں کیا گیا، جبکہ چند شعبوں میں نسبتاً کم پیش رفت کو غیر متناسب اہمیت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے، جس سے برآمدات، روزگار، خواتین کی معاشی شمولیت، غربت میں کمی اور مجموعی اقتصادی ترقی کو فروغ ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی کمیشن اور دیگر یورپی اداروں کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطے جاری رکھے گا اور جی ایس پی پلس کے تحت بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی معتبر شواہد کے ایسے سنگین الزامات لگانا افسوسناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی کا بھی سختی سے جائزہ لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے کہا کہ طالبان حکومت افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں، بھرتی، مالی معاونت اور سرحد پار حملوں کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جو خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ کسی بھی فوجی کارروائی کو حقِ دفاع اور ناگزیر حالات میں آخری راستے کے طور پر انجام دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ 10 یا 15 روزہ جنگ بندی کی تجویز سے متعلق سوال پر ترجمان نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سفارتی بات چیت خفیہ نوعیت کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بدستور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے قیام کا حامی ہے اور خطے میں امن کی امید برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر کی صورتحال پر پاکستان مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدے بدستور مؤثر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفتر خارجہ نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) سے متعلق حالیہ جائزہ رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کی متوازن تصویر پیش نہیں کی گئی، تاہم ملک کی قانون سازی میں پیش رفت اور 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کے اعتراف کو سراہا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ رپورٹ میں 2014 سے جی ایس پی پلس میں شمولیت کے بعد پاکستان کی جانب سے کیے گئے وسیع اصلاحاتی اقدامات کو مناسب انداز میں اجاگر نہیں کیا گیا، جبکہ چند شعبوں میں نسبتاً کم پیش رفت کو غیر متناسب اہمیت دی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے، جس سے برآمدات، روزگار، خواتین کی معاشی شمولیت، غربت میں کمی اور مجموعی اقتصادی ترقی کو فروغ ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یورپی کمیشن اور دیگر یورپی اداروں کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطے جاری رکھے گا اور جی ایس پی پلس کے تحت بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>ترجمان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی معتبر شواہد کے ایسے سنگین الزامات لگانا افسوسناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی کا بھی سختی سے جائزہ لے۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے کہا کہ طالبان حکومت افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں، بھرتی، مالی معاونت اور سرحد پار حملوں کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جو خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، جبکہ کسی بھی فوجی کارروائی کو حقِ دفاع اور ناگزیر حالات میں آخری راستے کے طور پر انجام دیا گیا۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ 10 یا 15 روزہ جنگ بندی کی تجویز سے متعلق سوال پر ترجمان نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سفارتی بات چیت خفیہ نوعیت کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بدستور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے قیام کا حامی ہے اور خطے میں امن کی امید برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر کی صورتحال پر پاکستان مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدے بدستور مؤثر ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289115</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 09:54:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/240951143e20565.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/240951143e20565.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی آئل ٹینکروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، وزیراعظم کی محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289085/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی اورسعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران مملکت کی سلامتی اور خودمختاری  کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت اس کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحری ناکہ بندی کے تحت دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن میں مقیم حوثی عسکریت پسند جو آبنائے باب المندب کے قریب کے علاقوں پر قابض ہیں  نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں جسے بعض تجزیہ کاروں نے ایران کی جانب سے اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے کہا کہ ان کی فورسز نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور ان کی شناخت انسیلیا  اور لیلیٰ  کے نام سے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ سعودی آئل ٹینکروں پر حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریحً خلاف ورزی، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ اور علاقائی امن، سلامتی و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2080201330505961921?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2080201330505961921?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلایا کہ پاکستان بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور قانونی سمندری تجارت کی بلا تعطل روانی کے لیے سعودی عرب اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا جبکہ وزیراعظم نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی اورسعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران مملکت کی سلامتی اور خودمختاری  کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت اس کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحری ناکہ بندی کے تحت دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>یمن میں مقیم حوثی عسکریت پسند جو آبنائے باب المندب کے قریب کے علاقوں پر قابض ہیں  نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رہے ہیں جسے بعض تجزیہ کاروں نے ایران کی جانب سے اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے کہا کہ ان کی فورسز نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکروں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور ان کی شناخت انسیلیا  اور لیلیٰ  کے نام سے کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ سعودی آئل ٹینکروں پر حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریحً خلاف ورزی، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ اور علاقائی امن، سلامتی و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2080201330505961921?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2080201330505961921?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور برادر عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلایا کہ پاکستان بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور قانونی سمندری تجارت کی بلا تعطل روانی کے لیے سعودی عرب اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔</p>
<p>ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا جبکہ وزیراعظم نے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289085</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 09:24:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24092355470dc4d.webp" type="image/webp" medium="image" height="867" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24092355470dc4d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جمعرات کو کہا ہے کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں اور عوامی تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کا ڈھانچہ ملک اور عوام کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر نے بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم عوام کے تعاون سے مسلح افواج کے مضبوط ردعمل کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بلوچستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال اورحوصلہ مند عوام کا حامل صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جامع حکمت عملی کے تحت صوبے کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل نے قومی یکجہتی کے فروغ اور بلوچستان میں دیرپا امن و خوشحالی کے لیے سول سوسائٹی، تعلیمی حلقوں، میڈیا اور نوجوانوں کے کردار کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ملکی ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ کے اختتام پر شرکا کے ساتھ سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جمعرات کو کہا ہے کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز دہشت گرد گروہوں کے خلاف ہدفی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں اور عوامی تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کا ڈھانچہ ملک اور عوام کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر نے بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تاہم عوام کے تعاون سے مسلح افواج کے مضبوط ردعمل کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے بلوچستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال اورحوصلہ مند عوام کا حامل صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جامع حکمت عملی کے تحت صوبے کی سماجی و معاشی بہتری کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔</p>
<p>فیلڈ مارشل نے قومی یکجہتی کے فروغ اور بلوچستان میں دیرپا امن و خوشحالی کے لیے سول سوسائٹی، تعلیمی حلقوں، میڈیا اور نوجوانوں کے کردار کو بھی سراہا۔</p>
<p>انہوں نے ملکی ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ کے اختتام پر شرکا کے ساتھ سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289107</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 21:09:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23210235c37166a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1159" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23210235c37166a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مستونگ حملے میں سیشن جج اور ان کا محافظ جاں بحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289103/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیشن جج اور ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق، جبکہ ایک ایڈیشنل سیشن جج سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق ججز کوئٹہ سے مستونگ کی سیشن عدالت جا رہے تھے کہ ولی خان کے علاقے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاں بحق ہونے والے جج کی شناخت سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری اور ایک اور شخص شدید زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سکیورٹی گارڈ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومین کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری سمیت زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور کہا کہ ایسی ”بزدلانہ کارروائیاں“ دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرتی ہے، اور یہ حملہ ایک افسوسناک سانحہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MeerLangau/status/2080198856625811712'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MeerLangau/status/2080198856625811712"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے سیشن جج اور ان کے سکیورٹی گارڈ کے قتل کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے ارکان پر حملہ دراصل ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ججوں اور وکلا کو نشانہ بنانا صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ShahidRind/status/2080192235723972940'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ShahidRind/status/2080192235723972940"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شاہد رند نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حملے میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیشن جج اور ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق، جبکہ ایک ایڈیشنل سیشن جج سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔</strong></p>
<p>اطلاعات کے مطابق ججز کوئٹہ سے مستونگ کی سیشن عدالت جا رہے تھے کہ ولی خان کے علاقے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔</p>
<p>جاں بحق ہونے والے جج کی شناخت سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری اور ایک اور شخص شدید زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سکیورٹی گارڈ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومین کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری سمیت زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور کہا کہ ایسی ”بزدلانہ کارروائیاں“ دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔</p>
<p>انہوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
<p>بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرتی ہے، اور یہ حملہ ایک افسوسناک سانحہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MeerLangau/status/2080198856625811712'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MeerLangau/status/2080198856625811712"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دریں اثنا، بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے سیشن جج اور ان کے سکیورٹی گارڈ کے قتل کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے ارکان پر حملہ دراصل ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ججوں اور وکلا کو نشانہ بنانا صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ShahidRind/status/2080192235723972940'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ShahidRind/status/2080192235723972940"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شاہد رند نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حملے میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289103</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 18:52:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231844094f34d26.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231844094f34d26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ڈی ایم اے سندھ کا 25 جولائی تک شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر میں الرٹ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ نے جمعرات کو متوقع مون سون بارشوں اور تیز ہواؤں کے پیش نظر صوبہ بھر میں الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور ہنگامی امدادی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور تمام احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایم اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سید سلمان شاہ کے مطابق محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے پیش گوئی کی ہے کہ 23 سے 25 جولائی کے دوران بحیرۂ عرب سے داخل ہونے والی طاقتور مون سون ہواؤں کے باعث سندھ کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ وسیع پیمانے پر بارش کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.scribd.com/document/1065296964/Karachi-Division-Forecasth-23rd-July-2026#from_embed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--scribd  '&gt;&lt;iframe src='https://www.scribd.com/embeds/1065296964/content?start_page=1&amp;view_mode=scroll&amp;show_recommendations=falseKarachi-Division-Forecasth-23rd-July-2026#from_embed' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد کے چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور خیرپور میں ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ لاڑکانہ، نوشہروفیروز اور ٹھٹھہ میں آج اور کل گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان شاہ نے خبردار کیا کہ تیز ہوائیں اور آسمانی بجلی کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز اور اشتہاری بورڈز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”پی ڈی ایم اے نے مون سون سے نمٹنے کا ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے، جبکہ ڈی واٹرنگ پمپس اور دیگر ضروری مشینری بھی فوری استعمال کے لیے تیار رکھی گئی ہے۔ شہری اور اچانک سیلاب کے خطرے سے دوچار نشیبی علاقوں کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”اگر کسی علاقے میں ضرورت پیش آئی تو پانی نکالنے والی مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر منتقل کر دی جائے گی۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.scribd.com/document/1065297119/Weather-Advisory-23rd-July-2026#from_embed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--scribd  '&gt;&lt;iframe src='https://www.scribd.com/embeds/1065297119/content?start_page=1&amp;view_mode=scroll&amp;show_recommendations=falseWeather-Advisory-23rd-July-2026#from_embed' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ خراب موسمی حالات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور غیر محفوظ عمارتوں سے دور رہیں، اور اپنی حفاظت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ نے جمعرات کو متوقع مون سون بارشوں اور تیز ہواؤں کے پیش نظر صوبہ بھر میں الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور ہنگامی امدادی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور تمام احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔</strong></p>
<p>پی ڈی ایم اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سید سلمان شاہ کے مطابق محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے پیش گوئی کی ہے کہ 23 سے 25 جولائی کے دوران بحیرۂ عرب سے داخل ہونے والی طاقتور مون سون ہواؤں کے باعث سندھ کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ وسیع پیمانے پر بارش کا امکان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.scribd.com/document/1065296964/Karachi-Division-Forecasth-23rd-July-2026#from_embed'>
        <div class='media__item  media__item--scribd  '><iframe src='https://www.scribd.com/embeds/1065296964/content?start_page=1&view_mode=scroll&show_recommendations=falseKarachi-Division-Forecasth-23rd-July-2026#from_embed' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد کے چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔</p>
<p>اسی طرح گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور خیرپور میں ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ لاڑکانہ، نوشہروفیروز اور ٹھٹھہ میں آج اور کل گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔</p>
<p>سلمان شاہ نے خبردار کیا کہ تیز ہوائیں اور آسمانی بجلی کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز اور اشتہاری بورڈز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”پی ڈی ایم اے نے مون سون سے نمٹنے کا ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے، جبکہ ڈی واٹرنگ پمپس اور دیگر ضروری مشینری بھی فوری استعمال کے لیے تیار رکھی گئی ہے۔ شہری اور اچانک سیلاب کے خطرے سے دوچار نشیبی علاقوں کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”اگر کسی علاقے میں ضرورت پیش آئی تو پانی نکالنے والی مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر منتقل کر دی جائے گی۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  ' data-original-src='https://www.scribd.com/document/1065297119/Weather-Advisory-23rd-July-2026#from_embed'>
        <div class='media__item  media__item--scribd  '><iframe src='https://www.scribd.com/embeds/1065297119/content?start_page=1&view_mode=scroll&show_recommendations=falseWeather-Advisory-23rd-July-2026#from_embed' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ خراب موسمی حالات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور غیر محفوظ عمارتوں سے دور رہیں، اور اپنی حفاظت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289099</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 17:27:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231718305334471.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231718305334471.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبادی میں اضافے کی شرح 1.25 فیصد تک لانے کے منصوبے پر وزیراعظم کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو تیزی سے بڑھتی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں آبادی بہبود سے متعلق ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے آبادی پر قابو پانے کو قومی فریضہ قرار دیا اور اس مقصد کے لیے صوبوں کے ساتھ مؤثر رابطہ، تعاون اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی تاکہ ملک کی پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر قومی آبادی کونسل  کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے، جہاں آبادی سے متعلق ایک جامع قومی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو آبادی کے رجحانات اور قومی آبادی کونسل کے اجلاس کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ قومی آبادی کونسل سیکریٹریٹ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت قومی استحکام منصوبہ 2026ء تا 2035ء  تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں آبادی میں اضافے کی شرح کو کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت پاکستان کا ہدف موجودہ 2.55 فیصد آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح کو 2035 تک کم کرکے 1.25 فیصد تک لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قومی فریم ورک میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، سماجی تحفظ اور خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت نے متعدد وفاقی سماجی تحفظ کے پروگراموں کو آبادی بہبود سے متعلق شرائط کے ساتھ منسلک کرنے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو تیزی سے بڑھتی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں آبادی بہبود سے متعلق ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے آبادی پر قابو پانے کو قومی فریضہ قرار دیا اور اس مقصد کے لیے صوبوں کے ساتھ مؤثر رابطہ، تعاون اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی تاکہ ملک کی پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر قومی آبادی کونسل  کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے، جہاں آبادی سے متعلق ایک جامع قومی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔</p>
<p>اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو آبادی کے رجحانات اور قومی آبادی کونسل کے اجلاس کی تیاریوں پر بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ قومی آبادی کونسل سیکریٹریٹ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔</p>
<p>اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت قومی استحکام منصوبہ 2026ء تا 2035ء  تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں آبادی میں اضافے کی شرح کو کم کرنا ہے۔</p>
<p>منصوبے کے تحت پاکستان کا ہدف موجودہ 2.55 فیصد آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح کو 2035 تک کم کرکے 1.25 فیصد تک لانا ہے۔</p>
<p>نئے قومی فریم ورک میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، سماجی تحفظ اور خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت نے متعدد وفاقی سماجی تحفظ کے پروگراموں کو آبادی بہبود سے متعلق شرائط کے ساتھ منسلک کرنے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289089</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 09:58:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231419468ef6a4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231419468ef6a4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، بھارت دہشت گردی کا سرپرست، دراندازی کے الزامات بے بنیاد قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی سفارت کار نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ بھارت دہشت گردی کا سرپرست ہے اور اس کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس موقع پرانہوں نے پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے نئی دہلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق یہ بے بنیاد الزام دراصل پاکستان کے خلاف بھارت کی دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کو چھپانے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کا یہ ردِعمل اس سے قبل قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق بحث میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بالادستی رکھنے والے بالائی دریا کے ملک کی حیثیت کا یکطرفہ اور غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2080133812265111588?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2080133812265111588?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کا یہ ردِعمل اقوام متحدہ میں قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت بالائی دریا کے ملک کی حیثیت کا یکطرفہ اور غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اس نوعیت کا اقدام نہ تو 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے عمومی اصول اس کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیرقانونی اقدام ہے جو پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے روزگار، معاش اور فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جب جموں و کشمیر کا تنازع جو جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے کشیدگی کا ایک اہم مرکز رہا ہے بدستور موجود ہے۔ ایسی صورتحال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر بھارتی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر ہمارا موقف واضح اور مستقل ہے۔ باہمی اعتماد اور خیر سگالی کی بنیاد پر تعاون کی توقع اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک کہ سرحد پار دہشت گردی کو باقاعدہ طور پر ریاستی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سفیر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطل کرنے کی اجازت دینے والی کوئی شق شامل نہیں، انہوں نے نئی دہلی کے اس اقدام کو سراسر غیر قانونی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ کورٹ آف آربیٹریشن نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ اپنے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ساتھ اب بھی درست، پابند اور پوری طرح نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جبر کے لیے ایک مشترکہ قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قانونی دستاویزات اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفارت کار کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی کے الزام کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے دہشت گرد پراکسیز  ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ  نے ملک کی سرزمین پر خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو شہید کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انصارشاہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ شمالی امریکہ سمیت دیگر علاقوں میں ماورائے عدالت قتل میں بھارت کا ملوث ہونا بھی سب پر عیاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہی ہے۔ قابض طاقت کا کوئی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی اقدام جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے کی تاریخی، قانونی اور متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی سفارت کار نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ بھارت دہشت گردی کا سرپرست ہے اور اس کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس موقع پرانہوں نے پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے نئی دہلی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق یہ بے بنیاد الزام دراصل پاکستان کے خلاف بھارت کی دہشت گردی کی سرپرستی اور مالی معاونت کو چھپانے کی کوشش ہے۔</p>
<p>بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کا یہ ردِعمل اس سے قبل قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق بحث میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بالادستی رکھنے والے بالائی دریا کے ملک کی حیثیت کا یکطرفہ اور غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کرچکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2080133812265111588?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2080133812265111588?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کا یہ ردِعمل اقوام متحدہ میں قدرتی وسائل کی حکمرانی سے متعلق بحث کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت بالائی دریا کے ملک کی حیثیت کا یکطرفہ اور غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اس نوعیت کا اقدام نہ تو 1960 کے سندھ طاس معاہدے میں موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے عمومی اصول اس کی اجازت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیرقانونی اقدام ہے جو پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے روزگار، معاش اور فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ یہ سب ایسے وقت میں ہورہا ہے جب جموں و کشمیر کا تنازع جو جنوبی ایشیا میں طویل عرصے سے کشیدگی کا ایک اہم مرکز رہا ہے بدستور موجود ہے۔ ایسی صورتحال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس پر بھارتی سفیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر ہمارا موقف واضح اور مستقل ہے۔ باہمی اعتماد اور خیر سگالی کی بنیاد پر تعاون کی توقع اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک کہ سرحد پار دہشت گردی کو باقاعدہ طور پر ریاستی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہو۔</p>
<p>بھارتی سفیر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔</p>
<p>بھارت کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطل کرنے کی اجازت دینے والی کوئی شق شامل نہیں، انہوں نے نئی دہلی کے اس اقدام کو سراسر غیر قانونی قرار دیا۔</p>
<p>پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ کورٹ آف آربیٹریشن نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ اپنے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ساتھ اب بھی درست، پابند اور پوری طرح نافذ العمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جبر کے لیے ایک مشترکہ قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قانونی دستاویزات اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفارت کار کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔</p>
<p>دہشت گردی کے الزام کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے دہشت گرد پراکسیز  ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ  نے ملک کی سرزمین پر خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو شہید کیا ہے۔</p>
<p>انصارشاہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ شمالی امریکہ سمیت دیگر علاقوں میں ماورائے عدالت قتل میں بھارت کا ملوث ہونا بھی سب پر عیاں ہے۔</p>
<p>پاکستانی مندوب نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہی ہے۔ قابض طاقت کا کوئی بھی یکطرفہ یا غیر قانونی اقدام جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے کی تاریخی، قانونی اور متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289084</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 13:16:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231313098dadfe2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231313098dadfe2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اصلاحاتی پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289073/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی اور بیرونی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ساختی اصلاحات  پر بریفنگ دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں فرسٹ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف)، ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری وسیع تر اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، محصولات کے اہداف حاصل کیے گئے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری، ٹیرف میں تدریجی اصلاح ، قرضوں کا انتظام، مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر بھی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ملاقاتوں کے اختتام پر پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد اور اس کی پیش رفت کو تسلیم کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ایگزم بینک کے سربراہ سے ملاقات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ نے امریکی ایگزم بینک  کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے بھی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور کپاس، سویابین سمیت زرعی اجناس اور ہائیڈروکاربنز کی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت ترجیحی منصوبوں کو یکجا کرنے، کئی سال پر مشتمل مالیاتی منصوبہ بندی تیار کرنے اور امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ قریبی مدت کے منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی تقرری اور اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کیا جائے، تاکہ اسے ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی اور بیرونی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ساختی اصلاحات  پر بریفنگ دی۔</strong></p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں فرسٹ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا شامل تھیں۔</p>
<p>ملاقاتوں کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف)، ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری وسیع تر اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، محصولات کے اہداف حاصل کیے گئے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>ملاقاتوں میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری، ٹیرف میں تدریجی اصلاح ، قرضوں کا انتظام، مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر بھی گفتگو کی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ملاقاتوں کے اختتام پر پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد اور اس کی پیش رفت کو تسلیم کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p><strong>امریکی ایگزم بینک کے سربراہ سے ملاقات</strong></p>
<p>دریں اثنا، واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ نے امریکی ایگزم بینک  کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے بھی ملاقات کی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور کپاس، سویابین سمیت زرعی اجناس اور ہائیڈروکاربنز کی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت ترجیحی منصوبوں کو یکجا کرنے، کئی سال پر مشتمل مالیاتی منصوبہ بندی تیار کرنے اور امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔</p>
<p>دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ قریبی مدت کے منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی تقرری اور اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کیا جائے، تاکہ اسے ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289073</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:42:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23103956343ca34.webp" type="image/webp" medium="image" height="1066" width="1599">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23103956343ca34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی بینک کا ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے علاقائی روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے جدید انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر اے ڈی بی نے پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے والے اس اہم منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹرز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی اے ڈی بی کے نائب صدور ینگ منگ یانگ، فاطمہ یاسمین، دیگر اعلیٰ حکام اور پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنشیتا محسن سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور انفرااسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبہ حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی قومی انفرااسٹرکچر اسکیم ہے۔ انہوں نے منصوبے کے لیے اے ڈی بی کی قیادت میں کنسورشیم فنانسنگ کی حمایت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ قرض کی منظوری اور منصوبے پر پیش رفت کے مراحل کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے نائب صدور نے اس منصوبے کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری، علاقائی روابط کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، رابطوں اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور امریکا۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری، عالمی توانائی، بحری سلامتی اور تجارتی سپلائی چینز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے علاقائی روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے جدید انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر اے ڈی بی نے پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے والے اس اہم منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹرز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی اے ڈی بی کے نائب صدور ینگ منگ یانگ، فاطمہ یاسمین، دیگر اعلیٰ حکام اور پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنشیتا محسن سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور انفرااسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبہ حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی قومی انفرااسٹرکچر اسکیم ہے۔ انہوں نے منصوبے کے لیے اے ڈی بی کی قیادت میں کنسورشیم فنانسنگ کی حمایت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ قرض کی منظوری اور منصوبے پر پیش رفت کے مراحل کو تیز کیا جائے۔</p>
<p>اے ڈی بی کے نائب صدور نے اس منصوبے کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری، علاقائی روابط کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>دریں اثنا اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، رابطوں اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور امریکا۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری، عالمی توانائی، بحری سلامتی اور تجارتی سپلائی چینز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289067</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:28:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2309262299fc53f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2309262299fc53f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل اور حکومت کی اقتصادی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس  سے بڑھا کر بی  کر دی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بہتری معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں یہ بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، مالیاتی خسارہ کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات درست سمت میں گامزن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی فیصلے کیے، جن کے مثبت نتائج کو اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ اس اپ گریڈ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس کامیابی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، معاشی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مضبوط اور پائیدار معاشی بنیادوں کے قیام کے لیے مکمل سنجیدگی اور عزم کے ساتھ اقتصادی اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل اور حکومت کی اقتصادی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم آفس کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس  سے بڑھا کر بی  کر دی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بہتری معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں پیش رفت کی عکاس ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں یہ بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، مالیاتی خسارہ کم کرنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کے اقدامات درست سمت میں گامزن ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی فیصلے کیے، جن کے مثبت نتائج کو اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ اس اپ گریڈ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس کامیابی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، معاشی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مضبوط اور پائیدار معاشی بنیادوں کے قیام کے لیے مکمل سنجیدگی اور عزم کے ساتھ اقتصادی اصلاحات کا سفر جاری رکھے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289068</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:36:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/230933383dbf5e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/230933383dbf5e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، ایران کا سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289069/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران نے سیکیورٹی، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں سامنے آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں وزارت داخلہ پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ وفاقی کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں وزرائے داخلہ نے پہلے ون آن ون ملاقات کی اور پھر اپنے اپنے وفود کے ہمراہ تفصیلی مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مربوط اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے بالخصوص افغان سرحد سے متعلق سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی اقدامات دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ایف آئی اے، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران نے سیکیورٹی، سرحدی انتظام، انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے تین روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات میں سامنے آیا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں وزارت داخلہ پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ وفاقی کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں وزرائے داخلہ نے پہلے ون آن ون ملاقات کی اور پھر اپنے اپنے وفود کے ہمراہ تفصیلی مذاکرات کیے۔</p>
<p>ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، سرحدی سیکیورٹی اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی نقل مکانی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مربوط اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔</p>
<p>فریقین نے بالخصوص افغان سرحد سے متعلق سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھنے اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔</p>
<p>ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی کی خطے میں امن کے فروغ کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی اقدامات دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔</p>
<p>ایرانی وفد میں صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر برائے شہری ترقی و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ایف آئی اے، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289069</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:41:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23093957fe17751.webp" type="image/webp" medium="image" height="546" width="820">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23093957fe17751.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سعودی عرب اور جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں کی مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289061/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے بدھ کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ دھمکیاں آزادیٔ جہاز رانی کو نقصان پہنچانے، بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سمندری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول دفاعِ ذات کے حق میں قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ایک بار پھر مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے بدھ کو یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔</strong></p>
<p>دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ دھمکیاں آزادیٔ جہاز رانی کو نقصان پہنچانے، بین الاقوامی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔</p>
<p>وزارت نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی سمندری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول دفاعِ ذات کے حق میں قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔</p>
<p>پاکستان نے ایک بار پھر مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289061</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:19:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23091834493758f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23091834493758f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف کا مقامی روبوٹکس ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے قومی جدت طرازی کا نظام قائم کرنے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289056/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قومی جدت طرازی کے ایک متحدہ نظام کا حصہ بنیں اور پاکستان میں مقامی علم اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”انڈس آر اے ایس – روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے انقلاب سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، تاہم یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہماری جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور کسان ایک ایسے قومی جدت طرازی کے نظام کا حصہ بنیں جہاں ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی ہو، پاکستان کی ملکیت ہو اور ملک ہی میں مسلسل آگے بڑھایا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے زور دیا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کا انقلاب صرف ترقی یافتہ معیشتوں، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور گلوبل ساؤتھ میں کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان جدت کاروں اور محروم طبقات کی زندگی بہتر بنا کر جامع معاشی ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہمیں واضح ریگولیٹری اور اخلاقی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا تاکہ خودکار نظام محفوظ، قابلِ اعتماد، شفاف ہوں اور ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں استعمال کیے جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ، جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین، مختلف برانڈز، کمپنیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس موقع پر دو اہم حکومتی اقدامات کا بھی اعلان کیا، جن کا مقصد ملک میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے مستقبل کو نئی سمت دینا ہے۔ ان میں ”اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام“ کا اجرا شامل ہے، جس کے تحت پاکستان کی تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی کاروباری اداروں اور اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی ملازمتوں میں تبدیل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 20 ملین ڈالر کے ابتدائی سرمائے سے پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد ملک کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جس روبوٹس اور خودکار مشینوں کے مستقبل کا خواہاں ہے، وہ محض ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ 25 کروڑ باہمت عوام کی کہانی ہے، جو نئے امکانات تلاش کرنے، عالمی مقابلے میں آگے بڑھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنے کے عزم سے سرشار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”یہ دراصل ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کی کہانی ہے، جن کے خواب تجسس کی چنگاری سے روشن ہوتے ہیں، جن کی صلاحیتیں بے حد و حساب ہیں اور جن کی اختراعی سوچ پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایسے تاریخی موقع پر کھڑا ہے جسے ”ہم نہ گنوائیں گے اور نہ ہی گنوانے دیں گے، ان شاء اللہ“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”پاکستان ایسا ملک نہیں ہوگا جو دوسروں کے فیصلوں کا صرف وارث بنے، بلکہ ہم جدت، کاروباری صلاحیت، خودانحصاری اور انتھک محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود رقم کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مسلسل محنت، عزم اور قربانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان تعمیر کیا جائے گا، جس پر ہماری آئندہ نسلیں فخر کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انڈس آر اے ایس ایکسپو کو ”ایک تاریخی اقدام“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز میں نمایاں مقام حاصل کرے گا جو اکیسویں صدی کی سمت کا تعین کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی تھی، جس میں حکومتوں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، محققین اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے مستقبل کی سمت متعین کرنے پر غور کیا۔ ان کے بقول آر اے ایس ایکسپو نے اس وژن کو عملی شکل دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جدت کو ایسے قابلِ عمل حل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو معیشت کو مضبوط، قومی سلامتی کو مستحکم اور عوام کی زندگی کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم تاریخ کے ایک غیرمعمولی دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں مشینیں اب صرف حساب کتاب نہیں کرتیں بلکہ دیکھ سکتی ہیں، فیصلے کر سکتی ہیں اور تیزی سے عمل بھی کر سکتی ہیں۔ جو چیز کبھی محض تصور سمجھی جاتی تھی، آج ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کسان قدرتی حالات کے رحم و کرم پر ہوتے تھے اور انہیں پانی کی قلت، پیداواری لاگت میں اضافے، چھوٹے زرعی رقبوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی بدولت زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جبکہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی یہی ٹیکنالوجی ایسے علاقوں تک رسائی اور انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوئی جہاں سڑکیں اور پل بہہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں مقامی خودکار صلاحیتوں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک قیادت میں ہماری مسلح افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجیز اختیار کی ہیں، جن میں سے بعض کا مظاہرہ میں نے اس ہال کے باہر خود دیکھا۔ میں نے ایسے سیمولیٹرز دیکھے جو سو فیصد پاکستان میں تیار اور اسمبل کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرونز کی مقامی تیاری کا تناسب 60 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، ماہرین، پیشہ ور افراد اور ٹیکنوکریٹس کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کے تعاون سے جدید خودکار نظاموں کے مؤثر استعمال کے ذریعے ملکی سرحدوں اور سائبر محاذ کا بھرپور دفاع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کے تحفظ کا غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے بلکہ جدید خودکار دفاعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے مقامی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور عملی استعداد بھی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”یہ دفاعی پیش رفت ہماری قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے، جو ہمارے دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط، ناقابلِ تسخیر اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر بنائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کرنے والے ممالک ہی مستقبل کی عالمی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین پر اپنی ملکیت قائم کرے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خودانحصاری قومی فیصلہ ہے اور اب اس پر عملدرآمد کا وقت آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا واضح وژن اختیار کیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت، روزگار اور قومی مسابقت کی اصل محرک بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہی ہے جہاں وہ عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا، جو ہماری صنعت کی مضبوطی اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اسی دوران پاکستان ای-گورننس ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 14 درجے اور آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 27 درجے بہتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قومی جدت طرازی کے ایک متحدہ نظام کا حصہ بنیں اور پاکستان میں مقامی علم اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔</strong></p>
<p>”انڈس آر اے ایس – روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے انقلاب سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، تاہم یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہماری جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور کسان ایک ایسے قومی جدت طرازی کے نظام کا حصہ بنیں جہاں ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی ہو، پاکستان کی ملکیت ہو اور ملک ہی میں مسلسل آگے بڑھایا جائے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے زور دیا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کا انقلاب صرف ترقی یافتہ معیشتوں، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور گلوبل ساؤتھ میں کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان جدت کاروں اور محروم طبقات کی زندگی بہتر بنا کر جامع معاشی ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔</p>
<p>ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تیز رفتار پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہمیں واضح ریگولیٹری اور اخلاقی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا تاکہ خودکار نظام محفوظ، قابلِ اعتماد، شفاف ہوں اور ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں استعمال کیے جائیں۔“</p>
<p>وزیراعظم نے جدت طرازی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ، جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔</p>
<p>تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین، مختلف برانڈز، کمپنیوں اور طلبہ نے شرکت کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس موقع پر دو اہم حکومتی اقدامات کا بھی اعلان کیا، جن کا مقصد ملک میں روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے مستقبل کو نئی سمت دینا ہے۔ ان میں ”اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام“ کا اجرا شامل ہے، جس کے تحت پاکستان کی تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، بین الاقوامی سطح پر مسابقتی کاروباری اداروں اور اعلیٰ پیداواری صلاحیت رکھنے والی ملازمتوں میں تبدیل کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے 20 ملین ڈالر کے ابتدائی سرمائے سے پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد ملک کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جس روبوٹس اور خودکار مشینوں کے مستقبل کا خواہاں ہے، وہ محض ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ 25 کروڑ باہمت عوام کی کہانی ہے، جو نئے امکانات تلاش کرنے، عالمی مقابلے میں آگے بڑھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کرنے کے عزم سے سرشار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”یہ دراصل ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کی کہانی ہے، جن کے خواب تجسس کی چنگاری سے روشن ہوتے ہیں، جن کی صلاحیتیں بے حد و حساب ہیں اور جن کی اختراعی سوچ پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔“</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان ایک ایسے تاریخی موقع پر کھڑا ہے جسے ”ہم نہ گنوائیں گے اور نہ ہی گنوانے دیں گے، ان شاء اللہ“۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”پاکستان ایسا ملک نہیں ہوگا جو دوسروں کے فیصلوں کا صرف وارث بنے، بلکہ ہم جدت، کاروباری صلاحیت، خودانحصاری اور انتھک محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود رقم کریں گے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مسلسل محنت، عزم اور قربانی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان تعمیر کیا جائے گا، جس پر ہماری آئندہ نسلیں فخر کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے انڈس آر اے ایس ایکسپو کو ”ایک تاریخی اقدام“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان ان ٹیکنالوجیز میں نمایاں مقام حاصل کرے گا جو اکیسویں صدی کی سمت کا تعین کریں گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے یاد دلایا کہ رواں سال کے آغاز میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی کی تھی، جس میں حکومتوں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، محققین اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے مستقبل کی سمت متعین کرنے پر غور کیا۔ ان کے بقول آر اے ایس ایکسپو نے اس وژن کو عملی شکل دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ جدت کو ایسے قابلِ عمل حل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو معیشت کو مضبوط، قومی سلامتی کو مستحکم اور عوام کی زندگی کو بہتر بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم تاریخ کے ایک غیرمعمولی دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں مشینیں اب صرف حساب کتاب نہیں کرتیں بلکہ دیکھ سکتی ہیں، فیصلے کر سکتی ہیں اور تیزی سے عمل بھی کر سکتی ہیں۔ جو چیز کبھی محض تصور سمجھی جاتی تھی، آج ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کسان قدرتی حالات کے رحم و کرم پر ہوتے تھے اور انہیں پانی کی قلت، پیداواری لاگت میں اضافے، چھوٹے زرعی رقبوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی بدولت زرعی شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جبکہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں بھی یہی ٹیکنالوجی ایسے علاقوں تک رسائی اور انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوئی جہاں سڑکیں اور پل بہہ گئے تھے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں مقامی خودکار صلاحیتوں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی متحرک قیادت میں ہماری مسلح افواج نے جدید ترین ٹیکنالوجیز اختیار کی ہیں، جن میں سے بعض کا مظاہرہ میں نے اس ہال کے باہر خود دیکھا۔ میں نے ایسے سیمولیٹرز دیکھے جو سو فیصد پاکستان میں تیار اور اسمبل کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرونز کی مقامی تیاری کا تناسب 60 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، ماہرین، پیشہ ور افراد اور ٹیکنوکریٹس کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کے تعاون سے جدید خودکار نظاموں کے مؤثر استعمال کے ذریعے ملکی سرحدوں اور سائبر محاذ کا بھرپور دفاع کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کے تحفظ کا غیرمتزلزل عزم رکھتا ہے بلکہ جدید خودکار دفاعی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے مقامی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور عملی استعداد بھی رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”یہ دفاعی پیش رفت ہماری قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے، جو ہمارے دفاعی ڈھانچے کو مزید مضبوط، ناقابلِ تسخیر اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر بنائے گی۔“</p>
<p>اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کرنے والے ممالک ہی مستقبل کی عالمی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین پر اپنی ملکیت قائم کرے گا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی میں خودانحصاری قومی فیصلہ ہے اور اب اس پر عملدرآمد کا وقت آ چکا ہے۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کا واضح وژن اختیار کیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی صرف معیشت کا ایک شعبہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت، روزگار اور قومی مسابقت کی اصل محرک بن چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہی ہے جہاں وہ عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال آئی سی ٹی برآمدات میں تقریباً 21 فیصد اضافہ ہوا، جو ہماری صنعت کی مضبوطی اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اسی دوران پاکستان ای-گورننس ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 14 درجے اور آئی ٹی یو کے آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں 27 درجے بہتری حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289056</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 19:03:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22185232ab42e1f.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22185232ab42e1f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں 10 دہشت گرد ہلاک، دو خواتین خودکش بمبار دھرلی گئیں، آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289051/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں قائم ”فتنہ الہندوستان“ اور“فتنہ الخوارج“ کے گٹھ جوڑ سے تعلق رکھنے والے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے تسلسل میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے باقی ماندہ عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع مشترکہ آپریشنز جاری ہیں۔بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقے کو پاک کرنے اور ہدف شدہ کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ضلع سوراب میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ضلع مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد ہلاک اور ایک سہولت کار سمیت دو خاتون خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل جولائی کے شروع میں بلوچستان میں تین بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں کم از کم 54 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف دہشت گردانہ حملوں میں 42 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ حالیہ حملے مخالف فورسز کی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں کی ایک منظم مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ حملے بھارت سے جڑی ان دشمن قوتوں کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی عزت، خوشحالی اور استحکام کو برداشت نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں قائم ”فتنہ الہندوستان“ اور“فتنہ الخوارج“ کے گٹھ جوڑ سے تعلق رکھنے والے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد گٹھ جوڑ کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے تسلسل میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے باقی ماندہ عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع مشترکہ آپریشنز جاری ہیں۔بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقے کو پاک کرنے اور ہدف شدہ کارروائیاں کیں۔ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ضلع سوراب میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ضلع مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں قائم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گرد ہلاک اور ایک سہولت کار سمیت دو خاتون خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا گیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرست دہشت گرد کے خاتمے کے لیے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اس سے قبل جولائی کے شروع میں بلوچستان میں تین بڑی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں کم از کم 54 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ مختلف دہشت گردانہ حملوں میں 42 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ حالیہ حملے مخالف فورسز کی پشت پناہی سے دہشت گرد گروہوں کی ایک منظم مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ حملے بھارت سے جڑی ان دشمن قوتوں کی مدد سے کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی عزت، خوشحالی اور استحکام کو برداشت نہیں کر سکتیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289051</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 16:09:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22160144f436064.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22160144f436064.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت مانگ لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289027/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں مالی مشکلات سے دوچار پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس درخواست کی خبر پہلی بار سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت ایران جنگ کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد ہوئی، جس سے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا اور امریکا سمیت دیگر شراکت داروں سے معاشی تعاون حاصل کرنے کی امیدیں پیدا ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکا اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کی مدت پانچ سال تک رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، روپے پر دباؤ کم ہوگا اور ملک کا انحصار کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر بھی کم ہو جائے گا، جبکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مانیٹری اصلاحات جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات میں کمی اور دیگر غیر مقبول اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت خزانہ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولتیں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے دی جاتی ہیں، جن کے تحت ڈالر، کرنسی سویپ یا ضمانتیں فراہم کرکے کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی کو سہارا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولتیں امریکی فیڈرل ریزرو کی ان مستقل ڈالر سویپ لائنز سے مختلف ہوتی ہیں جو چند بڑی مرکزی بینکوں کے ساتھ قائم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں ارجنٹینا کو دی جانے والی سہولت 2002 میں یوراگوئے کے بعد کسی غیر ملکی حکومت کے لیے پہلی نئی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت تھی، جبکہ میکسیکو کی مستقل سویپ لائن 1940 کی دہائی سے موجود ہے اور اس کا حجم 9 ارب ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان 2023 میں 3 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی معاہدے کے ذریعے ڈیفالٹ سے بچا تھا، بعد ازاں اسے 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کا الگ قرض بھی ملا۔ اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی چین اور سعودی عرب کی مالی معاونت، رول اوورز اور سرکاری ڈپازٹس پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں یہ کمزوری اس وقت نمایاں ہوئی جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جو اس وقت کے زرمبادلہ ذخائر کا تقریباً 20 فیصد حصہ تھے، جبکہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی نئی معاونت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے جنوری میں کہا تھا کہ 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 20 ارب ڈالر کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن سے تعلقات کو نئی جہت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت نہ صرف پاکستان کے لیے مالیاتی سہارا ثابت ہوگی بلکہ یہ ایک مضبوط سیاسی اشارہ بھی سمجھی جائے گی۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کو استحکام ملے گا اور آئی ایم ایف کی قسطوں یا ہنگامی مالی امداد پر انحصار کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فچ ریٹنگز نے اپریل میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر پاکستان کے عمل درآمد نے اس کی مالیاتی صلاحیت بہتر بنائی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی جیسے بیرونی جھٹکوں کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فچ نے خبردار کیا تھا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی میں رکاوٹیں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی محدود ہے، جس کی وجہ بار بار پیدا ہونے والے بیرونی مالی بحران، پالیسی میں غیر یقینی، سیکیورٹی خدشات، منافع کی بیرون ملک منتقلی پر ماضی کی پابندیاں، محدود برآمدی بنیاد اور کمزور کریڈٹ ریٹنگ ہے، جس کے باعث قرض لینے کی لاگت زیادہ اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو معاشی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تعاون میں کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ اور کان کنی کے شعبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ ادارے کے ساتھ اسٹیبل کوائن معاہدہ کیا ہے، نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِنو ترقی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر کام کیا ہے، جبکہ ریکوڈک سمیت کان کنی کے منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک پہلے ہی 1.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاملے سے آگاہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں مالی مشکلات سے دوچار پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔</strong></p>
<p>اس درخواست کی خبر پہلی بار سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت ایران جنگ کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد ہوئی، جس سے اسلام آباد کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا اور امریکا سمیت دیگر شراکت داروں سے معاشی تعاون حاصل کرنے کی امیدیں پیدا ہوئیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں امریکا اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کی مدت پانچ سال تک رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔</p>
<p>اگر یہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، روپے پر دباؤ کم ہوگا اور ملک کا انحصار کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے قرضوں پر بھی کم ہو جائے گا، جبکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مانیٹری اصلاحات جاری رکھے گا۔</p>
<p>پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات میں کمی اور دیگر غیر مقبول اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت خزانہ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔</p>
<p>ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولتیں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ عموماً ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے دی جاتی ہیں، جن کے تحت ڈالر، کرنسی سویپ یا ضمانتیں فراہم کرکے کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی کو سہارا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ سہولتیں امریکی فیڈرل ریزرو کی ان مستقل ڈالر سویپ لائنز سے مختلف ہوتی ہیں جو چند بڑی مرکزی بینکوں کے ساتھ قائم ہیں۔</p>
<p>2025 میں ارجنٹینا کو دی جانے والی سہولت 2002 میں یوراگوئے کے بعد کسی غیر ملکی حکومت کے لیے پہلی نئی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت تھی، جبکہ میکسیکو کی مستقل سویپ لائن 1940 کی دہائی سے موجود ہے اور اس کا حجم 9 ارب ڈالر ہے۔</p>
<p>پاکستان 2023 میں 3 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی معاہدے کے ذریعے ڈیفالٹ سے بچا تھا، بعد ازاں اسے 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کا الگ قرض بھی ملا۔ اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی چین اور سعودی عرب کی مالی معاونت، رول اوورز اور سرکاری ڈپازٹس پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>اپریل میں یہ کمزوری اس وقت نمایاں ہوئی جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جو اس وقت کے زرمبادلہ ذخائر کا تقریباً 20 فیصد حصہ تھے، جبکہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی نئی معاونت فراہم کی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے جنوری میں کہا تھا کہ 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 20 ارب ڈالر کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>واشنگٹن سے تعلقات کو نئی جہت</strong></p>
<p>امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت نہ صرف پاکستان کے لیے مالیاتی سہارا ثابت ہوگی بلکہ یہ ایک مضبوط سیاسی اشارہ بھی سمجھی جائے گی۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کو استحکام ملے گا اور آئی ایم ایف کی قسطوں یا ہنگامی مالی امداد پر انحصار کم ہوگا۔</p>
<p>فچ ریٹنگز نے اپریل میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر پاکستان کے عمل درآمد نے اس کی مالیاتی صلاحیت بہتر بنائی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی جیسے بیرونی جھٹکوں کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کیا ہے۔</p>
<p>تاہم فچ نے خبردار کیا تھا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی میں رکاوٹیں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی محدود ہے، جس کی وجہ بار بار پیدا ہونے والے بیرونی مالی بحران، پالیسی میں غیر یقینی، سیکیورٹی خدشات، منافع کی بیرون ملک منتقلی پر ماضی کی پابندیاں، محدود برآمدی بنیاد اور کمزور کریڈٹ ریٹنگ ہے، جس کے باعث قرض لینے کی لاگت زیادہ اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔</p>
<p>حکومت نے ان مسائل کے حل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو معاشی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تعاون میں کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ اور کان کنی کے شعبے شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے وابستہ ادارے کے ساتھ اسٹیبل کوائن معاہدہ کیا ہے، نیویارک میں پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِنو ترقی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر کام کیا ہے، جبکہ ریکوڈک سمیت کان کنی کے منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک پہلے ہی 1.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289027</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 09:53:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/220951002cef31d.webp" type="image/webp" medium="image" height="594" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/220951002cef31d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد اورنگزیب کی امریکی وزیر خزانہ سے ملاقات، معاشی تعاون بڑھانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289028/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کے لیے امریکا سے مزید تعاون کی درخواست کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ سے ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معیشت کے میکرو اکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب سفر کو اجاگر کیا، جبکہ اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو جاری بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے پاکستان کی مارکیٹ تک رسائی کے سفر کے لیے امریکا سے زیادہ تعاون کی درخواست کی، جس میں بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور اسٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے نمائندوں سے ملاقات میں نجی شعبے کی قیادت میں چلنے والے ترجیحی منصوبوں کے لیے تیز رفتار معاونت کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، معدنیات، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کا اہم حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے نشاندہی کی کہ بندرگاہوں، ٹیلی کمیونیکیشن، آئی ٹی، توانائی، معدنیات، دواسازی، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کی ترقی پر ڈی ایف سی کی توجہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈی ایف سی کے ایک وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تاکہ سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر قابل عمل کاروباری منصوبے تیار کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، ملاقات میں پاکستان میں ڈی ایف سی کے نمائندہ دفتر کے قیام اور مستقبل میں آنے والے امریکی کانگریسی وفود کے ساتھ روابط کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کے لیے امریکا سے مزید تعاون کی درخواست کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔</strong></p>
<p>امریکی وزیر خزانہ سے ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معیشت کے میکرو اکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب سفر کو اجاگر کیا، جبکہ اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>بدھ کو جاری بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے پاکستان کی مارکیٹ تک رسائی کے سفر کے لیے امریکا سے زیادہ تعاون کی درخواست کی، جس میں بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک بہتر رسائی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری شامل ہے۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، امریکی سرمایہ کاری میں اضافے اور اسٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔</p>
<p>دریں اثنا، وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے نمائندوں سے ملاقات میں نجی شعبے کی قیادت میں چلنے والے ترجیحی منصوبوں کے لیے تیز رفتار معاونت کی درخواست کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، معدنیات، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کا اہم حصہ ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے نشاندہی کی کہ بندرگاہوں، ٹیلی کمیونیکیشن، آئی ٹی، توانائی، معدنیات، دواسازی، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین کی ترقی پر ڈی ایف سی کی توجہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ڈی ایف سی کے ایک وفد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تاکہ سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر قابل عمل کاروباری منصوبے تیار کیے جا سکیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق، ملاقات میں پاکستان میں ڈی ایف سی کے نمائندہ دفتر کے قیام اور مستقبل میں آنے والے امریکی کانگریسی وفود کے ساتھ روابط کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289028</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 10:03:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/221000379f4d7ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="852" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/221000379f4d7ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تین ڈسکوز کی نجکاری، نجکاری کمیشن کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے فقدان کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289026/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں  بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے جاری مہم کو پالیسی میں عدم تسلسل اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نجکاری کمیشن (پی سی) کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی سربراہی میں نجکاری کمیشن کے وفد نے پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کے لیے ترکیہ، سعودی عرب اور چین میں روڈ شوز منعقد کیے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تقریباً آٹھ شہروں میں بھی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن اور اس کے مالیاتی مشیر نے 30 سے زائد مقامی کاروباری اداروں اور 23 سے زائد بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں، جبکہ صرف ترکیہ میں 11 بڑے کاروباری گروپوں کو علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی گئی۔ وفد نے ترکیہ کی انرجی مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی  اور وزارت توانائی سے بھی ملاقاتیں کیں، جبکہ سعودی عرب اور چین میں بھی متعدد کاروباری گروپوں سے رابطے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے نجکاری کے بعد کے نظام، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور پالیسی میں بار بار تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی پر مبنی مراعات، ڈسکوز کے اثاثوں کا مؤثر استعمال اور صارفین کو اس کے فوائد کی منتقلی سے بجلی کے نرخ کم کیے جا سکتے ہیں۔ مارکیٹ کو مزید آزاد بنانے سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ مقامی کنسورشیم دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم صنعت کار میاں ادریس کی حالیہ گرفتاری نے خصوصاً فیصل آباد کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ پی آئی اے سے وابستہ گروپس، ٹیکسٹائل شعبے کے سرمایہ کار اور ایک سابق وفاقی وزیر بھی ڈسکوز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ حکومت ریگولیٹری اصلاحات، آپریشنل بہتری، بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل اور خود بجلی پیدا کرنے کی اجازت کے ذریعے سرمایہ کاروں کو 18 سے 20 فیصد تک منافع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی منافع 14 سے 15 فیصد ہوگا، جسے بہتر کارکردگی کے ذریعے بڑھایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ حکومت روپے پر مبنی ٹیرف برقرار رکھے گی اور مقامی سرمایہ کاروں نے ڈالر پر مبنی ٹیرف کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی صارفین کی ڈسکوز سے منتقلی کے رجحان کے باعث ڈالر میں منافع کی ضمانت قابل عمل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے نیپرا کو مزید مضبوط بنانے، اس کے صوابدیدی اختیارات محدود کرنے، خود بجلی پیدا کرنے کی اجازت دینے، حکومت کے کردار میں کمی اور بجلی کی خرید و فروخت میں مسابقت بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے دلچسپی کے اظہار (ای او آئیز) جمع کرانے کی آخری تاریخیں بالترتیب 7 جولائی، 7 اگست اور 7 ستمبر 2026 ہیں، جبکہ بولیوں کا عمل اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا ہدف مالی سال 2026-27 کے دوران تین ڈسکوز کی نجکاری اور حیسکو و سیپکو کو طویل المدتی کنسیشن معاہدوں کے تحت پیش کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں  بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے جاری مہم کو پالیسی میں عدم تسلسل اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نجکاری کمیشن (پی سی) کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی سربراہی میں نجکاری کمیشن کے وفد نے پہلے مرحلے میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کے لیے ترکیہ، سعودی عرب اور چین میں روڈ شوز منعقد کیے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تقریباً آٹھ شہروں میں بھی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کی گئیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن اور اس کے مالیاتی مشیر نے 30 سے زائد مقامی کاروباری اداروں اور 23 سے زائد بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں، جبکہ صرف ترکیہ میں 11 بڑے کاروباری گروپوں کو علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی گئی۔ وفد نے ترکیہ کی انرجی مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی  اور وزارت توانائی سے بھی ملاقاتیں کیں، جبکہ سعودی عرب اور چین میں بھی متعدد کاروباری گروپوں سے رابطے کیے گئے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے نجکاری کے بعد کے نظام، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور پالیسی میں بار بار تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی پر مبنی مراعات، ڈسکوز کے اثاثوں کا مؤثر استعمال اور صارفین کو اس کے فوائد کی منتقلی سے بجلی کے نرخ کم کیے جا سکتے ہیں۔ مارکیٹ کو مزید آزاد بنانے سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیر غور آئیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی، لاہور اور فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے کم از کم پانچ مقامی کنسورشیم دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم صنعت کار میاں ادریس کی حالیہ گرفتاری نے خصوصاً فیصل آباد کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ پی آئی اے سے وابستہ گروپس، ٹیکسٹائل شعبے کے سرمایہ کار اور ایک سابق وفاقی وزیر بھی ڈسکوز خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔</p>
<p>محمد علی نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ حکومت ریگولیٹری اصلاحات، آپریشنل بہتری، بجلی کی خرید و فروخت کے نئے ماڈل اور خود بجلی پیدا کرنے کی اجازت کے ذریعے سرمایہ کاروں کو 18 سے 20 فیصد تک منافع فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی منافع 14 سے 15 فیصد ہوگا، جسے بہتر کارکردگی کے ذریعے بڑھایا جا سکے گا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ حکومت روپے پر مبنی ٹیرف برقرار رکھے گی اور مقامی سرمایہ کاروں نے ڈالر پر مبنی ٹیرف کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی صارفین کی ڈسکوز سے منتقلی کے رجحان کے باعث ڈالر میں منافع کی ضمانت قابل عمل نہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے نیپرا کو مزید مضبوط بنانے، اس کے صوابدیدی اختیارات محدود کرنے، خود بجلی پیدا کرنے کی اجازت دینے، حکومت کے کردار میں کمی اور بجلی کی خرید و فروخت میں مسابقت بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے دلچسپی کے اظہار (ای او آئیز) جمع کرانے کی آخری تاریخیں بالترتیب 7 جولائی، 7 اگست اور 7 ستمبر 2026 ہیں، جبکہ بولیوں کا عمل اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 میں مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا ہدف مالی سال 2026-27 کے دوران تین ڈسکوز کی نجکاری اور حیسکو و سیپکو کو طویل المدتی کنسیشن معاہدوں کے تحت پیش کرنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289026</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 09:41:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22093707c23ad2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22093707c23ad2b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزانہ قیمتوں کے نظام کے تحت حکومت نے پیٹرول 4.93 اور ڈیزل 7.15 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289019/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے منگل کو نئی متعارف کرائی گئی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت 22 جولائی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس کے تحت پیٹرول 4.93 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) 7.15 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت کے نظرثانی شدہ روزانہ قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے مطابق ایکس ڈپو قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/212251486e8c283.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/212251486e8c283.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت 315.80 روپے سے بڑھا کر 320.73 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 360.06 روپے سے بڑھا کر 367.21 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تازہ ردوبدل عالمی تیل منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کے نظام کے نفاذ کے بعد کیا گیا ہے، جس نے سابقہ ہفتہ وار قیمتوں کے نظام کی جگہ لے لی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے منگل کو نئی متعارف کرائی گئی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت 22 جولائی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس کے تحت پیٹرول 4.93 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) 7.15 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا۔</strong></p>
<p>وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت کے نظرثانی شدہ روزانہ قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے مطابق ایکس ڈپو قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/212251486e8c283.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/212251486e8c283.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت 315.80 روپے سے بڑھا کر 320.73 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 360.06 روپے سے بڑھا کر 367.21 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>یہ تازہ ردوبدل عالمی تیل منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کے نظام کے نفاذ کے بعد کیا گیا ہے، جس نے سابقہ ہفتہ وار قیمتوں کے نظام کی جگہ لے لی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289019</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 23:15:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21230816c7f8f58.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21230816c7f8f58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات، وزیراعظم شہباز شریف کا علاقائی امن کے لیے عزم کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289012/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کے دوران علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس سے جاری  اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ڈائریکٹر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اپنے حالیہ دورۂ تہران کو یاد کیا اور ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔شہباز شریف نے خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے عزم پر قائم رہتے ہوئے ایک  منصفانہ اور مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔اسکندر مومنی نے گرمجوشانہ استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایرانی قیادت کی طرف سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اس اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ایرانی وزیر نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشوں نے اسلام آباد معاہدے  کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رواں ماہ کے شروع میں مرحوم ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران کا سفر کرنے پر بھی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کے دوران علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم آفس سے جاری  اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ڈائریکٹر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>ایرانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اپنے حالیہ دورۂ تہران کو یاد کیا اور ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔شہباز شریف نے خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے عزم پر قائم رہتے ہوئے ایک  منصفانہ اور مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔اسکندر مومنی نے گرمجوشانہ استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایرانی قیادت کی طرف سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اس اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ایرانی وزیر نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشوں نے اسلام آباد معاہدے  کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے رواں ماہ کے شروع میں مرحوم ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران کا سفر کرنے پر بھی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289012</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 19:39:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21193520bcfcd03.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21193520bcfcd03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے ارٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی "پرائم منسٹر آفس سسٹم " کا افتتاح کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پر مبنی  پرائم منسٹر آفس سسٹم (پی ایم او ایس) کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت روایتی کاغذی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل عمل سے بدل دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تمام متعلقہ حکام کو نئے اے آئی پر مبنی سسٹم کے فوری اور مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے اس سسٹم کو ایک انقلابی ڈیجیٹل پلیٹ فارم قرار دیا جو وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ ہر ہدایت کو ریکارڈ، منتقل، مانیٹر اور ٹریک کر کے حکمرانی کے نظام کو جدید بنائے گا۔حکومتی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے بعد وہ ان میں سے کسی کو بھی ہاتھ میں فائل اٹھائے دیکھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہر معاملے پر اسی نظام کے ذریعے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس سسٹم کو تیار کرنے اور فعال بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور سیکرٹری آئی ٹی کی کارکردگی کو بھی سراہا۔انہوں نے تمام وزارتوں اور سرکاری شعبوں پر زور دیا کہ وہ اس پلیٹ فارم کو اپنائیں، کیونکہ اس سے حکومت کی نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کو اے آئی پر مبنی اس پلیٹ فارم اور اس کے مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔انہیں بتایا گیا کہ پی ایم او ایس  پاکستان میں پہلا ایسا سرکاری پلیٹ فارم ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو فیصلے سازی اور عملدرآمد کی نگرانی کے بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو وفاقی حکومت کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے مطابق پی ایم او ایس کو مرکزی حکومت کی سطح پر تیار کیا گیا ہے، تاکہ تمام سرکاری مشینری تک وزیراعظم کی ہدایات کی موثر منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے اور مقررہ معیار کے مطابق بروقت عملدرآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔یہ سسٹم ایک محفوظ آئی ٹی ماحول میں تجزیاتی ڈیٹا اور ترتیب شدہ معلومات کو یکجا کر کے فیصلے سازی میں معاونت فراہم کرنے والے ایک محفوظ تکنیکی پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پی ایم او ایس حکومت کو تکنیکی، انسانی اور مالی وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل بنا کر مسلسل پالیسی سازی اور بہتر معاشی نتائج حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔وزیراعظم آفس میں اس پلیٹ فارم کو متعارف کرانے کا مقصد اعلیٰ ترین سطح پر انتظامی اصلاحات کو نافذ کرنا ہے، جس کے بعد اسے دیگر تمام انتظامی ڈھانچوں تک وسعت دی جائے گی۔اس پلیٹ فارم کے مرکز میں ایک جامع ڈیجیٹل ذخیرہ (ڈیجیٹل ریپوزٹری) موجود ہے جو وزیراعظم کی جاری کردہ ہر ہدایت کو اس پر ہونے والے مکمل عملدرآمد کے ریکارڈ کے ساتھ محفوظ کرتا ہے، جس سے پی ایم او ایس ایک ادارہ جاتی معلومات کا ذریعہ اور سرکاری فیصلے سازی کا ایک مستقل ریکارڈ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) پر مبنی  پرائم منسٹر آفس سسٹم (پی ایم او ایس) کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت روایتی کاغذی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل عمل سے بدل دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تمام متعلقہ حکام کو نئے اے آئی پر مبنی سسٹم کے فوری اور مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے اس سسٹم کو ایک انقلابی ڈیجیٹل پلیٹ فارم قرار دیا جو وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ ہر ہدایت کو ریکارڈ، منتقل، مانیٹر اور ٹریک کر کے حکمرانی کے نظام کو جدید بنائے گا۔حکومتی عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے بعد وہ ان میں سے کسی کو بھی ہاتھ میں فائل اٹھائے دیکھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ہر معاملے پر اسی نظام کے ذریعے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس سسٹم کو تیار کرنے اور فعال بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور سیکرٹری آئی ٹی کی کارکردگی کو بھی سراہا۔انہوں نے تمام وزارتوں اور سرکاری شعبوں پر زور دیا کہ وہ اس پلیٹ فارم کو اپنائیں، کیونکہ اس سے حکومت کی نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کو اے آئی پر مبنی اس پلیٹ فارم اور اس کے مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔انہیں بتایا گیا کہ پی ایم او ایس  پاکستان میں پہلا ایسا سرکاری پلیٹ فارم ہے جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو فیصلے سازی اور عملدرآمد کی نگرانی کے بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو وفاقی حکومت کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔</p>
<p>بریفنگ کے مطابق پی ایم او ایس کو مرکزی حکومت کی سطح پر تیار کیا گیا ہے، تاکہ تمام سرکاری مشینری تک وزیراعظم کی ہدایات کی موثر منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے اور مقررہ معیار کے مطابق بروقت عملدرآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔یہ سسٹم ایک محفوظ آئی ٹی ماحول میں تجزیاتی ڈیٹا اور ترتیب شدہ معلومات کو یکجا کر کے فیصلے سازی میں معاونت فراہم کرنے والے ایک محفوظ تکنیکی پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔</p>
<p>بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پی ایم او ایس حکومت کو تکنیکی، انسانی اور مالی وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل بنا کر مسلسل پالیسی سازی اور بہتر معاشی نتائج حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔وزیراعظم آفس میں اس پلیٹ فارم کو متعارف کرانے کا مقصد اعلیٰ ترین سطح پر انتظامی اصلاحات کو نافذ کرنا ہے، جس کے بعد اسے دیگر تمام انتظامی ڈھانچوں تک وسعت دی جائے گی۔اس پلیٹ فارم کے مرکز میں ایک جامع ڈیجیٹل ذخیرہ (ڈیجیٹل ریپوزٹری) موجود ہے جو وزیراعظم کی جاری کردہ ہر ہدایت کو اس پر ہونے والے مکمل عملدرآمد کے ریکارڈ کے ساتھ محفوظ کرتا ہے، جس سے پی ایم او ایس ایک ادارہ جاتی معلومات کا ذریعہ اور سرکاری فیصلے سازی کا ایک مستقل ریکارڈ بن جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289011</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 19:20:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21190117b6e482a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21190117b6e482a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں سے 12 افراد جاں بحق، این ڈی ایم اے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289002/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منگل کو بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کے مطابق ان تازہ ہلاکتوں کے بعد جون کے آخر میں مون سون کا سلسلہ شروع ہونے سے اب تک صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جو اس سیزن میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم کے اضلاع میں متعدد گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق افراد میں چھ مرد، پانچ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ بارشوں سے 14 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے اپنے بیان میں عوام کو خبردار کیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مون سون کی شدید بارشوں کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، حساس سیاحتی علاقوں سے دور رہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمۂ موسمیات پاکستان نے گزشتہ ہفتے پیش گوئی کی تھی کہ 19 سے 23 جولائی کے دوران خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ محکمے نے بالخصوص پہاڑی اضلاع میں اچانک سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا تھا، جہاں کمزور انفرااسٹرکچر اور آبادیاں شدید موسمی حالات کے باعث زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے منگل کو بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا میں بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔</strong></p>
<p>این ڈی ایم اے کے مطابق ان تازہ ہلاکتوں کے بعد جون کے آخر میں مون سون کا سلسلہ شروع ہونے سے اب تک صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جو اس سیزن میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر اور کرم کے اضلاع میں متعدد گھروں کی چھتیں اور دیواریں منہدم ہو گئیں۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق افراد میں چھ مرد، پانچ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ بارشوں سے 14 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>دریں اثنا، پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے اپنے بیان میں عوام کو خبردار کیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مون سون کی شدید بارشوں کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p>ادارے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، حساس سیاحتی علاقوں سے دور رہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔</p>
<p>محکمۂ موسمیات پاکستان نے گزشتہ ہفتے پیش گوئی کی تھی کہ 19 سے 23 جولائی کے دوران خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ محکمے نے بالخصوص پہاڑی اضلاع میں اچانک سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا تھا، جہاں کمزور انفرااسٹرکچر اور آبادیاں شدید موسمی حالات کے باعث زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289002</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 16:39:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21162433b76abc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21162433b76abc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت گلگت بلتستان کی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے پرعزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288986/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے منگل کو اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین نے ملاقات کی جس میں مجموعی علاقائی امور اور جاری ترقیاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے وزیراعلیٰ امجد حسین کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے گلگت بلتستان کی نومنتخب انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعاون کرنے کے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت  بلتستان کی فلاح و بہبود کیلئے قابل تجدید توانائی، سیاحت، انفرااسٹرکچر، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر پاور پروجیکٹ کو ترجیح دے رہی ہے۔ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے گلگت میں دانش اسکولز اور پاکستان آسان خدمت مرکز قائم کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امجد حسین نے 6 جولائی کو گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا، اس تقریب میں  پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے منگل کو اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین نے ملاقات کی جس میں مجموعی علاقائی امور اور جاری ترقیاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</strong></p>
<p>ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے وزیراعلیٰ امجد حسین کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے گلگت بلتستان کی نومنتخب انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعاون کرنے کے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت  بلتستان کی فلاح و بہبود کیلئے قابل تجدید توانائی، سیاحت، انفرااسٹرکچر، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر پاور پروجیکٹ کو ترجیح دے رہی ہے۔ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے گلگت میں دانش اسکولز اور پاکستان آسان خدمت مرکز قائم کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک تھے۔</p>
<p>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امجد حسین نے 6 جولائی کو گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا، اس تقریب میں  پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288986</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 12:37:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21123527c1eadfd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21123527c1eadfd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
