<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 01:30:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 01:30:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق پاکستانی فوجی افسر کے قتل سے متعلق بھارتی میڈیا کی خبر ڈی جی آئی ایس پی آر نے مسترد کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291985/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں سے آگاہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ 22 اپریل کے پہلگام حملے میں مبینہ طور پر مطلوب محمد آصف کو آئی آئی او جے کے کے علاقے کوراگ میں ایک مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آصف، جو ہاشم موسیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور ماضی میں پاک فوج میں خدمات انجام دے چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، 2000 میں سروس نمبر پی اے 3106947 کے تحت پاک فوج میں شامل ہوا اور حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے متعدد اداروں نے سابق پاکستانی فوجی اہلکار کی مبینہ تصاویر بھی شائع کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو یہ رپورٹس دکھانے کے بعد آصف کو خود روسٹرم پر بلا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف نے صحافیوں کو بتایا کہ مبینہ ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے انہیں فون کرنا شروع کردیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کا رہائشی ہوں۔ مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتیوں کے ہاتھوں میری شہادت ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا نے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ آصف نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان نے کہا کہ بھارتی کور نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایس ایس جی کے ایک ریٹائرڈ حوالدار کو ہلاک کرکے اس کی لاش بھی برآمد کرلی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں، بھارت کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف جھوٹے فلیگ آپریشنز کرتا آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا ایک گھٹیا ذہن رکھنے والا پڑوسی ہے، جو سمجھتا ہے کہ ہر مسئلہ دہشت گردی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بھارت پاکستانی فوجی افسر کے  مقابلے میں مارے جانے کی جعلی خبر کی بنیاد پر حملہ کرتا ہے تو کیا ہوگا جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تیار ہے اور اگر بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو کرلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لیکن میں یہ بات بالکل واضح کردوں کہ اس بار پاکستان ایسی قیمت عائد کرے گا جو انتہائی بھاری ہوگی اور جواب انتہائی سخت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس خبر کی بنیاد پر ایسا کرنا چاہتے ہیں تو اپنی قسمت آزما سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اور حرمین شریفین کی حرمت کے حوالے سے پاکستان کے عزم میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;مزید تفصیلات جاری ہیں۔۔۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں سے آگاہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ 22 اپریل کے پہلگام حملے میں مبینہ طور پر مطلوب محمد آصف کو آئی آئی او جے کے کے علاقے کوراگ میں ایک مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا۔</strong></p>
<p>رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آصف، جو ہاشم موسیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور ماضی میں پاک فوج میں خدمات انجام دے چکا تھا۔</p>
<p>بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، 2000 میں سروس نمبر پی اے 3106947 کے تحت پاک فوج میں شامل ہوا اور حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے متعدد اداروں نے سابق پاکستانی فوجی اہلکار کی مبینہ تصاویر بھی شائع کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو یہ رپورٹس دکھانے کے بعد آصف کو خود روسٹرم پر بلا لیا۔</p>
<p>آصف نے صحافیوں کو بتایا کہ مبینہ ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے انہیں فون کرنا شروع کردیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کا رہائشی ہوں۔ مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتیوں کے ہاتھوں میری شہادت ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا نے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ آصف نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کی مذمت کی۔</p>
<p>فوجی ترجمان نے کہا کہ بھارتی کور نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایس ایس جی کے ایک ریٹائرڈ حوالدار کو ہلاک کرکے اس کی لاش بھی برآمد کرلی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں، بھارت کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف جھوٹے فلیگ آپریشنز کرتا آرہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا ایک گھٹیا ذہن رکھنے والا پڑوسی ہے، جو سمجھتا ہے کہ ہر مسئلہ دہشت گردی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بھارت پاکستانی فوجی افسر کے  مقابلے میں مارے جانے کی جعلی خبر کی بنیاد پر حملہ کرتا ہے تو کیا ہوگا جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تیار ہے اور اگر بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو کرلے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لیکن میں یہ بات بالکل واضح کردوں کہ اس بار پاکستان ایسی قیمت عائد کرے گا جو انتہائی بھاری ہوگی اور جواب انتہائی سخت ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس خبر کی بنیاد پر ایسا کرنا چاہتے ہیں تو اپنی قسمت آزما سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اور حرمین شریفین کی حرمت کے حوالے سے پاکستان کے عزم میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p><em>مزید تفصیلات جاری ہیں۔۔۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291985</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 18:17:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/eLweI12pp6c/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/eLweI12pp6c/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=eLweI12pp6c"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ کابینہ نے میر رضا انکوائری کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291983/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ کابینہ نے جمعرات کو میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی منظوری دے دی، تاکہ کمیشن کو انکوائری مکمل کرنے اور اپنی سفارشات و نتائج کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مل سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق کمیشن کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کو بتایا گیا کہ کمیشن نے تفصیلی کارروائی کرتے ہوئے درجنوں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں، تاہم تحقیقات مکمل کرنے اور حتمی رپورٹ و سفارشات مرتب کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر جسٹس عمر سیال انکوائری مزید جاری رکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کی ابتدائی ایک ماہ کی مدت 27 ستمبر کو ختم ہوگئی تھی۔ اس سے قبل کمیشن نے باقی گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور حتمی رپورٹ پر کام کے لیے کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ کارروائیوں کے دوران کمیشن نے شواہد سے نمٹنے کے طریقہ کار اور ابتدائی تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں تضادات اور میڈیکل بورڈز کی تشکیل سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اسے بتایا گیا کہ علاقے میں 52 کیمرے نصب تھے مگر ابتدائی طور پر صرف ایک کیمرے کی فوٹیج حاصل کی گئی۔ کمیشن نے جائے وقوعہ کے ایک حصے کو آگ لگنے کے حالات پر بھی سوالات اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عمر سیال نے تحقیقات اور طبی معائنے سے متعلق معاملات پر اعلیٰ حکام کو طلب کیا۔ کمیشن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کا بھی جائزہ لیا، جبکہ سابقہ عدالتی کارروائی کے مطابق بعد میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں خودکشی کے امکان کو مسترد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ کابینہ نے جمعرات کو میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی مدت 15 اکتوبر تک بڑھانے کی منظوری دے دی، تاکہ کمیشن کو انکوائری مکمل کرنے اور اپنی سفارشات و نتائج کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مل سکے۔</strong></p>
<p>وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق کمیشن کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں۔</p>
<p>کابینہ کو بتایا گیا کہ کمیشن نے تفصیلی کارروائی کرتے ہوئے درجنوں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں، تاہم تحقیقات مکمل کرنے اور حتمی رپورٹ و سفارشات مرتب کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر جسٹس عمر سیال انکوائری مزید جاری رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>کمیشن کی ابتدائی ایک ماہ کی مدت 27 ستمبر کو ختم ہوگئی تھی۔ اس سے قبل کمیشن نے باقی گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور حتمی رپورٹ پر کام کے لیے کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کی تھی۔</p>
<p>گزشتہ کارروائیوں کے دوران کمیشن نے شواہد سے نمٹنے کے طریقہ کار اور ابتدائی تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں تضادات اور میڈیکل بورڈز کی تشکیل سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>کمیشن نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اسے بتایا گیا کہ علاقے میں 52 کیمرے نصب تھے مگر ابتدائی طور پر صرف ایک کیمرے کی فوٹیج حاصل کی گئی۔ کمیشن نے جائے وقوعہ کے ایک حصے کو آگ لگنے کے حالات پر بھی سوالات اٹھائے۔</p>
<p>جسٹس عمر سیال نے تحقیقات اور طبی معائنے سے متعلق معاملات پر اعلیٰ حکام کو طلب کیا۔ کمیشن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کا بھی جائزہ لیا، جبکہ سابقہ عدالتی کارروائی کے مطابق بعد میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں خودکشی کے امکان کو مسترد کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291983</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 17:17:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/0117012451b9602.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/0117012451b9602.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعلی پنجاب کا زندہ دلان لاہور کیلئے 10روزہ بسنت کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291961/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے لاہور کے شہریوں کے لئے 10 روزہ بسنت کا اعلان کردیا۔وزیراعلی نے لاہور میں 10 دن بسنت منانے کی منظوری دیدی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 سال کے تعطل کے بعد رواں سال فروری میں 6 سے 8 فروری تک لاہور میں بسنت منائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں نئے سال کی آمد پر لاہوریوں کو 10 روزہ بسنت کا تحفہ دینے کی ہدایت کی گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلی کی ہدایت کے مطابق 29 جنوری سے 7 فروری تک بسنت منائی جائے گی۔ 5 فروری کو کشمیر ڈے منانے کے لیے ایک روز بسنت جشن کا وقفہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلی نے کہا کہ پوری دنیا میں 10 روزہ بسنت پنجاب کے تہذیبی رنگ اور لاہور کی قدیم تاریخی روایت کے فروغ کا باعث بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت کی کہ گزشتہ بسنت سے بھی بڑھ کر شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے بہتر اقدامات کئے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ انسانی جان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے فرض شناسی، ذمہ داری اور احساس کے ساتھ گزشتہ بسنت کی طرح ایک نئی مثال بھی قائم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے لاہور کے شہریوں کے لئے 10 روزہ بسنت کا اعلان کردیا۔وزیراعلی نے لاہور میں 10 دن بسنت منانے کی منظوری دیدی ہے۔</strong></p>
<p>25 سال کے تعطل کے بعد رواں سال فروری میں 6 سے 8 فروری تک لاہور میں بسنت منائی گئی تھی۔</p>
<p>وزیراعلی مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں نئے سال کی آمد پر لاہوریوں کو 10 روزہ بسنت کا تحفہ دینے کی ہدایت کی گئی ۔</p>
<p>وزیراعلی کی ہدایت کے مطابق 29 جنوری سے 7 فروری تک بسنت منائی جائے گی۔ 5 فروری کو کشمیر ڈے منانے کے لیے ایک روز بسنت جشن کا وقفہ ہوگا۔</p>
<p>وزیراعلی نے کہا کہ پوری دنیا میں 10 روزہ بسنت پنجاب کے تہذیبی رنگ اور لاہور کی قدیم تاریخی روایت کے فروغ کا باعث بنے گی۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت کی کہ گزشتہ بسنت سے بھی بڑھ کر شہریوں کی حفاظت اور سہولت کے بہتر اقدامات کئے جائیں۔</p>
<p>لاہور کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ انسانی جان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے فرض شناسی، ذمہ داری اور احساس کے ساتھ گزشتہ بسنت کی طرح ایک نئی مثال بھی قائم کریں گے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291961</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 13:04:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01130309198e2e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01130309198e2e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک فوج کی افغانستان میں فضائی کارروائی، 22 دہشتگرد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291958/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشن غضب لِلحق کے تسلسل میں افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد گروہوں کے دو ٹھکانوں کو درستگی سے نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات و نشریات نے تصدیق کی کہ پاک فوج کی مؤثر فضائی کارروائیوں میں 22 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جب کہ دہشت گردوں کے کیمپ اور محفوظ پناہ گاہیں ملیا میٹ ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور پاکستان کو لاحق دہشت گردی کا خطرہ افغانستان سے جنم لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ کارروائی کے دوران احتیاطی تدابیر سے اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی غیر متعلقہ جانی یا مالی نقصان نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید کہا کہ آپریشن غضب لِلحق اور عزمِ استحکام کے فریم ورک کے تحت پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی مہم غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پوری رفتار سے جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر پختونخوا، بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، متعدد دہشت گرد ہلاک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کیا، خوارج کے زیر استعمال متعدد ٹھکانے اور سرنگیں تباہ کردی گئیں جبکہ بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے سنی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کو کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فوج نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا ۔</strong></p>
<p>آپریشن غضب لِلحق کے تسلسل میں افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
<p>وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد گروہوں کے دو ٹھکانوں کو درستگی سے نشانہ بنایا۔</p>
<p>وزارتِ اطلاعات و نشریات نے تصدیق کی کہ پاک فوج کی مؤثر فضائی کارروائیوں میں 22 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جب کہ دہشت گردوں کے کیمپ اور محفوظ پناہ گاہیں ملیا میٹ ہو گئیں۔</p>
<p>دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔</p>
<p>وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بدستور دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور پاکستان کو لاحق دہشت گردی کا خطرہ افغانستان سے جنم لے رہا ہے۔</p>
<p>وزارت نے کہا کہ کارروائی کے دوران احتیاطی تدابیر سے اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی غیر متعلقہ جانی یا مالی نقصان نہ ہو۔</p>
<p>وزارت نے مزید کہا کہ آپریشن غضب لِلحق اور عزمِ استحکام کے فریم ورک کے تحت پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی مہم غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پوری رفتار سے جاری رہے گی۔</p>
<p><strong>خیبر پختونخوا، بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، متعدد دہشت گرد ہلاک</strong></p>
<p>دریں اثنا سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کیا، خوارج کے زیر استعمال متعدد ٹھکانے اور سرنگیں تباہ کردی گئیں جبکہ بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔</p>
<p>سرکاری میڈیا ریڈیو پاکستان نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔</p>
<p>دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے سنی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں کو کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291958</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 12:35:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011233470dce2db.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011233470dce2db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01120757f1d15bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01120757f1d15bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتیں اپنی سمت درست کریں، برآمدات پر مبنی ترقی کیلئے کردار ادا کریں، وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291952/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ حکومت معیشت کے استحکام کے بعد برآمدات پر مبنی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے پُرعزم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بعض برآمدی صنعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مراعات اور حکومتی معاونت فراہم کی جاتی رہی، تاہم وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں ان برآمدی صنعتوں کے نام نہیں لینا چاہتا جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے ان صنعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سمت درست کریں اور برآمدات پر مبنی اور پائیدار اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آنے والی حکومتوں نے برآمد کنندگان کو خاطر خواہ معاونت اور مراعات فراہم کیں، لیکن متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ معیار میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پی ایس ایکس کے ٹریڈنگ ہال میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت طے شدہ جاری اصلاحاتی ایجنڈے کا جامع جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو مزید مالیاتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ہم اپنی قرض گیری کو بینکوں سے غیر بینکنگ ذرائع اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب منتقل کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت تمام اثاثہ جاتی طبقات، جن میں وینچر کیپیٹل، سکوک اور ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) شامل ہیں، کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینے کیلئے ٹیکس اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے مجموعی جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو تمام اصلاحات ایک ہی وقت میں نافذ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ مرحلہ وار اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ کونسل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم سال کے اختتام تک یا اس سے پہلے وزیراعظم کے دفتر کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک، ایس ای سی پی اور وزارت خزانہ کیلئے سفارشات پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی پہلے ہی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، جسے بعد ازاں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے رواں مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی معاشی نمو 4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی، جبکہ مالی سال 2025-26 میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کھپت پر مبنی معاشی نمو کو فروغ دے کر ’’بہت کم وقت میں‘‘ 6 فیصد شرح نمو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس سے ایک بار پھر ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوگا اور پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے حکومت برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد اب 57 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً 39 لاکھ تھی، یعنی نئے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ تقریباً 60 ارب روپے کی فنانسنگ کی جاچکی ہے، جبکہ مزید تقریباً 340 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری دی جاچکی ہے اور اس کی رقم جاری ہونا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بینکاری کے شعبے نے اس پروگرام میں قائدانہ  کردار ادا کیا ہے، تاہم اب رہائشی منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے نجی شعبے، بالخصوص آباد، کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (رئیٹس) رہائش اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری متحرک کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بنائے گئے کنسورشیم میں عارف حبیب اور ٹبا سمیت بڑے پاکستانی کاروباری گروپس کی شرکت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ مقامی کاروباری اداروں کی باہمی تعاون، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور وسیع تر مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے، جس کی مثال بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیہ کی دلچسپی اور امریکا کے سرمایہ کاروں و کمپنیوں کی معدنیات و کان کنی، زراعت، آئی ٹی، تیل و گیس اور ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو عملی شکل اختیار کرنے میں وقت لگتا ہے اور اس کے لیے موزوں پالیسیوں اور مؤثر سہولت کاری پر مبنی سازگار ماحول ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ حکومت معیشت کے استحکام کے بعد برآمدات پر مبنی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے پُرعزم ہے۔</strong></p>
<p>کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بعض برآمدی صنعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مراعات اور حکومتی معاونت فراہم کی جاتی رہی، تاہم وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں ان برآمدی صنعتوں کے نام نہیں لینا چاہتا جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے ان صنعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سمت درست کریں اور برآمدات پر مبنی اور پائیدار اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آنے والی حکومتوں نے برآمد کنندگان کو خاطر خواہ معاونت اور مراعات فراہم کیں، لیکن متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ معیار میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پی ایس ایکس کے ٹریڈنگ ہال میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت طے شدہ جاری اصلاحاتی ایجنڈے کا جامع جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو مزید مالیاتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ہم اپنی قرض گیری کو بینکوں سے غیر بینکنگ ذرائع اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب منتقل کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت تمام اثاثہ جاتی طبقات، جن میں وینچر کیپیٹل، سکوک اور ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) شامل ہیں، کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینے کیلئے ٹیکس اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے مجموعی جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کو تمام اصلاحات ایک ہی وقت میں نافذ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ مرحلہ وار اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ کونسل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم سال کے اختتام تک یا اس سے پہلے وزیراعظم کے دفتر کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک، ایس ای سی پی اور وزارت خزانہ کیلئے سفارشات پیش کریں گے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی پہلے ہی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، جسے بعد ازاں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے رواں مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی معاشی نمو 4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی، جبکہ مالی سال 2025-26 میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کھپت پر مبنی معاشی نمو کو فروغ دے کر ’’بہت کم وقت میں‘‘ 6 فیصد شرح نمو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس سے ایک بار پھر ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوگا اور پاکستان دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہوجائے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے حکومت برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد اب 57 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً 39 لاکھ تھی، یعنی نئے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کے ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ تقریباً 60 ارب روپے کی فنانسنگ کی جاچکی ہے، جبکہ مزید تقریباً 340 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری دی جاچکی ہے اور اس کی رقم جاری ہونا باقی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بینکاری کے شعبے نے اس پروگرام میں قائدانہ  کردار ادا کیا ہے، تاہم اب رہائشی منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے نجی شعبے، بالخصوص آباد، کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (رئیٹس) رہائش اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری متحرک کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بنائے گئے کنسورشیم میں عارف حبیب اور ٹبا سمیت بڑے پاکستانی کاروباری گروپس کی شرکت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق یہ مقامی کاروباری اداروں کی باہمی تعاون، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور وسیع تر مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے، جس کی مثال بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری میں ترکیہ کی دلچسپی اور امریکا کے سرمایہ کاروں و کمپنیوں کی معدنیات و کان کنی، زراعت، آئی ٹی، تیل و گیس اور ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو عملی شکل اختیار کرنے میں وقت لگتا ہے اور اس کے لیے موزوں پالیسیوں اور مؤثر سہولت کاری پر مبنی سازگار ماحول ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291952</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 16:58:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/011658224d3e25e.webp" type="image/webp" medium="image" height="929" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/011658224d3e25e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری قرضہ 7.7 فیصد بڑھ کر 86.72 ٹریلین روپے ہوگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291942/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ جون 2026 کے اختتام تک 7.7 فیصد بڑھ کر تقریباً 86.72 ٹریلین روپے ہوگیا، جو ایک سال قبل 13 فیصد بڑھا تھا، تاہم قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے 70.6 فیصد سے کم ہو کر 68.3 فیصد رہ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس (ڈی ایم او) کی سالانہ ڈیبٹ ریویو مالی سال 2026 کے مطابق قرض میں اضافے کی رفتار میں کمی مالیاتی استحکام، وفاقی حکومت کے 2.185 ٹریلین روپے کے بنیادی سرپلس اور سودی اخراجات میں 22 فیصد کمی کے باعث ممکن ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ملکی قرضہ 9 فیصد اضافے سے 59.441 ٹریلین روپے جبکہ بیرونی قرضہ 6.8 فیصد بڑھ کر 98.075 ارب ڈالر ہوگیا۔ ڈالر کے لحاظ سے مجموعی سرکاری قرضہ 312 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.887 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 6.948 ٹریلین روپے رہ گئے، جس کے نتیجے میں وفاقی مالیاتی خسارہ 7.089 ٹریلین روپے سے گھٹ کر 4.763 ٹریلین روپے ہوگیا۔ وفاقی بنیادی سرپلس بھی 1.798 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.185 ٹریلین روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق خالص وفاقی آمدنی 6 فیصد اضافے سے 10.52 ٹریلین روپے رہی، جبکہ مجموعی غیر سودی اخراجات میں صرف 2.3 فیصد اضافہ ہوا، جو مالی سال 2025 میں 15 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ کے تحت حکومت کا مجموعی قرض 77.168 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کا 60.8 فیصد رہا، جو جون 2025 کے اختتام پر 64.2 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی مالیاتی خسارے کا 75 فیصد ملکی اور 25 فیصد بیرونی ذرائع سے پورا کیا گیا۔ خالص بیرونی فنانسنگ 1.177 ٹریلین روپے جبکہ خالص ملکی فنانسنگ 3.586 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی قرضوں میں مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 25 فیصد بڑھ کر 10.928 ٹریلین روپے جبکہ سکوک اور بائی مؤجل فنانسنگ 35 فیصد اضافے سے 8.559 ٹریلین روپے ہوگئی۔ کمرشل بینک بدستور حکومتی سیکیورٹیز کے سب سے بڑے خریدار رہے اور ان کا حصہ 64 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کرتے ہوئے اپریل 2026 میں 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ اور مئی میں 1.75 ارب یوان کا پانڈا بانڈ جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جون 2026 تک بیرونی سرکاری قرضے کا 84 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 16 فیصد صوبائی و ذیلی حکومتوں کے ذمے تھا۔ بیرونی قرضوں میں پنجاب کا حصہ 6.40 ارب ڈالر، سندھ کا 5.62 ارب ڈالر اور خیبر پختونخوا کا 2.97 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی سال 2026 کے دوران اسٹیٹ بینک کا 1.926 ٹریلین روپے قرض واپس کیا جبکہ 996 ارب روپے کے مارکیٹ قرضوں کو بائی بیک بھی کیا۔ جون کے اختتام پر حکومتی ضمانتیں 4.283 ٹریلین روپے رہیں، جن میں پاور سیکٹر کا حصہ تقریباً 56 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ جون 2026 کے اختتام تک 7.7 فیصد بڑھ کر تقریباً 86.72 ٹریلین روپے ہوگیا، جو ایک سال قبل 13 فیصد بڑھا تھا، تاہم قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے 70.6 فیصد سے کم ہو کر 68.3 فیصد رہ گیا۔</strong></p>
<p>وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس (ڈی ایم او) کی سالانہ ڈیبٹ ریویو مالی سال 2026 کے مطابق قرض میں اضافے کی رفتار میں کمی مالیاتی استحکام، وفاقی حکومت کے 2.185 ٹریلین روپے کے بنیادی سرپلس اور سودی اخراجات میں 22 فیصد کمی کے باعث ممکن ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ملکی قرضہ 9 فیصد اضافے سے 59.441 ٹریلین روپے جبکہ بیرونی قرضہ 6.8 فیصد بڑھ کر 98.075 ارب ڈالر ہوگیا۔ ڈالر کے لحاظ سے مجموعی سرکاری قرضہ 312 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.887 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 6.948 ٹریلین روپے رہ گئے، جس کے نتیجے میں وفاقی مالیاتی خسارہ 7.089 ٹریلین روپے سے گھٹ کر 4.763 ٹریلین روپے ہوگیا۔ وفاقی بنیادی سرپلس بھی 1.798 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.185 ٹریلین روپے ہوگیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق خالص وفاقی آمدنی 6 فیصد اضافے سے 10.52 ٹریلین روپے رہی، جبکہ مجموعی غیر سودی اخراجات میں صرف 2.3 فیصد اضافہ ہوا، جو مالی سال 2025 میں 15 فیصد تھا۔</p>
<p>مالی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ کے تحت حکومت کا مجموعی قرض 77.168 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کا 60.8 فیصد رہا، جو جون 2025 کے اختتام پر 64.2 فیصد تھا۔</p>
<p>وفاقی مالیاتی خسارے کا 75 فیصد ملکی اور 25 فیصد بیرونی ذرائع سے پورا کیا گیا۔ خالص بیرونی فنانسنگ 1.177 ٹریلین روپے جبکہ خالص ملکی فنانسنگ 3.586 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>ملکی قرضوں میں مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 25 فیصد بڑھ کر 10.928 ٹریلین روپے جبکہ سکوک اور بائی مؤجل فنانسنگ 35 فیصد اضافے سے 8.559 ٹریلین روپے ہوگئی۔ کمرشل بینک بدستور حکومتی سیکیورٹیز کے سب سے بڑے خریدار رہے اور ان کا حصہ 64 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہوگیا۔</p>
<p>پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کرتے ہوئے اپریل 2026 میں 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ اور مئی میں 1.75 ارب یوان کا پانڈا بانڈ جاری کیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جون 2026 تک بیرونی سرکاری قرضے کا 84 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 16 فیصد صوبائی و ذیلی حکومتوں کے ذمے تھا۔ بیرونی قرضوں میں پنجاب کا حصہ 6.40 ارب ڈالر، سندھ کا 5.62 ارب ڈالر اور خیبر پختونخوا کا 2.97 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>حکومت نے مالی سال 2026 کے دوران اسٹیٹ بینک کا 1.926 ٹریلین روپے قرض واپس کیا جبکہ 996 ارب روپے کے مارکیٹ قرضوں کو بائی بیک بھی کیا۔ جون کے اختتام پر حکومتی ضمانتیں 4.283 ٹریلین روپے رہیں، جن میں پاور سیکٹر کا حصہ تقریباً 56 فیصد تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291942</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 09:18:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/010915473510544.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/010915473510544.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسی بھی تنازع میں پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا، خواجہ آصف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291937/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا، انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں سے متعلق ایک بار پھر پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم کسی بھی تنازع میں سعودی عرب کی مدد کے لیے موجود ہوں گے، خواہ خطرہ حوثیوں کی جانب سے ہو یا کسی ملک یا کسی بھی دوسرے گروہ کی طرف سے جو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ ہم ان کے دفاع کے لیے موجود ہوں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے اور ریاض اس تنازع میں مزید فعال کردار ادا کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے دعوے کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے حالیہ دنوں میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کے ساتھ اپنے سکیورٹی وعدوں کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18 ستمبر کو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جائے گا، جبکہ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کو ’’غیر مشروط‘‘ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو پاکستان حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ ’’عملی اور سفارتی‘‘ طور پر کھڑا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ اس میں ’’بالکل کوئی شک نہیں‘‘ کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے ایک معاہدے کا پابند ہے، اور مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس جو بھی وسائل دستیاب ہیں، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف بظاہر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدوں کا حوالہ دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔ 7 اگست کو دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے گزشتہ ہفتے ریاض میں ملاقات کی اور اتحاد کے تحت اپنے وعدوں کو ’’فوری طور پر عملی شکل دینے‘‘ اور مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے حوثیوں کو ’’سعودی عرب کے دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران حوثیوں کو اپنا پراکسی تسلیم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا، ’’ان میں سے بعض پراکسی گروہ بے قابو ہوچکے ہیں۔ مجھے تاریخ میں جانے کی ضرورت نہیں، میں اس کی متعدد مثالیں دے سکتا ہوں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کی جانب سے تشکیل دیے گئے پراکسی گروہ اپنے الگ ایجنڈے تشکیل دے سکتے ہیں اور بالآخر ’’بے قابو‘‘ عناصر بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کسی بھی تنازع کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرے گا، انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں سے متعلق ایک بار پھر پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>خواجہ آصف نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم کسی بھی تنازع میں سعودی عرب کی مدد کے لیے موجود ہوں گے، خواہ خطرہ حوثیوں کی جانب سے ہو یا کسی ملک یا کسی بھی دوسرے گروہ کی طرف سے جو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ ہم ان کے دفاع کے لیے موجود ہوں گے۔‘‘</p>
<p>ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے اور ریاض اس تنازع میں مزید فعال کردار ادا کررہا ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے دعوے کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے حالیہ دنوں میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کے ساتھ اپنے سکیورٹی وعدوں کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔</p>
<p>18 ستمبر کو انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جائے گا، جبکہ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کو ’’غیر مشروط‘‘ قرار دیا تھا۔</p>
<p>خواجہ آصف اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو پاکستان حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ ’’عملی اور سفارتی‘‘ طور پر کھڑا ہوگا۔</p>
<p>وزیر دفاع نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ اس میں ’’بالکل کوئی شک نہیں‘‘ کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کررہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے ایک معاہدے کا پابند ہے، اور مزید کہا کہ ’’ہمارے پاس جو بھی وسائل دستیاب ہیں، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔‘‘</p>
<p>خواجہ آصف بظاہر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدوں کا حوالہ دے رہے تھے۔</p>
<p>دونوں ممالک نے ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔ 7 اگست کو دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے گزشتہ ہفتے ریاض میں ملاقات کی اور اتحاد کے تحت اپنے وعدوں کو ’’فوری طور پر عملی شکل دینے‘‘ اور مؤثر فوجی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے حوثیوں کو ’’سعودی عرب کے دشمن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران حوثیوں کو اپنا پراکسی تسلیم نہیں کرتا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا، ’’ان میں سے بعض پراکسی گروہ بے قابو ہوچکے ہیں۔ مجھے تاریخ میں جانے کی ضرورت نہیں، میں اس کی متعدد مثالیں دے سکتا ہوں،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کی جانب سے تشکیل دیے گئے پراکسی گروہ اپنے الگ ایجنڈے تشکیل دے سکتے ہیں اور بالآخر ’’بے قابو‘‘ عناصر بن سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291937</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 22:30:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30221636457fd8f.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="400">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30221636457fd8f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صومالیہ جہاز آپریشن کے دوران 3 پاکستانیوں سمیت 5 ارکان جاں بحق ہوئے، دفتر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفتر خارجہ کے مطابق  ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے آپریشن کے دوران عملے کے 5 ارکان جاں بحق ہوئے، جن میں 3 پاکستانی بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں دفتر خارجہ نے جاں بحق پاکستانی شہریوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2105267727191699842?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105267727191699842%7Ctwgr%5Ec9d74dd3e32645930620c419e16e9ea9d327e1d5%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442003'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2105267727191699842?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105267727191699842%7Ctwgr%5Ec9d74dd3e32645930620c419e16e9ea9d327e1d5%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442003"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ حکومت اور پاکستانی عوام جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندانوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے اور مرحومین کو سکون عطا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کے مطابق واقعے میں عملے کے 4 ارکان زخمی بھی ہوئے، جن میں 3 پاکستانی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ایم ٹی آنر 25 کے بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا کے ساحل پر پہنچا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے بتایا کہ جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہوگئی ہے۔ حکومت اپنے مشن اور متعلقہ حکام کے ذریعے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے قریبی رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو پنٹ لینڈ کے سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا تھا کہ صومالیہ کی پنٹ لینڈ سکیورٹی فورسز نے ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرا لیا۔ پالاؤ کے پرچم بردار پٹرولیم مصنوعات کے اس ٹینکر کو صومالی قزاقوں نے اپریل میں قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر موجود عملے کے 17 ارکان میں کم از کم 10 پاکستانی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفتر خارجہ کے مطابق  ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے آپریشن کے دوران عملے کے 5 ارکان جاں بحق ہوئے، جن میں 3 پاکستانی بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں دفتر خارجہ نے جاں بحق پاکستانی شہریوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2105267727191699842?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105267727191699842%7Ctwgr%5Ec9d74dd3e32645930620c419e16e9ea9d327e1d5%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442003'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2105267727191699842?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2105267727191699842%7Ctwgr%5Ec9d74dd3e32645930620c419e16e9ea9d327e1d5%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40442003"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا کہ حکومت اور پاکستانی عوام جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندانوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے اور مرحومین کو سکون عطا کرے۔</p>
<p>وزارت خارجہ کے مطابق واقعے میں عملے کے 4 ارکان زخمی بھی ہوئے، جن میں 3 پاکستانی شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ایم ٹی آنر 25 کے بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا کے ساحل پر پہنچا دیا گیا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے بتایا کہ جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہوگئی ہے۔ حکومت اپنے مشن اور متعلقہ حکام کے ذریعے صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے قریبی رابطے میں ہے۔</p>
<p>منگل کو پنٹ لینڈ کے سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا تھا کہ صومالیہ کی پنٹ لینڈ سکیورٹی فورسز نے ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرا لیا۔ پالاؤ کے پرچم بردار پٹرولیم مصنوعات کے اس ٹینکر کو صومالی قزاقوں نے اپریل میں قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر موجود عملے کے 17 ارکان میں کم از کم 10 پاکستانی شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291931</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 20:21:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30184945b4105e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30184945b4105e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں برس 8 ماہ کے دوران 1 کروڑ 86 لاکھ 60 ہزار موبائل فون تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291929/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقامی اسمبلنگ پلانٹس نے سال 2026ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران 1 کروڑ 86 لاکھ 60 ہزار موبائل ہینڈ سیٹس تیار کرلیے، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 27 لاکھ 40 ہزار  موبائل فون تجارتی بنیادوں پر درامد کیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اگست 2026ء کے دوران 1 لاکھ 34 ہزار 501  فائیو جی  موبائل ہینڈ سیٹس اسیمبل کیے گئے، جبکہ 2025ء کے دوران یہ تعداد 5 لاکھ 53 ہزار 79 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ پلانٹس نے کیلنڈر سال 2025ء (جنوری تا دسمبر) کے دوران 3 کروڑ 2 لاکھ 10 ہزار (30.21 ملین) موبائل ہینڈ سیٹس تیار یا اسیمبل کیے، جبکہ تجارتی بنیادوں پر 23 لاکھ 70 ہزار (2.37 ملین) سیٹس درامد کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی طور پر تیار کردہ 18.66 ملین موبائل ہینڈ سیٹس میں 80 لاکھ اسمارٹ فونز اور 1 کروڑ 10 لاکھ (11 ملین) ’ٹو جی(2G) فونز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے نیٹ ورک پر موجود موبائل ڈیوائسز میں 71 فیصد اسمارٹ فونز اور 29 فیصد ’ٹو جی‘ ڈیوائسز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دو مہینوں (جولائی تا اگست) کے دوران پاکستان کی موبائل فون درامدات میں 8.85 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 30 کروڑ 7 لاکھ 41 ہزار ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 27 کروڑ 41 لاکھ 29 ہزار ڈالررہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر میں دیکھا جائے تو جولائی تا اگست 2026ء کے دوران موبائل فون کی درامدات 10.53 فیصد کمی کے ساتھ 76 ارب 26 کروڑ 70 لاکھ روپے رہیں، جو 2025ء کی اسی مدت میں 85 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں موبائل فون درامدات میں 13.82 فیصد کمی درج کی گئی، جو اگست 2025ء کے 15 کروڑ 51 لاکھ 29 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 13 کروڑ 36 لاکھ 95 ہزار ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں موبائل فونز کی درامدات میں جولائی 2026ء کے 14 کروڑ 4 لاکھ 34 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 4.80 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس زیرِ جائزہ مدت کے دوران پاکستان میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی طلب نسبتاً مضبوط رہی اور جاری مالی سال کے پہلے دو مہینوں (جولائی تا اگست 2026ء) میں ٹیلی کام آلات کی درامدات 8.95 فیصد اضافے کے ساتھ 43 کروڑ 20 لاکھ 44 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 39 کروڑ 55 لاکھ 36 ہزار ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی صورت میں ٹیلی کام آلات کی درامدات جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں 6.95 فیصد بڑھ کر 120 ارب 21 کروڑ 10 لاکھ روپے ہو گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 112 ارب 39 کروڑ 80 لاکھ روپے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی کام آلات کی درامدات میں یہ اضافہ ملک کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری کی بدولت ہے، جس میں نیٹ ورک کی توسيع اور اگلی نسل کی موبائل خدمات کے اغاز کی تیاریاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سالانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں ٹیلی کام آلات کی درامدات 3.42 فیصد کمی کے ساتھ 19 کروڑ 72 لاکھ 69 ہزار ڈالر رہیں، جو اگست 2025ء میں 20 کروڑ 42 لاکھ 63 ہزار ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں ٹیلی کام آلات کی درامدات جولائی 2026ء کے 23 کروڑ 47 لاکھ 75 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 15.98 فیصد کم ہوئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقامی اسمبلنگ پلانٹس نے سال 2026ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران 1 کروڑ 86 لاکھ 60 ہزار موبائل ہینڈ سیٹس تیار کرلیے، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 27 لاکھ 40 ہزار  موبائل فون تجارتی بنیادوں پر درامد کیے گئے۔</strong></p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اگست 2026ء کے دوران 1 لاکھ 34 ہزار 501  فائیو جی  موبائل ہینڈ سیٹس اسیمبل کیے گئے، جبکہ 2025ء کے دوران یہ تعداد 5 لاکھ 53 ہزار 79 تھی۔</p>
<p>مقامی مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ پلانٹس نے کیلنڈر سال 2025ء (جنوری تا دسمبر) کے دوران 3 کروڑ 2 لاکھ 10 ہزار (30.21 ملین) موبائل ہینڈ سیٹس تیار یا اسیمبل کیے، جبکہ تجارتی بنیادوں پر 23 لاکھ 70 ہزار (2.37 ملین) سیٹس درامد کیے گئے تھے۔</p>
<p>مقامی طور پر تیار کردہ 18.66 ملین موبائل ہینڈ سیٹس میں 80 لاکھ اسمارٹ فونز اور 1 کروڑ 10 لاکھ (11 ملین) ’ٹو جی(2G) فونز شامل ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے نیٹ ورک پر موجود موبائل ڈیوائسز میں 71 فیصد اسمارٹ فونز اور 29 فیصد ’ٹو جی‘ ڈیوائسز ہیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دو مہینوں (جولائی تا اگست) کے دوران پاکستان کی موبائل فون درامدات میں 8.85 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ حجم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 30 کروڑ 7 لاکھ 41 ہزار ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 27 کروڑ 41 لاکھ 29 ہزار ڈالررہ گیا۔</p>
<p>روپے کی قدر میں دیکھا جائے تو جولائی تا اگست 2026ء کے دوران موبائل فون کی درامدات 10.53 فیصد کمی کے ساتھ 76 ارب 26 کروڑ 70 لاکھ روپے رہیں، جو 2025ء کی اسی مدت میں 85 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے تھیں۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں موبائل فون درامدات میں 13.82 فیصد کمی درج کی گئی، جو اگست 2025ء کے 15 کروڑ 51 لاکھ 29 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 13 کروڑ 36 لاکھ 95 ہزار ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں موبائل فونز کی درامدات میں جولائی 2026ء کے 14 کروڑ 4 لاکھ 34 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 4.80 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اس کے برعکس زیرِ جائزہ مدت کے دوران پاکستان میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی طلب نسبتاً مضبوط رہی اور جاری مالی سال کے پہلے دو مہینوں (جولائی تا اگست 2026ء) میں ٹیلی کام آلات کی درامدات 8.95 فیصد اضافے کے ساتھ 43 کروڑ 20 لاکھ 44 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 39 کروڑ 55 لاکھ 36 ہزار ڈالر تھیں۔</p>
<p>روپے کی صورت میں ٹیلی کام آلات کی درامدات جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں 6.95 فیصد بڑھ کر 120 ارب 21 کروڑ 10 لاکھ روپے ہو گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 112 ارب 39 کروڑ 80 لاکھ روپے تھیں۔</p>
<p>ٹیلی کام آلات کی درامدات میں یہ اضافہ ملک کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری کی بدولت ہے، جس میں نیٹ ورک کی توسيع اور اگلی نسل کی موبائل خدمات کے اغاز کی تیاریاں شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم سالانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں ٹیلی کام آلات کی درامدات 3.42 فیصد کمی کے ساتھ 19 کروڑ 72 لاکھ 69 ہزار ڈالر رہیں، جو اگست 2025ء میں 20 کروڑ 42 لاکھ 63 ہزار ڈالر تھیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں پر اگست 2026ء میں ٹیلی کام آلات کی درامدات جولائی 2026ء کے 23 کروڑ 47 لاکھ 75 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 15.98 فیصد کم ہوئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291929</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 17:18:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301717151fe5e56.webp" type="image/webp" medium="image" height="452" width="679">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301717151fe5e56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان اسمبلی میں آسان کاروبار ایکٹ جلد پیش کیے جانے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291907/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلگت بلتستان اسمبلی میں آسان کاروبار ایکٹ جلد پیش کیے جانے کا امکان ہے، خطہ حکومت کے وسیع تر سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول میں اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت ریگولیٹری عمل کو آسان بنانے اور کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری بیان کے مطابق یہ پیشرفت گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین اور ایس آئی ایف سی کے سیکریٹری جمیل احمد قریشی کے درمیان ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی جس میں خطے میں سرمایہ کاری میں سہولت کاری، ریگولیٹری اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی ایف سی کی ٹیم نے وزیر اعلیٰ کو حکومت کی سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق اہم ترجیحات پر بریفنگ دی جنہیں آسان کاروبار ایکٹ کے ذریعے ملک بھر میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریگولیٹری عمل کو آسان بنانا، کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنا اور سرمایہ کاری و معاشی نمو کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسان کاروبار کے اقدامات میں وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ مخصوص مالیاتی اور ٹیکس اسکیمیں بھی شامل ہیں جن کا مقصد کاروباری عمل کو آسان بنانا اور پاکستان میں معاشی نمو کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جون 2025 کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اپنی اسمبلی میں ’’کے پی آسان کاروبار ایکٹ 2025‘‘ کے نام سے ایک مسودہ قانون پیش کیا۔ اس ایکٹ کا مقصد کاروباری سرگرمیوں میں سہولت کے لیے ون ونڈو پورٹل قائم کرنا، اسے منظم اور فعال کرنا ہے تاکہ ریگولیٹری منظوری کے عمل کو آسان بنایا جاسکے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اجلاس میں گلگت بلتستان میں صنعتی ترقی کے فروغ اور خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطہ کاری اور تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل سرمایہ کاری کے مواقع کی ترقی میں معاونت کے حوالے سے اپنے کردار کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی ایف سی نے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ خطے کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکے، کاروباری ماحول کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ادارہ جاتی سطح پر مربوط معاونت کے ذریعے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلگت بلتستان اسمبلی میں آسان کاروبار ایکٹ جلد پیش کیے جانے کا امکان ہے، خطہ حکومت کے وسیع تر سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول میں اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت ریگولیٹری عمل کو آسان بنانے اور کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔</strong></p>
<p>منگل کو جاری بیان کے مطابق یہ پیشرفت گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین اور ایس آئی ایف سی کے سیکریٹری جمیل احمد قریشی کے درمیان ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی جس میں خطے میں سرمایہ کاری میں سہولت کاری، ریگولیٹری اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ایس آئی ایف سی کی ٹیم نے وزیر اعلیٰ کو حکومت کی سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق اہم ترجیحات پر بریفنگ دی جنہیں آسان کاروبار ایکٹ کے ذریعے ملک بھر میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریگولیٹری عمل کو آسان بنانا، کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنا اور سرمایہ کاری و معاشی نمو کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔</p>
<p>آسان کاروبار کے اقدامات میں وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ مخصوص مالیاتی اور ٹیکس اسکیمیں بھی شامل ہیں جن کا مقصد کاروباری عمل کو آسان بنانا اور پاکستان میں معاشی نمو کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>30 جون 2025 کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے اپنی اسمبلی میں ’’کے پی آسان کاروبار ایکٹ 2025‘‘ کے نام سے ایک مسودہ قانون پیش کیا۔ اس ایکٹ کا مقصد کاروباری سرگرمیوں میں سہولت کے لیے ون ونڈو پورٹل قائم کرنا، اسے منظم اور فعال کرنا ہے تاکہ ریگولیٹری منظوری کے عمل کو آسان بنایا جاسکے ۔</p>
<p>دریں اثنا، اجلاس میں گلگت بلتستان میں صنعتی ترقی کے فروغ اور خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطہ کاری اور تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل سرمایہ کاری کے مواقع کی ترقی میں معاونت کے حوالے سے اپنے کردار کو اجاگر کیا۔</p>
<p>ایس آئی ایف سی نے گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ خطے کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکے، کاروباری ماحول کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ادارہ جاتی سطح پر مربوط معاونت کے ذریعے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291907</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 13:20:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30131440a0b9a3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="453" width="680">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30131440a0b9a3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کی عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291885/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کو برطانیہ کے دورے کے دوران دنیا کے معروف مالیاتی اداروں بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی، بلیک راک اور روتھ چائلڈ اینڈ کمپنی کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ملاقاتوں میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی عمل اور بہتر ہوتے ہوئے سرمایہ کاری کے ماحول میں عالمی مالیاتی شعبے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارکلیز کے ہیڈ آف پرائیویٹ بینک اینڈ ویلتھ مینجمنٹ یو کے محمد کمال سید سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان میں بینک کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور انہیں حکومت کے میکرو اکنامک استحکام کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے بارکلیز کو پاکستان کے مالیاتی شعبے میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن کے ای ایم ای اے کے شریک چیف ایگزیکٹو میتھیو ولٹز کی قیادت میں وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے کیپیٹل مارکیٹس، تجارتی فنانس اور سرمایہ کاری بینکاری کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا اور ادارے کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں وسعت دینے کی دعوت دی۔ وفد نے خودمختار قرضوں کی کیپیٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ بینکاری کے مواقع میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے سٹی کے چیف کلائنٹ آفیسر ڈیوڈ لیونگ اسٹون کی قیادت میں سینئر حکام کے وفد سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے پاکستان میں بینک کی طویل عرصے سے موجودگی کو سراہتے ہوئے کارپوریٹ اور ادارہ جاتی بینکاری خدمات کو مزید وسعت دینے کی حوصلہ افزائی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیک راک کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستانی ایکویٹیز اور فکسڈ انکم میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی۔ دونوں جانب سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے پالیسیوں میں مستقل مزاجی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روتھ چائلڈ اینڈ کمپنی کے نمائندوں لارڈ مارک سیڈول اور ماجد اسحاق سے ملاقات میں پاکستان کی جیو اکنامک ترجیحات اور کیپیٹل مارکیٹس و سرمایہ کاری حکمت عملی میں ممکنہ مشاورتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام ملاقاتوں کے دوران عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی رفتار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مالیاتی شعبے میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں کو حکومت کی جانب سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے اور ملک میں مستقل سرمایہ کاری لانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کو برطانیہ کے دورے کے دوران دنیا کے معروف مالیاتی اداروں بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی، بلیک راک اور روتھ چائلڈ اینڈ کمپنی کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔</strong></p>
<p>ان ملاقاتوں میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی عمل اور بہتر ہوتے ہوئے سرمایہ کاری کے ماحول میں عالمی مالیاتی شعبے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو اجاگر کیا گیا۔</p>
<p>بارکلیز کے ہیڈ آف پرائیویٹ بینک اینڈ ویلتھ مینجمنٹ یو کے محمد کمال سید سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان میں بینک کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور انہیں حکومت کے میکرو اکنامک استحکام کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے بارکلیز کو پاکستان کے مالیاتی شعبے میں مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔</p>
<p>جے پی مورگن کے ای ایم ای اے کے شریک چیف ایگزیکٹو میتھیو ولٹز کی قیادت میں وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے کیپیٹل مارکیٹس، تجارتی فنانس اور سرمایہ کاری بینکاری کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا اور ادارے کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں وسعت دینے کی دعوت دی۔ وفد نے خودمختار قرضوں کی کیپیٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ بینکاری کے مواقع میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے سٹی کے چیف کلائنٹ آفیسر ڈیوڈ لیونگ اسٹون کی قیادت میں سینئر حکام کے وفد سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے پاکستان میں بینک کی طویل عرصے سے موجودگی کو سراہتے ہوئے کارپوریٹ اور ادارہ جاتی بینکاری خدمات کو مزید وسعت دینے کی حوصلہ افزائی کی۔</p>
<p>بلیک راک کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستانی ایکویٹیز اور فکسڈ انکم میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی۔ دونوں جانب سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے پالیسیوں میں مستقل مزاجی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔</p>
<p>روتھ چائلڈ اینڈ کمپنی کے نمائندوں لارڈ مارک سیڈول اور ماجد اسحاق سے ملاقات میں پاکستان کی جیو اکنامک ترجیحات اور کیپیٹل مارکیٹس و سرمایہ کاری حکمت عملی میں ممکنہ مشاورتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>تمام ملاقاتوں کے دوران عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی رفتار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مالیاتی شعبے میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>ملاقاتوں کو حکومت کی جانب سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانے اور ملک میں مستقل سرمایہ کاری لانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔</p>
<p>ملاقاتوں میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی بھی موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291885</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 09:03:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30090157dc471a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30090157dc471a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کا افتتاح کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291889/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کی جانب سے لندن اسٹاک ایکسچینج (ایل ایس ای) کی ٹریڈنگ کا سیشن شروع کرنے والے پہلے وزیراعظم بن گئے، جبکہ انہوں نے پاکستان کے تاریخی 3 ارب ڈالر کے دو مرحلوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کا باضابطہ افتتاح بھی کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرناسٹر اسکوائر میں لندن اسٹاک ایکسچینج کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان میں زیادہ منافع بخش، محفوظ اور باہمی مفاد پر مبنی غیر ملکی سرمایہ کاری متوجہ کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب میں بات کر رہا ہوں تو ہم نے اپنے میکرو اکنامک اشاریوں کو مضبوط کیا ہے، جو انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور مستقبل کیلئے اچھی نوید ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2104975612561830396?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2104975612561830396?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ شویمر، پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان، پاکستانی وفد کے ارکان اور متعلقہ برطانوی حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یورو بانڈ ایک بین الاقوامی قرض کی سیکیورٹی ہے جو اس ملک سے باہر جاری کی جاتی ہے جس کی کرنسی میں اسے جاری کیا گیا ہو۔ نام میں یورو ہونے کے باوجود اس کا یورپ یا یورو کرنسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی جانب سے 3 ارب ڈالر مالیت کے دو مرحلوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کا انتظام کرنا ان کی محنت، گہری ساختی اصلاحات، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور ملکی معیشت کو دوبارہ درست سمت پر لانے کیلئے کیے گئے تمام ضروری اقدامات کا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان نے دو مرحلوں پر مشتمل یورو بانڈ کی فروخت کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جس کیلئے تقریباً 6 ارب ڈالر کی بولیاں موصول ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متعدد دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کی جانب بھی بڑھ رہی ہے اور ان اداروں کو نجی شعبے کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ اگر خلیجی بحران پیدا نہ ہوا ہوتا تو ملک ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہوچکا ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح پاکستان بھی اس چیلنج سے نمٹ رہا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی اور امن کیلئے اہم کردار بھی ادا کررہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اسی سمت میں آگے بڑھتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے نئے اسباق سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سرمایہ کار اب محفوظ مارکیٹوں کا جائزہ لینے اور ان کا تقابل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن اسٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے مخاطب ہوتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں میں ملک کی شمولیت کو مزید بڑھانے کیلئے ان کی رہنمائی اور مشورے کا خواہاں ہے، نہ صرف خودمختار قرضوں کے حوالے سے بلکہ پرکشش سرمایہ کاری کے مواقع کے ذریعے بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈیوڈ شویمر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کی جانب سے لندن اسٹاک ایکسچینج (ایل ایس ای) کی ٹریڈنگ کا سیشن شروع کرنے والے پہلے وزیراعظم بن گئے، جبکہ انہوں نے پاکستان کے تاریخی 3 ارب ڈالر کے دو مرحلوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کا باضابطہ افتتاح بھی کیا۔</strong></p>
<p>پیٹرناسٹر اسکوائر میں لندن اسٹاک ایکسچینج کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان میں زیادہ منافع بخش، محفوظ اور باہمی مفاد پر مبنی غیر ملکی سرمایہ کاری متوجہ کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب میں بات کر رہا ہوں تو ہم نے اپنے میکرو اکنامک اشاریوں کو مضبوط کیا ہے، جو انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور مستقبل کیلئے اچھی نوید ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2104975612561830396?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2104975612561830396?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تقریب میں لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ شویمر، پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان، پاکستانی وفد کے ارکان اور متعلقہ برطانوی حکام نے شرکت کی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یورو بانڈ ایک بین الاقوامی قرض کی سیکیورٹی ہے جو اس ملک سے باہر جاری کی جاتی ہے جس کی کرنسی میں اسے جاری کیا گیا ہو۔ نام میں یورو ہونے کے باوجود اس کا یورپ یا یورو کرنسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔</p>
</blockquote>
<p>وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی جانب سے 3 ارب ڈالر مالیت کے دو مرحلوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ کا انتظام کرنا ان کی محنت، گہری ساختی اصلاحات، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور ملکی معیشت کو دوبارہ درست سمت پر لانے کیلئے کیے گئے تمام ضروری اقدامات کا ثبوت ہے۔</p>
<p>رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان نے دو مرحلوں پر مشتمل یورو بانڈ کی فروخت کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے تھے، جس کیلئے تقریباً 6 ارب ڈالر کی بولیاں موصول ہوئی تھیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متعدد دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کی جانب بھی بڑھ رہی ہے اور ان اداروں کو نجی شعبے کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ اگر خلیجی بحران پیدا نہ ہوا ہوتا تو ملک ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہوچکا ہوتا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح پاکستان بھی اس چیلنج سے نمٹ رہا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی اور امن کیلئے اہم کردار بھی ادا کررہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اسی سمت میں آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p>خلیجی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے نئے اسباق سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سرمایہ کار اب محفوظ مارکیٹوں کا جائزہ لینے اور ان کا تقابل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>لندن اسٹاک ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے مخاطب ہوتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں میں ملک کی شمولیت کو مزید بڑھانے کیلئے ان کی رہنمائی اور مشورے کا خواہاں ہے، نہ صرف خودمختار قرضوں کے حوالے سے بلکہ پرکشش سرمایہ کاری کے مواقع کے ذریعے بھی۔</p>
<p>انہوں نے ڈیوڈ شویمر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291889</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 09:37:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30093541d6a7198.webp" type="image/webp" medium="image" height="792" width="1188">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30093541d6a7198.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے ڈی اے چیف کا ادارہ جاتی اصلاحات، کارکردگی بہتر بنانے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291926/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل زین العابدین انصاری نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، کارکردگی بہتر بنانے اور کراچی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوک سینٹر میں کے ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں افسران اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے زین العابدین انصاری نے شہر کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی، رہائش، اراضی کے انتظام، انفرااسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں ملازمین کی خدمات کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ٹیم ورک، عملی اقدامات اور کام کرنے کے طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے ان چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی صرف باتوں سے نہیں آتی بلکہ عملی اقدامات، بہتر طریقہ کار اور بہتر کارکردگی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے کام کریں اور اپنے فرائض پوری لگن کے ساتھ انجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وقت کی پابندی، صفائی، نظم و ضبط اور مثبت ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی بہتری اور اس کے وقار کو برقرار رکھنے میں ہر ملازم کا کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زین العابدین انصاری  نے کہا کہ اتھارٹی کی توجہ صرف مسائل کی نشاندہی یا افراد پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے نظام اور طریقہ کار بہتر بنانے اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے پر ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں افراد کے بجائے نظام، طریقہ کار اور نتائج پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین کو متحد ٹیم کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کے ڈی اے کی کارکردگی بہتر بنانے اور کراچی سمیت ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل زین العابدین انصاری نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، کارکردگی بہتر بنانے اور کراچی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔</strong></p>
<p>سوک سینٹر میں کے ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں افسران اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے زین العابدین انصاری نے شہر کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی، رہائش، اراضی کے انتظام، انفرااسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں ملازمین کی خدمات کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ٹیم ورک، عملی اقدامات اور کام کرنے کے طریقہ کار میں بہتری کے ذریعے ان چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ڈائریکٹر جنرل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی صرف باتوں سے نہیں آتی بلکہ عملی اقدامات، بہتر طریقہ کار اور بہتر کارکردگی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے کام کریں اور اپنے فرائض پوری لگن کے ساتھ انجام دیں۔</p>
<p>انہوں نے وقت کی پابندی، صفائی، نظم و ضبط اور مثبت ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی بہتری اور اس کے وقار کو برقرار رکھنے میں ہر ملازم کا کردار ہے۔</p>
<p>زین العابدین انصاری  نے کہا کہ اتھارٹی کی توجہ صرف مسائل کی نشاندہی یا افراد پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے نظام اور طریقہ کار بہتر بنانے اور قابلِ پیمائش نتائج حاصل کرنے پر ہونی چاہیے۔</p>
<p>ہمیں افراد کے بجائے نظام، طریقہ کار اور نتائج پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین کو متحد ٹیم کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کے ڈی اے کی کارکردگی بہتر بنانے اور کراچی سمیت ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291926</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 16:16:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/3016153283d3164.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/3016153283d3164.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صومالی فورسز نے ہائی جیک کیا گیا آئل ٹینکر بازیاب کرالیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291913/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صومالیہ کی پونٹ لینڈ سیکیورٹی فورسز نے پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرالیا ہے۔ پونٹ لینڈ کے سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کو بتایا کہ پالاؤ کے پرچم بردار اس ٹینکر کو اپریل میں صومالی قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا جس کے عملے کے 17 ارکان میں کم از کم 10 پاکستانی شامل تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براڈکاسٹر نے بتایا کہ جہاز کو یرغمال بنائے رکھنے والے قزاقوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PMPFOfficial/status/2104848019074257331?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PMPFOfficial/status/2104848019074257331?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پونٹ لینڈ کے حکام نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنر 25 کو 21 اپریل کو پونٹ لینڈ کے ساحل سے تقریباً 30 ناٹیکل میل دور سے قبضے میں لیا گیا تھا۔ اس وقت جہاز پر عملے کے 17 ارکان سوار تھے جن میں کم از کم 10 پاکستانی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارروائی گزشتہ ہفتے پونٹ لینڈ کی جانب سے قزاقی کے خلاف کی جانے والی ایک ایسی ہی کارروائی کے بعد عمل میں آئی ہے جب علاقائی میری ٹائم پولیس فورس نے بتایا تھا کہ اس نے امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ٹینکر سیبو 1 کو بازیاب کرا لیا ہے جسے صومالی قزاقوں نے اگست میں اغوا کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صومالیہ کی پونٹ لینڈ سیکیورٹی فورسز نے پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرالیا ہے۔ پونٹ لینڈ کے سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کو بتایا کہ پالاؤ کے پرچم بردار اس ٹینکر کو اپریل میں صومالی قزاقوں نے قبضے میں لے لیا تھا جس کے عملے کے 17 ارکان میں کم از کم 10 پاکستانی شامل تھے۔</strong></p>
<p>براڈکاسٹر نے بتایا کہ جہاز کو یرغمال بنائے رکھنے والے قزاقوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PMPFOfficial/status/2104848019074257331?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PMPFOfficial/status/2104848019074257331?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پونٹ لینڈ کے حکام نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>آنر 25 کو 21 اپریل کو پونٹ لینڈ کے ساحل سے تقریباً 30 ناٹیکل میل دور سے قبضے میں لیا گیا تھا۔ اس وقت جہاز پر عملے کے 17 ارکان سوار تھے جن میں کم از کم 10 پاکستانی شامل تھے۔</p>
<p>یہ کارروائی گزشتہ ہفتے پونٹ لینڈ کی جانب سے قزاقی کے خلاف کی جانے والی ایک ایسی ہی کارروائی کے بعد عمل میں آئی ہے جب علاقائی میری ٹائم پولیس فورس نے بتایا تھا کہ اس نے امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ٹینکر سیبو 1 کو بازیاب کرا لیا ہے جسے صومالی قزاقوں نے اگست میں اغوا کرلیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291913</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 14:06:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/301404024826e83.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/301404024826e83.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ خدمات کا سب سے بڑا سہولت مرکز قائم ہوگا، محسن نقوی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291879/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کراچی میں وفاقی وزارتِ داخلہ کے تحت ملک کا سب سے بڑا عوامی سہولت مرکز قائم کرے گی، جہاں شہریوں کو متعدد خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع وزارتِ داخلہ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ گرینڈ سہولت مرکز کا ماسٹر پلان 10 روز کے اندر تیار کرکے پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ مرکز میں وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے تمام محکموں اور اداروں کے کاؤنٹرز دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کو ایک ہی مقام پر پاسپورٹ، شناختی کارڈ، اسلحہ لائسنس اور مختلف نوعیت کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سیز) سمیت متعدد خدمات فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے حکام کو ہدایت کی کہ ماسٹر پلان میں تمام ضروری تقاضے شامل کیے جائیں اور مرکز کے قیام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، اسلام آباد ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے لیے 21 نئی گاڑیاں چین سے کراچی بندرگاہ پہنچ گئی ہیں، جو 2009 کے بعد اسلام آباد ریسکیو کے بیڑے میں سب سے بڑی توسیع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کراچی بندرگاہ پر نئی گاڑیوں کا معائنہ کیا اور کہا کہ نیا بیڑا اسلام آباد میں ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی صلاحیت مزید مستحکم کرے گا۔ یہ گاڑیاں پانچ روز میں وفاقی دارالحکومت پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے بیڑے میں چار ایریل فائر ٹرک، چھ فائر ٹاورز اور پانچ فائر ٹینڈرز شامل ہیں، جبکہ تمام گاڑیاں جدید فائر فائٹنگ اور ریسکیو آلات سے لیس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ گاڑیاں 256 فٹ تک کی بلندی پر امدادی کارروائیوں اور آگ بجھانے کے کام انجام دے سکتی ہیں۔ نیا بیڑا اسلام آباد کے چھ اسٹیشنز پر چوبیس گھنٹے دستیاب رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے گاڑیوں کی فراہمی میں تیزی لانے پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان گاڑیوں کی آمد اسلام آباد کے ہنگامی ردعمل کے نظام کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کراچی میں وفاقی وزارتِ داخلہ کے تحت ملک کا سب سے بڑا عوامی سہولت مرکز قائم کرے گی، جہاں شہریوں کو متعدد خدمات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع وزارتِ داخلہ کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ گرینڈ سہولت مرکز کا ماسٹر پلان 10 روز کے اندر تیار کرکے پیش کیا جائے۔</p>
<p>وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ مرکز میں وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے تمام محکموں اور اداروں کے کاؤنٹرز دستیاب ہوں گے۔</p>
<p>شہریوں کو ایک ہی مقام پر پاسپورٹ، شناختی کارڈ، اسلحہ لائسنس اور مختلف نوعیت کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹس (این او سیز) سمیت متعدد خدمات فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>محسن نقوی نے حکام کو ہدایت کی کہ ماسٹر پلان میں تمام ضروری تقاضے شامل کیے جائیں اور مرکز کے قیام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>دریں اثنا، اسلام آباد ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے لیے 21 نئی گاڑیاں چین سے کراچی بندرگاہ پہنچ گئی ہیں، جو 2009 کے بعد اسلام آباد ریسکیو کے بیڑے میں سب سے بڑی توسیع ہے۔</p>
<p>محسن نقوی نے کراچی بندرگاہ پر نئی گاڑیوں کا معائنہ کیا اور کہا کہ نیا بیڑا اسلام آباد میں ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی صلاحیت مزید مستحکم کرے گا۔ یہ گاڑیاں پانچ روز میں وفاقی دارالحکومت پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>نئے بیڑے میں چار ایریل فائر ٹرک، چھ فائر ٹاورز اور پانچ فائر ٹینڈرز شامل ہیں، جبکہ تمام گاڑیاں جدید فائر فائٹنگ اور ریسکیو آلات سے لیس ہیں۔</p>
<p>بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ گاڑیاں 256 فٹ تک کی بلندی پر امدادی کارروائیوں اور آگ بجھانے کے کام انجام دے سکتی ہیں۔ نیا بیڑا اسلام آباد کے چھ اسٹیشنز پر چوبیس گھنٹے دستیاب رہے گا۔</p>
<p>محسن نقوی نے گاڑیوں کی فراہمی میں تیزی لانے پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان گاڑیوں کی آمد اسلام آباد کے ہنگامی ردعمل کے نظام کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291879</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 22:14:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29220830aee2f5e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29220830aee2f5e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان عبوری حکومت کو جنگجو سوچ سے ریاستی تدبر کی جانب آنا ہوگا، عطا تارڑ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291867/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے افغان عبوری حکومت کو ان کے بقول جنگجو ذہنیت سے نکل کر ریاستی تدبر اور ذمہ دار ریاست کے رویے کی طرف آنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی پارلیمنٹرینز کانگریس (آئی پی سی) کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے لیے بارہا مذاکرات اور بات چیت کی کوشش کی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی جانب سے بھی امن کے لیے مطلوبہ عزم موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ذہنیت میں تبدیلی کا ہے اور افغان عبوری حکومت کو جنگجو سوچ سے دور ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان نے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کیں۔ پاکستانی وفود افغانستان گئے جبکہ تیسرے ممالک میں بھی مذاکرات ہوئے، جن میں حالیہ استنبول اور دوحہ مذاکرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ امن کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں عسکریت پسندی اور پاکستان کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی شامل ہے۔ پاکستان بارہا افغان حکام پر افغان سرزمین سے عسکریت پسند گروہوں کو کارروائیاں کرنے کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں سرحد پار حملے اور افغانستان کے اندر پاکستانی کارروائیاں بھی شامل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن سے تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، خصوصاً افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں اور گرم پانیوں تک رسائی فراہم کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افغانستان میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور امن و استحکام قائم ہونے کی صورت میں علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا تارڑ نے افغانستان کی نوجوان آبادی کا بھی ذکر کیا اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور تعلیم، اجتماع اور تنظیم سازی سمیت بنیادی حقوق تک رسائی پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت اور افغان آبادی کے بعض طبقات کے درمیان واضح خلیج موجود ہے۔ ان کے مطابق عام افغان شہری امن، استحکام اور معاشی خوشحالی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا تارڑ نے کہا کہ صرف امن ہی خوشحالی کی راہ ہموار کرسکتا ہے اور افغانستان کا استحکام پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق اسلام آباد نے حملوں کا جواب دیا ہے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھی جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا تارڑ نے کہا کہ افغان عوام ایک زیادہ خوشحال مستقبل کے حقدار ہیں اور انہیں اپنے ملک کے مستقبل کے تعین میں اپنی آواز شامل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے افغان عبوری حکومت کو ان کے بقول جنگجو ذہنیت سے نکل کر ریاستی تدبر اور ذمہ دار ریاست کے رویے کی طرف آنا ہوگا۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی پارلیمنٹرینز کانگریس (آئی پی سی) کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے لیے بارہا مذاکرات اور بات چیت کی کوشش کی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان کی جانب سے بھی امن کے لیے مطلوبہ عزم موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ذہنیت میں تبدیلی کا ہے اور افغان عبوری حکومت کو جنگجو سوچ سے دور ہونا ہوگا۔</p>
<p>عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پڑوسی ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان طویل عرصے سے تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان نے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے ذریعے متعدد کوششیں کیں۔ پاکستانی وفود افغانستان گئے جبکہ تیسرے ممالک میں بھی مذاکرات ہوئے، جن میں حالیہ استنبول اور دوحہ مذاکرات شامل ہیں۔</p>
<p>عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ امن کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں عسکریت پسندی اور پاکستان کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی شامل ہے۔ پاکستان بارہا افغان حکام پر افغان سرزمین سے عسکریت پسند گروہوں کو کارروائیاں کرنے کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی میں سرحد پار حملے اور افغانستان کے اندر پاکستانی کارروائیاں بھی شامل رہی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان امن سے تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، خصوصاً افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں اور گرم پانیوں تک رسائی فراہم کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افغانستان میں معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور امن و استحکام قائم ہونے کی صورت میں علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>عطا تارڑ نے افغانستان کی نوجوان آبادی کا بھی ذکر کیا اور خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت اور تعلیم، اجتماع اور تنظیم سازی سمیت بنیادی حقوق تک رسائی پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت اور افغان آبادی کے بعض طبقات کے درمیان واضح خلیج موجود ہے۔ ان کے مطابق عام افغان شہری امن، استحکام اور معاشی خوشحالی چاہتے ہیں۔</p>
<p>عطا تارڑ نے کہا کہ صرف امن ہی خوشحالی کی راہ ہموار کرسکتا ہے اور افغانستان کا استحکام پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق اسلام آباد نے حملوں کا جواب دیا ہے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھی جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>عطا تارڑ نے کہا کہ افغان عوام ایک زیادہ خوشحال مستقبل کے حقدار ہیں اور انہیں اپنے ملک کے مستقبل کے تعین میں اپنی آواز شامل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291867</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 15:47:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29154137ee0bc5b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29154137ee0bc5b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/jt3XCU0AKNI/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/jt3XCU0AKNI/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=jt3XCU0AKNI"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضلع بنوں پولیو وائرس کا مرکز بن گیا، رواں سال چوتھا کیس رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291865/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچی کی عمر 17 ماہ ہے اور وہ ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کے یونین کونسل کھنڈر خان خیل کی رہائشی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے مجموعی پانچ کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن سے سامنے آئے ہیں، جن میں تین کیسز صرف ضلع بنوں میں رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں 2025 کے مقابلے میں پولیو وائرس کی مجموعی منتقلی میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی موجودگی اور پھیلاؤ بدستور تشویش کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق پولیو ویکسین کے مؤثر استعمال سے پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی میں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں 2025 میں یہ تعداد کم ہوکر 31 رہ گئی، جبکہ رواں سال اب تک صرف پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نئے کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں انسداد پولیو مہم اور نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر بچے کو ویکسین فراہم کیے بغیر کوئی بچہ پولیو سے مکمل محفوظ نہیں ہوسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے دوران پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی چار بڑی قومی مہمات پہلے ہی منعقد کی جاچکی ہیں، جن میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے خصوصی مہم کے دوران 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی لیکن وائرس کی مسلسل موجودگی بچوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیو ایک متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں میں زندگی بھر کے لیے فالج یا موت کا سبب بن سکتی ہے، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت اور حکام نے والدین، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں کی روک تھام اور بچوں کی مکمل ویکسینیشن یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے رپورٹ ہوا ہے۔متاثرہ بچی کی عمر 17 ماہ ہے اور وہ ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کے یونین کونسل کھنڈر خان خیل کی رہائشی ہے۔</strong></p>
<p>رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کے مجموعی پانچ کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن سے سامنے آئے ہیں، جن میں تین کیسز صرف ضلع بنوں میں رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں 2025 کے مقابلے میں پولیو وائرس کی مجموعی منتقلی میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی موجودگی اور پھیلاؤ بدستور تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق پولیو ویکسین کے مؤثر استعمال سے پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی میں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں 2025 میں یہ تعداد کم ہوکر 31 رہ گئی، جبکہ رواں سال اب تک صرف پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔</p>
<p>تاہم نئے کیس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں انسداد پولیو مہم اور نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر بچے کو ویکسین فراہم کیے بغیر کوئی بچہ پولیو سے مکمل محفوظ نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>2026 کے دوران پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی چار بڑی قومی مہمات پہلے ہی منعقد کی جاچکی ہیں، جن میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے خصوصی مہم کے دوران 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی لیکن وائرس کی مسلسل موجودگی بچوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>پولیو ایک متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں میں زندگی بھر کے لیے فالج یا موت کا سبب بن سکتی ہے، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت اور حکام نے والدین، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں کی روک تھام اور بچوں کی مکمل ویکسینیشن یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291865</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 19:19:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2915133714c7be3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2915133714c7be3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب کا ٹیکس نظام کو جدید بنانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291854/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب حکومت جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے اپنے ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنے کی تیاری کررہی ہے جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) اور عالمی بینک نے ٹیکس دائرہ کار کو وسعت دینے اور محصولات کی وصولی بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ڈائریکٹر مائیکل روگی اور منیجر سلویا سولف کی قیادت میں عالمی بینک کے وفد نے پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) کے چیئرمین معظم اقبال سپرا سے ملاقات کی جس میں صوبے کے ٹیکس انتظامی نظام کو جدید بنانے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے مؤثر استفادے، ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ پر عمل درآمد اور ٹیکس شعبے میں بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔ سپرا نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے نئے کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ٹیکس وصولی کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے ڈیٹا کو مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈیٹا ٹیکس چوری، خوردبرد اور کاروباری ریکارڈ میں موجود تضادات کی نشاندہی میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی تکنیکی اور مالی معاونت سے پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) مشترکہ طور پر ڈیجیٹل ٹیکس اصلاحات کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپرا نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی تکنیکی معاونت سے ٹیکس اصلاحات کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب حکومت جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے اپنے ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنے کی تیاری کررہی ہے جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) اور عالمی بینک نے ٹیکس دائرہ کار کو وسعت دینے اور محصولات کی وصولی بہتر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>علاقائی ڈائریکٹر مائیکل روگی اور منیجر سلویا سولف کی قیادت میں عالمی بینک کے وفد نے پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) کے چیئرمین معظم اقبال سپرا سے ملاقات کی جس میں صوبے کے ٹیکس انتظامی نظام کو جدید بنانے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>فریقین نے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے مؤثر استفادے، ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ پر عمل درآمد اور ٹیکس شعبے میں بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔ سپرا نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے نئے کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ٹیکس وصولی کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے ڈیٹا کو مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ڈیٹا ٹیکس چوری، خوردبرد اور کاروباری ریکارڈ میں موجود تضادات کی نشاندہی میں مدد دے گا۔</p>
<p>عالمی بینک کی تکنیکی اور مالی معاونت سے پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) مشترکہ طور پر ڈیجیٹل ٹیکس اصلاحات کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کریں گے۔</p>
<p>سپرا نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی تکنیکی معاونت سے ٹیکس اصلاحات کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291854</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 13:28:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/291326213577948.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/291326213577948.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان، خیبر پختونخوا میں کارروائیاں، 7 دہشتگرد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291852/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران کم از کم 7 دہشتگرد مارے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان نے منگل کو سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ  سیکیورٹی فورسز نے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں کارروائی کے دوران 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنتہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے نوکچہ میں ایک خالی واٹر باؤزر کو آگ لگا دی اور فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے  مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنتہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائی کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی فورسز نے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کامیاب آپریشنز، صدر اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے ہیں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جرات اور بہادری پر فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔ پاکستان نے عالمی امن کے قیام اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے ہزاروں بہادر سپوتوں اور بیٹیوں کی قربانیاں دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستانی قوم اور اس کی بہادر مسلح افواج میں پاکستان، خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا عزم اور صلاحیت موجود ہے۔ دوست ممالک اور اتحادیوں کے تعاون سے امن و استحکام کے دشمنوں کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم  شہباز شریف نے کامیاب آپریشنز میں حصہ لینے والے سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر فخر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران کم از کم 7 دہشتگرد مارے گئے۔</strong></p>
<p>ریڈیو پاکستان نے منگل کو سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ  سیکیورٹی فورسز نے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں کارروائی کے دوران 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔</p>
<p>سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنتہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے نوکچہ میں ایک خالی واٹر باؤزر کو آگ لگا دی اور فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے  مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔</p>
<p>دریں اثنا خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فتنتہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔</p>
<p>سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔</p>
<p>سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائی کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔</p>
<p>سکیورٹی فورسز نے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔</p>
<p><strong>بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کامیاب آپریشنز، صدر اور وزیراعظم کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین</strong></p>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے ہیں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جرات اور بہادری پر فخر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔ پاکستان نے عالمی امن کے قیام اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے ہزاروں بہادر سپوتوں اور بیٹیوں کی قربانیاں دی ہیں۔</p>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستانی قوم اور اس کی بہادر مسلح افواج میں پاکستان، خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا عزم اور صلاحیت موجود ہے۔ دوست ممالک اور اتحادیوں کے تعاون سے امن و استحکام کے دشمنوں کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔</p>
<p>وزیراعظم  شہباز شریف نے کامیاب آپریشنز میں حصہ لینے والے سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اپنے بہادر سپوتوں پر فخر ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291852</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 13:22:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29131133e355619.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29131133e355619.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مری: اسکول وین میں آتشزدگی سے 10 بچے جھلس گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291845/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مری میں بچوں کو لے جانے والی اسکول وین حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 10 بچے جھلس کر زخمی ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ مری کے علاقے بڑاہوتر کے قریب پیش آیا جہاں اسکول وین سڑک سے نیچے جاگری۔ حادثے کے فوراً بعد وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر بچوں کو وین سے نکالا اور زخمیوں کو سول اسپتال مری منتقل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی کمشنر مری کے مطابق زخمی ہونے والے تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ بعض بچوں کو مزید طبی امداد کے لیے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مری حادثے میں طلبہ کے جھلسنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے مری کے واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے گاڑی میں گنجائش سے زیادہ طلبہ کی موجودگی اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ صوبائی حکومت کے بیان کے مطابق، انہوں نے اسکول وینز میں حفاظتی انتظامات اور گاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریم نواز نے کہا کہ یہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے کہ اسکول وینز کی حفاظت سے متعلق واضح احکامات کے باوجود ان پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مری میں بچوں کو لے جانے والی اسکول وین حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 10 بچے جھلس کر زخمی ہوگئے۔</strong></p>
<p>آج نیوز کے مطابق ریسکیو 1122 کے مطابق حادثہ مری کے علاقے بڑاہوتر کے قریب پیش آیا جہاں اسکول وین سڑک سے نیچے جاگری۔ حادثے کے فوراً بعد وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔</p>
<p>ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر بچوں کو وین سے نکالا اور زخمیوں کو سول اسپتال مری منتقل کردیا۔</p>
<p>ڈپٹی کمشنر مری کے مطابق زخمی ہونے والے تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ بعض بچوں کو مزید طبی امداد کے لیے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔</p>
<p>واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>پنجاب حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مری حادثے میں طلبہ کے جھلسنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے مری کے واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔</p>
<p>ابتدائی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے گاڑی میں گنجائش سے زیادہ طلبہ کی موجودگی اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ صوبائی حکومت کے بیان کے مطابق، انہوں نے اسکول وینز میں حفاظتی انتظامات اور گاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کا حکم دیا۔</p>
<p>مریم نواز نے کہا کہ یہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے کہ اسکول وینز کی حفاظت سے متعلق واضح احکامات کے باوجود ان پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291845</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 12:48:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29140409fb8e230.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29140409fb8e230.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی جنگ سے معاشی سرگرمیاں سست اور محصولات میں نقصان ہوا، پاکستان کی آئی ایم ایف کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291835/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے پیر کو پاکستان کے دورے پر موجود عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باعث پہلی سہ ماہی میں محصولات کا نقصان ہوا اور معاشی سرگرمیاں سست پڑیں۔ حکومت نے یہ بھی آگاہ کیا کہ لازمی اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کے تحت تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو 30 اکتوبر 2026 تک اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ڈیجیٹل طریقے سے ظاہر کرنا ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ حکومتی حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پہلے مرحلے کے مذاکرات میں محصولات کی کارکردگی، خلیجی تنازع کے معاشی اثرات اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی شق 15-اے کے تحت اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سمیت ساختی اصلاحات پر پیش رفت زیر بحث آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محصولات کے معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف مشن کو خلیجی تنازع کے ٹیکس وصولی پر اثرات سے آگاہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ 30 ستمبر 2026 تک پہلی سہ ماہی کے لیے طے شدہ 3.053 ٹریلین روپے کا محصولات کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو ستمبر میں 1.343 ٹریلین روپے کے ماہانہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 1.330 ٹریلین روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔ ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ ستمبر کی متوقع وصولی سے ایف بی آر جولائی تا ستمبر مجموعی محصولات کا 3.053 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ خلیجی تنازع کے بعد آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث ایندھن کی قیمتیں بڑھیں اور پاکستان میں معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جس سے ٹیکس وصولی متاثر ہوئی۔ بالخصوص درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے تخمینے کے مطابق جاری تنازع کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قومی خزانے کو تقریباً 144 ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم بیرونی دھچکے کے باوجود ٹیکس حکام آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سہ ماہی ہدف حاصل کرنے کے لیے پُراعتماد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف مشن کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی شق 15-اے کے تحت اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے متعلق بھی بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو لازمی نظام کے تحت اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ حکام نے واضح کیا کہ اثاثہ جات ظاہر کرنا اختیاری نہیں ہوگا اور اس نظام کے دائرہ کار میں آنے والے وفاقی ملازمین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے متعلقہ ملازمین کے لیے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا عمل 30 اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل اثاثہ جات کے گوشوارے دسمبر 2026 یا جنوری 2027 تک شائع کیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اثاثہ جات ظاہر کرنے کا اقدام سرکاری شعبے میں شفافیت اور احتساب مضبوط بنانے اور وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی بہتر بنانے کی حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پاکستان کی مالی اور محصولات کی کارکردگی، طے شدہ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد اور حالیہ بیرونی پیش رفت کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مشن مذاکرات کے دوران طے شدہ پروگرام اہداف اور محصولات میں اضافے کے اقدامات پر حکومت کی پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے پیر کو پاکستان کے دورے پر موجود عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے باعث پہلی سہ ماہی میں محصولات کا نقصان ہوا اور معاشی سرگرمیاں سست پڑیں۔ حکومت نے یہ بھی آگاہ کیا کہ لازمی اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کے تحت تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو 30 اکتوبر 2026 تک اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ڈیجیٹل طریقے سے ظاہر کرنا ہوں گے۔</strong></p>
<p>اعلیٰ حکومتی حکام نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پہلے مرحلے کے مذاکرات میں محصولات کی کارکردگی، خلیجی تنازع کے معاشی اثرات اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی شق 15-اے کے تحت اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سمیت ساختی اصلاحات پر پیش رفت زیر بحث آئی۔</p>
<p>محصولات کے معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف مشن کو خلیجی تنازع کے ٹیکس وصولی پر اثرات سے آگاہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ 30 ستمبر 2026 تک پہلی سہ ماہی کے لیے طے شدہ 3.053 ٹریلین روپے کا محصولات کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو ستمبر میں 1.343 ٹریلین روپے کے ماہانہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 1.330 ٹریلین روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔ ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ ستمبر کی متوقع وصولی سے ایف بی آر جولائی تا ستمبر مجموعی محصولات کا 3.053 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرلے گا۔</p>
<p>ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ خلیجی تنازع کے بعد آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث ایندھن کی قیمتیں بڑھیں اور پاکستان میں معاشی سرگرمیاں سست ہوئیں، جس سے ٹیکس وصولی متاثر ہوئی۔ بالخصوص درآمدی مرحلے پر سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی متاثر ہوئی۔</p>
<p>ایف بی آر کے تخمینے کے مطابق جاری تنازع کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قومی خزانے کو تقریباً 144 ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم بیرونی دھچکے کے باوجود ٹیکس حکام آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سہ ماہی ہدف حاصل کرنے کے لیے پُراعتماد ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ٹیکس حکام نے آئی ایم ایف مشن کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی شق 15-اے کے تحت اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے متعلق بھی بریفنگ دی۔</p>
<p>حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو لازمی نظام کے تحت اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ حکام نے واضح کیا کہ اثاثہ جات ظاہر کرنا اختیاری نہیں ہوگا اور اس نظام کے دائرہ کار میں آنے والے وفاقی ملازمین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی۔</p>
<p>حکومت نے متعلقہ ملازمین کے لیے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا عمل 30 اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل اثاثہ جات کے گوشوارے دسمبر 2026 یا جنوری 2027 تک شائع کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
<p>اثاثہ جات ظاہر کرنے کا اقدام سرکاری شعبے میں شفافیت اور احتساب مضبوط بنانے اور وفاقی سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی نگرانی بہتر بنانے کی حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پاکستان کی مالی اور محصولات کی کارکردگی، طے شدہ ساختی اصلاحات پر عمل درآمد اور حالیہ بیرونی پیش رفت کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مشن مذاکرات کے دوران طے شدہ پروگرام اہداف اور محصولات میں اضافے کے اقدامات پر حکومت کی پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291835</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 09:22:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفرازطاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2909192231cee69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2909192231cee69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی افغان جنگ کمیشن کا تنازع میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کا اعتراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291825/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی افغان جنگ کمیشن نے افغانستان میں تنازع کے دوران پاکستان کے دیرینہ کردار اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پیر کو بتایا کہ کمیشن کے شریک چیئرز شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی سربراہی میں وفد نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق وفد افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بشمول پاکستان کی معاونت، علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ کمیشن کے کام سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بھی توجہ مرکوز رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تنازع کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا اور افغانستان میں طویل تنازع کے دوران پاکستان کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے تزویراتی، سفارتی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے وقت علاقائی نقطۂ نظر اور پاکستان کے تجربے کو شامل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی افغان جنگ کمیشن نے افغانستان میں تنازع کے دوران پاکستان کے دیرینہ کردار اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا ہے۔</strong></p>
<p>فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پیر کو بتایا کہ کمیشن کے شریک چیئرز شمیلا این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی سربراہی میں وفد نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔</p>
<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق وفد افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، بشمول پاکستان کی معاونت، علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ کمیشن کے کام سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بھی توجہ مرکوز رہی۔</p>
<p>فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تنازع کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا اور افغانستان میں طویل تنازع کے دوران پاکستان کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازع کے تزویراتی، سفارتی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے وقت علاقائی نقطۂ نظر اور پاکستان کے تجربے کو شامل کرنا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291825</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 20:05:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28195730942bc73.webp" type="image/webp" medium="image" height="842" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28195730942bc73.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں ناکام، عطاء اللہ تارڑ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291822/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے نہ تو دہشت گردی کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی ہے کیونکہ اسے اس کے ذریعے سیاسی اور مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں، حالانکہ اس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جان بوجھ کر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو صوبے میں قانونی دائرے میں لانے سے گریز کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے مختص وسائل کے صوبے میں استعمال کی تفصیلات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا، ’’بھاری فنڈز حاصل کرنے کے باوجود آپ نے سیف سٹی کیمرے تک نصب نہیں کیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارڑ نے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ٹی آئی کو صوبے میں حکومت کرتے ہوئے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن خیبرپختونخوا کے عوام آج بھی علاج معالجے کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر افغانستان کی مذمت نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کو نہ تو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے ہیں اور نہ ہی اسے ضروری اختیارات دیے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے ذریعے پولیس کے اختیارات مزید محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے نہ تو دہشت گردی کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</strong></p>
<p>پیر کو اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی ہے کیونکہ اسے اس کے ذریعے سیاسی اور مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں، حالانکہ اس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی قیادت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم ہے۔‘‘</p>
<p>تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لیے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جان بوجھ کر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو صوبے میں قانونی دائرے میں لانے سے گریز کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے مختص وسائل کے صوبے میں استعمال کی تفصیلات فراہم کرے۔ انہوں نے کہا، ’’بھاری فنڈز حاصل کرنے کے باوجود آپ نے سیف سٹی کیمرے تک نصب نہیں کیے۔‘‘</p>
<p>تارڑ نے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ٹی آئی کو صوبے میں حکومت کرتے ہوئے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن خیبرپختونخوا کے عوام آج بھی علاج معالجے کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔‘‘</p>
<p>وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر افغانستان کی مذمت نہیں کرتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کو نہ تو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل فراہم کیے ہیں اور نہ ہی اسے ضروری اختیارات دیے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے ذریعے پولیس کے اختیارات مزید محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291822</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 18:11:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28165502b513a39.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28165502b513a39.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹانک میں پولیس موبائل پر فائرنگ، 3 اہلکار شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291812/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار جام شہادت نوش کرگئے اور 2 زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ پولیس کے حوالے سے آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق حملہ ایس ایم اے تھانے کی حدود میں ہوا، جہاں مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر ہی شہید جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد بھی جمع کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہید اہلکاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں لاشوں کا قانونی معائنہ اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے حملہ آوروں کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ حکومت شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار جام شہادت نوش کرگئے اور 2 زخمی ہوگئے۔یہ واقعہ پولیس کے حوالے سے آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔</strong></p>
<p>پولیس کے مطابق حملہ ایس ایم اے تھانے کی حدود میں ہوا، جہاں مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر ہی شہید جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد بھی جمع کیے۔</p>
<p>شہید اہلکاروں کی لاشیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں لاشوں کا قانونی معائنہ اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔</p>
<p>پولیس نے حملہ آوروں کا سراغ لگانے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ حکومت شہید اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291812</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 15:17:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/281512470623f2f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/281512470623f2f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میر رضا قتل کیس: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کی مدت میں توسیع کی درخواست منظور کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291807/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پُراسرار موت کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کردی گئی، کمیشن کیس کی تفتیش اور طبی معائنے میں مبینہ کوتاہیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق کمیشن کی ایک ماہ کی قانونی مدت 27 ستمبر کو مکمل ہوگئی ہے۔ کمیشن کے رجسٹرار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست منظور کرلی ہے جبکہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجراء کے لیے سندھ کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے باقی ماندہ گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور اپنی حتمی رپورٹ پر کام کرنے کے لیے فی الحال کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارروائی کے دوران کمیشن نے شواہد کو سنبھالنے کے طریقہ کار اور ابتدائی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیشن نے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود تضادات اور میڈیکل بورڈز کی تشکیل سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ کارروائی کے دوران کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ علاقے کے اطراف 52 کیمرے نصب تھے، تاہم ابتدائی طور پر صرف ایک کیمرے کی فوٹیج حاصل کی گئی تھی۔ کمیشن نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ جائے وقوعہ کے ایک حصے کو آگ لگنے کے حالات کیا تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عمر سیال نے پہلی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور تفتیش اور طبی معائنے سے متعلق معاملات پر سینئر حکام کو طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے میر رضا کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ تضادات کا جائزہ لیا جب کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے رپورٹ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ گزشتہ عدالتی کارروائی کے مطابق بعد میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں مبینہ طور پر خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق کمیشن نے میڈیکل بورڈز کی تشکیل اور ان کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور سینئر محکمہ صحت کے حکام جن میں ہیلتھ سیکریٹری طاہر حسین سانگی اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ شہریار میمن شامل ہیں کو طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مقتول کی بہن علیشبہ اور خاندانی وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ پولیس کی خامیاں سامنے آنے کے بعد وہ اصل قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بااختیار جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پُراسرار موت کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کردی گئی، کمیشن کیس کی تفتیش اور طبی معائنے میں مبینہ کوتاہیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔</strong></p>
<p>آج نیوز کے مطابق کمیشن کی ایک ماہ کی قانونی مدت 27 ستمبر کو مکمل ہوگئی ہے۔ کمیشن کے رجسٹرار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست منظور کرلی ہے جبکہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجراء کے لیے سندھ کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔</p>
<p>جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے باقی ماندہ گواہوں کے بیانات مکمل کرنے اور اپنی حتمی رپورٹ پر کام کرنے کے لیے فی الحال کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔</p>
<p>کارروائی کے دوران کمیشن نے شواہد کو سنبھالنے کے طریقہ کار اور ابتدائی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیشن نے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود تضادات اور میڈیکل بورڈز کی تشکیل سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا ہے۔</p>
<p>کمیشن نے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ کارروائی کے دوران کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ علاقے کے اطراف 52 کیمرے نصب تھے، تاہم ابتدائی طور پر صرف ایک کیمرے کی فوٹیج حاصل کی گئی تھی۔ کمیشن نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ جائے وقوعہ کے ایک حصے کو آگ لگنے کے حالات کیا تھے۔</p>
<p>جسٹس عمر سیال نے پہلی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور تفتیش اور طبی معائنے سے متعلق معاملات پر سینئر حکام کو طلب کیا ہے۔</p>
<p>کمیشن نے میر رضا کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ تضادات کا جائزہ لیا جب کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے رپورٹ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ گزشتہ عدالتی کارروائی کے مطابق بعد میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں مبینہ طور پر خودکشی کے امکان کو مسترد کردیا گیا تھا۔</p>
<p>کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق کمیشن نے میڈیکل بورڈز کی تشکیل اور ان کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور سینئر محکمہ صحت کے حکام جن میں ہیلتھ سیکریٹری طاہر حسین سانگی اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ شہریار میمن شامل ہیں کو طلب کیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب مقتول کی بہن علیشبہ اور خاندانی وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ پولیس کی خامیاں سامنے آنے کے بعد وہ اصل قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بااختیار جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291807</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 13:57:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2813162400b37d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2813162400b37d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کی خلائی سفارت کاری، پاکستانی خلا باز کو مدار تک پہنچانے کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے دو پائلٹس چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلاباز بننے کے لیے سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ان دونوں میں سے ایک کے حتمی انتخاب کا فیصلہ اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو میں انسانی خلائی پرواز کے تعاون کی نگرانی کرنے والے عامر گیلانی کے مطابق زیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں شروع کیے گئے تعاون کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تربیت میں چینی زبان سیکھنے، خلائی جہاز کے نظام سے واقفیت، بے وزنی کی حالت میں کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کے ساتھ ساتھ خلائی پرواز کے دوران کششِ ثقل کی شدید قوتوں سے مطابقت پیدا کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے مطابق دونوں پائلٹس نے تقریباً 20 حتمی امیدواروں میں سے جگہ بنائی۔ امیدواروں کا انتخاب طبی صحت، نفسیاتی مضبوطی اور زیادہ جی فورس برداشت کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا گیا۔ سپارکو کے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے کہا کہ سائنسدانوں میں ایسے افراد تلاش کرنا مشکل ہے جو تیز رفتار پرواز اور شدید جی فورس کا تجربہ رکھتے ہوں، اسی لیے تیز رفتار پرواز کے پس منظر رکھنے والے دونوں پائلٹس کا انتخاب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے گا اور مدار میں پاکستان کے سائنسی تجربات کی نگرانی کرے گا۔ سپارکو کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے 300 سے زائد تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چینی اداروں نے اس مشن کے لیے چار تجربات منتخب کیے۔ ان تجربات کا تعلق حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے ہے اور ان کا مقصد غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عامر گیلانی کے مطابق تمام تجربات سپارکو کی اپنی لیبارٹریوں میں تیار اور ابتدائی طور پر آزمائے گئے، جس کے بعد چینی انجینئرز نے ان کی منظوری دی۔ تاہم پاکستان کا سائنسی پے لوڈ تیان گونگ اسٹیشن پر کیے جانے والے مجموعی تجربات کے مقابلے میں محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی خلا باز چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے چین سے خلائی سفر کرے گا، چینی ماہرین سے تربیت حاصل کرے گا اور مدار میں چینی زبان میں رابطہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس اپنا آزاد لانچ وہیکل یا انسانی خلائی جہاز موجود نہیں، جبکہ پاکستانی خلا باز کا قیام تقریباً ایک ہفتے پر محیط ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپارکو کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کو اپنے خلائی اسٹیشن پر غیر ملکی خلا باز بھیجنے کی دعوت دونوں ممالک کے وسیع خلائی تعاون کا حصہ ہے۔ عامر گیلانی نے کہا کہ چاند پر پاکستانی خلا باز بھیجنے کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری وعدہ یا بات چیت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کا تیار کردہ قمری روور چین کے چانگ ای 8 مشن کے ذریعے تقریباً 2028 میں چاند پر بھیجے جانے کی توقع ہے۔ روور مصنوعی ذہانت پر مبنی تھری ڈی تصویری نظام استعمال کرتے ہوئے رکاوٹوں کی نشاندہی، گہرائی کا اندازہ اور چاند کی سطح پر اپنا راستہ خود طے کرے گا۔ سپارکو کے عزیر انصاری نے اس مشن کو پاکستانی سائنسدانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے دو پائلٹس چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلاباز بننے کے لیے سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ان دونوں میں سے ایک کے حتمی انتخاب کا فیصلہ اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو میں انسانی خلائی پرواز کے تعاون کی نگرانی کرنے والے عامر گیلانی کے مطابق زیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں شروع کیے گئے تعاون کا حصہ ہے۔</p>
<p>تربیت میں چینی زبان سیکھنے، خلائی جہاز کے نظام سے واقفیت، بے وزنی کی حالت میں کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کے ساتھ ساتھ خلائی پرواز کے دوران کششِ ثقل کی شدید قوتوں سے مطابقت پیدا کرنا شامل ہے۔</p>
<p>سپارکو کے مطابق دونوں پائلٹس نے تقریباً 20 حتمی امیدواروں میں سے جگہ بنائی۔ امیدواروں کا انتخاب طبی صحت، نفسیاتی مضبوطی اور زیادہ جی فورس برداشت کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا گیا۔ سپارکو کے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے کہا کہ سائنسدانوں میں ایسے افراد تلاش کرنا مشکل ہے جو تیز رفتار پرواز اور شدید جی فورس کا تجربہ رکھتے ہوں، اسی لیے تیز رفتار پرواز کے پس منظر رکھنے والے دونوں پائلٹس کا انتخاب کیا گیا۔</p>
<p>منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے گا اور مدار میں پاکستان کے سائنسی تجربات کی نگرانی کرے گا۔ سپارکو کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے 300 سے زائد تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چینی اداروں نے اس مشن کے لیے چار تجربات منتخب کیے۔ ان تجربات کا تعلق حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے ہے اور ان کا مقصد غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>عامر گیلانی کے مطابق تمام تجربات سپارکو کی اپنی لیبارٹریوں میں تیار اور ابتدائی طور پر آزمائے گئے، جس کے بعد چینی انجینئرز نے ان کی منظوری دی۔ تاہم پاکستان کا سائنسی پے لوڈ تیان گونگ اسٹیشن پر کیے جانے والے مجموعی تجربات کے مقابلے میں محدود ہے۔</p>
<p>پاکستانی خلا باز چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے چین سے خلائی سفر کرے گا، چینی ماہرین سے تربیت حاصل کرے گا اور مدار میں چینی زبان میں رابطہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس اپنا آزاد لانچ وہیکل یا انسانی خلائی جہاز موجود نہیں، جبکہ پاکستانی خلا باز کا قیام تقریباً ایک ہفتے پر محیط ہوگا۔</p>
<p>سپارکو کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کو اپنے خلائی اسٹیشن پر غیر ملکی خلا باز بھیجنے کی دعوت دونوں ممالک کے وسیع خلائی تعاون کا حصہ ہے۔ عامر گیلانی نے کہا کہ چاند پر پاکستانی خلا باز بھیجنے کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری وعدہ یا بات چیت نہیں ہوئی۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کا تیار کردہ قمری روور چین کے چانگ ای 8 مشن کے ذریعے تقریباً 2028 میں چاند پر بھیجے جانے کی توقع ہے۔ روور مصنوعی ذہانت پر مبنی تھری ڈی تصویری نظام استعمال کرتے ہوئے رکاوٹوں کی نشاندہی، گہرائی کا اندازہ اور چاند کی سطح پر اپنا راستہ خود طے کرے گا۔ سپارکو کے عزیر انصاری نے اس مشن کو پاکستانی سائنسدانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291788</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 09:58:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28095538c954b3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28095538c954b3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول سبسڈی، حکومتی اسکیم 10 ماہ تک جاری رکھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291780/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو کہا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت ضرورت پڑنے پر پٹرول پر سبسڈی اسکیم کو 10 ماہ تک جاری رکھے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پٹرول سبسڈی اسکیم کو 10 ماہ تک جاری رکھنے کی ضرورت پڑی تو اسے جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس اسکیم پر ماہانہ 35 سے 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک میں 20 سال کے لگ بھگ پرانی 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں، اس لیے عوام کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر جنگ کے خاتمے تک سبسڈی جاری رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے پٹرول پمپ مالکان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اضافی فیس وصول کیے بغیر صارفین تک اسکیم کا فائدہ پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت سابقہ انتظامیہ کی غلطیاں نہیں دہرائے گی، جس نے ان کے بقول مناسب تیاری کے بغیر ریلیف کا اعلان کیا اور ملک کو ڈیفالٹ کے قریب پہنچا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اپنے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہ پٹرول کی قیمت 1000 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ اگر پٹرول کی قلت پیدا ہوگئی تو قیمتوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بہتر فیصلوں کے باعث پاکستان میں پٹرول کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو کہا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت ضرورت پڑنے پر پٹرول پر سبسڈی اسکیم کو 10 ماہ تک جاری رکھے گی۔</strong></p>
<p>لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پٹرول سبسڈی اسکیم کو 10 ماہ تک جاری رکھنے کی ضرورت پڑی تو اسے جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس اسکیم پر ماہانہ 35 سے 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک ریلیف فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک میں 20 سال کے لگ بھگ پرانی 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں، اس لیے عوام کو جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر جنگ کے خاتمے تک سبسڈی جاری رکھی جائے گی۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے پٹرول پمپ مالکان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اضافی فیس وصول کیے بغیر صارفین تک اسکیم کا فائدہ پہنچایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت سابقہ انتظامیہ کی غلطیاں نہیں دہرائے گی، جس نے ان کے بقول مناسب تیاری کے بغیر ریلیف کا اعلان کیا اور ملک کو ڈیفالٹ کے قریب پہنچا دیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اپنے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہ پٹرول کی قیمت 1000 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ اگر پٹرول کی قلت پیدا ہوگئی تو قیمتوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہوجائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بہتر فیصلوں کے باعث پاکستان میں پٹرول کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291780</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 08:52:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28085047cba2870.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28085047cba2870.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نورستان میں جھڑپیں، پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات مسترد کردئیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291776/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو افغانستان کے صوبہ نورستان میں مبینہ تشدد سے جوڑنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں لغو، بے بنیاد اور حقیقت سے عاری قرار دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں پاکستان نے واضح طور پر نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ وزارت نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دے رہا ہے یا داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ پاکستان کے مبینہ ملوث ہونے کے ثبوت میں کوئی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ ویڈیو کو بھی ثبوت کے طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صرف چند غیر مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں، جو مناسب لباس یا سازوسامان سے محروم تھے اور بظاہر ایک پیشگی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی ویڈیو میں گرفتار کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کہا کہ افغانستان کے اندر مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹس میں دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے اور اپنے اس عزم کو پورا کرے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے مزید طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے الزامات کے ذریعے اپنے داخلی سیکیورٹی مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حوالے سے اس کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیکٹ چیک پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جب دونوں جانب سے سرحد پار عسکریت پسندی اور سیکیورٹی واقعات کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کو افغانستان کے صوبہ نورستان میں مبینہ تشدد سے جوڑنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں لغو، بے بنیاد اور حقیقت سے عاری قرار دیا۔</strong></p>
<p>وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں پاکستان نے واضح طور پر نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ وزارت نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دے رہا ہے یا داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>وزارت نے کہا کہ پاکستان کے مبینہ ملوث ہونے کے ثبوت میں کوئی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔</p>
<p>وزارت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ ویڈیو کو بھی ثبوت کے طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صرف چند غیر مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں، جو مناسب لباس یا سازوسامان سے محروم تھے اور بظاہر ایک پیشگی منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی ویڈیو میں گرفتار کیے گئے تھے۔</p>
<p>وزارت نے کہا کہ افغانستان کے اندر مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی متعدد رپورٹس میں دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتیں۔</p>
<p>پاکستان نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے اور اپنے اس عزم کو پورا کرے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔</p>
<p>وزارت نے مزید طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسے الزامات کے ذریعے اپنے داخلی سیکیورٹی مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حوالے سے اس کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔</p>
<p>یہ فیکٹ چیک پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جب دونوں جانب سے سرحد پار عسکریت پسندی اور سیکیورٹی واقعات کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291776</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 09:39:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/280938229d083a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/280938229d083a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں 96 گھنٹوں کے آپریشنز میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291774/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کردیئے، جن میں آپریشن شبان کے دوران مارے گئے 33 دہشت گرد بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے کوئٹہ کے ضلع شبان کے علاقے میں بھارت کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے مطابق  پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان طالبان حکومت کی شمولیت جسے بھارت کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے، قیمتی جانوں کے ضیاع اور امن و استحکام کو لاحق خطرات کا باعث بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح میں آپریشن شروع کیا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد متعدد ٹھکانے کلیئر کر دیے۔ کارروائی میں اب تک 33 دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آپریشن مزید تیز کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید 23 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک وسیع علاقے کو کلیئر کرلیا گیا ہے جبکہ خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے مطابق 25 ستمبر کو بلوچستان میں الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران نوشکی میں 11 دہشت گرد جبکہ مند میں فتنۃ الہندوستان کے 6 ارکان ہلاک کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے کہا کہ تازہ کارروائیوں کے بعد گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران آپریشن شبان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ہلاک کیے گئے دہشت گردوں کی تعداد 71 سے تجاوز کرگئی ہے۔ فوج نے ان گروہوں کی سرگرمیوں کو بھارتی سرپرستی سے منسوب کیا اور پاکستان میں دہشت گردی میں افغان طالبان حکومت کے مبینہ ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے کہا کہ  عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کلیئر کرنا ایک اہم کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر زرداری نے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا اور کہا کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے الگ بیان میں کہا کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا عزم بیرون ملک سے سرپرستی اور معاونت حاصل کرنے والی دہشت گردی کو پاکستانی سرزمین سے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز  دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائیاں دونوں گروہوں کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کردیئے، جن میں آپریشن شبان کے دوران مارے گئے 33 دہشت گرد بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے کوئٹہ کے ضلع شبان کے علاقے میں بھارت کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کی۔</p>
<p>فوج کے مطابق  پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان طالبان حکومت کی شمولیت جسے بھارت کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہے، قیمتی جانوں کے ضیاع اور امن و استحکام کو لاحق خطرات کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح میں آپریشن شروع کیا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد متعدد ٹھکانے کلیئر کر دیے۔ کارروائی میں اب تک 33 دہشت گرد ہلاک جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔</p>
<p>فوج کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آپریشن مزید تیز کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید 23 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک وسیع علاقے کو کلیئر کرلیا گیا ہے جبکہ خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔</p>
<p>فوج کے مطابق 25 ستمبر کو بلوچستان میں الگ الگ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران نوشکی میں 11 دہشت گرد جبکہ مند میں فتنۃ الہندوستان کے 6 ارکان ہلاک کیے گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے کہا کہ تازہ کارروائیوں کے بعد گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران آپریشن شبان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ہلاک کیے گئے دہشت گردوں کی تعداد 71 سے تجاوز کرگئی ہے۔ فوج نے ان گروہوں کی سرگرمیوں کو بھارتی سرپرستی سے منسوب کیا اور پاکستان میں دہشت گردی میں افغان طالبان حکومت کے مبینہ ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔</p>
<p>فوج نے کہا کہ  عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔</p>
<p>دوسری جانب صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کلیئر کرنا ایک اہم کامیابی ہے۔</p>
<p>صدر زرداری نے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا اور کہا کہ بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں جاری رہیں گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے الگ بیان میں کہا کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا عزم بیرون ملک سے سرپرستی اور معاونت حاصل کرنے والی دہشت گردی کو پاکستانی سرزمین سے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز  دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنارہی ہیں۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائیاں دونوں گروہوں کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291774</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Sep 2026 16:46:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/27161125acebfde.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/27161125acebfde.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات کی قلت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291795/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں اور سپلائرز کے مطابق پاکستان میں اس وقت 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث مریضوں کو کینسر، بلند فشار خون اور ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کے لیے ضروری علاج تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران ادویات بتدریج پیداوار سے نکلتی جا رہی ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ریٹیل مارکیٹ میں مقررہ قیمتوں سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث ان ادویات کی تیاری جاری رکھنا مالی طور پر ناقابل عمل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچررز کے مطابق انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے حکومت سے بارہا رجوع کیا ہے تاکہ ان کے لیے دوبارہ پیداوار اور سپلائی شروع کرنا ممکن ہو سکے، تاہم حکام نے ابھی تک ان کی درخواستوں کا جائزہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 کے تحت ہارڈ شپ کیسز پر قیمتوں میں اضافے کی درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے 60 سے 90 دن کے اندر فیصلہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاہم قیمتوں میں اضافے کے لیے وقتاً فوقتاً جمع کرائی جانے والی درخواستیں اب دو سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں، جس کے باعث بعض ادویات کی پیداوار بند ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق مارکیٹ سے غائب ہونے والی ادویات کی تعداد تقریباً 105 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم توقیر الحق نے کہا کہ حقیقت میں اس وقت ہارڈ شپ کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق یہ تعداد 105 تک اس لیے محدود ہے کیونکہ مینوفیکچررز نے نئی ہارڈ شپ درخواستیں—یعنی ایسی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں جن کی موجودہ قیمتوں پر پیداوار مالی طور پر ناقابل عمل ہو چکی ہے—ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کو دینا بند کر دی ہیں، کیونکہ سابقہ ہارڈ شپ درخواستیں زیر التوا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین کے مطابق حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ادویات بنانے والے قیمتوں میں عمومی اضافہ نہیں مانگ رہے، بلکہ ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی دی گئی آخری قیمتوں پر تیاری مالی طور پر ناقابل عمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان میں کون ادویات تیار اور سپلائی کرے گا؟ میرے خیال میں کوئی نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقیر الحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور اصل جان بچانے والی ادویات کم قیمتوں پر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مریض زیادہ قیمتوں پر جعلی اور اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے جان بچانے والی ادویات کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار برقرار رکھا ہوا ہے، جو پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام ادویات کا تقریباً 40 فیصد، یعنی تقریباً 500 مالیکیولز، بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے کہا کہ ڈریپ اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے ہارڈ شپ کیسز کے تحت قیمتوں میں اضافے کے لیے درخواست دی گئی ادویات کی نئی قیمتوں کی سفارش کر دی تھی اور حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو بھیج دی گئی تھی۔ تاہم کابینہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران متعدد مرتبہ بھیجی جانے والی اس سمری پر غور نہیں کر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تکنیکی صلاحیت رکھنے والا ریگولیٹر اور ریگولیٹری ادارہ ڈریپ ہارڈ شپ کیسز کا جائزہ لیتا ہے اور اپنی سفارشات حتمی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامران ناصر کے مطابق ڈریپ کی کارروائی کابینہ کو بھیجنے کی مشق کا کوئی جواز نہیں ہے، تاہم یہ عمل ملک میں بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے ڈریپ کو اختیارات دیے جانے چاہئیں اور ہارڈ شپ کیسز کا جائزہ لے کر ان پر فیصلہ دینے کا حتمی اختیار اسی ادارے کے پاس ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کابینہ کے پاس ہر معاملے کو اپنے اجلاس میں زیر بحث لانے کا وقت نہیں ہوتا، جبکہ ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اس کے پاس تکنیکی مہارت بھی موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کے مطابق پاکستانی ادویات سازوں نے حال ہی میں وفاقی وزیر قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال، اور وزیراعظم کے صنعت و پیداوار ڈویژن کے مشیر ہارون اختر سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھانے اور انہیں سفارش کرنے پر اتفاق کیا کہ ادویات کی قیمتوں کو فوری طور پر منظم کرنے کے لیے ڈریپ کو بااختیار بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامران ناصر نے مزید کہا کہ ڈریپ ہارڈ شپ کیسز کے تحت جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کے لیے ادویات ساز کمپنیوں کے مطالبے کو محض قبول نہیں کر لیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بلکہ ڈریپ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت پڑوسی ممالک میں ملتی جلتی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے اور پاکستانی مارکیٹ کے لیے نئی قیمتوں کی سفارش کرتا ہے۔ نئی قیمتیں علاقائی مارکیٹوں میں انہی مالیکیولز کی قیمتوں سے زیادہ نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم کاروبار کر رہے ہیں۔ ہمیں تقریباً 10 سے 15 فیصد منافع کے ساتھ ادویات تیار اور سپلائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مینوفیکچرنگ پلانٹس میں ٹیم اور عملے کو چلایا جا سکے، ادویات کی سپلائی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں، اور پھر بھی اتنا منافع باقی رہے کہ ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جا سکے، پیداوار میں توسیع کی جا سکے اور نئی مصنوعات کے لیے پیداواری لائنیں قائم کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں اور سپلائرز کے مطابق پاکستان میں اس وقت 100 سے زائد جان بچانے والی ادویات دستیاب نہیں ہیں، جس کے باعث مریضوں کو کینسر، بلند فشار خون اور ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کے لیے ضروری علاج تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران ادویات بتدریج پیداوار سے نکلتی جا رہی ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ریٹیل مارکیٹ میں مقررہ قیمتوں سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث ان ادویات کی تیاری جاری رکھنا مالی طور پر ناقابل عمل ہو گیا ہے۔</p>
<p>مینوفیکچررز کے مطابق انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے حکومت سے بارہا رجوع کیا ہے تاکہ ان کے لیے دوبارہ پیداوار اور سپلائی شروع کرنا ممکن ہو سکے، تاہم حکام نے ابھی تک ان کی درخواستوں کا جائزہ نہیں لیا۔</p>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 کے تحت ہارڈ شپ کیسز پر قیمتوں میں اضافے کی درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے 60 سے 90 دن کے اندر فیصلہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاہم قیمتوں میں اضافے کے لیے وقتاً فوقتاً جمع کرائی جانے والی درخواستیں اب دو سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں، جس کے باعث بعض ادویات کی پیداوار بند ہو گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق مارکیٹ سے غائب ہونے والی ادویات کی تعداد تقریباً 105 ہے۔</p>
<p>تاہم توقیر الحق نے کہا کہ حقیقت میں اس وقت ہارڈ شپ کیسز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق یہ تعداد 105 تک اس لیے محدود ہے کیونکہ مینوفیکچررز نے نئی ہارڈ شپ درخواستیں—یعنی ایسی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں جن کی موجودہ قیمتوں پر پیداوار مالی طور پر ناقابل عمل ہو چکی ہے—ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کو دینا بند کر دی ہیں، کیونکہ سابقہ ہارڈ شپ درخواستیں زیر التوا ہیں۔</p>
<p>پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین کے مطابق حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ادویات بنانے والے قیمتوں میں عمومی اضافہ نہیں مانگ رہے، بلکہ ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی دی گئی آخری قیمتوں پر تیاری مالی طور پر ناقابل عمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان میں کون ادویات تیار اور سپلائی کرے گا؟ میرے خیال میں کوئی نہیں۔‘‘</p>
<p>توقیر الحق نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور اصل جان بچانے والی ادویات کم قیمتوں پر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مریض زیادہ قیمتوں پر جعلی اور اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے جان بچانے والی ادویات کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار برقرار رکھا ہوا ہے، جو پاکستان میں فروخت ہونے والی تمام ادویات کا تقریباً 40 فیصد، یعنی تقریباً 500 مالیکیولز، بنتی ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا، پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے کہا کہ ڈریپ اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے ہارڈ شپ کیسز کے تحت قیمتوں میں اضافے کے لیے درخواست دی گئی ادویات کی نئی قیمتوں کی سفارش کر دی تھی اور حتمی منظوری کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو بھیج دی گئی تھی۔ تاہم کابینہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران متعدد مرتبہ بھیجی جانے والی اس سمری پر غور نہیں کر رہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تکنیکی صلاحیت رکھنے والا ریگولیٹر اور ریگولیٹری ادارہ ڈریپ ہارڈ شپ کیسز کا جائزہ لیتا ہے اور اپنی سفارشات حتمی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجتا ہے۔</p>
<p>کامران ناصر کے مطابق ڈریپ کی کارروائی کابینہ کو بھیجنے کی مشق کا کوئی جواز نہیں ہے، تاہم یہ عمل ملک میں بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے ڈریپ کو اختیارات دیے جانے چاہئیں اور ہارڈ شپ کیسز کا جائزہ لے کر ان پر فیصلہ دینے کا حتمی اختیار اسی ادارے کے پاس ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کابینہ کے پاس ہر معاملے کو اپنے اجلاس میں زیر بحث لانے کا وقت نہیں ہوتا، جبکہ ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اس کے پاس تکنیکی مہارت بھی موجود نہیں ہے۔</p>
<p>پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کے مطابق پاکستانی ادویات سازوں نے حال ہی میں وفاقی وزیر قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال، اور وزیراعظم کے صنعت و پیداوار ڈویژن کے مشیر ہارون اختر سے ملاقات کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھانے اور انہیں سفارش کرنے پر اتفاق کیا کہ ادویات کی قیمتوں کو فوری طور پر منظم کرنے کے لیے ڈریپ کو بااختیار بنایا جائے۔</p>
<p>کامران ناصر نے مزید کہا کہ ڈریپ ہارڈ شپ کیسز کے تحت جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کے لیے ادویات ساز کمپنیوں کے مطالبے کو محض قبول نہیں کر لیتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بلکہ ڈریپ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت پڑوسی ممالک میں ملتی جلتی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے اور پاکستانی مارکیٹ کے لیے نئی قیمتوں کی سفارش کرتا ہے۔ نئی قیمتیں علاقائی مارکیٹوں میں انہی مالیکیولز کی قیمتوں سے زیادہ نہیں ہوتیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم کاروبار کر رہے ہیں۔ ہمیں تقریباً 10 سے 15 فیصد منافع کے ساتھ ادویات تیار اور سپلائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مینوفیکچرنگ پلانٹس میں ٹیم اور عملے کو چلایا جا سکے، ادویات کی سپلائی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں، اور پھر بھی اتنا منافع باقی رہے کہ ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جا سکے، پیداوار میں توسیع کی جا سکے اور نئی مصنوعات کے لیے پیداواری لائنیں قائم کی جا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291795</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 12:11:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2812105409b84af.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2812105409b84af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
