<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 03 Oct 2026 04:45:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 03 Oct 2026 04:45:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمندری معیشت کے امکانات روشن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40292040/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منصوبہ بندی کمیشن نے سمندری معیشت کے تصور کے تحت پاکستان کے بحری شعبے کو متحرک کرنے کے لیے ایک مفید لائحۂ عمل پیش کیا ہے، جس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس مضمون میں بالخصوص مقصد نمبر 2 (بنیادی ڈھانچے سمیت پاکستانی بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانا)، مقصد نمبر 3 (سیاحت کے فروغ کے لیے ساحلی بنیادی ڈھانچہ ترقی دینا) اور مقصد نمبر 5 (علاقائی اور قومی کثیرالوسائل رابطوں کو فروغ دینا) کا جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ مصنف کو ان شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری معیشت ایک عالمی تصور کے طور پر ابھری ہے، جس کا مقصد سمندری اور ساحلی وسائل کو پائیدار بنیادوں پر بروئے کار لاکر معاشی ترقی، روزگار، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے، جبکہ سمندری ماحول کے طویل مدتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جسے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی حاصل ہے اور جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ایک اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے، سمندری معیشت ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، جس سے کئی دہائیوں سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بحری شعبہ محض بندرگاہوں اور جہاز رانی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندر سے توانائی کا حصول، جہاز سازی، لاجسٹکس، بحری خدمات اور متعدد ذیلی صنعتیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان شعبوں میں جی ڈی پی، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن اس امر کو تسلیم کرنے پر تحسین کا مستحق ہے کہ سمندری معیشت کو پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کے محرکات میں شامل ہونا چاہیے اور اس شعبے کی ترقی کے لیے مربوط پالیسی معاونت، ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بحری شعبے نے بالخصوص 1990ء کی دہائی کے اواخر میں لینڈ لارڈ پورٹ ماڈل کے نفاذ کے بعد نمایاں ترقی کی ہے۔ اس ماڈل کے تحت مال برداری اور سامان کی ہینڈلنگ سے متعلق بیشتر سرگرمیاں طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے نجی شعبے کو سونپ دی گئیں، جبکہ بندرگاہی حکام کو کرایوں اور رائلٹی کی مد میں آمدنی حاصل ہوتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لینڈ لارڈ پورٹ ماڈل اختیار کرنا پاکستان کی بندرگاہوں کے لیے ایک اہم اصلاحاتی قدم ثابت ہوا۔ اس ماڈل کے تحت بندرگاہی حکام نے اراضی کے ذخائر، بحری گزرگاہوں اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے جیسے اسٹریٹجک اثاثوں کی ملکیت برقرار رکھی، جبکہ نجی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے مخصوص نوعیت کے ٹرمینلز کی تعمیر، ترقی اور آپریشن کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی۔ اس انتظام سے حکومت کو سرکاری شعبے پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر خاطرخواہ نجی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ جدید کارگو ہینڈلنگ آلات متعارف ہوئے، آپریشنل کارکردگی بہتر ہوئی اور جہازوں کے بندرگاہ پر قیام اور مال اتارنے چڑھانے میں لگنے والے وقت میں نمایاں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پاکستان کے کارگو ٹرمینلز پیداواری صلاحیت اور آپریشنل معیار کے لحاظ سے خطے کی متعدد بندرگاہوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جدید کارگو ہینڈلنگ آلات، کمپیوٹرائزڈ ٹرمینل آپریٹنگ سسٹمز، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری نے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رعایتی معاہدوں کے ماڈل نے بندرگاہی حکام کے لیے رعایتی فیس، اراضی کے کرایوں اور رائلٹی کی مد میں مستحکم اور قابلِ پیش گوئی آمدنی کے ذرائع فراہم کیے ہیں، جبکہ تجارتی اور آپریشنل خطرات نجی سرمایہ کاروں کو منتقل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے بندرگاہی حکام کے پاس خاطرخواہ آمدنی اور ذخائر موجود ہیں اور وہ ترقیاتی بجٹ کے لیے پی ایس ڈی پی کی مختص رقوم پر انحصار کیے بغیر اپنے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات خود پورے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے بحری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے لیے لینڈ لارڈ پورٹ پالیسی کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے۔ لینڈ لارڈ پورٹ پالیسی کے نتائج ذیل میں دی گئی جدولوں میں بیان کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی کیو اے:&lt;/p&gt;
&lt;table&gt;
&lt;thead&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;th&gt;ٹرمینلز&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;سرمایہ کاری&lt;/th&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/thead&gt;
&lt;tbody&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کیو آئی سی ٹی 1&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;15 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کیو آئی سی ٹی 2&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;30 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ایف او ٹی سی او آئل ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;10 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ای وی ٹی ایل — اینگرو ووپاک لیکوئڈ کیمیکلز ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;10 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ایل سی ٹی — لیکوئڈ کارگو ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;5 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ایف اے پی گرین اینڈ فرٹیلائزر ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;13 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ایس ایس جی سی ایل پی جی ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;5 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;پی آئی بی ٹی کول، کلنکر اینڈ سیمنٹ ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;28 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ای ای ٹی ایل ایل این جی ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;12 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;پی جی پی سی ایل ایل این جی ٹرمینل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;13 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1 ارب 42 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;p&gt;کے پی ٹی:&lt;/p&gt;
&lt;table&gt;
&lt;thead&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;th&gt;ٹرمینلز&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;سرمایہ کاری&lt;/th&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/thead&gt;
&lt;tbody&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کے آئی سی ٹی&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;12 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کے جی ٹی ایل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;10 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کے جی ٹی ایم ایل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;15 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;ایس اے پی ٹی ایل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1 ارب امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;کل&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1 ارب 37 کروڑ امریکی ڈالر&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;p&gt;اس وقت نجی شعبہ زیادہ تر کارگو اور ٹرمینل آپریشنز تک محدود ہے۔ تاہم بندرگاہی سرگرمیوں کے متعدد ایسے شعبے اب بھی موجود ہیں جہاں نجی سرمایہ کاری اور مہارت نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ ٹگ بوٹ آپریشنز، پائلٹ سروسز میں معاونت، ڈریجنگ، مرمت و دیکھ بھال، تحفظ و سلامتی، بحری انجینئرنگ، فضلے کے انتظام اور بندرگاہی معاون خدمات جیسے شعبوں میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے خاطرخواہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ عالمی تجربہ بارہا ثابت کرچکا ہے کہ مسابقت سے کارکردگی اور جدت میں اضافہ ہوتا ہے، خدمات کا معیار بہتر ہوتا ہے اور سرکاری اداروں پر مالی بوجھ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کی پالیسی میں صرف ٹرمینلز کے رعایتی معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر ثابت شدہ مہارت رکھنے والے خصوصی آپریٹرز کو شفاف ضابطہ جاتی نگرانی کے تحت ان معاون خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی استعدادِ کار میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا کردار بھی بتدریج آپریٹر کے بجائے ایک مؤثر نگران اور سہولت کار کا ہونا چاہیے، جو منصفانہ مسابقت، حفاظتی معیارات اور ماحولیاتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑا موقع پاکستان کی بندرگاہی اتھارٹیز کی ملکیت میں موجود وسیع اراضی کے ذخائر ہیں۔ یہ قیمتی ساحلی اثاثے ملک کے ان معاشی وسائل میں شامل ہیں جنہیں اب تک مطلوبہ حد تک بروئے کار نہیں لایا جاسکا۔ ان اراضی کو خالی چھوڑنے یا کم قدر والی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سوچے سمجھے اور مؤثر طریقے سے تشکیل دی گئی سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مربوط تجارتی، رہائشی، آپریشنل اور تفریحی منصوبوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اراضی کے ذخائر کی ترقی کا مقصد محض رئیل اسٹیٹ منصوبے بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مجموعی بحری ماحولیاتی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ سنگاپور، دبئی، روٹرڈیم اور ہیمبرگ کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ساحلی علاقوں کی ترقی کے ذریعے بندرگاہی ماحول میں لاجسٹکس، تجارت، سیاحت اور تفریح کو یکجا کرکے انہیں بڑے معاشی اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔ پاکستان کے پاس بھی بالخصوص کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر میں ایسے ہی مواقع موجود ہیں، جہاں مستقبل کی ترقی کے لیے قابلِ ذکر ساحلی اراضی دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندرگاہی حکام زمین کو بطور ایکویٹی فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ نجی شعبہ ان سہولتوں کی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، تعمیر، آپریشن اور انتظام سنبھالے۔ اس ماڈل کے ذریعے بندرگاہیں بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کیے بغیر اپنے اثاثوں کی حقیقی تجارتی قدر سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ منافع میں شراکت، لیز اور رعایتی فیس کے ذریعے مستقل آمدنی بھی حاصل ہوتی رہے گی۔ اس طریقہ کار سے مقامی اور غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا اور ہزاروں براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ منصوبوں میں جدید لاجسٹکس پارکس، بانڈڈ گوداموں کے کمپلیکس، تقسیم و ترسیل کے مراکز، دفتری عمارات، بحری کاروباری اضلاع، ہوٹل، کانفرنس کی سہولتیں، جہازوں کے عملے کے لیے رہائشی مراکز، بحری تربیتی ادارے، جہازوں کی ہینڈلنگ کے مراکز اور تجارتی ریٹیل منصوبے شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ سہولتیں نہ صرف پاکستانی بندرگاہوں کی کشش میں اضافہ کریں گی بلکہ انہیں ان علاقائی بندرگاہوں کے مقابلے میں بھی زیادہ مسابقتی بنائیں گی جو پہلے ہی ایسی جامع اضافی خدمات فراہم کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفریحی شعبے میں کروز سیاحت اور ساحلی تفریحی سہولتوں کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی ساحلی پٹی قدرتی حسن سے مالا مال ہے، تاہم سیاحت کے نقطۂ نظر سے اس کی صلاحیت بڑی حد تک بروئے کار نہیں لائی جاسکی۔ ملکی اور غیرملکی مسافروں کے لیے کروز ٹرمینلز، ان کے ساتھ واک ویز، ریستوران، کیفے، خریداری کے مراکز، ثقافتی مراکز اور عوامی تفریحی مقامات قائم کرکے منتخب ساحلی علاقوں کو پرکشش سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی متعدد کامیاب بندرگاہوں نے ثابت کیا ہے کہ تجارتی بندرگاہیں اور تفریحی ساحلی علاقے کامیابی سے ساتھ ساتھ وجود رکھ سکتے ہیں۔ دبئی مرینا، سنگاپور کا کلارک کوئے اور سڈنی و وینکوور کے ساحلی اضلاع جیسے منصوبوں نے شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نمایاں معاشی سرگرمی بھی پیدا کی ہے۔ پاکستان بھی مقامی سماجی اور ثقافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے تصورات اختیار کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز بھی زیرغور لائی جاسکتی ہے کہ مخصوص اور مناسب ضابطہ کاری کے تحت ایسی مہمان نوازی کی سہولتیں قائم کی جائیں، جن میں بین الاقوامی کروز مسافروں اور غیرملکی سیاحوں کے لیے شراب خانے بھی شامل ہوں۔ ایسی سہولتیں موجودہ قوانین اور بین الاقوامی مہمان نوازی کے معیارات کے تحت چلائی جاسکتی ہیں، جس سے قومی ضوابط کی خلاف ورزی کیے بغیر پاکستان کی بطور علاقائی کروز سیاحتی مرکز کشش میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے غیرمتوقع طور پر پاکستان کی تزویراتی بحری اہمیت کو نمایاں کردیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد شپنگ لائنز نے آپریشنل خطرات کم کرنے اور ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے متبادل بحری راستوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل برآمدات اور کنٹینرائزڈ تجارت کا ایک قابلِ ذکر حصہ روزانہ گزرتا ہے۔ اس میں عارضی یا طویل المدتی کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی جہاز رانی کے نظام الاوقات، انشورنس پریمیم اور مال برداری کے اخراجات پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ شپنگ کمپنیاں ایسے قابلِ اعتماد متبادل بندرگاہوں کی مسلسل تلاش میں رہتی ہیں جو علاقائی عدم استحکام کی صورت میں ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھال سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بندرگاہوں کو اس صورتحال سے فائدہ ہوا۔ ملک میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کارگو میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کی تعداد بھی بڑھی۔ گوادر پورٹ پر بھی حالیہ برسوں کے مقابلے میں سرگرمی میں اضافہ ہوا، جو پاکستان کے تزویراتی محلِ وقوع میں عالمی دلچسپی بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ پیش رفت بنیادی طور پر غیرمعمولی جغرافیائی سیاسی حالات کے نتیجے میں ہوئی، تاہم اس سے پاکستان کی بندرگاہوں میں علاقائی لاجسٹکس مراکز کے طور پر خدمات انجام دینے کی پوشیدہ صلاحیت ضرور نمایاں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اضافی کنٹینر ٹریفک کا بیشتر حصہ کراچی پورٹ نے سنبھالا، جہاں پاکستان کا پہلا جدید ترین گہرے پانی کا کنٹینر ٹرمینل، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز لمیٹڈ (ایس اے پی ٹی ایل)، موجود ہے۔ اس سہولت میں مناسب گہرائی، جدید شپ ٹو شور کرینیں اور بڑی مادر شپ کے لیے کافی آپریشنل گنجائش موجود ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں مصروف ہوتی ہیں۔ یہ پاکستان کے اہم ترین مسابقتی فوائد میں سے ایک ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شپنگ لائنز معاشی پیمانے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بڑے جہازوں کو اپنے بیڑے میں شامل کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے کنٹینر بردار جہازوں کو لنگرانداز کرنے کی صلاحیت عالمی لائنر شپنگ میں تیزی سے اہم ہوتی جارہی ہے۔ 18 ہزار سے زائد ٹی ای یوز کی گنجائش رکھنے والے جدید کنٹینر جہازوں کے لیے زیادہ گہری بحری گزرگاہیں، مضبوط گھاٹ کا بنیادی ڈھانچہ، بڑی کرینیں اور انتہائی مؤثر ٹرمینل آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔ جو بندرگاہیں ان تکنیکی تقاضوں کو پورا نہ کرسکیں، انہیں علاقائی حریف بندرگاہوں کے حق میں نظرانداز کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ پاکستان اس سمت میں پہلے ہی اہم سرمایہ کاری کرچکا ہے، تاہم ملک کو خطے میں ترجیحی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے مسلسل ڈریجنگ، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے بحران سے پیدا ہونے والے موقع پر پاکستان کی شپنگ برادری کی بھی نظر رہی۔ اضافی ٹرانس شپمنٹ کارگو حاصل کرنے کے امکانات کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان شپز ایجنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے اے) نے فوری طور پر حکومت کو عملی تجاویز پیش کیں تاکہ موجودہ صورتحال سے پاکستان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے سفارش کی کہ موجودہ کسٹمز قوانین اور آپریشنل طریقہ کار میں مناسب ترامیم کرکے آف ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ کارگو ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اقدام سے بندرگاہ کے اندر بھیڑ کم کرکے، کارگو ہینڈلنگ کی کارکردگی بہتر بناکر اور طلب میں اضافے کے ادوار میں ٹرمینلز کو زیادہ حجم میں کارگو سنبھالنے کے قابل بناکر پاکستان کی لاجسٹکس چین میں نمایاں لچک پیدا کی جاسکتی ہے۔ دنیا بھر میں آف ڈاک سہولتیں جدید بندرگاہی لاجسٹکس کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، جو بندرگاہوں کو محدود ساحلی گنجائش کا زیادہ مؤثر استعمال کرنے اور ٹرمینلز، گوداموں اور اندرونِ ملک مقامات کے درمیان کارگو کی روانی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے ٹرانس شپمنٹ کے لیے کم از کم ایک مکمل کنٹینر سے کم مال، یعنی ایل سی ایل کارگو، کی ہینڈلنگ کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی۔ اگرچہ ایل سی ایل کارگو مختلف شپروں سے تعلق رکھنے والی نسبتاً چھوٹی کھیپوں پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم یہ بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم حصہ ہے، جو تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔ خطے کے متعدد لاجسٹکس مراکز نے ایل سی ایل کارگو کو یکجا کرنے اور منزل پر الگ الگ کرنے کی خصوصی خدمات کامیابی سے متعارف کرائی ہیں، جس سے اضافی آمدنی، روزگار اور اضافی قدر کی حامل لاجسٹکس سرگرمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ پاکستان کو اس شعبے میں شرکت کی اجازت دینے سے علاقائی تقسیم اور کارگو یکجائی کے مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ حکومت نے ان سفارشات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے نسبتاً مختصر مدت میں ضروری قانونی ضوابط، یعنی ایس آر اوز، جاری کردیے۔ اسی دوران بندرگاہی حکام نے پاکستان کی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ٹرانس شپمنٹ کارگو پر عائد مختلف چارجز میں بھی کمی کردی۔ حکومتی اداروں، ریگولیٹرز، بندرگاہی حکام اور نجی شعبے کے درمیان بروقت ہم آہنگی اس امر کی مثال ہے کہ جب پالیسی فیصلوں کو ابھرتی ہوئی تجارتی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو کیا نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محض عارضی پالیسی اقدامات پاکستان کو مستقل علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ اس قلیل مدتی موقع کو ایک پائیدار طویل مدتی کاروباری ماڈل میں تبدیل کیا جائے، جو علاقائی جغرافیائی سیاسی حالات معمول پر آنے کے بعد بھی شپنگ لائنز کو پاکستان کی طرف راغب کرسکے۔ شپنگ کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے عارضی مراعات کے بجائے قابلِ اعتماد خدمات، کارکردگی، مسابقتی لاگت اور طویل مدتی پالیسی استحکام کی بنیاد پر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ پاکستان کو اب وزارتِ بحری امور، بندرگاہی حکام، ٹرمینل آپریٹرز، کسٹمز حکام اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے ایک جامع تجارتی اور مارکیٹنگ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی شپنگ لائنز، عالمی لاجسٹکس کمپنیوں اور کارگو مالکان کے سامنے پاکستان کی بندرگاہوں کو فعال طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے، جس میں ملک کے تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع، جدید ٹرمینل بنیادی ڈھانچے، مسابقتی لاگت اور بہتر ہوتے رابطوں کو نمایاں کیا جائے۔ ہماری بندرگاہوں کی بین الاقوامی مارکیٹنگ کو غیرمعمولی حالات کے جواب تک محدود رکھنے کے بجائے مسلسل جاری رہنے والی سرگرمی بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح طریقہ کار کو آسان بنانا، کسٹمز کلیئرنس تیز کرنا، ڈیجیٹلائزیشن بہتر بنانا، دستاویزات کی ضروریات کم کرنا اور ضابطہ جاتی عمل کو قابلِ پیش گوئی بنانا بھی نہایت اہم ہے۔ عالمی شپنگ لائنز یقین دہانی اور کارکردگی کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ جہاز کے بندرگاہ پر قیام کے دورانیے، دستاویزی کارروائی اور کارگو کلیئرنس کے وقت میں معمولی بہتری بھی روٹنگ سے متعلق فیصلوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ٹرانس شپمنٹ مارکیٹ کا حجم سالانہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ٹی ای یوز لگایا جاتا ہے۔ اس مارکیٹ میں معمولی سا حصہ بھی حاصل کرنا پاکستان کے بحری شعبے کے لیے بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف بندرگاہوں اور ٹرمینل آپریٹرز کو اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے بلکہ شپنگ ایجنٹس، فریٹ فارورڈرز، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، گودام آپریٹرز، کسٹمز ایجنٹس، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور متعدد ذیلی خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ضربی اثر پوری قومی معیشت تک پھیلتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے اور علاقائی و عالمی سپلائی چینز میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک گروپ اور ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی مشترکہ طور پر شائع کردہ کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس 2025 کے مطابق، پورٹ قاسم اتھارٹی کا اسکور 2020 میں 8 کی بنیادی سطح سے بڑھ کر 2025 میں 60.1 ہوگیا، یعنی 52 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ اس طرح 2020 سے 2025 کے دوران دنیا کی تیزی سے بہتری دکھانے والی 20 کنٹینر بندرگاہوں میں اسے پانچویں پوزیشن حاصل ہوئی۔ اسی دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ 30 درجے بہتری کے ساتھ 99ویں سے 69ویں نمبر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور حالیہ حوصلہ افزا پیش رفت پاکستان کے لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس میں بہتری ہے، جو 150.90 سے بڑھ کر 161.55 ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے یہ انڈیکس 2004 میں متعارف کرایا تھا اور اب لائنر شپنگ رابطوں کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے سرفہرست 5 فیصد ممالک میں شامل ہے۔ بظاہر یہ محض ایک شماریاتی اشاریہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عالمی لائنر شپنگ نیٹ ورکس میں کسی ملک کے انضمام کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پیمائش ہے۔ زیادہ کنیکٹیویٹی انڈیکس بہتر شپنگ خدمات، جہازوں کی زیادہ آمد، نیٹ ورک کی بہتر کوریج اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے زیادہ انتخاب، یعنی زیادہ مسابقت، کی عکاسی کرتا ہے۔ بالآخر مضبوط بحری رابطے لاجسٹکس لاگت میں کمی، سپلائی چین کی مزاحمت میں بہتری اور ملکی بین الاقوامی تجارت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کے کنیکٹیویٹی انڈیکس میں حالیہ بہتری کو بذاتِ خود منزل سمجھنے کے بجائے اس حوصلہ افزا اشارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران کی جانے والی اصلاحات اب مثبت نتائج دینا شروع ہوگئی ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے بندرگاہی بنیادی ڈھانچے، بحری گزرگاہوں کی گہرائی میں اضافے، ڈیجیٹل تبدیلی، ضابطہ جاتی جدید کاری اور سرکاری اداروں و نجی شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری معیشت کا فریم ورک پاکستان کو قومی معیشت میں بحری شعبے کے کردار پر ازسرنو غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بندرگاہوں کو محض درآمدات و برآمدات کے دروازوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں تیزی سے معاشی ترقی کے محرکات کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، جو سرمایہ کاری متوجہ کرنے، صنعت کو سہارا دینے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط بنانے، روزگار پیدا کرنے اور سیاحت کے فروغ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کامیابی کا انحصار صرف بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، تجارتی سوچ اور بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار اپنانے کی آمادگی پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس خطے میں ایک اہم بحری اور لاجسٹکس مرکز بننے کے لیے جغرافیائی برتری، بنیادی ڈھانچہ اور نجی شعبے کی مطلوبہ صلاحیت موجود ہے۔ پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جائے، ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسی طویل مدتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شپنگ برادری کا اعتماد بحال رکھیں۔ اگر اس وژن کو مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو سمندری معیشت محض ایک پالیسی دستاویز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پائیدار معاشی ترقی کے ایک طاقتور محرک میں تبدیل ہوسکتی ہے اور آنے والی دہائیوں میں پاکستان کے بحری شعبے کو ملک کے سب سے قیمتی تزویراتی اثاثوں میں شامل کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی ہے۔ اب پاکستان کو پالیسیوں میں تسلسل، مسلسل سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبوں کے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی سمندری معیشت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>منصوبہ بندی کمیشن نے سمندری معیشت کے تصور کے تحت پاکستان کے بحری شعبے کو متحرک کرنے کے لیے ایک مفید لائحۂ عمل پیش کیا ہے، جس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس مضمون میں بالخصوص مقصد نمبر 2 (بنیادی ڈھانچے سمیت پاکستانی بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانا)، مقصد نمبر 3 (سیاحت کے فروغ کے لیے ساحلی بنیادی ڈھانچہ ترقی دینا) اور مقصد نمبر 5 (علاقائی اور قومی کثیرالوسائل رابطوں کو فروغ دینا) کا جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ مصنف کو ان شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔</strong></p>
<p>سمندری معیشت ایک عالمی تصور کے طور پر ابھری ہے، جس کا مقصد سمندری اور ساحلی وسائل کو پائیدار بنیادوں پر بروئے کار لاکر معاشی ترقی، روزگار، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے، جبکہ سمندری ماحول کے طویل مدتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جسے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی حاصل ہے اور جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ایک اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے، سمندری معیشت ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، جس سے کئی دہائیوں سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔</p>
<p>پاکستان کا بحری شعبہ محض بندرگاہوں اور جہاز رانی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندر سے توانائی کا حصول، جہاز سازی، لاجسٹکس، بحری خدمات اور متعدد ذیلی صنعتیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان شعبوں میں جی ڈی پی، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن اس امر کو تسلیم کرنے پر تحسین کا مستحق ہے کہ سمندری معیشت کو پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کے محرکات میں شامل ہونا چاہیے اور اس شعبے کی ترقی کے لیے مربوط پالیسی معاونت، ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بحری شعبے نے بالخصوص 1990ء کی دہائی کے اواخر میں لینڈ لارڈ پورٹ ماڈل کے نفاذ کے بعد نمایاں ترقی کی ہے۔ اس ماڈل کے تحت مال برداری اور سامان کی ہینڈلنگ سے متعلق بیشتر سرگرمیاں طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے نجی شعبے کو سونپ دی گئیں، جبکہ بندرگاہی حکام کو کرایوں اور رائلٹی کی مد میں آمدنی حاصل ہوتی رہی۔</p>
<p>لینڈ لارڈ پورٹ ماڈل اختیار کرنا پاکستان کی بندرگاہوں کے لیے ایک اہم اصلاحاتی قدم ثابت ہوا۔ اس ماڈل کے تحت بندرگاہی حکام نے اراضی کے ذخائر، بحری گزرگاہوں اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے جیسے اسٹریٹجک اثاثوں کی ملکیت برقرار رکھی، جبکہ نجی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے مخصوص نوعیت کے ٹرمینلز کی تعمیر، ترقی اور آپریشن کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی۔ اس انتظام سے حکومت کو سرکاری شعبے پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر خاطرخواہ نجی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ جدید کارگو ہینڈلنگ آلات متعارف ہوئے، آپریشنل کارکردگی بہتر ہوئی اور جہازوں کے بندرگاہ پر قیام اور مال اتارنے چڑھانے میں لگنے والے وقت میں نمایاں کمی آئی۔</p>
<p>آج پاکستان کے کارگو ٹرمینلز پیداواری صلاحیت اور آپریشنل معیار کے لحاظ سے خطے کی متعدد بندرگاہوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جدید کارگو ہینڈلنگ آلات، کمپیوٹرائزڈ ٹرمینل آپریٹنگ سسٹمز، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری نے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رعایتی معاہدوں کے ماڈل نے بندرگاہی حکام کے لیے رعایتی فیس، اراضی کے کرایوں اور رائلٹی کی مد میں مستحکم اور قابلِ پیش گوئی آمدنی کے ذرائع فراہم کیے ہیں، جبکہ تجارتی اور آپریشنل خطرات نجی سرمایہ کاروں کو منتقل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ہمارے بندرگاہی حکام کے پاس خاطرخواہ آمدنی اور ذخائر موجود ہیں اور وہ ترقیاتی بجٹ کے لیے پی ایس ڈی پی کی مختص رقوم پر انحصار کیے بغیر اپنے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات خود پورے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے بحری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے لیے لینڈ لارڈ پورٹ پالیسی کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے۔ لینڈ لارڈ پورٹ پالیسی کے نتائج ذیل میں دی گئی جدولوں میں بیان کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پی کیو اے:</p>
<table>
<thead>
<tr>
<th>ٹرمینلز</th>
<th>سرمایہ کاری</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>کیو آئی سی ٹی 1</td>
<td>15 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>کیو آئی سی ٹی 2</td>
<td>30 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ایف او ٹی سی او آئل ٹرمینل</td>
<td>10 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ای وی ٹی ایل — اینگرو ووپاک لیکوئڈ کیمیکلز ٹرمینل</td>
<td>10 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ایل سی ٹی — لیکوئڈ کارگو ٹرمینل</td>
<td>5 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ایف اے پی گرین اینڈ فرٹیلائزر ٹرمینل</td>
<td>13 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ایس ایس جی سی ایل پی جی ٹرمینل</td>
<td>5 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>پی آئی بی ٹی کول، کلنکر اینڈ سیمنٹ ٹرمینل</td>
<td>28 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ای ای ٹی ایل ایل این جی ٹرمینل</td>
<td>12 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>پی جی پی سی ایل ایل این جی ٹرمینل</td>
<td>13 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>کل</td>
<td>1 ارب 42 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>کے پی ٹی:</p>
<table>
<thead>
<tr>
<th>ٹرمینلز</th>
<th>سرمایہ کاری</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>کے آئی سی ٹی</td>
<td>12 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>کے جی ٹی ایل</td>
<td>10 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>کے جی ٹی ایم ایل</td>
<td>15 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>ایس اے پی ٹی ایل</td>
<td>1 ارب امریکی ڈالر</td>
</tr>
<tr>
<td>کل</td>
<td>1 ارب 37 کروڑ امریکی ڈالر</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>اس وقت نجی شعبہ زیادہ تر کارگو اور ٹرمینل آپریشنز تک محدود ہے۔ تاہم بندرگاہی سرگرمیوں کے متعدد ایسے شعبے اب بھی موجود ہیں جہاں نجی سرمایہ کاری اور مہارت نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ ٹگ بوٹ آپریشنز، پائلٹ سروسز میں معاونت، ڈریجنگ، مرمت و دیکھ بھال، تحفظ و سلامتی، بحری انجینئرنگ، فضلے کے انتظام اور بندرگاہی معاون خدمات جیسے شعبوں میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے خاطرخواہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ عالمی تجربہ بارہا ثابت کرچکا ہے کہ مسابقت سے کارکردگی اور جدت میں اضافہ ہوتا ہے، خدمات کا معیار بہتر ہوتا ہے اور سرکاری اداروں پر مالی بوجھ کم ہوتا ہے۔</p>
<p>مستقبل کی پالیسی میں صرف ٹرمینلز کے رعایتی معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر ثابت شدہ مہارت رکھنے والے خصوصی آپریٹرز کو شفاف ضابطہ جاتی نگرانی کے تحت ان معاون خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی استعدادِ کار میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا کردار بھی بتدریج آپریٹر کے بجائے ایک مؤثر نگران اور سہولت کار کا ہونا چاہیے، جو منصفانہ مسابقت، حفاظتی معیارات اور ماحولیاتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔</p>
<p>ایک اور بڑا موقع پاکستان کی بندرگاہی اتھارٹیز کی ملکیت میں موجود وسیع اراضی کے ذخائر ہیں۔ یہ قیمتی ساحلی اثاثے ملک کے ان معاشی وسائل میں شامل ہیں جنہیں اب تک مطلوبہ حد تک بروئے کار نہیں لایا جاسکا۔ ان اراضی کو خالی چھوڑنے یا کم قدر والی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سوچے سمجھے اور مؤثر طریقے سے تشکیل دی گئی سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مربوط تجارتی، رہائشی، آپریشنل اور تفریحی منصوبوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ان اراضی کے ذخائر کی ترقی کا مقصد محض رئیل اسٹیٹ منصوبے بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مجموعی بحری ماحولیاتی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ سنگاپور، دبئی، روٹرڈیم اور ہیمبرگ کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ساحلی علاقوں کی ترقی کے ذریعے بندرگاہی ماحول میں لاجسٹکس، تجارت، سیاحت اور تفریح کو یکجا کرکے انہیں بڑے معاشی اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔ پاکستان کے پاس بھی بالخصوص کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر میں ایسے ہی مواقع موجود ہیں، جہاں مستقبل کی ترقی کے لیے قابلِ ذکر ساحلی اراضی دستیاب ہے۔</p>
<p>بندرگاہی حکام زمین کو بطور ایکویٹی فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ نجی شعبہ ان سہولتوں کی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، تعمیر، آپریشن اور انتظام سنبھالے۔ اس ماڈل کے ذریعے بندرگاہیں بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کیے بغیر اپنے اثاثوں کی حقیقی تجارتی قدر سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ منافع میں شراکت، لیز اور رعایتی فیس کے ذریعے مستقل آمدنی بھی حاصل ہوتی رہے گی۔ اس طریقہ کار سے مقامی اور غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا اور ہزاروں براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>ممکنہ منصوبوں میں جدید لاجسٹکس پارکس، بانڈڈ گوداموں کے کمپلیکس، تقسیم و ترسیل کے مراکز، دفتری عمارات، بحری کاروباری اضلاع، ہوٹل، کانفرنس کی سہولتیں، جہازوں کے عملے کے لیے رہائشی مراکز، بحری تربیتی ادارے، جہازوں کی ہینڈلنگ کے مراکز اور تجارتی ریٹیل منصوبے شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ سہولتیں نہ صرف پاکستانی بندرگاہوں کی کشش میں اضافہ کریں گی بلکہ انہیں ان علاقائی بندرگاہوں کے مقابلے میں بھی زیادہ مسابقتی بنائیں گی جو پہلے ہی ایسی جامع اضافی خدمات فراہم کررہی ہیں۔</p>
<p>تفریحی شعبے میں کروز سیاحت اور ساحلی تفریحی سہولتوں کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی ساحلی پٹی قدرتی حسن سے مالا مال ہے، تاہم سیاحت کے نقطۂ نظر سے اس کی صلاحیت بڑی حد تک بروئے کار نہیں لائی جاسکی۔ ملکی اور غیرملکی مسافروں کے لیے کروز ٹرمینلز، ان کے ساتھ واک ویز، ریستوران، کیفے، خریداری کے مراکز، ثقافتی مراکز اور عوامی تفریحی مقامات قائم کرکے منتخب ساحلی علاقوں کو پرکشش سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>دنیا کی متعدد کامیاب بندرگاہوں نے ثابت کیا ہے کہ تجارتی بندرگاہیں اور تفریحی ساحلی علاقے کامیابی سے ساتھ ساتھ وجود رکھ سکتے ہیں۔ دبئی مرینا، سنگاپور کا کلارک کوئے اور سڈنی و وینکوور کے ساحلی اضلاع جیسے منصوبوں نے شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نمایاں معاشی سرگرمی بھی پیدا کی ہے۔ پاکستان بھی مقامی سماجی اور ثقافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے تصورات اختیار کرسکتا ہے۔</p>
<p>یہ تجویز بھی زیرغور لائی جاسکتی ہے کہ مخصوص اور مناسب ضابطہ کاری کے تحت ایسی مہمان نوازی کی سہولتیں قائم کی جائیں، جن میں بین الاقوامی کروز مسافروں اور غیرملکی سیاحوں کے لیے شراب خانے بھی شامل ہوں۔ ایسی سہولتیں موجودہ قوانین اور بین الاقوامی مہمان نوازی کے معیارات کے تحت چلائی جاسکتی ہیں، جس سے قومی ضوابط کی خلاف ورزی کیے بغیر پاکستان کی بطور علاقائی کروز سیاحتی مرکز کشش میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے غیرمتوقع طور پر پاکستان کی تزویراتی بحری اہمیت کو نمایاں کردیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد شپنگ لائنز نے آپریشنل خطرات کم کرنے اور ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے متبادل بحری راستوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل برآمدات اور کنٹینرائزڈ تجارت کا ایک قابلِ ذکر حصہ روزانہ گزرتا ہے۔ اس میں عارضی یا طویل المدتی کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی جہاز رانی کے نظام الاوقات، انشورنس پریمیم اور مال برداری کے اخراجات پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ شپنگ کمپنیاں ایسے قابلِ اعتماد متبادل بندرگاہوں کی مسلسل تلاش میں رہتی ہیں جو علاقائی عدم استحکام کی صورت میں ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھال سکیں۔</p>
<p>پاکستان کی بندرگاہوں کو اس صورتحال سے فائدہ ہوا۔ ملک میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کارگو میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کی تعداد بھی بڑھی۔ گوادر پورٹ پر بھی حالیہ برسوں کے مقابلے میں سرگرمی میں اضافہ ہوا، جو پاکستان کے تزویراتی محلِ وقوع میں عالمی دلچسپی بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ پیش رفت بنیادی طور پر غیرمعمولی جغرافیائی سیاسی حالات کے نتیجے میں ہوئی، تاہم اس سے پاکستان کی بندرگاہوں میں علاقائی لاجسٹکس مراکز کے طور پر خدمات انجام دینے کی پوشیدہ صلاحیت ضرور نمایاں ہوئی۔</p>
<p>تاہم اضافی کنٹینر ٹریفک کا بیشتر حصہ کراچی پورٹ نے سنبھالا، جہاں پاکستان کا پہلا جدید ترین گہرے پانی کا کنٹینر ٹرمینل، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز لمیٹڈ (ایس اے پی ٹی ایل)، موجود ہے۔ اس سہولت میں مناسب گہرائی، جدید شپ ٹو شور کرینیں اور بڑی مادر شپ کے لیے کافی آپریشنل گنجائش موجود ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں مصروف ہوتی ہیں۔ یہ پاکستان کے اہم ترین مسابقتی فوائد میں سے ایک ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شپنگ لائنز معاشی پیمانے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بڑے جہازوں کو اپنے بیڑے میں شامل کررہی ہیں۔</p>
<p>بڑے کنٹینر بردار جہازوں کو لنگرانداز کرنے کی صلاحیت عالمی لائنر شپنگ میں تیزی سے اہم ہوتی جارہی ہے۔ 18 ہزار سے زائد ٹی ای یوز کی گنجائش رکھنے والے جدید کنٹینر جہازوں کے لیے زیادہ گہری بحری گزرگاہیں، مضبوط گھاٹ کا بنیادی ڈھانچہ، بڑی کرینیں اور انتہائی مؤثر ٹرمینل آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔ جو بندرگاہیں ان تکنیکی تقاضوں کو پورا نہ کرسکیں، انہیں علاقائی حریف بندرگاہوں کے حق میں نظرانداز کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ پاکستان اس سمت میں پہلے ہی اہم سرمایہ کاری کرچکا ہے، تاہم ملک کو خطے میں ترجیحی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے مسلسل ڈریجنگ، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری ناگزیر ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کے بحران سے پیدا ہونے والے موقع پر پاکستان کی شپنگ برادری کی بھی نظر رہی۔ اضافی ٹرانس شپمنٹ کارگو حاصل کرنے کے امکانات کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان شپز ایجنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے اے) نے فوری طور پر حکومت کو عملی تجاویز پیش کیں تاکہ موجودہ صورتحال سے پاکستان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے سفارش کی کہ موجودہ کسٹمز قوانین اور آپریشنل طریقہ کار میں مناسب ترامیم کرکے آف ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ کارگو ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اقدام سے بندرگاہ کے اندر بھیڑ کم کرکے، کارگو ہینڈلنگ کی کارکردگی بہتر بناکر اور طلب میں اضافے کے ادوار میں ٹرمینلز کو زیادہ حجم میں کارگو سنبھالنے کے قابل بناکر پاکستان کی لاجسٹکس چین میں نمایاں لچک پیدا کی جاسکتی ہے۔ دنیا بھر میں آف ڈاک سہولتیں جدید بندرگاہی لاجسٹکس کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، جو بندرگاہوں کو محدود ساحلی گنجائش کا زیادہ مؤثر استعمال کرنے اور ٹرمینلز، گوداموں اور اندرونِ ملک مقامات کے درمیان کارگو کی روانی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے ٹرانس شپمنٹ کے لیے کم از کم ایک مکمل کنٹینر سے کم مال، یعنی ایل سی ایل کارگو، کی ہینڈلنگ کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی۔ اگرچہ ایل سی ایل کارگو مختلف شپروں سے تعلق رکھنے والی نسبتاً چھوٹی کھیپوں پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم یہ بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم حصہ ہے، جو تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔ خطے کے متعدد لاجسٹکس مراکز نے ایل سی ایل کارگو کو یکجا کرنے اور منزل پر الگ الگ کرنے کی خصوصی خدمات کامیابی سے متعارف کرائی ہیں، جس سے اضافی آمدنی، روزگار اور اضافی قدر کی حامل لاجسٹکس سرگرمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ پاکستان کو اس شعبے میں شرکت کی اجازت دینے سے علاقائی تقسیم اور کارگو یکجائی کے مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔</p>
<p>یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ حکومت نے ان سفارشات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے نسبتاً مختصر مدت میں ضروری قانونی ضوابط، یعنی ایس آر اوز، جاری کردیے۔ اسی دوران بندرگاہی حکام نے پاکستان کی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ٹرانس شپمنٹ کارگو پر عائد مختلف چارجز میں بھی کمی کردی۔ حکومتی اداروں، ریگولیٹرز، بندرگاہی حکام اور نجی شعبے کے درمیان بروقت ہم آہنگی اس امر کی مثال ہے کہ جب پالیسی فیصلوں کو ابھرتی ہوئی تجارتی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو کیا نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم محض عارضی پالیسی اقدامات پاکستان کو مستقل علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ اس قلیل مدتی موقع کو ایک پائیدار طویل مدتی کاروباری ماڈل میں تبدیل کیا جائے، جو علاقائی جغرافیائی سیاسی حالات معمول پر آنے کے بعد بھی شپنگ لائنز کو پاکستان کی طرف راغب کرسکے۔ شپنگ کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے عارضی مراعات کے بجائے قابلِ اعتماد خدمات، کارکردگی، مسابقتی لاگت اور طویل مدتی پالیسی استحکام کی بنیاد پر کرتی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ پاکستان کو اب وزارتِ بحری امور، بندرگاہی حکام، ٹرمینل آپریٹرز، کسٹمز حکام اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے ایک جامع تجارتی اور مارکیٹنگ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی شپنگ لائنز، عالمی لاجسٹکس کمپنیوں اور کارگو مالکان کے سامنے پاکستان کی بندرگاہوں کو فعال طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے، جس میں ملک کے تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع، جدید ٹرمینل بنیادی ڈھانچے، مسابقتی لاگت اور بہتر ہوتے رابطوں کو نمایاں کیا جائے۔ ہماری بندرگاہوں کی بین الاقوامی مارکیٹنگ کو غیرمعمولی حالات کے جواب تک محدود رکھنے کے بجائے مسلسل جاری رہنے والی سرگرمی بنانا چاہیے۔</p>
<p>اسی طرح طریقہ کار کو آسان بنانا، کسٹمز کلیئرنس تیز کرنا، ڈیجیٹلائزیشن بہتر بنانا، دستاویزات کی ضروریات کم کرنا اور ضابطہ جاتی عمل کو قابلِ پیش گوئی بنانا بھی نہایت اہم ہے۔ عالمی شپنگ لائنز یقین دہانی اور کارکردگی کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ جہاز کے بندرگاہ پر قیام کے دورانیے، دستاویزی کارروائی اور کارگو کلیئرنس کے وقت میں معمولی بہتری بھی روٹنگ سے متعلق فیصلوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔</p>
<p>علاقائی ٹرانس شپمنٹ مارکیٹ کا حجم سالانہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ٹی ای یوز لگایا جاتا ہے۔ اس مارکیٹ میں معمولی سا حصہ بھی حاصل کرنا پاکستان کے بحری شعبے کے لیے بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف بندرگاہوں اور ٹرمینل آپریٹرز کو اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے بلکہ شپنگ ایجنٹس، فریٹ فارورڈرز، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، گودام آپریٹرز، کسٹمز ایجنٹس، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور متعدد ذیلی خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ضربی اثر پوری قومی معیشت تک پھیلتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے اور علاقائی و عالمی سپلائی چینز میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک گروپ اور ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی مشترکہ طور پر شائع کردہ کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس 2025 کے مطابق، پورٹ قاسم اتھارٹی کا اسکور 2020 میں 8 کی بنیادی سطح سے بڑھ کر 2025 میں 60.1 ہوگیا، یعنی 52 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ اس طرح 2020 سے 2025 کے دوران دنیا کی تیزی سے بہتری دکھانے والی 20 کنٹینر بندرگاہوں میں اسے پانچویں پوزیشن حاصل ہوئی۔ اسی دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ 30 درجے بہتری کے ساتھ 99ویں سے 69ویں نمبر پر آگیا۔</p>
<p>ایک اور حالیہ حوصلہ افزا پیش رفت پاکستان کے لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس میں بہتری ہے، جو 150.90 سے بڑھ کر 161.55 ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے یہ انڈیکس 2004 میں متعارف کرایا تھا اور اب لائنر شپنگ رابطوں کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے سرفہرست 5 فیصد ممالک میں شامل ہے۔ بظاہر یہ محض ایک شماریاتی اشاریہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عالمی لائنر شپنگ نیٹ ورکس میں کسی ملک کے انضمام کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پیمائش ہے۔ زیادہ کنیکٹیویٹی انڈیکس بہتر شپنگ خدمات، جہازوں کی زیادہ آمد، نیٹ ورک کی بہتر کوریج اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے زیادہ انتخاب، یعنی زیادہ مسابقت، کی عکاسی کرتا ہے۔ بالآخر مضبوط بحری رابطے لاجسٹکس لاگت میں کمی، سپلائی چین کی مزاحمت میں بہتری اور ملکی بین الاقوامی تجارت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کے کنیکٹیویٹی انڈیکس میں حالیہ بہتری کو بذاتِ خود منزل سمجھنے کے بجائے اس حوصلہ افزا اشارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران کی جانے والی اصلاحات اب مثبت نتائج دینا شروع ہوگئی ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے بندرگاہی بنیادی ڈھانچے، بحری گزرگاہوں کی گہرائی میں اضافے، ڈیجیٹل تبدیلی، ضابطہ جاتی جدید کاری اور سرکاری اداروں و نجی شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔</p>
<p>سمندری معیشت کا فریم ورک پاکستان کو قومی معیشت میں بحری شعبے کے کردار پر ازسرنو غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بندرگاہوں کو محض درآمدات و برآمدات کے دروازوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں تیزی سے معاشی ترقی کے محرکات کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، جو سرمایہ کاری متوجہ کرنے، صنعت کو سہارا دینے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط بنانے، روزگار پیدا کرنے اور سیاحت کے فروغ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کامیابی کا انحصار صرف بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، تجارتی سوچ اور بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار اپنانے کی آمادگی پر بھی ہوگا۔</p>
<p>پاکستان کے پاس خطے میں ایک اہم بحری اور لاجسٹکس مرکز بننے کے لیے جغرافیائی برتری، بنیادی ڈھانچہ اور نجی شعبے کی مطلوبہ صلاحیت موجود ہے۔ پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جائے، ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسی طویل مدتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شپنگ برادری کا اعتماد بحال رکھیں۔ اگر اس وژن کو مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو سمندری معیشت محض ایک پالیسی دستاویز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پائیدار معاشی ترقی کے ایک طاقتور محرک میں تبدیل ہوسکتی ہے اور آنے والی دہائیوں میں پاکستان کے بحری شعبے کو ملک کے سب سے قیمتی تزویراتی اثاثوں میں شامل کرسکتی ہے۔</p>
<p>بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی ہے۔ اب پاکستان کو پالیسیوں میں تسلسل، مسلسل سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبوں کے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی سمندری معیشت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40292040</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 18:30:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اے راجپر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/02165157e446dc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/02165157e446dc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول سبسڈی کا اصل امتحان پٹرول پمپ پر ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291972/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ سمجھنے کا ایک بہت سادہ طریقہ ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک عام پاکستانی کیلئے کیا معنی رکھتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک چھوٹی سی ورکشاپ کے باہر کھڑی موٹر سائیکل کو دیکھیں۔ ایک اسپتال کے باہر انتظار کرتے رکشے کو دیکھیں۔ ایک ڈلیوری رائیڈر کو اپنے اگلے آرڈر کیلئے فون چیک کرتے ہوئے دیکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شخص کو دیکھیں جو ہر صبح کام کیلئے روانہ ہونے سے پہلے اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول بھرواتا ہے اور اسے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جیب میں کتنے پیسے ہیں اور دن کے اختتام پر ان میں سے کتنے باقی بچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان لوگوں کیلئے پٹرول کوئی آسائش نہیں۔ یہ روزی کمانے کی لاگت کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کو سمجھنے کیلئے نقطۂ آغاز یہی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں حالیہ بدامنی اور اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی منڈیوں پر بڑھنے والے دباؤ نے پاکستان جیسے ان ممالک کیلئے مشکل صورتحال پیدا کردی ہے جو درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں رہتے۔ بالآخر یہ پٹرول پمپ، ٹرانسپورٹ نظام، اشیا کی قیمتوں اور آخرکار گھریلو بجٹ تک پہنچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد حکومت کیلئے سوال بالکل سیدھا ہے، جب مالی گنجائش محدود ہو تو ان لوگوں کو بامعنی ریلیف کیسے فراہم کیا جائے جو اس جھٹکے کو سب سے براہ راست محسوس کرتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اس کا ہدف پر مبنی جواب دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب کیلئے پٹرول پر سبسڈی دینے کے بجائے اسکیم میں موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کام پر جانے یا ڈیلیوری کرنے کیلئے موٹر سائیکل استعمال کرنے والا شخص لازمی طور پر اسی معاشی صورتحال میں نہیں ہوتا جس میں ایک بڑی گاڑی کی ٹینکی بھرنے والا شخص ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلیف کو ہدف تک محدود کرنا ہر مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ لیکن یہ ایک اہم حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جب وسائل محدود ہوں تو امداد ان لوگوں تک پہنچنی چاہیے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسکیم کا سب سے دلچسپ پہلو شاید اس کا اعلان نہیں بلکہ اعلان کے بعد پیش آنے والی صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ہی دنوں میں حکومت کو شہریوں کی جانب سے رائے موصول ہوئی اور اس نے طریقۂ کار میں تبدیلی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور رکشوں کیلئے پٹرول کی کم از کم پانچ لیٹر خریداری کی شرط ختم کردی گئی۔ اب اہل صارفین پانچ لیٹر سے کم پٹرول خریدنے کی صورت میں بھی 500 روپے کا ہفتہ وار ٹوکن حاصل کرسکتے ہیں۔ انہیں ہر ہفتے ایک ایسا ٹوکن، یعنی ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن مل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکومت کے ایک نوٹیفکیشن میں درج کوئی معمولی انتظامی تبدیلی محسوس ہوسکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شخص کے بارے میں سوچیں جس کیلئے ایک ہی بار میں پانچ لیٹر پٹرول خریدنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار خاندان یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے گھرانے کیلئے پیسوں کا انتظام اکثر دن بہ دن کیا جاتا ہے۔ ایک ایسی پالیسی جو میز کے پیچھے بیٹھ کر بالکل مناسب نظر آتی ہے، حقیقی زندگی میں لوگوں کیلئے مشکل ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے یہ شرط تبدیل کردی۔ جوابدہ پالیسی کو ایسا ہی نظر آنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی بات دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے اہلیت 20 سال تک پرانی گاڑیوں تک بڑھانے کے فیصلے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم بعض اوقات پرانی موٹر سائیکل کو محض ایک پرانی موٹر سائیکل سمجھتے ہیں۔ لیکن جس خاندان کے پاس یہ ہوتی ہے، اس کیلئے ممکن ہے یہی وہ سواری ہو جو والد کو کام پر، والدہ کو بازار، بچے کو اسکول اور ڈلیوری رائیڈر کو اس کے اگلے گاہک تک پہنچاتی ہو۔ اس کی عمر اسے اس گھرانے کیلئے کم اہم نہیں بناتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت میں اس کے برعکس ہوسکتا ہے، جو لوگ نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کیلئے پرانی گاڑی کو چلتا رکھنا ہی زیادہ اہم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم کے تحت 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے بھی ریلیف جاری ہے، جس کے تحت ہر ماہ 10،10 لیٹر کے تین ٹوکن دیے جاتے ہیں اور 100 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس پروگرام کا ایک اور حصہ بھی ہے جو خاصی زیادہ توجہ کا مستحق ہے، ریلیف کی فراہمی کس طرح کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجسٹریشن 9771 پر ایک سادہ ایس ایم ایس نظام کے ذریعے کی جارہی ہے۔ حکومت نے رجسٹریشن کیلئے ایس ایم ایس مفت کردیا ہے اور یہ نظام درخواست گزار کی شناخت اور گاڑی کی معلومات کو ایندھن ریلیف کے طریقۂ کار سے منسلک کرتا ہے۔ شہری اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت کے بغیر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ملک میں یہ بات اہم ہے جہاں ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی اب بھی یکساں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف اسمارٹ فون صارفین کیلئے تیار کیا گیا حکومتی پروگرام غیر ارادی طور پر ان ہی لوگوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے جن کی مدد کرنے کی وہ کوشش کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ایس ایم ایس ایسی سہولت ہے جسے تقریباً ہر موبائل فون صارف سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہاں ایک اہم اصول موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچھی عوامی پالیسی صرف اس بارے میں نہیں ہوتی کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ اس بارے میں بھی ہوتی ہے کہ ایک عام شہری حکومت کے فیصلے سے حاصل ہونے والی سہولت تک کتنی آسانی سے رسائی حاصل کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول پمپ پر کھڑے کسی شخص کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اسلام آباد میں اس پالیسی کو تیار کرنا کتنا پیچیدہ تھا۔ اسے اس بات سے سروکار ہے کہ ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے یا نہیں۔ ٹوکن کام کرتا ہے یا نہیں۔ پٹرول اسٹیشن اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اور یہ کہ وعدہ کیا گیا 500 روپے کا ریلیف واقعی اس کی ادا کی جانے والی رقم کم کرتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے عملدرآمد اتنا ہی اہم ہے جتنا اعلان۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت میں حکومت عملدرآمد کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کرتی رہی ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کنکشن دستیاب نہیں، بشمول ملک کے دور دراز علاقوں کے پٹرول اسٹیشنز کیلئے انتظامات کی منظوری دی گئی ہے۔ حکام رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول اسٹیشنز کو ادائیگیوں کی بھی نگرانی کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس کا یہ وہ پہلو ہے جو شاذ و نادر ہی اخبارات کی شہ سرخی بنتا ہے۔ لیکن شہریوں کو عملی طور پر یہی حصہ محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی پالیسی کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ساکھ پٹرول پمپ پر قائم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً اسکیم کے حوالے سے سوالات اٹھیں گے۔ کیا ریلیف کافی ہے؟ کیا تمام اہل شہریوں تک یہ سہولت پہنچ رہی ہے؟ کیا تکنیکی مسائل موجود ہیں؟ کیا پٹرول اسٹیشنز کو بروقت رقم واپس ادا کی جارہی ہے؟ کیا اس کے مالی اخراجات پائیدار ہیں؟ کیا امداد کی کوئی دوسری شکل زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جائز سوالات ہیں۔ انہیں ضرور پوچھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت کسی عوامی پروگرام کا مضبوط ترین دفاع یہ دکھاوا کرنا نہیں کہ اس میں کوئی کمزوری نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلکہ یہ دکھانا ہے کہ حکومت لوگوں کی بات سن رہی ہے، صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور مسائل کو دور کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسکیم کیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے، جس کا بیان کردہ مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کم آمدنی والے طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم چلا رہی ہے، جس کا مقصد شفاف طریقے سے ریلیف کی فراہمی اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی وسائل سے ہونے والے اس بڑے اخراجات کے ساتھ ایک اتنی ہی اہم ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے، نتائج دکھانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو باقاعدگی سے شہریوں کو بتانا چاہیے کہ کتنے لوگوں نے رجسٹریشن کرائی، کتنے ٹوکن جاری کیے گئے، کتنے ٹوکن حقیقت میں استعمال ہوئے، کہاں مسائل پیش آرہے ہیں اور شکایات کتنی تیزی سے حل کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفافیت کو ایسی چیز نہیں سمجھنا چاہیے جو حکومت کے مؤقف کو کمزور کرتی ہے۔ یہ اسے مضبوط بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک وسیع تر امکان بھی موجود ہے۔ ہدفی ایندھن ریلیف کیلئے تیار کیا جانے والا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ، مستقبل میں پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے ریاست کو بہتر طریقہ فراہم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلا بحران ایندھن کا بحران نہ بھی ہو۔ یہ سیلاب ہوسکتا ہے۔ ہیٹ ویو ہوسکتی ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ میں خلل ہوسکتا ہے۔ یا زندگی گزارنے کی لاگت میں ایک اور اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ریاست کمزور طبقات کے شہریوں کی شناخت کرکے کاغذی کارروائی کی کئی تہوں سے گزارے بغیر انہیں تیزی سے ہدفی امداد فراہم کرسکتی ہے تو یہ طرز حکمرانی میں ایک اہم بہتری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی ذمہ داری بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذاتی معلومات کا تحفظ ضروری ہے۔ ڈیٹا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ شہریوں کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ریلیف حاصل کرنے کیلئے فراہم کی جانے والی ان کی معلومات کا بے احتیاطی سے غلط استعمال نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل حکومت کا مطلب شہریوں کیلئے زیادہ سہولت ہونا چاہیے، اعتماد میں کمی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بالآخر اس اسکیم کے بارے میں سب سے اہم بات ٹیکنالوجی، ڈیٹا بیس یا حتیٰ کہ پٹرول کے بارے میں بھی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کے بارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ڈلیوری رائیڈر کیلئے 500 روپے کا مطلب ایک اور دن کے ایندھن کے اخراجات کا کچھ حصہ ہوسکتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کیلئے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دن کی کمائی کا کم حصہ پٹرول کی ٹینکی میں چلا جائے۔ ہر صبح کام پر جانے والے ایک کارکن کیلئے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ راشن، بچوں کے تعلیمی اخراجات یا یوٹیلیٹی بل کیلئے کچھ زیادہ رقم باقی رہ جائے۔ پرانی موٹر سائیکل استعمال کرنے والے ایک گھرانے کیلئے اس کا مطلب محض یہ ہوسکتا ہے کہ اس ہفتے ایک مالی پریشانی کم ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی بجٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ رقوم معمولی محسوس ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ضروری نہیں کہ گھریلو بجٹ میں بھی یہ معمولی محسوس ہوں۔ اور شاید عوامی پالیسی کو جانچنے کا درست طریقہ بھی یہی ہے۔ اعلان کی جسامت سے نہیں۔ پریس کانفرنسوں کی تعداد سے نہیں۔ حتیٰ کہ اس کے گرد موجود سیاسی بحث سے بھی نہیں۔ بلکہ اس بات سے کہ پٹرول پمپ پر کھڑے شخص کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس شخص کو نظام قابلِ رسائی، حقیقی ریلیف، باعزت طریقۂ کار اور کسی مسئلے کی صورت میں حکومت جوابدہ نظر آتی ہے، تو حکومتی مداخلت نے محض سبسڈی کے اعلان سے زیادہ اہم کام کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشکل معاشی دور میں بھی ریاست اعداد و شمار کے پیچھے موجود شہری کو دیکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول سبسڈی کا اصل امتحان اسلام آباد میں ہونے والا اعلان نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ پٹرول پمپ پر کھڑا شہری کیا محسوس کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ سمجھنے کا ایک بہت سادہ طریقہ ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک عام پاکستانی کیلئے کیا معنی رکھتی ہیں۔</strong></p>
<p>ایک چھوٹی سی ورکشاپ کے باہر کھڑی موٹر سائیکل کو دیکھیں۔ ایک اسپتال کے باہر انتظار کرتے رکشے کو دیکھیں۔ ایک ڈلیوری رائیڈر کو اپنے اگلے آرڈر کیلئے فون چیک کرتے ہوئے دیکھیں۔</p>
<p>اس شخص کو دیکھیں جو ہر صبح کام کیلئے روانہ ہونے سے پہلے اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول بھرواتا ہے اور اسے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جیب میں کتنے پیسے ہیں اور دن کے اختتام پر ان میں سے کتنے باقی بچیں گے۔</p>
<p>ان لوگوں کیلئے پٹرول کوئی آسائش نہیں۔ یہ روزی کمانے کی لاگت کا حصہ ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کو سمجھنے کیلئے نقطۂ آغاز یہی ہونا چاہیے۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ میں حالیہ بدامنی اور اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی منڈیوں پر بڑھنے والے دباؤ نے پاکستان جیسے ان ممالک کیلئے مشکل صورتحال پیدا کردی ہے جو درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں رہتے۔ بالآخر یہ پٹرول پمپ، ٹرانسپورٹ نظام، اشیا کی قیمتوں اور آخرکار گھریلو بجٹ تک پہنچتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد حکومت کیلئے سوال بالکل سیدھا ہے، جب مالی گنجائش محدود ہو تو ان لوگوں کو بامعنی ریلیف کیسے فراہم کیا جائے جو اس جھٹکے کو سب سے براہ راست محسوس کرتے ہیں؟</p>
<p>حکومت نے اس کا ہدف پر مبنی جواب دیا ہے۔</p>
<p>سب کیلئے پٹرول پر سبسڈی دینے کے بجائے اسکیم میں موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔</p>
<p>یہ فرق اہم ہے۔</p>
<p>کام پر جانے یا ڈیلیوری کرنے کیلئے موٹر سائیکل استعمال کرنے والا شخص لازمی طور پر اسی معاشی صورتحال میں نہیں ہوتا جس میں ایک بڑی گاڑی کی ٹینکی بھرنے والا شخص ہوتا ہے۔</p>
<p>ریلیف کو ہدف تک محدود کرنا ہر مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ لیکن یہ ایک اہم حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جب وسائل محدود ہوں تو امداد ان لوگوں تک پہنچنی چاہیے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>تاہم اسکیم کا سب سے دلچسپ پہلو شاید اس کا اعلان نہیں بلکہ اعلان کے بعد پیش آنے والی صورتحال ہے۔</p>
<p>چند ہی دنوں میں حکومت کو شہریوں کی جانب سے رائے موصول ہوئی اور اس نے طریقۂ کار میں تبدیلی کردی۔</p>
<p>موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور رکشوں کیلئے پٹرول کی کم از کم پانچ لیٹر خریداری کی شرط ختم کردی گئی۔ اب اہل صارفین پانچ لیٹر سے کم پٹرول خریدنے کی صورت میں بھی 500 روپے کا ہفتہ وار ٹوکن حاصل کرسکتے ہیں۔ انہیں ہر ہفتے ایک ایسا ٹوکن، یعنی ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن مل سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ حکومت کے ایک نوٹیفکیشن میں درج کوئی معمولی انتظامی تبدیلی محسوس ہوسکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>اس شخص کے بارے میں سوچیں جس کیلئے ایک ہی بار میں پانچ لیٹر پٹرول خریدنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>تنخواہ دار خاندان یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے گھرانے کیلئے پیسوں کا انتظام اکثر دن بہ دن کیا جاتا ہے۔ ایک ایسی پالیسی جو میز کے پیچھے بیٹھ کر بالکل مناسب نظر آتی ہے، حقیقی زندگی میں لوگوں کیلئے مشکل ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>حکومت نے یہ شرط تبدیل کردی۔ جوابدہ پالیسی کو ایسا ہی نظر آنا چاہیے۔</p>
<p>یہی بات دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے اہلیت 20 سال تک پرانی گاڑیوں تک بڑھانے کے فیصلے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔</p>
<p>ہم بعض اوقات پرانی موٹر سائیکل کو محض ایک پرانی موٹر سائیکل سمجھتے ہیں۔ لیکن جس خاندان کے پاس یہ ہوتی ہے، اس کیلئے ممکن ہے یہی وہ سواری ہو جو والد کو کام پر، والدہ کو بازار، بچے کو اسکول اور ڈلیوری رائیڈر کو اس کے اگلے گاہک تک پہنچاتی ہو۔ اس کی عمر اسے اس گھرانے کیلئے کم اہم نہیں بناتی۔</p>
<p>حقیقت میں اس کے برعکس ہوسکتا ہے، جو لوگ نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کیلئے پرانی گاڑی کو چلتا رکھنا ہی زیادہ اہم ہوتا ہے۔</p>
<p>اسکیم کے تحت 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے بھی ریلیف جاری ہے، جس کے تحت ہر ماہ 10،10 لیٹر کے تین ٹوکن دیے جاتے ہیں اور 100 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔</p>
<p>لیکن اس پروگرام کا ایک اور حصہ بھی ہے جو خاصی زیادہ توجہ کا مستحق ہے، ریلیف کی فراہمی کس طرح کی جارہی ہے۔</p>
<p>رجسٹریشن 9771 پر ایک سادہ ایس ایم ایس نظام کے ذریعے کی جارہی ہے۔ حکومت نے رجسٹریشن کیلئے ایس ایم ایس مفت کردیا ہے اور یہ نظام درخواست گزار کی شناخت اور گاڑی کی معلومات کو ایندھن ریلیف کے طریقۂ کار سے منسلک کرتا ہے۔ شہری اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت کے بغیر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔</p>
<p>ایسے ملک میں یہ بات اہم ہے جہاں ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی اب بھی یکساں نہیں ہے۔</p>
<p>صرف اسمارٹ فون صارفین کیلئے تیار کیا گیا حکومتی پروگرام غیر ارادی طور پر ان ہی لوگوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے جن کی مدد کرنے کی وہ کوشش کررہا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس ایس ایم ایس ایسی سہولت ہے جسے تقریباً ہر موبائل فون صارف سمجھتا ہے۔</p>
<p>اور یہاں ایک اہم اصول موجود ہے۔</p>
<p>اچھی عوامی پالیسی صرف اس بارے میں نہیں ہوتی کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ اس بارے میں بھی ہوتی ہے کہ ایک عام شہری حکومت کے فیصلے سے حاصل ہونے والی سہولت تک کتنی آسانی سے رسائی حاصل کرسکتا ہے۔</p>
<p>پٹرول پمپ پر کھڑے کسی شخص کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اسلام آباد میں اس پالیسی کو تیار کرنا کتنا پیچیدہ تھا۔ اسے اس بات سے سروکار ہے کہ ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے یا نہیں۔ ٹوکن کام کرتا ہے یا نہیں۔ پٹرول اسٹیشن اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اور یہ کہ وعدہ کیا گیا 500 روپے کا ریلیف واقعی اس کی ادا کی جانے والی رقم کم کرتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>اسی لیے عملدرآمد اتنا ہی اہم ہے جتنا اعلان۔</p>
<p>حقیقت میں حکومت عملدرآمد کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کرتی رہی ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کنکشن دستیاب نہیں، بشمول ملک کے دور دراز علاقوں کے پٹرول اسٹیشنز کیلئے انتظامات کی منظوری دی گئی ہے۔ حکام رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول اسٹیشنز کو ادائیگیوں کی بھی نگرانی کررہے ہیں۔</p>
<p>گورننس کا یہ وہ پہلو ہے جو شاذ و نادر ہی اخبارات کی شہ سرخی بنتا ہے۔ لیکن شہریوں کو عملی طور پر یہی حصہ محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>کسی پالیسی کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ساکھ پٹرول پمپ پر قائم ہوتی ہے۔</p>
<p>یقیناً اسکیم کے حوالے سے سوالات اٹھیں گے۔ کیا ریلیف کافی ہے؟ کیا تمام اہل شہریوں تک یہ سہولت پہنچ رہی ہے؟ کیا تکنیکی مسائل موجود ہیں؟ کیا پٹرول اسٹیشنز کو بروقت رقم واپس ادا کی جارہی ہے؟ کیا اس کے مالی اخراجات پائیدار ہیں؟ کیا امداد کی کوئی دوسری شکل زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے؟</p>
<p>یہ جائز سوالات ہیں۔ انہیں ضرور پوچھا جانا چاہیے۔</p>
<p>درحقیقت کسی عوامی پروگرام کا مضبوط ترین دفاع یہ دکھاوا کرنا نہیں کہ اس میں کوئی کمزوری نہیں۔</p>
<p>بلکہ یہ دکھانا ہے کہ حکومت لوگوں کی بات سن رہی ہے، صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور مسائل کو دور کررہی ہے۔</p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسکیم کیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے، جس کا بیان کردہ مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کم آمدنی والے طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم چلا رہی ہے، جس کا مقصد شفاف طریقے سے ریلیف کی فراہمی اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>عوامی وسائل سے ہونے والے اس بڑے اخراجات کے ساتھ ایک اتنی ہی اہم ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے، نتائج دکھانا۔</p>
<p>حکومت کو باقاعدگی سے شہریوں کو بتانا چاہیے کہ کتنے لوگوں نے رجسٹریشن کرائی، کتنے ٹوکن جاری کیے گئے، کتنے ٹوکن حقیقت میں استعمال ہوئے، کہاں مسائل پیش آرہے ہیں اور شکایات کتنی تیزی سے حل کی جارہی ہیں۔</p>
<p>شفافیت کو ایسی چیز نہیں سمجھنا چاہیے جو حکومت کے مؤقف کو کمزور کرتی ہے۔ یہ اسے مضبوط بناتی ہے۔</p>
<p>یہاں ایک وسیع تر امکان بھی موجود ہے۔ ہدفی ایندھن ریلیف کیلئے تیار کیا جانے والا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ، مستقبل میں پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے ریاست کو بہتر طریقہ فراہم کرسکتا ہے۔</p>
<p>اگلا بحران ایندھن کا بحران نہ بھی ہو۔ یہ سیلاب ہوسکتا ہے۔ ہیٹ ویو ہوسکتی ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ میں خلل ہوسکتا ہے۔ یا زندگی گزارنے کی لاگت میں ایک اور اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اگر ریاست کمزور طبقات کے شہریوں کی شناخت کرکے کاغذی کارروائی کی کئی تہوں سے گزارے بغیر انہیں تیزی سے ہدفی امداد فراہم کرسکتی ہے تو یہ طرز حکمرانی میں ایک اہم بہتری ہوگی۔</p>
<p>لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی ذمہ داری بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>ذاتی معلومات کا تحفظ ضروری ہے۔ ڈیٹا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ شہریوں کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ریلیف حاصل کرنے کیلئے فراہم کی جانے والی ان کی معلومات کا بے احتیاطی سے غلط استعمال نہیں ہوگا۔</p>
<p>ڈیجیٹل حکومت کا مطلب شہریوں کیلئے زیادہ سہولت ہونا چاہیے، اعتماد میں کمی نہیں۔</p>
<p>تاہم بالآخر اس اسکیم کے بارے میں سب سے اہم بات ٹیکنالوجی، ڈیٹا بیس یا حتیٰ کہ پٹرول کے بارے میں بھی نہیں ہے۔</p>
<p>یہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کے بارے میں ہے۔</p>
<p>ایک ڈلیوری رائیڈر کیلئے 500 روپے کا مطلب ایک اور دن کے ایندھن کے اخراجات کا کچھ حصہ ہوسکتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کیلئے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دن کی کمائی کا کم حصہ پٹرول کی ٹینکی میں چلا جائے۔ ہر صبح کام پر جانے والے ایک کارکن کیلئے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ راشن، بچوں کے تعلیمی اخراجات یا یوٹیلیٹی بل کیلئے کچھ زیادہ رقم باقی رہ جائے۔ پرانی موٹر سائیکل استعمال کرنے والے ایک گھرانے کیلئے اس کا مطلب محض یہ ہوسکتا ہے کہ اس ہفتے ایک مالی پریشانی کم ہوگئی۔</p>
<p>قومی بجٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ رقوم معمولی محسوس ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>لیکن ضروری نہیں کہ گھریلو بجٹ میں بھی یہ معمولی محسوس ہوں۔ اور شاید عوامی پالیسی کو جانچنے کا درست طریقہ بھی یہی ہے۔ اعلان کی جسامت سے نہیں۔ پریس کانفرنسوں کی تعداد سے نہیں۔ حتیٰ کہ اس کے گرد موجود سیاسی بحث سے بھی نہیں۔ بلکہ اس بات سے کہ پٹرول پمپ پر کھڑے شخص کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر اس شخص کو نظام قابلِ رسائی، حقیقی ریلیف، باعزت طریقۂ کار اور کسی مسئلے کی صورت میں حکومت جوابدہ نظر آتی ہے، تو حکومتی مداخلت نے محض سبسڈی کے اعلان سے زیادہ اہم کام کیا ہے۔</p>
<p>اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشکل معاشی دور میں بھی ریاست اعداد و شمار کے پیچھے موجود شہری کو دیکھ سکتی ہے۔</p>
<p>پٹرول سبسڈی کا اصل امتحان اسلام آباد میں ہونے والا اعلان نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ پٹرول پمپ پر کھڑا شہری کیا محسوس کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291972</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:37:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مامون بلال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01143403a0f06c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01143403a0f06c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اب آگے کیا کچھ غلط ہو سکتا ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291969/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کسی نہ کسی طرح، ایسی سہ ماہی کے بعد بھی امریکی اسٹاکس ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے میں کامیاب رہے، جس دوران تیل کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں،    فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، حکومتی قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ کارپوریٹ بانڈز کو 2022 کے بعد بدترین سہ ماہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر مالیاتی منڈیاں واقعی مستقبل کی عکاسی کرتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے اس کرسٹل بال کو صاف کرنا یاد رکھا تھا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بانڈ مارکیٹ نے پس پردہ موجود مالی دباؤ کی سب سے واضح تصویر پیش کی ہے۔ جولائی سے اب تک 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار میں 81 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، جو 2022 کے بعد تین ماہ کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہے۔ 30 سالہ ٹریژری کی پیداوار رواں ہفتے 5.621 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مندی صرف امریکا تک محدود نہیں رہی۔ جرمنی اور فرانس میں 10 سالہ بانڈز کے منافع کی شرح بالترتیب 17 اور 18 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ جاپان کی بینچ مارک شرح بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تو پھر بانڈ مارکیٹس آخر ہمیں کیا بتانے کی کوشش کر رہی ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے جواب کا ایک اہم حصہ اب بھی مشرق وسطیٰ سے جڑا ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کے غیر دانشمندانہ فیصلے کو سات ماہ گزرنے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے اثرات تیل کی مارکیٹ سے کہیں آگے پھیل چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات تنازع شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر بحال ہونے کے باوجود برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، مرکزی بینکوں نے سخت مالیاتی پالیسی کا عندیہ دیا ہے اور سرمایہ کاروں کو تیزی سے توقع ہونے لگی ہے کہ شرح سود طویل عرصے تک بلند رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں عوامل کے درمیان تعلق غیر معمولی حد تک مضبوط ہوگیا ہے۔ امریکی بینچ مارک تیل کی قیمت اور 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار کے درمیان تعلق حال ہی میں 35 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو پہلی خلیجی جنگ کے دوران قائم ریکارڈ سے معمولی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں آبنائے ہرمز سے متعلق ہر مثبت خبر بانڈ مارکیٹ کے لیے اہم بن سکتی ہے جبکہ کشیدگی میں ہر نیا اضافہ فیڈرل ریزرو کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی اہم ترین قرض لینے کی لاگت میں سے ایک کا انحصار دنیا کی خطرناک ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک کی صورتحال پر ہو تو سرمایہ کار کس حد تک مطمئن رہ سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن صرف تیل تمام صورتحال کی وضاحت نہیں کرتا۔ رواں ہفتے 30 سالہ امریکی ٹریژری کی پیداوار 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، حالانکہ خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا کہ شرح سود میں ایک اور اضافے کے حوالے سے جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ حکومتی مالیات اب بھی دباؤ میں ہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کا اجرا بہت زیادہ ہے، معاشی نمو توقعات کے مقابلے میں مضبوط ثابت ہوئی ہے اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا بڑھتا ہوا رجحان سرمائے کی نئی اور بہت بڑی طلب پیدا کر رہا ہے۔ بظاہر بانڈ مارکیٹ بیک وقت کئی مسائل پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔اسی طرح پھر اسٹاکس ہیں، جو بظاہر اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹس نے بلند بانڈ پیداوار کو بڑی حد تک نظر انداز کیا ہے کیونکہ کمپنیوں کی آمدنی مضبوط ہے، عالمی معاشی نمو برقرار ہے اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں جوش نے امریکی مارکیٹ کے سب سے بااثر حصے کو سہارا دیا ہوا ہے۔ تاہم جوں جوں بانڈ پیداوار بڑھتی جائے گی، حساب کتاب مزید دلچسپ ہوتا جائے گا۔ ٹریژری بانڈز اب ایکویٹی مارکیٹ کے خطرے کے بغیر زیادہ پرکشش منافع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹس مستقبل کی کمپنیوں کی آمدنی کی موجودہ قدر کم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاؤسنگ، صارفین سے متعلق کمپنیاں، یوٹیلیٹیز اور شرح سود سے متاثر ہونے والے دیگر شعبے پہلے ہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ کی کارکردگی کا انحصار ٹیکنالوجی پر بڑھتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال چوتھی سہ ماہی میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج کا سیزن جلد ہی یہ جانچ کرے گا کہ مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر پر لگائی گئی بھاری سرمایہ کاری منافع اتنی تیزی سے پیدا کر رہی ہے یا نہیں کہ موجودہ بلند مالیت کا جواز فراہم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس سرمایہ کاری کے لیے درکار قرض کا حصول خود بھی بانڈ مارکیٹ میں نئے قرضوں کی فراہمی بڑھا رہا ہے جبکہ مارکیٹ پہلے ہی بھاری حکومتی قرضوں کے اجرا کو جذب کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں وہ ٹیکنالوجی جس سے بلند شرح سود کے باوجود اسٹاکس کو تحفظ ملنے کی توقع ہے، بالواسطہ طور پر شرح سود کو بلند رکھنے والے دباؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔اس صورتحال میں ایک خاص طرح کی خوبصورتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تین سال میں پہلا اضافہ تھا اور پالیسی سازوں نے عندیہ دیا ہے کہ سال کے اختتام سے قبل ایک اور اضافہ مناسب ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹس نے حال ہی میں اکتوبر میں شرح سود بڑھنے کی توقعات کم کردی ہیں، تاہم افراطِ زر اب بھی بلند ہونے کے باعث مجموعی طور پر سخت مالیاتی پالیسی کا عمل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر تیل کی قیمتیں مزید گرتی ہیں اور معاشی نمو سست پڑتی ہے تو شاید بانڈ کے منافع کی شرح بالآخر ایک حد پر رک جائے لیکن اگر ایران جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے، آبنائے ہرمز میں خلل مزید بڑھ جاتا ہے یا مہنگائی کی توقعات مستحکم ہونے کے عین وقت پر ایک اور توانائی کا بحران پیدا ہوجاتا ہے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کے پاس اس سوال پر نظر رکھنے کی خاص وجہ ہے۔ امریکا میں بلند بانڈ پیداوار عالمی سرمائے کو ڈالر کے اثاثوں کی جانب کھینچتی ہے اور نسبتاً زیادہ خطرے والی مارکیٹوں سے دور کرتی ہے۔ 25 ستمبر تک ایشیائی مارکیٹوں سے غیر ملکی ایکویٹی سرمایہ کے اخراج کا تخمینہ 192 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2025 کی گزشتہ بلند ترین سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ جن معیشتوں کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے، ان کی کرنسیوں پر عموماً زیادہ دباؤ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی مہنگائی بڑھتی ہے اور مقامی مرکزی بینکوں کو بھی شرح سود بڑھانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جبکہ اسی دوران معاشی نمو دباؤ میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس طریقہ کار سے بخوبی واقف ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند پیداوار محفوظ ترین ڈالر اثاثوں میں سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع فراہم کرتی ہے، جس سے فرنٹیئر مارکیٹس کی جانب آنے والے سرمائے کے لیے مطلوبہ منافع کی حد بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط ڈالر درآمدی اشیا اور بیرونی واجبات پر دباؤ بڑھاتا ہے جبکہ مہنگا تیل درآمدی بل اور مقامی مہنگائی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔     اگر یہ تینوں عوامل ایک ساتھ برقرار رہیں، یعنی امریکا میں بلند بانڈ پیداوار، مضبوط ڈالر اور توانائی کی بلند قیمتیں، تو اسلام آباد میں پالیسی سازوں کے پاس معیشت کو ان اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے واقعی کتنی گنجائش باقی رہ جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی وجہ ہے کہ چوتھی سہ ماہی کے آغاز پر ریکارڈ بلند اسٹاک انڈیکسز کے مقابلے میں بانڈ مارکیٹ زیادہ توجہ کی مستحق ہے۔ اسٹاکس کمپنیوں کی آمدنی، مصنوعی ذہانت اور مستحکم معاشی نمو کو سراہ سکتے ہیں لیکن بانڈ مارکیٹ کو مسلسل مہنگائی، مالیاتی اعتبار، قرضوں کی فراہمی، مالیاتی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ حالیہ عرصے میں بانڈ مارکیٹ ان میں سے کسی بھی معاملے پر خاصی مطمئن دکھائی نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید چوتھی سہ ماہی زیادہ سازگار ثابت ہو۔ تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں، سفارتی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں، مہنگائی کم ہوسکتی ہے اور بانڈز کی پیداوار بالآخر مستحکم ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ فیڈرل ریزرو کو بھی یہ احساس ہوسکتا ہے کہ ستمبر میں کیا گیا سخت پالیسی اقدام کافی ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر تیسری سہ ماہی کے بعد کون یہ شرط لگانا چاہے گا کہ اگلے مرحلے میں سب کچھ پرسکون رہے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کسی نہ کسی طرح، ایسی سہ ماہی کے بعد بھی امریکی اسٹاکس ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے میں کامیاب رہے، جس دوران تیل کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں،    فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، حکومتی قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ کارپوریٹ بانڈز کو 2022 کے بعد بدترین سہ ماہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر مالیاتی منڈیاں واقعی مستقبل کی عکاسی کرتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے اس کرسٹل بال کو صاف کرنا یاد رکھا تھا؟</strong></p>
<p>تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بانڈ مارکیٹ نے پس پردہ موجود مالی دباؤ کی سب سے واضح تصویر پیش کی ہے۔ جولائی سے اب تک 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار میں 81 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، جو 2022 کے بعد تین ماہ کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہے۔ 30 سالہ ٹریژری کی پیداوار رواں ہفتے 5.621 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>یہ مندی صرف امریکا تک محدود نہیں رہی۔ جرمنی اور فرانس میں 10 سالہ بانڈز کے منافع کی شرح بالترتیب 17 اور 18 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ جاپان کی بینچ مارک شرح بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔</p>
<p><strong>تو پھر بانڈ مارکیٹس آخر ہمیں کیا بتانے کی کوشش کر رہی ہیں؟</strong></p>
<p>اس سوال کے جواب کا ایک اہم حصہ اب بھی مشرق وسطیٰ سے جڑا ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کے غیر دانشمندانہ فیصلے کو سات ماہ گزرنے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے اثرات تیل کی مارکیٹ سے کہیں آگے پھیل چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات تنازع شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر بحال ہونے کے باوجود برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، مرکزی بینکوں نے سخت مالیاتی پالیسی کا عندیہ دیا ہے اور سرمایہ کاروں کو تیزی سے توقع ہونے لگی ہے کہ شرح سود طویل عرصے تک بلند رہے گی۔</p>
<p>دونوں عوامل کے درمیان تعلق غیر معمولی حد تک مضبوط ہوگیا ہے۔ امریکی بینچ مارک تیل کی قیمت اور 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار کے درمیان تعلق حال ہی میں 35 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو پہلی خلیجی جنگ کے دوران قائم ریکارڈ سے معمولی کم ہے۔</p>
<p>اس صورتحال میں آبنائے ہرمز سے متعلق ہر مثبت خبر بانڈ مارکیٹ کے لیے اہم بن سکتی ہے جبکہ کشیدگی میں ہر نیا اضافہ فیڈرل ریزرو کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی اہم ترین قرض لینے کی لاگت میں سے ایک کا انحصار دنیا کی خطرناک ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک کی صورتحال پر ہو تو سرمایہ کار کس حد تک مطمئن رہ سکتے ہیں؟</p>
<p>لیکن صرف تیل تمام صورتحال کی وضاحت نہیں کرتا۔ رواں ہفتے 30 سالہ امریکی ٹریژری کی پیداوار 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، حالانکہ خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا کہ شرح سود میں ایک اور اضافے کے حوالے سے جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ حکومتی مالیات اب بھی دباؤ میں ہیں،</p>
<p>قرضوں کا اجرا بہت زیادہ ہے، معاشی نمو توقعات کے مقابلے میں مضبوط ثابت ہوئی ہے اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا بڑھتا ہوا رجحان سرمائے کی نئی اور بہت بڑی طلب پیدا کر رہا ہے۔ بظاہر بانڈ مارکیٹ بیک وقت کئی مسائل پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔اسی طرح پھر اسٹاکس ہیں، جو بظاہر اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹس نے بلند بانڈ پیداوار کو بڑی حد تک نظر انداز کیا ہے کیونکہ کمپنیوں کی آمدنی مضبوط ہے، عالمی معاشی نمو برقرار ہے اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں جوش نے امریکی مارکیٹ کے سب سے بااثر حصے کو سہارا دیا ہوا ہے۔ تاہم جوں جوں بانڈ پیداوار بڑھتی جائے گی، حساب کتاب مزید دلچسپ ہوتا جائے گا۔ ٹریژری بانڈز اب ایکویٹی مارکیٹ کے خطرے کے بغیر زیادہ پرکشش منافع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹس مستقبل کی کمپنیوں کی آمدنی کی موجودہ قدر کم کرتے ہیں۔</p>
<p>ہاؤسنگ، صارفین سے متعلق کمپنیاں، یوٹیلیٹیز اور شرح سود سے متاثر ہونے والے دیگر شعبے پہلے ہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ کی کارکردگی کا انحصار ٹیکنالوجی پر بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
<p><strong>مصنوعی ذہانت کتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟</strong></p>
<p>یہ سوال چوتھی سہ ماہی میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج کا سیزن جلد ہی یہ جانچ کرے گا کہ مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر پر لگائی گئی بھاری سرمایہ کاری منافع اتنی تیزی سے پیدا کر رہی ہے یا نہیں کہ موجودہ بلند مالیت کا جواز فراہم کیا جاسکے۔</p>
<p>دوسری جانب اس سرمایہ کاری کے لیے درکار قرض کا حصول خود بھی بانڈ مارکیٹ میں نئے قرضوں کی فراہمی بڑھا رہا ہے جبکہ مارکیٹ پہلے ہی بھاری حکومتی قرضوں کے اجرا کو جذب کر رہی ہے۔</p>
<p>یوں وہ ٹیکنالوجی جس سے بلند شرح سود کے باوجود اسٹاکس کو تحفظ ملنے کی توقع ہے، بالواسطہ طور پر شرح سود کو بلند رکھنے والے دباؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔اس صورتحال میں ایک خاص طرح کی خوبصورتی ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تین سال میں پہلا اضافہ تھا اور پالیسی سازوں نے عندیہ دیا ہے کہ سال کے اختتام سے قبل ایک اور اضافہ مناسب ہوسکتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹس نے حال ہی میں اکتوبر میں شرح سود بڑھنے کی توقعات کم کردی ہیں، تاہم افراطِ زر اب بھی بلند ہونے کے باعث مجموعی طور پر سخت مالیاتی پالیسی کا عمل جاری ہے۔</p>
<p>اگر تیل کی قیمتیں مزید گرتی ہیں اور معاشی نمو سست پڑتی ہے تو شاید بانڈ کے منافع کی شرح بالآخر ایک حد پر رک جائے لیکن اگر ایران جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے، آبنائے ہرمز میں خلل مزید بڑھ جاتا ہے یا مہنگائی کی توقعات مستحکم ہونے کے عین وقت پر ایک اور توانائی کا بحران پیدا ہوجاتا ہے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>ایشیا کے پاس اس سوال پر نظر رکھنے کی خاص وجہ ہے۔ امریکا میں بلند بانڈ پیداوار عالمی سرمائے کو ڈالر کے اثاثوں کی جانب کھینچتی ہے اور نسبتاً زیادہ خطرے والی مارکیٹوں سے دور کرتی ہے۔ 25 ستمبر تک ایشیائی مارکیٹوں سے غیر ملکی ایکویٹی سرمایہ کے اخراج کا تخمینہ 192 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2025 کی گزشتہ بلند ترین سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ جن معیشتوں کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے، ان کی کرنسیوں پر عموماً زیادہ دباؤ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی مہنگائی بڑھتی ہے اور مقامی مرکزی بینکوں کو بھی شرح سود بڑھانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جبکہ اسی دوران معاشی نمو دباؤ میں آتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس طریقہ کار سے بخوبی واقف ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند پیداوار محفوظ ترین ڈالر اثاثوں میں سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع فراہم کرتی ہے، جس سے فرنٹیئر مارکیٹس کی جانب آنے والے سرمائے کے لیے مطلوبہ منافع کی حد بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>مضبوط ڈالر درآمدی اشیا اور بیرونی واجبات پر دباؤ بڑھاتا ہے جبکہ مہنگا تیل درآمدی بل اور مقامی مہنگائی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔     اگر یہ تینوں عوامل ایک ساتھ برقرار رہیں، یعنی امریکا میں بلند بانڈ پیداوار، مضبوط ڈالر اور توانائی کی بلند قیمتیں، تو اسلام آباد میں پالیسی سازوں کے پاس معیشت کو ان اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے واقعی کتنی گنجائش باقی رہ جائے گی؟</p>
<p>شاید یہی وجہ ہے کہ چوتھی سہ ماہی کے آغاز پر ریکارڈ بلند اسٹاک انڈیکسز کے مقابلے میں بانڈ مارکیٹ زیادہ توجہ کی مستحق ہے۔ اسٹاکس کمپنیوں کی آمدنی، مصنوعی ذہانت اور مستحکم معاشی نمو کو سراہ سکتے ہیں لیکن بانڈ مارکیٹ کو مسلسل مہنگائی، مالیاتی اعتبار، قرضوں کی فراہمی، مالیاتی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ حالیہ عرصے میں بانڈ مارکیٹ ان میں سے کسی بھی معاملے پر خاصی مطمئن دکھائی نہیں دی۔</p>
<p>شاید چوتھی سہ ماہی زیادہ سازگار ثابت ہو۔ تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں، سفارتی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں، مہنگائی کم ہوسکتی ہے اور بانڈز کی پیداوار بالآخر مستحکم ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ فیڈرل ریزرو کو بھی یہ احساس ہوسکتا ہے کہ ستمبر میں کیا گیا سخت پالیسی اقدام کافی ہوچکا ہے۔</p>
<p>مگر تیسری سہ ماہی کے بعد کون یہ شرط لگانا چاہے گا کہ اگلے مرحلے میں سب کچھ پرسکون رہے گا؟</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291969</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:20:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01135054d2fbbf8.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01135054d2fbbf8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرین لینڈ میں طاقت کی تبدیلی، نیا آرکٹک موڑ دنیا کو نئی سمت دینے لگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291950/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;18 ستمبر 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن نے گرین لینڈ کی سلامتی پر مستقل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وہ اس سے قبل اس علاقے کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنے قبضے میں لینے کی دھمکی دے چکے تھے، تاہم اب لہجہ الحاق سے تعاون کی جانب تبدیل ہوگیا ہے۔ بیان بازی میں یہ تبدیلی غیر اعلانیہ تفصیلات سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں اب مسابقت کو کس طرح ترجیح دیتی ہیں: سرحدوں کو دوبارہ کھینچنے کے بجائے ان کرداروں اور افعال پر اپنا حق جتانا جنہیں روایتی طور پر سرحدیں تحفظ فراہم کرتی رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈنمارک گرین لینڈ پر اپنی خودمختاری پر زور دیتا ہے، جبکہ اس معاہدے کی ڈنمارک اور گرین لینڈ کی دونوں قانون ساز اسمبلیوں سے توثیق بھی ضروری ہے۔ یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ نیا انتظام 1951 کے معاہدے سے کس حد تک مختلف ہے، جس کے تحت پہلے ہی امریکی فوجی موجودگی کی ایک نمایاں سطح کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دائرہ سرد جنگ کے دور کے اس معاہدے سے زیادہ وسیع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی مخالف کو واشنگٹن کی پیشگی واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں اڈہ قائم کرنے یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید برآں، ان کی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ جزیرے پر فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین لینڈ کی اسٹرٹیجک اہمیت واضح ہے۔ یہ شمالی بحرِ اوقیانوس کے ان اہم بحری راستوں کو کنٹرول کرتا ہے جنہیں روسی آبدوزیں کھلے سمندروں تک رسائی کے لیے استعمال کرتی ہیں اور یہ روس اور شمالی امریکہ کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں کے مختصر ترین راستوں کے نیچے واقع ہے۔ اس کا پگھلتا ہوا ساحلی علاقہ نئے بحری راستے پیدا کر رہا ہے جو ایک نسل پہلے موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ گرین لینڈ کی ارضیاتی ساخت میں نایاب ارضی عناصر اور اہم معدنیات موجود ہیں جو بیٹریوں، دفاع اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں، خصوصاً اس لیے کہ اس وقت چین ان مواد کی پراسیسنگ میں سب سے آگے ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ جزیرہ ایک ریڈار اسٹیشن، بحری گیٹ وے اور معدنیات کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کے نقطۂ نظر سے یہ معاہدہ اس باب کو بند کرتا ہے جسے چین اپنی کئی سالہ آرکٹک رسائی کی کوششوں کے ذریعے کھولنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ چین کی حکمت عملی کبھی طاقت کے استعمال پر مبنی نہیں رہی بلکہ صبر پر مبنی رہی ہے، جس کے تحت کان کنی، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بتدریج رسائی حاصل کی گئی، تحقیقی مراکز قائم کیے گئے اور پولر سلک روڈ کے تصور کو فروغ دیا گیا۔ اس حکمت عملی کا انحصار چھوٹے دائرہ اختیار رکھنے والے علاقوں کے ساتھ ایک ایک سرمایہ کاری کے ذریعے روابط قائم کرنے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حساس نوعیت کی سرمایہ کاری پر امریکی ویٹو گرین لینڈ میں اس طریقہ کار کو روک دیتا ہے اور ایک ایسی مثال قائم کرتا ہے جو مغرب کے اتحادی دیگر خطوں کو بھی اسی طرز عمل کی پیروی پر آمادہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماسکو اس صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہے: اس کا آرکٹک ساحل اور فوجی موجودگی اب بھی بے مثال ہیں اور نوک(Nuuk) کے انتظامات اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتے۔ تاہم، امریکی موجودگی میں مستقل اور اضافے سے کسی بھی ایسے منصوبے کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس میں گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے راستے کو شامل کیا جائے، جبکہ اس گزرگاہ پر انحصار کرنے والی بحری حکمت عملی بھی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے چینی اور روسی حکمت عملیوں کی شکست قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ جاری مسابقت کے دوران ایک انتہائی محتاط انداز میں ہدف بنایا گیا قدم ہے، جس کی لاگت کو اس کے حامی کم اہمیت دیتے ہیں۔ بنیادی تشویش اس اتحاد کو پہنچنے والا نقصان ہے جسے یہ معاہدہ مضبوط بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی سابقہ دھمکیوں سے یہ عندیہ ملتا تھا کہ علاقے پر قبضے کی کوئی بھی کوشش نیٹو کے ٹوٹنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسی دھمکی کے تحت ہونے والا معاہدہ، اور اطلاعات کے مطابق جس پر جزوی طور پر نیٹو کے باضابطہ ڈھانچے سے باہر مذاکرات کیے گئے، یورپی دارالحکومتوں کو یہ تاثر دے سکتا ہے کہ امریکہ اتحادیوں کو ایسے شراکت داروں کے بجائے اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے جن سے مشاورت کی جائے۔ یورپ کا واشنگٹن سے دوری اختیار کرنے کا ہر فیصلہ ماسکو اور بیجنگ کو اسٹرٹیجک طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری تشویش رضامندی ہے۔ چھوٹے علاقوں کو بیرونی طاقتوں کے لیے ہدف بنانا آسان ہوسکتا ہے، لیکن وہ عام طور پر ایسے معاہدوں کی مزاحمت کرتے ہیں جنہیں وہ مسلط کردہ سمجھتے ہیں۔ اگر گرین لینڈ کے باشندے اس معاہدے کو ایسے شراکت داری کے بجائے اپنا مستقبل واشنگٹن کے حوالے کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں جو سرمایہ کاری، روزگار اور سلامتی فراہم کرتی ہو، تو وہ اپنے حریفوں کو فائدہ اٹھانے کے لیے شکایات فراہم کریں گے۔ دیرپا معاہدوں کے لیے صرف کوپن ہیگن کے دستخط نہیں بلکہ نوک کی مخلصانہ حمایت بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نکتہ سیدھا سا حساب ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کو گرین لینڈ میں موجودگی قائم کرنے سے روکنے سے بحرالکاہل کے خطے، وسطی ایشیا یا خلیج میں ان کے اثر و رسوخ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ درحقیقت، آرکٹک میں زیادہ جارحانہ امریکی مؤقف بیجنگ اور ماسکو کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاسکتا ہے، جو بالکل وہی ہے جسے روکنے کی واشنگٹن کوشش کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی جنوب کے ممالک کے لیے سبق تشویش ناک ہے، بڑی طاقتوں کی مسابقت کے اصول اسٹرٹیجک جغرافیے کے گرد تبدیل ہو رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک جو کسی اہم گزرگاہ، تجارتی راستے یا اہم وسائل کے مقام پر واقع ہو، غالباً حریف بلاکس کی جانب سے ہدف بنایا جائے گا یا اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے گی۔ بحیرہ عرب کے ساحل، آبنائے ہرمز سے قربت اور سی پیک کے راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہترین طریقہ یہ نہیں کہ کسی ایک فریق کا انتخاب کیا جائے یا یہ تصور کیا جائے کہ غیر جانب داری کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے بجائے اقتصادی لچک کو مضبوط بنانا، تجارت اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا اور اس وقت مذاکرات کرنا انتہائی اہم ہے جب سودے بازی کی طاقت مضبوط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین لینڈ امریکہ اور اس کے حریفوں کے درمیان جاری مسابقت کی ایک ابتدائی مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ایسی مسابقتیں کس طرح آگے بڑھیں گی: خاموشی سے، اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل مقامات پر فوجی اڈوں کے حقوق کو کنٹرول کرنے، سرمایہ کاری کو ویٹو کرنے اور سپلائی چینز کا انتظام کرنے کے ذریعے۔ بڑی طاقتوں نے اس طرزِ عمل کو سمجھ لیا ہے، اور درمیانی طاقتوں کو بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اپنانے پر غور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا آگے بڑھنے کا راستہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائدہ اٹھانے کی ضرورت سے پہلے اقتصادی لچک پیدا کریں۔ ان ساختی کمزوریوں کو کم کریں جو ان مذاکرات میں پاکستان کو قیمت قبول کرنے والا فریق بنا دیتی ہیں: محدود ٹیکس بیس، کمزور مالیاتی گنجائش اور آئی ایم ایف پر مسلسل انحصار۔ جو ملک مالی کمزوری کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے، اسے اس ملک کے مقابلے میں زیادہ ناموافق شرائط ملتی ہیں جو مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی منڈیوں اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنائیں تاکہ کوئی ایک تعلق — خلیجی تیل، چینی سرمایہ کاری یا امریکی منڈی تک رسائی — دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہ بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پیک اور خلیج/آبنائے ہرمز تک رسائی کو بوجھ کے بجائے اسٹرٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھا جائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اسٹرٹیجک محلِ وقوع، جس میں گوادر تک بندرگاہی رسائی، بحیرہ عرب میں موجودگی اور آبنائے ہرمز سے قربت شامل ہے، کو چین، خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں فعال طور پر شامل کرے، بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ پہلے ہی محفوظ اور یقینی وعدے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی طور پر طے کیے گئے معاہدوں کے پائیدار ہونے کیلئے مقامی حمایت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گرین لینڈ کے باشندوں کی حقیقی حمایت کوپن ہیگن کے دستخط سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں صوبائی اور مقامی حکام کی منظوری ناگزیر ہے؛ گوادر، بلوچستان یا ساحلی سلامتی سے متعلق معاہدوں کیلئے حقیقی مقامی حمایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ ایسے معاہدے طویل مدتی شکایات پیدا کرسکتے ہیں جنہیں مخالفین اپنے مفادات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ سی پیک سے متعلق سکیورٹی خدشات میں پہلے ہی دیکھا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مذاکرات کریں، جب تک سودے بازی کی طاقت موجود ہے۔ اس وقت مذاکرات میں شامل ہوں جب اثر و رسوخ برقرار ہو۔ پاکستان کا اثر و رسوخ گوادر، بحیرہ عرب تک رسائی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے اثاثوں سے حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ اثر و رسوخ ان متبادل امکانات کی موجودگی سے مشروط ہے جو ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحادی تعلقات میں پیدا ہونے والے نقصان کے جال سے الٹ سمت میں بھی بچیں: پاکستان کو سی پیک کی مالی معاونت کی شرائط پر چین کے ساتھ اپنے تعلقات، انسدادِ دہشت گردی اور تجارتی تعاون پر امریکہ کے ساتھ تعلقات، جبکہ توانائی اور ترسیلاتِ زر پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی حرکیات پر نظر رکھنی چاہیے، اور ایسے انتظامات کی مزاحمت کرنی چاہیے جو اسے کسی دوسرے فریق کے اسٹرٹیجک نقشے پر محض ایک اثاثہ بنا دیں، بجائے اس کے کہ اسے اپنے مفادات رکھنے والے مذاکراتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا جغرافیہ ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی بیرونی طاقتیں اس وقت باقاعدہ قیمت لگا رہی ہیں، یہ محض ایک غیر فعال حقیقت نہیں ہے۔ حکمت عملی یہ ہے کہ مالیاتی اور اقتصادی لچک کو مضبوط بنایا جائے تاکہ مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کیے جاسکیں۔ اہم گزرگاہوں تک رسائی کی قیمت واضح طور پر طے کی جائے، بجائے اس کے کہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے بلا معاوضہ دے دیا جائے۔ سلامتی سے متعلق کسی بھی انتظام کیلئے حقیقی ملکی اور صوبائی رضامندی یقینی بنائی جائے، اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے متبادل راستے محدود کرنے سے پہلے ہی تنوع پیدا کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>18 ستمبر 2026 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن نے گرین لینڈ کی سلامتی پر مستقل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وہ اس سے قبل اس علاقے کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنے قبضے میں لینے کی دھمکی دے چکے تھے، تاہم اب لہجہ الحاق سے تعاون کی جانب تبدیل ہوگیا ہے۔ بیان بازی میں یہ تبدیلی غیر اعلانیہ تفصیلات سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں اب مسابقت کو کس طرح ترجیح دیتی ہیں: سرحدوں کو دوبارہ کھینچنے کے بجائے ان کرداروں اور افعال پر اپنا حق جتانا جنہیں روایتی طور پر سرحدیں تحفظ فراہم کرتی رہی ہیں۔</strong></p>
<p>ڈنمارک گرین لینڈ پر اپنی خودمختاری پر زور دیتا ہے، جبکہ اس معاہدے کی ڈنمارک اور گرین لینڈ کی دونوں قانون ساز اسمبلیوں سے توثیق بھی ضروری ہے۔ یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ نیا انتظام 1951 کے معاہدے سے کس حد تک مختلف ہے، جس کے تحت پہلے ہی امریکی فوجی موجودگی کی ایک نمایاں سطح کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا دائرہ سرد جنگ کے دور کے اس معاہدے سے زیادہ وسیع ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی مخالف کو واشنگٹن کی پیشگی واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں اڈہ قائم کرنے یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مزید برآں، ان کی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ جزیرے پر فوجی موجودگی میں تیزی سے اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>گرین لینڈ کی اسٹرٹیجک اہمیت واضح ہے۔ یہ شمالی بحرِ اوقیانوس کے ان اہم بحری راستوں کو کنٹرول کرتا ہے جنہیں روسی آبدوزیں کھلے سمندروں تک رسائی کے لیے استعمال کرتی ہیں اور یہ روس اور شمالی امریکہ کے درمیان فضائی اور میزائل حملوں کے مختصر ترین راستوں کے نیچے واقع ہے۔ اس کا پگھلتا ہوا ساحلی علاقہ نئے بحری راستے پیدا کر رہا ہے جو ایک نسل پہلے موجود نہیں تھے۔</p>
<p>اس کے علاوہ گرین لینڈ کی ارضیاتی ساخت میں نایاب ارضی عناصر اور اہم معدنیات موجود ہیں جو بیٹریوں، دفاع اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں، خصوصاً اس لیے کہ اس وقت چین ان مواد کی پراسیسنگ میں سب سے آگے ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ جزیرہ ایک ریڈار اسٹیشن، بحری گیٹ وے اور معدنیات کے ایک ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کے نقطۂ نظر سے یہ معاہدہ اس باب کو بند کرتا ہے جسے چین اپنی کئی سالہ آرکٹک رسائی کی کوششوں کے ذریعے کھولنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ چین کی حکمت عملی کبھی طاقت کے استعمال پر مبنی نہیں رہی بلکہ صبر پر مبنی رہی ہے، جس کے تحت کان کنی، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بتدریج رسائی حاصل کی گئی، تحقیقی مراکز قائم کیے گئے اور پولر سلک روڈ کے تصور کو فروغ دیا گیا۔ اس حکمت عملی کا انحصار چھوٹے دائرہ اختیار رکھنے والے علاقوں کے ساتھ ایک ایک سرمایہ کاری کے ذریعے روابط قائم کرنے پر ہے۔</p>
<p>تاہم حساس نوعیت کی سرمایہ کاری پر امریکی ویٹو گرین لینڈ میں اس طریقہ کار کو روک دیتا ہے اور ایک ایسی مثال قائم کرتا ہے جو مغرب کے اتحادی دیگر خطوں کو بھی اسی طرز عمل کی پیروی پر آمادہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>ماسکو اس صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتا ہے: اس کا آرکٹک ساحل اور فوجی موجودگی اب بھی بے مثال ہیں اور نوک(Nuuk) کے انتظامات اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتے۔ تاہم، امریکی موجودگی میں مستقل اور اضافے سے کسی بھی ایسے منصوبے کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس میں گرین لینڈ، آئس لینڈ اور برطانیہ کے راستے کو شامل کیا جائے، جبکہ اس گزرگاہ پر انحصار کرنے والی بحری حکمت عملی بھی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔</p>
<p>اسے چینی اور روسی حکمت عملیوں کی شکست قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ جاری مسابقت کے دوران ایک انتہائی محتاط انداز میں ہدف بنایا گیا قدم ہے، جس کی لاگت کو اس کے حامی کم اہمیت دیتے ہیں۔ بنیادی تشویش اس اتحاد کو پہنچنے والا نقصان ہے جسے یہ معاہدہ مضبوط بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کی سابقہ دھمکیوں سے یہ عندیہ ملتا تھا کہ علاقے پر قبضے کی کوئی بھی کوشش نیٹو کے ٹوٹنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسی دھمکی کے تحت ہونے والا معاہدہ، اور اطلاعات کے مطابق جس پر جزوی طور پر نیٹو کے باضابطہ ڈھانچے سے باہر مذاکرات کیے گئے، یورپی دارالحکومتوں کو یہ تاثر دے سکتا ہے کہ امریکہ اتحادیوں کو ایسے شراکت داروں کے بجائے اثاثوں کے طور پر دیکھتا ہے جن سے مشاورت کی جائے۔ یورپ کا واشنگٹن سے دوری اختیار کرنے کا ہر فیصلہ ماسکو اور بیجنگ کو اسٹرٹیجک طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔</p>
<p>دوسری تشویش رضامندی ہے۔ چھوٹے علاقوں کو بیرونی طاقتوں کے لیے ہدف بنانا آسان ہوسکتا ہے، لیکن وہ عام طور پر ایسے معاہدوں کی مزاحمت کرتے ہیں جنہیں وہ مسلط کردہ سمجھتے ہیں۔ اگر گرین لینڈ کے باشندے اس معاہدے کو ایسے شراکت داری کے بجائے اپنا مستقبل واشنگٹن کے حوالے کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں جو سرمایہ کاری، روزگار اور سلامتی فراہم کرتی ہو، تو وہ اپنے حریفوں کو فائدہ اٹھانے کے لیے شکایات فراہم کریں گے۔ دیرپا معاہدوں کے لیے صرف کوپن ہیگن کے دستخط نہیں بلکہ نوک کی مخلصانہ حمایت بھی ضروری ہے۔</p>
<p>تیسرا نکتہ سیدھا سا حساب ہے۔ بیجنگ اور ماسکو کو گرین لینڈ میں موجودگی قائم کرنے سے روکنے سے بحرالکاہل کے خطے، وسطی ایشیا یا خلیج میں ان کے اثر و رسوخ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ درحقیقت، آرکٹک میں زیادہ جارحانہ امریکی مؤقف بیجنگ اور ماسکو کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاسکتا ہے، جو بالکل وہی ہے جسے روکنے کی واشنگٹن کوشش کرتا رہا ہے۔</p>
<p>عالمی جنوب کے ممالک کے لیے سبق تشویش ناک ہے، بڑی طاقتوں کی مسابقت کے اصول اسٹرٹیجک جغرافیے کے گرد تبدیل ہو رہے ہیں۔ کوئی بھی ملک جو کسی اہم گزرگاہ، تجارتی راستے یا اہم وسائل کے مقام پر واقع ہو، غالباً حریف بلاکس کی جانب سے ہدف بنایا جائے گا یا اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے گی۔ بحیرہ عرب کے ساحل، آبنائے ہرمز سے قربت اور سی پیک کے راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔</p>
<p>بہترین طریقہ یہ نہیں کہ کسی ایک فریق کا انتخاب کیا جائے یا یہ تصور کیا جائے کہ غیر جانب داری کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے بجائے اقتصادی لچک کو مضبوط بنانا، تجارت اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا اور اس وقت مذاکرات کرنا انتہائی اہم ہے جب سودے بازی کی طاقت مضبوط ہو۔</p>
<p>گرین لینڈ امریکہ اور اس کے حریفوں کے درمیان جاری مسابقت کی ایک ابتدائی مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ایسی مسابقتیں کس طرح آگے بڑھیں گی: خاموشی سے، اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل مقامات پر فوجی اڈوں کے حقوق کو کنٹرول کرنے، سرمایہ کاری کو ویٹو کرنے اور سپلائی چینز کا انتظام کرنے کے ذریعے۔ بڑی طاقتوں نے اس طرزِ عمل کو سمجھ لیا ہے، اور درمیانی طاقتوں کو بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اپنانے پر غور کرنا چاہیے۔</p>
<p><strong>پاکستان کا آگے بڑھنے کا راستہ</strong></p>
<p>فائدہ اٹھانے کی ضرورت سے پہلے اقتصادی لچک پیدا کریں۔ ان ساختی کمزوریوں کو کم کریں جو ان مذاکرات میں پاکستان کو قیمت قبول کرنے والا فریق بنا دیتی ہیں: محدود ٹیکس بیس، کمزور مالیاتی گنجائش اور آئی ایم ایف پر مسلسل انحصار۔ جو ملک مالی کمزوری کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے، اسے اس ملک کے مقابلے میں زیادہ ناموافق شرائط ملتی ہیں جو مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہو۔</p>
<p>برآمدی منڈیوں اور توانائی کے ذرائع کو متنوع بنائیں تاکہ کوئی ایک تعلق — خلیجی تیل، چینی سرمایہ کاری یا امریکی منڈی تک رسائی — دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہ بن جائے۔</p>
<p>سی پیک اور خلیج/آبنائے ہرمز تک رسائی کو بوجھ کے بجائے اسٹرٹیجک اثاثوں کے طور پر دیکھا جائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اسٹرٹیجک محلِ وقوع، جس میں گوادر تک بندرگاہی رسائی، بحیرہ عرب میں موجودگی اور آبنائے ہرمز سے قربت شامل ہے، کو چین، خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں فعال طور پر شامل کرے، بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ پہلے ہی محفوظ اور یقینی وعدے ہیں۔</p>
<p>بیرونی طور پر طے کیے گئے معاہدوں کے پائیدار ہونے کیلئے مقامی حمایت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ گرین لینڈ کے باشندوں کی حقیقی حمایت کوپن ہیگن کے دستخط سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں صوبائی اور مقامی حکام کی منظوری ناگزیر ہے؛ گوادر، بلوچستان یا ساحلی سلامتی سے متعلق معاہدوں کیلئے حقیقی مقامی حمایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ ایسے معاہدے طویل مدتی شکایات پیدا کرسکتے ہیں جنہیں مخالفین اپنے مفادات کیلئے استعمال کرسکتے ہیں، جیسا کہ سی پیک سے متعلق سکیورٹی خدشات میں پہلے ہی دیکھا جا چکا ہے۔</p>
<p>اب مذاکرات کریں، جب تک سودے بازی کی طاقت موجود ہے۔ اس وقت مذاکرات میں شامل ہوں جب اثر و رسوخ برقرار ہو۔ پاکستان کا اثر و رسوخ گوادر، بحیرہ عرب تک رسائی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے اثاثوں سے حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ اثر و رسوخ ان متبادل امکانات کی موجودگی سے مشروط ہے جو ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔</p>
<p>اتحادی تعلقات میں پیدا ہونے والے نقصان کے جال سے الٹ سمت میں بھی بچیں: پاکستان کو سی پیک کی مالی معاونت کی شرائط پر چین کے ساتھ اپنے تعلقات، انسدادِ دہشت گردی اور تجارتی تعاون پر امریکہ کے ساتھ تعلقات، جبکہ توانائی اور ترسیلاتِ زر پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی حرکیات پر نظر رکھنی چاہیے، اور ایسے انتظامات کی مزاحمت کرنی چاہیے جو اسے کسی دوسرے فریق کے اسٹرٹیجک نقشے پر محض ایک اثاثہ بنا دیں، بجائے اس کے کہ اسے اپنے مفادات رکھنے والے مذاکراتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔</p>
<p>پاکستان کا جغرافیہ ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی بیرونی طاقتیں اس وقت باقاعدہ قیمت لگا رہی ہیں، یہ محض ایک غیر فعال حقیقت نہیں ہے۔ حکمت عملی یہ ہے کہ مالیاتی اور اقتصادی لچک کو مضبوط بنایا جائے تاکہ مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کیے جاسکیں۔ اہم گزرگاہوں تک رسائی کی قیمت واضح طور پر طے کی جائے، بجائے اس کے کہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے بلا معاوضہ دے دیا جائے۔ سلامتی سے متعلق کسی بھی انتظام کیلئے حقیقی ملکی اور صوبائی رضامندی یقینی بنائی جائے، اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے متبادل راستے محدود کرنے سے پہلے ہی تنوع پیدا کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291950</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 10:38:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر مدیحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/01103718db12a39.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/01103718db12a39.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریاست اور بینکوں کا گٹھ جوڑ اور اس کے نقصانات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291922/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر چند روز بعد اخبارات اور ٹی وی پر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ نقد معیشت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور پاکستانیوں کے پاس ضرورت سے زیادہ نقد رقم موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نقد معیشت کی بحث کا ایک اہم پہلو حیرت انگیز طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے: پاکستان نے کئی دہائیوں سے بینکوں کو تحفظ اور سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی، مگر مالیاتی نظام کی حقیقی ترقی کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔ یہ فرق اہم ہے۔ بینکاری اور مالیاتی ترقی ایک ہی چیز نہیں۔ ایک ترقی یافتہ مالیاتی نظام بچت کرنے والوں کو کاروباری افراد سے جوڑتا ہے، رہن اور صارفین کو قرض فراہم کرتا ہے، نئے کاروباروں کی صلاحیت دریافت کرتا ہے، بانڈ اور ایکویٹی مارکیٹوں کو وسعت دیتا ہے اور گھرانوں کو مختلف مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے حقیقی مواقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پاکستان نے حکومت اور کمرشل بینکوں کے درمیان ایک غیر معمولی طور پر آرام دہ تعلق قائم کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے اعدادوشمار اس صورتحال کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 تک پاکستانی بینکوں کے اثاثوں میں حکومت سے متعلق واجبات کا حصہ تقریباً 60 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی اوسط سے تین گنا سے بھی زیادہ اور نجی شعبے کے لیے بینکوں کی قرضہ جاتی رسائی سے تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے مطابق بینکوں کے لیے حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری منافع کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ سرکاری سیکیورٹیز میں نجی قرض خواہ کے خطرے کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہی سیکیورٹیز اسٹیٹ بینک سے لیکویڈیٹی حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا سوچیے، اس صورتحال سے بینکوں کے لیے کیا ترغیبات پیدا ہوتی ہیں۔ کسی باصلاحیت نوجوان کاروباری کی تلاش کیوں کی جائے؟ چھوٹے کاروباروں کو قرض دینے کی مہارت کیوں پیدا کی جائے؟ کسی نئی فیکٹری، ٹیکنالوجی کمپنی یا برآمد کنندہ کی مالی استعداد کا جائزہ کیوں لیا جائے؟ لاکھوں چھوٹے کھاتے داروں کو راغب کرنے کے لیے بھرپور مسابقت کیوں کی جائے؟ جب حکومت ہر ہفتے بھاری رقوم قرض لینے کے لیے موجود ہو تو ان سب کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف ایک مختلف زاویے سے بھی اسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اس کے مطابق مالیاتی نظام نے کھاتے داروں کو راغب کرنے کے لیے بینکوں کو بہت کم ترغیب دی ہے۔ بعض بینک ایسے کرنٹ اکاؤنٹس اور اسلامی ڈپازٹ مصنوعات کی جانب بڑھ گئے ہیں جن میں بچت کنندگان کو نسبتاً کم ادائیگی کرنا پڑتی ہے، جس سے بالخصوص ان چھوٹے کھاتے داروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جن کی ایک کم رسائی رکھنے والے اور محدود دائرے کے حامل بینکاری نظام کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مالیاتی ترقی نہیں۔ یہ ریاست اور بینکوں کا ایسا گٹھ جوڑ ہے جس میں حکومتی خسارے بینکوں کے منافع کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ نجی شعبے کے لیے مالی وسائل کی رسائی محدود رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی نقد رقم اپنے پاس کیوں رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کھاتہ-دراصل-کس-کا-پیسہ-ہے" href="#کھاتہ-دراصل-کس-کا-پیسہ-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کھاتہ دراصل کس کا پیسہ ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بینک میں جمع رقم دراصل کھاتے دار کی رقم ہوتی ہے، جو امانت کے طور پر بینک کے پاس رکھی جاتی ہے، نہ کہ بینکر کا ذاتی سرمایہ جسے وہ اپنی مرضی سے استعمال کرے۔ جب بینک اس رقم کا بڑا حصہ ایک ہی ذریعے، یعنی حکومتی سیکیورٹیز میں لگا دیتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے آسان اور کم خطرے والی سرمایہ کاری ہوتی ہے، تو وہ دوسروں کی بچت سے سرمایہ کاری کا فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں، اپنی رقم سے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی کھاتے دار کو اپنی تمام رقم حکومتی بانڈز میں لگانی ہوتی تو وہ براہِ راست ایسا کر سکتا تھا۔ اس نے رقم بینک میں اس توقع پر جمع کرائی کہ بینک اسے زیادہ مفید انداز میں استعمال کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی وسائل پر حکومت کی بالادستی نے خاموشی سے بینکاری نظام کو دوسروں کے خطرات کا انتظام کرنے والے ادارے کے بجائے ریاست کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے ایک ذریعے میں تبدیل کر دیا ہے، اور اس لین دین میں کھاتے دار کی رائے کی کوئی جگہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گاہک-کہاں-ہیں" href="#گاہک-کہاں-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گاہک کہاں ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;شاید اس پوری بحث کا سب سے حیران کن اعدادوشمار یہی ہے۔ عالمی بینک کے گلوبل فن ڈیکس 2025 سروے کے مطابق 2024 میں پاکستان کی 15 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی 15 کروڑ 58 لاکھ تھی۔ ان میں سے 11 کروڑ 33 لاکھ افراد کے پاس کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا، یعنی تازہ ترین قابلِ تقابل اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 73 فیصد پاکستانی بالغ آبادی بینکاری نظام سے باہر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جن میں بنگلہ دیش، چین، مصر، بھارت، انڈونیشیا، میکسیکو اور نائیجیریا بھی شامل ہیں، اور یہ ممالک دنیا بھر کے مجموعی 1.3 ارب ایسے بالغ افراد میں سے نصف سے زیادہ کے حامل ہیں جن کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار پھر اس پہلے عدد پر غور کیجیے: &lt;strong&gt;11 کروڑ 30 لاکھ افراد۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی معیشت میں جہاں تقریباً تین چوتھائی بالغ افراد کے پاس بینک اکاؤنٹ نہیں، نقد رقم کے استعمال کو ایک معمہ سمجھنا اصل وجہ اور نتیجے کو الٹ دینے کے مترادف ہے۔ یہ لوگ اپنی رقم کہاں رکھیں؟ گھریلو ملازم کو اجرت کیسے دی جائے؟ یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اپنی اجرت کیسے وصول کرے، یا ایک زرعی مزدور دوسرے مزدور کو ادائیگی کیسے کرے، جب دونوں میں سے کسی کا بینک اکاؤنٹ ہی نہ ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں نقد رقم کسی نظریاتی ترجیح کا نتیجہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بنیادی ڈھانچہ ہے—اور بلاشبہ ملک کا سب سے زیادہ فعال ادائیگی کا نظام، جو اس خلا کو پُر کر رہا ہے جسے رسمی مالیاتی نظام نے کئی دہائیوں سے کھلا چھوڑ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پہلے-اکاؤنٹ-کھول-کر-دیکھیے" href="#پہلے-اکاؤنٹ-کھول-کر-دیکھیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پہلے اکاؤنٹ کھول کر دیکھیے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اکاؤنٹ رکھنے اور بینک کے ساتھ ایک مؤثر مالیاتی تعلق قائم ہونے میں بھی بڑا فرق ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے کے لیے شناختی دستاویز، بایومیٹرک تصدیق، ملازمت اور آمدنی کی تفصیلات کے علاوہ مسلسل صارف کی جانچ پڑتال درکار ہو سکتی ہے۔ یہ حفاظتی اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ پاکستان کو انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی معیارات پر پورا اترنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ضوابط کی اپنی لاگت بھی ہوتی ہے اور اسٹیٹ بینک خود بھی اس حقیقت سے آگاہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کا 2025 کا جامع صارف آن بورڈنگ فریم ورک اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں آسانی کی ضرورت محسوس کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں مبالغے سے گریز بھی ضروری ہے۔ بینکوں کو کسی کھاتے دار کا اکاؤنٹ من مانی طور پر بند کرنے کا غیر محدود اختیار حاصل نہیں۔ اسٹیٹ بینک کے قواعد اکاؤنٹس کے طریقہ کار کو منظم کرتے ہیں اور موجودہ ضوابط کے تحت بینک کے لیے ضروری ہے کہ اکاؤنٹ پر پابندی عائد کیے جانے کی صورت میں صارف کو مطلع کرے اور اسے یہ بھی بتائے کہ اکاؤنٹ کو معمول پر کیسے لایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ وضاحت بنیادی مسئلے کو کمزور نہیں بلکہ مزید واضح کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزمرہ زندگی میں کھاتے دار سے بار بار شناخت، آمدنی کے ذریعے اور کسی لین دین کے مقصد کی دوبارہ تصدیق طلب کی جا سکتی ہے۔ غیر فعال اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے کی سہولت بحالی تک معطل ہو سکتی ہے، جبکہ مطلوبہ دستاویزات تازہ نہ ہونے کی صورت میں رقم نکلوانے پر پابندی لگ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تنخواہ دار پیشہ ور کے لیے یہ کبھی کبھار پیش آنے والی زحمت ہو سکتی ہے۔ لیکن غیر مستقل آمدنی، نامکمل دستاویزات یا پیچیدہ دفتری طریقہ کار سے نمٹنے کی محدود صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے یہ صورتحال پورے معاملے کا توازن ہی بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد رقم کبھی کسی سے مزید دستاویز نہیں مانگتی۔ اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ نے 2 لاکھ روپے کیوں منتقل کیے۔ یہ غیر فعال نہیں ہوتی اور اسے دوبارہ فعال کرانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اب-قرض-لے-کر-دیکھیے" href="#اب-قرض-لے-کر-دیکھیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اب قرض لے کر دیکھیے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی کوئی صارف اس نظام سے کچھ واپس مانگتا ہے، تضاد مزید گہرا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کریڈٹ کارڈ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی مالیاتی سہولت نہیں۔ آمدنی کی دستاویزات، کریڈٹ جانچ، فیس اور مالیاتی اخراجات بیشتر لوگوں کو اس دائرے سے باہر رکھتے ہیں۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے صورتحال اس سے بھی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے حکومت کے لیے قرض لینا غیر معمولی حد تک آسان اور شہریوں و کاروباری اداروں کے لیے اسی کام کو مشکل بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اس کی وسیع تر معاشی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ پاکستانی بینک نجی شعبے کو قرض دینے کے معاملے میں طویل عرصے سے علاقائی ہم منصبوں سے پیچھے رہے ہیں، جبکہ حکومتی قرض گیری میں اضافے نے نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی مزید محدود کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت بیک وقت اس مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر قابض ہے—وہ اتنی بڑی مقدار میں قرض لے رہی ہے کہ اس کی سیکیورٹیز بینکوں کے لیے انتہائی پرکشش بن جاتی ہیں، جبکہ ضوابط عام صارفین کے ساتھ بینکنگ تعلق کو پیچیدہ اور کاغذی کارروائی سے بھرپور بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کے لیے بھی یہ ایک معقول کاروباری فیصلہ ہے کہ جب ریاست ایک وسیع اور محفوظ متبادل پیش کر رہی ہو تو وہ چھوٹے کھاتے داروں یا نسبتاً خطرناک نجی قرض خواہوں کے پیچھے کیوں جائیں۔ نتیجہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے: حکومت کو قرض ملتا ہے، بینک منافع کماتے ہیں، بڑی اور مستحکم کمپنیوں کو خدمات ملتی ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کے حصے میں نقد رقم آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="5-ہزار-روپے-کے-نوٹ-کو-موردِ-الزام-ٹھہرانا-بند-کریں" href="#5-ہزار-روپے-کے-نوٹ-کو-موردِ-الزام-ٹھہرانا-بند-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;5 ہزار روپے کے نوٹ کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کریں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ 5 ہزار روپے کے نوٹ پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینا بے محل ہے۔ تقریباً 280 روپے فی ڈالر کی شرح پر یہ نوٹ تقریباً 18 ڈالر کا بنتا ہے۔ اسے ختم کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ایک جائز 10 لاکھ روپے کی نقد ادائیگی کے لیے صرف 200 کے بجائے 1,000 روپے کے ایک ہزار نوٹ درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے مالیاتی ترقی نہیں کی ہوگی، صرف بڑے تھیلے درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات درست ہے کہ نقد رقم ٹیکس چوری یا رقم چھپانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، اور اس پر اختلاف نہیں۔ لیکن پالیسی سازوں کو مجرمانہ مقاصد کے لیے گمنامی کی طلب اور ایسے ادائیگی کے ذریعے کی جائز ضرورت میں فرق کرنا ہوگا جو وہاں واقعی کام کرتا ہو جہاں 11 کروڑ 30 لاکھ بالغ افراد کا کوئی بینک اکاؤنٹ ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="صرف-بینکاری-نہیں-مالیاتی-نظام-کو-ترقی-دیں" href="#صرف-بینکاری-نہیں-مالیاتی-نظام-کو-ترقی-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;صرف بینکاری نہیں، مالیاتی نظام کو ترقی دیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو یہ ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے کہ مالیاتی اصلاحات سے مراد کیا ہے۔ مقصد مزید بینک بنانا، اور یقیناً بینکوں سے مزید حکومتی قرض لینا نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو بینکاری وسائل پر اپنی غیر معمولی گرفت کم کرنی چاہیے تاکہ بینک اپنے حقیقی کردار کی جانب واپس آئیں: یعنی دوسروں کے مالی خطرات کا انتظام کریں، نہ کہ اپنے ڈپازٹس کو دستیاب سب سے محفوظ سرمایہ کاری میں منتقل کرتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپازٹس کے حصول کے لیے مسابقت بڑھنی چاہیے، بنیادی بینک اکاؤنٹ کھولنا تقریباً بے تکلف عمل ہونا چاہیے، ضوابط کو ہر شخص پر یکساں شبہے کے بجائے حقیقی خطرے کی سطح کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ صارفین کو واضح حقوق اور اکاؤنٹ تک رسائی محدود کیے جانے کی صورت میں فوری اپیل کا مؤثر طریقہ دستیاب ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ترقی کو صرف اس بنیاد پر بھی نہیں پرکھنا چاہیے کہ کتنا قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ قرض بچت کو پیداواری استعمال میں منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جو مفید ضرور ہے لیکن محدود نوعیت کا ہے۔ نوجوان اور بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے صرف مزید قرض پر انحصار مناسب نہیں، اسے قرض سے زیادہ رسک کیپیٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض میں نتائج سے قطع نظر مقررہ ادائیگی لازم ہوتی ہے اور یہ خیالات کے بجائے ضمانت کی بنیاد پر مالی وسائل فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ہمیشہ نئے کاروبار کے مقابلے میں پہلے سے قائم قرض خواہ کو فائدہ پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو دراصل مالیاتی مواقع کے ایک مکمل دائرے کی کمی ہے: عام لوگوں کے لیے رہن کی سہولت، چھوٹے کاروباروں کے لیے حقیقی مسابقت پر مبنی قرض، گہری کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ، ایسی وسیع ایکویٹی مارکیٹ جس میں کاروبار اپنے اثاثے گروی رکھے بغیر مستقبل کے منافع میں حصہ دے کر سرمایہ حاصل کر سکیں، اور پنشن و انشورنس فنڈز جو طویل مدتی سرمایہ فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے ملک کے تقریباً ہر مالیاتی تعلق کے مرکز میں حکومت اور چند بڑے بینک ہی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا بچت کنندہ جو کسی کمپنی کو محض مقررہ شرحِ منافع پر قرض دینے کے بجائے اس کی ترقی میں شریک ہونا چاہتا ہے، پاکستان میں اس کے لیے فی الحال بہت کم مواقع موجود ہیں۔ یہ کمی بذاتِ خود مالیاتی پسماندگی کی ایک شکل ہے، جو قرض کی قلت سے الگ اور اس سے پہلے کی حقیقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں ریاست اور بینکوں کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کو محض ایک ضمنی نکتے کے بجائے انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بینکاری نظام سے باہر 11 کھرب روپے رکھنے والے پاکستانی غیر منطقی طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ وہ اسی مالیاتی نظام کے اندر اپنی بچت اور لین دین سے متعلق فیصلے کر رہے ہیں جو ہم نے ان کے لیے تشکیل دیا ہے—ایسا نظام جہاں ان کے ڈپازٹس کو ایک محدود دائرے میں حکومتی بانڈز کی خریداری کے لیے باآسانی دستیاب سرمایہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ ایسا کوئی متبادل مالیاتی ذریعہ موجود نہیں جو ان کی بچت کو کسی نئے کاروباری خیال کی پشت پناہی کے لیے استعمال کر سکے، بجائے اس کے کہ وہ حکومتی خسارے کو پورا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقد رقم ہمارے اداروں کے بارے میں کچھ بتا رہی ہے۔ ہمیں اسے ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کے بجائے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر چند روز بعد اخبارات اور ٹی وی پر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ نقد معیشت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور پاکستانیوں کے پاس ضرورت سے زیادہ نقد رقم موجود ہے۔</strong></p>
<p>لیکن نقد معیشت کی بحث کا ایک اہم پہلو حیرت انگیز طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے: پاکستان نے کئی دہائیوں سے بینکوں کو تحفظ اور سہولت فراہم کرنے پر توجہ دی، مگر مالیاتی نظام کی حقیقی ترقی کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔ یہ فرق اہم ہے۔ بینکاری اور مالیاتی ترقی ایک ہی چیز نہیں۔ ایک ترقی یافتہ مالیاتی نظام بچت کرنے والوں کو کاروباری افراد سے جوڑتا ہے، رہن اور صارفین کو قرض فراہم کرتا ہے، نئے کاروباروں کی صلاحیت دریافت کرتا ہے، بانڈ اور ایکویٹی مارکیٹوں کو وسعت دیتا ہے اور گھرانوں کو مختلف مالیاتی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے حقیقی مواقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس پاکستان نے حکومت اور کمرشل بینکوں کے درمیان ایک غیر معمولی طور پر آرام دہ تعلق قائم کر لیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے اعدادوشمار اس صورتحال کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>2023 تک پاکستانی بینکوں کے اثاثوں میں حکومت سے متعلق واجبات کا حصہ تقریباً 60 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی اوسط سے تین گنا سے بھی زیادہ اور نجی شعبے کے لیے بینکوں کی قرضہ جاتی رسائی سے تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔</p>
<p>فنڈ کے مطابق بینکوں کے لیے حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری منافع کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ سرکاری سیکیورٹیز میں نجی قرض خواہ کے خطرے کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہی سیکیورٹیز اسٹیٹ بینک سے لیکویڈیٹی حاصل کرنے کے لیے ضمانت کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>ذرا سوچیے، اس صورتحال سے بینکوں کے لیے کیا ترغیبات پیدا ہوتی ہیں۔ کسی باصلاحیت نوجوان کاروباری کی تلاش کیوں کی جائے؟ چھوٹے کاروباروں کو قرض دینے کی مہارت کیوں پیدا کی جائے؟ کسی نئی فیکٹری، ٹیکنالوجی کمپنی یا برآمد کنندہ کی مالی استعداد کا جائزہ کیوں لیا جائے؟ لاکھوں چھوٹے کھاتے داروں کو راغب کرنے کے لیے بھرپور مسابقت کیوں کی جائے؟ جب حکومت ہر ہفتے بھاری رقوم قرض لینے کے لیے موجود ہو تو ان سب کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟</p>
<p>آئی ایم ایف ایک مختلف زاویے سے بھی اسی نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اس کے مطابق مالیاتی نظام نے کھاتے داروں کو راغب کرنے کے لیے بینکوں کو بہت کم ترغیب دی ہے۔ بعض بینک ایسے کرنٹ اکاؤنٹس اور اسلامی ڈپازٹ مصنوعات کی جانب بڑھ گئے ہیں جن میں بچت کنندگان کو نسبتاً کم ادائیگی کرنا پڑتی ہے، جس سے بالخصوص ان چھوٹے کھاتے داروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جن کی ایک کم رسائی رکھنے والے اور محدود دائرے کے حامل بینکاری نظام کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>یہ مالیاتی ترقی نہیں۔ یہ ریاست اور بینکوں کا ایسا گٹھ جوڑ ہے جس میں حکومتی خسارے بینکوں کے منافع کو برقرار رکھتے ہیں جبکہ نجی شعبے کے لیے مالی وسائل کی رسائی محدود رہتی ہے۔</p>
<p>پھر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ پاکستانی نقد رقم اپنے پاس کیوں رکھتے ہیں۔</p>
<h3><a id="کھاتہ-دراصل-کس-کا-پیسہ-ہے" href="#کھاتہ-دراصل-کس-کا-پیسہ-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>کھاتہ دراصل کس کا پیسہ ہے؟</strong></h3>
<p>یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بینک میں جمع رقم دراصل کھاتے دار کی رقم ہوتی ہے، جو امانت کے طور پر بینک کے پاس رکھی جاتی ہے، نہ کہ بینکر کا ذاتی سرمایہ جسے وہ اپنی مرضی سے استعمال کرے۔ جب بینک اس رقم کا بڑا حصہ ایک ہی ذریعے، یعنی حکومتی سیکیورٹیز میں لگا دیتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے آسان اور کم خطرے والی سرمایہ کاری ہوتی ہے، تو وہ دوسروں کی بچت سے سرمایہ کاری کا فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں، اپنی رقم سے نہیں۔</p>
<p>اگر کسی کھاتے دار کو اپنی تمام رقم حکومتی بانڈز میں لگانی ہوتی تو وہ براہِ راست ایسا کر سکتا تھا۔ اس نے رقم بینک میں اس توقع پر جمع کرائی کہ بینک اسے زیادہ مفید انداز میں استعمال کرے گا۔</p>
<p>مالیاتی وسائل پر حکومت کی بالادستی نے خاموشی سے بینکاری نظام کو دوسروں کے خطرات کا انتظام کرنے والے ادارے کے بجائے ریاست کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے ایک ذریعے میں تبدیل کر دیا ہے، اور اس لین دین میں کھاتے دار کی رائے کی کوئی جگہ نہیں۔</p>
<h3><a id="گاہک-کہاں-ہیں" href="#گاہک-کہاں-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>گاہک کہاں ہیں؟</strong></h3>
<p>شاید اس پوری بحث کا سب سے حیران کن اعدادوشمار یہی ہے۔ عالمی بینک کے گلوبل فن ڈیکس 2025 سروے کے مطابق 2024 میں پاکستان کی 15 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی 15 کروڑ 58 لاکھ تھی۔ ان میں سے 11 کروڑ 33 لاکھ افراد کے پاس کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا، یعنی تازہ ترین قابلِ تقابل اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 73 فیصد پاکستانی بالغ آبادی بینکاری نظام سے باہر تھی۔</p>
<p>پاکستان ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جن میں بنگلہ دیش، چین، مصر، بھارت، انڈونیشیا، میکسیکو اور نائیجیریا بھی شامل ہیں، اور یہ ممالک دنیا بھر کے مجموعی 1.3 ارب ایسے بالغ افراد میں سے نصف سے زیادہ کے حامل ہیں جن کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں۔</p>
<p>ایک بار پھر اس پہلے عدد پر غور کیجیے: <strong>11 کروڑ 30 لاکھ افراد۔</strong></p>
<p>ایسی معیشت میں جہاں تقریباً تین چوتھائی بالغ افراد کے پاس بینک اکاؤنٹ نہیں، نقد رقم کے استعمال کو ایک معمہ سمجھنا اصل وجہ اور نتیجے کو الٹ دینے کے مترادف ہے۔ یہ لوگ اپنی رقم کہاں رکھیں؟ گھریلو ملازم کو اجرت کیسے دی جائے؟ یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اپنی اجرت کیسے وصول کرے، یا ایک زرعی مزدور دوسرے مزدور کو ادائیگی کیسے کرے، جب دونوں میں سے کسی کا بینک اکاؤنٹ ہی نہ ہو؟</p>
<p>ایسے حالات میں نقد رقم کسی نظریاتی ترجیح کا نتیجہ نہیں۔</p>
<p>یہ بنیادی ڈھانچہ ہے—اور بلاشبہ ملک کا سب سے زیادہ فعال ادائیگی کا نظام، جو اس خلا کو پُر کر رہا ہے جسے رسمی مالیاتی نظام نے کئی دہائیوں سے کھلا چھوڑ رکھا ہے۔</p>
<h3><a id="پہلے-اکاؤنٹ-کھول-کر-دیکھیے" href="#پہلے-اکاؤنٹ-کھول-کر-دیکھیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>پہلے اکاؤنٹ کھول کر دیکھیے</strong></h3>
<p>اکاؤنٹ رکھنے اور بینک کے ساتھ ایک مؤثر مالیاتی تعلق قائم ہونے میں بھی بڑا فرق ہے۔ اکاؤنٹ کھولنے کے لیے شناختی دستاویز، بایومیٹرک تصدیق، ملازمت اور آمدنی کی تفصیلات کے علاوہ مسلسل صارف کی جانچ پڑتال درکار ہو سکتی ہے۔ یہ حفاظتی اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ پاکستان کو انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی معیارات پر پورا اترنا ہے۔</p>
<p>لیکن ضوابط کی اپنی لاگت بھی ہوتی ہے اور اسٹیٹ بینک خود بھی اس حقیقت سے آگاہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کا 2025 کا جامع صارف آن بورڈنگ فریم ورک اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے وضع کیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں آسانی کی ضرورت محسوس کی گئی۔</p>
<p>یہاں مبالغے سے گریز بھی ضروری ہے۔ بینکوں کو کسی کھاتے دار کا اکاؤنٹ من مانی طور پر بند کرنے کا غیر محدود اختیار حاصل نہیں۔ اسٹیٹ بینک کے قواعد اکاؤنٹس کے طریقہ کار کو منظم کرتے ہیں اور موجودہ ضوابط کے تحت بینک کے لیے ضروری ہے کہ اکاؤنٹ پر پابندی عائد کیے جانے کی صورت میں صارف کو مطلع کرے اور اسے یہ بھی بتائے کہ اکاؤنٹ کو معمول پر کیسے لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>لیکن یہ وضاحت بنیادی مسئلے کو کمزور نہیں بلکہ مزید واضح کرتی ہے۔</p>
<p>روزمرہ زندگی میں کھاتے دار سے بار بار شناخت، آمدنی کے ذریعے اور کسی لین دین کے مقصد کی دوبارہ تصدیق طلب کی جا سکتی ہے۔ غیر فعال اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے کی سہولت بحالی تک معطل ہو سکتی ہے، جبکہ مطلوبہ دستاویزات تازہ نہ ہونے کی صورت میں رقم نکلوانے پر پابندی لگ سکتی ہے۔</p>
<p>ایک تنخواہ دار پیشہ ور کے لیے یہ کبھی کبھار پیش آنے والی زحمت ہو سکتی ہے۔ لیکن غیر مستقل آمدنی، نامکمل دستاویزات یا پیچیدہ دفتری طریقہ کار سے نمٹنے کی محدود صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے یہ صورتحال پورے معاملے کا توازن ہی بدل سکتی ہے۔</p>
<p>نقد رقم کبھی کسی سے مزید دستاویز نہیں مانگتی۔ اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ آپ نے 2 لاکھ روپے کیوں منتقل کیے۔ یہ غیر فعال نہیں ہوتی اور اسے دوبارہ فعال کرانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔</p>
<h3><a id="اب-قرض-لے-کر-دیکھیے" href="#اب-قرض-لے-کر-دیکھیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>اب قرض لے کر دیکھیے</strong></h3>
<p>جیسے ہی کوئی صارف اس نظام سے کچھ واپس مانگتا ہے، تضاد مزید گہرا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں کریڈٹ کارڈ اب بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی مالیاتی سہولت نہیں۔ آمدنی کی دستاویزات، کریڈٹ جانچ، فیس اور مالیاتی اخراجات بیشتر لوگوں کو اس دائرے سے باہر رکھتے ہیں۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے صورتحال اس سے بھی مشکل ہے۔</p>
<p>ہم نے حکومت کے لیے قرض لینا غیر معمولی حد تک آسان اور شہریوں و کاروباری اداروں کے لیے اسی کام کو مشکل بنا دیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف اس کی وسیع تر معاشی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ پاکستانی بینک نجی شعبے کو قرض دینے کے معاملے میں طویل عرصے سے علاقائی ہم منصبوں سے پیچھے رہے ہیں، جبکہ حکومتی قرض گیری میں اضافے نے نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی مزید محدود کر دی ہے۔</p>
<p>حکومت بیک وقت اس مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر قابض ہے—وہ اتنی بڑی مقدار میں قرض لے رہی ہے کہ اس کی سیکیورٹیز بینکوں کے لیے انتہائی پرکشش بن جاتی ہیں، جبکہ ضوابط عام صارفین کے ساتھ بینکنگ تعلق کو پیچیدہ اور کاغذی کارروائی سے بھرپور بنا دیتے ہیں۔</p>
<p>بینکوں کے لیے بھی یہ ایک معقول کاروباری فیصلہ ہے کہ جب ریاست ایک وسیع اور محفوظ متبادل پیش کر رہی ہو تو وہ چھوٹے کھاتے داروں یا نسبتاً خطرناک نجی قرض خواہوں کے پیچھے کیوں جائیں۔ نتیجہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے: حکومت کو قرض ملتا ہے، بینک منافع کماتے ہیں، بڑی اور مستحکم کمپنیوں کو خدمات ملتی ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کے حصے میں نقد رقم آتی ہے۔</p>
<h3><a id="5-ہزار-روپے-کے-نوٹ-کو-موردِ-الزام-ٹھہرانا-بند-کریں" href="#5-ہزار-روپے-کے-نوٹ-کو-موردِ-الزام-ٹھہرانا-بند-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>5 ہزار روپے کے نوٹ کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کریں</strong></h3>
<p>یہی وجہ ہے کہ 5 ہزار روپے کے نوٹ پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینا بے محل ہے۔ تقریباً 280 روپے فی ڈالر کی شرح پر یہ نوٹ تقریباً 18 ڈالر کا بنتا ہے۔ اسے ختم کرنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ایک جائز 10 لاکھ روپے کی نقد ادائیگی کے لیے صرف 200 کے بجائے 1,000 روپے کے ایک ہزار نوٹ درکار ہوں گے۔</p>
<p>ہم نے مالیاتی ترقی نہیں کی ہوگی، صرف بڑے تھیلے درکار ہوں گے۔</p>
<p>یہ بات درست ہے کہ نقد رقم ٹیکس چوری یا رقم چھپانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، اور اس پر اختلاف نہیں۔ لیکن پالیسی سازوں کو مجرمانہ مقاصد کے لیے گمنامی کی طلب اور ایسے ادائیگی کے ذریعے کی جائز ضرورت میں فرق کرنا ہوگا جو وہاں واقعی کام کرتا ہو جہاں 11 کروڑ 30 لاکھ بالغ افراد کا کوئی بینک اکاؤنٹ ہی نہیں۔</p>
<h3><a id="صرف-بینکاری-نہیں-مالیاتی-نظام-کو-ترقی-دیں" href="#صرف-بینکاری-نہیں-مالیاتی-نظام-کو-ترقی-دیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a><strong>صرف بینکاری نہیں، مالیاتی نظام کو ترقی دیں</strong></h3>
<p>پاکستان کو یہ ازسرِنو سوچنے کی ضرورت ہے کہ مالیاتی اصلاحات سے مراد کیا ہے۔ مقصد مزید بینک بنانا، اور یقیناً بینکوں سے مزید حکومتی قرض لینا نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو بینکاری وسائل پر اپنی غیر معمولی گرفت کم کرنی چاہیے تاکہ بینک اپنے حقیقی کردار کی جانب واپس آئیں: یعنی دوسروں کے مالی خطرات کا انتظام کریں، نہ کہ اپنے ڈپازٹس کو دستیاب سب سے محفوظ سرمایہ کاری میں منتقل کرتے رہیں۔</p>
<p>ڈپازٹس کے حصول کے لیے مسابقت بڑھنی چاہیے، بنیادی بینک اکاؤنٹ کھولنا تقریباً بے تکلف عمل ہونا چاہیے، ضوابط کو ہر شخص پر یکساں شبہے کے بجائے حقیقی خطرے کی سطح کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ صارفین کو واضح حقوق اور اکاؤنٹ تک رسائی محدود کیے جانے کی صورت میں فوری اپیل کا مؤثر طریقہ دستیاب ہونا چاہیے۔</p>
<p>مالیاتی ترقی کو صرف اس بنیاد پر بھی نہیں پرکھنا چاہیے کہ کتنا قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ قرض بچت کو پیداواری استعمال میں منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جو مفید ضرور ہے لیکن محدود نوعیت کا ہے۔ نوجوان اور بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے صرف مزید قرض پر انحصار مناسب نہیں، اسے قرض سے زیادہ رسک کیپیٹل کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>قرض میں نتائج سے قطع نظر مقررہ ادائیگی لازم ہوتی ہے اور یہ خیالات کے بجائے ضمانت کی بنیاد پر مالی وسائل فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ہمیشہ نئے کاروبار کے مقابلے میں پہلے سے قائم قرض خواہ کو فائدہ پہنچائے گا۔</p>
<p>پاکستان کو دراصل مالیاتی مواقع کے ایک مکمل دائرے کی کمی ہے: عام لوگوں کے لیے رہن کی سہولت، چھوٹے کاروباروں کے لیے حقیقی مسابقت پر مبنی قرض، گہری کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ، ایسی وسیع ایکویٹی مارکیٹ جس میں کاروبار اپنے اثاثے گروی رکھے بغیر مستقبل کے منافع میں حصہ دے کر سرمایہ حاصل کر سکیں، اور پنشن و انشورنس فنڈز جو طویل مدتی سرمایہ فراہم کریں۔</p>
<p>اس کے بجائے ملک کے تقریباً ہر مالیاتی تعلق کے مرکز میں حکومت اور چند بڑے بینک ہی موجود ہیں۔</p>
<p>ایسا بچت کنندہ جو کسی کمپنی کو محض مقررہ شرحِ منافع پر قرض دینے کے بجائے اس کی ترقی میں شریک ہونا چاہتا ہے، پاکستان میں اس کے لیے فی الحال بہت کم مواقع موجود ہیں۔ یہ کمی بذاتِ خود مالیاتی پسماندگی کی ایک شکل ہے، جو قرض کی قلت سے الگ اور اس سے پہلے کی حقیقت ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں ریاست اور بینکوں کے گٹھ جوڑ کی نشاندہی کو محض ایک ضمنی نکتے کے بجائے انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بینکاری نظام سے باہر 11 کھرب روپے رکھنے والے پاکستانی غیر منطقی طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ وہ اسی مالیاتی نظام کے اندر اپنی بچت اور لین دین سے متعلق فیصلے کر رہے ہیں جو ہم نے ان کے لیے تشکیل دیا ہے—ایسا نظام جہاں ان کے ڈپازٹس کو ایک محدود دائرے میں حکومتی بانڈز کی خریداری کے لیے باآسانی دستیاب سرمایہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ ایسا کوئی متبادل مالیاتی ذریعہ موجود نہیں جو ان کی بچت کو کسی نئے کاروباری خیال کی پشت پناہی کے لیے استعمال کر سکے، بجائے اس کے کہ وہ حکومتی خسارے کو پورا کرے۔</p>
<p>نقد رقم ہمارے اداروں کے بارے میں کچھ بتا رہی ہے۔ ہمیں اسے ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کے بجائے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291922</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 15:54:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ندیم الحق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30154905c57b888.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30154905c57b888.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیہی ترقی : مسائل کا مستقل حل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291912/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ میں جدید بیجوں اور مویشیوں کی جینیٹکس کی خبریں سرخیوں میں رہی ہیں لیکن پانی کی اصلاحات اور اراضی کے مالکانہ حقوق کے بغیر پاکستان کے چھوٹے کسانوں کو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور بل گیٹس کے درمیان ملاقات ہوئی۔ عموماً ایسی ملاقاتوں میں پولیو اور غربت جیسے موضوعات زیر بحث آتے ہیں، تاہم اس بار زراعت بھی گفتگو کا حصہ تھی۔ بات چیت میں بہتر بیجوں، مویشیوں کی بہتر نسلوں، بائیوٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر توجہ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر یہ وہی چیزیں ہیں جن کی پاکستان کو ضرورت ہے، لیکن گہرائی میں جائیں تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دیہات کے غریبوں کے لیے واقعی یہی اصلاحات درکار ہیں یا اس سے کہیں زیادہ بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی ضرورت ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت کی اہمیت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ملکی مجموعی پیداوار میں 23.4 فیصد حصہ ڈالتی اور قومی افرادی قوت کے 33.1 فیصد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ صرف لائیو اسٹاک سے 80 لاکھ دیہی خاندان وابستہ ہیں اور ان کی آمدن میں اس کا حصہ 35 سے 40 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائیو اسٹاک زرعی ترقی کا بھی بڑا محرک ہے، جو زرعی قدر میں اضافے کا 62.4 فیصد اور جی ڈی پی کا 14.6 فیصد بنتا ہے۔ دوسری جانب فصلوں کی پیداوار اچھے اور برے سالوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان کی معیشت کا کوئی معمولی شعبہ نہیں بلکہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گندم، کپاس اور دودھ کے شعبے سے وابستہ کسانوں کی صورتحال دراصل ملک کی ایک تہائی افرادی قوت کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے بل گیٹس سے ملاقات کو صرف سراہنے کے بجائے اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ زرعی شعبہ صرف کم کارکردگی کا شکار نہیں بلکہ اس سے وابستہ افراد بھی مزید غریب ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں قومی سطح پر غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 28.9 فیصد ہوگئی۔ اس کا اثر یکساں نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد رہی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے پاکستان پینل ہاؤس ہولڈ سروے 2024 کے مطابق دیہی غربت کی شرح مزید بلند ہوکر 36.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 60 فیصد گھرانے کسی نہ کسی شکل میں غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں ملک کے لیے خوراک پیدا کرنے والے دیہات ہی میں لوگوں کے لیے مناسب خوراک خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو سب کچھ ازسرنو شروع کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس نے پہلے ہی نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل اور نیشنل میٹ سیکٹر ٹرانسفارمیشن اینڈ ایکسپورٹ کونسل قائم کر رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مقصد غذائی پالیسی کو مؤثر ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنا اور 2028 تک گوشت کی برآمدات کو 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانا ہے۔لیکن بدقسمتی سے وہ دو بنیادی مسائل بڑی حد تک نظر انداز ہیں جو پاکستانی زراعت کو جکڑے ہوئے ہیں، یعنی پانی اور زمین کا انتظام۔ پاکستان کے 90 فیصد پانی کا استعمال زراعت میں ہوتا ہے، لیکن ملک بارش اور برف باری سے حاصل ہونے والے پانی کا 10 فیصد سے بھی کم ذخیرہ کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ پانی جو کھیتوں تک پہنچتا ہے، اس کا تقریباً نصف فصل تک پہنچنے سے پہلے ہی ترسیلی نظام میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اب دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سال سیلاب اور اگلے سال خشک سالی کا سامنا ہوتا ہے جبکہ 2050 تک آبادی 35 کروڑ تک پہنچنے کی توقع کے ساتھ فی کس پانی کی دستیابی ہر دہائی میں کم ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی فورمز پر زیر بحث آنے والے بائیو ٹیک بیج اور مویشیوں کی بہتر جینیٹکس واقعی کارآمد ہیں۔ بیجوں کی جدید قسمیں جہاں فصلوں کی پیداوار بڑھا سکتی ہیں، وہیں بہتر نسل کے مویشی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں لیکن کسی ایسے کھیت میں خشک سالی کا مقابلہ کرنے والا بیج بو دینا جہاں پانی کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ نہ ہو یا کسی گائے کی جینیٹکس کو بہتر بنا دینا جبکہ کسان کے پاس دودھ بیچنے کے لیے کولڈ چین کی سہولت ہی نہ ہو، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی ایسی گاڑی کا انجن اپ گریڈ کر دیا جائے جس کے چلنے کے لیے سڑکیں ہی موجود نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ فوری اور ضروری اصلاحات میں پانی کے بہتر انتظام (واٹر گورننس)، آبپاشی کی صلاحیت میں اضافہ اور ان چھوٹے کسانوں کے لیے زمین کے مالکانہ حقوق کی منصفانہ فراہمی شامل ہے جو پاکستان کی زرعی افرادی قوت کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024ء کی ساتویں زرعی شماریات کے مطابق پاکستان میں 97 فیصد کسان 12.5 ایکڑ سے کم زمین کے مالک ہیں، جس کا مطلب ہے کہ زرعی برادری کی ایک بہت بڑی اکثریت چھوٹے زمینداروں پر مشتمل ہے۔ مذکورہ بالا اصلاحات کے بغیر جدید ٹیکنالوجی کے فوائد صرف وہی بڑے زمیندار حاصل کر سکیں گے جن کے پاس پہلے سے پانی اور سرمایہ موجود ہے، جبکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے چھوٹے کسانوں کو اس کا برائے نام یا کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے ”دیہی تبدیلی“ کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔ دیہی تبدیلی محض ”زراعت کو بہتر بنانے“ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر اور ہمہ گیر تبدیلی کا نام ہے۔ ایسی تبدیلی تب رونما ہوتی ہے جب دیہی معیشت کا تمام تر انحصار صرف کاشتکاری پر نہ رہے، بلکہ وہاں زرعی اجناس کی پروسیسنگ (ایگرو پروسیسنگ)، دیہی خدمات، چھوٹی صنعتوں اور مارکیٹوں سے بہتر رابطوں کے ذریعے بھی آمدنی پیدا ہونے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب دیہی علاقوں میں یہ تبدیلی آتی ہے تو کاشتکاری خود زیادہ پیداواری اور کم محنت طلب ہو جاتی ہے۔ اس کا تعلق دیہاتوں میں سڑکوں، بجلی، تعلیم اور غیر زرعی روزگار سے اتنا ہی ہے جتنا کہ جدید بیجوں سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کسان کا بیٹا یا بیٹی جو فنی تربیت حاصل کر کے دیہی فوڈ پروسیسنگ یونٹ میں ملازمت حاصل کر لیتا ہے وہ طویل المدتی بنیادوں پر دیہی غربت میں کمی کے لیے کسی کچھ بہتر گندم کی قسم کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونرز اور عالمی اداروں کے ساتھ پاکستان کی پالیسی کی سطح پر گفتگو کا بڑا محور بنیادی طور پر ایگری ٹیک، بیج، کھاد اور جینیٹکس کے گرد ہی گھومتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات چیت کرنا اور اس کے لیے فنڈز حاصل کرنا زیادہ آسان کام ہے۔ دیہی تبدیلی کا عمل خاصا مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے اصلاحاتِ اراضی، غیر مرکزیت پر مبنی (ڈی سینٹرائزڈ) منصوبہ بندی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہی سب سے امید افزا راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیہی تبدیلی کا راستہ اختیار کرنے کے حوالے سے چین کا تجربہ پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ پاکستان کو اس کی من وعن نقل کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن وہ اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ چینی ماڈل اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ جب دیہی تبدیلی کو محض نعرے کے بجائے ایک مکمل پیکج کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے تو وہ کیسی دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1980ء کی دہائی سے چین کی معاشی ترقی نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالنے میں مدد کی اور 2017ء سے وہ جدید کاشتکاری، اصلاحاتِ اراضی اور ماحولیاتی نقصان کے ازالے پر مبنی ایک مخصوص ”دیہی بحالی کی حکمتِ عملی“  چلا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ تبدیلی کی یہ حکمتِ عملی صرف بہتر فصلوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ صرف چینی یونیورسٹیوں نے پانچ سال کے عرصے میں 18,000 سے زائد زرعی ٹیکنالوجیز کو تجارتی پیمانے پر متعارف کرایا جس سے 71 ارب یوآن سے زائد کی آمدنی حاصل ہوئی۔ یہ تمام تر فائدے براہِ راست دیہی صنعت کو طاقت فراہم کر رہے ہیں، نہ کہ صرف دیہی کھیتوں کو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین ابھی رکا نہیں ہے، اس کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) زراعت اور دیہی علاقوں کو جدید بنانے کی رفتار کو مزید تیز کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ 2035ء تک ملک کو ایک عظیم زرعی طاقت میں ڈھالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ایک اور زرعی ٹیکنالوجی کے اعلان کے بجائے دیہی تبدیلی کی حکمت عملی درکار ہے، جس میں بیج، پانی، زمین کے حقوق اور دیہی روزگار کو چار الگ نہیں بلکہ باہم جڑے مسائل سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ میں جدید بیجوں اور مویشیوں کی جینیٹکس کی خبریں سرخیوں میں رہی ہیں لیکن پانی کی اصلاحات اور اراضی کے مالکانہ حقوق کے بغیر پاکستان کے چھوٹے کسانوں کو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور بل گیٹس کے درمیان ملاقات ہوئی۔ عموماً ایسی ملاقاتوں میں پولیو اور غربت جیسے موضوعات زیر بحث آتے ہیں، تاہم اس بار زراعت بھی گفتگو کا حصہ تھی۔ بات چیت میں بہتر بیجوں، مویشیوں کی بہتر نسلوں، بائیوٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر توجہ دی گئی۔</p>
<p>بظاہر یہ وہی چیزیں ہیں جن کی پاکستان کو ضرورت ہے، لیکن گہرائی میں جائیں تو ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا دیہات کے غریبوں کے لیے واقعی یہی اصلاحات درکار ہیں یا اس سے کہیں زیادہ بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی ضرورت ہے؟</p>
<p>زراعت کی اہمیت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ملکی مجموعی پیداوار میں 23.4 فیصد حصہ ڈالتی اور قومی افرادی قوت کے 33.1 فیصد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ صرف لائیو اسٹاک سے 80 لاکھ دیہی خاندان وابستہ ہیں اور ان کی آمدن میں اس کا حصہ 35 سے 40 فیصد ہے۔</p>
<p>لائیو اسٹاک زرعی ترقی کا بھی بڑا محرک ہے، جو زرعی قدر میں اضافے کا 62.4 فیصد اور جی ڈی پی کا 14.6 فیصد بنتا ہے۔ دوسری جانب فصلوں کی پیداوار اچھے اور برے سالوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔</p>
<p>یہ پاکستان کی معیشت کا کوئی معمولی شعبہ نہیں بلکہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گندم، کپاس اور دودھ کے شعبے سے وابستہ کسانوں کی صورتحال دراصل ملک کی ایک تہائی افرادی قوت کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>اسی لیے بل گیٹس سے ملاقات کو صرف سراہنے کے بجائے اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ زرعی شعبہ صرف کم کارکردگی کا شکار نہیں بلکہ اس سے وابستہ افراد بھی مزید غریب ہو رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں قومی سطح پر غربت کی شرح 2018-19 میں 21.9 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 28.9 فیصد ہوگئی۔ اس کا اثر یکساں نہیں رہا۔</p>
<p>دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد رہی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کے پاکستان پینل ہاؤس ہولڈ سروے 2024 کے مطابق دیہی غربت کی شرح مزید بلند ہوکر 36.6 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 60 فیصد گھرانے کسی نہ کسی شکل میں غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے تھے۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں ملک کے لیے خوراک پیدا کرنے والے دیہات ہی میں لوگوں کے لیے مناسب خوراک خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>حکومت کو سب کچھ ازسرنو شروع کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس نے پہلے ہی نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل اور نیشنل میٹ سیکٹر ٹرانسفارمیشن اینڈ ایکسپورٹ کونسل قائم کر رکھی ہیں۔</p>
<p>ان کا مقصد غذائی پالیسی کو مؤثر ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنا اور 2028 تک گوشت کی برآمدات کو 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانا ہے۔لیکن بدقسمتی سے وہ دو بنیادی مسائل بڑی حد تک نظر انداز ہیں جو پاکستانی زراعت کو جکڑے ہوئے ہیں، یعنی پانی اور زمین کا انتظام۔ پاکستان کے 90 فیصد پانی کا استعمال زراعت میں ہوتا ہے، لیکن ملک بارش اور برف باری سے حاصل ہونے والے پانی کا 10 فیصد سے بھی کم ذخیرہ کرسکتا ہے۔</p>
<p>وہ پانی جو کھیتوں تک پہنچتا ہے، اس کا تقریباً نصف فصل تک پہنچنے سے پہلے ہی ترسیلی نظام میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اب دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک سال سیلاب اور اگلے سال خشک سالی کا سامنا ہوتا ہے جبکہ 2050 تک آبادی 35 کروڑ تک پہنچنے کی توقع کے ساتھ فی کس پانی کی دستیابی ہر دہائی میں کم ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی فورمز پر زیر بحث آنے والے بائیو ٹیک بیج اور مویشیوں کی بہتر جینیٹکس واقعی کارآمد ہیں۔ بیجوں کی جدید قسمیں جہاں فصلوں کی پیداوار بڑھا سکتی ہیں، وہیں بہتر نسل کے مویشی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں لیکن کسی ایسے کھیت میں خشک سالی کا مقابلہ کرنے والا بیج بو دینا جہاں پانی کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ نہ ہو یا کسی گائے کی جینیٹکس کو بہتر بنا دینا جبکہ کسان کے پاس دودھ بیچنے کے لیے کولڈ چین کی سہولت ہی نہ ہو، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی ایسی گاڑی کا انجن اپ گریڈ کر دیا جائے جس کے چلنے کے لیے سڑکیں ہی موجود نہ ہوں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ فوری اور ضروری اصلاحات میں پانی کے بہتر انتظام (واٹر گورننس)، آبپاشی کی صلاحیت میں اضافہ اور ان چھوٹے کسانوں کے لیے زمین کے مالکانہ حقوق کی منصفانہ فراہمی شامل ہے جو پاکستان کی زرعی افرادی قوت کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔</p>
<p>2024ء کی ساتویں زرعی شماریات کے مطابق پاکستان میں 97 فیصد کسان 12.5 ایکڑ سے کم زمین کے مالک ہیں، جس کا مطلب ہے کہ زرعی برادری کی ایک بہت بڑی اکثریت چھوٹے زمینداروں پر مشتمل ہے۔ مذکورہ بالا اصلاحات کے بغیر جدید ٹیکنالوجی کے فوائد صرف وہی بڑے زمیندار حاصل کر سکیں گے جن کے پاس پہلے سے پانی اور سرمایہ موجود ہے، جبکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے چھوٹے کسانوں کو اس کا برائے نام یا کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔</p>
<p>یہیں سے ”دیہی تبدیلی“ کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔ دیہی تبدیلی محض ”زراعت کو بہتر بنانے“ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر اور ہمہ گیر تبدیلی کا نام ہے۔ ایسی تبدیلی تب رونما ہوتی ہے جب دیہی معیشت کا تمام تر انحصار صرف کاشتکاری پر نہ رہے، بلکہ وہاں زرعی اجناس کی پروسیسنگ (ایگرو پروسیسنگ)، دیہی خدمات، چھوٹی صنعتوں اور مارکیٹوں سے بہتر رابطوں کے ذریعے بھی آمدنی پیدا ہونے لگے۔</p>
<p>جب دیہی علاقوں میں یہ تبدیلی آتی ہے تو کاشتکاری خود زیادہ پیداواری اور کم محنت طلب ہو جاتی ہے۔ اس کا تعلق دیہاتوں میں سڑکوں، بجلی، تعلیم اور غیر زرعی روزگار سے اتنا ہی ہے جتنا کہ جدید بیجوں سے ہے۔</p>
<p>ایک کسان کا بیٹا یا بیٹی جو فنی تربیت حاصل کر کے دیہی فوڈ پروسیسنگ یونٹ میں ملازمت حاصل کر لیتا ہے وہ طویل المدتی بنیادوں پر دیہی غربت میں کمی کے لیے کسی کچھ بہتر گندم کی قسم کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>ڈونرز اور عالمی اداروں کے ساتھ پاکستان کی پالیسی کی سطح پر گفتگو کا بڑا محور بنیادی طور پر ایگری ٹیک، بیج، کھاد اور جینیٹکس کے گرد ہی گھومتا ہے۔</p>
<p>یہ بات چیت کرنا اور اس کے لیے فنڈز حاصل کرنا زیادہ آسان کام ہے۔ دیہی تبدیلی کا عمل خاصا مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے اصلاحاتِ اراضی، غیر مرکزیت پر مبنی (ڈی سینٹرائزڈ) منصوبہ بندی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہی سب سے امید افزا راستہ ہے۔</p>
<p>دیہی تبدیلی کا راستہ اختیار کرنے کے حوالے سے چین کا تجربہ پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ پاکستان کو اس کی من وعن نقل کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن وہ اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ چینی ماڈل اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ جب دیہی تبدیلی کو محض نعرے کے بجائے ایک مکمل پیکج کے طور پر سنجیدگی سے لیا جائے تو وہ کیسی دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>1980ء کی دہائی سے چین کی معاشی ترقی نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالنے میں مدد کی اور 2017ء سے وہ جدید کاشتکاری، اصلاحاتِ اراضی اور ماحولیاتی نقصان کے ازالے پر مبنی ایک مخصوص ”دیہی بحالی کی حکمتِ عملی“  چلا رہا ہے۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ تبدیلی کی یہ حکمتِ عملی صرف بہتر فصلوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ صرف چینی یونیورسٹیوں نے پانچ سال کے عرصے میں 18,000 سے زائد زرعی ٹیکنالوجیز کو تجارتی پیمانے پر متعارف کرایا جس سے 71 ارب یوآن سے زائد کی آمدنی حاصل ہوئی۔ یہ تمام تر فائدے براہِ راست دیہی صنعت کو طاقت فراہم کر رہے ہیں، نہ کہ صرف دیہی کھیتوں کو۔</p>
<p>چین ابھی رکا نہیں ہے، اس کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) زراعت اور دیہی علاقوں کو جدید بنانے کی رفتار کو مزید تیز کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ 2035ء تک ملک کو ایک عظیم زرعی طاقت میں ڈھالا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان کو ایک اور زرعی ٹیکنالوجی کے اعلان کے بجائے دیہی تبدیلی کی حکمت عملی درکار ہے، جس میں بیج، پانی، زمین کے حقوق اور دیہی روزگار کو چار الگ نہیں بلکہ باہم جڑے مسائل سمجھا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291912</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2026 14:27:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرح ناز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/30133433bcb47f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/30133433bcb47f6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے پاور سیکٹر میں نگرانی و جائزے کے نظام پر ازسرِنو غور کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291870/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نگرانی و جائزہ (ایم اینڈ ای) عوامی پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔ حکومتیں مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے پالیسیاں تشکیل دیتی، وسائل مختص کرتی اور ادارے قائم کرتی ہیں، تاہم ان اقدامات کی مؤثریت کا تعین اسی وقت ممکن ہے جب یہ جانچا جائے کہ آیا ان کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں۔ اس لیے نگرانی و جائزہ محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسا طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے حکومتیں اپنے فیصلوں کا جائزہ لیتی، عمل درآمد کی خامیوں کی نشاندہی کرتی اور یہ طے کرتی ہیں کہ موجودہ پالیسیوں میں ردوبدل کی ضرورت ہے یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان کے سرکاری انتظامی نظام میں ایک اہم سوال پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے: اس عمل کے اخراجات کون برداشت کرے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرض کریں کہ وزارتِ توانائی اپنے انتظامی دائرۂ اختیار میں آنے والے اداروں سے ان کی کارکردگی کی نگرانی اور جائزے کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کا تقاضا کرتی ہے۔ بظاہر یہ موجودہ صورتِ حال سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں پی آئی ٹی سی اور پی پی اینڈ ایم سی جیسے شعبہ جاتی اداروں کے اخراجات ڈسکوز وغیرہ سے پورے کرائے جاتے ہیں۔ پہلی نظر میں ایسا انتظام معقول دکھائی دے سکتا ہے۔ جن اداروں کی نگرانی کی جا رہی ہے، وہ اس عمل کے براہِ راست موضوع ہیں، اس لیے انہیں اخراجات کی ادائیگی کا مناسب ذریعہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ انتظام وزارت اور اس کے زیرِ نگرانی اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم سے متعلق ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر نگرانی اور جائزے کا مقصد حکومتی پالیسی کی مؤثریت کا اندازہ لگانا ہے تو کیا اس کے اخراجات اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کو منتقل کیے جانے چاہئیں، یا یہ وزارت کی اپنی مالی ذمہ داری کا حصہ ہونا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ حکومتی سطح پر نگرانی اور جائزہ مختلف سطحوں پر انجام پاتے ہیں۔ ایک بجلی کی تقسیم کار کمپنی اپنی عملی کارکردگی، بشمول تکنیکی نقصانات، بلوں کی وصولی کی کارکردگی، ریکوری اور صارفین کو خدمات کی فراہمی کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ نگرانی اس کی انتظامی ذمہ داریوں کا لازمی حصہ ہے اور اصولاً اس کے اخراجات اس کے آپریشنل بجٹ سے پورے ہونے چاہئیں۔ دوسری جانب کوئی وزارت اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو چلانے والی پالیسیاں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر رہی ہیں یا نہیں۔ یہ ایک مختلف نوعیت کا کام ہے، جس میں محض انفرادی اداروں کی کارکردگی نہیں بلکہ اس پالیسی فریم ورک کی مؤثریت بھی دیکھی جاتی ہے جس کے تحت یہ ادارے کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان دونوں افعال کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا موجودہ سرکاری مالیاتی انتظام کا نظام اس فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مفید بنیاد فراہم کرتا ہے۔ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کارکردگی کی بنیاد پر بجٹ سازی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ حکومتی اخراجات متعین منصوبوں کی بنیاد پر کیے جائیں۔ اس میں وسط مدتی کارکردگی کے بجٹ میں پالیسی اہداف، آؤٹ پٹس، نتائج اور کارکردگی کے اشاریوں کو شامل کرنے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ یہ دفعات اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ حکومتی اخراجات کا تعلق ان نتائج سے ہونا چاہیے جن کے حصول کے لیے یہ اخراجات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا سوال یہ نہیں کہ نگرانی اور جائزہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس عمل کے لیے مالی انتظامات مختلف اداروں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ پاور سیکٹر میں خاص طور پر اہم ہے، جہاں ادارہ جاتی کارکردگی متعدد سطحوں پر کیے جانے والے فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں آپریشنل انتظام کی ذمہ دار ہوتی ہیں، تاہم ان کی کارکردگی ٹیرف پالیسی، سرمایہ کاری کے فیصلوں، سبسڈی کے انتظامات، خریداری، ترسیلی رکاوٹوں اور حکومتی مداخلتوں سے بھی متاثر ہوتی ہے—بنیادی طور پر ان عوامل سے جو سماجی و اقتصادی تقاضوں کو یقینی بنانے سے متعلق ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر جائزہ صرف کسی کمپنی کے آپریشنل اشاریوں تک محدود رکھا جائے تو وہ کارکردگی میں کمی کی نشاندہی تو کر سکتا ہے، لیکن اس کمی کا باعث بننے والے حالات کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر بجلی کی تقسیم کے نقصانات کو دیکھیں۔ کسی کمپنی کو مقررہ معیارات سے زیادہ نقصانات پر جواب دہ قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ایک جامع جائزے میں یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا اس کی انتظامیہ کے پاس ضروری آپریشنل اختیارات موجود ہیں، کیا سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کی گئی ہیں اور کیا نفاذ سے متعلق انتظامات مؤثر طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی عمومی عمل داری کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ اس پہلو کے ڈسکوز کے آپریشنز پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ترسیلی رکاوٹوں کا جائزہ صرف ترسیلی ادارے کی کارکردگی دیکھ کر نہیں لیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے منصوبہ بندی، منصوبوں کی منظوری، مالی اعانت اور پورے شعبے میں باہمی رابطہ کاری کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض ادارہ جاتی تعمیل کے نہیں بلکہ پالیسی کی مؤثریت سے متعلق سوالات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں نگرانی اور جائزہ ایک میٹا پالیسی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس میں پالیسی اہداف، ادارہ جاتی انتظامات، عمل درآمد اور نتائج کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ تعین کرنا نہیں کہ کوئی ادارہ مقررہ اشاریوں کے مطابق کارکردگی دکھا رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی جانچنا ہے کہ حکومت کی پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کے انتظامات مناسب ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وزارت اس نوعیت کا جائزہ لیتی ہے تو درحقیقت وہ اپنے ہی پالیسی فریم ورک کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہوتی ہے۔ اس عمل کے اخراجات کی ذمہ داری اصولاً اسی ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے جو اس جائزے کے انعقاد کی ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کا ایک پہلو سرکاری مالیات سے بھی متعلق ہے۔ وزارت کی سطح پر ہونے والے جائزے کے اخراجات سرکاری اداروں کو منتقل کرنے سے لازماً حکومت کی مجموعی لاگت کم نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے یہ لاگت ایک سرکاری بجٹ سے دوسرے سرکاری بجٹ میں منتقل ہو سکتی ہے۔ وزارت کے اخراجات بظاہر کم دکھائی دے سکتے ہیں، جبکہ مالی بوجھ ان اداروں کے کھاتوں میں منتقل ہو جاتا ہے جن کی وہ نگرانی کرتی ہے، اور انتہائی منظم و ضابطہ بند پاور سیکٹر میں ایسے اخراجات بجلی کے ٹیرف میں شامل ہو کر بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے انتظامات سے پالیسی کے انتظام اور نگرانی کی حقیقی لاگت کا تعین مشکل ہو سکتا ہے۔ اس سے اداروں کی مالی کارکردگی کا جائزہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب کمپنیوں کو ایسے اخراجات برداشت کرنے پڑیں جن پر ان کا محدود اختیار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور سیکٹر میں، جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ بجلی کمپنیوں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات، ریگولیٹری منظوری اور قابلِ اطلاق ٹیرف فریم ورک کے تحت، بالآخر صارفین پر پڑنے والی لاگت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ جن اداروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے وہ بجلی کی فراہمی کے نظام کا حصہ ہیں، وزارت کی عمومی نگرانی کے اخراجات کو بجلی صارفین پر بالواسطہ بوجھ نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ نہیں کہ سرکاری اداروں کی جانب سے ہر قسم کی مالی معاونت نامناسب ہے۔ بلکہ ایسی کسی بھی معاونت کا مقصد واضح، اس کی قانونی اور مالی بنیاد مناسب، اور اس کا ادارے کی اپنی ذمہ داریوں سے براہِ راست تعلق قابلِ شناخت ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائزے کی آزادی بھی ایک اہم تشویش ہے۔ اگر جس ادارے کا جائزہ لیا جا رہا ہو، اسی سے اس عمل کے اخراجات بھی وصول کیے جائیں تو جائزہ لینے والے کا انتخاب، اس کے دائرۂ کار اور شرائطِ کار (ایس ایل ایز وغیرہ) طے کرنے اور نتائج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اداروں کی جانب سے مالی اعانت حاصل کرنے والے جائزے لازماً ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں۔ آزادانہ آڈٹ اور بیرونی جائزوں کے اخراجات متعلقہ ادارے برداشت کر سکتے ہیں اور اس سے ضروری نہیں کہ ان کی ساکھ متاثر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اہمیت اس ادارہ جاتی انتظام کی ہے جس کے تحت یہ عمل انجام پاتا ہے۔ جائزہ لینے والے کا تقرر کون کرتا ہے؟ طریقۂ کار کون طے کرتا ہے؟ رپورٹ کس کو پیش کی جاتی ہے؟ کیا نتائج میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے یا انہیں روکا جا سکتا ہے؟ اور سفارشات پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات اس وقت خاص طور پر اہم ہو جاتے ہیں جب کسی جائزے کا مقصد کسی مخصوص آپریشنل سرگرمی کا جائزہ لینے کے بجائے حکومتی پالیسی کی تشکیل و سمت کے لیے معلومات فراہم کرنا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ترقیاتی منصوبہ بندی کے نظام میں بھی نگرانی اور جائزے کے مختلف مراحل کو تسلیم کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے پی سی-III، پی سی-IV اور پی سی-V انتظامات میں منصوبوں پر عمل درآمد کی پیش رفت، منصوبوں کی تکمیل اور تکمیل کے بعد کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے۔ اس فریم ورک میں مکمل شدہ منصوبوں کو چلانے اور برقرار رکھنے والے اداروں کو رپورٹنگ کی ذمہ داریاں بھی تفویض کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی اور جائزے کی ذمہ داریاں مختلف اداروں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزارت کی جانب سے کرائے جانے والے ہر جائزے کے اخراجات بھی ہر صورت اسی وزارت کے انتظامی دائرۂ اختیار میں آنے والے ادارے برداشت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ منسلک محکموں، خودمختار قانونی اداروں اور سرکاری ملکیت کی کمپنیوں کے درمیان بھی فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کی قانونی حیثیت، مالی اختیارات اور بجٹ کے انتظامات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی مخصوص ادارے کو وزارت کے جائزے کے اخراجات برداشت کرنے کا پابند بنانے کے سوال کا جائزہ اس کے متعلقہ قانون، منظور شدہ بجٹ اور قابلِ اطلاق مالی قواعد کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ محض انتظامی کنٹرول کو ہر مالی ذمہ داری کے لیے کافی جواز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کامن لا ممالک کا تجربہ بھی ان ذمہ داریوں میں فرق واضح کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بھارت اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ ذکر مثال ہے۔ وہاں نیتی آیوگ کے تحت منسلک دفتر، ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفس، مرکزی حکومت کی اسکیموں کا آزادانہ جائزہ لیتا اور وزارتوں و محکموں کو تشخیصی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کے مطابق اسے علیحدہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے، اس کے لیے مخصوص افرادی قوت موجود ہے اور اسے عملی خودمختاری حاصل ہے۔ اس نے بیرونی اداروں کے ذریعے پورے شعبے کی سطح پر جائزے بھی کرائے ہیں، جن کے نتائج محکمہ اخراجات اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ شیئر کیے گئے۔ اس انتظام میں آزادانہ پالیسی جائزے کو اپنی ادارہ جاتی صلاحیت رکھنے والے ایک باقاعدہ سرکاری کام کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، بجائے اس کے کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ ہر عمل درآمد کرنے والا ادارہ مرکزی جائزہ لینے والے ادارے کے اخراجات بھی برداشت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے طریقۂ کار کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جائزے کے اخراجات نیتی آیوگ ہی برداشت کرتا ہے۔ متعلقہ اسکیم اور جائزہ کرانے والے ادارے کے لحاظ سے مالی انتظام مختلف ہو سکتا ہے۔ درحقیقت ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفس کی رہنمائی میں مشاورتی انتظامات کے ذریعے نگرانی اور جائزے کے مطالعات کے لیے مالی اعانت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے اس تجربے سے حاصل ہونے والا سبق زیادہ واضح ہے: جائزے کی ذمہ داری، مالی اعانت اور اسے کرانے کا اختیار پہلے سے متعین ہونا چاہیے، جبکہ آزادانہ جائزے کے لیے واضح بجٹ اور انتظامی ڈھانچہ موجود ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں بھی پالیسی کی ذمہ داری اور جائزے کے انعقاد کے درمیان اسی نوعیت کا فرق رکھا گیا ہے۔ وہاں کی ایویلیوایشن ٹاسک فورس کے مطابق کسی پالیسی کے جائزے کی ذمہ داری اسی حکومتی محکمے پر عائد ہوتی ہے جو اس پالیسی کا ذمہ دار ہو، جبکہ محکمے کی تجزیاتی قیادت جائزے کی ترجیحات، افرادی قوت اور بجٹ کی نگرانی کرتی ہے۔ برطانوی خزانے کی میجنٹا بک بھی اس بات کی رہنمائی کرتی ہے کہ جائزے کے لیے درکار وسائل، بشمول اندرونی ماہرین اور بیرونی اخراجات، ابتدائی مرحلے ہی میں منصوبے کے کاروباری جواز میں شامل کیے جانے چاہئیں۔ یوں جائزے کو کسی پالیسی اقدام کا باقاعدہ حصہ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے، نہ کہ بعد میں جانچے جانے والے اداروں سے وصول کیا جانے والا غیر متوقع خرچ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی دولتِ مشترکہ کی ایویلیوایشن پالیسی بھی سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ پروگرام کے انتظام میں جائزے کو شامل کریں، وسائل کی بروقت نشاندہی کریں اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جائزوں اور پالیسی سازی کے لیے معلومات فراہم کرنے والے جائزوں میں فرق کریں۔ تاہم یہ ہر قسم کے جائزے کے لیے کسی ایک ادارے کو اخراجات ادا کرنے کا پابند نہیں کرتی۔ مجموعی طور پر یہ مثالیں اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کے اصول کی حمایت کرتی ہیں، نہ کہ عمل درآمد کرنے والے اداروں کی مالی معاونت پر مکمل پابندی کی: جائزے کا مقصد، اسے کرانے والا ادارہ، مالی اعانت اور اس کی آزادی کو یقینی بنانے کے انتظامات واضح ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ مربوط طریقۂ کار کا آغاز جائزے کے مقصد کے تعین سے ہونا چاہیے۔ جہاں نگرانی کسی ادارے کے معمول کے آپریشنز سے متعلق ہو، وہاں متعلقہ ادارے کو درکار وسائل فراہم کرنے چاہئیں، تاہم یہ اس کے انسانی وسائل اور دستیاب وسائل کے اندر ایک باقاعدہ سرگرمی کے طور پر ہونا چاہیے، جس میں مقررہ رپورٹس وغیرہ کے ذریعے ڈیٹا کی فراہمی بھی شامل ہو۔ جہاں جائزہ کسی منظور شدہ ترقیاتی منصوبے سے متعلق ہو، وہاں اس کی مالی اعانت متعلقہ منصوبے کے انتظامات کے مطابق ہونی چاہیے۔ اور جہاں کوئی وزارت پورے شعبے کی سطح پر پالیسی کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے مطالعات کراتی ہے، وہاں اس کے اخراجات اصولاً مناسب سرکاری بجٹ سے فراہم کیے جانے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ گزشتہ پیراگراف میں وضاحت کی گئی ہے، اس سے وزارتوں کو معلومات حاصل کرنے، کارکردگی رپورٹس طلب کرنے یا آزادانہ تصدیق کرانے سے نہیں روکا جائے گا۔ نہ ہی اس سے سرکاری اداروں کی جانب سے قابلِ اعتماد داخلی نگرانی کے نظام برقرار رکھنے کی ذمہ داری ختم ہوگی۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جائزے کے مقصد، اسے کرانے والے مجاز ادارے اور اس کے انعقاد کی مالی ذمہ داری کے درمیان ایک واضح تعلق قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن بھی نگرانی و جائزے کے لیے ایک زیادہ مربوط فریم ورک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس میں آپریشنل رپورٹنگ اور پالیسی کے جائزے کو الگ الگ رکھا جائے۔ تقسیم کار کمپنیاں، ترسیلی ادارے اور شعبے کے دیگر ادارے پہلے ہی کارکردگی سے متعلق خاطر خواہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ وزارت کی سطح پر نگرانی و جائزے کی اصل افادیت اس امر میں ہونی چاہیے کہ ان معلومات کو یکجا کیا جائے، ادارہ جاتی کارکردگی اور حکومتی فیصلوں کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا جائے اور پورے شعبے میں درکار تبدیلیوں کی نشاندہی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اضافی رپورٹس جمع کرنے یا الگ الگ جائزے کرانے کے نتائج پالیسی سازی، بجٹ سے متعلق فیصلوں اور بعد ازاں عمل درآمد میں رہنمائی نہ کریں تو ایسے اقدامات کی افادیت محدود رہے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاور سیکٹر سخت ضابطہ کاری کے تحت کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاور سیکٹر کے لیے شاید زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کہیں حکومت ان اداروں کا جائزہ تو نہیں لے رہی جن کے تحت وہ کام کرتے ہیں، مگر ان پالیسیوں کا مناسب جائزہ نہیں لیا جا رہا جن کے تحت یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ کارکردگی کے اشاریے خامیوں کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود یہ طے نہیں کر سکتے کہ بنیادی پالیسی اب بھی موزوں ہے یا نہیں۔ اس کے لیے پالیسی کے مقاصد، ترغیبات، ادارہ جاتی صلاحیت اور ذمہ داریوں کی تقسیم کا جائزہ لینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا نگرانی و جائزے کو محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ عوامی پالیسی کے مسلسل جاری رہنے والے چکر کا حصہ سمجھنا چاہیے، جو پالیسی فیصلے کیے جانے کے بعد محض ایک رسمی مشق کے طور پر انجام نہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی تقسیم کار کمپنی کو بجلی کے زائد نقصانات، ناقص ریکوری یا سرمایہ کاری میں تاخیر پر جواب دہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ان نتائج پر ٹیرف، سبسڈی، سرمایہ کاری کی منظوری یا ادارہ جاتی انتظام سے متعلق حکومتی فیصلوں کا بھی اثر ہو تو پھر کیا ہوگا؟ اگر وزارت اپنے انتظامی کنٹرول میں آنے والے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے تو پھر وزارت کی اپنی ان پالیسیوں اور فیصلوں کا جائزہ کون لے گا جو ان اداروں کی کارکردگی کا تعین کرتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی نگرانی و جائزے کا زیادہ بنیادی سوال ہے۔ جواب دہی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے۔ ایک مؤثر جائزہ فریم ورک میں نہ صرف یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اداروں نے حکومتی پالیسی پر کس حد تک عمل کیا بلکہ یہ بھی جانچا جانا چاہیے کہ خود پالیسی مناسب طور پر تشکیل دی گئی تھی یا نہیں، اس کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم کیے گئے تھے یا نہیں اور کیا وہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور سیکٹر کو درپیش بڑے چیلنجز کے تناظر میں نگرانی و جائزے کے اخراجات بظاہر ایک نسبتاً معمولی سوال دکھائی دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ ادارہ جاتی جواب دہی کے ایک وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو حکومت پالیسی تشکیل دیتی ہے، اسے یہ جانچنے کی صلاحیت بھی برقرار رکھنی چاہیے کہ وہ پالیسی مؤثر ثابت ہو رہی ہے یا نہیں۔ جب حکومت اپنے ہی پالیسی فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے مطالعات کراتی ہے تو اصولاً اسے اس کی مالی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگرانی و جائزے کی اصل کسوٹی یہ نہیں کہ کتنی رپورٹس تیار کی گئیں، اداروں کا کتنی مرتبہ معائنہ کیا گیا یا نگرانی کے لیے کتنے اخراجات مختص کیے گئے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا ان جائزوں کے نتائج بہتر فیصلوں، ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی زیادہ واضح تقسیم اور نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری کا باعث بنتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک پالیسی تشکیل دینے کا اختیار، اس کے جائزے کی ذمہ داری اور اس جائزے کے لیے درکار وسائل ایک دوسرے سے مناسب طور پر ہم آہنگ نہیں کیے جاتے، نگرانی کا دائرہ تو بڑھتا رہ سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے حکومتی کارکردگی کی مؤثریت میں بھی بہتری آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نگرانی و جائزہ (ایم اینڈ ای) عوامی پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔ حکومتیں مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے پالیسیاں تشکیل دیتی، وسائل مختص کرتی اور ادارے قائم کرتی ہیں، تاہم ان اقدامات کی مؤثریت کا تعین اسی وقت ممکن ہے جب یہ جانچا جائے کہ آیا ان کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں۔ اس لیے نگرانی و جائزہ محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسا طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے حکومتیں اپنے فیصلوں کا جائزہ لیتی، عمل درآمد کی خامیوں کی نشاندہی کرتی اور یہ طے کرتی ہیں کہ موجودہ پالیسیوں میں ردوبدل کی ضرورت ہے یا نہیں۔</strong></p>
<p>تاہم پاکستان کے سرکاری انتظامی نظام میں ایک اہم سوال پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے: اس عمل کے اخراجات کون برداشت کرے؟</p>
<p>فرض کریں کہ وزارتِ توانائی اپنے انتظامی دائرۂ اختیار میں آنے والے اداروں سے ان کی کارکردگی کی نگرانی اور جائزے کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کا تقاضا کرتی ہے۔ بظاہر یہ موجودہ صورتِ حال سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں پی آئی ٹی سی اور پی پی اینڈ ایم سی جیسے شعبہ جاتی اداروں کے اخراجات ڈسکوز وغیرہ سے پورے کرائے جاتے ہیں۔ پہلی نظر میں ایسا انتظام معقول دکھائی دے سکتا ہے۔ جن اداروں کی نگرانی کی جا رہی ہے، وہ اس عمل کے براہِ راست موضوع ہیں، اس لیے انہیں اخراجات کی ادائیگی کا مناسب ذریعہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ انتظام وزارت اور اس کے زیرِ نگرانی اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم سے متعلق ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے۔</p>
<p>اگر نگرانی اور جائزے کا مقصد حکومتی پالیسی کی مؤثریت کا اندازہ لگانا ہے تو کیا اس کے اخراجات اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کو منتقل کیے جانے چاہئیں، یا یہ وزارت کی اپنی مالی ذمہ داری کا حصہ ہونا چاہیے؟</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ حکومتی سطح پر نگرانی اور جائزہ مختلف سطحوں پر انجام پاتے ہیں۔ ایک بجلی کی تقسیم کار کمپنی اپنی عملی کارکردگی، بشمول تکنیکی نقصانات، بلوں کی وصولی کی کارکردگی، ریکوری اور صارفین کو خدمات کی فراہمی کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ نگرانی اس کی انتظامی ذمہ داریوں کا لازمی حصہ ہے اور اصولاً اس کے اخراجات اس کے آپریشنل بجٹ سے پورے ہونے چاہئیں۔ دوسری جانب کوئی وزارت اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو چلانے والی پالیسیاں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر رہی ہیں یا نہیں۔ یہ ایک مختلف نوعیت کا کام ہے، جس میں محض انفرادی اداروں کی کارکردگی نہیں بلکہ اس پالیسی فریم ورک کی مؤثریت بھی دیکھی جاتی ہے جس کے تحت یہ ادارے کام کرتے ہیں۔</p>
<p>مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان دونوں افعال کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھ لیا جائے۔</p>
<p>پاکستان کا موجودہ سرکاری مالیاتی انتظام کا نظام اس فرق کو سمجھنے کے لیے ایک مفید بنیاد فراہم کرتا ہے۔ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کارکردگی کی بنیاد پر بجٹ سازی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ حکومتی اخراجات متعین منصوبوں کی بنیاد پر کیے جائیں۔ اس میں وسط مدتی کارکردگی کے بجٹ میں پالیسی اہداف، آؤٹ پٹس، نتائج اور کارکردگی کے اشاریوں کو شامل کرنے کی بھی گنجائش موجود ہے۔ یہ دفعات اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ حکومتی اخراجات کا تعلق ان نتائج سے ہونا چاہیے جن کے حصول کے لیے یہ اخراجات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا سوال یہ نہیں کہ نگرانی اور جائزہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس عمل کے لیے مالی انتظامات مختلف اداروں کو تفویض کردہ ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>یہ معاملہ پاور سیکٹر میں خاص طور پر اہم ہے، جہاں ادارہ جاتی کارکردگی متعدد سطحوں پر کیے جانے والے فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں آپریشنل انتظام کی ذمہ دار ہوتی ہیں، تاہم ان کی کارکردگی ٹیرف پالیسی، سرمایہ کاری کے فیصلوں، سبسڈی کے انتظامات، خریداری، ترسیلی رکاوٹوں اور حکومتی مداخلتوں سے بھی متاثر ہوتی ہے—بنیادی طور پر ان عوامل سے جو سماجی و اقتصادی تقاضوں کو یقینی بنانے سے متعلق ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر جائزہ صرف کسی کمپنی کے آپریشنل اشاریوں تک محدود رکھا جائے تو وہ کارکردگی میں کمی کی نشاندہی تو کر سکتا ہے، لیکن اس کمی کا باعث بننے والے حالات کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتا۔</p>
<p>مثال کے طور پر بجلی کی تقسیم کے نقصانات کو دیکھیں۔ کسی کمپنی کو مقررہ معیارات سے زیادہ نقصانات پر جواب دہ قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن ایک جامع جائزے میں یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا اس کی انتظامیہ کے پاس ضروری آپریشنل اختیارات موجود ہیں، کیا سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کی گئی ہیں اور کیا نفاذ سے متعلق انتظامات مؤثر طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی عمومی عمل داری کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ اس پہلو کے ڈسکوز کے آپریشنز پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ترسیلی رکاوٹوں کا جائزہ صرف ترسیلی ادارے کی کارکردگی دیکھ کر نہیں لیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے منصوبہ بندی، منصوبوں کی منظوری، مالی اعانت اور پورے شعبے میں باہمی رابطہ کاری کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔</p>
<p>یہ محض ادارہ جاتی تعمیل کے نہیں بلکہ پالیسی کی مؤثریت سے متعلق سوالات ہیں۔</p>
<p>یہیں نگرانی اور جائزہ ایک میٹا پالیسی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس میں پالیسی اہداف، ادارہ جاتی انتظامات، عمل درآمد اور نتائج کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ تعین کرنا نہیں کہ کوئی ادارہ مقررہ اشاریوں کے مطابق کارکردگی دکھا رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی جانچنا ہے کہ حکومت کی پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کے انتظامات مناسب ہیں یا نہیں۔</p>
<p>جب وزارت اس نوعیت کا جائزہ لیتی ہے تو درحقیقت وہ اپنے ہی پالیسی فریم ورک کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہوتی ہے۔ اس عمل کے اخراجات کی ذمہ داری اصولاً اسی ذمہ داری کے ساتھ ہونی چاہیے جو اس جائزے کے انعقاد کی ذمہ دار ہے۔</p>
<p>اس معاملے کا ایک پہلو سرکاری مالیات سے بھی متعلق ہے۔ وزارت کی سطح پر ہونے والے جائزے کے اخراجات سرکاری اداروں کو منتقل کرنے سے لازماً حکومت کی مجموعی لاگت کم نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے یہ لاگت ایک سرکاری بجٹ سے دوسرے سرکاری بجٹ میں منتقل ہو سکتی ہے۔ وزارت کے اخراجات بظاہر کم دکھائی دے سکتے ہیں، جبکہ مالی بوجھ ان اداروں کے کھاتوں میں منتقل ہو جاتا ہے جن کی وہ نگرانی کرتی ہے، اور انتہائی منظم و ضابطہ بند پاور سیکٹر میں ایسے اخراجات بجلی کے ٹیرف میں شامل ہو کر بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔</p>
<p>ایسے انتظامات سے پالیسی کے انتظام اور نگرانی کی حقیقی لاگت کا تعین مشکل ہو سکتا ہے۔ اس سے اداروں کی مالی کارکردگی کا جائزہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب کمپنیوں کو ایسے اخراجات برداشت کرنے پڑیں جن پر ان کا محدود اختیار ہو۔</p>
<p>پاور سیکٹر میں، جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ بجلی کمپنیوں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات، ریگولیٹری منظوری اور قابلِ اطلاق ٹیرف فریم ورک کے تحت، بالآخر صارفین پر پڑنے والی لاگت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ صرف اس وجہ سے کہ جن اداروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے وہ بجلی کی فراہمی کے نظام کا حصہ ہیں، وزارت کی عمومی نگرانی کے اخراجات کو بجلی صارفین پر بالواسطہ بوجھ نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>مسئلہ یہ نہیں کہ سرکاری اداروں کی جانب سے ہر قسم کی مالی معاونت نامناسب ہے۔ بلکہ ایسی کسی بھی معاونت کا مقصد واضح، اس کی قانونی اور مالی بنیاد مناسب، اور اس کا ادارے کی اپنی ذمہ داریوں سے براہِ راست تعلق قابلِ شناخت ہونا چاہیے۔</p>
<p>جائزے کی آزادی بھی ایک اہم تشویش ہے۔ اگر جس ادارے کا جائزہ لیا جا رہا ہو، اسی سے اس عمل کے اخراجات بھی وصول کیے جائیں تو جائزہ لینے والے کا انتخاب، اس کے دائرۂ کار اور شرائطِ کار (ایس ایل ایز وغیرہ) طے کرنے اور نتائج سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اداروں کی جانب سے مالی اعانت حاصل کرنے والے جائزے لازماً ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں۔ آزادانہ آڈٹ اور بیرونی جائزوں کے اخراجات متعلقہ ادارے برداشت کر سکتے ہیں اور اس سے ضروری نہیں کہ ان کی ساکھ متاثر ہو۔</p>
<p>اصل اہمیت اس ادارہ جاتی انتظام کی ہے جس کے تحت یہ عمل انجام پاتا ہے۔ جائزہ لینے والے کا تقرر کون کرتا ہے؟ طریقۂ کار کون طے کرتا ہے؟ رپورٹ کس کو پیش کی جاتی ہے؟ کیا نتائج میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے یا انہیں روکا جا سکتا ہے؟ اور سفارشات پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟</p>
<p>یہ سوالات اس وقت خاص طور پر اہم ہو جاتے ہیں جب کسی جائزے کا مقصد کسی مخصوص آپریشنل سرگرمی کا جائزہ لینے کے بجائے حکومتی پالیسی کی تشکیل و سمت کے لیے معلومات فراہم کرنا ہو۔</p>
<p>پاکستان کے ترقیاتی منصوبہ بندی کے نظام میں بھی نگرانی اور جائزے کے مختلف مراحل کو تسلیم کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کے پی سی-III، پی سی-IV اور پی سی-V انتظامات میں منصوبوں پر عمل درآمد کی پیش رفت، منصوبوں کی تکمیل اور تکمیل کے بعد کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے۔ اس فریم ورک میں مکمل شدہ منصوبوں کو چلانے اور برقرار رکھنے والے اداروں کو رپورٹنگ کی ذمہ داریاں بھی تفویض کی گئی ہیں۔</p>
<p>اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی اور جائزے کی ذمہ داریاں مختلف اداروں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزارت کی جانب سے کرائے جانے والے ہر جائزے کے اخراجات بھی ہر صورت اسی وزارت کے انتظامی دائرۂ اختیار میں آنے والے ادارے برداشت کریں۔</p>
<p>اس کے ساتھ منسلک محکموں، خودمختار قانونی اداروں اور سرکاری ملکیت کی کمپنیوں کے درمیان بھی فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کی قانونی حیثیت، مالی اختیارات اور بجٹ کے انتظامات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی مخصوص ادارے کو وزارت کے جائزے کے اخراجات برداشت کرنے کا پابند بنانے کے سوال کا جائزہ اس کے متعلقہ قانون، منظور شدہ بجٹ اور قابلِ اطلاق مالی قواعد کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ محض انتظامی کنٹرول کو ہر مالی ذمہ داری کے لیے کافی جواز نہیں سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>دیگر کامن لا ممالک کا تجربہ بھی ان ذمہ داریوں میں فرق واضح کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بھارت اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ ذکر مثال ہے۔ وہاں نیتی آیوگ کے تحت منسلک دفتر، ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفس، مرکزی حکومت کی اسکیموں کا آزادانہ جائزہ لیتا اور وزارتوں و محکموں کو تشخیصی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کے مطابق اسے علیحدہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے، اس کے لیے مخصوص افرادی قوت موجود ہے اور اسے عملی خودمختاری حاصل ہے۔ اس نے بیرونی اداروں کے ذریعے پورے شعبے کی سطح پر جائزے بھی کرائے ہیں، جن کے نتائج محکمہ اخراجات اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ شیئر کیے گئے۔ اس انتظام میں آزادانہ پالیسی جائزے کو اپنی ادارہ جاتی صلاحیت رکھنے والے ایک باقاعدہ سرکاری کام کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، بجائے اس کے کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ ہر عمل درآمد کرنے والا ادارہ مرکزی جائزہ لینے والے ادارے کے اخراجات بھی برداشت کرے گا۔</p>
<p>بھارت کے طریقۂ کار کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جائزے کے اخراجات نیتی آیوگ ہی برداشت کرتا ہے۔ متعلقہ اسکیم اور جائزہ کرانے والے ادارے کے لحاظ سے مالی انتظام مختلف ہو سکتا ہے۔ درحقیقت ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفس کی رہنمائی میں مشاورتی انتظامات کے ذریعے نگرانی اور جائزے کے مطالعات کے لیے مالی اعانت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے اس تجربے سے حاصل ہونے والا سبق زیادہ واضح ہے: جائزے کی ذمہ داری، مالی اعانت اور اسے کرانے کا اختیار پہلے سے متعین ہونا چاہیے، جبکہ آزادانہ جائزے کے لیے واضح بجٹ اور انتظامی ڈھانچہ موجود ہونا چاہیے۔</p>
<p>برطانیہ میں بھی پالیسی کی ذمہ داری اور جائزے کے انعقاد کے درمیان اسی نوعیت کا فرق رکھا گیا ہے۔ وہاں کی ایویلیوایشن ٹاسک فورس کے مطابق کسی پالیسی کے جائزے کی ذمہ داری اسی حکومتی محکمے پر عائد ہوتی ہے جو اس پالیسی کا ذمہ دار ہو، جبکہ محکمے کی تجزیاتی قیادت جائزے کی ترجیحات، افرادی قوت اور بجٹ کی نگرانی کرتی ہے۔ برطانوی خزانے کی میجنٹا بک بھی اس بات کی رہنمائی کرتی ہے کہ جائزے کے لیے درکار وسائل، بشمول اندرونی ماہرین اور بیرونی اخراجات، ابتدائی مرحلے ہی میں منصوبے کے کاروباری جواز میں شامل کیے جانے چاہئیں۔ یوں جائزے کو کسی پالیسی اقدام کا باقاعدہ حصہ سمجھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے، نہ کہ بعد میں جانچے جانے والے اداروں سے وصول کیا جانے والا غیر متوقع خرچ۔</p>
<p>آسٹریلیا کی دولتِ مشترکہ کی ایویلیوایشن پالیسی بھی سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ پروگرام کے انتظام میں جائزے کو شامل کریں، وسائل کی بروقت نشاندہی کریں اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جائزوں اور پالیسی سازی کے لیے معلومات فراہم کرنے والے جائزوں میں فرق کریں۔ تاہم یہ ہر قسم کے جائزے کے لیے کسی ایک ادارے کو اخراجات ادا کرنے کا پابند نہیں کرتی۔ مجموعی طور پر یہ مثالیں اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کے اصول کی حمایت کرتی ہیں، نہ کہ عمل درآمد کرنے والے اداروں کی مالی معاونت پر مکمل پابندی کی: جائزے کا مقصد، اسے کرانے والا ادارہ، مالی اعانت اور اس کی آزادی کو یقینی بنانے کے انتظامات واضح ہونے چاہئیں۔</p>
<p>زیادہ مربوط طریقۂ کار کا آغاز جائزے کے مقصد کے تعین سے ہونا چاہیے۔ جہاں نگرانی کسی ادارے کے معمول کے آپریشنز سے متعلق ہو، وہاں متعلقہ ادارے کو درکار وسائل فراہم کرنے چاہئیں، تاہم یہ اس کے انسانی وسائل اور دستیاب وسائل کے اندر ایک باقاعدہ سرگرمی کے طور پر ہونا چاہیے، جس میں مقررہ رپورٹس وغیرہ کے ذریعے ڈیٹا کی فراہمی بھی شامل ہو۔ جہاں جائزہ کسی منظور شدہ ترقیاتی منصوبے سے متعلق ہو، وہاں اس کی مالی اعانت متعلقہ منصوبے کے انتظامات کے مطابق ہونی چاہیے۔ اور جہاں کوئی وزارت پورے شعبے کی سطح پر پالیسی کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے مطالعات کراتی ہے، وہاں اس کے اخراجات اصولاً مناسب سرکاری بجٹ سے فراہم کیے جانے چاہئیں۔</p>
<p>جیسا کہ گزشتہ پیراگراف میں وضاحت کی گئی ہے، اس سے وزارتوں کو معلومات حاصل کرنے، کارکردگی رپورٹس طلب کرنے یا آزادانہ تصدیق کرانے سے نہیں روکا جائے گا۔ نہ ہی اس سے سرکاری اداروں کی جانب سے قابلِ اعتماد داخلی نگرانی کے نظام برقرار رکھنے کی ذمہ داری ختم ہوگی۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جائزے کے مقصد، اسے کرانے والے مجاز ادارے اور اس کے انعقاد کی مالی ذمہ داری کے درمیان ایک واضح تعلق قائم کیا جائے۔</p>
<p>پاور ڈویژن بھی نگرانی و جائزے کے لیے ایک زیادہ مربوط فریم ورک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس میں آپریشنل رپورٹنگ اور پالیسی کے جائزے کو الگ الگ رکھا جائے۔ تقسیم کار کمپنیاں، ترسیلی ادارے اور شعبے کے دیگر ادارے پہلے ہی کارکردگی سے متعلق خاطر خواہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ وزارت کی سطح پر نگرانی و جائزے کی اصل افادیت اس امر میں ہونی چاہیے کہ ان معلومات کو یکجا کیا جائے، ادارہ جاتی کارکردگی اور حکومتی فیصلوں کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا جائے اور پورے شعبے میں درکار تبدیلیوں کی نشاندہی کی جائے۔</p>
<p>اگر اضافی رپورٹس جمع کرنے یا الگ الگ جائزے کرانے کے نتائج پالیسی سازی، بجٹ سے متعلق فیصلوں اور بعد ازاں عمل درآمد میں رہنمائی نہ کریں تو ایسے اقدامات کی افادیت محدود رہے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاور سیکٹر سخت ضابطہ کاری کے تحت کام کر رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاور سیکٹر کے لیے شاید زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کہیں حکومت ان اداروں کا جائزہ تو نہیں لے رہی جن کے تحت وہ کام کرتے ہیں، مگر ان پالیسیوں کا مناسب جائزہ نہیں لیا جا رہا جن کے تحت یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ کارکردگی کے اشاریے خامیوں کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود یہ طے نہیں کر سکتے کہ بنیادی پالیسی اب بھی موزوں ہے یا نہیں۔ اس کے لیے پالیسی کے مقاصد، ترغیبات، ادارہ جاتی صلاحیت اور ذمہ داریوں کی تقسیم کا جائزہ لینا ضروری ہے۔</p>
<p>لہٰذا نگرانی و جائزے کو محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ عوامی پالیسی کے مسلسل جاری رہنے والے چکر کا حصہ سمجھنا چاہیے، جو پالیسی فیصلے کیے جانے کے بعد محض ایک رسمی مشق کے طور پر انجام نہ دیا جائے۔</p>
<p>کسی تقسیم کار کمپنی کو بجلی کے زائد نقصانات، ناقص ریکوری یا سرمایہ کاری میں تاخیر پر جواب دہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ان نتائج پر ٹیرف، سبسڈی، سرمایہ کاری کی منظوری یا ادارہ جاتی انتظام سے متعلق حکومتی فیصلوں کا بھی اثر ہو تو پھر کیا ہوگا؟ اگر وزارت اپنے انتظامی کنٹرول میں آنے والے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے تو پھر وزارت کی اپنی ان پالیسیوں اور فیصلوں کا جائزہ کون لے گا جو ان اداروں کی کارکردگی کا تعین کرتے ہیں؟</p>
<p>شاید یہی نگرانی و جائزے کا زیادہ بنیادی سوال ہے۔ جواب دہی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیے۔ ایک مؤثر جائزہ فریم ورک میں نہ صرف یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اداروں نے حکومتی پالیسی پر کس حد تک عمل کیا بلکہ یہ بھی جانچا جانا چاہیے کہ خود پالیسی مناسب طور پر تشکیل دی گئی تھی یا نہیں، اس کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم کیے گئے تھے یا نہیں اور کیا وہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔</p>
<p>پاور سیکٹر کو درپیش بڑے چیلنجز کے تناظر میں نگرانی و جائزے کے اخراجات بظاہر ایک نسبتاً معمولی سوال دکھائی دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ ادارہ جاتی جواب دہی کے ایک وسیع تر مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو حکومت پالیسی تشکیل دیتی ہے، اسے یہ جانچنے کی صلاحیت بھی برقرار رکھنی چاہیے کہ وہ پالیسی مؤثر ثابت ہو رہی ہے یا نہیں۔ جب حکومت اپنے ہی پالیسی فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے مطالعات کراتی ہے تو اصولاً اسے اس کی مالی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔</p>
<p>نگرانی و جائزے کی اصل کسوٹی یہ نہیں کہ کتنی رپورٹس تیار کی گئیں، اداروں کا کتنی مرتبہ معائنہ کیا گیا یا نگرانی کے لیے کتنے اخراجات مختص کیے گئے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا ان جائزوں کے نتائج بہتر فیصلوں، ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی زیادہ واضح تقسیم اور نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری کا باعث بنتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>جب تک پالیسی تشکیل دینے کا اختیار، اس کے جائزے کی ذمہ داری اور اس جائزے کے لیے درکار وسائل ایک دوسرے سے مناسب طور پر ہم آہنگ نہیں کیے جاتے، نگرانی کا دائرہ تو بڑھتا رہ سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے حکومتی کارکردگی کی مؤثریت میں بھی بہتری آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291870</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 16:33:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجینئر طاہر بشارت چیمہسعد سراؤ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29162537c7b8a5a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29162537c7b8a5a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف پروگرام کا چوتھا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291859/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (ایف ایس ایف) کے چوتھے جائزے کا عمل جلد شروع ہونے والا ہے۔ تیسرا جائزہ مئی 2026 میں مکمل ہوا تھا، جس کے بعد اسٹاف مشن رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی معیشت کے میکرو اکنامک تخمینے اور درمیانی مدت کی پیش گوئیاں شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرے جائزے کے دوران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معاشی شرح نمو، مہنگائی، سرکاری مالیات اور ادائیگیوں کے توازن پر ممکنہ اثرات کو بھی تخمینوں میں شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2025-26 میں 3.7 فیصد سے معمولی کمی کے بعد 2026-27 میں 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ حیران کن طور پر کم شرح نمو کے باوجود بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہوکر 6.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے تحت اوسط مہنگائی 2025-26 میں 7.2 فیصد رہنے کا تخمینہ تھا، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 2026-27 میں یہ بڑھ کر 8.4 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق جون 2027 میں ماہانہ مہنگائی کی شرح نسبتاً کم 7 فیصد رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026-27 کے لیے ادائیگیوں کے توازن کے تخمینے نسبتاً پرامید ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025-26 میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے متوقع حجم کے مقابلے میں صرف 0.5 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ برآمدات میں 11.2 فیصد جبکہ درآمدات میں 7.4 فیصد اضافے کی توقع بھی اس امید کی عکاسی کرتی ہے۔ ترسیلات زر میں تقریباً صفر شرح نمو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آئی ایم ایف نے مئی 2026 میں جاری جائزے کے دوران مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر کہیں زیادہ منفی اثرات کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا۔ اس منفی منظرنامے میں 2026-27 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو میں 1.5 فیصد پوائنٹس کمی، مہنگائی تقریباً 11 فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اسٹاف مشن کا پہلا کام ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ نیویارک میں وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے حالیہ ملاقات بھی مثبت رہی۔ انہوں نے پاکستان کی مضبوط معاشی استحکام کی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ 2025-26 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک رہا، جو گزشتہ 22 سال کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف مشن 2026-27 کے وفاقی اور صوبائی بجٹ کا بھی جائزہ لے گا اور یہ طے کرے گا کہ آیا وہ تیسرے جائزے کے بعد مقرر کیے گئے سرکاری مالیاتی تخمینوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ امریکا ایران جنگ کے پاکستانی معیشت پر اثرات کی شدت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے 2026-27 کے بجٹ کے تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ واضح طور پر آئی ایم ایف کو اس غیر معمولی اقدام کا علم نہیں تھا کہ صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹ دینے کا کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ 2026-27 کے لیے آئی ایم ایف کے مالیاتی تخمینے نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔ اول، صوبائی گرانٹ کے باعث وفاقی نان ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دوم، صوبائی حکومتوں کو محدود مالی وسائل اور زیادہ صوبائی نقد ذخائر برقرار رکھنے کی پابندی کے باعث ترقیاتی اخراجات کم رکھنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026-27 کے بجٹ میں کیے گئے ان غیر معمولی اقدامات پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی تبصرہ متوقع ہے۔ عام طور پر نچلی سطح کی حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کی حکومت کو اتنی بڑی گرانٹ دینا معمول کی بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026-27 کے سرکاری مالی معاملات میں دو دیگر اہم امور بھی قابل ذکر ہیں۔ پہلا پٹرولیم لیوی کی متوقع وصولی کا معاملہ ہے، جو اس سال 1.7 کھرب روپے کی غیر معمولی بلند سطح پر مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2026 سے یعنی جنگ شروع ہونے سے قبل ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوامی احتجاج سامنے آتا رہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور پٹرول دونوں کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں اس نوعیت کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات کو پٹرولیم لیوی میں موجودہ 80 روپے فی لیٹر کی بلند شرح میں نمایاں کمی کے ذریعے محدود کیا جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اب بھی پٹرولیم لیوی کو سیلز ٹیکس کی نوعیت کا ٹیکس سمجھتا ہے۔ آئندہ چوتھے پروگرام جائزے کے دوران امید ہے کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے سامنے پٹرولیم لیوی کی شرح کم کرکے اسے ایندھن کی مصنوعات کی سی آئی ایف قیمت کے 18 فیصد کے مساوی معیاری سیلز ٹیکس کی سطح پر لانے کی تجویز پیش کرے گی۔ اس اقدام سے ایندھن کی قیمت میں تقریباً 10 سے 15 فیصد کمی ہوسکتی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اخراجات کم ہونے کے باعث مجموعی مہنگائی کی شرح بھی نیچے آئے گی اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف ملے گا، جو اس وقت اسکوٹر اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے دی جانے والی سبسڈی سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا معاملہ صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کوششوں کی سطح سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026-27 میں ٹیکس اصلاحات کے ذریعے اضافی 467 ارب روپے آمدنی کا ایک بلند ہدف مقرر کیا تھا، جس کا مطلب محصولات میں 54 فیصد کا نمایاں اضافہ تھا۔ تاہم صوبائی حکومتوں نے 2026-27 میں اپنے ٹیکس محصولات میں 20 فیصد سے بھی کم اضافے کا ہدف رکھا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، جیسا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے چھ ماہ بعد صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کی نقل و حرکت پر بدستور پابندیاں برقرار ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے کوئی پیش رفت نہ ہونے تک جنگ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر اثر نسبتاً کم منفی رہا ہے کیونکہ ترسیلات زر میں 15 فیصد تیزی سے اضافہ ہوا ہے مگر اس کی ایک وجہ بیرون ملک سے واپس آنے والے کارکنوں بالخصوص متحدہ عرب امارات سے، کی جانب سے ایک مشت رقوم کی منتقلی بھی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ایل این جی اور دیگر ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔ مزید برآں کھاد کی قلت آئندہ فصلوں میں زرعی پیداوار کو محدود کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا چوتھے جائزے میں آئی ایم ایف کی جانب سے 2026-27 کے نظرثانی شدہ تخمینوں بالخصوص ادائیگیوں کے توازن سے متعلق پیش گوئیوں میں منفی خطرات کے عوامل کو زیادہ نمایاں طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ 2026-27 میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 3 فیصد سے کم، مہنگائی تقریباً 11 فیصد جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح موجودہ 21 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح سے کچھ کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں امید ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے عوام کو درپیش غیر معمولی اور مشکل حالات کو سمجھتے ہوئے مناسب تعاون اور رعایت کا مظاہرہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (ایف ایس ایف) کے چوتھے جائزے کا عمل جلد شروع ہونے والا ہے۔ تیسرا جائزہ مئی 2026 میں مکمل ہوا تھا، جس کے بعد اسٹاف مشن رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی معیشت کے میکرو اکنامک تخمینے اور درمیانی مدت کی پیش گوئیاں شامل ہیں۔</strong></p>
<p>تیسرے جائزے کے دوران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معاشی شرح نمو، مہنگائی، سرکاری مالیات اور ادائیگیوں کے توازن پر ممکنہ اثرات کو بھی تخمینوں میں شامل کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2025-26 میں 3.7 فیصد سے معمولی کمی کے بعد 2026-27 میں 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ حیران کن طور پر کم شرح نمو کے باوجود بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہوکر 6.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے تحت اوسط مہنگائی 2025-26 میں 7.2 فیصد رہنے کا تخمینہ تھا، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 2026-27 میں یہ بڑھ کر 8.4 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق جون 2027 میں ماہانہ مہنگائی کی شرح نسبتاً کم 7 فیصد رہ سکتی ہے۔</p>
<p>2026-27 کے لیے ادائیگیوں کے توازن کے تخمینے نسبتاً پرامید ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025-26 میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے متوقع حجم کے مقابلے میں صرف 0.5 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ برآمدات میں 11.2 فیصد جبکہ درآمدات میں 7.4 فیصد اضافے کی توقع بھی اس امید کی عکاسی کرتی ہے۔ ترسیلات زر میں تقریباً صفر شرح نمو متوقع ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آئی ایم ایف نے مئی 2026 میں جاری جائزے کے دوران مشرق وسطیٰ کی جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر کہیں زیادہ منفی اثرات کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا۔ اس منفی منظرنامے میں 2026-27 کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو میں 1.5 فیصد پوائنٹس کمی، مہنگائی تقریباً 11 فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف اسٹاف مشن کا پہلا کام ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ نیویارک میں وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے حالیہ ملاقات بھی مثبت رہی۔ انہوں نے پاکستان کی مضبوط معاشی استحکام کی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ 2025-26 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک رہا، جو گزشتہ 22 سال کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف مشن 2026-27 کے وفاقی اور صوبائی بجٹ کا بھی جائزہ لے گا اور یہ طے کرے گا کہ آیا وہ تیسرے جائزے کے بعد مقرر کیے گئے سرکاری مالیاتی تخمینوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ امریکا ایران جنگ کے پاکستانی معیشت پر اثرات کی شدت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>سب سے پہلے 2026-27 کے بجٹ کے تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ واضح طور پر آئی ایم ایف کو اس غیر معمولی اقدام کا علم نہیں تھا کہ صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹ دینے کا کہا گیا ہے۔</p>
<p>چنانچہ 2026-27 کے لیے آئی ایم ایف کے مالیاتی تخمینے نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔ اول، صوبائی گرانٹ کے باعث وفاقی نان ٹیکس آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ دوم، صوبائی حکومتوں کو محدود مالی وسائل اور زیادہ صوبائی نقد ذخائر برقرار رکھنے کی پابندی کے باعث ترقیاتی اخراجات کم رکھنا ہوں گے۔</p>
<p>2026-27 کے بجٹ میں کیے گئے ان غیر معمولی اقدامات پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی تبصرہ متوقع ہے۔ عام طور پر نچلی سطح کی حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کی حکومت کو اتنی بڑی گرانٹ دینا معمول کی بات نہیں ہے۔</p>
<p>2026-27 کے سرکاری مالی معاملات میں دو دیگر اہم امور بھی قابل ذکر ہیں۔ پہلا پٹرولیم لیوی کی متوقع وصولی کا معاملہ ہے، جو اس سال 1.7 کھرب روپے کی غیر معمولی بلند سطح پر مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>فروری 2026 سے یعنی جنگ شروع ہونے سے قبل ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف عوامی احتجاج سامنے آتا رہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور پٹرول دونوں کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں اس نوعیت کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔</p>
<p>یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے اثرات کو پٹرولیم لیوی میں موجودہ 80 روپے فی لیٹر کی بلند شرح میں نمایاں کمی کے ذریعے محدود کیا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف اب بھی پٹرولیم لیوی کو سیلز ٹیکس کی نوعیت کا ٹیکس سمجھتا ہے۔ آئندہ چوتھے پروگرام جائزے کے دوران امید ہے کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے سامنے پٹرولیم لیوی کی شرح کم کرکے اسے ایندھن کی مصنوعات کی سی آئی ایف قیمت کے 18 فیصد کے مساوی معیاری سیلز ٹیکس کی سطح پر لانے کی تجویز پیش کرے گی۔ اس اقدام سے ایندھن کی قیمت میں تقریباً 10 سے 15 فیصد کمی ہوسکتی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اخراجات کم ہونے کے باعث مجموعی مہنگائی کی شرح بھی نیچے آئے گی اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف ملے گا، جو اس وقت اسکوٹر اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے دی جانے والی سبسڈی سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔</p>
<p>دوسرا معاملہ صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کوششوں کی سطح سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف نے 2026-27 میں ٹیکس اصلاحات کے ذریعے اضافی 467 ارب روپے آمدنی کا ایک بلند ہدف مقرر کیا تھا، جس کا مطلب محصولات میں 54 فیصد کا نمایاں اضافہ تھا۔ تاہم صوبائی حکومتوں نے 2026-27 میں اپنے ٹیکس محصولات میں 20 فیصد سے بھی کم اضافے کا ہدف رکھا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، جیسا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔</p>
<p>جنگ کے چھ ماہ بعد صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی کی نقل و حرکت پر بدستور پابندیاں برقرار ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے کوئی پیش رفت نہ ہونے تک جنگ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر اثر نسبتاً کم منفی رہا ہے کیونکہ ترسیلات زر میں 15 فیصد تیزی سے اضافہ ہوا ہے مگر اس کی ایک وجہ بیرون ملک سے واپس آنے والے کارکنوں بالخصوص متحدہ عرب امارات سے، کی جانب سے ایک مشت رقوم کی منتقلی بھی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ایل این جی اور دیگر ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔ مزید برآں کھاد کی قلت آئندہ فصلوں میں زرعی پیداوار کو محدود کرسکتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا چوتھے جائزے میں آئی ایم ایف کی جانب سے 2026-27 کے نظرثانی شدہ تخمینوں بالخصوص ادائیگیوں کے توازن سے متعلق پیش گوئیوں میں منفی خطرات کے عوامل کو زیادہ نمایاں طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ 2026-27 میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 3 فیصد سے کم، مہنگائی تقریباً 11 فیصد جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح موجودہ 21 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح سے کچھ کم رہنے کا امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ہمیں امید ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے عوام کو درپیش غیر معمولی اور مشکل حالات کو سمجھتے ہوئے مناسب تعاون اور رعایت کا مظاہرہ کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291859</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Sep 2026 13:47:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/29132702af33334.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/29132702af33334.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی سرمایہ کار اب بھی اعتماد کی وجہ کے منتظر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291806/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ تین برس کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری حقیقی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ مضبوط ہوئے، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہوئی، قرضوں کا بوجھ بحران کے دور کی بلند ترین سطح سے کم ہوا  اور فوری بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بحران کا خطرہ نمایاں طور پر گھٹ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر کے وسط تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.4 ارب ڈالر تھے، جبکہ ایس اینڈ پی نے جولائی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی کردی۔ معاشی استحکام کے روایتی پیمانوں کے لحاظ سے اسلام آباد نے مشکل مرحلے کا بڑا حصہ طے کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم استحکام کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ مالی سال 2026 میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب صرف 14.38 فیصد رہا، جبکہ قومی بچت جی ڈی پی کے 14.13 فیصد تک محدود رہی۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک رہی اور سال کے دوران 34 فیصد کمی کے بعد 1.64 ارب ڈالر رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار ایسی معیشت کے نہیں جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہو۔ یہ ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو گرنا تو رک گئی ہے لیکن سرمایہ کاروں کو دوبارہ ترقی کا سفر شروع کرنے کے لیے محفوظ ماحول کا یقین نہیں دلا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلے کا ایک حصہ ساختی نوعیت کا ہے۔ پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے درکار شرح پر سرمایہ کاری کی مالی اعانت کرنے کے لیے کافی بچت نہیں کرتا مگر زیادہ مشکل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ مقامی اور غیرملکی سرمایہ کار ایسی رسمی معیشت میں طویل مدتی سرمایہ لگانے سے اب بھی گریزاں ہیں جہاں ٹیکس، ضوابط اور منافع سے متعلق قواعد خود سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت سے بھی زیادہ تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ ان شعبوں میں خاص طور پر نمایاں ہے جہاں ابتدا میں بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل ہونے میں طویل وقت لگتا ہے اور قیمتیں ضابطہ کار اداروں کے زیراثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) منظوری کے عمل کو تیز اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرسکتی ہے، لیکن حکمنامے کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ سرمایہ کار صرف یہ نہیں دیکھتے کہ موجودہ حکومت ان کے سرمائے کی خواہاں ہے، بلکہ یہ بھی جائزہ لیتے ہیں کہ مستقبل میں ضابطہ کار ادارہ، ٹیکس اتھارٹی، عدالت یا حکومت ان شرائط کو برقرار رکھے گی یا نہیں جن کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کا تسلسل پالیسی کے جوش سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایک نظام کے تحت فائدہ مند نظر آنے والی سرمایہ کاری دوسرے قواعد کے تحت بے وقعت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے ٹیرف کا تنازع اس کی واضح مثال ہے۔ نیپرا نے ابتدائی طور پر کمپنی کے لیے سات سالہ کثیر سالہ ٹیرف نظام کے تحت اوسط بنیادی ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ مقرر کیا تھا لیکن  کے الیکٹرک، پاور ڈویژن اور دیگر فریقوں کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کے بعد اکتوبر 2025 میں اسے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے نظرثانی شدہ فیصلے کو چیلنج کیا، تاہم نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل نے رواں ماہ اس کی اپیلیں مسترد کردیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ ٹیرف مالی طور پر پائیدار نہیں اور اس نے مزید قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا ہے۔ مناسب ٹیرف کے بارے میں کسی کی بھی رائے ہو، طویل ٹیرف تعین کے عمل کے بعد ریگولیٹری آمدنی کی بنیاد میں تقریباً 19 فیصد کمی ایسا واقعہ ہے جسے طویل مدتی سرمایہ کار اپنی مطلوبہ شرح منافع طے کرتے وقت ضرور مدنظر رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان ایک ہی وقت میں نجی سرمایہ کاروں سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی خریداری کا مطالبہ کررہا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو پہلے ہی نجکاری کے عمل سے گزر رہی ہیں، جبکہ حکومت سرمایہ کاروں کو انتظامی کنٹرول اور اکثریتی ملکیت کی پیشکش کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن خود تسلیم کرتا ہے کہ نجکاری کے بعد کا نظام تجارتی پائیداری اور ضابطہ کارانہ پیش گوئی کے قابل ماحول فراہم کرے۔ یہی بنیادی نکتہ ہے۔ ضابطہ کارانہ استحکام ہر لین دین کے لیے الگ خصوصی رعایت کے طور پر طے نہیں ہونا چاہیے بلکہ خود مارکیٹ کی بنیادی خصوصیت ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس پالیسی بھی تقریباً یہی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ رسمی معیشت میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کوہر روز یہ محسوس ہورہا ہے کہ ٹیکس قوانین کی پابندی انہیں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ بنانے کے بجائے ٹیکس وصولی کے لیے زیادہ آسان ہدف بنادیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفنڈز میں تاخیر اب بھی برآمد کنندگان کے سرمائے کو روک سکتی ہے۔ ایف بی آر بھی تسلیم کرتا ہے کہ طویل ریفنڈ آڈٹ سے مالیاتی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب نے حال ہی میں خودکار ریفنڈ نظام میں موجود بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محصولات کے بلند اہداف پورے کرنے کے مسلسل دباؤ میں ٹیکس اتھارٹی فطری طور پر انہی ٹیکس دہندگان پر توجہ مرکوز کرے گی جن تک اس کی رسائی آسان ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کو انہی کاروباری اداروں کی ضرورت ہے، تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف شعبوں میں یہ عدم توازن مزید واضح ہوجاتا ہے۔ مالی سال 2027 کے ٹیکس نظام کے تحت اشیا کی برآمدات پر ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کی شرح برآمدی آمدنی کا 1.25 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ اہل آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے رعایتی شرح ٹیکس سال 2029 تک 0.25 فیصد برقرار ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کو زرمبادلہ اپنے پاس رکھنے اور لین دین کی تکمیل کے حوالے سے بھی زیادہ سہولت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسیاں انفرادی طور پر قابلِ جواز ہوسکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ واضح کرتی ہیں کہ ریاست جب کسی شعبے کو اہم سمجھتی ہے تو کاروباری رکاوٹیں کم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ مالی سال 2026 میں اشیا کی برآمدات 5.93 فیصد کم ہوکر 30.14 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خدمات کی برآمدات تقریباً 19 فیصد اضافے سے 10.04 ارب ڈالر اور آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب ترسیلات زر بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مختلف رجحانات کی مکمل وجہ صرف ٹیکس اور ضابطہ کار پالیسیوں کو قرار دینا درست نہ ہوگا، عالمی طلب، اجناس کی قیمتیں اور مختلف شعبوں کی مخصوص صورتحال بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم پالیسی سازوں کو اس واضح سبق کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ معاشی سرگرمیاں مراعات، کاروباری رکاوٹوں اور اعتماد سے متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان بہت زیادہ ٹیکس عائد کرتا یا ضرورت سے زیادہ ضوابط نافذ کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس اور ضابطہ کار کا بوجھ غیر متوقع اور غیر مساوی طور پر تقسیم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں پر مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ ڈالا جارہا ہے جبکہ ملکی معیشت کے بڑے حصے اب بھی مناسب طور پر دستاویزی نہیں ہیں۔ ضابطہ کار کے تحت کام کرنے والے کاروبار کئی برس تک ایسے قواعد و ضوابط طے کرنے میں صرف کرسکتے ہیں جن کے معاشی اثرات بعد میں دوبارہ زیرِ بحث آجاتے ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کو بار بار خصوصی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، حالانکہ مضبوط اور پائیدار ادارے اس ضرورت کو ختم کرسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام استحکام تو پیدا کرسکتا ہے کیونکہ استحکام کے لیے کنٹرول ضروری ہوتا ہے (درآمدات کو کنٹرول کرنا، طلب کو منظم کرنا، ٹیکس بڑھانا، زرمبادلہ کے ذخائر جمع کرنا اور مالیاتی سہولت کے ذرائع کھلے رکھنا) لیکن اقتصادی ترقی کے لیے اس سے زیادہ مشکل چیز درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ آج کی گئی سرمایہ کاری سے پانچ یا دس سال بعد حاصل ہونے والے منافع کی شرائط سرمایہ کاری کے دوران تبدیل نہیں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی استحکام ضروری شرط تھا اور پاکستان نے بڑی حد تک اسے بحال کرلیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کا انحصار منصفانہ نظام، پالیسیوں میں تسلسل اور ایسے اداروں پر ہے جن کے فیصلوں پر سرمایہ کاروں کو اتنا اعتماد ہو کہ ہر بار سرمایہ کاری کے لیے حکومت کی نئی ضمانت درکار نہ ہو۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، پاکستان مستحکم تو رہ سکتا ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے پرکشش نہیں بن پائے گا اور سرمایہ کار اعتماد کرنے کی کسی ٹھوس وجہ کے منتظر رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ تین برس کے دوران پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری حقیقی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ مضبوط ہوئے، خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہوئی، قرضوں کا بوجھ بحران کے دور کی بلند ترین سطح سے کم ہوا  اور فوری بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے بحران کا خطرہ نمایاں طور پر گھٹ گیا ہے۔</strong></p>
<p>ستمبر کے وسط تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.4 ارب ڈالر تھے، جبکہ ایس اینڈ پی نے جولائی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی کردی۔ معاشی استحکام کے روایتی پیمانوں کے لحاظ سے اسلام آباد نے مشکل مرحلے کا بڑا حصہ طے کرلیا ہے۔</p>
<p>تاہم استحکام کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ مالی سال 2026 میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب صرف 14.38 فیصد رہا، جبکہ قومی بچت جی ڈی پی کے 14.13 فیصد تک محدود رہی۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک رہی اور سال کے دوران 34 فیصد کمی کے بعد 1.64 ارب ڈالر رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار ایسی معیشت کے نہیں جہاں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہو۔ یہ ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو گرنا تو رک گئی ہے لیکن سرمایہ کاروں کو دوبارہ ترقی کا سفر شروع کرنے کے لیے محفوظ ماحول کا یقین نہیں دلا سکی۔</p>
<p>مسئلے کا ایک حصہ ساختی نوعیت کا ہے۔ پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے درکار شرح پر سرمایہ کاری کی مالی اعانت کرنے کے لیے کافی بچت نہیں کرتا مگر زیادہ مشکل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ مقامی اور غیرملکی سرمایہ کار ایسی رسمی معیشت میں طویل مدتی سرمایہ لگانے سے اب بھی گریزاں ہیں جہاں ٹیکس، ضوابط اور منافع سے متعلق قواعد خود سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت سے بھی زیادہ تیزی سے تبدیل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>یہ مسئلہ ان شعبوں میں خاص طور پر نمایاں ہے جہاں ابتدا میں بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل ہونے میں طویل وقت لگتا ہے اور قیمتیں ضابطہ کار اداروں کے زیراثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) منظوری کے عمل کو تیز اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرسکتی ہے، لیکن حکمنامے کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ سرمایہ کار صرف یہ نہیں دیکھتے کہ موجودہ حکومت ان کے سرمائے کی خواہاں ہے، بلکہ یہ بھی جائزہ لیتے ہیں کہ مستقبل میں ضابطہ کار ادارہ، ٹیکس اتھارٹی، عدالت یا حکومت ان شرائط کو برقرار رکھے گی یا نہیں جن کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔</p>
<p>پالیسی کا تسلسل پالیسی کے جوش سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ ایک نظام کے تحت فائدہ مند نظر آنے والی سرمایہ کاری دوسرے قواعد کے تحت بے وقعت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے ٹیرف کا تنازع اس کی واضح مثال ہے۔ نیپرا نے ابتدائی طور پر کمپنی کے لیے سات سالہ کثیر سالہ ٹیرف نظام کے تحت اوسط بنیادی ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ مقرر کیا تھا لیکن  کے الیکٹرک، پاور ڈویژن اور دیگر فریقوں کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کے بعد اکتوبر 2025 میں اسے کم کرکے 32.37 روپے فی یونٹ کردیا گیا۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے نظرثانی شدہ فیصلے کو چیلنج کیا، تاہم نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل نے رواں ماہ اس کی اپیلیں مسترد کردیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ ٹیرف مالی طور پر پائیدار نہیں اور اس نے مزید قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا ہے۔ مناسب ٹیرف کے بارے میں کسی کی بھی رائے ہو، طویل ٹیرف تعین کے عمل کے بعد ریگولیٹری آمدنی کی بنیاد میں تقریباً 19 فیصد کمی ایسا واقعہ ہے جسے طویل مدتی سرمایہ کار اپنی مطلوبہ شرح منافع طے کرتے وقت ضرور مدنظر رکھیں گے۔</p>
<p>یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان ایک ہی وقت میں نجی سرمایہ کاروں سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی خریداری کا مطالبہ کررہا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو پہلے ہی نجکاری کے عمل سے گزر رہی ہیں، جبکہ حکومت سرمایہ کاروں کو انتظامی کنٹرول اور اکثریتی ملکیت کی پیشکش کررہی ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن خود تسلیم کرتا ہے کہ نجکاری کے بعد کا نظام تجارتی پائیداری اور ضابطہ کارانہ پیش گوئی کے قابل ماحول فراہم کرے۔ یہی بنیادی نکتہ ہے۔ ضابطہ کارانہ استحکام ہر لین دین کے لیے الگ خصوصی رعایت کے طور پر طے نہیں ہونا چاہیے بلکہ خود مارکیٹ کی بنیادی خصوصیت ہونا چاہیے۔</p>
<p>ٹیکس پالیسی بھی تقریباً یہی مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ رسمی معیشت میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کوہر روز یہ محسوس ہورہا ہے کہ ٹیکس قوانین کی پابندی انہیں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ بنانے کے بجائے ٹیکس وصولی کے لیے زیادہ آسان ہدف بنادیتی ہے۔</p>
<p>ریفنڈز میں تاخیر اب بھی برآمد کنندگان کے سرمائے کو روک سکتی ہے۔ ایف بی آر بھی تسلیم کرتا ہے کہ طویل ریفنڈ آڈٹ سے مالیاتی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب نے حال ہی میں خودکار ریفنڈ نظام میں موجود بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>محصولات کے بلند اہداف پورے کرنے کے مسلسل دباؤ میں ٹیکس اتھارٹی فطری طور پر انہی ٹیکس دہندگان پر توجہ مرکوز کرے گی جن تک اس کی رسائی آسان ہے۔بدقسمتی سے پاکستان کو انہی کاروباری اداروں کی ضرورت ہے، تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔</p>
<p>مختلف شعبوں میں یہ عدم توازن مزید واضح ہوجاتا ہے۔ مالی سال 2027 کے ٹیکس نظام کے تحت اشیا کی برآمدات پر ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کی شرح برآمدی آمدنی کا 1.25 فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ اہل آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے رعایتی شرح ٹیکس سال 2029 تک 0.25 فیصد برقرار ہے۔ آئی ٹی برآمد کنندگان کو زرمبادلہ اپنے پاس رکھنے اور لین دین کی تکمیل کے حوالے سے بھی زیادہ سہولت دی گئی ہے۔</p>
<p>یہ پالیسیاں انفرادی طور پر قابلِ جواز ہوسکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ واضح کرتی ہیں کہ ریاست جب کسی شعبے کو اہم سمجھتی ہے تو کاروباری رکاوٹیں کم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>نتائج کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ مالی سال 2026 میں اشیا کی برآمدات 5.93 فیصد کم ہوکر 30.14 ارب ڈالر رہیں، جبکہ خدمات کی برآمدات تقریباً 19 فیصد اضافے سے 10.04 ارب ڈالر اور آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دوسری جانب ترسیلات زر بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر ہوگئیں۔</p>
<p>ان مختلف رجحانات کی مکمل وجہ صرف ٹیکس اور ضابطہ کار پالیسیوں کو قرار دینا درست نہ ہوگا، عالمی طلب، اجناس کی قیمتیں اور مختلف شعبوں کی مخصوص صورتحال بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم پالیسی سازوں کو اس واضح سبق کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ معاشی سرگرمیاں مراعات، کاروباری رکاوٹوں اور اعتماد سے متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان بہت زیادہ ٹیکس عائد کرتا یا ضرورت سے زیادہ ضوابط نافذ کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس اور ضابطہ کار کا بوجھ غیر متوقع اور غیر مساوی طور پر تقسیم ہے۔</p>
<p>ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں پر مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ ڈالا جارہا ہے جبکہ ملکی معیشت کے بڑے حصے اب بھی مناسب طور پر دستاویزی نہیں ہیں۔ ضابطہ کار کے تحت کام کرنے والے کاروبار کئی برس تک ایسے قواعد و ضوابط طے کرنے میں صرف کرسکتے ہیں جن کے معاشی اثرات بعد میں دوبارہ زیرِ بحث آجاتے ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کو بار بار خصوصی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، حالانکہ مضبوط اور پائیدار ادارے اس ضرورت کو ختم کرسکتے تھے۔</p>
<p>یہ نظام استحکام تو پیدا کرسکتا ہے کیونکہ استحکام کے لیے کنٹرول ضروری ہوتا ہے (درآمدات کو کنٹرول کرنا، طلب کو منظم کرنا، ٹیکس بڑھانا، زرمبادلہ کے ذخائر جمع کرنا اور مالیاتی سہولت کے ذرائع کھلے رکھنا) لیکن اقتصادی ترقی کے لیے اس سے زیادہ مشکل چیز درکار ہے۔</p>
<p>نجی سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ آج کی گئی سرمایہ کاری سے پانچ یا دس سال بعد حاصل ہونے والے منافع کی شرائط سرمایہ کاری کے دوران تبدیل نہیں کی جائیں گی۔</p>
<p>معاشی استحکام ضروری شرط تھا اور پاکستان نے بڑی حد تک اسے بحال کرلیا ہے۔ اب اگلے مرحلے کا انحصار منصفانہ نظام، پالیسیوں میں تسلسل اور ایسے اداروں پر ہے جن کے فیصلوں پر سرمایہ کاروں کو اتنا اعتماد ہو کہ ہر بار سرمایہ کاری کے لیے حکومت کی نئی ضمانت درکار نہ ہو۔ جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، پاکستان مستحکم تو رہ سکتا ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے پرکشش نہیں بن پائے گا اور سرمایہ کار اعتماد کرنے کی کسی ٹھوس وجہ کے منتظر رہیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291806</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 13:28:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/28130529dc37e05.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/28130529dc37e05.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ضوابط کا خاتمہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291814/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ تصور کہ سرکاری شعبے کی نااہلی اور بدعنوانی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ضوابط کا خاتمہ (ڈی ریگولیشن) ہے، پاکستانی حکومتیں بھی اختیار کرتی رہی ہیں۔ شاید یہ واحد بڑا پالیسی معاملہ ہے جس پر عطیہ دہندگان کے اداروں اور یکے بعد دیگرے آنے والی فوجی و سویلین حکومتوں میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ ایسے ملک کے لیے یہ اتفاقِ رائے خاص اہمیت رکھتا ہے جس کی 79 سالہ تاریخ میں موجودہ قرض پروگرام 25واں پروگرام ہے، جبکہ ہر پروگرام کی اوسط مدت تقریباً تین سال رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجرباتی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصور کہ ڈی ریگولیشن کسی مخصوص شعبے کو درپیش تمام مسائل کا علاج فراہم کر سکتی ہے، بنیادی طور پر ناقص ہے، کیونکہ ضابطہ کاری کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطہ کاری کے فوائد میں مارکیٹ کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش شامل ہے، جس کے لیے حکومت کی جانب سے افراد، نجی شعبے کی کمپنیوں یا سرکاری اداروں پر قوانین لاگو کیے جاتے ہیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر اکثر جرمانوں اور دیگر تادیبی اقدامات کا نظام بھی موجود ہوتا ہے، جنہیں عموماً انتظامی ادارے یا ریگولیٹری اتھارٹیز وضع اور نافذ کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کے نقصانات میں نااہلی بھی شامل ہے، کیونکہ ریگولیٹرز حد سے زیادہ سخت رویہ اختیار کرسکتے ہیں، اپنے اختیارات آمرانہ انداز میں استعمال کرسکتے ہیں، جن اداروں کی نگرانی کرتے ہیں ان کے ساتھ محاذ آرائی پر اتر سکتے ہیں یا صنعت سے رشوت لینے کے لیے آسانی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضوابط حد درجہ تفصیلی نوعیت کے بھی ہوسکتے ہیں یا محض مطلوبہ نتائج کے حصول پر مبنی۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ویب سائٹ پر 16 جون 2026 کو شائع ہونے والے پٹنائیک، شراغ اور کین کے مضمون ’’ہمیں حکومتی ضوابط کی ضرورت کیوں ہے اور انہیں کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے‘‘ کے مطابق، ضابطہ کاری کی بنیادی معاشی منطق دراصل مارکیٹ کی ناکامیوں کو دور کرنا ہے، جن میں مارکیٹ پر حد سے زیادہ اجارہ دارانہ اختیار، منفی بیرونی اثرات، معلومات میں عدم توازن اور مشترکہ وسائل کے بے دریغ استعمال جیسے مسائل شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضمون کے مطابق، سادہ یا کم خطرے والی مارکیٹ ناکامیوں کو غیر ضابطہ جاتی طریقوں سے مؤثر انداز میں حل کیا جاسکتا ہے، تاہم زیادہ اہم یا پیچیدہ معاملات میں اکثر ضابطہ کاری ضروری ہوتی ہے۔ جب حکومت مارکیٹ کی ناکامی کی درست نشاندہی کرکے سوچے سمجھے اور متوازن ضوابط نافذ کرتی ہے تو اس سے مجموعی معاشی نتائج اکثر بہتر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب غیر مؤثر ضوابط مختلف وجوہات کی بنا پر وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ ریگولیٹرز صنعت کے خلاف حد سے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرکے کمپنیوں اور صارفین پر غیر ضروری اخراجات عائد کرسکتے ہیں، یا پھر صنعت کے مفادات کے زیر اثر آکر ایسے ضوابط تشکیل دے سکتے ہیں جو صارفین، کارکنوں یا دیگر صنعتوں کی قیمت پر بااثر صنعتی گروہوں کو فائدہ پہنچائیں۔ ضابطہ جاتی بجٹ سازی پرانے اور غیر مؤثر ضوابط کے انبار کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم اس سے ریگولیٹری قبضے یا انتظامی صلاحیت سے متعلق حکمرانی کے مسائل لازماً حل نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنفین پالیسی سازوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ضابطہ جاتی اصلاحات پر غور کرتے وقت ضوابط کی بنیادی معاشی منطق یعنی مارکیٹ کی ناکامیوں کے حل کے طور پر ان کے کردار کو رہنما اصول بنائیں۔ انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انتظامی طریقہ کار میں اصلاحات یا مخصوص ضوابط میں ترامیم سے اس بنیادی مقصد کے حصول کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے یا متاثر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا نجی شعبہ بڑی حد تک نامکمل مارکیٹ کے حالات میں کام کرتا ہے۔ اس میں آڑھتی بھی شامل ہیں، جن کے کسانوں کے ساتھ نسل در نسل تعلقات ہیں اور جو بینکاری شعبے سے قرض حاصل کرنے کی سہولت نہ رکھنے والے کسانوں سے زرعی پیداوار سستے داموں خرید کر مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکیں۔ اسی طرح بڑے پیمانے کی بیشتر صنعتی شعبوں، مثلاً ٹیکسٹائل، چینی اور سیمنٹ، نے طاقتور انجمنیں قائم کر رکھی ہیں جو انہیں اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے لیے لابنگ کرنے اور ایسی پالیسیاں حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں جو مارکیٹ کی خامیوں کو برقرار رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، بعض ریگولیٹرز کو سیاسی جماعتی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ صارفین کے تحفظ کی کوشش کرنے والے دیگر ریگولیٹرز کی کارکردگی بھی اس وقت متاثر ہوجاتی ہے جب حکومت تیار مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی 2022 میں ندیمل حق اور احمد وقار قاسم کی مرتب کردہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں مختلف شعبوں میں 118 ریگولیٹری ادارے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں مینوفیکچرنگ کے شعبے سے متعلق 13 ادارے شامل تھے، جن میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز، نیشنل ٹیرف کمیشن اور پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن شامل ہیں، اگرچہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اب غیر ضروری ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اور بجلی کے شعبے میں 11 ادارے شامل تھے، جن میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اس زمرے میں کیوں شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون و انصاف کے شعبے میں 16 ادارے شامل تھے، جن میں احتساب عدالتیں، بینکاری عدالتیں، تجارتی عدالتیں، وفاقی سروس ٹریبونل، ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل، مسابقتی اپیلٹ ٹریبونل اور کسٹمز اپیلٹ ٹریبونل شامل ہیں۔ انتخابی ٹریبونلز بھی غالباً اس فہرست میں شامل ہونے چاہئیں، اگرچہ تحقیق میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق 12 ادارے، زراعت کے شعبے میں سات، رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سات، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پانچ، مالیاتی شعبے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اکاؤنٹنٹ جنرل سمیت متعدد ادارے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات میں تین، سیکیورٹی کے شعبے میں تین، صحت کے شعبے میں چھ، جبکہ مختلف شعبوں سے متعلق سات ادارے شامل تھے، جن میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ شامل ہیں۔ مزید 22 ادارے دیگر شعبوں سے متعلق تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے تین باتیں نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا، ملک کے بیشتر وسائل پر اشرافیہ کے غلبے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ یہ غلبہ ٹیکسوں تک بھی پھیلا ہوا ہے، کیونکہ مجموعی ٹیکسوں کا تقریباً 70 فیصد بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اشرافیہ نہ صرف ایسی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتی ہے جو اسے براہِ راست مالی فائدہ پہنچاتی ہیں، بلکہ اس کی ایک نمایاں مثال پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ہے، جہاں چیئرمین کو عہدے پر رہنے تک تمام فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے بھی قابلِ ذکر ہیں، جبکہ یہ شعبہ مبینہ طور پر کالے دھن کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، نیپرا اور اوگرا تمام دستیاب اور موجودہ ان پٹ لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی اور گیس کے نرخ مقرر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان شعبوں میں نااہلی کے باعث مارکیٹ کی خامیاں برقرار رہتی ہیں، جس کا واضح ثبوت گردشی قرضے کا بھاری حجم ہے۔ اس کے بعد حکومت ٹیکسوں، سرچارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی صورت میں ان نرخوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ ان مدات سے حاصل ہونے والی رقوم گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے متعلقہ شعبوں کے لیے مختص نہیں کی جاتیں بلکہ وفاقی حکومت اپنے جاری، یعنی غیر ترقیاتی، اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، قانون و انصاف سے متعلق تمام ریگولیٹری اداروں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ سیاسی یا جماعتی بنیادوں پر فیصلے کرتے ہیں، جس سے عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سمیت کئی شعبوں میں ڈی ریگولیشن پر غور کر رہی ہے۔ پٹنائیک، شراغ اور کین کا نتیجہ ہمارے تناظر میں زیادہ سادہ اور شاید زیادہ مؤثر ہے: پالیسی سازوں کو ضابطہ جاتی اصلاحات پر غور کرتے وقت ضوابط کی بنیادی معاشی منطق، یعنی مارکیٹ کی ناکامیوں کے حل کے طور پر ان کے کردار، کو اپنے فیصلوں کی بنیاد بنانا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ انتظامی طریقہ کار میں اصلاحات یا مخصوص ضوابط میں ترامیم سے اس بنیادی مقصد کے حصول کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے یا کمزور۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ اشرافیہ کے غلبے کا خاتمہ کیا جائے، ریگولیٹرز کو سیاسی یا جماعتی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اور اگر کسی شعبے، مثلاً بجلی، پر ٹیکس عائد کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی رقوم اسی شعبے کے لیے مختص کی جائیں تاکہ اس کی مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنائی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی گنجائش بڑھانے کے لیے جاری اخراجات میں کمی کی جائے، بجائے اس کے کہ تیار مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں، جس کا حتمی بوجھ براہِ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ تصور کہ سرکاری شعبے کی نااہلی اور بدعنوانی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ضوابط کا خاتمہ (ڈی ریگولیشن) ہے، پاکستانی حکومتیں بھی اختیار کرتی رہی ہیں۔ شاید یہ واحد بڑا پالیسی معاملہ ہے جس پر عطیہ دہندگان کے اداروں اور یکے بعد دیگرے آنے والی فوجی و سویلین حکومتوں میں اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ ایسے ملک کے لیے یہ اتفاقِ رائے خاص اہمیت رکھتا ہے جس کی 79 سالہ تاریخ میں موجودہ قرض پروگرام 25واں پروگرام ہے، جبکہ ہر پروگرام کی اوسط مدت تقریباً تین سال رہی ہے۔</strong></p>
<p>تجرباتی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصور کہ ڈی ریگولیشن کسی مخصوص شعبے کو درپیش تمام مسائل کا علاج فراہم کر سکتی ہے، بنیادی طور پر ناقص ہے، کیونکہ ضابطہ کاری کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔</p>
<p>ضابطہ کاری کے فوائد میں مارکیٹ کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش شامل ہے، جس کے لیے حکومت کی جانب سے افراد، نجی شعبے کی کمپنیوں یا سرکاری اداروں پر قوانین لاگو کیے جاتے ہیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر اکثر جرمانوں اور دیگر تادیبی اقدامات کا نظام بھی موجود ہوتا ہے، جنہیں عموماً انتظامی ادارے یا ریگولیٹری اتھارٹیز وضع اور نافذ کرتی ہیں۔</p>
<p>تاہم اس کے نقصانات میں نااہلی بھی شامل ہے، کیونکہ ریگولیٹرز حد سے زیادہ سخت رویہ اختیار کرسکتے ہیں، اپنے اختیارات آمرانہ انداز میں استعمال کرسکتے ہیں، جن اداروں کی نگرانی کرتے ہیں ان کے ساتھ محاذ آرائی پر اتر سکتے ہیں یا صنعت سے رشوت لینے کے لیے آسانی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>ضوابط حد درجہ تفصیلی نوعیت کے بھی ہوسکتے ہیں یا محض مطلوبہ نتائج کے حصول پر مبنی۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ویب سائٹ پر 16 جون 2026 کو شائع ہونے والے پٹنائیک، شراغ اور کین کے مضمون ’’ہمیں حکومتی ضوابط کی ضرورت کیوں ہے اور انہیں کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے‘‘ کے مطابق، ضابطہ کاری کی بنیادی معاشی منطق دراصل مارکیٹ کی ناکامیوں کو دور کرنا ہے، جن میں مارکیٹ پر حد سے زیادہ اجارہ دارانہ اختیار، منفی بیرونی اثرات، معلومات میں عدم توازن اور مشترکہ وسائل کے بے دریغ استعمال جیسے مسائل شامل ہیں۔</p>
<p>مضمون کے مطابق، سادہ یا کم خطرے والی مارکیٹ ناکامیوں کو غیر ضابطہ جاتی طریقوں سے مؤثر انداز میں حل کیا جاسکتا ہے، تاہم زیادہ اہم یا پیچیدہ معاملات میں اکثر ضابطہ کاری ضروری ہوتی ہے۔ جب حکومت مارکیٹ کی ناکامی کی درست نشاندہی کرکے سوچے سمجھے اور متوازن ضوابط نافذ کرتی ہے تو اس سے مجموعی معاشی نتائج اکثر بہتر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب غیر مؤثر ضوابط مختلف وجوہات کی بنا پر وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ ریگولیٹرز صنعت کے خلاف حد سے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرکے کمپنیوں اور صارفین پر غیر ضروری اخراجات عائد کرسکتے ہیں، یا پھر صنعت کے مفادات کے زیر اثر آکر ایسے ضوابط تشکیل دے سکتے ہیں جو صارفین، کارکنوں یا دیگر صنعتوں کی قیمت پر بااثر صنعتی گروہوں کو فائدہ پہنچائیں۔ ضابطہ جاتی بجٹ سازی پرانے اور غیر مؤثر ضوابط کے انبار کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم اس سے ریگولیٹری قبضے یا انتظامی صلاحیت سے متعلق حکمرانی کے مسائل لازماً حل نہیں ہوتے۔</p>
<p>مصنفین پالیسی سازوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ضابطہ جاتی اصلاحات پر غور کرتے وقت ضوابط کی بنیادی معاشی منطق یعنی مارکیٹ کی ناکامیوں کے حل کے طور پر ان کے کردار کو رہنما اصول بنائیں۔ انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انتظامی طریقہ کار میں اصلاحات یا مخصوص ضوابط میں ترامیم سے اس بنیادی مقصد کے حصول کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے یا متاثر۔</p>
<p>پاکستان کا نجی شعبہ بڑی حد تک نامکمل مارکیٹ کے حالات میں کام کرتا ہے۔ اس میں آڑھتی بھی شامل ہیں، جن کے کسانوں کے ساتھ نسل در نسل تعلقات ہیں اور جو بینکاری شعبے سے قرض حاصل کرنے کی سہولت نہ رکھنے والے کسانوں سے زرعی پیداوار سستے داموں خرید کر مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرسکیں۔ اسی طرح بڑے پیمانے کی بیشتر صنعتی شعبوں، مثلاً ٹیکسٹائل، چینی اور سیمنٹ، نے طاقتور انجمنیں قائم کر رکھی ہیں جو انہیں اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے لیے لابنگ کرنے اور ایسی پالیسیاں حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں جو مارکیٹ کی خامیوں کو برقرار رکھتی ہیں۔</p>
<p>آخر میں، بعض ریگولیٹرز کو سیاسی جماعتی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ صارفین کے تحفظ کی کوشش کرنے والے دیگر ریگولیٹرز کی کارکردگی بھی اس وقت متاثر ہوجاتی ہے جب حکومت تیار مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی 2022 میں ندیمل حق اور احمد وقار قاسم کی مرتب کردہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں مختلف شعبوں میں 118 ریگولیٹری ادارے موجود تھے۔</p>
<p>ان میں مینوفیکچرنگ کے شعبے سے متعلق 13 ادارے شامل تھے، جن میں مسابقتی کمیشن آف پاکستان، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے بورڈز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز، نیشنل ٹیرف کمیشن اور پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن شامل ہیں، اگرچہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اب غیر ضروری ہوچکی ہے۔</p>
<p>توانائی اور بجلی کے شعبے میں 11 ادارے شامل تھے، جن میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو اس زمرے میں کیوں شامل کیا گیا۔</p>
<p>قانون و انصاف کے شعبے میں 16 ادارے شامل تھے، جن میں احتساب عدالتیں، بینکاری عدالتیں، تجارتی عدالتیں، وفاقی سروس ٹریبونل، ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل، مسابقتی اپیلٹ ٹریبونل اور کسٹمز اپیلٹ ٹریبونل شامل ہیں۔ انتخابی ٹریبونلز بھی غالباً اس فہرست میں شامل ہونے چاہئیں، اگرچہ تحقیق میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق 12 ادارے، زراعت کے شعبے میں سات، رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سات، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پانچ، مالیاتی شعبے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اکاؤنٹنٹ جنرل سمیت متعدد ادارے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات میں تین، سیکیورٹی کے شعبے میں تین، صحت کے شعبے میں چھ، جبکہ مختلف شعبوں سے متعلق سات ادارے شامل تھے، جن میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ شامل ہیں۔ مزید 22 ادارے دیگر شعبوں سے متعلق تھے۔</p>
<p>اس حوالے سے تین باتیں نمایاں ہیں۔</p>
<p>اول، جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا، ملک کے بیشتر وسائل پر اشرافیہ کے غلبے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ یہ غلبہ ٹیکسوں تک بھی پھیلا ہوا ہے، کیونکہ مجموعی ٹیکسوں کا تقریباً 70 فیصد بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ اشرافیہ نہ صرف ایسی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتی ہے جو اسے براہِ راست مالی فائدہ پہنچاتی ہیں، بلکہ اس کی ایک نمایاں مثال پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ہے، جہاں چیئرمین کو عہدے پر رہنے تک تمام فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے بھی قابلِ ذکر ہیں، جبکہ یہ شعبہ مبینہ طور پر کالے دھن کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے۔</p>
<p>دوم، نیپرا اور اوگرا تمام دستیاب اور موجودہ ان پٹ لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی اور گیس کے نرخ مقرر کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ان شعبوں میں نااہلی کے باعث مارکیٹ کی خامیاں برقرار رہتی ہیں، جس کا واضح ثبوت گردشی قرضے کا بھاری حجم ہے۔ اس کے بعد حکومت ٹیکسوں، سرچارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی صورت میں ان نرخوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ ان مدات سے حاصل ہونے والی رقوم گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے متعلقہ شعبوں کے لیے مختص نہیں کی جاتیں بلکہ وفاقی حکومت اپنے جاری، یعنی غیر ترقیاتی، اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>آخر میں، قانون و انصاف سے متعلق تمام ریگولیٹری اداروں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ سیاسی یا جماعتی بنیادوں پر فیصلے کرتے ہیں، جس سے عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>حکومت اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین سمیت کئی شعبوں میں ڈی ریگولیشن پر غور کر رہی ہے۔ پٹنائیک، شراغ اور کین کا نتیجہ ہمارے تناظر میں زیادہ سادہ اور شاید زیادہ مؤثر ہے: پالیسی سازوں کو ضابطہ جاتی اصلاحات پر غور کرتے وقت ضوابط کی بنیادی معاشی منطق، یعنی مارکیٹ کی ناکامیوں کے حل کے طور پر ان کے کردار، کو اپنے فیصلوں کی بنیاد بنانا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ انتظامی طریقہ کار میں اصلاحات یا مخصوص ضوابط میں ترامیم سے اس بنیادی مقصد کے حصول کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے یا کمزور۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ اشرافیہ کے غلبے کا خاتمہ کیا جائے، ریگولیٹرز کو سیاسی یا جماعتی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اور اگر کسی شعبے، مثلاً بجلی، پر ٹیکس عائد کیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی رقوم اسی شعبے کے لیے مختص کی جائیں تاکہ اس کی مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنائی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی گنجائش بڑھانے کے لیے جاری اخراجات میں کمی کی جائے، بجائے اس کے کہ تیار مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں، جس کا حتمی بوجھ براہِ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291814</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Sep 2026 15:37:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2815291562417da.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2815291562417da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ایم مکئی کو درآمد شدہ بیجوں کی نہیں، خود مختار زرعی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کے زرعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان نے اصولی طور پر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی تجارتی پیداوار اور کاشت کی جانب پیش رفت کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایم مکئی سے متعلق وفاقی حکومت کی خصوصی کمیٹی میں حالیہ اعلیٰ سطح  کے اتفاق رائے کے بعد بتایا گیا ہے کہ ایک جامع عملدرآمدی فریم ورک تیزی سے تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت موجودہ ہائبرڈ اور نامیاتی اقسام کے ساتھ جدید جینیاتی خصوصیات کو ملکی کاشت کاری کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پالیسی تبدیلی کے حامی اسے فصلوں کے تحفظ کو جدید بنانے اور اربوں روپے کی پولٹری و فیڈ صنعت کے لیے پیداوار بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں لیکن ماحولیاتی اور قانونی حقائق کا جائزہ اس معاملے میں اہم خدشات بھی سامنے لاتا ہے۔ تجزیے کے مطابق منظور شدہ تجارتی فریم ورک کے تحت بھی مغربی ممالک سے درآمد شدہ فصلوں کی ٹیکنالوجی کو براہ راست اپنانا مقامی زرعی حالات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کو حقیقی معنوں میں سپلائی چین کے تحفظ کا ذریعہ بنانے کے لیے درآمدی بیجوں پر انحصار کے بجائے مقامی اور خودمختار جدت طرازی کے ماڈل کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیاری امریکی یا دیگر درآمدی بیجوں کی ٹیکنالوجی پر انحصار میں بنیادی مسئلہ مختلف علاقوں میں کیڑوں کی حیاتیاتی ساخت کا ہے۔ پودے کے ڈی این اے میں شامل کیے جانے والے کیڑے مار پروٹین مخصوص کیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ امریکا کے مکئی کے بڑے پیداواری علاقوں میں جی ایم مکئی کو بنیادی طور پر یورپی کارن بورر اور ویسٹرن کارن روٹ ورم جیسے مقامی کیڑوں کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کے مکئی کے ماحولیاتی نظام میں صورتحال مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مکئی کے لیے ایک بڑا خطرہ مکئی کا تنے کا کیڑا  ہے، جو یورپی قسم سے مختلف انداز میں نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ موسم بہار کی فصل کے دوران کسانوں کو مکئی کی شوٹ فلائی سے بھی شدید نقصان کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کیڑا ابتدائی پودوں کو تباہ کرتا ہے اور درآمد شدہ جی ایم مکئی میں اس کے خلاف کوئی مؤثر جینیاتی تحفظ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیونگنے والے کیڑوں کے علاوہ درآمدی امریکی ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمزوری پاکستان میں پائے جانے والے رس چوسنے والے کیڑوں کا پیچیدہ مسئلہ ہے، جس میں کارن لیف ایفیڈ اور مکئی کے جیسڈز نمایاں ہیں۔ روایتی جی ایم مکئی میں عموماً کرسٹلائن بی ٹی پروٹین استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں مؤثر ہونے کے لیے کیڑے کا پودے کے حصے کو چبانا اور نگلنا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رس چوسنے والے کیڑے مختلف حیاتیاتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پتوں کو چبانے کے بجائے سوئی نما منہ کے حصوں کے ذریعے پودے کو چھید کر اس کے اندرونی حصے سے غذائیت سے بھرپور رس چوستے ہیں۔ چونکہ روایتی جی ایم اقسام میں کیڑے مار پروٹین پودے کے خلیوں کے اندر موجود ہوتے ہیں اور رس کے ذریعے گردش نہیں کرتے، اس لیے ایفیڈ ان زہریلے پروٹین سے بچ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں رس چوسنے والے کیڑوں کے نظامِ ہاضمہ کی کیمیائی خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں، جبکہ روایتی بی ٹی پروٹین کو فعال ہونے کے لیے انتہائی الکلائن ماحول درکار ہوتا ہے۔ تجزیے کے مطابق ایفیڈ کے معدے میں یہ پروٹین غیر مؤثر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روایتی بی ٹی بیج لگانے سے چبانے والے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پودا صحت مند رہتا ہے لیکن ایفیڈ کے لیے افزائش کا موزوں ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح ثانوی کیڑوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پاکستانی کسانوں کو رس چوسنے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے کیڑے مار ادویات کا زیادہ استعمال کرنا پڑے گا، جس سے جی ایم زراعت کے ذریعے اخراجات کم کرنے کا مقصد متاثر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمد شدہ اقسام میں مقامی جینیاتی خصوصیات شامل کرنے کی قانونی اور جینیاتی رکاوٹیں بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ مقامی سرکاری ادارے غیر ملکی بیج خرید کر انہیں مقامی اقسام کے ساتھ ملا کر مطلوبہ خصوصیات کیوں شامل نہیں کرسکتے؟ اس کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی دانشورانہ املاک کے حقوق کا سخت نظام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی مغربی بیج پیچیدہ پیٹنٹ نظام کے تحت محفوظ ہوتے ہیں۔ جین کی ترتیب، جین کو فعال کرنے والا سالماتی نظام اور کروموسوم میں جین داخل کرنے کی مخصوص جگہ تک عالمی سطح پر پیٹنٹ کے دائرے میں آسکتی ہے۔ تجزیے کے مطابق کروڑوں ڈالر کے بین الاقوامی لائسنس کے بغیر غیر ملکی کارپوریٹ اقسام میں مقامی جینیاتی خصوصیات شامل کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے کو تجارتی مقدمات اور برآمدی پابندیوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے باوجود بھی بریڈرز کو ایک بڑی تکنیکی مشکل کا سامنا ہوگا۔ امریکی بایوٹیکنالوجی خصوصی طور پر نرم ڈینٹ مکئی کی جینیاتی اقسام میں تیار کی گئی ہے، جو معتدل آب و ہوا کے لیے موزوں ہیں۔ پاکستان میں ہائبرڈ اور چھوٹے کاشتکاروں کی زراعت سخت فلنٹ مکئی پر انحصار کرتی ہے، جو مقامی ذخیرہ کرنے والے کیڑوں کے خلاف قدرتی مزاحمت رکھتی ہے اور انتہائی خشک زمینوں میں بہتر اگاؤ دیتی ہے، جہاں موسم بہار میں درجہ حرارت اکثر 45 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈینٹ اقسام کو مقامی فلنٹ اقسام کے ساتھ کراس بریڈ کرنے سے لنکیج ڈریگ نامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں مقامی اہم خصوصیات جیسے خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور دانے کی سختی متاثر ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ پودے کا جینیاتی نظام اکثر بیرونی امریکی جین کو اجنبی سمجھ کر ’جین سائلنسنگ‘ نامی دفاعی نظام فعال کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں کیڑوں کے خلاف جینیاتی تحفظ غیر مؤثر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان نئی بایوٹیکنالوجی پالیسی کے تحت مکئی کے شعبے کو حقیقی معنوں میں جدید بنانا چاہتا ہے تو مقامی تحقیقی اداروں کو غیر ملکی انحصار سے ہٹنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ہوسٹ انڈیوسڈ جین سائلنسنگ ٹیکنالوجیز اور مقامی بی ٹی اقسام کی شناخت میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ فلوئم سے مخصوص پروموٹرز کے ذریعے مقامی سائنسدان اور پلانٹ بریڈرز ایسی مکئی کی اقسام تیار کرسکتے ہیں جن میں جین سائلنسنگ کے مالیکیولز پودے کے رس کے ذریعے مخصوص مقامات تک پہنچیں۔ جب مقامی افیڈ پودے کا رس چوستا ہے تو یہ مالیکیول اس کے جسم میں داخل ہوکر اس کی بقا کے لیے ضروری جینز، مثلاً لعابی خامروں یا پانی کے توازن سے متعلق نظام کو غیر فعال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 کے تحت پاکستان کے پاس مقامی طور پر دریافت کی جانے والی جینیاتی اقسام کی رجسٹریشن اور تحفظ کا قانونی نظام موجود ہے۔ سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی جیسے اداروں اور مقامی نجی بیج کمپنیوں کے درمیان مضبوط پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے ریاست مہنگے فیلڈ ٹرائلز اور پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے درکار ماحولیاتی منظوریوں کے اخراجات پورے کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی پیمانے پر پیداوار کی اجازت جدت کے لیے ایک موقع ہے، لیکن امریکی مڈویسٹ کے لیے تیار کیے گئے غیر ملکی ماڈلز کو اپنانا خطرے سے خالی نہیں۔ پاکستان کے منفرد زرعی مسائل کا حل پاکستانی ساختہ ٹیکنالوجی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے ملکی بایوٹیک خودمختاری ہی کھیتوں کے تحفظ، کسانوں کو بااختیار بنانے اور حقیقی قومی غذائی تحفظ یقینی بنانے کی مؤثر راہ قرار دی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کے زرعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان نے اصولی طور پر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی تجارتی پیداوار اور کاشت کی جانب پیش رفت کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>جی ایم مکئی سے متعلق وفاقی حکومت کی خصوصی کمیٹی میں حالیہ اعلیٰ سطح  کے اتفاق رائے کے بعد بتایا گیا ہے کہ ایک جامع عملدرآمدی فریم ورک تیزی سے تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت موجودہ ہائبرڈ اور نامیاتی اقسام کے ساتھ جدید جینیاتی خصوصیات کو ملکی کاشت کاری کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے گا۔</p>
<p>اس پالیسی تبدیلی کے حامی اسے فصلوں کے تحفظ کو جدید بنانے اور اربوں روپے کی پولٹری و فیڈ صنعت کے لیے پیداوار بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں لیکن ماحولیاتی اور قانونی حقائق کا جائزہ اس معاملے میں اہم خدشات بھی سامنے لاتا ہے۔ تجزیے کے مطابق منظور شدہ تجارتی فریم ورک کے تحت بھی مغربی ممالک سے درآمد شدہ فصلوں کی ٹیکنالوجی کو براہ راست اپنانا مقامی زرعی حالات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کو حقیقی معنوں میں سپلائی چین کے تحفظ کا ذریعہ بنانے کے لیے درآمدی بیجوں پر انحصار کے بجائے مقامی اور خودمختار جدت طرازی کے ماڈل کی طرف بڑھنا ضروری ہے۔</p>
<p>معیاری امریکی یا دیگر درآمدی بیجوں کی ٹیکنالوجی پر انحصار میں بنیادی مسئلہ مختلف علاقوں میں کیڑوں کی حیاتیاتی ساخت کا ہے۔ پودے کے ڈی این اے میں شامل کیے جانے والے کیڑے مار پروٹین مخصوص کیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ امریکا کے مکئی کے بڑے پیداواری علاقوں میں جی ایم مکئی کو بنیادی طور پر یورپی کارن بورر اور ویسٹرن کارن روٹ ورم جیسے مقامی کیڑوں کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کے مکئی کے ماحولیاتی نظام میں صورتحال مختلف ہے۔</p>
<p>پاکستان میں مکئی کے لیے ایک بڑا خطرہ مکئی کا تنے کا کیڑا  ہے، جو یورپی قسم سے مختلف انداز میں نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ موسم بہار کی فصل کے دوران کسانوں کو مکئی کی شوٹ فلائی سے بھی شدید نقصان کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کیڑا ابتدائی پودوں کو تباہ کرتا ہے اور درآمد شدہ جی ایم مکئی میں اس کے خلاف کوئی مؤثر جینیاتی تحفظ موجود نہیں۔</p>
<p>چیونگنے والے کیڑوں کے علاوہ درآمدی امریکی ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمزوری پاکستان میں پائے جانے والے رس چوسنے والے کیڑوں کا پیچیدہ مسئلہ ہے، جس میں کارن لیف ایفیڈ اور مکئی کے جیسڈز نمایاں ہیں۔ روایتی جی ایم مکئی میں عموماً کرسٹلائن بی ٹی پروٹین استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں مؤثر ہونے کے لیے کیڑے کا پودے کے حصے کو چبانا اور نگلنا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>رس چوسنے والے کیڑے مختلف حیاتیاتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پتوں کو چبانے کے بجائے سوئی نما منہ کے حصوں کے ذریعے پودے کو چھید کر اس کے اندرونی حصے سے غذائیت سے بھرپور رس چوستے ہیں۔ چونکہ روایتی جی ایم اقسام میں کیڑے مار پروٹین پودے کے خلیوں کے اندر موجود ہوتے ہیں اور رس کے ذریعے گردش نہیں کرتے، اس لیے ایفیڈ ان زہریلے پروٹین سے بچ جاتے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں رس چوسنے والے کیڑوں کے نظامِ ہاضمہ کی کیمیائی خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں، جبکہ روایتی بی ٹی پروٹین کو فعال ہونے کے لیے انتہائی الکلائن ماحول درکار ہوتا ہے۔ تجزیے کے مطابق ایفیڈ کے معدے میں یہ پروٹین غیر مؤثر رہتا ہے۔</p>
<p>زرعی اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روایتی بی ٹی بیج لگانے سے چبانے والے کیڑے ختم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پودا صحت مند رہتا ہے لیکن ایفیڈ کے لیے افزائش کا موزوں ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح ثانوی کیڑوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور پاکستانی کسانوں کو رس چوسنے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے کیڑے مار ادویات کا زیادہ استعمال کرنا پڑے گا، جس سے جی ایم زراعت کے ذریعے اخراجات کم کرنے کا مقصد متاثر ہوسکتا ہے۔</p>
<p>درآمد شدہ اقسام میں مقامی جینیاتی خصوصیات شامل کرنے کی قانونی اور جینیاتی رکاوٹیں بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ مقامی سرکاری ادارے غیر ملکی بیج خرید کر انہیں مقامی اقسام کے ساتھ ملا کر مطلوبہ خصوصیات کیوں شامل نہیں کرسکتے؟ اس کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی دانشورانہ املاک کے حقوق کا سخت نظام ہے۔</p>
<p>تجارتی مغربی بیج پیچیدہ پیٹنٹ نظام کے تحت محفوظ ہوتے ہیں۔ جین کی ترتیب، جین کو فعال کرنے والا سالماتی نظام اور کروموسوم میں جین داخل کرنے کی مخصوص جگہ تک عالمی سطح پر پیٹنٹ کے دائرے میں آسکتی ہے۔ تجزیے کے مطابق کروڑوں ڈالر کے بین الاقوامی لائسنس کے بغیر غیر ملکی کارپوریٹ اقسام میں مقامی جینیاتی خصوصیات شامل کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے کو تجارتی مقدمات اور برآمدی پابندیوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>قانونی رکاوٹیں دور ہونے کے باوجود بھی بریڈرز کو ایک بڑی تکنیکی مشکل کا سامنا ہوگا۔ امریکی بایوٹیکنالوجی خصوصی طور پر نرم ڈینٹ مکئی کی جینیاتی اقسام میں تیار کی گئی ہے، جو معتدل آب و ہوا کے لیے موزوں ہیں۔ پاکستان میں ہائبرڈ اور چھوٹے کاشتکاروں کی زراعت سخت فلنٹ مکئی پر انحصار کرتی ہے، جو مقامی ذخیرہ کرنے والے کیڑوں کے خلاف قدرتی مزاحمت رکھتی ہے اور انتہائی خشک زمینوں میں بہتر اگاؤ دیتی ہے، جہاں موسم بہار میں درجہ حرارت اکثر 45 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔</p>
<p>امریکی ڈینٹ اقسام کو مقامی فلنٹ اقسام کے ساتھ کراس بریڈ کرنے سے لنکیج ڈریگ نامی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں مقامی اہم خصوصیات جیسے خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور دانے کی سختی متاثر ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ پودے کا جینیاتی نظام اکثر بیرونی امریکی جین کو اجنبی سمجھ کر ’جین سائلنسنگ‘ نامی دفاعی نظام فعال کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں کیڑوں کے خلاف جینیاتی تحفظ غیر مؤثر ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان نئی بایوٹیکنالوجی پالیسی کے تحت مکئی کے شعبے کو حقیقی معنوں میں جدید بنانا چاہتا ہے تو مقامی تحقیقی اداروں کو غیر ملکی انحصار سے ہٹنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ہوسٹ انڈیوسڈ جین سائلنسنگ ٹیکنالوجیز اور مقامی بی ٹی اقسام کی شناخت میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ فلوئم سے مخصوص پروموٹرز کے ذریعے مقامی سائنسدان اور پلانٹ بریڈرز ایسی مکئی کی اقسام تیار کرسکتے ہیں جن میں جین سائلنسنگ کے مالیکیولز پودے کے رس کے ذریعے مخصوص مقامات تک پہنچیں۔ جب مقامی افیڈ پودے کا رس چوستا ہے تو یہ مالیکیول اس کے جسم میں داخل ہوکر اس کی بقا کے لیے ضروری جینز، مثلاً لعابی خامروں یا پانی کے توازن سے متعلق نظام کو غیر فعال کرسکتے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں پلانٹ بریڈرز رائٹس ایکٹ 2016 کے تحت پاکستان کے پاس مقامی طور پر دریافت کی جانے والی جینیاتی اقسام کی رجسٹریشن اور تحفظ کا قانونی نظام موجود ہے۔ سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی جیسے اداروں اور مقامی نجی بیج کمپنیوں کے درمیان مضبوط پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے ریاست مہنگے فیلڈ ٹرائلز اور پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے درکار ماحولیاتی منظوریوں کے اخراجات پورے کرسکتی ہے۔</p>
<p>تجارتی پیمانے پر پیداوار کی اجازت جدت کے لیے ایک موقع ہے، لیکن امریکی مڈویسٹ کے لیے تیار کیے گئے غیر ملکی ماڈلز کو اپنانا خطرے سے خالی نہیں۔ پاکستان کے منفرد زرعی مسائل کا حل پاکستانی ساختہ ٹیکنالوجی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے ملکی بایوٹیک خودمختاری ہی کھیتوں کے تحفظ، کسانوں کو بااختیار بنانے اور حقیقی قومی غذائی تحفظ یقینی بنانے کی مؤثر راہ قرار دی جارہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291773</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Sep 2026 15:42:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر تسنیم احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/27144513ce8fb78.webp" type="image/webp" medium="image" height="1026" width="1284">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/27144513ce8fb78.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکی منصوبہ بندی کمیشن کی ناگزیر اہمیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291734/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ایسا ترقیاتی ادارہ موجود تھا جو اگلے بجٹ، اگلے سیاسی دور اور اگلے معاشی بحران سے آگے کی سوچ رکھتا تھا۔ یہی ادارہ ملک کی تزویراتی معاشی و سماجی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے فکری قوت کا مرکز تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی کمیشن کا قیام ملک کو معاشی ترقی کی تزویراتی سمت فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اسی نے پانچ سالہ منصوبے مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جن کی بدولت 1960 کی دہائی میں پاکستان ترقی کے ایک نمونے کے طور پر ابھرا۔ تاہم آج اس کا کردار بتدریج ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال اور محدود سرکاری وسائل کی تقسیم تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک زمانے میں پاکستان کا منصوبہ بندی کمیشن ملک کے بااثر ترین معاشی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ وزارتوں کو ملکی ترجیحات اور ضروریات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا تھا۔ وزارت خزانہ کمیشن کی فراہم کردہ تزویراتی رہنما اصولوں کی بنیاد پر کام کرتی اور ملکی بجٹ مرتب کیے جاتے تھے، تاکہ عوام کے حوالے سے ریاست کی معاشی اور سماجی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج منصوبہ بندی کمیشن حکومت سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اپنی شمولیت کی درخواست کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ اہم چیز کھو دی ہے: فوری بحران سے آگے سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت۔ پاکستان کو ایک اور منصوبے کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے ادارے کی بحالی کی ضرورت ہے جو مستقبل کے بارے میں تزویراتی انداز میں سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ابتدائی منصوبہ بندی کے تجربے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی اور ایشیا بھر میں ترقی کے مباحث کا حصہ بنا، جن میں جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور کی اہمیت محض پانچ سالہ منصوبوں کی تیاری تک محدود نہیں تھی۔ اس کے پس پشت یہ تصور کارفرما تھا کہ ایک ترقی پذیر ملک منظم منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے معاشی مستقبل کو دانستہ طور پر تشکیل دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلسفہ بتدریج معدوم ہوتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی کمیشن کا زوال نہ تو اچانک آیا اور نہ ہی اس کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی مداخلت، معاشی پالیسی سازی میں انتشار اور قلیل مدتی بحرانوں سے نمٹنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مجموعی نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرنے کے ساتھ پانچ سالہ منصوبے قومی تبدیلی کے مؤثر آلات کے بجائے محض دستاویزات بنتے گئے۔ حکومتیں اپنی ترجیحات تبدیل کرتی رہیں، ترقیاتی منصوبے سیاسی مفادات سے متاثر ہوتے رہے، عمل درآمد اکثر منصوبہ بندی سے مختلف سمت میں ہوتا رہا اور کمیشن کا تعلق بتدریج سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں کی منظوری، نگرانی اور وسائل کی تقسیم سے زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ منصوبہ بندی کو پالیسی سازی اور بجٹ سازی سے الگ کر دینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے منصوبہ بندی کمیشن کی فکری صلاحیت کا بڑا حصہ اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کوشش کے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ترجیحات تزویراتی انتظام سے بحران کے فوری انتظام کی طرف منتقل ہو گئیں۔ وزارت خزانہ مالی خسارے، قرضوں، ٹیکسوں، زرمبادلہ اور فوری ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ میں الجھ گئی۔ اسٹیٹ بینک نے زرّی استحکام پر توجہ مرکوز رکھی، انفرادی وزارتیں اپنے اپنے شعبہ جاتی ایجنڈے آگے بڑھاتی رہیں، جبکہ منصوبہ بندی کمیشن ایک جامع معاشی حکمت عملی فراہم کرنے کے بجائے بتدریج ایک منتشر نظام کا حصہ بنتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج پوری معیشت میں نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پاکستان نے بارہا بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن ایندھن کی سلامتی، ترسیل، تقسیم، استطاعتِ خرید اور طلب میں اضافے کو ایک مربوط طویل مدتی حکمت عملی میں مناسب طور پر یکجا نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً بعض اوقات اضافی پیداواری صلاحیت موجود رہی، جبکہ دوسری جانب مہنگے کیپیسٹی چارجز، گردشی قرضے، غیر قابلِ اعتماد فراہمی اور صنعتوں و گھریلو صارفین کے لیے مہنگی بجلی کا مسئلہ برقرار رہا۔ ایک مضبوط تزویراتی منصوبہ بندی کا ادارہ توانائی کے تحفظ کو صنعتی پالیسی، برآمدات اور مالی پائیداری کے ساتھ مربوط کر سکتا تھا، بجائے اس کے کہ ہر بحران کو الگ الگ مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات بھی اس کی ایک اور مثال ہیں۔ پاکستان نے بارہا برآمدی اہداف اور مراعاتی پیکیجز کا اعلان کیا، لیکن کم قدر والی اجناس اور روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر اعلیٰ قدر کی حامل مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، خدمات اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی سپلائی چینز کی طرف منتقلی کے لیے طویل مدتی حکمت عملی برقرار نہیں رکھ سکا۔ جن ممالک نے کامیابی سے اپنی معیشتیں تبدیل کیں، انہوں نے ہنرمندی، بنیادی ڈھانچے، مالیات، ٹیکنالوجی اور صنعتی پالیسی میں مسلسل ہم آہنگی کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا۔ پاکستان نے اکثر پچھلی حکمت عملی کے ثمر آور ہونے سے پہلے ہی سمت تبدیل کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی سرمائے کے معاملے میں بھی یہی کمزوری نمایاں ہے۔ تعلیم، فنی تربیت، صحت اور افرادی قوت کی ترقی کو عموماً معاشرتی شعبے کے اخراجات سمجھا گیا، جبکہ انہیں معاشی حکمت عملی کے بنیادی اجزا کے طور پر دیکھنے کی ضرورت تھی۔ حالانکہ مستقبل میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کا انحصار آبادی کے حجم سے کم اور اس کے لوگوں کی پیداواری صلاحیت اور مہارتوں پر زیادہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تزویراتی منصوبہ بندی کا مقصد ہی یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے پاکستان بتدریج منصوبہ بندی سے بحرانوں کی فوری روک تھام کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ ساختی مسائل کو اس وقت تک بڑھنے دیا جاتا ہے جب تک وہ بحران نہ بن جائیں، جس کے بعد حکومتیں اکثر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قلیل مدتی حل تلاش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورت حال ایک اہم ادارہ جاتی سوال اٹھاتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی قیادت بنیادی طور پر وزارت خزانہ ہی کرتی ہے، جو قابلِ فہم ہے کیونکہ ایسے پروگراموں میں مالیاتی، زرّی اور ادائیگیوں کے توازن سے متعلق مسائل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف کی شرائط اب ان شعبوں سے کہیں آگے بڑھ کر توانائی، ٹیکسوں، سرکاری سرمایہ کاری، سرکاری ملکیتی اداروں، سبسڈیز اور ساختی اصلاحات تک پھیل چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا منصوبہ بندی کمیشن کا اس عمل میں ایک جائز کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی کی وزارت کی جانب سے وزیراعظم سے آئی ایم ایف مذاکرات میں شمولیت کی درخواست کو محض وزارت خزانہ کے ساتھ ادارہ جاتی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کے معاشی نظم و نسق میں ایک بڑی خامی کو اجاگر کرتی ہے: جب فوری مالی استحکام بحث پر غالب آ جائے تو ملک کے درمیانی اور طویل مدتی ترقیاتی مفادات کی نمائندگی کون کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب منصوبہ بندی کمیشن ہونا چاہیے—وزارت خزانہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ساتھ مل کر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کو مالیاتی اور مالی معاملات سے متعلق مذاکرات کی قیادت جاری رکھنی چاہیے، تاہم منصوبہ بندی کمیشن کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے جانے والے وعدے قومی ترقیاتی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان مستقل طور پر ایک آئی ایم ایف پروگرام سے دوسرے پروگرام تک اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں مذاکرات نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا حل یہ نہیں کہ پرانے منصوبہ بندی کمیشن کو عین اسی شکل میں بحال کر دیا جائے۔ اسے بنیادی طور پر ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، اسے حکومت کا طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا مرکزی ادارہ بننا چاہیے، جو پانچ سالہ عملی منصوبوں اور سالانہ قابلِ پیمائش اہداف کی مدد سے 10 سے 15 سال پر محیط ایک متحرک قومی فریم ورک تیار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، منصوبہ بندی کو نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہر بڑی قومی ترجیح—برآمدات، پیداواری صلاحیت، توانائی کا تحفظ، زراعت، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، پانی، رسد و نقل و حمل، تعلیم، صحت اور ہنرمندی—کے لیے قابلِ پیمائش اہداف، مالی ضروریات، مقررہ مدت اور واضح طور پر متعین ادارہ جاتی ذمہ داری موجود ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، کمیشن کو اپنی فکری صلاحیت دوبارہ حاصل کرنا ہوگی۔ ممتاز ماہرینِ معاشیات، انجینئرز، شماریات دانوں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، سماجی شعبے کے ماہرین اور نجی شعبے کے پیشہ ور افراد کو مسابقتی بنیادوں پر بھرتی کیا جانا چاہیے۔ ایک تزویراتی ادارہ روایتی بیوروکریٹک سوچ کے زیرِ اثر نہیں رہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چہارم، منصوبہ بندی کو براہِ راست بجٹ سے منسلک کرنا ہوگا۔ اگر سالانہ بجٹ میں وسائل قلیل مدتی سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت مختص کیے جائیں تو قومی ترجیحات کا تعین کرنے کی کوئی خاص افادیت نہیں رہتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، کمیشن کے پاس یہ جانچنے کا اختیار اور صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ آیا سرکاری سرمایہ کاری حقیقتاً معاشی اور سماجی فوائد فراہم کر رہی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو منصوبوں کی کمی کا سامنا نہیں۔ مسئلہ تزویراتی تسلسل، عمل درآمد میں نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے فقدان کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ بندی کمیشن ایک زمانے میں اس تصور کی علامت تھا کہ پاکستان محض حالات پر ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اپنے معاشی مستقبل کی سمت خود متعین کر سکتا ہے۔ یہ کردار بتدریج اس سے چھن گیا۔ اسے بحال کرنے کے لیے سیاسی سرپرستی، پیشہ ورانہ خودمختاری اور قلیل مدتی مصلحت کو طویل مدتی قومی مفاد کے تابع کرنے کے عزم کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کو ایک بار پھر وہ ادارہ بننا چاہیے جہاں پاکستان صرف یہ طے نہ کرے کہ اگلے بحران سے کیسے بچنا ہے، بلکہ یہ بھی طے کرے کہ ایسی معیشت کیسے تعمیر کرنی ہے جو اگلے بحران کو جنم لینے ہی سے روکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ایسا ترقیاتی ادارہ موجود تھا جو اگلے بجٹ، اگلے سیاسی دور اور اگلے معاشی بحران سے آگے کی سوچ رکھتا تھا۔ یہی ادارہ ملک کی تزویراتی معاشی و سماجی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے فکری قوت کا مرکز تھا۔</strong></p>
<p>منصوبہ بندی کمیشن کا قیام ملک کو معاشی ترقی کی تزویراتی سمت فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اسی نے پانچ سالہ منصوبے مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جن کی بدولت 1960 کی دہائی میں پاکستان ترقی کے ایک نمونے کے طور پر ابھرا۔ تاہم آج اس کا کردار بتدریج ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال اور محدود سرکاری وسائل کی تقسیم تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔</p>
<p>ایک زمانے میں پاکستان کا منصوبہ بندی کمیشن ملک کے بااثر ترین معاشی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ وزارتوں کو ملکی ترجیحات اور ضروریات کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا تھا۔ وزارت خزانہ کمیشن کی فراہم کردہ تزویراتی رہنما اصولوں کی بنیاد پر کام کرتی اور ملکی بجٹ مرتب کیے جاتے تھے، تاکہ عوام کے حوالے سے ریاست کی معاشی اور سماجی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھا جا سکے۔</p>
<p>آج منصوبہ بندی کمیشن حکومت سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اپنی شمولیت کی درخواست کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ اہم چیز کھو دی ہے: فوری بحران سے آگے سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت۔ پاکستان کو ایک اور منصوبے کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے ادارے کی بحالی کی ضرورت ہے جو مستقبل کے بارے میں تزویراتی انداز میں سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔</p>
<p>پاکستان کے ابتدائی منصوبہ بندی کے تجربے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی اور ایشیا بھر میں ترقی کے مباحث کا حصہ بنا، جن میں جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی شامل تھے۔</p>
<p>اس دور کی اہمیت محض پانچ سالہ منصوبوں کی تیاری تک محدود نہیں تھی۔ اس کے پس پشت یہ تصور کارفرما تھا کہ ایک ترقی پذیر ملک منظم منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے معاشی مستقبل کو دانستہ طور پر تشکیل دے سکتا ہے۔</p>
<p>یہ فلسفہ بتدریج معدوم ہوتا گیا۔</p>
<p>منصوبہ بندی کمیشن کا زوال نہ تو اچانک آیا اور نہ ہی اس کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر عائد کی جا سکتی ہے۔ یہ ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی مداخلت، معاشی پالیسی سازی میں انتشار اور قلیل مدتی بحرانوں سے نمٹنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مجموعی نتیجہ تھا۔</p>
<p>وقت گزرنے کے ساتھ پانچ سالہ منصوبے قومی تبدیلی کے مؤثر آلات کے بجائے محض دستاویزات بنتے گئے۔ حکومتیں اپنی ترجیحات تبدیل کرتی رہیں، ترقیاتی منصوبے سیاسی مفادات سے متاثر ہوتے رہے، عمل درآمد اکثر منصوبہ بندی سے مختلف سمت میں ہوتا رہا اور کمیشن کا تعلق بتدریج سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبوں کی منظوری، نگرانی اور وسائل کی تقسیم سے زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔</p>
<p>اصل مسئلہ منصوبہ بندی کو پالیسی سازی اور بجٹ سازی سے الگ کر دینا تھا۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے منصوبہ بندی کمیشن کی فکری صلاحیت کا بڑا حصہ اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کوشش کے نتائج بتاتے ہیں کہ یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ترجیحات تزویراتی انتظام سے بحران کے فوری انتظام کی طرف منتقل ہو گئیں۔ وزارت خزانہ مالی خسارے، قرضوں، ٹیکسوں، زرمبادلہ اور فوری ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ میں الجھ گئی۔ اسٹیٹ بینک نے زرّی استحکام پر توجہ مرکوز رکھی، انفرادی وزارتیں اپنے اپنے شعبہ جاتی ایجنڈے آگے بڑھاتی رہیں، جبکہ منصوبہ بندی کمیشن ایک جامع معاشی حکمت عملی فراہم کرنے کے بجائے بتدریج ایک منتشر نظام کا حصہ بنتا گیا۔</p>
<p>اس کے نتائج پوری معیشت میں نمایاں ہیں۔</p>
<p>توانائی اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پاکستان نے بارہا بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن ایندھن کی سلامتی، ترسیل، تقسیم، استطاعتِ خرید اور طلب میں اضافے کو ایک مربوط طویل مدتی حکمت عملی میں مناسب طور پر یکجا نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً بعض اوقات اضافی پیداواری صلاحیت موجود رہی، جبکہ دوسری جانب مہنگے کیپیسٹی چارجز، گردشی قرضے، غیر قابلِ اعتماد فراہمی اور صنعتوں و گھریلو صارفین کے لیے مہنگی بجلی کا مسئلہ برقرار رہا۔ ایک مضبوط تزویراتی منصوبہ بندی کا ادارہ توانائی کے تحفظ کو صنعتی پالیسی، برآمدات اور مالی پائیداری کے ساتھ مربوط کر سکتا تھا، بجائے اس کے کہ ہر بحران کو الگ الگ مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا۔</p>
<p>برآمدات بھی اس کی ایک اور مثال ہیں۔ پاکستان نے بارہا برآمدی اہداف اور مراعاتی پیکیجز کا اعلان کیا، لیکن کم قدر والی اجناس اور روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر اعلیٰ قدر کی حامل مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، خدمات اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی سپلائی چینز کی طرف منتقلی کے لیے طویل مدتی حکمت عملی برقرار نہیں رکھ سکا۔ جن ممالک نے کامیابی سے اپنی معیشتیں تبدیل کیں، انہوں نے ہنرمندی، بنیادی ڈھانچے، مالیات، ٹیکنالوجی اور صنعتی پالیسی میں مسلسل ہم آہنگی کے ذریعے یہ مقصد حاصل کیا۔ پاکستان نے اکثر پچھلی حکمت عملی کے ثمر آور ہونے سے پہلے ہی سمت تبدیل کر لی۔</p>
<p>انسانی سرمائے کے معاملے میں بھی یہی کمزوری نمایاں ہے۔ تعلیم، فنی تربیت، صحت اور افرادی قوت کی ترقی کو عموماً معاشرتی شعبے کے اخراجات سمجھا گیا، جبکہ انہیں معاشی حکمت عملی کے بنیادی اجزا کے طور پر دیکھنے کی ضرورت تھی۔ حالانکہ مستقبل میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کا انحصار آبادی کے حجم سے کم اور اس کے لوگوں کی پیداواری صلاحیت اور مہارتوں پر زیادہ ہوگا۔</p>
<p>تزویراتی منصوبہ بندی کا مقصد ہی یہی ہے۔</p>
<p>اس کے بجائے پاکستان بتدریج منصوبہ بندی سے بحرانوں کی فوری روک تھام کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ ساختی مسائل کو اس وقت تک بڑھنے دیا جاتا ہے جب تک وہ بحران نہ بن جائیں، جس کے بعد حکومتیں اکثر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قلیل مدتی حل تلاش کرتی ہیں۔</p>
<p>یہ صورت حال ایک اہم ادارہ جاتی سوال اٹھاتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی قیادت بنیادی طور پر وزارت خزانہ ہی کرتی ہے، جو قابلِ فہم ہے کیونکہ ایسے پروگراموں میں مالیاتی، زرّی اور ادائیگیوں کے توازن سے متعلق مسائل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف کی شرائط اب ان شعبوں سے کہیں آگے بڑھ کر توانائی، ٹیکسوں، سرکاری سرمایہ کاری، سرکاری ملکیتی اداروں، سبسڈیز اور ساختی اصلاحات تک پھیل چکی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا منصوبہ بندی کمیشن کا اس عمل میں ایک جائز کردار ہے۔</p>
<p>منصوبہ بندی کی وزارت کی جانب سے وزیراعظم سے آئی ایم ایف مذاکرات میں شمولیت کی درخواست کو محض وزارت خزانہ کے ساتھ ادارہ جاتی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ پاکستان کے معاشی نظم و نسق میں ایک بڑی خامی کو اجاگر کرتی ہے: جب فوری مالی استحکام بحث پر غالب آ جائے تو ملک کے درمیانی اور طویل مدتی ترقیاتی مفادات کی نمائندگی کون کرے گا؟</p>
<p>اس کا جواب منصوبہ بندی کمیشن ہونا چاہیے—وزارت خزانہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ساتھ مل کر۔</p>
<p>وزارت خزانہ کو مالیاتی اور مالی معاملات سے متعلق مذاکرات کی قیادت جاری رکھنی چاہیے، تاہم منصوبہ بندی کمیشن کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے جانے والے وعدے قومی ترقیاتی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان مستقل طور پر ایک آئی ایم ایف پروگرام سے دوسرے پروگرام تک اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں مذاکرات نہیں کر سکتا۔</p>
<p>اس کا حل یہ نہیں کہ پرانے منصوبہ بندی کمیشن کو عین اسی شکل میں بحال کر دیا جائے۔ اسے بنیادی طور پر ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اول، اسے حکومت کا طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا مرکزی ادارہ بننا چاہیے، جو پانچ سالہ عملی منصوبوں اور سالانہ قابلِ پیمائش اہداف کی مدد سے 10 سے 15 سال پر محیط ایک متحرک قومی فریم ورک تیار کرے۔</p>
<p>دوم، منصوبہ بندی کو نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہر بڑی قومی ترجیح—برآمدات، پیداواری صلاحیت، توانائی کا تحفظ، زراعت، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، پانی، رسد و نقل و حمل، تعلیم، صحت اور ہنرمندی—کے لیے قابلِ پیمائش اہداف، مالی ضروریات، مقررہ مدت اور واضح طور پر متعین ادارہ جاتی ذمہ داری موجود ہونی چاہیے۔</p>
<p>سوم، کمیشن کو اپنی فکری صلاحیت دوبارہ حاصل کرنا ہوگی۔ ممتاز ماہرینِ معاشیات، انجینئرز، شماریات دانوں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، سماجی شعبے کے ماہرین اور نجی شعبے کے پیشہ ور افراد کو مسابقتی بنیادوں پر بھرتی کیا جانا چاہیے۔ ایک تزویراتی ادارہ روایتی بیوروکریٹک سوچ کے زیرِ اثر نہیں رہ سکتا۔</p>
<p>چہارم، منصوبہ بندی کو براہِ راست بجٹ سے منسلک کرنا ہوگا۔ اگر سالانہ بجٹ میں وسائل قلیل مدتی سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت مختص کیے جائیں تو قومی ترجیحات کا تعین کرنے کی کوئی خاص افادیت نہیں رہتی۔</p>
<p>آخر میں، کمیشن کے پاس یہ جانچنے کا اختیار اور صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ آیا سرکاری سرمایہ کاری حقیقتاً معاشی اور سماجی فوائد فراہم کر رہی ہے یا نہیں۔</p>
<p>پاکستان کو منصوبوں کی کمی کا سامنا نہیں۔ مسئلہ تزویراتی تسلسل، عمل درآمد میں نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے فقدان کا ہے۔</p>
<p>منصوبہ بندی کمیشن ایک زمانے میں اس تصور کی علامت تھا کہ پاکستان محض حالات پر ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اپنے معاشی مستقبل کی سمت خود متعین کر سکتا ہے۔ یہ کردار بتدریج اس سے چھن گیا۔ اسے بحال کرنے کے لیے سیاسی سرپرستی، پیشہ ورانہ خودمختاری اور قلیل مدتی مصلحت کو طویل مدتی قومی مفاد کے تابع کرنے کے عزم کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>کمیشن کو ایک بار پھر وہ ادارہ بننا چاہیے جہاں پاکستان صرف یہ طے نہ کرے کہ اگلے بحران سے کیسے بچنا ہے، بلکہ یہ بھی طے کرے کہ ایسی معیشت کیسے تعمیر کرنی ہے جو اگلے بحران کو جنم لینے ہی سے روکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291734</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Sep 2026 16:04:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/26160135a65b6c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/26160135a65b6c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر : اصلاحات کس قیمت پر؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291694/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ٹیکس انتظامیہ کو ایک بار پھر بیرونی مالی معاونت سے ٹیکنالوجی کے ذریعے اصلاحات کا حل پیش کیا جارہا ہے۔ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 57.109 ارب روپے مالیت کے ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن (ٹی اے ڈی آر اے) منصوبے کی منظوری کے لیے اسے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کی مجوزہ لاگت تقریباً 200 ملین ڈالر ہے، جس کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے رعایتی قرضے سے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حتمی منظوری نہیں بلکہ مشروط سفارش ہے۔ ایکنک میں غور، اے ڈی بی بورڈ کی منظوری، قرض مذاکرات اور معاہدے پر دستخط کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ یہ فرق اہم ہے۔ تاہم جانچ پڑتال کے دوران ایک اور زیادہ تشویش ناک معاملہ سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر صحافی کی جانب سے رپورٹ کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے ترقیاتی شراکت داروں سے پہلے ہی تقریباً 4.7 ارب ڈالر حاصل کیے جاچکے ہیں۔ کمیشن نے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ، پاکستان سنگل ونڈو، انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم اور پاکستان ریزز ریونیو (پی آر آر) منصوبوں کے اثرات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجوزہ نئے قرضے کے بعد یہ مجموعی رقم 4.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ابھی تک اس رقم کی منصوبے کے حساب سے تفصیل اور مفاہمت کا ریکارڈ شائع نہیں کیا۔ ذیل میں دیا گیا چارٹ قرض دینے والے اداروں کی ویب سائٹس وغیرہ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر صورتحال ظاہر کرتا ہے۔ نومبر 2024 میں ایک آزاد تھنک ٹینک کی شائع کردہ  ورلڈ بینک آر آر آر لون نامی رپورٹ بھی توجہ طلب ہے۔ اس میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا ورلڈ بینک کے 400 ملین ڈالر کے آپریشن سے آمدن میں پائیدار اضافہ، ٹیکس دائرہ کار میں وسعت، ٹیکس تعمیل میں آسانی اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ اور سابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کے انٹرویوز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر اخراجات کی سست رفتار، ٹیکس دائرہ کار میں حقیقی توسیع کی کمزوری اور ادارہ جاتی مزاحمت کو مستقل مسائل قرار دیا گیا ہے۔ مجوزہ ٹی اے ڈی آر اے قرضے کے تناظر میں یہ خدشات مزید اہم ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس مطالعے کو احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ مستقبل کی پالیسی کا تجزیہ ہے، آڈٹ یا کسی سبب و نتیجے کے حتمی جائزے کی رپورٹ نہیں۔ اس میں دی گئی تاریخی مالی معاونت کی جدول 4.7 ارب ڈالر کے اعدادوشمار کی تصدیق نہیں کرتی۔ فہرست میں شامل رقوم کا مجموعہ تقریباً 3.535 ارب ڈالر بنتا ہے، جس میں قرضے، گرانٹس، تکنیکی معاونت، صوبائی پبلک فنانس پروگرام اور عمومی معاشی استحکام کی معاونت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اندراج میں سیکنڈ بلوچستان ریسورس مینجمنٹ پروگرام کی رقم 900 ملین ڈالر درج ہے، جبکہ اے ڈی بی کے 2008 کے سرکاری اعلان کے مطابق اس منصوبے کے لیے 100 ملین ڈالر کا قرض اور 0.8 ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت کی گرانٹ دی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ منصوبہ بندی کمیشن کے پاس زیادہ وسیع اور درست مالی تفصیل موجود ہو، جسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آر آر کا سرکاری ریکارڈ بھی اس مطالعے میں اٹھائے گئے بنیادی خدشے کو تقویت دیتا ہے۔ ورلڈ بینک نے 2019 میں پی آر آر منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 320 ملین ڈالر مخصوص نتائج سے مشروط تھے، جبکہ 80 ملین ڈالر ایف بی آر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں روایتی سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 2025 میں بینک نے مزید 70 ملین ڈالر کی منظوری دی، جس کے بعد مجموعی مالی معاونت 470 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ اصل منصوبہ اب بھی جاری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 جون 2026 کی تازہ ورلڈ بینک امپلیمنٹیشن رپورٹ میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ترقیاتی مقصد کے حصول میں پیش رفت کی درجہ بندی مطمئن کن سے کم کرکے درمیانے درجے کی مطمئن کن کردی گئی۔ مجموعی عملدرآمد بھی درمیانے درجے کا مطمئن کن رہا، جبکہ مجموعی خطرے کی سطح نمایاں قرار دی گئی۔ ایف بی آر کی وصولیاں مالی سال 2024 میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 9 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 10 فیصد ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد 47 لاکھ 38 ہزار سے بڑھ کر 69 لاکھ 81 ہزار ہوگئی۔ ڈیٹا شیئرنگ میں اضافہ ہوا، بعض کاروباری امور کو خودکار بنایا گیا اور مرکزی ڈیٹا سینٹر کا بنیادی سامان نصب کیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست اور منصفانہ نہیں ہوگا کہ منصوبے کے تحت کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ صرف اعدادوشمار کافی نہیں۔ مالی سال 2023 میں 44 لاکھ 35 ہزار افراد فعال ٹیکس دہندگان قرار دیے گئے، لیکن ان میں سے صرف 23 لاکھ 25 ہزار افراد نے اپنے ریٹرن کے ساتھ کوئی ٹیکس ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائلرز کی تعداد میں اضافہ بذات خود ٹیکس ادا کرنے والوں کے دائرے میں وسعت یا پی آر آر منصوبے کے نتیجے میں اضافی ٹیکس وصولی کا ثبوت نہیں۔ دو اہم نتائج کے حوالے سے اب بھی اعدادوشمار دستیاب نہیں تھے، جن میں ریٹرن تیار کرنے، فائل کرنے اور ٹیکس ادا کرنے میں درکار وقت اور کسٹمز کلیئرنس کی کارکردگی شامل ہیں۔ ٹیکس دہندگان کا سروے بھی نہیں کیا گیا تھا، جبکہ کسٹمز سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل ابھی شروع ہوا تھا۔ واحد سیلز ٹیکس پورٹل اب بھی مخصوص شعبوں تک محدود تھا، جبکہ ٹیکس کٹوتی کی 33 مدیں ختم کرنے کے ہدف کے مقابلے میں بدستور برقرار تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اصطلاحات نے بھی صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔ جون 2026 تک نظرثانی شدہ اصل قرض میں سے 33 کروڑ 61 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی 85.28 فیصد رقم جاری کی جاچکی تھی۔ اضافی 7 کروڑ ڈالر کے قرض میں سے کوئی رقم جاری نہیں ہوئی تھی۔ قرض کی رقم جاری ہونا اس بات کے مترادف نہیں کہ ٹیکنالوجی نصب ہوگئی یا اضافی ٹیکس وصول کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;32 کروڑ ڈالر کا نتائج سے مشروط حصہ طے شدہ شرائط کی تصدیق کے بعد ایف بی آر کے اہل اخراجات کی ادائیگی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ آڈیٹر جنرل کے مالی گوشواروں میں ملازمین کے اخراجات، انتظامی اخراجات اور مرمت سمیت دیگر مدیں شامل ہیں۔ اس لیے جاری کی گئی پوری رقم کو ڈیجیٹل نظام پر خرچ قرار دینا گمراہ کن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل نے نتیجہ اخذ کیا کہ مالی گوشواروں میں نقد وصولیوں اور ادائیگیوں کی منصفانہ عکاسی کی گئی ہے اور اخراجات قانونی معاہدوں کے مطابق تھے۔ یہ اہم بات ہے کہ دستیاب آڈٹ رپورٹ میں رقم کے غائب ہونے یا خوردبرد ہونے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ جون 2025 تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 8 کروڑ ڈالر کے حصے کے مقابلے میں مجموعی اخراجات صرف 2.28 ارب روپے رہے، جو عملدرآمد میں سنگین تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔ آڈٹ کی کلیئر رائے مالیاتی ضوابط کی پابندی سے متعلق ہے۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ منصوبے سے رقم کے مقابلے میں مطلوبہ فائدہ حاصل ہوا یا ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اس منصوبے کی مداخلت کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی اے ڈی آر اے کو اس نامکمل ریکارڈ کی روشنی میں جانچنا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کنسلٹنسی خدمات کے لیے جبکہ مزید ایک کروڑ ڈالر منصوبے کے انتظام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ دونوں مدیں ملا کر مجوزہ قرضے کا 45.5 فیصد بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پی آر آر نے بنیادی نظام تشکیل دیے مگر  اس کے ڈیٹا سینٹرز گرافکس پروسیسنگ یونٹ پر مبنی مشین لرننگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ تکنیکی طور پر درست ہوسکتا ہے، لیکن محض دعویٰ فزیبلٹی اسٹڈی کا متبادل نہیں۔ جائزہ لینے والوں نے مناسب خلا کے تجزیے، جامع ڈیٹا سیکیورٹی فریم ورک، واضح ڈیٹا گورننس اور اوپن سورس متبادل کے جائزے کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی۔ اس منصوبے کو ایف بی آر کے الگ سے منظور شدہ 350 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن پلان کے ساتھ بھی ہم آہنگ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹلائزیشن ناقص ٹیکس پالیسی کو درست نہیں کرسکتی۔ پاکستان کا نظام اب بھی ودہولڈنگ ٹیکس، کم از کم اور قیاسی ٹیکس، بالواسطہ محصولات اور پہلے سے دستاویزی افراد سے جبری وصولیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈیٹا پر کارروائی کرسکتی ہے، لیکن یہ آئینی ٹیکس پالیسی، ادارہ جاتی دیانت داری یا سیاسی عزم فراہم نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری کتاب پاکستان میں ٹیکس اصلاحات : تاریخی و تنقیدی جائزہ (پائیڈ، 2020) میں واضح کیا گیا ہے کہ بیرون ملک سے مالی معاونت سے چلنے والے اصلاحاتی پروگرام بارہا ایسے نظاموں کے لیے فنڈز فراہم کرتے رہے ہیں جو انتظامی تقسیم، غیر منطقی قوانین، ٹیکس استثنیٰ، ریفنڈز میں رکاوٹوں اور طاقتور غیر ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں کو حاصل سیاسی تحفظ جیسے بنیادی مسائل حل نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکنک کو چاہیے کہ چار اہم ریکارڈ عوام کے سامنے آنے تک منظوری مؤخر کردے۔ پہلا ریکارڈ ہر ٹیکس اصلاحاتی قرض، گرانٹ اور تکنیکی معاونت کے منصوبے کی مکمل مفاہمتی تفصیل پر مشتمل ہو، جس میں منظوری، جاری شدہ رقوم، زیر التوا واجبات، اثاثے اور فراہم کیے گئے نظام کی تفصیلات شامل ہوں۔ دوسرا ریکارڈ سابقہ پروگراموں کا آزادانہ طور پر تیار کردہ مالی افادیت اور اثرات کا آڈٹ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس :&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1۔ 4.699 ارب ڈالر کا درست تخمینہ ایک آزادانہ طور پر مرتب کی گئی تفصیل ہے، منصوبہ بندی کمیشن کے طریقہ کار کا ثبوت نہیں، کیونکہ کمیشن کی مد وار تفصیل دستیاب نہیں ہوسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2۔ پائیڈ کے 2024 کے مقالے میں بھی تقریباً 1.1 ارب ڈالر کا ذکر ہے اور اس سے 4.7 ارب ڈالر کا مجموعہ ثابت نہیں ہوتا۔ اس میں ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ (ٹارپ) سے منسوب ابتدائی 400 ملین ڈالر کا ذکر ورلڈ بینک کی 102.9 ملین ڈالر کی قرض کمٹمنٹس سے مطابقت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3۔ پرائم کی جدول میں میکرو اکنامک، صوبائی اور ٹیکس سے متعلق آپریشنز کو یکجا کیا گیا ہے۔ مصنف کی اصلاح کے مطابق اس کا عنوان پالیسی قرضوں سے متعلق ہونا چاہیے تھا، جبکہ نجی ای میل کے ذریعے حاصل کردہ ذریعے کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4۔ منظور شدہ لاگت، کمٹمنٹ، ضمانت، حکومت کی جانب سے کیے گئے اخراجات اور جاری شدہ رقم ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/250631008b08ee2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/250631008b08ee2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تیسرا ریکارڈ موجودہ نظاموں کی مکمل فہرست اور انہیں دوبارہ استعمال کرنے کا منصوبہ ہونا چاہیے، جس میں ہر مجوزہ کنسلٹنسی، لائسنس، ڈیٹا سینٹر اور خریداری کی وضاحت کی جائے۔ چوتھا ریکارڈ نتائج کا ایسا فریم ورک ہو جس میں حقیقی طور پر وصول کیے گئے اضافی ٹیکس، ٹیکس ادا کرنے کے ذمہ دار مثبت ذمہ داری رکھنے والے ٹیکس دہندگان، تعمیل میں صرف ہونے والے گھنٹے، ریفنڈ کے دورانیے، آڈٹ سے حاصل ہونے والی وصولی، کسٹمز کلیئرنس میں لگنے والے وقت، نظام کی دستیابی اور سائبر سیکیورٹی کی کارکردگی کی پیمائش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازعے کو اس غیر ثابت شدہ دعوے تک محدود نہیں کرنا چاہیے کہ 5 ارب ڈالر غائب ہوگئے ہیں۔ دستاویزی طور پر سامنے آنے والی ناکامی ادارہ جاتی نوعیت کی ہے : ریاست نے ماضی کے قرضوں سے حاصل ہونے والے اثاثوں، نتائج اور اضافی آمدن کا جامع آڈٹ ریکارڈ شائع کیے بغیر ایک اور قرض لینے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واجبات پاکستان کے عوام سے متعلق ہیں، جنہیں آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ کیا قرض لیا گیا، کیا فراہم کیا گیا اور اس کے لیے کون جواب دہ تھا۔ ایکنک اور اے ڈی بی کو مزید ایک ڈالر کی منظوری سے قبل یہ ریکارڈ طلب کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی ٹیکس انتظامیہ کو ایک بار پھر بیرونی مالی معاونت سے ٹیکنالوجی کے ذریعے اصلاحات کا حل پیش کیا جارہا ہے۔ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 57.109 ارب روپے مالیت کے ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن (ٹی اے ڈی آر اے) منصوبے کی منظوری کے لیے اسے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔</strong></p>
<p>منصوبے کی مجوزہ لاگت تقریباً 200 ملین ڈالر ہے، جس کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے رعایتی قرضے سے کی جائے گی۔</p>
<p>یہ حتمی منظوری نہیں بلکہ مشروط سفارش ہے۔ ایکنک میں غور، اے ڈی بی بورڈ کی منظوری، قرض مذاکرات اور معاہدے پر دستخط کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ یہ فرق اہم ہے۔ تاہم جانچ پڑتال کے دوران ایک اور زیادہ تشویش ناک معاملہ سامنے آیا۔</p>
<p>ایک سینئر صحافی کی جانب سے رپورٹ کیے گئے سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن نے نشاندہی کی کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے ترقیاتی شراکت داروں سے پہلے ہی تقریباً 4.7 ارب ڈالر حاصل کیے جاچکے ہیں۔ کمیشن نے ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ، پاکستان سنگل ونڈو، انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم اور پاکستان ریزز ریونیو (پی آر آر) منصوبوں کے اثرات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجوزہ نئے قرضے کے بعد یہ مجموعی رقم 4.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p>حکومت نے ابھی تک اس رقم کی منصوبے کے حساب سے تفصیل اور مفاہمت کا ریکارڈ شائع نہیں کیا۔ ذیل میں دیا گیا چارٹ قرض دینے والے اداروں کی ویب سائٹس وغیرہ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر صورتحال ظاہر کرتا ہے۔ نومبر 2024 میں ایک آزاد تھنک ٹینک کی شائع کردہ  ورلڈ بینک آر آر آر لون نامی رپورٹ بھی توجہ طلب ہے۔ اس میں سوال اٹھایا گیا کہ آیا ورلڈ بینک کے 400 ملین ڈالر کے آپریشن سے آمدن میں پائیدار اضافہ، ٹیکس دائرہ کار میں وسعت، ٹیکس تعمیل میں آسانی اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئی۔</p>
<p>موجودہ اور سابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام کے انٹرویوز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر اخراجات کی سست رفتار، ٹیکس دائرہ کار میں حقیقی توسیع کی کمزوری اور ادارہ جاتی مزاحمت کو مستقل مسائل قرار دیا گیا ہے۔ مجوزہ ٹی اے ڈی آر اے قرضے کے تناظر میں یہ خدشات مزید اہم ہوگئے ہیں۔</p>
<p>لیکن اس مطالعے کو احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ مستقبل کی پالیسی کا تجزیہ ہے، آڈٹ یا کسی سبب و نتیجے کے حتمی جائزے کی رپورٹ نہیں۔ اس میں دی گئی تاریخی مالی معاونت کی جدول 4.7 ارب ڈالر کے اعدادوشمار کی تصدیق نہیں کرتی۔ فہرست میں شامل رقوم کا مجموعہ تقریباً 3.535 ارب ڈالر بنتا ہے، جس میں قرضے، گرانٹس، تکنیکی معاونت، صوبائی پبلک فنانس پروگرام اور عمومی معاشی استحکام کی معاونت شامل ہے۔</p>
<p>ایک اندراج میں سیکنڈ بلوچستان ریسورس مینجمنٹ پروگرام کی رقم 900 ملین ڈالر درج ہے، جبکہ اے ڈی بی کے 2008 کے سرکاری اعلان کے مطابق اس منصوبے کے لیے 100 ملین ڈالر کا قرض اور 0.8 ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت کی گرانٹ دی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ منصوبہ بندی کمیشن کے پاس زیادہ وسیع اور درست مالی تفصیل موجود ہو، جسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔</p>
<p>پی آر آر کا سرکاری ریکارڈ بھی اس مطالعے میں اٹھائے گئے بنیادی خدشے کو تقویت دیتا ہے۔ ورلڈ بینک نے 2019 میں پی آر آر منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 320 ملین ڈالر مخصوص نتائج سے مشروط تھے، جبکہ 80 ملین ڈالر ایف بی آر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں روایتی سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 2025 میں بینک نے مزید 70 ملین ڈالر کی منظوری دی، جس کے بعد مجموعی مالی معاونت 470 ملین ڈالر ہوگئی، جبکہ اصل منصوبہ اب بھی جاری تھا۔</p>
<p>4 جون 2026 کی تازہ ورلڈ بینک امپلیمنٹیشن رپورٹ میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ترقیاتی مقصد کے حصول میں پیش رفت کی درجہ بندی مطمئن کن سے کم کرکے درمیانے درجے کی مطمئن کن کردی گئی۔ مجموعی عملدرآمد بھی درمیانے درجے کا مطمئن کن رہا، جبکہ مجموعی خطرے کی سطح نمایاں قرار دی گئی۔ ایف بی آر کی وصولیاں مالی سال 2024 میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 9 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 10 فیصد ہوگئیں۔</p>
<p>انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد 47 لاکھ 38 ہزار سے بڑھ کر 69 لاکھ 81 ہزار ہوگئی۔ ڈیٹا شیئرنگ میں اضافہ ہوا، بعض کاروباری امور کو خودکار بنایا گیا اور مرکزی ڈیٹا سینٹر کا بنیادی سامان نصب کیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست اور منصفانہ نہیں ہوگا کہ منصوبے کے تحت کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔</p>
<p>تاہم اسی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ صرف اعدادوشمار کافی نہیں۔ مالی سال 2023 میں 44 لاکھ 35 ہزار افراد فعال ٹیکس دہندگان قرار دیے گئے، لیکن ان میں سے صرف 23 لاکھ 25 ہزار افراد نے اپنے ریٹرن کے ساتھ کوئی ٹیکس ادا کیا۔</p>
<p>فائلرز کی تعداد میں اضافہ بذات خود ٹیکس ادا کرنے والوں کے دائرے میں وسعت یا پی آر آر منصوبے کے نتیجے میں اضافی ٹیکس وصولی کا ثبوت نہیں۔ دو اہم نتائج کے حوالے سے اب بھی اعدادوشمار دستیاب نہیں تھے، جن میں ریٹرن تیار کرنے، فائل کرنے اور ٹیکس ادا کرنے میں درکار وقت اور کسٹمز کلیئرنس کی کارکردگی شامل ہیں۔ ٹیکس دہندگان کا سروے بھی نہیں کیا گیا تھا، جبکہ کسٹمز سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل ابھی شروع ہوا تھا۔ واحد سیلز ٹیکس پورٹل اب بھی مخصوص شعبوں تک محدود تھا، جبکہ ٹیکس کٹوتی کی 33 مدیں ختم کرنے کے ہدف کے مقابلے میں بدستور برقرار تھیں۔</p>
<p>مالیاتی اصطلاحات نے بھی صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔ جون 2026 تک نظرثانی شدہ اصل قرض میں سے 33 کروڑ 61 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی 85.28 فیصد رقم جاری کی جاچکی تھی۔ اضافی 7 کروڑ ڈالر کے قرض میں سے کوئی رقم جاری نہیں ہوئی تھی۔ قرض کی رقم جاری ہونا اس بات کے مترادف نہیں کہ ٹیکنالوجی نصب ہوگئی یا اضافی ٹیکس وصول کرلیا گیا۔</p>
<p>32 کروڑ ڈالر کا نتائج سے مشروط حصہ طے شدہ شرائط کی تصدیق کے بعد ایف بی آر کے اہل اخراجات کی ادائیگی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ آڈیٹر جنرل کے مالی گوشواروں میں ملازمین کے اخراجات، انتظامی اخراجات اور مرمت سمیت دیگر مدیں شامل ہیں۔ اس لیے جاری کی گئی پوری رقم کو ڈیجیٹل نظام پر خرچ قرار دینا گمراہ کن ہوگا۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل نے نتیجہ اخذ کیا کہ مالی گوشواروں میں نقد وصولیوں اور ادائیگیوں کی منصفانہ عکاسی کی گئی ہے اور اخراجات قانونی معاہدوں کے مطابق تھے۔ یہ اہم بات ہے کہ دستیاب آڈٹ رپورٹ میں رقم کے غائب ہونے یا خوردبرد ہونے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ جون 2025 تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 8 کروڑ ڈالر کے حصے کے مقابلے میں مجموعی اخراجات صرف 2.28 ارب روپے رہے، جو عملدرآمد میں سنگین تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔ آڈٹ کی کلیئر رائے مالیاتی ضوابط کی پابندی سے متعلق ہے۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ منصوبے سے رقم کے مقابلے میں مطلوبہ فائدہ حاصل ہوا یا ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اس منصوبے کی مداخلت کا نتیجہ تھا۔</p>
<p>ٹی اے ڈی آر اے کو اس نامکمل ریکارڈ کی روشنی میں جانچنا ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کنسلٹنسی خدمات کے لیے جبکہ مزید ایک کروڑ ڈالر منصوبے کے انتظام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ دونوں مدیں ملا کر مجوزہ قرضے کا 45.5 فیصد بنتی ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پی آر آر نے بنیادی نظام تشکیل دیے مگر  اس کے ڈیٹا سینٹرز گرافکس پروسیسنگ یونٹ پر مبنی مشین لرننگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ تکنیکی طور پر درست ہوسکتا ہے، لیکن محض دعویٰ فزیبلٹی اسٹڈی کا متبادل نہیں۔ جائزہ لینے والوں نے مناسب خلا کے تجزیے، جامع ڈیٹا سیکیورٹی فریم ورک، واضح ڈیٹا گورننس اور اوپن سورس متبادل کے جائزے کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی۔ اس منصوبے کو ایف بی آر کے الگ سے منظور شدہ 350 ارب روپے کے ٹرانسفارمیشن پلان کے ساتھ بھی ہم آہنگ کرنا ہوگا۔</p>
<p>ڈیجیٹلائزیشن ناقص ٹیکس پالیسی کو درست نہیں کرسکتی۔ پاکستان کا نظام اب بھی ودہولڈنگ ٹیکس، کم از کم اور قیاسی ٹیکس، بالواسطہ محصولات اور پہلے سے دستاویزی افراد سے جبری وصولیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈیٹا پر کارروائی کرسکتی ہے، لیکن یہ آئینی ٹیکس پالیسی، ادارہ جاتی دیانت داری یا سیاسی عزم فراہم نہیں کرسکتی۔</p>
<p>ہماری کتاب پاکستان میں ٹیکس اصلاحات : تاریخی و تنقیدی جائزہ (پائیڈ، 2020) میں واضح کیا گیا ہے کہ بیرون ملک سے مالی معاونت سے چلنے والے اصلاحاتی پروگرام بارہا ایسے نظاموں کے لیے فنڈز فراہم کرتے رہے ہیں جو انتظامی تقسیم، غیر منطقی قوانین، ٹیکس استثنیٰ، ریفنڈز میں رکاوٹوں اور طاقتور غیر ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں کو حاصل سیاسی تحفظ جیسے بنیادی مسائل حل نہیں کرتے۔</p>
<p>ایکنک کو چاہیے کہ چار اہم ریکارڈ عوام کے سامنے آنے تک منظوری مؤخر کردے۔ پہلا ریکارڈ ہر ٹیکس اصلاحاتی قرض، گرانٹ اور تکنیکی معاونت کے منصوبے کی مکمل مفاہمتی تفصیل پر مشتمل ہو، جس میں منظوری، جاری شدہ رقوم، زیر التوا واجبات، اثاثے اور فراہم کیے گئے نظام کی تفصیلات شامل ہوں۔ دوسرا ریکارڈ سابقہ پروگراموں کا آزادانہ طور پر تیار کردہ مالی افادیت اور اثرات کا آڈٹ ہو۔</p>
<p>نوٹس :</p>
<p>1۔ 4.699 ارب ڈالر کا درست تخمینہ ایک آزادانہ طور پر مرتب کی گئی تفصیل ہے، منصوبہ بندی کمیشن کے طریقہ کار کا ثبوت نہیں، کیونکہ کمیشن کی مد وار تفصیل دستیاب نہیں ہوسکی۔</p>
<p>2۔ پائیڈ کے 2024 کے مقالے میں بھی تقریباً 1.1 ارب ڈالر کا ذکر ہے اور اس سے 4.7 ارب ڈالر کا مجموعہ ثابت نہیں ہوتا۔ اس میں ٹیکس ایڈمنسٹریشن ریفارم پروجیکٹ (ٹارپ) سے منسوب ابتدائی 400 ملین ڈالر کا ذکر ورلڈ بینک کی 102.9 ملین ڈالر کی قرض کمٹمنٹس سے مطابقت نہیں رکھتا۔</p>
<p>3۔ پرائم کی جدول میں میکرو اکنامک، صوبائی اور ٹیکس سے متعلق آپریشنز کو یکجا کیا گیا ہے۔ مصنف کی اصلاح کے مطابق اس کا عنوان پالیسی قرضوں سے متعلق ہونا چاہیے تھا، جبکہ نجی ای میل کے ذریعے حاصل کردہ ذریعے کو بھی مسترد کیا گیا ہے۔</p>
<p>4۔ منظور شدہ لاگت، کمٹمنٹ، ضمانت، حکومت کی جانب سے کیے گئے اخراجات اور جاری شدہ رقم ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/250631008b08ee2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/250631008b08ee2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تیسرا ریکارڈ موجودہ نظاموں کی مکمل فہرست اور انہیں دوبارہ استعمال کرنے کا منصوبہ ہونا چاہیے، جس میں ہر مجوزہ کنسلٹنسی، لائسنس، ڈیٹا سینٹر اور خریداری کی وضاحت کی جائے۔ چوتھا ریکارڈ نتائج کا ایسا فریم ورک ہو جس میں حقیقی طور پر وصول کیے گئے اضافی ٹیکس، ٹیکس ادا کرنے کے ذمہ دار مثبت ذمہ داری رکھنے والے ٹیکس دہندگان، تعمیل میں صرف ہونے والے گھنٹے، ریفنڈ کے دورانیے، آڈٹ سے حاصل ہونے والی وصولی، کسٹمز کلیئرنس میں لگنے والے وقت، نظام کی دستیابی اور سائبر سیکیورٹی کی کارکردگی کی پیمائش کی جائے۔</p>
<p>اس تنازعے کو اس غیر ثابت شدہ دعوے تک محدود نہیں کرنا چاہیے کہ 5 ارب ڈالر غائب ہوگئے ہیں۔ دستاویزی طور پر سامنے آنے والی ناکامی ادارہ جاتی نوعیت کی ہے : ریاست نے ماضی کے قرضوں سے حاصل ہونے والے اثاثوں، نتائج اور اضافی آمدن کا جامع آڈٹ ریکارڈ شائع کیے بغیر ایک اور قرض لینے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>یہ واجبات پاکستان کے عوام سے متعلق ہیں، جنہیں آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ کیا قرض لیا گیا، کیا فراہم کیا گیا اور اس کے لیے کون جواب دہ تھا۔ ایکنک اور اے ڈی بی کو مزید ایک ڈالر کی منظوری سے قبل یہ ریکارڈ طلب کرنا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291694</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 17:09:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25151956b76b71f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25151956b76b71f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ہاں، بانڈز ایک بار پھر محفوظ ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291644/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید ڈالر ہمیں کچھ بتانے کی کوشش کررہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، حالانکہ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی ہے، ایران جنگ میں سفارتی پیش رفت کی امید بڑھی ہے اور عالمی منڈیوں میں خطرہ مول لینے کا رجحان بھی بحال ہوگیا ہے۔ عام طور پر سستا تیل اور سازگار عالمی منڈیاں حتمی محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے ڈالر کی کشش کم کردیتی ہیں، لیکن گرین بیک مسلسل مضبوط ہورہا ہے۔ کیا سرمایہ کاروں نے آخرکار امریکی فیڈرل ریزرو پر یقین کرنا شروع کردیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ، جو فیڈرل ریزرو نے تین سال میں پہلی شرح سود میں اضافہ تھا، نے صورتحال پر بحث کا رخ بدل دیا۔ اب مارکیٹ اکتوبر میں مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے تقریباً برابر امکانات ظاہر کررہی ہے، جبکہ دسمبر تک مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کو مکمل طور پر قیمتوں میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد بھی مزید سخت مالیاتی پالیسی کی توقع ہے۔ فیڈرل ریزرو حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ مسلسل بلند افراط زر پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں۔ نتیجتاً شرح سود کے فرق نے ڈالر کے حق میں مزید رخ اختیار کیا ہے، جس سے یورو اور پاؤنڈ جولائی کے اواخر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک صورتحال واضح ہے، لیکن ڈالر کو مضبوط کرنے والی یہی تبدیلی ایک دلچسپ امکان کو جنم دے رہی ہے: چھ سال کی شدید مشکلات کے بعد بانڈز ایک بار پھر پرکشش دکھائی دینے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشکلات معمولی نہیں رہیں۔ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے بعد جی 7 ممالک کے طویل مدتی سرکاری بانڈز کی قیمتیں تقریباً نصف رہ گئی ہیں، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کے سرمایہ کار ایک اور مشکل سال سے گزر رہے ہیں۔ بڑی معیشتوں میں 10 سے 30 سالہ سرکاری قرضوں کی شرح منافع کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن شرح منافع میں ہر نئی بلندی خریداری کرنے والے سرمایہ کار کے لیے ممکنہ منافع بھی بڑھاتی ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع تقریباً 5 فیصد ہونے اور ایس اینڈ پی 500 کی ارننگز ییلڈ اس سے معمولی زیادہ ہونے کے باعث سرکاری قرضے اب ان سرمایہ کاروں کے لیے متبادل بن رہے ہیں جو برسوں سے زیادہ خطرے والے اثاثوں میں سرمایہ لگانے پر مجبور تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا بانڈز کی طویل مندی کا دور آخرکار ختم ہونے کے قریب ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ بڑے سرمایہ کار اب یہ سوال اٹھانے لگے ہیں۔ فنڈ مینیجرز اب بھی بانڈز میں معمول سے کم سرمایہ کاری کررہے ہیں، جس سے مارکیٹ کا رجحان بدلنے کی صورت میں سرمایہ کاری کی پوزیشن تبدیل کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ آر بی سی گلوبل ایسٹ مینجمنٹ کے فکسڈ انکم شعبے آر بی سی بلیو بے کا خیال ہے کہ 2026 میں بانڈز کی قیمتوں میں آنے والی شدید گراوٹ کا بدترین مرحلہ گزر چکا ہے اور ادارے نے طویل مدتی بانڈز کے حوالے سے زیادہ مثبت مؤقف اختیار کیا ہے۔ گولڈمین سیکس کو بھی توقع ہے کہ بنیادی افراط زر میں کمی کے باعث سخت مالیاتی پالیسی سے متعلق مارکیٹ کی بعض جارحانہ توقعات بالآخر کم ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دہائی تک سرمایہ کاروں کو منافع کے لیے مارکیٹ کے نسبتاً پیچیدہ حصوں کا رخ کرنا پڑا، لیکن اب اعلیٰ معیار کے فکسڈ انکم اثاثے ایک بار پھر خاصا منافع دے رہے ہیں، وہ بھی زیادہ خطرہ مول لیے بغیر اور عموماً یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب مارکیٹیں خطرناک ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈز کے حق میں دلیل کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ آئندہ افراط زر کا رخ کیا رہتا ہے۔ فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھانا شروع کردی ہے، مزید اضافے کی توقعات مارکیٹ میں شامل ہوچکی ہیں، قیاس آرائی پر مبنی پوزیشنز ختم ہوگئی ہیں اور بلند شرح سود بالآخر طلب کو محدود کرنی چاہیے۔ اگر افراط زر کی توقعات مستحکم ہوجاتی ہیں تو موجودہ شرح منافع واقعی بہت پرکشش ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیا اس دلیل میں خاموشی سے یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرنے والا جھٹکا بھی ختم ہورہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 99 ڈالر کے قریب آگئی ہے کیونکہ سات ماہ سے جاری ایران جنگ کے حوالے سے سفارتی کوششوں سے کوئی مثبت پیش رفت ہونے کی امید بڑھ رہی ہے۔ مگر جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں خام تیل اب بھی تقریباً 37 فیصد مہنگا ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بلند ہیں، آبنائے ہرمز اب بھی عالمی سپلائی کے منظرنامے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی بے ترتیبی صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہوئی کہ برینٹ چند ڈالر نیچے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں مارکیٹیں مالیاتی سختی کی قیمتوں میں شمولیت پر شاید اس جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اعتماد کا اظہار کررہی ہیں، جس نے مالیاتی سختی کی ضرورت پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں اور آبنائے ہرمز میں صورتحال بتدریج معمول پر آجاتی ہے تو کیا ہوگا؟ خام تیل کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے، افراط زر کا دباؤ گھٹ جائے گا، مرکزی بینکوں کے پاس شرح سود مزید بڑھانے کی کم وجوہ ہوں گی اور طویل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کا معاملہ خاصا مضبوط ہوجائے گا۔ ڈالر کو حاصل موجودہ شرح سود کا فائدہ بھی بالآخر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر قابلِ فہم سرمایہ کاری حکمت عملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیکن اگر جنگ دوبارہ شدت اختیار کرگئی تو؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اب زیادہ اہم ہوگیا ہے کیونکہ ایک اور بڑے تیل بحران سے نمٹنے کے لیے دستیاب حفاظتی گنجائش جنگ کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں کم ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ ایسے وقت میں افراط زر کی توقعات کو بڑھا سکتا ہے جب مرکزی بینک مارکیٹوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ قیمتوں کا دباؤ قابو میں آرہا ہے۔ کیا فیڈرل ریزرو کے مزید تین شرح سود میں اضافے بھی کافی ہوں گے؟ اگر تیل دوبارہ تیزی سے مہنگا ہونے لگے تو کیا 5 فیصد شرح منافع والے امریکی ٹریژری بانڈز اب بھی اتنے ہی پرکشش رہیں گے؟ اور کیا آج طویل مدتی بانڈز خریدنے والے سرمایہ کار بھی، جیسا کہ اس بانڈ مندی کے دوران بارہا ہوا، یہ دریافت کریں گے کہ بظاہر غیر معمولی بلند شرح منافع مزید بلند ہوسکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیون وارش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین فارورڈ گائیڈنس کو زیادہ پسند نہیں کرتے، انہوں نے اپنی ڈاٹ پلاٹ پیش گوئی جاری کرنے سے گریز کیا ہے اور غیر جانبدار شرح سود جیسے روایتی اشاریوں کی عملی افادیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا رجحان بظاہر اس بات کا جائزہ لینے کی طرف ہے کہ افراط زر کی سمت اور پائیداری کیا ہے، بجائے اس کے کہ ماڈلز یا انفرادی اعداد و شمار پالیسی کا میکانکی طور پر تعین کریں۔ چنانچہ بانڈز کی طویل مدتی مدت میں بڑی سرمایہ کاری پر غور کرنے والی مارکیٹوں کو نہ صرف افراط زر کی پیش گوئی کرنا ہوگی بلکہ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فیڈ کا نیا نظام اس کا ردعمل کس طرح دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آخر کیا غلط ہوسکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور اسی نوعیت کی فرنٹیئر معیشتوں کے لیے یہ معاملہ محض بانڈ مینیجرز کے درمیان نظری بحث نہیں۔ مضبوط ڈالر درآمدی توانائی اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع زیادہ خطرے والے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے اثاثوں کے مقابلے میں امریکی سرکاری قرضوں کو زیادہ پرکشش بناتی ہے۔ مزید یہ کہ تیل کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ ایسے وقت میں درآمدی بل، کرنسی اور مقامی افراط زر کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جب مہنگا عالمی سرمایہ پہلے ہی پالیسی گنجائش محدود کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ایک مضبوط ڈالر، بلند امریکی شرح منافع اور توانائی کی ایک اور قیمتوں کا جھٹکا بیک وقت سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔ پاکستان کا ان تینوں عوامل پر اثر و رسوخ بہت کم، جبکہ ان سے متاثر ہونے کا امکان خاصا زیادہ ہے۔ ممکن ہے بانڈز میں تیزی کی توقع رکھنے والے سرمایہ کار درست ثابت ہوں۔ ممکن ہے 99 ڈالر کا تیل 90 ڈالر تک آجائے، سفارتی کوششیں کامیاب رہیں، افراط زر کم ہوجائے اور آج کی شرح منافع وہ موقع ثابت ہو جس کا سرمایہ کار چھ سال کی مسلسل مشکلات کے بعد انتظار کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جنگ اب بھی جاری ہے، آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور فیڈرل ریزرو کا نیا دور جان بوجھ کر خود کو زیادہ غیر یقینی بنا رہا ہے۔ تو کیا مارکیٹیں ایک بار پھر صبح ہونے کا جشن اس وقت منا رہی ہیں جب باہر ابھی اندھیرا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید ڈالر ہمیں کچھ بتانے کی کوشش کررہا ہے۔</strong></p>
<p>ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، حالانکہ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی ہے، ایران جنگ میں سفارتی پیش رفت کی امید بڑھی ہے اور عالمی منڈیوں میں خطرہ مول لینے کا رجحان بھی بحال ہوگیا ہے۔ عام طور پر سستا تیل اور سازگار عالمی منڈیاں حتمی محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے ڈالر کی کشش کم کردیتی ہیں، لیکن گرین بیک مسلسل مضبوط ہورہا ہے۔ کیا سرمایہ کاروں نے آخرکار امریکی فیڈرل ریزرو پر یقین کرنا شروع کردیا ہے؟</p>
<p>گزشتہ ہفتے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ، جو فیڈرل ریزرو نے تین سال میں پہلی شرح سود میں اضافہ تھا، نے صورتحال پر بحث کا رخ بدل دیا۔ اب مارکیٹ اکتوبر میں مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے تقریباً برابر امکانات ظاہر کررہی ہے، جبکہ دسمبر تک مزید 25 بیسس پوائنٹس اضافے کو مکمل طور پر قیمتوں میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد بھی مزید سخت مالیاتی پالیسی کی توقع ہے۔ فیڈرل ریزرو حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ مسلسل بلند افراط زر پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں۔ نتیجتاً شرح سود کے فرق نے ڈالر کے حق میں مزید رخ اختیار کیا ہے، جس سے یورو اور پاؤنڈ جولائی کے اواخر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔</p>
<p>اب تک صورتحال واضح ہے، لیکن ڈالر کو مضبوط کرنے والی یہی تبدیلی ایک دلچسپ امکان کو جنم دے رہی ہے: چھ سال کی شدید مشکلات کے بعد بانڈز ایک بار پھر پرکشش دکھائی دینے لگے ہیں۔</p>
<p>یہ مشکلات معمولی نہیں رہیں۔ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے بعد جی 7 ممالک کے طویل مدتی سرکاری بانڈز کی قیمتیں تقریباً نصف رہ گئی ہیں، جبکہ امریکی ٹریژری بانڈز کے سرمایہ کار ایک اور مشکل سال سے گزر رہے ہیں۔ بڑی معیشتوں میں 10 سے 30 سالہ سرکاری قرضوں کی شرح منافع کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے لیکن شرح منافع میں ہر نئی بلندی خریداری کرنے والے سرمایہ کار کے لیے ممکنہ منافع بھی بڑھاتی ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی شرح منافع تقریباً 5 فیصد ہونے اور ایس اینڈ پی 500 کی ارننگز ییلڈ اس سے معمولی زیادہ ہونے کے باعث سرکاری قرضے اب ان سرمایہ کاروں کے لیے متبادل بن رہے ہیں جو برسوں سے زیادہ خطرے والے اثاثوں میں سرمایہ لگانے پر مجبور تھے۔</p>
<p><strong>کیا بانڈز کی طویل مندی کا دور آخرکار ختم ہونے کے قریب ہے؟</strong></p>
<p>کچھ بڑے سرمایہ کار اب یہ سوال اٹھانے لگے ہیں۔ فنڈ مینیجرز اب بھی بانڈز میں معمول سے کم سرمایہ کاری کررہے ہیں، جس سے مارکیٹ کا رجحان بدلنے کی صورت میں سرمایہ کاری کی پوزیشن تبدیل کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ آر بی سی گلوبل ایسٹ مینجمنٹ کے فکسڈ انکم شعبے آر بی سی بلیو بے کا خیال ہے کہ 2026 میں بانڈز کی قیمتوں میں آنے والی شدید گراوٹ کا بدترین مرحلہ گزر چکا ہے اور ادارے نے طویل مدتی بانڈز کے حوالے سے زیادہ مثبت مؤقف اختیار کیا ہے۔ گولڈمین سیکس کو بھی توقع ہے کہ بنیادی افراط زر میں کمی کے باعث سخت مالیاتی پالیسی سے متعلق مارکیٹ کی بعض جارحانہ توقعات بالآخر کم ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>ایک دہائی تک سرمایہ کاروں کو منافع کے لیے مارکیٹ کے نسبتاً پیچیدہ حصوں کا رخ کرنا پڑا، لیکن اب اعلیٰ معیار کے فکسڈ انکم اثاثے ایک بار پھر خاصا منافع دے رہے ہیں، وہ بھی زیادہ خطرہ مول لیے بغیر اور عموماً یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب مارکیٹیں خطرناک ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>بانڈز کے حق میں دلیل کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ آئندہ افراط زر کا رخ کیا رہتا ہے۔ فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھانا شروع کردی ہے، مزید اضافے کی توقعات مارکیٹ میں شامل ہوچکی ہیں، قیاس آرائی پر مبنی پوزیشنز ختم ہوگئی ہیں اور بلند شرح سود بالآخر طلب کو محدود کرنی چاہیے۔ اگر افراط زر کی توقعات مستحکم ہوجاتی ہیں تو موجودہ شرح منافع واقعی بہت پرکشش ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>لیکن کیا اس دلیل میں خاموشی سے یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرنے والا جھٹکا بھی ختم ہورہا ہے؟</p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 99 ڈالر کے قریب آگئی ہے کیونکہ سات ماہ سے جاری ایران جنگ کے حوالے سے سفارتی کوششوں سے کوئی مثبت پیش رفت ہونے کی امید بڑھ رہی ہے۔ مگر جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں خام تیل اب بھی تقریباً 37 فیصد مہنگا ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بلند ہیں، آبنائے ہرمز اب بھی عالمی سپلائی کے منظرنامے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی بے ترتیبی صرف اس وجہ سے ختم نہیں ہوئی کہ برینٹ چند ڈالر نیچے آیا ہے۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں مارکیٹیں مالیاتی سختی کی قیمتوں میں شمولیت پر شاید اس جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اعتماد کا اظہار کررہی ہیں، جس نے مالیاتی سختی کی ضرورت پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں اور آبنائے ہرمز میں صورتحال بتدریج معمول پر آجاتی ہے تو کیا ہوگا؟ خام تیل کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے، افراط زر کا دباؤ گھٹ جائے گا، مرکزی بینکوں کے پاس شرح سود مزید بڑھانے کی کم وجوہ ہوں گی اور طویل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کا معاملہ خاصا مضبوط ہوجائے گا۔ ڈالر کو حاصل موجودہ شرح سود کا فائدہ بھی بالآخر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر قابلِ فہم سرمایہ کاری حکمت عملی ہے۔</p>
<p><strong>لیکن اگر جنگ دوبارہ شدت اختیار کرگئی تو؟</strong></p>
<p>یہ سوال اب زیادہ اہم ہوگیا ہے کیونکہ ایک اور بڑے تیل بحران سے نمٹنے کے لیے دستیاب حفاظتی گنجائش جنگ کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں کم ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ ایسے وقت میں افراط زر کی توقعات کو بڑھا سکتا ہے جب مرکزی بینک مارکیٹوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ قیمتوں کا دباؤ قابو میں آرہا ہے۔ کیا فیڈرل ریزرو کے مزید تین شرح سود میں اضافے بھی کافی ہوں گے؟ اگر تیل دوبارہ تیزی سے مہنگا ہونے لگے تو کیا 5 فیصد شرح منافع والے امریکی ٹریژری بانڈز اب بھی اتنے ہی پرکشش رہیں گے؟ اور کیا آج طویل مدتی بانڈز خریدنے والے سرمایہ کار بھی، جیسا کہ اس بانڈ مندی کے دوران بارہا ہوا، یہ دریافت کریں گے کہ بظاہر غیر معمولی بلند شرح منافع مزید بلند ہوسکتی ہے؟</p>
<p>کیون وارش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین فارورڈ گائیڈنس کو زیادہ پسند نہیں کرتے، انہوں نے اپنی ڈاٹ پلاٹ پیش گوئی جاری کرنے سے گریز کیا ہے اور غیر جانبدار شرح سود جیسے روایتی اشاریوں کی عملی افادیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا رجحان بظاہر اس بات کا جائزہ لینے کی طرف ہے کہ افراط زر کی سمت اور پائیداری کیا ہے، بجائے اس کے کہ ماڈلز یا انفرادی اعداد و شمار پالیسی کا میکانکی طور پر تعین کریں۔ چنانچہ بانڈز کی طویل مدتی مدت میں بڑی سرمایہ کاری پر غور کرنے والی مارکیٹوں کو نہ صرف افراط زر کی پیش گوئی کرنا ہوگی بلکہ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ فیڈ کا نیا نظام اس کا ردعمل کس طرح دے گا۔</p>
<p><strong>آخر کیا غلط ہوسکتا ہے؟</strong></p>
<p>پاکستان اور اسی نوعیت کی فرنٹیئر معیشتوں کے لیے یہ معاملہ محض بانڈ مینیجرز کے درمیان نظری بحث نہیں۔ مضبوط ڈالر درآمدی توانائی اور بیرونی مالی معاونت پر انحصار کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند شرح منافع زیادہ خطرے والے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے اثاثوں کے مقابلے میں امریکی سرکاری قرضوں کو زیادہ پرکشش بناتی ہے۔ مزید یہ کہ تیل کی قیمتوں میں ایک اور بڑا اضافہ ایسے وقت میں درآمدی بل، کرنسی اور مقامی افراط زر کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جب مہنگا عالمی سرمایہ پہلے ہی پالیسی گنجائش محدود کررہا ہے۔</p>
<p>چنانچہ ایک مضبوط ڈالر، بلند امریکی شرح منافع اور توانائی کی ایک اور قیمتوں کا جھٹکا بیک وقت سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔ پاکستان کا ان تینوں عوامل پر اثر و رسوخ بہت کم، جبکہ ان سے متاثر ہونے کا امکان خاصا زیادہ ہے۔ ممکن ہے بانڈز میں تیزی کی توقع رکھنے والے سرمایہ کار درست ثابت ہوں۔ ممکن ہے 99 ڈالر کا تیل 90 ڈالر تک آجائے، سفارتی کوششیں کامیاب رہیں، افراط زر کم ہوجائے اور آج کی شرح منافع وہ موقع ثابت ہو جس کا سرمایہ کار چھ سال کی مسلسل مشکلات کے بعد انتظار کررہے تھے۔</p>
<p>لیکن جنگ اب بھی جاری ہے، آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور فیڈرل ریزرو کا نیا دور جان بوجھ کر خود کو زیادہ غیر یقینی بنا رہا ہے۔ تو کیا مارکیٹیں ایک بار پھر صبح ہونے کا جشن اس وقت منا رہی ہیں جب باہر ابھی اندھیرا ہے؟</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291644</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 14:13:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/241345168912679.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/241345168912679.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈینسٹی کا آہنی اصول: توانائی کی منتقلی میں وسائل کی پوشیدہ لاگت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291651/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی توانائی کے مباحث میں اکثر معاملہ ’’صاف‘‘ اور ’’آلودہ‘‘ ٹیکنالوجیز کے انتخاب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کوئلے اور گیس کو کاربن اخراج سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ ہوا اور شمسی توانائی کو صاف مستقبل کی واضح راہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن توانائی کے نظام محض نعروں سے نہیں بلکہ طبعی وسائل سے تشکیل پاتے ہیں۔ انہیں زمین، فولاد، کنکریٹ، تانبا، سلیکان، نکل، نایاب ارضی عناصر، ترسیلی نیٹ ورک اور اب بڑھتی ہوئی ضرورت کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام بھی درکار ہوتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ایک نسبتاً کم زیرِبحث تصور زیادہ توجہ کا مستحق ہے، اور وہ ہے طاقت کی کثافت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی پالیسی کے مباحث میں رابرٹ برائس کی جانب سے مقبول کیا جانے والا ’’طاقت کی کثافت کا آہنی اصول‘‘ سائنسی معنوں میں کوئی طبعی قانون نہیں بلکہ ایک تجزیاتی تصور ہے۔ اس کے مطابق توانائی کے کسی ذریعے کی طاقت کی کثافت جتنی کم ہوگی، اتنی ہی مقدار میں قابلِ استعمال توانائی پیدا کرنے کے لیے عموماً زیادہ طبعی وسائل درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاقت کی کثافت سے مراد کسی مخصوص رقبے، حجم یا کمیت کے مقابلے میں توانائی پیدا کرنے کی شرح ہے۔ بجلی کے شعبے میں عموماً بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص رقبے سے کتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ جوہری بجلی گھر نسبتاً محدود رقبے میں بہت زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے میں ٹربائنیں بڑے فاصلے پر نصب کرنا پڑتی ہیں، کیونکہ ہوا کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور ہوا کے بہاؤ میں ضرورت سے زیادہ خلل سے بچنے کے لیے ان کے درمیان مناسب فاصلہ ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح شمسی فوٹو وولٹک نظام کے پینلز بھی بڑے رقبے پر پھیلانے پڑتے ہیں کیونکہ سورج کی روشنی نسبتاً منتشر شرح سے زمین تک پہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ موازنہ کرنا آسان ہے کہ ایک میگاواٹ کا شمسی بجلی گھر اور ایک میگاواٹ کا گیس بجلی گھر بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہیں کیونکہ دونوں کی پیداواری صلاحیت ایک میگاواٹ ہے۔ تکنیکی طور پر دونوں کی نصب شدہ صلاحیت ایک میگاواٹ ضرور ہے، لیکن سالانہ بجلی کی پیداوار، قابلِ اعتماد فراہمی اور مطلوبہ طبعی رقبے کے لحاظ سے دونوں برابر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمسی بجلی گھر چوبیس گھنٹے ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کرتا۔ اس کی پیداوار دن کی روشنی، موسم اور موسمی حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ہوا سے بجلی کی پیداوار بھی ہوا کی رفتار اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے زیادہ بامعنی موازنہ صرف فی میگاواٹ نامیاتی پیداواری صلاحیت کے لیے درکار زمین کا نہیں بلکہ حقیقی طور پر فراہم کی جانے والی فی میگاواٹ گھنٹہ بجلی کے لیے درکار زمین اور مواد کا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’آور ورلڈ اِن ڈیٹا‘‘ کی مرتب کردہ تحقیق مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے نظاموں میں لائف سائیکل کے دوران زمین کے استعمال میں نمایاں فرق ظاہر کرتی ہے۔ اس جائزے میں صرف بجلی پیدا کرنے کی تنصیب ہی نہیں بلکہ کان کنی، ایندھن کی فراہمی کے سلسلے، گرڈ سے کنکشن اور فضلے کا انتظام بھی شامل ہے۔ جوہری توانائی زمین کے استعمال کے لحاظ سے مؤثر ترین ذرائع میں شامل ہے، جبکہ شمسی فوٹو وولٹک نظام عموماً فی یونٹ پیدا شدہ بجلی کے لیے کہیں زیادہ زمین کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں میں صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ ٹربائنوں کے درمیان موجود زمین کا بڑا حصہ زراعت یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ لائف سائیکل کی بنیاد پر ہوا اور فوٹو وولٹک سمیت زیادہ تر قابلِ تجدید ذرائع جوہری توانائی کے مقابلے میں زیادہ زمین استعمال کرسکتے ہیں، تاہم حقیقی زمینی ضرورت ٹیکنالوجی، مقام اور منصوبے کے ڈیزائن کے لحاظ سے خاصی مختلف ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قابلِ تجدید توانائی کے خلاف دلیل نہیں بلکہ مکمل وسائل کی ضرورت کو حساب میں شامل کرنے کی دلیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین کا مسئلہ کہانی کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو زمین کے نیچے موجود وسائل سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021ء میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بجلی پیدا کرنے کی مختلف ٹیکنالوجیز کی تعمیر کے لیے درکار معدنیات کا تقابلی جائزہ شائع کیا۔ تجزیے کے مطابق جن ٹیکنالوجیز کا موازنہ کیا گیا، ان میں سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے منصوبوں میں معدنیات کی ضرورت سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد خشکی پر ہوا سے بجلی اور شمسی فوٹو وولٹک نظام آتے ہیں۔ قدرتی گیس اور کوئلے کو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے فی میگاواٹ کے لحاظ سے اس جائزے میں شامل معدنیات کی کہیں کم مقدار درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے ایک منصوبے کو ایک گیگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کے لیے تقریباً 15 ہزار ٹن معدنیات درکار ہوتی ہیں، یعنی تقریباً 15 ٹن فی میگاواٹ، اگرچہ ٹیکنالوجی سے متعلق مفروضوں کے باعث درست مقدار مختلف ہوسکتی ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس موازنے میں فولاد اور ایلومینیم شامل نہیں، حالانکہ یہ دونوں بڑی مقدار میں استعمال ہونے والے انتہائی اہم مواد ہیں۔ لہٰذا اس چارٹ کو کسی بجلی گھر کے لیے درکار مجموعی مواد کی مقدار نہیں سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/241218480bba6ec.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/241218480bba6ec.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب مخصوص مواد کا جائزہ لیا جائے تو فرق مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی سے ماخوذ اعداد و شمار کے مطابق سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے منصوبوں کے لیے فی میگاواٹ تقریباً 8 ہزار کلوگرام تانبا درکار ہوتا ہے، جبکہ قدرتی گیس کے لیے یہ مقدار تقریباً 1,100 کلوگرام اور کوئلے کے لیے تقریباً 1,150 کلوگرام فی میگاواٹ ہے۔ سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے منصوبوں کو زنک، نکل، کرومیم اور دیگر معدنیات کی بھی نمایاں مقدار درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں، کوئی ٹیکنالوجی دورانِ پیداوار بظاہر ’’ایندھن سے بے نیاز‘‘ ہوسکتی ہے، لیکن اس کی تعمیر کے مرحلے میں مواد کی ضرورت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جدید توانائی کی منتقلی کے بڑے تضادات میں سے ایک ہے: ہم ایسے نظام سے منتقل ہورہے ہیں جس کا انحصار بڑی حد تک ایندھن نکالنے پر ہے اور ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا انحصار بتدریج معدنیات اور دیگر مواد نکالنے پر بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے منظرنامے میں صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز سے متعلق مجموعی معدنی طلب 2040ء تک دوگنی ہوسکتی ہے، جبکہ پائیدار ترقی کے منظرنامے میں یہ چار گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ ہوا اور شمسی توانائی، بجلی کے نیٹ ورک، برقی گاڑیاں اور بیٹریاں اس اضافی طلب کے اہم محرکات میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہاں ایک اور اہم وضاحت ضروری ہے۔ یہ کہنا گمراہ کن ہوگا کہ قابلِ تجدید توانائی کو ’’وہی ایک کلوواٹ پیدا کرنے کے لیے‘‘ زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں، جب تک یہ واضح نہ کیا جائے کہ موازنہ کس بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ ایک کلوواٹ کا شمسی بجلی گھر، ایک کلوواٹ کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائن، ایک کلوواٹ کا جوہری یونٹ اور ایک کلوواٹ کی گیس ٹربائن سب نامیاتی پیداواری صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ایک سال کے دوران ان سب سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایک ٹیکنالوجی 20 فیصد صلاحیت کے عنصر پر اور دوسری 80 فیصد پر کام کرتی ہے تو دوسری ٹیکنالوجی اسی نامیاتی صلاحیت سے سالانہ تقریباً چار گنا زیادہ بجلی پیدا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ معدنیات یا زمین کے استعمال کی شدت کو صرف فی میگاواٹ کے حساب سے دیکھنے سے متغیر قابلِ تجدید ذرائع کے حقیقی وسائل کے استعمال کو کم ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ بعض علمی جائزوں میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ چونکہ ہوا اور شمسی توانائی وقفے وقفے سے دستیاب ہوتی ہیں، اس لیے نصب شدہ صلاحیت کے بجائے حقیقی طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کی فی یونٹ بنیاد پر حساب کیا جائے تو ان کی معدنیاتی شدت مزید نمایاں ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق پالیسی سازوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک میگاواٹ کی تنصیب کے لیے کتنا مواد درکار ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہونا چاہیے کہ مکمل لائف سائیکل کے دوران صارف تک ایک میگاواٹ گھنٹہ قابلِ اعتماد بجلی پہنچانے کے لیے کتنی زمین، مواد، بنیادی ڈھانچے اور توانائی درکار ہوتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کسی بات کا مطلب یہ نہیں کہ فوسل ایندھن کو خودکار طور پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ کوئلے اور قدرتی گیس کے اپنے انتہائی سنگین نقصانات ہیں، خصوصاً گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج اور فضائی آلودگی۔ دستیاب شواہد واضح کرتے ہیں کہ فوسل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے عمل میں عموماً جوہری توانائی اور بیشتر قابلِ تجدید ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں لائف سائیکل کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کہیں زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح زمین کا استعمال خود بخود ماحولیاتی تباہی کے مترادف نہیں۔ ہوا سے بجلی کے منصوبے زراعت کے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، چھتوں پر شمسی پینلز پہلے سے ترقی یافتہ جگہوں کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ مناسب حالات میں زرعی شمسی نظام بجلی کی پیداوار کو زراعت کے ساتھ یکجا کرسکتے ہیں۔ زمین کی ماحولیاتی اہمیت کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ زمین کس مقصد کے لیے استعمال ہورہی ہے، وہ کون سے ماحولیاتی افعال انجام دیتی ہے اور اس کے متبادل استعمال کیا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا درست سبق یہ نہیں کہ قابلِ تجدید توانائی ’’بری‘‘ ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ توانائی پیدا کرنے والی کوئی بھی ٹیکنالوجی اپنے اثرات سے مکمل طور پر پاک نہیں۔ ہر ٹیکنالوجی کا ایک مکمل لائف سائیکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جامع جائزے میں خام مال نکالنے، تیاری، تعمیر، زمین میں تبدیلی، نقل و حمل، بجلی کی پیداوار، گرڈ میں انضمام، ضرورت پڑنے پر توانائی ذخیرہ کرنے، آپریشن اور دیکھ بھال، پرزوں کی تبدیلی، منصوبے کو ختم کرنے اور ری سائیکلنگ سمیت تمام مراحل کو شامل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں توانائی پر لگائی گئی توانائی کا منافع (ای آر او ای آئی) جیسے تصورات خاص اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ کسی ٹیکنالوجی کو صرف اس سے پیدا ہونے والی بجلی یا اس کی نمایاں لاگتِ بجلی کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ اس بجلی کو پیدا کرنے والا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے کتنی توانائی اور مواد پہلے خرچ کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قابلِ-تجدید-اور-ناقابلِ-تجدید-سے-آگے-سوچنے-کی-ضرورت" href="#قابلِ-تجدید-اور-ناقابلِ-تجدید-سے-آگے-سوچنے-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’’قابلِ تجدید‘‘ اور ’’ناقابلِ تجدید‘‘ سے آگے سوچنے کی ضرورت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کا توانائی نظام نظریاتی یا نظریاتی نعروں پر مبنی مقابلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ماحول دوست، کم کاربن اور معاشی طور پر قابلِ عمل ٹیکنالوجیز درکار ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کے مکمل طبعی اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ شمسی، ہوا، پن بجلی، جوہری توانائی، ارضی حرارت، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، توانائی کی بچت اور دیگر ٹیکنالوجیز سب اپنا اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ٹیکنالوجیز کا مناسب امتزاج ہر ملک کے لیے مختلف ہوگا، جس کا انحصار جغرافیہ، وسائل کی دستیابی، گرڈ کے ڈھانچے، طلب کے رجحانات، صنعتی صلاحیت اور توانائی کے تحفظ سے متعلق ضروریات پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اخراج اور ماحولیاتی نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ قابلِ استعمال، قابلِ اعتماد اور سستی خالص توانائی حاصل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاقت کی کثافت کا آہنی اصول ہمیں توانائی کے مباحث میں ایک آسانی سے فراموش ہوجانے والی حقیقت یاد دلاتا ہے: جب توانائی منتشر ہو تو نظام عموماً بڑا ہوجاتا ہے، جبکہ توانائی مرتکز ہو تو نظام نسبتاً چھوٹا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فرق کے اثرات زمین، مواد، ترسیل، بنیادی ڈھانچے اور بالآخر لاگت تک پہنچتے ہیں۔ لہٰذا توانائی کی آئندہ پالیسی کو اس سادہ سوال سے آگے بڑھنا چاہیے کہ کوئی ٹیکنالوجی ’’سبز‘‘ ہے یا نہیں۔ اس کے بجائے بہتر سوال یہ ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ٹیکنالوجی کے لیے مکمل لائف سائیکل کے دوران کتنی زمین، مواد، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بدلے معاشرے کو کیا حاصل ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں یقینی طور پر زیادہ ماحول دوست توانائی درکار ہے۔ لیکن ماحول دوستی کا مطلب صرف بجلی پیدا کرنے کے مقام پر سبز ہونا نہیں بلکہ پورے لائف سائیکل میں ماحولیاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی منتقلی کامیاب اس وقت ہوگی جب ٹیکنالوجیز کا انتخاب محض ان کے لیبل کی بنیاد پر کرنے کے بجائے وسیع تر سوچ، دیانت دارانہ پیمائش اور پورے نظام کے جامع موازنے کے ساتھ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی توانائی کے مباحث میں اکثر معاملہ ’’صاف‘‘ اور ’’آلودہ‘‘ ٹیکنالوجیز کے انتخاب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کوئلے اور گیس کو کاربن اخراج سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ ہوا اور شمسی توانائی کو صاف مستقبل کی واضح راہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن توانائی کے نظام محض نعروں سے نہیں بلکہ طبعی وسائل سے تشکیل پاتے ہیں۔ انہیں زمین، فولاد، کنکریٹ، تانبا، سلیکان، نکل، نایاب ارضی عناصر، ترسیلی نیٹ ورک اور اب بڑھتی ہوئی ضرورت کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام بھی درکار ہوتے ہیں۔</strong></p>
<p>اسی لیے ایک نسبتاً کم زیرِبحث تصور زیادہ توجہ کا مستحق ہے، اور وہ ہے طاقت کی کثافت۔</p>
<p>توانائی کی پالیسی کے مباحث میں رابرٹ برائس کی جانب سے مقبول کیا جانے والا ’’طاقت کی کثافت کا آہنی اصول‘‘ سائنسی معنوں میں کوئی طبعی قانون نہیں بلکہ ایک تجزیاتی تصور ہے۔ اس کے مطابق توانائی کے کسی ذریعے کی طاقت کی کثافت جتنی کم ہوگی، اتنی ہی مقدار میں قابلِ استعمال توانائی پیدا کرنے کے لیے عموماً زیادہ طبعی وسائل درکار ہوں گے۔</p>
<p>طاقت کی کثافت سے مراد کسی مخصوص رقبے، حجم یا کمیت کے مقابلے میں توانائی پیدا کرنے کی شرح ہے۔ بجلی کے شعبے میں عموماً بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ کسی مخصوص رقبے سے کتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ جوہری بجلی گھر نسبتاً محدود رقبے میں بہت زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے میں ٹربائنیں بڑے فاصلے پر نصب کرنا پڑتی ہیں، کیونکہ ہوا کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور ہوا کے بہاؤ میں ضرورت سے زیادہ خلل سے بچنے کے لیے ان کے درمیان مناسب فاصلہ ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح شمسی فوٹو وولٹک نظام کے پینلز بھی بڑے رقبے پر پھیلانے پڑتے ہیں کیونکہ سورج کی روشنی نسبتاً منتشر شرح سے زمین تک پہنچتی ہے۔</p>
<p>یہ موازنہ کرنا آسان ہے کہ ایک میگاواٹ کا شمسی بجلی گھر اور ایک میگاواٹ کا گیس بجلی گھر بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہیں کیونکہ دونوں کی پیداواری صلاحیت ایک میگاواٹ ہے۔ تکنیکی طور پر دونوں کی نصب شدہ صلاحیت ایک میگاواٹ ضرور ہے، لیکن سالانہ بجلی کی پیداوار، قابلِ اعتماد فراہمی اور مطلوبہ طبعی رقبے کے لحاظ سے دونوں برابر نہیں۔</p>
<p>شمسی بجلی گھر چوبیس گھنٹے ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کرتا۔ اس کی پیداوار دن کی روشنی، موسم اور موسمی حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ہوا سے بجلی کی پیداوار بھی ہوا کی رفتار اور حالات پر منحصر ہوتی ہے۔</p>
<p>اس لیے زیادہ بامعنی موازنہ صرف فی میگاواٹ نامیاتی پیداواری صلاحیت کے لیے درکار زمین کا نہیں بلکہ حقیقی طور پر فراہم کی جانے والی فی میگاواٹ گھنٹہ بجلی کے لیے درکار زمین اور مواد کا ہونا چاہیے۔</p>
<p>’’آور ورلڈ اِن ڈیٹا‘‘ کی مرتب کردہ تحقیق مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے نظاموں میں لائف سائیکل کے دوران زمین کے استعمال میں نمایاں فرق ظاہر کرتی ہے۔ اس جائزے میں صرف بجلی پیدا کرنے کی تنصیب ہی نہیں بلکہ کان کنی، ایندھن کی فراہمی کے سلسلے، گرڈ سے کنکشن اور فضلے کا انتظام بھی شامل ہے۔ جوہری توانائی زمین کے استعمال کے لحاظ سے مؤثر ترین ذرائع میں شامل ہے، جبکہ شمسی فوٹو وولٹک نظام عموماً فی یونٹ پیدا شدہ بجلی کے لیے کہیں زیادہ زمین کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں میں صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ ٹربائنوں کے درمیان موجود زمین کا بڑا حصہ زراعت یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ لائف سائیکل کی بنیاد پر ہوا اور فوٹو وولٹک سمیت زیادہ تر قابلِ تجدید ذرائع جوہری توانائی کے مقابلے میں زیادہ زمین استعمال کرسکتے ہیں، تاہم حقیقی زمینی ضرورت ٹیکنالوجی، مقام اور منصوبے کے ڈیزائن کے لحاظ سے خاصی مختلف ہوسکتی ہے۔</p>
<p>یہ قابلِ تجدید توانائی کے خلاف دلیل نہیں بلکہ مکمل وسائل کی ضرورت کو حساب میں شامل کرنے کی دلیل ہے۔</p>
<p>زمین کا مسئلہ کہانی کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو زمین کے نیچے موجود وسائل سے متعلق ہے۔</p>
<p>2021ء میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بجلی پیدا کرنے کی مختلف ٹیکنالوجیز کی تعمیر کے لیے درکار معدنیات کا تقابلی جائزہ شائع کیا۔ تجزیے کے مطابق جن ٹیکنالوجیز کا موازنہ کیا گیا، ان میں سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے منصوبوں میں معدنیات کی ضرورت سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد خشکی پر ہوا سے بجلی اور شمسی فوٹو وولٹک نظام آتے ہیں۔ قدرتی گیس اور کوئلے کو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے فی میگاواٹ کے لحاظ سے اس جائزے میں شامل معدنیات کی کہیں کم مقدار درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے ایک منصوبے کو ایک گیگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کے لیے تقریباً 15 ہزار ٹن معدنیات درکار ہوتی ہیں، یعنی تقریباً 15 ٹن فی میگاواٹ، اگرچہ ٹیکنالوجی سے متعلق مفروضوں کے باعث درست مقدار مختلف ہوسکتی ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس موازنے میں فولاد اور ایلومینیم شامل نہیں، حالانکہ یہ دونوں بڑی مقدار میں استعمال ہونے والے انتہائی اہم مواد ہیں۔ لہٰذا اس چارٹ کو کسی بجلی گھر کے لیے درکار مجموعی مواد کی مقدار نہیں سمجھنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/241218480bba6ec.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/241218480bba6ec.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جب مخصوص مواد کا جائزہ لیا جائے تو فرق مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی سے ماخوذ اعداد و شمار کے مطابق سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے منصوبوں کے لیے فی میگاواٹ تقریباً 8 ہزار کلوگرام تانبا درکار ہوتا ہے، جبکہ قدرتی گیس کے لیے یہ مقدار تقریباً 1,100 کلوگرام اور کوئلے کے لیے تقریباً 1,150 کلوگرام فی میگاواٹ ہے۔ سمندر میں نصب ہوا سے بجلی کے منصوبوں کو زنک، نکل، کرومیم اور دیگر معدنیات کی بھی نمایاں مقدار درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں، کوئی ٹیکنالوجی دورانِ پیداوار بظاہر ’’ایندھن سے بے نیاز‘‘ ہوسکتی ہے، لیکن اس کی تعمیر کے مرحلے میں مواد کی ضرورت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔</p>
<p>یہ جدید توانائی کی منتقلی کے بڑے تضادات میں سے ایک ہے: ہم ایسے نظام سے منتقل ہورہے ہیں جس کا انحصار بڑی حد تک ایندھن نکالنے پر ہے اور ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا انحصار بتدریج معدنیات اور دیگر مواد نکالنے پر بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے منظرنامے میں صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز سے متعلق مجموعی معدنی طلب 2040ء تک دوگنی ہوسکتی ہے، جبکہ پائیدار ترقی کے منظرنامے میں یہ چار گنا تک بڑھ سکتی ہے۔ ہوا اور شمسی توانائی، بجلی کے نیٹ ورک، برقی گاڑیاں اور بیٹریاں اس اضافی طلب کے اہم محرکات میں شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم یہاں ایک اور اہم وضاحت ضروری ہے۔ یہ کہنا گمراہ کن ہوگا کہ قابلِ تجدید توانائی کو ’’وہی ایک کلوواٹ پیدا کرنے کے لیے‘‘ زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں، جب تک یہ واضح نہ کیا جائے کہ موازنہ کس بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ ایک کلوواٹ کا شمسی بجلی گھر، ایک کلوواٹ کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائن، ایک کلوواٹ کا جوہری یونٹ اور ایک کلوواٹ کی گیس ٹربائن سب نامیاتی پیداواری صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ایک سال کے دوران ان سب سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار یکساں نہیں ہوتی۔</p>
<p>اگر ایک ٹیکنالوجی 20 فیصد صلاحیت کے عنصر پر اور دوسری 80 فیصد پر کام کرتی ہے تو دوسری ٹیکنالوجی اسی نامیاتی صلاحیت سے سالانہ تقریباً چار گنا زیادہ بجلی پیدا کرے گی۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ معدنیات یا زمین کے استعمال کی شدت کو صرف فی میگاواٹ کے حساب سے دیکھنے سے متغیر قابلِ تجدید ذرائع کے حقیقی وسائل کے استعمال کو کم ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ بعض علمی جائزوں میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ چونکہ ہوا اور شمسی توانائی وقفے وقفے سے دستیاب ہوتی ہیں، اس لیے نصب شدہ صلاحیت کے بجائے حقیقی طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کی فی یونٹ بنیاد پر حساب کیا جائے تو ان کی معدنیاتی شدت مزید نمایاں ہوسکتی ہے۔</p>
<p>یہ فرق پالیسی سازوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک میگاواٹ کی تنصیب کے لیے کتنا مواد درکار ہے؟</p>
<p>سوال یہ ہونا چاہیے کہ مکمل لائف سائیکل کے دوران صارف تک ایک میگاواٹ گھنٹہ قابلِ اعتماد بجلی پہنچانے کے لیے کتنی زمین، مواد، بنیادی ڈھانچے اور توانائی درکار ہوتی ہے؟</p>
<p>ان میں سے کسی بات کا مطلب یہ نہیں کہ فوسل ایندھن کو خودکار طور پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ کوئلے اور قدرتی گیس کے اپنے انتہائی سنگین نقصانات ہیں، خصوصاً گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج اور فضائی آلودگی۔ دستیاب شواہد واضح کرتے ہیں کہ فوسل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے عمل میں عموماً جوہری توانائی اور بیشتر قابلِ تجدید ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں لائف سائیکل کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کہیں زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح زمین کا استعمال خود بخود ماحولیاتی تباہی کے مترادف نہیں۔ ہوا سے بجلی کے منصوبے زراعت کے ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، چھتوں پر شمسی پینلز پہلے سے ترقی یافتہ جگہوں کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ مناسب حالات میں زرعی شمسی نظام بجلی کی پیداوار کو زراعت کے ساتھ یکجا کرسکتے ہیں۔ زمین کی ماحولیاتی اہمیت کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ زمین کس مقصد کے لیے استعمال ہورہی ہے، وہ کون سے ماحولیاتی افعال انجام دیتی ہے اور اس کے متبادل استعمال کیا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا درست سبق یہ نہیں کہ قابلِ تجدید توانائی ’’بری‘‘ ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ توانائی پیدا کرنے والی کوئی بھی ٹیکنالوجی اپنے اثرات سے مکمل طور پر پاک نہیں۔ ہر ٹیکنالوجی کا ایک مکمل لائف سائیکل ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک جامع جائزے میں خام مال نکالنے، تیاری، تعمیر، زمین میں تبدیلی، نقل و حمل، بجلی کی پیداوار، گرڈ میں انضمام، ضرورت پڑنے پر توانائی ذخیرہ کرنے، آپریشن اور دیکھ بھال، پرزوں کی تبدیلی، منصوبے کو ختم کرنے اور ری سائیکلنگ سمیت تمام مراحل کو شامل ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہیں توانائی پر لگائی گئی توانائی کا منافع (ای آر او ای آئی) جیسے تصورات خاص اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ کسی ٹیکنالوجی کو صرف اس سے پیدا ہونے والی بجلی یا اس کی نمایاں لاگتِ بجلی کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ اس بجلی کو پیدا کرنے والا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے کتنی توانائی اور مواد پہلے خرچ کرنا پڑتا ہے۔</p>
<h3><a id="قابلِ-تجدید-اور-ناقابلِ-تجدید-سے-آگے-سوچنے-کی-ضرورت" href="#قابلِ-تجدید-اور-ناقابلِ-تجدید-سے-آگے-سوچنے-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’’قابلِ تجدید‘‘ اور ’’ناقابلِ تجدید‘‘ سے آگے سوچنے کی ضرورت</h3>
<p>مستقبل کا توانائی نظام نظریاتی یا نظریاتی نعروں پر مبنی مقابلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ماحول دوست، کم کاربن اور معاشی طور پر قابلِ عمل ٹیکنالوجیز درکار ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کے مکمل طبعی اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ شمسی، ہوا، پن بجلی، جوہری توانائی، ارضی حرارت، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، توانائی کی بچت اور دیگر ٹیکنالوجیز سب اپنا اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔</p>
<p>ان ٹیکنالوجیز کا مناسب امتزاج ہر ملک کے لیے مختلف ہوگا، جس کا انحصار جغرافیہ، وسائل کی دستیابی، گرڈ کے ڈھانچے، طلب کے رجحانات، صنعتی صلاحیت اور توانائی کے تحفظ سے متعلق ضروریات پر ہوگا۔</p>
<p>اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اخراج اور ماحولیاتی نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ قابلِ استعمال، قابلِ اعتماد اور سستی خالص توانائی حاصل کی جائے۔</p>
<p>طاقت کی کثافت کا آہنی اصول ہمیں توانائی کے مباحث میں ایک آسانی سے فراموش ہوجانے والی حقیقت یاد دلاتا ہے: جب توانائی منتشر ہو تو نظام عموماً بڑا ہوجاتا ہے، جبکہ توانائی مرتکز ہو تو نظام نسبتاً چھوٹا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اس فرق کے اثرات زمین، مواد، ترسیل، بنیادی ڈھانچے اور بالآخر لاگت تک پہنچتے ہیں۔ لہٰذا توانائی کی آئندہ پالیسی کو اس سادہ سوال سے آگے بڑھنا چاہیے کہ کوئی ٹیکنالوجی ’’سبز‘‘ ہے یا نہیں۔ اس کے بجائے بہتر سوال یہ ہے:</p>
<p>اس ٹیکنالوجی کے لیے مکمل لائف سائیکل کے دوران کتنی زمین، مواد، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بدلے معاشرے کو کیا حاصل ہوتا ہے؟</p>
<p>ہمیں یقینی طور پر زیادہ ماحول دوست توانائی درکار ہے۔ لیکن ماحول دوستی کا مطلب صرف بجلی پیدا کرنے کے مقام پر سبز ہونا نہیں بلکہ پورے لائف سائیکل میں ماحولیاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہونا چاہیے۔</p>
<p>توانائی کی منتقلی کامیاب اس وقت ہوگی جب ٹیکنالوجیز کا انتخاب محض ان کے لیبل کی بنیاد پر کرنے کے بجائے وسیع تر سوچ، دیانت دارانہ پیمائش اور پورے نظام کے جامع موازنے کے ساتھ کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291651</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 15:56:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجینئر ابوبکر اسماعیل)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/241549443bbb22e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/241549443bbb22e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکوں پر مبنی معیشت، ترقی کی حامل معیشت نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291608/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حال ہی میں شائع ہونے والے دو مضامین میں ایک ایسی بحث چھیڑی گئی ہے جسے اب طے کیا جانا چاہیے۔ شاہد کاردار نے ڈان میں اپنے مضمون ’’بینکوں کی بالادستی‘‘ میں واضح کیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام محض اتفاقاً نہیں بلکہ ساختی طور پر بینکوں کے غلبے کا شکار ہے۔ دوسری جانب ظفر مسعود نے ’پرافٹ‘ میں اپنے مضمون ’’وہی بینک، مختلف میدان‘‘ میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی نقدی پر مبنی معیشت، غیر رسمی شعبے اور مالیاتی خسارے کو مدنظر رکھا جائے تو خطے میں نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا فرق تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق، بینکوں کو جس میدان میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے، اس میں وہ ’’تقریباً بالکل اسی شرح سے قرض دیتے ہیں جس شرح پر کوئی اور دیتا‘‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں مضامین کو یکجا کرکے پڑھا جائے تو دراصل ان میں اختلاف نہیں۔ کاردار نے مجھے طریقۂ کار فراہم کیا ہے، جبکہ مسعود نے، اگرچہ غیر ارادی طور پر، اس کے شواہد فراہم کردیے ہیں۔ دونوں مل کر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں جس کا میں پہلے بھی مؤقف اختیار کرتا رہا ہوں: پاکستان نے مالیاتی منڈیاں قائم نہیں کیں، بلکہ ایک بینکاری کارٹل تشکیل دیا ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسابقت کا پابند بنانے کے بجائے محض نگرانی تک محدود رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بینکوں-کی-بالادستی" href="#بینکوں-کی-بالادستی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بینکوں کی بالادستی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کاردار اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں۔ تجارتی بینک مالیاتی شعبے کے 80 فیصد سے زیادہ اثاثوں کے مالک ہیں۔ بینکاری اثاثوں کا تقریباً 62 فیصد سرکاری سیکیورٹیز میں لگا ہوا ہے، جبکہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں کا حصہ صرف 22 فیصد ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں عوام کی شرکت 0.5 فیصد سے بھی کم ہے؛ مارکیٹ کیپٹلائزیشن جی ڈی پی کے 10 فیصد سے کم ہے اور اس میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ کارپوریٹ قرضوں کا حصہ قرضہ جاتی مارکیٹ میں 3 فیصد سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ کاردار بتاتے ہیں کہ بینکوں سے مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے غیر بینکاری مالیاتی ادارے ایسا کیوں نہ کرسکے۔ بینکوں کے مساوی سرمائے سے متعلق قواعد کا سامنا کرتے ہوئے، مگر بینکوں جیسی لیکویڈیٹی سہولت سے محروم رہتے ہوئے، بینکوں نے مقابلے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے ممکنہ حریفوں کو ہی خرید لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے میوچل فنڈز اور اثاثہ جاتی انتظام کار بینکوں کے ذیلی ادارے ہیں، حریف نہیں۔ لیکن کیا یہ صورتِ حال محض ضابطہ کاری کا اتفاق ہے یا اسی کا ڈیزائن؟ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بینکوں کے مقابلے میں مسابقت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ دونوں نے عملاً غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو سکڑنے پر مجبور کردیا اور منی مارکیٹ و زرمبادلہ مارکیٹ بینکوں کے حوالے کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-بینکاری-میں-سستی-ہے" href="#کیا-بینکاری-میں-سستی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کیا بینکاری میں سستی ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مسعود کے مؤقف کا جواب دینے سے پہلے اسے منصفانہ انداز میں بیان کرنا ضروری ہے۔ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ پاکستان میں نجی شعبے کو قرضوں کا تناسب کم ہے؛ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہ ایسی ہیں جن پر بینکوں کا اختیار نہیں۔ وہ محض دعوے کے بجائے ایک متبادل مفروضے کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں نجی شعبے کو قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 44 فیصد اور بنگلہ دیش میں 34 فیصد ہے۔ اگر ان اعداد کو ان تین پابندیوں کے مطابق ازسرنو ایڈجسٹ کیا جائے جن کا سامنا پاکستان کو ہے مگر ان دونوں ممالک کو نہیں، تو تصویر بدل جاتی ہے۔ پہلی پابندی نقدی پر زیادہ انحصار کرنے والی معیشت ہے، جہاں وسیع زر کی مجموعی مقدار کا 28 فیصد بینکاری نظام سے باہر گردش کرتا ہے، جبکہ دونوں ہمسایہ ممالک میں یہ تناسب 13 فیصد ہے۔ دوسری نصف دستاویزی معیشت ہے، جہاں جی ڈی پی کا 50 فیصد ٹیکس دائرے سے باہر ہے، جبکہ بھارت میں غیر رسمی معیشت کا حصہ 18 فیصد اور بنگلہ دیش میں 30 فیصد ہے۔ تیسری ریاست کا بینکوں کے بیلنس شیٹ پر غلبہ ہے، جہاں سرکاری سیکیورٹیز بینکوں کے 55 سے 60 فیصد اثاثے جذب کیے ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ تناسب 20 سے 21 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تینوں عوامل کو یکجا کرکے ایڈجسٹ کیا جائے تو بھارت کا 44 فیصد تناسب تقریباً 13 فیصد رہ جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کا 34 فیصد تقریباً 12 فیصد تک گر جاتا ہے۔ سری لنکا پر یہی طریقہ لاگو کیا جائے تو شرح بھی تقریباً 11 فیصد بنتی ہے۔ پاکستان کی حقیقی شرح 11 فیصد کے مقابلے میں خطے کا وہ نمایاں فرق، جسے ہمارے بینکوں کو سست قرار دینے کے لیے اکثر پیش کیا جاتا ہے، دراصل زیادہ تر ساخت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، رویے کا نہیں۔ مسعود کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، اگر پاکستانی بینکوں کو اسی نقدی پر مبنی، غیر دستاویزی اور مالیاتی دباؤ کا شکار معیشت میں کام کرنے دیا جائے تو وہ تقریباً اسی شرح سے قرض دیتے ہیں جس شرح پر کوئی اور ادارہ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جدت-کہاں-تلاش-کی-جارہی-ہے-اور-یہ-غلط-جگہ-کیوں-ہے" href="#جدت-کہاں-تلاش-کی-جارہی-ہے-اور-یہ-غلط-جگہ-کیوں-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جدت کہاں تلاش کی جارہی ہے اور یہ غلط جگہ کیوں ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مسعود راست اور ون لنک کی مثال دیتے ہیں، جو سالانہ تقریباً 125 کھرب روپے کی ادائیگیوں کا نظام چلا رہے ہیں، اور مستقبل میں نادرا، ٹیکس اور اراضی کے ریکارڈ کو باہم مربوط کرنے والے ڈیٹا ایکسچینج کے ساتھ ساتھ ایس ایم ای اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے کوڈیٹ طرز کے ضمانتی اداروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاردار تبدیلی کی جگہ کہیں اور تلاش کرتے ہیں: ان کے نزدیک نئے مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے کے بجائے ضابطہ کاری کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے، یعنی بینک اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کے درمیان حد بندی کے تحفظ کے بجائے کام کی بنیاد پر نگرانی کا نظام اپنایا جائے۔ دونوں تجاویز مفید اصلاحات ہیں۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اس بنیادی مسئلے کو نہیں چھیڑتا کہ ایسی کوئی صورت کیسے پیدا ہو جس میں رقم بینک کی بیلنس شیٹ سے باہر منتقل، قیمت دار یا محفوظ ہوسکے۔ مسعود کے ادائیگی کے نظام بھی بینکوں کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں؛ ان کی ضمانتیں بھی مزید بینکاری قرضوں کو کم خطرہ بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاردار کی تجویز بھی بنیادی طور پر بینکوں کو ان غیر بینکاری مالیاتی اداروں پر قبضہ کرنے سے روکنے تک محدود ہے جو ان کے لیے چیلنج بن سکتے تھے، بجائے اس کے کہ نئے غیر بینکاری ذرائع تشکیل دیے جائیں۔ دونوں مصنفین کی نظر میں جدت کا مطلب یہ نہیں کہ مسابقت باہر سے آئے—مثلاً بانڈ مارکیٹ، آزاد اثاثہ جاتی منتظم، کریڈٹ یونین یا غیر بینکاری زرمبادلہ ڈیلر۔ دونوں اسی ایک پائپ کے لیے بہتر نظامِ ترسیل کی بات کر رہے ہیں، جبکہ اصل کمی یہ ہے کہ یہاں صرف ایک ہی پائپ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="غلط-سوال" href="#غلط-سوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غلط سوال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مجھے خدشہ ہے کہ ہم غلط سوال پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ سوال کہ بینک جی ڈی پی کے مقابلے میں بہت کم قرض دے رہے ہیں، محض ایک مفروضہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک جس بینکوں پر مبنی ماڈل کو نافذ کر رہا ہے، وہ ترقی کو سہارا دینے والی مسابقتی مالیاتی مارکیٹ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی مارکیٹ میں بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو اجارہ داری کے بجائے انتخاب کی ایک پوری فہرست دستیاب ہونی چاہیے—ریٹیل ٹی بل اور پی آئی بی مارکیٹ، فعال ریپو اور ثانوی بانڈ مارکیٹ، فنڈز کی کھلی تقسیم، مسابقتی زرمبادلہ، ایکویٹی، ڈیریویٹو اور کموڈیٹی مارکیٹس۔ آج پاکستان کے شہریوں کو وہ خطرات کے انتظام اور زندگی کے مختلف مراحل کے لیے درکار مالیاتی ذرائع دستیاب نہیں جو ایک جدید بچت کنندہ کو درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ سرمایہ کاری کم رہنے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی اس پر کہ سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوجاتا ہے یا محض سونے میں پڑا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کارکردگی-کی-دیانت-دارانہ-پیمائش" href="#کارکردگی-کی-دیانت-دارانہ-پیمائش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کارکردگی کی دیانت دارانہ پیمائش&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی شعبے میں کارکردگی صرف قرضوں کے تناسب سے نہیں ناپی جاسکتی۔ لاگت کی کارکردگی کا سوال یہ ہے کہ بچت کی رقوم کتنی کم لاگت سے قرض لینے والوں تک پہنچتی ہیں۔ پاکستان اس پیمانے پر واضح طور پر ناکام ہے، کیونکہ اگست 2026 میں قرض اور ڈپازٹ کی شرحوں کے درمیان فرق 7.82 پوائنٹس تھا، جبکہ بھارت میں یہ فرق ایک دہائی کی کم ترین سطح 2.71 پوائنٹس تک آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسائل کی مؤثر تقسیم کا سوال یہ ہے کہ سرمایہ اپنے بہترین استعمال تک پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ یہاں ناکامی سب سے زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ بینکوں کے 55 سے 62 فیصد اثاثے سرکاری کاغذات میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ تناسب 20 سے 21 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معلوماتی کارکردگی کا سوال یہ ہے کہ قیمتیں حقیقی معلومات کی عکاسی کرتی ہیں یا نہیں۔ جب اسٹاک اکاؤنٹس رکھنے والی آبادی 0.5 فیصد سے بھی کم ہو تو اس پیمانے پر ناکامی کے لیے بھی بمشکل کوئی مارکیٹ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ادارہ جاتی منافع اور ایکویٹی پر منافع کی بنیاد پر پاکستانی بینکاری کو ’’موثر‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے—اور وہ بھی اس لیے کہ طریقۂ کار قیمت مقرر کرنے کی طاقت کو پیداواریت سمجھ کر اس کا صلہ دیتا ہے۔ یہ محض پیمائش کی خامی نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بینکاری ایک محفوظ شعبہ ہے جسے کسی مسابقتی دباؤ کا سامنا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مارکیٹ-نہیں-کارٹل" href="#مارکیٹ-نہیں-کارٹل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مارکیٹ نہیں، کارٹل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کاردار جسے ساختی برتری اور مسعود جسے ماحول سے پیدا ہونے والی پابندی قرار دیتے ہیں، اس کے لیے ایک سادہ لفظ ہے: کارٹل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند بند اداروں پر مشتمل ایک محدود حلقہ، جسے نئے حریفوں کے داخلے سے تحفظ حاصل ہو اور جس پر مسابقتی دباؤ نہ ہو، ایسے نگران ادارے کے زیرِ نگرانی کام کر رہا ہے جس نے بینکوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں بلا مقابلہ رکھنے کے درمیان فرق کو خلط ملط کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیکھیں کہ جدت کہاں آنی چاہیے تھی۔ میوچل فنڈز، منی مارکیٹ اور زرمبادلہ—دنیا کے دیگر حصوں میں ان شعبوں میں آزاد اثاثہ جاتی منتظمین قیمت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یہاں یہ سب بینکوں کی بیلنس شیٹس میں سمو دیے گئے ہیں۔ اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں بینکوں کے ذیلی ادارے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرمبادلہ کا کاروبار صرف مجاز ڈیلر بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ منی مارکیٹ فنڈز بھی بنیادی طور پر ڈپازٹس کو انہی مالیاتی آلات میں دوبارہ لگاتے ہیں جو بینک پہلے ہی اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہر وہ شعبہ جسے موجودہ اداروں پر مسابقتی دباؤ ڈالنا تھا، بالآخر انہی کے قبضے میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کو اس کی قیمت دو مرتبہ ادا کرنا پڑتی ہے۔ مسابقتی نگرانی نہ ہونے کے باعث فیس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کلیئرنگ کا عمل ایسی مدت میں مکمل ہوتا ہے جسے کسی مسابقتی مارکیٹ میں برداشت نہ کیا جائے، جبکہ تاخیر کے دوران بینک اس رقم پر فلوٹ کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطوں کی پابندی بھی یک طرفہ ہے۔ کے وائی سی اور اے ایم ایل، جن کا مقصد مالیاتی نظام کا تحفظ ہے، کھاتہ داروں کے ساتھ اس وقت تک مجرم جیسا برتاؤ کرتے ہیں جب تک وہ بے گناہی ثابت نہ کردیں—اکاؤنٹس منجمد کیے جاتے ہیں، سوالات بڑھتے جاتے ہیں—جبکہ یہ تقاضے عائد کرنے والے ادارے خود اپنی خدمات یا قیمتوں کے حوالے سے ایسی ہی نگرانی کا سامنا نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نیچے سب سے واضح ثبوت موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے لیکویڈیٹی فراہم کرتا ہے؛ بینک یہ رقم براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز میں لگا دیتے ہیں اور شرحوں کے فرق سے منافع کماتے ہیں۔ یوں مرکزی بینک انہی اداروں کو فنڈ فراہم کرتا ہے جو پھر وہی رقم منافع کے عوض ریاست کو واپس قرض دے دیتے ہیں، بغیر کسی کریڈٹ رسک اور بغیر قرض کی فراہمی کے کسی ابتدائی کوشش کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی کاردار کا ’’دو ہندسوں پر مشتمل، خطرے سے پاک منافع‘‘ ہے، اگر اسے واجبات کی جانب سے دیکھا جائے۔ اسٹیٹ بینک مالیاتی غلبے کو محض برداشت نہیں کر رہا؛ وہ دراصل اسی غلبے کی مالی اعانت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کسی بھی طور صلاحیت کی ناکامی نہیں۔ پاکستان کے بینک عالمی معیار کی تنخواہیں لینے والے قابل اور اعلیٰ پیشہ ورانہ اسناد رکھنے والے افسران چلا رہے ہیں۔ لیکن ایک محفوظ دائرے کے اندر موجود صلاحیت کا نتیجہ عین یہی نکلتا ہے: کم خطرے، کم جدت اور زیادہ فیس پر مبنی کاروبار کا بھاری معاوضوں پر انتظام، نہ کہ وہ مسابقت جو یہی صلاحیت اس وقت پیدا کرسکتی ہے جب اسے مارکیٹ میں حصے کے لیے حقیقی مقابلہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقابلے کے لیے کوئی حریف موجود ہی نہیں—اور اس کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ نئے مکمل خدمات فراہم کرنے والے بینکنگ لائسنس کا حصول تقریباً ناممکن ہے۔ جو نگران ادارہ کارٹل نہیں بلکہ ایک حقیقی مارکیٹ چاہتا ہو، وہ مارکیٹ میں داخلے کو مخصوص گروہ کی رکنیت کے بجائے خطرے کی بنیاد پر ممکن بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کسی فرد کے کردار پر فردِ جرم نہیں۔ یہ اس توازن پر فردِ جرم ہے جسے بینک اور حکومت دونوں برقرار رکھنا چاہتے ہیں: حکومت کو اپنے قرضوں کے لیے ایک یقینی خریدار اور شرحِ سود پر خاموش اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے، جبکہ بینکوں کو مسابقت کے بغیر بڑے پیمانے پر کاروبار اور منافع ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسعود اس بات میں درست ہوسکتے ہیں کہ بینکار ذاتی طور پر قصوروار نہیں۔ لیکن کھلاڑیوں کو بری الذمہ قرار دینے سے کھیل کا میدان بری الذمہ نہیں ہوجاتا۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ بینک منافع بخش رہتے ہیں یا نہیں—وہ رہیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک بچت کنندہ اپنی رقم ڈپازٹ کے علاوہ کہیں اور سرمایہ کاری کرسکتا ہے؟ کیا حکومتی قرض حقیقی مارکیٹ میں خرید و فروخت ہوتا ہے؟ کیا پنشن فنڈ بینک کو درمیان میں لائے بغیر پی آئی بی خرید سکتا ہے؟ اس پیمانے پر ’’مختلف میدان‘‘ کوئی دفاع نہیں بلکہ اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-تبدیل-ہونا-چاہیے" href="#کیا-تبدیل-ہونا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیا تبدیل ہونا چاہیے&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قرضہ جاتی مارکیٹ قائم کی جائے:&lt;/strong&gt; نیشنل سیونگز اور ڈیبٹ آفس کو ضم کرکے ایس ای سی پی کے مساوی ایک بااختیار ادارہ قائم کیا جائے، جو گھرانوں اور پنشن فنڈز کو سرکاری سیکیورٹیز تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کرے۔ غیر بینکاری پرائمری ڈیلرز کو ریپو اور سیکیورٹیز مارکیٹ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنڈز کی کھلی تقسیم کا نظام لازم قرار دیا جائے۔&lt;/strong&gt; زرمبادلہ کی مارکیٹ کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت کام کرنے والے غیر بینکاری اداروں کے لیے وسیع کیا جائے۔ بینکاری کو قابلِ مسابقت بنایا جائے: خطرے کی بنیاد پر لائسنسنگ، اوپن مارکیٹ آپریشنز کے اعداد و شمار کی اشاعت، فیس کے عوامی معیارات اور ایسی ضابطہ کاری جو خطرے کو ہدف بنائے، نہ کہ پہلے سے کسی کو قصوروار سمجھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریڈٹ یونینز اور علاقائی کوآپریٹو بینکوں کو الگ اور نسبتاً کم ضابطہ کاری والے درجے کے طور پر لائسنس دیا جائے۔ جرمنی میں اسپارکاسن بینکاری اثاثوں کا تقریباً نصف رکھتے ہیں؛ پاکستان میں اس نوعیت کا کوئی قابلِ ذکر متبادل موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ضابطہ کاری کو مارکیٹ کے تحفظ سے الگ کیا جائے:&lt;/strong&gt; اسٹیٹ بینک کو نظامی خطرات کی نگرانی تک محدود رکھا جائے، جبکہ ایس ای سی پی مارکیٹیں تشکیل دے اور مسابقتی کمیشن اس امر کا جائزہ لے کہ آیا شعبے کی ساخت خود مسابقت کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="صرف-قرض-نہیں-ایکویٹی-بھی" href="#صرف-قرض-نہیں-ایکویٹی-بھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;صرف قرض نہیں، ایکویٹی بھی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہم بینکوں پر اس قدر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جہاں اسٹیٹ بینک خطرے سے گریز کرنے والے کارٹل کے محافظ کا کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک نوجوان اور ترقی کرتی ہوئی معیشت کو صرف قرض نہیں بلکہ خطرہ برداشت کرنے والا سرمایہ بھی درکار ہوتا ہے۔ جی ڈی پی کے قریب 10 فیصد کا ایکویٹی تناسب سرے سے ہی غلط ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض نتائج سے قطع نظر مقررہ ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے اور خیالات کے بجائے ضمانت کو ترجیح دیتا ہے؛ اس لیے اس کا جھکاؤ فطری طور پر بڑے قرض لینے والوں اور سب سے محفوظ اثاثے یعنی ریاست کی جانب ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس معیشت میں 80 فیصد مالیاتی دعوے قرض کی شکل میں ہوں اور بمشکل ایک دسویں حصے کے برابر ایکویٹی ہو، اس نے ایسا نظام تشکیل دیا ہے جو خطرے سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے، عین اس وقت جب ترقی کے لیے خطرہ مول لینا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور نئے کاروباری منصوبوں کے لیے مالی اعانت کا خلا برقرار ہے، حالانکہ قرضوں میں اضافہ بظاہر معقول دکھائی دیتا ہے۔ بینک ضمانت کے عوض قرض دیتے ہیں، لیکن ایسے نئے ادارے یا پہلی مرتبہ کاروبار شروع کرنے والے ایسے افراد کو سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی نہیں جن کے پاس خیالات تو ہیں مگر گروی رکھنے کے لیے اثاثے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا، ویتنام اور بھارت نے اپنی ترقی میں جزوی طور پر اس لیے پیش رفت کی کہ انہوں نے اپنی بیلنس شیٹس میں محفوظ اثاثوں کے ساتھ ساتھ خطرہ برداشت کرنے والے سرمائے کا حصہ بھی بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا ہے—ایسی استحکام کی خاطر مالی اعانت کی جس کا وہ حقیقت میں حامل نہیں، بجائے اس ترقی کے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اور بحث اب بھی بینکوں ہی کے گرد گھوم رہی ہے، جو دنیا کی ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کے تجربے سے بالکل الٹ سمت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حال ہی میں شائع ہونے والے دو مضامین میں ایک ایسی بحث چھیڑی گئی ہے جسے اب طے کیا جانا چاہیے۔ شاہد کاردار نے ڈان میں اپنے مضمون ’’بینکوں کی بالادستی‘‘ میں واضح کیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام محض اتفاقاً نہیں بلکہ ساختی طور پر بینکوں کے غلبے کا شکار ہے۔ دوسری جانب ظفر مسعود نے ’پرافٹ‘ میں اپنے مضمون ’’وہی بینک، مختلف میدان‘‘ میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی نقدی پر مبنی معیشت، غیر رسمی شعبے اور مالیاتی خسارے کو مدنظر رکھا جائے تو خطے میں نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کا فرق تقریباً ختم ہوجاتا ہے۔ ان کے مطابق، بینکوں کو جس میدان میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے، اس میں وہ ’’تقریباً بالکل اسی شرح سے قرض دیتے ہیں جس شرح پر کوئی اور دیتا‘‘۔</strong></p>
<p>دونوں مضامین کو یکجا کرکے پڑھا جائے تو دراصل ان میں اختلاف نہیں۔ کاردار نے مجھے طریقۂ کار فراہم کیا ہے، جبکہ مسعود نے، اگرچہ غیر ارادی طور پر، اس کے شواہد فراہم کردیے ہیں۔ دونوں مل کر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں جس کا میں پہلے بھی مؤقف اختیار کرتا رہا ہوں: پاکستان نے مالیاتی منڈیاں قائم نہیں کیں، بلکہ ایک بینکاری کارٹل تشکیل دیا ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسابقت کا پابند بنانے کے بجائے محض نگرانی تک محدود رکھا ہے۔</p>
<h3><a id="بینکوں-کی-بالادستی" href="#بینکوں-کی-بالادستی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بینکوں کی بالادستی</h3>
<p>کاردار اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں۔ تجارتی بینک مالیاتی شعبے کے 80 فیصد سے زیادہ اثاثوں کے مالک ہیں۔ بینکاری اثاثوں کا تقریباً 62 فیصد سرکاری سیکیورٹیز میں لگا ہوا ہے، جبکہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں کا حصہ صرف 22 فیصد ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں عوام کی شرکت 0.5 فیصد سے بھی کم ہے؛ مارکیٹ کیپٹلائزیشن جی ڈی پی کے 10 فیصد سے کم ہے اور اس میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ کارپوریٹ قرضوں کا حصہ قرضہ جاتی مارکیٹ میں 3 فیصد سے بھی کم ہے۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ کاردار بتاتے ہیں کہ بینکوں سے مقابلہ کرنے کے لیے بنائے گئے غیر بینکاری مالیاتی ادارے ایسا کیوں نہ کرسکے۔ بینکوں کے مساوی سرمائے سے متعلق قواعد کا سامنا کرتے ہوئے، مگر بینکوں جیسی لیکویڈیٹی سہولت سے محروم رہتے ہوئے، بینکوں نے مقابلے کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے ممکنہ حریفوں کو ہی خرید لیا۔</p>
<p>بڑے میوچل فنڈز اور اثاثہ جاتی انتظام کار بینکوں کے ذیلی ادارے ہیں، حریف نہیں۔ لیکن کیا یہ صورتِ حال محض ضابطہ کاری کا اتفاق ہے یا اسی کا ڈیزائن؟ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بینکوں کے مقابلے میں مسابقت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ دونوں نے عملاً غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو سکڑنے پر مجبور کردیا اور منی مارکیٹ و زرمبادلہ مارکیٹ بینکوں کے حوالے کردی۔</p>
<h3><a id="کیا-بینکاری-میں-سستی-ہے" href="#کیا-بینکاری-میں-سستی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کیا بینکاری میں سستی ہے؟</h3>
<p>مسعود کے مؤقف کا جواب دینے سے پہلے اسے منصفانہ انداز میں بیان کرنا ضروری ہے۔ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ پاکستان میں نجی شعبے کو قرضوں کا تناسب کم ہے؛ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہ ایسی ہیں جن پر بینکوں کا اختیار نہیں۔ وہ محض دعوے کے بجائے ایک متبادل مفروضے کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>بھارت میں نجی شعبے کو قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 44 فیصد اور بنگلہ دیش میں 34 فیصد ہے۔ اگر ان اعداد کو ان تین پابندیوں کے مطابق ازسرنو ایڈجسٹ کیا جائے جن کا سامنا پاکستان کو ہے مگر ان دونوں ممالک کو نہیں، تو تصویر بدل جاتی ہے۔ پہلی پابندی نقدی پر زیادہ انحصار کرنے والی معیشت ہے، جہاں وسیع زر کی مجموعی مقدار کا 28 فیصد بینکاری نظام سے باہر گردش کرتا ہے، جبکہ دونوں ہمسایہ ممالک میں یہ تناسب 13 فیصد ہے۔ دوسری نصف دستاویزی معیشت ہے، جہاں جی ڈی پی کا 50 فیصد ٹیکس دائرے سے باہر ہے، جبکہ بھارت میں غیر رسمی معیشت کا حصہ 18 فیصد اور بنگلہ دیش میں 30 فیصد ہے۔ تیسری ریاست کا بینکوں کے بیلنس شیٹ پر غلبہ ہے، جہاں سرکاری سیکیورٹیز بینکوں کے 55 سے 60 فیصد اثاثے جذب کیے ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ تناسب 20 سے 21 فیصد ہے۔</p>
<p>ان تینوں عوامل کو یکجا کرکے ایڈجسٹ کیا جائے تو بھارت کا 44 فیصد تناسب تقریباً 13 فیصد رہ جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کا 34 فیصد تقریباً 12 فیصد تک گر جاتا ہے۔ سری لنکا پر یہی طریقہ لاگو کیا جائے تو شرح بھی تقریباً 11 فیصد بنتی ہے۔ پاکستان کی حقیقی شرح 11 فیصد کے مقابلے میں خطے کا وہ نمایاں فرق، جسے ہمارے بینکوں کو سست قرار دینے کے لیے اکثر پیش کیا جاتا ہے، دراصل زیادہ تر ساخت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، رویے کا نہیں۔ مسعود کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق، اگر پاکستانی بینکوں کو اسی نقدی پر مبنی، غیر دستاویزی اور مالیاتی دباؤ کا شکار معیشت میں کام کرنے دیا جائے تو وہ تقریباً اسی شرح سے قرض دیتے ہیں جس شرح پر کوئی اور ادارہ دے گا۔</p>
<h3><a id="جدت-کہاں-تلاش-کی-جارہی-ہے-اور-یہ-غلط-جگہ-کیوں-ہے" href="#جدت-کہاں-تلاش-کی-جارہی-ہے-اور-یہ-غلط-جگہ-کیوں-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جدت کہاں تلاش کی جارہی ہے اور یہ غلط جگہ کیوں ہے؟</h3>
<p>مسعود راست اور ون لنک کی مثال دیتے ہیں، جو سالانہ تقریباً 125 کھرب روپے کی ادائیگیوں کا نظام چلا رہے ہیں، اور مستقبل میں نادرا، ٹیکس اور اراضی کے ریکارڈ کو باہم مربوط کرنے والے ڈیٹا ایکسچینج کے ساتھ ساتھ ایس ایم ای اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے کوڈیٹ طرز کے ضمانتی اداروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>کاردار تبدیلی کی جگہ کہیں اور تلاش کرتے ہیں: ان کے نزدیک نئے مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے کے بجائے ضابطہ کاری کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے، یعنی بینک اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کے درمیان حد بندی کے تحفظ کے بجائے کام کی بنیاد پر نگرانی کا نظام اپنایا جائے۔ دونوں تجاویز مفید اصلاحات ہیں۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اس بنیادی مسئلے کو نہیں چھیڑتا کہ ایسی کوئی صورت کیسے پیدا ہو جس میں رقم بینک کی بیلنس شیٹ سے باہر منتقل، قیمت دار یا محفوظ ہوسکے۔ مسعود کے ادائیگی کے نظام بھی بینکوں کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں؛ ان کی ضمانتیں بھی مزید بینکاری قرضوں کو کم خطرہ بناتی ہیں۔</p>
<p>کاردار کی تجویز بھی بنیادی طور پر بینکوں کو ان غیر بینکاری مالیاتی اداروں پر قبضہ کرنے سے روکنے تک محدود ہے جو ان کے لیے چیلنج بن سکتے تھے، بجائے اس کے کہ نئے غیر بینکاری ذرائع تشکیل دیے جائیں۔ دونوں مصنفین کی نظر میں جدت کا مطلب یہ نہیں کہ مسابقت باہر سے آئے—مثلاً بانڈ مارکیٹ، آزاد اثاثہ جاتی منتظم، کریڈٹ یونین یا غیر بینکاری زرمبادلہ ڈیلر۔ دونوں اسی ایک پائپ کے لیے بہتر نظامِ ترسیل کی بات کر رہے ہیں، جبکہ اصل کمی یہ ہے کہ یہاں صرف ایک ہی پائپ موجود ہے۔</p>
<h3><a id="غلط-سوال" href="#غلط-سوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غلط سوال</h3>
<p>مجھے خدشہ ہے کہ ہم غلط سوال پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ سوال کہ بینک جی ڈی پی کے مقابلے میں بہت کم قرض دے رہے ہیں، محض ایک مفروضہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک جس بینکوں پر مبنی ماڈل کو نافذ کر رہا ہے، وہ ترقی کو سہارا دینے والی مسابقتی مالیاتی مارکیٹ قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>ایسی مارکیٹ میں بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کو اجارہ داری کے بجائے انتخاب کی ایک پوری فہرست دستیاب ہونی چاہیے—ریٹیل ٹی بل اور پی آئی بی مارکیٹ، فعال ریپو اور ثانوی بانڈ مارکیٹ، فنڈز کی کھلی تقسیم، مسابقتی زرمبادلہ، ایکویٹی، ڈیریویٹو اور کموڈیٹی مارکیٹس۔ آج پاکستان کے شہریوں کو وہ خطرات کے انتظام اور زندگی کے مختلف مراحل کے لیے درکار مالیاتی ذرائع دستیاب نہیں جو ایک جدید بچت کنندہ کو درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ سرمایہ کاری کم رہنے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی اس پر کہ سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوجاتا ہے یا محض سونے میں پڑا رہتا ہے۔</p>
<h3><a id="کارکردگی-کی-دیانت-دارانہ-پیمائش" href="#کارکردگی-کی-دیانت-دارانہ-پیمائش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کارکردگی کی دیانت دارانہ پیمائش</h3>
<p>مالیاتی شعبے میں کارکردگی صرف قرضوں کے تناسب سے نہیں ناپی جاسکتی۔ لاگت کی کارکردگی کا سوال یہ ہے کہ بچت کی رقوم کتنی کم لاگت سے قرض لینے والوں تک پہنچتی ہیں۔ پاکستان اس پیمانے پر واضح طور پر ناکام ہے، کیونکہ اگست 2026 میں قرض اور ڈپازٹ کی شرحوں کے درمیان فرق 7.82 پوائنٹس تھا، جبکہ بھارت میں یہ فرق ایک دہائی کی کم ترین سطح 2.71 پوائنٹس تک آگیا ہے۔</p>
<p>وسائل کی مؤثر تقسیم کا سوال یہ ہے کہ سرمایہ اپنے بہترین استعمال تک پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ یہاں ناکامی سب سے زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ بینکوں کے 55 سے 62 فیصد اثاثے سرکاری کاغذات میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ تناسب 20 سے 21 فیصد ہے۔</p>
<p>معلوماتی کارکردگی کا سوال یہ ہے کہ قیمتیں حقیقی معلومات کی عکاسی کرتی ہیں یا نہیں۔ جب اسٹاک اکاؤنٹس رکھنے والی آبادی 0.5 فیصد سے بھی کم ہو تو اس پیمانے پر ناکامی کے لیے بھی بمشکل کوئی مارکیٹ موجود ہے۔</p>
<p>صرف ادارہ جاتی منافع اور ایکویٹی پر منافع کی بنیاد پر پاکستانی بینکاری کو ’’موثر‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے—اور وہ بھی اس لیے کہ طریقۂ کار قیمت مقرر کرنے کی طاقت کو پیداواریت سمجھ کر اس کا صلہ دیتا ہے۔ یہ محض پیمائش کی خامی نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بینکاری ایک محفوظ شعبہ ہے جسے کسی مسابقتی دباؤ کا سامنا نہیں۔</p>
<h3><a id="مارکیٹ-نہیں-کارٹل" href="#مارکیٹ-نہیں-کارٹل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مارکیٹ نہیں، کارٹل</h3>
<p>کاردار جسے ساختی برتری اور مسعود جسے ماحول سے پیدا ہونے والی پابندی قرار دیتے ہیں، اس کے لیے ایک سادہ لفظ ہے: کارٹل۔</p>
<p>چند بند اداروں پر مشتمل ایک محدود حلقہ، جسے نئے حریفوں کے داخلے سے تحفظ حاصل ہو اور جس پر مسابقتی دباؤ نہ ہو، ایسے نگران ادارے کے زیرِ نگرانی کام کر رہا ہے جس نے بینکوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں بلا مقابلہ رکھنے کے درمیان فرق کو خلط ملط کردیا ہے۔</p>
<p>دیکھیں کہ جدت کہاں آنی چاہیے تھی۔ میوچل فنڈز، منی مارکیٹ اور زرمبادلہ—دنیا کے دیگر حصوں میں ان شعبوں میں آزاد اثاثہ جاتی منتظمین قیمت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ یہاں یہ سب بینکوں کی بیلنس شیٹس میں سمو دیے گئے ہیں۔ اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیاں بینکوں کے ذیلی ادارے ہیں۔</p>
<p>زرمبادلہ کا کاروبار صرف مجاز ڈیلر بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ منی مارکیٹ فنڈز بھی بنیادی طور پر ڈپازٹس کو انہی مالیاتی آلات میں دوبارہ لگاتے ہیں جو بینک پہلے ہی اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ہر وہ شعبہ جسے موجودہ اداروں پر مسابقتی دباؤ ڈالنا تھا، بالآخر انہی کے قبضے میں چلا گیا۔</p>
<p>عوام کو اس کی قیمت دو مرتبہ ادا کرنا پڑتی ہے۔ مسابقتی نگرانی نہ ہونے کے باعث فیس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کلیئرنگ کا عمل ایسی مدت میں مکمل ہوتا ہے جسے کسی مسابقتی مارکیٹ میں برداشت نہ کیا جائے، جبکہ تاخیر کے دوران بینک اس رقم پر فلوٹ کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>ضابطوں کی پابندی بھی یک طرفہ ہے۔ کے وائی سی اور اے ایم ایل، جن کا مقصد مالیاتی نظام کا تحفظ ہے، کھاتہ داروں کے ساتھ اس وقت تک مجرم جیسا برتاؤ کرتے ہیں جب تک وہ بے گناہی ثابت نہ کردیں—اکاؤنٹس منجمد کیے جاتے ہیں، سوالات بڑھتے جاتے ہیں—جبکہ یہ تقاضے عائد کرنے والے ادارے خود اپنی خدمات یا قیمتوں کے حوالے سے ایسی ہی نگرانی کا سامنا نہیں کرتے۔</p>
<p>اس کے نیچے سب سے واضح ثبوت موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے لیکویڈیٹی فراہم کرتا ہے؛ بینک یہ رقم براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز میں لگا دیتے ہیں اور شرحوں کے فرق سے منافع کماتے ہیں۔ یوں مرکزی بینک انہی اداروں کو فنڈ فراہم کرتا ہے جو پھر وہی رقم منافع کے عوض ریاست کو واپس قرض دے دیتے ہیں، بغیر کسی کریڈٹ رسک اور بغیر قرض کی فراہمی کے کسی ابتدائی کوشش کے۔</p>
<p>یہی کاردار کا ’’دو ہندسوں پر مشتمل، خطرے سے پاک منافع‘‘ ہے، اگر اسے واجبات کی جانب سے دیکھا جائے۔ اسٹیٹ بینک مالیاتی غلبے کو محض برداشت نہیں کر رہا؛ وہ دراصل اسی غلبے کی مالی اعانت کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ کسی بھی طور صلاحیت کی ناکامی نہیں۔ پاکستان کے بینک عالمی معیار کی تنخواہیں لینے والے قابل اور اعلیٰ پیشہ ورانہ اسناد رکھنے والے افسران چلا رہے ہیں۔ لیکن ایک محفوظ دائرے کے اندر موجود صلاحیت کا نتیجہ عین یہی نکلتا ہے: کم خطرے، کم جدت اور زیادہ فیس پر مبنی کاروبار کا بھاری معاوضوں پر انتظام، نہ کہ وہ مسابقت جو یہی صلاحیت اس وقت پیدا کرسکتی ہے جب اسے مارکیٹ میں حصے کے لیے حقیقی مقابلہ کرنا پڑے۔</p>
<p>اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقابلے کے لیے کوئی حریف موجود ہی نہیں—اور اس کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ نئے مکمل خدمات فراہم کرنے والے بینکنگ لائسنس کا حصول تقریباً ناممکن ہے۔ جو نگران ادارہ کارٹل نہیں بلکہ ایک حقیقی مارکیٹ چاہتا ہو، وہ مارکیٹ میں داخلے کو مخصوص گروہ کی رکنیت کے بجائے خطرے کی بنیاد پر ممکن بناتا ہے۔</p>
<p>یہ کسی فرد کے کردار پر فردِ جرم نہیں۔ یہ اس توازن پر فردِ جرم ہے جسے بینک اور حکومت دونوں برقرار رکھنا چاہتے ہیں: حکومت کو اپنے قرضوں کے لیے ایک یقینی خریدار اور شرحِ سود پر خاموش اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے، جبکہ بینکوں کو مسابقت کے بغیر بڑے پیمانے پر کاروبار اور منافع ملتا ہے۔</p>
<p>مسعود اس بات میں درست ہوسکتے ہیں کہ بینکار ذاتی طور پر قصوروار نہیں۔ لیکن کھلاڑیوں کو بری الذمہ قرار دینے سے کھیل کا میدان بری الذمہ نہیں ہوجاتا۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ بینک منافع بخش رہتے ہیں یا نہیں—وہ رہیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک بچت کنندہ اپنی رقم ڈپازٹ کے علاوہ کہیں اور سرمایہ کاری کرسکتا ہے؟ کیا حکومتی قرض حقیقی مارکیٹ میں خرید و فروخت ہوتا ہے؟ کیا پنشن فنڈ بینک کو درمیان میں لائے بغیر پی آئی بی خرید سکتا ہے؟ اس پیمانے پر ’’مختلف میدان‘‘ کوئی دفاع نہیں بلکہ اعتراف ہے۔</p>
<h3><a id="کیا-تبدیل-ہونا-چاہیے" href="#کیا-تبدیل-ہونا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیا تبدیل ہونا چاہیے</strong></h3>
<p><strong>قرضہ جاتی مارکیٹ قائم کی جائے:</strong> نیشنل سیونگز اور ڈیبٹ آفس کو ضم کرکے ایس ای سی پی کے مساوی ایک بااختیار ادارہ قائم کیا جائے، جو گھرانوں اور پنشن فنڈز کو سرکاری سیکیورٹیز تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کرے۔ غیر بینکاری پرائمری ڈیلرز کو ریپو اور سیکیورٹیز مارکیٹ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔</p>
<p><strong>فنڈز کی کھلی تقسیم کا نظام لازم قرار دیا جائے۔</strong> زرمبادلہ کی مارکیٹ کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت کام کرنے والے غیر بینکاری اداروں کے لیے وسیع کیا جائے۔ بینکاری کو قابلِ مسابقت بنایا جائے: خطرے کی بنیاد پر لائسنسنگ، اوپن مارکیٹ آپریشنز کے اعداد و شمار کی اشاعت، فیس کے عوامی معیارات اور ایسی ضابطہ کاری جو خطرے کو ہدف بنائے، نہ کہ پہلے سے کسی کو قصوروار سمجھے۔</p>
<p>کریڈٹ یونینز اور علاقائی کوآپریٹو بینکوں کو الگ اور نسبتاً کم ضابطہ کاری والے درجے کے طور پر لائسنس دیا جائے۔ جرمنی میں اسپارکاسن بینکاری اثاثوں کا تقریباً نصف رکھتے ہیں؛ پاکستان میں اس نوعیت کا کوئی قابلِ ذکر متبادل موجود نہیں۔</p>
<p><strong>ضابطہ کاری کو مارکیٹ کے تحفظ سے الگ کیا جائے:</strong> اسٹیٹ بینک کو نظامی خطرات کی نگرانی تک محدود رکھا جائے، جبکہ ایس ای سی پی مارکیٹیں تشکیل دے اور مسابقتی کمیشن اس امر کا جائزہ لے کہ آیا شعبے کی ساخت خود مسابقت کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں بن رہی۔</p>
<h3><a id="صرف-قرض-نہیں-ایکویٹی-بھی" href="#صرف-قرض-نہیں-ایکویٹی-بھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>صرف قرض نہیں، ایکویٹی بھی</strong></h3>
<p>ہم بینکوں پر اس قدر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جہاں اسٹیٹ بینک خطرے سے گریز کرنے والے کارٹل کے محافظ کا کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے، کہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک نوجوان اور ترقی کرتی ہوئی معیشت کو صرف قرض نہیں بلکہ خطرہ برداشت کرنے والا سرمایہ بھی درکار ہوتا ہے۔ جی ڈی پی کے قریب 10 فیصد کا ایکویٹی تناسب سرے سے ہی غلط ذریعہ ہے۔</p>
<p>قرض نتائج سے قطع نظر مقررہ ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے اور خیالات کے بجائے ضمانت کو ترجیح دیتا ہے؛ اس لیے اس کا جھکاؤ فطری طور پر بڑے قرض لینے والوں اور سب سے محفوظ اثاثے یعنی ریاست کی جانب ہوتا ہے۔</p>
<p>جس معیشت میں 80 فیصد مالیاتی دعوے قرض کی شکل میں ہوں اور بمشکل ایک دسویں حصے کے برابر ایکویٹی ہو، اس نے ایسا نظام تشکیل دیا ہے جو خطرے سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے، عین اس وقت جب ترقی کے لیے خطرہ مول لینا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور نئے کاروباری منصوبوں کے لیے مالی اعانت کا خلا برقرار ہے، حالانکہ قرضوں میں اضافہ بظاہر معقول دکھائی دیتا ہے۔ بینک ضمانت کے عوض قرض دیتے ہیں، لیکن ایسے نئے ادارے یا پہلی مرتبہ کاروبار شروع کرنے والے ایسے افراد کو سرمایہ فراہم کرنے والا کوئی نہیں جن کے پاس خیالات تو ہیں مگر گروی رکھنے کے لیے اثاثے نہیں۔</p>
<p>جنوبی کوریا، ویتنام اور بھارت نے اپنی ترقی میں جزوی طور پر اس لیے پیش رفت کی کہ انہوں نے اپنی بیلنس شیٹس میں محفوظ اثاثوں کے ساتھ ساتھ خطرہ برداشت کرنے والے سرمائے کا حصہ بھی بڑھایا۔</p>
<p>پاکستان نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا ہے—ایسی استحکام کی خاطر مالی اعانت کی جس کا وہ حقیقت میں حامل نہیں، بجائے اس ترقی کے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اور بحث اب بھی بینکوں ہی کے گرد گھوم رہی ہے، جو دنیا کی ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کے تجربے سے بالکل الٹ سمت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291608</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 18:08:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ندیم الحق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/23175915d038411.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/23175915d038411.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کی مسابقتی منڈی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291602/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجلی کے شعبے کو جزوی طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگرچہ مجوزہ نظام کی مخصوص تفصیلات ابھی منظرعام پر نہیں لائی گئیں مگر مصنف کا کہنا ہے کہ اشیا اور خدمات بشمول توانائی کی فراہمی میں حکومتی مداخلت کم کرنے والے ہر اقدام کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس شعبے میں روایتی بیوروکریٹک نظام واضح طور پر ناکام رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر نے مجوزہ نظام کی وضاحت کچھ یوں کی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بجلی کا شعبہ روایتی طور پر سنگل بائر ماڈل کے تحت کام کرتا رہا ہے، جس میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)، واپڈا کی سابقہ تقسیم کار کمپنیوں (ایکس ڈبلیو ڈسکوز) کی جانب سے بجلی خریدتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کا شعبہ اب مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کے ماڈل یعنی مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ سی ٹی بی سی ایم کے تحت متعدد خریدار اور مسابقتی سپلائرز باہمی رضامندی سے طے شدہ تھوک نرخوں پر براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کے دوطرفہ معاہدے کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس ڈبلیو ڈسکوز، جو آخری ترجیحی سپلائرز (ایس او ایل آر) کے طور پر کام کریں گی، کے لیے بجلی کی خریداری نیپرا کے زیرِ ضابطہ ٹیرف کے تحت اور کم سے کم لاگت کی بنیاد پر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سی ٹی بی سی ایم کے تحت مجوزہ اہم عملی تبدیلیاں :&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• سنگل بائر ماڈل کا خاتمہ : مرکزی سنگل بائر نظام ختم کردیا جائے گا اور ڈسکوز متوقع طلب پوری کرنے کے لیے آزاد نیلامی منتظم (آئی اے اے) کے زیرِ انتظام مرکزی نیلامیوں کے ذریعے بجلی خریدیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• صارفین کو انتخاب کا اختیار: ایک میگاواٹ سے زیادہ طلب رکھنے والے بڑے بجلی صارفین (بی پی سیز) اپنی متعلقہ ڈسکو یا مسابقتی سپلائر سے بجلی خریدنے کا انتخاب کرسکیں گے۔ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھنے کے ساتھ خوردہ سطح پر مسابقت اور صارفین کے لیے کم از کم طلب کی حد بتدریج متعارف کرائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• مرچنٹ بنیاد پر آپریشن : بجلی پیدا کرنے والے اثاثے جن میں ریٹائر ہونے والے پلانٹس اور گرڈ سے منسلک کیپٹو پاور پلانٹس شامل ہیں، مرچنٹ بنیاد پر بجلی فروخت کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• پرانے بجلی گھروں کے لیے اختیارات : موجودہ بجلی گھر کم سے کم لاگت کی بنیاد پر ڈسکوز کو بجلی فروخت کرسکیں گے، براہِ راست مسابقتی سپلائرز یا بڑے بجلی صارفین سے معاہدے کرسکیں گے، بشرطیکہ متعلقہ سپلائر لائسنس موجود ہو یا مرچنٹ پاور پلانٹس کے طور پر کام کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شفاف اقتصادی ڈسپیچ، مسابقتی بولی، دوطرفہ معاہدوں، منظم خریداری اور بجلی کی طلب و پیداوار میں توسیع کی بہتر پیش گوئی کے ذریعے قیمتوں میں زیادہ کارکردگی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ سی پی پی اے کے موجودہ پرانے معاہدے برقرار رہیں گے لیکن  فریقین باہمی رضامندی سے معاہدے ختم کرکے سی ٹی بی سی ایم میں شامل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ اعتبار ڈسکوز کے لیے وفاقی خودمختار ضمانتوں کو مرحلہ وار ختم کرکے ان کی جگہ تجارتی کریڈٹ کور متعارف کرایا جائے گا، جبکہ کم قابلِ اعتبار ڈسکوز کے لیے یہ ضمانتیں عارضی طور پر برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) سپلائرز کو سرمایہ کاری کے خطرات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ صنعتی علاقوں کو بجلی کی تقسیم کی خدمات فراہم کرنے کے لیے نیپرا کا ڈسٹری بیوشن لائسنس یا بڑے بجلی صارفین کو براہِ راست بجلی فراہم کرنے کے لیے مسابقتی سپلائر لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جبکہ موجودہ ایکس ڈبلیو ڈسکو آخری ترجیحی سپلائر (ایس او ایل آر) کی ذمہ داری برقرار رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقتی سپلائرز کا انتخاب کرنے والے صارفین کے لیے وفاقی حکومت کی سبسڈی وفاقی پالیسی اور بعد میں وضع کیے جانے والے طریقہ کار سے مشروط رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حالات میں یہ اصلاحات ضروری اور مثبت قدم ہیں مگر ان کی بنیاد آئی ایم ایف کی ان سفارشات پر ہے جن کا مقصد توانائی کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی بنیاد پر کرنا اور ماضی کی پالیسی کی غلطیوں کا بوجھ سرکاری خزانے سے کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اصولی طور پر یہ تصور درست ہے، لیکن موجودہ معاہدوں کا تسلسل اور تحفظ حکومت کے سامنے صرف دو قابلِ عمل راستے چھوڑتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• جاری اخراجات خود برداشت کرنا، جس سے سرکاری وسائل مزید کم ہوں گے یا مالی بوجھ خوردہ صارفین پر منتقل کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً اگرچہ مجوزہ نظام بڑے اور صنعتی بجلی صارفین کو مناسب ریلیف فراہم کرتا ہے، تاہم یہ عام گھریلو صارفین کو درپیش بلند توانائی لاگت کے طویل مدتی چیلنج سے نمٹنے میں ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو بنیادی حقائق شفاف انداز میں سامنے لانے چاہئیں، کیونکہ صارفین اور عوام کے لیے توانائی کی قیمتوں کا تعین مستقبل میں قومی ترقی کی سمت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ماضی میں اس شعبے سے متعلق پالیسی فیصلے قلیل مدتی سیاسی اور تجارتی مفادات کے تحت غلط انداز میں کیے گئے اور عوام و ملک کے طویل مدتی مفادات اور پائیداری کو نظرانداز کیا گیا۔ پاکستان مستقبل میں اس نوعیت کے ایک اور بڑے بحران کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ نظام میں مارکیٹ سے متعلق عملے کی تربیت بھی شامل ہے، جس کی ذمہ داری لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کو سونپی گئی ہے مگر مصنف کے مطابق پاکستان کی معیشت دو بڑے مراکز  کراچی اور لاہور پر انحصار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیشہ ورانہ تربیت کو صرف ایک شہر تک محدود کرنا مناسب نہیں، جبکہ اس حوالے سے واپڈا کے ماضی کے تجربے سے بھی سبق حاصل کیا جانا چاہیے۔ نظام کے شفافیت اور مساوات کے اہداف برقرار رکھنے کے لیے کراچی کے ادارہ جاتی کردار اور معاشی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ نظام کا مقصد توانائی کی قیمتوں کے تعین کے لیے مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار قائم کرنا ہے۔ تاہم مارکیٹ اسی وقت مؤثر طور پر کام کرسکتی ہے جب بنیادی نظام سادہ اور صارف دوست ہو۔ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اگرچہ اچھی طرح تشکیل دیا گیا ہے لیکن  اسے مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کی کامیابی کے لیے بنیادی قدم کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنا ہے، تاکہ وہ ان تجارتی معاہدوں میں حصہ لے۔ اگر حد سے زیادہ پیچیدہ ضوابط یہ تاثر دیں کہ اصل مسئلہ باریک تفصیلات میں پوشیدہ ہے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ مصنف کے مطابق نظام کو مزید آسان بنانا اور انتظامی رکاوٹیں ختم کرنا اس کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجلی کے شعبے کو جزوی طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگرچہ مجوزہ نظام کی مخصوص تفصیلات ابھی منظرعام پر نہیں لائی گئیں مگر مصنف کا کہنا ہے کہ اشیا اور خدمات بشمول توانائی کی فراہمی میں حکومتی مداخلت کم کرنے والے ہر اقدام کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس شعبے میں روایتی بیوروکریٹک نظام واضح طور پر ناکام رہا ہے۔</strong></p>
<p>ریگولیٹر نے مجوزہ نظام کی وضاحت کچھ یوں کی ہے:</p>
<p>پاکستان کا بجلی کا شعبہ روایتی طور پر سنگل بائر ماڈل کے تحت کام کرتا رہا ہے، جس میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)، واپڈا کی سابقہ تقسیم کار کمپنیوں (ایکس ڈبلیو ڈسکوز) کی جانب سے بجلی خریدتی ہے۔</p>
<p>بجلی کا شعبہ اب مسابقتی تھوک بجلی مارکیٹ کے ماڈل یعنی مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ سی ٹی بی سی ایم کے تحت متعدد خریدار اور مسابقتی سپلائرز باہمی رضامندی سے طے شدہ تھوک نرخوں پر براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کے دوطرفہ معاہدے کرسکیں گے۔</p>
<p>ایکس ڈبلیو ڈسکوز، جو آخری ترجیحی سپلائرز (ایس او ایل آر) کے طور پر کام کریں گی، کے لیے بجلی کی خریداری نیپرا کے زیرِ ضابطہ ٹیرف کے تحت اور کم سے کم لاگت کی بنیاد پر کی جائے گی۔</p>
<p><strong>سی ٹی بی سی ایم کے تحت مجوزہ اہم عملی تبدیلیاں :</strong></p>
<p>• سنگل بائر ماڈل کا خاتمہ : مرکزی سنگل بائر نظام ختم کردیا جائے گا اور ڈسکوز متوقع طلب پوری کرنے کے لیے آزاد نیلامی منتظم (آئی اے اے) کے زیرِ انتظام مرکزی نیلامیوں کے ذریعے بجلی خریدیں گی۔</p>
<p>• صارفین کو انتخاب کا اختیار: ایک میگاواٹ سے زیادہ طلب رکھنے والے بڑے بجلی صارفین (بی پی سیز) اپنی متعلقہ ڈسکو یا مسابقتی سپلائر سے بجلی خریدنے کا انتخاب کرسکیں گے۔ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بڑھنے کے ساتھ خوردہ سطح پر مسابقت اور صارفین کے لیے کم از کم طلب کی حد بتدریج متعارف کرائی جائے گی۔</p>
<p>• مرچنٹ بنیاد پر آپریشن : بجلی پیدا کرنے والے اثاثے جن میں ریٹائر ہونے والے پلانٹس اور گرڈ سے منسلک کیپٹو پاور پلانٹس شامل ہیں، مرچنٹ بنیاد پر بجلی فروخت کرسکیں گے۔</p>
<p>• پرانے بجلی گھروں کے لیے اختیارات : موجودہ بجلی گھر کم سے کم لاگت کی بنیاد پر ڈسکوز کو بجلی فروخت کرسکیں گے، براہِ راست مسابقتی سپلائرز یا بڑے بجلی صارفین سے معاہدے کرسکیں گے، بشرطیکہ متعلقہ سپلائر لائسنس موجود ہو یا مرچنٹ پاور پلانٹس کے طور پر کام کرسکیں گے۔</p>
<p>شفاف اقتصادی ڈسپیچ، مسابقتی بولی، دوطرفہ معاہدوں، منظم خریداری اور بجلی کی طلب و پیداوار میں توسیع کی بہتر پیش گوئی کے ذریعے قیمتوں میں زیادہ کارکردگی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ سی پی پی اے کے موجودہ پرانے معاہدے برقرار رہیں گے لیکن  فریقین باہمی رضامندی سے معاہدے ختم کرکے سی ٹی بی سی ایم میں شامل ہوسکیں گے۔</p>
<p>قابلِ اعتبار ڈسکوز کے لیے وفاقی خودمختار ضمانتوں کو مرحلہ وار ختم کرکے ان کی جگہ تجارتی کریڈٹ کور متعارف کرایا جائے گا، جبکہ کم قابلِ اعتبار ڈسکوز کے لیے یہ ضمانتیں عارضی طور پر برقرار رہیں گی۔</p>
<p>کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) سپلائرز کو سرمایہ کاری کے خطرات خود برداشت کرنا ہوں گے۔ صنعتی علاقوں کو بجلی کی تقسیم کی خدمات فراہم کرنے کے لیے نیپرا کا ڈسٹری بیوشن لائسنس یا بڑے بجلی صارفین کو براہِ راست بجلی فراہم کرنے کے لیے مسابقتی سپلائر لائسنس حاصل کرنا ہوگا، جبکہ موجودہ ایکس ڈبلیو ڈسکو آخری ترجیحی سپلائر (ایس او ایل آر) کی ذمہ داری برقرار رکھے گی۔</p>
<p>مسابقتی سپلائرز کا انتخاب کرنے والے صارفین کے لیے وفاقی حکومت کی سبسڈی وفاقی پالیسی اور بعد میں وضع کیے جانے والے طریقہ کار سے مشروط رہے گی۔</p>
<p>موجودہ حالات میں یہ اصلاحات ضروری اور مثبت قدم ہیں مگر ان کی بنیاد آئی ایم ایف کی ان سفارشات پر ہے جن کا مقصد توانائی کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی بنیاد پر کرنا اور ماضی کی پالیسی کی غلطیوں کا بوجھ سرکاری خزانے سے کم کرنا ہے۔</p>
<p>اگرچہ اصولی طور پر یہ تصور درست ہے، لیکن موجودہ معاہدوں کا تسلسل اور تحفظ حکومت کے سامنے صرف دو قابلِ عمل راستے چھوڑتا ہے:</p>
<p>• جاری اخراجات خود برداشت کرنا، جس سے سرکاری وسائل مزید کم ہوں گے یا مالی بوجھ خوردہ صارفین پر منتقل کرنا۔</p>
<p>نتیجتاً اگرچہ مجوزہ نظام بڑے اور صنعتی بجلی صارفین کو مناسب ریلیف فراہم کرتا ہے، تاہم یہ عام گھریلو صارفین کو درپیش بلند توانائی لاگت کے طویل مدتی چیلنج سے نمٹنے میں ناکام ہے۔</p>
<p>حکومت کو بنیادی حقائق شفاف انداز میں سامنے لانے چاہئیں، کیونکہ صارفین اور عوام کے لیے توانائی کی قیمتوں کا تعین مستقبل میں قومی ترقی کی سمت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ماضی میں اس شعبے سے متعلق پالیسی فیصلے قلیل مدتی سیاسی اور تجارتی مفادات کے تحت غلط انداز میں کیے گئے اور عوام و ملک کے طویل مدتی مفادات اور پائیداری کو نظرانداز کیا گیا۔ پاکستان مستقبل میں اس نوعیت کے ایک اور بڑے بحران کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔</p>
<p>مجوزہ نظام میں مارکیٹ سے متعلق عملے کی تربیت بھی شامل ہے، جس کی ذمہ داری لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کو سونپی گئی ہے مگر مصنف کے مطابق پاکستان کی معیشت دو بڑے مراکز  کراچی اور لاہور پر انحصار کرتی ہے۔</p>
<p>پیشہ ورانہ تربیت کو صرف ایک شہر تک محدود کرنا مناسب نہیں، جبکہ اس حوالے سے واپڈا کے ماضی کے تجربے سے بھی سبق حاصل کیا جانا چاہیے۔ نظام کے شفافیت اور مساوات کے اہداف برقرار رکھنے کے لیے کراچی کے ادارہ جاتی کردار اور معاشی اہمیت کو مکمل طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>مجوزہ نظام کا مقصد توانائی کی قیمتوں کے تعین کے لیے مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار قائم کرنا ہے۔ تاہم مارکیٹ اسی وقت مؤثر طور پر کام کرسکتی ہے جب بنیادی نظام سادہ اور صارف دوست ہو۔ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اگرچہ اچھی طرح تشکیل دیا گیا ہے لیکن  اسے مزید آسان بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اس نظام کی کامیابی کے لیے بنیادی قدم کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنا ہے، تاکہ وہ ان تجارتی معاہدوں میں حصہ لے۔ اگر حد سے زیادہ پیچیدہ ضوابط یہ تاثر دیں کہ اصل مسئلہ باریک تفصیلات میں پوشیدہ ہے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ مصنف کے مطابق نظام کو مزید آسان بنانا اور انتظامی رکاوٹیں ختم کرنا اس کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291602</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Sep 2026 14:35:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید شبر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/231412235672c6c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/231412235672c6c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیرمنصفانہ موازنہ آٹو پالیسی کو متاثر کر رہا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291544/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی مجوزہ آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 مجموعی طور پر درست سمت کا تعین کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بجلی پر منتقل کرنا، ملک کے پٹرولیم درآمدی بل میں کمی، زرمبادلہ کی بچت اور برآمدات پر مبنی آٹو موبائل صنعت کی تشکیل قابلِ قدر اہداف ہیں۔ برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافے، مسابقت، ٹیکنالوجی کے فروغ اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی جانب مجوزہ منتقلی پاکستان کے آٹو سیکٹر میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن مختلف برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی میں مزید وضاحت ضروری ہے۔ بنیادی خامی بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کو مراعات کے لیے یکساں تصور کرنا ہے۔ موجودہ تجویز میں تینوں اقسام کے لیے یکساں ایک فیصد سیلز ٹیکس، فیڈ، کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ تجویز کیا گیا ہے، حالانکہ ان کے نظامِ حرکت، بجلی سے چلنے کی صلاحیت اور پٹرولیم کے استعمال میں ممکنہ کمی کے حوالے سے نمایاں فرق موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ زیادہ مراعات صرف بی ای ویز تک محدود کردی جائیں۔ پاکستان کی پالیسی میں بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو برقی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ پی ایچ ای ویز کو عبوری زمرے کے طور پر الگ رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ای وی مکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی ہے۔ درست طور پر متعین آر ای ای وی بھی صرف برقی ٹریکشن موٹر سے چلتی ہے، جبکہ اس کا اندرونی احتراقی انجن صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے جنریٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور پہیوں کو براہِ راست نہیں چلاتا۔ یوں آر ای ای ویز برقی گاڑیوں کے فوائد فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان میں بی ای ویز کے ابتدائی فروغ کی دو بڑی رکاوٹوں، محدود چارجنگ انفرااسٹرکچر اور ڈرائیونگ رینج سے متعلق خدشات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایچ ای ویز اس سے مختلف ہیں، کیونکہ ان کا اندرونی احتراقی انجن براہِ راست گاڑی چلانے میں بھی حصہ لے سکتا ہے۔ اس لیے انہیں خودکار طور پر بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کے مساوی مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔ اس کے بجائے پی ایچ ای وی مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے منسلک کیا جائے، جس میں صرف بجلی پر چلنے کی حد، بیٹری کی گنجائش، ایندھن کی کھپت، اخراج اور پٹرولیم کے استعمال میں ثابت شدہ کمی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے مراعات کا ایک زیادہ منطقی نظام تشکیل پائے گا، جس کے نتیجے میں ایسی ٹیکنالوجیز کو قبل از وقت نظرانداز نہیں کیا جائے گا جو پاکستان میں برقی نقل و حمل کی جانب منتقلی کو تیز کرسکتی ہیں۔ مقصد محض گاڑی میں بیٹری یا پلگ کی موجودگی کے بجائے حقیقی برقی منتقلی اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی سطح کو مراعات کی بنیاد بنانا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارجنگ انفرااسٹرکچر کے چیلنج پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز کی درآمدی ڈیوٹی کم کرکے ایک فیصد کرنے اور بیٹری تبدیل کرنے کے انفرااسٹرکچر کے لیے مالی معاونت پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں لیکن انہیں ایک جامع قومی چارجنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے، جس میں موٹرویز، شہروں، کمرشل فلیٹس، رہائشی علاقوں اور تیز رفتار چارجنگ کے راستوں کو شامل کیا جائے۔ مناسب چارجنگ انفرااسٹرکچر کے بغیر خالص برقی گاڑیوں کا صارفین میں فروغ محدود رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں فنانسنگ کی تجویز بھی خوش آئند ہے۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے سے گاڑیوں کی قیمت قابلِ برداشت بنانے اور صارفین میں ان کے استعمال کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسی مالی معاونت کو حقیقی این ای وی ٹیکنالوجیز تک محدود رکھا جانا چاہیے اور اسے بھی برقی منتقلی کی سطح اور ماحولیاتی کارکردگی کے مطابق مختلف کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر پالیسی فریم ورک میں بھی خاصی گنجائش موجود ہے۔ برآمدات کی لازمی شرائط پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کو تقریباً مکمل طور پر مقامی مارکیٹ پر انحصار سے نکالنے میں مدد دیں گی۔ کاروں، جیپوں اور ایس یو ویز کے لیے 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداواری مالیت کے 12 فیصد کے برابر برآمدات کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ بعد کے سالوں میں بھی اسی نوعیت کی شرائط برقرار رہیں گی۔ او ای ایمز اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے پالیسی میں 2026-31 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 4.59 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات سے منسلک مراعات کا مجوزہ نظام بھی حوصلہ افزا ہے۔ اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو خالص ایف او بی برآمدی مالیت کا 10 فیصد دیا جاسکے گا، جبکہ سالانہ بنیاد پر برآمدی مالیت میں کم از کم 5 فیصد اضافے کی صورت میں مزید 5 فیصد معاونت فراہم کی جاسکتی ہے۔ ایسی معاونت کو حقیقی برآمدی آمدنی اور تھرڈ پارٹی آڈٹ سے مشروط کرنا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر برآمدی مراعات میں بتدریج زیادہ اہمیت اضافی برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافے اور عالمی سپلائی چینز میں حقیقی انضمام کو دینی چاہیے، نہ کہ صرف برآمد کی جانے والی مصنوعات کی مقدار کو۔ اگر پاکستان کو آٹو صنعت کو محض اسمبلی پر مبنی شعبے سے مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے تو یہ امر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے کم از کم مقامی ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) کا مجوزہ فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے۔ روایتی گاڑیوں کے لیے 2030-31 تک 40 فیصد ایم ڈی وی اے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ این ای ویز کے لیے یہ شرح ابتدائی 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ این ای وی صنعت کو ابتدائی مرحلے میں کچھ زیادہ لچک دینا مناسب ہوسکتا ہے، تاہم مقامی پیداوار کا دائرہ بتدریج صرف حتمی اسمبلی سے آگے بڑھاتے ہوئے بیٹریوں، بیٹری مینجمنٹ سسٹمز، برقی موٹرز، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ سسٹمز، تھرمل مینجمنٹ سسٹمز اور دیگر اہم پرزہ جات تک وسیع کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ٹیرف میں اصلاحات بھی اہم بنیادی تبدیلی ہے۔ پالیسی میں ٹیرف میں نمایاں کمی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے بتدریج خاتمے اور ایس آر او کی بنیاد پر دی جانے والی رعایتوں کو زیادہ شفاف اور قواعد پر مبنی نظام سے تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر ان اقدامات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کیا جائے تو مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے اور مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت، قیمتوں، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن مالیاتی اثرات این ای وی مراعات کو زیادہ بہتر انداز میں مختص کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پالیسی میں ڈی ایل ٹی ایل اخراجات اور این ای وی سے متعلق ٹیکس رعایتوں کے مقابلے میں تقریباً 349.9 ارب روپے کی اضافی ایف ای ڈی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 21.1 ارب روپے کے مالیاتی سرپلس کی توقع ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ سالانہ مالیاتی پوزیشن 2026-27 میں 46.8 ارب روپے کے سرپلس سے 2030-31 تک 44.1 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں یہ مزید ضروری ہوجاتا ہے کہ محدود مالی وسائل ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے مختص کیے جائیں جو برقی منتقلی، ایندھن کی بچت اور اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے غیر جانب دار لیکن کارکردگی کی بنیاد پر این ای وی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو برقی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز کے طور پر بھرپور معاونت ملنی چاہیے، جبکہ پی ایچ ای ویز کو مراعات ان کی قابلِ پیمائش برقی ڈرائیونگ صلاحیت، ایندھن کے استعمال میں کمی اور اخراج کی کارکردگی کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں۔ روایتی نان پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو الگ زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں آر ای ای وی کی واضح تکنیکی تعریف بھی شامل ہونی چاہیے، تاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر متعلقہ ادارے یکساں بنیاد پر ان گاڑیوں کا تعین کرسکیں۔ درجہ بندی محض اندرونی روایتی انجن کی موجودگی کے بجائے گاڑی کے حقیقی نظامِ حرکت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل، گاڑیوں کے بہتر معیارات، یو این ای سی ای معیارات کا نفاذ اور ٹیسٹنگ انفرااسٹرکچر کا قیام بھی درست سمت میں اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات پاکستانی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو عالمی سپلائی چینز میں شامل ہونے اور ملک کو برآمدات پر مبنی آٹو مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے وسیع تر مقصد کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کی آٹو پالیسی کا مقصد قبل از وقت کسی ایک ٹیکنالوجی کا انتخاب نہیں ہونا چاہیے بلکہ درست سمت کا تعین اور برقی منتقلی کی جانب قابلِ پیمائش پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ای ویز صفر ٹیل پائپ اخراج کی جانب حتمی راستہ فراہم کرتی ہیں۔ حقیقی آر ای ای ویز موجودہ چارجنگ انفرااسٹرکچر اور ڈرائیونگ رینج کی رکاوٹوں سے نمٹتے ہوئے برقی نقل و حرکت فراہم کرسکتی ہیں۔ پی ایچ ای ویز عبوری ٹیکنالوجی کا کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ان کی مراعات برقی منتقلی اور پٹرولیم کے استعمال میں حقیقی کمی میں ان کے کردار کے مطابق ہونی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت اس مختلف نوعیت کے این ای وی فریم ورک کو برآمدی شرائط، مقامی پیداوار میں اضافے، شفاف ٹیرف، چارجنگ انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کارکردگی پر مبنی مراعات کے ساتھ مربوط کردیتی ہے تو آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 محض صنعتی پالیسی نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کو محفوظ مقامی اسمبلی مارکیٹ سے مسابقتی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز آٹو موبائل صنعت میں منتقل کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی مجوزہ آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 مجموعی طور پر درست سمت کا تعین کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بجلی پر منتقل کرنا، ملک کے پٹرولیم درآمدی بل میں کمی، زرمبادلہ کی بچت اور برآمدات پر مبنی آٹو موبائل صنعت کی تشکیل قابلِ قدر اہداف ہیں۔ برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافے، مسابقت، ٹیکنالوجی کے فروغ اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کی جانب مجوزہ منتقلی پاکستان کے آٹو سیکٹر میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔</strong></p>
<p>لیکن مختلف برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے پالیسی میں مزید وضاحت ضروری ہے۔ بنیادی خامی بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آر ای ای ویز) اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (پی ایچ ای ویز) کو مراعات کے لیے یکساں تصور کرنا ہے۔ موجودہ تجویز میں تینوں اقسام کے لیے یکساں ایک فیصد سیلز ٹیکس، فیڈ، کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) اور ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ تجویز کیا گیا ہے، حالانکہ ان کے نظامِ حرکت، بجلی سے چلنے کی صلاحیت اور پٹرولیم کے استعمال میں ممکنہ کمی کے حوالے سے نمایاں فرق موجود ہے۔</p>
<p>تاہم حل یہ نہیں ہونا چاہیے کہ زیادہ مراعات صرف بی ای ویز تک محدود کردی جائیں۔ پاکستان کی پالیسی میں بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو برقی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ پی ایچ ای ویز کو عبوری زمرے کے طور پر الگ رکھا جائے۔</p>
<p>بی ای وی مکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی ہے۔ درست طور پر متعین آر ای ای وی بھی صرف برقی ٹریکشن موٹر سے چلتی ہے، جبکہ اس کا اندرونی احتراقی انجن صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے جنریٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور پہیوں کو براہِ راست نہیں چلاتا۔ یوں آر ای ای ویز برقی گاڑیوں کے فوائد فراہم کرنے کے ساتھ پاکستان میں بی ای ویز کے ابتدائی فروغ کی دو بڑی رکاوٹوں، محدود چارجنگ انفرااسٹرکچر اور ڈرائیونگ رینج سے متعلق خدشات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>پی ایچ ای ویز اس سے مختلف ہیں، کیونکہ ان کا اندرونی احتراقی انجن براہِ راست گاڑی چلانے میں بھی حصہ لے سکتا ہے۔ اس لیے انہیں خودکار طور پر بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کے مساوی مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔ اس کے بجائے پی ایچ ای وی مراعات کو قابلِ پیمائش کارکردگی سے منسلک کیا جائے، جس میں صرف بجلی پر چلنے کی حد، بیٹری کی گنجائش، ایندھن کی کھپت، اخراج اور پٹرولیم کے استعمال میں ثابت شدہ کمی شامل ہو۔</p>
<p>اس سے مراعات کا ایک زیادہ منطقی نظام تشکیل پائے گا، جس کے نتیجے میں ایسی ٹیکنالوجیز کو قبل از وقت نظرانداز نہیں کیا جائے گا جو پاکستان میں برقی نقل و حمل کی جانب منتقلی کو تیز کرسکتی ہیں۔ مقصد محض گاڑی میں بیٹری یا پلگ کی موجودگی کے بجائے حقیقی برقی منتقلی اور پٹرولیم کے استعمال میں کمی کی سطح کو مراعات کی بنیاد بنانا ہونا چاہیے۔</p>
<p>چارجنگ انفرااسٹرکچر کے چیلنج پر بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسودے میں چارجنگ اسٹیشنز کی درآمدی ڈیوٹی کم کرکے ایک فیصد کرنے اور بیٹری تبدیل کرنے کے انفرااسٹرکچر کے لیے مالی معاونت پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ مثبت اقدامات ہیں لیکن انہیں ایک جامع قومی چارجنگ حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے، جس میں موٹرویز، شہروں، کمرشل فلیٹس، رہائشی علاقوں اور تیز رفتار چارجنگ کے راستوں کو شامل کیا جائے۔ مناسب چارجنگ انفرااسٹرکچر کے بغیر خالص برقی گاڑیوں کا صارفین میں فروغ محدود رہے گا۔</p>
<p>پالیسی میں فنانسنگ کی تجویز بھی خوش آئند ہے۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز) کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے سے گاڑیوں کی قیمت قابلِ برداشت بنانے اور صارفین میں ان کے استعمال کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایسی مالی معاونت کو حقیقی این ای وی ٹیکنالوجیز تک محدود رکھا جانا چاہیے اور اسے بھی برقی منتقلی کی سطح اور ماحولیاتی کارکردگی کے مطابق مختلف کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>وسیع تر پالیسی فریم ورک میں بھی خاصی گنجائش موجود ہے۔ برآمدات کی لازمی شرائط پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کو تقریباً مکمل طور پر مقامی مارکیٹ پر انحصار سے نکالنے میں مدد دیں گی۔ کاروں، جیپوں اور ایس یو ویز کے لیے 2029-30 تک فیکٹری گیٹ پیداواری مالیت کے 12 فیصد کے برابر برآمدات کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ بعد کے سالوں میں بھی اسی نوعیت کی شرائط برقرار رہیں گی۔ او ای ایمز اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے پالیسی میں 2026-31 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 4.59 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف رکھا گیا ہے۔</p>
<p>برآمدات سے منسلک مراعات کا مجوزہ نظام بھی حوصلہ افزا ہے۔ اہل او ای ایمز اور پارٹس مینوفیکچررز کو خالص ایف او بی برآمدی مالیت کا 10 فیصد دیا جاسکے گا، جبکہ سالانہ بنیاد پر برآمدی مالیت میں کم از کم 5 فیصد اضافے کی صورت میں مزید 5 فیصد معاونت فراہم کی جاسکتی ہے۔ ایسی معاونت کو حقیقی برآمدی آمدنی اور تھرڈ پارٹی آڈٹ سے مشروط کرنا ایک اہم حفاظتی اقدام ہے۔</p>
<p>مگر برآمدی مراعات میں بتدریج زیادہ اہمیت اضافی برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافے اور عالمی سپلائی چینز میں حقیقی انضمام کو دینی چاہیے، نہ کہ صرف برآمد کی جانے والی مصنوعات کی مقدار کو۔ اگر پاکستان کو آٹو صنعت کو محض اسمبلی پر مبنی شعبے سے مسابقتی مینوفیکچرنگ اور برآمدی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے تو یہ امر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے کم از کم مقامی ویلیو ایڈیشن (ایم ڈی وی اے) کا مجوزہ فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے۔ روایتی گاڑیوں کے لیے 2030-31 تک 40 فیصد ایم ڈی وی اے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ این ای ویز کے لیے یہ شرح ابتدائی 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ این ای وی صنعت کو ابتدائی مرحلے میں کچھ زیادہ لچک دینا مناسب ہوسکتا ہے، تاہم مقامی پیداوار کا دائرہ بتدریج صرف حتمی اسمبلی سے آگے بڑھاتے ہوئے بیٹریوں، بیٹری مینجمنٹ سسٹمز، برقی موٹرز، پاور الیکٹرانکس، وائرنگ سسٹمز، تھرمل مینجمنٹ سسٹمز اور دیگر اہم پرزہ جات تک وسیع کرنا چاہیے۔</p>
<p>مجوزہ ٹیرف میں اصلاحات بھی اہم بنیادی تبدیلی ہے۔ پالیسی میں ٹیرف میں نمایاں کمی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے بتدریج خاتمے اور ایس آر او کی بنیاد پر دی جانے والی رعایتوں کو زیادہ شفاف اور قواعد پر مبنی نظام سے تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگر ان اقدامات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کیا جائے تو مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے اور مینوفیکچررز کو پیداواری صلاحیت، قیمتوں، ٹیکنالوجی اور مصنوعات کے معیار میں بہتری لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔</p>
<p>لیکن مالیاتی اثرات این ای وی مراعات کو زیادہ بہتر انداز میں مختص کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ پالیسی میں ڈی ایل ٹی ایل اخراجات اور این ای وی سے متعلق ٹیکس رعایتوں کے مقابلے میں تقریباً 349.9 ارب روپے کی اضافی ایف ای ڈی وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 21.1 ارب روپے کے مالیاتی سرپلس کی توقع ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ سالانہ مالیاتی پوزیشن 2026-27 میں 46.8 ارب روپے کے سرپلس سے 2030-31 تک 44.1 ارب روپے کے خسارے میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>اس صورتحال میں یہ مزید ضروری ہوجاتا ہے کہ محدود مالی وسائل ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے مختص کیے جائیں جو برقی منتقلی، ایندھن کی بچت اور اخراج میں کمی کے قابلِ پیمائش فوائد فراہم کرتی ہوں۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے غیر جانب دار لیکن کارکردگی کی بنیاد پر این ای وی پالیسی کی ضرورت ہے۔ بی ای ویز اور حقیقی آر ای ای ویز کو برقی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجیز کے طور پر بھرپور معاونت ملنی چاہیے، جبکہ پی ایچ ای ویز کو مراعات ان کی قابلِ پیمائش برقی ڈرائیونگ صلاحیت، ایندھن کے استعمال میں کمی اور اخراج کی کارکردگی کی بنیاد پر دی جانی چاہئیں۔ روایتی نان پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو الگ زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>پالیسی میں آر ای ای وی کی واضح تکنیکی تعریف بھی شامل ہونی چاہیے، تاکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر متعلقہ ادارے یکساں بنیاد پر ان گاڑیوں کا تعین کرسکیں۔ درجہ بندی محض اندرونی روایتی انجن کی موجودگی کے بجائے گاڑی کے حقیقی نظامِ حرکت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔</p>
<p>مجوزہ آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل، گاڑیوں کے بہتر معیارات، یو این ای سی ای معیارات کا نفاذ اور ٹیسٹنگ انفرااسٹرکچر کا قیام بھی درست سمت میں اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات پاکستانی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو عالمی سپلائی چینز میں شامل ہونے اور ملک کو برآمدات پر مبنی آٹو مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے وسیع تر مقصد کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کی آٹو پالیسی کا مقصد قبل از وقت کسی ایک ٹیکنالوجی کا انتخاب نہیں ہونا چاہیے بلکہ درست سمت کا تعین اور برقی منتقلی کی جانب قابلِ پیمائش پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔</p>
<p>بی ای ویز صفر ٹیل پائپ اخراج کی جانب حتمی راستہ فراہم کرتی ہیں۔ حقیقی آر ای ای ویز موجودہ چارجنگ انفرااسٹرکچر اور ڈرائیونگ رینج کی رکاوٹوں سے نمٹتے ہوئے برقی نقل و حرکت فراہم کرسکتی ہیں۔ پی ایچ ای ویز عبوری ٹیکنالوجی کا کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ان کی مراعات برقی منتقلی اور پٹرولیم کے استعمال میں حقیقی کمی میں ان کے کردار کے مطابق ہونی چاہئیں۔</p>
<p>اگر حکومت اس مختلف نوعیت کے این ای وی فریم ورک کو برآمدی شرائط، مقامی پیداوار میں اضافے، شفاف ٹیرف، چارجنگ انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کارکردگی پر مبنی مراعات کے ساتھ مربوط کردیتی ہے تو آٹو موٹیو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 محض صنعتی پالیسی نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کو محفوظ مقامی اسمبلی مارکیٹ سے مسابقتی، ٹیکنالوجی پر مبنی اور برآمدات پر مرکوز آٹو موبائل صنعت میں منتقل کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291544</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 13:52:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد شہباز اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/22132524741ad68.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/22132524741ad68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کے امکانات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291558/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوری 2026 میں مہنگائی کی شرح نسبتاً کم 5.8 فیصد تھی، تاہم اس کے بعد مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ فروری 2026 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی، جبکہ اگست 2026 تک یہ دو ہندسوں میں پہنچ کر 11.1 فیصد ہوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے تحت ہفتہ وار مہنگائی کی شرح گزشتہ ہفتے 10.6 فیصد ہوگئی، جو اس سے پچھلے ہفتے 8.6 فیصد تھی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل یہ شرح محض 4.2 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اگست 2026 کی اپنی حالیہ مالیاتی پالیسی رپورٹ میں اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان بتدریج تبدیل ہوگا اور جون 2027 تک یہ کم ہوکر 5 سے 7 فیصد کی حد کے بالائی حصے تک پہنچ جائے گی۔ یہی حد 2026-27 کے آغاز میں بھی مہنگائی کے لیے مقرر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے میں زری اور شرحِ مبادلہ کی پالیسیوں کے ذریعے ایس بی پی کا کردار نہایت اہم ہے۔ 2026-27 کے دوسرے نصف میں مہنگائی میں کمی کے حوالے سے مرکزی بینک کی امید بنیادی طور پر اس مفروضے پر مبنی دکھائی دیتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع چند ماہ میں ختم ہوجائے گا اور عالمی تجارت معمول پر آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایس بی پی کی زری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی میں کمی کے اس منظرنامے کو کئی بڑے خطرات سے مشروط کیا ہے۔ اس مثبت نتیجے کے لیے عالمی اجناس، بالخصوص ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہنا ضروری ہوگا۔ گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کو بھی محدود رکھنا ہوگا، جبکہ رسد میں ایسی رکاوٹیں بھی نہیں آنی چاہئیں جو، مثال کے طور پر، غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کا سبب بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کی شرح کے تخمینے کے لیے ان عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے جنہوں نے جنوری 2026 کے بعد اس میں اضافے میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے کے پہلے حصے میں اگست 2026 کی 11.1 فیصد مہنگائی کو مختلف اشیا اور خدمات کے گروپوں میں تقسیم کرکے دیکھا جائے تو توقع کے مطابق سال بہ سال بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 20.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد غذائی اشیا کا نمبر آتا ہے، جن کی قیمتوں میں 13.9 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ کے گروپ میں موٹر ایندھن کی قیمت سب سے زیادہ 24.5 فیصد بڑھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی اشیا میں مہنگائی کی شرح گندم کے آٹے، پیاز اور ٹماٹر میں بالترتیب 73.1 فیصد، 124.3 فیصد اور 128.1 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایندھن کی قیمتوں کے مہنگائی پر صرف براہِ راست اثر کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں غذائی اشیا اور صارفین کی وسیع اقسام کی اشیا کی نقل و حمل کی لاگت میں اضافے کا اثر کہیں زیادہ بڑا ہے۔ ان اشیا کی قیمتوں میں ٹرانسپورٹ لاگت کا تخمینہ تقریباً 15 سے 20 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2026 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سال بہ سال بنیاد پر مہنگائی پر براہِ راست اور بالواسطہ مجموعی اثر 3.8 فیصد پوائنٹس رہا، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح تقریباً 11 فیصد تھی۔ اس طرح مہنگائی کا 35 فیصد حصہ ایندھن کی لاگت میں اضافے سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگست 2026 کی مہنگائی میں تقریباً 20 فیصد حصہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی قابل ذکر ہے۔ اگست 2026 میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے معاملے میں 34.4 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 26.6 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اوگرا کی جانب سے 21 جولائی کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد ایچ ایس ڈی کی قیمت میں 17.1 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 22.9 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مہنگائی کا بڑا حصہ حالیہ مہینوں میں سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کا جنگ کے خاتمے اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اعتدال کا تخمینہ اس صورت میں درست ثابت ہوسکتا ہے اگر امریکی صدر کی یہ توقع پوری ہوجاتی ہے کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم ہوجائے گی۔ تاہم گزشتہ چھ ماہ کے دوران رسد میں پیدا ہونے والی کمی کو دیکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم ہونے اور پھر تیزی سے کم ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر خطرات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے جو مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پہلا مسئلہ 2026-27 کی فصلوں کے سیزن میں کھاد کی ممکنہ قلت ہے۔ بالخصوص قطر سے برآمدات نہ ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمد محدود ہونے کا امکان ہے۔ پہلے ہی ایل این جی کی درآمد میں 36 فیصد کمی آچکی ہے۔ اسی طرح کھاد کی درآمد 15 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے، جبکہ مقامی پیداوار میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ رجحان برقرار رہا تو زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کھاد کا استعمال بتدریج محدود ہوتا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں، خصوصاً غذائی اشیا کی پیداوار متاثر ہونے سے، 2026-27 کے دوسرے نصف میں غذائی قیمتوں میں مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کی شرح شرحِ مبادلہ کی نقل و حرکت سے بھی منسلک ہے۔ اندازہ ہے کہ روپے کی برائے نام قدر میں ایک فیصد کمی کے نتیجے میں بالآخر صارف قیمت اشاریے میں 0.31 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے تقریباً دو برس سے روپے کی برائے نام قدر مستحکم رہی ہے۔ تاہم ایس بی پی کے تخمینے کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایندھن اور دیگر توانائی مصنوعات کی درآمدی قیمتوں میں اضافے کے باعث آنے والے مہینوں میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھتا ہے تو روپے پر دباؤ پڑسکتا ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی روپے کی قدر کو مارکیٹ کے ذریعے زیادہ متعین ہونے پر زور دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر یہ بات حیران کن ہے کہ ایس بی پی کی مالیاتی پالیسی کمیٹی نے 2026-27 کے دوسرے نصف میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جس کے مطابق موجودہ تقریباً 11 فیصد شرح کم ہوکر 7 فیصد کے قریب آجائے گی۔ یہ توقع اس اندازے کے برعکس ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز اور اب بحیرہ احمر کے جنوبی راستے کی بندش کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قلت برقرار رہتی ہے تو قیمتوں کے رجحان میں تبدیلی آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بعید از امکان نہیں کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد کی موجودہ سطح سے کچھ مزید بڑھ جائے اور پھر دو ہندسوں میں برقرار رہے، جبکہ 2026-27 کے اختتام تک بنیادی مہنگائی کی شرح تقریباً 10 فیصد رہ سکتی ہے۔ ایس بی پی کو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے حوالے سے اپنے تخمینے کا ازسرنو جائزہ لینے اور اسی مناسبت سے پالیسی ریٹ میں ردوبدل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوری 2026 میں مہنگائی کی شرح نسبتاً کم 5.8 فیصد تھی، تاہم اس کے بعد مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ فروری 2026 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی، جبکہ اگست 2026 تک یہ دو ہندسوں میں پہنچ کر 11.1 فیصد ہوگئی۔</strong></p>
<p>اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے تحت ہفتہ وار مہنگائی کی شرح گزشتہ ہفتے 10.6 فیصد ہوگئی، جو اس سے پچھلے ہفتے 8.6 فیصد تھی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل یہ شرح محض 4.2 فیصد تھی۔</p>
<p>تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اگست 2026 کی اپنی حالیہ مالیاتی پالیسی رپورٹ میں اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان بتدریج تبدیل ہوگا اور جون 2027 تک یہ کم ہوکر 5 سے 7 فیصد کی حد کے بالائی حصے تک پہنچ جائے گی۔ یہی حد 2026-27 کے آغاز میں بھی مہنگائی کے لیے مقرر کی گئی تھی۔</p>
<p>ملک میں مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے میں زری اور شرحِ مبادلہ کی پالیسیوں کے ذریعے ایس بی پی کا کردار نہایت اہم ہے۔ 2026-27 کے دوسرے نصف میں مہنگائی میں کمی کے حوالے سے مرکزی بینک کی امید بنیادی طور پر اس مفروضے پر مبنی دکھائی دیتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع چند ماہ میں ختم ہوجائے گا اور عالمی تجارت معمول پر آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوگی۔</p>
<p>تاہم، ایس بی پی کی زری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی میں کمی کے اس منظرنامے کو کئی بڑے خطرات سے مشروط کیا ہے۔ اس مثبت نتیجے کے لیے عالمی اجناس، بالخصوص ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہنا ضروری ہوگا۔ گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کو بھی محدود رکھنا ہوگا، جبکہ رسد میں ایسی رکاوٹیں بھی نہیں آنی چاہئیں جو، مثال کے طور پر، غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کا سبب بنیں۔</p>
<p>مہنگائی کی شرح کے تخمینے کے لیے ان عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے جنہوں نے جنوری 2026 کے بعد اس میں اضافے میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>تجزیے کے پہلے حصے میں اگست 2026 کی 11.1 فیصد مہنگائی کو مختلف اشیا اور خدمات کے گروپوں میں تقسیم کرکے دیکھا جائے تو توقع کے مطابق سال بہ سال بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 20.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد غذائی اشیا کا نمبر آتا ہے، جن کی قیمتوں میں 13.9 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ کے گروپ میں موٹر ایندھن کی قیمت سب سے زیادہ 24.5 فیصد بڑھی۔</p>
<p>غذائی اشیا میں مہنگائی کی شرح گندم کے آٹے، پیاز اور ٹماٹر میں بالترتیب 73.1 فیصد، 124.3 فیصد اور 128.1 فیصد رہی۔</p>
<p>صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایندھن کی قیمتوں کے مہنگائی پر صرف براہِ راست اثر کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں غذائی اشیا اور صارفین کی وسیع اقسام کی اشیا کی نقل و حمل کی لاگت میں اضافے کا اثر کہیں زیادہ بڑا ہے۔ ان اشیا کی قیمتوں میں ٹرانسپورٹ لاگت کا تخمینہ تقریباً 15 سے 20 فیصد ہے۔</p>
<p>اگست 2026 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سال بہ سال بنیاد پر مہنگائی پر براہِ راست اور بالواسطہ مجموعی اثر 3.8 فیصد پوائنٹس رہا، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح تقریباً 11 فیصد تھی۔ اس طرح مہنگائی کا 35 فیصد حصہ ایندھن کی لاگت میں اضافے سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگست 2026 کی مہنگائی میں تقریباً 20 فیصد حصہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا تھا۔</p>
<p>پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی قابل ذکر ہے۔ اگست 2026 میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے معاملے میں 34.4 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 26.6 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اوگرا کی جانب سے 21 جولائی کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد ایچ ایس ڈی کی قیمت میں 17.1 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 22.9 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مہنگائی کا بڑا حصہ حالیہ مہینوں میں سامنے آیا ہے۔</p>
<p>ایس بی پی کا جنگ کے خاتمے اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اعتدال کا تخمینہ اس صورت میں درست ثابت ہوسکتا ہے اگر امریکی صدر کی یہ توقع پوری ہوجاتی ہے کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم ہوجائے گی۔ تاہم گزشتہ چھ ماہ کے دوران رسد میں پیدا ہونے والی کمی کو دیکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم ہونے اور پھر تیزی سے کم ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔</p>
<p>دیگر خطرات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے جو مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پہلا مسئلہ 2026-27 کی فصلوں کے سیزن میں کھاد کی ممکنہ قلت ہے۔ بالخصوص قطر سے برآمدات نہ ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمد محدود ہونے کا امکان ہے۔ پہلے ہی ایل این جی کی درآمد میں 36 فیصد کمی آچکی ہے۔ اسی طرح کھاد کی درآمد 15 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے، جبکہ مقامی پیداوار میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی ہے۔</p>
<p>اگر یہ رجحان برقرار رہا تو زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کھاد کا استعمال بتدریج محدود ہوتا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں، خصوصاً غذائی اشیا کی پیداوار متاثر ہونے سے، 2026-27 کے دوسرے نصف میں غذائی قیمتوں میں مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہوسکتی ہے۔</p>
<p>مہنگائی کی شرح شرحِ مبادلہ کی نقل و حرکت سے بھی منسلک ہے۔ اندازہ ہے کہ روپے کی برائے نام قدر میں ایک فیصد کمی کے نتیجے میں بالآخر صارف قیمت اشاریے میں 0.31 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے تقریباً دو برس سے روپے کی برائے نام قدر مستحکم رہی ہے۔ تاہم ایس بی پی کے تخمینے کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایندھن اور دیگر توانائی مصنوعات کی درآمدی قیمتوں میں اضافے کے باعث آنے والے مہینوں میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھتا ہے تو روپے پر دباؤ پڑسکتا ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی روپے کی قدر کو مارکیٹ کے ذریعے زیادہ متعین ہونے پر زور دے رہا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر یہ بات حیران کن ہے کہ ایس بی پی کی مالیاتی پالیسی کمیٹی نے 2026-27 کے دوسرے نصف میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جس کے مطابق موجودہ تقریباً 11 فیصد شرح کم ہوکر 7 فیصد کے قریب آجائے گی۔ یہ توقع اس اندازے کے برعکس ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز اور اب بحیرہ احمر کے جنوبی راستے کی بندش کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قلت برقرار رہتی ہے تو قیمتوں کے رجحان میں تبدیلی آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔</p>
<p>یہ بات بعید از امکان نہیں کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد کی موجودہ سطح سے کچھ مزید بڑھ جائے اور پھر دو ہندسوں میں برقرار رہے، جبکہ 2026-27 کے اختتام تک بنیادی مہنگائی کی شرح تقریباً 10 فیصد رہ سکتی ہے۔ ایس بی پی کو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے حوالے سے اپنے تخمینے کا ازسرنو جائزہ لینے اور اسی مناسبت سے پالیسی ریٹ میں ردوبدل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291558</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Sep 2026 16:31:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/22161216dca63fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/22161216dca63fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیانیے میں تبدیلی ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291508/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے جائزے کا آغاز رواں ماہ 23 تاریخ کو متوقع ہے، اور اس حوالے سے یہ سوال شدت سے زیرِبحث ہے کہ آیا معاشی ٹیم کے سربراہان ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر کوئی غیر روایتی اور منفرد حل وضع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا، جیسا کہ ان کے بعض ناقدین کا الزام ہے، ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہی موجود ہے، اور کیا وہ فنڈ کو اپنی تجاویز کی افادیت پر قائل کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو لوگ اسے ایک خاصا سخت بیان سمجھتے ہیں، انہیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جس کا تعین یومیہ 4.20 ڈالر کی کم متوسط آمدنی کی حد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کے لیے یومیہ 3 ڈالر کی حد مقرر ہے، جبکہ قومی غربت کی شرح کا تخمینہ تقریباً 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے 2025 میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ ’’خوشحالی کی جانب پیش رفت کی بحالی: پاکستان میں غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ‘‘ میں نوٹ کیا کہ پاکستان نے 2001 میں غربت کی شرح 64.3 فیصد سے ڈرامائی طور پر کم کرکے 2018 میں 21.9 فیصد تک پہنچائی تھی۔ غربت میں یہ کمی 2015 تک سالانہ 3 فیصد پوائنٹس کی رفتار سے ہوئی، تاہم اس کے بعد رفتار کم ہوکر سالانہ ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی۔ حالیہ عرصے میں مسلسل رونما ہونے والے متعدد جھٹکوں کے باعث غربت کی شرح دوبارہ بڑھ گئی اور 2023-24 میں اس کے 25.3 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق، ’’وہ معاشی ماڈل جس نے ابتدائی کامیابیاں دلائیں، اب اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔ 2018 میں آبادی کا 14 فیصد حصہ غربت میں دوبارہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھا، کیونکہ کسی بھی معاشی جھٹکے کی صورت میں اس کے لیے غربت سے بچنا مشکل تھا۔ کورونا وائرس، معاشی عدم استحکام، تباہ کن سیلاب اور ریکارڈ بلند مہنگائی جیسے مسلسل بحرانوں نے نظام کی کمزوریوں کو مزید نمایاں کردیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ کم پیداواری سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں جغرافیائی سیاسی عوامل، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیونکہ یہ واقعات رپورٹ میں زیرِجائزہ مدت کے بعد پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے مزید نشاندہی کی کہ غربت میں کمی کے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں پائیدار نہیں تھیں، کیونکہ ’’آمدنی میں اضافے کی بنیادی وجہ غیر رسمی شعبے میں مردوں کے لیے زرعی شعبے سے باہر معاشی مواقع میں توسیع، بیرون ملک نقل مکانی میں اضافہ اور اس سے حاصل ہونے والی ترسیلات تھیں، جبکہ غیر زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی محنت کی آمدنی اس اضافے کا بنیادی محرک تھی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے اس صورت حال کے لیے واضح تجویز پیش کی ہے کہ ’’اب ساختی عدم توازن دور کرنے، معاشی جھٹکوں کے دوران دوبارہ غربت میں جانے سے روکنے اور دور دراز علاقوں کو درپیش مستقل مسائل سے نمٹنے کے لیے جرات مندانہ پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 سے اب تک آئی ایم ایف کے یکے بعد دیگرے پروگراموں، بشمول موجودہ ای ایف ایف، کے تحت انتہائی سخت مالیاتی اور زرّی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں نمو کے لیے نقصان دہ ہیں، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، روزگار کے مواقع گھٹتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غربت کی شرح بڑھانے میں ان پالیسیوں کے اثرات نمایاں رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی نمو کو محدود کرنے والی مالیاتی پالیسیوں، جن میں بجٹ خسارے کو پائیدار سطح تک لانے کے لیے زیادہ ٹیکس عائد کرنا شامل ہے، نے چار طریقوں سے غربت کو متاثر کیا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اولاً، ہر فرد کی حاصل کردہ آمدنی کی حقیقی قدر مسلسل کم ہوتی رہی ہے، جبکہ نجی ملکیت کے پیداواری شعبے گزشتہ پانچ سے چھ برس کے دوران ملازمین کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے سے قاصر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس سرکاری شعبے کی کھپت، جو موجودہ اخراجات پر مشتمل ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہم آہنگ نہیں، بلا روک ٹوک بڑھ رہی ہے۔ اس مد کے ایک جزو، یعنی ملک کی مجموعی افرادی قوت کے 7 فیصد حصے پر مشتمل سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، جن کی ادائیگی ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہوتی ہے، ہر سال مہنگائی کی شرح سے زیادہ بڑھائی جاتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، حکومتی اخراجات میں اضافہ قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں رواں مالی سال بجٹ میں مختص مجموعی اخراجات میں قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگیوں کا حصہ تقریباً 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ شرح ایسی پالیسی ریٹ کی بنیاد پر حساب کی گئی ہے جس میں سال کے دوران تبدیلی ممکن ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب جاری مشرق وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری بات  یہ کہ ٹیکسوں کا بڑا حصہ بالواسطہ نوعیت کا ہے، جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، کیونکہ حکومت، اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کے تحت عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے انفورسمنٹ اقدامات کے دعووں کی وضاحت ضروری ہے۔ اس وقت ان اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ذریعہ سیلز ٹیکس ہے، جس کا مکمل بوجھ صارفین کو منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس تین اشیائے صرف پر فیکٹری کی سطح پر وصول کیا جارہا ہے، جن میں چینی بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں؛ سیمنٹ، جس سے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا؛ اور حال ہی میں کھاد، جس سے غذائی اجناس کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی رائے یہ کہ حکومت بظاہر مکمل لاگت کی وصولی کے لیے یوٹیلیٹی ٹیرف میں مسلسل اضافہ کررہی ہے، تاہم ٹیکس اور سرچارجز کا حصہ خاصا زیادہ ہے۔ اس مد میں جمع ہونے والی رقم متعلقہ شعبوں کی مالی پائیداری یقینی بنانے کے لیے مختص نہیں کی جاتی، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ گردشی قرضہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، بلکہ یہ رقم وفاقی خزانے میں منتقل کردی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے والی زرّی پالیسی کا مقصد مہنگائی میں کمی لانا ہے، تاہم اس وقت ملکی قرضوں میں سے تقریباً 74 فیصد حکومت حاصل کررہی ہے، جبکہ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی بدستور محدود ہے۔ پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث پاکستانی مصنوعات خطے کے ساتھ ساتھ مقامی منڈی میں بھی مسابقت کے قابل نہیں رہیں، جبکہ طویل اور غیر مؤثر سرحدیں اسمگلروں کے لیے خاصی پرکشش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جس سے حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھتی ہے۔ حالیہ پالیسی فیصلوں، جو آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق کیے گئے ہیں، کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے سے ممکن ہے کہ قرضوں کی فوری ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوا ہو، تاہم اس کے نتیجے میں قرضوں کی واپسی کی مدت نمایاں طور پر طویل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی پالیسی کا بنیادی زور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم بڑھانے پر ہے۔ اس کے باوجود آج تک مجموعی بجٹ اخراجات کا محض 4.5 فیصد یا جاری اخراجات کا 4.7 فیصد بی آئی ایس پی کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ فنڈ سہ ماہی بنیادوں پر بی آئی ایس پی کی نقد رقوم کی ادائیگی میں اضافے پر بھی زور دے رہا ہے، جو موجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی ناکافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ ’’اگرچہ بی آئی ایس پی، بیت المال، نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام اور پاورٹی ایلیویشن فنڈ جیسے حکومتی اقدامات نے غریب ترین گھرانوں کو اہم معاونت فراہم کی اور مشکلات سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت بہتر بنائی، تاہم یہ سماجی تحفظ کے نظام غربت کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے ساختی پالیسی میں تبدیلیوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصلِ کلام یہ ہے کہ غربت میں کمی پر مرکوز کوئی حکمت عملی وضع کرنے کی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی، سوائے ان سبسڈیز میں توسیع کے جن کی آئی ایم ایف حمایت نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’’انسانی سرمائے کے بحران سے نمٹنے کے لیے افراد، علاقوں اور مواقع تک رسائی میں تزویراتی سرمایہ کاری کی جائے‘‘، جبکہ ’’لوگوں کو معاشی جھٹکوں اور مشکلات سے تحفظ فراہم کرنے اور لچک پیدا کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کی مؤثریت اور فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید زور دیا گیا ہے کہ ’’مضبوط شماریاتی ڈھانچے کے ذریعے بہتر ڈیٹا نظام تشکیل دیے جائیں، جو قابلِ رسائی، زیادہ تواتر سے دستیاب اور تفصیلی اعداد و شمار فراہم کریں۔‘‘ اس سے شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی ممکن ہوگی اور یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ اصلاحات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے جائزے کا آغاز رواں ماہ 23 تاریخ کو متوقع ہے، اور اس حوالے سے یہ سوال شدت سے زیرِبحث ہے کہ آیا معاشی ٹیم کے سربراہان ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر کوئی غیر روایتی اور منفرد حل وضع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا، جیسا کہ ان کے بعض ناقدین کا الزام ہے، ان میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہی موجود ہے، اور کیا وہ فنڈ کو اپنی تجاویز کی افادیت پر قائل کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>جو لوگ اسے ایک خاصا سخت بیان سمجھتے ہیں، انہیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جس کا تعین یومیہ 4.20 ڈالر کی کم متوسط آمدنی کی حد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انتہائی غربت کی شرح 16.5 فیصد ہے، جس کے لیے یومیہ 3 ڈالر کی حد مقرر ہے، جبکہ قومی غربت کی شرح کا تخمینہ تقریباً 22.5 فیصد سے 25.3 فیصد کے درمیان ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے 2025 میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ ’’خوشحالی کی جانب پیش رفت کی بحالی: پاکستان میں غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ‘‘ میں نوٹ کیا کہ پاکستان نے 2001 میں غربت کی شرح 64.3 فیصد سے ڈرامائی طور پر کم کرکے 2018 میں 21.9 فیصد تک پہنچائی تھی۔ غربت میں یہ کمی 2015 تک سالانہ 3 فیصد پوائنٹس کی رفتار سے ہوئی، تاہم اس کے بعد رفتار کم ہوکر سالانہ ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی۔ حالیہ عرصے میں مسلسل رونما ہونے والے متعدد جھٹکوں کے باعث غربت کی شرح دوبارہ بڑھ گئی اور 2023-24 میں اس کے 25.3 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق، ’’وہ معاشی ماڈل جس نے ابتدائی کامیابیاں دلائیں، اب اپنی حدود کو پہنچ چکا ہے۔ 2018 میں آبادی کا 14 فیصد حصہ غربت میں دوبارہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھا، کیونکہ کسی بھی معاشی جھٹکے کی صورت میں اس کے لیے غربت سے بچنا مشکل تھا۔ کورونا وائرس، معاشی عدم استحکام، تباہ کن سیلاب اور ریکارڈ بلند مہنگائی جیسے مسلسل بحرانوں نے نظام کی کمزوریوں کو مزید نمایاں کردیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ کم پیداواری سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں جغرافیائی سیاسی عوامل، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیونکہ یہ واقعات رپورٹ میں زیرِجائزہ مدت کے بعد پیش آئے۔</p>
<p>عالمی بینک نے مزید نشاندہی کی کہ غربت میں کمی کے پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی کامیابیاں پائیدار نہیں تھیں، کیونکہ ’’آمدنی میں اضافے کی بنیادی وجہ غیر رسمی شعبے میں مردوں کے لیے زرعی شعبے سے باہر معاشی مواقع میں توسیع، بیرون ملک نقل مکانی میں اضافہ اور اس سے حاصل ہونے والی ترسیلات تھیں، جبکہ غیر زرعی شعبے سے حاصل ہونے والی محنت کی آمدنی اس اضافے کا بنیادی محرک تھی۔‘‘</p>
<p>عالمی بینک نے اس صورت حال کے لیے واضح تجویز پیش کی ہے کہ ’’اب ساختی عدم توازن دور کرنے، معاشی جھٹکوں کے دوران دوبارہ غربت میں جانے سے روکنے اور دور دراز علاقوں کو درپیش مستقل مسائل سے نمٹنے کے لیے جرات مندانہ پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں۔‘‘</p>
<p>2019 سے اب تک آئی ایم ایف کے یکے بعد دیگرے پروگراموں، بشمول موجودہ ای ایف ایف، کے تحت انتہائی سخت مالیاتی اور زرّی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں نمو کے لیے نقصان دہ ہیں، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، روزگار کے مواقع گھٹتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غربت کی شرح بڑھانے میں ان پالیسیوں کے اثرات نمایاں رہے ہیں۔</p>
<p>معاشی نمو کو محدود کرنے والی مالیاتی پالیسیوں، جن میں بجٹ خسارے کو پائیدار سطح تک لانے کے لیے زیادہ ٹیکس عائد کرنا شامل ہے، نے چار طریقوں سے غربت کو متاثر کیا ہے:</p>
<p>اولاً، ہر فرد کی حاصل کردہ آمدنی کی حقیقی قدر مسلسل کم ہوتی رہی ہے، جبکہ نجی ملکیت کے پیداواری شعبے گزشتہ پانچ سے چھ برس کے دوران ملازمین کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے سے قاصر رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس سرکاری شعبے کی کھپت، جو موجودہ اخراجات پر مشتمل ہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے ہم آہنگ نہیں، بلا روک ٹوک بڑھ رہی ہے۔ اس مد کے ایک جزو، یعنی ملک کی مجموعی افرادی قوت کے 7 فیصد حصے پر مشتمل سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، جن کی ادائیگی ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہوتی ہے، ہر سال مہنگائی کی شرح سے زیادہ بڑھائی جاتی رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، حکومتی اخراجات میں اضافہ قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں رواں مالی سال بجٹ میں مختص مجموعی اخراجات میں قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگیوں کا حصہ تقریباً 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ شرح ایسی پالیسی ریٹ کی بنیاد پر حساب کی گئی ہے جس میں سال کے دوران تبدیلی ممکن ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب جاری مشرق وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>تیسری بات  یہ کہ ٹیکسوں کا بڑا حصہ بالواسطہ نوعیت کا ہے، جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، کیونکہ حکومت، اپنی پیشرو حکومتوں کی طرح، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کے تحت عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے انفورسمنٹ اقدامات کے دعووں کی وضاحت ضروری ہے۔ اس وقت ان اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ذریعہ سیلز ٹیکس ہے، جس کا مکمل بوجھ صارفین کو منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہ ٹیکس تین اشیائے صرف پر فیکٹری کی سطح پر وصول کیا جارہا ہے، جن میں چینی بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتیں بڑھیں؛ سیمنٹ، جس سے تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوا؛ اور حال ہی میں کھاد، جس سے غذائی اجناس کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>چوتھی رائے یہ کہ حکومت بظاہر مکمل لاگت کی وصولی کے لیے یوٹیلیٹی ٹیرف میں مسلسل اضافہ کررہی ہے، تاہم ٹیکس اور سرچارجز کا حصہ خاصا زیادہ ہے۔ اس مد میں جمع ہونے والی رقم متعلقہ شعبوں کی مالی پائیداری یقینی بنانے کے لیے مختص نہیں کی جاتی، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ گردشی قرضہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، بلکہ یہ رقم وفاقی خزانے میں منتقل کردی جاتی ہے۔</p>
<p>معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے والی زرّی پالیسی کا مقصد مہنگائی میں کمی لانا ہے، تاہم اس وقت ملکی قرضوں میں سے تقریباً 74 فیصد حکومت حاصل کررہی ہے، جبکہ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی بدستور محدود ہے۔ پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث پاکستانی مصنوعات خطے کے ساتھ ساتھ مقامی منڈی میں بھی مسابقت کے قابل نہیں رہیں، جبکہ طویل اور غیر مؤثر سرحدیں اسمگلروں کے لیے خاصی پرکشش ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، جس سے حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھتی ہے۔ حالیہ پالیسی فیصلوں، جو آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق کیے گئے ہیں، کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے سے ممکن ہے کہ قرضوں کی فوری ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوا ہو، تاہم اس کے نتیجے میں قرضوں کی واپسی کی مدت نمایاں طور پر طویل ہوگئی ہے۔</p>
<p>غربت میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی پالیسی کا بنیادی زور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم بڑھانے پر ہے۔ اس کے باوجود آج تک مجموعی بجٹ اخراجات کا محض 4.5 فیصد یا جاری اخراجات کا 4.7 فیصد بی آئی ایس پی کے لیے مختص کیا جارہا ہے۔ فنڈ سہ ماہی بنیادوں پر بی آئی ایس پی کی نقد رقوم کی ادائیگی میں اضافے پر بھی زور دے رہا ہے، جو موجودہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی ناکافی ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک کی رپورٹ تسلیم کرتی ہے کہ ’’اگرچہ بی آئی ایس پی، بیت المال، نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام اور پاورٹی ایلیویشن فنڈ جیسے حکومتی اقدامات نے غریب ترین گھرانوں کو اہم معاونت فراہم کی اور مشکلات سے نمٹنے کی ان کی صلاحیت بہتر بنائی، تاہم یہ سماجی تحفظ کے نظام غربت کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے ساختی پالیسی میں تبدیلیوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔‘‘</p>
<p>حاصلِ کلام یہ ہے کہ غربت میں کمی پر مرکوز کوئی حکمت عملی وضع کرنے کی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی، سوائے ان سبسڈیز میں توسیع کے جن کی آئی ایم ایف حمایت نہیں کرتا۔</p>
<p>عالمی بینک کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ’’انسانی سرمائے کے بحران سے نمٹنے کے لیے افراد، علاقوں اور مواقع تک رسائی میں تزویراتی سرمایہ کاری کی جائے‘‘، جبکہ ’’لوگوں کو معاشی جھٹکوں اور مشکلات سے تحفظ فراہم کرنے اور لچک پیدا کرنے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کی مؤثریت اور فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہے۔‘‘</p>
<p>رپورٹ میں مزید زور دیا گیا ہے کہ ’’مضبوط شماریاتی ڈھانچے کے ذریعے بہتر ڈیٹا نظام تشکیل دیے جائیں، جو قابلِ رسائی، زیادہ تواتر سے دستیاب اور تفصیلی اعداد و شمار فراہم کریں۔‘‘ اس سے شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی ممکن ہوگی اور یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ اصلاحات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرسکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291508</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 16:10:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/21155944de85c90.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/21155944de85c90.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس خسارے کے بڑھتے فرق کے دوران تیل کے درآمدی بل میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291501/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں 2022 کی سطح سے تجاوز کرگئی ہیں، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ قیمتوں کے حالیہ جھٹکے نے بیرونی اور مالیاتی کھاتوں پر چار سال قبل جیسا دباؤ نہیں ڈالا۔ قیمتوں میں اضافہ حقیقی ہے مگر اس کے مقابلے میں پاکستان کی حساسیت تبدیل ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تیل اور گیس کی درآمدی مقدار کم ہوگئی ہے، جبکہ درآمدی مصنوعات کے مجموعی حجم میں ریفائنڈ مصنوعات کے مقابلے میں خام تیل کا حصہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022 سے مالی سال 2025 کے دوران توانائی کی مجموعی درآمدات تقریباً ایک تہائی کم ہوکر 35 کروڑ بیرل سے زائد آئل ایکویولنٹ سے تقریباً 25 کروڑ بیرل رہ گئیں، جبکہ جی ڈی پی کے ہر ڈالر کے مقابلے میں درآمد کی جانے والی توانائی کی مقدار بھی تقریباً 40 فیصد کم ہوگئی۔ صارفین کی بلند قیمتیں اس کمی کی ایک وجہ ہیں، تاہم سولر پاور اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کا تیزی سے فروغ بھی درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار کم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ تا جولائی 2022 اور اسی پانچ ماہ کے عرصے میں 2026 کا موازنہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ دونوں ادوار میں عالمی قیمتیں تقریباً ایک جیسی تھیں اور بعض مصنوعات کی قیمتیں 2026 میں اس سے بھی زیادہ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ تا جولائی 2026 کے دوران خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور ایل این جی کی درآمدات 8.1 ارب ڈالر رہیں، جو 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی مجموعی فروخت 18 فیصد کم ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ درآمدی بل میں کمی کھپت میں کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ ایل این جی کو نکال کر بھی پٹرولیم درآمدی بل 22 فیصد کم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فرق کی ایک وجہ درآمدی ریفائنڈ مصنوعات کے بجائے خام تیل درآمد کرکے اسے مقامی ریفائنریوں میں پراسیس کرنے کی طرف منتقلی ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کی ریفائنریوں نے تقریباً مکمل پیداواری صلاحیت پر کام کیا، جو حالیہ برسوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کی پرانی ٹیکنالوجی کے باعث فرنس آئل کی پیداوار کا حصہ زیادہ ہے، جس پر اکثر منافع کم ہوتا ہے، جبکہ معمول کے حالات میں پٹرول اور ڈیزل سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت استعمال کرنے کے لیے کافی منافع فراہم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے تیار شدہ مصنوعات درآمد کرنا اکثر تجارتی لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔جنگ کے باعث ریفائننگ مارجن میں اضافے نے عارضی طور پر یہ حساب بدل دیا ہے، کیونکہ زیادہ قدر والی پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والا منافع فرنس آئل کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہوگیا ہے۔ چنانچہ مارچ تا جولائی 2026 کے دوران خام تیل کی درآمدات 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی درآمد بالترتیب 39 فیصد اور 88 فیصد کم ہوگئی۔ ڈیزل کی ریفائننگ پر منافع سب سے زیادہ پرکشش رہا، جس سے اس شعبے میں درآمدی مصنوعات کی جگہ مقامی پیداوار آنے کی زیادہ واضح وجہ سمجھ میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی ڈھانچے میں اس تبدیلی کو مکمل طور پر مستقل نوعیت کی تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر جنگ کے باعث ملنے والا اضافی مارجن ختم ہونے کے بعد ریفائننگ مارجن معمول پر آجاتا ہے تو مقامی ریفائنریوں کے لیے ایک بار پھر کم صلاحیت پر کام کرنا اور تیار مصنوعات زیادہ مقدار میں درآمد کرنا معاشی طور پر زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔ اس سے رواں سال ریفائنڈ مصنوعات سے خام تیل کی جانب درآمدی منتقلی کا کچھ حصہ واپس ہوسکتا ہے، تاہم ایندھن کی مجموعی طلب میں بنیادی کمی لازماً ختم نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کی طلب میں کمی اب بھی بلند خوردہ قیمتوں کے باعث کھپت میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ قیمتوں کے جھٹکے کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عموماً 300 سے 500 روپے فی لیٹر کے درمیان رہیں، جبکہ 2022 کے اسی عرصے میں یہ تقریباً 150 سے 250 روپے فی لیٹر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل کی کھپت 25 فیصد کم ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ بلند قیمتوں پر صارفین کا ردعمل ہے، جبکہ دوسری جانب سولر توانائی کے فروغ سے زرعی ٹیوب ویلوں اور بیک اپ جنریٹرز میں ڈیزل کا استعمال بھی کم ہورہا ہے۔ پٹرول کی کھپت میں نسبتاً کم  11 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم الیکٹرک دو پہیوں والی گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے اثرات بھی اب نمایاں ہونے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسوں نے اس تبدیلی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پٹرولیم لیوی 2022 میں منفی سطح سے بڑھ کر اب 100 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے، جس سے سرکاری طور پر فروخت ہونے والے ایندھن اور خطے میں دستیاب سستے ایندھن کے درمیان قیمت کا فرق بڑھ گیا ہے۔ یہی فرق سرحد پار اسمگلنگ خصوصاً ڈیزل کی اسمگلنگ، کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس سے بلند سرکاری قیمتوں کے مہنگائی پر دوسرے مرحلے کے اثرات کسی حد تک کم ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں طلب ٹیکس کے دائرے سے باہر منتقل ہوجاتی ہے اور حکومت متوقع آمدنی سے محروم رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اسی پالیسی خامی کو بھی اجاگر کرتی ہے جو مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات ریاست کے لیے ٹیکس وصولی کا نسبتاً آسان ذریعہ ہیں، کیونکہ ایندھن کی کھپت ایک باقاعدہ اور آسانی سے نگرانی کیے جانے والے سپلائی نظام میں مرکوز ہے۔ جب بھی پٹرول یا ڈیزل کے بجائے بجلی، خصوصاً گھروں کی چھتوں پر نصب سولر نظام سے پیدا ہونے والی بجلی، استعمال ہوتی ہے تو اس نظام سے حکومت کی کچھ آمدنی کم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے ٹیکس کا بنیادی دائرہ سکڑتا جائے گا، باقی ماندہ ہر لیٹر ایندھن سے مزید ٹیکس وصول کرکے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش معاشی بگاڑ اور کم آمدنی والے طبقے پر اضافی بوجھ میں بتدریج اضافہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال درآمدی بل میں ہونے والی تمام کمی بھی مستقل نوعیت کی نہیں ہے۔ ایل این جی کی درآمدی لاگت میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کی بچت ایک سپلائر کی جانب سے فورس میجر کے باعث ہوئی، نہ کہ کسی پالیسی اصلاح یا پائیدار طلبی انتظام کے نتیجے میں۔ اگر معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو کی ترسیل دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس نمایاں بچت کا بڑا حصہ ختم ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر توانائی کے فروغ اور بلند قیمتوں کے باعث طلب میں آنے والی کمی برقرار رہنے کا امکان ہے، لیکن ایل این جی سے حاصل ہونے والی عارضی بچت کو بیرونی کھاتوں پر دباؤ آنے کے ہر موقع پر دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں پاکستان کی حساسیت کم ہورہی ہے۔ بلند لاگت صارفین تک منتقل کرنے سے طلب محدود ہوئی ہے اور جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے کے باوجود مارچ تا جولائی کرنٹ  اکاؤنٹ کو مسلسل سرپلس میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی کارکردگی بھی جزوی طور پر اس لیے برقرار رہی ہے کہ حکومت فروخت ہونے والے ہر لیٹر پر نمایاں طور پر زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے، حالانکہ فروخت ہونے والے لیٹروں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ بجلی کے شعبے میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے۔ بلند ٹیرف نے طلب محدود کی، سولر توانائی کے استعمال کو تیز کیا اور درآمدی آر ایل این جی کی ضرورت کم کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، درآمدی ٹرانسپورٹ ایندھن پر انحصار مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں پہلے ہی تیزی سے مقبول ہورہی ہیں، جبکہ متوقع نئی آٹو پالیسی کے تحت مراعات 40 سے 60 لاکھ روپے کے شعبے میں الیکٹرک کاروں کے استعمال کو تیزی سے بڑھا سکتی ہیں۔ بیرونی کھاتے کے نقطۂ نظر سے اس منتقلی کو خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن موجودہ ٹیکس نظام کے نقطۂ نظر سے ہر نئی الیکٹرک گاڑی وفاقی حکومت کی آمدنی کے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کو بتدریج کم کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا حل سولر توانائی اور الیکٹرک نقل و حرکت کے فوائد کو بھاری ٹیکسوں کے ذریعے ختم کرنا نہیں۔ پاکستان کو اس کے بجائے درمیانی مدت کے لیے محصولات کی منتقلی کا ایسا منصوبہ درکار ہے، جس میں قابلِ اعتماد اندازوں کے تحت یہ واضح کیا جائے کہ الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر تبدیلیوں کے نتیجے میں پٹرولیم لیوی اور بجلی سے حاصل ہونے والے محصولات کس طرح تبدیل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ سے متعلق محصولات کو بتدریج ایندھن کے استعمال ہونے والے لیٹروں کے بجائے گاڑیوں کی ملکیت اور سڑکوں کے استعمال سے منسلک ذرائع کی جانب منتقل کرنا ہوگا، جبکہ مجموعی ٹیکس بوجھ کو آمدنی، کھپت اور جائیداد پر وسیع تر اور مؤثر طریقے سے نافذ کیے جانے والے ٹیکسوں کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کا سبق یہ تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ پاکستان کی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کرسکتا ہے۔ یہ خطرہ کم ہورہا ہے، اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور پاکستان اب ادائیگیوں کے توازن کے خطرے سے مالیاتی خطرے کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ توانائی کا تحفظ اب بھی اہم مسئلہ ہے، لیکن اب یہ واحد مسئلہ نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ٹیکس نظام نے پٹرولیم کی جگہ لینے والی معیشت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کیا تو حکومت بالآخر محصولات میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر من مانے ٹیکس، بجلی پر بھاری چارجز یا بالواسطہ ٹیکسوں کا ایک اور دور نافذ کرسکتی ہے۔ اس طرح وہ اس معاشی لچک کا ایک حصہ ضائع کردے گی جو پاکستان نے بڑی مشکل سے حاصل کرنا شروع کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتیں 2022 کی سطح سے تجاوز کرگئی ہیں، جس سے دنیا بھر کی معیشتوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے لیے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ قیمتوں کے حالیہ جھٹکے نے بیرونی اور مالیاتی کھاتوں پر چار سال قبل جیسا دباؤ نہیں ڈالا۔ قیمتوں میں اضافہ حقیقی ہے مگر اس کے مقابلے میں پاکستان کی حساسیت تبدیل ہوچکی ہے۔</p>
<p>ملک میں تیل اور گیس کی درآمدی مقدار کم ہوگئی ہے، جبکہ درآمدی مصنوعات کے مجموعی حجم میں ریفائنڈ مصنوعات کے مقابلے میں خام تیل کا حصہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2022 سے مالی سال 2025 کے دوران توانائی کی مجموعی درآمدات تقریباً ایک تہائی کم ہوکر 35 کروڑ بیرل سے زائد آئل ایکویولنٹ سے تقریباً 25 کروڑ بیرل رہ گئیں، جبکہ جی ڈی پی کے ہر ڈالر کے مقابلے میں درآمد کی جانے والی توانائی کی مقدار بھی تقریباً 40 فیصد کم ہوگئی۔ صارفین کی بلند قیمتیں اس کمی کی ایک وجہ ہیں، تاہم سولر پاور اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کا تیزی سے فروغ بھی درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار کم کر رہا ہے۔</p>
<p>مارچ تا جولائی 2022 اور اسی پانچ ماہ کے عرصے میں 2026 کا موازنہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ دونوں ادوار میں عالمی قیمتیں تقریباً ایک جیسی تھیں اور بعض مصنوعات کی قیمتیں 2026 میں اس سے بھی زیادہ رہیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ تا جولائی 2026 کے دوران خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات اور ایل این جی کی درآمدات 8.1 ارب ڈالر رہیں، جو 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی مجموعی فروخت 18 فیصد کم ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ درآمدی بل میں کمی کھپت میں کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ ایل این جی کو نکال کر بھی پٹرولیم درآمدی بل 22 فیصد کم رہا۔</p>
<p>اس فرق کی ایک وجہ درآمدی ریفائنڈ مصنوعات کے بجائے خام تیل درآمد کرکے اسے مقامی ریفائنریوں میں پراسیس کرنے کی طرف منتقلی ہے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کی ریفائنریوں نے تقریباً مکمل پیداواری صلاحیت پر کام کیا، جو حالیہ برسوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کی پرانی ٹیکنالوجی کے باعث فرنس آئل کی پیداوار کا حصہ زیادہ ہے، جس پر اکثر منافع کم ہوتا ہے، جبکہ معمول کے حالات میں پٹرول اور ڈیزل سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت استعمال کرنے کے لیے کافی منافع فراہم نہیں کرتی۔</p>
<p>اس لیے تیار شدہ مصنوعات درآمد کرنا اکثر تجارتی لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔جنگ کے باعث ریفائننگ مارجن میں اضافے نے عارضی طور پر یہ حساب بدل دیا ہے، کیونکہ زیادہ قدر والی پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والا منافع فرنس آئل کے نقصانات سے کہیں زیادہ ہوگیا ہے۔ چنانچہ مارچ تا جولائی 2026 کے دوران خام تیل کی درآمدات 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی درآمد بالترتیب 39 فیصد اور 88 فیصد کم ہوگئی۔ ڈیزل کی ریفائننگ پر منافع سب سے زیادہ پرکشش رہا، جس سے اس شعبے میں درآمدی مصنوعات کی جگہ مقامی پیداوار آنے کی زیادہ واضح وجہ سمجھ میں آتی ہے۔</p>
<p>درآمدی ڈھانچے میں اس تبدیلی کو مکمل طور پر مستقل نوعیت کی تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر جنگ کے باعث ملنے والا اضافی مارجن ختم ہونے کے بعد ریفائننگ مارجن معمول پر آجاتا ہے تو مقامی ریفائنریوں کے لیے ایک بار پھر کم صلاحیت پر کام کرنا اور تیار مصنوعات زیادہ مقدار میں درآمد کرنا معاشی طور پر زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔ اس سے رواں سال ریفائنڈ مصنوعات سے خام تیل کی جانب درآمدی منتقلی کا کچھ حصہ واپس ہوسکتا ہے، تاہم ایندھن کی مجموعی طلب میں بنیادی کمی لازماً ختم نہیں ہوگی۔</p>
<p>ایندھن کی طلب میں کمی اب بھی بلند خوردہ قیمتوں کے باعث کھپت میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ قیمتوں کے جھٹکے کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عموماً 300 سے 500 روپے فی لیٹر کے درمیان رہیں، جبکہ 2022 کے اسی عرصے میں یہ تقریباً 150 سے 250 روپے فی لیٹر تھیں۔</p>
<p>ڈیزل کی کھپت 25 فیصد کم ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ بلند قیمتوں پر صارفین کا ردعمل ہے، جبکہ دوسری جانب سولر توانائی کے فروغ سے زرعی ٹیوب ویلوں اور بیک اپ جنریٹرز میں ڈیزل کا استعمال بھی کم ہورہا ہے۔ پٹرول کی کھپت میں نسبتاً کم  11 فیصد کمی ہوئی ہے، تاہم الیکٹرک دو پہیوں والی گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے اثرات بھی اب نمایاں ہونے لگے ہیں۔</p>
<p>ٹیکسوں نے اس تبدیلی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پٹرولیم لیوی 2022 میں منفی سطح سے بڑھ کر اب 100 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے، جس سے سرکاری طور پر فروخت ہونے والے ایندھن اور خطے میں دستیاب سستے ایندھن کے درمیان قیمت کا فرق بڑھ گیا ہے۔ یہی فرق سرحد پار اسمگلنگ خصوصاً ڈیزل کی اسمگلنگ، کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس سے بلند سرکاری قیمتوں کے مہنگائی پر دوسرے مرحلے کے اثرات کسی حد تک کم ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں طلب ٹیکس کے دائرے سے باہر منتقل ہوجاتی ہے اور حکومت متوقع آمدنی سے محروم رہتی ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال اسی پالیسی خامی کو بھی اجاگر کرتی ہے جو مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات ریاست کے لیے ٹیکس وصولی کا نسبتاً آسان ذریعہ ہیں، کیونکہ ایندھن کی کھپت ایک باقاعدہ اور آسانی سے نگرانی کیے جانے والے سپلائی نظام میں مرکوز ہے۔ جب بھی پٹرول یا ڈیزل کے بجائے بجلی، خصوصاً گھروں کی چھتوں پر نصب سولر نظام سے پیدا ہونے والی بجلی، استعمال ہوتی ہے تو اس نظام سے حکومت کی کچھ آمدنی کم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>جیسے جیسے ٹیکس کا بنیادی دائرہ سکڑتا جائے گا، باقی ماندہ ہر لیٹر ایندھن سے مزید ٹیکس وصول کرکے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش معاشی بگاڑ اور کم آمدنی والے طبقے پر اضافی بوجھ میں بتدریج اضافہ کرے گی۔</p>
<p>رواں سال درآمدی بل میں ہونے والی تمام کمی بھی مستقل نوعیت کی نہیں ہے۔ ایل این جی کی درآمدی لاگت میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کی بچت ایک سپلائر کی جانب سے فورس میجر کے باعث ہوئی، نہ کہ کسی پالیسی اصلاح یا پائیدار طلبی انتظام کے نتیجے میں۔ اگر معاہدے کے تحت ایل این جی کارگو کی ترسیل دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس نمایاں بچت کا بڑا حصہ ختم ہوسکتا ہے۔</p>
<p>سولر توانائی کے فروغ اور بلند قیمتوں کے باعث طلب میں آنے والی کمی برقرار رہنے کا امکان ہے، لیکن ایل این جی سے حاصل ہونے والی عارضی بچت کو بیرونی کھاتوں پر دباؤ آنے کے ہر موقع پر دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>ان تمام عوامل کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں پاکستان کی حساسیت کم ہورہی ہے۔ بلند لاگت صارفین تک منتقل کرنے سے طلب محدود ہوئی ہے اور جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے کے باوجود مارچ تا جولائی کرنٹ  اکاؤنٹ کو مسلسل سرپلس میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔</p>
<p>مالیاتی کارکردگی بھی جزوی طور پر اس لیے برقرار رہی ہے کہ حکومت فروخت ہونے والے ہر لیٹر پر نمایاں طور پر زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے، حالانکہ فروخت ہونے والے لیٹروں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ بجلی کے شعبے میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے۔ بلند ٹیرف نے طلب محدود کی، سولر توانائی کے استعمال کو تیز کیا اور درآمدی آر ایل این جی کی ضرورت کم کردی۔</p>
<p>جیسے جیسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، درآمدی ٹرانسپورٹ ایندھن پر انحصار مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں پہلے ہی تیزی سے مقبول ہورہی ہیں، جبکہ متوقع نئی آٹو پالیسی کے تحت مراعات 40 سے 60 لاکھ روپے کے شعبے میں الیکٹرک کاروں کے استعمال کو تیزی سے بڑھا سکتی ہیں۔ بیرونی کھاتے کے نقطۂ نظر سے اس منتقلی کو خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>لیکن موجودہ ٹیکس نظام کے نقطۂ نظر سے ہر نئی الیکٹرک گاڑی وفاقی حکومت کی آمدنی کے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کو بتدریج کم کررہی ہے۔</p>
<p>اس کا حل سولر توانائی اور الیکٹرک نقل و حرکت کے فوائد کو بھاری ٹیکسوں کے ذریعے ختم کرنا نہیں۔ پاکستان کو اس کے بجائے درمیانی مدت کے لیے محصولات کی منتقلی کا ایسا منصوبہ درکار ہے، جس میں قابلِ اعتماد اندازوں کے تحت یہ واضح کیا جائے کہ الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر تبدیلیوں کے نتیجے میں پٹرولیم لیوی اور بجلی سے حاصل ہونے والے محصولات کس طرح تبدیل ہوں گے۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ سے متعلق محصولات کو بتدریج ایندھن کے استعمال ہونے والے لیٹروں کے بجائے گاڑیوں کی ملکیت اور سڑکوں کے استعمال سے منسلک ذرائع کی جانب منتقل کرنا ہوگا، جبکہ مجموعی ٹیکس بوجھ کو آمدنی، کھپت اور جائیداد پر وسیع تر اور مؤثر طریقے سے نافذ کیے جانے والے ٹیکسوں کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔</p>
<p>2022 کا سبق یہ تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ پاکستان کی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کرسکتا ہے۔ یہ خطرہ کم ہورہا ہے، اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور پاکستان اب ادائیگیوں کے توازن کے خطرے سے مالیاتی خطرے کی جانب منتقل ہورہا ہے۔ توانائی کا تحفظ اب بھی اہم مسئلہ ہے، لیکن اب یہ واحد مسئلہ نہیں رہا۔</p>
<p>اگر ٹیکس نظام نے پٹرولیم کی جگہ لینے والی معیشت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کیا تو حکومت بالآخر محصولات میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر من مانے ٹیکس، بجلی پر بھاری چارجز یا بالواسطہ ٹیکسوں کا ایک اور دور نافذ کرسکتی ہے۔ اس طرح وہ اس معاشی لچک کا ایک حصہ ضائع کردے گی جو پاکستان نے بڑی مشکل سے حاصل کرنا شروع کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291501</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 14:08:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/21132844dc37e05.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/21132844dc37e05.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر پائیدار فیصلہ سازی، کراچی کی صنعتیں خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291469/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک شہر پر اس وقت ایک خاص قسم کی تھکن طاری ہو جاتی ہے جب اسے ایک بار نہیں بلکہ بار بار جھوٹے وعدوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ کسی ایک دھوکے کے بعد اٹھنے والا شدید غصہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ خاموش کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کورنگی کی وہ ماں ہے جو برسوں سے ہر ماہ اپنے گھریلو بجٹ میں وہی حساب کتاب کرتی آ رہی ہے، مگر اعداد کم ہونے کا نام نہیں لیتے، خواہ وہ پنکھے کے استعمال میں کتنی ہی احتیاط کرے، فریج کو محدود وقت کے لیے چلائے یا اندھیرا ہونے کے بعد صرف ایک بلب جلتا چھوڑے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کراچی کا وہ فیکٹری مالک ہے جو اپنے بجلی کے بل میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی اس مد کو دیکھ رہا ہے جسے نہ اس نے پیدا کیا اور نہ ہی وہ اسے چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ سوویں مرتبہ سوچتا ہے کہ کیا یہی وہ سال ہے جب مشینیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی۔ کراچی کو ان اداروں کی جانب سے جن کا کام اسے تحفظ فراہم کرنا ہے، ایک کے بعد ایک مایوسی برداشت کرنا پڑی ہے اور اکتوبر 2025ء میں اسے ایک اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے انتہائی نرم زبان میں پیش کیا گیا : بجلی کے نرخ میں 7.6 روپے فی یونٹ کمی، جسے ایک مہربانی کے طور پر ظاہر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو ماہ گزرنے کے بعد یہ مہربانی اس حساب کتاب کی صورت میں سامنے آئی ہے جو ریگولیٹر کے حق میں کیا گیا، جبکہ حسبِ معمول اس فرق کا بوجھ کراچی کے عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کراچی حقیقت میں کیا حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک شہر کو اس کے حق سے محروم کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ جس شہر کے ساتھ یہ ناانصافی ہو رہی ہے وہی ملک کو سنبھالنے والے اہم ستونوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پاکستان کے ٹیکس محصولات کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ اس کی بندرگاہیں وہ برآمدات منتقل کرتی ہیں جو ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں، جس پر پورا ملک ایندھن، گندم اور ادویات خریدنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ کراچی کی ٹیکسٹائل ملیں، پیکیجنگ پلانٹس اور تجارتی ادارے لاکھوں خاندانوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، جن کے پاس اس وقت کسی دوسرے شہر کا سہارا نہیں اگر مشینیں خاموش ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کراچی میں توانائی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو یہ محض مقامی مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ عین اس مقام پر لگنے والا زخم ہے جہاں ملک اس وقت خون بہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں کسی فیکٹری کے توانائی کے بل میں شامل ہونے والا ہر اضافی روپیہ ایسا روپیہ ہے جو کارکن کی اجرت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا روپیہ ہے جو کراچی میں تیار ہونے والی قمیض کو اسی یورپی اسٹور میں بنگلہ دیش میں تیار ہونے والی قمیض کے مقابلے میں زیادہ مہنگا بنا دیتا ہے اور یہ ایسا روپیہ ہے جو خاموشی سے بغیر کسی شور کے ایسے شہر میں ایک کم روزگار میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں پہلے ہی بہت زیادہ لوگ بہت کم ملازمتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف کوئی خیالی یا کتابی بات نہیں ہے، بلکہ یہ اس باپ کی حقیقت ہے جو کبھی کورنگی میں رات کی شفٹ میں کام کرتا تھا، مگر اب نہیں کرتا، کیونکہ مل نئی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا زخم وہ 28 ارب روپے ہیں جن کا ذکر ٹیرف میں کمی کے اعلان کے وقت نہیں کیا گیا تھا۔ نیپرا کے اکتوبر کے فیصلے نے صرف بجلی کی شرح میں کمی نہیں کی۔ اسی فیصلے میں دو سال کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے حسابات دوبارہ کھول دیے گئے، حالانکہ یہ حسابات پہلے ہی طے کیے جا چکے تھے اور بجلی صارفین کو ان کی رقم واپس بھی دی جا چکی تھی۔ ان صارفین نے شاید پہلی مرتبہ یہ سمجھا تھا کہ کوئی فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ان حسابات میں دوبارہ اضافہ کیا گیا اور تقریباً 28 ارب روپے ان لوگوں سے واپس لینے کی راہ ہموار کی گئی جنہوں نے یہ ریلیف پہلے ہی کرائے، بچوں کی اسکول فیس اور ان چھوٹی چھوٹی سہولتوں پر خرچ کر دیا تھا جو نسبتاً کم بجلی کے بل کی وجہ سے ایک گھرانہ اپنے بجٹ میں شامل کرنے کی امید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سابقہ مدت کے چارج کا مطلب پورے ایک سال کے لیے مزید تقریباً 2.5 سے 3.5 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ہے۔ یہ رقم مکمل طور پر اس یکساں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے نظام سے باہر ہے، جس کے موجود ہونے کے بارے میں زیادہ تر بجلی صارفین کو نہ کبھی بتایا گیا ہے اور نہ ہی وہ اسے سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے صنعتی بجلی صارفین واضح طور پر اس قدر پریشان تھے کہ انہیں اس معاملے کو سندھ ہائی کورٹ تک لے جانا پڑا۔ اس وقت ایک حکمِ امتناع ان 28 ارب روپے کی وصولی کو روکے ہوئے ہے، جبکہ معاملہ ایسے فیصلے کا منتظر ہے جس کی تاریخ کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن حکمِ امتناع کامیابی نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک رکی ہوئی سانس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جاری رہنے کا ہر مہینہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں کوئی فیکٹری کسی غیر ملکی خریدار کو حتمی قیمت دینے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں ایک گھرانہ ایسے عدد کو سامنے رکھ کر اپنا بجٹ بناتا ہے جو کسی بھی وقت اچانک اس کے خلاف تبدیل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال میں ایک خاموش مگر انتہائی تکلیف دہ حقیقت پوشیدہ ہے : پہلے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ دیا گیا ہے اور کئی ماہ بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ ریلیف اس طرح ناپ تول کر دیا گیا تھا کہ اسے دوبارہ واپس لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا زخم کسی ایک عدد سے کہیں زیادہ گہرا ہے، کیونکہ معاملہ اس بات کا ہے کہ یہاں آخر کسی چیز پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی اکتوبر میں کی گئی تبدیلی نے صرف ایک عدد میں نظرثانی نہیں کی بلکہ اسی سال مئی میں کیے گئے اپنے ہی فیصلے کو ختم کر دیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو دو سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی سماعتوں، تجاویز اور عوامی مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ہی ماہ میں اس فیصلے کو ختم کر دینا ہر سرمایہ کار، ہر قرض دینے والے ادارے اور ہر اس عام بجلی صارف کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے جو ایک سال آگے کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے کہ یہاں کاغذ پر درج کوئی بھی فیصلہ حقیقت میں حتمی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ نے اس صورتحال کو فوراً سمجھ لیا اور خوف کی صورتحال میں مارکیٹ عموماً جس طرح ردعمل دیتی ہے، ویسا ہی ہوا۔ کراچی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے حصص کی قیمت گر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص یافتگان نے کھلے عام بین الاقوامی ثالثی کی بات شروع کر دی۔ جبکہ شنگھائی الیکٹرک پاور نے کئی سال تک کے الیکٹرک کو 1.77 ارب ڈالر میں خریدنے کی کوشش کے بعد بالآخر پیچھے ہٹتے ہوئے اس کی وجہ ریگولیٹری نظام میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مالیاتی تجزیہ کار اب اندازہ لگا رہے ہیں کہ مالی سال 2024ء میں کے الیکٹرک کا تقریباً 4 ارب روپے کا منافع 70 سے 80 ارب روپے کے نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو مجموعی سالانہ نقصان تقریباً 100 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار کے پیچھے اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت موجود ہے۔اگر بجلی کی کمپنی کے سرمایہ کار اپنے ہی ریگولیٹر کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کر سکتے تو ان کے پاس کراچی کے بجلی کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے کی کیا وجہ رہ جاتی ہے؟ اور پھر ہر مستقبل کے اضافی مالی بوجھ کو ان لوگوں تک منتقل کرنے کی ترغیب بڑھ جاتی ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی اور حکومت کی جانب سے پورے ملک میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کی امیدیں، دونوں کا عملی طور پر امتحان ہو رہا ہے۔ اس امتحان میں ناکامی کراچی کی نہیں بلکہ اس وعدے کی ہے کہ ایک مرتبہ قواعد طے کر دیے جائیں تو وہ برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا زخم وہ ہے جو نہ کوئی سوال پوچھتا ہے اور نہ کسی سماعت کا انتظار کرتا ہے، کیونکہ اس کا جواب برسوں سے نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی صنعتوں کو اب بھی کووڈ کے دور میں دی جانے والی 33 ارب روپے کی ریلیف سبسڈی وصول نہیں ہوئی۔ یہ رقم خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے مختص کی گئی تھی، اس کا اعلان بھی بڑے زور و شور سے کیا گیا تھا، مگر یہ رقم کبھی ادا نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی ایسا متنازع دعویٰ نہیں جو کسی عدالت یا ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہو۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو کیا گیا، پھر خاموشی سے اسے بھلا دیا گیا، جبکہ یہی صنعتیں مسلسل اپنے ٹیکس ادا کرتی رہیں اور ان بحری جہازوں کو مال فراہم کرتی رہیں جو ملک کی برآمدات بیرونِ ملک لے کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کو 28 ارب روپے کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی واپسی کے معاملے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک انتہائی ناخوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی سے جو رقم ریگولیٹر کو وصول کرنی ہوتی ہے، وہ حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھتی ہے، جس کے پیچھے احکامات، مقررہ تاریخیں اور وصولی کے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جو رقم کراچی کو ادا کی جانی ہے، وہ کہیں فائلوں میں پڑی رہتی ہے، نہ اس کا ذکر ہوتا ہے، نہ اس میں مہنگائی یا وقت کے حساب سے کوئی اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے فوری معاملہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق محض دفتری سست روی کا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا طرزِ عمل بن چکا ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کس کے دعوے کو حقیقی سمجھا جاتا ہے اور کس کی آواز کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام مسائل سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بدانتظامی سے ہونے والا نقصان اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔جب توقع سے زیادہ بجلی کا بل آتا ہے تو اب کوئی حیران نہیں ہوتا۔ کسی کو یہ توقع بھی نہیں رہتی کہ اعلان کردہ سبسڈی واقعی مل جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر نے بحث یا دلیل سے نہیں بلکہ بار بار کے تجربے سے یہ سیکھ لیا ہے کہ بجلی کا سوئچ دوبارہ اس کے حق میں نہیں ہو گا اور جب کوئی شہر اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری بھی کم کر دیتا ہے، جس کے اثرات کو بعد میں واپس پلٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔فیکٹریاں توسیع کے منصوبے مؤخر کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاندان اپنے بچوں کو اس کاروبار یا ہنر میں رہنے سے روکتے ہیں جسے ان کے والد نے کئی دہائیوں میں قائم کیا تھا۔غیر ملکی شراکت دار معاہدہ طے ہونے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی چیز کسی ایک ٹیرف نوٹیفکیشن میں نظر نہیں آتی، لیکن یہ سب ایک ہی مسئلے سے جڑی ہوئی ہیں : ایسا ریگولیٹری تعلق جو اعتماد کے بجائے ماضی کے فیصلوں کی بنیاد پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے اور وعدوں کی عدم ادائیگی پر قائم ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کو سخاوت کے نام پر پیش کیا جانے والا ایک اور اعلان نہیں چاہیے۔ اسے ایک پائیدار اور مستقل پالیسی چاہیے، جس کا آغاز ایسے بجلی کے ٹیرف سے ہو جو اس حجم کی بجلی کی کمپنی کے لیے مناسب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف طے ہونے کے بعد اسے مستحکم رہنا چاہیے تاکہ کوئی فیکٹری پورے سال کی منصوبہ بندی اس خوف کے بغیر کر سکے کہ 18 ماہ بعد اچانک پچھلے عرصے کا اضافی بل اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کو یہ بھی ضرورت ہے کہ 28 ارب روپے کی ایف سی اے کی واپسی کے معاملے کا حتمی فیصلہ کیا جائے اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، نہ کہ صرف حکمِ امتناع کے پیچھے روک دیا جائے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے اور اسے چار سال پرانی وہ سبسڈی بھی آخرکار ادا کی جائے جو شروع سے ہی ان صنعتوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ایسا نہیں ہوتا کراچی کی روشنیاں اس انداز میں ٹمٹماتی رہیں گی جسے کوئی انجینئر درست نہیں کر سکتا، کیونکہ اصل خرابی بجلی کی تاروں میں نہیں ہے۔اصل خرابی اس نظام میں ہے جو بار بار اس شہر سے جو پورے ملک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، مزید بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے ریلیف کا نام دے دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک شہر پر اس وقت ایک خاص قسم کی تھکن طاری ہو جاتی ہے جب اسے ایک بار نہیں بلکہ بار بار جھوٹے وعدوں کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ کسی ایک دھوکے کے بعد اٹھنے والا شدید غصہ نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ خاموش کیفیت ہوتی ہے۔ یہ کورنگی کی وہ ماں ہے جو برسوں سے ہر ماہ اپنے گھریلو بجٹ میں وہی حساب کتاب کرتی آ رہی ہے، مگر اعداد کم ہونے کا نام نہیں لیتے، خواہ وہ پنکھے کے استعمال میں کتنی ہی احتیاط کرے، فریج کو محدود وقت کے لیے چلائے یا اندھیرا ہونے کے بعد صرف ایک بلب جلتا چھوڑے۔</strong></p>
<p>یہ کراچی کا وہ فیکٹری مالک ہے جو اپنے بجلی کے بل میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی اس مد کو دیکھ رہا ہے جسے نہ اس نے پیدا کیا اور نہ ہی وہ اسے چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ سوویں مرتبہ سوچتا ہے کہ کیا یہی وہ سال ہے جب مشینیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی۔ کراچی کو ان اداروں کی جانب سے جن کا کام اسے تحفظ فراہم کرنا ہے، ایک کے بعد ایک مایوسی برداشت کرنا پڑی ہے اور اکتوبر 2025ء میں اسے ایک اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے انتہائی نرم زبان میں پیش کیا گیا : بجلی کے نرخ میں 7.6 روپے فی یونٹ کمی، جسے ایک مہربانی کے طور پر ظاہر کیا گیا۔</p>
<p>نو ماہ گزرنے کے بعد یہ مہربانی اس حساب کتاب کی صورت میں سامنے آئی ہے جو ریگولیٹر کے حق میں کیا گیا، جبکہ حسبِ معمول اس فرق کا بوجھ کراچی کے عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔</p>
<p>سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کراچی حقیقت میں کیا حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک شہر کو اس کے حق سے محروم کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ جس شہر کے ساتھ یہ ناانصافی ہو رہی ہے وہی ملک کو سنبھالنے والے اہم ستونوں میں شامل ہے۔</p>
<p>کراچی پاکستان کے ٹیکس محصولات کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ اس کی بندرگاہیں وہ برآمدات منتقل کرتی ہیں جو ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں، جس پر پورا ملک ایندھن، گندم اور ادویات خریدنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ کراچی کی ٹیکسٹائل ملیں، پیکیجنگ پلانٹس اور تجارتی ادارے لاکھوں خاندانوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں، جن کے پاس اس وقت کسی دوسرے شہر کا سہارا نہیں اگر مشینیں خاموش ہو جائیں۔</p>
<p>جب کراچی میں توانائی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو یہ محض مقامی مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ عین اس مقام پر لگنے والا زخم ہے جہاں ملک اس وقت خون بہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>یہاں کسی فیکٹری کے توانائی کے بل میں شامل ہونے والا ہر اضافی روپیہ ایسا روپیہ ہے جو کارکن کی اجرت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا روپیہ ہے جو کراچی میں تیار ہونے والی قمیض کو اسی یورپی اسٹور میں بنگلہ دیش میں تیار ہونے والی قمیض کے مقابلے میں زیادہ مہنگا بنا دیتا ہے اور یہ ایسا روپیہ ہے جو خاموشی سے بغیر کسی شور کے ایسے شہر میں ایک کم روزگار میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں پہلے ہی بہت زیادہ لوگ بہت کم ملازمتوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ صرف کوئی خیالی یا کتابی بات نہیں ہے، بلکہ یہ اس باپ کی حقیقت ہے جو کبھی کورنگی میں رات کی شفٹ میں کام کرتا تھا، مگر اب نہیں کرتا، کیونکہ مل نئی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتی تھی۔</p>
<p>پہلا زخم وہ 28 ارب روپے ہیں جن کا ذکر ٹیرف میں کمی کے اعلان کے وقت نہیں کیا گیا تھا۔ نیپرا کے اکتوبر کے فیصلے نے صرف بجلی کی شرح میں کمی نہیں کی۔ اسی فیصلے میں دو سال کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے حسابات دوبارہ کھول دیے گئے، حالانکہ یہ حسابات پہلے ہی طے کیے جا چکے تھے اور بجلی صارفین کو ان کی رقم واپس بھی دی جا چکی تھی۔ ان صارفین نے شاید پہلی مرتبہ یہ سمجھا تھا کہ کوئی فیصلہ ان کے حق میں ہوا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں ان حسابات میں دوبارہ اضافہ کیا گیا اور تقریباً 28 ارب روپے ان لوگوں سے واپس لینے کی راہ ہموار کی گئی جنہوں نے یہ ریلیف پہلے ہی کرائے، بچوں کی اسکول فیس اور ان چھوٹی چھوٹی سہولتوں پر خرچ کر دیا تھا جو نسبتاً کم بجلی کے بل کی وجہ سے ایک گھرانہ اپنے بجٹ میں شامل کرنے کی امید کرتا ہے۔</p>
<p>اس سابقہ مدت کے چارج کا مطلب پورے ایک سال کے لیے مزید تقریباً 2.5 سے 3.5 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ہے۔ یہ رقم مکمل طور پر اس یکساں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے نظام سے باہر ہے، جس کے موجود ہونے کے بارے میں زیادہ تر بجلی صارفین کو نہ کبھی بتایا گیا ہے اور نہ ہی وہ اسے سمجھتے ہیں۔</p>
<p>کراچی کے صنعتی بجلی صارفین واضح طور پر اس قدر پریشان تھے کہ انہیں اس معاملے کو سندھ ہائی کورٹ تک لے جانا پڑا۔ اس وقت ایک حکمِ امتناع ان 28 ارب روپے کی وصولی کو روکے ہوئے ہے، جبکہ معاملہ ایسے فیصلے کا منتظر ہے جس کی تاریخ کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن حکمِ امتناع کامیابی نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک رکی ہوئی سانس ہے۔</p>
<p>اس کے جاری رہنے کا ہر مہینہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں کوئی فیکٹری کسی غیر ملکی خریدار کو حتمی قیمت دینے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا مزید مہینہ ہے جس میں ایک گھرانہ ایسے عدد کو سامنے رکھ کر اپنا بجٹ بناتا ہے جو کسی بھی وقت اچانک اس کے خلاف تبدیل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس صورتِ حال میں ایک خاموش مگر انتہائی تکلیف دہ حقیقت پوشیدہ ہے : پہلے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کچھ دیا گیا ہے اور کئی ماہ بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ ریلیف اس طرح ناپ تول کر دیا گیا تھا کہ اسے دوبارہ واپس لیا جا سکے۔</p>
<p>دوسرا زخم کسی ایک عدد سے کہیں زیادہ گہرا ہے، کیونکہ معاملہ اس بات کا ہے کہ یہاں آخر کسی چیز پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>نیپرا کی اکتوبر میں کی گئی تبدیلی نے صرف ایک عدد میں نظرثانی نہیں کی بلکہ اسی سال مئی میں کیے گئے اپنے ہی فیصلے کو ختم کر دیا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو دو سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی سماعتوں، تجاویز اور عوامی مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔</p>
<p>چند ہی ماہ میں اس فیصلے کو ختم کر دینا ہر سرمایہ کار، ہر قرض دینے والے ادارے اور ہر اس عام بجلی صارف کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے جو ایک سال آگے کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے کہ یہاں کاغذ پر درج کوئی بھی فیصلہ حقیقت میں حتمی نہیں ہے۔</p>
<p>مارکیٹ نے اس صورتحال کو فوراً سمجھ لیا اور خوف کی صورتحال میں مارکیٹ عموماً جس طرح ردعمل دیتی ہے، ویسا ہی ہوا۔ کراچی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے حصص کی قیمت گر گئی۔</p>
<p>حصص یافتگان نے کھلے عام بین الاقوامی ثالثی کی بات شروع کر دی۔ جبکہ شنگھائی الیکٹرک پاور نے کئی سال تک کے الیکٹرک کو 1.77 ارب ڈالر میں خریدنے کی کوشش کے بعد بالآخر پیچھے ہٹتے ہوئے اس کی وجہ ریگولیٹری نظام میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مالیاتی تجزیہ کار اب اندازہ لگا رہے ہیں کہ مالی سال 2024ء میں کے الیکٹرک کا تقریباً 4 ارب روپے کا منافع 70 سے 80 ارب روپے کے نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کو مجموعی سالانہ نقصان تقریباً 100 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ان اعداد و شمار کے پیچھے اس سے بھی زیادہ اہم حقیقت موجود ہے۔اگر بجلی کی کمپنی کے سرمایہ کار اپنے ہی ریگولیٹر کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کر سکتے تو ان کے پاس کراچی کے بجلی کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے کی کیا وجہ رہ جاتی ہے؟ اور پھر ہر مستقبل کے اضافی مالی بوجھ کو ان لوگوں تک منتقل کرنے کی ترغیب بڑھ جاتی ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی اور حکومت کی جانب سے پورے ملک میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کی امیدیں، دونوں کا عملی طور پر امتحان ہو رہا ہے۔ اس امتحان میں ناکامی کراچی کی نہیں بلکہ اس وعدے کی ہے کہ ایک مرتبہ قواعد طے کر دیے جائیں تو وہ برقرار رہیں گے۔</p>
<p>تیسرا زخم وہ ہے جو نہ کوئی سوال پوچھتا ہے اور نہ کسی سماعت کا انتظار کرتا ہے، کیونکہ اس کا جواب برسوں سے نہیں دیا گیا۔</p>
<p>کراچی کی صنعتوں کو اب بھی کووڈ کے دور میں دی جانے والی 33 ارب روپے کی ریلیف سبسڈی وصول نہیں ہوئی۔ یہ رقم خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے مختص کی گئی تھی، اس کا اعلان بھی بڑے زور و شور سے کیا گیا تھا، مگر یہ رقم کبھی ادا نہیں کی گئی۔</p>
<p>یہ کوئی ایسا متنازع دعویٰ نہیں جو کسی عدالت یا ٹریبونل میں زیرِ سماعت ہو۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو کیا گیا، پھر خاموشی سے اسے بھلا دیا گیا، جبکہ یہی صنعتیں مسلسل اپنے ٹیکس ادا کرتی رہیں اور ان بحری جہازوں کو مال فراہم کرتی رہیں جو ملک کی برآمدات بیرونِ ملک لے کر جاتے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کو 28 ارب روپے کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی واپسی کے معاملے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک انتہائی ناخوشگوار حقیقت سامنے آتی ہے۔</p>
<p>کراچی سے جو رقم ریگولیٹر کو وصول کرنی ہوتی ہے، وہ حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھتی ہے، جس کے پیچھے احکامات، مقررہ تاریخیں اور وصولی کے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن جو رقم کراچی کو ادا کی جانی ہے، وہ کہیں فائلوں میں پڑی رہتی ہے، نہ اس کا ذکر ہوتا ہے، نہ اس میں مہنگائی یا وقت کے حساب سے کوئی اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے فوری معاملہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق محض دفتری سست روی کا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا طرزِ عمل بن چکا ہے جو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کس کے دعوے کو حقیقی سمجھا جاتا ہے اور کس کی آواز کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان تمام مسائل سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بدانتظامی سے ہونے والا نقصان اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔جب توقع سے زیادہ بجلی کا بل آتا ہے تو اب کوئی حیران نہیں ہوتا۔ کسی کو یہ توقع بھی نہیں رہتی کہ اعلان کردہ سبسڈی واقعی مل جائے گی۔</p>
<p>شہر نے بحث یا دلیل سے نہیں بلکہ بار بار کے تجربے سے یہ سیکھ لیا ہے کہ بجلی کا سوئچ دوبارہ اس کے حق میں نہیں ہو گا اور جب کوئی شہر اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری بھی کم کر دیتا ہے، جس کے اثرات کو بعد میں واپس پلٹانا بہت مشکل ہوتا ہے۔فیکٹریاں توسیع کے منصوبے مؤخر کر دیتی ہیں۔</p>
<p>خاندان اپنے بچوں کو اس کاروبار یا ہنر میں رہنے سے روکتے ہیں جسے ان کے والد نے کئی دہائیوں میں قائم کیا تھا۔غیر ملکی شراکت دار معاہدہ طے ہونے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی چیز کسی ایک ٹیرف نوٹیفکیشن میں نظر نہیں آتی، لیکن یہ سب ایک ہی مسئلے سے جڑی ہوئی ہیں : ایسا ریگولیٹری تعلق جو اعتماد کے بجائے ماضی کے فیصلوں کی بنیاد پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے اور وعدوں کی عدم ادائیگی پر قائم ہو گیا ہے۔</p>
<p>کراچی کو سخاوت کے نام پر پیش کیا جانے والا ایک اور اعلان نہیں چاہیے۔ اسے ایک پائیدار اور مستقل پالیسی چاہیے، جس کا آغاز ایسے بجلی کے ٹیرف سے ہو جو اس حجم کی بجلی کی کمپنی کے لیے مناسب ہو۔</p>
<p>ٹیرف طے ہونے کے بعد اسے مستحکم رہنا چاہیے تاکہ کوئی فیکٹری پورے سال کی منصوبہ بندی اس خوف کے بغیر کر سکے کہ 18 ماہ بعد اچانک پچھلے عرصے کا اضافی بل اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔</p>
<p>کراچی کو یہ بھی ضرورت ہے کہ 28 ارب روپے کی ایف سی اے کی واپسی کے معاملے کا حتمی فیصلہ کیا جائے اور اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، نہ کہ صرف حکمِ امتناع کے پیچھے روک دیا جائے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے اور اسے چار سال پرانی وہ سبسڈی بھی آخرکار ادا کی جائے جو شروع سے ہی ان صنعتوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔</p>
<p>جب تک ایسا نہیں ہوتا کراچی کی روشنیاں اس انداز میں ٹمٹماتی رہیں گی جسے کوئی انجینئر درست نہیں کر سکتا، کیونکہ اصل خرابی بجلی کی تاروں میں نہیں ہے۔اصل خرابی اس نظام میں ہے جو بار بار اس شہر سے جو پورے ملک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، مزید بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے ریلیف کا نام دے دیتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291469</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Sep 2026 13:37:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اکرام راجپوت)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/20203000ee5ecdb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/20203000ee5ecdb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو درپیش توانائی کا بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291432/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو توانائی کے ایسے شدید بحران کا سامنا ہے جو تیزی سے معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل اور بحیرہ احمر کے گرد جاری غیر یقینی صورت حال نے توانائی کے مسئلے کو محض قیمتوں کے سوال سے نکال کر اس کی حقیقی دستیابی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل اور ایل این جی کی ترسیل دباؤ کا شکار ہے، ایشیائی خریدار متبادل کارگوز کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس اپنے بڑے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں مالی اور رسدی تحفظ کے وسائل بھی محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل خطرہ اب صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ گھریلو بجٹ، کارخانوں، زراعت، بجلی کی فراہمی اور روزگار تک پہنچ سکتا ہے۔ آنے والی سردیاں پاکستان کی معاشی لچک کا فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ بحران محض مہنگے تیل کے ایک اور دور سے مختلف ہے۔ فوری تشویش یہ ہے کہ آیا پاکستان تک مطلوبہ مقدار میں توانائی حقیقتاً پہنچ بھی سکے گی اور اگر پہنچے گی تو کس قیمت پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس میں خلل نے ایشیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر کا مسئلہ متبادل رسدی راستوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق اس خلل سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس صورت حال سے خاص طور پر متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ ایل این جی اس کے بجلی اور صنعتی نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ قطری ایل این جی پر انحصار نے اسے خلیجی ممالک سے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور بنا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو انتہائی مہنگی اور بڑھتے ہوئے مسابقتی اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر ایک مشکل صورت حال سامنے ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار گیس کا مقابلہ صنعت، کھاد سازی اور گھریلو صارفین کی ضروریات سے ہوگا۔ مہنگے متبادل ایندھن بعض بجلی گھروں کو چلتا رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کی لاگت براہِ راست بجلی کے نرخوں اور وسیع تر معیشت پر منتقل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس بحران کا سامنا کرنے والا واحد ملک نہیں۔ فرق صرف دستیاب حفاظتی وسائل کا ہے جو اس بحران کے اثرات کو برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش، جو پاکستان کی طرح ایل این جی پر انحصار کرنے والی جنوبی ایشیائی معیشت ہے، پہلے ہی گیس کی قلت، بجلی کی بندش اور کارخانوں کی بندش کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی حکومت متبادل ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، جبکہ شمسی توانائی کے زیادہ استعمال اور دیگر ایندھن کے متبادل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کو بھی توانائی کی زیادہ قیمتوں اور خلیجی ممالک سے ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، تاہم اس کی کہیں بڑی ریفائننگ صلاحیت، خام تیل کے متنوع ذرائع، ذخائر اور زرمبادلہ کے ذخائر اسے صورت حال سے نمٹنے کے لیے زیادہ گنجائش فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک اہم سبق ملتا ہے: ایشیا کی کوئی بھی بڑی معیشت اس بحران سے محفوظ نہیں، تاہم متنوع رسدی ذرائع اور زیادہ مالی وسائل رکھنے والے ممالک زیادہ عرصے تک اس جھٹکے کو برداشت کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے عوام کے لیے توانائی کا یہ بحران اب روزمرہ زندگی کے بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 391 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 425 روپے فی لیٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عام پاکستانی خاندان کے لیے یہ محض آمدورفت کا خرچ نہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں روزانہ سفر، پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور زرعی سرگرمیوں کی لاگت بڑھاتی ہیں۔ ایل پی جی اور دیگر ایندھن بھی مہنگے ہوجاتے ہیں۔ بالآخر اس کے اثرات تقریباً ہر گھریلو خریداری پر پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے سماجی اثرات بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور کی آمدنی کم ہوجاتی ہے کیونکہ مسافر زیادہ کرایہ برداشت نہیں کرسکتے؛ کوئی کارخانہ پیداوار کم کردیتا ہے کیونکہ توانائی کی لاگت معاشی طور پر ناقابل برداشت ہوجاتی ہے؛ کسان کو آبپاشی اور نقل وحمل پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے؛ جبکہ تنخواہ دار گھرانہ اپنے ماہانہ ایندھن اور بجلی کے بل پورے کرنے کے لیے دیگر اخراجات کم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں توانائی کا بحران قوتِ خرید اور پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حالیہ تجربہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ توانائی کی قلت کام کے اوقات اور کاروباری سرگرمیوں کو کتنی تیزی سے متاثر کرسکتی ہے۔ حکومت سردیوں میں گیس کی طلب بڑھنے سے پہلے ماضی میں کاروباری اداروں کو جبراً قبل از وقت بند کرنے کی صورت حال دہرانے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگی بجلی اور غیر فعال آزاد بجلی گھروں کے تضاد کے ساتھ پاکستان کو ایک اور تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ نصب شدہ صلاحیت موجود ہے، تاہم ایندھن دستیاب نہ ہونے یا بجلی پیدا کرنا بہت مہنگا پڑنے کی صورت میں صارفین کو طویل لوڈشیڈنگ یا محدود فراہمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ریاست معاہدوں کے تحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو گنجائشی ادائیگیاں جاری رکھتی ہے، خواہ ان کی پوری صلاحیت استعمال ہو یا نہ ہو۔ اس کا نتیجہ زیادہ بجلی کے نرخوں کی صورت میں نکلے گا، جس کا بوجھ صارفین کو زیادہ بجلی کے بلوں کی شکل میں برداشت کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک انتہائی نقصان دہ معاشی تضاد ہے: پاکستان ایسی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی ادائیگی کر رہا ہے جسے استعمال کرنا اس کے لیے مہنگا ہے، نتیجتاً گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے، جبکہ صارفین بیک وقت قلت اور بلند نرخوں کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ میں آزاد بجلی گھروں کو حکومت کی ادائیگیاں تقریباً 2.94 کھرب روپے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ادائیگیوں کو محض غیر قانونی یا ناجائز قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ معاہداتی ذمہ داریوں کے تحت کی جاتی ہیں۔ تاہم جب طلب کمزور ہو، بجلی کی پیداوار محدود کی جا رہی ہو اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو ان ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ بحران اس دائرے کو مزید وسیع کرنے کا خطرہ رکھتا ہے: مہنگا درآمدی ایندھن بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھاتا ہے؛ کم طلب کے باعث بجلی پیدا کرنے کی مزید صلاحیت غیر استعمال شدہ رہتی ہے؛ گنجائشی ادائیگیاں برقرار رہتی ہیں؛ بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں؛ صارفین اپنی کھپت مزید کم کرتے ہیں؛ اور توانائی کے شعبے پر مالی بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو مختلف وزارتوں کے منتشر ردعمل کے بجائے ایک واحد اور مسلسل فعال قومی توانائی کمانڈ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن اور ایل این جی کے ذخائر، تصدیق شدہ کارگوز، بحری راستوں، بجلی پیدا کرنے کی ضروریات اور مختلف قیمتوں کے منظرناموں کے تحت زرمبادلہ کی ضروریات کی نگرانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے علاوہ تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے ہر ممکن ذریعے کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ موجودہ مرحلے پر سستا کارگو حاصل کرنے کے مقابلے میں رسد کا تحفظ زیادہ اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محدود ایل این جی کی تقسیم معاشی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہیے، جن میں بجلی کی پیداوار، کھاد سازی، برآمدی صنعتیں، اسپتال اور دیگر بنیادی خدمات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے تحفظ کا آغاز خود حکومت سے ہونا چاہیے۔ سرکاری ایندھن کے استعمال، سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور بیرون ملک سرکاری دوروں میں حالیہ اعلان کردہ کمی ایک مناسب قدم ہے، تاہم اسے طلب کے وسیع تر انتظامی پروگرام کا حصہ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے لیے امداد غیر امتیازی سبسڈی کے بجائے مستحق اور کمزور گھرانوں تک محدود ہونی چاہیے۔ پٹرول کو نہیں بلکہ لوگوں کو سبسڈی دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹ کے لیے تیاری کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ یہ فرض کرلیا جائے کہ آبنائے ہرمز جلد معمول کی صورت حال پر واپس آجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران محض ہنگامی انتظامات سے زیادہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ بحران ایشیا بھر میں توانائی کی حکمت عملی بھی تبدیل کر رہا ہے۔ ممالک متبادل سپلائرز کی تلاش، ذخائر میں اضافے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور درآمدی گیس پر انحصار پر نظرثانی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو بھی اس اشارے کو سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں تیزی سے بڑھتی شمسی توانائی پہلے ہی کچھ حد تک تحفظ فراہم کر رہی ہے، تاہم شمسی توانائی اکیلے شام کے اوقات میں بجلی کی طلب کے عروج کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی اور نہ ہی پوری معیشت میں گیس کا متبادل بن سکتی ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، پن بجلی، ایل این جی کے متنوع ذرائع، مقامی وسائل اور بجلی کی طلب کے زیادہ مؤثر انتظام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو سفارتی ذرائع بھی بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ایسے ذرائع فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے توانائی کی ترسیل اور بحری نقل وحمل کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ توانائی سفارت کاری اب معاشی سفارت کاری بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والی سردیاں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ جلد دور ہوجاتی ہے تو موجودہ دباؤ کا کچھ حصہ کم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو پاکستان کو بیک وقت ایندھن، گیس، بجلی، صنعت، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، روزگار اور زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آبنائے ہرمز یا عالمی توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ تاہم وہ یہ طے کرسکتا ہے کہ دستیاب توانائی کا کتنی دانش مندی سے انتظام کیا جائے اور اس کا بوجھ کتنی منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرہ محض یہ نہیں کہ پاکستان کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ مہنگی اور غیر یقینی توانائی بتدریج عوام کی قوتِ خرید، صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور بجلی کے نظام کی پائیداری کو متاثر کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ بحران ہے جو پٹرول پمپ سے آگے بڑھ چکا ہے، اور پاکستان کو اس کے لیے فوری طور پر تیاری کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کو توانائی کے ایسے شدید بحران کا سامنا ہے جو تیزی سے معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل اور بحیرہ احمر کے گرد جاری غیر یقینی صورت حال نے توانائی کے مسئلے کو محض قیمتوں کے سوال سے نکال کر اس کی حقیقی دستیابی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔</strong></p>
<p>تیل اور ایل این جی کی ترسیل دباؤ کا شکار ہے، ایشیائی خریدار متبادل کارگوز کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس اپنے بڑے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں مالی اور رسدی تحفظ کے وسائل بھی محدود ہیں۔</p>
<p>اصل خطرہ اب صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ گھریلو بجٹ، کارخانوں، زراعت، بجلی کی فراہمی اور روزگار تک پہنچ سکتا ہے۔ آنے والی سردیاں پاکستان کی معاشی لچک کا فیصلہ کن امتحان بن سکتی ہیں۔</p>
<p>موجودہ بحران محض مہنگے تیل کے ایک اور دور سے مختلف ہے۔ فوری تشویش یہ ہے کہ آیا پاکستان تک مطلوبہ مقدار میں توانائی حقیقتاً پہنچ بھی سکے گی اور اگر پہنچے گی تو کس قیمت پر۔</p>
<p>آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس میں خلل نے ایشیا کو خاص طور پر متاثر کیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر کا مسئلہ متبادل رسدی راستوں کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازے کے مطابق اس خلل سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس صورت حال سے خاص طور پر متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ ایل این جی اس کے بجلی اور صنعتی نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ قطری ایل این جی پر انحصار نے اسے خلیجی ممالک سے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور بنا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو انتہائی مہنگی اور بڑھتے ہوئے مسابقتی اسپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>فوری طور پر ایک مشکل صورت حال سامنے ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار گیس کا مقابلہ صنعت، کھاد سازی اور گھریلو صارفین کی ضروریات سے ہوگا۔ مہنگے متبادل ایندھن بعض بجلی گھروں کو چلتا رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کی لاگت براہِ راست بجلی کے نرخوں اور وسیع تر معیشت پر منتقل ہوگی۔</p>
<p>پاکستان اس بحران کا سامنا کرنے والا واحد ملک نہیں۔ فرق صرف دستیاب حفاظتی وسائل کا ہے جو اس بحران کے اثرات کو برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش، جو پاکستان کی طرح ایل این جی پر انحصار کرنے والی جنوبی ایشیائی معیشت ہے، پہلے ہی گیس کی قلت، بجلی کی بندش اور کارخانوں کی بندش کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی حکومت متبادل ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، جبکہ شمسی توانائی کے زیادہ استعمال اور دیگر ایندھن کے متبادل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بھارت کو بھی توانائی کی زیادہ قیمتوں اور خلیجی ممالک سے ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے، تاہم اس کی کہیں بڑی ریفائننگ صلاحیت، خام تیل کے متنوع ذرائع، ذخائر اور زرمبادلہ کے ذخائر اسے صورت حال سے نمٹنے کے لیے زیادہ گنجائش فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>اس سے ایک اہم سبق ملتا ہے: ایشیا کی کوئی بھی بڑی معیشت اس بحران سے محفوظ نہیں، تاہم متنوع رسدی ذرائع اور زیادہ مالی وسائل رکھنے والے ممالک زیادہ عرصے تک اس جھٹکے کو برداشت کرسکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے عوام کے لیے توانائی کا یہ بحران اب روزمرہ زندگی کے بحران میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 391 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 425 روپے فی لیٹر ہے۔</p>
<p>ایک عام پاکستانی خاندان کے لیے یہ محض آمدورفت کا خرچ نہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں روزانہ سفر، پبلک ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور زرعی سرگرمیوں کی لاگت بڑھاتی ہیں۔ ایل پی جی اور دیگر ایندھن بھی مہنگے ہوجاتے ہیں۔ بالآخر اس کے اثرات تقریباً ہر گھریلو خریداری پر پڑتے ہیں۔</p>
<p>اس کے سماجی اثرات بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور کی آمدنی کم ہوجاتی ہے کیونکہ مسافر زیادہ کرایہ برداشت نہیں کرسکتے؛ کوئی کارخانہ پیداوار کم کردیتا ہے کیونکہ توانائی کی لاگت معاشی طور پر ناقابل برداشت ہوجاتی ہے؛ کسان کو آبپاشی اور نقل وحمل پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے؛ جبکہ تنخواہ دار گھرانہ اپنے ماہانہ ایندھن اور بجلی کے بل پورے کرنے کے لیے دیگر اخراجات کم کردیتا ہے۔</p>
<p>یوں توانائی کا بحران قوتِ خرید اور پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں حالیہ تجربہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ توانائی کی قلت کام کے اوقات اور کاروباری سرگرمیوں کو کتنی تیزی سے متاثر کرسکتی ہے۔ حکومت سردیوں میں گیس کی طلب بڑھنے سے پہلے ماضی میں کاروباری اداروں کو جبراً قبل از وقت بند کرنے کی صورت حال دہرانے سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>مہنگی بجلی اور غیر فعال آزاد بجلی گھروں کے تضاد کے ساتھ پاکستان کو ایک اور تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے۔</p>
<p>ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ نصب شدہ صلاحیت موجود ہے، تاہم ایندھن دستیاب نہ ہونے یا بجلی پیدا کرنا بہت مہنگا پڑنے کی صورت میں صارفین کو طویل لوڈشیڈنگ یا محدود فراہمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ریاست معاہدوں کے تحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو گنجائشی ادائیگیاں جاری رکھتی ہے، خواہ ان کی پوری صلاحیت استعمال ہو یا نہ ہو۔ اس کا نتیجہ زیادہ بجلی کے نرخوں کی صورت میں نکلے گا، جس کا بوجھ صارفین کو زیادہ بجلی کے بلوں کی شکل میں برداشت کرنا پڑے گا۔</p>
<p>یہ ایک انتہائی نقصان دہ معاشی تضاد ہے: پاکستان ایسی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی ادائیگی کر رہا ہے جسے استعمال کرنا اس کے لیے مہنگا ہے، نتیجتاً گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے، جبکہ صارفین بیک وقت قلت اور بلند نرخوں کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>وزارتِ توانائی کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ میں آزاد بجلی گھروں کو حکومت کی ادائیگیاں تقریباً 2.94 کھرب روپے رہی ہیں۔</p>
<p>ان ادائیگیوں کو محض غیر قانونی یا ناجائز قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ معاہداتی ذمہ داریوں کے تحت کی جاتی ہیں۔ تاہم جب طلب کمزور ہو، بجلی کی پیداوار محدود کی جا رہی ہو اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو ان ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>موجودہ بحران اس دائرے کو مزید وسیع کرنے کا خطرہ رکھتا ہے: مہنگا درآمدی ایندھن بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھاتا ہے؛ کم طلب کے باعث بجلی پیدا کرنے کی مزید صلاحیت غیر استعمال شدہ رہتی ہے؛ گنجائشی ادائیگیاں برقرار رہتی ہیں؛ بجلی کے نرخ بڑھتے ہیں؛ صارفین اپنی کھپت مزید کم کرتے ہیں؛ اور توانائی کے شعبے پر مالی بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو مختلف وزارتوں کے منتشر ردعمل کے بجائے ایک واحد اور مسلسل فعال قومی توانائی کمانڈ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اسے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن اور ایل این جی کے ذخائر، تصدیق شدہ کارگوز، بحری راستوں، بجلی پیدا کرنے کی ضروریات اور مختلف قیمتوں کے منظرناموں کے تحت زرمبادلہ کی ضروریات کی نگرانی کرنی چاہیے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کے علاوہ تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے ہر ممکن ذریعے کو بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ موجودہ مرحلے پر سستا کارگو حاصل کرنے کے مقابلے میں رسد کا تحفظ زیادہ اہم ہے۔</p>
<p>محدود ایل این جی کی تقسیم معاشی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہیے، جن میں بجلی کی پیداوار، کھاد سازی، برآمدی صنعتیں، اسپتال اور دیگر بنیادی خدمات شامل ہیں۔</p>
<p>توانائی کے تحفظ کا آغاز خود حکومت سے ہونا چاہیے۔ سرکاری ایندھن کے استعمال، سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور بیرون ملک سرکاری دوروں میں حالیہ اعلان کردہ کمی ایک مناسب قدم ہے، تاہم اسے طلب کے وسیع تر انتظامی پروگرام کا حصہ بنانا ہوگا۔</p>
<p>صارفین کے لیے امداد غیر امتیازی سبسڈی کے بجائے مستحق اور کمزور گھرانوں تک محدود ہونی چاہیے۔ پٹرول کو نہیں بلکہ لوگوں کو سبسڈی دی جائے۔</p>
<p>سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو طویل عرصے تک جاری رہنے والی رکاوٹ کے لیے تیاری کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ یہ فرض کرلیا جائے کہ آبنائے ہرمز جلد معمول کی صورت حال پر واپس آجائے گی۔</p>
<p>یہ بحران محض ہنگامی انتظامات سے زیادہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>موجودہ بحران ایشیا بھر میں توانائی کی حکمت عملی بھی تبدیل کر رہا ہے۔ ممالک متبادل سپلائرز کی تلاش، ذخائر میں اضافے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور درآمدی گیس پر انحصار پر نظرثانی کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو بھی اس اشارے کو سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>ملک میں تیزی سے بڑھتی شمسی توانائی پہلے ہی کچھ حد تک تحفظ فراہم کر رہی ہے، تاہم شمسی توانائی اکیلے شام کے اوقات میں بجلی کی طلب کے عروج کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی اور نہ ہی پوری معیشت میں گیس کا متبادل بن سکتی ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، پن بجلی، ایل این جی کے متنوع ذرائع، مقامی وسائل اور بجلی کی طلب کے زیادہ مؤثر انتظام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان کو سفارتی ذرائع بھی بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ایسے ذرائع فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے توانائی کی ترسیل اور بحری نقل وحمل کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ توانائی سفارت کاری اب معاشی سفارت کاری بن چکی ہے۔</p>
<p>آنے والی سردیاں فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔</p>
<p>اگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ جلد دور ہوجاتی ہے تو موجودہ دباؤ کا کچھ حصہ کم ہوجائے گا۔ لیکن اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو پاکستان کو بیک وقت ایندھن، گیس، بجلی، صنعت، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، روزگار اور زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان آبنائے ہرمز یا عالمی توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ تاہم وہ یہ طے کرسکتا ہے کہ دستیاب توانائی کا کتنی دانش مندی سے انتظام کیا جائے اور اس کا بوجھ کتنی منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p>خطرہ محض یہ نہیں کہ پاکستان کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ مہنگی اور غیر یقینی توانائی بتدریج عوام کی قوتِ خرید، صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور بجلی کے نظام کی پائیداری کو متاثر کرسکتی ہے۔</p>
<p>یہ وہ بحران ہے جو پٹرول پمپ سے آگے بڑھ چکا ہے، اور پاکستان کو اس کے لیے فوری طور پر تیاری کرنا ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291432</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Sep 2026 16:48:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/19164437a65b6c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/19164437a65b6c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اختیارات کی نامکمل منتقلی کی قیمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291401/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفاعی اخراجات کے علاوہ وفاقی وزارتوں کا خرچ 3.3 ارب روپے ہے، جبکہ سبسڈیز، ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور پنشنز پر 3 کھرب روپے اور قرضوں کی ادائیگی پر 8 کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ چونکہ پی ایس ڈی پی وفاقی دائرہ کار کا موضوع نہیں، اس لیے اسے آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ سخت آڈٹ اور حساب کتاب کے ذریعے وفاقی حکومت وقت کے ساتھ ان اخراجات کو 14 کھرب روپے تک لا سکتی ہے۔ — سینیٹر ضمیر حسین گھمرو&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا وفاقی بجٹ دو ایسی کہانیاں بیان کرتا ہے جنہیں سرکاری کفایت شعاری ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تفصیلات کے مطابق مجموعی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن 20.600 کھرب روپے جبکہ وفاقی اخراجات 18.771 کھرب روپے ہیں۔ آئینی طور پر محفوظ صوبائی حصے کے لیے 8.848 کھرب روپے مختص کیے جانے کے بعد اسلام آباد کے پاس 11.751 کھرب روپے کی خالص آمدن بچتی ہے اور وہ 7.020 کھرب روپے کے مالی خلا کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث عموماً براہِ راست نئے ٹیکسوں کی طرف چلی جاتی ہے، تاہم اس سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا وفاق کو ان تمام امور کے اخراجات برداشت کرنے چاہئیں جو وہ اب بھی انجام دے رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 اگست 2026 کو سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیرصدارت سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس میں یہ سوال پارلیمان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ منٹس میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 270 اے اے کے تحت 47 نکاتی مشترکہ قانون ساز فہرست کے خاتمے کے بعد اختیارات کی منتقلی کا عمل 30 جون 2011 تک مکمل ہونا ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاع کے علاوہ وفاقی وزارتوں کے اخراجات 3.3 ارب روپے، جبکہ سبسڈیز، پی ایس ڈی پی اور پنشنز پر 3 کھرب روپے اور قرضوں کی ادائیگی پر 8 کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کو باآسانی الگ کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وفاقی دائرہ کار کا موضوع نہیں۔ سخت آڈٹ اور حساب کتاب کے ذریعے وفاقی حکومت وقت کے ساتھ ان اخراجات کو 14 کھرب روپے تک محدود کر سکتی ہے۔ — سینیٹر ضمیر حسین گھمرو&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا وفاقی بجٹ دو ایسی کہانیاں بیان کرتا ہے جنہیں سرکاری کفایت شعاری ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تفصیلات کے مطابق مجموعی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن 20.600 کھرب روپے جبکہ وفاقی اخراجات 18.771 کھرب روپے ہیں۔ آئینی طور پر محفوظ صوبائی حصے کے لیے 8.848 کھرب روپے مختص کیے جانے کے بعد اسلام آباد کے پاس 11.751 کھرب روپے کی خالص آمدن بچتی ہے اور وہ 7.020 کھرب روپے کے مالی خلا کو پورا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ بحث عموماً براہِ راست نئے ٹیکسوں کی طرف چلی جاتی ہے، تاہم اس سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا وفاق کو ان تمام امور کے اخراجات برداشت کرنے چاہئیں جو وہ اب بھی انجام دے رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 اگست 2026 کو سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیرصدارت سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس میں یہ سوال پارلیمان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ منٹس میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 270 اے اے کے تحت 47 نکاتی مشترکہ قانون ساز فہرست کے خاتمے کے بعد اختیارات کی منتقلی کا عمل 30 جون 2011 تک مکمل ہونا ضروری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2010 سے جون 2011 کے دوران جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے ذریعے 17 وزارتیں ختم یا صوبوں کو منتقل کی گئیں۔ تاہم، منٹس میں درج ہے کہ بعد ازاں کئی وزارتیں، ادارے اور امور نئی حیثیت یا نئے ناموں کے تحت برقرار رکھے گئے یا دوبارہ قائم کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ نامکمل کام ہے جو ہمارے مضمون ’’تقسیم سے پہلے اختیارات کی منتقلی‘‘ کی بنیاد ہے۔ پاکستان میں 12، 15 یا 33 صوبوں اور 160 بااختیار اضلاع پر بحث ہو رہی ہے، جبکہ آئین کے تحت پہلے ہی ازسرنو تقسیم کیے جا چکے اختیارات مختلف حکومتی سطحوں کے درمیان معلق ہیں۔ انتظامی حدود ازسرنو مقرر کرنے سے اس امر سے انکار کا ازالہ نہیں ہو سکتا کہ اختیارات کی موجودہ آئینی تقسیم پر عمل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی نے صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، آبی وسائل، خصوصی اقدامات، ثقافت و ورثہ اور انسداد منشیات کے شعبوں میں وفاقی امور کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں صوبائی دائرہ کار میں مداخلت قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے ریلوے، صنعتوں، شماریات، پٹرولیم، بین الصوبائی رابطے، منصوبہ بندی و ترقی اور بڑی بندرگاہوں کو بھی ایسے معاملات میں شمار کیا ہے جنہیں عام کابینہ کے انتظام کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ذریعے نمٹایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کو چار آئینی دفعات منظم کرتی ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 142(ج) صوبائی اسمبلی کو وفاقی قانون ساز فہرست سے باہر کے معاملات پر خصوصی قانون سازی کا اختیار دیتا ہے۔ آرٹیکل 97 وفاقی انتظامی اختیار کو ان امور تک محدود کرتا ہے جن پر پارلیمان قانون سازی کر سکتی ہے اور اسے ایسے صوبے تک توسیع دینے سے روکتا ہے جہاں صوبائی اسمبلی کو بھی اختیار حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 153 اور 154 وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ دوم سے متعلق پالیسی، نگرانی اور انتظامی اختیار مشترکہ مفادات کونسل کو دیتے ہیں۔ آئین کے اٹھارہویں ترمیمی ایکٹ 2010 کے تحت سی سی آئی کے مستقل سیکریٹریٹ اور کم از کم ہر 90 روز میں ایک اجلاس کا انعقاد بھی لازم قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’رابطہ کاری‘‘ ان آئینی حدود کو ختم نہیں کر سکتی۔ اسی طرح کوئی بین الاقوامی معاہدہ بھی ملکی سطح پر انتظامی اختیار کو بحال نہیں کر سکتا جو آئین نے کسی اور سطح کو تفویض کر رکھا ہو۔ وزارت خارجہ کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتی ہے، تاہم صوبے کے اندر اس پر عمل درآمد کے لیے قانون سازی اور انتظامی اختیارات کی آئینی تقسیم کی پابندی کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، چھاؤنیوں اور وفاقی اداروں میں خدمات کا انتظام کر سکتا ہے۔ ان امور کی الگ سے نشاندہی اور لاگت کا تعین ہونا چاہیے۔ انہیں ملک بھر میں متوازی بیوروکریسیوں کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سینیٹر گھمرو کے وسیع تر مؤقف میں ایک قانونی وضاحت ضروری ہے۔ آئین مختلف شعبہ جات اور اختیارات تقسیم کرتا ہے، لیکن وفاقی وزارتوں کی تعداد کی کوئی عددی حد، مثلاً نو وزارتیں، مقرر نہیں کرتا۔ وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ اول میں متعدد اختیارات اور شعبہ جات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی وزارت کا نام بذاتِ خود اس کے آئینی جواز کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ بیرونِ ملک طلبہ، وفاقی اداروں اور تحقیق سے متعلق وفاقی تعلیمی امور کی آئینی بنیاد ہو سکتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار کا تعین حصہ دوم میں آتا ہے، اس لیے اس پر سی سی آئی کا اختیار لاگو ہوتا ہے۔ درست پیمانہ نام نہیں بلکہ متعلقہ کام اور اختیار ہے۔ یہی پیمانہ اس معاملے سے چشم پوشی کی گنجائش مزید کم کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ڈویژن، ذیلی ادارے، ریگولیٹر، گرانٹ اور ترقیاتی منصوبے کے لیے واضح کیا جانا چاہیے کہ اسے آئین کی کس متعلقہ شق، سی سی آئی کے کس فیصلے یا وفاقی علاقائی ذمہ داری کے تحت اختیار حاصل ہے۔ جس کام کی آئینی بنیاد موجود نہ ہو، اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ جائز وفاقی امور کو الگ اور واضح طور پر مختص کیا جائے۔ حصہ دوم کے امور سی سی آئی کی مرتب کردہ اور باقاعدہ نگرانی میں پالیسی کے مطابق انجام دیے جائیں۔ جہاں قانونی بنیاد موجود نہ ہو، پارلیمان کو ایسے اخراجات کی منظوری نہیں دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی نے وفاقی اخراجات تقریباً 19 کھرب روپے سے کم کرکے 13 کھرب روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ سینیٹر گھمرو کی جانب سے ہمارے ساتھ شیئر کیے گئے ایک اضافی نوٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دفاع اور حصہ اول کی بنیادی وفاقی وزارتوں کے لیے تقریباً 3.3 کھرب روپے درکار ہیں۔ تاہم، ان اعداد کو فوری طور پر دستیاب بچت کے بجائے اخراجات کے جامع آڈٹ کے آغاز کا نقطۂ آغاز سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18.771 کھرب روپے کے وفاقی اخراجات میں سود کی ادائیگی کے لیے 8.054 کھرب روپے، دفاعی خدمات کے لیے 3 کھرب روپے، پنشنز کے لیے 1.169 کھرب روپے، گرانٹس اور منتقلیوں کے لیے 2.680 کھرب روپے، سبسڈیز کے لیے 1.091 کھرب روپے اور وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 1 کھرب روپے شامل ہیں۔ متوازی ڈویژن ختم کرنے سے یہ مالی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہر مد کا تفصیلی آڈٹ کیوں ناگزیر ہو چکا ہے۔ موجودہ اور ترقیاتی اخراجات میں وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے لیے تقریباً 71.2 ارب روپے اور قومی صحت خدمات ڈویژن کے لیے 53.3 ارب روپے مختص ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی غذائی تحفظ اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے لیے تقریباً 33.7 ارب روپے، آبی وسائل کے لیے 107.3 ارب روپے اور ریلوے کے لیے تقریباً 111.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر روپیہ وفاقی دائرہ اختیار سے باہر ہو، لیکن ہر روپے کی درجہ بندی ضروری ہے۔ آئینی اخراجات کا آڈٹ جائز وفاقی امور کو دوہرے انتظام، مشروط گرانٹس اور ان منصوبوں سے الگ کر سکتا ہے جو خدمات کی فراہمی کے ذمہ دار حکومتوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ مفادات کونسل کو باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کا عملی مرکز بننا چاہیے۔ اس کا مستقل سیکریٹریٹ محض 118 ملین روپے کی علامتی طلب بن کر نہیں رہ سکتا جبکہ وزارتیں اور ڈویژن حصہ دوم کے امور کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ سیکریٹریٹ میں پیشہ ورانہ شعبے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ ڈیٹا اور اجلاسوں کے فیصلوں کی اشاعت کا نظام ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کو مقررہ مدت کے مطابق کونسل کے اجلاس بلانے چاہئیں۔ کابینہ کو سی سی آئی کے معاملات پہلے طے کرکے بعد میں صوبوں سے منظوری حاصل کرنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر گھمرو نے ہمارے ساتھ شیئر کیے گئے تبصروں میں ایک اور کمزوری کی نشاندہی کی ہے: بلدیاتی انتخابات بھی مرکزیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 140 اے(2) اور 219(د) واضح طور پر یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو سونپتے ہیں۔ یہ اختیار صوبوں کو منتقل کرنے کے لیے انتظامی حکم نہیں بلکہ آئینی ترمیم درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مؤقف پر غور کیا جانا چاہیے۔ مرکزی کنٹرول بروقت بلدیاتی انتخابات کو یقینی نہیں بنا سکا۔ اسلام آباد کی بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوگئی تھی اور اس کے بعد قانونی اور حلقہ بندیوں میں بار بار کی تبدیلیوں نے نئے انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف صوبائی کنٹرول بھی تحفظ کی ضمانت نہیں۔ صوبائی حکومتوں نے بھی بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی ہے اور جماعتی مفادات کے لیے نظام میں تبدیلیاں کی ہیں۔ کسی بھی آئینی ترمیم میں آزاد صوبائی الیکشن کمیشنز، محفوظ مدتِ عہدہ اور بلدیاتی کونسل کی مدت ختم ہونے سے پہلے خودکار انتخابی شیڈول کا انتظام ہونا چاہیے۔ بھارت میں نسبتاً قریب تر مثال موجود ہے جہاں ریاستی الیکشن کمیشن پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کراتے ہیں۔ انتخابات کرانے والے ادارے کو وفاقی اور صوبائی دونوں انتظامیہ سے آزاد رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر گھمرو کی دوسری تجویز یہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کے پاس اپنے ٹیکس ہونے چاہئیں۔ یہ ایک ناگزیر تقاضا ہے، تاہم اسے مالی خود انحصاری کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ پراپرٹی ٹیکس، زمین کی قدر پر عائد محصولات، صارفین سے وصول کیے جانے والے چارجز، پارکنگ فیس، لائسنس اور مقامی فیسیں جواب دہی کو فروغ دیتی ہیں کیونکہ شہری اپنی ادائیگی اور حاصل ہونے والی خدمات کا تقابل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کی جانب سے شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس کی وصولی مقامی کونسلوں کو منتقل کرنا ایک مفید آغاز ہے۔ کونسلوں کو جائیدادوں کی مالیت برقرار رکھنے، وصولی یقینی بنانے، قانونی حدود کے اندر شرحیں مقرر کرنے اور قابلِ پیش گوئی آمدن اپنے پاس رکھنے کا اختیار بھی درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کا آرٹیکل 160 وفاقی ٹیکسوں کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کرتا ہے، تاہم بلدیاتی حکومتوں کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں براہِ راست نمائندگی نہیں دیتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے اپنے مشترکہ فنڈز سے، بشمول این ایف سی ایوارڈ کے تحت حاصل ہونے والی آمدن، فارمولے کی بنیاد پر بلدیاتی حکومتوں کو رقوم منتقل نہیں کر سکتے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن (پی ایف سی) وفاقی ایوارڈ پر نظرثانی نہیں کرتا بلکہ آبادی، غربت، محصولات کی کوشش، خدمات کی لاگت اور ضرورت جیسے عوامل کی بنیاد پر صوبائی وسائل تقسیم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اس امر کی مثال پیش کرتا ہے کہ اپنے محصولات اور منتقلیاں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ وہاں آئینی نظام مقامی ٹیکسوں کی اجازت دیتا ہے، ریاستی مالیاتی کمیشنوں کو مشترکہ ٹیکسوں اور گرانٹس کی سفارش کا اختیار دیتا ہے اور یونین فنانس کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ریاستی فنڈز کے ذریعے مقامی وسائل میں اضافے کا انتظام کرے۔ غریب اضلاع محدود مقامی ٹیکسوں کی بنیاد پر یکساں معیار کے اسکول، پانی، صفائی اور ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کر سکتے۔ مقامی آمدن بڑھانے کی کوشش کے ساتھ قابلِ پیش گوئی مالی مساوات بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اختیارات کی منتقلی کا ایک عوامی کھاتا مرتب کرنا چاہیے۔ کابینہ ڈویژن کو ہر وفاقی کام اور اس پر خرچ ہونے والے ہر روپے کو حصہ اول، حصہ دوم، کسی علاقائی ذمہ داری یا کسی دوسری واضح آئینی شق کے ساتھ منسلک کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصہ دوم کے اداروں کے بارے میں سی سی آئی کو فیصلہ کرنا چاہیے۔ پارلیمان کو ایسی اسکیمیں ختم کر دینی چاہئیں جن کی آئینی بنیاد موجود نہ ہو اور خدمات میں تعطل پیدا کیے بغیر عملہ، اثاثے، واجبات اور ریکارڈ منتقل کیے جائیں۔ اس کے بعد صوبوں کو یہ سلسلہ مکمل کرتے ہوئے منتخب بلدیاتی کونسلوں کو واضح اختیارات، اپنے محصولات، فارمولے کے تحت منتقلیاں، شفاف بجٹ اور آزاد آڈٹ فراہم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی مالیاتی خلا 7.020 کھرب روپے کا ہے اور اس کا الزام صرف اختیارات کی نامکمل منتقلی پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ تاہم یہ خلا اس بات کا تقاضا ضرور کرتا ہے کہ آئینی نظم و ضبط سے انحراف کو مزید برداشت نہ کیا جائے۔ اسلام آباد مزید ٹیکسوں کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بتانے سے گریز نہیں کر سکتا کہ ہر کام کا اختیار وفاق کے پاس کیوں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاق اس وقت معتبر بنتا ہے جب اختیار، وسائل اور جواب دہی آئین کے مقرر کردہ درجے پر یکجا ہوں۔ پاکستان نے یہ اصول اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنایا تھا۔ سولہ برس بعد وقت آ گیا ہے کہ اس اصول کو محض آئینی عبارت نہیں بلکہ باقاعدہ مالیاتی حساب کتاب کی شکل بھی دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفاعی اخراجات کے علاوہ وفاقی وزارتوں کا خرچ 3.3 ارب روپے ہے، جبکہ سبسڈیز، ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور پنشنز پر 3 کھرب روپے اور قرضوں کی ادائیگی پر 8 کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ چونکہ پی ایس ڈی پی وفاقی دائرہ کار کا موضوع نہیں، اس لیے اسے آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ سخت آڈٹ اور حساب کتاب کے ذریعے وفاقی حکومت وقت کے ساتھ ان اخراجات کو 14 کھرب روپے تک لا سکتی ہے۔ — سینیٹر ضمیر حسین گھمرو</strong></p>
<p>پاکستان کا وفاقی بجٹ دو ایسی کہانیاں بیان کرتا ہے جنہیں سرکاری کفایت شعاری ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تفصیلات کے مطابق مجموعی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن 20.600 کھرب روپے جبکہ وفاقی اخراجات 18.771 کھرب روپے ہیں۔ آئینی طور پر محفوظ صوبائی حصے کے لیے 8.848 کھرب روپے مختص کیے جانے کے بعد اسلام آباد کے پاس 11.751 کھرب روپے کی خالص آمدن بچتی ہے اور وہ 7.020 کھرب روپے کے مالی خلا کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔</p>
<p>بحث عموماً براہِ راست نئے ٹیکسوں کی طرف چلی جاتی ہے، تاہم اس سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا وفاق کو ان تمام امور کے اخراجات برداشت کرنے چاہئیں جو وہ اب بھی انجام دے رہا ہے؟</p>
<p>17 اگست 2026 کو سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیرصدارت سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس میں یہ سوال پارلیمان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ منٹس میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 270 اے اے کے تحت 47 نکاتی مشترکہ قانون ساز فہرست کے خاتمے کے بعد اختیارات کی منتقلی کا عمل 30 جون 2011 تک مکمل ہونا ضروری تھا۔</p>
<p>دفاع کے علاوہ وفاقی وزارتوں کے اخراجات 3.3 ارب روپے، جبکہ سبسڈیز، پی ایس ڈی پی اور پنشنز پر 3 کھرب روپے اور قرضوں کی ادائیگی پر 8 کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کو باآسانی الگ کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وفاقی دائرہ کار کا موضوع نہیں۔ سخت آڈٹ اور حساب کتاب کے ذریعے وفاقی حکومت وقت کے ساتھ ان اخراجات کو 14 کھرب روپے تک محدود کر سکتی ہے۔ — سینیٹر ضمیر حسین گھمرو</p>
<p>پاکستان کا وفاقی بجٹ دو ایسی کہانیاں بیان کرتا ہے جنہیں سرکاری کفایت شعاری ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تفصیلات کے مطابق مجموعی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدن 20.600 کھرب روپے جبکہ وفاقی اخراجات 18.771 کھرب روپے ہیں۔ آئینی طور پر محفوظ صوبائی حصے کے لیے 8.848 کھرب روپے مختص کیے جانے کے بعد اسلام آباد کے پاس 11.751 کھرب روپے کی خالص آمدن بچتی ہے اور وہ 7.020 کھرب روپے کے مالی خلا کو پورا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ بحث عموماً براہِ راست نئے ٹیکسوں کی طرف چلی جاتی ہے، تاہم اس سے پہلے یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا وفاق کو ان تمام امور کے اخراجات برداشت کرنے چاہئیں جو وہ اب بھی انجام دے رہا ہے؟</p>
<p>17 اگست 2026 کو سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیرصدارت سینیٹ کی ڈیولوشن سے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس میں یہ سوال پارلیمان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ منٹس میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 270 اے اے کے تحت 47 نکاتی مشترکہ قانون ساز فہرست کے خاتمے کے بعد اختیارات کی منتقلی کا عمل 30 جون 2011 تک مکمل ہونا ضروری تھا۔</p>
<p>دسمبر 2010 سے جون 2011 کے دوران جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے ذریعے 17 وزارتیں ختم یا صوبوں کو منتقل کی گئیں۔ تاہم، منٹس میں درج ہے کہ بعد ازاں کئی وزارتیں، ادارے اور امور نئی حیثیت یا نئے ناموں کے تحت برقرار رکھے گئے یا دوبارہ قائم کر دیے گئے۔</p>
<p>یہی وہ نامکمل کام ہے جو ہمارے مضمون ’’تقسیم سے پہلے اختیارات کی منتقلی‘‘ کی بنیاد ہے۔ پاکستان میں 12، 15 یا 33 صوبوں اور 160 بااختیار اضلاع پر بحث ہو رہی ہے، جبکہ آئین کے تحت پہلے ہی ازسرنو تقسیم کیے جا چکے اختیارات مختلف حکومتی سطحوں کے درمیان معلق ہیں۔ انتظامی حدود ازسرنو مقرر کرنے سے اس امر سے انکار کا ازالہ نہیں ہو سکتا کہ اختیارات کی موجودہ آئینی تقسیم پر عمل کیا جائے۔</p>
<p>ذیلی کمیٹی نے صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، آبی وسائل، خصوصی اقدامات، ثقافت و ورثہ اور انسداد منشیات کے شعبوں میں وفاقی امور کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں صوبائی دائرہ کار میں مداخلت قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے ریلوے، صنعتوں، شماریات، پٹرولیم، بین الصوبائی رابطے، منصوبہ بندی و ترقی اور بڑی بندرگاہوں کو بھی ایسے معاملات میں شمار کیا ہے جنہیں عام کابینہ کے انتظام کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ذریعے نمٹایا جانا چاہیے۔</p>
<p>اس تنازع کو چار آئینی دفعات منظم کرتی ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 142(ج) صوبائی اسمبلی کو وفاقی قانون ساز فہرست سے باہر کے معاملات پر خصوصی قانون سازی کا اختیار دیتا ہے۔ آرٹیکل 97 وفاقی انتظامی اختیار کو ان امور تک محدود کرتا ہے جن پر پارلیمان قانون سازی کر سکتی ہے اور اسے ایسے صوبے تک توسیع دینے سے روکتا ہے جہاں صوبائی اسمبلی کو بھی اختیار حاصل ہو۔</p>
<p>آرٹیکل 153 اور 154 وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ دوم سے متعلق پالیسی، نگرانی اور انتظامی اختیار مشترکہ مفادات کونسل کو دیتے ہیں۔ آئین کے اٹھارہویں ترمیمی ایکٹ 2010 کے تحت سی سی آئی کے مستقل سیکریٹریٹ اور کم از کم ہر 90 روز میں ایک اجلاس کا انعقاد بھی لازم قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>’’رابطہ کاری‘‘ ان آئینی حدود کو ختم نہیں کر سکتی۔ اسی طرح کوئی بین الاقوامی معاہدہ بھی ملکی سطح پر انتظامی اختیار کو بحال نہیں کر سکتا جو آئین نے کسی اور سطح کو تفویض کر رکھا ہو۔ وزارت خارجہ کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتی ہے، تاہم صوبے کے اندر اس پر عمل درآمد کے لیے قانون سازی اور انتظامی اختیارات کی آئینی تقسیم کی پابندی کرنا ہوگی۔</p>
<p>وفاق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، چھاؤنیوں اور وفاقی اداروں میں خدمات کا انتظام کر سکتا ہے۔ ان امور کی الگ سے نشاندہی اور لاگت کا تعین ہونا چاہیے۔ انہیں ملک بھر میں متوازی بیوروکریسیوں کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>تاہم، سینیٹر گھمرو کے وسیع تر مؤقف میں ایک قانونی وضاحت ضروری ہے۔ آئین مختلف شعبہ جات اور اختیارات تقسیم کرتا ہے، لیکن وفاقی وزارتوں کی تعداد کی کوئی عددی حد، مثلاً نو وزارتیں، مقرر نہیں کرتا۔ وفاقی قانون ساز فہرست کے حصہ اول میں متعدد اختیارات اور شعبہ جات شامل ہیں۔</p>
<p>کسی وزارت کا نام بذاتِ خود اس کے آئینی جواز کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ بیرونِ ملک طلبہ، وفاقی اداروں اور تحقیق سے متعلق وفاقی تعلیمی امور کی آئینی بنیاد ہو سکتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار کا تعین حصہ دوم میں آتا ہے، اس لیے اس پر سی سی آئی کا اختیار لاگو ہوتا ہے۔ درست پیمانہ نام نہیں بلکہ متعلقہ کام اور اختیار ہے۔ یہی پیمانہ اس معاملے سے چشم پوشی کی گنجائش مزید کم کر دیتا ہے۔</p>
<p>ہر ڈویژن، ذیلی ادارے، ریگولیٹر، گرانٹ اور ترقیاتی منصوبے کے لیے واضح کیا جانا چاہیے کہ اسے آئین کی کس متعلقہ شق، سی سی آئی کے کس فیصلے یا وفاقی علاقائی ذمہ داری کے تحت اختیار حاصل ہے۔ جس کام کی آئینی بنیاد موجود نہ ہو، اسے ختم کیا جانا چاہیے۔ جائز وفاقی امور کو الگ اور واضح طور پر مختص کیا جائے۔ حصہ دوم کے امور سی سی آئی کی مرتب کردہ اور باقاعدہ نگرانی میں پالیسی کے مطابق انجام دیے جائیں۔ جہاں قانونی بنیاد موجود نہ ہو، پارلیمان کو ایسے اخراجات کی منظوری نہیں دینی چاہیے۔</p>
<p>ذیلی کمیٹی نے وفاقی اخراجات تقریباً 19 کھرب روپے سے کم کرکے 13 کھرب روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ سینیٹر گھمرو کی جانب سے ہمارے ساتھ شیئر کیے گئے ایک اضافی نوٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ دفاع اور حصہ اول کی بنیادی وفاقی وزارتوں کے لیے تقریباً 3.3 کھرب روپے درکار ہیں۔ تاہم، ان اعداد کو فوری طور پر دستیاب بچت کے بجائے اخراجات کے جامع آڈٹ کے آغاز کا نقطۂ آغاز سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>18.771 کھرب روپے کے وفاقی اخراجات میں سود کی ادائیگی کے لیے 8.054 کھرب روپے، دفاعی خدمات کے لیے 3 کھرب روپے، پنشنز کے لیے 1.169 کھرب روپے، گرانٹس اور منتقلیوں کے لیے 2.680 کھرب روپے، سبسڈیز کے لیے 1.091 کھرب روپے اور وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 1 کھرب روپے شامل ہیں۔ متوازی ڈویژن ختم کرنے سے یہ مالی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو سکتیں۔</p>
<p>اس کے باوجود یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہر مد کا تفصیلی آڈٹ کیوں ناگزیر ہو چکا ہے۔ موجودہ اور ترقیاتی اخراجات میں وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کے لیے تقریباً 71.2 ارب روپے اور قومی صحت خدمات ڈویژن کے لیے 53.3 ارب روپے مختص ہیں۔</p>
<p>قومی غذائی تحفظ اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے لیے تقریباً 33.7 ارب روپے، آبی وسائل کے لیے 107.3 ارب روپے اور ریلوے کے لیے تقریباً 111.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر روپیہ وفاقی دائرہ اختیار سے باہر ہو، لیکن ہر روپے کی درجہ بندی ضروری ہے۔ آئینی اخراجات کا آڈٹ جائز وفاقی امور کو دوہرے انتظام، مشروط گرانٹس اور ان منصوبوں سے الگ کر سکتا ہے جو خدمات کی فراہمی کے ذمہ دار حکومتوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔</p>
<p>مشترکہ مفادات کونسل کو باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کا عملی مرکز بننا چاہیے۔ اس کا مستقل سیکریٹریٹ محض 118 ملین روپے کی علامتی طلب بن کر نہیں رہ سکتا جبکہ وزارتیں اور ڈویژن حصہ دوم کے امور کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ سیکریٹریٹ میں پیشہ ورانہ شعبے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ ڈیٹا اور اجلاسوں کے فیصلوں کی اشاعت کا نظام ہونا چاہیے۔ وزیراعظم کو مقررہ مدت کے مطابق کونسل کے اجلاس بلانے چاہئیں۔ کابینہ کو سی سی آئی کے معاملات پہلے طے کرکے بعد میں صوبوں سے منظوری حاصل کرنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔</p>
<p>سینیٹر گھمرو نے ہمارے ساتھ شیئر کیے گئے تبصروں میں ایک اور کمزوری کی نشاندہی کی ہے: بلدیاتی انتخابات بھی مرکزیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 140 اے(2) اور 219(د) واضح طور پر یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو سونپتے ہیں۔ یہ اختیار صوبوں کو منتقل کرنے کے لیے انتظامی حکم نہیں بلکہ آئینی ترمیم درکار ہوگی۔</p>
<p>اس مؤقف پر غور کیا جانا چاہیے۔ مرکزی کنٹرول بروقت بلدیاتی انتخابات کو یقینی نہیں بنا سکا۔ اسلام آباد کی بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوگئی تھی اور اس کے بعد قانونی اور حلقہ بندیوں میں بار بار کی تبدیلیوں نے نئے انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالی۔</p>
<p>صرف صوبائی کنٹرول بھی تحفظ کی ضمانت نہیں۔ صوبائی حکومتوں نے بھی بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی ہے اور جماعتی مفادات کے لیے نظام میں تبدیلیاں کی ہیں۔ کسی بھی آئینی ترمیم میں آزاد صوبائی الیکشن کمیشنز، محفوظ مدتِ عہدہ اور بلدیاتی کونسل کی مدت ختم ہونے سے پہلے خودکار انتخابی شیڈول کا انتظام ہونا چاہیے۔ بھارت میں نسبتاً قریب تر مثال موجود ہے جہاں ریاستی الیکشن کمیشن پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کراتے ہیں۔ انتخابات کرانے والے ادارے کو وفاقی اور صوبائی دونوں انتظامیہ سے آزاد رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>سینیٹر گھمرو کی دوسری تجویز یہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کے پاس اپنے ٹیکس ہونے چاہئیں۔ یہ ایک ناگزیر تقاضا ہے، تاہم اسے مالی خود انحصاری کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ پراپرٹی ٹیکس، زمین کی قدر پر عائد محصولات، صارفین سے وصول کیے جانے والے چارجز، پارکنگ فیس، لائسنس اور مقامی فیسیں جواب دہی کو فروغ دیتی ہیں کیونکہ شہری اپنی ادائیگی اور حاصل ہونے والی خدمات کا تقابل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>سندھ کی جانب سے شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس کی وصولی مقامی کونسلوں کو منتقل کرنا ایک مفید آغاز ہے۔ کونسلوں کو جائیدادوں کی مالیت برقرار رکھنے، وصولی یقینی بنانے، قانونی حدود کے اندر شرحیں مقرر کرنے اور قابلِ پیش گوئی آمدن اپنے پاس رکھنے کا اختیار بھی درکار ہے۔</p>
<p>آئین کا آرٹیکل 160 وفاقی ٹیکسوں کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم کرتا ہے، تاہم بلدیاتی حکومتوں کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں براہِ راست نمائندگی نہیں دیتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے اپنے مشترکہ فنڈز سے، بشمول این ایف سی ایوارڈ کے تحت حاصل ہونے والی آمدن، فارمولے کی بنیاد پر بلدیاتی حکومتوں کو رقوم منتقل نہیں کر سکتے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن (پی ایف سی) وفاقی ایوارڈ پر نظرثانی نہیں کرتا بلکہ آبادی، غربت، محصولات کی کوشش، خدمات کی لاگت اور ضرورت جیسے عوامل کی بنیاد پر صوبائی وسائل تقسیم کرتا ہے۔</p>
<p>بھارت اس امر کی مثال پیش کرتا ہے کہ اپنے محصولات اور منتقلیاں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ وہاں آئینی نظام مقامی ٹیکسوں کی اجازت دیتا ہے، ریاستی مالیاتی کمیشنوں کو مشترکہ ٹیکسوں اور گرانٹس کی سفارش کا اختیار دیتا ہے اور یونین فنانس کمیشن سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ریاستی فنڈز کے ذریعے مقامی وسائل میں اضافے کا انتظام کرے۔ غریب اضلاع محدود مقامی ٹیکسوں کی بنیاد پر یکساں معیار کے اسکول، پانی، صفائی اور ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کر سکتے۔ مقامی آمدن بڑھانے کی کوشش کے ساتھ قابلِ پیش گوئی مالی مساوات بھی ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کو اختیارات کی منتقلی کا ایک عوامی کھاتا مرتب کرنا چاہیے۔ کابینہ ڈویژن کو ہر وفاقی کام اور اس پر خرچ ہونے والے ہر روپے کو حصہ اول، حصہ دوم، کسی علاقائی ذمہ داری یا کسی دوسری واضح آئینی شق کے ساتھ منسلک کرنا چاہیے۔</p>
<p>حصہ دوم کے اداروں کے بارے میں سی سی آئی کو فیصلہ کرنا چاہیے۔ پارلیمان کو ایسی اسکیمیں ختم کر دینی چاہئیں جن کی آئینی بنیاد موجود نہ ہو اور خدمات میں تعطل پیدا کیے بغیر عملہ، اثاثے، واجبات اور ریکارڈ منتقل کیے جائیں۔ اس کے بعد صوبوں کو یہ سلسلہ مکمل کرتے ہوئے منتخب بلدیاتی کونسلوں کو واضح اختیارات، اپنے محصولات، فارمولے کے تحت منتقلیاں، شفاف بجٹ اور آزاد آڈٹ فراہم کرنا چاہیے۔</p>
<p>وفاقی مالیاتی خلا 7.020 کھرب روپے کا ہے اور اس کا الزام صرف اختیارات کی نامکمل منتقلی پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ تاہم یہ خلا اس بات کا تقاضا ضرور کرتا ہے کہ آئینی نظم و ضبط سے انحراف کو مزید برداشت نہ کیا جائے۔ اسلام آباد مزید ٹیکسوں کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بتانے سے گریز نہیں کر سکتا کہ ہر کام کا اختیار وفاق کے پاس کیوں ہونا چاہیے۔</p>
<p>وفاق اس وقت معتبر بنتا ہے جب اختیار، وسائل اور جواب دہی آئین کے مقرر کردہ درجے پر یکجا ہوں۔ پاکستان نے یہ اصول اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنایا تھا۔ سولہ برس بعد وقت آ گیا ہے کہ اس اصول کو محض آئینی عبارت نہیں بلکہ باقاعدہ مالیاتی حساب کتاب کی شکل بھی دی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291401</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2026 16:39:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/18162040b82c231.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/18162040b82c231.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈرل ریزرو کے لیے ایک اور مشکل صورتحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ کو میری ڈیڈ لائن کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ امریکا میں ہونے والے اہم معاشی اور مالیاتی اعلانات سے عین پہلے اپنا کالم فائل کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ ہر چھ ہفتے بعد ہونے والا فیڈرل ریزرو کا شرحِ سود سے متعلق فیصلہ، جو آج بھی ہونے والا ہے۔ یہ صورتحال خاصی مایوس کن ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب آپ عالمی بانڈ ییلڈز پر نظر رکھنے کے عادی ہوجائیں، تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی معاشی رجحانات کو سمجھ سکیں۔ خصوصاً مالیاتی نظام کی اس نچلی سطح پر کیا ہورہا ہے، جہاں پاکستان جیسی ابھرتی اور فرنٹیئر مارکیٹیں اکثر ان نتائج کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہوتی ہیں، جنہیں پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا کالم لکھے جانے کے وقت تک فیڈ نے اپنا فیصلہ سامنے نہیں رکھا تھا۔ مارکیٹ کو تقریباً مکمل یقین ہے کہ فیڈ شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرے گا، جو 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں بنیادی شرح کی حد 3.75 سے 4.00 فیصد ہوجائے گی۔ تاہم شاید زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ فیڈ کے چیئرمین کیون وارش آخر کس چیز کے خلاف پالیسی سخت کریں گے: مہنگائی، تیل کی قیمتیں، اب بھی تیزی سے چلنے والی معیشت، امریکا کی مالیاتی سمت پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا شکار بانڈ مارکیٹ یا پھر وہ صدر جس نے انہیں مقرر کیا ہے اور جو مسلسل اس کے بالکل برعکس مطالبہ کررہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیون وارش کے لیے فیصلہ کرنا کتنا آسان ہوتا اگر مہنگائی کے مسئلے میں یہ مخصوص کردار شامل نہ ہوتا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فیڈ شرحِ سود میں جارحانہ انداز میں کمی کرے اور وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا میں قرض لینے کی لاگت دنیا میں سب سے کم ہونی چاہیے لیکن ان کی انتظامیہ ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے جس نے توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، جبکہ مالیاتی پالیسی بھی بانڈ سرمایہ کاروں کو واشنگٹن کو قرض دینے کے لیے زیادہ معاوضے کا مطالبہ کرنے کی وجوہات فراہم کررہی ہے۔ اب ریپبلکنز کے کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صورت میں امریکی شہریوں کو 5 ہزار ڈالر کے چیک دینے کی غیر معمولی تجویز بھی سامنے آگئی ہے۔ اس منصوبے پر کم از کم 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آسکتی ہے اور اس کے لیے مالی وسائل کا کوئی واضح ذریعہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے فیڈ چیئرمین کے لیے، جو برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ زرِمبادلہ کی تخلیق نے وبا کے بعد مہنگائی میں اضافے کو جنم دینے میں کردار ادا کیا، وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر گفتگو یقیناً دلچسپ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری طور پر مارکیٹ میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آج متوقع شرحِ سود میں اضافہ صرف ایک مرتبہ ہوگا یا یہ ایک نئے سخت گیر مالیاتی دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ فیوچرز مارکیٹ آئندہ ایک سال کے دوران مزید اضافوں کی توقع ظاہر کررہی ہے، جس کے نتیجے میں پالیسی ریٹ تقریباً 4.6 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ٹریژری مارکیٹ کے طویل مدتی حصے نے پہلے ہی اپنی جانب سے خاصی سختی کرلی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ میں تقریباً 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوچکا ہے، حالانکہ امریکا کے مرکزی بینک (فیڈ)نے ابھی اس سائیکل کا آغاز بھی نہیں کیا جس کی اب مارکیٹ توقع کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بھی کچھ پریشان کن امکانات سامنے رکھتی ہے۔ ڈوئچے بینک کی جانب سے امریکا میں شرحِ سود میں اضافے کے گزشتہ 12 باقاعدہ ادوار کے جائزے کے مطابق پہلے اضافے کے بعد ایک سال کے دوران 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ میں اوسطاً تقریباً 114 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ 1986-87 سے اب تک کے سات ادوار پر مشتمل ایک اور مطالعہ بھی تقریباً یہی نتیجہ پیش کرتا ہے۔ مگر موجودہ سائیکل کا آغاز اس وقت ہورہا ہے جب 10 سالہ ییلڈ پہلے ہی تقریباً 5 فیصد ہے، جبکہ افراطِ زر کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد ٹریژری ییلڈز 2008 کے بعد بلند ترین سطح پر ہیں۔ یہ صورتحال بالآخر اتنے خریداروں کو متوجہ کرسکتی ہے کہ ییلڈز میں مزید اضافے کو محدود کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو کیا ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض اور مالیاتی خسارے ختم نہیں ہوئے، نہ ہی مصنوعی ذہانت  میں سرمایہ کاری کے عروج سے پیدا ہونے والی غیر معمولی سرمائے کی طلب ختم ہوئی ہے۔ توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والی مہنگائی بھی پوری شدت کے ساتھ واپس آچکی ہے، جبکہ پالیسی کی ساکھ سے متعلق سوالات کو بانڈ مارکیٹ کی جانب سے واشنگٹن کے بارے میں قائم کیے جانے والے تاثر سے الگ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ کا 6 فیصد تک پہنچنا اب بھی انتہائی غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن کچھ عرصہ پہلے تک 5 فیصد بھی خاصا غیر معمولی محسوس ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ ٹریژری ییلڈ محض امریکا تک محدود کوئی معاملہ نہیں۔ دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کے رہن، کارپوریٹ بانڈز اور قرضوں کی قیمتوں کا تعین اسی کو بنیادی پیمانے کے طور پر سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ جب یہ ییلڈ بڑھتی ہے تو عالمی سطح پر سرمائے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ حصص کو تیزی سے پرکشش ہوتے سرکاری بانڈز کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے، کمپنیاں زیادہ شرحِ سود پر اپنے قرضوں کی تجدید کرتی ہیں، ڈالر مزید مہنگا ہوجاتا اور کمزور مالیاتی بنیاد رکھنے والی معیشتوں کے لیے سرمایہ پہلے سے زیادہ سخت شرائط کے ساتھ دستیاب ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اور یوں یہ معاملہ بالآخر پاکستان تک پہنچتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس فیڈرل ریزرو کے فیصلوں میں کوئی ووٹ نہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز پر اس کا کوئی اختیار ہے، لیکن وہ دونوں عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر تیل کی قیمت درآمدی بل، روپے اور ملکی مہنگائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، ایسے وقت میں جب قیمتوں پر دباؤ پہلے ہی دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ امریکی ییلڈز میں اضافہ ابھرتی اور فرنٹیئر مارکیٹوں کے لیے سرمائے کی لاگت کی حد بلند کردیتا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی حالات میں سختی بیرونی قرضوں کی ری فنانسنگ کو مزید مہنگا بنا سکتی ہے، عین اس وقت جب کمزور معیشتوں کو مزید دباؤ کے بجائے کچھ گنجائش درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کا فیڈرل ریزرو کا فیصلہ واشنگٹن میں شرحِ سود میں مزید 25 بیسس پوائنٹس کی ایک اور تبدیلی سے کہیں بڑھ کر اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اگر کیون وارش شرحِ سود بڑھاتے ہیں تو مارکیٹ فوری طور پر یہ سوال کرے گی کہ اس کے بعد مزید کتنے اضافے ہوں گے۔ اگر وہ شرحِ سود برقرار رکھتے ہیں تو یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ آیا سیاسی دباؤ نے فیڈ کے مہنگائی سے نمٹنے کے ردِعمل کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ دونوں صورتوں میں بانڈ مارکیٹ اپنا فیصلہ خود سنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک یہ کالم شائع ہوگا، ہمیں معلوم ہوچکا ہوگا کہ کیون وارش نے کیا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن شاید زیادہ دلچسپ سوال یہ ہوگا کہ کیا وائٹ ہاؤس اس فیصلے سے خوش ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ کو میری ڈیڈ لائن کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ہمیشہ امریکا میں ہونے والے اہم معاشی اور مالیاتی اعلانات سے عین پہلے اپنا کالم فائل کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ ہر چھ ہفتے بعد ہونے والا فیڈرل ریزرو کا شرحِ سود سے متعلق فیصلہ، جو آج بھی ہونے والا ہے۔ یہ صورتحال خاصی مایوس کن ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب آپ عالمی بانڈ ییلڈز پر نظر رکھنے کے عادی ہوجائیں، تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی معاشی رجحانات کو سمجھ سکیں۔ خصوصاً مالیاتی نظام کی اس نچلی سطح پر کیا ہورہا ہے، جہاں پاکستان جیسی ابھرتی اور فرنٹیئر مارکیٹیں اکثر ان نتائج کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہوتی ہیں، جنہیں پیدا کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔</strong></p>
<p>لہٰذا کالم لکھے جانے کے وقت تک فیڈ نے اپنا فیصلہ سامنے نہیں رکھا تھا۔ مارکیٹ کو تقریباً مکمل یقین ہے کہ فیڈ شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرے گا، جو 2023 کے بعد پہلی مرتبہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں بنیادی شرح کی حد 3.75 سے 4.00 فیصد ہوجائے گی۔ تاہم شاید زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ فیڈ کے چیئرمین کیون وارش آخر کس چیز کے خلاف پالیسی سخت کریں گے: مہنگائی، تیل کی قیمتیں، اب بھی تیزی سے چلنے والی معیشت، امریکا کی مالیاتی سمت پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا شکار بانڈ مارکیٹ یا پھر وہ صدر جس نے انہیں مقرر کیا ہے اور جو مسلسل اس کے بالکل برعکس مطالبہ کررہے ہیں؟</p>
<p>کیون وارش کے لیے فیصلہ کرنا کتنا آسان ہوتا اگر مہنگائی کے مسئلے میں یہ مخصوص کردار شامل نہ ہوتا؟</p>
<p>یہ تضاد اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فیڈ شرحِ سود میں جارحانہ انداز میں کمی کرے اور وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا میں قرض لینے کی لاگت دنیا میں سب سے کم ہونی چاہیے لیکن ان کی انتظامیہ ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے جس نے توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے، جبکہ مالیاتی پالیسی بھی بانڈ سرمایہ کاروں کو واشنگٹن کو قرض دینے کے لیے زیادہ معاوضے کا مطالبہ کرنے کی وجوہات فراہم کررہی ہے۔ اب ریپبلکنز کے کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صورت میں امریکی شہریوں کو 5 ہزار ڈالر کے چیک دینے کی غیر معمولی تجویز بھی سامنے آگئی ہے۔ اس منصوبے پر کم از کم 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آسکتی ہے اور اس کے لیے مالی وسائل کا کوئی واضح ذریعہ موجود نہیں۔</p>
<p>ایسے فیڈ چیئرمین کے لیے، جو برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ زرِمبادلہ کی تخلیق نے وبا کے بعد مہنگائی میں اضافے کو جنم دینے میں کردار ادا کیا، وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر گفتگو یقیناً دلچسپ ہوگی۔</p>
<p>فوری طور پر مارکیٹ میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آج متوقع شرحِ سود میں اضافہ صرف ایک مرتبہ ہوگا یا یہ ایک نئے سخت گیر مالیاتی دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ فیوچرز مارکیٹ آئندہ ایک سال کے دوران مزید اضافوں کی توقع ظاہر کررہی ہے، جس کے نتیجے میں پالیسی ریٹ تقریباً 4.6 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ٹریژری مارکیٹ کے طویل مدتی حصے نے پہلے ہی اپنی جانب سے خاصی سختی کرلی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ میں تقریباً 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوچکا ہے، حالانکہ امریکا کے مرکزی بینک (فیڈ)نے ابھی اس سائیکل کا آغاز بھی نہیں کیا جس کی اب مارکیٹ توقع کررہی ہے۔</p>
<p>تاریخ بھی کچھ پریشان کن امکانات سامنے رکھتی ہے۔ ڈوئچے بینک کی جانب سے امریکا میں شرحِ سود میں اضافے کے گزشتہ 12 باقاعدہ ادوار کے جائزے کے مطابق پہلے اضافے کے بعد ایک سال کے دوران 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ میں اوسطاً تقریباً 114 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ 1986-87 سے اب تک کے سات ادوار پر مشتمل ایک اور مطالعہ بھی تقریباً یہی نتیجہ پیش کرتا ہے۔ مگر موجودہ سائیکل کا آغاز اس وقت ہورہا ہے جب 10 سالہ ییلڈ پہلے ہی تقریباً 5 فیصد ہے، جبکہ افراطِ زر کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد ٹریژری ییلڈز 2008 کے بعد بلند ترین سطح پر ہیں۔ یہ صورتحال بالآخر اتنے خریداروں کو متوجہ کرسکتی ہے کہ ییلڈز میں مزید اضافے کو محدود کیا جاسکے۔</p>
<p><strong>لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو کیا ہوگا؟</strong></p>
<p>قرض اور مالیاتی خسارے ختم نہیں ہوئے، نہ ہی مصنوعی ذہانت  میں سرمایہ کاری کے عروج سے پیدا ہونے والی غیر معمولی سرمائے کی طلب ختم ہوئی ہے۔ توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والی مہنگائی بھی پوری شدت کے ساتھ واپس آچکی ہے، جبکہ پالیسی کی ساکھ سے متعلق سوالات کو بانڈ مارکیٹ کی جانب سے واشنگٹن کے بارے میں قائم کیے جانے والے تاثر سے الگ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ کا 6 فیصد تک پہنچنا اب بھی انتہائی غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن کچھ عرصہ پہلے تک 5 فیصد بھی خاصا غیر معمولی محسوس ہوتا تھا۔</p>
<p>یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ ٹریژری ییلڈ محض امریکا تک محدود کوئی معاملہ نہیں۔ دنیا بھر میں کھربوں ڈالر کے رہن، کارپوریٹ بانڈز اور قرضوں کی قیمتوں کا تعین اسی کو بنیادی پیمانے کے طور پر سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ جب یہ ییلڈ بڑھتی ہے تو عالمی سطح پر سرمائے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ حصص کو تیزی سے پرکشش ہوتے سرکاری بانڈز کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے، کمپنیاں زیادہ شرحِ سود پر اپنے قرضوں کی تجدید کرتی ہیں، ڈالر مزید مہنگا ہوجاتا اور کمزور مالیاتی بنیاد رکھنے والی معیشتوں کے لیے سرمایہ پہلے سے زیادہ سخت شرائط کے ساتھ دستیاب ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>اور یوں یہ معاملہ بالآخر پاکستان تک پہنچتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے پاس فیڈرل ریزرو کے فیصلوں میں کوئی ووٹ نہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز پر اس کا کوئی اختیار ہے، لیکن وہ دونوں عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر تیل کی قیمت درآمدی بل، روپے اور ملکی مہنگائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، ایسے وقت میں جب قیمتوں پر دباؤ پہلے ہی دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ امریکی ییلڈز میں اضافہ ابھرتی اور فرنٹیئر مارکیٹوں کے لیے سرمائے کی لاگت کی حد بلند کردیتا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی حالات میں سختی بیرونی قرضوں کی ری فنانسنگ کو مزید مہنگا بنا سکتی ہے، عین اس وقت جب کمزور معیشتوں کو مزید دباؤ کے بجائے کچھ گنجائش درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کا فیڈرل ریزرو کا فیصلہ واشنگٹن میں شرحِ سود میں مزید 25 بیسس پوائنٹس کی ایک اور تبدیلی سے کہیں بڑھ کر اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ اگر کیون وارش شرحِ سود بڑھاتے ہیں تو مارکیٹ فوری طور پر یہ سوال کرے گی کہ اس کے بعد مزید کتنے اضافے ہوں گے۔ اگر وہ شرحِ سود برقرار رکھتے ہیں تو یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ آیا سیاسی دباؤ نے فیڈ کے مہنگائی سے نمٹنے کے ردِعمل کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ دونوں صورتوں میں بانڈ مارکیٹ اپنا فیصلہ خود سنائے گی۔</p>
<p>جب تک یہ کالم شائع ہوگا، ہمیں معلوم ہوچکا ہوگا کہ کیون وارش نے کیا فیصلہ کیا۔</p>
<p>لیکن شاید زیادہ دلچسپ سوال یہ ہوگا کہ کیا وائٹ ہاؤس اس فیصلے سے خوش ہے؟</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291350</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Sep 2026 14:17:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/171345418904aea.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/171345418904aea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صوبوں کی تشکیل نو پر ہنگامہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291355/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک اقتصادی کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر کے اس بیان نے کہ ’’نظام بیٹھ چکا ہے‘‘، ایک ایسے بارودی مواد میں آگ لگا دی جو طویل عرصے سے خاموشی اور سکون کے ساتھ غیر فعال پڑا تھا۔ پاکستان میں ریاستوں اور صوبوں کی آخری بار تنظیمِ نو 1969 اور 1970 کے درمیان ہوئی تھی۔ تب سے اس نوعیت کے کئی مطالبات سامنے آئے، لیکن انہیں مسترد کر دیا گیا اور ایسے مطالبات کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا گیا۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ مزید تقسیم سے وفاق کمزور پڑ سکتا ہے—ایک ایسی احمقانہ سوچ جو بدقسمتی سے پالیسی سازی میں رہنما اصول بنی رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان سے پیدا ہونے والا ہنگامہ اور شور و غل ایک طرف ’’معقول دلائل‘‘ اور دوسری طرف پاکستان کا نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کے تصور کی شدید ’’جذباتی مگر غیر منطقی‘‘ مخالفت کے درمیان جھولتا رہا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے سامنے یہ مثال موجود ہے کہ بھارت نے اسی طرح کے مسئلے سے کیسے نمٹا۔ اس نے اپنے ملک کو تقسیم کرنے میں اس خوف یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اس سے ’’بھارتی وفاق‘‘ خطرے میں پڑ جائے گا یا، اس سے بھی بدتر، ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہرو نئی ریاستوں اور صوبوں کے قیام کے معاملے میں آگے بڑھنے کے لیے پُراعتماد تھے۔ 1947 میں تقسیمِ ہند اور پاکستان و بھارت کے قیام کے وقت بھارت میں صرف 9 صوبے اور 560 سے کچھ زائد نوابی ریاستیں تھیں، جن پر مہاراجے اور راجے حکمرانی کرتے تھے۔ یہ نوابی ریاستیں خودمختار اور آزاد تھیں۔ بھارت کے پہلے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے ان ریاستوں کو بھارت میں ضم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1947 اور 1950 کے درمیان نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کس ڈومینین، یعنی پاکستان یا بھارت، میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ حیدرآباد، جو اس وقت رقبے کے لحاظ سے موجودہ فرانس جتنا بڑا تھا، نے آزاد رہنے کی کوشش کی؛ کشمیر اور جوناگڑھ نے بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، چالاک پٹیل نے جارحانہ مذاکرات یا بندوق کے زور پر انہیں بھارت کا حصہ بنا لیا۔ قائداعظم کی وفات کے صرف 17 دن بعد حیدرآباد کا الحاق کر لیا گیا، جبکہ کشمیر آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں ریاستوں کی پہلی تنظیمِ نو پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جس کے تحت 14 ریاستیں اور 6 وفاقی زیرِ انتظام علاقے قائم کیے گئے، جن کا انتظام براہِ راست نئی دہلی کے پاس تھا۔ آج بھارت 28 ریاستوں اور 8 وفاقی زیرِ انتظام علاقوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ ابتدائی تقسیم لسانی بنیادوں پر کی گئی تھی، تاہم بعد میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں نسلی بنیادوں پر عمل میں آئیں۔ بہتر یہی ہوتا کہ دونوں بنیادوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1953 میں جنوبی بھارت میں مدراس ریاست سے الگ کر کے آندھرا پردیش تشکیل دیا گیا؛ مدراس میں تامل بولی جاتی تھی جبکہ آندھرا پردیش میں تیلگو۔ بعد ازاں ہندی بولنے والی آبادی کے لیے پنجاب سے الگ کر کے ہریانہ بنایا گیا، جبکہ پنجاب کو پنجابی بولنے والوں کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ 1970 کی دہائی میں شمال مشرقی بھارت میں 7 ریاستیں قائم کی گئیں۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار سے 3 نئی ریاستیں الگ کر کے بنائی گئیں۔ 2014 میں تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا اور حیدرآباد اگلے 10 برس تک دونوں کے لیے مشترکہ دارالحکومت رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح مطالعے کے لیے ایک واضح نمونہ موجود ہے۔ 1947 میں پاکستان 5 صوبوں اور 13 نوابی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ 1955 میں وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے، جس کی منظوری گورنر جنرل اسکندر مرزا نے دی تھی، مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ضم کر کے ’’ون یونٹ‘‘ اسکیم نافذ کر دی۔ ملک کے دو حصے تھے: مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ یہ انتظام 1970 تک برقرار رہا، جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970 کو قانونی فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے تحت صوبوں کی حیثیت بحال کر دی۔ اس فیصلے نے 1970 کے انتخابات کی راہ ہموار کی، اور 1971 میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ تب سے ہم نے صوبائی تنظیمِ نو کے معاملے پر دوبارہ غور نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے اور یہ انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ جہاں علاقائی سطح پر شرحِ پیدائش کم ہو کر ایک فیصد یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے، وہیں ہم اب بھی 1.6 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ اپنی آبادی بڑھانے کی صلاحیت کا فخریہ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جرمنی، آسٹریا، فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ کی مجموعی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہونے کے پیشِ نظر عام شہریوں کی ضروریات مؤثر انداز میں پوری کرنے کے لیے مزید صوبوں کے قیام پر غور کرنا کوئی باغیانہ سوچ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطالبہ کوئی سیاسی گستاخی نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور معاشی ضرورت ہے۔ عمومی تصور یہ ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر نمائندگی فراہم کریں گی۔ حال ہی میں ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے ہمیں ’’نمائندگی کے ذریعے ٹیکس‘‘ کے تصور کی وضاحت کی، اور یہ خیال معقول معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے صوبوں کے قیام کی حمایت اور مخالفت میں برپا ہنگامہ خیزی اور جوش و خروش کسی بھی طرح جمہوری رویے کے منافی نہیں؛ کیونکہ جمہوری عمل کا تقاضا ہے کہ اس طرح کی خواہش کو آگے بڑھانے کے فوائد اور نقصانات کا مناسب جائزہ لیا جائے۔ انتہائی متضاد موقف رکھنے کے باوجود تمام جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے کسی درمیانی راستے پر پہنچنا ہوگا۔ تاہم یہ مذاکرات اور بحث و مباحثہ پارلیمان کے ایوان میں ہی ہونا چاہیے، خواہ اس وقت پارلیمان کی نمائندگی کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو، تاکہ سب کی آواز سنی جا سکے۔ کسی ایک جماعت یا دو جماعتوں کو پارلیمانی عددی برتری کی بنیاد پر حاصل ویٹو کا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے، ورنہ یہ بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قوم کو بے عملی کے اس جابرانہ جمود سے باہر نکلنا ہوگا۔ موجودہ صورتِ حال کے خول کو اب ٹوٹنا چاہیے تاکہ ایسے متبادل راستے جنم لے سکیں جو موجودہ حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔ تبدیلی ناگزیر ہے، لیکن یہاں تبدیلی لانے کے لیے فیصلہ کن سوچ درکار ہے۔ فی الحال مختلف وفاقی وزرا کی جانب سے اس معاملے پر متضاد اشاروں نے مزید ابہام پیدا کر دیا ہے؛ ایک وزیر کا کہنا ہے کہ 15 یا اس سے زائد صوبوں کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے کا دعویٰ ہے کہ یہ قبل از وقت خیال ہے اور اس پر بات چیت بھی ایجنڈے میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں کی ازسرنو تشکیل کے اس تصور کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ڈھونگ ہے—ملک کو درپیش مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک دھوکا۔ موجودہ صورتِ حال برقرار رہنے سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اختیارات عوام کو منتقل کرنے سے سرکاری عہدے داروں کی زیادہ کڑی نگرانی ہوتی ہے اور نتیجتاً ان کے اقدامات کے لیے جواب دہی بھی بڑھتی ہے۔ جو لوگ احتساب کو ناپسند کرتے اور اس سے سختی سے گریز کرتے ہیں، وہ ظاہر ہے اسی خرابی کو برقرار رکھنے کے حق میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کا قیام خود بخود بہتر طرزِ حکمرانی کا باعث بنے گا؟ اس تحریر کے مصنف کے نزدیک جواب نفی میں ہے۔ جب تک ایسے ڈھانچے موجود نہ ہوں جو اختیار اور ذمہ داری میں توازن قائم کریں، بہتر طرزِ حکمرانی ممکن نہیں ہوگی۔ جواب دہی کے کلچر کی عدم موجودگی میں یہ اقدام درحقیقت مزید سنگین بدعنوانی، بے لگام اقربا پروری اور کھلی جانبداری کو جنم دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، اس تصور کے مخالفین طنز اور طعنے کے ذریعے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر صرف چار یا پانچ صوبوں کے ساتھ ہی ہم بدعنوانی کے اشاریے میں بہت بلند درجے پر ہیں تو مزید صوبے بننے سے نقصان اور بھی زیادہ نہیں ہوگا؟ ایسا ردعمل واضح طور پر توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان متنوع آرا سے قطع نظر، بااختیار انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ تاہم، ان کا قیام محض من مانی سوچ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برصغیر کی تقسیم کے لیے نقشے مرتب کرتے وقت سر سیرل ریڈکلف، جو نہ ماہر نقشہ نویس تھے اور نہ ہی جغرافیہ و تاریخ پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی، نے ابتدائی نقشہ بندی میں لاہور بھارت کو اور امرتسر پاکستان کو دے دیا۔ شدید احتجاج کے بعد انہوں نے دونوں شہروں کا فیصلہ تبدیل کر دیا۔ انہیں یہ حساس جغرافیائی تقسیم اس لیے سونپی گئی تھی کہ برصغیر کے بارے میں ان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور اس بنا پر خیال کیا گیا کہ وہ غیر جانب دار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تربیت اور پیشے کے اعتبار سے قانون دان ہونے کے باعث یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ اپنے پیچھے جغرافیائی تقسیم کے ایسے زخم چھوڑ گئے جن کے نشان آج تک موجود ہیں۔ معروف صحافی کلدیپ نائر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا: ’’میں تقریباً لاہور آپ کو دے ہی چکا تھا، لیکن چونکہ کلکتہ بھارت کے لیے مختص کیا گیا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ پاکستان کے پاس کم از کم ایک بڑا شہر تو ہونا چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس معاملے کے لیے کسی دوسرے ریڈکلف کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس پورے تصور کا باریک بینی سے مکمل جائزہ لینا ہوگا؛ اگر اس میں وقت لگتا ہے تو لگنے دیں۔ مثال کے طور پر چین نے 1982 یا 1983 میں ہانگ کانگ کو یکم جولائی 1997 کو 14 سے 15 برس کے وقفے کے بعد دوبارہ سرزمینِ چین میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔ ہمیں بھی یہ کام پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کرنا چاہیے اور خود کو کسی عجلت پسندانہ مدت کی پابندی میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہ عمل عوام کی مرضی کا عکاس ہونا چاہیے، محض ایک ’’نوٹیفکیشن‘‘ کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ ون یونٹ بھی ایک قلم کی جنبش سے قائم ہوا تھا اور اسی طرح ختم بھی کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے تھنک ٹینکس کو صوبوں کی ازسرنو تشکیل کا خاکہ تیار کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان سنجیدہ غوروفکر ضروری ہے۔ جیسا کہ کہا گیا، ضرورت ناگزیر ہے؛ کتنے صوبے درکار ہیں اور انہیں کب تشکیل دیا جائے، اس کا فیصلہ ہماری بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ملک کے جغرافیائی ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ملک کے مالیاتی دارالحکومت کا معاملہ بھی بحث کے ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتا ہے—اور بجا طور پر۔ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز اور مالیاتی دارالحکومت ہونے کے باعث کراچی شہر عدم توجہی، بدانتظامی اور غفلت کے سبب اپنی گنجائش کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے، اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ دانستہ طور پر کیا جا رہا ہو۔ متنازع مردم شماری کے نتائج کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی شہر کو اس کی حدودِ برداشت تک پہنچا رہی ہے۔ آج اس عالمی نوعیت کے وسیع و عریض شہر کا حجم اور پھیلاؤ مقامی سطح پر خود حکمرانی کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر چین کے پاس شنگھائی اور بھارت کے پاس ممبئی ہو سکتا ہے تو مقامی لوگوں کو انتظامی اختیار دینے میں ہمیں کیوں ہچکچانا چاہیے؟ بالآخر یہ ہونا ہی ہے، لیکن فی الحال ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے لیے اعلیٰ ترین نظم و ضبط کے مضبوط اصول موجود ہوں۔ چینیوں اور بھارتیوں نے جرات مندانہ اقدامات کیے اور متعدد نئے صوبے قائم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس چیز کی ہمارے ہاں شدید کمی ہے وہ ایک متعین نظام کے اندر قواعد و ضوابط کی پابندی کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ ہر شہری کو خود احتسابی کی اہمیت سمجھنا ہوگی۔ یہی طرزِ فکر مختلف متبادل راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے، فیصلوں کے نتائج کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کا بے خوفی سے اعتراف کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ قواعد کی پابندی نہ کرنے کا اعتراف ہی ریاستی امور چلانے میں بہترین طور طریقوں کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں وہی سیاست دان یاد رہتے ہیں جو اینٹوں کی میراث پاتے ہیں مگر پیچھے سنگِ مرمر چھوڑ جاتے ہیں۔ کراچی کبھی جنوبی ایشیا کا پیرس کہلاتا تھا، مگر عدم توجہی نے اسے برباد کرکے ایک کھنڈر بنا دیا ہے۔ آئیے ردعمل کا مظاہرہ کریں اور کراچی اور پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس حاصل کریں۔ آئیے اس بحث کو دو گنجے آدمیوں کے درمیان کنگھی کے لیے مقابلے تک محدود نہ کریں۔ آئیے اتنی کم بصیرت کے ساتھ حکمرانی کا سلسلہ جاری نہ رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک اقتصادی کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر کے اس بیان نے کہ ’’نظام بیٹھ چکا ہے‘‘، ایک ایسے بارودی مواد میں آگ لگا دی جو طویل عرصے سے خاموشی اور سکون کے ساتھ غیر فعال پڑا تھا۔ پاکستان میں ریاستوں اور صوبوں کی آخری بار تنظیمِ نو 1969 اور 1970 کے درمیان ہوئی تھی۔ تب سے اس نوعیت کے کئی مطالبات سامنے آئے، لیکن انہیں مسترد کر دیا گیا اور ایسے مطالبات کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا گیا۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ مزید تقسیم سے وفاق کمزور پڑ سکتا ہے—ایک ایسی احمقانہ سوچ جو بدقسمتی سے پالیسی سازی میں رہنما اصول بنی رہی۔</strong></p>
<p>اس بیان سے پیدا ہونے والا ہنگامہ اور شور و غل ایک طرف ’’معقول دلائل‘‘ اور دوسری طرف پاکستان کا نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کے تصور کی شدید ’’جذباتی مگر غیر منطقی‘‘ مخالفت کے درمیان جھولتا رہا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے سامنے یہ مثال موجود ہے کہ بھارت نے اسی طرح کے مسئلے سے کیسے نمٹا۔ اس نے اپنے ملک کو تقسیم کرنے میں اس خوف یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اس سے ’’بھارتی وفاق‘‘ خطرے میں پڑ جائے گا یا، اس سے بھی بدتر، ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر جائے گا۔</p>
<p>نہرو نئی ریاستوں اور صوبوں کے قیام کے معاملے میں آگے بڑھنے کے لیے پُراعتماد تھے۔ 1947 میں تقسیمِ ہند اور پاکستان و بھارت کے قیام کے وقت بھارت میں صرف 9 صوبے اور 560 سے کچھ زائد نوابی ریاستیں تھیں، جن پر مہاراجے اور راجے حکمرانی کرتے تھے۔ یہ نوابی ریاستیں خودمختار اور آزاد تھیں۔ بھارت کے پہلے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے ان ریاستوں کو بھارت میں ضم کیا۔</p>
<p>1947 اور 1950 کے درمیان نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کس ڈومینین، یعنی پاکستان یا بھارت، میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ حیدرآباد، جو اس وقت رقبے کے لحاظ سے موجودہ فرانس جتنا بڑا تھا، نے آزاد رہنے کی کوشش کی؛ کشمیر اور جوناگڑھ نے بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، چالاک پٹیل نے جارحانہ مذاکرات یا بندوق کے زور پر انہیں بھارت کا حصہ بنا لیا۔ قائداعظم کی وفات کے صرف 17 دن بعد حیدرآباد کا الحاق کر لیا گیا، جبکہ کشمیر آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
<p>بھارت میں ریاستوں کی پہلی تنظیمِ نو پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جس کے تحت 14 ریاستیں اور 6 وفاقی زیرِ انتظام علاقے قائم کیے گئے، جن کا انتظام براہِ راست نئی دہلی کے پاس تھا۔ آج بھارت 28 ریاستوں اور 8 وفاقی زیرِ انتظام علاقوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ ابتدائی تقسیم لسانی بنیادوں پر کی گئی تھی، تاہم بعد میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں نسلی بنیادوں پر عمل میں آئیں۔ بہتر یہی ہوتا کہ دونوں بنیادوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا۔</p>
<p>1953 میں جنوبی بھارت میں مدراس ریاست سے الگ کر کے آندھرا پردیش تشکیل دیا گیا؛ مدراس میں تامل بولی جاتی تھی جبکہ آندھرا پردیش میں تیلگو۔ بعد ازاں ہندی بولنے والی آبادی کے لیے پنجاب سے الگ کر کے ہریانہ بنایا گیا، جبکہ پنجاب کو پنجابی بولنے والوں کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ 1970 کی دہائی میں شمال مشرقی بھارت میں 7 ریاستیں قائم کی گئیں۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار سے 3 نئی ریاستیں الگ کر کے بنائی گئیں۔ 2014 میں تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا اور حیدرآباد اگلے 10 برس تک دونوں کے لیے مشترکہ دارالحکومت رہا۔</p>
<p>اس طرح مطالعے کے لیے ایک واضح نمونہ موجود ہے۔ 1947 میں پاکستان 5 صوبوں اور 13 نوابی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ 1955 میں وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے، جس کی منظوری گورنر جنرل اسکندر مرزا نے دی تھی، مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ضم کر کے ’’ون یونٹ‘‘ اسکیم نافذ کر دی۔ ملک کے دو حصے تھے: مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ یہ انتظام 1970 تک برقرار رہا، جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970 کو قانونی فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے تحت صوبوں کی حیثیت بحال کر دی۔ اس فیصلے نے 1970 کے انتخابات کی راہ ہموار کی، اور 1971 میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ تب سے ہم نے صوبائی تنظیمِ نو کے معاملے پر دوبارہ غور نہیں کیا۔</p>
<p>آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے اور یہ انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ جہاں علاقائی سطح پر شرحِ پیدائش کم ہو کر ایک فیصد یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے، وہیں ہم اب بھی 1.6 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ اپنی آبادی بڑھانے کی صلاحیت کا فخریہ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جرمنی، آسٹریا، فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ کی مجموعی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہونے کے پیشِ نظر عام شہریوں کی ضروریات مؤثر انداز میں پوری کرنے کے لیے مزید صوبوں کے قیام پر غور کرنا کوئی باغیانہ سوچ نہیں۔</p>
<p>یہ مطالبہ کوئی سیاسی گستاخی نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور معاشی ضرورت ہے۔ عمومی تصور یہ ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر نمائندگی فراہم کریں گی۔ حال ہی میں ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے ہمیں ’’نمائندگی کے ذریعے ٹیکس‘‘ کے تصور کی وضاحت کی، اور یہ خیال معقول معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>نئے صوبوں کے قیام کی حمایت اور مخالفت میں برپا ہنگامہ خیزی اور جوش و خروش کسی بھی طرح جمہوری رویے کے منافی نہیں؛ کیونکہ جمہوری عمل کا تقاضا ہے کہ اس طرح کی خواہش کو آگے بڑھانے کے فوائد اور نقصانات کا مناسب جائزہ لیا جائے۔ انتہائی متضاد موقف رکھنے کے باوجود تمام جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے کسی درمیانی راستے پر پہنچنا ہوگا۔ تاہم یہ مذاکرات اور بحث و مباحثہ پارلیمان کے ایوان میں ہی ہونا چاہیے، خواہ اس وقت پارلیمان کی نمائندگی کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو، تاکہ سب کی آواز سنی جا سکے۔ کسی ایک جماعت یا دو جماعتوں کو پارلیمانی عددی برتری کی بنیاد پر حاصل ویٹو کا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے، ورنہ یہ بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔</p>
<p>قوم کو بے عملی کے اس جابرانہ جمود سے باہر نکلنا ہوگا۔ موجودہ صورتِ حال کے خول کو اب ٹوٹنا چاہیے تاکہ ایسے متبادل راستے جنم لے سکیں جو موجودہ حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔ تبدیلی ناگزیر ہے، لیکن یہاں تبدیلی لانے کے لیے فیصلہ کن سوچ درکار ہے۔ فی الحال مختلف وفاقی وزرا کی جانب سے اس معاملے پر متضاد اشاروں نے مزید ابہام پیدا کر دیا ہے؛ ایک وزیر کا کہنا ہے کہ 15 یا اس سے زائد صوبوں کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے کا دعویٰ ہے کہ یہ قبل از وقت خیال ہے اور اس پر بات چیت بھی ایجنڈے میں شامل نہیں۔</p>
<p>صوبوں کی ازسرنو تشکیل کے اس تصور کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ڈھونگ ہے—ملک کو درپیش مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک دھوکا۔ موجودہ صورتِ حال برقرار رہنے سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اختیارات عوام کو منتقل کرنے سے سرکاری عہدے داروں کی زیادہ کڑی نگرانی ہوتی ہے اور نتیجتاً ان کے اقدامات کے لیے جواب دہی بھی بڑھتی ہے۔ جو لوگ احتساب کو ناپسند کرتے اور اس سے سختی سے گریز کرتے ہیں، وہ ظاہر ہے اسی خرابی کو برقرار رکھنے کے حق میں ہوں گے۔</p>
<p>تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کا قیام خود بخود بہتر طرزِ حکمرانی کا باعث بنے گا؟ اس تحریر کے مصنف کے نزدیک جواب نفی میں ہے۔ جب تک ایسے ڈھانچے موجود نہ ہوں جو اختیار اور ذمہ داری میں توازن قائم کریں، بہتر طرزِ حکمرانی ممکن نہیں ہوگی۔ جواب دہی کے کلچر کی عدم موجودگی میں یہ اقدام درحقیقت مزید سنگین بدعنوانی، بے لگام اقربا پروری اور کھلی جانبداری کو جنم دے سکتا ہے۔</p>
<p>درحقیقت، اس تصور کے مخالفین طنز اور طعنے کے ذریعے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر صرف چار یا پانچ صوبوں کے ساتھ ہی ہم بدعنوانی کے اشاریے میں بہت بلند درجے پر ہیں تو مزید صوبے بننے سے نقصان اور بھی زیادہ نہیں ہوگا؟ ایسا ردعمل واضح طور پر توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان متنوع آرا سے قطع نظر، بااختیار انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ تاہم، ان کا قیام محض من مانی سوچ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>برصغیر کی تقسیم کے لیے نقشے مرتب کرتے وقت سر سیرل ریڈکلف، جو نہ ماہر نقشہ نویس تھے اور نہ ہی جغرافیہ و تاریخ پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی، نے ابتدائی نقشہ بندی میں لاہور بھارت کو اور امرتسر پاکستان کو دے دیا۔ شدید احتجاج کے بعد انہوں نے دونوں شہروں کا فیصلہ تبدیل کر دیا۔ انہیں یہ حساس جغرافیائی تقسیم اس لیے سونپی گئی تھی کہ برصغیر کے بارے میں ان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور اس بنا پر خیال کیا گیا کہ وہ غیر جانب دار رہیں گے۔</p>
<p>تربیت اور پیشے کے اعتبار سے قانون دان ہونے کے باعث یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ اپنے پیچھے جغرافیائی تقسیم کے ایسے زخم چھوڑ گئے جن کے نشان آج تک موجود ہیں۔ معروف صحافی کلدیپ نائر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا: ’’میں تقریباً لاہور آپ کو دے ہی چکا تھا، لیکن چونکہ کلکتہ بھارت کے لیے مختص کیا گیا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ پاکستان کے پاس کم از کم ایک بڑا شہر تو ہونا چاہیے۔‘‘</p>
<p>ہم اس معاملے کے لیے کسی دوسرے ریڈکلف کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس پورے تصور کا باریک بینی سے مکمل جائزہ لینا ہوگا؛ اگر اس میں وقت لگتا ہے تو لگنے دیں۔ مثال کے طور پر چین نے 1982 یا 1983 میں ہانگ کانگ کو یکم جولائی 1997 کو 14 سے 15 برس کے وقفے کے بعد دوبارہ سرزمینِ چین میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔ ہمیں بھی یہ کام پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کرنا چاہیے اور خود کو کسی عجلت پسندانہ مدت کی پابندی میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہ عمل عوام کی مرضی کا عکاس ہونا چاہیے، محض ایک ’’نوٹیفکیشن‘‘ کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ ون یونٹ بھی ایک قلم کی جنبش سے قائم ہوا تھا اور اسی طرح ختم بھی کر دیا گیا۔</p>
<p>ملک کے تھنک ٹینکس کو صوبوں کی ازسرنو تشکیل کا خاکہ تیار کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان سنجیدہ غوروفکر ضروری ہے۔ جیسا کہ کہا گیا، ضرورت ناگزیر ہے؛ کتنے صوبے درکار ہیں اور انہیں کب تشکیل دیا جائے، اس کا فیصلہ ہماری بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ملک کے جغرافیائی ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>چنانچہ ملک کے مالیاتی دارالحکومت کا معاملہ بھی بحث کے ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتا ہے—اور بجا طور پر۔ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز اور مالیاتی دارالحکومت ہونے کے باعث کراچی شہر عدم توجہی، بدانتظامی اور غفلت کے سبب اپنی گنجائش کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے، اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ دانستہ طور پر کیا جا رہا ہو۔ متنازع مردم شماری کے نتائج کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی شہر کو اس کی حدودِ برداشت تک پہنچا رہی ہے۔ آج اس عالمی نوعیت کے وسیع و عریض شہر کا حجم اور پھیلاؤ مقامی سطح پر خود حکمرانی کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>اگر چین کے پاس شنگھائی اور بھارت کے پاس ممبئی ہو سکتا ہے تو مقامی لوگوں کو انتظامی اختیار دینے میں ہمیں کیوں ہچکچانا چاہیے؟ بالآخر یہ ہونا ہی ہے، لیکن فی الحال ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے لیے اعلیٰ ترین نظم و ضبط کے مضبوط اصول موجود ہوں۔ چینیوں اور بھارتیوں نے جرات مندانہ اقدامات کیے اور متعدد نئے صوبے قائم کیے۔</p>
<p>جس چیز کی ہمارے ہاں شدید کمی ہے وہ ایک متعین نظام کے اندر قواعد و ضوابط کی پابندی کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ ہر شہری کو خود احتسابی کی اہمیت سمجھنا ہوگی۔ یہی طرزِ فکر مختلف متبادل راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے، فیصلوں کے نتائج کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کا بے خوفی سے اعتراف کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ قواعد کی پابندی نہ کرنے کا اعتراف ہی ریاستی امور چلانے میں بہترین طور طریقوں کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
<p>تاریخ میں وہی سیاست دان یاد رہتے ہیں جو اینٹوں کی میراث پاتے ہیں مگر پیچھے سنگِ مرمر چھوڑ جاتے ہیں۔ کراچی کبھی جنوبی ایشیا کا پیرس کہلاتا تھا، مگر عدم توجہی نے اسے برباد کرکے ایک کھنڈر بنا دیا ہے۔ آئیے ردعمل کا مظاہرہ کریں اور کراچی اور پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس حاصل کریں۔ آئیے اس بحث کو دو گنجے آدمیوں کے درمیان کنگھی کے لیے مقابلے تک محدود نہ کریں۔ آئیے اتنی کم بصیرت کے ساتھ حکمرانی کا سلسلہ جاری نہ رکھیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291355</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Sep 2026 16:18:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/17155317f9fe538.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/17155317f9fe538.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برابر مواقع کا میدان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291307/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی آئی اے کی نجکاری پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے کیا طے کیا، سرکاری اثاثوں کی قیمت لگانے والوں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری جون 2026 میں مالیاتی اختتام تک پہنچ گئی۔ تجارتی شرائط، خریداری کی قیمت اور معاہدے کی تفصیلات پر آنے والے برسوں تک بحث ہوتی رہے گی۔ تاہم اس پیش رفت کا زیادہ دیرپا پہلو قانونی ہے اور پاکستانی سرکاری اثاثے کے لیے بولی دینے کا ارادہ رکھنے والے ہر شخص کو اسے سمجھنا چاہیے۔ ایسے لین دین کے لیے آئینی اور قانونی بنیاد اب گزشتہ دو دہائیوں کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور قابلِ پیش گوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خطرہ سمجھے جانے والے چار بنیادی عوامل کیا تھے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا تصور کریں کہ پانچ سال قبل کسی غیر ملکی بولی دہندہ کے قانونی مشیر نے پاکستان میں نجکاری کے عمل سے متعلق قانونی جانچ پڑتال کی رپورٹ کس طرح تیار کی ہوتی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت کسی اثاثے کو فروخت بھی کرسکتی ہے، اس کا جواب اعتماد سے دیا جاتا لیکن اس کے حق میں حوالہ دینے کے لیے بہت کم مواد موجود ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلا سوال یہ ہوتا کہ عدالت کس معاملے کا جائزہ لے گی اور اس کے لیے کون سا معیار اختیار کیا جائے گا۔ اس کا جواب واقعی غیر یقینی ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سوال یہ ہوتا کہ نجکاری کے عمل کے دوران جمع کرائی گئی تجارتی لحاظ سے حساس معلومات کو کیا عدالت عوام کے سامنے لانے کا حکم دے سکتی ہے۔ اس کے جواب میں اُس وقت کے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ پاکستان کے ازخود نوٹس کے اختیارات کے حوالے سے محتاط رہنے کی تنبیہ کی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ سوال ہوتا کہ لین دین سے براہ راست تعلق نہ رکھنے والے کسی شخص کے لیے اس عمل کو روکنے کے لیے کیا درکار ہوگا۔ جواب ہوتا: زیادہ کچھ نہیں۔ ملکیت کی منتقلی روکنے کے خواہش مند ناراض ملازمین کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواست، اگر اسے مداخلت پسند اور ہمدرد عدالت کی حمایت حاصل ہوجائے، تو حکمِ امتناع کے ذریعے اہم مرحلے پر عمل کو باآسانی روک سکتی تھی۔ یہ چاروں غیر یقینی عوامل ایسے تھے جنہیں بولی دہندہ اپنی پیشکش کی قیمت میں شامل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر یہی عوامل ایک سنجیدہ بین الاقوامی مسابقت اور محدود ملکی مسابقت کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں۔ محدود مسابقت کم بولیوں کا باعث بنتی ہے اور پھر یہی کم بولیاں اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں کہ اثاثہ انتہائی کم قیمت پر دے دیا گیا۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس نے ملک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راولپنڈی بینچ نے کیا طے کیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جون 2025 کے فیصلے (سردار عنبر مقصود بنام وفاق پاکستان و دیگر، PLD 2025 لاہور 827 میں رپورٹ شدہ) نے ان چاروں سوالات کا جواب دیا ہے۔ اس لیے یہ جاننا اہم ہے کہ فیصلے نے کیا اصول طے کیے، نہ کہ صرف یہ کہ عدالت نے زیرِ سماعت درخواست کا فیصلہ کس انداز میں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اختیار کے معاملے پر عدالت نے اثاثے سے دستبرداری کے اختیار کو آئین کے آرٹیکل 173 سے منسلک کیا، جو وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو اس کی ملکیت میں موجود کسی بھی جائیداد کی منتقلی، فروخت یا تصرف تک وسعت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2016 میں پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیے جانے کے بعد اس کے تقریباً 96 فیصد حصص وفاق کے پاس تھے، لہٰذا ایسے لین دین میں فروخت کیا جانے والا اثاثہ وفاق کی ملکیت میں موجود جائیداد تصور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن آرڈیننس وہ قانونی ذریعہ ہے جس کے ذریعے یہ اختیار استعمال کیا جاتا ہے، اس اختیار کا بنیادی ماخذ نہیں۔ بولی دہندہ کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی قانونی سوال اب قابلِ بحث کے بجائے طے شدہ حیثیت اختیار کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طریقۂ کار کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ آرڈیننس کی دفعات 23 اور 24 میں مشاورت، مقررہ وقفوں سے قومی روزناموں میں اشتہارات کی اشاعت، غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہونے کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر تشہیر، مقررہ طریقے سے مالیت کا تعین اور دیگر لازمی تقاضے شامل ہیں۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لے کر یہ بھی دیکھا کہ آیا ان تقاضوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ یہی اس فیصلے کا اہم پہلو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیار یہ ہے کہ فائل پر قانونی تقاضوں کی تکمیل کا قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہو، نہ کہ صرف تجارتی معاہدے کی عدالتی منظوری۔ جو لین دین مناسب دستاویزات کے ساتھ مکمل کیا جائے، اس کا قانونی دفاع ممکن ہے اور بولی دہندہ اس کا پیشگی جائزہ لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رازداری کے معاملے میں عدالت نے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مانگے گئے مالیت کے تعین اور اثاثوں سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دینے سے انکار کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 2003 کے رازداری اور دستاویزات کی راز داری سے متعلق ضوابط ایسے مواد کو خفیہ قرار دیتے ہیں اور اسے صرف متعین استثنائی صورتوں میں ظاہر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تجارتی اعتبار سے اس فیصلے کا فوری طور پر سب سے اہم پہلو یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقتی بولی کا انحصار ڈیٹا روم میں موجود معلومات کی سالمیت پر ہوتا ہے۔ اگر کسی شہری کی درخواست پر بولی کے عمل کے دوران جمع کرایا گیا مواد عوام کے سامنے لانا لازم قرار پائے تو اس سے نجکاری کا عمل زیادہ شفاف نہیں ہوگا بلکہ بولی دینا ہی مشکل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور درخواست دائر کرنے کے حق کے معاملے میں عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مفاد کی قانونی کارروائی کو، خواہ اسے کتنی ہی وسیع پیمانے پر قبول کیا جائے، قابلِ اعتماد مواد پر مبنی ہونا چاہیے، جبکہ دستاویزات کے بغیر محض دعویٰ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت سے رجوع کا جواز نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب عدالتوں تک رسائی محدود کرنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی لین دین کو روکنے کی لاگت اب تقریباً صفر نہیں رہی اور اگر بولی کے لیے مقررہ ٹائم لائن کو مؤثر بنانا ہے تو یہ ایک مختلف اور ضروری اصول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک غیر حل شدہ سوال کا اب جواب مل گیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 173 کی اس معاملے میں تاریخ عموماً جتنی توجہ حاصل کرتی ہے، اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ جب سپریم کورٹ نے 2006 میں پاکستان اسٹیل ملز کے لین دین کا جائزہ لیا تو وفاقی حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ آرٹیکل وفاق اور صوبوں کو براہِ راست اپنی ملکیت میں موجود اثاثے فروخت یا منتقل کرنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ اٹارنی جنرل نے تجویز دی تھی کہ آرٹیکل 153 اور 154 کے ساتھ اس کی تشریح ایسے مقدمے کے لیے چھوڑ دی جائے جس میں یہ تنازع براہِ راست زیرِ بحث ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آرٹیکل 153 اور 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کے کردار پر تفصیلی بحث کی، تاہم آرٹیکل 173 تک نہیں پہنچی۔ اگرچہ یہ مؤقف پیش کیا گیا تھا، لیکن مقدمے کا فیصلہ دیگر بنیادوں پر کیا گیا، جس کے باعث اس شق کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جاسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اسی طرح برقرار رہا۔ 19 سال بعد راولپنڈی بینچ نے اسی نکتے سے بات آگے بڑھائی جہاں یہ مؤقف چھوڑا گیا تھا۔ عدالت نے آرٹیکل 173 کو اثاثے سے دستبرداری کے اختیار کا ماخذ قرار دیا جبکہ آرڈیننس کو اس اختیار کے استعمال کا ذریعہ قرار دیا۔ ایک ایسی شق کے لیے جو پورے قومی نجکاری پروگرام کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے، عدالت کی جانب سے اس کی وضاحت کے لیے اتنا طویل عرصہ انتظار کرنا خاصا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی خبر پرانی ہوجانے کے بعد بھی اس فیصلے کا حوالہ دیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیش گوئی کے قابل قانونی صورتحال ہی اصل اثاثہ ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اثاثوں میں سرمایہ کاری محض جانچ پڑتال سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ ایسی جانچ پڑتال سے متاثر ہوتی ہے جس کے دائرہ کار اور نتیجے کی پیش گوئی نہ کی جاسکے۔ جس قانونی خطرے کا اندازہ لگایا جاسکے، اسے بولی کی قیمت میں شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جس قانونی خطرے کا اندازہ نہ لگایا جاسکے، اس صورت میں یا تو اثاثے کی قیمت میں بھاری رعایت کی جاتی ہے یا سرمایہ کاری سے گریز کیا جاتا ہے۔ پھر یہی رعایت اگلے مرحلے میں اس دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ اثاثے کی قیمت کم لگائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے لیے کسی کو کوئی فیصلہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک درخواست، عبوری حکم، التوا اور بولی دہندگان میدان سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اس کی کوئی قیمت درخواست گزار کو ادا نہیں کرنا پڑتی۔ یہ قیمت قرض فراہم کرنے والے ادارے، بولی دہندگان اور قومی خزانے کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ قومی خزانے کو فروخت کیے جانے والے ادارے کے مسلسل نقصانات کی صورت میں یہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، ایسا خرچ جو کسی عدالتی فہرست میں اس لیے نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا کوئی مدعی نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی بینچ نے عدالت کے ابتدائی فیصلے کے لیے غیر معمولی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کا ذکر کیا اور قرار دیا کہ تجارتی معاملات میں عدالتی مداخلت نے ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیل ملز کا تجربہ بھی اہم ہے، اگرچہ عام طور پر اس کی جو وجہ بیان کی جاتی ہے، اس سے مختلف پہلو یہاں زیادہ اہم ہے۔ اس نجکاری کا لین دین 2006 میں اس طریقۂ کار سے متعلق بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا گیا جس کے ذریعے اسے مکمل کیا گیا تھا اور حکومت کو دوبارہ عمل شروع کرنے کی آزادی دے دی گئی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت یہ ایک فعال صنعتی ادارہ تھا جو تقریباً 90 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہا تھا، تاہم 2015 میں پیداوار بند ہوگئی اور دوبارہ شروع نہیں ہوسکی۔ عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی بھی رائے ہو، واقعات کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ کسی ایسے لین دین کے رک جانے اور دوبارہ شروع نہ ہونے سے کتنے بڑے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ فیصلہ کیا نہیں کرتا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی بات کسی نجکاری کے لین دین کو قانونی چیلنج سے محفوظ نہیں بناتی۔ فیصلے سے ملنے والی قانونی یقین دہانی اتنی ہی ہے جتنی ریکارڈ اس کی تائید کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم ہے۔ کوئی ایک درخواست گزار اب بھی کسی عمل کو روک سکتا ہے، جبکہ تمام ہائیکورٹس میں عدالتی طرزِ عمل کی یکسانیت کی ضمانت ابھی موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب وہ چار بنیادی سوالات جن کے جوابات ایک بولی دہندہ درکار سمجھتا ہے، ان کے جوابات موجود ہیں اور ان جوابات کو سرمایہ کاری کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے والی قانونی یادداشت میں قابلِ اعتماد بنیاد کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہی برابر مواقع کا میدان ہے اور یہ ایک اہم وجہ ہے کہ پی آئی اے کا لین دین تکمیل تک پہنچا، جبکہ اس سے پہلے بہت سے معاملات ایسا نہ کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پی آئی اے کی نجکاری پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے کیا طے کیا، سرکاری اثاثوں کی قیمت لگانے والوں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟</strong></p>
<p>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری جون 2026 میں مالیاتی اختتام تک پہنچ گئی۔ تجارتی شرائط، خریداری کی قیمت اور معاہدے کی تفصیلات پر آنے والے برسوں تک بحث ہوتی رہے گی۔ تاہم اس پیش رفت کا زیادہ دیرپا پہلو قانونی ہے اور پاکستانی سرکاری اثاثے کے لیے بولی دینے کا ارادہ رکھنے والے ہر شخص کو اسے سمجھنا چاہیے۔ ایسے لین دین کے لیے آئینی اور قانونی بنیاد اب گزشتہ دو دہائیوں کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور قابلِ پیش گوئی ہے۔</p>
<p><strong>خطرہ سمجھے جانے والے چار بنیادی عوامل کیا تھے؟</strong></p>
<p>ذرا تصور کریں کہ پانچ سال قبل کسی غیر ملکی بولی دہندہ کے قانونی مشیر نے پاکستان میں نجکاری کے عمل سے متعلق قانونی جانچ پڑتال کی رپورٹ کس طرح تیار کی ہوتی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت کسی اثاثے کو فروخت بھی کرسکتی ہے، اس کا جواب اعتماد سے دیا جاتا لیکن اس کے حق میں حوالہ دینے کے لیے بہت کم مواد موجود ہوتا۔</p>
<p>اگلا سوال یہ ہوتا کہ عدالت کس معاملے کا جائزہ لے گی اور اس کے لیے کون سا معیار اختیار کیا جائے گا۔ اس کا جواب واقعی غیر یقینی ہوتا۔</p>
<p>تیسرا سوال یہ ہوتا کہ نجکاری کے عمل کے دوران جمع کرائی گئی تجارتی لحاظ سے حساس معلومات کو کیا عدالت عوام کے سامنے لانے کا حکم دے سکتی ہے۔ اس کے جواب میں اُس وقت کے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ پاکستان کے ازخود نوٹس کے اختیارات کے حوالے سے محتاط رہنے کی تنبیہ کی جاتی۔</p>
<p>آخر میں یہ سوال ہوتا کہ لین دین سے براہ راست تعلق نہ رکھنے والے کسی شخص کے لیے اس عمل کو روکنے کے لیے کیا درکار ہوگا۔ جواب ہوتا: زیادہ کچھ نہیں۔ ملکیت کی منتقلی روکنے کے خواہش مند ناراض ملازمین کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواست، اگر اسے مداخلت پسند اور ہمدرد عدالت کی حمایت حاصل ہوجائے، تو حکمِ امتناع کے ذریعے اہم مرحلے پر عمل کو باآسانی روک سکتی تھی۔ یہ چاروں غیر یقینی عوامل ایسے تھے جنہیں بولی دہندہ اپنی پیشکش کی قیمت میں شامل کرتا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر یہی عوامل ایک سنجیدہ بین الاقوامی مسابقت اور محدود ملکی مسابقت کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں۔ محدود مسابقت کم بولیوں کا باعث بنتی ہے اور پھر یہی کم بولیاں اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں کہ اثاثہ انتہائی کم قیمت پر دے دیا گیا۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس نے ملک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p><strong>راولپنڈی بینچ نے کیا طے کیا</strong></p>
<p>لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جون 2025 کے فیصلے (سردار عنبر مقصود بنام وفاق پاکستان و دیگر، PLD 2025 لاہور 827 میں رپورٹ شدہ) نے ان چاروں سوالات کا جواب دیا ہے۔ اس لیے یہ جاننا اہم ہے کہ فیصلے نے کیا اصول طے کیے، نہ کہ صرف یہ کہ عدالت نے زیرِ سماعت درخواست کا فیصلہ کس انداز میں کیا۔</p>
<p>اختیار کے معاملے پر عدالت نے اثاثے سے دستبرداری کے اختیار کو آئین کے آرٹیکل 173 سے منسلک کیا، جو وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو اس کی ملکیت میں موجود کسی بھی جائیداد کی منتقلی، فروخت یا تصرف تک وسعت دیتا ہے۔</p>
<p>2016 میں پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیے جانے کے بعد اس کے تقریباً 96 فیصد حصص وفاق کے پاس تھے، لہٰذا ایسے لین دین میں فروخت کیا جانے والا اثاثہ وفاق کی ملکیت میں موجود جائیداد تصور ہوتا ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن آرڈیننس وہ قانونی ذریعہ ہے جس کے ذریعے یہ اختیار استعمال کیا جاتا ہے، اس اختیار کا بنیادی ماخذ نہیں۔ بولی دہندہ کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی قانونی سوال اب قابلِ بحث کے بجائے طے شدہ حیثیت اختیار کرچکا ہے۔</p>
<p>طریقۂ کار کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ آرڈیننس کی دفعات 23 اور 24 میں مشاورت، مقررہ وقفوں سے قومی روزناموں میں اشتہارات کی اشاعت، غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہونے کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر تشہیر، مقررہ طریقے سے مالیت کا تعین اور دیگر لازمی تقاضے شامل ہیں۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لے کر یہ بھی دیکھا کہ آیا ان تقاضوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ یہی اس فیصلے کا اہم پہلو ہے۔</p>
<p>معیار یہ ہے کہ فائل پر قانونی تقاضوں کی تکمیل کا قابلِ تصدیق ثبوت موجود ہو، نہ کہ صرف تجارتی معاہدے کی عدالتی منظوری۔ جو لین دین مناسب دستاویزات کے ساتھ مکمل کیا جائے، اس کا قانونی دفاع ممکن ہے اور بولی دہندہ اس کا پیشگی جائزہ لے سکتا ہے۔</p>
<p>رازداری کے معاملے میں عدالت نے معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مانگے گئے مالیت کے تعین اور اثاثوں سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دینے سے انکار کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ 2003 کے رازداری اور دستاویزات کی راز داری سے متعلق ضوابط ایسے مواد کو خفیہ قرار دیتے ہیں اور اسے صرف متعین استثنائی صورتوں میں ظاہر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تجارتی اعتبار سے اس فیصلے کا فوری طور پر سب سے اہم پہلو یہی ہے۔</p>
<p>مسابقتی بولی کا انحصار ڈیٹا روم میں موجود معلومات کی سالمیت پر ہوتا ہے۔ اگر کسی شہری کی درخواست پر بولی کے عمل کے دوران جمع کرایا گیا مواد عوام کے سامنے لانا لازم قرار پائے تو اس سے نجکاری کا عمل زیادہ شفاف نہیں ہوگا بلکہ بولی دینا ہی مشکل ہوجائے گا۔</p>
<p>اور درخواست دائر کرنے کے حق کے معاملے میں عدالت نے قرار دیا کہ عوامی مفاد کی قانونی کارروائی کو، خواہ اسے کتنی ہی وسیع پیمانے پر قبول کیا جائے، قابلِ اعتماد مواد پر مبنی ہونا چاہیے، جبکہ دستاویزات کے بغیر محض دعویٰ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت سے رجوع کا جواز نہیں بن سکتا۔</p>
<p>اس کا مطلب عدالتوں تک رسائی محدود کرنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی لین دین کو روکنے کی لاگت اب تقریباً صفر نہیں رہی اور اگر بولی کے لیے مقررہ ٹائم لائن کو مؤثر بنانا ہے تو یہ ایک مختلف اور ضروری اصول ہے۔</p>
<p><strong>ایک غیر حل شدہ سوال کا اب جواب مل گیا</strong></p>
<p>آئین کے آرٹیکل 173 کی اس معاملے میں تاریخ عموماً جتنی توجہ حاصل کرتی ہے، اس سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ جب سپریم کورٹ نے 2006 میں پاکستان اسٹیل ملز کے لین دین کا جائزہ لیا تو وفاقی حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ آرٹیکل وفاق اور صوبوں کو براہِ راست اپنی ملکیت میں موجود اثاثے فروخت یا منتقل کرنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ اٹارنی جنرل نے تجویز دی تھی کہ آرٹیکل 153 اور 154 کے ساتھ اس کی تشریح ایسے مقدمے کے لیے چھوڑ دی جائے جس میں یہ تنازع براہِ راست زیرِ بحث ہو۔</p>
<p>عدالت نے آرٹیکل 153 اور 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کے کردار پر تفصیلی بحث کی، تاہم آرٹیکل 173 تک نہیں پہنچی۔ اگرچہ یہ مؤقف پیش کیا گیا تھا، لیکن مقدمے کا فیصلہ دیگر بنیادوں پر کیا گیا، جس کے باعث اس شق کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جاسکا۔</p>
<p>یہ معاملہ اسی طرح برقرار رہا۔ 19 سال بعد راولپنڈی بینچ نے اسی نکتے سے بات آگے بڑھائی جہاں یہ مؤقف چھوڑا گیا تھا۔ عدالت نے آرٹیکل 173 کو اثاثے سے دستبرداری کے اختیار کا ماخذ قرار دیا جبکہ آرڈیننس کو اس اختیار کے استعمال کا ذریعہ قرار دیا۔ ایک ایسی شق کے لیے جو پورے قومی نجکاری پروگرام کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے، عدالت کی جانب سے اس کی وضاحت کے لیے اتنا طویل عرصہ انتظار کرنا خاصا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی خبر پرانی ہوجانے کے بعد بھی اس فیصلے کا حوالہ دیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p><strong>پیش گوئی کے قابل قانونی صورتحال ہی اصل اثاثہ ہے</strong></p>
<p>سرکاری اثاثوں میں سرمایہ کاری محض جانچ پڑتال سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ ایسی جانچ پڑتال سے متاثر ہوتی ہے جس کے دائرہ کار اور نتیجے کی پیش گوئی نہ کی جاسکے۔ جس قانونی خطرے کا اندازہ لگایا جاسکے، اسے بولی کی قیمت میں شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جس قانونی خطرے کا اندازہ نہ لگایا جاسکے، اس صورت میں یا تو اثاثے کی قیمت میں بھاری رعایت کی جاتی ہے یا سرمایہ کاری سے گریز کیا جاتا ہے۔ پھر یہی رعایت اگلے مرحلے میں اس دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ اثاثے کی قیمت کم لگائی گئی تھی۔</p>
<p>تاخیر سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے لیے کسی کو کوئی فیصلہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک درخواست، عبوری حکم، التوا اور بولی دہندگان میدان سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اس کی کوئی قیمت درخواست گزار کو ادا نہیں کرنا پڑتی۔ یہ قیمت قرض فراہم کرنے والے ادارے، بولی دہندگان اور قومی خزانے کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ قومی خزانے کو فروخت کیے جانے والے ادارے کے مسلسل نقصانات کی صورت میں یہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، ایسا خرچ جو کسی عدالتی فہرست میں اس لیے نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا کوئی مدعی نہیں ہوتا۔</p>
<p>راولپنڈی بینچ نے عدالت کے ابتدائی فیصلے کے لیے غیر معمولی صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کا ذکر کیا اور قرار دیا کہ تجارتی معاملات میں عدالتی مداخلت نے ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں مشکلات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیل ملز کا تجربہ بھی اہم ہے، اگرچہ عام طور پر اس کی جو وجہ بیان کی جاتی ہے، اس سے مختلف پہلو یہاں زیادہ اہم ہے۔ اس نجکاری کا لین دین 2006 میں اس طریقۂ کار سے متعلق بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا گیا جس کے ذریعے اسے مکمل کیا گیا تھا اور حکومت کو دوبارہ عمل شروع کرنے کی آزادی دے دی گئی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔</p>
<p>اس وقت یہ ایک فعال صنعتی ادارہ تھا جو تقریباً 90 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہا تھا، تاہم 2015 میں پیداوار بند ہوگئی اور دوبارہ شروع نہیں ہوسکی۔ عدالتی کارروائی کے بارے میں کوئی بھی رائے ہو، واقعات کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ کسی ایسے لین دین کے رک جانے اور دوبارہ شروع نہ ہونے سے کتنے بڑے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔</p>
<p><strong>یہ فیصلہ کیا نہیں کرتا؟</strong></p>
<p>ان میں سے کوئی بھی بات کسی نجکاری کے لین دین کو قانونی چیلنج سے محفوظ نہیں بناتی۔ فیصلے سے ملنے والی قانونی یقین دہانی اتنی ہی ہے جتنی ریکارڈ اس کی تائید کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم ہے۔ کوئی ایک درخواست گزار اب بھی کسی عمل کو روک سکتا ہے، جبکہ تمام ہائیکورٹس میں عدالتی طرزِ عمل کی یکسانیت کی ضمانت ابھی موجود نہیں۔</p>
<p>لیکن اب وہ چار بنیادی سوالات جن کے جوابات ایک بولی دہندہ درکار سمجھتا ہے، ان کے جوابات موجود ہیں اور ان جوابات کو سرمایہ کاری کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے والی قانونی یادداشت میں قابلِ اعتماد بنیاد کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہی برابر مواقع کا میدان ہے اور یہ ایک اہم وجہ ہے کہ پی آئی اے کا لین دین تکمیل تک پہنچا، جبکہ اس سے پہلے بہت سے معاملات ایسا نہ کرسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291307</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Sep 2026 13:54:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بیرسٹر منال طارق غنی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/161316388ff8935.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/161316388ff8935.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب ریاست ٹیکس دہندہ کی مقروض ہو: اعتماد کا سوال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291320/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر ستمبر میں، جب سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا وقت آتا ہے، ایک دوست مجھے فون کرتا ہے۔ بہت سے ٹیکس دہندگان کی طرح وہ بھی سال میں صرف ایک مرتبہ انکم ٹیکس کے بارے میں سوچتا ہے، جب اسے اپنا ریٹرن جمع کرانا ہوتا ہے۔ اس کے سوالات عموماً سادہ ہوتے ہیں، اگرچہ ان کے جوابات اکثر بڑے مسائل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس سال اس نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 7 ای کے بارے میں پوچھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس قوانین سے ناواقف قارئین کے لیے واضح رہے کہ دفعہ 7 ای 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت مقیم افراد کی ملکیت میں موجود بعض غیر منقولہ جائیدادوں پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا گیا۔ اس کے تحت جائیداد سے ’’مفروضہ آمدن‘‘ تصور کی گئی؛ یعنی اگر کوئی متعلقہ جائیداد حقیقی طور پر کوئی آمدن پیدا نہ بھی کرتی ہو، قانون اس کی مالیت کی بنیاد پر آمدن تصور کرتے ہوئے اس پر ٹیکس عائد کرتا تھا۔ ابتدا ہی سے متنازع رہنے والی اس شق کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔ میرے دوست جاننا چاہتا تھا کہ آخرکار اس کا کیا فیصلہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے اسے بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے دفعہ 7 ای کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا اور قرار دیا کہ یہ ابتدا ہی سے باطل تھی۔ اس کا فوری سوال تھا: ’’پھر ان گزشتہ برسوں میں جو ٹیکس میں نے ادا کیا، اس کا کیا ہوگا؟‘‘ یہی سادہ سا سوال ایک طویل گفتگو کا سبب بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اگر-ٹیکس-واجب-الادا-ہی-نہیں-تھا-تو-کیا-وہ-رقم-واپس-نہیں-ہونی-چاہیے" href="#اگر-ٹیکس-واجب-الادا-ہی-نہیں-تھا-تو-کیا-وہ-رقم-واپس-نہیں-ہونی-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اگر ٹیکس واجب الادا ہی نہیں تھا تو کیا وہ رقم واپس نہیں ہونی چاہیے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اصولی طور پر، ایسی شق کے تحت ادا کی گئی رقم، جسے اب ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے، واپس آنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’تو کیا مجھے رقم واپس مل جائے گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’اصولی طور پر ہاں،‘‘ میں نے جواب دیا، پھر اسے طریقہ کار سمجھایا۔ اگر دفعہ 7 ای کی ٹیکس واجبیت پہلے جمع کرائے گئے ایسے ریٹرن میں شامل تھی جس میں بعد میں ترمیم نہیں کی گئی، تو ٹیکس دہندہ کو پہلے اپنی ٹیکس پوزیشن درست کرنا پڑ سکتی ہے، مثلاً ریٹرن میں ترمیم کے لیے اجازت طلب کرکے یا، جہاں کوئی حکم موجود ہو، تصحیح کی درخواست دائر کرکے۔ اس کے بعد بننے والے ریفنڈ کا دعویٰ کرنا اور اسے پراسیس کرانا ہوگا، جبکہ یہ رقم کسی بقایا ٹیکس واجبیت کے خلاف ایڈجسٹ بھی کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’اس میں کتنا وقت لگے گا؟‘‘ اس نے پوچھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے پُرامید جواب دیا: ’’اگر سب کچھ تیزی سے آگے بڑھے تو شاید چند ماہ۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مسکرایا، جیسا کہ ٹیکس ماہرین کی جانب سے ’’اگر سب کچھ تیزی سے آگے بڑھے‘‘ سن کر ٹیکس دہندگان اکثر مسکراتے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا حکومت اس رقم پر، جو برسوں سے اس کے پاس رہی، کوئی منافع یا معاوضہ بھی ادا کرے گی؟ ٹیکس قانون میں ایسی صورت میں معاوضے کی گنجائش موجود ہے جب واجب الادا ریفنڈ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ادا نہ کیا جائے۔ تاہم مشکل یہ طے کرنے میں ہے کہ قانونی طور پر ریفنڈ کب ’’واجب الادا‘‘ قرار پاتا ہے؛ معاوضے کا آغاز لازماً اس تاریخ سے نہیں ہوتا جب اصل رقم ادا کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے اس کا تجسس ایک اور سمت میں چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="لیکن-جب-حکومت-مقدمہ-جیت-جائے-تو-کیا-ہوتا-ہے" href="#لیکن-جب-حکومت-مقدمہ-جیت-جائے-تو-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;لیکن جب حکومت مقدمہ جیت جائے تو کیا ہوتا ہے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;میرے دوست کو پھر سپر ٹیکس کا تنازع یاد آیا۔ وسیع مفہوم میں سپر ٹیکس مخصوص آمدنی کی حد سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر عائد کیا جانے والا اضافی انکم ٹیکس ہے۔ بعض گزشتہ ادوار اور حتمی ٹیکس کے دائرے میں آنے والی آمدنی پر اس کے اطلاق کے باعث بڑے پیمانے پر مقدمات سامنے آئے۔ ٹیکس دہندگان نے اس ٹیکس کے مختلف پہلوؤں کو چیلنج کیا، تاہم بنیادی آئینی تنازع کا فیصلہ بالآخر بڑی حد تک ریاست کے حق میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ہماری سابقہ گفتگو کے ذریعے اس معاملے کے بعض حصوں سے واقف تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’جب حکومت جیتی تو کیا اس نے ٹیکس دہندگان کا انتظار کیا کہ وہ اپنی مرضی سے ادائیگی کریں؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا۔ جب ٹیکس قانونی طور پر قابل وصول ہوجاتا ہے تو ریاستی مشینری اس کی وصولی کے لیے حرکت میں آجاتی ہے: مطالبات نافذ کیے جاتے ہیں، ادائیگیوں کا تقاضا کیا جاتا ہے اور تاخیر مزید نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جن میں ڈیفالٹ سرچارج کا معاملہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر اس نے بنیادی سوال کیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’اگر حکومت جیتے تو وہ اپنی رقم فوری چاہتی ہے، لیکن اگر ٹیکس دہندہ جیت جائے تو اسے اپنی ہی رقم واپس لینے کے لیے ایک اور عمل سے کیوں گزرنا پڑتا ہے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے قانونی جوابات موجود ہیں، لیکن دراصل وہ انصاف کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="جائیداد-کا-ایک-پرانا-معاہدہ-یاد-آگیا" href="#جائیداد-کا-ایک-پرانا-معاہدہ-یاد-آگیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جائیداد کا ایک پرانا معاہدہ یاد آگیا&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس کے سوال نے مجھے برسوں پہلے کے ایک جائیداد کے لین دین کی یاد دلائی۔ ایجنٹ نے فروخت کا ایک معاہدہ پیش کیا تو فروخت کنندہ کو محسوس ہوا کہ اس میں خریدار کے تقریباً ہر حق کا تحفظ کیا گیا ہے: خریدار کی ذمہ داریاں، عدم تکمیل کی صورت میں نتائج اور خریدار کے لیے حفاظتی اقدامات سب کچھ اس میں درج تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے پوچھا: ’’یہ کیسا معاہدہ ہے؟ ہر چیز خریدار کے تحفظ کے لیے ہے۔ فروخت کنندہ کا کیا ہوگا؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بے چینی ایک سادہ اصول کی عکاسی کرتی تھی: کوئی معاہدہ اس وقت تک اعتماد پیدا نہیں کرسکتا جب اس کے تحفظات، ازالے اور ذمہ داریاں بنیادی طور پر یک طرفہ ہوں۔ ایک پائیدار انتظام میں دونوں فریقوں کے جائز حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی اصول ٹیکس کے معاملے پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو شہری اور ریاست کے درمیان وسیع تر سماجی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ ٹیکس دہندگان ریاست کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ قانونی ٹیکس عائد کرے، معلومات طلب کرے، ریٹرنز کی جانچ کرے اور واجب الادا ٹیکس وصول کرے۔ اس کے بدلے اگر ریاست یہ توقع رکھتی ہے کہ اس کی رقم واجب ہونے پر فوری ادا کی جائے، تو ٹیکس دہندگان بھی بجا طور پر یہ توقع کرسکتے ہیں کہ جو رقم واجب ہی نہیں تھی، اسے واپس کرنے میں بھی اتنی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ بصورت دیگر یہ تعلق اسی یک طرفہ جائیداد کے معاہدے سے مشابہ ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بیس-سال-سے-زائد-عرصے-بعد-بھی-یاد-رہنے-والا-ایک-معمولی-ریفنڈ" href="#بیس-سال-سے-زائد-عرصے-بعد-بھی-یاد-رہنے-والا-ایک-معمولی-ریفنڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بیس سال سے زائد عرصے بعد بھی یاد رہنے والا ایک معمولی ریفنڈ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایک اور یاد تازہ ہوگئی۔ میں نے اپنی پہلی ملازمت کے دوران تقریباً 2003 میں اپنا پہلا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرایا تھا اور اس میں معمولی رقم ریفنڈ بن رہا تھا۔ مجھے بار بار ٹیکس دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑے اور نہ ہی درخواستوں کا سلسلہ جمع کرانا پڑا۔ نسبتاً مختصر عرصے کے بعد ریفنڈ واؤچر میرے پتے پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو دہائیاں گزرنے کے باوجود مجھے وہ واؤچر آج بھی یاد ہے، حالانکہ اس وقت میں ’’ٹیکس مورال‘‘، ’’طریقہ کار میں مساوات‘‘ یا ٹیکس دہندہ اور ریاست کے تعلق جیسے الفاظ میں نہیں سوچتا تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اس واؤچر میں یہ تینوں تصورات موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظام نے یہ تسلیم کیا کہ میں نے ضرورت سے زیادہ رقم ادا کی تھی اور زائد رقم واپس کردی۔ ٹیکس نظام میں داخل ہونے والے ایک شخص کے لیے یہ ایک مؤثر پیغام تھا: متعلقہ ادارہ صرف وصولی کے لیے موجود نہیں، بلکہ جو رقم واجب نہیں تھی، وہ واپس بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد سے میں مسلسل ٹیکس نظام کا حصہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک معمولی ریفنڈ کو دو دہائیوں پر محیط ٹیکس تعمیل کی واحد وجہ قرار دینا مبالغہ ہوگا۔ تاہم ایسے تجربات اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ لوگ اداروں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ٹیکس مورال صرف اپیلوں، جرمانوں، آڈٹ یا قانونی کارروائی سے نہیں بنتا؛ یہ عملی تجربات سے پروان چڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ازخود-ریفنڈ-ایڈجسٹ-کرنے-کا-تنازع" href="#ازخود-ریفنڈ-ایڈجسٹ-کرنے-کا-تنازع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ازخود ریفنڈ ایڈجسٹ کرنے کا تنازع&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ہماری ٹیکس تاریخ اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ ٹیکس دہندگان بعض اوقات گزشتہ برسوں کے ریفنڈ کو بعد کے ریٹرن میں واجب الادا ٹیکس کے مقابل ایڈجسٹ کرتے رہے ہیں۔ حکام نے اس عمل پر اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ریٹرن میں ظاہر کردہ ریفنڈ کو ایڈجسٹ کرنے سے پہلے مقررہ طریقہ کار کے تحت اس کی باضابطہ طور پر تصدیق اور تعین ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندگان کا مؤقف ہے کہ جہاں ریفنڈ متنازع نہ ہو، وہاں حکومت کے پاس گزشتہ ریفنڈ کی رقم موجود ہونے کے باوجود دوبارہ ادائیگی کا تقاضا کرنا عملی طور پر زیادہ معنی نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر مقدمات بھی ہوئے ہیں اور ان کے نتائج مختلف رہے ہیں۔ میں یہاں اس تنازع کو دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہتا، تاہم اس سے دفعہ 7 ای کے معاملے میں ایک ممکنہ حل ضرور سامنے آتا ہے: ٹیکس دہندگان کو ازخود ایڈجسٹمنٹ کرنے اور نئے تنازعات کو جنم دینے پر مجبور کرنے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ خود تصدیق شدہ رقوم ان کے لیے دستیاب کیوں نہیں کرسکتی؟&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ستمبر-ایک-موقع-فراہم-کرتا-ہے" href="#ستمبر-ایک-موقع-فراہم-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ستمبر ایک موقع فراہم کرتا ہے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;وقت بھی اہم ہے۔ افراد 30 ستمبر کو ٹیکس سال 2026 کے ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی ٹیکس واجبیت کا حساب لگا کر واجب الادا رقم ادا کریں گے، جبکہ بعض کے پاس اب بھی وہ رقم ریاست کے پاس موجود ہوسکتی ہے جو انہوں نے دفعہ 7 ای کے تحت ادا کی تھی، جسے اب ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="دونوں-کو-باہم-منسلک-کیوں-نہ-کیا-جائے" href="#دونوں-کو-باہم-منسلک-کیوں-نہ-کیا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دونوں کو باہم منسلک کیوں نہ کیا جائے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے پاس پہلے ہی ضروری معلومات کا بڑا حصہ موجود ہے: کس شخص نے دفعہ 7 ای کے تحت ٹیکس واجبیت ظاہر کی، کتنی رقم ظاہر کی اور، زیادہ تر معاملات میں، آیا یہ رقم ادا بھی کی گئی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ٹیکس دہندہ کو ریٹرن میں ترمیم، ریفنڈ کی درخواست اور اس کے بعد پیروی کے مراحل سے گزارنے کے بجائے ایف بی آر ایک خصوصی طریقہ کار وضع کرسکتا ہے۔ سادہ اور تصدیق شدہ معاملات میں وہ رقم کا تعین کرکے اسے ٹیکس دہندہ کے آن لائن اکاؤنٹ میں کریڈٹ کے طور پر ظاہر کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ٹیکس دہندہ موجودہ ریٹرن کے ساتھ واجب الادا ٹیکس کے مقابل اس تسلیم شدہ کریڈٹ کو استعمال کرسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ازخود کیا جانے والا دعویٰ نہیں ہوگا، بلکہ ریاست خود اس رقم کی تصدیق اور اسے تسلیم کرچکی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اس-سے-ریاست-کو-بھی-فائدہ-ہوسکتا-ہے" href="#اس-سے-ریاست-کو-بھی-فائدہ-ہوسکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اس سے ریاست کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ حکومت کے لیے بھی عملی اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔ دفعہ 7 ای کے تحت ادا کی گئی تمام رقوم نقد واپس کرنے سے سرکاری نقد بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے۔ تاہم جہاں یہی ٹیکس دہندہ موجودہ سال کا ٹیکس ادا کرنے کا بھی پابند ہو، وہاں دفعہ 7 ای کے تحت تصدیق شدہ کریڈٹ کو موجودہ واجبیت کے مقابل ایڈجسٹ کرنا فوری ریفنڈ چیک جاری کیے بغیر تقریباً وہی نتیجہ حاصل کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثلاً اگر کسی ٹیکس دہندہ نے دفعہ 7 ای کے تحت 200,000 روپے ادا کیے تھے اور اب اس پر 500,000 روپے ٹیکس واجب الادا ہے تو ایف بی آر سابقہ 200,000 روپے کو تسلیم کرکے باقی 300,000 روپے وصول کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح نہ ازخود ایڈجسٹمنٹ پر کوئی تنازع ہوگا اور نہ ہی فوری نقد ریفنڈ کی ضرورت پڑے گی۔ سابقہ رقم کا تصفیہ ہوجائے گا، موجودہ ٹیکس واجبیت وصول ہوجائے گی اور، سب سے اہم بات، ٹیکس دہندہ کو ایسا نظام نظر آئے گا جو دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ٹیکنالوجی-کو-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرنا-چاہیے" href="#ٹیکنالوجی-کو-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹیکنالوجی کو بھی دونوں سمتوں میں کام کرنا چاہیے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ٹیکس انتظامیہ میں ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال کے بارے میں ایک سوال بھی اٹھاتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کو عموماً نفاذ اور نگرانی کے ایک ذریعے کے طور پر زیر بحث لایا جاتا ہے: یہ تضادات کی نشاندہی، اثاثوں کا سراغ لگانے، لین دین کا تقابل کرنے، ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کا پتا چلانے اور نوٹس جاری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر ٹیکنالوجی اس رقم کی نشاندہی کرسکتی ہے جو ٹیکس دہندہ نے ریاست کو دینی ہے تو اسے اس رقم کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے جو ریاست نے ٹیکس دہندہ کو دینی ہے۔ جو نظام ڈیمانڈ پیدا کرسکتا ہے، اسے کریڈٹ بھی پیدا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے ڈیٹا کو صرف ذمہ داریاں نافذ کرنے کے لیے نہیں بلکہ حقوق کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ہر-معاملہ-سادہ-نہیں-ہوگا" href="#ہر-معاملہ-سادہ-نہیں-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہر معاملہ سادہ نہیں ہوگا&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ہر معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوگا۔ بعض ٹیکس دہندگان پر بقایا مطالبات ہوسکتے ہیں، بعض کے معاملات میں ترمیم شدہ اسیسمنٹس یا زیر التوا کارروائیاں ہوسکتی ہیں، جبکہ کچھ معاملات میں ادائیگی کی تصدیق کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے معاملات معمول کے طریقہ کار کے تحت نمٹائے جاسکتے ہیں۔ لیکن بعض معاملات کی پیچیدگی تمام معاملات کو پیچیدہ بنانے کا جواز نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں سادہ معاملات کی الیکٹرانک طور پر نشاندہی ممکن ہو، انہیں تیزی سے نمٹایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طریقہ کار، اہلیت کی شرائط اور کریڈٹس یا ریفنڈز کے طریقہ کار پر ایف بی آر کا واضح سرکلر بھی غیر یقینی صورتحال کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="اصل-معاملہ-طریقہ-کار-میں-مساوات-کا-ہے" href="#اصل-معاملہ-طریقہ-کار-میں-مساوات-کا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اصل معاملہ طریقہ کار میں مساوات کا ہے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس انصاف کی بحث عموماً اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ کون کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے، آیا مساوی آمدنی پر مساوی ٹیکس عائد ہونا چاہیے یا زیادہ استطاعت رکھنے والوں سے متناسب طور پر زیادہ ٹیکس لیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم طریقہ کار میں انصاف بھی اتنا ہی اہم ہے۔ لوگ کسی ناموافق نتیجے کو اس وقت زیادہ آسانی سے قبول کرسکتے ہیں جب انہیں طریقہ کار منصفانہ محسوس ہو۔ اس کے برعکس قانونی طور پر درست ٹیکس نظام بھی اپنی ساکھ کھو دیتا ہے اگر اس کے طریقہ کار مسلسل اسے چلانے والے ادارے کے حق میں جھکے ہوئے محسوس ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ریاست کے حق میں فیصلہ فوری وصولی کا باعث بنتا ہے جبکہ ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ محض ایک اور طویل عمل کا آغاز کرتا ہے تو تعلق غیر مساوی محسوس ہوتا ہے۔ قانون اس فرق کی وضاحت کرسکتا ہے، لیکن ٹیکس مورال اس عملی تجربے سے متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="معاشیات-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرتی-ہے" href="#معاشیات-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;معاشیات بھی دونوں سمتوں میں کام کرتی ہے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک معاشی اصول بھی کارفرما ہے۔ جب ٹیکس دہندہ حکومت کو واجب الادا رقم اپنے پاس رکھتا ہے تو ٹیکس قانون تاخیر کو مہنگا قرار دیتا ہے؛ یہی ایک وجہ ہے کہ ڈیفالٹ سرچارج عائد کیا جاتا ہے۔ رقم کی اپنی وقتی قدر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جب معاملہ الٹ ہو تو رقم اپنی قدر نہیں کھوتی۔ جس ٹیکس دہندہ نے ایسی رقم ادا کی جو قانوناً واجب ہی نہیں تھی، اس سے بھی اس رقم کے استعمال کا حق چھن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی کاروبار اسے اپنے ورکنگ کیپیٹل کے طور پر استعمال کرسکتا تھا، جبکہ کوئی فرد اسے سرمایہ کاری یا گھریلو اخراجات کے لیے استعمال کرسکتا تھا۔ قانون الگ سے یہ طے کرسکتا ہے کہ معاوضہ کب واجب ہوگا اور اس کی شرح کیا ہوگی۔ تاہم بنیادی نکتہ سادہ ہے: کسی دوسرے کی رقم اپنے پاس رکھنے کی لاگت صرف اس وقت اہم نہیں ہوسکتی جب ٹیکس دہندہ کے پاس حکومت کی رقم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ہم-کس-قسم-کا-ٹیکس-تعلق-چاہتے-ہیں" href="#ہم-کس-قسم-کا-ٹیکس-تعلق-چاہتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہم کس قسم کا ٹیکس تعلق چاہتے ہیں؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ٹیکس آمدنی کی ضرورت ہے اور اس کی مالی مشکلات سنگین ہیں۔ ایک پائیدار نظام ان افراد کو، جن پر قانونی طور پر ٹیکس واجب ہے، محض اپنی مرضی سے ٹیکس سے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا؛ ٹیکس وصولی کے لیے مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن عمل درآمد اور اعتماد ایک دوسرے کے متبادل نہیں۔ ایک بالغ ٹیکس نظام کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ ایف بی آر خود اس کی دفعہ 7 ای کے تحت سابقہ ادائیگی کو موجودہ ٹیکس واجبیت کے مقابل تسلیم کرسکتا ہے تو اس کا فوری جواب تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’اگر وہ خود یہ کام کردیں تو واقعی اچھا محسوس ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ الفاظ ٹیکس اصلاحات کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرتے ہیں جسے اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ حکومتیں لوگوں کو ٹیکس کی پابندی پر آمادہ کرنے کے لیے خاصی کوشش کرتی ہیں؛ انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ لوگوں کو ٹیکس کی پابندی جاری رکھنے پر کیا چیز آمادہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرا 2003 کا ریفنڈ معمولی رقم کا تھا، لیکن دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بھی مجھے یاد ہے۔ دفعہ 7 ای اب ایف بی آر کو بڑے پیمانے پر اسی نوعیت کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ ٹیکس دہندگان کو معمول کے ریفنڈ کے دعووں کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی طور پر شاید یہ کافی ہو۔ یا پھر اس غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایک وفاقی ٹیکس کئی برسوں تک وصول کیا گیا اور بعد ازاں اسے ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دے دیا گیا، ایف بی آر ایک واضح طریقہ کار جاری کرسکتا ہے، تصدیق شدہ ادائیگیوں کی نشاندہی کرسکتا ہے، موجودہ ٹیکس واجبیت کے مقابل مناسب ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دے سکتا ہے اور جہاں ایڈجسٹمنٹ ممکن نہ ہو وہاں نقد ریفنڈ کا عمل تیز کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر رقم قانوناً کبھی واجب ہی نہیں تھی تو اسے واپس کرنا کوئی رعایت نہیں۔ تاہم اسے واپس کرنے کا طریقہ ایک اہم پیغام دے سکتا ہے: ٹیکس دہندہ اور ریاست کا تعلق اس یک طرفہ جائیداد کے معاہدے جیسا نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندے کو معاہدے کے اپنے حصے کی پاسداری کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اپنے حصے کی۔ بعض اوقات رقم واپس کرنے سے اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز حاصل کی جاسکتی ہے: اعتماد۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر ستمبر میں، جب سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا وقت آتا ہے، ایک دوست مجھے فون کرتا ہے۔ بہت سے ٹیکس دہندگان کی طرح وہ بھی سال میں صرف ایک مرتبہ انکم ٹیکس کے بارے میں سوچتا ہے، جب اسے اپنا ریٹرن جمع کرانا ہوتا ہے۔ اس کے سوالات عموماً سادہ ہوتے ہیں، اگرچہ ان کے جوابات اکثر بڑے مسائل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس سال اس نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 7 ای کے بارے میں پوچھا۔</strong></p>
<p>ٹیکس قوانین سے ناواقف قارئین کے لیے واضح رہے کہ دفعہ 7 ای 2022 میں متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت مقیم افراد کی ملکیت میں موجود بعض غیر منقولہ جائیدادوں پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا گیا۔ اس کے تحت جائیداد سے ’’مفروضہ آمدن‘‘ تصور کی گئی؛ یعنی اگر کوئی متعلقہ جائیداد حقیقی طور پر کوئی آمدن پیدا نہ بھی کرتی ہو، قانون اس کی مالیت کی بنیاد پر آمدن تصور کرتے ہوئے اس پر ٹیکس عائد کرتا تھا۔ ابتدا ہی سے متنازع رہنے والی اس شق کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا گیا۔ میرے دوست جاننا چاہتا تھا کہ آخرکار اس کا کیا فیصلہ ہوا۔</p>
<p>میں نے اسے بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے دفعہ 7 ای کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا اور قرار دیا کہ یہ ابتدا ہی سے باطل تھی۔ اس کا فوری سوال تھا: ’’پھر ان گزشتہ برسوں میں جو ٹیکس میں نے ادا کیا، اس کا کیا ہوگا؟‘‘ یہی سادہ سا سوال ایک طویل گفتگو کا سبب بن گیا۔</p>
<h2><a id="اگر-ٹیکس-واجب-الادا-ہی-نہیں-تھا-تو-کیا-وہ-رقم-واپس-نہیں-ہونی-چاہیے" href="#اگر-ٹیکس-واجب-الادا-ہی-نہیں-تھا-تو-کیا-وہ-رقم-واپس-نہیں-ہونی-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اگر ٹیکس واجب الادا ہی نہیں تھا تو کیا وہ رقم واپس نہیں ہونی چاہیے؟</h2>
<p>اصولی طور پر، ایسی شق کے تحت ادا کی گئی رقم، جسے اب ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے، واپس آنی چاہیے۔</p>
<p>’’تو کیا مجھے رقم واپس مل جائے گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔</p>
<p>’’اصولی طور پر ہاں،‘‘ میں نے جواب دیا، پھر اسے طریقہ کار سمجھایا۔ اگر دفعہ 7 ای کی ٹیکس واجبیت پہلے جمع کرائے گئے ایسے ریٹرن میں شامل تھی جس میں بعد میں ترمیم نہیں کی گئی، تو ٹیکس دہندہ کو پہلے اپنی ٹیکس پوزیشن درست کرنا پڑ سکتی ہے، مثلاً ریٹرن میں ترمیم کے لیے اجازت طلب کرکے یا، جہاں کوئی حکم موجود ہو، تصحیح کی درخواست دائر کرکے۔ اس کے بعد بننے والے ریفنڈ کا دعویٰ کرنا اور اسے پراسیس کرانا ہوگا، جبکہ یہ رقم کسی بقایا ٹیکس واجبیت کے خلاف ایڈجسٹ بھی کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>’’اس میں کتنا وقت لگے گا؟‘‘ اس نے پوچھا۔</p>
<p>میں نے پُرامید جواب دیا: ’’اگر سب کچھ تیزی سے آگے بڑھے تو شاید چند ماہ۔‘‘</p>
<p>وہ مسکرایا، جیسا کہ ٹیکس ماہرین کی جانب سے ’’اگر سب کچھ تیزی سے آگے بڑھے‘‘ سن کر ٹیکس دہندگان اکثر مسکراتے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا حکومت اس رقم پر، جو برسوں سے اس کے پاس رہی، کوئی منافع یا معاوضہ بھی ادا کرے گی؟ ٹیکس قانون میں ایسی صورت میں معاوضے کی گنجائش موجود ہے جب واجب الادا ریفنڈ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ادا نہ کیا جائے۔ تاہم مشکل یہ طے کرنے میں ہے کہ قانونی طور پر ریفنڈ کب ’’واجب الادا‘‘ قرار پاتا ہے؛ معاوضے کا آغاز لازماً اس تاریخ سے نہیں ہوتا جب اصل رقم ادا کی گئی تھی۔</p>
<p>یہیں سے اس کا تجسس ایک اور سمت میں چلا گیا۔</p>
<h2><a id="لیکن-جب-حکومت-مقدمہ-جیت-جائے-تو-کیا-ہوتا-ہے" href="#لیکن-جب-حکومت-مقدمہ-جیت-جائے-تو-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>لیکن جب حکومت مقدمہ جیت جائے تو کیا ہوتا ہے؟</h2>
<p>میرے دوست کو پھر سپر ٹیکس کا تنازع یاد آیا۔ وسیع مفہوم میں سپر ٹیکس مخصوص آمدنی کی حد سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر عائد کیا جانے والا اضافی انکم ٹیکس ہے۔ بعض گزشتہ ادوار اور حتمی ٹیکس کے دائرے میں آنے والی آمدنی پر اس کے اطلاق کے باعث بڑے پیمانے پر مقدمات سامنے آئے۔ ٹیکس دہندگان نے اس ٹیکس کے مختلف پہلوؤں کو چیلنج کیا، تاہم بنیادی آئینی تنازع کا فیصلہ بالآخر بڑی حد تک ریاست کے حق میں ہوا۔</p>
<p>وہ ہماری سابقہ گفتگو کے ذریعے اس معاملے کے بعض حصوں سے واقف تھا۔</p>
<p>’’جب حکومت جیتی تو کیا اس نے ٹیکس دہندگان کا انتظار کیا کہ وہ اپنی مرضی سے ادائیگی کریں؟‘‘</p>
<p>ظاہر ہے ایسا نہیں ہوا۔ جب ٹیکس قانونی طور پر قابل وصول ہوجاتا ہے تو ریاستی مشینری اس کی وصولی کے لیے حرکت میں آجاتی ہے: مطالبات نافذ کیے جاتے ہیں، ادائیگیوں کا تقاضا کیا جاتا ہے اور تاخیر مزید نتائج کا باعث بن سکتی ہے، جن میں ڈیفالٹ سرچارج کا معاملہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>پھر اس نے بنیادی سوال کیا:</p>
<p>’’اگر حکومت جیتے تو وہ اپنی رقم فوری چاہتی ہے، لیکن اگر ٹیکس دہندہ جیت جائے تو اسے اپنی ہی رقم واپس لینے کے لیے ایک اور عمل سے کیوں گزرنا پڑتا ہے؟‘‘</p>
<p>اس کے قانونی جوابات موجود ہیں، لیکن دراصل وہ انصاف کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔</p>
<h2><a id="جائیداد-کا-ایک-پرانا-معاہدہ-یاد-آگیا" href="#جائیداد-کا-ایک-پرانا-معاہدہ-یاد-آگیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جائیداد کا ایک پرانا معاہدہ یاد آگیا</h2>
<p>اس کے سوال نے مجھے برسوں پہلے کے ایک جائیداد کے لین دین کی یاد دلائی۔ ایجنٹ نے فروخت کا ایک معاہدہ پیش کیا تو فروخت کنندہ کو محسوس ہوا کہ اس میں خریدار کے تقریباً ہر حق کا تحفظ کیا گیا ہے: خریدار کی ذمہ داریاں، عدم تکمیل کی صورت میں نتائج اور خریدار کے لیے حفاظتی اقدامات سب کچھ اس میں درج تھا۔</p>
<p>اس نے پوچھا: ’’یہ کیسا معاہدہ ہے؟ ہر چیز خریدار کے تحفظ کے لیے ہے۔ فروخت کنندہ کا کیا ہوگا؟‘‘</p>
<p>اس کی بے چینی ایک سادہ اصول کی عکاسی کرتی تھی: کوئی معاہدہ اس وقت تک اعتماد پیدا نہیں کرسکتا جب اس کے تحفظات، ازالے اور ذمہ داریاں بنیادی طور پر یک طرفہ ہوں۔ ایک پائیدار انتظام میں دونوں فریقوں کے جائز حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہی اصول ٹیکس کے معاملے پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو شہری اور ریاست کے درمیان وسیع تر سماجی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ ٹیکس دہندگان ریاست کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ قانونی ٹیکس عائد کرے، معلومات طلب کرے، ریٹرنز کی جانچ کرے اور واجب الادا ٹیکس وصول کرے۔ اس کے بدلے اگر ریاست یہ توقع رکھتی ہے کہ اس کی رقم واجب ہونے پر فوری ادا کی جائے، تو ٹیکس دہندگان بھی بجا طور پر یہ توقع کرسکتے ہیں کہ جو رقم واجب ہی نہیں تھی، اسے واپس کرنے میں بھی اتنی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ بصورت دیگر یہ تعلق اسی یک طرفہ جائیداد کے معاہدے سے مشابہ ہوجاتا ہے۔</p>
<h2><a id="بیس-سال-سے-زائد-عرصے-بعد-بھی-یاد-رہنے-والا-ایک-معمولی-ریفنڈ" href="#بیس-سال-سے-زائد-عرصے-بعد-بھی-یاد-رہنے-والا-ایک-معمولی-ریفنڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بیس سال سے زائد عرصے بعد بھی یاد رہنے والا ایک معمولی ریفنڈ</h2>
<p>ایک اور یاد تازہ ہوگئی۔ میں نے اپنی پہلی ملازمت کے دوران تقریباً 2003 میں اپنا پہلا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرایا تھا اور اس میں معمولی رقم ریفنڈ بن رہا تھا۔ مجھے بار بار ٹیکس دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑے اور نہ ہی درخواستوں کا سلسلہ جمع کرانا پڑا۔ نسبتاً مختصر عرصے کے بعد ریفنڈ واؤچر میرے پتے پر پہنچ گیا۔</p>
<p>دو دہائیاں گزرنے کے باوجود مجھے وہ واؤچر آج بھی یاد ہے، حالانکہ اس وقت میں ’’ٹیکس مورال‘‘، ’’طریقہ کار میں مساوات‘‘ یا ٹیکس دہندہ اور ریاست کے تعلق جیسے الفاظ میں نہیں سوچتا تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اس واؤچر میں یہ تینوں تصورات موجود تھے۔</p>
<p>نظام نے یہ تسلیم کیا کہ میں نے ضرورت سے زیادہ رقم ادا کی تھی اور زائد رقم واپس کردی۔ ٹیکس نظام میں داخل ہونے والے ایک شخص کے لیے یہ ایک مؤثر پیغام تھا: متعلقہ ادارہ صرف وصولی کے لیے موجود نہیں، بلکہ جو رقم واجب نہیں تھی، وہ واپس بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد سے میں مسلسل ٹیکس نظام کا حصہ ہوں۔</p>
<p>ایک معمولی ریفنڈ کو دو دہائیوں پر محیط ٹیکس تعمیل کی واحد وجہ قرار دینا مبالغہ ہوگا۔ تاہم ایسے تجربات اس بات پر اثرانداز ہوتے ہیں کہ لوگ اداروں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ٹیکس مورال صرف اپیلوں، جرمانوں، آڈٹ یا قانونی کارروائی سے نہیں بنتا؛ یہ عملی تجربات سے پروان چڑھتا ہے۔</p>
<h2><a id="ازخود-ریفنڈ-ایڈجسٹ-کرنے-کا-تنازع" href="#ازخود-ریفنڈ-ایڈجسٹ-کرنے-کا-تنازع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ازخود ریفنڈ ایڈجسٹ کرنے کا تنازع</h2>
<p>ہماری ٹیکس تاریخ اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔ ٹیکس دہندگان بعض اوقات گزشتہ برسوں کے ریفنڈ کو بعد کے ریٹرن میں واجب الادا ٹیکس کے مقابل ایڈجسٹ کرتے رہے ہیں۔ حکام نے اس عمل پر اعتراض کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ریٹرن میں ظاہر کردہ ریفنڈ کو ایڈجسٹ کرنے سے پہلے مقررہ طریقہ کار کے تحت اس کی باضابطہ طور پر تصدیق اور تعین ضروری ہے۔</p>
<p>ٹیکس دہندگان کا مؤقف ہے کہ جہاں ریفنڈ متنازع نہ ہو، وہاں حکومت کے پاس گزشتہ ریفنڈ کی رقم موجود ہونے کے باوجود دوبارہ ادائیگی کا تقاضا کرنا عملی طور پر زیادہ معنی نہیں رکھتا۔</p>
<p>اس معاملے پر مقدمات بھی ہوئے ہیں اور ان کے نتائج مختلف رہے ہیں۔ میں یہاں اس تنازع کو دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہتا، تاہم اس سے دفعہ 7 ای کے معاملے میں ایک ممکنہ حل ضرور سامنے آتا ہے: ٹیکس دہندگان کو ازخود ایڈجسٹمنٹ کرنے اور نئے تنازعات کو جنم دینے پر مجبور کرنے کے بجائے ٹیکس انتظامیہ خود تصدیق شدہ رقوم ان کے لیے دستیاب کیوں نہیں کرسکتی؟</p>
<h2><a id="ستمبر-ایک-موقع-فراہم-کرتا-ہے" href="#ستمبر-ایک-موقع-فراہم-کرتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ستمبر ایک موقع فراہم کرتا ہے</h2>
<p>وقت بھی اہم ہے۔ افراد 30 ستمبر کو ٹیکس سال 2026 کے ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی ٹیکس واجبیت کا حساب لگا کر واجب الادا رقم ادا کریں گے، جبکہ بعض کے پاس اب بھی وہ رقم ریاست کے پاس موجود ہوسکتی ہے جو انہوں نے دفعہ 7 ای کے تحت ادا کی تھی، جسے اب ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دیا جاچکا ہے۔</p>
<h2><a id="دونوں-کو-باہم-منسلک-کیوں-نہ-کیا-جائے" href="#دونوں-کو-باہم-منسلک-کیوں-نہ-کیا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دونوں کو باہم منسلک کیوں نہ کیا جائے؟</h2>
<p>ایف بی آر کے پاس پہلے ہی ضروری معلومات کا بڑا حصہ موجود ہے: کس شخص نے دفعہ 7 ای کے تحت ٹیکس واجبیت ظاہر کی، کتنی رقم ظاہر کی اور، زیادہ تر معاملات میں، آیا یہ رقم ادا بھی کی گئی یا نہیں۔</p>
<p>ہر ٹیکس دہندہ کو ریٹرن میں ترمیم، ریفنڈ کی درخواست اور اس کے بعد پیروی کے مراحل سے گزارنے کے بجائے ایف بی آر ایک خصوصی طریقہ کار وضع کرسکتا ہے۔ سادہ اور تصدیق شدہ معاملات میں وہ رقم کا تعین کرکے اسے ٹیکس دہندہ کے آن لائن اکاؤنٹ میں کریڈٹ کے طور پر ظاہر کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ٹیکس دہندہ موجودہ ریٹرن کے ساتھ واجب الادا ٹیکس کے مقابل اس تسلیم شدہ کریڈٹ کو استعمال کرسکے گا۔</p>
<p>یہ ازخود کیا جانے والا دعویٰ نہیں ہوگا، بلکہ ریاست خود اس رقم کی تصدیق اور اسے تسلیم کرچکی ہوگی۔</p>
<h2><a id="اس-سے-ریاست-کو-بھی-فائدہ-ہوسکتا-ہے" href="#اس-سے-ریاست-کو-بھی-فائدہ-ہوسکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اس سے ریاست کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے</h2>
<p>یہ حکومت کے لیے بھی عملی اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔ دفعہ 7 ای کے تحت ادا کی گئی تمام رقوم نقد واپس کرنے سے سرکاری نقد بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے۔ تاہم جہاں یہی ٹیکس دہندہ موجودہ سال کا ٹیکس ادا کرنے کا بھی پابند ہو، وہاں دفعہ 7 ای کے تحت تصدیق شدہ کریڈٹ کو موجودہ واجبیت کے مقابل ایڈجسٹ کرنا فوری ریفنڈ چیک جاری کیے بغیر تقریباً وہی نتیجہ حاصل کرسکتا ہے۔</p>
<p>مثلاً اگر کسی ٹیکس دہندہ نے دفعہ 7 ای کے تحت 200,000 روپے ادا کیے تھے اور اب اس پر 500,000 روپے ٹیکس واجب الادا ہے تو ایف بی آر سابقہ 200,000 روپے کو تسلیم کرکے باقی 300,000 روپے وصول کرسکتا ہے۔</p>
<p>اس طرح نہ ازخود ایڈجسٹمنٹ پر کوئی تنازع ہوگا اور نہ ہی فوری نقد ریفنڈ کی ضرورت پڑے گی۔ سابقہ رقم کا تصفیہ ہوجائے گا، موجودہ ٹیکس واجبیت وصول ہوجائے گی اور، سب سے اہم بات، ٹیکس دہندہ کو ایسا نظام نظر آئے گا جو دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔</p>
<h2><a id="ٹیکنالوجی-کو-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرنا-چاہیے" href="#ٹیکنالوجی-کو-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرنا-چاہیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹیکنالوجی کو بھی دونوں سمتوں میں کام کرنا چاہیے</h2>
<p>یہ بات ٹیکس انتظامیہ میں ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال کے بارے میں ایک سوال بھی اٹھاتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کو عموماً نفاذ اور نگرانی کے ایک ذریعے کے طور پر زیر بحث لایا جاتا ہے: یہ تضادات کی نشاندہی، اثاثوں کا سراغ لگانے، لین دین کا تقابل کرنے، ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کا پتا چلانے اور نوٹس جاری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<p>لیکن اگر ٹیکنالوجی اس رقم کی نشاندہی کرسکتی ہے جو ٹیکس دہندہ نے ریاست کو دینی ہے تو اسے اس رقم کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے جو ریاست نے ٹیکس دہندہ کو دینی ہے۔ جو نظام ڈیمانڈ پیدا کرسکتا ہے، اسے کریڈٹ بھی پیدا کرنا چاہیے۔</p>
<p>ایف بی آر کے ڈیٹا کو صرف ذمہ داریاں نافذ کرنے کے لیے نہیں بلکہ حقوق کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔</p>
<h2><a id="ہر-معاملہ-سادہ-نہیں-ہوگا" href="#ہر-معاملہ-سادہ-نہیں-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہر معاملہ سادہ نہیں ہوگا</h2>
<p>ہر معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوگا۔ بعض ٹیکس دہندگان پر بقایا مطالبات ہوسکتے ہیں، بعض کے معاملات میں ترمیم شدہ اسیسمنٹس یا زیر التوا کارروائیاں ہوسکتی ہیں، جبکہ کچھ معاملات میں ادائیگی کی تصدیق کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ایسے معاملات معمول کے طریقہ کار کے تحت نمٹائے جاسکتے ہیں۔ لیکن بعض معاملات کی پیچیدگی تمام معاملات کو پیچیدہ بنانے کا جواز نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں سادہ معاملات کی الیکٹرانک طور پر نشاندہی ممکن ہو، انہیں تیزی سے نمٹایا جانا چاہیے۔</p>
<p>طریقہ کار، اہلیت کی شرائط اور کریڈٹس یا ریفنڈز کے طریقہ کار پر ایف بی آر کا واضح سرکلر بھی غیر یقینی صورتحال کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<h2><a id="اصل-معاملہ-طریقہ-کار-میں-مساوات-کا-ہے" href="#اصل-معاملہ-طریقہ-کار-میں-مساوات-کا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اصل معاملہ طریقہ کار میں مساوات کا ہے</h2>
<p>ٹیکس انصاف کی بحث عموماً اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ کون کتنا ٹیکس ادا کرتا ہے، آیا مساوی آمدنی پر مساوی ٹیکس عائد ہونا چاہیے یا زیادہ استطاعت رکھنے والوں سے متناسب طور پر زیادہ ٹیکس لیا جانا چاہیے۔</p>
<p>تاہم طریقہ کار میں انصاف بھی اتنا ہی اہم ہے۔ لوگ کسی ناموافق نتیجے کو اس وقت زیادہ آسانی سے قبول کرسکتے ہیں جب انہیں طریقہ کار منصفانہ محسوس ہو۔ اس کے برعکس قانونی طور پر درست ٹیکس نظام بھی اپنی ساکھ کھو دیتا ہے اگر اس کے طریقہ کار مسلسل اسے چلانے والے ادارے کے حق میں جھکے ہوئے محسوس ہوں۔</p>
<p>اگر ریاست کے حق میں فیصلہ فوری وصولی کا باعث بنتا ہے جبکہ ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ محض ایک اور طویل عمل کا آغاز کرتا ہے تو تعلق غیر مساوی محسوس ہوتا ہے۔ قانون اس فرق کی وضاحت کرسکتا ہے، لیکن ٹیکس مورال اس عملی تجربے سے متاثر ہوتا ہے۔</p>
<h2><a id="معاشیات-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرتی-ہے" href="#معاشیات-بھی-دونوں-سمتوں-میں-کام-کرتی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>معاشیات بھی دونوں سمتوں میں کام کرتی ہے</h2>
<p>یہاں ایک معاشی اصول بھی کارفرما ہے۔ جب ٹیکس دہندہ حکومت کو واجب الادا رقم اپنے پاس رکھتا ہے تو ٹیکس قانون تاخیر کو مہنگا قرار دیتا ہے؛ یہی ایک وجہ ہے کہ ڈیفالٹ سرچارج عائد کیا جاتا ہے۔ رقم کی اپنی وقتی قدر ہوتی ہے۔</p>
<p>لیکن جب معاملہ الٹ ہو تو رقم اپنی قدر نہیں کھوتی۔ جس ٹیکس دہندہ نے ایسی رقم ادا کی جو قانوناً واجب ہی نہیں تھی، اس سے بھی اس رقم کے استعمال کا حق چھن گیا۔</p>
<p>کوئی کاروبار اسے اپنے ورکنگ کیپیٹل کے طور پر استعمال کرسکتا تھا، جبکہ کوئی فرد اسے سرمایہ کاری یا گھریلو اخراجات کے لیے استعمال کرسکتا تھا۔ قانون الگ سے یہ طے کرسکتا ہے کہ معاوضہ کب واجب ہوگا اور اس کی شرح کیا ہوگی۔ تاہم بنیادی نکتہ سادہ ہے: کسی دوسرے کی رقم اپنے پاس رکھنے کی لاگت صرف اس وقت اہم نہیں ہوسکتی جب ٹیکس دہندہ کے پاس حکومت کی رقم ہو۔</p>
<h2><a id="ہم-کس-قسم-کا-ٹیکس-تعلق-چاہتے-ہیں" href="#ہم-کس-قسم-کا-ٹیکس-تعلق-چاہتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہم کس قسم کا ٹیکس تعلق چاہتے ہیں؟</h2>
<p>پاکستان کو ٹیکس آمدنی کی ضرورت ہے اور اس کی مالی مشکلات سنگین ہیں۔ ایک پائیدار نظام ان افراد کو، جن پر قانونی طور پر ٹیکس واجب ہے، محض اپنی مرضی سے ٹیکس سے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا؛ ٹیکس وصولی کے لیے مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔</p>
<p>لیکن عمل درآمد اور اعتماد ایک دوسرے کے متبادل نہیں۔ ایک بالغ ٹیکس نظام کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>جب میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ ایف بی آر خود اس کی دفعہ 7 ای کے تحت سابقہ ادائیگی کو موجودہ ٹیکس واجبیت کے مقابل تسلیم کرسکتا ہے تو اس کا فوری جواب تھا:</p>
<p>’’اگر وہ خود یہ کام کردیں تو واقعی اچھا محسوس ہوگا۔‘‘</p>
<p>یہ الفاظ ٹیکس اصلاحات کے ایک ایسے پہلو کو اجاگر کرتے ہیں جسے اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ حکومتیں لوگوں کو ٹیکس کی پابندی پر آمادہ کرنے کے لیے خاصی کوشش کرتی ہیں؛ انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ لوگوں کو ٹیکس کی پابندی جاری رکھنے پر کیا چیز آمادہ کرتی ہے۔</p>
<p>میرا 2003 کا ریفنڈ معمولی رقم کا تھا، لیکن دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بھی مجھے یاد ہے۔ دفعہ 7 ای اب ایف بی آر کو بڑے پیمانے پر اسی نوعیت کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ ٹیکس دہندگان کو معمول کے ریفنڈ کے دعووں کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔</p>
<p>قانونی طور پر شاید یہ کافی ہو۔ یا پھر اس غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایک وفاقی ٹیکس کئی برسوں تک وصول کیا گیا اور بعد ازاں اسے ابتدا ہی سے غیر مؤثر قرار دے دیا گیا، ایف بی آر ایک واضح طریقہ کار جاری کرسکتا ہے، تصدیق شدہ ادائیگیوں کی نشاندہی کرسکتا ہے، موجودہ ٹیکس واجبیت کے مقابل مناسب ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دے سکتا ہے اور جہاں ایڈجسٹمنٹ ممکن نہ ہو وہاں نقد ریفنڈ کا عمل تیز کرسکتا ہے۔</p>
<p>اگر رقم قانوناً کبھی واجب ہی نہیں تھی تو اسے واپس کرنا کوئی رعایت نہیں۔ تاہم اسے واپس کرنے کا طریقہ ایک اہم پیغام دے سکتا ہے: ٹیکس دہندہ اور ریاست کا تعلق اس یک طرفہ جائیداد کے معاہدے جیسا نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>ٹیکس دہندے کو معاہدے کے اپنے حصے کی پاسداری کرنی چاہیے اور ریاست کو بھی اپنے حصے کی۔ بعض اوقات رقم واپس کرنے سے اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز حاصل کی جاسکتی ہے: اعتماد۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291320</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Sep 2026 17:13:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد رضا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/16170750a3eaa4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/16170750a3eaa4c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایندھن کی قیمتوں کا تعین—II</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں ماہ کی 11 تاریخ کو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107.86 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو مئی 2026 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں غیرمعمولی طور پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا، جس کی تفصیلات اوگرا کے روزانہ قیمتوں کے نظام میں رپورٹ کی گئی ہیں۔ اسی تناظر میں جدول نمبر ایک میں حالیہ قیمتوں کے رجحان کو ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدول نمبر ایک مہنگائی کی شرح میں فرق کو واضح کرتا ہے۔ 21 جولائی سے 29 اگست تک 39 روز کے عرصے میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 7.6 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم 29 اگست سے 11 ستمبر کے درمیان صرف 13 روز کے عرصے میں پٹرول کی قیمت میں 13.7 فیصد اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح کا فرق اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ پہلے عرصے کے دوران اس میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کے بعد کے نسبتاً مختصر عرصے میں قیمت 11.9 فیصد بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں جنگ کی بگڑتی صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار تیز ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ اب تنازع کی مدت اور شدت دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کرنے لگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں ٹینکرز کی آمدورفت پر حملوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ موخا پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بدستور محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نئی پیش رفت تیل بردار بحری جہازوں کی تباہی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں تعطل کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اوگرا کی جانب سے اختیار کیے گئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں کا تخمینہ لگایا جائے۔ امکان ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھے گی اور 29 اپریل 2026 کو ریکارڈ کی گئی 118.26 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو عبور کرجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ اندازوں کے مطابق اگر جنگ میں تعطل برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم برینٹ خام تیل کی اب تک کی بلند ترین قیمت 11 جولائی 2008 کو 147.02 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 ستمبر کی سطح کو بنیاد بناتے ہوئے عالمی منڈی میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 10، 20 اور 30 فیصد اضافے کی صورت میں ممکنہ خوردہ قیمتوں کے بھی مختلف تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار وہی ہے جو اوگرا اپنی روزانہ قیمتوں کے اعلانات میں اختیار کرتا ہے۔ توقع ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ فریٹ لاگت بھی بڑھے گی۔ یہ فرض کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی کم و بیش مستحکم شرحِ مبادلہ کی پالیسی برقرار رکھے گا، تاہم بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باعث روپے پر کچھ دباؤ آسکتا ہے۔ مزید برآں مختلف مارجنز کی مطلق مالیت میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کا مفروضہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان تخمینوں میں پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ملا کر 85 روپے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی متوقع قیمتیں جدول نمبر 2 میں دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آنے والے مہینوں میں پٹرول کی قیمت میں 6.6 فیصد سے 19.8 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی کہیں زیادہ تک پہنچ سکتی ہے اور اس صورتحال کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا خدشہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزل کی قیمت میں 7.2 فیصد سے 21.5 فیصد تک اضافے کا تخمینہ ہے اور اس کے نتیجے میں قیمت تقریباً 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے اشیا خصوصاً غذائی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر توجہ دے۔ بالخصوص 85 روپے فی لیٹر کی بلند پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کرنا پڑسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی کی شرح پر ایندھن کی بلند قیمتوں کے ممکنہ اثرات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 1.5 سے 4.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی شدت کے لحاظ سے مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 12.5 فیصد سے 15.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ 7 ستمبر تک پاکستان میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی خوردہ قیمتیں کئی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں۔ مثال کے طور پر 7 ستمبر کو پاکستان میں ڈیزل کی قیمت بنگلہ دیش کے مقابلے میں 48 فیصد جبکہ بھارت کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھی۔ اس صورتحال سے پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونا یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ہنگامی اقدامات کے طور پر پٹرولیم لیوی کو موجودہ سطح کے نصف سے بھی کم کیا جانا چاہیے۔ وفاقی بجٹ میں ہنگامی ضروریات کے لیے مختص 430 ارب روپے اس سے ہونے والے محصولات کے نقصان کے ایک حصے کو پورا کرسکتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات کو ممکنہ حد تک کم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں ماہ کی 11 تاریخ کو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 107.86 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو مئی 2026 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں غیرمعمولی طور پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>حالیہ ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا، جس کی تفصیلات اوگرا کے روزانہ قیمتوں کے نظام میں رپورٹ کی گئی ہیں۔ اسی تناظر میں جدول نمبر ایک میں حالیہ قیمتوں کے رجحان کو ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>جدول نمبر ایک مہنگائی کی شرح میں فرق کو واضح کرتا ہے۔ 21 جولائی سے 29 اگست تک 39 روز کے عرصے میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت مجموعی طور پر 7.6 فیصد بڑھ گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513512115b59.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم 29 اگست سے 11 ستمبر کے درمیان صرف 13 روز کے عرصے میں پٹرول کی قیمت میں 13.7 فیصد اضافہ ہوگیا۔</p>
<p>ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں مہنگائی کی شرح کا فرق اس سے بھی زیادہ نمایاں ہے۔ پہلے عرصے کے دوران اس میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کے بعد کے نسبتاً مختصر عرصے میں قیمت 11.9 فیصد بڑھ گئی۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ میں جنگ کی بگڑتی صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار تیز ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ اب تنازع کی مدت اور شدت دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کرنے لگی ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں ٹینکرز کی آمدورفت پر حملوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ یمن میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ موخا پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بدستور محدود ہے۔</p>
<p>ایک نئی پیش رفت تیل بردار بحری جہازوں کی تباہی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی صلاحیت متاثر ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں تعطل کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتی ہے۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اوگرا کی جانب سے اختیار کیے گئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں کا تخمینہ لگایا جائے۔ امکان ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھے گی اور 29 اپریل 2026 کو ریکارڈ کی گئی 118.26 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو عبور کرجائے گی۔</p>
<p>کچھ اندازوں کے مطابق اگر جنگ میں تعطل برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم برینٹ خام تیل کی اب تک کی بلند ترین قیمت 11 جولائی 2008 کو 147.02 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>11 ستمبر کی سطح کو بنیاد بناتے ہوئے عالمی منڈی میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 10، 20 اور 30 فیصد اضافے کی صورت میں ممکنہ خوردہ قیمتوں کے بھی مختلف تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار وہی ہے جو اوگرا اپنی روزانہ قیمتوں کے اعلانات میں اختیار کرتا ہے۔ توقع ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ فریٹ لاگت بھی بڑھے گی۔ یہ فرض کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی کم و بیش مستحکم شرحِ مبادلہ کی پالیسی برقرار رکھے گا، تاہم بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باعث روپے پر کچھ دباؤ آسکتا ہے۔ مزید برآں مختلف مارجنز کی مطلق مالیت میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کا مفروضہ اختیار کیا گیا ہے۔ ان تخمینوں میں پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو ملا کر 85 روپے فی لیٹر کی موجودہ سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p>پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی متوقع قیمتیں جدول نمبر 2 میں دی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/09/150513541313671.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>آنے والے مہینوں میں پٹرول کی قیمت میں 6.6 فیصد سے 19.8 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی کہیں زیادہ تک پہنچ سکتی ہے اور اس صورتحال کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا خدشہ موجود ہے۔</p>
<p>ڈیزل کی قیمت میں 7.2 فیصد سے 21.5 فیصد تک اضافے کا تخمینہ ہے اور اس کے نتیجے میں قیمت تقریباً 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے اشیا خصوصاً غذائی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر توجہ دے۔ بالخصوص 85 روپے فی لیٹر کی بلند پٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کرنا پڑسکتی ہے۔</p>
<p>ملک میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی کی شرح پر ایندھن کی بلند قیمتوں کے ممکنہ اثرات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 1.5 سے 4.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی شدت کے لحاظ سے مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 12.5 فیصد سے 15.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ 7 ستمبر تک پاکستان میں پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی خوردہ قیمتیں کئی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں۔ مثال کے طور پر 7 ستمبر کو پاکستان میں ڈیزل کی قیمت بنگلہ دیش کے مقابلے میں 48 فیصد جبکہ بھارت کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ تھی۔ اس صورتحال سے پاکستان کی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونا یقینی ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر ہنگامی اقدامات کے طور پر پٹرولیم لیوی کو موجودہ سطح کے نصف سے بھی کم کیا جانا چاہیے۔ وفاقی بجٹ میں ہنگامی ضروریات کے لیے مختص 430 ارب روپے اس سے ہونے والے محصولات کے نقصان کے ایک حصے کو پورا کرسکتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات کو ممکنہ حد تک کم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291269</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 14:04:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/151348152f8a1c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/151348152f8a1c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں کم پیداواری صلاحیت کے پیچھے ہنرمندی کا بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291278/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں نوجوان آبادی کو اکثر معاشی منافع کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک پرکشش تصور ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جس سے پاکستان کو وسیع ممکنہ افرادی قوت میسر ہے۔ تاہم محض نوجوان آبادی کسی ملک کے لیے معاشی فائدہ نہیں ہوتی۔ یہ اسی وقت فائدہ بن سکتی ہے جب نوجوان پیداواری کام کرنے، بہتر آمدنی کمانے اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں۔ پاکستان کا اصل چیلنج بھی یہی ہے۔ مسئلہ افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو زیادہ پیداواری بنانے کے لیے درکار مہارتوں کا فقدان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ کسی نوجوان کے لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 63 فیصد رہی، جبکہ اس میں نمایاں صنفی فرق موجود ہے؛ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد رہی۔ پاکستان میں اے ایس ای آر کے 2025 کے سروے نے اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورتِ حال کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں 6 سے 16 سال عمر کے 94 فیصد بچے اسکولوں میں داخل تھے، تاہم تیسری جماعت کے صرف 18 فیصد بچے اردو میں دوسری جماعت کی سطح کی کہانی پڑھ سکتے تھے، جبکہ صرف 10 فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم کا سوال حل کرسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبق واضح ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تربیت میں اصلاحات کمزور بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کا ازالہ نہیں کرسکتیں۔ اگر بچے بنیادی خواندگی، حساب اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کے بغیر پرائمری اسکول سے نکلیں گے تو بعد کی تربیت کے فوائد ہمیشہ محدود رہیں گے۔ لہٰذا مہارتوں سے متعلق پالیسی کا آغاز تکنیکی ادارے سے نہیں بلکہ کلاس روم سے ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت کے لیے اس کے مضمرات بہت اہم ہیں۔ عالمی بینک کے تازہ ترین ہیومن کیپیٹل انڈیکس پلس میں پاکستان نے 325 میں سے 130 پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ بنگلہ دیش کے 147 اور کم متوسط آمدنی والے ممالک کی اوسط 153 پوائنٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہم پلہ ممالک کے ساتھ اس فرق کو ختم کیا جائے تو مستقبل میں آمدنی میں 68 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے مہارتوں میں اصلاحات کو محض تعلیمی شعبے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے معاشی ترجیح قرار دینا چاہیے۔ پاکستان کے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو بھی مختلف زاویے سے جانچنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں فنی و پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں داخلوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 62 ہزار 500 رہنے کا تخمینہ ہے، جو دو سال قبل 4 لاکھ 53 ہزار 900 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ تاہم زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ کتنی نشستیں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کیا فارغ التحصیل افراد کو ملازمتیں ملتی ہیں؟ کیا آجر ان کی مہارتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایسا نظام جو صرف اسناد کی تعداد گنے لیکن ان نتائج کا ثبوت فراہم نہ کرسکے، دراصل سرگرمی کو ناپ رہا ہے، اثرات کو نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری اور مہارتوں سے متعلق بحث میں بھی زیادہ باریک بینی کی ضرورت ہے۔ کسی فارغ التحصیل فرد کا بے روزگار ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ غیر ہنرمند ہے؛ ممکن ہے مناسب ملازمتیں ہی بہت کم ہوں۔ دوسری جانب آجروں کو بھی مطلوبہ عملی صلاحیتوں کے حامل افراد بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ان دونوں پہلوؤں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے لیبر مارکیٹ سے متعلق بہتر معلومات درکار ہیں۔ طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سے پیشے تیزی سے فروغ پارہے ہیں، تربیتی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آجروں کو کن مہارتوں کی ضرورت ہے اور پالیسی سازوں کو یہ دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کہاں مہارتوں کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کے معاملے میں بھی یہی عملی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ہر کارکن کو آئی ٹی ماہر بنانے کی ضرورت نہیں۔ دکاندار، مشین آپریٹر، اکاؤنٹس اسسٹنٹ اور فیکٹری سپروائزر، سب کو مختلف نوعیت کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل خواندگی پیدا کرنا ہونا چاہیے، جس کے ساتھ ان شعبوں میں خصوصی تربیت دی جائے جہاں صنعتوں کو واقعی اس کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونِ ملک روزگار اس موقع کی ایک مثال ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار 500 کارکنوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی۔ ان میں تقریباً 61 فیصد غیر ہنرمند، 29 فیصد ہنرمند اور 5.5 فیصد نیم ہنرمند تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ہنر رکھنے والے کارکنوں کا مجموعی حصہ صرف 4.2 فیصد تھا۔ تاہم یہ اعداد و شمار متعلقہ ممالک میں طلب، ویزا پابندیوں اور دیگر عوامل کی بھی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں مہارتوں کے خلا کا خالص پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود مجموعی سمت واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتر طور پر تسلیم شدہ اسناد، زبان کی مہارت اور عملی تربیت پاکستانی کارکنوں کو زیادہ معاوضے والے مواقع کے لیے مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مقصد محض بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ بیرونِ ملک روزگار سے حاصل ہونے والی قدر میں اضافہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی منطق ملک کے اندر بھی لاگو ہوتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار صرف سستی مزدوری کی وجہ سے پاکستان نہیں آتے۔ انہیں ایسے ٹیکنیشنز، سپروائزرز، مینیجرز اور مقامی سپلائرز درکار ہوتے ہیں جو معیار، قابلِ اعتماد کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کے تقاضے پورے کرسکیں۔ اگر پاکستان کم قدر والی برآمدات سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے ایسی افرادی قوت درکار ہوگی جو زیادہ قدر والی اشیا اور خدمات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس لیے مہارتوں سے متعلق پالیسی صنعتی پالیسی کا بھی حصہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تربیتی پروگراموں کو ترجیحی شعبوں، صنعتی کلسٹرز اور برآمدی منڈیوں میں درکار صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے بھی مفید اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ویتنام کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط بنیادی خواندگی اور حساب کی صلاحیتیں کارکنوں کو زراعت سے زیادہ پیداواری روزگار کی جانب منتقل ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا کا پینانگ اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ توجہ ماڈل پیش کرتا ہے، جہاں صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مل کر کام کرتے ہیں اور کمپنیاں تربیتی بنیادی ڈھانچے، آلات اور مہارتوں میں اشتراک کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے فنی نصاب اور اسناد کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے زیادہ قریب سے منسلک کیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے مائسٹر اسکولز میں تعلیم و تربیت کو صنعتی طلب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی صنعت سے منسلک تربیتی پروگراموں اور اپرنٹس شپ کے تجربات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ان میں سے کسی بھی ماڈل کی مکمل نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنی معیشت کے تقاضوں کے مطابق نظام تشکیل دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کی قیادت میں قائم مہارتوں کی کونسلیں مہارتوں کی قلت کی نشاندہی، نصاب کو جدید بنانے اور تربیت حاصل کرنے والوں کی صلاحیتوں کے جائزے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نئے اداروں کے اعلانات سے پہلے موجودہ فنی اداروں کو جدید بنانے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری فنڈنگ کو بتدریج تربیت کی تکمیل، روزگار کے حصول اور آمدنی میں اضافے جیسے نتائج سے منسلک کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاوضے کے ساتھ اپرنٹس شپ پروگراموں کو وسعت دی جانی چاہیے، جبکہ ایسی چھوٹی کمپنیوں کے لیے ہدفی سرکاری معاونت فراہم کی جائے جو اکیلے کارکنوں کو تربیت دینے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں۔ تاہم مہارتوں میں اصلاحات اسی وقت کامیاب ہوں گی جب ان کے ساتھ ایسی پالیسیاں بھی ہوں جو کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری، توسیع اور بھرتیوں کی ترغیب دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ملازمتوں کے لیے لوگوں کو تربیت دینا جو موجود ہی نہیں، ترقی کی حکمتِ عملی نہیں؛ اسی طرح ایسی ملازمتیں پیدا کرنا بھی کارآمد نہیں جنہیں انجام دینے کے لیے پاکستانی افرادی قوت تیار نہ ہو۔ حقیقی موقع ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی نوجوان آبادی محض اس لیے آبادیاتی منافع میں تبدیل نہیں ہوگی کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ اسی وقت معاشی فائدہ بنے گی جب اسکول مضبوط بنیادی تعلیمی صلاحیتیں فراہم کریں، آجر تربیت کے عمل میں بامعنی کردار ادا کریں، نوجوانوں کو تعلیم سے روزگار تک واضح راستہ دکھائی دے اور کاروباری ادارے زیادہ پیداواری سرگرمیوں کی جانب منتقل ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصلاحات کے ایجنڈے کو کامیابی کا پیمانہ صرف بھرے ہوئے کلاس رومز یا جاری کی گئی اسناد کی تعداد کو نہیں بنانا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ حاصل شدہ مہارتوں، حاصل کی گئی ملازمتوں، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور آمدنی میں بہتری کی صورت میں آخرکار کیا نتائج سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں نوجوان آبادی کو اکثر معاشی منافع کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک پرکشش تصور ہے۔</strong></p>
<p>ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جس سے پاکستان کو وسیع ممکنہ افرادی قوت میسر ہے۔ تاہم محض نوجوان آبادی کسی ملک کے لیے معاشی فائدہ نہیں ہوتی۔ یہ اسی وقت فائدہ بن سکتی ہے جب نوجوان پیداواری کام کرنے، بہتر آمدنی کمانے اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں۔ پاکستان کا اصل چیلنج بھی یہی ہے۔ مسئلہ افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو زیادہ پیداواری بنانے کے لیے درکار مہارتوں کا فقدان ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ کسی نوجوان کے لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 63 فیصد رہی، جبکہ اس میں نمایاں صنفی فرق موجود ہے؛ مردوں میں شرحِ خواندگی 73 فیصد جبکہ خواتین میں 54 فیصد رہی۔ پاکستان میں اے ایس ای آر کے 2025 کے سروے نے اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورتِ حال کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>پنجاب میں 6 سے 16 سال عمر کے 94 فیصد بچے اسکولوں میں داخل تھے، تاہم تیسری جماعت کے صرف 18 فیصد بچے اردو میں دوسری جماعت کی سطح کی کہانی پڑھ سکتے تھے، جبکہ صرف 10 فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم کا سوال حل کرسکتے تھے۔</p>
<p>سبق واضح ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تربیت میں اصلاحات کمزور بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کا ازالہ نہیں کرسکتیں۔ اگر بچے بنیادی خواندگی، حساب اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کے بغیر پرائمری اسکول سے نکلیں گے تو بعد کی تربیت کے فوائد ہمیشہ محدود رہیں گے۔ لہٰذا مہارتوں سے متعلق پالیسی کا آغاز تکنیکی ادارے سے نہیں بلکہ کلاس روم سے ہونا چاہیے۔</p>
<p>معیشت کے لیے اس کے مضمرات بہت اہم ہیں۔ عالمی بینک کے تازہ ترین ہیومن کیپیٹل انڈیکس پلس میں پاکستان نے 325 میں سے 130 پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ بنگلہ دیش کے 147 اور کم متوسط آمدنی والے ممالک کی اوسط 153 پوائنٹس رہی۔</p>
<p>عالمی بینک کا اندازہ ہے کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہم پلہ ممالک کے ساتھ اس فرق کو ختم کیا جائے تو مستقبل میں آمدنی میں 68 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے مہارتوں میں اصلاحات کو محض تعلیمی شعبے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے معاشی ترجیح قرار دینا چاہیے۔ پاکستان کے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو بھی مختلف زاویے سے جانچنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 میں فنی و پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں داخلوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 62 ہزار 500 رہنے کا تخمینہ ہے، جو دو سال قبل 4 لاکھ 53 ہزار 900 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ تاہم زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ کتنی نشستیں موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ کیا فارغ التحصیل افراد کو ملازمتیں ملتی ہیں؟ کیا آجر ان کی مہارتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایسا نظام جو صرف اسناد کی تعداد گنے لیکن ان نتائج کا ثبوت فراہم نہ کرسکے، دراصل سرگرمی کو ناپ رہا ہے، اثرات کو نہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری اور مہارتوں سے متعلق بحث میں بھی زیادہ باریک بینی کی ضرورت ہے۔ کسی فارغ التحصیل فرد کا بے روزگار ہونا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ غیر ہنرمند ہے؛ ممکن ہے مناسب ملازمتیں ہی بہت کم ہوں۔ دوسری جانب آجروں کو بھی مطلوبہ عملی صلاحیتوں کے حامل افراد بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ان دونوں پہلوؤں کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے لیبر مارکیٹ سے متعلق بہتر معلومات درکار ہیں۔ طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کون سے پیشے تیزی سے فروغ پارہے ہیں، تربیتی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آجروں کو کن مہارتوں کی ضرورت ہے اور پالیسی سازوں کو یہ دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے کہ کہاں مہارتوں کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کے معاملے میں بھی یہی عملی طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ہر کارکن کو آئی ٹی ماہر بنانے کی ضرورت نہیں۔ دکاندار، مشین آپریٹر، اکاؤنٹس اسسٹنٹ اور فیکٹری سپروائزر، سب کو مختلف نوعیت کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مقصد وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل خواندگی پیدا کرنا ہونا چاہیے، جس کے ساتھ ان شعبوں میں خصوصی تربیت دی جائے جہاں صنعتوں کو واقعی اس کی ضرورت ہے۔</p>
<p>بیرونِ ملک روزگار اس موقع کی ایک مثال ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار 500 کارکنوں نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کرائی۔ ان میں تقریباً 61 فیصد غیر ہنرمند، 29 فیصد ہنرمند اور 5.5 فیصد نیم ہنرمند تھے۔</p>
<p>اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ہنر رکھنے والے کارکنوں کا مجموعی حصہ صرف 4.2 فیصد تھا۔ تاہم یہ اعداد و شمار متعلقہ ممالک میں طلب، ویزا پابندیوں اور دیگر عوامل کی بھی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے انہیں پاکستان میں مہارتوں کے خلا کا خالص پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود مجموعی سمت واضح ہے۔</p>
<p>بہتر طور پر تسلیم شدہ اسناد، زبان کی مہارت اور عملی تربیت پاکستانی کارکنوں کو زیادہ معاوضے والے مواقع کے لیے مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مقصد محض بیرونِ ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ بیرونِ ملک روزگار سے حاصل ہونے والی قدر میں اضافہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہی منطق ملک کے اندر بھی لاگو ہوتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار صرف سستی مزدوری کی وجہ سے پاکستان نہیں آتے۔ انہیں ایسے ٹیکنیشنز، سپروائزرز، مینیجرز اور مقامی سپلائرز درکار ہوتے ہیں جو معیار، قابلِ اعتماد کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کے تقاضے پورے کرسکیں۔ اگر پاکستان کم قدر والی برآمدات سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے ایسی افرادی قوت درکار ہوگی جو زیادہ قدر والی اشیا اور خدمات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس لیے مہارتوں سے متعلق پالیسی صنعتی پالیسی کا بھی حصہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>تربیتی پروگراموں کو ترجیحی شعبوں، صنعتی کلسٹرز اور برآمدی منڈیوں میں درکار صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>دنیا کے دیگر ممالک کے تجربات سے بھی مفید اسباق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ویتنام کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط بنیادی خواندگی اور حساب کی صلاحیتیں کارکنوں کو زراعت سے زیادہ پیداواری روزگار کی جانب منتقل ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>ملائیشیا کا پینانگ اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر اس حوالے سے خاص طور پر قابلِ توجہ ماڈل پیش کرتا ہے، جہاں صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مل کر کام کرتے ہیں اور کمپنیاں تربیتی بنیادی ڈھانچے، آلات اور مہارتوں میں اشتراک کرتی ہیں۔</p>
<p>ترکیہ نے فنی نصاب اور اسناد کو لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے زیادہ قریب سے منسلک کیا ہے، جبکہ جنوبی کوریا کے مائسٹر اسکولز میں تعلیم و تربیت کو صنعتی طلب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش نے بھی صنعت سے منسلک تربیتی پروگراموں اور اپرنٹس شپ کے تجربات کیے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ان میں سے کسی بھی ماڈل کی مکمل نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنی معیشت کے تقاضوں کے مطابق نظام تشکیل دینا ہوگا۔</p>
<p>صنعت کی قیادت میں قائم مہارتوں کی کونسلیں مہارتوں کی قلت کی نشاندہی، نصاب کو جدید بنانے اور تربیت حاصل کرنے والوں کی صلاحیتوں کے جائزے میں مدد دے سکتی ہیں۔ نئے اداروں کے اعلانات سے پہلے موجودہ فنی اداروں کو جدید بنانے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری فنڈنگ کو بتدریج تربیت کی تکمیل، روزگار کے حصول اور آمدنی میں اضافے جیسے نتائج سے منسلک کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>معاوضے کے ساتھ اپرنٹس شپ پروگراموں کو وسعت دی جانی چاہیے، جبکہ ایسی چھوٹی کمپنیوں کے لیے ہدفی سرکاری معاونت فراہم کی جائے جو اکیلے کارکنوں کو تربیت دینے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتیں۔ تاہم مہارتوں میں اصلاحات اسی وقت کامیاب ہوں گی جب ان کے ساتھ ایسی پالیسیاں بھی ہوں جو کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری، توسیع اور بھرتیوں کی ترغیب دیں۔</p>
<p>ایسی ملازمتوں کے لیے لوگوں کو تربیت دینا جو موجود ہی نہیں، ترقی کی حکمتِ عملی نہیں؛ اسی طرح ایسی ملازمتیں پیدا کرنا بھی کارآمد نہیں جنہیں انجام دینے کے لیے پاکستانی افرادی قوت تیار نہ ہو۔ حقیقی موقع ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں ہے۔</p>
<p>پاکستان کی نوجوان آبادی محض اس لیے آبادیاتی منافع میں تبدیل نہیں ہوگی کہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ اسی وقت معاشی فائدہ بنے گی جب اسکول مضبوط بنیادی تعلیمی صلاحیتیں فراہم کریں، آجر تربیت کے عمل میں بامعنی کردار ادا کریں، نوجوانوں کو تعلیم سے روزگار تک واضح راستہ دکھائی دے اور کاروباری ادارے زیادہ پیداواری سرگرمیوں کی جانب منتقل ہوسکیں۔</p>
<p>لہٰذا اصلاحات کے ایجنڈے کو کامیابی کا پیمانہ صرف بھرے ہوئے کلاس رومز یا جاری کی گئی اسناد کی تعداد کو نہیں بنانا چاہیے۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ حاصل شدہ مہارتوں، حاصل کی گئی ملازمتوں، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور آمدنی میں بہتری کی صورت میں آخرکار کیا نتائج سامنے آئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291278</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Sep 2026 17:25:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایم عبدالعلیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/15170150c08f43d.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/15170150c08f43d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
