<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 06:37:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 06:37:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں معاشی بحران اور قرضوں کا جال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288742/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جدید معیشت (مائیکرو اکنامکس) میں سرکاری قرضہ بذاتِ خود نہ تو کوئی برائی ہے اور نہ ہی کوئی اچھائی بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ قرض کس مقصد کے لیے لیا گیا ہے، اس رقم کو کتنی مہارت کے ساتھ استعمال کیا گیا اور پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے اس قرض کو واپس کرنے کی ملکی صلاحیت کتنی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل خطرہ صرف قرض لینے میں نہیں، بلکہ پیداواری صلاحیت، برآمدات، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور مالیاتی احتیاط کے بغیر بلاوجہ اور بے دردی سے قرضے لیتے چلے جانے میں چھپا ہے۔معاشی ماہرین عام طور پر کسی ملک کے قرضوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ”قرض اور جی ڈی پی کے تناسب“ سے لگاتے ہیں۔ یہ تناسب ملک کے کل سرکاری قرضے کا موازنہ اس کی معیشت کے کل حجم سے کرتا ہے۔ اگر یہ تناسب قابو میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملکی معیشت میں اتنی جان ہے کہ وہ اپنے واجبات ادا کر سکے۔ اس کے برعکس حد سے زیادہ بڑھا ہوا تناسب اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ملک مالیاتی بحران، مہنگائی کے دباؤ، سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے بھروسے اور بیرونی خطرات کا شکار ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضے عام طور پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک اندرونی قرضے اور دوسرے بیرونی قرضے۔ اندرونی قرضے ملک کے اندر سے ہی ٹریژری بلز، بانڈز اور کمرشل یا مرکزی بینکوں سے لیے جاتے ہیں۔ جبکہ بیرونی قرضے غیر ملکی حکومتوں، عالمی اداروں (جیسے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک)، بین الاقوامی بانڈ مارکیٹوں اور دوست ممالک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ملک کے اندر سے قرض لینے کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ چونکہ یہ ادائیگیاں مقامی کرنسی میں کرنی ہوتی ہیں، اس لیے حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ اس سے ملکی مالیاتی منڈیوں کو وسعت ملتی ہے اور لوگوں کی بچتیں تعمیری کاموں میں لگ جاتی ہیں۔ تاہم اگر حکومت حد سے زیادہ مقامی قرضے لینے لگے تو وہ بینکوں کا سارا پیسہ خود سمیٹ لیتی ہے اور سود کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں اکثر کمرشل بینکوں سے سب سے بڑی قرض دار بن جاتی ہیں، جس سے صنعت کاروں اور نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے بینکوں کے پاس پیسہ ہی نہیں جب کہ بچتا۔بیرونی قرضے زیادہ حساس نوعیت کا چیلنج پیش کرتے ہیں۔ غیر ملکی قرضے ترقی پذیر ممالک کو فوری طور پر نئے نوٹ چھاپے بغیر اپنے بنیادی ڈھانچے، توانائی کے منصوبوں، درآمدات اور ادائیگیوں کے خسارے کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن بیرونی قرضے ملک کو روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔ جب ملکی کرنسی کی قدر گرتی ہے تو ڈالر میں قرضوں کی واپسی کا بوجھ اچانک بہت بڑھ جاتا ہے۔ بہت سی ترقی پذیر معیشتیں تو ایسے چکر میں پھنس چکی ہیں جہاں وہ پرانے قرضے اتارنے کے لیے نئے قرضے لینے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی بڑی معیشتوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ قرضہ صرف اسی صورت میں بوجھ نہیں بنتا جب اسے پیداواری صلاحیت اور ملکی اداروں کی ساکھ کا سہارا حاصل ہو۔ مثال کے طور پر جاپان کا سرکاری قرضہ اس کی جی ڈی پی کے 200 فیصد سے بھی زیادہ ہے لیکن مارکیٹیں اب بھی جاپانی حکومت پر بھروسہ کرتی ہیں کیونکہ یہ قرض زیادہ تر ان کے اپنے ہی شہریوں سے لیا گیا ہے اور اسے ملک کی بھاری بچتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چین پر بھی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، لیکن اس کی مضبوط صنعتی پیداوار، بہترین برآمدی صلاحیت اور غیر ملکی زرمبادلہ کے وسیع ذخائر اسے مستحکم رکھتے ہیں۔ امریکہ کا معاملہ سب سے الگ ہے کیونکہ ڈالر دنیا کی سب سے بڑی ریزرو کرنسی (عالمی لین دین کی بنیادی کرنسی) ہے۔ امریکی قرضوں کی دستاویزات کو دنیا کا محفوظ ترین سرمایہ سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کو قرض لینے کی ایسی غیر معمولی سہولت حاصل ہے جو دنیا کے کسی اور ملک کے پاس نہیں۔اس لیے امریکہ کا موازنہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سے کرنا بالکل غلط ہے۔ ڈالر کو بین الاقوامی اعتماد کی بدولت ایک منفرد عالمی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان جیسے ممالک اپنی مالیاتی بے ضابطگیوں اور فضول خرچیوں کو پورا کرنے کے لیے اندھا دھند نئے نوٹ چھاپنے یا مزید قرضے لینے کا بوجھ زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کر سکتے، بصورت دیگر اس کے انتہائی بھیانک معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔جنوبی ایشیا کی معیشتوں میں بنگلہ دیش نے اب تک قرضوں کو سنبھالنے میں سب سے زیادہ سمجھداری دکھائی ہے۔ اس کا سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 32 فیصد کے قریب ہے، جسے اس کی مسلسل بڑھتی ہوئی ٹیکسٹائل برآمدات اور سمندر پار پاکستانیوں (یا بنگلہ دیشیوں) کی بھیجی گئی رقوم  کا سہارا حاصل ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کا بیرونی قرضہ تیزی سے بڑھا ہے، لیکن اس نے یہ رقم زیادہ تر بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی پر خرچ کی ہے، جس کی وجہ سے اس پر قرض کا بوجھ اب بھی قابو میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی صورتحال کچھ الگ اور پیچیدہ ہے۔ حالیہ اندازوں کے مطابق اس کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 82 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو کہ کافی زیادہ ہے لیکن بھارت کی وسیع ملکی مارکیٹ، متنوع صنعتی ڈھانچے، بڑھتی ہوئی برآمدات، مضبوط ٹیکنالوجی کا شعبہ اور مستحکم ادارے اسے اس بوجھ کو سنبھالنے کی طاقت دیتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کا زیادہ تر قرضہ اندرونی طور پر حاصل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرونی کرنسی کے جھٹکوں سے محفوظ رہتا ہے۔ نئی دہلی نے اب اپنی توجہ صرف بجٹ خسارے کو کم کرنے کے بجائے اس بات پر مرکوز کر دی ہے کہ قرضوں کو کیسے مستحکم رکھا جائے۔پاکستان کی صورتحال اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارا سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 83 فیصد تک جا پہنچا ہے جبکہ معاشی ترقی کی رفتار سست اور برآمدات انتہائی کمزور ہیں۔ ملک کو بیک وقت بجٹ خسارے، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ، ٹیکسوں کی انتہائی کم وصولی اور قلیل مدتی بیرونی قرضوں پر مسلسل انحصار جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے اکثر یہ قرضے ملکی پیداوار بڑھانے کے بجائے روزمرہ کے اخراجات چلانے، سبسڈیز دینے، سرکاری محکموں کے اخراجات پورے کرنے اور پرانے قرضوں کا سود چکانے کے لیے استعمال کیے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ملکی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ صرف قرضوں کا سود ادا کرنے میں نکل جاتا ہے، جس کی وجہ سے صحت، تعلیم، سڑکوں اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں بچتے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی بیرونی قرضوں کے بوجھ کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی معمولی گراوٹ بھی پاکستان پر قرضوں کا بوجھ اربوں روپے بڑھا دیتی ہے۔ یوں ملکی معیشت آئی ایم ایف کے پروگراموں، سخت شرائط اور نئے قرضوں کے ایک لامتناہی اور بھیانک چکر میں پھنس کر رہ گئی ہے تاہم  یاد رہے کہ صرف قرض لینا پاکستان کا سب سے بڑا دشمن نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرض سے اپنی معیشت کو ترقی نہیں دی۔ ملک اس وقت بھی زیادہ قرضہ برداشت کر سکتے ہیں جب وہ اس رقم سے کارخانے لگائیں، برآمدات بڑھائیں، سستی بجلی پیدا کریں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں۔ چین نے اپنے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے دوران بے تحاشہ قرضے لیے، لیکن ساتھ ہی اپنی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو اس بلندی پر پہنچا دیا کہ قرض کوئی مسئلہ ہی نہ رہا۔ اس کے برعکس پاکستان قرضے کی رقم کو پائیدار معاشی طاقت میں تبدیل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کو قابو میں رکھنے اور معیشت کو بچانے کے لیے چند بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ قرض کا پیسہ صرف ان منصوبوں پر لگایا جائے جو مستقبل میں آمدنی پیدا کر سکیں، جیسے کہ بنیادی ڈھانچہ، توانائی کے سستے منصوبے، مواصلات، تعلیم اور برآمداتی صنعتیں۔دوسرا بیرونی قرضے ہمیشہ ہماری برآمدی آمدنی اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک حد کے اندر ہونے چاہئیں۔ قلیل مدتی کمرشل قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار معیشت کو کسی بھی وقت اچانک بحران کا شکار کر سکتا ہے۔تیسرا مالیاتی نظم و ضبط اور سخت پرہیز بے حد ضروری ہے۔ سرکاری اخراجات میں فضول خرچی، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں (جیسے پی آئی اے، اسٹیل ملز وغیرہ) کو پالنا اور بلا ضرورت سبسڈیز دینا قرضوں کے بوجھ کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا ہے۔چوتھا ٹیکسوں کے نظام میں فوری اصلاحات لازم ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کا دائرہ انتہائی تنگ ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو مجبوراً غریبوں پر بالواسطہ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں یا پھر مستقل قرضے مانگنے پڑتے ہیں۔ جب تک ٹیکس وصولی کا دائرہ کار وسیع نہیں کیا جاتا، قرضوں کا یہ دلدل ختم نہیں ہو سکتا۔آخر میں سیاسی تسلسل اور ملکی اداروں کی ساکھ سب سے اہم چیزیں ہیں۔ سرمایہ کار اور قرض دینے والے ادارے صرف کسی ملک کی معیشت کو نہیں دیکھتے بلکہ وہاں کے نظامِ حکومت پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ پالیسیوں کا بار بار بدلنا، کرپشن اور سیاسی عدم استحکام قرض لینے کی لاگت کو بڑھا دیتے ہیں اور عالمی برادری کا اعتماد کمزور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض اگر عقل مندی، پیداواری صلاحیت اور ڈسپلن کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ملک کی ترقی کا سفر تیز کر سکتا ہے لیکن جب اصلاحات سے بچنے، ساختی تبدیلیاں ٹالنے اور ترقی کے بجائے عیاشیوں پر خرچ کرنے کے لیے قرضہ لیا جائے تو یہی قرض خاموشی سے قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ پاکستان آج بالکل اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جدید معیشت (مائیکرو اکنامکس) میں سرکاری قرضہ بذاتِ خود نہ تو کوئی برائی ہے اور نہ ہی کوئی اچھائی بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ قرض کس مقصد کے لیے لیا گیا ہے، اس رقم کو کتنی مہارت کے ساتھ استعمال کیا گیا اور پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے اس قرض کو واپس کرنے کی ملکی صلاحیت کتنی ہے۔</strong></p>
<p>اصل خطرہ صرف قرض لینے میں نہیں، بلکہ پیداواری صلاحیت، برآمدات، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور مالیاتی احتیاط کے بغیر بلاوجہ اور بے دردی سے قرضے لیتے چلے جانے میں چھپا ہے۔معاشی ماہرین عام طور پر کسی ملک کے قرضوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ”قرض اور جی ڈی پی کے تناسب“ سے لگاتے ہیں۔ یہ تناسب ملک کے کل سرکاری قرضے کا موازنہ اس کی معیشت کے کل حجم سے کرتا ہے۔ اگر یہ تناسب قابو میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملکی معیشت میں اتنی جان ہے کہ وہ اپنے واجبات ادا کر سکے۔ اس کے برعکس حد سے زیادہ بڑھا ہوا تناسب اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ملک مالیاتی بحران، مہنگائی کے دباؤ، سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے بھروسے اور بیرونی خطرات کا شکار ہو رہا ہے۔</p>
<p>قرضے عام طور پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ایک اندرونی قرضے اور دوسرے بیرونی قرضے۔ اندرونی قرضے ملک کے اندر سے ہی ٹریژری بلز، بانڈز اور کمرشل یا مرکزی بینکوں سے لیے جاتے ہیں۔ جبکہ بیرونی قرضے غیر ملکی حکومتوں، عالمی اداروں (جیسے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک)، بین الاقوامی بانڈ مارکیٹوں اور دوست ممالک سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ملک کے اندر سے قرض لینے کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ چونکہ یہ ادائیگیاں مقامی کرنسی میں کرنی ہوتی ہیں، اس لیے حکومت کے لیے انہیں سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ اس سے ملکی مالیاتی منڈیوں کو وسعت ملتی ہے اور لوگوں کی بچتیں تعمیری کاموں میں لگ جاتی ہیں۔ تاہم اگر حکومت حد سے زیادہ مقامی قرضے لینے لگے تو وہ بینکوں کا سارا پیسہ خود سمیٹ لیتی ہے اور سود کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں اکثر کمرشل بینکوں سے سب سے بڑی قرض دار بن جاتی ہیں، جس سے صنعت کاروں اور نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے بینکوں کے پاس پیسہ ہی نہیں جب کہ بچتا۔بیرونی قرضے زیادہ حساس نوعیت کا چیلنج پیش کرتے ہیں۔ غیر ملکی قرضے ترقی پذیر ممالک کو فوری طور پر نئے نوٹ چھاپے بغیر اپنے بنیادی ڈھانچے، توانائی کے منصوبوں، درآمدات اور ادائیگیوں کے خسارے کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں لیکن بیرونی قرضے ملک کو روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔ جب ملکی کرنسی کی قدر گرتی ہے تو ڈالر میں قرضوں کی واپسی کا بوجھ اچانک بہت بڑھ جاتا ہے۔ بہت سی ترقی پذیر معیشتیں تو ایسے چکر میں پھنس چکی ہیں جہاں وہ پرانے قرضے اتارنے کے لیے نئے قرضے لینے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>دنیا کی بڑی معیشتوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ قرضہ صرف اسی صورت میں بوجھ نہیں بنتا جب اسے پیداواری صلاحیت اور ملکی اداروں کی ساکھ کا سہارا حاصل ہو۔ مثال کے طور پر جاپان کا سرکاری قرضہ اس کی جی ڈی پی کے 200 فیصد سے بھی زیادہ ہے لیکن مارکیٹیں اب بھی جاپانی حکومت پر بھروسہ کرتی ہیں کیونکہ یہ قرض زیادہ تر ان کے اپنے ہی شہریوں سے لیا گیا ہے اور اسے ملک کی بھاری بچتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چین پر بھی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، لیکن اس کی مضبوط صنعتی پیداوار، بہترین برآمدی صلاحیت اور غیر ملکی زرمبادلہ کے وسیع ذخائر اسے مستحکم رکھتے ہیں۔ امریکہ کا معاملہ سب سے الگ ہے کیونکہ ڈالر دنیا کی سب سے بڑی ریزرو کرنسی (عالمی لین دین کی بنیادی کرنسی) ہے۔ امریکی قرضوں کی دستاویزات کو دنیا کا محفوظ ترین سرمایہ سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کو قرض لینے کی ایسی غیر معمولی سہولت حاصل ہے جو دنیا کے کسی اور ملک کے پاس نہیں۔اس لیے امریکہ کا موازنہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سے کرنا بالکل غلط ہے۔ ڈالر کو بین الاقوامی اعتماد کی بدولت ایک منفرد عالمی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان جیسے ممالک اپنی مالیاتی بے ضابطگیوں اور فضول خرچیوں کو پورا کرنے کے لیے اندھا دھند نئے نوٹ چھاپنے یا مزید قرضے لینے کا بوجھ زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کر سکتے، بصورت دیگر اس کے انتہائی بھیانک معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔جنوبی ایشیا کی معیشتوں میں بنگلہ دیش نے اب تک قرضوں کو سنبھالنے میں سب سے زیادہ سمجھداری دکھائی ہے۔ اس کا سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 32 فیصد کے قریب ہے، جسے اس کی مسلسل بڑھتی ہوئی ٹیکسٹائل برآمدات اور سمندر پار پاکستانیوں (یا بنگلہ دیشیوں) کی بھیجی گئی رقوم  کا سہارا حاصل ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش کا بیرونی قرضہ تیزی سے بڑھا ہے، لیکن اس نے یہ رقم زیادہ تر بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی پر خرچ کی ہے، جس کی وجہ سے اس پر قرض کا بوجھ اب بھی قابو میں ہے۔</p>
<p>بھارت کی صورتحال کچھ الگ اور پیچیدہ ہے۔ حالیہ اندازوں کے مطابق اس کا قرض اور جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 82 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو کہ کافی زیادہ ہے لیکن بھارت کی وسیع ملکی مارکیٹ، متنوع صنعتی ڈھانچے، بڑھتی ہوئی برآمدات، مضبوط ٹیکنالوجی کا شعبہ اور مستحکم ادارے اسے اس بوجھ کو سنبھالنے کی طاقت دیتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارت کا زیادہ تر قرضہ اندرونی طور پر حاصل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرونی کرنسی کے جھٹکوں سے محفوظ رہتا ہے۔ نئی دہلی نے اب اپنی توجہ صرف بجٹ خسارے کو کم کرنے کے بجائے اس بات پر مرکوز کر دی ہے کہ قرضوں کو کیسے مستحکم رکھا جائے۔پاکستان کی صورتحال اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہمارا سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 83 فیصد تک جا پہنچا ہے جبکہ معاشی ترقی کی رفتار سست اور برآمدات انتہائی کمزور ہیں۔ ملک کو بیک وقت بجٹ خسارے، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ، ٹیکسوں کی انتہائی کم وصولی اور قلیل مدتی بیرونی قرضوں پر مسلسل انحصار جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے اکثر یہ قرضے ملکی پیداوار بڑھانے کے بجائے روزمرہ کے اخراجات چلانے، سبسڈیز دینے، سرکاری محکموں کے اخراجات پورے کرنے اور پرانے قرضوں کا سود چکانے کے لیے استعمال کیے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ملکی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ صرف قرضوں کا سود ادا کرنے میں نکل جاتا ہے، جس کی وجہ سے صحت، تعلیم، سڑکوں اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے حکومت کے پاس پیسے ہی نہیں بچتے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی بیرونی قرضوں کے بوجھ کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی معمولی گراوٹ بھی پاکستان پر قرضوں کا بوجھ اربوں روپے بڑھا دیتی ہے۔ یوں ملکی معیشت آئی ایم ایف کے پروگراموں، سخت شرائط اور نئے قرضوں کے ایک لامتناہی اور بھیانک چکر میں پھنس کر رہ گئی ہے تاہم  یاد رہے کہ صرف قرض لینا پاکستان کا سب سے بڑا دشمن نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرض سے اپنی معیشت کو ترقی نہیں دی۔ ملک اس وقت بھی زیادہ قرضہ برداشت کر سکتے ہیں جب وہ اس رقم سے کارخانے لگائیں، برآمدات بڑھائیں، سستی بجلی پیدا کریں اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں۔ چین نے اپنے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے دوران بے تحاشہ قرضے لیے، لیکن ساتھ ہی اپنی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو اس بلندی پر پہنچا دیا کہ قرض کوئی مسئلہ ہی نہ رہا۔ اس کے برعکس پاکستان قرضے کی رقم کو پائیدار معاشی طاقت میں تبدیل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔</p>
<p>قرضوں کو قابو میں رکھنے اور معیشت کو بچانے کے لیے چند بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ قرض کا پیسہ صرف ان منصوبوں پر لگایا جائے جو مستقبل میں آمدنی پیدا کر سکیں، جیسے کہ بنیادی ڈھانچہ، توانائی کے سستے منصوبے، مواصلات، تعلیم اور برآمداتی صنعتیں۔دوسرا بیرونی قرضے ہمیشہ ہماری برآمدی آمدنی اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک حد کے اندر ہونے چاہئیں۔ قلیل مدتی کمرشل قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار معیشت کو کسی بھی وقت اچانک بحران کا شکار کر سکتا ہے۔تیسرا مالیاتی نظم و ضبط اور سخت پرہیز بے حد ضروری ہے۔ سرکاری اخراجات میں فضول خرچی، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں (جیسے پی آئی اے، اسٹیل ملز وغیرہ) کو پالنا اور بلا ضرورت سبسڈیز دینا قرضوں کے بوجھ کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا ہے۔چوتھا ٹیکسوں کے نظام میں فوری اصلاحات لازم ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کا دائرہ انتہائی تنگ ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو مجبوراً غریبوں پر بالواسطہ ٹیکس لگانے پڑتے ہیں یا پھر مستقل قرضے مانگنے پڑتے ہیں۔ جب تک ٹیکس وصولی کا دائرہ کار وسیع نہیں کیا جاتا، قرضوں کا یہ دلدل ختم نہیں ہو سکتا۔آخر میں سیاسی تسلسل اور ملکی اداروں کی ساکھ سب سے اہم چیزیں ہیں۔ سرمایہ کار اور قرض دینے والے ادارے صرف کسی ملک کی معیشت کو نہیں دیکھتے بلکہ وہاں کے نظامِ حکومت پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ پالیسیوں کا بار بار بدلنا، کرپشن اور سیاسی عدم استحکام قرض لینے کی لاگت کو بڑھا دیتے ہیں اور عالمی برادری کا اعتماد کمزور کرتے ہیں۔</p>
<p>قرض اگر عقل مندی، پیداواری صلاحیت اور ڈسپلن کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ملک کی ترقی کا سفر تیز کر سکتا ہے لیکن جب اصلاحات سے بچنے، ساختی تبدیلیاں ٹالنے اور ترقی کے بجائے عیاشیوں پر خرچ کرنے کے لیے قرضہ لیا جائے تو یہی قرض خاموشی سے قوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ پاکستان آج بالکل اسی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288742</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 13:02:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہارون رشید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15123501ec46f84.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15123501ec46f84.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی مالی معاونت کے بلند اہداف، حصول کتنا ممکن؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288695/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بجٹ برائے 27-2026 میں مجموعی بیرونی امداد (غیر ملکی فنڈز) کی مد میں 23.37 ارب امریکی ڈالر کی آمد کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ کی مختصر دستاویز میں یہ رقم پاکستانی روپے میں 6 ہزار 780 ارب روپے&lt;/strong&gt; &lt;strong&gt;بتائی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تخمینے کے لیے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا متوقع تبادلہ نرخ 290 روپے فی ڈالر رکھا گیا ہے، جس سے بیرونی امداد کا یہ تخمینہ 23.37 ارب ڈالر بنتا ہے۔ان بیرونی فنڈز میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے جمع کرائے گئے  ٹائم ڈپازٹس کا تسلسل بھی شامل ہے، جو 27-2026 میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر بنتے ہیں، جن میں سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں دیئے گئے مزید 3 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ چنانچہ ان ٹائم ڈپازٹس (معیادی امانتوں) کو نکال کر 27-2026 میں بیرونی امداد کی آمد کا کل ہدف 11.37 ارب ڈالر رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تخمینے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ 27-2026 میں بیرونی فنڈز کی آمد میں ایک بہت بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ معیادی امانتوں کے بغیر 26 مئی تک 26-2025 کے لیے بیرونی فنڈز کی آمد کا ترمیمی تخمینہ 9.07 ارب ڈالر رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگلے مالی سال (27-2026) کے لیے متوقع 11.37 ارب ڈالر کا ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فنڈز کی آمد میں تقریباً 25 فیصد کی ریکارڈ شرحِ نمو کی توقع رکھی جا رہی ہے۔دوسری طرف 26-2025 کے دوران فنڈز کی آمد میں واضح کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ سال 25-2024 میں معیادی امانتوں کے بغیر کل بیرونی فنڈز 12.14 ارب ڈالر تھے، جس کا مطلب ہے کہ 26-2025 میں بیرونی امداد کی آمد میں 25.3 فیصد تک کی بڑی گراوٹ آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 27-2026 کے بجٹ میں بیرونی فنڈز کے حوالے سے اتنی خوش فہمی کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کا مسلسل تعاون ہے؟ لیکن آئی ایم ایف پروگرام تو 26-2025 میں بھی کامیابی سے چل رہا تھا، اس کے باوجود فنڈز کی آمد میں کمی دیکھی گئی۔کیا پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں اپنے انتہائی مفید سفارتی ثالثی کے کردار کے بعد عالمی برادری سے نئی اور اضافی امداد کی توقع ہے؟اس حوالے سے زیادہ معروضی اور غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ہو گا کہ ہم 25-2024 کے مقابلے میں 26-2025 کے دوران مختلف ذرائع سے آنے والے فنڈز میں تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ وزارتِ اقتصادی امور نے 26-2025 کے لیے مختلف فنڈز کے جو اہداف مقرر کیے تھے ان کے اصل فنڈز سے فرق کو جانچنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائم ڈپازٹس کی تجدید یا نئے فنڈز کے علاوہ پاکستان کے پاس بیرونی امداد حاصل کرنے کے پانچ بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں دو طرفہ (دو ممالک کے درمیان) اور کثیر طرفہ (بین الاقوامی اداروں جیسے عالمی بینک وغیرہ سے) فنڈز، بانڈز جاری کرکے حاصل ہونے والے خالص فنڈز، بین الاقوامی تجارتی (کمرشل) بینکوں سے لیے جانے والے قرضے اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے آنے والا پیسہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جب آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہو تو اس ذریعے سے بھی فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔سال 26-2025 میں دو طرفہ فنڈز اپنے ہدف کے کافی قریب رہے ہیں۔ تاہم اس کی مجموعی مالیت محض 1.32 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 1.00 ارب ڈالر سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کے ہیں۔ ایک دہائی قبل ایسا دور بھی تھا جب سی پیک کے تحت چین سے بڑے پیمانے پر دو طرفہ فنڈز پاکستان آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر طرفہ فنڈنگ آسان شرائط پر قرض (رعایتی مالی اعانت) کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔ تاہم سال 26-2025 میں اس ذریعے سے حاصل ہونے والے فنڈز میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ 26-2025 کے لیے اس کا ہدف تقریباً 5 ارب ڈالر تھا، کیونکہ 25-2024 میں اصل فنڈز 4.8 ارب ڈالر رہے تھے۔ لیکن 26-2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں کثیر طرفہ ذرائع سے صرف 3.1 ارب ڈالر حاصل ہو سکے، جو ہدف سے تقریباً 38 فیصد کم ہیں۔سب سے بڑی گراوٹ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے آنے والے فنڈز میں ہوئی، جو روایتی طور پر آسان شرائط پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے بڑے ادارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی امداد ہدف سے 53 فیصد کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی بینک سے ملنے والے فنڈز میں 10 فیصد کی کمی متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈز میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی اس بڑی کمی کے اسباب کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 26-2025 میں بانڈز کی فروخت کے ذریعے 40 کروڑ (0.4) ارب ڈالر کے قرض کا ہدف تھا اور کامیابی کا ایک اہم اشارہ یہ ہے کہ اس مد میں اصل رقم 1 ارب ڈالر تک حاصل کی گئی ہے۔ چین میں پانڈا بانڈز کے اجراء کا عمل کامیابی سے شروع ہو چکا ہے۔سال 26-2025 کی دوسری بڑی ناکامی بین الاقوامی تجارتی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں میں دیکھی گئی۔ 25-2024 میں تجارتی بینکوں سے 4.3 ارب ڈالر کے بھاری قرضوں کے بعد 26-2025 کے لیے اس کا ہدف 3.1 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر 26 مئی تک بیرونی تجارتی بینکوں نے پاکستان کو صرف 20 کروڑ (0.2) ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔ اس بڑی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی چل رہا ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی پورے سال 26-2025 کے دوران جون 2025 کے 14.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں بہتر رہے ہیں اور سال کے اختتام پر 16.5 ارب ڈالر پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مالی ساکھ اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے باوجود عالمی تجارتی بینکوں کا پاکستان کو قرض دینے سے گریز کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا گہرا تجزیہ لازمی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کثیر طرفہ فنڈز میں بھی کمی کا سامنا تھا، پاکستان کو اس تجارتی فنڈنگ کی سخت ضرورت تھی۔آخری اہم ذریعہ  نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہے۔ یہ بیرونی فنڈز کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ 26-2025 کے دوران اس اسکیم میں 2.5 ارب ڈالر کے فنڈز آئے، جبکہ 25-2024 میں یہ حجم 1.9 ارب ڈالر تھا اور اس کا بجٹ ہدف حیرت انگیز طور پر محض 60 کروڑ (0.6) ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔مجموعی طور پر معیادی امانتوں کے تسلسل کو نکال کر 26-2025 میں پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی فنڈز کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ بجٹ ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔ یہ حجم 25-2024 کے اصل فنڈز کے مقابلے میں 32 فیصد تک کی بڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔اس ناکامی کے باوجود وزارتِ خزانہ نے معیادی امانتوں کے بغیر 27-2026 کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی امداد کا ہدف مقرر کیا ہے، جو 26-2025 کی اصل سطح سے 15 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اس بڑھے ہوئے ہدف کی بظاہر وجہ بیرونی قرضوں کی واپسی کی ادائیگیوں کا بوجھ ہے، جس کے 12 ارب ڈالر سے یکدم بڑھ کر 19.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، بشرطیکہ کچھ معیادی امانتوں کی واپسی کی مدت پوری ہو جائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے جمع کرائے گئے فنڈز کے ساتھ ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کمی کو سعودی عرب کی جانب سے امانتوں میں اضافے کے ذریعے سنبھال لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں 27-2026 میں ادائیگیوں کا توازن دوبارہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دو طرفہ، کثیر طرفہ اور بیرونی تجارتی بینکوں کے ذرائع سے بڑے فنڈز کا حصول یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر اگلے سال آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بجٹ برائے 27-2026 میں مجموعی بیرونی امداد (غیر ملکی فنڈز) کی مد میں 23.37 ارب امریکی ڈالر کی آمد کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ کی مختصر دستاویز میں یہ رقم پاکستانی روپے میں 6 ہزار 780 ارب روپے</strong> <strong>بتائی گئی ہے۔</strong></p>
<p>اس تخمینے کے لیے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا متوقع تبادلہ نرخ 290 روپے فی ڈالر رکھا گیا ہے، جس سے بیرونی امداد کا یہ تخمینہ 23.37 ارب ڈالر بنتا ہے۔ان بیرونی فنڈز میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے جمع کرائے گئے  ٹائم ڈپازٹس کا تسلسل بھی شامل ہے، جو 27-2026 میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر بنتے ہیں، جن میں سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں دیئے گئے مزید 3 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ چنانچہ ان ٹائم ڈپازٹس (معیادی امانتوں) کو نکال کر 27-2026 میں بیرونی امداد کی آمد کا کل ہدف 11.37 ارب ڈالر رہ جاتا ہے۔</p>
<p>اس تخمینے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ 27-2026 میں بیرونی فنڈز کی آمد میں ایک بہت بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ معیادی امانتوں کے بغیر 26 مئی تک 26-2025 کے لیے بیرونی فنڈز کی آمد کا ترمیمی تخمینہ 9.07 ارب ڈالر رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگلے مالی سال (27-2026) کے لیے متوقع 11.37 ارب ڈالر کا ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فنڈز کی آمد میں تقریباً 25 فیصد کی ریکارڈ شرحِ نمو کی توقع رکھی جا رہی ہے۔دوسری طرف 26-2025 کے دوران فنڈز کی آمد میں واضح کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ سال 25-2024 میں معیادی امانتوں کے بغیر کل بیرونی فنڈز 12.14 ارب ڈالر تھے، جس کا مطلب ہے کہ 26-2025 میں بیرونی امداد کی آمد میں 25.3 فیصد تک کی بڑی گراوٹ آئی ہے۔</p>
<p>اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 27-2026 کے بجٹ میں بیرونی فنڈز کے حوالے سے اتنی خوش فہمی کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کا مسلسل تعاون ہے؟ لیکن آئی ایم ایف پروگرام تو 26-2025 میں بھی کامیابی سے چل رہا تھا، اس کے باوجود فنڈز کی آمد میں کمی دیکھی گئی۔کیا پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں اپنے انتہائی مفید سفارتی ثالثی کے کردار کے بعد عالمی برادری سے نئی اور اضافی امداد کی توقع ہے؟اس حوالے سے زیادہ معروضی اور غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ہو گا کہ ہم 25-2024 کے مقابلے میں 26-2025 کے دوران مختلف ذرائع سے آنے والے فنڈز میں تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ وزارتِ اقتصادی امور نے 26-2025 کے لیے مختلف فنڈز کے جو اہداف مقرر کیے تھے ان کے اصل فنڈز سے فرق کو جانچنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ٹائم ڈپازٹس کی تجدید یا نئے فنڈز کے علاوہ پاکستان کے پاس بیرونی امداد حاصل کرنے کے پانچ بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں دو طرفہ (دو ممالک کے درمیان) اور کثیر طرفہ (بین الاقوامی اداروں جیسے عالمی بینک وغیرہ سے) فنڈز، بانڈز جاری کرکے حاصل ہونے والے خالص فنڈز، بین الاقوامی تجارتی (کمرشل) بینکوں سے لیے جانے والے قرضے اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے آنے والا پیسہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جب آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہو تو اس ذریعے سے بھی فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔سال 26-2025 میں دو طرفہ فنڈز اپنے ہدف کے کافی قریب رہے ہیں۔ تاہم اس کی مجموعی مالیت محض 1.32 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 1.00 ارب ڈالر سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کے ہیں۔ ایک دہائی قبل ایسا دور بھی تھا جب سی پیک کے تحت چین سے بڑے پیمانے پر دو طرفہ فنڈز پاکستان آتے تھے۔</p>
<p>کثیر طرفہ فنڈنگ آسان شرائط پر قرض (رعایتی مالی اعانت) کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔ تاہم سال 26-2025 میں اس ذریعے سے حاصل ہونے والے فنڈز میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ 26-2025 کے لیے اس کا ہدف تقریباً 5 ارب ڈالر تھا، کیونکہ 25-2024 میں اصل فنڈز 4.8 ارب ڈالر رہے تھے۔ لیکن 26-2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں کثیر طرفہ ذرائع سے صرف 3.1 ارب ڈالر حاصل ہو سکے، جو ہدف سے تقریباً 38 فیصد کم ہیں۔سب سے بڑی گراوٹ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے آنے والے فنڈز میں ہوئی، جو روایتی طور پر آسان شرائط پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے بڑے ادارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی امداد ہدف سے 53 فیصد کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی بینک سے ملنے والے فنڈز میں 10 فیصد کی کمی متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈز میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی اس بڑی کمی کے اسباب کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سال 26-2025 میں بانڈز کی فروخت کے ذریعے 40 کروڑ (0.4) ارب ڈالر کے قرض کا ہدف تھا اور کامیابی کا ایک اہم اشارہ یہ ہے کہ اس مد میں اصل رقم 1 ارب ڈالر تک حاصل کی گئی ہے۔ چین میں پانڈا بانڈز کے اجراء کا عمل کامیابی سے شروع ہو چکا ہے۔سال 26-2025 کی دوسری بڑی ناکامی بین الاقوامی تجارتی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں میں دیکھی گئی۔ 25-2024 میں تجارتی بینکوں سے 4.3 ارب ڈالر کے بھاری قرضوں کے بعد 26-2025 کے لیے اس کا ہدف 3.1 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر 26 مئی تک بیرونی تجارتی بینکوں نے پاکستان کو صرف 20 کروڑ (0.2) ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔ اس بڑی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی چل رہا ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی پورے سال 26-2025 کے دوران جون 2025 کے 14.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں بہتر رہے ہیں اور سال کے اختتام پر 16.5 ارب ڈالر پر موجود ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی مالی ساکھ اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے باوجود عالمی تجارتی بینکوں کا پاکستان کو قرض دینے سے گریز کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا گہرا تجزیہ لازمی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کثیر طرفہ فنڈز میں بھی کمی کا سامنا تھا، پاکستان کو اس تجارتی فنڈنگ کی سخت ضرورت تھی۔آخری اہم ذریعہ  نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہے۔ یہ بیرونی فنڈز کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ 26-2025 کے دوران اس اسکیم میں 2.5 ارب ڈالر کے فنڈز آئے، جبکہ 25-2024 میں یہ حجم 1.9 ارب ڈالر تھا اور اس کا بجٹ ہدف حیرت انگیز طور پر محض 60 کروڑ (0.6) ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔مجموعی طور پر معیادی امانتوں کے تسلسل کو نکال کر 26-2025 میں پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی فنڈز کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ بجٹ ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔ یہ حجم 25-2024 کے اصل فنڈز کے مقابلے میں 32 فیصد تک کی بڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔اس ناکامی کے باوجود وزارتِ خزانہ نے معیادی امانتوں کے بغیر 27-2026 کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی امداد کا ہدف مقرر کیا ہے، جو 26-2025 کی اصل سطح سے 15 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اس بڑھے ہوئے ہدف کی بظاہر وجہ بیرونی قرضوں کی واپسی کی ادائیگیوں کا بوجھ ہے، جس کے 12 ارب ڈالر سے یکدم بڑھ کر 19.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، بشرطیکہ کچھ معیادی امانتوں کی واپسی کی مدت پوری ہو جائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے جمع کرائے گئے فنڈز کے ساتھ ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کمی کو سعودی عرب کی جانب سے امانتوں میں اضافے کے ذریعے سنبھال لیا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان اس وقت بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں 27-2026 میں ادائیگیوں کا توازن دوبارہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دو طرفہ، کثیر طرفہ اور بیرونی تجارتی بینکوں کے ذرائع سے بڑے فنڈز کا حصول یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر اگلے سال آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288695</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:34:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/14131505326e25c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/14131505326e25c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوکنائزیشن: پاکستان کے توانائی بحران کا نیا حل؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288673/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا بجلی کا شعبہ ایک شیطانی چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ 2025 کے آغاز تک گردشی قرضہ 2.4 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ بیشتر بجلی گھر کم استعداد پر چلنے کے باوجود ملک اب بھی آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو بھاری مستقل استعداد ادائیگیاں (کیپیسٹی چارجز) کر رہا ہے۔ دوسری جانب گھریلو اور تجارتی سطح پر شمسی توانائی کے نظام تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں تاکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچا جا سکے۔ اس رجحان کے نتیجے میں ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد کم ہو رہی ہے، فی یونٹ لاگت بڑھ رہی ہے اور پورے نظام پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بحران میں ایک پوشیدہ موقع بھی موجود ہے۔ پاکستان ایشیا میں شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے بہترین وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ترسیلاتِ زر کے دنیا کے بڑے راہداری نظاموں میں اس کا شمار ہوتا ہے، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ کرپٹو اثاثوں اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام سے بھی واقف ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ایک ابھرتے ہوئے مالیاتی تصور، یعنی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن پر غور کرنا ایک منفرد موقع ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکنائزیشن وہ عمل ہے جس میں کسی بنیادی اثاثے سے وابستہ ملکیت یا حقوق کو بلاک چین پر ایک ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی اثاثے کی جزوی ملکیت ممکن ہو جاتی ہے، جسے محفوظ اور شفاف انداز میں ضابطہ کار کے تحت چلنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بہاولپور میں قائم کسی شمسی توانائی منصوبے کی مستقبل کی آمدنی کو ہزاروں ڈیجیٹل سرمایہ کاری یونٹس میں تقسیم کرکے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اب محض تجرباتی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کے شعبے میں ٹوکنائزیشن پر مبنی مالیاتی نظام عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اٹلی میں اینیل نے مائیکا (MiCA) ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت بلاک چین پر مبنی جزوی ملکیت کے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ آسٹریلیا میں پاور لیجر بلاک چین کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی براہِ راست خرید و فروخت ممکن بنا رہا ہے، جبکہ امریکا میں پلورل انرجی جیسی کمپنیاں درمیانے درجے کے صاف توانائی منصوبوں کے لیے ٹوکنائزیشن کے ذریعے زیادہ سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ محض نظریاتی تصور نہیں بلکہ حقیقی کاروباری ماڈلز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حالات میں اس تصور کی افادیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے، گردشی قرضے کے بحران نے توانائی کے شعبے میں مالیاتی اور شفافیت کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ موجودہ نظام میں غیر واضح واجبات، تاخیر سے ادائیگیاں، خودمختار ضمانتیں اور وقتی مالی امداد معمول بن چکی ہیں۔ مستقبل کی بجلی آمدنی کی بنیاد پر جاری کیے جانے والے ٹوکنائزڈ مالیاتی آلات نظام میں زیادہ شفافیت، خودکار ادائیگیوں اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹوکنائزیشن بنیادی ساختی مسائل ختم نہیں کرے گی، لیکن اس سے مالیاتی شفافیت ضرور بہتر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری اہم وجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ اگرچہ ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، لیکن بیشتر اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ملکی بنیادی ڈھانچے میں طویل المدتی اور شفاف سرمایہ کاری کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ موجود نہیں۔ اگر انہیں کسی شمسی یا آبی بجلی منصوبے میں ضابطہ کار کے تحت ٹوکنائزڈ حصہ اور باقاعدہ منافع کی سہولت دی جائے تو یہ سرکاری اداروں کے روایتی کاغذی سرمایہ کاری منصوبوں سے کہیں زیادہ پرکشش ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری وجہ ضابطہ جاتی ماحول میں آنے والی تبدیلی ہے۔ پی وی اے آر اے اور پی ڈی اے اے جیسے اداروں کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام کو مرکزی معیشت کا حصہ بنانے کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔ اگرچہ ضابطہ جاتی وضاحت ابھی مکمل نہیں، تاہم کرپٹو اپنانے کے حوالے سے پاکستان دنیا کی نمایاں منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔ طلب پہلے ہی موجود ہے، ضرورت صرف ایک ایسے معتبر اور ضابطہ کار کے تابع نظام کی ہے جو ڈیجیٹل سرمایہ کو قیاس آرائی کے بجائے پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی وجہ شمسی توانائی کا تیزی سے پھیلتا ہوا استعمال ہے۔ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے تحت چھتوں پر نصب شمسی نظاموں کی مجموعی استعداد تقریباً 6 گیگاواٹ تک پہنچنے والی ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں شمسی پینلز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ صارفین مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے متبادل ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ یہ غیر مرکزی توانائی انقلاب روایتی مالیاتی ڈھانچوں سے باہر وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ ایسے منتشر قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو قابلِ تجدید توانائی سرٹیفکیٹس، کاربن کریڈٹ اسکیموں اور تصدیق شدہ بجلی پیداوار کی بنیاد پر جزوی سرمایہ کاری ماڈلز کے ذریعے رسمی سرمایہ منڈیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ ڈیجیٹل سیکیورٹیز، ٹوکن کی تحویل، سرمایہ کاروں کا تحفظ، ٹیکس نظام اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر پاکستان میں ابھی جامع قانون سازی درکار ہے۔ اگرچہ اسمارٹ کنٹریکٹس کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن کوڈنگ کی خامیاں یا نظم و نسق کی کمزوریاں بڑے مالیاتی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک کے سرمایہ جاتی ضوابط اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط بھی سرحد پار ٹوکنائزڈ سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی بڑا مسئلہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آئی پی پیز کے متعدد معاہدوں پر نظرثانی نے معاہدوں کے تقدس پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار مستقبل میں اسی وقت اعتماد کریں گے جب انہیں یقین ہو کہ ڈیجیٹل ٹوکن کے ساتھ وابستہ حقوق قانونی طور پر مکمل طور پر قابلِ نفاذ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ایک اہم سماجی انصاف کا پہلو بھی موجود ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے، بینکنگ نظام سے وابستہ اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد فطری طور پر ایسے ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارمز سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر اس پہلو پر توجہ نہ دی گئی تو ٹوکنائزیشن کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی ملکیت نسبتاً خوشحال طبقے تک محدود ہو جائے، جبکہ توانائی کی بڑھتی لاگت کا بوجھ زیادہ کمزور اور غریب طبقات پر پڑتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ خدشات اس تصور کو مسترد نہیں کرتے بلکہ صرف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد میں احتیاط اور درست مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق پاکستان کو ملک گیر سطح پر وسیع منصوبے شروع کرنے کے بجائے پہلے محدود اور سخت نگرانی میں پائلٹ منصوبوں سے آغاز کرنا چاہیے۔ پی وی اے آر اے اور پی ڈی اے اے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تعاون سے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کر سکتے ہیں، جہاں قابلِ تجدید توانائی کی ٹوکنائزیشن کے محدود تجرباتی منصوبے، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، شروع کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں پہلے سے قائم شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو، جو مخصوص قابلِ تجدید توانائی زونز میں موجود ہیں، پائلٹ پروگرام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں خطرات نسبتاً کم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ معلومات کے افشا، ڈیجیٹل تحویل، ثانوی منڈی میں ٹریڈنگ اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق واضح اور شفاف ضابطے بھی وضع کیے جانے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت پاکستان میں بجلی کی منڈی میں جاری اصلاحات بھی ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں کہ مالیاتی تصفیے کے نظام کو ابتدا ہی سے جدید خطوط پر استوار کیا جائے، بجائے اس کے کہ بعد میں اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے توانائی بحران کا حل صرف ٹوکنائزیشن نہیں ہے۔ اس کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر ضابطہ کاری اور مناسب ٹیرف ڈھانچے بھی ناگزیر ہیں۔ تاہم توانائی کے شعبے میں ایک ایسی چیز کی شدید کمی ہے جو سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرے، شفافیت میں اضافہ کرے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے نئے سرمایہ کاری مواقع پیدا کرے، اور ٹوکنائزیشن اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بنیادیں اب کافی حد تک پختہ ہو چکی ہیں، سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی موجود ہے، قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کی صلاحیت بھی مسلمہ ہے، اور پاکستان بھی پہلی بار ضابطہ کار کے تحت ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے لیے ضروری ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا شروع کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مصنف سوال اٹھاتا ہے کہ آیا پالیسی ساز ٹوکنائزیشن کو واقعی معاشی اصلاحات کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اپنائیں گے یا پھر یہ بھی محض ایک ایسا دلکش تصور ثابت ہوگا جس پر کچھ عرصہ گفتگو تو ہوگی، مگر بعد ازاں وہ ان بے شمار پالیسیوں کی طرح فراموش کر دیا جائے گا جو کبھی عملی جامہ ہی نہ پہن سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا بجلی کا شعبہ ایک شیطانی چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ 2025 کے آغاز تک گردشی قرضہ 2.4 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ بیشتر بجلی گھر کم استعداد پر چلنے کے باوجود ملک اب بھی آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو بھاری مستقل استعداد ادائیگیاں (کیپیسٹی چارجز) کر رہا ہے۔ دوسری جانب گھریلو اور تجارتی سطح پر شمسی توانائی کے نظام تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں تاکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچا جا سکے۔ اس رجحان کے نتیجے میں ادائیگی کرنے والے صارفین کی تعداد کم ہو رہی ہے، فی یونٹ لاگت بڑھ رہی ہے اور پورے نظام پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔</strong></p>
<p>تاہم اس بحران میں ایک پوشیدہ موقع بھی موجود ہے۔ پاکستان ایشیا میں شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کے بہترین وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک کی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ترسیلاتِ زر کے دنیا کے بڑے راہداری نظاموں میں اس کا شمار ہوتا ہے، جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ کرپٹو اثاثوں اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام سے بھی واقف ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ایک ابھرتے ہوئے مالیاتی تصور، یعنی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن پر غور کرنا ایک منفرد موقع ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ٹوکنائزیشن وہ عمل ہے جس میں کسی بنیادی اثاثے سے وابستہ ملکیت یا حقوق کو بلاک چین پر ایک ڈیجیٹل ٹوکن کی شکل دی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی اثاثے کی جزوی ملکیت ممکن ہو جاتی ہے، جسے محفوظ اور شفاف انداز میں ضابطہ کار کے تحت چلنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خریدا اور فروخت کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بہاولپور میں قائم کسی شمسی توانائی منصوبے کی مستقبل کی آمدنی کو ہزاروں ڈیجیٹل سرمایہ کاری یونٹس میں تقسیم کرکے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ اب محض تجرباتی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کے شعبے میں ٹوکنائزیشن پر مبنی مالیاتی نظام عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اٹلی میں اینیل نے مائیکا (MiCA) ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت بلاک چین پر مبنی جزوی ملکیت کے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ آسٹریلیا میں پاور لیجر بلاک چین کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کی براہِ راست خرید و فروخت ممکن بنا رہا ہے، جبکہ امریکا میں پلورل انرجی جیسی کمپنیاں درمیانے درجے کے صاف توانائی منصوبوں کے لیے ٹوکنائزیشن کے ذریعے زیادہ سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ محض نظریاتی تصور نہیں بلکہ حقیقی کاروباری ماڈلز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے حالات میں اس تصور کی افادیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے، گردشی قرضے کے بحران نے توانائی کے شعبے میں مالیاتی اور شفافیت کے مسائل کو جنم دیا ہے۔ موجودہ نظام میں غیر واضح واجبات، تاخیر سے ادائیگیاں، خودمختار ضمانتیں اور وقتی مالی امداد معمول بن چکی ہیں۔ مستقبل کی بجلی آمدنی کی بنیاد پر جاری کیے جانے والے ٹوکنائزڈ مالیاتی آلات نظام میں زیادہ شفافیت، خودکار ادائیگیوں اور مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹوکنائزیشن بنیادی ساختی مسائل ختم نہیں کرے گی، لیکن اس سے مالیاتی شفافیت ضرور بہتر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری اہم وجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ اگرچہ ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، لیکن بیشتر اوورسیز پاکستانیوں کے پاس ملکی بنیادی ڈھانچے میں طویل المدتی اور شفاف سرمایہ کاری کا کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ موجود نہیں۔ اگر انہیں کسی شمسی یا آبی بجلی منصوبے میں ضابطہ کار کے تحت ٹوکنائزڈ حصہ اور باقاعدہ منافع کی سہولت دی جائے تو یہ سرکاری اداروں کے روایتی کاغذی سرمایہ کاری منصوبوں سے کہیں زیادہ پرکشش ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>تیسری وجہ ضابطہ جاتی ماحول میں آنے والی تبدیلی ہے۔ پی وی اے آر اے اور پی ڈی اے اے جیسے اداروں کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام کو مرکزی معیشت کا حصہ بنانے کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔ اگرچہ ضابطہ جاتی وضاحت ابھی مکمل نہیں، تاہم کرپٹو اپنانے کے حوالے سے پاکستان دنیا کی نمایاں منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔ طلب پہلے ہی موجود ہے، ضرورت صرف ایک ایسے معتبر اور ضابطہ کار کے تابع نظام کی ہے جو ڈیجیٹل سرمایہ کو قیاس آرائی کے بجائے پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرے۔</p>
<p>چوتھی وجہ شمسی توانائی کا تیزی سے پھیلتا ہوا استعمال ہے۔ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کے تحت چھتوں پر نصب شمسی نظاموں کی مجموعی استعداد تقریباً 6 گیگاواٹ تک پہنچنے والی ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں شمسی پینلز کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ صارفین مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے متبادل ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔ یہ غیر مرکزی توانائی انقلاب روایتی مالیاتی ڈھانچوں سے باہر وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ ایسے منتشر قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو قابلِ تجدید توانائی سرٹیفکیٹس، کاربن کریڈٹ اسکیموں اور تصدیق شدہ بجلی پیداوار کی بنیاد پر جزوی سرمایہ کاری ماڈلز کے ذریعے رسمی سرمایہ منڈیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں۔ ڈیجیٹل سیکیورٹیز، ٹوکن کی تحویل، سرمایہ کاروں کا تحفظ، ٹیکس نظام اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر پاکستان میں ابھی جامع قانون سازی درکار ہے۔ اگرچہ اسمارٹ کنٹریکٹس کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن کوڈنگ کی خامیاں یا نظم و نسق کی کمزوریاں بڑے مالیاتی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک کے سرمایہ جاتی ضوابط اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط بھی سرحد پار ٹوکنائزڈ سرمایہ کاری کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی بڑا مسئلہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آئی پی پیز کے متعدد معاہدوں پر نظرثانی نے معاہدوں کے تقدس پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی سرمایہ کار مستقبل میں اسی وقت اعتماد کریں گے جب انہیں یقین ہو کہ ڈیجیٹل ٹوکن کے ساتھ وابستہ حقوق قانونی طور پر مکمل طور پر قابلِ نفاذ ہوں گے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ایک اہم سماجی انصاف کا پہلو بھی موجود ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے، بینکنگ نظام سے وابستہ اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد فطری طور پر ایسے ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارمز سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر اس پہلو پر توجہ نہ دی گئی تو ٹوکنائزیشن کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ توانائی کے منصوبوں کی ملکیت نسبتاً خوشحال طبقے تک محدود ہو جائے، جبکہ توانائی کی بڑھتی لاگت کا بوجھ زیادہ کمزور اور غریب طبقات پر پڑتا رہے۔</p>
<p>تاہم یہ خدشات اس تصور کو مسترد نہیں کرتے بلکہ صرف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد میں احتیاط اور درست مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>مصنف کے مطابق پاکستان کو ملک گیر سطح پر وسیع منصوبے شروع کرنے کے بجائے پہلے محدود اور سخت نگرانی میں پائلٹ منصوبوں سے آغاز کرنا چاہیے۔ پی وی اے آر اے اور پی ڈی اے اے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تعاون سے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کر سکتے ہیں، جہاں قابلِ تجدید توانائی کی ٹوکنائزیشن کے محدود تجرباتی منصوبے، خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے، شروع کیے جائیں۔</p>
<p>اس سلسلے میں پہلے سے قائم شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کو، جو مخصوص قابلِ تجدید توانائی زونز میں موجود ہیں، پائلٹ پروگرام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں خطرات نسبتاً کم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ معلومات کے افشا، ڈیجیٹل تحویل، ثانوی منڈی میں ٹریڈنگ اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق واضح اور شفاف ضابطے بھی وضع کیے جانے چاہییں۔</p>
<p>مصنف کے مطابق کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت پاکستان میں بجلی کی منڈی میں جاری اصلاحات بھی ایک اہم موقع فراہم کرتی ہیں کہ مالیاتی تصفیے کے نظام کو ابتدا ہی سے جدید خطوط پر استوار کیا جائے، بجائے اس کے کہ بعد میں اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔</p>
<p>مصنف واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے توانائی بحران کا حل صرف ٹوکنائزیشن نہیں ہے۔ اس کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر ضابطہ کاری اور مناسب ٹیرف ڈھانچے بھی ناگزیر ہیں۔ تاہم توانائی کے شعبے میں ایک ایسی چیز کی شدید کمی ہے جو سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرے، شفافیت میں اضافہ کرے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے نئے سرمایہ کاری مواقع پیدا کرے، اور ٹوکنائزیشن اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>مصنف کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بنیادیں اب کافی حد تک پختہ ہو چکی ہیں، سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی موجود ہے، قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کی صلاحیت بھی مسلمہ ہے، اور پاکستان بھی پہلی بار ضابطہ کار کے تحت ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے لیے ضروری ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا شروع کر چکا ہے۔</p>
<p>آخر میں مصنف سوال اٹھاتا ہے کہ آیا پالیسی ساز ٹوکنائزیشن کو واقعی معاشی اصلاحات کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اپنائیں گے یا پھر یہ بھی محض ایک ایسا دلکش تصور ثابت ہوگا جس پر کچھ عرصہ گفتگو تو ہوگی، مگر بعد ازاں وہ ان بے شمار پالیسیوں کی طرح فراموش کر دیا جائے گا جو کبھی عملی جامہ ہی نہ پہن سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288673</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 23:36:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سردار معظم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13230410ed96401.webp" type="image/webp" medium="image" height="288" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13230410ed96401.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب تعاون تنازع میں بدل جائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288715/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”میں نے تو اپنی طرف سے پوری جان لگا دی، مگر وہ منحوس شعبہ کوئی جواب ہی نہیں دیتا۔“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”دوسرے شعبے کا سربراہ تو جیسے ہم سے دشمنی نکالنے میں ہی لطف لیتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”میں کیا کروں، جب میرے آدھے سے زیادہ کام کا انحصار دوسرے شعبوں کی منظوری پر ہے، اور وہ اتنے سست اور نااہل ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور کوچ مجھے لوگوں سے اکثر اسی نوعیت کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ زیادہ تر افراد کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور بھرپور محنت سے نبھاتے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے نتائج ان کی کوششوں کے مطابق سامنے نہیں آتے۔ جب میں اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے شعبوں کی عدم تعاون اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اپنی ٹیم سے مؤثر تعاون حاصل کرنا تو ہر ادارے کی ترجیح ہوتا ہے، جبکہ صارفین کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے پر بھی تحقیق، تربیت اور توجہ کا بڑا حصہ صرف کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم اور تزویراتی پہلو، جسے حکمتِ عملی کی تشکیل اور تربیتی پروگراموں دونوں میں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، یہ ہے کہ ادارے کے دوسرے شعبوں کے ساتھ مؤثر تعاون اور اشتراکِ عمل کیسے پیدا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ادارے کے دیگر شعبوں کی اہمیت کم ہے؟ کیا یہ ایسا ثانوی موضوع ہے جسے کبھی سنجیدگی سے زیرِ بحث ہی نہیں لایا جاتا؟ اور آخر مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر غور کرنا ناگزیر ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نتائج پوری ویلیو چین کی مشترکہ کارکردگی کا حاصل ہوتے ہیں۔ اگر فرنٹ آفس آرڈرز تو حاصل کر لے، لیکن دیگر شعبوں کے عدم تعاون کے باعث ان آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر ہو، تو اس کے منفی اثرات لازماً نتائج پر مرتب ہوں گے۔ یہی ویلیو چین ایفیکٹ ہے۔ اس سلسلے کی ہر کڑی دوسری کڑی سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک بھی کڑی کمزور ہو تو پوری زنجیر متاثر ہو جاتی ہے۔ مختلف شعبوں کا ایک ہی صفحے پر نہ ہونا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ضرورت کے مطابق توجہ نہیں دی جاتی۔ بظاہر خوشگوار اور منظم نظر آنے والے کراس فنکشنل اجلاسوں کے پس منظر میں اکثر ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے، جبکہ اجلاسوں میں دکھائی دینے والی خوش دلی اور اتفاقِ رائے کے پیچھے انا، توقعات اور مفادات کا ایک خاموش تصادم جاری رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹینفورڈ کی ایک تحقیق کے مطابق 75 فیصد کراس فنکشنل ٹیمیں مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہیں۔ اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ منفی اثر ان ملازمین کے حوصلے پر پڑتا ہے جو اپنی ذمہ داریاں تو پوری دیانت داری سے انجام دیتے ہیں، مگر مختلف شعبوں کے باہمی تنازعات سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں۔ جرنل ”بیہیویئر اینالیسس اِن پریکٹس“ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 62 فیصد ملازمین نے اعتراف کیا کہ کام کی جگہ پر پیدا ہونے والے تنازعات نے انہیں ملازمت چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود بیشتر منیجرز ایسے مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ڈی ڈی آئی (ڈیولپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل) کی 2025 کی ایک تحقیق کے مطابق 49 فیصد منیجرز مؤثر انداز میں تنازعات حل کرنے کی مہارت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مطلوبہ تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے لیے چار بنیادی پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ ملازمین مسائل کی درست نشاندہی کر سکیں اور انہیں مؤثر انداز میں حل کرتے ہوئے دیگر شعبوں کا تعاون حاصل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تعاون کی پہلی شرط: ذمہ دارانہ سوچ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر ملازمین کی سوچ ہوتی ہے۔ بیشتر افراد اپنے کام کو صرف اپنے شعبے کی حدود تک محدود سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیلز ٹیم اپنی توجہ گاہکوں سے تعلقات، کاروباری ترقی اور اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مرکوز رکھتی ہے۔ ملازمت کی ذمہ داریوں کے مطابق ان کا بنیادی ہدف اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنی زیادہ تر توانائی اسی پر صرف کرتے ہیں۔ ان کی ترجیح عموماً اپنے سربراہ اور گاہک دونوں کو مطمئن رکھنا ہوتی ہے۔لیکن جب ان کا کام کسی دوسرے شعبے میں جا کر رک جاتا ہے تو اکثر ان کا ردِعمل یہی ہوتا ہے: ”ہم نے تو اپنا کام کر دیا، اب وہ اپنا کام نہیں کر رہے تو اس میں ہمارا کیا قصور؟“ یہی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کسی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری کا تعین صرف اس شعبے سے نہیں ہوتا جس میں آپ کام کرتے ہیں، نہ ہی اس دفتر یا ٹیم کی چار دیواری سے جس کا آپ حصہ ہیں۔ اصل ذمہ داری اس صلاحیت سے طے ہوتی ہے کہ آپ مطلوبہ کام کو ہر صورت مکمل کرائیں۔ اور اس کے لیے اکثر اپنی ملازمت کی رسمی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج حاصل کرنے کی سوچ اور صرف ملازمت کی ذمہ داریوں (جے ڈی) کی فہرست مکمل کرنے کی سوچ میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ جب مقصد صرف دیے گئے کام نمٹانا نہیں بلکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہو تو ذمہ داری کا دائرہ بھی وسیع ہو جاتا ہے اور اس کا مرکز دوسروں کے بجائے خود ہم بن جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرد کی ذمہ داری صرف اپنے شعبے کا کام انجام دینے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ دیگر متعلقہ شعبے بھی بروقت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، تاکہ مجموعی طور پر صارف کو بہترین تجربہ فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تعاون-کی-دوسری-شرط-تعلقات-کا-مساواتی-اصول" href="#تعاون-کی-دوسری-شرط-تعلقات-کا-مساواتی-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تعاون کی دوسری شرط: تعلقات کا مساواتی اصول&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جب آپ یہ حقیقت تسلیم کر لیتے ہیں کہ آپ کی ذمہ داری اپنے شعبے کے دروازے پر ختم نہیں ہوتی، تو اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد کیا کیا جائے؟ اگلا قدم یہ ہے کہ ادارے کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیا جائے۔ اصول بہت سادہ ہے: آپ کو دوسرے شعبوں سے جتنا بہتر تعاون ملے گا، اس کا انحصار ان کے ساتھ آپ کے تعلقات کے معیار پر ہوگا۔ عملی طور پر ہم سب جانتے ہیں کہ جن شعبوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار ہوتے ہیں، وہ ہمارے کام کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جن شعبوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں ہوتے، وہ اکثر کام میں تاخیر کرتے ہیں یا مختلف رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ اسی لیے پہلا قدم یہ ہے کہ مختلف شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے۔ عمومی طور پر تعلقات کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: مخاصمانہ،غیر دلچسپی پر مبنی،محض ضرورت تک محدود (ٹرانزیکشنل)،باہمی تعاون پر مبنی ،البتہ کسی شعبے کو ان میں سے کسی بھی زمرے میں رکھنے کا فیصلہ محض تاثر کی بنیاد پر نہیں، بلکہ واضح اور قابلِ پیمائش معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اس کے بعد یہ طے کریں کہ مطلوبہ نتائج کے حصول میں کون سے شعبے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ آپ کے تعلقات مخاصمانہ یا غیر دلچسپی کے درجے میں ہیں تو انہیں اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلقات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تعاون-کی-تیسری-شرط-مشترکہ-وژن" href="#تعاون-کی-تیسری-شرط-مشترکہ-وژن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تعاون کی تیسری شرط: مشترکہ وژن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے دوسرے شعبے درحقیقت آپ کے اندرونی صارفین (انٹرنل کسٹمرز) ہوتے ہیں۔ جس طرح آپ بیرونی صارف کو محض کوئی مصنوعات بھیج کر یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ لازماً اسے خرید لے گا، اسی طرح دوسرے شعبوں سے بھی صرف اپنی ضرورت بتا دینے سے مطلوبہ تعاون نہیں مل جاتا۔ بعض اوقات یہ شعبے ایسے صارفین کی مانند ہوتے ہیں جنہیں قائل کرنا پڑتا ہے۔لوگ یا شعبے اس وقت تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ آپ کی ضرورت اور ان کے مفادات یا ترجیحات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔اس لیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کے لیے اہم شعبوں کی ضروریات، ترجیحات اور دلچسپیاں کیا ہیں۔ پھر ان کے پاس جائیں، ان کی دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر رابطہ استوار کریں، ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کریں اور انہیں اپنا سرپرست (مینٹور) سمجھیں۔رسمی معاملات سے ہٹ کر ان کی دلچسپیوں، مثلاً کرکٹ، فٹ بال یا دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کریں۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق محض رسمی یا غیر دلچسپی کی سطح سے آگے بڑھ کر حقیقی تعاون اور شراکت داری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تعاون-کی-چوتھی-شرط-کامیابیوں-کا-مشترکہ-جشن" href="#تعاون-کی-چوتھی-شرط-کامیابیوں-کا-مشترکہ-جشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تعاون کی چوتھی شرط: کامیابیوں کا مشترکہ جشن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;سب سے مضبوط اور پائیدار تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں صرف مشکلات ہی نہیں بلکہ کامیابیاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹی جائیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کاروبار ملنے یا ہدف حاصل ہونے پر سیلز ٹیم تمام کامیابی کا کریڈٹ خود لے لیتی ہے، جبکہ آئی ٹی، پروکیورمنٹ اور دیگر معاون شعبے خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کا کریڈٹ ان شعبوں کے ساتھ بھی بانٹیں، ان کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں اور عوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کریں۔ کامیابیوں کا جشن مل کر منائیں تاکہ شراکت داری اور ٹیم ورک کا احساس پروان چڑھے۔ جتنا زیادہ آپ دوسرے شعبوں کو یہ احساس دلائیں گے کہ وہ اس کامیابی کا حقیقی حصہ ہیں، اتنا ہی زیادہ مطلوبہ نتائج سب کا مشترکہ ہدف بن جائیں گے اور باہمی تعاون بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظام اور قیادت درحقیقت چاروں سمت مضبوط انسانی تعلقات استوار کرنے کا فن ہے۔ ہر سطح کے رہنما کو نہ صرف اپنی ٹیم بلکہ اپنے سربراہ اور ہم منصب ساتھیوں کے ساتھ بھی مؤثر تعلقات استوار کرنا ہوتے ہیں۔ اکثر رہنما اپنی ٹیم کی قیادت (مینجنگ ڈاؤن) اور اپنے سربراہ کے ساتھ تعلقات (مینجنگ اپ) پر تو بھرپور توجہ دیتے ہیں، مگر ہم منصب شعبوں اور ساتھیوں کے ساتھ تعلقات (مینجنگ آکراس) کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ یا تو انہیں معمولی سمجھتے ہیں یا پھر ہر مسئلے کا الزام انہی پر دھرنے کی عادت اپنا لیتے ہیں۔ بالآخر یہی رویہ الٹا نقصان پہنچاتا ہے۔ فیرس اِنک کی ایک تحقیق کے مطابق 86 فیصد شرکا نے کام کی جگہ پر ناکامیوں کی بنیادی وجہ مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کے فقدان یا ٹیموں میں غیر مؤثر رابطے کو قرار دیا۔ حقیقی قیادت کی ابتدا خود رہنما سے ہوتی ہے، اور ادارے کی ثقافت بھی سب سے پہلے اسی کے رویے سے جھلکتی ہے۔ لہٰذا ایسی تنظیمی ثقافت کو فروغ دیجیے جو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل سے اس اصول کو زندہ کرے: ”شکایتیں چھوڑیں، تعاون کو فروغ دیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>”میں نے تو اپنی طرف سے پوری جان لگا دی، مگر وہ منحوس شعبہ کوئی جواب ہی نہیں دیتا۔“</strong></p>
<p>”دوسرے شعبے کا سربراہ تو جیسے ہم سے دشمنی نکالنے میں ہی لطف لیتا ہے۔“</p>
<p>”میں کیا کروں، جب میرے آدھے سے زیادہ کام کا انحصار دوسرے شعبوں کی منظوری پر ہے، اور وہ اتنے سست اور نااہل ہیں۔“</p>
<p>بطور کوچ مجھے لوگوں سے اکثر اسی نوعیت کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ زیادہ تر افراد کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور بھرپور محنت سے نبھاتے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے نتائج ان کی کوششوں کے مطابق سامنے نہیں آتے۔ جب میں اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے شعبوں کی عدم تعاون اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اپنی ٹیم سے مؤثر تعاون حاصل کرنا تو ہر ادارے کی ترجیح ہوتا ہے، جبکہ صارفین کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے پر بھی تحقیق، تربیت اور توجہ کا بڑا حصہ صرف کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم اور تزویراتی پہلو، جسے حکمتِ عملی کی تشکیل اور تربیتی پروگراموں دونوں میں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، یہ ہے کہ ادارے کے دوسرے شعبوں کے ساتھ مؤثر تعاون اور اشتراکِ عمل کیسے پیدا کیا جائے۔</p>
<p>کیا مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ادارے کے دیگر شعبوں کی اہمیت کم ہے؟ کیا یہ ایسا ثانوی موضوع ہے جسے کبھی سنجیدگی سے زیرِ بحث ہی نہیں لایا جاتا؟ اور آخر مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر غور کرنا ناگزیر ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نتائج پوری ویلیو چین کی مشترکہ کارکردگی کا حاصل ہوتے ہیں۔ اگر فرنٹ آفس آرڈرز تو حاصل کر لے، لیکن دیگر شعبوں کے عدم تعاون کے باعث ان آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر ہو، تو اس کے منفی اثرات لازماً نتائج پر مرتب ہوں گے۔ یہی ویلیو چین ایفیکٹ ہے۔ اس سلسلے کی ہر کڑی دوسری کڑی سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک بھی کڑی کمزور ہو تو پوری زنجیر متاثر ہو جاتی ہے۔ مختلف شعبوں کا ایک ہی صفحے پر نہ ہونا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ضرورت کے مطابق توجہ نہیں دی جاتی۔ بظاہر خوشگوار اور منظم نظر آنے والے کراس فنکشنل اجلاسوں کے پس منظر میں اکثر ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے، جبکہ اجلاسوں میں دکھائی دینے والی خوش دلی اور اتفاقِ رائے کے پیچھے انا، توقعات اور مفادات کا ایک خاموش تصادم جاری رہتا ہے۔</p>
<p>اسٹینفورڈ کی ایک تحقیق کے مطابق 75 فیصد کراس فنکشنل ٹیمیں مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہیں۔ اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ منفی اثر ان ملازمین کے حوصلے پر پڑتا ہے جو اپنی ذمہ داریاں تو پوری دیانت داری سے انجام دیتے ہیں، مگر مختلف شعبوں کے باہمی تنازعات سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں۔ جرنل ”بیہیویئر اینالیسس اِن پریکٹس“ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 62 فیصد ملازمین نے اعتراف کیا کہ کام کی جگہ پر پیدا ہونے والے تنازعات نے انہیں ملازمت چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود بیشتر منیجرز ایسے مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ڈی ڈی آئی (ڈیولپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل) کی 2025 کی ایک تحقیق کے مطابق 49 فیصد منیجرز مؤثر انداز میں تنازعات حل کرنے کی مہارت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مطلوبہ تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے لیے چار بنیادی پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ ملازمین مسائل کی درست نشاندہی کر سکیں اور انہیں مؤثر انداز میں حل کرتے ہوئے دیگر شعبوں کا تعاون حاصل کر سکیں۔</p>
<p><strong>تعاون کی پہلی شرط: ذمہ دارانہ سوچ</strong></p>
<p>ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر ملازمین کی سوچ ہوتی ہے۔ بیشتر افراد اپنے کام کو صرف اپنے شعبے کی حدود تک محدود سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیلز ٹیم اپنی توجہ گاہکوں سے تعلقات، کاروباری ترقی اور اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مرکوز رکھتی ہے۔ ملازمت کی ذمہ داریوں کے مطابق ان کا بنیادی ہدف اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنی زیادہ تر توانائی اسی پر صرف کرتے ہیں۔ ان کی ترجیح عموماً اپنے سربراہ اور گاہک دونوں کو مطمئن رکھنا ہوتی ہے۔لیکن جب ان کا کام کسی دوسرے شعبے میں جا کر رک جاتا ہے تو اکثر ان کا ردِعمل یہی ہوتا ہے: ”ہم نے تو اپنا کام کر دیا، اب وہ اپنا کام نہیں کر رہے تو اس میں ہمارا کیا قصور؟“ یہی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کسی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری کا تعین صرف اس شعبے سے نہیں ہوتا جس میں آپ کام کرتے ہیں، نہ ہی اس دفتر یا ٹیم کی چار دیواری سے جس کا آپ حصہ ہیں۔ اصل ذمہ داری اس صلاحیت سے طے ہوتی ہے کہ آپ مطلوبہ کام کو ہر صورت مکمل کرائیں۔ اور اس کے لیے اکثر اپنی ملازمت کی رسمی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>نتائج حاصل کرنے کی سوچ اور صرف ملازمت کی ذمہ داریوں (جے ڈی) کی فہرست مکمل کرنے کی سوچ میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ جب مقصد صرف دیے گئے کام نمٹانا نہیں بلکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہو تو ذمہ داری کا دائرہ بھی وسیع ہو جاتا ہے اور اس کا مرکز دوسروں کے بجائے خود ہم بن جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرد کی ذمہ داری صرف اپنے شعبے کا کام انجام دینے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ دیگر متعلقہ شعبے بھی بروقت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، تاکہ مجموعی طور پر صارف کو بہترین تجربہ فراہم کیا جا سکے۔</p>
<h3><a id="تعاون-کی-دوسری-شرط-تعلقات-کا-مساواتی-اصول" href="#تعاون-کی-دوسری-شرط-تعلقات-کا-مساواتی-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تعاون کی دوسری شرط: تعلقات کا مساواتی اصول</strong></h3>
<p>جب آپ یہ حقیقت تسلیم کر لیتے ہیں کہ آپ کی ذمہ داری اپنے شعبے کے دروازے پر ختم نہیں ہوتی، تو اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد کیا کیا جائے؟ اگلا قدم یہ ہے کہ ادارے کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیا جائے۔ اصول بہت سادہ ہے: آپ کو دوسرے شعبوں سے جتنا بہتر تعاون ملے گا، اس کا انحصار ان کے ساتھ آپ کے تعلقات کے معیار پر ہوگا۔ عملی طور پر ہم سب جانتے ہیں کہ جن شعبوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار ہوتے ہیں، وہ ہمارے کام کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح جن شعبوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں ہوتے، وہ اکثر کام میں تاخیر کرتے ہیں یا مختلف رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ اسی لیے پہلا قدم یہ ہے کہ مختلف شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے۔ عمومی طور پر تعلقات کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: مخاصمانہ،غیر دلچسپی پر مبنی،محض ضرورت تک محدود (ٹرانزیکشنل)،باہمی تعاون پر مبنی ،البتہ کسی شعبے کو ان میں سے کسی بھی زمرے میں رکھنے کا فیصلہ محض تاثر کی بنیاد پر نہیں، بلکہ واضح اور قابلِ پیمائش معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اس کے بعد یہ طے کریں کہ مطلوبہ نتائج کے حصول میں کون سے شعبے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ آپ کے تعلقات مخاصمانہ یا غیر دلچسپی کے درجے میں ہیں تو انہیں اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلقات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے۔</p>
<h3><a id="تعاون-کی-تیسری-شرط-مشترکہ-وژن" href="#تعاون-کی-تیسری-شرط-مشترکہ-وژن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تعاون کی تیسری شرط: مشترکہ وژن</strong></h3>
<p>ادارے کے دوسرے شعبے درحقیقت آپ کے اندرونی صارفین (انٹرنل کسٹمرز) ہوتے ہیں۔ جس طرح آپ بیرونی صارف کو محض کوئی مصنوعات بھیج کر یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ لازماً اسے خرید لے گا، اسی طرح دوسرے شعبوں سے بھی صرف اپنی ضرورت بتا دینے سے مطلوبہ تعاون نہیں مل جاتا۔ بعض اوقات یہ شعبے ایسے صارفین کی مانند ہوتے ہیں جنہیں قائل کرنا پڑتا ہے۔لوگ یا شعبے اس وقت تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ آپ کی ضرورت اور ان کے مفادات یا ترجیحات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔اس لیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کے لیے اہم شعبوں کی ضروریات، ترجیحات اور دلچسپیاں کیا ہیں۔ پھر ان کے پاس جائیں، ان کی دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر رابطہ استوار کریں، ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کریں اور انہیں اپنا سرپرست (مینٹور) سمجھیں۔رسمی معاملات سے ہٹ کر ان کی دلچسپیوں، مثلاً کرکٹ، فٹ بال یا دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کریں۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق محض رسمی یا غیر دلچسپی کی سطح سے آگے بڑھ کر حقیقی تعاون اور شراکت داری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔</p>
<h3><a id="تعاون-کی-چوتھی-شرط-کامیابیوں-کا-مشترکہ-جشن" href="#تعاون-کی-چوتھی-شرط-کامیابیوں-کا-مشترکہ-جشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تعاون کی چوتھی شرط: کامیابیوں کا مشترکہ جشن</strong></h3>
<p>سب سے مضبوط اور پائیدار تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں صرف مشکلات ہی نہیں بلکہ کامیابیاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹی جائیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کاروبار ملنے یا ہدف حاصل ہونے پر سیلز ٹیم تمام کامیابی کا کریڈٹ خود لے لیتی ہے، جبکہ آئی ٹی، پروکیورمنٹ اور دیگر معاون شعبے خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کا کریڈٹ ان شعبوں کے ساتھ بھی بانٹیں، ان کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں اور عوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کریں۔ کامیابیوں کا جشن مل کر منائیں تاکہ شراکت داری اور ٹیم ورک کا احساس پروان چڑھے۔ جتنا زیادہ آپ دوسرے شعبوں کو یہ احساس دلائیں گے کہ وہ اس کامیابی کا حقیقی حصہ ہیں، اتنا ہی زیادہ مطلوبہ نتائج سب کا مشترکہ ہدف بن جائیں گے اور باہمی تعاون بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔</p>
<p>انتظام اور قیادت درحقیقت چاروں سمت مضبوط انسانی تعلقات استوار کرنے کا فن ہے۔ ہر سطح کے رہنما کو نہ صرف اپنی ٹیم بلکہ اپنے سربراہ اور ہم منصب ساتھیوں کے ساتھ بھی مؤثر تعلقات استوار کرنا ہوتے ہیں۔ اکثر رہنما اپنی ٹیم کی قیادت (مینجنگ ڈاؤن) اور اپنے سربراہ کے ساتھ تعلقات (مینجنگ اپ) پر تو بھرپور توجہ دیتے ہیں، مگر ہم منصب شعبوں اور ساتھیوں کے ساتھ تعلقات (مینجنگ آکراس) کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ یا تو انہیں معمولی سمجھتے ہیں یا پھر ہر مسئلے کا الزام انہی پر دھرنے کی عادت اپنا لیتے ہیں۔ بالآخر یہی رویہ الٹا نقصان پہنچاتا ہے۔ فیرس اِنک کی ایک تحقیق کے مطابق 86 فیصد شرکا نے کام کی جگہ پر ناکامیوں کی بنیادی وجہ مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کے فقدان یا ٹیموں میں غیر مؤثر رابطے کو قرار دیا۔ حقیقی قیادت کی ابتدا خود رہنما سے ہوتی ہے، اور ادارے کی ثقافت بھی سب سے پہلے اسی کے رویے سے جھلکتی ہے۔ لہٰذا ایسی تنظیمی ثقافت کو فروغ دیجیے جو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل سے اس اصول کو زندہ کرے: ”شکایتیں چھوڑیں، تعاون کو فروغ دیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288715</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 00:36:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/15001353566b841.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/15001353566b841.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیانیہ مارکیٹ کے بارے میں تاثر قائم کر سکتا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288657/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ نظریہ کہ منڈیاں طلب اور رسد کے باہمی توازن کے ذریعے، جو کسی بھی شے کی قیمت کا تعین کرتا ہے، خودبخود توازن کی کیفیت تک پہنچ جاتی ہیں، اس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ بیانیہ بھی منڈی پر اثرانداز ہو کر اسے اپنی سمت میں موڑ سکتا ہے۔ ایسا یا تو اس وقت ہوتا ہے جب منڈی زمینی حقائق کو جائز طور پر غلط سمجھ بیٹھتی ہے، یا پھر جان بوجھ کر کسی بیانیے کی غلط تشریح کر کے اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی منڈی پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا سلسلہ بار بار دیکھا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کرتے رہے جن کا وقت اس انداز سے منتخب کیا جاتا تھا کہ پیر کے روز منڈی پر براہِ راست اثر پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرزِ عمل نے تیل کی منڈی میں کام کرنے والوں کی بظاہر سادہ لوحی پر حقیقی حیرت پیدا کی، جو صدر کے ایک دوسرے سے متضاد بیانات کو بار بار درست مانتے رہے۔ کبھی وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایسی تشریح پیش کرتے جو ایران کی تشریح سے بالکل مختلف ہوتی، کبھی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے، اور پھر وقفے وقفے سے ایران پر حملے کیے جاتے جن کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں سامنے آتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو منڈی پر اثرانداز ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ممکن ہے انہوں نے دو حوالوں سے غلط اندازہ لگایا ہو: اول، توانائی کی عالمی منڈی کے باہمی ربط کو پوری طرح نہ سمجھنا، یعنی یہ ادراک نہ کرنا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی رسد میں پیدا ہونے والی کمی امریکا میں گیس کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی، حالانکہ امریکا خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے؛ اور دوم، اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ)، خواہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ، جو انہیں اپنے قریبی حلقے کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد امریکا کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود تھے، تاہم اب جبکہ یہ جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، ان ذخائر میں خطرناک حد تک کمی آنے لگی ہے، جس سے معاشی کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال نے عام امریکیوں، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کو بھی ناراض کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ امکان ہے کہ اس کے اثرات 6 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی 140 نشستیں محفوظ سمجھی جا رہی ہیں، 55 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ اس کی موجودہ 45 نشستوں پر مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے اور وہ کسی بھی جماعت کے حصے میں جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی 182 نشستیں محفوظ تصور کی جا رہی ہیں، 10 مزید نشستیں جیتنے کی توقع ہے، جبکہ اس کی موجودہ صرف 3 نشستوں پر سخت مقابلے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 4 نشستیں محفوظ ہیں، ایک مزید نشست جیتنے کی توقع ہے، جبکہ 4 نشستوں کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس کی 18 نشستیں محفوظ ہیں، 6 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ 6 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر موجودہ اندازوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جس کے خدشے کا وہ خود بھی عوامی سطح پر اعتراف کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ الزامات زور پکڑ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں یا حملوں سے متعلق بیانات چند مخصوص تاجروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جن کا حجم تازہ اندازوں کے مطابق 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان کرتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں کمی بنیادی طور پر فیوچرز مارکیٹ تک محدود رہتی ہے، جس کا اثر ابھی تک پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے ایندھن کی قیمتوں پر نہیں پڑا۔ اس تناظر میں پاکستان میں عوام کی جانب سے حکومت سے فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، الاّ یہ کہ ملک کو رعایتی نرخوں پر درآمدی تیل دستیاب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل سامنے آنے والے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چونکہ پٹرول پمپوں پر قیمتیں کم نہیں ہوئیں، اس لیے امریکی عوام صدر ٹرمپ کے اس بیانیے کو قبول نہیں کر رہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک لوگوں کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہے، وہ کسی بھی بیانیے کی صداقت پر آسانی سے یقین نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بھی عوام حکومت کے اس دعوے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے کہ مہنگائی میں کمی آ گئی ہے، اگرچہ ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بیانیے کے ساتھ ساتھ اعدادوشمار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت اسٹاک مارکیٹ کی غیر معمولی تیزی ہے۔ تاہم، چونکہ پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لیے موجودہ وزیرِ خزانہ سمیت مختلف وزرائے خزانہ کی جانب سے تیزی کا شکار اسٹاک مارکیٹ کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت قرار دینا مضبوط بنیادوں پر مبنی استدلال نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مؤقف کو متعدد تحقیقی مطالعات بھی تقویت دیتے ہیں، جن میں حسین اور طارق محمود کی تحقیق قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ”پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسے معاشی سرگرمیوں کا پیشگی اشاریہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اگر دیگر مضبوط معاشی اشاریے موجود نہ ہوں تو حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ محض ایک قیاس آرائی پر مبنی بلبلے یعنی غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں قیمتوں میں آنے والا ناپائیدار اضافہ( اسپیکیولیٹیو ببل) کی علامت ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجرباتی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بروکرز کے ایک باہم مربوط اور بااثر گروہ کا غلبہ ہے، جو مارکیٹ کے رجحانات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص ایسے مواقع پر، جب موجودہ وزیرِ خزانہ شدید تنقید کی زد میں ہوں، اسٹاک مارکیٹ میں اچانک تیزی آنے کے باعث ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کا اصل دباؤ اس دھمکی میں پوشیدہ ہے کہ وہ مارکیٹ پر مزید ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت لسٹڈ سیکیورٹیز پر فائلرز کے لیے 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور نان فائلرز کے لیے 30 فیصد شرح مقرر ہے، تاہم حقیقی لین دین اور سرمایہ جاتی منافع (کیپیٹل گین) پر عائد ٹیکس کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں ہر خرید و فروخت پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) وصول کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اور قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) پر بھی الگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اکتوبر 2024 کی اپنی رپورٹ میں ان اعدادوشمار میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس مؤقف کی تائید آزاد ماہرینِ معاشیات نے بھی کی، جس کے بعد ادارۂ شماریات پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں رد و بدل سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیانیہ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو قائل کر سکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کو مسلسل اپنی آمدنی کی حقیقی قدر میں کمی محسوس ہوتی رہے تو پُرجوش حامی بھی رفتہ رفتہ اپنی حمایت واپس لے لیتے ہیں۔ مہنگائی ایسا معاشی اشاریہ ہے جس کے اثرات ہر گھرانے کو اس وقت فوری محسوس ہوتے ہیں جب وہ روزمرہ استعمال کی کوئی چیز یا خدمت خریدنے بازار جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ حکومتی کامیابیوں کے دعوے ایسے اعدادوشمار سے تقویت پانے چاہییں جو عوام کو درپیش زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ نظریہ کہ منڈیاں طلب اور رسد کے باہمی توازن کے ذریعے، جو کسی بھی شے کی قیمت کا تعین کرتا ہے، خودبخود توازن کی کیفیت تک پہنچ جاتی ہیں، اس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ بیانیہ بھی منڈی پر اثرانداز ہو کر اسے اپنی سمت میں موڑ سکتا ہے۔ ایسا یا تو اس وقت ہوتا ہے جب منڈی زمینی حقائق کو جائز طور پر غلط سمجھ بیٹھتی ہے، یا پھر جان بوجھ کر کسی بیانیے کی غلط تشریح کر کے اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔</strong></p>
<p>28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی منڈی پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا سلسلہ بار بار دیکھا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کرتے رہے جن کا وقت اس انداز سے منتخب کیا جاتا تھا کہ پیر کے روز منڈی پر براہِ راست اثر پڑے۔</p>
<p>اس طرزِ عمل نے تیل کی منڈی میں کام کرنے والوں کی بظاہر سادہ لوحی پر حقیقی حیرت پیدا کی، جو صدر کے ایک دوسرے سے متضاد بیانات کو بار بار درست مانتے رہے۔ کبھی وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایسی تشریح پیش کرتے جو ایران کی تشریح سے بالکل مختلف ہوتی، کبھی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے، اور پھر وقفے وقفے سے ایران پر حملے کیے جاتے جن کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں سامنے آتیں۔</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو منڈی پر اثرانداز ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ممکن ہے انہوں نے دو حوالوں سے غلط اندازہ لگایا ہو: اول، توانائی کی عالمی منڈی کے باہمی ربط کو پوری طرح نہ سمجھنا، یعنی یہ ادراک نہ کرنا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی رسد میں پیدا ہونے والی کمی امریکا میں گیس کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی، حالانکہ امریکا خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے؛ اور دوم، اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ)، خواہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ، جو انہیں اپنے قریبی حلقے کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد امریکا کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود تھے، تاہم اب جبکہ یہ جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، ان ذخائر میں خطرناک حد تک کمی آنے لگی ہے، جس سے معاشی کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال نے عام امریکیوں، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کو بھی ناراض کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ امکان ہے کہ اس کے اثرات 6 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔</p>
<p>ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔</p>
<p>موجودہ جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی 140 نشستیں محفوظ سمجھی جا رہی ہیں، 55 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ اس کی موجودہ 45 نشستوں پر مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے اور وہ کسی بھی جماعت کے حصے میں جا سکتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی 182 نشستیں محفوظ تصور کی جا رہی ہیں، 10 مزید نشستیں جیتنے کی توقع ہے، جبکہ اس کی موجودہ صرف 3 نشستوں پر سخت مقابلے کا امکان ہے۔</p>
<p>سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 4 نشستیں محفوظ ہیں، ایک مزید نشست جیتنے کی توقع ہے، جبکہ 4 نشستوں کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس کی 18 نشستیں محفوظ ہیں، 6 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ 6 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔</p>
<p>اگر موجودہ اندازوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جس کے خدشے کا وہ خود بھی عوامی سطح پر اعتراف کر چکے ہیں۔</p>
<p>یہ الزامات زور پکڑ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں یا حملوں سے متعلق بیانات چند مخصوص تاجروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جن کا حجم تازہ اندازوں کے مطابق 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان کرتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں کمی بنیادی طور پر فیوچرز مارکیٹ تک محدود رہتی ہے، جس کا اثر ابھی تک پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے ایندھن کی قیمتوں پر نہیں پڑا۔ اس تناظر میں پاکستان میں عوام کی جانب سے حکومت سے فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، الاّ یہ کہ ملک کو رعایتی نرخوں پر درآمدی تیل دستیاب ہو۔</p>
<p>مسلسل سامنے آنے والے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چونکہ پٹرول پمپوں پر قیمتیں کم نہیں ہوئیں، اس لیے امریکی عوام صدر ٹرمپ کے اس بیانیے کو قبول نہیں کر رہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک لوگوں کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہے، وہ کسی بھی بیانیے کی صداقت پر آسانی سے یقین نہیں کرتے۔</p>
<p>پاکستان میں بھی عوام حکومت کے اس دعوے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے کہ مہنگائی میں کمی آ گئی ہے، اگرچہ ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بیانیے کے ساتھ ساتھ اعدادوشمار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت اسٹاک مارکیٹ کی غیر معمولی تیزی ہے۔ تاہم، چونکہ پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لیے موجودہ وزیرِ خزانہ سمیت مختلف وزرائے خزانہ کی جانب سے تیزی کا شکار اسٹاک مارکیٹ کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت قرار دینا مضبوط بنیادوں پر مبنی استدلال نہیں۔</p>
<p>اس مؤقف کو متعدد تحقیقی مطالعات بھی تقویت دیتے ہیں، جن میں حسین اور طارق محمود کی تحقیق قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ”پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسے معاشی سرگرمیوں کا پیشگی اشاریہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اگر دیگر مضبوط معاشی اشاریے موجود نہ ہوں تو حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ محض ایک قیاس آرائی پر مبنی بلبلے یعنی غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں قیمتوں میں آنے والا ناپائیدار اضافہ( اسپیکیولیٹیو ببل) کی علامت ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>تجرباتی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بروکرز کے ایک باہم مربوط اور بااثر گروہ کا غلبہ ہے، جو مارکیٹ کے رجحانات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص ایسے مواقع پر، جب موجودہ وزیرِ خزانہ شدید تنقید کی زد میں ہوں، اسٹاک مارکیٹ میں اچانک تیزی آنے کے باعث ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کا اصل دباؤ اس دھمکی میں پوشیدہ ہے کہ وہ مارکیٹ پر مزید ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس وقت لسٹڈ سیکیورٹیز پر فائلرز کے لیے 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور نان فائلرز کے لیے 30 فیصد شرح مقرر ہے، تاہم حقیقی لین دین اور سرمایہ جاتی منافع (کیپیٹل گین) پر عائد ٹیکس کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں ہر خرید و فروخت پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) وصول کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اور قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) پر بھی الگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اکتوبر 2024 کی اپنی رپورٹ میں ان اعدادوشمار میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس مؤقف کی تائید آزاد ماہرینِ معاشیات نے بھی کی، جس کے بعد ادارۂ شماریات پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں رد و بدل سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔</p>
<p>آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیانیہ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو قائل کر سکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کو مسلسل اپنی آمدنی کی حقیقی قدر میں کمی محسوس ہوتی رہے تو پُرجوش حامی بھی رفتہ رفتہ اپنی حمایت واپس لے لیتے ہیں۔ مہنگائی ایسا معاشی اشاریہ ہے جس کے اثرات ہر گھرانے کو اس وقت فوری محسوس ہوتے ہیں جب وہ روزمرہ استعمال کی کوئی چیز یا خدمت خریدنے بازار جاتا ہے۔</p>
<p>اس سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ حکومتی کامیابیوں کے دعوے ایسے اعدادوشمار سے تقویت پانے چاہییں جو عوام کو درپیش زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288657</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 16:34:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13161034386aec7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13161034386aec7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈسکوز کی نجکاری میں کراچی کے تجربے کو نہیں دہرانا چاہیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288648/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں اکثریتی حصص کی فروخت مکمل کرنے کے بعد حکومت اب ایک ایسے لین دین کی طرف بڑھ چکی ہے جو کہ کہیں زیادہ مشکل ہے اور یہ سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے سے ملنے والا سبق یہ نہیں ہے کہ نجکاری اچانک آسان ہو گئی ہے بلکہ سبق یہ ہے کہ کوئی بھی خریدار کسی کاروبار کی قیمت کا تعین اسی وقت کرے گا جب اس کے واجبات، آپریٹنگ حقوق، ریگولیٹری سلوک اور مستقبل کی سرمایہ کاری کی ضروریات مکمل طور پر واضح ہوں۔ پی آئی اے کی دوسری کوشش اسی وقت کامیاب ہوئی جب ماضی کے قرضوں کو الگ کیا گیا، ٹیکس اور لین دین کی شرائط پر نظر ثانی کی گئی، بین الاقوامی روٹس دوبارہ کھولے گئے اور ایئرلائن کی مالی حالت کو بہتر بنایا گیا۔ ریاست کو پہلے اس کاروبار کو قابلِ فہم اور واضح بنانا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی تقسیم کاری کے شعبے کو بہت بڑے پیمانے پر اسی طرح کے نظم و ضبط کی ضرورت ہوگی۔ ایک ایئرلائن کے برعکس بجلی کی تقسیم کار کمپنی ایک ناگزیر نیٹ ورک مونوپولی (اجارہ داری) کے تحت کام کرتی ہے۔ اس کے صارفین محض یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ بجلی استعمال نہ کریں، جبکہ کمپنی کا آپریٹر بھی آزادانہ طور پر یہ انتخاب نہیں کر سکتا کہ وہ کس کو بجلی فراہم کرے گا یا کیا چارجز وصول کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو شامل ہیں، جن میں حکومت انتظامی کنٹرول کے ساتھ ہر کمپنی کے 51 سے 100 فیصد تک حصص کی پیشکش کر رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تینوں کمپنیاں 1 کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اس لیے سرمایہ کار قیمتی نیٹ ورکس اور کسٹمر بیس تو خرید رہے ہوں گے، لیکن ساتھ ہی انہیں سیاسی طور پر حساس ٹیرف، سروس کی ذمہ داریاں، بوسیدہ انفرااسٹرکچر، ملازمین کے واجبات اور نقصانات و ماضی کے اخراجات کے بوجھ تلے دبے پاور سسٹم کا حصہ بھی وراثت میں ملے گا۔یہیں پر کے الیکٹرک کا تجربہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ کراچی میں غلطی بذاتِ خود نجی ملکیت نہیں تھی۔ اس سے سنگین غلطی یہ تھی کہ ایک مربوط اجارہ داری کی نجکاری اس وقت کر دی گئی جب اس اجارہ داری کو چلانے والا ریگولیٹری معاہدہ مکمل طور پر جامع اور قابلِ اعتماد نہیں بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے نجکاری کے بعد بعض آپریٹنگ اشاریوں خاص طور پر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات (لائن لاسز) میں یقیناً بہتری دکھائی۔ اس کے باوجود ٹیرف، سرمایہ کاری، بجلی کی خریداری، حکومتی ذمہ داریوں، سروس کے معیار اور ملکیت کے تنازعات برسوں سے برقرار ہیں۔ صارفین اب بھی عدم اطمینان کا شکار ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کا استدلال ہے کہ ریگولیٹری اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال نے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کمپنی کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں جب اصل معاہدہ بہت سی چیزوں کو مستقل گفت و شنید پر چھوڑ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ملک بھر میں اس قسم کے انتظامات کو دوبارہ نہیں دہرانا چاہیے۔ بولیاں جانچنے سے پہلے نیپرا  اور وفاقی حکومت کو اس کاروبار کی واضح تعریف کرنی چاہیے جسے بیچا جا رہا ہے۔ خریداروں کو ایک قابلِ عمل کثیر سالہ ٹیرف فریم ورک، سرمایہ کاری کی واضح ذمہ داریاں، نقصانات میں کمی کا طریقہ کار، سروس کے معیار کے معیارات اور انتظامی کنٹرول سے باہر کے اخراجات کے لیے خودکار ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ صارفین کو لوڈ شیڈنگ، بلنگ، نئے کنکشن، حفاظت اور معاوضے کے حوالے سے قابلِ عمل قوانین کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ کن سماجی ذمہ داریوں کے لیے خود فنڈز فراہم کرے گی، بجائے اس کے کہ انہیں خاموشی سے یوٹیلیٹی کمپنی پر منتقل کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکیت تبدیل ہونے سے پہلے ریگولیٹر کو مضبوط بنانا ہوگا، بعد میں نہیں۔ بینکوں کی نجکاری اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اسٹیٹ بینک نے عوامی ڈپازٹس پر چلنے والے نجی اداروں کی نگرانی کی صلاحیت پیدا کر لی تھی۔ بجلی کے شعبے کو بھی اسی طرح کے ایک معتبر ریگولیٹر کی ضرورت ہے، لیکن یہ کام زیادہ مشکل ہے کیونکہ ہر نیٹ ورک ایک قدرتی اجارہ داری (سپلائی یا سروس فراہم کرنے کے لیے صرف ایک ہی کمپنی یا ادارہ سب سے زیادہ سستا اور موثر ثابت ہوتا ہے)ہے۔ نیپرا کے پاس پیشہ ور عملہ، ڈیٹا سسٹمز، خودمختاری اور نفاذ کے اختیارات ہونے چاہئیں جو اجارہ داری کے ذریعے حاصل کیے جانے والے ناجائز منافع اور جائز منافع میں اور حکومتی پالیسی کے باعث ہونے والے اخراجات اور حقیقی نااہلی میں فرق کرنے کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کی ساخت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا قانون پہلے ہی بجلی کی تقسیم  کو بجلی کی فراہمی  سے الگ کرتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ تقسیم اب بھی بڑی حد تک نامکمل ہے۔ نیٹ ورک اور ریٹیل کے کاروبار کو آپریشنل اور مالیاتی طور پر ایک دوسرے سے الگ کیا جانا چاہیے۔تاروں کا نیٹ ورک سنبھالنے والی کمپنی کو ایک ریگولیٹڈ اجارہ داری رہنا چاہیے۔ یہ نیٹ ورک کی دیکھ بھال کرے گی، کنکشن فراہم کرے گی، بجلی کی میٹرنگ کرے گی اور تمام لائسنس یافتہ سپلائرز کو بلا تفریق رسائی فراہم کرے گی۔ اس کی آمدنی سسٹم کے شفاف استعمال کے چارجز اور موثر سرمایہ کاری و کارکردگی سے منسلک طے شدہ منافع سے ہونی چاہیے۔ رائٹ آف وے کو لیز پر دینے، میٹرنگ کو بہتر بنانے اور نیٹ ورک سروسز کو ترقی دینے جیسے مواقع اس آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی منافع ایک قابلِ اعتماد اور موثر گرڈ چلانے سے ہی حاصل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی سپلائی کا کاروبار وہ جگہ ہے جہاں بتدریج مقابلہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ مسابقتی سپلائرز کو بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور تاجروں کے ساتھ معاہدے کرنے چاہئیں، ریگولیٹڈ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن چارجز ادا کرنے چاہئیں اور صارفین کو قیمت، مدت، بھروسے اور رسک کے مختلف پیکجز پیش کرنے چاہئیں۔ آخری چارے کے طور پر سپلائران صارفین کو خدمات فراہم کرتا رہے گا جو تبدیل نہیں کرتے یا جو ابھی تک مقابلے کے اہل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کا آغاز بڑے صنعتی اور تجارتی صارفین سے ہونا چاہیے، بجائے اس کے کہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر ریٹیل مارکیٹ میں مقابلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اہل ہونے کی اس حد کو بعد میں کم کیا جا سکتا ہے جیسے جیسے سیٹلمنٹ سسٹمز، میٹرنگ، سپلائر کی ضمانت کی ضروریات اور صارفین کے تحفظ کے طریقہ کار پختہ ہوتے جائیں۔ ان سسٹمز کے وجود میں آنے سے پہلے مسابقتی مارکیٹ کا اعلان کرنا حقیقی مقابلہ پیدا کیے بغیر محض مالیاتی ثالث پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔سب سے مشکل مسئلہ ملکیت کا نہیں، بلکہ ماضی کے اخراجات کی تقسیم کا ہے۔ پاکستان کے بجلی کے ٹیرف میں کیپیسٹی چارجز، کراس سبسڈیز، دہائیوں سے جمع ہونے والی تاریخی نااہلیاں اور سماجی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اگر مسابقتی سپلائرز کو ان اخراجات میں حصہ ڈالے بغیر سب سے زیادہ ادائیگی کرنے والے صارفین کو لے جانے کی اجازت دی گئی تو باقی رہ جانے والی یوٹیلیٹی کمپنی کے پاس صرف کمزور صارفین اور ایک تیزی سے دیوالیہ ہونے والی بیلنس شیٹ رہ جائے گی۔ ایسی صورت میں مقابلہ اس شعبے کے مالیاتی زوال کو حل کرنے کے بجائے اس میں تیزی لائے گا۔ لہٰذا ریگولیٹڈ سپلائر کو چھوڑنے والے کسی بھی صارف کو ناگزیر نیٹ ورک، پھنسے ہوئے  اور عبوری اخراجات کا ایک شفاف حصہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سبسڈیز کو تجارتی اور صنعتی ٹیرف کے اندر چھپانے کے بجائے واضح طور پر بجٹ کا حصہ اور ہدف بنانا چاہیے۔ سماجی پالیسی حکومت کی ذمہ داری ہے، اسے یوٹیلیٹی کی قیمتوں کا بھیس نہیں دیا جانا چاہیے اور پھر اسے غیر ادا شدہ نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ یا چین کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی حوصلہ افزا ہے، لیکن دلچسپی کسی قابلِ عمل لین دین کا ثبوت نہیں ہوتی۔ سنجیدہ سرمایہ کار ٹیرف کی پائیداری، نقصانات کے ساتھ سلوک، ریگولیٹر کی خودمختاری، حکومتی وعدوں کے نفاذ اور طویل سرمایہ کاری کے افق پر اپنا سرمایہ واپس حاصل کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیں گے۔ ان سوالات کو موخر کرکے حاصل کی جانے والی ایک بڑی بولی محض ایک مالیاتی سراب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو نجکاری کے عمل کو قومی سطح پر اجارہ داری کے ارتکاز کو دوبارہ پیدا کرنے سے بھی روکنا ہوگا۔ جسمانی نیٹ ورکس علاقائی اجارہ داریاں ہی رہیں گے، لیکن مسابقتی سپلائی کو بالاخر ان علاقائی حدود کو عبور کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ اس لیے ملکیت کے قوانین کو ایک چھوٹے گروپ کو کئی نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی پر حاوی ہونے سے روکنا چاہیے۔اس نجکاری کا امتحان فروخت سے حاصل ہونے والی رقم نہیں ہوگی بلکہ یہ ہوگا کہ آیا یہ لین دین ریاست کو پوشیدہ مالیاتی واجبات واپس منتقل کیے بغیر پائیدار سرمایہ کاری، کم موثر نقصانات، بہتر سروس اور مقابلے کی طرف ایک معتبر راستہ پیدا کرتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ایک واضح طور پر بیان کردہ اور مناسب طریقے سے ریگولیٹڈ کاروبار فروخت کرنا چاہیے۔ اسے ایک غیر حل شدہ سیاسی سودے بازی کو بیچ کر اس تبدیلیِ ملکیت کو اصلاحات کا نام نہیں دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں اکثریتی حصص کی فروخت مکمل کرنے کے بعد حکومت اب ایک ایسے لین دین کی طرف بڑھ چکی ہے جو کہ کہیں زیادہ مشکل ہے اور یہ سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل ہے۔</strong></p>
<p>پی آئی اے سے ملنے والا سبق یہ نہیں ہے کہ نجکاری اچانک آسان ہو گئی ہے بلکہ سبق یہ ہے کہ کوئی بھی خریدار کسی کاروبار کی قیمت کا تعین اسی وقت کرے گا جب اس کے واجبات، آپریٹنگ حقوق، ریگولیٹری سلوک اور مستقبل کی سرمایہ کاری کی ضروریات مکمل طور پر واضح ہوں۔ پی آئی اے کی دوسری کوشش اسی وقت کامیاب ہوئی جب ماضی کے قرضوں کو الگ کیا گیا، ٹیکس اور لین دین کی شرائط پر نظر ثانی کی گئی، بین الاقوامی روٹس دوبارہ کھولے گئے اور ایئرلائن کی مالی حالت کو بہتر بنایا گیا۔ ریاست کو پہلے اس کاروبار کو قابلِ فہم اور واضح بنانا پڑا۔</p>
<p>بجلی کی تقسیم کاری کے شعبے کو بہت بڑے پیمانے پر اسی طرح کے نظم و ضبط کی ضرورت ہوگی۔ ایک ایئرلائن کے برعکس بجلی کی تقسیم کار کمپنی ایک ناگزیر نیٹ ورک مونوپولی (اجارہ داری) کے تحت کام کرتی ہے۔ اس کے صارفین محض یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ بجلی استعمال نہ کریں، جبکہ کمپنی کا آپریٹر بھی آزادانہ طور پر یہ انتخاب نہیں کر سکتا کہ وہ کس کو بجلی فراہم کرے گا یا کیا چارجز وصول کرے گا۔</p>
<p>پہلے مرحلے میں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو شامل ہیں، جن میں حکومت انتظامی کنٹرول کے ساتھ ہر کمپنی کے 51 سے 100 فیصد تک حصص کی پیشکش کر رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تینوں کمپنیاں 1 کروڑ 40 لاکھ سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔ اس لیے سرمایہ کار قیمتی نیٹ ورکس اور کسٹمر بیس تو خرید رہے ہوں گے، لیکن ساتھ ہی انہیں سیاسی طور پر حساس ٹیرف، سروس کی ذمہ داریاں، بوسیدہ انفرااسٹرکچر، ملازمین کے واجبات اور نقصانات و ماضی کے اخراجات کے بوجھ تلے دبے پاور سسٹم کا حصہ بھی وراثت میں ملے گا۔یہیں پر کے الیکٹرک کا تجربہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ کراچی میں غلطی بذاتِ خود نجی ملکیت نہیں تھی۔ اس سے سنگین غلطی یہ تھی کہ ایک مربوط اجارہ داری کی نجکاری اس وقت کر دی گئی جب اس اجارہ داری کو چلانے والا ریگولیٹری معاہدہ مکمل طور پر جامع اور قابلِ اعتماد نہیں بنایا گیا تھا۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے نجکاری کے بعد بعض آپریٹنگ اشاریوں خاص طور پر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات (لائن لاسز) میں یقیناً بہتری دکھائی۔ اس کے باوجود ٹیرف، سرمایہ کاری، بجلی کی خریداری، حکومتی ذمہ داریوں، سروس کے معیار اور ملکیت کے تنازعات برسوں سے برقرار ہیں۔ صارفین اب بھی عدم اطمینان کا شکار ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کا استدلال ہے کہ ریگولیٹری اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال نے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے فنڈز حاصل کرنے کی کمپنی کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں جب اصل معاہدہ بہت سی چیزوں کو مستقل گفت و شنید پر چھوڑ دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ملک بھر میں اس قسم کے انتظامات کو دوبارہ نہیں دہرانا چاہیے۔ بولیاں جانچنے سے پہلے نیپرا  اور وفاقی حکومت کو اس کاروبار کی واضح تعریف کرنی چاہیے جسے بیچا جا رہا ہے۔ خریداروں کو ایک قابلِ عمل کثیر سالہ ٹیرف فریم ورک، سرمایہ کاری کی واضح ذمہ داریاں، نقصانات میں کمی کا طریقہ کار، سروس کے معیار کے معیارات اور انتظامی کنٹرول سے باہر کے اخراجات کے لیے خودکار ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ صارفین کو لوڈ شیڈنگ، بلنگ، نئے کنکشن، حفاظت اور معاوضے کے حوالے سے قابلِ عمل قوانین کی ضرورت ہے۔ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ کن سماجی ذمہ داریوں کے لیے خود فنڈز فراہم کرے گی، بجائے اس کے کہ انہیں خاموشی سے یوٹیلیٹی کمپنی پر منتقل کر دیا جائے۔</p>
<p>ملکیت تبدیل ہونے سے پہلے ریگولیٹر کو مضبوط بنانا ہوگا، بعد میں نہیں۔ بینکوں کی نجکاری اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ اسٹیٹ بینک نے عوامی ڈپازٹس پر چلنے والے نجی اداروں کی نگرانی کی صلاحیت پیدا کر لی تھی۔ بجلی کے شعبے کو بھی اسی طرح کے ایک معتبر ریگولیٹر کی ضرورت ہے، لیکن یہ کام زیادہ مشکل ہے کیونکہ ہر نیٹ ورک ایک قدرتی اجارہ داری (سپلائی یا سروس فراہم کرنے کے لیے صرف ایک ہی کمپنی یا ادارہ سب سے زیادہ سستا اور موثر ثابت ہوتا ہے)ہے۔ نیپرا کے پاس پیشہ ور عملہ، ڈیٹا سسٹمز، خودمختاری اور نفاذ کے اختیارات ہونے چاہئیں جو اجارہ داری کے ذریعے حاصل کیے جانے والے ناجائز منافع اور جائز منافع میں اور حکومتی پالیسی کے باعث ہونے والے اخراجات اور حقیقی نااہلی میں فرق کرنے کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>کاروبار کی ساخت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا قانون پہلے ہی بجلی کی تقسیم  کو بجلی کی فراہمی  سے الگ کرتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ تقسیم اب بھی بڑی حد تک نامکمل ہے۔ نیٹ ورک اور ریٹیل کے کاروبار کو آپریشنل اور مالیاتی طور پر ایک دوسرے سے الگ کیا جانا چاہیے۔تاروں کا نیٹ ورک سنبھالنے والی کمپنی کو ایک ریگولیٹڈ اجارہ داری رہنا چاہیے۔ یہ نیٹ ورک کی دیکھ بھال کرے گی، کنکشن فراہم کرے گی، بجلی کی میٹرنگ کرے گی اور تمام لائسنس یافتہ سپلائرز کو بلا تفریق رسائی فراہم کرے گی۔ اس کی آمدنی سسٹم کے شفاف استعمال کے چارجز اور موثر سرمایہ کاری و کارکردگی سے منسلک طے شدہ منافع سے ہونی چاہیے۔ رائٹ آف وے کو لیز پر دینے، میٹرنگ کو بہتر بنانے اور نیٹ ورک سروسز کو ترقی دینے جیسے مواقع اس آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی منافع ایک قابلِ اعتماد اور موثر گرڈ چلانے سے ہی حاصل ہونا چاہیے۔</p>
<p>بجلی کی سپلائی کا کاروبار وہ جگہ ہے جہاں بتدریج مقابلہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ مسابقتی سپلائرز کو بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور تاجروں کے ساتھ معاہدے کرنے چاہئیں، ریگولیٹڈ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن چارجز ادا کرنے چاہئیں اور صارفین کو قیمت، مدت، بھروسے اور رسک کے مختلف پیکجز پیش کرنے چاہئیں۔ آخری چارے کے طور پر سپلائران صارفین کو خدمات فراہم کرتا رہے گا جو تبدیل نہیں کرتے یا جو ابھی تک مقابلے کے اہل نہیں ہیں۔</p>
<p>اس تبدیلی کا آغاز بڑے صنعتی اور تجارتی صارفین سے ہونا چاہیے، بجائے اس کے کہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر ریٹیل مارکیٹ میں مقابلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اہل ہونے کی اس حد کو بعد میں کم کیا جا سکتا ہے جیسے جیسے سیٹلمنٹ سسٹمز، میٹرنگ، سپلائر کی ضمانت کی ضروریات اور صارفین کے تحفظ کے طریقہ کار پختہ ہوتے جائیں۔ ان سسٹمز کے وجود میں آنے سے پہلے مسابقتی مارکیٹ کا اعلان کرنا حقیقی مقابلہ پیدا کیے بغیر محض مالیاتی ثالث پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔سب سے مشکل مسئلہ ملکیت کا نہیں، بلکہ ماضی کے اخراجات کی تقسیم کا ہے۔ پاکستان کے بجلی کے ٹیرف میں کیپیسٹی چارجز، کراس سبسڈیز، دہائیوں سے جمع ہونے والی تاریخی نااہلیاں اور سماجی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اگر مسابقتی سپلائرز کو ان اخراجات میں حصہ ڈالے بغیر سب سے زیادہ ادائیگی کرنے والے صارفین کو لے جانے کی اجازت دی گئی تو باقی رہ جانے والی یوٹیلیٹی کمپنی کے پاس صرف کمزور صارفین اور ایک تیزی سے دیوالیہ ہونے والی بیلنس شیٹ رہ جائے گی۔ ایسی صورت میں مقابلہ اس شعبے کے مالیاتی زوال کو حل کرنے کے بجائے اس میں تیزی لائے گا۔ لہٰذا ریگولیٹڈ سپلائر کو چھوڑنے والے کسی بھی صارف کو ناگزیر نیٹ ورک، پھنسے ہوئے  اور عبوری اخراجات کا ایک شفاف حصہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سبسڈیز کو تجارتی اور صنعتی ٹیرف کے اندر چھپانے کے بجائے واضح طور پر بجٹ کا حصہ اور ہدف بنانا چاہیے۔ سماجی پالیسی حکومت کی ذمہ داری ہے، اسے یوٹیلیٹی کی قیمتوں کا بھیس نہیں دیا جانا چاہیے اور پھر اسے غیر ادا شدہ نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ یا چین کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی حوصلہ افزا ہے، لیکن دلچسپی کسی قابلِ عمل لین دین کا ثبوت نہیں ہوتی۔ سنجیدہ سرمایہ کار ٹیرف کی پائیداری، نقصانات کے ساتھ سلوک، ریگولیٹر کی خودمختاری، حکومتی وعدوں کے نفاذ اور طویل سرمایہ کاری کے افق پر اپنا سرمایہ واپس حاصل کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیں گے۔ ان سوالات کو موخر کرکے حاصل کی جانے والی ایک بڑی بولی محض ایک مالیاتی سراب ہوگی۔</p>
<p>حکومت کو نجکاری کے عمل کو قومی سطح پر اجارہ داری کے ارتکاز کو دوبارہ پیدا کرنے سے بھی روکنا ہوگا۔ جسمانی نیٹ ورکس علاقائی اجارہ داریاں ہی رہیں گے، لیکن مسابقتی سپلائی کو بالاخر ان علاقائی حدود کو عبور کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ اس لیے ملکیت کے قوانین کو ایک چھوٹے گروپ کو کئی نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی پر حاوی ہونے سے روکنا چاہیے۔اس نجکاری کا امتحان فروخت سے حاصل ہونے والی رقم نہیں ہوگی بلکہ یہ ہوگا کہ آیا یہ لین دین ریاست کو پوشیدہ مالیاتی واجبات واپس منتقل کیے بغیر پائیدار سرمایہ کاری، کم موثر نقصانات، بہتر سروس اور مقابلے کی طرف ایک معتبر راستہ پیدا کرتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ایک واضح طور پر بیان کردہ اور مناسب طریقے سے ریگولیٹڈ کاروبار فروخت کرنا چاہیے۔ اسے ایک غیر حل شدہ سیاسی سودے بازی کو بیچ کر اس تبدیلیِ ملکیت کو اصلاحات کا نام نہیں دینا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288648</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 13:21:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/13124036d7b2eb3.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/13124036d7b2eb3.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور امن و امان کا تعلق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی: ایسا مساوات جسے پاکستان نظرانداز نہیں کر سکتا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی تازہ ترین سیکیورٹی سروے 2026 کی رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ انکشاف کہ 71 فیصد نمایاں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں نے سیکیورٹی کو اپنے تین بڑے کاروباری خدشات میں شامل کیا ہے، محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے: براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) منافع کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کی بھی پیروکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری کے مقام کا جائزہ دو بنیادی زاویوں سے لیتا ہے۔ پہلا تجارتی موزونیت ہے، جس میں منڈی کا حجم، منافع، ٹیکس کا نظام، ضابطہ جاتی ماحول اور کاروبار کرنے میں آسانی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، اور اتنا ہی اہم پہلو، افراد، اثاثوں اور سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔ اگرچہ حکومتیں مالی مراعات، ٹیکس میں رعایت اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری منافع میں اضافہ کر سکتی ہیں، لیکن ملازمین اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا ازالہ کوئی مالی ترغیب نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ فطری طور پر خطرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے برعکس، جسے چند لمحوں میں واپس لیا جا سکتا ہے، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ایک طویل المدتی وابستگی ہوتی ہے، جس میں کارخانے، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور انسانی وسائل شامل ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کی سرمایہ کاری پر لاگت کی واپسی اور پائیدار منافع حاصل کرنے میں اکثر کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے قبل کثیرالقومی کمپنیاں تفصیلی خطرات کا جائزہ لیتی ہیں، جس میں سیکیورٹی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی پالیسی کا محور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، نجکاری، ٹیکس اصلاحات اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی مراعات کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا رہا ہے۔ یہ اقدامات بلاشبہ ضروری اور قابلِ تحسین ہیں، تاہم جب تک ان کے ساتھ مستحکم اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، ان کی افادیت محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سروے میں پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بڑھتی تشویش کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی سیکیورٹی کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ کراچی اکیلا ہی پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات، بینکاری سرگرمیوں اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، لہٰذا شہر میں امن و امان کی خرابی پورے ملک کے کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی خدشات صرف جرائم یا دہشت گردی سے ہونے والے براہِ راست نقصانات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے باعث انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں، نجی سیکیورٹی پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے، رسد کا نظام متاثر ہوتا ہے، غیر ملکی ماہرین اور انتظامی عہدیدار پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں، پیداواری سرگرمیوں میں خلل آتا ہے اور پوری سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوشیدہ اخراجات خطے کے دیگر سرمایہ کاری مراکز کے مقابلے میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیرالقومی کمپنیاں اب اپنے بورڈز، حصص یافتگان، انشورنس اداروں اور ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) کے تقاضوں کے تحت بھی سخت نگرانی کا سامنا کرتی ہیں۔ آج کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کے ملازمین کو غیر ضروری خطرات سے دوچار نہیں کیا جا رہا۔ اسی لیے اگر سیکیورٹی کی صورتحال بین الاقوامی معیار سے کم سمجھی جائے تو انتہائی منافع بخش منصوبے بھی مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے کئی ممالک اس کی مثال ہیں۔ سنگاپور، ویتنام اور ملائیشیا سمیت متعدد معیشتیں صرف مالی مراعات کی وجہ سے نہیں بلکہ محفوظ کاروباری ماحول کی بدولت بڑی مقدار میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سرمایہ کار ایسے ممالک میں نسبتاً زیادہ آپریٹنگ لاگت بھی قبول کر لیتے ہیں جہاں استحکام، پیش گوئی اور سیکیورٹی یقینی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس قدرتی وسائل سے مالا مال کئی ممالک مسلسل غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ سیکیورٹی خطرات نے تجارتی مواقع پر سبقت حاصل کر لی۔ سرمایہ کار صرف ٹیکس کی شرح یا مزدوری کی لاگت کا موازنہ نہیں کرتے بلکہ مجموعی خطرات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس بے شمار مضبوط معاشی بنیادیں موجود ہیں۔ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع نہایت اہم ہے، آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، صارفین کی بڑی منڈی موجود ہے، مزدوری نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے، جبکہ توانائی، معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاہم جب تک عوامی سیکیورٹی میں مستقل بہتری نہیں آتی، ان تمام صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چیلنج صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے انٹیلی جنس اداروں، صوبائی حکومتوں، عدلیہ، مقامی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ حکام اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ شہری علاقوں میں مؤثر پولیسنگ، فوری انصاف، صنعتی زونز کا تحفظ، محفوظ تجارتی راہداریوں، سائبر سیکیورٹی اور مؤثر ہنگامی انتظامات جیسے عوامل سرمایہ کاری کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کا تاثر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اکثر اعداد و شمار سے زیادہ خبروں اور عالمی تاثر سے متاثر ہوتے ہیں۔ چند نمایاں ناخوشگوار واقعات کئی برس کی پیش رفت پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صرف مؤثر کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ شفاف ابلاغ اور مسلسل اعتماد سازی بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معاشی اہداف کا تقاضا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو۔ صرف ملکی بچتیں صنعتی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور برآمدات میں تنوع جیسے اہداف کے لیے درکار سرمایہ فراہم نہیں کر سکتیں، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاری صرف سرمایہ ہی نہیں لاتی بلکہ اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید انتظامی مہارت، عالمی ویلیو چینز میں شمولیت، روزگار کے مواقع اور برآمدی مسابقت بھی فروغ پاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا سرمایہ کاری کا اصول نہایت واضح ہے: منافع سرمایہ کار کی دلچسپی پیدا کرتا ہے، جبکہ سیکیورٹی اس دلچسپی کو حقیقی سرمایہ کاری میں بدلتی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک نے ماضی میں قومی عزم اور مربوط کوششوں کے ذریعے سنگین سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پایا۔ اب اسی عزم کی تجدید محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکی ہے۔ امن و امان میں ہر بہتری سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ ہر سیکیورٹی واقعہ اپنے فوری اثرات سے کہیں زیادہ معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان واقعی خود کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنانا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی کاروبار کی اس مستقل حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار سیکیورٹی کے بغیر پائیدار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی: ایسا مساوات جسے پاکستان نظرانداز نہیں کر سکتا</strong></p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی تازہ ترین سیکیورٹی سروے 2026 کی رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح تنبیہ ہونی چاہیے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ انکشاف کہ 71 فیصد نمایاں غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں نے سیکیورٹی کو اپنے تین بڑے کاروباری خدشات میں شامل کیا ہے، محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی بھی ہے: براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) منافع کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کی بھی پیروکار ہوتی ہے۔</p>
<p>ہر سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری کے مقام کا جائزہ دو بنیادی زاویوں سے لیتا ہے۔ پہلا تجارتی موزونیت ہے، جس میں منڈی کا حجم، منافع، ٹیکس کا نظام، ضابطہ جاتی ماحول اور کاروبار کرنے میں آسانی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>دوسرا، اور اتنا ہی اہم پہلو، افراد، اثاثوں اور سپلائی چینز کا تحفظ ہے۔ اگرچہ حکومتیں مالی مراعات، ٹیکس میں رعایت اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری منافع میں اضافہ کر سکتی ہیں، لیکن ملازمین اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کا ازالہ کوئی مالی ترغیب نہیں کر سکتی۔</p>
<p>سرمایہ فطری طور پر خطرات کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے برعکس، جسے چند لمحوں میں واپس لیا جا سکتا ہے، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ایک طویل المدتی وابستگی ہوتی ہے، جس میں کارخانے، بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور انسانی وسائل شامل ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کی سرمایہ کاری پر لاگت کی واپسی اور پائیدار منافع حاصل کرنے میں اکثر کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے قبل کثیرالقومی کمپنیاں تفصیلی خطرات کا جائزہ لیتی ہیں، جس میں سیکیورٹی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں پاکستان کی معاشی پالیسی کا محور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، نجکاری، ٹیکس اصلاحات اور مختلف شعبوں کے لیے خصوصی مراعات کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا رہا ہے۔ یہ اقدامات بلاشبہ ضروری اور قابلِ تحسین ہیں، تاہم جب تک ان کے ساتھ مستحکم اور محفوظ کاروباری ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، ان کی افادیت محدود رہے گی۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سروے میں پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بڑھتی تشویش کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی سیکیورٹی کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ کراچی اکیلا ہی پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات، بینکاری سرگرمیوں اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، لہٰذا شہر میں امن و امان کی خرابی پورے ملک کے کاروباری اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی خدشات صرف جرائم یا دہشت گردی سے ہونے والے براہِ راست نقصانات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کے باعث انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں، نجی سیکیورٹی پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے، رسد کا نظام متاثر ہوتا ہے، غیر ملکی ماہرین اور انتظامی عہدیدار پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں، پیداواری سرگرمیوں میں خلل آتا ہے اور پوری سپلائی چین کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ پوشیدہ اخراجات خطے کے دیگر سرمایہ کاری مراکز کے مقابلے میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت کو نمایاں طور پر کمزور کرتے ہیں۔</p>
<p>کثیرالقومی کمپنیاں اب اپنے بورڈز، حصص یافتگان، انشورنس اداروں اور ماحولیاتی، سماجی اور طرزِ حکمرانی (ای ایس جی) کے تقاضوں کے تحت بھی سخت نگرانی کا سامنا کرتی ہیں۔ آج کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ان کے ملازمین کو غیر ضروری خطرات سے دوچار نہیں کیا جا رہا۔ اسی لیے اگر سیکیورٹی کی صورتحال بین الاقوامی معیار سے کم سمجھی جائے تو انتہائی منافع بخش منصوبے بھی مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>دنیا کے کئی ممالک اس کی مثال ہیں۔ سنگاپور، ویتنام اور ملائیشیا سمیت متعدد معیشتیں صرف مالی مراعات کی وجہ سے نہیں بلکہ محفوظ کاروباری ماحول کی بدولت بڑی مقدار میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سرمایہ کار ایسے ممالک میں نسبتاً زیادہ آپریٹنگ لاگت بھی قبول کر لیتے ہیں جہاں استحکام، پیش گوئی اور سیکیورٹی یقینی ہو۔</p>
<p>اس کے برعکس قدرتی وسائل سے مالا مال کئی ممالک مسلسل غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ سیکیورٹی خطرات نے تجارتی مواقع پر سبقت حاصل کر لی۔ سرمایہ کار صرف ٹیکس کی شرح یا مزدوری کی لاگت کا موازنہ نہیں کرتے بلکہ مجموعی خطرات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس بے شمار مضبوط معاشی بنیادیں موجود ہیں۔ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع نہایت اہم ہے، آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، صارفین کی بڑی منڈی موجود ہے، مزدوری نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر ہو رہا ہے، جبکہ توانائی، معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاہم جب تک عوامی سیکیورٹی میں مستقل بہتری نہیں آتی، ان تمام صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں سرمایہ کاری میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>یہ چیلنج صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے انٹیلی جنس اداروں، صوبائی حکومتوں، عدلیہ، مقامی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ حکام اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ شہری علاقوں میں مؤثر پولیسنگ، فوری انصاف، صنعتی زونز کا تحفظ، محفوظ تجارتی راہداریوں، سائبر سیکیورٹی اور مؤثر ہنگامی انتظامات جیسے عوامل سرمایہ کاری کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کا تاثر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اکثر اعداد و شمار سے زیادہ خبروں اور عالمی تاثر سے متاثر ہوتے ہیں۔ چند نمایاں ناخوشگوار واقعات کئی برس کی پیش رفت پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ اس لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صرف مؤثر کارروائیاں ہی کافی نہیں بلکہ شفاف ابلاغ اور مسلسل اعتماد سازی بھی ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کے معاشی اہداف کا تقاضا ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو۔ صرف ملکی بچتیں صنعتی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور برآمدات میں تنوع جیسے اہداف کے لیے درکار سرمایہ فراہم نہیں کر سکتیں، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاری صرف سرمایہ ہی نہیں لاتی بلکہ اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید انتظامی مہارت، عالمی ویلیو چینز میں شمولیت، روزگار کے مواقع اور برآمدی مسابقت بھی فروغ پاتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا سرمایہ کاری کا اصول نہایت واضح ہے: منافع سرمایہ کار کی دلچسپی پیدا کرتا ہے، جبکہ سیکیورٹی اس دلچسپی کو حقیقی سرمایہ کاری میں بدلتی ہے۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔</p>
<p>پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران غیر معمولی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ملک نے ماضی میں قومی عزم اور مربوط کوششوں کے ذریعے سنگین سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پایا۔ اب اسی عزم کی تجدید محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکی ہے۔ امن و امان میں ہر بہتری سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ ہر سیکیورٹی واقعہ اپنے فوری اثرات سے کہیں زیادہ معاشی نقصان کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان واقعی خود کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنانا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی کاروبار کی اس مستقل حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار سیکیورٹی کے بغیر پائیدار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288579</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 17:28:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/111729081835e23.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/111729081835e23.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرضوں کا بڑھتا بوجھ اور ناکام مالیاتی ماڈل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288529/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کا تازہ ترین قرضہ بلیٹن اس بات کی تصدیق کرتا ہے جس کا خدشہ کئی ماہرینِ معاشیات برسوں سے ظاہر کرتے آ رہے ہیں۔ مئی 2026 کے اختتام تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرض تقریباً 82 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو ابھی ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران تقریباً 5.9 کھرب روپے اضافے کے بعد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس عرصے میں اوسطاً روزانہ تقریباً 16 ارب روپے کا نیا قرض لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف اندرونی قرضہ بڑھ کر 58 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ بیرونی قرضہ تقریباً 24 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ شرحِ سود میں کمی کے باوجود قلیل مدتی اندرونی قرض گیری میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے آنے والے برسوں میں قرضوں کی ری فنانسنگ  سے متعلق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار دو دیگر نہایت تشویشناک ادارہ جاتی پیش رفت کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قرضوں کے انتظام میں موجود کمزوریوں پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مبینہ طور پر قرضوں کی واپسی کے لیے بجٹ سازی میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں 1.83 کھرب روپے کی ایک مبینہ غیر منطقی بجٹ بے ضابطگی، قرضوں سے متعلق مناسب رپورٹنگ کے فقدان اور مؤثر ادارہ جاتی نگرانی کی مسلسل عدم موجودگی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کا ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کئی ماہ سے مستقل سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے، حالانکہ قرضوں کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بارہا وعدے کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کے عوامی مالیاتی نظام کا جائزہ لینے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ صورتحال حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایک ایسے مالیاتی ماڈل میں پھنس چکا ہے جسے کبھی بھی پائیدار اقتصادی ترقی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ہر فنانس ایکٹ مالیاتی استحکام  کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر بجٹ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ہر پروگرام ساختی اصلاحات کی بات کرتا ہے۔ مگر ہر سال عوامی قرضہ ملکی پیداواری صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے، جبکہ مالیاتی خسارہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی جو وضاحت پیش کی جاتی ہے، وہ تقریباً ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے: سابقہ حکومتوں سے ملنے والی ذمہ داریاں، بیرونی جھٹکے، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال یا توانائی کی قیمتیں۔ یقیناً یہ تمام عوامل اہم ہیں، لیکن یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ حکومتوں، ٹیکس کی شرحوں اور معاشی منتظمین کی تبدیلی کے باوجود پاکستان بار بار اسی مالیاتی انجام تک کیوں پہنچ جاتا ہے۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بتدریج اپنے ٹیکس نظام کو معاشی ترقی کے ایک آلے کے بجائے محصولات جمع کرنے کے ایک نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ ٹیکس وصولی قومی آمدنی میں اضافے کا نتیجہ ہونے کے بجائے خود ایک مقصد بن چکی ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے،  آنے والی حکومتوں نے مسلسل ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، پریزمپٹو ٹیکس نظام، پیٹرولیم لیوی، درآمدی مرحلے پر ٹیکس عائد کرنے اور مسلسل بڑھتے ہوئے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات انتظامی اعتبار سے سہل ہیں کیونکہ ان کے ذریعے حکومت کو فوری طور پر آمدنی حاصل ہو جاتی ہے۔ تاہم، ان کا مجموعی اثر سرمایہ کاری کو محدود کرنے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرنے اور بالآخر اسی پیداواری سرگرمی کو کمزور کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس سے طویل المدت اور پائیدار ٹیکس آمدنی پیدا ہونی چاہیے تھی۔ یہی پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا بنیادی تضاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریکارڈ (بظاہر) ٹیکس وصولیاں کی ہیں، اس کے باوجود قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر معیشت کے پہلے سے دستاویزی  حصے سے مزید محصولات وصول کرنے کے ذریعے ہوا ہے، جبکہ ٹیکس کی بنیادی بنیاد  اسی تناسب سے وسیع نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی زیادہ نامیاتی ٹیکس وصولیاں ایک ایسے ماحول میں سامنے آ رہی ہیں جہاں اقتصادی ترقی کمزور ہے، صنعتی مسابقت میں کمی آ رہی ہے اور سرکاری قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک شیطانی چکر  کی صورت میں نکلتا ہے۔زیادہ ٹیکس، پیداوار کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں۔پیداواری لاگت میں اضافہ، مصنوعات کی مسابقت  کو کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقت میں کمی، سرمایہ کاری اور روزگار کو متاثر کرتی ہے۔کمزور اقتصادی ترقی، مستقبل میں ٹیکس وصولیوں کی بنیاد کو مزید محدود کر دیتی ہے۔اس کے بعد حکومت مسلسل مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لیتی ہے۔قرضوں میں اضافہ، قرضوں پر سود اور اصل رقم کی ادائیگی کا بوجھ بڑھا دیتا ہے۔ان ادائیگیوں کے لیے حکومت پھر اسی سکڑتے ہوئے دستاویزی شعبے پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے۔یوں یہی چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔یہ مالیاتی استحکام  نہیں بلکہ مالیاتی گردشی چکر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار اسی بنیادی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ اندرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن ترقیاتی اخراجات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قرضوں کا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے بجائے جاری اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لیا جانے والا قرض مستقبل میں اتنی آمدنی پیدا نہیں کر رہا جو خود اپنی ادائیگی کا ذریعہ بن سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری قرض اورغیر پیداواری یا صرف اخراجات پورے کرنے کے لیے لیا گیا قرض میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔وہ قرض جو بنیادی ڈھانچے ، انسانی سرمایہ، ٹیکنالوجی میں تبدیلی اور برآمدی مسابقت  کے لیے استعمال کیا جائے، مستقبل میں قومی آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ایسا قرض ایسے اثاثے  پیدا کرتا ہے جو ان واجبات  کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتے ہیں جو انہیں تعمیر کرنے کے لیے اٹھائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بار بار ہونے والے جاری اخراجات یا قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے قرض لینا درحقیقت ضروری مالیاتی اصلاحات کو صرف مؤخر کرتا ہے، جبکہ مستقبل کی مالی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ پاکستان بتدریج اسی دوسرے ماڈل کی طرف بڑھتا چلا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب قرضوں کی ادائیگی وفاقی حکومت کی آمدنی کا مسلسل بڑھتا ہوا حصہ ہڑپ کر رہی ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، سائنسی تحقیق، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں کے لیے مالی گنجائش  مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین پاکستان سماجی بہبود اور منصفانہ ترقی کا وعدہ کرتا ہے، لیکن مالی وسائل کا بڑھتا ہوا حصہ قومی پیداواری اثاثے  پیدا کرنے کے بجائے پہلے سے جمع شدہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ یہ محض محاسبے کا مسئلہ نہیں بلکہ آئینی سیاسی معیشت  کا مسئلہ ہے۔ آئین ٹیکس وصولی کو حکمرانی اور عوامی فلاح کا ایک ذریعہ قرار دیتا ہے، نہ کہ ایسا مستقل نظام جس کا مقصد صرف بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل محصولات اکٹھے کرنا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آئین کے آرٹیکل 160 اور 161 کے تحت مالیاتی وفاقیت  کا تصور وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی متوازن تقسیم پر مبنی ہے۔ تاہم قابلِ تقسیم محاصل  کے بجائے ناقابل قابلِ تقسیم آمدنی اور قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار اس آئینی توازن کو کمزور کر رہا ہے اور حکومت کے ہر درجے پر مالی خودمختاری کو محدود کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کے انتظام سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مشاہدات اس سے کہیں زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ مؤثر قرضہ جاتی نظم و نسق صرف قرضوں کا درست اندراج کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے شفاف قرضہ لینے کی حکمت عملی، حقیقت پسندانہ بجٹ سازی، پارلیمانی نگرانی اور ادارہ جاتی جوابدہی بھی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی ملک اس وقت تک مالیاتی استحکام حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کا بنیادی ڈیبٹ مینجمنٹ ادارہ مطلوبہ صلاحیت سے محروم ہو اور اس کے اہم عہدے خالی پڑے ہوں۔اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، خصوصاً آئی ایم ایف، اب بھی مالیاتی استحکام کو بنیادی طور پر ٹیکس وصولیوں میں اضافے سے جوڑتے ہیں، حالانکہ پاکستان کا تجربہ اس سوچ کی واضح حدود کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جمود کا شکار معیشت سے زیادہ ٹیکس وصول کر کے مالیاتی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پائیدار عوامی مالیات کے لیے قومی آمدنی میں مسلسل اضافہ ضروری ہے۔ اب فوری طور پر توجہ سالانہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولی کے بجائے ملک کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس کے لیے مالیاتی پالیسی کے پورے فلسفے میں بنیادی تبدیلی درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس کو سادہ بنایا جانا چاہیے اور اسے حقیقی آمدنی کی بنیاد پر عائد کیا جانا چاہیے، نہ کہ لین دین  کی بنیاد پر۔ موجودہ نظام نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کو عملاً ایک بالواسطہ ٹیکس میں تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ ودہولڈنگ ٹیکس کو کم از کم رکھا گیا ہے اور اسے ایڈجسٹ بھی نہیں کیا جا سکتا۔سیلز ٹیکس کو کم شرح کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، تاکہ اشیا اور خدمات دونوں پر یکساں اور وسیع بنیادوں پر نافذ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسٹمز ڈیوٹیز کو قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے مطابق ہونا چاہیے اور ان کا مقصد مخصوص مفاداتی گروہوں کے تحفظ کے بجائے صنعتوں کی جدید کاری اور ترقی کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو صرف واضح طور پر متعین ریگولیٹری مقاصد تک محدود رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑھ کر، عوامی اخراجات کا زیادہ سے زیادہ حصہ پیداواری سرمایہ کاری پر خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ بار بار ہونے والے جاری اخراجات پر۔ قرضوں کے انتظام کو ملکی اقتصادی حکمت عملی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی ملک صرف قرض لے کر خوشحال نہیں بن سکتا، اور نہ ہی وہ صرف زیادہ ٹیکس لگا کر اپنی ساختی اقتصادی جمود سے نکل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کا تازہ ترین قرضہ بلیٹن محض ایک اور شماریاتی رپورٹ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کا مالیاتی چیلنج صرف حکومت کے اخراجات پورے کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ ٹیکس، قرض گیری اور اقتصادی ترقی کے درمیان پورے تعلق کو ازسرِنو ترتیب دینے کا معاملہ ہے۔ جب تک یہ تعلق تبدیل نہیں ہوتا، ہر نئی ریکارڈ ٹیکس وصولی کے بعد قرضوں کا ایک نیا ریکارڈ بھی قائم ہوتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان قرض لیتا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا مالیاتی ماڈل بتدریج قرضوں پر منحصر ہو چکا ہے، کیونکہ ملک پیداوار کو فروغ دینے کے بجائے اس پر زیادہ ٹیکس عائد کرتا ہے، کامیابی کو پائیدار قومی دولت پیدا کرنے کے بجائے سالانہ ٹیکس اہداف کے حصول سے ناپتا ہے، اور اب بھی اقتصادی ترقی کو ٹیکس وصولی کا نتیجہ سمجھتا ہے، جبکہ دنیا کی ہر کامیاب معیشت میں حقیقت اس کے برعکس ہے—یعنی ٹیکس وصولی بالآخر اقتصادی ترقی کا نتیجہ ہوتی ہے، اس کا سبب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کا تازہ ترین قرضہ بلیٹن اس بات کی تصدیق کرتا ہے جس کا خدشہ کئی ماہرینِ معاشیات برسوں سے ظاہر کرتے آ رہے ہیں۔ مئی 2026 کے اختتام تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرض تقریباً 82 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو ابھی ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران تقریباً 5.9 کھرب روپے اضافے کے بعد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس عرصے میں اوسطاً روزانہ تقریباً 16 ارب روپے کا نیا قرض لیا گیا۔</strong></p>
<p>صرف اندرونی قرضہ بڑھ کر 58 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ بیرونی قرضہ تقریباً 24 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ شرحِ سود میں کمی کے باوجود قلیل مدتی اندرونی قرض گیری میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے آنے والے برسوں میں قرضوں کی ری فنانسنگ  سے متعلق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار دو دیگر نہایت تشویشناک ادارہ جاتی پیش رفت کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے قرضوں کے انتظام میں موجود کمزوریوں پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مبینہ طور پر قرضوں کی واپسی کے لیے بجٹ سازی میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں 1.83 کھرب روپے کی ایک مبینہ غیر منطقی بجٹ بے ضابطگی، قرضوں سے متعلق مناسب رپورٹنگ کے فقدان اور مؤثر ادارہ جاتی نگرانی کی مسلسل عدم موجودگی شامل ہے۔</p>
<p>ملک کا ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کئی ماہ سے مستقل سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے، حالانکہ قرضوں کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بارہا وعدے کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان کے عوامی مالیاتی نظام کا جائزہ لینے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ صورتحال حیران کن نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>پاکستان ایک ایسے مالیاتی ماڈل میں پھنس چکا ہے جسے کبھی بھی پائیدار اقتصادی ترقی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ہر فنانس ایکٹ مالیاتی استحکام  کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر بجٹ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ہر پروگرام ساختی اصلاحات کی بات کرتا ہے۔ مگر ہر سال عوامی قرضہ ملکی پیداواری صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے، جبکہ مالیاتی خسارہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>اس کی جو وضاحت پیش کی جاتی ہے، وہ تقریباً ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے: سابقہ حکومتوں سے ملنے والی ذمہ داریاں، بیرونی جھٹکے، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال یا توانائی کی قیمتیں۔ یقیناً یہ تمام عوامل اہم ہیں، لیکن یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ حکومتوں، ٹیکس کی شرحوں اور معاشی منتظمین کی تبدیلی کے باوجود پاکستان بار بار اسی مالیاتی انجام تک کیوں پہنچ جاتا ہے۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے بتدریج اپنے ٹیکس نظام کو معاشی ترقی کے ایک آلے کے بجائے محصولات جمع کرنے کے ایک نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ ٹیکس وصولی قومی آمدنی میں اضافے کا نتیجہ ہونے کے بجائے خود ایک مقصد بن چکی ہے۔ پائیدار اقتصادی ترقی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے،  آنے والی حکومتوں نے مسلسل ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، پریزمپٹو ٹیکس نظام، پیٹرولیم لیوی، درآمدی مرحلے پر ٹیکس عائد کرنے اور مسلسل بڑھتے ہوئے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے۔</p>
<p>یہ اقدامات انتظامی اعتبار سے سہل ہیں کیونکہ ان کے ذریعے حکومت کو فوری طور پر آمدنی حاصل ہو جاتی ہے۔ تاہم، ان کا مجموعی اثر سرمایہ کاری کو محدود کرنے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرنے اور بالآخر اسی پیداواری سرگرمی کو کمزور کرنے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس سے طویل المدت اور پائیدار ٹیکس آمدنی پیدا ہونی چاہیے تھی۔ یہی پاکستان کی مالیاتی پالیسی کا بنیادی تضاد ہے۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریکارڈ (بظاہر) ٹیکس وصولیاں کی ہیں، اس کے باوجود قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر معیشت کے پہلے سے دستاویزی  حصے سے مزید محصولات وصول کرنے کے ذریعے ہوا ہے، جبکہ ٹیکس کی بنیادی بنیاد  اسی تناسب سے وسیع نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ایف بی آر کی زیادہ نامیاتی ٹیکس وصولیاں ایک ایسے ماحول میں سامنے آ رہی ہیں جہاں اقتصادی ترقی کمزور ہے، صنعتی مسابقت میں کمی آ رہی ہے اور سرکاری قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک شیطانی چکر  کی صورت میں نکلتا ہے۔زیادہ ٹیکس، پیداوار کی لاگت میں اضافہ کرتے ہیں۔پیداواری لاگت میں اضافہ، مصنوعات کی مسابقت  کو کمزور کرتا ہے۔</p>
<p>مسابقت میں کمی، سرمایہ کاری اور روزگار کو متاثر کرتی ہے۔کمزور اقتصادی ترقی، مستقبل میں ٹیکس وصولیوں کی بنیاد کو مزید محدود کر دیتی ہے۔اس کے بعد حکومت مسلسل مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لیتی ہے۔قرضوں میں اضافہ، قرضوں پر سود اور اصل رقم کی ادائیگی کا بوجھ بڑھا دیتا ہے۔ان ادائیگیوں کے لیے حکومت پھر اسی سکڑتے ہوئے دستاویزی شعبے پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے۔یوں یہی چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔یہ مالیاتی استحکام  نہیں بلکہ مالیاتی گردشی چکر ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار اسی بنیادی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ اندرونی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیکن ترقیاتی اخراجات میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قرضوں کا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے بجائے جاری اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لیا جانے والا قرض مستقبل میں اتنی آمدنی پیدا نہیں کر رہا جو خود اپنی ادائیگی کا ذریعہ بن سکے۔</p>
<p>پیداواری قرض اورغیر پیداواری یا صرف اخراجات پورے کرنے کے لیے لیا گیا قرض میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔وہ قرض جو بنیادی ڈھانچے ، انسانی سرمایہ، ٹیکنالوجی میں تبدیلی اور برآمدی مسابقت  کے لیے استعمال کیا جائے، مستقبل میں قومی آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ایسا قرض ایسے اثاثے  پیدا کرتا ہے جو ان واجبات  کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتے ہیں جو انہیں تعمیر کرنے کے لیے اٹھائے گئے تھے۔</p>
<p>بار بار ہونے والے جاری اخراجات یا قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے قرض لینا درحقیقت ضروری مالیاتی اصلاحات کو صرف مؤخر کرتا ہے، جبکہ مستقبل کی مالی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ پاکستان بتدریج اسی دوسرے ماڈل کی طرف بڑھتا چلا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب قرضوں کی ادائیگی وفاقی حکومت کی آمدنی کا مسلسل بڑھتا ہوا حصہ ہڑپ کر رہی ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، سائنسی تحقیق، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں کے لیے مالی گنجائش  مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>آئین پاکستان سماجی بہبود اور منصفانہ ترقی کا وعدہ کرتا ہے، لیکن مالی وسائل کا بڑھتا ہوا حصہ قومی پیداواری اثاثے  پیدا کرنے کے بجائے پہلے سے جمع شدہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ یہ محض محاسبے کا مسئلہ نہیں بلکہ آئینی سیاسی معیشت  کا مسئلہ ہے۔ آئین ٹیکس وصولی کو حکمرانی اور عوامی فلاح کا ایک ذریعہ قرار دیتا ہے، نہ کہ ایسا مستقل نظام جس کا مقصد صرف بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل محصولات اکٹھے کرنا ہو۔</p>
<p>اسی طرح آئین کے آرٹیکل 160 اور 161 کے تحت مالیاتی وفاقیت  کا تصور وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی متوازن تقسیم پر مبنی ہے۔ تاہم قابلِ تقسیم محاصل  کے بجائے ناقابل قابلِ تقسیم آمدنی اور قرضوں پر بڑھتا ہوا انحصار اس آئینی توازن کو کمزور کر رہا ہے اور حکومت کے ہر درجے پر مالی خودمختاری کو محدود کر رہا ہے۔</p>
<p>قرضوں کے انتظام سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مشاہدات اس سے کہیں زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ مؤثر قرضہ جاتی نظم و نسق صرف قرضوں کا درست اندراج کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے شفاف قرضہ لینے کی حکمت عملی، حقیقت پسندانہ بجٹ سازی، پارلیمانی نگرانی اور ادارہ جاتی جوابدہی بھی ناگزیر ہے۔</p>
<p>کوئی بھی ملک اس وقت تک مالیاتی استحکام حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس کا بنیادی ڈیبٹ مینجمنٹ ادارہ مطلوبہ صلاحیت سے محروم ہو اور اس کے اہم عہدے خالی پڑے ہوں۔اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، خصوصاً آئی ایم ایف، اب بھی مالیاتی استحکام کو بنیادی طور پر ٹیکس وصولیوں میں اضافے سے جوڑتے ہیں، حالانکہ پاکستان کا تجربہ اس سوچ کی واضح حدود کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ایک جمود کا شکار معیشت سے زیادہ ٹیکس وصول کر کے مالیاتی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پائیدار عوامی مالیات کے لیے قومی آمدنی میں مسلسل اضافہ ضروری ہے۔ اب فوری طور پر توجہ سالانہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولی کے بجائے ملک کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ اس کے لیے مالیاتی پالیسی کے پورے فلسفے میں بنیادی تبدیلی درکار ہے۔</p>
<p>انکم ٹیکس کو سادہ بنایا جانا چاہیے اور اسے حقیقی آمدنی کی بنیاد پر عائد کیا جانا چاہیے، نہ کہ لین دین  کی بنیاد پر۔ موجودہ نظام نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کو عملاً ایک بالواسطہ ٹیکس میں تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ ودہولڈنگ ٹیکس کو کم از کم رکھا گیا ہے اور اسے ایڈجسٹ بھی نہیں کیا جا سکتا۔سیلز ٹیکس کو کم شرح کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، تاکہ اشیا اور خدمات دونوں پر یکساں اور وسیع بنیادوں پر نافذ ہو۔</p>
<p>کسٹمز ڈیوٹیز کو قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے مطابق ہونا چاہیے اور ان کا مقصد مخصوص مفاداتی گروہوں کے تحفظ کے بجائے صنعتوں کی جدید کاری اور ترقی کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے۔</p>
<p>اسی طرح فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو صرف واضح طور پر متعین ریگولیٹری مقاصد تک محدود رکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>سب سے بڑھ کر، عوامی اخراجات کا زیادہ سے زیادہ حصہ پیداواری سرمایہ کاری پر خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ بار بار ہونے والے جاری اخراجات پر۔ قرضوں کے انتظام کو ملکی اقتصادی حکمت عملی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی ملک صرف قرض لے کر خوشحال نہیں بن سکتا، اور نہ ہی وہ صرف زیادہ ٹیکس لگا کر اپنی ساختی اقتصادی جمود سے نکل سکتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کا تازہ ترین قرضہ بلیٹن محض ایک اور شماریاتی رپورٹ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کا مالیاتی چیلنج صرف حکومت کے اخراجات پورے کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ ٹیکس، قرض گیری اور اقتصادی ترقی کے درمیان پورے تعلق کو ازسرِنو ترتیب دینے کا معاملہ ہے۔ جب تک یہ تعلق تبدیل نہیں ہوتا، ہر نئی ریکارڈ ٹیکس وصولی کے بعد قرضوں کا ایک نیا ریکارڈ بھی قائم ہوتا رہے گا۔</p>
<p>اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان قرض لیتا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا مالیاتی ماڈل بتدریج قرضوں پر منحصر ہو چکا ہے، کیونکہ ملک پیداوار کو فروغ دینے کے بجائے اس پر زیادہ ٹیکس عائد کرتا ہے، کامیابی کو پائیدار قومی دولت پیدا کرنے کے بجائے سالانہ ٹیکس اہداف کے حصول سے ناپتا ہے، اور اب بھی اقتصادی ترقی کو ٹیکس وصولی کا نتیجہ سمجھتا ہے، جبکہ دنیا کی ہر کامیاب معیشت میں حقیقت اس کے برعکس ہے—یعنی ٹیکس وصولی بالآخر اقتصادی ترقی کا نتیجہ ہوتی ہے، اس کا سبب نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288529</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jul 2026 10:21:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/10101911585d93e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/10101911585d93e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تو کیا واقعی سب کچھ "ختم"ہو گیا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288493/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد  اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے،  اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا  اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026ء&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟</strong></p>
<p>منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد  اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟</p>
<p>یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے،  اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔</p>
<p>منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔</p>
<p>کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا  اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔</p>
<p>کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟</p>
<p>ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔</p>
<p>شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔</p>
<p>منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟</p>
<p>تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔</p>
<p>ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔</p>
<p>شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026ء</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288493</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 13:25:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0912593533bbebf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0912593533bbebf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ: گیس کی قیمت پر نظرثانی ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288509/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں توانائی کے بحران کے حل کے طور پر ایک بار پھر ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس تجویز کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن تجارتی اعتبار سے اس کا جواز کمزور دکھائی دیتا ہے۔ زیرِ غور موجودہ قیمتوں کے فارمولے کے تحت ایران سے درآمد کی جانے والی پائپ لائن گیس سستی توانائی فراہم نہیں کرے گی بلکہ پہلے سے مہنگی درآمدی گیس کے بوجھ تلے دبے نظام میں ایک اور مہنگا ایندھن شامل کر دے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو ایران سے گیس خریدنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ قیمتوں کا فارمولہ، درکار بنیادی ڈھانچہ اور ملک کی گیس مارکیٹ اس منصوبے کے لیے موزوں ہیں؟ فی الحال اس کا جواب نفی میں ہے۔ کوئی بھی گیس پائپ لائن اسی صورت توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنا سکتی ہے جب گیس مسابقتی قیمت پر دستیاب ہو، اس کی مسلسل فراہمی یقینی ہو اور اس کے لیے واضح اور فعال مقامی منڈی موجود ہو۔ اس وقت ان میں سے کوئی شرط پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا بنیادی مسئلہ قیمت ہے۔ زیرِ گردش فارمولے کے مطابق:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران۔پاکستان گیس کی قیمت = جاپان کروڈ کاک ٹیل (جے سی سی) × 0.12 + ایک امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فارمولے کے تحت اگر جے سی سی خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل ہو تو سرحد پر گیس کی قیمت 9.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو بنتی ہے۔ اگر خام تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے تو یہ قیمت 13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جائے گی، جبکہ 120 ڈالر فی بیرل پر گیس کی قیمت بڑھ کر 15.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام قیمتیں سرحدی سطح کی ہیں، جن میں پاکستان کے اندر ترسیل، نقل و حمل اور نظام میں شامل کرنے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیرِ گردش فارمولے کے مطابق ایران۔پاکستان گیس کی تخمینی لاگت&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090542132547465.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090542132547465.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;پاکستان کے اندر اضافی لاگت کو محض تقابلی بنیاد کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 10 فیصد گیس کے ضیاع (یو ایف جی) کے ساتھ ساتھ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے انتظامی، ترسیلی اور تقسیمی اخراجات کا تخمینہ شامل ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;اس بنیاد پر دیکھا جائے تو ایرانی گیس کو آر ایل این جی پر کوئی واضح قیمت کا فائدہ حاصل نہیں۔ اوگرا کی فروری 2026 کی آر ایل این جی قیمتوں کی اطلاع کے مطابق تقسیمی سطح پر قیمت ایس این جی پی ایل کے لیے 11.3345 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ایس ایس جی سی کے لیے 10.2704 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، جو 7.4553 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی اوسط درآمدی ایل این جی قیمت (ڈی ای ایس بنیاد) سے منسلک ہے۔ خام تیل کی معتدل قیمتوں پر ایران۔پاکستان پائپ لائن کی گیس کی قیمت تقریباً انہی سطحوں کے برابر بنتی ہے، جبکہ خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں یہ گیس آر ایل این جی سے بھی زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس پائپ لائن کو ایسے تجارتی منصوبے کے طور پر تیار نہیں کیا جا رہا جس کے لیے نیچے کی سطح پر خریداروں کے مضبوط اور قابلِ اعتماد معاہدے موجود ہوں۔ یہ درحقیقت ایک ریاستی سرپرستی میں چلنے والا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے۔ ایک بار معاہدہ ہونے کے بعد اس کی مالی ذمہ داری صرف تجارتی معاہدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ اگر گیس فروخت نہ ہو سکی تو اس کا بوجھ گیس کمپنیوں، سرکاری شعبے اور بالآخر ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گیس سے متعلق بحث کا یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف گیس کی کمی نہیں بلکہ ایک فعال گیس مارکیٹ کا فقدان بھی ہے۔ ملک میں ایسی شفاف، مسابقتی اور گہری منڈی موجود نہیں جہاں درآمدی گیس اپنی مکمل لاگت پر فروخت کی جا سکے۔ ایسی منڈی کے بغیر گیس کی ایک اور سپلائی کا اضافہ بحران کا حل نہیں بلکہ ایک نئی مالی ذمہ داری پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ خریداروں کی صورتحال بھی کمزور ہے۔ بجلی کا شعبہ اب مہنگی گیس کے لیے قابلِ اعتماد خریدار نہیں رہا۔ جہاں سستی بجلی، خصوصاً شمسی توانائی، دستیاب ہے وہاں گیس سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ اگر گیس کی قیمت 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو یا اس سے زیادہ ہوئی تو وہ بجلی کی پیداوار میں مسابقت برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ نتیجتاً نظام سستی بجلی کو ترجیح دے گا اور مہنگی گیس استعمال سے محروم رہ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبہ بھی اس خلا کو پُر کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کیپٹو پاور لیوی نے برآمدی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے گیس پر مبنی بجلی کی معاشیات بدل دی ہے، جس سے درآمدی گیس کا ایک بڑا ممکنہ خریدار مارکیٹ سے نکل گیا۔ عمومی صنعت پہلے ہی کمزور طلب، بلند ٹیکسوں اور توانائی کی زیادہ لاگت کا سامنا کر رہی ہے۔ گھریلو صارفین درآمدی قیمت کے مساوی گیس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جبکہ کھاد کی صنعت بھی حکومتی سبسڈی کے بغیر ایسی مہنگی گیس استعمال نہیں کر سکتی۔ اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ اتنی قیمت پر یہ گیس آخر خریدے گا کون؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا مسئلہ لچک کا ہے۔ اگرچہ ایل این جی بھی اپنے معاہدہ جاتی اور مارکیٹ سے متعلق خطرات رکھتی ہے، تاہم اس میں ایسے اختیارات موجود ہوتے ہیں جو پائپ لائن گیس میں نہیں۔ معاہدے کی نوعیت کے مطابق ایل این جی کی کھیپ کو مؤخر، تبدیل، ذخیرہ، دوسرے راستے پر منتقل یا دوبارہ فروخت کیا جا سکتا ہے، جبکہ پائپ لائن گیس ایک مقررہ راستے اور واحد سپلائر سے وابستہ ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان کو یا تو یہ گیس لازماً استعمال کرنا ہوگی، یا دوسری سپلائیز محدود کرنا ہوں گی، یا پھر اس ذمہ داری کو ایک اور مالی بوجھ میں تبدیل کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سختی اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں گیس کی طلب پہلے ہی قیمتوں کے بگاڑ، کمزور صنعتی سرگرمی اور متبادل ایندھن کے باعث متاثر ہے۔ مہنگی گیس کو زبردستی نظام میں شامل کرنے سے نقصان کسی نہ کسی شکل میں سامنے آئے گا۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں یہ بارہا دیکھا جا چکا ہے کہ جب قیمتیں طلب سے مطابقت نہیں رکھتیں تو اس کا بوجھ گردشی قرضے، سبسڈی، ادائیگیوں میں تاخیر یا حکومتی قرض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا مسئلہ سپلائی کے تسلسل کا ہے۔ اگرچہ ایران کے پاس گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، لیکن بڑے ذخائر کا مطلب یہ نہیں کہ برآمد کے لیے وافر گیس بھی دستیاب ہو۔ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ ایران کی تقریباً 70 سے 75 فیصد گیس پیداوار فراہم کرتی ہے، جس کا بیشتر حصہ ملک کے اندر ہی استعمال ہو جاتا ہے۔ ایران کو سردیوں میں گیس کی قلت، سپلائی میں کمی اور متبادل ایندھن استعمال کرنے جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، اور بعض اوقات اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات اور گیس کے تبادلے کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔ اس لیے پاکستان یہ فرض نہیں کر سکتا کہ صرف بڑے ذخائر کی موجودگی کی وجہ سے فوری طور پر قابلِ اعتماد اضافی گیس دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کے قابل اضافی گیس کے لیے ساؤتھ پارس میں دباؤ برقرار رکھنے کے منصوبوں، سمندر میں کمپریشن تنصیبات، نئے کنوؤں، پلیٹ فارمز، پائپ لائنوں اور پروسیسنگ صلاحیت میں بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ ایران نے اگرچہ ایسے کئی منصوبوں کا اعلان کیا ہے، مگر یہ کئی برسوں پر محیط سرمایہ کاری کے منصوبے ہیں اور فوری طور پر اضافی برآمدی گیس پیدا نہیں کریں گے۔ اس لیے پاکستان کو قلیل مدت میں قابلِ اعتماد سپلائی کے بجائے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچواں مسئلہ علاقائی اور سلامتی کے خطرات ہیں۔ اگر خطے میں دوبارہ جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات گیس کی سپلائی اور بنیادی ڈھانچے دونوں پر پڑیں گے۔ ساؤتھ پارس اور اس سے منسلک پروسیسنگ تنصیبات ایران کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔ کسی بھی خلل کی صورت میں ایران کی برآمدی صلاحیت یا آمادگی متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً سردیوں میں جب ملکی طلب کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایل این جی مختلف سپلائرز، راستوں اور اوقات کے ذریعے متبادل ذرائع فراہم کرتی ہے، جبکہ پائپ لائن گیس میں یہ سہولت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھٹا مسئلہ بنیادی ڈھانچے کی لاگت ہے۔ پاکستان کو صرف گیس کی قیمت ہی ادا نہیں کرنا ہوگی بلکہ نئی پائپ لائن، کمپریشن اسٹیشنز، میٹرنگ، سیکیورٹی اور نظام سے انضمام پر بھی بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ایران کی سرحد سے گوادر تک پہلے مرحلے کی 80 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی لاگت تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ اسے ملک کے بڑے طلبی مراکز سے جوڑنے کے لیے مزید اخراجات درکار ہوں گے۔ بالآخر یہ تمام لاگت ٹیرف، سرکاری وسائل یا قرض کے ذریعے پوری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام عوامل کو سامنے رکھا جائے تو موجودہ قیمتوں پر یہ منصوبہ مضبوط تجارتی بنیاد نہیں رکھتا۔ ایرانی گیس آر ایل این جی سے واضح طور پر سستی نہیں، ایل این جی کے مقابلے میں کم لچک رکھتی ہے، اس کے لیے نئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے، سپلائی میں تاخیر اور علاقائی خطرات موجود ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان نے ابھی تک ایسی مقامی گیس مارکیٹ ہی قائم نہیں کی جو اس گیس کو اس کی حقیقی لاگت پر جذب کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت اولین ترجیح گیس مارکیٹ کی تشکیل ہونی چاہیے۔ پاکستان کو تیسرے فریق کی رسائی، شفاف قیمتوں، قابلِ نفاذ خریداری کے معاہدوں، قابلِ اعتماد خریداروں اور پیدا کنندگان، درآمد کنندگان اور صارفین کے درمیان براہِ راست معاہدوں کی ضرورت ہے۔ گیس مارکیٹ میں اصلاحات کوئی انتظامی تفصیل نہیں بلکہ وہ بنیادی شرط ہیں جو طے کریں گی کہ درآمدی یا مقامی گیس کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں نمایاں کمی اور معاہدے پر ازسرِنو مذاکرات کے بغیر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ معاشی لحاظ سے قابلِ عمل نہیں۔ صرف پائپ لائن کا وجود توانائی کے تحفظ کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایسی گیس کو ایک ایسی منڈی میں لانا، جو ابھی وجود ہی نہیں رکھتی اور جہاں صارفین اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک ایسی مالی ذمہ داری ہے جس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں توانائی کے بحران کے حل کے طور پر ایک بار پھر ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس تجویز کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن تجارتی اعتبار سے اس کا جواز کمزور دکھائی دیتا ہے۔ زیرِ غور موجودہ قیمتوں کے فارمولے کے تحت ایران سے درآمد کی جانے والی پائپ لائن گیس سستی توانائی فراہم نہیں کرے گی بلکہ پہلے سے مہنگی درآمدی گیس کے بوجھ تلے دبے نظام میں ایک اور مہنگا ایندھن شامل کر دے گی۔</strong></p>
<p>اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو ایران سے گیس خریدنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ قیمتوں کا فارمولہ، درکار بنیادی ڈھانچہ اور ملک کی گیس مارکیٹ اس منصوبے کے لیے موزوں ہیں؟ فی الحال اس کا جواب نفی میں ہے۔ کوئی بھی گیس پائپ لائن اسی صورت توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنا سکتی ہے جب گیس مسابقتی قیمت پر دستیاب ہو، اس کی مسلسل فراہمی یقینی ہو اور اس کے لیے واضح اور فعال مقامی منڈی موجود ہو۔ اس وقت ان میں سے کوئی شرط پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔</p>
<p>اس منصوبے کا بنیادی مسئلہ قیمت ہے۔ زیرِ گردش فارمولے کے مطابق:</p>
<p>ایران۔پاکستان گیس کی قیمت = جاپان کروڈ کاک ٹیل (جے سی سی) × 0.12 + ایک امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو</p>
<p>اس فارمولے کے تحت اگر جے سی سی خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل ہو تو سرحد پر گیس کی قیمت 9.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو بنتی ہے۔ اگر خام تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے تو یہ قیمت 13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جائے گی، جبکہ 120 ڈالر فی بیرل پر گیس کی قیمت بڑھ کر 15.4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p>یہ تمام قیمتیں سرحدی سطح کی ہیں، جن میں پاکستان کے اندر ترسیل، نقل و حمل اور نظام میں شامل کرنے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔</p>
<p><strong>زیرِ گردش فارمولے کے مطابق ایران۔پاکستان گیس کی تخمینی لاگت</strong>۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090542132547465.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/090542132547465.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<ul>
<li>پاکستان کے اندر اضافی لاگت کو محض تقابلی بنیاد کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 10 فیصد گیس کے ضیاع (یو ایف جی) کے ساتھ ساتھ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے انتظامی، ترسیلی اور تقسیمی اخراجات کا تخمینہ شامل ہے۔</li>
</ul>
<p>اس بنیاد پر دیکھا جائے تو ایرانی گیس کو آر ایل این جی پر کوئی واضح قیمت کا فائدہ حاصل نہیں۔ اوگرا کی فروری 2026 کی آر ایل این جی قیمتوں کی اطلاع کے مطابق تقسیمی سطح پر قیمت ایس این جی پی ایل کے لیے 11.3345 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ایس ایس جی سی کے لیے 10.2704 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی، جو 7.4553 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی اوسط درآمدی ایل این جی قیمت (ڈی ای ایس بنیاد) سے منسلک ہے۔ خام تیل کی معتدل قیمتوں پر ایران۔پاکستان پائپ لائن کی گیس کی قیمت تقریباً انہی سطحوں کے برابر بنتی ہے، جبکہ خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں یہ گیس آر ایل این جی سے بھی زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔</p>
<p>دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس پائپ لائن کو ایسے تجارتی منصوبے کے طور پر تیار نہیں کیا جا رہا جس کے لیے نیچے کی سطح پر خریداروں کے مضبوط اور قابلِ اعتماد معاہدے موجود ہوں۔ یہ درحقیقت ایک ریاستی سرپرستی میں چلنے والا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے۔ ایک بار معاہدہ ہونے کے بعد اس کی مالی ذمہ داری صرف تجارتی معاہدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ اگر گیس فروخت نہ ہو سکی تو اس کا بوجھ گیس کمپنیوں، سرکاری شعبے اور بالآخر ٹیکس دہندگان پر منتقل ہوگا۔</p>
<p>پاکستان میں گیس سے متعلق بحث کا یہی وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مسئلہ صرف گیس کی کمی نہیں بلکہ ایک فعال گیس مارکیٹ کا فقدان بھی ہے۔ ملک میں ایسی شفاف، مسابقتی اور گہری منڈی موجود نہیں جہاں درآمدی گیس اپنی مکمل لاگت پر فروخت کی جا سکے۔ ایسی منڈی کے بغیر گیس کی ایک اور سپلائی کا اضافہ بحران کا حل نہیں بلکہ ایک نئی مالی ذمہ داری پیدا کرے گا۔</p>
<p>ممکنہ خریداروں کی صورتحال بھی کمزور ہے۔ بجلی کا شعبہ اب مہنگی گیس کے لیے قابلِ اعتماد خریدار نہیں رہا۔ جہاں سستی بجلی، خصوصاً شمسی توانائی، دستیاب ہے وہاں گیس سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ اگر گیس کی قیمت 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو یا اس سے زیادہ ہوئی تو وہ بجلی کی پیداوار میں مسابقت برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ نتیجتاً نظام سستی بجلی کو ترجیح دے گا اور مہنگی گیس استعمال سے محروم رہ جائے گی۔</p>
<p>صنعتی شعبہ بھی اس خلا کو پُر کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کیپٹو پاور لیوی نے برآمدی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے گیس پر مبنی بجلی کی معاشیات بدل دی ہے، جس سے درآمدی گیس کا ایک بڑا ممکنہ خریدار مارکیٹ سے نکل گیا۔ عمومی صنعت پہلے ہی کمزور طلب، بلند ٹیکسوں اور توانائی کی زیادہ لاگت کا سامنا کر رہی ہے۔ گھریلو صارفین درآمدی قیمت کے مساوی گیس خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جبکہ کھاد کی صنعت بھی حکومتی سبسڈی کے بغیر ایسی مہنگی گیس استعمال نہیں کر سکتی۔ اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ اتنی قیمت پر یہ گیس آخر خریدے گا کون؟</p>
<p>تیسرا مسئلہ لچک کا ہے۔ اگرچہ ایل این جی بھی اپنے معاہدہ جاتی اور مارکیٹ سے متعلق خطرات رکھتی ہے، تاہم اس میں ایسے اختیارات موجود ہوتے ہیں جو پائپ لائن گیس میں نہیں۔ معاہدے کی نوعیت کے مطابق ایل این جی کی کھیپ کو مؤخر، تبدیل، ذخیرہ، دوسرے راستے پر منتقل یا دوبارہ فروخت کیا جا سکتا ہے، جبکہ پائپ لائن گیس ایک مقررہ راستے اور واحد سپلائر سے وابستہ ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان کو یا تو یہ گیس لازماً استعمال کرنا ہوگی، یا دوسری سپلائیز محدود کرنا ہوں گی، یا پھر اس ذمہ داری کو ایک اور مالی بوجھ میں تبدیل کرنا پڑے گا۔</p>
<p>یہ سختی اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں گیس کی طلب پہلے ہی قیمتوں کے بگاڑ، کمزور صنعتی سرگرمی اور متبادل ایندھن کے باعث متاثر ہے۔ مہنگی گیس کو زبردستی نظام میں شامل کرنے سے نقصان کسی نہ کسی شکل میں سامنے آئے گا۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں یہ بارہا دیکھا جا چکا ہے کہ جب قیمتیں طلب سے مطابقت نہیں رکھتیں تو اس کا بوجھ گردشی قرضے، سبسڈی، ادائیگیوں میں تاخیر یا حکومتی قرض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>چوتھا مسئلہ سپلائی کے تسلسل کا ہے۔ اگرچہ ایران کے پاس گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، لیکن بڑے ذخائر کا مطلب یہ نہیں کہ برآمد کے لیے وافر گیس بھی دستیاب ہو۔ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ ایران کی تقریباً 70 سے 75 فیصد گیس پیداوار فراہم کرتی ہے، جس کا بیشتر حصہ ملک کے اندر ہی استعمال ہو جاتا ہے۔ ایران کو سردیوں میں گیس کی قلت، سپلائی میں کمی اور متبادل ایندھن استعمال کرنے جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے، اور بعض اوقات اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات اور گیس کے تبادلے کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔ اس لیے پاکستان یہ فرض نہیں کر سکتا کہ صرف بڑے ذخائر کی موجودگی کی وجہ سے فوری طور پر قابلِ اعتماد اضافی گیس دستیاب ہوگی۔</p>
<p>برآمد کے قابل اضافی گیس کے لیے ساؤتھ پارس میں دباؤ برقرار رکھنے کے منصوبوں، سمندر میں کمپریشن تنصیبات، نئے کنوؤں، پلیٹ فارمز، پائپ لائنوں اور پروسیسنگ صلاحیت میں بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ ایران نے اگرچہ ایسے کئی منصوبوں کا اعلان کیا ہے، مگر یہ کئی برسوں پر محیط سرمایہ کاری کے منصوبے ہیں اور فوری طور پر اضافی برآمدی گیس پیدا نہیں کریں گے۔ اس لیے پاکستان کو قلیل مدت میں قابلِ اعتماد سپلائی کے بجائے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔</p>
<p>پانچواں مسئلہ علاقائی اور سلامتی کے خطرات ہیں۔ اگر خطے میں دوبارہ جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات گیس کی سپلائی اور بنیادی ڈھانچے دونوں پر پڑیں گے۔ ساؤتھ پارس اور اس سے منسلک پروسیسنگ تنصیبات ایران کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔ کسی بھی خلل کی صورت میں ایران کی برآمدی صلاحیت یا آمادگی متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً سردیوں میں جب ملکی طلب کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایل این جی مختلف سپلائرز، راستوں اور اوقات کے ذریعے متبادل ذرائع فراہم کرتی ہے، جبکہ پائپ لائن گیس میں یہ سہولت موجود نہیں۔</p>
<p>چھٹا مسئلہ بنیادی ڈھانچے کی لاگت ہے۔ پاکستان کو صرف گیس کی قیمت ہی ادا نہیں کرنا ہوگی بلکہ نئی پائپ لائن، کمپریشن اسٹیشنز، میٹرنگ، سیکیورٹی اور نظام سے انضمام پر بھی بھاری سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ ایران کی سرحد سے گوادر تک پہلے مرحلے کی 80 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی لاگت تقریباً 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ اسے ملک کے بڑے طلبی مراکز سے جوڑنے کے لیے مزید اخراجات درکار ہوں گے۔ بالآخر یہ تمام لاگت ٹیرف، سرکاری وسائل یا قرض کے ذریعے پوری کی جائے گی۔</p>
<p>ان تمام عوامل کو سامنے رکھا جائے تو موجودہ قیمتوں پر یہ منصوبہ مضبوط تجارتی بنیاد نہیں رکھتا۔ ایرانی گیس آر ایل این جی سے واضح طور پر سستی نہیں، ایل این جی کے مقابلے میں کم لچک رکھتی ہے، اس کے لیے نئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے، سپلائی میں تاخیر اور علاقائی خطرات موجود ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان نے ابھی تک ایسی مقامی گیس مارکیٹ ہی قائم نہیں کی جو اس گیس کو اس کی حقیقی لاگت پر جذب کر سکے۔</p>
<p>اس وقت اولین ترجیح گیس مارکیٹ کی تشکیل ہونی چاہیے۔ پاکستان کو تیسرے فریق کی رسائی، شفاف قیمتوں، قابلِ نفاذ خریداری کے معاہدوں، قابلِ اعتماد خریداروں اور پیدا کنندگان، درآمد کنندگان اور صارفین کے درمیان براہِ راست معاہدوں کی ضرورت ہے۔ گیس مارکیٹ میں اصلاحات کوئی انتظامی تفصیل نہیں بلکہ وہ بنیادی شرط ہیں جو طے کریں گی کہ درآمدی یا مقامی گیس کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>قیمتوں میں نمایاں کمی اور معاہدے پر ازسرِنو مذاکرات کے بغیر ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ معاشی لحاظ سے قابلِ عمل نہیں۔ صرف پائپ لائن کا وجود توانائی کے تحفظ کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایسی گیس کو ایک ایسی منڈی میں لانا، جو ابھی وجود ہی نہیں رکھتی اور جہاں صارفین اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک ایسی مالی ذمہ داری ہے جس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288509</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 17:02:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد ستار)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/09163707580f28b.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/09163707580f28b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاگت میں کمی کے بغیر ٹیرف اصلاحات سے مسابقت ممکن نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288456/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس دلیل میں وزن ہے کہ پاکستان کی صنعت کو مستقل تحفظ فراہم کر کے مسابقتی نہیں بنایا جا سکتا۔ کوئی بھی معیشت محض ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کی اونچی دیواریں کھڑی کرکے اور مقامی مینوفیکچررز کو عالمی مقابلے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ کر صنعتی ترقی نہیں کر سکتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتوں کو بالآخر پیداواری صلاحیت، معیار، جدت پسندی، بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدی کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ کرنا سیکھنا ہوگا۔ اس تناظر میں ٹیرف کو معقول اور متوازن بنانے پر ایک سنجیدہ بحث نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔تاہم اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے وہ بنیادی حالات پیدا کیے ہیں جن کے تحت اس کی صنعت مقابلہ کر سکے؟ ٹیرف کے تحفظ پر کاروبار کی لاگت کو نظر انداز کرکے تنہا بحث نہیں کی جا سکتی۔پاکستان کا ایک کارخانہ دار اس ماحول میں کام نہیں کر رہا جو بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام، ترکیہ یا دیگر مسابقتی معیشتوں کے مینوفیکچرر کو میسر ہے۔پاکستانی پروڈیوسر پر توانائی کی اونچی قیمتوں، بلند شرح سود، ٹیکسوں کی کثیر تہوں، ریفنڈز میں تاخیر، ریگولیٹری رکاوٹوں، کمزور لاجسٹکس، پالیسیوں کی بار بار تبدیلی اور قوانین کے نفاذ میں غیر یقینی صورتحال کی شکل میں کہیں زیادہ بھاری بوجھ عائد ہے۔اگر ان ساختی خامیوں اور نقصانات کو دور نہ کیا گیا تو ٹیرف میں کمی سے خود بخود کارکردگی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس یہ مقامی صنعت کو ایک ایسے مقابلے کے سامنے لا کھڑا کرے گی جس کے لیے اسے منصفانہ طور پر تیار ہی نہیں کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں اس کا نتیجہ درآمدات میں اضافے، مقامی پیداوار میں کمی، ملازمتوں کے خاتمے، زرِ مبادلہ پر دباؤ اور صنعتی بنیادوں کی مزید کمزوری کی شکل میں نکل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کی صنعت کو تحفظ حاصل ہے، بلکہ اصل اور گہرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں صنعت چلانا بہت مہنگا ہے۔ گردشی قرضے، کراس سبسڈیز، بجلی اور گیس کے شعبوں کی نااہلی اور مالیاتی دباؤ کے باعث صنعت کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بار بار اضافہ کیا گیا ہے۔بینکوں سے قرضے مہنگے ہیں، جس کی وجہ سے مشینری، ٹیکنالوجی اور ورکنگ کیپیٹل (روزمرہ کے اخراجات کے لیے سرمایہ) میں سرمایہ کاری مشکل ہو گئی ہے۔ ٹیکسیشن کا نظام نہ صرف بھاری ہے بلکہ پیچیدہ اور غیر یقینی بھی ہے۔ ریفنڈز اکثر تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، جس سے کاروبار چلانے کے لیے نقد رقم کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ان سب کے علاوہ کاروباری اداروں کو اچانک پالیسی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ایک سال درآمدات پر پابندیاں ہوتی ہیں تو اگلے سال آزادی دے دی جاتی ہے، ایک بجٹ میں خصوصی ٹیکس لگائے جاتے ہیں تو دوسرے میں مراعات واپس لے لی جاتی ہیں، کسٹمز ڈیوٹیز، ریگولیٹری ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار اور دستاویزات کی شرائط میں اچانک تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں۔ایسے ماحول میں کوئی بھی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ صنعتی سرمایہ کاری کوئی قلیل مدتی تجارت نہیں ہے۔ اس کے لیے زمین، مشینری، لیبر، ٹیکنالوجی، کوالٹی کنٹرول، سپلائی چین اور برآمدی منڈیوں کی ترقی میں طویل مدتی وابستگی درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں کو پالیسی کے استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں کھیل کے قوانین کا پہلے سے علم ہونا چاہیے۔ اگر قوانین مسلسل بدلتے رہیں تو سرمایہ کار یا تو توسیع کے منصوبے ملتوی کر دیتے ہیں یا پھر اپنا سرمایہ تجارت، رئیل اسٹیٹ، مالیاتی اثاثوں یا درآمدی سرگرمیوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک وسیع اور مسابقتی مینوفیکچرنگ بیس  بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔یہ تسلیم کرنا بھی اہم ہے کہ ہر طرح کا تحفظ برا نہیں ہوتا اور ہر طرح کی لبرلائزیشن (مارکیٹ کو ہر قسم کی درآمدات کے لیے کھول دینا) اچھی نہیں ہوتی۔ وہ ممالک جو آج کامیاب برآمد کنندگان ہیں، وہ راتوں رات مسابقتی نہیں بنے۔ان میں سے بہت سے ممالک نے مقامی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے سرکاری سرپرستی، انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری، برآمدی مراعات، سستے قرضوں، مہارتوں کی ترقی، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور ایک مقررہ مدت کے لیے تحفظ کا سہارا لیا۔فرق صرف یہ تھا کہ وہاں تحفظ کو کارکردگی سے جوڑا گیا تھا۔ صنعتوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنائیں، برآمدات میں اضافہ کریں، ٹیکنالوجی کو جدید بنائیں اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ وہاں تحفظ کو مستقل حق نہیں سمجھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو بھی اسی طرح کا متوازن طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ ٹیرف اصلاحات بتدریج، قابلِ پیش گوئی اور صنعت کے ٹھوس نتائج سے منسلک ہونی چاہئیں۔خام مال، انٹرمیڈیٹ گڈز (نیم تیار شدہ مال) اور جدید مشینری پر ٹیرف کو معقول بنایا جانا چاہیے، تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔ اس سے مقامی مینوفیکچررز کو زیادہ مسابقتی بننے میں مدد مل سکتی ہے لیکن توانائی کی لاگت، مالیاتی اخراجات اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے بغیر تیار شدہ اشیاء پر تحفظ میں اچانک کمی مقامی پیداوار کو نقصان پہنچائے گی اور درآمدات پر انحصار کو فروغ دے گی۔مقصد نااہلی کو تحفظ دینا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی معیشت کو اس انداز میں کھولنا ہونا چاہیے جو پیداوری صلاحیت کو ہی تباہ کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد مسابقت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ٹیرف اصلاحات کو ایک وسیع تر صنعتی پالیسی کا حصہ بننا ہوگا۔ اس پالیسی میں برآمدی اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کے لیے خطے کے لحاظ سے مسابقتی توانائی کے نرخ، آسان اور کم ٹیکس نظام، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، مشینری اور ان پٹس (خام مال) کی آسان درآمد، کسٹمز کے بہتر طریقہ کار، بہتر لاجسٹکس، اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے خلاف سخت کارروائی اور پالیسی کے نفاذ میں تسلسل شامل ہونا چاہیے۔اس کے ساتھ ہی مقامی صنعت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ تحفظ غیر مشروط نہیں ہو سکتا۔ ٹیرف کی مدد حاصل کرنے والے شعبوں کو پیداواری صلاحیت، معیار میں بہتری، ٹیکنالوجی اپنانے، لوکلائزیشن (مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری)، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں اپنی پیش رفت دکھانی ہوگی۔جہاں صنعتیں کارکردگی کو بہتر بنائے بغیر صرف ٹیرف کی اونچی دیواروں پر انحصار کرتی رہیں، وہاں مزید تحفظ کا جواز کمزور پڑ جاتا ہے لیکن جہاں صنعتیں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، برآمدات بڑھا رہی ہیں، ملازمتیں پیدا کر رہی ہیں اور ویلیو ایڈیشن (قیمت میں اضافہ) کر رہی ہیں وہاں ریاست کو ایک شفاف اور وقت کے تعین کے ساتھ ان کی حمایت کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں پالیسی کی بحث اکثر دو انتہاؤں کے درمیان گھومتی ہے۔ ایک فریق تحفظ کی یوں حمایت کرتا ہے جیسے مقامی صنعت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنے کا کوئی خودکار حق حاصل ہو۔ دوسرا فریق لبرلائزیشن کی یوں وکالت کرتا ہے جیسے صرف ٹیرف کم کرنے سے جادوئی طور پر کارکردگی پیدا ہو جائے گی۔ یہ دونوں مؤقف ادھورے ہیں۔ ایک سنجیدہ پالیسی کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسابقت صرف مارکیٹ کو کھلا چھوڑ دینے سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ ساختی لاگت کو کم کرنے، پالیسی کے استحکام، گورننس کو بہتر بنانے اور صنعت سے کارکردگی کا تقاضا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو اصلاحات کے ایک تسلسل کی ضرورت ہے۔ پہلے مرحلے میں کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کیا جائے۔ دوسرے مرحلے میں خام مال اور مشینری پر ٹیرف کو معقول بنایا جائے۔ تیسرے مرحلے میں حقیقی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کو مقررہ وقت اور کارکردگی سے مشروط سپورٹ فراہم کی جائے۔ چوتھے  میں صنعتوں کو ایک پہلے سے طے شدہ روڈ میپ کے مطابق بتدریج مقابلے کے سامنے لایا جائے۔ ایسا تسلسل سرمایہ کاروں کو اعتماد دے گا اور صنعت کو بغیر کسی ناگزیر ڈی انڈسٹریلائزیشن (صنعتوں کی بندش) کے کارکردگی کی طرف راغب کرے گا۔ٹیرف کی دیواریں ہمیشہ نہیں رہ سکتیں لیکن انہیں گرانے سے پہلے گھر کی بنیاد کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو دیوار ہٹانے سے مسابقت پیدا نہیں ہوگی بلکہ مکان کی کمزوری کھل کر سامنے آ جائے گی۔ پاکستان کو ایک زیادہ کھلی اور مسابقتی معیشت کی طرف بڑھنا چاہیے، لیکن اسے یہ کام ذہانت اور تدبر سے کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی پالیسی کو پیداوار، روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ اس کا مقصد صرف درآمدات کو آسان بنانا ہو۔ حقیقی اصلاحات تحفظ کو ختم کرکے مارکیٹ کو بے آسرا چھوڑ دینے میں نہیں، بلکہ مہنگے، غیر یقینی اور غیر موثر صنعتی حالات کو ایک مستحکم، مسابقتی اور ترقی کے حامل معاشی ماحول سے بدلنے میں پنہاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اس دلیل میں وزن ہے کہ پاکستان کی صنعت کو مستقل تحفظ فراہم کر کے مسابقتی نہیں بنایا جا سکتا۔ کوئی بھی معیشت محض ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کی اونچی دیواریں کھڑی کرکے اور مقامی مینوفیکچررز کو عالمی مقابلے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ کر صنعتی ترقی نہیں کر سکتی۔</strong></p>
<p>صنعتوں کو بالآخر پیداواری صلاحیت، معیار، جدت پسندی، بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدی کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ کرنا سیکھنا ہوگا۔ اس تناظر میں ٹیرف کو معقول اور متوازن بنانے پر ایک سنجیدہ بحث نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔تاہم اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے وہ بنیادی حالات پیدا کیے ہیں جن کے تحت اس کی صنعت مقابلہ کر سکے؟ ٹیرف کے تحفظ پر کاروبار کی لاگت کو نظر انداز کرکے تنہا بحث نہیں کی جا سکتی۔پاکستان کا ایک کارخانہ دار اس ماحول میں کام نہیں کر رہا جو بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام، ترکیہ یا دیگر مسابقتی معیشتوں کے مینوفیکچرر کو میسر ہے۔پاکستانی پروڈیوسر پر توانائی کی اونچی قیمتوں، بلند شرح سود، ٹیکسوں کی کثیر تہوں، ریفنڈز میں تاخیر، ریگولیٹری رکاوٹوں، کمزور لاجسٹکس، پالیسیوں کی بار بار تبدیلی اور قوانین کے نفاذ میں غیر یقینی صورتحال کی شکل میں کہیں زیادہ بھاری بوجھ عائد ہے۔اگر ان ساختی خامیوں اور نقصانات کو دور نہ کیا گیا تو ٹیرف میں کمی سے خود بخود کارکردگی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس یہ مقامی صنعت کو ایک ایسے مقابلے کے سامنے لا کھڑا کرے گی جس کے لیے اسے منصفانہ طور پر تیار ہی نہیں کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں اس کا نتیجہ درآمدات میں اضافے، مقامی پیداوار میں کمی، ملازمتوں کے خاتمے، زرِ مبادلہ پر دباؤ اور صنعتی بنیادوں کی مزید کمزوری کی شکل میں نکل سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کی صنعت کو تحفظ حاصل ہے، بلکہ اصل اور گہرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں صنعت چلانا بہت مہنگا ہے۔ گردشی قرضے، کراس سبسڈیز، بجلی اور گیس کے شعبوں کی نااہلی اور مالیاتی دباؤ کے باعث صنعت کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بار بار اضافہ کیا گیا ہے۔بینکوں سے قرضے مہنگے ہیں، جس کی وجہ سے مشینری، ٹیکنالوجی اور ورکنگ کیپیٹل (روزمرہ کے اخراجات کے لیے سرمایہ) میں سرمایہ کاری مشکل ہو گئی ہے۔ ٹیکسیشن کا نظام نہ صرف بھاری ہے بلکہ پیچیدہ اور غیر یقینی بھی ہے۔ ریفنڈز اکثر تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، جس سے کاروبار چلانے کے لیے نقد رقم کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ان سب کے علاوہ کاروباری اداروں کو اچانک پالیسی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ایک سال درآمدات پر پابندیاں ہوتی ہیں تو اگلے سال آزادی دے دی جاتی ہے، ایک بجٹ میں خصوصی ٹیکس لگائے جاتے ہیں تو دوسرے میں مراعات واپس لے لی جاتی ہیں، کسٹمز ڈیوٹیز، ریگولیٹری ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار اور دستاویزات کی شرائط میں اچانک تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں۔ایسے ماحول میں کوئی بھی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ صنعتی سرمایہ کاری کوئی قلیل مدتی تجارت نہیں ہے۔ اس کے لیے زمین، مشینری، لیبر، ٹیکنالوجی، کوالٹی کنٹرول، سپلائی چین اور برآمدی منڈیوں کی ترقی میں طویل مدتی وابستگی درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں کو پالیسی کے استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں کھیل کے قوانین کا پہلے سے علم ہونا چاہیے۔ اگر قوانین مسلسل بدلتے رہیں تو سرمایہ کار یا تو توسیع کے منصوبے ملتوی کر دیتے ہیں یا پھر اپنا سرمایہ تجارت، رئیل اسٹیٹ، مالیاتی اثاثوں یا درآمدی سرگرمیوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک وسیع اور مسابقتی مینوفیکچرنگ بیس  بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔یہ تسلیم کرنا بھی اہم ہے کہ ہر طرح کا تحفظ برا نہیں ہوتا اور ہر طرح کی لبرلائزیشن (مارکیٹ کو ہر قسم کی درآمدات کے لیے کھول دینا) اچھی نہیں ہوتی۔ وہ ممالک جو آج کامیاب برآمد کنندگان ہیں، وہ راتوں رات مسابقتی نہیں بنے۔ان میں سے بہت سے ممالک نے مقامی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے سرکاری سرپرستی، انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری، برآمدی مراعات، سستے قرضوں، مہارتوں کی ترقی، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور ایک مقررہ مدت کے لیے تحفظ کا سہارا لیا۔فرق صرف یہ تھا کہ وہاں تحفظ کو کارکردگی سے جوڑا گیا تھا۔ صنعتوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنائیں، برآمدات میں اضافہ کریں، ٹیکنالوجی کو جدید بنائیں اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ وہاں تحفظ کو مستقل حق نہیں سمجھا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان کو بھی اسی طرح کا متوازن طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ ٹیرف اصلاحات بتدریج، قابلِ پیش گوئی اور صنعت کے ٹھوس نتائج سے منسلک ہونی چاہئیں۔خام مال، انٹرمیڈیٹ گڈز (نیم تیار شدہ مال) اور جدید مشینری پر ٹیرف کو معقول بنایا جانا چاہیے، تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔ اس سے مقامی مینوفیکچررز کو زیادہ مسابقتی بننے میں مدد مل سکتی ہے لیکن توانائی کی لاگت، مالیاتی اخراجات اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے بغیر تیار شدہ اشیاء پر تحفظ میں اچانک کمی مقامی پیداوار کو نقصان پہنچائے گی اور درآمدات پر انحصار کو فروغ دے گی۔مقصد نااہلی کو تحفظ دینا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی معیشت کو اس انداز میں کھولنا ہونا چاہیے جو پیداوری صلاحیت کو ہی تباہ کر دے۔</p>
<p>مقصد مسابقت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ٹیرف اصلاحات کو ایک وسیع تر صنعتی پالیسی کا حصہ بننا ہوگا۔ اس پالیسی میں برآمدی اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کے لیے خطے کے لحاظ سے مسابقتی توانائی کے نرخ، آسان اور کم ٹیکس نظام، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، مشینری اور ان پٹس (خام مال) کی آسان درآمد، کسٹمز کے بہتر طریقہ کار، بہتر لاجسٹکس، اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے خلاف سخت کارروائی اور پالیسی کے نفاذ میں تسلسل شامل ہونا چاہیے۔اس کے ساتھ ہی مقامی صنعت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ تحفظ غیر مشروط نہیں ہو سکتا۔ ٹیرف کی مدد حاصل کرنے والے شعبوں کو پیداواری صلاحیت، معیار میں بہتری، ٹیکنالوجی اپنانے، لوکلائزیشن (مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری)، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں اپنی پیش رفت دکھانی ہوگی۔جہاں صنعتیں کارکردگی کو بہتر بنائے بغیر صرف ٹیرف کی اونچی دیواروں پر انحصار کرتی رہیں، وہاں مزید تحفظ کا جواز کمزور پڑ جاتا ہے لیکن جہاں صنعتیں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، برآمدات بڑھا رہی ہیں، ملازمتیں پیدا کر رہی ہیں اور ویلیو ایڈیشن (قیمت میں اضافہ) کر رہی ہیں وہاں ریاست کو ایک شفاف اور وقت کے تعین کے ساتھ ان کی حمایت کرنی چاہیے۔</p>
<p>پاکستان میں پالیسی کی بحث اکثر دو انتہاؤں کے درمیان گھومتی ہے۔ ایک فریق تحفظ کی یوں حمایت کرتا ہے جیسے مقامی صنعت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنے کا کوئی خودکار حق حاصل ہو۔ دوسرا فریق لبرلائزیشن کی یوں وکالت کرتا ہے جیسے صرف ٹیرف کم کرنے سے جادوئی طور پر کارکردگی پیدا ہو جائے گی۔ یہ دونوں مؤقف ادھورے ہیں۔ ایک سنجیدہ پالیسی کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسابقت صرف مارکیٹ کو کھلا چھوڑ دینے سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ ساختی لاگت کو کم کرنے، پالیسی کے استحکام، گورننس کو بہتر بنانے اور صنعت سے کارکردگی کا تقاضا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>ملک کو اصلاحات کے ایک تسلسل کی ضرورت ہے۔ پہلے مرحلے میں کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کیا جائے۔ دوسرے مرحلے میں خام مال اور مشینری پر ٹیرف کو معقول بنایا جائے۔ تیسرے مرحلے میں حقیقی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کو مقررہ وقت اور کارکردگی سے مشروط سپورٹ فراہم کی جائے۔ چوتھے  میں صنعتوں کو ایک پہلے سے طے شدہ روڈ میپ کے مطابق بتدریج مقابلے کے سامنے لایا جائے۔ ایسا تسلسل سرمایہ کاروں کو اعتماد دے گا اور صنعت کو بغیر کسی ناگزیر ڈی انڈسٹریلائزیشن (صنعتوں کی بندش) کے کارکردگی کی طرف راغب کرے گا۔ٹیرف کی دیواریں ہمیشہ نہیں رہ سکتیں لیکن انہیں گرانے سے پہلے گھر کی بنیاد کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو دیوار ہٹانے سے مسابقت پیدا نہیں ہوگی بلکہ مکان کی کمزوری کھل کر سامنے آ جائے گی۔ پاکستان کو ایک زیادہ کھلی اور مسابقتی معیشت کی طرف بڑھنا چاہیے، لیکن اسے یہ کام ذہانت اور تدبر سے کرنا ہوگا۔</p>
<p>تجارتی پالیسی کو پیداوار، روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ اس کا مقصد صرف درآمدات کو آسان بنانا ہو۔ حقیقی اصلاحات تحفظ کو ختم کرکے مارکیٹ کو بے آسرا چھوڑ دینے میں نہیں، بلکہ مہنگے، غیر یقینی اور غیر موثر صنعتی حالات کو ایک مستحکم، مسابقتی اور ترقی کے حامل معاشی ماحول سے بدلنے میں پنہاں ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288456</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 13:38:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ساجد محمود قاضی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0813244258fa060.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0813244258fa060.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں بینکاری شعبے کا غلبہ برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288442/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;30 جون 2026 تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار واضح شعبہ جاتی ارتکاز کو ظاہر کرتے ہیں۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے سرفہرست 10 کمپنیوں میں پانچ بینک نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان بینکوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 3,383 ارب روپے ہے، جو سرفہرست 10 کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن، یعنی تقریباً 7,806 ارب روپے کا 43.3 فیصد بنتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمایاں مارکیٹ ویلیوایشن میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ 1,121 ارب روپے، میزان بینک 930 ارب روپے، ایم سی بی بینک 481 ارب روپے، حبیب بینک لمیٹڈ 429 ارب روپے اور نیشنل بینک آف پاکستان 422 ارب روپے کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ غلبہ معیشت میں موجود گہری ساختی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین برسوں کے دوران بینکوں نے مضبوط مالی نتائج حاصل کیے ہیں۔ بلند پالیسی شرح سود نے نیٹ انٹرسٹ مارجن کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ ترسیلات زر میں اضافے نے کم لاگت والے ڈپازٹس فراہم کیے اور زرمبادلہ کی تبدیلی سے نمایاں منافع حاصل ہوا۔ بہت سے ترسیلات وصول کرنے والوں کو مسابقتی شرح مبادلہ سے متعلق محدود آگاہی ہوتی ہے۔ بینکاری شعبے نے مسلسل پرکشش ڈیویڈنڈ ییلڈ فراہم کی ہیں، جو غیر یقینی مارکیٹ حالات میں اکثر مجموعی مارکیٹ منافع سے بہتر ثابت ہوئیں۔ ان تمام عوامل نے بینکاری حصص کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پسندیدہ محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مالیاتی نرمی کے باوجود ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو دسمبر 2025 تک 39.8 فیصد کی نسبتاً کم سطح پر برقرار رہا۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بحالی دیکھی گئی، جہاں مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ کے دوران 934.1 ارب روپے کا خالص قرضہ دیا گیا، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 12 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے باوجود نجی شعبے کو دیا جانے والا قرض اب بھی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 11 فیصد ہے، جو خطے میں کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ بینک اب بھی اپنی بڑی مالیاتی رقوم حکومتی سیکیورٹیز میں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہاں محفوظ سرمایہ کاری اور پرکشش خطرے سے پاک منافع دستیاب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے کو محدود قرضوں کی فراہمی پوری معیشت میں سرمایہ کاری کو محدود کر رہی ہے۔ زرعی شعبہ، بالخصوص کپاس، مسلسل کمزور کارکردگی کا شکار ہے۔ 2025-26 کے سیزن میں کپاس کی آمد تقریباً 50 سے 55 لاکھ گانٹھیں رہی، جبکہ اس کی ممکنہ پیداوار 80 لاکھ سے ایک کروڑ یا اس سے زائد گانٹھیں ہو سکتی تھی۔ اس کی وجوہات میں موسمیاتی چیلنجز، کیڑوں کے حملے اور کم پیداوار شامل ہیں۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر ٹیکسٹائل صنعت پر پڑتا ہے، جو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار بڑھتا ہے اور منافع کے مارجن پر دباؤ آتا ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) محدود شعبوں اور غیر مستقل انداز میں آئی ہے۔ بجلی اور مالیاتی شعبوں میں کچھ سرمایہ کاری ضرور ہوئی، تاہم اس کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کا شعبہ ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مالی سال 2025 میں اس شعبے کی برآمدات تقریباً 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 19 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ شعبہ مالی سال 2026 میں بھی مضبوط دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو علم پر مبنی صنعتوں میں پاکستان کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے کی مضبوطی معیشت میں استحکام کا ایک ظاہری تاثر فراہم کرتی ہے، تاہم موجودہ ماڈل کی ترقیاتی سمت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ سرمایہ کار اور بینک زرعی اور صنعتی شعبوں میں بھرپور سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں اور اس کے بجائے محفوظ مالیاتی اثاثوں اور ترسیلات زر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں نوجوان آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ترقیاتی ضروریات بہت زیادہ ہیں، 6 فیصد سے زائد مسلسل جی ڈی پی شرح نمو ناگزیر ہے۔ یہی شرح روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غربت کم کرنے اور طویل مدتی معاشی مضبوطی قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ صرف بینکاری شعبے کی توسیع اور آئی ٹی جیسے محدود شعبوں پر انحصار وہ وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی فراہم نہیں کر سکتا جس کی ملک کو ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے فوری پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان میں مالیاتی استحکام کے ذریعے نجی شعبے کے لیے مالی وسائل کی دستیابی بہتر بنانا، بالخصوص ایس ایم ایز اور پیداواری شعبوں کے لیے قرضوں کے ماحول میں اصلاحات، زرعی شعبے کی جدید کاری اور صنعت و برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کے لیے اہدافی مراعات شامل ہیں۔ صرف اسی صورت میں پاکستان عدم مستحکم استحکام سے نکل کر جامع ، پائیدار اور اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>30 جون 2026 تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار واضح شعبہ جاتی ارتکاز کو ظاہر کرتے ہیں۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے سرفہرست 10 کمپنیوں میں پانچ بینک نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان بینکوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 3,383 ارب روپے ہے، جو سرفہرست 10 کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن، یعنی تقریباً 7,806 ارب روپے کا 43.3 فیصد بنتی ہے۔</strong></p>
<p>نمایاں مارکیٹ ویلیوایشن میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ 1,121 ارب روپے، میزان بینک 930 ارب روپے، ایم سی بی بینک 481 ارب روپے، حبیب بینک لمیٹڈ 429 ارب روپے اور نیشنل بینک آف پاکستان 422 ارب روپے کے ساتھ شامل ہیں۔ یہ غلبہ معیشت میں موجود گہری ساختی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ تین برسوں کے دوران بینکوں نے مضبوط مالی نتائج حاصل کیے ہیں۔ بلند پالیسی شرح سود نے نیٹ انٹرسٹ مارجن کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ ترسیلات زر میں اضافے نے کم لاگت والے ڈپازٹس فراہم کیے اور زرمبادلہ کی تبدیلی سے نمایاں منافع حاصل ہوا۔ بہت سے ترسیلات وصول کرنے والوں کو مسابقتی شرح مبادلہ سے متعلق محدود آگاہی ہوتی ہے۔ بینکاری شعبے نے مسلسل پرکشش ڈیویڈنڈ ییلڈ فراہم کی ہیں، جو غیر یقینی مارکیٹ حالات میں اکثر مجموعی مارکیٹ منافع سے بہتر ثابت ہوئیں۔ ان تمام عوامل نے بینکاری حصص کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پسندیدہ محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔</p>
<p>حالیہ مالیاتی نرمی کے باوجود ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو دسمبر 2025 تک 39.8 فیصد کی نسبتاً کم سطح پر برقرار رہا۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بحالی دیکھی گئی، جہاں مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ کے دوران 934.1 ارب روپے کا خالص قرضہ دیا گیا، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 12 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے باوجود نجی شعبے کو دیا جانے والا قرض اب بھی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 11 فیصد ہے، جو خطے میں کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ بینک اب بھی اپنی بڑی مالیاتی رقوم حکومتی سیکیورٹیز میں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہاں محفوظ سرمایہ کاری اور پرکشش خطرے سے پاک منافع دستیاب ہوتے ہیں۔</p>
<p>نجی شعبے کو محدود قرضوں کی فراہمی پوری معیشت میں سرمایہ کاری کو محدود کر رہی ہے۔ زرعی شعبہ، بالخصوص کپاس، مسلسل کمزور کارکردگی کا شکار ہے۔ 2025-26 کے سیزن میں کپاس کی آمد تقریباً 50 سے 55 لاکھ گانٹھیں رہی، جبکہ اس کی ممکنہ پیداوار 80 لاکھ سے ایک کروڑ یا اس سے زائد گانٹھیں ہو سکتی تھی۔ اس کی وجوہات میں موسمیاتی چیلنجز، کیڑوں کے حملے اور کم پیداوار شامل ہیں۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر ٹیکسٹائل صنعت پر پڑتا ہے، جو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے۔ اس سے درآمدات پر انحصار بڑھتا ہے اور منافع کے مارجن پر دباؤ آتا ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) محدود شعبوں اور غیر مستقل انداز میں آئی ہے۔ بجلی اور مالیاتی شعبوں میں کچھ سرمایہ کاری ضرور ہوئی، تاہم اس کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔</p>
<p>آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کا شعبہ ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مالی سال 2025 میں اس شعبے کی برآمدات تقریباً 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 19 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ شعبہ مالی سال 2026 میں بھی مضبوط دو ہندسوں پر مشتمل شرح نمو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو علم پر مبنی صنعتوں میں پاکستان کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>بینکاری شعبے کی مضبوطی معیشت میں استحکام کا ایک ظاہری تاثر فراہم کرتی ہے، تاہم موجودہ ماڈل کی ترقیاتی سمت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ سرمایہ کار اور بینک زرعی اور صنعتی شعبوں میں بھرپور سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں اور اس کے بجائے محفوظ مالیاتی اثاثوں اور ترسیلات زر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں نوجوان آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ترقیاتی ضروریات بہت زیادہ ہیں، 6 فیصد سے زائد مسلسل جی ڈی پی شرح نمو ناگزیر ہے۔ یہی شرح روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غربت کم کرنے اور طویل مدتی معاشی مضبوطی قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ صرف بینکاری شعبے کی توسیع اور آئی ٹی جیسے محدود شعبوں پر انحصار وہ وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری پر مبنی معاشی ترقی فراہم نہیں کر سکتا جس کی ملک کو ضرورت ہے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے فوری پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان میں مالیاتی استحکام کے ذریعے نجی شعبے کے لیے مالی وسائل کی دستیابی بہتر بنانا، بالخصوص ایس ایم ایز اور پیداواری شعبوں کے لیے قرضوں کے ماحول میں اصلاحات، زرعی شعبے کی جدید کاری اور صنعت و برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کے لیے اہدافی مراعات شامل ہیں۔ صرف اسی صورت میں پاکستان عدم مستحکم استحکام سے نکل کر جامع ، پائیدار اور اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288442</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 10:32:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (چوہدری محمد اکمل، ایف سی ایم اے)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/08102847cebc405.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/08102847cebc405.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288417/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زرعی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070451355b83495.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070451355b83495.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خدمات کا شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلاصہ اور نتیجہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07045445ec0ab54.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07045445ec0ab54.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:</strong></p>
<p>شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔</p>
<p><strong>زرعی شعبہ</strong></p>
<p>پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070451355b83495.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/070451355b83495.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>صنعتی شعبہ</strong></p>
<p>اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔</p>
<p>انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔</p>
<p>تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p><strong>خدمات کا شعبہ</strong></p>
<p>آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔</p>
<p>آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔</p>
<p>وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔</p>
<p><strong>خلاصہ اور نتیجہ</strong></p>
<p>مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07045445ec0ab54.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/07045445ec0ab54.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288417</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 15:37:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/071514017391118.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/071514017391118.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فراڈ کے خطرے سے ڈیجیٹل مانیٹرنگ تک: پاکستان میں خاموش بینکاری انقلاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288464/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک خاموش مگر اہم انقلاب برپا ہے۔ یہ انقلاب ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، الگورتھمز اور ان پیشہ ور افراد کی خاموش مگر پُرعزم کاوشوں سے برپا ہو رہا ہے، جو کبھی فراڈ رسک مینیجرز کہلاتے تھے اور آج پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے اولین محافظ بن کر ابھر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی فراڈ رسک مینجمنٹ سے ریئل ٹائم ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ کی جانب یہ منتقلی محض عہدوں یا محکموں کی تبدیلی نہیں، بلکہ اس بات کی ازسرِنو تشکیل ہے کہ پاکستان کا بینکاری اور ادائیگیوں کا نظام مالیاتی جرائم کی نشاندہی، ان پر فوری ردعمل اور ان کی روک تھام کس طرح کرے۔ ڈیجیٹل لین دین میں غیرمعمولی اضافے نے اس تبدیلی کو ناگزیر بنا دیا ہے، جبکہ ایس بی پی کی زیادہ فعال، منظم اور مؤثر ریگولیٹری حکمتِ عملی نے اسے ممکن بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پاکستان کا خاموش انقلاب ہے، جسے سمجھنے، سراہنے اور مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پرانا-نظام-جب-فراڈ-رسک-کا-کردار-محض-ردعمل-تک-محدود-تھا" href="#پرانا-نظام-جب-فراڈ-رسک-کا-کردار-محض-ردعمل-تک-محدود-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پرانا نظام: جب فراڈ رسک کا کردار محض ردعمل تک محدود تھا&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ پاکستان کے بینکاری شعبے میں فراڈ رسک مینجمنٹ زیادہ تر ایک ردعمل پر مبنی نظام تھا۔ ٹیمیں فراڈ ہونے کے بعد تحقیقات کرتی تھیں۔ کوئی صارف شکایت درج کراتا، مشکوک لین دین کی نشاندہی ہوتی، فارم پُر کیے جاتے اور کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں، لیکن اکثر اس وقت تک نقصان ہو چکا ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور میں نظام زیادہ تر دستی طریقہ کار اور کاغذی کارروائی پر مشتمل تھا، جبکہ متعلقہ ماہرین کی توجہ ریئل ٹائم خطرات کی نشاندہی کے بجائے آڈٹ ریکارڈ، ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل اور تنازعات کے حل پر مرکوز رہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ماڈل اُس وقت تک مؤثر تھا جب بینکاری زیادہ تر برانچوں تک محدود تھی، لین دین کی رفتار سست تھی اور ایک عام صارف ہفتے میں شاید ایک مرتبہ بینک جا کر انسانی کیشیئر کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری کرتا تھا۔ اس ماحول میں فراڈ کے خطرات بھی نسبتاً محدود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب وہ دور گزر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈیجیٹل-انقلاب-اور-اس-سے-جنم-لینے-والا-نیا-چیلنج" href="#ڈیجیٹل-انقلاب-اور-اس-سے-جنم-لینے-والا-نیا-چیلنج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈیجیٹل انقلاب اور اس سے جنم لینے والا نیا چیلنج&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام گزشتہ چند برسوں میں تاریخی تبدیلی سے گزرا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے ایس بی پی کی پیمنٹ سسٹمز ریویو کے مطابق، ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد بڑھ کر 9.1 ارب تک پہنچ گئی، جبکہ ان کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں حجم کے لحاظ سے 38 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 12 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ملک میں تقریباً 88 فیصد مالیاتی لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے، جبکہ صرف ایک سال قبل یہ شرح 78 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کے تعاون سے قومی ادائیگی نظام کی حکمتِ عملی کے تحت متعارف کرایا گیا پاکستان کا فوری ادائیگیوں کا پلیٹ فارم راست، جسے اب راست پیمنٹس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، ایک ہی سہ ماہی کے دوران 4.79 کھرب روپے مالیت کے لین دین پراسیس کر چکا ہے، جبکہ لین دین کی تعداد اور مالیت دونوں میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاکستان ریئل ٹائم انٹربینک سیٹلمنٹ میکانزم پلس (پی آر آئی ایس ایم پلس) نے پرانے نظام کی جگہ ایک جدید پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس میں ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ، سینٹرل سیکیورٹیز ڈپازٹری کی سہولت اور کہیں زیادہ پراسیسنگ صلاحیت شامل ہے، جو جدید ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایزی پیسہ اور جاز کیش جیسے موبائل والیٹس روزانہ لاکھوں لین دین ممکن بنا رہے ہیں اور دیہی و نیم شہری علاقوں کے ایسے لاکھوں افراد کو بھی مالیاتی نظام کا حصہ بنا رہے ہیں جو پہلے بینکاری خدمات سے محروم تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک غیرمعمولی کامیابی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک غیرمعمولی چیلنج بھی سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر نیا ڈیجیٹل اکاؤنٹ، ہر نئی مالیاتی ٹرانزیکشن اور ہر نیا صارف جہاں مالی شمولیت کی جانب ایک قدم ہے، وہیں سائبر مجرموں اور فراڈ کرنے والوں کے لیے ایک نیا ممکنہ ہدف بھی بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بینکاری شعبے میں 2024 کے دوران ڈیجیٹل فراڈ کے واقعات میں 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2025 میں سائبر جرائم کے واقعات سالانہ بنیاد پر 35 فیصد بڑھ گئے۔ صرف 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران بینکاری میلویئر کے ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد حملوں کا سراغ لگایا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس رفتار سے ڈیجیٹل معیشت وسعت اختیار کر رہی ہے، فراڈ کے خطرات بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ فراڈ رسک مینجمنٹ کا روایتی ردعمل پر مبنی نظام ان خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایس-بی-پی-کا-فیصلہ-کن-ریگولیٹری-کردار" href="#ایس-بی-پی-کا-فیصلہ-کن-ریگولیٹری-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایس بی پی کا فیصلہ کن ریگولیٹری کردار&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ کی جانب منتقلی میں سب سے اہم کردار ایس بی پی کی منظم، مسلسل اور فعال ریگولیٹری حکمتِ عملی نے ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سفر کا آغاز مئی 2023 میں جاری کیے گئے ایک اہم ہدایت نامے سے ہوا، جس کے تحت تمام کمرشل اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ 31 دسمبر 2023 تک اپنے ڈیجیٹل فراڈ سے تحفظ کے نظام کو بنیادی طور پر ازسرِنو تشکیل دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایات جامع اور واضح تھیں۔ پہلی بار مالیاتی اداروں کو اس صورت میں صارفین کے مالی نقصان کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا گیا جب نقصان بروقت یا مؤثر کارروائی نہ کرنے کے باعث ہو۔ اس تبدیلی نے اداروں کی توجہ فراڈ ہونے کے بعد کارروائی کے بجائے پیشگی روک تھام پر مرکوز کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ حقیقی وقت میں فراڈ کی روک تھام کے مؤثر نظام قائم کریں، فراڈیولنٹ ٹرانزیکشن ڈسپیوٹ ہینڈلنگ (ایف ٹی ڈی ایچ) نظام کے ذریعے فراڈ رسک مینجمنٹ اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو مربوط بنائیں، عالمی معیار کے مطابق نگرانی اور گورننس کا نظام نافذ کریں، اور اپنی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز اس انداز میں تیار کریں کہ صارفین کی معلومات کے افشا ہونے کا امکان کم سے کم ہو۔ ان ہدایات میں ڈیجیٹل فراڈ کی نگرانی، بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد اور جدید فراڈ رسک مینجمنٹ نظام کی تنصیب جیسے اہم پہلو بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ایس بی پی نے مزید سخت اقدامات کیے۔ جولائی 2025 میں بی پی آر ڈی سرکلر نمبر 1، 2025 کے ذریعے تمام بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، مائیکروفنانس بینکوں، ڈیجیٹل بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز کے لیے ہدایت جاری کی گئی کہ 25 اکتوبر 2025 تک تمام اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والیٹس کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کو بنیادی توثیقی طریقہ بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یکم جولائی 2025 سے موبائل والیٹ پلیٹ فارمز پر کاؤنٹر کے ذریعے ہونے والے تمام نقد لین دین کے لیے بھی بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے ریٹیل ایجنٹس کو بائیومیٹرک تصدیقی آلات سے لیس کرنا ضروری قرار پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کی پہلی سہ ماہی میں ایس بی پی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام، صارفین کی جانچ پڑتال اور فراڈ رسک پروٹوکولز میں کوتاہیوں پر آٹھ بڑے بینکوں پر 77 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے بھی عائد کیے۔ اس سے واضح ہوا کہ ریگولیٹری ہدایات اب محض مشورے نہیں بلکہ ان پر عمل نہ کرنے کی مالی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فراڈ-رسک-افسر-سے-ڈیجیٹل-فراڈ-ماہر-تک" href="#فراڈ-رسک-افسر-سے-ڈیجیٹل-فراڈ-ماہر-تک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فراڈ رسک افسر سے ڈیجیٹل فراڈ ماہر تک&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کا سب سے نمایاں، مگر کم زیرِ بحث آنے والا پہلو، اس شعبے سے وابستہ افرادی قوت کی پیشہ ورانہ تبدیلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں بینکوں کے فراڈ رسک شعبوں میں کام کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق تکنیکی شعبوں سے نہیں ہوتا تھا۔ ان کی مہارت ریگولیٹری تقاضوں، تنازعات کے حل، آڈٹ کے طریقہ کار، صارفین کی شکایات اور دستی تصدیقی نظام تک محدود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ڈیجیٹل انقلاب اور ایس بی پی کے نئے ریگولیٹری نظام نے ان پیشہ ور افراد سے بالکل نئی مہارتوں کا تقاضا کیا۔ اب انہیں ریئل ٹائم ٹرانزیکشن مانیٹرنگ، رویّوں کے تجزیے، مشین لرننگ پر مبنی غیرمعمولی سرگرمیوں کی نشاندہی، فوری الرٹ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل فرانزک جیسے جدید شعبوں میں مہارت حاصل کرنا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں ویزا اور ماسٹرکارڈ کے چارج بیک قواعد، تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور فراڈ سے متعلق ذمہ داریوں کے عالمی اصول بھی سیکھنے پڑے۔ اب صرف مشکوک لین دین کی نشاندہی کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ وہ مشکوک کیوں ہے، فراڈ کس طریقے سے کیا گیا اور اس کے پس پردہ کون سے تکنیکی طریقہ کار استعمال ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے کمرشل بینکوں میں آج 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن کام کرنے والے فراڈ آپریشن سینٹرز میں ایک نئی پیشہ ورانہ شناخت جنم لے چکی ہے، یعنی ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ اسپیشلسٹ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ماہرین حقیقی وقت میں مالیاتی لین دین پر نظر رکھتے ہیں، کارڈ ناٹ پریزنٹ فراڈ، سم سوئپ اور اکاؤنٹ ٹیک اوور جیسے جرائم کی تحقیقات کرتے ہیں، سوشل انجینئرنگ حملوں کے طریقہ کار کا تجزیہ کرتے ہیں اور صارفین کے تحفظ اور رقوم کی بازیابی کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں، نادرا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی معمولی نہیں بلکہ ایک مکمل پیشہ ورانہ ارتقا ہے۔ ایک ایسا شعبہ جو ایک دہائی قبل پاکستان میں تقریباً موجود ہی نہیں تھا، آج ملک کے تقریباً ہر بڑے مالیاتی ادارے کے آپریشنل نظام کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کارڈ-انڈسٹری-اور-ڈیجیٹل-لین-دین-فراڈ-کے-خلاف-نئی-جنگ" href="#کارڈ-انڈسٹری-اور-ڈیجیٹل-لین-دین-فراڈ-کے-خلاف-نئی-جنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کارڈ انڈسٹری اور ڈیجیٹل لین دین: فراڈ کے خلاف نئی جنگ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کارڈ پر مبنی ادائیگیوں کا نظام اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ ایس بی پی کے اس وژن کے تحت کہ ملک میں نصف ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دی جائیں، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، تاہم اس کے ساتھ کارڈ فراڈ کے طریقے بھی پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور جدید ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارڈ ناٹ پریزنٹ (سی این پی) فراڈ، اسکیمنگ، جعلی کارڈز کے ذریعے دھوکا دہی اور غیر مجاز انٹربینک فنڈ ٹرانسفرز (آئی بی ایف ٹی) نے بینکوں کو اپنے فراڈ نگرانی کے نظام ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بینک مصنوعی ذہانت سے چلنے والے فراڈ ڈیٹیکشن سسٹمز استعمال کر رہے ہیں، جو ملی سیکنڈز میں سیکڑوں عوامل کا تجزیہ کرتے ہیں، جن میں لین دین کا جغرافیائی مقام، استعمال ہونے والے ڈیوائس کی شناخت، ٹرانزیکشن کی رفتار اور انداز، مرچنٹ کیٹیگری کوڈز، لین دین کا وقت اور صارف کے سابقہ مالیاتی رویّے شامل ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہر لین دین کے لیے فوری رسک اسکور تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی لین دین مقررہ حد سے زیادہ مشکوک ہو تو نظام خودکار طور پر اسے روک دیتا ہے، صارف کو مختلف ذرائع سے فوری اطلاع بھیجتا ہے اور ساتھ ہی فراڈ مانیٹرنگ ٹیم کو بھی متحرک کر دیتا ہے۔ یوں فراڈ کی نشاندہی اور کارروائی کے درمیان جو وقفہ پہلے کئی دنوں پر محیط ہوتا تھا، وہ اب چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کے انٹرنیٹ بینکنگ سکیورٹی ریگولیشنز کے تحت بینکوں کے لیے محفوظ اور خفیہ مواصلاتی نظام، ملٹی فیکٹر توثیق، شناخت کی چوری سے تحفظ، سکیورٹی کنٹرولز کی مسلسل نگرانی اور سکیورٹی خلاف ورزیوں کی سہ ماہی بنیادوں پر پیمنٹ سسٹمز ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریگولیٹری فریم ورک نے واضح کر دیا ہے کہ فراڈ مانیٹرنگ اب کسی ایک شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے بینکاری نظام کی مشترکہ ادارہ جاتی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="غیر-بینکاری-آبادی-ایک-بڑا-موقع-مگر-بڑا-چیلنج-بھی" href="#غیر-بینکاری-آبادی-ایک-بڑا-موقع-مگر-بڑا-چیلنج-بھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غیر بینکاری آبادی: ایک بڑا موقع، مگر بڑا چیلنج بھی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اب بھی ایک بڑی آبادی بینکاری نظام سے باہر ہے۔ ایس بی پی کے مطابق منفرد اکاؤنٹ ہولڈرز کی بنیاد پر ملک میں بینکاری رسائی کی شرح تقریباً 62 فیصد ہے، جو عالمی معیار کے مقابلے میں اب بھی کم شمار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے میں صنفی تفاوت بھی نمایاں ہے، جہاں ہر تین مردوں کے مقابلے میں صرف ایک پاکستانی خاتون کا بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔ اسی طرح ملک کے 85 فیصد کاروباری منظرنامے پر مشتمل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی بڑی تعداد اب بھی باضابطہ بینکاری سہولتوں سے محروم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تبدیلی کی رفتار واضح دکھائی دیتی ہے۔ نادرا کے بائیومیٹرک نظام، ایس بی پی کے ڈیجیٹل بینک لائسنسنگ فریم ورک اور ملک بھر میں 7 لاکھ 31 ہزار سے زائد برانچ لیس بینکاری ایجنٹس کے نیٹ ورک کی بدولت لاکھوں افراد بتدریج رسمی مالیاتی نظام کا حصہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں عیدالاضحیٰ کے مویشی منڈیوں میں راست پرسن ٹو مرچنٹ (پی ٹو ایم) پائلٹ منصوبے نے یہ ثابت کیا کہ اگر مناسب انفراسٹرکچر اور اعتماد موجود ہو تو غیر رسمی معیشت بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو باآسانی اپنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس بڑھتی ہوئی مالی شمولیت کے ساتھ تحفظ کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی مرتبہ بینکاری نظام میں شامل ہونے والے صارفین، جو او ٹی پی، سم سوئپ یا سوشل انجینئرنگ جیسے فراڈ سے ناواقف ہوتے ہیں، سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شامل ہونے والا ہر نیا صارف فراڈ کرنے والوں کے لیے ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ ٹیموں کی ذمہ داری اب صرف موجودہ صارفین تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر سال مالیاتی نظام میں شامل ہونے والے لاکھوں نئے صارفین کے تحفظ تک پھیل چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین میں آگاہی پیدا کرنا اب محض تشہیری سرگرمی نہیں بلکہ فراڈ سے بچاؤ کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بن چکا ہے، اور ایس بی پی نے بینکوں کو اس حوالے سے باقاعدہ اور مسلسل آگاہی پروگرام چلانے کا پابند بھی بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آگے-کا-سفر-امکانات-مواقع-اور-مستقل-چیلنجز" href="#آگے-کا-سفر-امکانات-مواقع-اور-مستقل-چیلنجز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آگے کا سفر: امکانات، مواقع اور مستقل چیلنجز&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے باوجود کئی اہم چیلنجز ابھی باقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سائبر جرائم میں سزا کی شرح اب بھی انتہائی کم ہے۔ 2025 میں 1 لاکھ 50 ہزار 542 شکایات درج ہوئیں، مگر ان کے نتیجے میں صرف 31 سزائیں ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ڈیجیٹل خواندگی میں بہتری آ رہی ہے، تاہم اب بھی صرف 28 فیصد انٹرنیٹ صارفین آن لائن خطرات کی درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مختلف تحقیقاتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی کمی اور بینکوں، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز) اور فن ٹیک پلیٹ فارمز کے درمیان تکنیکی عدم مطابقت بھی ایسے خلا پیدا کرتی ہے جن سے ماہر فراڈ کرنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنریٹو مصنوعی ذہانت نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے، جن میں ڈیپ فیک ویڈیوز، مصنوعی شناختیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فشنگ حملے شامل ہیں، جو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور وسیع پیمانے پر کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمنٹ کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے کہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی آوازوں کے ذریعے فراڈ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس سے مجرموں کی شناخت اور تحقیقات مزید پیچیدہ ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایس بی پی کی موجودہ حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی جائے۔ اس میں مؤثر اور لازمی ریگولیٹری معیارات، ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ ماہرین کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اداروں کے درمیان فراڈ سے متعلق معلومات کے تبادلے کا مضبوط نظام اور ملک گیر سطح پر ڈیجیٹل خواندگی کی جامع مہم شامل ہونی چاہیے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو پہلی مرتبہ بینکاری نظام میں شامل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں 2025 میں متعارف کرایا گیا ایس بی پی ریگولیٹری سینڈ باکس فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے، جو جدید فراڈ ڈیٹیکشن ٹیکنالوجیز کو نگرانی میں آزمانے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نتیجہ-خاموش-انقلاب-کو-آواز-دینے-کی-ضرورت" href="#نتیجہ-خاموش-انقلاب-کو-آواز-دینے-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نتیجہ: خاموش انقلاب کو آواز دینے کی ضرورت&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں فراڈ رسک مینجمنٹ سے ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ کی جانب منتقلی درحقیقت ادارہ جاتی ارتقا کی ایک اہم داستان ہے۔ یہ ایسے مالیاتی شعبے کی کہانی ہے جس نے بدلتے حالات کی ضرورت، مؤثر ریگولیٹری رہنمائی اور پیشہ ورانہ عزم کے تحت اس انداز کو یکسر بدل دیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے صارفین کے مالی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ان پیشہ ور افراد کی داستان بھی ہے جو تکنیکی پس منظر نہ رکھنے کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے ماہر بن گئے۔ یہ ایسے نظام کی کہانی ہے جو ردعمل پر مبنی طریقہ کار سے نکل کر حقیقی وقت میں کام کرنے والے مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل ہو گیا۔ یہ الگ تھلگ محکموں کی ذمہ داری سے آگے بڑھ کر پورے ادارے کی مشترکہ سکیورٹی حکمتِ عملی بننے کا سفر ہے۔ اور یہ ایسے ریگولیٹر کی مثال بھی ہے جس نے حالات کے پیچھے چلنے کے بجائے قیادت کا کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی رکاوٹوں اور مسلسل درپیش خطرات کے باوجود پاکستان ایک محفوظ، جدید اور زیادہ جامع ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی بنیادیں استوار کر رہا ہے، جو آنے والے برسوں میں ملکی معیشت اور عوام دونوں کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہی پاکستان کا ”خاموش انقلاب“ ہے۔ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن اس کا آغاز ہو چکا ہے، اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خاموش انقلاب کو مزید قوت دی جائے، حاصل شدہ کامیابیوں کو آگے بڑھایا جائے، باقی ماندہ خلا پُر کیے جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے والے پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایسے مضبوط نظام، مؤثر اداروں اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کے تحفظ میں ہو جو ان نئے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔ اس کام کا وقت کل نہیں، بلکہ آج ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک خاموش مگر اہم انقلاب برپا ہے۔ یہ انقلاب ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، الگورتھمز اور ان پیشہ ور افراد کی خاموش مگر پُرعزم کاوشوں سے برپا ہو رہا ہے، جو کبھی فراڈ رسک مینیجرز کہلاتے تھے اور آج پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے اولین محافظ بن کر ابھر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>روایتی فراڈ رسک مینجمنٹ سے ریئل ٹائم ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ کی جانب یہ منتقلی محض عہدوں یا محکموں کی تبدیلی نہیں، بلکہ اس بات کی ازسرِنو تشکیل ہے کہ پاکستان کا بینکاری اور ادائیگیوں کا نظام مالیاتی جرائم کی نشاندہی، ان پر فوری ردعمل اور ان کی روک تھام کس طرح کرے۔ ڈیجیٹل لین دین میں غیرمعمولی اضافے نے اس تبدیلی کو ناگزیر بنا دیا ہے، جبکہ ایس بی پی کی زیادہ فعال، منظم اور مؤثر ریگولیٹری حکمتِ عملی نے اسے ممکن بنایا ہے۔</p>
<p>یہ پاکستان کا خاموش انقلاب ہے، جسے سمجھنے، سراہنے اور مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<h3><a id="پرانا-نظام-جب-فراڈ-رسک-کا-کردار-محض-ردعمل-تک-محدود-تھا" href="#پرانا-نظام-جب-فراڈ-رسک-کا-کردار-محض-ردعمل-تک-محدود-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پرانا نظام: جب فراڈ رسک کا کردار محض ردعمل تک محدود تھا</h3>
<p>زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ پاکستان کے بینکاری شعبے میں فراڈ رسک مینجمنٹ زیادہ تر ایک ردعمل پر مبنی نظام تھا۔ ٹیمیں فراڈ ہونے کے بعد تحقیقات کرتی تھیں۔ کوئی صارف شکایت درج کراتا، مشکوک لین دین کی نشاندہی ہوتی، فارم پُر کیے جاتے اور کمیٹیاں تشکیل دی جاتیں، لیکن اکثر اس وقت تک نقصان ہو چکا ہوتا تھا۔</p>
<p>اس دور میں نظام زیادہ تر دستی طریقہ کار اور کاغذی کارروائی پر مشتمل تھا، جبکہ متعلقہ ماہرین کی توجہ ریئل ٹائم خطرات کی نشاندہی کے بجائے آڈٹ ریکارڈ، ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل اور تنازعات کے حل پر مرکوز رہتی تھی۔</p>
<p>یہ ماڈل اُس وقت تک مؤثر تھا جب بینکاری زیادہ تر برانچوں تک محدود تھی، لین دین کی رفتار سست تھی اور ایک عام صارف ہفتے میں شاید ایک مرتبہ بینک جا کر انسانی کیشیئر کے ذریعے اپنی مالی ضروریات پوری کرتا تھا۔ اس ماحول میں فراڈ کے خطرات بھی نسبتاً محدود تھے۔</p>
<p>لیکن اب وہ دور گزر چکا ہے۔</p>
<h3><a id="ڈیجیٹل-انقلاب-اور-اس-سے-جنم-لینے-والا-نیا-چیلنج" href="#ڈیجیٹل-انقلاب-اور-اس-سے-جنم-لینے-والا-نیا-چیلنج" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈیجیٹل انقلاب اور اس سے جنم لینے والا نیا چیلنج</h3>
<p>پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام گزشتہ چند برسوں میں تاریخی تبدیلی سے گزرا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے ایس بی پی کی پیمنٹ سسٹمز ریویو کے مطابق، ریٹیل ادائیگیوں کی تعداد بڑھ کر 9.1 ارب تک پہنچ گئی، جبکہ ان کی مجموعی مالیت 612 کھرب روپے رہی۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں حجم کے لحاظ سے 38 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 12 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>اس وقت ملک میں تقریباً 88 فیصد مالیاتی لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے، جبکہ صرف ایک سال قبل یہ شرح 78 فیصد تھی۔</p>
<p>ورلڈ بینک کے تعاون سے قومی ادائیگی نظام کی حکمتِ عملی کے تحت متعارف کرایا گیا پاکستان کا فوری ادائیگیوں کا پلیٹ فارم راست، جسے اب راست پیمنٹس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، ایک ہی سہ ماہی کے دوران 4.79 کھرب روپے مالیت کے لین دین پراسیس کر چکا ہے، جبکہ لین دین کی تعداد اور مالیت دونوں میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اسی طرح پاکستان ریئل ٹائم انٹربینک سیٹلمنٹ میکانزم پلس (پی آر آئی ایس ایم پلس) نے پرانے نظام کی جگہ ایک جدید پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس میں ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ، سینٹرل سیکیورٹیز ڈپازٹری کی سہولت اور کہیں زیادہ پراسیسنگ صلاحیت شامل ہے، جو جدید ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایزی پیسہ اور جاز کیش جیسے موبائل والیٹس روزانہ لاکھوں لین دین ممکن بنا رہے ہیں اور دیہی و نیم شہری علاقوں کے ایسے لاکھوں افراد کو بھی مالیاتی نظام کا حصہ بنا رہے ہیں جو پہلے بینکاری خدمات سے محروم تھے۔</p>
<p>یہ ایک غیرمعمولی کامیابی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک غیرمعمولی چیلنج بھی سامنے آیا ہے۔</p>
<p>ہر نیا ڈیجیٹل اکاؤنٹ، ہر نئی مالیاتی ٹرانزیکشن اور ہر نیا صارف جہاں مالی شمولیت کی جانب ایک قدم ہے، وہیں سائبر مجرموں اور فراڈ کرنے والوں کے لیے ایک نیا ممکنہ ہدف بھی بن جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بینکاری شعبے میں 2024 کے دوران ڈیجیٹل فراڈ کے واقعات میں 62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 2025 میں سائبر جرائم کے واقعات سالانہ بنیاد پر 35 فیصد بڑھ گئے۔ صرف 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران بینکاری میلویئر کے ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد حملوں کا سراغ لگایا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس رفتار سے ڈیجیٹل معیشت وسعت اختیار کر رہی ہے، فراڈ کے خطرات بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ فراڈ رسک مینجمنٹ کا روایتی ردعمل پر مبنی نظام ان خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔</p>
<h3><a id="ایس-بی-پی-کا-فیصلہ-کن-ریگولیٹری-کردار" href="#ایس-بی-پی-کا-فیصلہ-کن-ریگولیٹری-کردار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایس بی پی کا فیصلہ کن ریگولیٹری کردار</h3>
<p>پاکستان میں ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ کی جانب منتقلی میں سب سے اہم کردار ایس بی پی کی منظم، مسلسل اور فعال ریگولیٹری حکمتِ عملی نے ادا کیا ہے۔</p>
<p>اس سفر کا آغاز مئی 2023 میں جاری کیے گئے ایک اہم ہدایت نامے سے ہوا، جس کے تحت تمام کمرشل اور مائیکروفنانس بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ 31 دسمبر 2023 تک اپنے ڈیجیٹل فراڈ سے تحفظ کے نظام کو بنیادی طور پر ازسرِنو تشکیل دیں۔</p>
<p>یہ ہدایات جامع اور واضح تھیں۔ پہلی بار مالیاتی اداروں کو اس صورت میں صارفین کے مالی نقصان کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا گیا جب نقصان بروقت یا مؤثر کارروائی نہ کرنے کے باعث ہو۔ اس تبدیلی نے اداروں کی توجہ فراڈ ہونے کے بعد کارروائی کے بجائے پیشگی روک تھام پر مرکوز کر دی۔</p>
<p>بینکوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ حقیقی وقت میں فراڈ کی روک تھام کے مؤثر نظام قائم کریں، فراڈیولنٹ ٹرانزیکشن ڈسپیوٹ ہینڈلنگ (ایف ٹی ڈی ایچ) نظام کے ذریعے فراڈ رسک مینجمنٹ اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو مربوط بنائیں، عالمی معیار کے مطابق نگرانی اور گورننس کا نظام نافذ کریں، اور اپنی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز اس انداز میں تیار کریں کہ صارفین کی معلومات کے افشا ہونے کا امکان کم سے کم ہو۔ ان ہدایات میں ڈیجیٹل فراڈ کی نگرانی، بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد اور جدید فراڈ رسک مینجمنٹ نظام کی تنصیب جیسے اہم پہلو بھی شامل تھے۔</p>
<p>اس کے بعد ایس بی پی نے مزید سخت اقدامات کیے۔ جولائی 2025 میں بی پی آر ڈی سرکلر نمبر 1، 2025 کے ذریعے تمام بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، مائیکروفنانس بینکوں، ڈیجیٹل بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز کے لیے ہدایت جاری کی گئی کہ 25 اکتوبر 2025 تک تمام اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والیٹس کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کو بنیادی توثیقی طریقہ بنایا جائے۔</p>
<p>اسی طرح یکم جولائی 2025 سے موبائل والیٹ پلیٹ فارمز پر کاؤنٹر کے ذریعے ہونے والے تمام نقد لین دین کے لیے بھی بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے ریٹیل ایجنٹس کو بائیومیٹرک تصدیقی آلات سے لیس کرنا ضروری قرار پایا۔</p>
<p>2024 کی پہلی سہ ماہی میں ایس بی پی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام، صارفین کی جانچ پڑتال اور فراڈ رسک پروٹوکولز میں کوتاہیوں پر آٹھ بڑے بینکوں پر 77 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے بھی عائد کیے۔ اس سے واضح ہوا کہ ریگولیٹری ہدایات اب محض مشورے نہیں بلکہ ان پر عمل نہ کرنے کی مالی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔</p>
<h3><a id="فراڈ-رسک-افسر-سے-ڈیجیٹل-فراڈ-ماہر-تک" href="#فراڈ-رسک-افسر-سے-ڈیجیٹل-فراڈ-ماہر-تک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فراڈ رسک افسر سے ڈیجیٹل فراڈ ماہر تک</h3>
<p>اس تبدیلی کا سب سے نمایاں، مگر کم زیرِ بحث آنے والا پہلو، اس شعبے سے وابستہ افرادی قوت کی پیشہ ورانہ تبدیلی ہے۔</p>
<p>ماضی میں بینکوں کے فراڈ رسک شعبوں میں کام کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق تکنیکی شعبوں سے نہیں ہوتا تھا۔ ان کی مہارت ریگولیٹری تقاضوں، تنازعات کے حل، آڈٹ کے طریقہ کار، صارفین کی شکایات اور دستی تصدیقی نظام تک محدود تھی۔</p>
<p>لیکن ڈیجیٹل انقلاب اور ایس بی پی کے نئے ریگولیٹری نظام نے ان پیشہ ور افراد سے بالکل نئی مہارتوں کا تقاضا کیا۔ اب انہیں ریئل ٹائم ٹرانزیکشن مانیٹرنگ، رویّوں کے تجزیے، مشین لرننگ پر مبنی غیرمعمولی سرگرمیوں کی نشاندہی، فوری الرٹ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل فرانزک جیسے جدید شعبوں میں مہارت حاصل کرنا پڑی۔</p>
<p>انہیں ویزا اور ماسٹرکارڈ کے چارج بیک قواعد، تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور فراڈ سے متعلق ذمہ داریوں کے عالمی اصول بھی سیکھنے پڑے۔ اب صرف مشکوک لین دین کی نشاندہی کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ وہ مشکوک کیوں ہے، فراڈ کس طریقے سے کیا گیا اور اس کے پس پردہ کون سے تکنیکی طریقہ کار استعمال ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کے کمرشل بینکوں میں آج 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن کام کرنے والے فراڈ آپریشن سینٹرز میں ایک نئی پیشہ ورانہ شناخت جنم لے چکی ہے، یعنی ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ اسپیشلسٹ۔</p>
<p>یہ ماہرین حقیقی وقت میں مالیاتی لین دین پر نظر رکھتے ہیں، کارڈ ناٹ پریزنٹ فراڈ، سم سوئپ اور اکاؤنٹ ٹیک اوور جیسے جرائم کی تحقیقات کرتے ہیں، سوشل انجینئرنگ حملوں کے طریقہ کار کا تجزیہ کرتے ہیں اور صارفین کے تحفظ اور رقوم کی بازیابی کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں، نادرا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی معمولی نہیں بلکہ ایک مکمل پیشہ ورانہ ارتقا ہے۔ ایک ایسا شعبہ جو ایک دہائی قبل پاکستان میں تقریباً موجود ہی نہیں تھا، آج ملک کے تقریباً ہر بڑے مالیاتی ادارے کے آپریشنل نظام کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔</p>
<h3><a id="کارڈ-انڈسٹری-اور-ڈیجیٹل-لین-دین-فراڈ-کے-خلاف-نئی-جنگ" href="#کارڈ-انڈسٹری-اور-ڈیجیٹل-لین-دین-فراڈ-کے-خلاف-نئی-جنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کارڈ انڈسٹری اور ڈیجیٹل لین دین: فراڈ کے خلاف نئی جنگ</h3>
<p>پاکستان میں کارڈ پر مبنی ادائیگیوں کا نظام اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ ایس بی پی کے اس وژن کے تحت کہ ملک میں نصف ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دی جائیں، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، تاہم اس کے ساتھ کارڈ فراڈ کے طریقے بھی پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور جدید ہو گئے ہیں۔</p>
<p>کارڈ ناٹ پریزنٹ (سی این پی) فراڈ، اسکیمنگ، جعلی کارڈز کے ذریعے دھوکا دہی اور غیر مجاز انٹربینک فنڈ ٹرانسفرز (آئی بی ایف ٹی) نے بینکوں کو اپنے فراڈ نگرانی کے نظام ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔</p>
<p>اب بینک مصنوعی ذہانت سے چلنے والے فراڈ ڈیٹیکشن سسٹمز استعمال کر رہے ہیں، جو ملی سیکنڈز میں سیکڑوں عوامل کا تجزیہ کرتے ہیں، جن میں لین دین کا جغرافیائی مقام، استعمال ہونے والے ڈیوائس کی شناخت، ٹرانزیکشن کی رفتار اور انداز، مرچنٹ کیٹیگری کوڈز، لین دین کا وقت اور صارف کے سابقہ مالیاتی رویّے شامل ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہر لین دین کے لیے فوری رسک اسکور تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اگر کوئی لین دین مقررہ حد سے زیادہ مشکوک ہو تو نظام خودکار طور پر اسے روک دیتا ہے، صارف کو مختلف ذرائع سے فوری اطلاع بھیجتا ہے اور ساتھ ہی فراڈ مانیٹرنگ ٹیم کو بھی متحرک کر دیتا ہے۔ یوں فراڈ کی نشاندہی اور کارروائی کے درمیان جو وقفہ پہلے کئی دنوں پر محیط ہوتا تھا، وہ اب چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے۔</p>
<p>ایس بی پی کے انٹرنیٹ بینکنگ سکیورٹی ریگولیشنز کے تحت بینکوں کے لیے محفوظ اور خفیہ مواصلاتی نظام، ملٹی فیکٹر توثیق، شناخت کی چوری سے تحفظ، سکیورٹی کنٹرولز کی مسلسل نگرانی اور سکیورٹی خلاف ورزیوں کی سہ ماہی بنیادوں پر پیمنٹ سسٹمز ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p>اس ریگولیٹری فریم ورک نے واضح کر دیا ہے کہ فراڈ مانیٹرنگ اب کسی ایک شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے بینکاری نظام کی مشترکہ ادارہ جاتی ذمہ داری ہے۔</p>
<h3><a id="غیر-بینکاری-آبادی-ایک-بڑا-موقع-مگر-بڑا-چیلنج-بھی" href="#غیر-بینکاری-آبادی-ایک-بڑا-موقع-مگر-بڑا-چیلنج-بھی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غیر بینکاری آبادی: ایک بڑا موقع، مگر بڑا چیلنج بھی</h3>
<p>پاکستان میں اب بھی ایک بڑی آبادی بینکاری نظام سے باہر ہے۔ ایس بی پی کے مطابق منفرد اکاؤنٹ ہولڈرز کی بنیاد پر ملک میں بینکاری رسائی کی شرح تقریباً 62 فیصد ہے، جو عالمی معیار کے مقابلے میں اب بھی کم شمار ہوتی ہے۔</p>
<p>اس شعبے میں صنفی تفاوت بھی نمایاں ہے، جہاں ہر تین مردوں کے مقابلے میں صرف ایک پاکستانی خاتون کا بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔ اسی طرح ملک کے 85 فیصد کاروباری منظرنامے پر مشتمل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی بڑی تعداد اب بھی باضابطہ بینکاری سہولتوں سے محروم ہے۔</p>
<p>تاہم تبدیلی کی رفتار واضح دکھائی دیتی ہے۔ نادرا کے بائیومیٹرک نظام، ایس بی پی کے ڈیجیٹل بینک لائسنسنگ فریم ورک اور ملک بھر میں 7 لاکھ 31 ہزار سے زائد برانچ لیس بینکاری ایجنٹس کے نیٹ ورک کی بدولت لاکھوں افراد بتدریج رسمی مالیاتی نظام کا حصہ بن رہے ہیں۔</p>
<p>2025 میں عیدالاضحیٰ کے مویشی منڈیوں میں راست پرسن ٹو مرچنٹ (پی ٹو ایم) پائلٹ منصوبے نے یہ ثابت کیا کہ اگر مناسب انفراسٹرکچر اور اعتماد موجود ہو تو غیر رسمی معیشت بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو باآسانی اپنا سکتی ہے۔</p>
<p>لیکن اس بڑھتی ہوئی مالی شمولیت کے ساتھ تحفظ کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>پہلی مرتبہ بینکاری نظام میں شامل ہونے والے صارفین، جو او ٹی پی، سم سوئپ یا سوشل انجینئرنگ جیسے فراڈ سے ناواقف ہوتے ہیں، سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں شامل ہونے والا ہر نیا صارف فراڈ کرنے والوں کے لیے ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ ٹیموں کی ذمہ داری اب صرف موجودہ صارفین تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر سال مالیاتی نظام میں شامل ہونے والے لاکھوں نئے صارفین کے تحفظ تک پھیل چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین میں آگاہی پیدا کرنا اب محض تشہیری سرگرمی نہیں بلکہ فراڈ سے بچاؤ کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بن چکا ہے، اور ایس بی پی نے بینکوں کو اس حوالے سے باقاعدہ اور مسلسل آگاہی پروگرام چلانے کا پابند بھی بنایا ہے۔</p>
<h3><a id="آگے-کا-سفر-امکانات-مواقع-اور-مستقل-چیلنجز" href="#آگے-کا-سفر-امکانات-مواقع-اور-مستقل-چیلنجز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آگے کا سفر: امکانات، مواقع اور مستقل چیلنجز</strong></h3>
<p>اس پیش رفت کے باوجود کئی اہم چیلنجز ابھی باقی ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں سائبر جرائم میں سزا کی شرح اب بھی انتہائی کم ہے۔ 2025 میں 1 لاکھ 50 ہزار 542 شکایات درج ہوئیں، مگر ان کے نتیجے میں صرف 31 سزائیں ہو سکیں۔</p>
<p>اگرچہ ڈیجیٹل خواندگی میں بہتری آ رہی ہے، تاہم اب بھی صرف 28 فیصد انٹرنیٹ صارفین آن لائن خطرات کی درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مختلف تحقیقاتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی کمی اور بینکوں، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز (ای ایم آئیز) اور فن ٹیک پلیٹ فارمز کے درمیان تکنیکی عدم مطابقت بھی ایسے خلا پیدا کرتی ہے جن سے ماہر فراڈ کرنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب جنریٹو مصنوعی ذہانت نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے، جن میں ڈیپ فیک ویڈیوز، مصنوعی شناختیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فشنگ حملے شامل ہیں، جو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور وسیع پیمانے پر کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>پارلیمنٹ کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے کہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی آوازوں کے ذریعے فراڈ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس سے مجرموں کی شناخت اور تحقیقات مزید پیچیدہ ہو رہی ہیں۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ایس بی پی کی موجودہ حکمتِ عملی کو مزید وسعت دی جائے۔ اس میں مؤثر اور لازمی ریگولیٹری معیارات، ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ ماہرین کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اداروں کے درمیان فراڈ سے متعلق معلومات کے تبادلے کا مضبوط نظام اور ملک گیر سطح پر ڈیجیٹل خواندگی کی جامع مہم شامل ہونی چاہیے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو پہلی مرتبہ بینکاری نظام میں شامل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اسی تناظر میں 2025 میں متعارف کرایا گیا ایس بی پی ریگولیٹری سینڈ باکس فریم ورک ایک اہم پیش رفت ہے، جو جدید فراڈ ڈیٹیکشن ٹیکنالوجیز کو نگرانی میں آزمانے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔</p>
<h3><a id="نتیجہ-خاموش-انقلاب-کو-آواز-دینے-کی-ضرورت" href="#نتیجہ-خاموش-انقلاب-کو-آواز-دینے-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نتیجہ: خاموش انقلاب کو آواز دینے کی ضرورت</strong></h3>
<p>پاکستان میں فراڈ رسک مینجمنٹ سے ڈیجیٹل فراڈ مانیٹرنگ کی جانب منتقلی درحقیقت ادارہ جاتی ارتقا کی ایک اہم داستان ہے۔ یہ ایسے مالیاتی شعبے کی کہانی ہے جس نے بدلتے حالات کی ضرورت، مؤثر ریگولیٹری رہنمائی اور پیشہ ورانہ عزم کے تحت اس انداز کو یکسر بدل دیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے صارفین کے مالی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔</p>
<p>یہ ان پیشہ ور افراد کی داستان بھی ہے جو تکنیکی پس منظر نہ رکھنے کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے ماہر بن گئے۔ یہ ایسے نظام کی کہانی ہے جو ردعمل پر مبنی طریقہ کار سے نکل کر حقیقی وقت میں کام کرنے والے مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل ہو گیا۔ یہ الگ تھلگ محکموں کی ذمہ داری سے آگے بڑھ کر پورے ادارے کی مشترکہ سکیورٹی حکمتِ عملی بننے کا سفر ہے۔ اور یہ ایسے ریگولیٹر کی مثال بھی ہے جس نے حالات کے پیچھے چلنے کے بجائے قیادت کا کردار ادا کیا۔</p>
<p>بڑی رکاوٹوں اور مسلسل درپیش خطرات کے باوجود پاکستان ایک محفوظ، جدید اور زیادہ جامع ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی بنیادیں استوار کر رہا ہے، جو آنے والے برسوں میں ملکی معیشت اور عوام دونوں کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہی پاکستان کا ”خاموش انقلاب“ ہے۔ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن اس کا آغاز ہو چکا ہے، اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔</p>
</blockquote>
<p>اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خاموش انقلاب کو مزید قوت دی جائے، حاصل شدہ کامیابیوں کو آگے بڑھایا جائے، باقی ماندہ خلا پُر کیے جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے والے پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایسے مضبوط نظام، مؤثر اداروں اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کے تحفظ میں ہو جو ان نئے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔ اس کام کا وقت کل نہیں، بلکہ آج ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288464</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 16:56:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یوسف رضا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/08162119d321809.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/08162119d321809.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس اصلاحات خواب ہی رہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288373/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں پر غیر معمولی انحصار، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے، دو اہم پہلوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس پروگرام کی مجموعی ساخت پر سوالیہ نشان ہے، جس کے تحت بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، اور دوسری جانب یہ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں 14.131 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جسے بعد ازاں کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، بجٹ دستاویزات میں درج نظرثانی شدہ تخمینے اب قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ ایف بی آر کے باخبر ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں بھی تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، رواں مالی سال میں مجموعی ٹیکس وصولیاں غالب امکان ہے کہ 12 کھرب روپے کے لگ بھگ رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، معیشت کی شرح نمو جتنی زیادہ ہوگی، ٹیکس وصولیاں بھی اسی قدر بڑھیں گی۔ تاہم حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا، جبکہ بجٹ میں اسے 4.2 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ شرح نمو بھی حقیقت سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پُرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا تعین بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ان تفصیلی دستاویزات کا شاید مطالعہ نہیں کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ: ”قومی حسابات ( نیشنل اکاؤنٹس) اور سرکاری مالیاتی اعدادوشمار میں موجود کمزوریاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت سے گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف شماریات مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی حسابات کی نئی بنیاد کے لیے جلد ہی چار بڑے سرویز کا فیلڈ ورک بھی شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تکنیکی معاونت (ٹی اے) کی تکمیل 30 جون 2026 تک ہونا تھی، تاہم آئی ایم ایف مشن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی مدت بڑھا کر اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے لیے حکومت کی متوقع شرح نمو حقیقت سے زیادہ ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نیچے کی جانب نظرثانی متوقع ہے۔ یہ امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معیشت اس وقت سخت مالیاتی اور مالیاتی نظم و ضبط (مالیاتی اور مالی سال کی پالیسی) کے تحت چل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ دستاویزات کے مطابق، ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مالی سال 2026-27 کے لیے 7.613 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے ان کی وصولی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 6.431 کھرب روپے ہے، حالانکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6.9 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گزشتہ سال براہِ راست ٹیکسوں کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کی مد میں، جو ایف بی آر کی وصولیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے، 7,480.5 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 6,331.4 ارب روپے ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6,811.2 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں، انکم ٹیکس کی متوقع مجموعی وصولیوں میں سے تقریباً 5,610 ارب روپے درحقیقت سیلز ٹیکس کی نوعیت کے حامل ہیں، جو ایک رجعت پسند (Regressive) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس میں سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی شامل کر لیا جائے تو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار 10.4 کھرب روپے تک جا پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.6 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1.073 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دونوں بھی بالواسطہ ٹیکس ہیں، اس لیے مجموعی طور پر 15.264 کھرب روپے کی متوقع ٹیکس وصولیوں میں سے تقریباً 13 کھرب روپے، یعنی 83 فیصد، بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں غربت میں اضافے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر غربت کی پیمائش غذائی ضروریات (کیلوریفک ویلیو) کی بنیاد پر کی جائے تو اس کی شرح ایک نہایت تشویشناک 44 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے اس دعوے کے مطابق کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تعمیل کی شرح 27 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، حکومت نے فنانس بل 2026 میں مزید 21 اشیا پر ان کی پرنٹ شدہ خوردہ قیمت (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان اشیا میں خوردنی تیل، گھی، چینی سے تیار کردہ مٹھائیاں،کیڑے مار اور دیگر زرعی ادویات، دودھ، فیٹ فلڈ دودھ اور شیر خوار بچوں کی غذائیں بھی شامل ہیں۔ ان اشیا پر ٹیکس کا بوجھ ہر شہری کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید کو مزید کم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 میں نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ میژرز) کے ذریعے 400 ارب روپے اضافی وصول کرے گا۔ یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ رواں مالی سال انہی اقدامات سے 389 ارب روپے حاصل کیے گئے، اگرچہ مالی سال 2024-25 میں یہی اقدامات قومی خزانے کے لیے 874 ارب روپے لے کر آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ چینی سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دونوں بالواسطہ ٹیکس ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 255 ارب روپے متنازع ٹیکس معاملات کے تصفیے سے اور 218 ارب روپے ٹیکس واجبات کی مد میں حاصل کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ اقدامات غریب عوام کے حق میں نہیں تھے تو دوسری جانب حکومت نے 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی کیا، جس کا بڑا حصہ نسبتاً خوشحال طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان مراعات میں 115 ارب روپے جائیداد کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، جہاں خریداروں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد اور فروخت کنندگان کے لیے 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا گیا، حالانکہ یہی شعبہ کالے دھن کو سفید کرنے کے حوالے سے بدنام سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 52 ارب روپے کی انکم ٹیکس رعایت کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے افراد کے لیے بھی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی۔ مزید برآں، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کر دیا گیا، جبکہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس فضائی ٹکٹوں پر بھی ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غریب طبقے کے لیے حکومتی اقدامات بنیادی طور پر سبسڈیوں تک محدود ہیں، جن میں زیادہ تر بجلی کے نرخوں میں فرق پورا کرنے کے لیے دی جانے والی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی شامل ہے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جو ایک طرف غیر مؤثر نظام کو سہارا دیتی ہے اور دوسری جانب اس کا ہدف بھی واضح نہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، مگر اس کے لیے مختص وسائل ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ فنانس بل میں غریب دوست پالیسیوں کے فقدان پر پارلیمان میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، اور بل نسبتاً آسانی کے ساتھ منظور بھی کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں پر غیر معمولی انحصار، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے، دو اہم پہلوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس پروگرام کی مجموعی ساخت پر سوالیہ نشان ہے، جس کے تحت بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، اور دوسری جانب یہ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں 14.131 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جسے بعد ازاں کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔</p>
<p>اول، بجٹ دستاویزات میں درج نظرثانی شدہ تخمینے اب قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ ایف بی آر کے باخبر ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں بھی تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، رواں مالی سال میں مجموعی ٹیکس وصولیاں غالب امکان ہے کہ 12 کھرب روپے کے لگ بھگ رہیں گی۔</p>
<p>دوم، معیشت کی شرح نمو جتنی زیادہ ہوگی، ٹیکس وصولیاں بھی اسی قدر بڑھیں گی۔ تاہم حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا، جبکہ بجٹ میں اسے 4.2 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ شرح نمو بھی حقیقت سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پُرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا تعین بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ان تفصیلی دستاویزات کا شاید مطالعہ نہیں کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>ان دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ: ”قومی حسابات ( نیشنل اکاؤنٹس) اور سرکاری مالیاتی اعدادوشمار میں موجود کمزوریاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔“</p>
<p>دستاویز کے مطابق حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت سے گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف شماریات مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی حسابات کی نئی بنیاد کے لیے جلد ہی چار بڑے سرویز کا فیلڈ ورک بھی شروع کرے گا۔</p>
<p>اس تکنیکی معاونت (ٹی اے) کی تکمیل 30 جون 2026 تک ہونا تھی، تاہم آئی ایم ایف مشن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی مدت بڑھا کر اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے لیے حکومت کی متوقع شرح نمو حقیقت سے زیادہ ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نیچے کی جانب نظرثانی متوقع ہے۔ یہ امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معیشت اس وقت سخت مالیاتی اور مالیاتی نظم و ضبط (مالیاتی اور مالی سال کی پالیسی) کے تحت چل رہی ہے۔</p>
<p>بجٹ دستاویزات کے مطابق، ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مالی سال 2026-27 کے لیے 7.613 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے ان کی وصولی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 6.431 کھرب روپے ہے، حالانکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6.9 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گزشتہ سال براہِ راست ٹیکسوں کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کی مد میں، جو ایف بی آر کی وصولیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے، 7,480.5 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 6,331.4 ارب روپے ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6,811.2 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں، انکم ٹیکس کی متوقع مجموعی وصولیوں میں سے تقریباً 5,610 ارب روپے درحقیقت سیلز ٹیکس کی نوعیت کے حامل ہیں، جو ایک رجعت پسند (Regressive) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس میں سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی شامل کر لیا جائے تو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار 10.4 کھرب روپے تک جا پہنچتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.6 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1.073 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دونوں بھی بالواسطہ ٹیکس ہیں، اس لیے مجموعی طور پر 15.264 کھرب روپے کی متوقع ٹیکس وصولیوں میں سے تقریباً 13 کھرب روپے، یعنی 83 فیصد، بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>ایسے حالات میں غربت میں اضافے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر غربت کی پیمائش غذائی ضروریات (کیلوریفک ویلیو) کی بنیاد پر کی جائے تو اس کی شرح ایک نہایت تشویشناک 44 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے اس دعوے کے مطابق کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تعمیل کی شرح 27 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، حکومت نے فنانس بل 2026 میں مزید 21 اشیا پر ان کی پرنٹ شدہ خوردہ قیمت (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان اشیا میں خوردنی تیل، گھی، چینی سے تیار کردہ مٹھائیاں،کیڑے مار اور دیگر زرعی ادویات، دودھ، فیٹ فلڈ دودھ اور شیر خوار بچوں کی غذائیں بھی شامل ہیں۔ ان اشیا پر ٹیکس کا بوجھ ہر شہری کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید کو مزید کم کرے گا۔</p>
<p>ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 میں نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ میژرز) کے ذریعے 400 ارب روپے اضافی وصول کرے گا۔ یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ رواں مالی سال انہی اقدامات سے 389 ارب روپے حاصل کیے گئے، اگرچہ مالی سال 2024-25 میں یہی اقدامات قومی خزانے کے لیے 874 ارب روپے لے کر آئے تھے۔</p>
<p>تاہم ان نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ چینی سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دونوں بالواسطہ ٹیکس ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ 255 ارب روپے متنازع ٹیکس معاملات کے تصفیے سے اور 218 ارب روپے ٹیکس واجبات کی مد میں حاصل کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>اگر یہ اقدامات غریب عوام کے حق میں نہیں تھے تو دوسری جانب حکومت نے 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی کیا، جس کا بڑا حصہ نسبتاً خوشحال طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان مراعات میں 115 ارب روپے جائیداد کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، جہاں خریداروں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد اور فروخت کنندگان کے لیے 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا گیا، حالانکہ یہی شعبہ کالے دھن کو سفید کرنے کے حوالے سے بدنام سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح 52 ارب روپے کی انکم ٹیکس رعایت کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے افراد کے لیے بھی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی۔ مزید برآں، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کر دیا گیا، جبکہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس فضائی ٹکٹوں پر بھی ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی۔</p>
<p>غریب طبقے کے لیے حکومتی اقدامات بنیادی طور پر سبسڈیوں تک محدود ہیں، جن میں زیادہ تر بجلی کے نرخوں میں فرق پورا کرنے کے لیے دی جانے والی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی شامل ہے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جو ایک طرف غیر مؤثر نظام کو سہارا دیتی ہے اور دوسری جانب اس کا ہدف بھی واضح نہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، مگر اس کے لیے مختص وسائل ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ فنانس بل میں غریب دوست پالیسیوں کے فقدان پر پارلیمان میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، اور بل نسبتاً آسانی کے ساتھ منظور بھی کر لیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288373</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 16:09:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/06154735c7f8e54.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/06154735c7f8e54.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجی ادارے بھی سرکاری اداروں کے نقشِ قدم پر چل پڑے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288411/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چند سرکاری اداروں اور کاروباری اکائیوں کو چھوڑ کر اکثریت گزشتہ دہائیوں کے دوران تنزلی کا شکار ہو چکی ہے اور فیصلے کرنے والے اب بھی تلاطم خیز موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ یا تو اس بگاڑ، سڑاند اور افراتفری سے نکلنے میں ناکام ہیں یا پھر بڑی بے حسی کے ساتھ ان کاروباری اداروں اور اداروں کو مزید زوال اور تباہی کی طرف بڑھنے دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مادرِ پدر آزاد اور ظالمانہ آمریت پرمبنی  نیشنلائزیشن ان اداروں کو تباہ کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ سیاسی کارکنوں کی حد سے زیادہ بھرتیاں، میرٹ کے برعکس تقرریاں، بیوروکریسی سے تبدیل ہو کر آنے والے نااہل و جاہل افسران اور اس کے ساتھ بے لگام کرپشن اور بڑھتے ہوئے نقصانات نے پورے نظام (ایکو سسٹم) کو بدتر بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دہائیوں کے دوران ان تنظیموں نے نایاب مالیاتی وسائل کا بے دریغ ضیاع کیا ہے اور یہ سالانہ بجٹ خسارے کی بنیادی ذمہ دار رہی ہیں۔ یہ المناک صورتحال سوفوکلیز کے قدیم یونانی ڈرامے ایڈیپس ریکس کی مانند ہے۔ یہ ڈرامہ نجی شعبے کی عظیم طاقت کے ذریعے بربادی کی طرف اچانک پلٹنے کی بہترین عکاسی کے لیے مشہور ہے، جس کے ساتھ ہی اعتراف کا وہ لمحہ بھی شامل ہے جب نیشنلائزیشن کا اعلان کرنے والے رہنما نے شہریوں کو یقین دلایا تھا کہ اشرافیہ کی بے لگام دولت کو لگام دے دی گئی ہے لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا جب لوگوں کو اس کے اقدامات کی بھیانک حقیقت کا احساس ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ایک تلخ حقیقت ابھرنا شروع ہو گئی ہے، کچھ عادات جنہوں نے عوامی (سرکاری) اداروں کے زوال میں حصہ ڈالا، اب نجی شعبے کے کچھ حصوں میں بھی اپنے پاؤں جماتی نظر آ رہی ہیں۔مسئلہ مالکانہ حقوق کا نہیں ہے۔ نجی ادارے بنیادی طور پر سرکاری تنظیموں سے مختلف ہوتے ہیں۔مسئلہ ثقافت و کلچر کا ہے جب اداروں پر نظام کے بجائے شخصیات، میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ اور مقصد کے بجائے عہدے حاوی ہو جائیں تو زوال کے حالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ تنظیم سرکاری ہو یا نجی۔ یہ امر خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ نجی شعبہ تاریخی طور پر کاروبار، جدت طرازی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری افراد نے مواقع کی نشاندہی کرکے خطرات مول لے کر مصنوعات تیار کی اور نئی مارکیٹوں میں داخل ہو کر اور قدر پیدا کر کے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ ان کی کامیابی کا انحصار اتھارٹی پر نہیں بلکہ  انیشی ایٹو پر تھا، اثر و رسوخ پر نہیں بلکہ کارکردگی پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب ایسے بڑھتے ہوئے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ کاروباری برادری کے کچھ حصے بتدریج اس کاروباری ثقافت کو ایک زیادہ افسر شاہی (بیوروکریٹک) ذہنیت سے بدل رہے ہیں۔ قابلیت کے مقابلے میں وفاداری زیادہ قیمتی ہوتی جا رہی ہے، جس سے تنظیمیں پائیدار نظام کے بجائے افراد پر منحصر ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ چیلنج خاص طور پر قیادت کی تبدیلی (ٹرانزیشن) کے دوران واضح طور پر نظر آتا ہے۔ نظام کے گرد بننے والی تنظیمیں قیادت کی تبدیلیوں کے باوجود بقا برقرار رکھ سکتی ہیں۔ شخصیات کے گرد بننے والی تنظیمیں اکثر بانیوں یا غالب شخصیات کے الگ ہو جانے کے بعد اتھارٹی کی منتقلی، ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور اسٹریٹجک سمت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرنے کے ساتھ ایسے انتظامات جانے پہچانے نتائج پیدا کرتے ہیں کہ سست فیصلہ سازی، جدت طرازی میں کمی، نئے خیالات کے خلاف مزاحمت اور کمزور ادارہ جاتی تسلسل رہتا ہے۔ بورڈ روم آہستہ آہستہ اسی بیوروکریسی کی مانند بننا شروع ہو جاتا ہے، جس پر وہ کبھی تنقید کرتا تھا۔ تجارتی تنظیموں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟، ماضی کے دنوں میں چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداران تجارتی سیاست میں کم ملوث  اور ارکان کو درپیش مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور عزت و احترام مانگا نہیں بلکہ کمایا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ آج ملکی سیاسی عدم استحکام کی طرح زیادہ تر تجارتی ادارے بشمول ایف پی سی سی آئی جسے سب سے اعلیٰ ادارہ قرار دیا جاتا ہے مختلف گروہوں اور اتحادوں کے فورم بن چکے ہیں۔ انتخابات کے دوران ہیپ  پیدا کرنے پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ حقیقی تاجروں کی کردار کشی ایک معمول بن چکی ہے، استثنیٰ نہیں۔ چھوٹے آمر  اب گاڈ فادر بن چکے ہیں اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنی تنظیموں کے پیٹرن ان چیف بن بیٹھے ہیں۔ایک جُنتا یا گٹھ جوڑ کا نظام  تیار ہو چکا ہے۔ ایک متحدہ قوت بننے کے بجائے ان کے درمیان عداوت، دشمنی اور بے حسی پائی جاتی ہے۔ آج، بہت سی تجارتی تنظیمیں تیزی سے چھوٹے سیاسی نظاموں سے مشابہت اختیار کر رہی ہیں۔ اگر کاروباری رہنما ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں متحد ہونا پڑے گا اور فیصلہ سازوں کو تبدیلی لانے پر مجبور کرنا ہوگا، تاکہ پاکستان خوشحال ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کاروباری رہنماؤں کی طرف سے تیار کردہ خود ستائی (سیلف اگراینڈائزمنٹ) کی یہ ساخت ایک مضحکہ خیز صورتحال کو یقینی بناتی ہے جہاں جب بھی کوئی سرکاری اہلکار، سیاسی درجہ بندی سے تعلق رکھنے والی کوئی سینئر شخصیت یا اقتدار کے ایوانوں میں اہمیت رکھنے والا کوئی شخص مہمانِ خصوصی بنتا ہے تو چاپلوسانہ تعریفوں، نذرانہ عقیدت اور خراجِ تحسین کی گردان کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔کئی تجارتی تنظیموں میں عہدیداران محض نمائشی بن کر رہ گئے ہیں جبکہ رہنما اہم سرکاری کونسلوں یا اداروں میں شرکت کرتے ہیں یا ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ ماحول بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے کانوں کے لیے کسی موسیقی سے کم نہیں ہے۔ اس آمرانہ ماحول کی بدولت ان کے پاس پہلے سے تیار کردہ جوابی گیم پلان موجود ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مفادات کے حامل گروہ (انٹرسٹ گروپ) کی ذہنیت مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ یہ عہدوں کے تحفظ، فوائد کے حصول، فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور موجودہ انتظامات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاریخی طور پر کاروباری افراد معمار تھے۔ انہوں نے صنعتیں قائم کیں، برآمدات میں اضافہ کیا، ٹیکنالوجی متعارف کرائی، ملازمتیں پیدا کیں اور دوسروں کے لیے مواقع کھولے۔ ان کی توجہ ترقی، مقابلے اور ویلیو کریشن پر تھی۔ کاروباری افراد مسابقت اور نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ مفادات کے حامل گروہ تحفظ اور موجودہ فوائد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ ایک مواقع کو وسعت دیتا ہے جبکہ دوسرا صرف موجودہ مواقع میں سے بڑے حصے کے حصول کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ کوئی بھی معیشت ترقی نہیں کر سکتی اگر کاروبار کی ثقافت کو بتدریج استحقاق (انٹائٹلمنٹ)، اثر و رسوخ اور انتظامی جوڑ توڑ کی ثقافت سے بدل دیا جائے۔کاروباری برادری کو دنیا بھر میں ایک بہت ہی مضبوط اور طاقتور قوت سمجھا جاتا ہے۔ کاروباری برادری کی آراء، خیالات اور خدشات کو پوری اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک متحدہ کاروباری برادری معجزات دکھا سکتی ہے اور ملک کی معیشت کو بلندیوں پر لے جا سکتی ہے۔مگرافسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی تجارتی تنظیموں کی طرف سے کیے جانے والے تمام اعلانات کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ کاروباری برادری تلاطم خیز سمندروں میں بغیر ملاح کے ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں کاروباری قیادت کی اصل کامیابی کیا رہی ہے؟ کیا اس نے حقیقت کو سمجھنے کے لیے کوئی احتساب یا  سول سرچنگ کی ہے؟ وہ بلند و بانگ بیانات اور پریس ریلیز کے ذریعے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے معجزات کیے ہیں جبکہ پالیسی سازوں اور مقتدر حلقوں کی طرف سے انہیں شاذ و نادر ہی اعتماد میں لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آفسر شاہی  اور تجارتی تنظیموں دونوں پر ” ایڈیپس ریکس سنڈروم“ پوری طرح حاوی ہے۔ برسوں کے دوران دونوں نظاموں میں دیمک لگ چکی ہے۔ دونوں نظاموں میں بتدریج بگاڑ آ رہا ہے۔ کوئی بھی عقلِ سلیم کو متعارف کرانا چاہتا ہے اور نہ ہی تبدیلی لانا چاہتا ہے، کیونکہ موجودہ منظرنامہ سرکاری اہلکاروں، سیاست دانوں اور کاروباری رہنماؤں سب کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی ادارے، جن سے مراد تجارتی تنظیمیں ہیں انتظامیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خود ایک بگڑی ہوئی بیوروکریسی بن چکے ہیں۔ نجی شعبے کا سب سے بڑا تعاون کبھی صرف دولت نہیں رہا۔ یہ کاروبار (اینٹرپرینیورشپ) رہا ہے۔ کاروباری شخص پوچھتا ہے کہ ” میں ویلیو کیسے پیدا کر سکتا ہوں؟“ جب کہ افسر شاہی کی ذہنیت پوچھتی ہے،    ”میں اپنا اثر و رسوخ کیسے برقرار رکھ سکتا ہوں؟“ پاکستان کی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور کاروباری اداروں کے بورڈ رومز میں ان میں سے کون سا سوال زیادہ روایتی بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ نہیں ہے کہ کاروبار حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کاروباری رہنما خود اسی بیوروکریٹک کلچر کے مداح بننے لگتے ہیں جس پر وہ اکثر تنقید کرتے ہیں۔ شیکسپیئر کے جملے میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کہیں تو“ غلطی، پیارے کاروباری رہنما  ہمارے ستاروں میں نہیں بلکہ آپ میں ہے کیونکہ آپ مفاد پرست گروہ  بن چکے ہیں“ ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چند سرکاری اداروں اور کاروباری اکائیوں کو چھوڑ کر اکثریت گزشتہ دہائیوں کے دوران تنزلی کا شکار ہو چکی ہے اور فیصلے کرنے والے اب بھی تلاطم خیز موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ وہ یا تو اس بگاڑ، سڑاند اور افراتفری سے نکلنے میں ناکام ہیں یا پھر بڑی بے حسی کے ساتھ ان کاروباری اداروں اور اداروں کو مزید زوال اور تباہی کی طرف بڑھنے دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>مادرِ پدر آزاد اور ظالمانہ آمریت پرمبنی  نیشنلائزیشن ان اداروں کو تباہ کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ سیاسی کارکنوں کی حد سے زیادہ بھرتیاں، میرٹ کے برعکس تقرریاں، بیوروکریسی سے تبدیل ہو کر آنے والے نااہل و جاہل افسران اور اس کے ساتھ بے لگام کرپشن اور بڑھتے ہوئے نقصانات نے پورے نظام (ایکو سسٹم) کو بدتر بنا دیا۔</p>
<p>گزشتہ دہائیوں کے دوران ان تنظیموں نے نایاب مالیاتی وسائل کا بے دریغ ضیاع کیا ہے اور یہ سالانہ بجٹ خسارے کی بنیادی ذمہ دار رہی ہیں۔ یہ المناک صورتحال سوفوکلیز کے قدیم یونانی ڈرامے ایڈیپس ریکس کی مانند ہے۔ یہ ڈرامہ نجی شعبے کی عظیم طاقت کے ذریعے بربادی کی طرف اچانک پلٹنے کی بہترین عکاسی کے لیے مشہور ہے، جس کے ساتھ ہی اعتراف کا وہ لمحہ بھی شامل ہے جب نیشنلائزیشن کا اعلان کرنے والے رہنما نے شہریوں کو یقین دلایا تھا کہ اشرافیہ کی بے لگام دولت کو لگام دے دی گئی ہے لیکن پھر ایک ایسا وقت آیا جب لوگوں کو اس کے اقدامات کی بھیانک حقیقت کا احساس ہوا۔</p>
<p>اب ایک تلخ حقیقت ابھرنا شروع ہو گئی ہے، کچھ عادات جنہوں نے عوامی (سرکاری) اداروں کے زوال میں حصہ ڈالا، اب نجی شعبے کے کچھ حصوں میں بھی اپنے پاؤں جماتی نظر آ رہی ہیں۔مسئلہ مالکانہ حقوق کا نہیں ہے۔ نجی ادارے بنیادی طور پر سرکاری تنظیموں سے مختلف ہوتے ہیں۔مسئلہ ثقافت و کلچر کا ہے جب اداروں پر نظام کے بجائے شخصیات، میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ اور مقصد کے بجائے عہدے حاوی ہو جائیں تو زوال کے حالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ تنظیم سرکاری ہو یا نجی۔ یہ امر خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ نجی شعبہ تاریخی طور پر کاروبار، جدت طرازی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔</p>
<p>کاروباری افراد نے مواقع کی نشاندہی کرکے خطرات مول لے کر مصنوعات تیار کی اور نئی مارکیٹوں میں داخل ہو کر اور قدر پیدا کر کے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ ان کی کامیابی کا انحصار اتھارٹی پر نہیں بلکہ  انیشی ایٹو پر تھا، اثر و رسوخ پر نہیں بلکہ کارکردگی پر تھا۔</p>
<p>تاہم اب ایسے بڑھتے ہوئے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ کاروباری برادری کے کچھ حصے بتدریج اس کاروباری ثقافت کو ایک زیادہ افسر شاہی (بیوروکریٹک) ذہنیت سے بدل رہے ہیں۔ قابلیت کے مقابلے میں وفاداری زیادہ قیمتی ہوتی جا رہی ہے، جس سے تنظیمیں پائیدار نظام کے بجائے افراد پر منحصر ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ چیلنج خاص طور پر قیادت کی تبدیلی (ٹرانزیشن) کے دوران واضح طور پر نظر آتا ہے۔ نظام کے گرد بننے والی تنظیمیں قیادت کی تبدیلیوں کے باوجود بقا برقرار رکھ سکتی ہیں۔ شخصیات کے گرد بننے والی تنظیمیں اکثر بانیوں یا غالب شخصیات کے الگ ہو جانے کے بعد اتھارٹی کی منتقلی، ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور اسٹریٹجک سمت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔</p>
<p>وقت گزرنے کے ساتھ ایسے انتظامات جانے پہچانے نتائج پیدا کرتے ہیں کہ سست فیصلہ سازی، جدت طرازی میں کمی، نئے خیالات کے خلاف مزاحمت اور کمزور ادارہ جاتی تسلسل رہتا ہے۔ بورڈ روم آہستہ آہستہ اسی بیوروکریسی کی مانند بننا شروع ہو جاتا ہے، جس پر وہ کبھی تنقید کرتا تھا۔ تجارتی تنظیموں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟، ماضی کے دنوں میں چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے عہدیداران تجارتی سیاست میں کم ملوث  اور ارکان کو درپیش مسائل پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور عزت و احترام مانگا نہیں بلکہ کمایا جاتا تھا۔</p>
<p>جبکہ آج ملکی سیاسی عدم استحکام کی طرح زیادہ تر تجارتی ادارے بشمول ایف پی سی سی آئی جسے سب سے اعلیٰ ادارہ قرار دیا جاتا ہے مختلف گروہوں اور اتحادوں کے فورم بن چکے ہیں۔ انتخابات کے دوران ہیپ  پیدا کرنے پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ حقیقی تاجروں کی کردار کشی ایک معمول بن چکی ہے، استثنیٰ نہیں۔ چھوٹے آمر  اب گاڈ فادر بن چکے ہیں اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنی تنظیموں کے پیٹرن ان چیف بن بیٹھے ہیں۔ایک جُنتا یا گٹھ جوڑ کا نظام  تیار ہو چکا ہے۔ ایک متحدہ قوت بننے کے بجائے ان کے درمیان عداوت، دشمنی اور بے حسی پائی جاتی ہے۔ آج، بہت سی تجارتی تنظیمیں تیزی سے چھوٹے سیاسی نظاموں سے مشابہت اختیار کر رہی ہیں۔ اگر کاروباری رہنما ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں متحد ہونا پڑے گا اور فیصلہ سازوں کو تبدیلی لانے پر مجبور کرنا ہوگا، تاکہ پاکستان خوشحال ہو سکے۔</p>
<p>ان کاروباری رہنماؤں کی طرف سے تیار کردہ خود ستائی (سیلف اگراینڈائزمنٹ) کی یہ ساخت ایک مضحکہ خیز صورتحال کو یقینی بناتی ہے جہاں جب بھی کوئی سرکاری اہلکار، سیاسی درجہ بندی سے تعلق رکھنے والی کوئی سینئر شخصیت یا اقتدار کے ایوانوں میں اہمیت رکھنے والا کوئی شخص مہمانِ خصوصی بنتا ہے تو چاپلوسانہ تعریفوں، نذرانہ عقیدت اور خراجِ تحسین کی گردان کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔کئی تجارتی تنظیموں میں عہدیداران محض نمائشی بن کر رہ گئے ہیں جبکہ رہنما اہم سرکاری کونسلوں یا اداروں میں شرکت کرتے ہیں یا ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ ماحول بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے کانوں کے لیے کسی موسیقی سے کم نہیں ہے۔ اس آمرانہ ماحول کی بدولت ان کے پاس پہلے سے تیار کردہ جوابی گیم پلان موجود ہوتا ہے۔</p>
<p>مفادات کے حامل گروہ (انٹرسٹ گروپ) کی ذہنیت مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ یہ عہدوں کے تحفظ، فوائد کے حصول، فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور موجودہ انتظامات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاریخی طور پر کاروباری افراد معمار تھے۔ انہوں نے صنعتیں قائم کیں، برآمدات میں اضافہ کیا، ٹیکنالوجی متعارف کرائی، ملازمتیں پیدا کیں اور دوسروں کے لیے مواقع کھولے۔ ان کی توجہ ترقی، مقابلے اور ویلیو کریشن پر تھی۔ کاروباری افراد مسابقت اور نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ مفادات کے حامل گروہ تحفظ اور موجودہ فوائد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ ایک مواقع کو وسعت دیتا ہے جبکہ دوسرا صرف موجودہ مواقع میں سے بڑے حصے کے حصول کے لیے مقابلہ کرتا ہے۔ کوئی بھی معیشت ترقی نہیں کر سکتی اگر کاروبار کی ثقافت کو بتدریج استحقاق (انٹائٹلمنٹ)، اثر و رسوخ اور انتظامی جوڑ توڑ کی ثقافت سے بدل دیا جائے۔کاروباری برادری کو دنیا بھر میں ایک بہت ہی مضبوط اور طاقتور قوت سمجھا جاتا ہے۔ کاروباری برادری کی آراء، خیالات اور خدشات کو پوری اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک متحدہ کاروباری برادری معجزات دکھا سکتی ہے اور ملک کی معیشت کو بلندیوں پر لے جا سکتی ہے۔مگرافسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی تجارتی تنظیموں کی طرف سے کیے جانے والے تمام اعلانات کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ کاروباری برادری تلاطم خیز سمندروں میں بغیر ملاح کے ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں کاروباری قیادت کی اصل کامیابی کیا رہی ہے؟ کیا اس نے حقیقت کو سمجھنے کے لیے کوئی احتساب یا  سول سرچنگ کی ہے؟ وہ بلند و بانگ بیانات اور پریس ریلیز کے ذریعے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے معجزات کیے ہیں جبکہ پالیسی سازوں اور مقتدر حلقوں کی طرف سے انہیں شاذ و نادر ہی اعتماد میں لیا جاتا ہے۔</p>
<p>آفسر شاہی  اور تجارتی تنظیموں دونوں پر ” ایڈیپس ریکس سنڈروم“ پوری طرح حاوی ہے۔ برسوں کے دوران دونوں نظاموں میں دیمک لگ چکی ہے۔ دونوں نظاموں میں بتدریج بگاڑ آ رہا ہے۔ کوئی بھی عقلِ سلیم کو متعارف کرانا چاہتا ہے اور نہ ہی تبدیلی لانا چاہتا ہے، کیونکہ موجودہ منظرنامہ سرکاری اہلکاروں، سیاست دانوں اور کاروباری رہنماؤں سب کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>نجی ادارے، جن سے مراد تجارتی تنظیمیں ہیں انتظامیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خود ایک بگڑی ہوئی بیوروکریسی بن چکے ہیں۔ نجی شعبے کا سب سے بڑا تعاون کبھی صرف دولت نہیں رہا۔ یہ کاروبار (اینٹرپرینیورشپ) رہا ہے۔ کاروباری شخص پوچھتا ہے کہ ” میں ویلیو کیسے پیدا کر سکتا ہوں؟“ جب کہ افسر شاہی کی ذہنیت پوچھتی ہے،    ”میں اپنا اثر و رسوخ کیسے برقرار رکھ سکتا ہوں؟“ پاکستان کی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ چیمبرز، ایسوسی ایشنز اور کاروباری اداروں کے بورڈ رومز میں ان میں سے کون سا سوال زیادہ روایتی بنتا ہے۔</p>
<p>المیہ یہ نہیں ہے کہ کاروبار حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کاروباری رہنما خود اسی بیوروکریٹک کلچر کے مداح بننے لگتے ہیں جس پر وہ اکثر تنقید کرتے ہیں۔ شیکسپیئر کے جملے میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کہیں تو“ غلطی، پیارے کاروباری رہنما  ہمارے ستاروں میں نہیں بلکہ آپ میں ہے کیونکہ آپ مفاد پرست گروہ  بن چکے ہیں“ ۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288411</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 14:05:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر رانیہ احسنمجید عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/071329147ef8bf6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/071329147ef8bf6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس او ای اصلاحات : پاکستان ریلویز قومی شہ رگ سے خسارے تک کا سفر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288363/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات پر مبنی دس اقساط پر مشتمل سلسلے کا یہ چھٹا مضمون ہے۔ گزشتہ پانچ مضامین میں تنظیمی ڈھانچے، اصلاحات نہ ہونے کے نتائج، نجکاری کے حق میں ٹھوس دلائل، کامیاب سودوں اور ان ناکام سودوں کا جائزہ لیا گیا جن کا خمیازہ ملک آج بھی بھگت رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون اور اس سے اگلی قسط دو ہم عصر کیسز کا تفصیلی احاطہ کرتی ہے۔ پاکستان ریلویز کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ تین دہائیوں تک اصلاحات کو مؤخر کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے، جبکہ اگلے مضمون میں زیرِ بحث آنے والی پی آئی اے  یہ بتاتی ہے کہ جب بالآخر اصلاحات پر عمل درآمد کر لیا جائے تو کیا کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔آخری تین مضامین حاصل شدہ اسباق کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل واضح کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2026ء میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مالیاتی سال 25-2024 کے لیے پاکستان ریلویز کے آڈٹ مشاہدات جاری کیے۔ یہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تھے، لیکن آڈٹ رپورٹ اصل مسئلے کی سنگینی کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتی۔ یہ صرف اس نقصان کو سامنے لاتی ہے جو ایک کمزور محکمانہ اکاؤنٹنگ سسٹم کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ اصل اور بڑا مسئلہ ادارہ جاتی ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پہلی بار پاکستان ریلویز کو کارپوریٹ شکل دینے کی سفارش کے تقریباً تین دہائیوں بعد بھی وہ بنیادی فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس پر تمام سنجیدہ اصلاحات کا انحصار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ریلویز کو مالیاتی سال 25-2024 میں 61 ارب روپے کا خالص نقصان اٹھانا پڑا، جس میں ایک سال کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 153 ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کے مقابلے میں آمدن محض 92.7 ارب روپے رہی۔ وفاقی خزانے کو گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 64 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ پانچ برس کے دوران آپریٹنگ اخراجات میں 60 فیصد اور آپریشنل نقصانات میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ریلویز کی جانب سے خود کوئی آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے شائع نہیں کیے جاتے، نہ تو وزارت ریلوے اور نہ ہی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس ریلویز کے لیے الگ سے مالیاتی گوشوارے جاری کرتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کے مشاہدات بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیار (آئی ایف آر ایس) یا بین الاقوامی پبلک سیکٹر اکاؤنٹنگ معیارات (آئی پی ایس اے ایس) کے مطابق تیار کردہ مالیاتی گوشواروں پر نہیں، بلکہ محکمانہ اکاؤنٹنگ ریکارڈ پر مبنی ہیں۔ یہ سالانہ  کیش فلو اور آڈٹ اعتراضات کو تو ظاہر کرتے ہیں لیکن مجموعی معاشی لاگت کا احاطہ نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ریلویز کوئی کارپوریٹ ادارہ نہیں ہے بلکہ وزارتِ ریلوے کا ایک ذیلی محکمہ ہے، اس کا کوئی بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے، نہ کوئی کارپوریٹ سی ای او، نہ ہی کوئی سالانہ رپورٹ اور معتبر معیارات کے تحت آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے دستیاب ہیں۔ اس پر اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ای ) ایکٹ 2023 لاگو نہیں ہوتا اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ تجارتی سرکاری اداروں کے پورٹ فولیو کے طور پر اس کی نگرانی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2023ء میں حکومت نے آئی ایم ایف کی ساختی شرائط کے تحت چار دیگر اداروں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، پاکستان پوسٹ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی ) کو ایس او ای ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا لیکن دہائیوں سے عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ نگلنے والے سب سے بڑے آپریشنز میں سے ایک ہونے کے باوجود پاکستان ریلویز اس فہرست سے غائب رہا۔ پاکستان ریلویز کے پاس لگ بھگ 515 ارب روپے کے رپورٹ شدہ اثاثے، 68 ہزار سے زائد ملازمین اور 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد پنشنرز ہیں لیکن اس کے باوجود اسے اب بھی ایک روایتی محکمے کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;61 ارب روپے کا سالانہ نقصان اصل لاگت کو کم کرکے دکھاتا ہے۔ تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اس بوجھ میں آپریشنل نقصانات، وفاقی گرانٹس، اثاثوں کی فرسودگی کو کم ظاہر کرنا، پنشن کے غیر فنڈڈ واجبات، اوور ڈرافٹ اور غیر ملکی قرضوں پر سود اور ذیلی معاشی منافع دینے والے انفرااسٹرکچر کی موقع کی لاگت شامل ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ٹیکس دہندگان پر پڑنے والی یہ مجموعی لاگت آرام سے 2 ٹریلین (20 کھرب) روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کا وسیع تر معاشی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان نے صرف اس سال کے خسارے کو پورا نہیں کیا بلکہ دہائیوں کی ادارہ جاتی بے حسی اور سستی کی قیمت چکائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے صفر سے شروعات نہیں کی تھی۔ پاکستان ریلویز کا زیادہ تر مادی ڈھانچہ تقسیمِ ہند کے وقت ورثے میں ملا تھا، جس میں ٹرنک لائنز، بڑے اسٹیشنز، ورکشاپس، پل اوراسٹریٹیجک راہداریاں شامل تھیں۔ ناکامی یہ نہیں تھی کہ پاکستان کے پاس ریلوے کا نظام موجود نہیں تھا، بلکہ ناکامی یہ تھی کہ اس کو جدید بنانے، اس کی توسیع کرنے اور اسے تجارتی طور پر دوبارہ فعال کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔اس کے برعکس پاکستان نے موٹروے کو ترجیح دینے کا ترقیاتی ماڈل منتخب کیا۔ موٹرویز افادیت کی حامل ضرور ہیں لیکن وہ مال برداری کے ایک جدید ریلوے نظام کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ سڑک کے ذریعے مال برداری میں ایندھن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، یہ بھاری سامان کے لیے زیادہ مہنگی ہے، سڑک کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی اور طویل فاصلے کی نقل و حمل کے لیے ریل کے مقابلے میں کم کارآمد ہے۔اگر یہی عوامی سرمایہ کاری ٹریک کو اپ گریڈ کرنے، نئے انجن خریدنے، سگنلنگ سسٹم کو جدید بنانے، مال بردار ویگنوں کی تعداد بڑھانے، کنٹینر ٹرمینلز کی تعمیر اور مال برداری کے لیے مخصوص راہداریاں بنانے پر لگائی جاتی تو نتائج مختلف ہوتے۔ ایک جدید فریٹ ریلوے سی پیک  کے کارگو، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، بندرگاہوں کے مابین رابطے، صنعتی زونز اور علاقائی لاجسٹکس کو بہترین تعاون فراہم کر سکتی تھی۔ پاکستان کا جغرافیہ اس کا سب سے بڑا غیر استعمال شدہ معاشی اثاثہ ہے اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کے لیے ایک فعال ریلوے نظام مرکزی اہمیت کا حامل ہونا چاہیے تھا لیکن اس اسٹریٹیجک ڈھانچے کو زوال کا شکار ہونے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بھارتی ریلویز کا نظام بھی مثالی نہیں ہے لیکن یہ واضح کرتا ہے کہ جب ریل کو قومی معاشی حکمتِ عملی کا محور بنا کر رکھا جائے تو کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ بھارتی ریلویز بھی سرکاری ملکیت میں ہے اور سماجی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود مالیاتی سال 25 -2024 میں اس کا روٹ نیٹ ورک 69,439 کلومیٹر تھا، جس پر روزانہ 13,940 مسافر اور 11,631 مال بردار گاڑیاں چلیں، اور اس نے تقریباً 7.29 ارب مسافروں اور 1.61 ارب ٹن سے زائد تجارتی سامان کی ترسیل کی۔اسی طرح مالیاتی سال 25-2024 میں اس کا تخمینہ شدہ ٹرن اوور تقریباً 31.3 ارب امریکی ڈالر تھا۔ مجموعی آمدنی کا تقریباً 65 فیصد حصہ مال برداری سے حاصل ہوا۔ خالص منافع تقریباً 315 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ معمولی تھا اور آپریٹنگ ریشو 98.22 فیصد رہا ، جو اگرچہ بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں، لیکن پھر بھی یہ گرانٹس اور پبلک اکاؤنٹس کی عدم موجودگی پر چلنے والے کسی محکمے کے بجائے ایک فعال ریلوے معیشت کو ظاہر کرتا ہے۔ مالیاتی سال 26-2025 کے لیے بھارتی ریلویز کا سالانہ ترقیاتی بجٹ تقریباً 31.4 ارب امریکی ڈالر مقرر کیا گیا تھا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت اب بھی ریل کو معاشی انفرااسٹرکچر کے طور پر دیکھتا ہے، محض سبسڈی حاصل کرنے والا ادارہ نہیں سمجھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا اثر صرف ریلوے کے کھاتوں تک محدود نہیں رہتا۔ ریل کے ذریعے کوئلہ، لوہا، سیمنٹ، اسٹیل، اناج، کھاد، منرل آئل اور کنٹینرز منتقل کیے جاتے ہیں ، جو زراعت، صنعت، تعمیرات اور توانائی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ لاجسٹکس کی لاگت کو کم کرتا ہے، صنعتی مسابقت کو بڑھاتا ہے، ایندھن کے درآمدی بل کا دباؤ کم کرتا  اور پیداواری مراکز کو بندرگاہوں اور مارکیٹوں سے جوڑتا ہے۔ سال 26-2025 میں، بھارتی ریلویز نے ریکارڈ 1.67 ارب ٹن مال برداری اور 7.4 ارب مسافروں کی منتقلی رپورٹ کی۔ پاکستان کو بھارت کے ماڈل کی ہو بہو نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اسے اس ترجیح سے سیکھنا چاہیے جو بھارت معاشی حکمتِ عملی کے تحت ریلویز کو دیتا ہے۔ پاکستان نے ریل کو محض ایک ایسا محکمہ سمجھا جسے سبسڈی دی جائے، جبکہ بھارت نے اسے معاشی شہ رگ کے طور پر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ریلویز کو اب کسی نئے بحالی کے نعرے کی نہیں، بلکہ ایک مکمل ادارہ جاتی اوور ہال (ری سیٹ) کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ شکل دینا پہلا قدم ہے۔ ریلویز کو ایک مناسب گورننس فریم ورک کے تحت لایا جانا چاہیے جس میں ایک پیشہ ور بورڈ، آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، سالانہ رپورٹ، اثاثوں کے شفاف رجسٹر، کارکردگی کے معاہدے اور تجارتی آپریشنز و عوامی خدمات کی ذمہ داریوں کے درمیان واضح تفریق ہو۔اس کے بعد اس کے افعال کو الگ کیا جانا چاہیے۔ ٹریک انفرااسٹرکچر، فریٹ آپریشنز، مسافر خدمات، ورکشاپس، اسٹیشنز، اراضی اور لاجسٹکس کو ایک ہی محکمے کے تحت نہیں چلایا جانا چاہیے۔ مال برداری (فریٹ) کو تجارتی ترجیح بنانا ہوگا۔ خسارے میں چلنے والی مسافر سروسز کو عوامی خدمت کی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے اور ان کی فنڈنگ بجٹ کے ذریعے کی جائے۔ ریلوے کی زمین کو صرف شفاف قیمت کے تعین، مسابقتی بولی اور حاصل شدہ رقم کے مخصوص استعمال کے ذریعے ہی ڈیولپ کیا جانا چاہیے۔جہاں کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہو، وہاں نجی سرمائے کو شامل کیا جانا چاہیے، جیسے کہ فریٹ کوریڈورز، ٹرمینلز، لاجسٹکس پارکس، اسٹیشنوں کی ترقی، رولنگ اسٹاک، ورکشاپس اور دیگر غیر بنیادی خدمات۔ مقصد محض نجکاری برائے نجکاری نہیں، بلکہ تجارتی ڈسپلن، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور احتساب کو متعارف کرانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً تین دہائیوں تک پاکستان نے ریلویز کو کارپوریٹ شکل دینے کا بنیادی ادارہ جاتی فیصلہ مؤخر کیا۔ اس کا نتیجہ سالانہ نقصانات، گرانٹس، پنشن کے واجبات، بوسیدہ اثاثوں، مال برداری کی کمزور کارکردگی اور علاقائی لاجسٹکس کے ضائع ہونے والے مواقع کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ پاکستان ریلویز محض ایک خسارے میں چلنے والا محکمہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اسٹریٹیجک قومی اثاثے میں اصلاحات سے انکار کی قیمت ہے۔ جب تک اسے کارپوریٹ شکل دے کر اس کی ازسرِنو تشکیل نہیں کی جاتی، ہر سال انہی مانوس اعداد و شمار کے ساتھ آڈٹ مشاہدات سامنے آتے رہیں گے اور وفاقی خزانہ اس کا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلا مضمون پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا جائزہ پیش کرے گا، ایک ایسا سرکاری ادارہ جہاں اصلاحات میں بہت زیادہ تاخیر کی گئی، لیکن بالآخر ریاست نے اس پر ایکشن لینا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات پر مبنی دس اقساط پر مشتمل سلسلے کا یہ چھٹا مضمون ہے۔ گزشتہ پانچ مضامین میں تنظیمی ڈھانچے، اصلاحات نہ ہونے کے نتائج، نجکاری کے حق میں ٹھوس دلائل، کامیاب سودوں اور ان ناکام سودوں کا جائزہ لیا گیا جن کا خمیازہ ملک آج بھی بھگت رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ مضمون اور اس سے اگلی قسط دو ہم عصر کیسز کا تفصیلی احاطہ کرتی ہے۔ پاکستان ریلویز کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ تین دہائیوں تک اصلاحات کو مؤخر کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے، جبکہ اگلے مضمون میں زیرِ بحث آنے والی پی آئی اے  یہ بتاتی ہے کہ جب بالآخر اصلاحات پر عمل درآمد کر لیا جائے تو کیا کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔آخری تین مضامین حاصل شدہ اسباق کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل واضح کریں گے۔</p>
<p>جون 2026ء میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مالیاتی سال 25-2024 کے لیے پاکستان ریلویز کے آڈٹ مشاہدات جاری کیے۔ یہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تھے، لیکن آڈٹ رپورٹ اصل مسئلے کی سنگینی کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتی۔ یہ صرف اس نقصان کو سامنے لاتی ہے جو ایک کمزور محکمانہ اکاؤنٹنگ سسٹم کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ اصل اور بڑا مسئلہ ادارہ جاتی ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پہلی بار پاکستان ریلویز کو کارپوریٹ شکل دینے کی سفارش کے تقریباً تین دہائیوں بعد بھی وہ بنیادی فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس پر تمام سنجیدہ اصلاحات کا انحصار ہے۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ریلویز کو مالیاتی سال 25-2024 میں 61 ارب روپے کا خالص نقصان اٹھانا پڑا، جس میں ایک سال کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 153 ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کے مقابلے میں آمدن محض 92.7 ارب روپے رہی۔ وفاقی خزانے کو گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 64 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ پانچ برس کے دوران آپریٹنگ اخراجات میں 60 فیصد اور آپریشنل نقصانات میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>پاکستان ریلویز کی جانب سے خود کوئی آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے شائع نہیں کیے جاتے، نہ تو وزارت ریلوے اور نہ ہی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس ریلویز کے لیے الگ سے مالیاتی گوشوارے جاری کرتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کے مشاہدات بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیار (آئی ایف آر ایس) یا بین الاقوامی پبلک سیکٹر اکاؤنٹنگ معیارات (آئی پی ایس اے ایس) کے مطابق تیار کردہ مالیاتی گوشواروں پر نہیں، بلکہ محکمانہ اکاؤنٹنگ ریکارڈ پر مبنی ہیں۔ یہ سالانہ  کیش فلو اور آڈٹ اعتراضات کو تو ظاہر کرتے ہیں لیکن مجموعی معاشی لاگت کا احاطہ نہیں کرتے۔</p>
<p>پاکستان ریلویز کوئی کارپوریٹ ادارہ نہیں ہے بلکہ وزارتِ ریلوے کا ایک ذیلی محکمہ ہے، اس کا کوئی بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے، نہ کوئی کارپوریٹ سی ای او، نہ ہی کوئی سالانہ رپورٹ اور معتبر معیارات کے تحت آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے دستیاب ہیں۔ اس پر اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ای ) ایکٹ 2023 لاگو نہیں ہوتا اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ تجارتی سرکاری اداروں کے پورٹ فولیو کے طور پر اس کی نگرانی نہیں کرتا۔</p>
<p>نومبر 2023ء میں حکومت نے آئی ایم ایف کی ساختی شرائط کے تحت چار دیگر اداروں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، پاکستان پوسٹ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی ) کو ایس او ای ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا لیکن دہائیوں سے عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ نگلنے والے سب سے بڑے آپریشنز میں سے ایک ہونے کے باوجود پاکستان ریلویز اس فہرست سے غائب رہا۔ پاکستان ریلویز کے پاس لگ بھگ 515 ارب روپے کے رپورٹ شدہ اثاثے، 68 ہزار سے زائد ملازمین اور 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد پنشنرز ہیں لیکن اس کے باوجود اسے اب بھی ایک روایتی محکمے کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔</p>
<p>61 ارب روپے کا سالانہ نقصان اصل لاگت کو کم کرکے دکھاتا ہے۔ تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اس بوجھ میں آپریشنل نقصانات، وفاقی گرانٹس، اثاثوں کی فرسودگی کو کم ظاہر کرنا، پنشن کے غیر فنڈڈ واجبات، اوور ڈرافٹ اور غیر ملکی قرضوں پر سود اور ذیلی معاشی منافع دینے والے انفرااسٹرکچر کی موقع کی لاگت شامل ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ٹیکس دہندگان پر پڑنے والی یہ مجموعی لاگت آرام سے 2 ٹریلین (20 کھرب) روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کا وسیع تر معاشی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان نے صرف اس سال کے خسارے کو پورا نہیں کیا بلکہ دہائیوں کی ادارہ جاتی بے حسی اور سستی کی قیمت چکائی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے صفر سے شروعات نہیں کی تھی۔ پاکستان ریلویز کا زیادہ تر مادی ڈھانچہ تقسیمِ ہند کے وقت ورثے میں ملا تھا، جس میں ٹرنک لائنز، بڑے اسٹیشنز، ورکشاپس، پل اوراسٹریٹیجک راہداریاں شامل تھیں۔ ناکامی یہ نہیں تھی کہ پاکستان کے پاس ریلوے کا نظام موجود نہیں تھا، بلکہ ناکامی یہ تھی کہ اس کو جدید بنانے، اس کی توسیع کرنے اور اسے تجارتی طور پر دوبارہ فعال کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔اس کے برعکس پاکستان نے موٹروے کو ترجیح دینے کا ترقیاتی ماڈل منتخب کیا۔ موٹرویز افادیت کی حامل ضرور ہیں لیکن وہ مال برداری کے ایک جدید ریلوے نظام کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ سڑک کے ذریعے مال برداری میں ایندھن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، یہ بھاری سامان کے لیے زیادہ مہنگی ہے، سڑک کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی اور طویل فاصلے کی نقل و حمل کے لیے ریل کے مقابلے میں کم کارآمد ہے۔اگر یہی عوامی سرمایہ کاری ٹریک کو اپ گریڈ کرنے، نئے انجن خریدنے، سگنلنگ سسٹم کو جدید بنانے، مال بردار ویگنوں کی تعداد بڑھانے، کنٹینر ٹرمینلز کی تعمیر اور مال برداری کے لیے مخصوص راہداریاں بنانے پر لگائی جاتی تو نتائج مختلف ہوتے۔ ایک جدید فریٹ ریلوے سی پیک  کے کارگو، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، بندرگاہوں کے مابین رابطے، صنعتی زونز اور علاقائی لاجسٹکس کو بہترین تعاون فراہم کر سکتی تھی۔ پاکستان کا جغرافیہ اس کا سب سے بڑا غیر استعمال شدہ معاشی اثاثہ ہے اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کے لیے ایک فعال ریلوے نظام مرکزی اہمیت کا حامل ہونا چاہیے تھا لیکن اس اسٹریٹیجک ڈھانچے کو زوال کا شکار ہونے دیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب بھارتی ریلویز کا نظام بھی مثالی نہیں ہے لیکن یہ واضح کرتا ہے کہ جب ریل کو قومی معاشی حکمتِ عملی کا محور بنا کر رکھا جائے تو کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ بھارتی ریلویز بھی سرکاری ملکیت میں ہے اور سماجی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود مالیاتی سال 25 -2024 میں اس کا روٹ نیٹ ورک 69,439 کلومیٹر تھا، جس پر روزانہ 13,940 مسافر اور 11,631 مال بردار گاڑیاں چلیں، اور اس نے تقریباً 7.29 ارب مسافروں اور 1.61 ارب ٹن سے زائد تجارتی سامان کی ترسیل کی۔اسی طرح مالیاتی سال 25-2024 میں اس کا تخمینہ شدہ ٹرن اوور تقریباً 31.3 ارب امریکی ڈالر تھا۔ مجموعی آمدنی کا تقریباً 65 فیصد حصہ مال برداری سے حاصل ہوا۔ خالص منافع تقریباً 315 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ معمولی تھا اور آپریٹنگ ریشو 98.22 فیصد رہا ، جو اگرچہ بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں، لیکن پھر بھی یہ گرانٹس اور پبلک اکاؤنٹس کی عدم موجودگی پر چلنے والے کسی محکمے کے بجائے ایک فعال ریلوے معیشت کو ظاہر کرتا ہے۔ مالیاتی سال 26-2025 کے لیے بھارتی ریلویز کا سالانہ ترقیاتی بجٹ تقریباً 31.4 ارب امریکی ڈالر مقرر کیا گیا تھا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت اب بھی ریل کو معاشی انفرااسٹرکچر کے طور پر دیکھتا ہے، محض سبسڈی حاصل کرنے والا ادارہ نہیں سمجھتا۔</p>
<p>اس کا اثر صرف ریلوے کے کھاتوں تک محدود نہیں رہتا۔ ریل کے ذریعے کوئلہ، لوہا، سیمنٹ، اسٹیل، اناج، کھاد، منرل آئل اور کنٹینرز منتقل کیے جاتے ہیں ، جو زراعت، صنعت، تعمیرات اور توانائی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ لاجسٹکس کی لاگت کو کم کرتا ہے، صنعتی مسابقت کو بڑھاتا ہے، ایندھن کے درآمدی بل کا دباؤ کم کرتا  اور پیداواری مراکز کو بندرگاہوں اور مارکیٹوں سے جوڑتا ہے۔ سال 26-2025 میں، بھارتی ریلویز نے ریکارڈ 1.67 ارب ٹن مال برداری اور 7.4 ارب مسافروں کی منتقلی رپورٹ کی۔ پاکستان کو بھارت کے ماڈل کی ہو بہو نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اسے اس ترجیح سے سیکھنا چاہیے جو بھارت معاشی حکمتِ عملی کے تحت ریلویز کو دیتا ہے۔ پاکستان نے ریل کو محض ایک ایسا محکمہ سمجھا جسے سبسڈی دی جائے، جبکہ بھارت نے اسے معاشی شہ رگ کے طور پر دیکھا۔</p>
<p>پاکستان ریلویز کو اب کسی نئے بحالی کے نعرے کی نہیں، بلکہ ایک مکمل ادارہ جاتی اوور ہال (ری سیٹ) کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ شکل دینا پہلا قدم ہے۔ ریلویز کو ایک مناسب گورننس فریم ورک کے تحت لایا جانا چاہیے جس میں ایک پیشہ ور بورڈ، آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، سالانہ رپورٹ، اثاثوں کے شفاف رجسٹر، کارکردگی کے معاہدے اور تجارتی آپریشنز و عوامی خدمات کی ذمہ داریوں کے درمیان واضح تفریق ہو۔اس کے بعد اس کے افعال کو الگ کیا جانا چاہیے۔ ٹریک انفرااسٹرکچر، فریٹ آپریشنز، مسافر خدمات، ورکشاپس، اسٹیشنز، اراضی اور لاجسٹکس کو ایک ہی محکمے کے تحت نہیں چلایا جانا چاہیے۔ مال برداری (فریٹ) کو تجارتی ترجیح بنانا ہوگا۔ خسارے میں چلنے والی مسافر سروسز کو عوامی خدمت کی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے اور ان کی فنڈنگ بجٹ کے ذریعے کی جائے۔ ریلوے کی زمین کو صرف شفاف قیمت کے تعین، مسابقتی بولی اور حاصل شدہ رقم کے مخصوص استعمال کے ذریعے ہی ڈیولپ کیا جانا چاہیے۔جہاں کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہو، وہاں نجی سرمائے کو شامل کیا جانا چاہیے، جیسے کہ فریٹ کوریڈورز، ٹرمینلز، لاجسٹکس پارکس، اسٹیشنوں کی ترقی، رولنگ اسٹاک، ورکشاپس اور دیگر غیر بنیادی خدمات۔ مقصد محض نجکاری برائے نجکاری نہیں، بلکہ تجارتی ڈسپلن، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور احتساب کو متعارف کرانا ہے۔</p>
<p>تقریباً تین دہائیوں تک پاکستان نے ریلویز کو کارپوریٹ شکل دینے کا بنیادی ادارہ جاتی فیصلہ مؤخر کیا۔ اس کا نتیجہ سالانہ نقصانات، گرانٹس، پنشن کے واجبات، بوسیدہ اثاثوں، مال برداری کی کمزور کارکردگی اور علاقائی لاجسٹکس کے ضائع ہونے والے مواقع کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ پاکستان ریلویز محض ایک خسارے میں چلنے والا محکمہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اسٹریٹیجک قومی اثاثے میں اصلاحات سے انکار کی قیمت ہے۔ جب تک اسے کارپوریٹ شکل دے کر اس کی ازسرِنو تشکیل نہیں کی جاتی، ہر سال انہی مانوس اعداد و شمار کے ساتھ آڈٹ مشاہدات سامنے آتے رہیں گے اور وفاقی خزانہ اس کا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔</p>
<p>اگلا مضمون پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا جائزہ پیش کرے گا، ایک ایسا سرکاری ادارہ جہاں اصلاحات میں بہت زیادہ تاخیر کی گئی، لیکن بالآخر ریاست نے اس پر ایکشن لینا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288363</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 13:58:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/06131940b9a3803.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/06131940b9a3803.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے پبلک سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت : اے آئی بطور بزنس پارٹنر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288337/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر کے بورڈ رومز اور پالیسی ساز اداروں میں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض ایک تکنیکی آلے کے طور پر نہیں  بلکہ اسے ایک بزنس پارٹنر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسی اکائی ہے جو انسانی فیصلہ سازوں کے ساتھ مل کر سوچتی، ڈیٹا میں چھپے ہوئے نمونوں کو نمایاں کرتی، بحران بننے سے پہلے ہی خامیوں کی نشان دہی  اور محض وجدان کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اقدامات کی سفارش کرتی ہے۔ پاکستان کے سرکاری شعبے بالخصوص وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے لیے اس فکری تبدیلی کی عملی اہمیت انتہائی غیر معمولی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت مدد کر سکتی ہے کیونکہ یہ واضح طور پر کر سکتی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ کب اور کیسے ممکن ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نظام میں سافٹ ویئر کا روایتی تصور ایک غیر متحرک آلے کا رہا ہے، جیسے کوئی ایسی اسپریڈ شیٹ جو حکم دینے پر اعداد و شمار کا حساب لگائے، کوئی ڈیٹا بیس جو ریکارڈ محفوظ کرے یا کوئی پورٹل جو درخواستیں وصول کرے۔ اس کے برعکس ایک بزنس پارٹنر کے طور پر مصنوعی ذہانت بالکل مختلف منطق پر کام کرتی ہے۔ یہ نگرانی کرتی، سیکھتی ، پیش بینی کرتی اور مشورے دیتی ہے۔ یہ کسی سوال کا انتظار نہیں کرتی بلکہ خود کار طریقے سے بے ضابطگیوں کی نشان دہی کرتی ہے، مستقبل کے منظر نامے تیار کرتی اور نیا ڈیٹا سامنے آنے پر اپنی سفارشات کو بہتر بناتی ہے۔ مثال کے طور پر اے آئی پارٹنر کے ساتھ کام کرنے والی وزارتِ خزانہ صرف کسی نقصان کے بعد ریونیو کی کمی کے اعداد و شمار ہی جمع نہیں کرتی، بلکہ اسے مہینوں پہلے ہی انتباہ موصول ہو جاتا ہے، ساتھ ہی یہ منظر نامہ بھی سامنے آ جاتا ہے کہ مختلف اصلاحاتی اقدامات کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں تاریخی طور پر پالیسی کے مقاصد اور عملی نتائج کے درمیان ایک بڑا فاصلہ رہا ہے۔ یہاں مسئلہ کبھی عزائم کا نہیں رہا، کیونکہ پاکستان کی منصوبہ بندی کی دستاویزات اکثر انتہائی جدید اور مدلل ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج عمل درآمد کا ہے یعنی یہ دیکھنا کہ کیا فنڈز واقعی مطلوبہ مقاصد کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں، کیا ٹھیکیدار مقررہ وقت پر کام کر رہے ہیں، کیا فائدہ اٹھانے والے افراد حقیقی ہیں اور کیا منصوبوں کے نتائج ان ترقیاتی مقاصد میں تبدیل ہو رہے ہیں جن کا شہریوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تحت چلنے والا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) انفرااسٹرکچر، سماجی ترقی اور معاشی نمو پر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی اخراجات کا عکاس ہوتا ہے۔ ہر سال چاروں صوبوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے سینکڑوں منصوبوں جیسے سڑکوں، ڈیموں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور صنعتی زونز کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ اس پورٹ فولیو کو سنبھالنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے کیونکہ منصوبوں کا ڈیٹا مختلف وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ایگزیکیوٹنگ ایجنسیوں سے جمع کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک کا اپنا رپورٹنگ فارمیٹ، ٹائم لائن اور ادارہ جاتی کلچر ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر فنڈز کے استعمال کی شرح اہداف سے کم رہی ہے اور منظور شدہ فنڈز کا ایک بڑا حصہ سال کے آخر میں ضائع یا واپس کر دیا جاتا ہے۔ منصوبوں کی لاگت میں اضافہ اور تاخیر یہاں کے دائمی مسائل ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں کمزور فزیبلٹی اسٹڈیز، زمین کے حصول میں تاخیر، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان، خریداری کے عمل کی رکاوٹیں اور بعض اوقات گورننس کی خامیاں شامل ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے انتظامی ڈھانچے میں درست طریقے سے شامل کیا گیا ایک اے آئی بزنس پارٹنر ان تمام خامیوں کو منظم انداز میں دور کرنے کا آغاز کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبوں کی منظوری اور ترجیحات کے تعین کے حوالے سے پلاننگ کمیشن ہر سال نئے منصوبوں کی منظوری کے لیے وفاقی وزارتوں کی جانب سے جمع کرائے گئے سینکڑوں پی سی ون فارمز کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور ذاتی رائے پر مبنی ہوتا ہے۔ ماضی کے منصوبوں کے ڈیٹا بشمول لاگت کے تخمینے، شعبے کی نوعیت، جغرافیائی محلِ وقوع، متعلقہ ادارے کی صلاحیت اور حتمی نتائج پر تربیت یافتہ مشین لرننگ ماڈلز نئی تجاویز میں عمل درآمد کے خطرات کی درجہ بندی، غیر حقیقت پسندانہ لاگت کے تخمینوں کی نشان دہی  اور اسی طرح قومی ترقیاتی مقاصد کے مطابق ترجیحات کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ عمل انسانی فیصلے کا نعم البدل نہیں بلکہ اسے مزید بہتر بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی وقت میں اخراجات کی نگرانی کے لیے انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے منسلک اور پی ایس ڈی پی مانیٹرنگ پورٹل سے جڑے اے آئی ڈیش بورڈز وزارتِ منصوبہ بندی کو مالی سال کے ہر دن منصوبوں کے استعمال کی لائیو تصویر فراہم کر سکتے ہیں، نہ کہ صرف وسطِ سال یا سال کے آخر میں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ معلوماتی ماڈلز پہلی سہ ماہی میں ہی نشان دہی کر سکتے ہیں کہ کون سے منصوبے فنڈز ضائع ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کہاں فوری انتظامی مداخلت کی ضرورت ہے۔ یہ نظام وزارت کو ایک روایتی آڈیٹر کے بجائے ایک فعال پورٹ فولیو مینیجر میں تبدیل کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ڈی پی کے منصوبوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل یعنی ٹینڈر کی تیاری، جانچ اور ایوارڈ ہوتی ہے۔ نیچرل لینگویج پروسیسنگ ٹولز ٹینڈر دستاویزات کے ابہام کا جائزہ لیتے ہوئے پیپرا  قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کر سکتے  اور ملی بھگت یا مصنوعی قیمتوں کے تعین کے اشارے تلاش کرنے کے لیے بولیوں کے پیٹرن کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ بینچ مارکنگ اے آئی سیلر منصوبوں کے درمیان یونٹ لاگت کا موازنہ کر سکتی ہے، تاکہ ٹھیکے دینے سے پہلے ان خامیوں کا پتہ لگایا جا سکے جن پر باریک بینی سے نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جغرافیائی اور سماجی ہدف بندی کے لیے سیٹلائٹ امیجری اینالیٹکس اور جیو اسپیشل اے آئی ٹولز اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا فزیکل انفرااسٹرکچر جیسے سڑک، اسکول کی عمارت یا واٹر سپلائی اسکیم واقعی اس مقام پر موجود ہے جس کا دعویٰ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ سماجی و اقتصادی ڈیٹا کے ساتھ مل کر یہ ٹولز ان پسماندہ علاقوں کی نشان دہی میں بھی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ماضی میں پی ایس ڈی پی فنڈز میں نظر انداز کیا گیا، جس سے ترقیاتی اخراجات کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ نتائج کی پیمائش کے حوالے سے صرف کام مکمل کرنے کے بجائے ترقیاتی انتظام کو نتائج پر مبنی بنانے کی خواہش پاکستان کے منصوبہ بندی کے فریم ورک میں طویل عرصے سے موجود ہے۔ اے آئی مختلف ذرائع جیسے ہاؤس ہولڈ سروے، ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز، اسکولوں میں داخلے کے ریکارڈ اور معاشی سرگرمیوں کے اشاریوں سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس خواہش کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا مکمل شدہ پی ایس ڈی پی منصوبے واقعی شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لا رہے ہیں اور اس کا حجم کتنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی امکان صرف ٹیکنالوجی خریدنے سے حقیقت نہیں بن سکتا۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم (آئی پی اے ایس) کی تیاری اور مالیاتی و مادی پیش رفت کی رپورٹنگ کو جوڑنے کی کوششیں شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر مزید کام کیا جانا چاہیے، تاہم اس کے لیے تین ادارہ جاتی شرائط لازمی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ڈیٹا کے معیار اور معیار سازی کو اسٹریٹجک ترجیح سمجھا جائے۔ اے آئی پارٹنرز اسی وقت قابلِ اعتماد ہوتے ہیں جب انہیں فراہم کیا جانے والا ڈیٹا درست ہو۔ موجودہ پی ایس ڈی پی ڈیٹا فلو میں عام پائے جانے والے مسائل جیسے غیر مستقل پروجیکٹ کوڈز، ڈپلیکیٹ انٹریز اور مینوئل رپورٹنگ کی غلطیوں کو لازمی ڈیٹا گورننس کے معیارات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ انسانی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائے۔ منصوبہ بندی کے شعبے میں اے آئی ٹولز کے لیے ایسے پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ماڈل کے نتائج کی تشریح کر سکیں، ان کے مفروضات پر سوال اٹھا سکیں اور سفارشات کو انتظامی فیصلوں میں تبدیل کر سکیں۔ اس کے لیے وزارت اور اس کے منسلک محکموں میں ڈیٹا لٹریسی کے لیے مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ شفافیت کے لیے سیاسی عزم اس پورے عمل کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اسی وقت سب سے زیادہ کارآمد ہوتی ہے جب اس کے نتائج پر کارروائی ہو یعنی خراب کارکردگی دکھانے والے منصوبے کو واقعی نتائج کا سامنا کرنا پڑے اور مسلسل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزراء کی سرپرستی میں پناہ نہ لے سکیں۔ احتساب کے بغیر ٹیکنالوجی محض ایک مہنگا ڈیش بورڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مالیاتی مشکلات کے باعث عوامی سرمایہ کاری کے ایک ایک روپے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پی ایس ڈی پی اپنی تمام تر حدود کے باوجود فزیکل اور سوشل انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے حکومت کا سب سے براہ راست ذریعہ ہے۔ مصنوعہ ذہانت کے ساتھ وزارتِ منصوبہ بندی کے تعلق کو ڈیجیٹل ٹولز کے کبھی کبھار استعمال سے بدل کر ترقیاتی انتظام میں ایک حقیقی ادارہ جاتی شراکت دار بنانا کوئی خیالی خواب نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز موجود ہیں، بھارت، بنگلہ دیش اور خلیجی ممالک کی علاقائی مثالیں سبق فراہم کرتی ہیں اور اس کی ضرورت انتہائی فوری ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی قیادت میں وزارت گڈ گورننس، کارکردگی کے حوالے سے سچائی، شواہد پر عمل کرنے کی ہمت اور ان شہریوں کے ساتھ مخلصانہ عزم کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی کو ایک بزنس پارٹنر بنانے پر تیزی سے کام کر رہی ہے جن کے ٹیکسز پی ایس ڈی پی کی ہر لائن کو فنڈ کرتے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی اس کے شاندار نتائج سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر کے بورڈ رومز اور پالیسی ساز اداروں میں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو محض ایک تکنیکی آلے کے طور پر نہیں  بلکہ اسے ایک بزنس پارٹنر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ ایک ایسی اکائی ہے جو انسانی فیصلہ سازوں کے ساتھ مل کر سوچتی، ڈیٹا میں چھپے ہوئے نمونوں کو نمایاں کرتی، بحران بننے سے پہلے ہی خامیوں کی نشان دہی  اور محض وجدان کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اقدامات کی سفارش کرتی ہے۔ پاکستان کے سرکاری شعبے بالخصوص وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے لیے اس فکری تبدیلی کی عملی اہمیت انتہائی غیر معمولی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت مدد کر سکتی ہے کیونکہ یہ واضح طور پر کر سکتی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ کب اور کیسے ممکن ہوگا؟</p>
<p>سرکاری نظام میں سافٹ ویئر کا روایتی تصور ایک غیر متحرک آلے کا رہا ہے، جیسے کوئی ایسی اسپریڈ شیٹ جو حکم دینے پر اعداد و شمار کا حساب لگائے، کوئی ڈیٹا بیس جو ریکارڈ محفوظ کرے یا کوئی پورٹل جو درخواستیں وصول کرے۔ اس کے برعکس ایک بزنس پارٹنر کے طور پر مصنوعی ذہانت بالکل مختلف منطق پر کام کرتی ہے۔ یہ نگرانی کرتی، سیکھتی ، پیش بینی کرتی اور مشورے دیتی ہے۔ یہ کسی سوال کا انتظار نہیں کرتی بلکہ خود کار طریقے سے بے ضابطگیوں کی نشان دہی کرتی ہے، مستقبل کے منظر نامے تیار کرتی اور نیا ڈیٹا سامنے آنے پر اپنی سفارشات کو بہتر بناتی ہے۔ مثال کے طور پر اے آئی پارٹنر کے ساتھ کام کرنے والی وزارتِ خزانہ صرف کسی نقصان کے بعد ریونیو کی کمی کے اعداد و شمار ہی جمع نہیں کرتی، بلکہ اسے مہینوں پہلے ہی انتباہ موصول ہو جاتا ہے، ساتھ ہی یہ منظر نامہ بھی سامنے آ جاتا ہے کہ مختلف اصلاحاتی اقدامات کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ فرق پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں تاریخی طور پر پالیسی کے مقاصد اور عملی نتائج کے درمیان ایک بڑا فاصلہ رہا ہے۔ یہاں مسئلہ کبھی عزائم کا نہیں رہا، کیونکہ پاکستان کی منصوبہ بندی کی دستاویزات اکثر انتہائی جدید اور مدلل ہوتی ہیں۔ اصل چیلنج عمل درآمد کا ہے یعنی یہ دیکھنا کہ کیا فنڈز واقعی مطلوبہ مقاصد کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں، کیا ٹھیکیدار مقررہ وقت پر کام کر رہے ہیں، کیا فائدہ اٹھانے والے افراد حقیقی ہیں اور کیا منصوبوں کے نتائج ان ترقیاتی مقاصد میں تبدیل ہو رہے ہیں جن کا شہریوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے تحت چلنے والا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) انفرااسٹرکچر، سماجی ترقی اور معاشی نمو پر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی اخراجات کا عکاس ہوتا ہے۔ ہر سال چاروں صوبوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے سینکڑوں منصوبوں جیسے سڑکوں، ڈیموں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور صنعتی زونز کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ اس پورٹ فولیو کو سنبھالنا انتہائی پیچیدہ عمل ہے کیونکہ منصوبوں کا ڈیٹا مختلف وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور ایگزیکیوٹنگ ایجنسیوں سے جمع کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک کا اپنا رپورٹنگ فارمیٹ، ٹائم لائن اور ادارہ جاتی کلچر ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر فنڈز کے استعمال کی شرح اہداف سے کم رہی ہے اور منظور شدہ فنڈز کا ایک بڑا حصہ سال کے آخر میں ضائع یا واپس کر دیا جاتا ہے۔ منصوبوں کی لاگت میں اضافہ اور تاخیر یہاں کے دائمی مسائل ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں کمزور فزیبلٹی اسٹڈیز، زمین کے حصول میں تاخیر، اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان، خریداری کے عمل کی رکاوٹیں اور بعض اوقات گورننس کی خامیاں شامل ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے انتظامی ڈھانچے میں درست طریقے سے شامل کیا گیا ایک اے آئی بزنس پارٹنر ان تمام خامیوں کو منظم انداز میں دور کرنے کا آغاز کر سکتا ہے۔</p>
<p>منصوبوں کی منظوری اور ترجیحات کے تعین کے حوالے سے پلاننگ کمیشن ہر سال نئے منصوبوں کی منظوری کے لیے وفاقی وزارتوں کی جانب سے جمع کرائے گئے سینکڑوں پی سی ون فارمز کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور ذاتی رائے پر مبنی ہوتا ہے۔ ماضی کے منصوبوں کے ڈیٹا بشمول لاگت کے تخمینے، شعبے کی نوعیت، جغرافیائی محلِ وقوع، متعلقہ ادارے کی صلاحیت اور حتمی نتائج پر تربیت یافتہ مشین لرننگ ماڈلز نئی تجاویز میں عمل درآمد کے خطرات کی درجہ بندی، غیر حقیقت پسندانہ لاگت کے تخمینوں کی نشان دہی  اور اسی طرح قومی ترقیاتی مقاصد کے مطابق ترجیحات کی سفارش کر سکتے ہیں۔ یہ عمل انسانی فیصلے کا نعم البدل نہیں بلکہ اسے مزید بہتر بناتا ہے۔</p>
<p>حقیقی وقت میں اخراجات کی نگرانی کے لیے انٹیگریٹڈ فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے منسلک اور پی ایس ڈی پی مانیٹرنگ پورٹل سے جڑے اے آئی ڈیش بورڈز وزارتِ منصوبہ بندی کو مالی سال کے ہر دن منصوبوں کے استعمال کی لائیو تصویر فراہم کر سکتے ہیں، نہ کہ صرف وسطِ سال یا سال کے آخر میں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ معلوماتی ماڈلز پہلی سہ ماہی میں ہی نشان دہی کر سکتے ہیں کہ کون سے منصوبے فنڈز ضائع ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کہاں فوری انتظامی مداخلت کی ضرورت ہے۔ یہ نظام وزارت کو ایک روایتی آڈیٹر کے بجائے ایک فعال پورٹ فولیو مینیجر میں تبدیل کر دیتا ہے۔</p>
<p>پی ایس ڈی پی کے منصوبوں میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل یعنی ٹینڈر کی تیاری، جانچ اور ایوارڈ ہوتی ہے۔ نیچرل لینگویج پروسیسنگ ٹولز ٹینڈر دستاویزات کے ابہام کا جائزہ لیتے ہوئے پیپرا  قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کر سکتے  اور ملی بھگت یا مصنوعی قیمتوں کے تعین کے اشارے تلاش کرنے کے لیے بولیوں کے پیٹرن کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ بینچ مارکنگ اے آئی سیلر منصوبوں کے درمیان یونٹ لاگت کا موازنہ کر سکتی ہے، تاکہ ٹھیکے دینے سے پہلے ان خامیوں کا پتہ لگایا جا سکے جن پر باریک بینی سے نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح جغرافیائی اور سماجی ہدف بندی کے لیے سیٹلائٹ امیجری اینالیٹکس اور جیو اسپیشل اے آئی ٹولز اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا فزیکل انفرااسٹرکچر جیسے سڑک، اسکول کی عمارت یا واٹر سپلائی اسکیم واقعی اس مقام پر موجود ہے جس کا دعویٰ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ سماجی و اقتصادی ڈیٹا کے ساتھ مل کر یہ ٹولز ان پسماندہ علاقوں کی نشان دہی میں بھی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ماضی میں پی ایس ڈی پی فنڈز میں نظر انداز کیا گیا، جس سے ترقیاتی اخراجات کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ نتائج کی پیمائش کے حوالے سے صرف کام مکمل کرنے کے بجائے ترقیاتی انتظام کو نتائج پر مبنی بنانے کی خواہش پاکستان کے منصوبہ بندی کے فریم ورک میں طویل عرصے سے موجود ہے۔ اے آئی مختلف ذرائع جیسے ہاؤس ہولڈ سروے، ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز، اسکولوں میں داخلے کے ریکارڈ اور معاشی سرگرمیوں کے اشاریوں سے ڈیٹا اکٹھا کرکے اس خواہش کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا مکمل شدہ پی ایس ڈی پی منصوبے واقعی شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لا رہے ہیں اور اس کا حجم کتنا ہے۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی امکان صرف ٹیکنالوجی خریدنے سے حقیقت نہیں بن سکتا۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم (آئی پی اے ایس) کی تیاری اور مالیاتی و مادی پیش رفت کی رپورٹنگ کو جوڑنے کی کوششیں شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر مزید کام کیا جانا چاہیے، تاہم اس کے لیے تین ادارہ جاتی شرائط لازمی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ڈیٹا کے معیار اور معیار سازی کو اسٹریٹجک ترجیح سمجھا جائے۔ اے آئی پارٹنرز اسی وقت قابلِ اعتماد ہوتے ہیں جب انہیں فراہم کیا جانے والا ڈیٹا درست ہو۔ موجودہ پی ایس ڈی پی ڈیٹا فلو میں عام پائے جانے والے مسائل جیسے غیر مستقل پروجیکٹ کوڈز، ڈپلیکیٹ انٹریز اور مینوئل رپورٹنگ کی غلطیوں کو لازمی ڈیٹا گورننس کے معیارات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ انسانی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جائے۔ منصوبہ بندی کے شعبے میں اے آئی ٹولز کے لیے ایسے پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ماڈل کے نتائج کی تشریح کر سکیں، ان کے مفروضات پر سوال اٹھا سکیں اور سفارشات کو انتظامی فیصلوں میں تبدیل کر سکیں۔ اس کے لیے وزارت اور اس کے منسلک محکموں میں ڈیٹا لٹریسی کے لیے مستقل سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ تیسری شرط یہ ہے کہ شفافیت کے لیے سیاسی عزم اس پورے عمل کی بنیاد ہونا چاہیے۔ اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اسی وقت سب سے زیادہ کارآمد ہوتی ہے جب اس کے نتائج پر کارروائی ہو یعنی خراب کارکردگی دکھانے والے منصوبے کو واقعی نتائج کا سامنا کرنا پڑے اور مسلسل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزراء کی سرپرستی میں پناہ نہ لے سکیں۔ احتساب کے بغیر ٹیکنالوجی محض ایک مہنگا ڈیش بورڈ ہے۔</p>
<p>پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مالیاتی مشکلات کے باعث عوامی سرمایہ کاری کے ایک ایک روپے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پی ایس ڈی پی اپنی تمام تر حدود کے باوجود فزیکل اور سوشل انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے حکومت کا سب سے براہ راست ذریعہ ہے۔ مصنوعہ ذہانت کے ساتھ وزارتِ منصوبہ بندی کے تعلق کو ڈیجیٹل ٹولز کے کبھی کبھار استعمال سے بدل کر ترقیاتی انتظام میں ایک حقیقی ادارہ جاتی شراکت دار بنانا کوئی خیالی خواب نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز موجود ہیں، بھارت، بنگلہ دیش اور خلیجی ممالک کی علاقائی مثالیں سبق فراہم کرتی ہیں اور اس کی ضرورت انتہائی فوری ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی قیادت میں وزارت گڈ گورننس، کارکردگی کے حوالے سے سچائی، شواہد پر عمل کرنے کی ہمت اور ان شہریوں کے ساتھ مخلصانہ عزم کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی کو ایک بزنس پارٹنر بنانے پر تیزی سے کام کر رہی ہے جن کے ٹیکسز پی ایس ڈی پی کی ہر لائن کو فنڈ کرتے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی اس کے شاندار نتائج سامنے آئیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288337</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Jul 2026 14:37:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر اویسِ سراج)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/05140211325800f.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/05140211325800f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قانونی شعبے پر مصنوعی ذہانت کے اثرات: فوائد اور نقصانات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288309/</link>
      <description>&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی کے انقلابات عموماً قانونی شعبے پر محدود اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ یہ پیشہ تبدیلی کو قبول کرنے میں نسبتاً مزاحمت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ قانونی شعبہ آج بھی بڑی حد تک اسی انداز میں کام کر رہا ہے جیسے ماضی میں کرتا تھا۔ ٹیکنالوجی قانونی امور، مثلاً مقدمات کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے یا عدالتی فیصلوں کے تجزیے جیسے شعبوں میں اگرچہ معاونت فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے باوجود وکلا اور دیگر قانونی ماہرین کی جگہ لینا آسان نہیں۔ البتہ توقع کی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی ذہانت کو سمجھنے، اس کی نقل کرنے اور اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ معلومات جمع کرنے، انہیں منظم کرنے اور متعلقہ قوانین و ضوابط پر عمل درآمد جیسے کام مؤثر انداز میں انجام دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت قانونی استدلال کے عمل کی بھی نقل کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایک نظریاتی طور پر مضبوط کمپیوٹیشنل ماڈل تشکیل دیتی ہے، جو کسی قانونی مسئلے کے حل کے ساتھ اس کی منطقی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جہاں قانون مبہم ہو یا کسی معاملے میں واضح قانونی رہنمائی موجود نہ ہو، وہاں مصنوعی ذہانت کو فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اے آئی عموماً پہلے سے موجود معلومات اور ڈیٹا سے سیکھتی ہے۔ ایسے حالات میں وہ قیاسی (ہیورسٹک) یا احتمالی (پروبیبلسٹک) طریقۂ کار اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں غلط یا غیر واضح نتائج سامنے آنے کا امکان رہتا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایسے اے آئی نظام تیار کیے جائیں جو آزمائش اور غلطی (ٹرائل اینڈ ایرر) کے ذریعے خود ڈیٹا تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طریقۂ کار کو تقویتی تعلم (ری انفورسمنٹ لرننگ) کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح اس کے بھی اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، تاہم قانونی شعبے کے لیے اس میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قانونی پیشے نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں کسی نہ کسی حد تک مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے باوجود، چونکہ مصنوعی ذہانت مختلف پیشوں کی نوعیت بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے بالخصوص نوجوان وکلا اس شعبے میں ہونے والی نئی پیش رفت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکسس نیکسس کی 2023 کی سروے رپورٹ کے مطابق، 86 فیصد وکلا چیٹ جی پی ٹی جیسی جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجیز سے واقف ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ قانونی برادری میں اس ٹیکنالوجی نے نمایاں مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ اس کے مقابلے میں عام صارفین میں یہ شرح 57 فیصد ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وکلا میں اس حوالے سے آگاہی نسبتاً زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عمر کے لحاظ سے بھی واضح فرق پایا جاتا ہے۔ 45 برس یا اس سے کم عمر کے تقریباً 98 فیصد وکلا جنریٹو اے آئی سے آگاہ ہیں، جبکہ 45 برس سے زائد عمر کے وکلا میں یہ شرح 82 فیصد ہے۔ مزید برآں، 92 فیصد قانون کے طلبہ اور 89 فیصد وکلا کا خیال ہے کہ جنریٹو اے آئی کسی نہ کسی صورت قانونی پیشے کو متاثر کرے گی۔ ان میں سے 46 فیصد قانون کے طلبہ اور 39 فیصد وکلا کا ماننا ہے کہ اس کے اثرات نہایت گہرے یا انقلابی نوعیت کے ہوں گے۔ امریکن بار ایسوسی ایشن (اے بی اے) کے قانونی ٹیکنالوجی سروے کے مطابق امریکہ میں اوسطاً 8 فیصد وکلا اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بلوم برگ لا کے 2019 کے سروے کے مطابق امریکہ میں 54 فیصد وکلا اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن اگست 2023 تک قانونی شعبے میں اے آئی کے استعمال کی شرح بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نمایاں فوائد میں معاہدوں کا تجزیہ، دستاویزات کی جانچ اور دیگر دہرائے جانے والے وقت طلب کاموں کو خودکار بنانا شامل ہے۔ اس سے وکلا اپنا زیادہ وقت پیچیدہ اور زیادہ اہم نوعیت کے قانونی معاملات پر صرف کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، متعدد قانونی فرمیں اور ادارے اے آئی پر مبنی سافٹ ویئر کے ذریعے لاکھوں دستاویزات میں سے مطلوبہ معلومات تیزی سے تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں دستی طور پر دستاویزات کا جائزہ لینے میں لگنے والا وقت اور محنت نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے، جبکہ وکلا اپنی مہارت زیادہ پیچیدہ مقدمات پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح معاہدوں کے تجزیے میں بھی مصنوعی ذہانت ممکنہ خطرات اور تضادات کی نشاندہی کر کے وکلا کو مذاکرات اور فیصلہ سازی میں مفید معلومات فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت میں حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو بھی غلط ثابت کیا ہے کہ کمپیوٹر زبان کی باریکیوں اور اعلیٰ درجے کے وکلا کی قانونی مہارت کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ متعدد ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نہ صرف قانونی خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ قانونی تعلیم، انصاف تک رسائی اور اخراجات میں کمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت قانونی شعبے کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں قانونی خدمات کی فراہمی کا طریقۂ کار نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ 2029 تک کمپیوٹر انسانی طرز کی سوچ رکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں مختلف شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکلنے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مصنوعی ذہانت کو قانونی شعبے میں وسیع پیمانے پر اپنانے سے پہلے اس سے متعلق خدشات کا ازالہ ضروری ہے۔ مناسب انداز میں استعمال کی جائے تو یہ انصاف کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، عدالتی نظام کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور انصاف تک رسائی کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے فیصلوں میں جوابدہی اور شفافیت سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے ایسے نظام وضع کرنا ضروری ہے جن کے ذریعے اے آئی کے فیصلوں کی مؤثر نگرانی اور جانچ ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے مناسب ضابطوں اور قانونی فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے جامع اخلاقی اصول اور رہنما خطوط مرتب کرنا بھی ضروری ہے۔ ان میں رازداری کے تحفظ، انصاف، غیر جانب داری اور تعصب کے خاتمے جیسے اصول شامل ہونے چاہییں۔ مصنوعی ذہانت کے نظام اس انداز سے تیار کیے جائیں کہ وہ قانونی تقاضوں، معاشرتی اقدار اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہوں۔ اس ضمن میں قانون سازوں، قانونی ماہرین اور مصنوعی ذہانت کے محققین کے درمیان قریبی تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے نظام کی مسلسل بہتری پر سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے، کیونکہ اے آئی کی جانب سے فراہم کردہ جوابات میں غلطیوں اور خامیوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ محققین اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیاری تربیتی ڈیٹا، مسلسل جانچ اور نگرانی کے ذریعے ان ماڈلز کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے کو بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے ماہرین، وکلا اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین باہمی تعاون سے ایسے نظام تیار کر سکتے ہیں جو زیادہ درست اور یکساں نتائج فراہم کریں۔ اسی طرح عوام میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں اس بحث میں شریک کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں، حدود اور ممکنہ استعمال سے متعلق متوازن رائے عامہ تشکیل پا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام، سول سوسائٹی، قانونی ماہرین اور دیگر متعلقہ حلقوں کو پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے سے مختلف نقطہ ہائے نظر کو مدنظر رکھنے اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں ”ٹرام ڈائلیما“ ایک دلچسپ مثال پیش کرتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ جب قانون مبہم ہو یا کسی معاملے میں قانونی رہنمائی موجود نہ ہو تو مصنوعی ذہانت کو منصفانہ اور اخلاقی فیصلے کرنے کے لیے کس نوعیت کی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ یہ مثال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ قانونی معاملات میں اخلاقی فیصلے صرف مصنوعی ذہانت پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے انسانی نگرانی، قانونی مہارت اور مضبوط اخلاقی اصول ناگزیر رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<hr />
<p><strong>ٹیکنالوجی کے انقلابات عموماً قانونی شعبے پر محدود اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ یہ پیشہ تبدیلی کو قبول کرنے میں نسبتاً مزاحمت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ قانونی شعبہ آج بھی بڑی حد تک اسی انداز میں کام کر رہا ہے جیسے ماضی میں کرتا تھا۔ ٹیکنالوجی قانونی امور، مثلاً مقدمات کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے یا عدالتی فیصلوں کے تجزیے جیسے شعبوں میں اگرچہ معاونت فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے باوجود وکلا اور دیگر قانونی ماہرین کی جگہ لینا آسان نہیں۔ البتہ توقع کی جا رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دے گی۔</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانی ذہانت کو سمجھنے، اس کی نقل کرنے اور اسے مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ معلومات جمع کرنے، انہیں منظم کرنے اور متعلقہ قوانین و ضوابط پر عمل درآمد جیسے کام مؤثر انداز میں انجام دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت قانونی استدلال کے عمل کی بھی نقل کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایک نظریاتی طور پر مضبوط کمپیوٹیشنل ماڈل تشکیل دیتی ہے، جو کسی قانونی مسئلے کے حل کے ساتھ اس کی منطقی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم جہاں قانون مبہم ہو یا کسی معاملے میں واضح قانونی رہنمائی موجود نہ ہو، وہاں مصنوعی ذہانت کو فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اے آئی عموماً پہلے سے موجود معلومات اور ڈیٹا سے سیکھتی ہے۔ ایسے حالات میں وہ قیاسی (ہیورسٹک) یا احتمالی (پروبیبلسٹک) طریقۂ کار اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں غلط یا غیر واضح نتائج سامنے آنے کا امکان رہتا ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایسے اے آئی نظام تیار کیے جائیں جو آزمائش اور غلطی (ٹرائل اینڈ ایرر) کے ذریعے خود ڈیٹا تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طریقۂ کار کو تقویتی تعلم (ری انفورسمنٹ لرننگ) کہا جاتا ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح اس کے بھی اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، تاہم قانونی شعبے کے لیے اس میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قانونی پیشے نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں کسی نہ کسی حد تک مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے باوجود، چونکہ مصنوعی ذہانت مختلف پیشوں کی نوعیت بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے بالخصوص نوجوان وکلا اس شعبے میں ہونے والی نئی پیش رفت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔</p>
<p>لیکسس نیکسس کی 2023 کی سروے رپورٹ کے مطابق، 86 فیصد وکلا چیٹ جی پی ٹی جیسی جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجیز سے واقف ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ قانونی برادری میں اس ٹیکنالوجی نے نمایاں مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ اس کے مقابلے میں عام صارفین میں یہ شرح 57 فیصد ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وکلا میں اس حوالے سے آگاہی نسبتاً زیادہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عمر کے لحاظ سے بھی واضح فرق پایا جاتا ہے۔ 45 برس یا اس سے کم عمر کے تقریباً 98 فیصد وکلا جنریٹو اے آئی سے آگاہ ہیں، جبکہ 45 برس سے زائد عمر کے وکلا میں یہ شرح 82 فیصد ہے۔ مزید برآں، 92 فیصد قانون کے طلبہ اور 89 فیصد وکلا کا خیال ہے کہ جنریٹو اے آئی کسی نہ کسی صورت قانونی پیشے کو متاثر کرے گی۔ ان میں سے 46 فیصد قانون کے طلبہ اور 39 فیصد وکلا کا ماننا ہے کہ اس کے اثرات نہایت گہرے یا انقلابی نوعیت کے ہوں گے۔ امریکن بار ایسوسی ایشن (اے بی اے) کے قانونی ٹیکنالوجی سروے کے مطابق امریکہ میں اوسطاً 8 فیصد وکلا اے آئی پر مبنی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح بلوم برگ لا کے 2019 کے سروے کے مطابق امریکہ میں 54 فیصد وکلا اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن اگست 2023 تک قانونی شعبے میں اے آئی کے استعمال کی شرح بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے نمایاں فوائد میں معاہدوں کا تجزیہ، دستاویزات کی جانچ اور دیگر دہرائے جانے والے وقت طلب کاموں کو خودکار بنانا شامل ہے۔ اس سے وکلا اپنا زیادہ وقت پیچیدہ اور زیادہ اہم نوعیت کے قانونی معاملات پر صرف کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، متعدد قانونی فرمیں اور ادارے اے آئی پر مبنی سافٹ ویئر کے ذریعے لاکھوں دستاویزات میں سے مطلوبہ معلومات تیزی سے تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں دستی طور پر دستاویزات کا جائزہ لینے میں لگنے والا وقت اور محنت نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے، جبکہ وکلا اپنی مہارت زیادہ پیچیدہ مقدمات پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح معاہدوں کے تجزیے میں بھی مصنوعی ذہانت ممکنہ خطرات اور تضادات کی نشاندہی کر کے وکلا کو مذاکرات اور فیصلہ سازی میں مفید معلومات فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت میں حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو بھی غلط ثابت کیا ہے کہ کمپیوٹر زبان کی باریکیوں اور اعلیٰ درجے کے وکلا کی قانونی مہارت کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ متعدد ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت نہ صرف قانونی خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ قانونی تعلیم، انصاف تک رسائی اور اخراجات میں کمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت قانونی شعبے کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں قانونی خدمات کی فراہمی کا طریقۂ کار نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین پیش گوئی کرتے ہیں کہ 2029 تک کمپیوٹر انسانی طرز کی سوچ رکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں مختلف شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکلنے کا امکان ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم مصنوعی ذہانت کو قانونی شعبے میں وسیع پیمانے پر اپنانے سے پہلے اس سے متعلق خدشات کا ازالہ ضروری ہے۔ مناسب انداز میں استعمال کی جائے تو یہ انصاف کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، عدالتی نظام کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور انصاف تک رسائی کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کے فیصلوں میں جوابدہی اور شفافیت سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے ایسے نظام وضع کرنا ضروری ہے جن کے ذریعے اے آئی کے فیصلوں کی مؤثر نگرانی اور جانچ ممکن ہو۔ اس مقصد کے لیے مناسب ضابطوں اور قانونی فریم ورک کی تشکیل ناگزیر ہے۔</p>
<p>اسی طرح قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے جامع اخلاقی اصول اور رہنما خطوط مرتب کرنا بھی ضروری ہے۔ ان میں رازداری کے تحفظ، انصاف، غیر جانب داری اور تعصب کے خاتمے جیسے اصول شامل ہونے چاہییں۔ مصنوعی ذہانت کے نظام اس انداز سے تیار کیے جائیں کہ وہ قانونی تقاضوں، معاشرتی اقدار اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مکمل ہم آہنگ ہوں۔ اس ضمن میں قانون سازوں، قانونی ماہرین اور مصنوعی ذہانت کے محققین کے درمیان قریبی تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کے نظام کی مسلسل بہتری پر سرمایہ کاری بھی ناگزیر ہے، کیونکہ اے آئی کی جانب سے فراہم کردہ جوابات میں غلطیوں اور خامیوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ محققین اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیاری تربیتی ڈیٹا، مسلسل جانچ اور نگرانی کے ذریعے ان ماڈلز کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے کو بہتر بنائیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کے ماہرین، وکلا اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین باہمی تعاون سے ایسے نظام تیار کر سکتے ہیں جو زیادہ درست اور یکساں نتائج فراہم کریں۔ اسی طرح عوام میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں اس بحث میں شریک کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں، حدود اور ممکنہ استعمال سے متعلق متوازن رائے عامہ تشکیل پا سکے۔</p>
<p>عوام، سول سوسائٹی، قانونی ماہرین اور دیگر متعلقہ حلقوں کو پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے سے مختلف نقطہ ہائے نظر کو مدنظر رکھنے اور جمہوری اقدار کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں ”ٹرام ڈائلیما“ ایک دلچسپ مثال پیش کرتا ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ جب قانون مبہم ہو یا کسی معاملے میں قانونی رہنمائی موجود نہ ہو تو مصنوعی ذہانت کو منصفانہ اور اخلاقی فیصلے کرنے کے لیے کس نوعیت کی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ یہ مثال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ قانونی معاملات میں اخلاقی فیصلے صرف مصنوعی ذہانت پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے انسانی نگرانی، قانونی مہارت اور مضبوط اخلاقی اصول ناگزیر رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288309</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 22:19:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/04220324ffff095.webp" type="image/webp" medium="image" height="583" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/04220324ffff095.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا توانائی بحران وسائل کی نہیں، پالیسیوں کی ناکامی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288311/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی کی بنیاد پر استوار موجودہ دنیا میں توانائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بیشتر ممالک نے سستی، قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کر رکھے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ تیل اور گیس کی ترسیل میں معمولی خلل بھی عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی، تاہم اب اس اہم آبی گزرگاہ سے ایندھن کی فراہمی معمول پر آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1978 میں ایک نوجوان انجینئر کی حیثیت سے مجھے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع سوئی گیس فیلڈز کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ قدرتی گیس کا یہ وسیع ذخیرہ قدرت کا انمول تحفہ تھا۔ 1952 میں دریافت ہونے والے اس ذخیرے کا حجم تقریباً 12 ٹریلین کیوبک فٹ (ٹی سی ایف) تھا اور اسے اپنے دور کی بڑی دریافتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، جو حکومتِ پاکستان اور ایک برطانوی ادارے کا مشترکہ منصوبہ تھا، یہاں سے گیس نکال رہی تھی، جبکہ ملک بھر میں گیس کی ترسیل اور تقسیم کے لیے دو سرکاری کمپنیاں قائم کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے سب سے پہلے اس صاف ایندھن کو ملک کے تجارتی مرکز کراچی تک پہنچایا، جبکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے فیصل آباد کو قومی گیس گرڈ سے منسلک کیا، جس کے بعد لاہور تک فراہمی کا دائرہ بڑھایا گیا۔ آج پاکستان زیرِ زمین گیس پائپ لائنوں کے ایک وسیع جال کا حامل ہے۔ اس وقت یہ ایک انتہائی متاثر کن منصوبہ تھا۔ میری دلچسپی بنیادی طور پر زیرِ زمین بچھائی گئی اسٹیل پائپ لائنوں کو زنگ سے محفوظ رکھنے کے نظام سے متعلق تھی۔ ہم سوئی سے رحیم یار خان تک سڑک کے راستے سفر کرتے ہوئے پائپ ٹو سوائل پوٹینشل (پی ایس پی) کا جائزہ لیتے رہے۔ اس وقت امید زندہ تھی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تقریباً 2002 تک توانائی کے اعتبار سے خود کفیل رہا، لیکن اس کے بعد قلت کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوئے۔ قدرت کے اس تحفے کو بدانتظامی اور بے جا استعمال کے باعث وقت سے پہلے ہی بڑی حد تک استعمال کر لیا گیا۔ نئے گیس ذخائر کی تلاش یا متبادل ایندھن کی ترقی پر سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی، جبکہ کوئلے کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، حالانکہ مغربی دنیا کا صنعتی انقلاب بڑی حد تک اسی ایندھن کی مرہونِ منت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی پس منظر میں پلاننگ کمیشن نے ایک انرجی فارسائٹ کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی ایم بی احمد کر رہے تھے، جو اس وقت ایس ایس جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے، اور دھاتوں اور معدنیات کے شعبے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر، مجھے توانائی کے ذریعے کے طور پر کوئلے کی ترقی سے متعلق ذمہ داری سونپی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھر میں موجود تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کوئلہ محض ڈیڑھ سو میٹر گہرائی میں موجود تھا، لیکن اس کے اوپر پانی کی تہہ موجود ہونے کے باعث اس کی کان کنی ایک مشکل مرحلہ تھی۔ اس وقت دنیا کوئلے سے دور جا رہی تھی، مگر توانائی میں خود انحصاری کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو ترک نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد رکاوٹوں کے باوجود بالآخر تھر کا کوئلہ نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ آج اس سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ کوئلے کی کامیاب گیسفیکیشن بھی ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ ایک یوریا پلانٹ کے قیام کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے، جہاں گیسفیکیشن سے حاصل ہونے والی سنگیس (Syngas) کو کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق، وسائل اور بے پناہ صلاحیت کے باوجود پاکستان کا توانائی بحران بنیادی طور پر ناقص پالیسی سازی، سمت کے فقدان اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چند برس قبل انہیں چین کے توانائی کے بڑے سرکاری ادارے شین ہوا کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جہاں جدید کنٹرول روم اور مربوط نظام دیکھنے کو ملا۔ یہ ادارہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جہاز، ریلوے اور کانوں سمیت مکمل انفرااسٹرکچر کا مالک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں 1970 کی دہائی کے تیل بحران کے بعد صدر جمی کارٹر نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ملک دوبارہ ایندھن کے بحران کا شکار نہیں ہوگا۔ اسی مقصد کے لیے محکمہ توانائی (ڈی او ای) قائم کیا گیا، جس نے تمام ممکنہ توانائی ذرائع پر تحقیق کا آغاز کیا۔ آج امریکہ نسبتاً سستے توانائی ذریعے کے طور پر شیل گیس استعمال کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے حال ہی میں اپنے کوئلے کے ذخائر کی گیسفیکیشن پر مبنی ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان میں مہنگے ایندھن کے باعث صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ آبی بجلی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے، تھر کے کوئلے کی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، نئے گیس ذخائر پیداوار میں شامل نہیں کیے گئے اور شیل گیس کے امکانات کو بھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق، جس طرح 1952 میں سوئی گیس قدرت کا ایک عظیم تحفہ تھی، اسی طرح آج تھر کا کوئلہ پاکستان کے لیے ایک قیمتی نعمت ہے۔ اگر ان وسائل سے بھی درست منصوبہ بندی کے ذریعے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ ایک قومی ناکامی ہوگی۔ اسی تناظر میں انہیں معروف شاعر منیر نیازی کے وہ اشعار یاد آتے ہیں جن میں انہوں نے قوم پر طاری ”آسیب کے سائے“ کا ذکر کیا تھا۔ ان کے بقول، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، پاکستان کو سنجیدہ خود احتسابی اور درست پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکنالوجی کی بنیاد پر استوار موجودہ دنیا میں توانائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بیشتر ممالک نے سستی، قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام وضع کر رکھے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ تیل اور گیس کی ترسیل میں معمولی خلل بھی عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی، تاہم اب اس اہم آبی گزرگاہ سے ایندھن کی فراہمی معمول پر آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>1978 میں ایک نوجوان انجینئر کی حیثیت سے مجھے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع سوئی گیس فیلڈز کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ قدرتی گیس کا یہ وسیع ذخیرہ قدرت کا انمول تحفہ تھا۔ 1952 میں دریافت ہونے والے اس ذخیرے کا حجم تقریباً 12 ٹریلین کیوبک فٹ (ٹی سی ایف) تھا اور اسے اپنے دور کی بڑی دریافتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، جو حکومتِ پاکستان اور ایک برطانوی ادارے کا مشترکہ منصوبہ تھا، یہاں سے گیس نکال رہی تھی، جبکہ ملک بھر میں گیس کی ترسیل اور تقسیم کے لیے دو سرکاری کمپنیاں قائم کی گئیں۔</p>
<p>سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے سب سے پہلے اس صاف ایندھن کو ملک کے تجارتی مرکز کراچی تک پہنچایا، جبکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے فیصل آباد کو قومی گیس گرڈ سے منسلک کیا، جس کے بعد لاہور تک فراہمی کا دائرہ بڑھایا گیا۔ آج پاکستان زیرِ زمین گیس پائپ لائنوں کے ایک وسیع جال کا حامل ہے۔ اس وقت یہ ایک انتہائی متاثر کن منصوبہ تھا۔ میری دلچسپی بنیادی طور پر زیرِ زمین بچھائی گئی اسٹیل پائپ لائنوں کو زنگ سے محفوظ رکھنے کے نظام سے متعلق تھی۔ ہم سوئی سے رحیم یار خان تک سڑک کے راستے سفر کرتے ہوئے پائپ ٹو سوائل پوٹینشل (پی ایس پی) کا جائزہ لیتے رہے۔ اس وقت امید زندہ تھی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا تھا۔</p>
<p>پاکستان تقریباً 2002 تک توانائی کے اعتبار سے خود کفیل رہا، لیکن اس کے بعد قلت کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوئے۔ قدرت کے اس تحفے کو بدانتظامی اور بے جا استعمال کے باعث وقت سے پہلے ہی بڑی حد تک استعمال کر لیا گیا۔ نئے گیس ذخائر کی تلاش یا متبادل ایندھن کی ترقی پر سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی، جبکہ کوئلے کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، حالانکہ مغربی دنیا کا صنعتی انقلاب بڑی حد تک اسی ایندھن کی مرہونِ منت تھا۔</p>
<p>اسی پس منظر میں پلاننگ کمیشن نے ایک انرجی فارسائٹ کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی ایم بی احمد کر رہے تھے، جو اس وقت ایس ایس جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے، اور دھاتوں اور معدنیات کے شعبے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر، مجھے توانائی کے ذریعے کے طور پر کوئلے کی ترقی سے متعلق ذمہ داری سونپی گئی۔</p>
<p>تھر میں موجود تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کوئلہ محض ڈیڑھ سو میٹر گہرائی میں موجود تھا، لیکن اس کے اوپر پانی کی تہہ موجود ہونے کے باعث اس کی کان کنی ایک مشکل مرحلہ تھی۔ اس وقت دنیا کوئلے سے دور جا رہی تھی، مگر توانائی میں خود انحصاری کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو ترک نہیں کیا گیا۔</p>
<p>متعدد رکاوٹوں کے باوجود بالآخر تھر کا کوئلہ نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ آج اس سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ کوئلے کی کامیاب گیسفیکیشن بھی ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ ایک یوریا پلانٹ کے قیام کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے، جہاں گیسفیکیشن سے حاصل ہونے والی سنگیس (Syngas) کو کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>مصنف کے مطابق، وسائل اور بے پناہ صلاحیت کے باوجود پاکستان کا توانائی بحران بنیادی طور پر ناقص پالیسی سازی، سمت کے فقدان اور بدانتظامی کا نتیجہ ہے۔ گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چند برس قبل انہیں چین کے توانائی کے بڑے سرکاری ادارے شین ہوا کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جہاں جدید کنٹرول روم اور مربوط نظام دیکھنے کو ملا۔ یہ ادارہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جہاز، ریلوے اور کانوں سمیت مکمل انفرااسٹرکچر کا مالک ہے۔</p>
<p>امریکہ میں 1970 کی دہائی کے تیل بحران کے بعد صدر جمی کارٹر نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ملک دوبارہ ایندھن کے بحران کا شکار نہیں ہوگا۔ اسی مقصد کے لیے محکمہ توانائی (ڈی او ای) قائم کیا گیا، جس نے تمام ممکنہ توانائی ذرائع پر تحقیق کا آغاز کیا۔ آج امریکہ نسبتاً سستے توانائی ذریعے کے طور پر شیل گیس استعمال کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے حال ہی میں اپنے کوئلے کے ذخائر کی گیسفیکیشن پر مبنی ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان میں مہنگے ایندھن کے باعث صنعتی شعبہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ آبی بجلی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے، تھر کے کوئلے کی صلاحیت سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، نئے گیس ذخائر پیداوار میں شامل نہیں کیے گئے اور شیل گیس کے امکانات کو بھی سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا۔</p>
<p>مصنف کے مطابق، جس طرح 1952 میں سوئی گیس قدرت کا ایک عظیم تحفہ تھی، اسی طرح آج تھر کا کوئلہ پاکستان کے لیے ایک قیمتی نعمت ہے۔ اگر ان وسائل سے بھی درست منصوبہ بندی کے ذریعے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو یہ ایک قومی ناکامی ہوگی۔ اسی تناظر میں انہیں معروف شاعر منیر نیازی کے وہ اشعار یاد آتے ہیں جن میں انہوں نے قوم پر طاری ”آسیب کے سائے“ کا ذکر کیا تھا۔ ان کے بقول، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، پاکستان کو سنجیدہ خود احتسابی اور درست پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288311</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 22:49:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر فرید اے ملک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0422344667ec511.webp" type="image/webp" medium="image" height="1202" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0422344667ec511.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے زرمبادلہ کے استحکام کا سراب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288294/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے برآمدات میں جمود، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی سست رفتار، کم پیداواری صلاحیت اور صنعتی شعبے کی کمزور مسابقتی استعداد کے اثرات کا ازالہ بڑی حد تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے ذریعے کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ صورتحال معاشی استحکام کا ایک خطرناک سراب پیدا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں کے سہارے قائم زرمبادلہ کے ذخائر، ان میں سے کسی ایک ذریعے کے کمزور پڑتے ہی تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ پائیدار زرمبادلہ کے ذخائر کی بنیاد صرف عالمی منڈی میں مسابقت کی حامل برآمدات اور مقامی و غیر ملکی ذرائع سے ہونے والی طویل المدتی پیداواری سرمایہ کاری پر استوار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی زرمبادلہ کی پوزیشن کو معیشت میں بتدریج استحکام کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، شرح مبادلہ نسبتاً مستحکم رہی ہے اور ادائیگیوں کے توازن (بیلنس پیمنٹس) کے فوری بحران کے خدشات بھی کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ پیش رفت اپنی جگہ اہم اور قابلِ اعتراف ہے، تاہم اس کے پس پردہ ایک ایسی ساختی کمزوری بھی پوشیدہ ہے جسے نظر انداز کرنا پالیسی سازوں کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ آج پاکستان کا بیرونی کھاتہ بڑی حد تک ایک ایسے عنصر پر انحصار کر رہا ہے جس پر ملک کا اختیار نہایت محدود ہے، اور وہ ہے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار خود اس حقیقت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے تقریباً 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں، جو ملک کی تاریخ میں ایک سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس کے برعکس، برآمدات پر مبنی ترقی کے حکومتی دعووں کے باوجود اشیائے تجارت کی برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جو کئی برسوں سے جاری جمود کی عکاسی کرتی ہیں۔ دوسری جانب براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بمشکل 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکی، جو پاکستان کے کاروباری ماحول پر سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار ایک واضح پیغام دیتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اب ملک کے برآمد کنندگان کے مقابلے میں کہیں زیادہ زرمبادلہ فراہم کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کے بیرونی شعبے کی مالی ضروریات پوری کرنے میں تقریباً غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے زرمبادلہ کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی کی غماز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر کسی بھی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر ملکی سرمایہ کاری، سیاحت سے حاصل ہونے والی رقوم، خدمات کی برآمدات اور محتاط مالی نظم و نسق کے امتزاج سے مستحکم رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان اب بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ صرف تین ذرائع پر تکیہ کیے ہوئے ہے: ترسیلاتِ زر، کثیرالجہتی قرضے، بالخصوص بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی مالی معاونت، اور وقتاً فوقتاً دوست ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی مدد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ماڈل تقریباً 25 کروڑ آبادی والے ملک کے لیے کسی طور بھی پائیدار نہیں کہا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سخت معنوں میں دیکھا جائے تو ترسیلاتِ زر خودبخود سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ نہیں بنتیں۔ یہ نجی رقوم ہوتی ہیں جو بینکاری نظام کے ذریعے خاندانوں کو موصول ہوتی ہیں۔ تاہم یہ رقوم ڈالر کی دستیابی میں اضافہ کرتی ہیں، جاری کھاتے (کرنٹ اکاؤنٹ) کو سہارا دیتی ہیں، روپے پر دباؤ کم کرتی ہیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بینکوں کے درمیان زرمبادلہ کی منڈی سے ڈالر خرید کر سرکاری ذخائر میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں عملی طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، پاکستان کے لیے سب سے بڑے بیرونی مالی استحکام کے ذریعے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہر بڑے معاشی بحران—خواہ وہ سیاسی عدم استحکام ہو، تباہ کن سیلاب، کووڈ-19 کی وبا یا بار بار آئی ایم ایف کے پروگرام—کے دوران بھی اوورسیز پاکستانیوں نے وطن رقوم بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سے ایک طرف لاکھوں خاندانوں کو سہارا ملا اور دوسری جانب بالواسطہ طور پر ملک کے بیرونی مالیاتی استحکام کو بھی تقویت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کوئی بھی سنجیدہ معاشی حکمتِ عملی غیر معینہ مدت تک اپنی سمندر پار آبادی کی فیاضی پر انحصار نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا خدشہ حد سے زیادہ انحصار (کنسنٹریشن رسک) کا ہے۔ پاکستان کی تقریباً دو تہائی ترسیلاتِ زر خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آتی ہیں۔ اس جغرافیائی ارتکاز کے باعث پاکستان ایسے حالات سے متاثر ہو سکتا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں اپنی انتہائی غیر یقینی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، خطے میں جاری عدم استحکام اور توانائی کی عالمی منڈی میں ممکنہ رکاوٹیں خلیجی معیشتوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہیں۔ اگر علاقائی تنازع طویل ہو گیا تو معاشی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مؤخر ہو سکتے ہیں اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی اہم وہ ساختی تبدیلیاں ہیں جو پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے وژن 2030 کا مقصد افرادی قوت میں بتدریج مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ اسی نوعیت کے لیبر نیشنلائزیشن پروگرام خلیج کے کئی دیگر ممالک میں بھی جاری ہیں۔ دوسری جانب آٹومیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کم اور نیم ہنر مند غیر ملکی افرادی قوت کی طلب کو بتدریج کم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اب تک خلیجی ممالک میں افرادی قوت کی مضبوط طلب سے فائدہ پہنچا ہے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ سازگار ماحول ہمیشہ برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری کمزوری آبادیاتی نوعیت کی ہے۔ پہلے پاکستانی تارکینِ وطن عموماً بیرونِ ملک ملازمت کو عارضی سمجھتے تھے۔ وہ ایک یا دو دہائیوں تک کام کرنے کے بعد وطن واپس آ جاتے تھے اور اس دوران اپنے خاندانوں سے مضبوط مالی تعلق برقرار رکھتے تھے۔ آج ہجرت کا رجحان بدل چکا ہے۔ ہنر مند پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے خاندانوں سمیت مستقل طور پر بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے، وہاں کی شہریت حاصل کر رہی ہے اور آہستہ آہستہ اپنے نئے معاشروں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ نسل در نسل ترسیلاتِ زر میں کمی آتی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اب تک ترسیلاتِ زر کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان رقوم کا بڑا حصہ بجا طور پر گھریلو اخراجات، صحت، تعلیم اور رہائش پر خرچ ہوتا ہے۔ اگرچہ اس سے معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں نہ برآمدی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی صنعتی پیداوار میں۔ یوں ملک نئے ذرائع سے زرمبادلہ پیدا کرنے کے بجائے موجودہ زرمبادلہ ہی استعمال کرتا چلا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس مشرقی ایشیا کی معیشتوں کو دیکھیے، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا بنیادی ذریعہ برآمدات میں مسابقت، صنعتی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری بنے۔ وہاں ترسیلاتِ زر صرف ایک اضافی ذریعہ ہیں، اصل سہارا نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک مستقل بنیادوں پر اپنے ادائیگیوں کے توازن کی مالی ضروریات بیرونِ ملک مقیم اپنی افرادی قوت کے سپرد نہیں کر سکتا۔ جب تک برآمدات، پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری ترسیلاتِ زر کی جگہ زرمبادلہ کمانے کے بنیادی محرک نہیں بنتیں، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بظاہر جتنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں، حقیقت میں اتنے ہی نازک رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے برآمدات میں جمود، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی سست رفتار، کم پیداواری صلاحیت اور صنعتی شعبے کی کمزور مسابقتی استعداد کے اثرات کا ازالہ بڑی حد تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے ذریعے کیا ہے۔</strong></p>
<p>لیکن یہ صورتحال معاشی استحکام کا ایک خطرناک سراب پیدا کرتی ہے۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں کے سہارے قائم زرمبادلہ کے ذخائر، ان میں سے کسی ایک ذریعے کے کمزور پڑتے ہی تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ پائیدار زرمبادلہ کے ذخائر کی بنیاد صرف عالمی منڈی میں مسابقت کی حامل برآمدات اور مقامی و غیر ملکی ذرائع سے ہونے والی طویل المدتی پیداواری سرمایہ کاری پر استوار ہوتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی زرمبادلہ کی پوزیشن کو معیشت میں بتدریج استحکام کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، شرح مبادلہ نسبتاً مستحکم رہی ہے اور ادائیگیوں کے توازن (بیلنس پیمنٹس) کے فوری بحران کے خدشات بھی کم ہوئے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ یہ پیش رفت اپنی جگہ اہم اور قابلِ اعتراف ہے، تاہم اس کے پس پردہ ایک ایسی ساختی کمزوری بھی پوشیدہ ہے جسے نظر انداز کرنا پالیسی سازوں کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ آج پاکستان کا بیرونی کھاتہ بڑی حد تک ایک ایسے عنصر پر انحصار کر رہا ہے جس پر ملک کا اختیار نہایت محدود ہے، اور وہ ہے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر۔</p>
<p>اعداد و شمار خود اس حقیقت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے تقریباً 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں، جو ملک کی تاریخ میں ایک سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس کے برعکس، برآمدات پر مبنی ترقی کے حکومتی دعووں کے باوجود اشیائے تجارت کی برآمدات تقریباً 32 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جو کئی برسوں سے جاری جمود کی عکاسی کرتی ہیں۔ دوسری جانب براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بمشکل 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکی، جو پاکستان کے کاروباری ماحول پر سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار ایک واضح پیغام دیتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اب ملک کے برآمد کنندگان کے مقابلے میں کہیں زیادہ زرمبادلہ فراہم کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کے بیرونی شعبے کی مالی ضروریات پوری کرنے میں تقریباً غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے زرمبادلہ کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی کی غماز ہے۔</p>
<p>روایتی طور پر کسی بھی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر ملکی سرمایہ کاری، سیاحت سے حاصل ہونے والی رقوم، خدمات کی برآمدات اور محتاط مالی نظم و نسق کے امتزاج سے مستحکم رہتے ہیں۔</p>
<p>تاہم پاکستان اب بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ صرف تین ذرائع پر تکیہ کیے ہوئے ہے: ترسیلاتِ زر، کثیرالجہتی قرضے، بالخصوص بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی مالی معاونت، اور وقتاً فوقتاً دوست ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی مدد۔</p>
<p>یہ ماڈل تقریباً 25 کروڑ آبادی والے ملک کے لیے کسی طور بھی پائیدار نہیں کہا جا سکتا۔</p>
<p>سخت معنوں میں دیکھا جائے تو ترسیلاتِ زر خودبخود سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ نہیں بنتیں۔ یہ نجی رقوم ہوتی ہیں جو بینکاری نظام کے ذریعے خاندانوں کو موصول ہوتی ہیں۔ تاہم یہ رقوم ڈالر کی دستیابی میں اضافہ کرتی ہیں، جاری کھاتے (کرنٹ اکاؤنٹ) کو سہارا دیتی ہیں، روپے پر دباؤ کم کرتی ہیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بینکوں کے درمیان زرمبادلہ کی منڈی سے ڈالر خرید کر سرکاری ذخائر میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>یوں عملی طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، پاکستان کے لیے سب سے بڑے بیرونی مالی استحکام کے ذریعے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہر بڑے معاشی بحران—خواہ وہ سیاسی عدم استحکام ہو، تباہ کن سیلاب، کووڈ-19 کی وبا یا بار بار آئی ایم ایف کے پروگرام—کے دوران بھی اوورسیز پاکستانیوں نے وطن رقوم بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس سے ایک طرف لاکھوں خاندانوں کو سہارا ملا اور دوسری جانب بالواسطہ طور پر ملک کے بیرونی مالیاتی استحکام کو بھی تقویت ملی۔</p>
<p>تاہم کوئی بھی سنجیدہ معاشی حکمتِ عملی غیر معینہ مدت تک اپنی سمندر پار آبادی کی فیاضی پر انحصار نہیں کر سکتی۔</p>
<p>پہلا خدشہ حد سے زیادہ انحصار (کنسنٹریشن رسک) کا ہے۔ پاکستان کی تقریباً دو تہائی ترسیلاتِ زر خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آتی ہیں۔ اس جغرافیائی ارتکاز کے باعث پاکستان ایسے حالات سے متاثر ہو سکتا ہے جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں اپنی انتہائی غیر یقینی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال سے گزر رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، خطے میں جاری عدم استحکام اور توانائی کی عالمی منڈی میں ممکنہ رکاوٹیں خلیجی معیشتوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہیں۔ اگر علاقائی تنازع طویل ہو گیا تو معاشی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مؤخر ہو سکتے ہیں اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اتنی ہی اہم وہ ساختی تبدیلیاں ہیں جو پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب کے وژن 2030 کا مقصد افرادی قوت میں بتدریج مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا ہے۔ اسی نوعیت کے لیبر نیشنلائزیشن پروگرام خلیج کے کئی دیگر ممالک میں بھی جاری ہیں۔ دوسری جانب آٹومیشن، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کم اور نیم ہنر مند غیر ملکی افرادی قوت کی طلب کو بتدریج کم کر رہی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو اب تک خلیجی ممالک میں افرادی قوت کی مضبوط طلب سے فائدہ پہنچا ہے، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ سازگار ماحول ہمیشہ برقرار رہے گا۔</p>
<p>دوسری کمزوری آبادیاتی نوعیت کی ہے۔ پہلے پاکستانی تارکینِ وطن عموماً بیرونِ ملک ملازمت کو عارضی سمجھتے تھے۔ وہ ایک یا دو دہائیوں تک کام کرنے کے بعد وطن واپس آ جاتے تھے اور اس دوران اپنے خاندانوں سے مضبوط مالی تعلق برقرار رکھتے تھے۔ آج ہجرت کا رجحان بدل چکا ہے۔ ہنر مند پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے خاندانوں سمیت مستقل طور پر بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے، وہاں کی شہریت حاصل کر رہی ہے اور آہستہ آہستہ اپنے نئے معاشروں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ نسل در نسل ترسیلاتِ زر میں کمی آتی جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اب تک ترسیلاتِ زر کو پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان رقوم کا بڑا حصہ بجا طور پر گھریلو اخراجات، صحت، تعلیم اور رہائش پر خرچ ہوتا ہے۔ اگرچہ اس سے معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں نہ برآمدی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی صنعتی پیداوار میں۔ یوں ملک نئے ذرائع سے زرمبادلہ پیدا کرنے کے بجائے موجودہ زرمبادلہ ہی استعمال کرتا چلا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس مشرقی ایشیا کی معیشتوں کو دیکھیے، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا بنیادی ذریعہ برآمدات میں مسابقت، صنعتی پیداوار اور غیر ملکی سرمایہ کاری بنے۔ وہاں ترسیلاتِ زر صرف ایک اضافی ذریعہ ہیں، اصل سہارا نہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک مستقل بنیادوں پر اپنے ادائیگیوں کے توازن کی مالی ضروریات بیرونِ ملک مقیم اپنی افرادی قوت کے سپرد نہیں کر سکتا۔ جب تک برآمدات، پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری ترسیلاتِ زر کی جگہ زرمبادلہ کمانے کے بنیادی محرک نہیں بنتیں، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بظاہر جتنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں، حقیقت میں اتنے ہی نازک رہیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288294</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 16:18:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0415554557405a4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0415554557405a4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شدید گرمی کی لہر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288312/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”مجھے اس شہر میں سب سے زیادہ اگر کسی چیز سے نفرت ہے تو وہ یہاں کا موسم ہے۔“چند روز قبل کراچی آنے والے ایک مہمان نے یہ جملہ کہا۔ جڑواں شہروں (اسلام آباد اور راولپنڈی) سے تازہ تازہ پہنچنے والے اس شخص کا یہ ردِعمل کراچی کی ان دنوں کی شدید، مرطوب اور تقریباً ناقابلِ برداشت گرمی کے باعث تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے تو کراچی کا موسم عمومی طور پر گرم اور مرطوب رہتا ہے، تاہم زیادہ تر اوقات میں یہ قابلِ برداشت ہوتا ہے، اور جب سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو، خصوصاً شام کے وقت، موسم خوشگوار بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند ماہ سے صورتحال مختلف ہے۔ شہر ایک بے رحم ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جس نے گرمی کی شدت کو رات گئے تک برقرار رکھا ہے، اور بعض اوقات یہ کیفیت پوری رات قائم رہتی ہے۔ نتیجتاً، یہ موسم اس حد تک اذیت ناک ہو چکا ہے کہ اس عظیم شہر کی فٹ پاتھوں پر سونے والے افراد کے لیے بھی اسے برداشت کرنا دشوار ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گرمی کی لہر کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مئی کے بدترین چار دنوں کے دوران صرف چار روز میں 65 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ہیٹ ویو کے عروج پر ایک ہی دن میں 10 اموات ریکارڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف کراچی ہی نہیں بلکہ سندھ کے دیگر علاقے بھی اس شدید گرمی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ صوبے بھر میں 141 اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے 132 کا تعلق صرف کراچی سے تھا۔ مجموعی طور پر جون کے مہینے میں جب بھی گرمی کی نئی لہر آئی، اس کے ساتھ 6 سے 10 اموات رپورٹ ہوئیں، اور ان میں بھی سب سے زیادہ متاثر کراچی رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی اموات کا اندراج ہی نہیں ہو پاتا، کیونکہ جاں بحق ہونے والوں میں بے گھر افراد یا منشیات کے عادی ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کا کوئی قریبی عزیز موجود نہیں ہوتا جو ان کی میت وصول کرے یا ان کی وفات رجسٹر کرائے۔ اس ہیٹ ویو کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مئی میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو خصوصاً بزرگ افراد کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سال بھی ہم 2024 جیسے موسمِ گرما کی طرف بڑھ رہے ہیں، جب شدید گرمی کے باعث 568 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ خدشہ ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو رواں سال بھی اموات کی تعداد اسی ہولناک سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ گزشتہ سال کے تلخ تجربات سے سبق سیکھا گیا ہوگا اور اس بار ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو اس سانحے کو دہرانے سے روک سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ جب چاروں طرف جھلسا دینے والی گرمی ہو تو کیا کیا جائے؟ اس حوالے سے ماہر ڈاکٹروں سے لے کر خاندان کے بزرگوں تک سب کی ایک ہی نصیحت ہے: جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ تاہم اس پر عمل درآمد ہر شخص کے لیے یکساں آسان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ اپنی ذاتی گاڑی استعمال کرتے ہیں تو پانی کی بوتل ساتھ رکھنا ممکن ہے، لیکن جو لوگ کھچا کھچ بھری بسوں میں سفر کرتے ہیں، جہاں ایک ہاتھ سے خود کو سنبھالنا بھی مشکل ہو، ان کے لیے پانی کی بوتل ساتھ رکھنا آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں نسبتاً بہتر حل یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں فلاحی اداروں کی جانب سے لگائے گئے سبیلوں اور پانی کے اسٹالز سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس سال محرم الحرام کے باعث شہر بھر میں پانی اور مشروبات کی سبیلیں قائم کی گئیں، جنہوں نے بلاشبہ بے شمار افراد کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد فلاحی تنظیموں نے بھی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائیں، جس سے اس شدید گرمی کی زد میں آنے والے شہریوں کو خاصی سہولت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑک کنارے مشروبات فروخت کرنے والے دکاندار بھی جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اب ان میں سے اکثر صرف ٹھنڈا پانی ہی نہیں بلکہ او آر ایس (او آر ایس) کے ساشے بھی رعایتی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ یہی نہیں، پان کی دکانوں پر بھی اب او آر ایس آسانی سے دستیاب ہے، کیونکہ دکاندار اس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی تو کسی نہ کسی طرح اس ہیٹ ویو کا مقابلہ کر لے گا، لیکن اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ایسے موسمی مظاہر کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہمیں ہیٹ ویوز کا سامنا ہے، مگر بعید نہیں کہ مستقبل میں سمندری طوفان جیسے دیگر قدرتی آفات بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے دروازے پر دستک دیں، جن سے تنہا نمٹنا ہمارے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان متعدد بین الاقوامی فورمز پر یہ موقف پیش کرتا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی قیمت وہ ادا کر رہا ہے، حالانکہ اس بحران کے پیدا ہونے میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری اس موقف کو سنجیدگی سے لے گی اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے پاکستان کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>”مجھے اس شہر میں سب سے زیادہ اگر کسی چیز سے نفرت ہے تو وہ یہاں کا موسم ہے۔“چند روز قبل کراچی آنے والے ایک مہمان نے یہ جملہ کہا۔ جڑواں شہروں (اسلام آباد اور راولپنڈی) سے تازہ تازہ پہنچنے والے اس شخص کا یہ ردِعمل کراچی کی ان دنوں کی شدید، مرطوب اور تقریباً ناقابلِ برداشت گرمی کے باعث تھا۔</strong></p>
<p>ویسے تو کراچی کا موسم عمومی طور پر گرم اور مرطوب رہتا ہے، تاہم زیادہ تر اوقات میں یہ قابلِ برداشت ہوتا ہے، اور جب سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو، خصوصاً شام کے وقت، موسم خوشگوار بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند ماہ سے صورتحال مختلف ہے۔ شہر ایک بے رحم ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جس نے گرمی کی شدت کو رات گئے تک برقرار رکھا ہے، اور بعض اوقات یہ کیفیت پوری رات قائم رہتی ہے۔ نتیجتاً، یہ موسم اس حد تک اذیت ناک ہو چکا ہے کہ اس عظیم شہر کی فٹ پاتھوں پر سونے والے افراد کے لیے بھی اسے برداشت کرنا دشوار ہو گیا ہے۔</p>
<p>اس گرمی کی لہر کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مئی کے بدترین چار دنوں کے دوران صرف چار روز میں 65 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ہیٹ ویو کے عروج پر ایک ہی دن میں 10 اموات ریکارڈ کی گئیں۔</p>
<p>صرف کراچی ہی نہیں بلکہ سندھ کے دیگر علاقے بھی اس شدید گرمی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ صوبے بھر میں 141 اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے 132 کا تعلق صرف کراچی سے تھا۔ مجموعی طور پر جون کے مہینے میں جب بھی گرمی کی نئی لہر آئی، اس کے ساتھ 6 سے 10 اموات رپورٹ ہوئیں، اور ان میں بھی سب سے زیادہ متاثر کراچی رہا۔</p>
<p>کئی اموات کا اندراج ہی نہیں ہو پاتا، کیونکہ جاں بحق ہونے والوں میں بے گھر افراد یا منشیات کے عادی ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کا کوئی قریبی عزیز موجود نہیں ہوتا جو ان کی میت وصول کرے یا ان کی وفات رجسٹر کرائے۔ اس ہیٹ ویو کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مئی میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو خصوصاً بزرگ افراد کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔</p>
<p>ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سال بھی ہم 2024 جیسے موسمِ گرما کی طرف بڑھ رہے ہیں، جب شدید گرمی کے باعث 568 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ خدشہ ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو رواں سال بھی اموات کی تعداد اسی ہولناک سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ گزشتہ سال کے تلخ تجربات سے سبق سیکھا گیا ہوگا اور اس بار ایسے اقدامات کیے جائیں گے جو اس سانحے کو دہرانے سے روک سکیں۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ جب چاروں طرف جھلسا دینے والی گرمی ہو تو کیا کیا جائے؟ اس حوالے سے ماہر ڈاکٹروں سے لے کر خاندان کے بزرگوں تک سب کی ایک ہی نصیحت ہے: جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ تاہم اس پر عمل درآمد ہر شخص کے لیے یکساں آسان نہیں۔</p>
<p>اگر آپ اپنی ذاتی گاڑی استعمال کرتے ہیں تو پانی کی بوتل ساتھ رکھنا ممکن ہے، لیکن جو لوگ کھچا کھچ بھری بسوں میں سفر کرتے ہیں، جہاں ایک ہاتھ سے خود کو سنبھالنا بھی مشکل ہو، ان کے لیے پانی کی بوتل ساتھ رکھنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p>ایسی صورت میں نسبتاً بہتر حل یہ ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں فلاحی اداروں کی جانب سے لگائے گئے سبیلوں اور پانی کے اسٹالز سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس سال محرم الحرام کے باعث شہر بھر میں پانی اور مشروبات کی سبیلیں قائم کی گئیں، جنہوں نے بلاشبہ بے شمار افراد کو گرمی کی شدت سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>متعدد فلاحی تنظیموں نے بھی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائیں، جس سے اس شدید گرمی کی زد میں آنے والے شہریوں کو خاصی سہولت ملی۔</p>
<p>سڑک کنارے مشروبات فروخت کرنے والے دکاندار بھی جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اب ان میں سے اکثر صرف ٹھنڈا پانی ہی نہیں بلکہ او آر ایس (او آر ایس) کے ساشے بھی رعایتی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ یہی نہیں، پان کی دکانوں پر بھی اب او آر ایس آسانی سے دستیاب ہے، کیونکہ دکاندار اس کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p>کراچی تو کسی نہ کسی طرح اس ہیٹ ویو کا مقابلہ کر لے گا، لیکن اصل تشویش کی بات یہ ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ایسے موسمی مظاہر کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج ہمیں ہیٹ ویوز کا سامنا ہے، مگر بعید نہیں کہ مستقبل میں سمندری طوفان جیسے دیگر قدرتی آفات بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے دروازے پر دستک دیں، جن سے تنہا نمٹنا ہمارے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔</p>
<p>پاکستان متعدد بین الاقوامی فورمز پر یہ موقف پیش کرتا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی قیمت وہ ادا کر رہا ہے، حالانکہ اس بحران کے پیدا ہونے میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری اس موقف کو سنجیدگی سے لے گی اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے پاکستان کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288312</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 23:41:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/0423261827cd59a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/0423261827cd59a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی معیشت کے نظم و نسق چلانے والے ادارے اور بااثر طاقت ور حلقے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288276/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض کی سہولتوں کے لیے عائد کی جانے والی شرائط قرض لینے والے ممالک میں شدید معاشی مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ فنڈ ٹیکس وصولیوں میں اضافے، بلند شرحِ سود اور سرکاری اخراجات میں کمی پر زور دیتا ہے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں عموماً غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ، نیز سرمایہ کاری میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ ان معاشی مشکلات کے ردعمل میں آئی ایم ایف کو عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عصرِ حاضر کے عالمی مالیاتی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اس نظام میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کردار کا تعین ضروری ہے۔ موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کے بنیادی ستون آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ (ایف ایس بی) اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) ہیں۔ ان چار اداروں کو اس ڈھانچے کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایف آئیز)، خودمختار ویلتھ فنڈز (سورین ویلتھ فنڈز) اور بڑے نجی سرمایہ کار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، مشترکہ حصصی کمپنیوں کے حصص یا بانڈز میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے طویل المدتی قرضوں اور لیکویڈیٹی کے انتظام کے لیے قلیل مدتی قرضوں کی صورت میں سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اور بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ، یعنی جی 8 اور جی 20، اس مالیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام میں انہیں قیادت اور سمت متعین کرنے والی قوتیں سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ریٹنگ ایجنسیوں اور مشاورتی و نگرانی کرنے والے اداروں، جن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بھی شامل ہے، کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ قرض فراہم کرنے والے ادارے اور انفرادی و ادارہ جاتی سرمایہ کار ریٹنگ ایجنسیوں اور مشاورتی اداروں کے جائزوں کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ یہی بااثر اشرافیہ، اثر و رسوخ رکھنے والے گروہ اور فیصلہ کن ادارے ایک ملک سے دوسرے ملک تک سرمایہ کے بہاؤ کا رخ متعین کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رسد پر مبنی معاشی پالیسیوں (سپلائی سائیڈ پالیسیز) پر استوار ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت بنیادی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی، مسابقتی صلاحیت میں اضافہ، وسائل کا مؤثر استعمال، استعداد کار میں بہتری، عالمگیریت، آزاد تجارت، کاروبار میں جدت اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو جیسے اصولوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسد پر مبنی پالیسیاں معیشت کی ممکنہ پیداواری صلاحیت (پوٹینشل آؤٹ پٹ) میں اضافے کی حمایت کرتی ہیں، تاہم آئی ایم ایف کی پالیسیاں اور سفارشات ممکنہ معاشی شرحِ نمو کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔ اس کے برعکس، فنڈ طلب کے انتظام (ڈیمانڈ مینجمنٹ) کی پالیسیوں پر زور دیتا ہے، جن میں زیادہ تر سفارشات شرحِ مبادلہ کے نظام، شرحِ سود میں ردوبدل، ٹیکس وصولیوں میں اضافے، اور سبسڈیز و انتقالی ادائیگیوں (ٹرانسفر پیمنٹس) یعنی پنشن اورسماجی امداد میں کمی سے متعلق ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (یعنی اشیا اور خدمات کی درآمدات، اور بیرونی قرضوں پر غیر ملکی کرنسی میں سود کی ادائیگی) کے انتظام کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کیا جانے والا قرض مختصر مدتی بیرونی مالی وسائل کے اہم ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قرض یا کریڈٹ سہولت عالمی مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آئی ایم ایف اپنے رکن ممالک کو یہ سہولت اس لیے فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں قرض نادہندگی (ڈیفالٹ) سے محفوظ رہیں۔ اس سہولت کا بنیادی مقصد بین الاقوامی معاشی بحرانوں کو دوسرے ممالک تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ ادائیگیوں کے توازن ( بیلنس آف پیمنٹس) میں خسارہ معاشی اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ آئی ایم ایف قرض معاہدوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لیتا ہے، اور اگر یہ کمی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہو تو ان میں تبدیلی کی سفارش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کو ادارے کا اعلیٰ ترین اختیاری فورم حاصل ہے، تاہم عملی طور پر یہ بورڈ اپنے بیشتر اختیارات ایگزیکٹو بورڈ کو منتقل کر دیتا ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ قرض کی شرائط اور پالیسی سفارشات کا حتمی تعین کرتا ہے اور مالیاتی بحران سے دوچار ممالک کے لیے قرضوں کی منظوری دینے کا مجاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے 24 ایگزیکٹو ڈائریکٹرز میں سے امریکہ، جاپان، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس اور سعودی عرب براہِ راست آٹھ ڈائریکٹرز (ہر ملک ایک) نامزد کرتے ہیں، جبکہ باقی 16 ڈائریکٹرز مختلف ممالک پر مشتمل 16 گروپوں (کانسٹیچیونسیز) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بورڈ کے ارکان کے انتخاب اور قرضوں کی منظوری میں ووٹنگ کا اختیار مختلف ممالک کی جانب سے فنڈ میں کیے گئے مالی تعاون کے تناسب سے طے ہوتا ہے۔ ہر ملک کے حصے کا تعین عالمی معیشت میں اس کے معاشی حجم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، چین، روس، بھارت اور برازیل کے پاس مشترکہ طور پر ورلڈ بینک میں 50 فیصد جبکہ آئی ایم ایف میں 47 فیصد ووٹنگ کا اختیار ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ کی صدارت منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرتے ہیں، جو آئی ایم ایف کے عملے کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق آئی ایم ایف کا منیجنگ ڈائریکٹر ہمیشہ یورپ سے جبکہ ورلڈ بینک کا صدر ہمیشہ امریکہ سے منتخب ہوتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات واضح ہے کہ آئی ایم ایف کے مالی وسائل کا بڑا حصہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس فنڈ سے زیادہ تر وہ ترقی پذیر ممالک مستفید ہوتے ہیں جو لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم کریڈٹ سہولتوں کی منظوری میں عالمی سیاسی تعلقات بھی ایک اہم عنصر ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی کریڈٹ سہولتیں براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ خسارے یا حکومت کی کارکردگی سے منسلک نہیں ہوتیں۔ 2024 میں آئی ایم ایف کے 114 ارب ڈالر کے واجب الادا قرضوں میں سے 68 فیصد سے زیادہ صرف 10 ممالک کو فراہم کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) اور ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) بھی اس عالمی مالیاتی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور ملکی وسائل کے مؤثر استعمال اور مسابقتی صلاحیت کے فروغ کے ذریعے آزاد تجارت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے رسد پر مبنی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او ٹیرف میں کمی یا ان کے خاتمے اور غیر ٹیرف تجارتی رکاوٹوں (نان ٹیرف میژرز/این ٹی ایمز) کو ختم کرنے کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسد پر مبنی معاشی فلسفے کے مطابق اس حکمتِ عملی سے صارفین کو معیاری مصنوعات مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ اس کا مقصد غیر مسابقتی صنعتوں کے تحفظ کے لیے حکومت کی غیر ضروری مداخلت کے ذریعے صارفین کے استحصال کا خاتمہ کرنا ہے۔ البتہ غیر ملکی صنعتوں کی ڈمپنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریگولیٹری اور اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عارضی طور پر عائد کرنے، اور ملکی صنعتوں کو اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے محدود مدت تک تحفظ فراہم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، انتظامی بنیادوں پر مقرر کی جانے والی شرحِ مبادلہ، رعایتی قرضے اور ٹیکس میں چھوٹ کو آزاد تجارت کے منافی پالیسیاں تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کو عالمی حکمرانی کی قوتوں اور معاشی اشرافیہ کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کی بنیاد یورپی کمیشن اور یورپی صنعتی ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں یورپی کاروباری رہنماؤں کے ایک گروپ نے رکھی تھی۔ یہ سوئس حکومت کی نگرانی میں کام کرتا ہے، تاہم اس کی رکنیت ان کمپنیوں پر مشتمل ہے جو عالمی معیشت کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس فورم کی رکن کمپنی عموماً ایک ایسی عالمی کاروباری کمپنی ہوتی ہے جس کا سالانہ کاروبار پانچ ارب ڈالر سے زیادہ ہو اور جو اپنے شعبے یا ملک کی صفِ اول کی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہو۔ فورم نے سنٹر فار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس بھی قائم کیا ہے، جو کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور حکومتی حلقوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی 20 بین الاقوامی مالیاتی اصلاحات کا منصوبہ، واٹر انیشی ایٹو، عرب بزنس کونسل، بدعنوانی کے خلاف شراکت داری کے لیے صنعتی اقدامات، گلوبل کمپیٹیٹو نیس نیٹ ورک، گلوبل رسک نیٹ ورک، اسٹریٹجک فارسائٹ پروگرام اور مختلف علاقائی منصوبے اسی فورم کے تحت چلنے والے اقدامات ہیں، جو عالمی نظام کی تشکیلِ نو میں اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی کارپوریشنز (ٹرانس نیشنل کارپوریشنز) اور عالمی تجارتی تنظیمیں بھی عالمی مالیاتی ڈھانچے، معاشی پالیسیوں اور سیاسی رجحانات کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تجارتی تنظیمیں کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں اور مختلف صنعتی شعبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتی ہیں۔ قومی معیشت اور ترقی کے ڈھانچے کی تشکیل میں ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) کی طاقت اور کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، تاہم چیمبرز آف کامرس کے کردار اور طریقۂ کار پر عوامی سطح پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ عالمی معیشت اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں کی تشکیلِ نو میں ان تنظیموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی پالیسی سازی میں تجارتی تنظیموں کے کردار اور اثر و رسوخ پر متعدد ممتاز بین الاقوامی ماہرین اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ مغربی ممالک کے بعض معروف ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ دنیا کی تشکیلِ نو میں چیمبرز آف کامرس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کئی ممالک میں چیمبرز آف کامرس پارلیمان کے ایوانِ بالا یا سینیٹ کے ارکان کے انتخابی ادارے (الیکٹورل کالج) کے طور پر بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں سینیٹ کے ارکان کی نامزدگی بھی انہی چیمبرز کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ قومی چیمبرز آف کامرس ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے قیام، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بین الاقوامی کمپنیوں کے انضمام اور حصول (مرجرز اینڈ ایکویزیشنز)، غیر ملکی کمپنیوں کے بورڈز اور اعلیٰ انتظامیہ میں شمولیت، تجارت کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ جمع کرنے کی سرگرمیوں کے آغاز میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبرز آف کامرس کے حقیقی اثر و رسوخ کو سمجھنے کے لیے صرف تجارت ہی نہیں بلکہ تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، صحت، مواصلات، محنت کشوں کے امور اور حکومت پر ان کے اثرات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ چیمبرز کی قیادت کے حق میں دو نعرے خاص طور پر مقبول ہوئے: ”عالمی تجارت کے ذریعے عالمی امن“ اور ”حکومت میں کاروباری سوچ زیادہ، اور کاروبار میں حکومتی مداخلت کم“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سمجھنے کے لیے کہ چیمبرز آف کامرس سیاسی رجحانات اور عالمی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ الگ تھلگ اداروں کے طور پر کام نہیں کرتے بلکہ مقامی، قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے سے مربوط نیٹ ورک کی صورت میں منظم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، ماحولیاتی مسائل، عدم تحفظ اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کو انسانی بے چینی اور جنگوں کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان سماجی و معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ (یواین او) نے متعدد ذیلی اور وابستہ ادارے قائم کیے، جن میں اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (یواین سی ٹی اے ڈی)، اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (یواین آئی ڈی او)، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی)، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او)، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او)، اقوام متحدہ کا ادارۂ اطفال (یواین آئی سی ای ایف/یونیسیف)، اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او)، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (یواین ای ایس سی او/یونیسکو)، ورلڈ بینک اور دیگر کثیرالجہتی ادارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے نظام میں اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی اوایس اوسی) اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کو اہم ترین مشاورتی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کو عالمی معاشی پالیسیوں اور سیاسی رجحانات کے تعین میں ایک مؤثر اور بااثر ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں شہرت رکھنے والی کتاب ’’مرچنٹس آف پیس: دی ہسٹری آف دی انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس‘‘ کے مصنف جارج رج وے نے اقوام متحدہ، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اور امریکی چیمبر آف کامرس کے باہمی تعلقات کی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق: ”انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کی کوششوں کے نتیجے میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اقوام متحدہ کے نظام کا ایک اہم ترین مشاورتی ادارہ بن گیا۔ بڑی فلاحی تنظیموں، خصوصاً کارنیگی فاؤنڈیشن فار انٹرنیشنل پیس اور راک فیلر فاؤنڈیشن، بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں، بین الاقوامی کارپوریشنز، بالخصوص آئی بی ایم، ممتاز جامعات، خصوصاً ہارورڈ اور کولمبیا، نیز معروف ماہرینِ معاشیات اور عمرانیات نے اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے ساتھ چیمبر کے اشتراک کی حمایت کی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رج وے کے مطابق، آج تقریباً تمام قومی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کسی نہ کسی صورت میں، براہِ راست یا بالواسطہ، ای سی او ایس او سی سے منسلک ہیں، خواہ یہ وابستگی شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ اس طرح انہیں انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس سے رہنمائی ملتی ہے، جسے اقوام متحدہ میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ رج وے کا کہنا ہے کہ مقامی اور قومی چیمبرز کے بیشتر عہدیدار خود بھی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے وسیع دائرۂ اختیار اور مقامی چیمبرز و تجارتی انجمنوں کے ساتھ تنظیمی روابط کی بدولت، قومی چیمبرز آف کامرس اپنے ممالک کے کاروباری شعبے کی علاقائی اور بین الاقوامی چیمبرز میں نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس سے وابستہ ہوتے ہیں اور کم و بیش تمام قومی چیمبرز بین الاقوامی معاشی پالیسیوں سے متعلق مکالموں میں شریک ہوتے ہیں۔ امریکی چیمبر آف کامرس کی طرح قومی اور علاقائی چیمبرز بھی عالمی سطح پر مربوط معیشت میں پالیسی سازی اور معاشی نظم و نسق میں کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مقامی چیمبرز کی نمائندگی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم قومی اور علاقائی چیمبرز کا کردار اس سے مختلف اور تنظیمی درجہ بندی میں کہیں زیادہ بلند ہوتا ہے۔ تمام قومی چیمبرز مخصوص تکنیکی مہارت رکھنے والی مستقل اور عارضی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہیں، جن کا مقصد عوامی پالیسیوں کی حمایت اور ان پر اثرانداز ہونا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی چیمبر آف کامرس اقوام متحدہ سے بھی قدیم ادارہ ہے اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے قیام کو فروغ دینے والوں میں شامل رہا ہے۔ چیمبر اپنے کردار کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ”انفرادی آزادی، ترغیب، پہل کاری، مواقع اور ذمہ داری پر مبنی معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کے ذریعے انسانی ترقی کو آگے بڑھانا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر کا کردار اور اس کا طریقۂ کار اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ سماجی، سیاسی اور معاشی رجحانات کے تعین میں کس قدر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ چیمبر کے عملے میں پالیسی ماہرین، لابنگ کے ماہرین اور وکلا شامل ہوتے ہیں، جبکہ امریکہ میں یہ کسی بھی دوسری لابنگ تنظیم کے مقابلے میں سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے اداروں میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے قرض کی سہولتوں کے لیے عائد کی جانے والی شرائط قرض لینے والے ممالک میں شدید معاشی مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ فنڈ ٹیکس وصولیوں میں اضافے، بلند شرحِ سود اور سرکاری اخراجات میں کمی پر زور دیتا ہے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں عموماً غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ، نیز سرمایہ کاری میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ ان معاشی مشکلات کے ردعمل میں آئی ایم ایف کو عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</strong></p>
<p>عصرِ حاضر کے عالمی مالیاتی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے اس نظام میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے کردار کا تعین ضروری ہے۔ موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچے کے بنیادی ستون آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، فنانشل اسٹیبلٹی بورڈ (ایف ایس بی) اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) ہیں۔ ان چار اداروں کو اس ڈھانچے کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایف آئیز)، خودمختار ویلتھ فنڈز (سورین ویلتھ فنڈز) اور بڑے نجی سرمایہ کار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، مشترکہ حصصی کمپنیوں کے حصص یا بانڈز میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے طویل المدتی قرضوں اور لیکویڈیٹی کے انتظام کے لیے قلیل مدتی قرضوں کی صورت میں سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اور بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ، یعنی جی 8 اور جی 20، اس مالیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عالمی مالیاتی نظام میں انہیں قیادت اور سمت متعین کرنے والی قوتیں سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ریٹنگ ایجنسیوں اور مشاورتی و نگرانی کرنے والے اداروں، جن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بھی شامل ہے، کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ قرض فراہم کرنے والے ادارے اور انفرادی و ادارہ جاتی سرمایہ کار ریٹنگ ایجنسیوں اور مشاورتی اداروں کے جائزوں کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ یہی بااثر اشرافیہ، اثر و رسوخ رکھنے والے گروہ اور فیصلہ کن ادارے ایک ملک سے دوسرے ملک تک سرمایہ کے بہاؤ کا رخ متعین کرتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رسد پر مبنی معاشی پالیسیوں (سپلائی سائیڈ پالیسیز) پر استوار ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت بنیادی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی، مسابقتی صلاحیت میں اضافہ، وسائل کا مؤثر استعمال، استعداد کار میں بہتری، عالمگیریت، آزاد تجارت، کاروبار میں جدت اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو جیسے اصولوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔</p>
<p>رسد پر مبنی پالیسیاں معیشت کی ممکنہ پیداواری صلاحیت (پوٹینشل آؤٹ پٹ) میں اضافے کی حمایت کرتی ہیں، تاہم آئی ایم ایف کی پالیسیاں اور سفارشات ممکنہ معاشی شرحِ نمو کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔ اس کے برعکس، فنڈ طلب کے انتظام (ڈیمانڈ مینجمنٹ) کی پالیسیوں پر زور دیتا ہے، جن میں زیادہ تر سفارشات شرحِ مبادلہ کے نظام، شرحِ سود میں ردوبدل، ٹیکس وصولیوں میں اضافے، اور سبسڈیز و انتقالی ادائیگیوں (ٹرانسفر پیمنٹس) یعنی پنشن اورسماجی امداد میں کمی سے متعلق ہوتی ہیں۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (یعنی اشیا اور خدمات کی درآمدات، اور بیرونی قرضوں پر غیر ملکی کرنسی میں سود کی ادائیگی) کے انتظام کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حاصل کیا جانے والا قرض مختصر مدتی بیرونی مالی وسائل کے اہم ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قرض یا کریڈٹ سہولت عالمی مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آئی ایم ایف اپنے رکن ممالک کو یہ سہولت اس لیے فراہم کرتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں قرض نادہندگی (ڈیفالٹ) سے محفوظ رہیں۔ اس سہولت کا بنیادی مقصد بین الاقوامی معاشی بحرانوں کو دوسرے ممالک تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ ادائیگیوں کے توازن ( بیلنس آف پیمنٹس) میں خسارہ معاشی اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ آئی ایم ایف قرض معاہدوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لیتا ہے، اور اگر یہ کمی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہو تو ان میں تبدیلی کی سفارش کرتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کو ادارے کا اعلیٰ ترین اختیاری فورم حاصل ہے، تاہم عملی طور پر یہ بورڈ اپنے بیشتر اختیارات ایگزیکٹو بورڈ کو منتقل کر دیتا ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ قرض کی شرائط اور پالیسی سفارشات کا حتمی تعین کرتا ہے اور مالیاتی بحران سے دوچار ممالک کے لیے قرضوں کی منظوری دینے کا مجاز ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے 24 ایگزیکٹو ڈائریکٹرز میں سے امریکہ، جاپان، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس اور سعودی عرب براہِ راست آٹھ ڈائریکٹرز (ہر ملک ایک) نامزد کرتے ہیں، جبکہ باقی 16 ڈائریکٹرز مختلف ممالک پر مشتمل 16 گروپوں (کانسٹیچیونسیز) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بورڈ کے ارکان کے انتخاب اور قرضوں کی منظوری میں ووٹنگ کا اختیار مختلف ممالک کی جانب سے فنڈ میں کیے گئے مالی تعاون کے تناسب سے طے ہوتا ہے۔ ہر ملک کے حصے کا تعین عالمی معیشت میں اس کے معاشی حجم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، چین، روس، بھارت اور برازیل کے پاس مشترکہ طور پر ورلڈ بینک میں 50 فیصد جبکہ آئی ایم ایف میں 47 فیصد ووٹنگ کا اختیار ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ کی صدارت منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرتے ہیں، جو آئی ایم ایف کے عملے کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق آئی ایم ایف کا منیجنگ ڈائریکٹر ہمیشہ یورپ سے جبکہ ورلڈ بینک کا صدر ہمیشہ امریکہ سے منتخب ہوتا آیا ہے۔</p>
<p>یہ بات واضح ہے کہ آئی ایم ایف کے مالی وسائل کا بڑا حصہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس فنڈ سے زیادہ تر وہ ترقی پذیر ممالک مستفید ہوتے ہیں جو لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم کریڈٹ سہولتوں کی منظوری میں عالمی سیاسی تعلقات بھی ایک اہم عنصر ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے قرضوں کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی کریڈٹ سہولتیں براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ خسارے یا حکومت کی کارکردگی سے منسلک نہیں ہوتیں۔ 2024 میں آئی ایم ایف کے 114 ارب ڈالر کے واجب الادا قرضوں میں سے 68 فیصد سے زیادہ صرف 10 ممالک کو فراہم کیے گئے تھے۔</p>
<p>ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) اور ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) بھی اس عالمی مالیاتی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور ملکی وسائل کے مؤثر استعمال اور مسابقتی صلاحیت کے فروغ کے ذریعے آزاد تجارت کے نظام کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے رسد پر مبنی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ڈبلیو ٹی او ٹیرف میں کمی یا ان کے خاتمے اور غیر ٹیرف تجارتی رکاوٹوں (نان ٹیرف میژرز/این ٹی ایمز) کو ختم کرنے کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی قرار دیتا ہے۔</p>
<p>رسد پر مبنی معاشی فلسفے کے مطابق اس حکمتِ عملی سے صارفین کو معیاری مصنوعات مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔ اس کا مقصد غیر مسابقتی صنعتوں کے تحفظ کے لیے حکومت کی غیر ضروری مداخلت کے ذریعے صارفین کے استحصال کا خاتمہ کرنا ہے۔ البتہ غیر ملکی صنعتوں کی ڈمپنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریگولیٹری اور اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عارضی طور پر عائد کرنے، اور ملکی صنعتوں کو اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے محدود مدت تک تحفظ فراہم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، انتظامی بنیادوں پر مقرر کی جانے والی شرحِ مبادلہ، رعایتی قرضے اور ٹیکس میں چھوٹ کو آزاد تجارت کے منافی پالیسیاں تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کو عالمی حکمرانی کی قوتوں اور معاشی اشرافیہ کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کی بنیاد یورپی کمیشن اور یورپی صنعتی ایسوسی ایشن کی سرپرستی میں یورپی کاروباری رہنماؤں کے ایک گروپ نے رکھی تھی۔ یہ سوئس حکومت کی نگرانی میں کام کرتا ہے، تاہم اس کی رکنیت ان کمپنیوں پر مشتمل ہے جو عالمی معیشت کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس فورم کی رکن کمپنی عموماً ایک ایسی عالمی کاروباری کمپنی ہوتی ہے جس کا سالانہ کاروبار پانچ ارب ڈالر سے زیادہ ہو اور جو اپنے شعبے یا ملک کی صفِ اول کی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہو۔ فورم نے سنٹر فار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس بھی قائم کیا ہے، جو کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور حکومتی حلقوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیتا ہے۔</p>
<p>جی 20 بین الاقوامی مالیاتی اصلاحات کا منصوبہ، واٹر انیشی ایٹو، عرب بزنس کونسل، بدعنوانی کے خلاف شراکت داری کے لیے صنعتی اقدامات، گلوبل کمپیٹیٹو نیس نیٹ ورک، گلوبل رسک نیٹ ورک، اسٹریٹجک فارسائٹ پروگرام اور مختلف علاقائی منصوبے اسی فورم کے تحت چلنے والے اقدامات ہیں، جو عالمی نظام کی تشکیلِ نو میں اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی کارپوریشنز (ٹرانس نیشنل کارپوریشنز) اور عالمی تجارتی تنظیمیں بھی عالمی مالیاتی ڈھانچے، معاشی پالیسیوں اور سیاسی رجحانات کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تجارتی تنظیمیں کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں اور مختلف صنعتی شعبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتی ہیں۔ قومی معیشت اور ترقی کے ڈھانچے کی تشکیل میں ملٹی نیشنل کمپنیوں (ایم این سیز) کی طاقت اور کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، تاہم چیمبرز آف کامرس کے کردار اور طریقۂ کار پر عوامی سطح پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ عالمی معیشت اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں کی تشکیلِ نو میں ان تنظیموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>عالمی پالیسی سازی میں تجارتی تنظیموں کے کردار اور اثر و رسوخ پر متعدد ممتاز بین الاقوامی ماہرین اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ مغربی ممالک کے بعض معروف ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ دنیا کی تشکیلِ نو میں چیمبرز آف کامرس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کئی ممالک میں چیمبرز آف کامرس پارلیمان کے ایوانِ بالا یا سینیٹ کے ارکان کے انتخابی ادارے (الیکٹورل کالج) کے طور پر بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں سینیٹ کے ارکان کی نامزدگی بھی انہی چیمبرز کے ذریعے کی جاتی رہی ہے۔ قومی چیمبرز آف کامرس ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے قیام، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، بین الاقوامی کمپنیوں کے انضمام اور حصول (مرجرز اینڈ ایکویزیشنز)، غیر ملکی کمپنیوں کے بورڈز اور اعلیٰ انتظامیہ میں شمولیت، تجارت کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ جمع کرنے کی سرگرمیوں کے آغاز میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>چیمبرز آف کامرس کے حقیقی اثر و رسوخ کو سمجھنے کے لیے صرف تجارت ہی نہیں بلکہ تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، صحت، مواصلات، محنت کشوں کے امور اور حکومت پر ان کے اثرات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ چیمبرز کی قیادت کے حق میں دو نعرے خاص طور پر مقبول ہوئے: ”عالمی تجارت کے ذریعے عالمی امن“ اور ”حکومت میں کاروباری سوچ زیادہ، اور کاروبار میں حکومتی مداخلت کم“۔</p>
<p>یہ سمجھنے کے لیے کہ چیمبرز آف کامرس سیاسی رجحانات اور عالمی معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ الگ تھلگ اداروں کے طور پر کام نہیں کرتے بلکہ مقامی، قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے سے مربوط نیٹ ورک کی صورت میں منظم ہوتے ہیں۔</p>
<p>غربت، بے روزگاری، ناخواندگی، ماحولیاتی مسائل، عدم تحفظ اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کو انسانی بے چینی اور جنگوں کی بنیادی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان سماجی و معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ (یواین او) نے متعدد ذیلی اور وابستہ ادارے قائم کیے، جن میں اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (یواین سی ٹی اے ڈی)، اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم (یواین آئی ڈی او)، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی)، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او)، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او)، اقوام متحدہ کا ادارۂ اطفال (یواین آئی سی ای ایف/یونیسیف)، اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او)، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (یواین ای ایس سی او/یونیسکو)، ورلڈ بینک اور دیگر کثیرالجہتی ادارے شامل ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے نظام میں اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی اوایس اوسی) اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کو اہم ترین مشاورتی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کو عالمی معاشی پالیسیوں اور سیاسی رجحانات کے تعین میں ایک مؤثر اور بااثر ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں شہرت رکھنے والی کتاب ’’مرچنٹس آف پیس: دی ہسٹری آف دی انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس‘‘ کے مصنف جارج رج وے نے اقوام متحدہ، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اور امریکی چیمبر آف کامرس کے باہمی تعلقات کی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق: ”انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کی کوششوں کے نتیجے میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوام متحدہ وجود میں آئی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس اقوام متحدہ کے نظام کا ایک اہم ترین مشاورتی ادارہ بن گیا۔ بڑی فلاحی تنظیموں، خصوصاً کارنیگی فاؤنڈیشن فار انٹرنیشنل پیس اور راک فیلر فاؤنڈیشن، بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں، بین الاقوامی کارپوریشنز، بالخصوص آئی بی ایم، ممتاز جامعات، خصوصاً ہارورڈ اور کولمبیا، نیز معروف ماہرینِ معاشیات اور عمرانیات نے اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے ساتھ چیمبر کے اشتراک کی حمایت کی۔“</p>
<p>رج وے کے مطابق، آج تقریباً تمام قومی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کسی نہ کسی صورت میں، براہِ راست یا بالواسطہ، ای سی او ایس او سی سے منسلک ہیں، خواہ یہ وابستگی شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ اس طرح انہیں انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس سے رہنمائی ملتی ہے، جسے اقوام متحدہ میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ رج وے کا کہنا ہے کہ مقامی اور قومی چیمبرز کے بیشتر عہدیدار خود بھی اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے۔</p>
<p>اپنے وسیع دائرۂ اختیار اور مقامی چیمبرز و تجارتی انجمنوں کے ساتھ تنظیمی روابط کی بدولت، قومی چیمبرز آف کامرس اپنے ممالک کے کاروباری شعبے کی علاقائی اور بین الاقوامی چیمبرز میں نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس سے وابستہ ہوتے ہیں اور کم و بیش تمام قومی چیمبرز بین الاقوامی معاشی پالیسیوں سے متعلق مکالموں میں شریک ہوتے ہیں۔ امریکی چیمبر آف کامرس کی طرح قومی اور علاقائی چیمبرز بھی عالمی سطح پر مربوط معیشت میں پالیسی سازی اور معاشی نظم و نسق میں کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ مقامی چیمبرز کی نمائندگی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم قومی اور علاقائی چیمبرز کا کردار اس سے مختلف اور تنظیمی درجہ بندی میں کہیں زیادہ بلند ہوتا ہے۔ تمام قومی چیمبرز مخصوص تکنیکی مہارت رکھنے والی مستقل اور عارضی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہیں، جن کا مقصد عوامی پالیسیوں کی حمایت اور ان پر اثرانداز ہونا ہوتا ہے۔</p>
<p>امریکی چیمبر آف کامرس اقوام متحدہ سے بھی قدیم ادارہ ہے اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے قیام کو فروغ دینے والوں میں شامل رہا ہے۔ چیمبر اپنے کردار کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ”انفرادی آزادی، ترغیب، پہل کاری، مواقع اور ذمہ داری پر مبنی معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کے ذریعے انسانی ترقی کو آگے بڑھانا۔“</p>
<p>چیمبر کا کردار اور اس کا طریقۂ کار اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ سماجی، سیاسی اور معاشی رجحانات کے تعین میں کس قدر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ چیمبر کے عملے میں پالیسی ماہرین، لابنگ کے ماہرین اور وکلا شامل ہوتے ہیں، جبکہ امریکہ میں یہ کسی بھی دوسری لابنگ تنظیم کے مقابلے میں سب سے زیادہ اخراجات کرنے والے اداروں میں شمار ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288276</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 22:31:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر ایوب مہر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/032153266457352.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/032153266457352.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں بیان کرتا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288266/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں سناتا ہے۔ ایک کہانی قانونی زبان میں لکھی جاتی ہے، جس میں نئے سیکشنز، متبادل شقیں اور ترمیم شدہ شیڈول شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کہانی خاموشی میں رقم ہوتی ہے، ان مباحث کے ذریعے جو کبھی ہوئے ہی نہیں، ان سوالات کے ذریعے جو کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے، اور ان آئینی ذمہ داریوں کے ذریعے جو کبھی ادا ہی نہیں کی گئیں۔ فنانس ایکٹ 2026 کا تعلق غالباً اسی دوسری قسم سے ہے۔ یہ محض ٹیکس عائد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ پارلیمان کی جانب سے اپنی بنیادی ترین آئینی ذمہ داریوں میں سے ایک سے مسلسل پسپائی کی داستان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 برس قبل، جب ہم نے انہی صفحات میں فنانس ایکٹ 2012 کا جائزہ لیتے ہوئے ”فنانس ایکٹ 2012: پارلیمان کہاں ہے؟“ (بزنس ریکارڈر، 29 جون 2012) کے عنوان سے لکھا تھا، تو یہ نشاندہی کی تھی کہ قومی اسمبلی عملاً محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ فنانس بل عجلت میں منظور کیا گیا، اہم ترامیم آخری لمحوں میں شامل کی گئیں، ٹیکسوں سے متعلق تقریباً کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اور آئین کے آرٹیکل 73 اور 82 کے تحت پارلیمان کے لیے وضع کردہ آئینی طریقۂ کار محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جا رہی تھی کہ کئی برس کی آمرانہ مداخلت کے بعد بحال ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگی۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ اگر فنانس ایکٹ 2026 کسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اس کے کنٹرول کے مسلسل زوال کی ہے، جو اب پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ فنانس بل کوئی معمولی قانون سازی نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ دولت کس طرح جمع کی جائے گی، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، اور آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں پر کس نوعیت اور کس حد تک مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ ہر آئینی جمہوریت میں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نمائندہ حکومت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ان لوگوں کی رضامندی سے ناگزیر طور پر وابستہ ہے جن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصول صدیوں قبل من مانی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور بعد ازاں پوری جمہوری دنیا میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی آئینی بنیاد بن گیا۔ پاکستان کا آئین بھی اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مالیاتی اقدامات کو قانون کی شکل دینے سے قبل ان کا جائزہ لینے، ان پر بحث کرنے اور انہیں منظور کرنے کی ذمہ داری پارلیمان کو سونپی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کا عمل بالکل الٹی سمت اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ تقاریر محض سیاسی تماشہ بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ اصل فنانس بل کو ایک انتظامی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے تقریباً مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام تیار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کے قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمان کے ارکان شاذ و نادر ہی بل کی انفرادی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ عوام کو عموماً یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جن قانون سازوں نے آخرکار اس قانون کے حق میں ووٹ دیا، ان میں سے کتنے نے واقعی اس مسودۂ قانون کا مطالعہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2026 کے گرد رونما ہونے والے واقعات اس ادارہ جاتی ناکامی کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا، مختلف متعلقہ فریقوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور سرکاری حکام کا مؤقف سنا، اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم ترامیم اس وقت قانون کا حصہ بن گئیں جب سینیٹ اپنا آئینی مشاورتی کردار مکمل کر چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دفعات سینیٹ کے جائزے سے باہر رہیں، کیونکہ جب بل اس کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھیں۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی نے نظرثانی شدہ بل کو جلد بازی میں منظور کر لیا، بغیر اس پر کوئی بامعنی نئی بحث کیے۔ اس سے ایک اہم آئینی سوال جنم لیتا ہے، جس پر حیران کن طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اگر سینیٹ کے جائزے کی تکمیل کے بعد بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم شامل کی جا سکتی ہیں تو پھر آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ کے مشاورتی اختیار کی عملی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟ آئینی طریقۂ کار محض رسمی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وضع نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ ان قانونی دفعات پر مؤثر مشورہ نہیں دے سکتی جو کبھی اس کے سامنے پیش ہی نہ کی گئی ہوں۔ سینیٹ کے جائزے کے بعد بل میں نمایاں تبدیلیوں کی اجازت دے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے آئین کی ایک اہم حفاظتی ضمانت کو محض ایک رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ صرف قانون سازی کے طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس، بینکوں، کاروباری اداروں اور دیگر ثالثی اداروں پر عائد ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعمیل کے اضافی تقاضے، رپورٹنگ کی وسیع تر ذمہ داریاں، ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مزید گہرا ڈیجیٹل انضمام، خودکار نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار اور نفاذ کے اختیارات میں توسیع، یہ سب شہریوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمان نے ایک دوسرے، اتنے ہی اہم سوال پر غیر معمولی حد تک کم توجہ دی، اور وہ ہے ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں کا توازن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی نظام میں ٹیکس عائد کرنے کا تصور کبھی بھی صرف شہریوں کی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری پر مبنی نہیں رہا۔ اس کی بنیاد ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں پر استوار ہے۔ شہری اپنے وسائل کا ایک حصہ ریاستی اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بدلے ریاست قانونی یقین دہانی، قانون کے مطابق کارروائی (ڈیو پروسیس)، خفیہ معلومات کے تحفظ، تنازعات کے مؤثر اور بروقت تصفیے، بروقت ریفنڈز اور غیر جانبدارانہ انتظامی نظام کی ضمانت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ٹیکس وصولی باہمی ذمہ داریوں سے عاری ہو جائے تو وہ بتدریج آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے محض انتظامی استحصال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام اسی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اداروں کو ٹیکس حکام کے ساتھ اپنے نظام الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، مگر پاکستان آج بھی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی سے محروم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی اور مالیاتی معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ سرکاری ڈیٹا بیسز میں منتقل کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارلیمان نے ان معلومات کے غلط استعمال، سائبر حملوں یا غیر مجاز افشا کے خلاف مؤثر قانونی تحفظات پہلے سے فراہم نہیں کیے۔ ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کریں جو خود ایک نامکمل قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پارلیمان نے اس تضاد پر بھی بمشکل کوئی بحث کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر روبرو کارروائی (فیس لیس اسیسمنٹ) کو جدید ٹیکس انتظامیہ کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی صوابدیدی اختیارات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن الگورتھمز ایسی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کا ازالہ نہیں کر سکتے جو اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ یہ صرف ٹیکس حکام کو پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی ٹیکس دہندگان کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کا موقع دیتے ہیں، جبکہ نقد معیشت، غیر رسمی لین دین اور پوشیدہ دولت بڑی حد تک ان کی دسترس سے باہر رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ٹیکنالوجی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکمت عملی بننے کے بجائے، قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی زیادہ مؤثر نگرانی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پارلیمان نے اس تبدیلی کو یہ مطالبہ کیے بغیر قبول کر لیا کہ پہلے ان بنیادی ساختی کمزوریوں کے حل کے شواہد پیش کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ کے تقریباً ہر حصے میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ ودہولڈنگ ایجنٹس پر نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کاروباری اداروں پر تعمیل کے مزید اخراجات کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، مالیاتی اداروں کو پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ دستاویزی ٹیکس دہندگان پر ضابطہ جاتی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پارلیمان نے نہ تو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے قانونی تحفظ پر اصرار کیا، نہ خودکار فیصلوں کی آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا، نہ غلط ٹیکس تخمینوں پر جوابدہی کا مؤثر بندوبست کیا، نہ ریفنڈز کی قانونی طور پر قابلِ نفاذ مدت مقرر کی، اور نہ ہی خود ٹیکس انتظامیہ میں بامعنی اصلاحات پر زور دیا۔ ذمہ داریاں تو بڑھتی چلی گئیں، مگر ان کے متناسب حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سب سے بڑا تضاد کہیں اور ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 میں ایسی متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد پہلے سے ٹیکس حکام کی نظر میں موجود افراد کے خلاف نفاذ کے اختیارات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان ایک بار پھر ان کہیں بڑے سوالات سے نظریں چراتی دکھائی دی جو آج بھی پاکستان کے مالیاتی بحران کی اصل وجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھربوں روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ (ٹیکس اخراجات) اب بھی بڑی حد تک پارلیمانی نگرانی سے باہر ہیں۔ دولت کے وسیع حصے آج بھی مؤثر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ مالیاتی وفاقیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آئینی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کو اکثریتی حصہ حاصل ہونے کے باوجود ٹیکس پالیسی بتدریج زیادہ مرکزیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیادی اور ساختی مسئلے پر پارلیمان نے وہ مسلسل اور سنجیدہ توجہ نہیں دی جس کی وہ حق دار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال نہ اتفاقی ہے اور نہ نئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے لیے یہ سیاسی طور پر زیادہ آسان رہا ہے کہ وہ پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد پر مزید ذمہ داریاں عائد کریں، بجائے اس کے کہ معاشی مراعات یافتہ طبقوں کے مضبوط مراکز کو چیلنج کریں۔ ہر فنانس ایکٹ اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر فنانس ایکٹ تعمیل کے تقاضوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی اصلاحات ہمیشہ مؤخر ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ طاقت، اثرورسوخ اور انتظامی سہولت کے موجودہ مراکز کو چیلنج کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ المیہ صرف ناقص ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ خود پارلیمان کے بتدریج کمزور ہوتے جانے کا ہے۔ جب عوام کے منتخب نمائندے ٹیکسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نمائندہ حکومت کے قدیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں پارلیمان ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو مالیاتی معاملات میں حکومتِ وقت کے فیصلوں کی تشکیل کے بجائے محض ان کی رسمی توثیق کرتی ہے۔ یوں آئینی توازن خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں انتظامیہ کے حق میں منتقل ہوتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2026 کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے کہ اس نے کون سے نئے ٹیکس عائد کیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے ایک ایسے آئینی رجحان کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت سالانہ بجٹ کا عمل بامعنی پارلیمانی غور و خوض سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کا مشاورتی کردار اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل میں اہم ترامیم شامل کر دی جائیں۔ قومی اسمبلی بھی اکثر انتہائی تکنیکی نوعیت کی قانون سازی کو ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر منظور کر دیتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق، مالیاتی وفاقیت، انتظامی جوابدہی اور ریاست و شہری کے درمیان آئینی باہمی ذمہ داری جیسے بنیادی موضوعات پارلیمانی مباحث میں بڑی حد تک غیر موجود رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کون سا ٹیکس اچھا ہے اور کون سا برا۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان اب بھی ٹیکس عائد کرنے کے عمل پر کوئی حقیقی اور مؤثر اختیار رکھتی ہے؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے سامنا نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس ایکٹ ریاست کے اختیارات میں اضافہ کرتا رہے گا اور ساتھ ہی اس ادارے کے آئینی کردار کو کمزور کرتا رہے گا جسے جمہوری طور پر ان اختیارات کی منظوری دینے کا واحد حق حاصل ہے۔ یہ محض مالیاتی پالیسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مسلسل آئینی ناکامی ہے، جس کے اثرات ٹیکس نظام سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں سناتا ہے۔ ایک کہانی قانونی زبان میں لکھی جاتی ہے، جس میں نئے سیکشنز، متبادل شقیں اور ترمیم شدہ شیڈول شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کہانی خاموشی میں رقم ہوتی ہے، ان مباحث کے ذریعے جو کبھی ہوئے ہی نہیں، ان سوالات کے ذریعے جو کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے، اور ان آئینی ذمہ داریوں کے ذریعے جو کبھی ادا ہی نہیں کی گئیں۔ فنانس ایکٹ 2026 کا تعلق غالباً اسی دوسری قسم سے ہے۔ یہ محض ٹیکس عائد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ پارلیمان کی جانب سے اپنی بنیادی ترین آئینی ذمہ داریوں میں سے ایک سے مسلسل پسپائی کی داستان ہے۔</strong></p>
<p>14 برس قبل، جب ہم نے انہی صفحات میں فنانس ایکٹ 2012 کا جائزہ لیتے ہوئے ”فنانس ایکٹ 2012: پارلیمان کہاں ہے؟“ (بزنس ریکارڈر، 29 جون 2012) کے عنوان سے لکھا تھا، تو یہ نشاندہی کی تھی کہ قومی اسمبلی عملاً محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ فنانس بل عجلت میں منظور کیا گیا، اہم ترامیم آخری لمحوں میں شامل کی گئیں، ٹیکسوں سے متعلق تقریباً کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اور آئین کے آرٹیکل 73 اور 82 کے تحت پارلیمان کے لیے وضع کردہ آئینی طریقۂ کار محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔</p>
<p>امید کی جا رہی تھی کہ کئی برس کی آمرانہ مداخلت کے بعد بحال ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگی۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ اگر فنانس ایکٹ 2026 کسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اس کے کنٹرول کے مسلسل زوال کی ہے، جو اب پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔</p>
<p>سالانہ فنانس بل کوئی معمولی قانون سازی نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ دولت کس طرح جمع کی جائے گی، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، اور آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں پر کس نوعیت اور کس حد تک مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ ہر آئینی جمہوریت میں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نمائندہ حکومت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ان لوگوں کی رضامندی سے ناگزیر طور پر وابستہ ہے جن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ اصول صدیوں قبل من مانی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور بعد ازاں پوری جمہوری دنیا میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی آئینی بنیاد بن گیا۔ پاکستان کا آئین بھی اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مالیاتی اقدامات کو قانون کی شکل دینے سے قبل ان کا جائزہ لینے، ان پر بحث کرنے اور انہیں منظور کرنے کی ذمہ داری پارلیمان کو سونپی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کا عمل بالکل الٹی سمت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>بجٹ تقاریر محض سیاسی تماشہ بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ اصل فنانس بل کو ایک انتظامی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے تقریباً مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام تیار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کے قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔</p>
<p>پارلیمان کے ارکان شاذ و نادر ہی بل کی انفرادی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ عوام کو عموماً یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جن قانون سازوں نے آخرکار اس قانون کے حق میں ووٹ دیا، ان میں سے کتنے نے واقعی اس مسودۂ قانون کا مطالعہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2026 کے گرد رونما ہونے والے واقعات اس ادارہ جاتی ناکامی کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا، مختلف متعلقہ فریقوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور سرکاری حکام کا مؤقف سنا، اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کیں۔</p>
<p>اہم ترامیم اس وقت قانون کا حصہ بن گئیں جب سینیٹ اپنا آئینی مشاورتی کردار مکمل کر چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دفعات سینیٹ کے جائزے سے باہر رہیں، کیونکہ جب بل اس کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھیں۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی نے نظرثانی شدہ بل کو جلد بازی میں منظور کر لیا، بغیر اس پر کوئی بامعنی نئی بحث کیے۔ اس سے ایک اہم آئینی سوال جنم لیتا ہے، جس پر حیران کن طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اگر سینیٹ کے جائزے کی تکمیل کے بعد بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم شامل کی جا سکتی ہیں تو پھر آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ کے مشاورتی اختیار کی عملی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟ آئینی طریقۂ کار محض رسمی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وضع نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>سینیٹ ان قانونی دفعات پر مؤثر مشورہ نہیں دے سکتی جو کبھی اس کے سامنے پیش ہی نہ کی گئی ہوں۔ سینیٹ کے جائزے کے بعد بل میں نمایاں تبدیلیوں کی اجازت دے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے آئین کی ایک اہم حفاظتی ضمانت کو محض ایک رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p>تاہم مسئلہ صرف قانون سازی کے طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس، بینکوں، کاروباری اداروں اور دیگر ثالثی اداروں پر عائد ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>تعمیل کے اضافی تقاضے، رپورٹنگ کی وسیع تر ذمہ داریاں، ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مزید گہرا ڈیجیٹل انضمام، خودکار نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار اور نفاذ کے اختیارات میں توسیع، یہ سب شہریوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمان نے ایک دوسرے، اتنے ہی اہم سوال پر غیر معمولی حد تک کم توجہ دی، اور وہ ہے ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں کا توازن۔</p>
<p>آئینی نظام میں ٹیکس عائد کرنے کا تصور کبھی بھی صرف شہریوں کی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری پر مبنی نہیں رہا۔ اس کی بنیاد ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں پر استوار ہے۔ شہری اپنے وسائل کا ایک حصہ ریاستی اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بدلے ریاست قانونی یقین دہانی، قانون کے مطابق کارروائی (ڈیو پروسیس)، خفیہ معلومات کے تحفظ، تنازعات کے مؤثر اور بروقت تصفیے، بروقت ریفنڈز اور غیر جانبدارانہ انتظامی نظام کی ضمانت دیتی ہے۔</p>
<p>جب ٹیکس وصولی باہمی ذمہ داریوں سے عاری ہو جائے تو وہ بتدریج آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے محض انتظامی استحصال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام اسی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>کاروباری اداروں کو ٹیکس حکام کے ساتھ اپنے نظام الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، مگر پاکستان آج بھی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی سے محروم ہے۔</p>
<p>تجارتی اور مالیاتی معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ سرکاری ڈیٹا بیسز میں منتقل کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارلیمان نے ان معلومات کے غلط استعمال، سائبر حملوں یا غیر مجاز افشا کے خلاف مؤثر قانونی تحفظات پہلے سے فراہم نہیں کیے۔ ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کریں جو خود ایک نامکمل قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پارلیمان نے اس تضاد پر بھی بمشکل کوئی بحث کی۔</p>
<p>اسی طرح مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر روبرو کارروائی (فیس لیس اسیسمنٹ) کو جدید ٹیکس انتظامیہ کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی صوابدیدی اختیارات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن الگورتھمز ایسی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کا ازالہ نہیں کر سکتے جو اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ یہ صرف ٹیکس حکام کو پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی ٹیکس دہندگان کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کا موقع دیتے ہیں، جبکہ نقد معیشت، غیر رسمی لین دین اور پوشیدہ دولت بڑی حد تک ان کی دسترس سے باہر رہتی ہے۔</p>
<p>یوں ٹیکنالوجی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکمت عملی بننے کے بجائے، قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی زیادہ مؤثر نگرانی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پارلیمان نے اس تبدیلی کو یہ مطالبہ کیے بغیر قبول کر لیا کہ پہلے ان بنیادی ساختی کمزوریوں کے حل کے شواہد پیش کیے جائیں۔</p>
<p>فنانس ایکٹ کے تقریباً ہر حصے میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ ودہولڈنگ ایجنٹس پر نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کاروباری اداروں پر تعمیل کے مزید اخراجات کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، مالیاتی اداروں کو پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ دستاویزی ٹیکس دہندگان پر ضابطہ جاتی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس پارلیمان نے نہ تو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے قانونی تحفظ پر اصرار کیا، نہ خودکار فیصلوں کی آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا، نہ غلط ٹیکس تخمینوں پر جوابدہی کا مؤثر بندوبست کیا، نہ ریفنڈز کی قانونی طور پر قابلِ نفاذ مدت مقرر کی، اور نہ ہی خود ٹیکس انتظامیہ میں بامعنی اصلاحات پر زور دیا۔ ذمہ داریاں تو بڑھتی چلی گئیں، مگر ان کے متناسب حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔</p>
<p>تاہم سب سے بڑا تضاد کہیں اور ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 میں ایسی متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد پہلے سے ٹیکس حکام کی نظر میں موجود افراد کے خلاف نفاذ کے اختیارات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان ایک بار پھر ان کہیں بڑے سوالات سے نظریں چراتی دکھائی دی جو آج بھی پاکستان کے مالیاتی بحران کی اصل وجہ ہیں۔</p>
<p>کھربوں روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ (ٹیکس اخراجات) اب بھی بڑی حد تک پارلیمانی نگرانی سے باہر ہیں۔ دولت کے وسیع حصے آج بھی مؤثر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں۔</p>
<p>غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ مالیاتی وفاقیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آئینی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کو اکثریتی حصہ حاصل ہونے کے باوجود ٹیکس پالیسی بتدریج زیادہ مرکزیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیادی اور ساختی مسئلے پر پارلیمان نے وہ مسلسل اور سنجیدہ توجہ نہیں دی جس کی وہ حق دار تھے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال نہ اتفاقی ہے اور نہ نئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے لیے یہ سیاسی طور پر زیادہ آسان رہا ہے کہ وہ پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد پر مزید ذمہ داریاں عائد کریں، بجائے اس کے کہ معاشی مراعات یافتہ طبقوں کے مضبوط مراکز کو چیلنج کریں۔ ہر فنانس ایکٹ اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر فنانس ایکٹ تعمیل کے تقاضوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی اصلاحات ہمیشہ مؤخر ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ طاقت، اثرورسوخ اور انتظامی سہولت کے موجودہ مراکز کو چیلنج کرتی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ المیہ صرف ناقص ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ خود پارلیمان کے بتدریج کمزور ہوتے جانے کا ہے۔ جب عوام کے منتخب نمائندے ٹیکسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نمائندہ حکومت کے قدیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں پارلیمان ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو مالیاتی معاملات میں حکومتِ وقت کے فیصلوں کی تشکیل کے بجائے محض ان کی رسمی توثیق کرتی ہے۔ یوں آئینی توازن خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں انتظامیہ کے حق میں منتقل ہوتا جاتا ہے۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2026 کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے کہ اس نے کون سے نئے ٹیکس عائد کیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے ایک ایسے آئینی رجحان کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت سالانہ بجٹ کا عمل بامعنی پارلیمانی غور و خوض سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>سینیٹ کا مشاورتی کردار اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل میں اہم ترامیم شامل کر دی جائیں۔ قومی اسمبلی بھی اکثر انتہائی تکنیکی نوعیت کی قانون سازی کو ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر منظور کر دیتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق، مالیاتی وفاقیت، انتظامی جوابدہی اور ریاست و شہری کے درمیان آئینی باہمی ذمہ داری جیسے بنیادی موضوعات پارلیمانی مباحث میں بڑی حد تک غیر موجود رہتے ہیں۔</p>
<p>14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔</p>
<p>اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کون سا ٹیکس اچھا ہے اور کون سا برا۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان اب بھی ٹیکس عائد کرنے کے عمل پر کوئی حقیقی اور مؤثر اختیار رکھتی ہے؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے سامنا نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس ایکٹ ریاست کے اختیارات میں اضافہ کرتا رہے گا اور ساتھ ہی اس ادارے کے آئینی کردار کو کمزور کرتا رہے گا جسے جمہوری طور پر ان اختیارات کی منظوری دینے کا واحد حق حاصل ہے۔ یہ محض مالیاتی پالیسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مسلسل آئینی ناکامی ہے، جس کے اثرات ٹیکس نظام سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288266</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 17:15:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/03164647a498228.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/03164647a498228.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کا پیٹ بھرنے والا نہری نظام پانی کی بوند بوند کو ترس گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288227/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک صدی سے زائد پرانا پنجاب کا تاریخی نہری نظام جو 13 بیراجوں، 25 بڑی نہروں، درجن بھر لنک کینالز اور ہزاروں کلومیٹر طویل شاخوں پر مشتمل ہے صوبے میں سالانہ 40 سے 50 کھرب (4 سے 5 ٹریلین) روپے کی وسیع زرعی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہ عظیم الشان بنیادی ڈھانچہ کاشتکار کی سطح پر ملک کی غذائی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے مگر اب یہ ملکی اثاثہ  فنڈز کی قلت کی وجہ سے اندر ہی اندر کمزور ہو رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم، چاول، گنا، مکئی، کپاس، آلو، پھل، سبزیاں اور چارہ، اس پیداوار کا ایک بڑا حصہ اور زیرِ زمین پانی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ جو اب اس کی معاونت کرتا ہے، اب بھی اسی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے فراہم کردہ ری چارج شدہ یا باقاعدہ بنائے گئے پانی پر منحصر ہے۔ اس کے باوجود پنجاب نے اس کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے صرف 8.9 ارب روپے مختص کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رقم اس سالانہ اقتصادی پیداوار کا تقریباً صرف ایک فیصد کا پانچواں حصہ (0.2 فیصد) ہے جسے برقرار رکھنے میں یہ نظام مدد کرتا ہے۔یہ محض پنجاب کے بجٹ کا مسئلہ نہیں ہے۔ جب ملک کا سب سے بڑا سیراب زرعی مرکز اپنی نہریں برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے نتائج صوبائی حدود سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ وہ قومی سطح پر خوراک کی قیمتوں، گندم کی سیکیورٹی، چاول کی برآمدات، پولٹری فیڈ کی لاگت، دیہی آمدنی، زرعی و صنعتی سپلائی چین اور زرمبادلہ کی کمائی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔کوئی بھی سنجیدہ کاروباری ادارہ اپنی سب سے زیادہ پیداواری مشینری کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرے گا۔ کوئی بھی بورڈ اسے قبول نہیں کرے گا۔ کوئی بھی بینک اس کے عوض قرض نہیں دے گا۔ پھر بھی پنجاب سال بہ سال اپنے ملکیتی سب سے زیادہ پیداواری عوامی اثاثے کے ساتھ یہی کچھ کرتا آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلخ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے عوام کی بہبود کے بجائے صرف وسائل نچوڑنے کے مقصد کے تحت کام کرنے کے باوجود اسی نظام کو ایک منظم تجارتی ادارے کے طور پر چلایا اور ریاست کے لیے غیر معمولی منافع اور انڈس پلینز (میدانِ سندھ) کے کسانوں کے لیے خوشحالی پیدا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انیسویں صدی کے آخر سے نوآبادیاتی آبپاشی کی مالیات نے بڑی نہروں کو صرف اسی صورت میں  پیداواری کاموں میں شمار کیا اگر وہ سرمایہ کاری پر مناسب منافع کما سکیں۔ 1901-03 کے انڈین اریگیشن کمیشن تک یہ تجارتی منطق سرکاری سوچ میں مضبوطی سے جڑ پکڑ چکی تھی۔ قرض کے سرمائے سے مالی اعانت حاصل کرنے والے آبپاشی کے بڑے منصوبوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ سود کو پورا کرنے اور قرض کی واپسی میں حصہ ڈالنے کے لیے کافی سالانہ آمدنی پیدا کریں۔آبپاشی کے انسپکٹر جنرل رچرڈ اسٹریچی نے اس اصول کو واضح طور پر بیان کیا تھا کہ ” غور کرنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ کام منافع بخش ہونے چاہئیں، جس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست کے لیے فائدہ مند ہوں گے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اور وہ واقعی منافع بخش تھے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری نوآبادیاتی آبپاشی کے گوشواروں سے پتا چلتا ہے کہ 1926-27 تک پنجاب کے پیداواری آبپاشی کے کاموں نے اپنی اصل سرمایہ کاری دو گنا سے زیادہ وصول کر لی تھی۔ پیداواری کاموں پر مجموعی خالص منافع 14 فیصد سالانہ سے زیادہ تھا۔ ان گوشواروں میں  لوئر چناب کینال کو سرمائے کی لاگت پر 56.95 فیصد تک کماتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا، جس نے مؤثر طریقے سے ہر دو سے تین سالوں میں اپنی لاگت خود پوری کی۔ نہری سیراب زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدنی 1913 میں پنجاب کی کل آمدنی کے 20 فیصد سے بھی کم تھی جو 1920 کی دہائی تک بڑھ کر 40 فیصد سے زائد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوآبادیاتی استحصال کے حق میں دلیل نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک لوٹ کھسوٹ کرنے والی ریاست بھی سمجھتی تھی کہ ایک پیداواری اثاثے کی مالی اعانت، دیکھ بھال اور اس کی پیمائش ہونی چاہیے۔نوآبادیاتی ریاست نے استحصال کی ترغیب کے باوجود اثاثے کی قیمت کا تعین کیا، اس کی پیمائش کی اور اسے برقرار رکھا۔ دوسری طرف مابعد نوآبادیاتی ریاست نے عوام کی خدمت کا دعویٰ کرنے کے باوجود  اکثر دیکھ بھال کو ایک ثانوی چیز سمجھا ہے۔حکومت یہ جواب دے سکتی ہے کہ آبپاشی کو مجموعی طور پر ایک بڑا حصہ ملا ہے، جس میں ترقیاتی اخراجات بھی شامل ہیں لیکن یہ اصل نکتے کو نظر انداز کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترقی کا مطلب دیکھ بھال نہیں ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی اسکیمیں، بحالی کے منصوبے، فیزبیلٹی اسٹڈیز، لائننگ پیکجز اور کیپٹل ورکس اپنی جگہ اہمیت رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ایک صدی پرانے اینٹ اور گارے کے ہائیڈرولک نظام کی سالانہ مرمت اور تحفظ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ایک نہری نظام ہر روز گاد جمع ہونے (سلٹیشن)، رساؤ، ٹوٹی ہوئی چنائی، کمزور پشتے، زنگ آلود گیٹس، خراب ہوسٹس اور گھسے ہوئے ریگولیٹرز کے باعث بوسیدگی کا شکار ہوتا ہے۔دیکھ بھال وہ مستقل ڈسپلن ہے جو اثاثے کو زندہ رکھتا ہے۔ ترقی کبھی کبھار  جبکہ دیکھ بھال مستقل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 3 سے 4 ٹریلین روپے کی قدامت پسندانہ متبادل مالیت والے نظام کے لیے اثاثوں کے تحفظ کے معمولی 2 فیصد سالانہ کے اصول کو بھی استعمال کیا جائے تو اثاثوں کے مناسب تحفظ کے لیے سالانہ تقریباً 60 سے 80 ارب روپے درکار ہوں گے۔پنجاب نے 8.9 ارب روپے بجٹ میں رکھے ہیں۔یہ کمی غیر خرچ شدہ رہنے کی صورت میں غائب نہیں ہوتی۔ یہ انفرااسٹرکچر کے قرض کے طور پر جمع ہوتی رہتی ہے۔ نہروں کے استر (لائننگ) میں دراڑیں پڑتی ہیں اور ان کی مرمت نہیں کی جاتی۔ پشتے کمزور ہوتے ہیں اور انہیں مضبوط نہیں کیا جاتا۔ گیٹس زنگ آلود ہوتے ہیں اور انہیں تبدیل نہیں کیا جاتا۔ گاد جمع ہونے سے پانی لے جانے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے اور اسے صاف نہیں کیا جاتا۔ ہر موخر کی جانے والی مرمت ایک ایسی ذمہ داری بن جاتی ہے جو مستقبل کے بجٹ کو منتقل ہوتی ہے، جہاں یہ ایک روپیہ نہیں بلکہ کئی روپے لاگت لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انفرااسٹرکچر صرف فصلیں ہی پیدا نہیں کرتا۔ پنجاب کی گندم کی فصل پاکستان کی غذائی سیکیورٹی کی بنیاد ہے۔ شیخوپورہ، حافظ آباد، سیالکوٹ بیلٹ کا چاول پاکستان کے زرمبادلہ کمانے کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔ مکئی پولٹری کی صنعت کو فیڈ فراہم کرتی ہے۔ گنا ملک کی سب سے بڑی زرعی صنعتوں میں سے ایک کو سہارا دیتا ہے۔ آلو، پھل، سبزیاں اور چارہ سبھی سیراب زراعت پر منحصر ہیں۔ یہ نکتہ صوبائی فخر کا نہیں، یہ قومی خطرے (نیشنل ایکسپوزر) کا ہے۔ یہاں تک کہ چارے کی فصلیں، جن میں برآمدات پر مبنی روڈس گراس   شامل ہے، اسی ہائیڈرولک بنیاد پر منحصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہر کے ہر شگاف کی مرمت پر اس حفاظتی کام کے مقابلے میں کہیں زیادہ لاگت آئے گی جو اسے روک سکتا تھا۔ ہر وہ سیزن جس میں گاد، گیٹ کی خرابی یا لائننگ کی خرابی کے باعث پانی کی فراہمی کم ہوتی ہے، اس کا مطلب پیداوار، آمدنی اور برآمدی کمائی میں کمی ہے۔ وہ کسان جو نہر خشک ہونے کی وجہ سے اپنی فصل کھو بیٹھتا ہے وہ بجٹ کی دستاویزات میں نظر نہیں آتا لیکن نقصان حقیقی، بڑا اور قابلِ تلافی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے پاس سرمایہ کاری کی تجاویز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہر بجٹ نئے منصوبے، نئی اسکیمیں اور نئے اعلانات لے کر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ نئے اثاثے بنانے کا متحمل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا سب سے زیادہ پیداواری اثاثہ جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہے، خاموشی سے زوال پذیر ہو رہا ہے؟۔ اس کا جواب صرف یہ نہیں ہے کہ ابیانہ بڑھایا جائے اور حاصل ہونے والی رقم کو جنرل ٹریژری (سرکاری خزانے) میں ڈال دیا جائے۔ اس سے صرف بے اعتمادی  بڑھے گی۔ پنجاب کو آبپاشی کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص فنڈ (رنگ فینسڈ فنڈ)، پانچ سالہ آپریشنز اور دیکھ بھال کا شائع شدہ منصوبہ، نہر وار دیکھ بھال کی رپورٹنگ، تھرڈ پارٹی انجینئرنگ آڈٹ اور سروس کی بہتری سے واضح طور پر منسلک ٹیرف کے راستے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان زیادہ چارجز کی مزاحمت کریں گے اگر وہ صرف زیادہ بل دیکھیں گے۔ وہ انہیں قبول کر سکتے ہیں اگر وہ نہروں سے گاد کی صفائی، مرمت شدہ گیٹس، پانی کے بہاؤ کی پیمائش، مضبوط پشتے، فعال ریگولیٹرز اور ٹیل اینڈ (نہری نظام کے آخری حصوں) پر پانی کی فراہمی میں کم سے کم تعطل دیکھیں۔پنجاب کا نہری نظام محض ایک انجینئرنگ کی وراثت نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ معاشی مشین ہے۔ یہ دریا کے پانی کو غذائی سیکیورٹی، دیہی روزگار، زرعی صنعت، برآمدات اور صوبائی استحکام میں تبدیل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوآبادیاتی انتظامیہ اس کی مالیاتی قدر کو سمجھتی تھی کیونکہ وہ اس سے فائدہ نچوڑنا چاہتی تھی۔ مابعد نوآبادیاتی ریاست کو اس کی قدر کو سمجھنا چاہیے کیونکہ لاکھوں لوگوں کا انحصار اس پر ہے۔پنجاب کو زراعت کے بارے میں کسی اور نعرے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی (اسٹیورڈ شپ) کی ضرورت ہے۔پنجاب جو سب سے بہترین سرمایہ کاری کر سکتا ہے وہ کوئی اور فیتہ کاٹنے والی اسکیم نہیں ہے۔ یہ اس نہری نظام کا منظم تحفظ ہے جو پہلے ہی صوبے کو سہارا دے رہا ہے۔سالانہ 8.9 ارب روپے کے ساتھ یہ نظام محفوظ نہیں رہے گا بلکہ ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک صدی سے زائد پرانا پنجاب کا تاریخی نہری نظام جو 13 بیراجوں، 25 بڑی نہروں، درجن بھر لنک کینالز اور ہزاروں کلومیٹر طویل شاخوں پر مشتمل ہے صوبے میں سالانہ 40 سے 50 کھرب (4 سے 5 ٹریلین) روپے کی وسیع زرعی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہ عظیم الشان بنیادی ڈھانچہ کاشتکار کی سطح پر ملک کی غذائی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے مگر اب یہ ملکی اثاثہ  فنڈز کی قلت کی وجہ سے اندر ہی اندر کمزور ہو رہا ہے۔</strong></p>
<p>گندم، چاول، گنا، مکئی، کپاس، آلو، پھل، سبزیاں اور چارہ، اس پیداوار کا ایک بڑا حصہ اور زیرِ زمین پانی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ جو اب اس کی معاونت کرتا ہے، اب بھی اسی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے فراہم کردہ ری چارج شدہ یا باقاعدہ بنائے گئے پانی پر منحصر ہے۔ اس کے باوجود پنجاب نے اس کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے صرف 8.9 ارب روپے مختص کیے ہیں۔</p>
<p>یہ رقم اس سالانہ اقتصادی پیداوار کا تقریباً صرف ایک فیصد کا پانچواں حصہ (0.2 فیصد) ہے جسے برقرار رکھنے میں یہ نظام مدد کرتا ہے۔یہ محض پنجاب کے بجٹ کا مسئلہ نہیں ہے۔ جب ملک کا سب سے بڑا سیراب زرعی مرکز اپنی نہریں برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے نتائج صوبائی حدود سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ وہ قومی سطح پر خوراک کی قیمتوں، گندم کی سیکیورٹی، چاول کی برآمدات، پولٹری فیڈ کی لاگت، دیہی آمدنی، زرعی و صنعتی سپلائی چین اور زرمبادلہ کی کمائی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔کوئی بھی سنجیدہ کاروباری ادارہ اپنی سب سے زیادہ پیداواری مشینری کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرے گا۔ کوئی بھی بورڈ اسے قبول نہیں کرے گا۔ کوئی بھی بینک اس کے عوض قرض نہیں دے گا۔ پھر بھی پنجاب سال بہ سال اپنے ملکیتی سب سے زیادہ پیداواری عوامی اثاثے کے ساتھ یہی کچھ کرتا آ رہا ہے۔</p>
<p>تلخ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے عوام کی بہبود کے بجائے صرف وسائل نچوڑنے کے مقصد کے تحت کام کرنے کے باوجود اسی نظام کو ایک منظم تجارتی ادارے کے طور پر چلایا اور ریاست کے لیے غیر معمولی منافع اور انڈس پلینز (میدانِ سندھ) کے کسانوں کے لیے خوشحالی پیدا کی۔</p>
<p>انیسویں صدی کے آخر سے نوآبادیاتی آبپاشی کی مالیات نے بڑی نہروں کو صرف اسی صورت میں  پیداواری کاموں میں شمار کیا اگر وہ سرمایہ کاری پر مناسب منافع کما سکیں۔ 1901-03 کے انڈین اریگیشن کمیشن تک یہ تجارتی منطق سرکاری سوچ میں مضبوطی سے جڑ پکڑ چکی تھی۔ قرض کے سرمائے سے مالی اعانت حاصل کرنے والے آبپاشی کے بڑے منصوبوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ سود کو پورا کرنے اور قرض کی واپسی میں حصہ ڈالنے کے لیے کافی سالانہ آمدنی پیدا کریں۔آبپاشی کے انسپکٹر جنرل رچرڈ اسٹریچی نے اس اصول کو واضح طور پر بیان کیا تھا کہ ” غور کرنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ کام منافع بخش ہونے چاہئیں، جس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست کے لیے فائدہ مند ہوں گے“۔</p>
<p><strong>اور وہ واقعی منافع بخش تھے</strong></p>
<p>سرکاری نوآبادیاتی آبپاشی کے گوشواروں سے پتا چلتا ہے کہ 1926-27 تک پنجاب کے پیداواری آبپاشی کے کاموں نے اپنی اصل سرمایہ کاری دو گنا سے زیادہ وصول کر لی تھی۔ پیداواری کاموں پر مجموعی خالص منافع 14 فیصد سالانہ سے زیادہ تھا۔ ان گوشواروں میں  لوئر چناب کینال کو سرمائے کی لاگت پر 56.95 فیصد تک کماتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا، جس نے مؤثر طریقے سے ہر دو سے تین سالوں میں اپنی لاگت خود پوری کی۔ نہری سیراب زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدنی 1913 میں پنجاب کی کل آمدنی کے 20 فیصد سے بھی کم تھی جو 1920 کی دہائی تک بڑھ کر 40 فیصد سے زائد ہو گئی۔</p>
<p>یہ نوآبادیاتی استحصال کے حق میں دلیل نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک لوٹ کھسوٹ کرنے والی ریاست بھی سمجھتی تھی کہ ایک پیداواری اثاثے کی مالی اعانت، دیکھ بھال اور اس کی پیمائش ہونی چاہیے۔نوآبادیاتی ریاست نے استحصال کی ترغیب کے باوجود اثاثے کی قیمت کا تعین کیا، اس کی پیمائش کی اور اسے برقرار رکھا۔ دوسری طرف مابعد نوآبادیاتی ریاست نے عوام کی خدمت کا دعویٰ کرنے کے باوجود  اکثر دیکھ بھال کو ایک ثانوی چیز سمجھا ہے۔حکومت یہ جواب دے سکتی ہے کہ آبپاشی کو مجموعی طور پر ایک بڑا حصہ ملا ہے، جس میں ترقیاتی اخراجات بھی شامل ہیں لیکن یہ اصل نکتے کو نظر انداز کرنا ہے۔</p>
<p><strong>ترقی کا مطلب دیکھ بھال نہیں ہے</strong></p>
<p>نئی اسکیمیں، بحالی کے منصوبے، فیزبیلٹی اسٹڈیز، لائننگ پیکجز اور کیپٹل ورکس اپنی جگہ اہمیت رکھ سکتے ہیں لیکن وہ ایک صدی پرانے اینٹ اور گارے کے ہائیڈرولک نظام کی سالانہ مرمت اور تحفظ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ایک نہری نظام ہر روز گاد جمع ہونے (سلٹیشن)، رساؤ، ٹوٹی ہوئی چنائی، کمزور پشتے، زنگ آلود گیٹس، خراب ہوسٹس اور گھسے ہوئے ریگولیٹرز کے باعث بوسیدگی کا شکار ہوتا ہے۔دیکھ بھال وہ مستقل ڈسپلن ہے جو اثاثے کو زندہ رکھتا ہے۔ ترقی کبھی کبھار  جبکہ دیکھ بھال مستقل ہوتی ہے۔</p>
<p>اگر 3 سے 4 ٹریلین روپے کی قدامت پسندانہ متبادل مالیت والے نظام کے لیے اثاثوں کے تحفظ کے معمولی 2 فیصد سالانہ کے اصول کو بھی استعمال کیا جائے تو اثاثوں کے مناسب تحفظ کے لیے سالانہ تقریباً 60 سے 80 ارب روپے درکار ہوں گے۔پنجاب نے 8.9 ارب روپے بجٹ میں رکھے ہیں۔یہ کمی غیر خرچ شدہ رہنے کی صورت میں غائب نہیں ہوتی۔ یہ انفرااسٹرکچر کے قرض کے طور پر جمع ہوتی رہتی ہے۔ نہروں کے استر (لائننگ) میں دراڑیں پڑتی ہیں اور ان کی مرمت نہیں کی جاتی۔ پشتے کمزور ہوتے ہیں اور انہیں مضبوط نہیں کیا جاتا۔ گیٹس زنگ آلود ہوتے ہیں اور انہیں تبدیل نہیں کیا جاتا۔ گاد جمع ہونے سے پانی لے جانے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے اور اسے صاف نہیں کیا جاتا۔ ہر موخر کی جانے والی مرمت ایک ایسی ذمہ داری بن جاتی ہے جو مستقبل کے بجٹ کو منتقل ہوتی ہے، جہاں یہ ایک روپیہ نہیں بلکہ کئی روپے لاگت لے گی۔</p>
<p>یہ انفرااسٹرکچر صرف فصلیں ہی پیدا نہیں کرتا۔ پنجاب کی گندم کی فصل پاکستان کی غذائی سیکیورٹی کی بنیاد ہے۔ شیخوپورہ، حافظ آباد، سیالکوٹ بیلٹ کا چاول پاکستان کے زرمبادلہ کمانے کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔ مکئی پولٹری کی صنعت کو فیڈ فراہم کرتی ہے۔ گنا ملک کی سب سے بڑی زرعی صنعتوں میں سے ایک کو سہارا دیتا ہے۔ آلو، پھل، سبزیاں اور چارہ سبھی سیراب زراعت پر منحصر ہیں۔ یہ نکتہ صوبائی فخر کا نہیں، یہ قومی خطرے (نیشنل ایکسپوزر) کا ہے۔ یہاں تک کہ چارے کی فصلیں، جن میں برآمدات پر مبنی روڈس گراس   شامل ہے، اسی ہائیڈرولک بنیاد پر منحصر ہیں۔</p>
<p>نہر کے ہر شگاف کی مرمت پر اس حفاظتی کام کے مقابلے میں کہیں زیادہ لاگت آئے گی جو اسے روک سکتا تھا۔ ہر وہ سیزن جس میں گاد، گیٹ کی خرابی یا لائننگ کی خرابی کے باعث پانی کی فراہمی کم ہوتی ہے، اس کا مطلب پیداوار، آمدنی اور برآمدی کمائی میں کمی ہے۔ وہ کسان جو نہر خشک ہونے کی وجہ سے اپنی فصل کھو بیٹھتا ہے وہ بجٹ کی دستاویزات میں نظر نہیں آتا لیکن نقصان حقیقی، بڑا اور قابلِ تلافی ہوتا ہے۔</p>
<p>پنجاب کے پاس سرمایہ کاری کی تجاویز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہر بجٹ نئے منصوبے، نئی اسکیمیں اور نئے اعلانات لے کر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ نئے اثاثے بنانے کا متحمل ہو سکتا ہے جبکہ اس کا سب سے زیادہ پیداواری اثاثہ جو اس کے پاس پہلے سے موجود ہے، خاموشی سے زوال پذیر ہو رہا ہے؟۔ اس کا جواب صرف یہ نہیں ہے کہ ابیانہ بڑھایا جائے اور حاصل ہونے والی رقم کو جنرل ٹریژری (سرکاری خزانے) میں ڈال دیا جائے۔ اس سے صرف بے اعتمادی  بڑھے گی۔ پنجاب کو آبپاشی کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص فنڈ (رنگ فینسڈ فنڈ)، پانچ سالہ آپریشنز اور دیکھ بھال کا شائع شدہ منصوبہ، نہر وار دیکھ بھال کی رپورٹنگ، تھرڈ پارٹی انجینئرنگ آڈٹ اور سروس کی بہتری سے واضح طور پر منسلک ٹیرف کے راستے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>کسان زیادہ چارجز کی مزاحمت کریں گے اگر وہ صرف زیادہ بل دیکھیں گے۔ وہ انہیں قبول کر سکتے ہیں اگر وہ نہروں سے گاد کی صفائی، مرمت شدہ گیٹس، پانی کے بہاؤ کی پیمائش، مضبوط پشتے، فعال ریگولیٹرز اور ٹیل اینڈ (نہری نظام کے آخری حصوں) پر پانی کی فراہمی میں کم سے کم تعطل دیکھیں۔پنجاب کا نہری نظام محض ایک انجینئرنگ کی وراثت نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ معاشی مشین ہے۔ یہ دریا کے پانی کو غذائی سیکیورٹی، دیہی روزگار، زرعی صنعت، برآمدات اور صوبائی استحکام میں تبدیل کرتا ہے۔</p>
<p>نوآبادیاتی انتظامیہ اس کی مالیاتی قدر کو سمجھتی تھی کیونکہ وہ اس سے فائدہ نچوڑنا چاہتی تھی۔ مابعد نوآبادیاتی ریاست کو اس کی قدر کو سمجھنا چاہیے کیونکہ لاکھوں لوگوں کا انحصار اس پر ہے۔پنجاب کو زراعت کے بارے میں کسی اور نعرے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے بنیادی ڈھانچے کی نگرانی (اسٹیورڈ شپ) کی ضرورت ہے۔پنجاب جو سب سے بہترین سرمایہ کاری کر سکتا ہے وہ کوئی اور فیتہ کاٹنے والی اسکیم نہیں ہے۔ یہ اس نہری نظام کا منظم تحفظ ہے جو پہلے ہی صوبے کو سہارا دے رہا ہے۔سالانہ 8.9 ارب روپے کے ساتھ یہ نظام محفوظ نہیں رہے گا بلکہ ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288227</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 20:30:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محسن لغاری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/02194113bb5b705.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/02194113bb5b705.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا منڈیوں نے امن پر قبل از وقت یقین کر لیا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288222/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں  میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے  اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا  اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں  میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔</p>
<p>واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟</p>
<p>منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔</p>
<p>اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے  اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟</p>
<p>یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔</p>
<p>سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟</p>
<p>یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا  اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟</p>
<p>موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔</p>
<p>تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288222</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 16:18:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/021353392364138.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/021353392364138.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عملی زندگی میں ناپید: تعلقات نبھانے کی استعداد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288178/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ عنصر موجود بھی ہے اور گویا موجود نہیں بھی۔ اس کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے، اسے سمجھا بھی گیا ہے اور غلط بھی سمجھا گیا ہے۔ یہ سب دراصل اُس گمشدہ عنصر کی تلاش کی مختلف صورتیں ہیں۔ وہ عنصر جس کی کمی کا احساس تو سب کو ہے، مگر بہت سی تنظیمیں آج بھی اسے واضح طور پر متعین کرنے میں ناکام ہیں۔ اس پر گفتگو بھی ہوتی ہے، لیکن اسے کامیابی کے بنیادی عوامل میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ کئی دوسری صلاحیتوں اور اوصاف میں شامل تو ہے، مگر اپنی الگ اور مستقل حیثیت میں اسے شاذ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ایک رہنما میں دوسروں کو متاثر اور حوصلہ دینے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ منتظمین کو اپنی ٹیموں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ہم اس پر بھی بحث کرتے ہیں کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ دانش مندی سے تعلقات استوار رکھنا کس قدر اہم ہے۔ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ صارفین کا اعتماد اور وفاداری حاصل کی جائے۔ ان تمام معاملات میں ایک چیز مشترک ہے: مضبوط اور مثبت تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صارفین کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں تو لاکھوں روپے کی اشتہاری مہم بھی بے اثر ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح، اگر کسی ملازم کے اپنے منیجر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوں تو تنخواہ میں فراخ دلانہ اضافہ بھی اسے دل سے کام کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کسی عہدے کا نام نہیں، بلکہ تعلقات استوار کرنے کا ہنر ہے۔ رہنماؤں کے پاس کتنے ہی پرکشش عہدے کیوں نہ ہوں، اصل سوال یہ ہے کہ لوگ ان کی پیروی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں یا اس لیے کہ وہ خوش دلی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر جواب پہلا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس رہنما کی تعلقاتی استعداد (ریلیشنل کوشنٹ-آر کیو) کمزور ہے۔ یعنی اس میں وہ تعلقاتی ذہانت موجود نہیں جو لوگوں سے مؤثر تعلق قائم کرنے، انہیں سمجھنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت یہی صلاحیت مؤثر قیادت، کامیاب نظم و نسق اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ تعلقاتی ذہانت سے مراد تعلقات کی نوعیت اور پیچیدگیوں کو سمجھنے، ان کی درست تعبیر کرنے اور انہیں دانش مندی سے اس انداز میں استوار رکھنے کی صلاحیت ہے کہ اعتماد، ہم آہنگی اور بامقصد تعاون فروغ پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ہر تحقیق یہی بتاتی ہے کہ پیشہ ورانہ یا تکنیکی مہارتیں ملازمت حاصل کرنے میں ضرور مدد دیتی ہیں، لیکن جیسے جیسے آپ اعلیٰ ذمہ داریوں کی طرف بڑھتے ہیں، آپ کے کام کا تقریباً 80 فیصد حصہ لوگوں سے مؤثر رابطہ، ان کی سمجھ بوجھ، تعلقات استوار کرنے، اعتماد پیدا کرنے، اثرورسوخ قائم کرنے اور باہمی تعاون پر منحصر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور کوچ کام کرنے کے تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ نہایت ذہین کوچز کی ایک بڑی کمزوری ان کا تعلقاتی استعداد (آرکیو) ہوتا ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی اہمیت کو تو بخوبی سمجھتے ہیں، مگر انسانی ذہانت اور انسانی تعلقات کی اہمیت کو سمجھنے میں اکثر نوآموز ثابت ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سے افراد میں موجود قیادت کی غیر معمولی صلاحیت صرف اس لیے ضائع ہو جاتی ہے کہ وہ تعلقاتی استعداد (آرکیو) کے کردار اور اہمیت کا ادراک نہیں کر پاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ صلاحیت سیکھی بھی جا سکتی ہے اور نکھاری بھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ کیئر(سی آے آر ای) ماڈل پر توجہ دی جائے، جس کے چار بنیادی ستون ہیں: اعتبار (کریڈیبلٹی)، آگاہی (آویئرنیس)، باہمی ہم آہنگی (راپورٹ) اور بااختیار بنانا (ایمپاورمنٹ)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آر کیو نمبر 1: اعتبار — شخصیت کی ساکھ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلقاتی ذہانت کی بنیاد کسی فرد کی اعتبار اور ساکھ پر استوار ہوتی ہے۔ ہر تعلق کا سب سے اہم ستون اعتماد ہے۔ کسی بھی ادارے کی بقا اور ترقی کے لیے اعتماد وہ بیج ہے جسے سب سے پہلے بونا ضروری ہوتا ہے۔ جن اداروں میں اعتماد کی فضا مضبوط ہو، وہ کم اعتماد والی تنظیموں کے مقابلے میں 250 فیصد تک بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، کسی بھی فرد، خواہ وہ منیجر ہو یا رہنما، کی اصل پہچان اس کی اعتبار اور ساکھ ہوتی ہے۔ اگر لوگ کسی پر اعتماد کرتے ہوں تو وہ اس سے تعلق استوار کرتے ہیں، اس کا احترام کرتے ہیں، اس پر بھروسا کرتے ہیں اور اس پر انحصار بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر(سی اے آر ای) ماڈل کا پہلا جزو یہی ہے کہ کسی شخص کے اعتبار کا جائزہ لیا جائے۔ اعتبار دو بنیادی عناصر پر قائم ہوتا ہے: دیانت داری (انٹیگریٹی) اور اہلیت (کیپبلٹی)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جو کہتا ہے، اس پر خود بھی عمل کرتا ہے؟ کیا وہ اسے سچا اور راست گو انسان تصور کرتے ہیں؟ کیا اس کی قابلیت، مہارت اور علم کا احترام کرتے ہیں؟ یہ تمام عوامل مل کر کسی شخص کو قابلِ اعتماد اور بھروسا کرنے کے لائق بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس شخص میں اعتبار کی کمی ہو، وہ اپنی شاندار گفتگو اور مؤثر اندازِ بیان سے وقتی طور پر لوگوں کو ضرور متاثر کر سکتا ہے، مگر اس کے تعلقات دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ جب لوگوں پر اس کے متذبذب یا متضاد طرزِ عمل کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو وہ اس سے دور رہنے لگتے ہیں اور اس پر شک کرنے لگتے ہیں۔شک تعلقات کا سرطان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرکیو نمبر 2: آگاہی — تعلق کی بنیاد&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگاہی، تعلقات کو سمجھنے اور مضبوط بنانے کی بنیادی شرط ہے۔ کسی بھی صورتِ حال کو اس کی مکمل تصویر کے ساتھ سمجھنے کے لیے آگاہی ناگزیر ہوتی ہے۔ انسان کو کسی دوسرے شخص کی طرف سب سے زیادہ اس احساس سے کشش ہوتی ہے کہ اسے سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں لوگوں کو یہ احساس ملتا ہے کہ انہیں سمجھا گیا ہے، وہاں انہیں اپنائیت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہی احساسِ فہم و وابستگی مضبوط اور پائیدار تعلقات کی بنیاد بنتا ہے۔ آگاہی میں خود شناسی، خود احتسابی اور اپنے رویے کی اصلاح کا مسلسل عمل شامل ہے۔ ضروری ہے کہ انسان خود کو پہچانے اور یہ تسلیم کرے کہ بعض مواقع پر وہ اپنے جذبات پر قابو کھو دیتا ہے۔ دوسروں سے رائے لینے کا حوصلہ اور ان محرکات کو پہچاننے کی صلاحیت، جو جذباتی ردِعمل کو بھڑکاتے ہیں، تعمیری خود آگاہی کی بنیادی علامتیں ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے ماحول اور سماجی حالات سے کس حد تک باخبر ہیں۔ آپ کسی صورتِ حال کے تناظر کو کس انداز میں سمجھتے ہیں، اور یہ فہم آپ کے تعلقات کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ اس ضمن میں دو صلاحیتیں نہایت اہم ہیں: پہلی، خود کو دوسرے شخص کی جگہ رکھ کر اس کے حالات اور احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت (ہمدردانہ فہم)؛ اور دوسری، فوری فیصلہ صادر کرنے کے بجائے اس کے رویے کے پس منظر میں موجود خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔ اسی درجے کی آگاہی انسان میں دوسروں کے لیے کشادگی، قبولیت اور تعلق کا احساس پیدا کرتی ہے، جو ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں طرح کے تعلقات کو مضبوط اور مؤثر بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرکیو نمبر 3: راپورٹ — مؤثر رابطہ اور مضبوط تعلق&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راپورٹ سے مراد وہ باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور اپنائیت ہے جو لوگوں کے درمیان رابطے، ابلاغ اور تعلق کو آسان اور مؤثر بنا دیتی ہے۔ راپورٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ سامنے والے شخص میں حقیقی دلچسپی لیں، خواہ وہ آپ کی ٹیم کا رکن ہو یا کوئی ساتھی۔ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بڑے اقدامات سے زیادہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں اہم ہوتی ہیں جو آپ کی حقیقی دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں۔ مثلاً لوگوں کے نام اور چہرے یاد رکھنا فوری طور پر قربت اور تعلق کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح مثبت تجسس بھی تعلقات مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے سوالات کریں جو سامنے والے کو گفتگو میں شریک کریں، مثلاً: ”میں نے لنکڈ اِن پر آپ کی پوسٹ پڑھی، آپ کا تجزیہ بہت فکرانگیز تھا۔ اس موضوع پر آپ کی مزید کیا رائے ہے؟“ اس طرح کے سوالات لوگوں کو کھل کر بات کرنے اور تعلق کو مزید مضبوط بنانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ البتہ صرف الفاظ ہی کافی نہیں ہوتے، آپ کی جسمانی زبان (جسمانی حرکات و سکنات/ باڈی لینگویج) بھی انہی کی ترجمانی کرے۔ گفتگو کے دوران پوری توجہ سامنے والے پر مرکوز رکھیں، بار بار موبائل فون کی طرف نہ دیکھیں، نظریں ادھر اُدھر نہ دوڑائیں، اور اپنے اندازِ گفتگو سے یہ احساس دلائیں کہ آپ واقعی اس کی بات کو سمجھ رہے ہیں۔ یہ چھوٹی مگر مؤثر عادتیں باہمی احترام، اعتماد اور مضبوط تعلقات کی ایسی بنیاد رکھتی ہیں جو دیرپا اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرکیو نمبر 4: بااختیار بنائیں، تاکہ دوسروں کو ترغیب ملے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسروں کو بااختیار بنانا (ایمپاورمنٹ) مضبوط تعلقات استوار کرنے کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔ ٹیم کے ارکان کو ذمہ داریاں سونپنا، انہیں فیصلے کرنے کا اختیار دینا اور ان پر اعتماد کا اظہار کرنا اس بات کا واضح پیغام ہوتا ہے کہ آپ ان کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ بااختیار بنانے کا مطلب اپنے اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک کرنا اور ضرورت سے زیادہ کنٹرول چھوڑنا ہے۔ اس طرزِ عمل سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور انہیں ایک ایسا ماحول میسر آتا ہے جہاں وہ خود کو ذہنی طور پر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ فطری طور پر لوگ انہی افراد سے تعلق استوار کرنا پسند کرتے ہیں جو انہیں تحفظ، اعتماد اور حوصلہ فراہم کریں۔ دوسروں کو بااختیار بنانا ان کے حوصلے بلند کرتا ہے، ان کی خود اعتمادی میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں بہتر کارکردگی دکھانے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشکل حالات میں ٹیم کے ارکان کی رہنمائی کی جائے، ان کی تربیت کی جائے اور انہیں مسائل سے نکلنے میں مدد دی جائے۔ جب رہنما ایسے ساتھیوں کا ہاتھ تھامتے ہیں جو کسی مشکل میں پھنس گئے ہوں تو ان کے دل میں اپنے قائد کے لیے قدر، اعتماد اور وفاداری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بااختیار بنانے کا مطلب لوگوں کی کاوشوں کا برملا اعتراف اور انہیں عوامی سطح پر سراہنا بھی ہے۔ جب آپ لوگوں کو محض اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی صلاحیتیں محدود کر دیتے ہیں، لیکن جب آپ انہیں بااختیار بناتے ہیں تو ان کی شخصیت اور صلاحیت، دونوں کو نکھارتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنتا ہے، آپ کا اثرورسوخ بڑھاتا ہے اور باہمی اعتماد پر مبنی مضبوط شراکت داری کی بنیاد رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے آج بھی تعلقاتی استعداد کا پہلا سبق یاد ہے۔ ایک روز دفتر سے واپسی پر میری اور میری ایک ساتھی کی ایک ہی گاڑی میں گھر جانے کی منصوبہ بندی تھی۔ ہم دونوں دیر بھی کر چکی تھیں اور تھکی ہوئی بھی تھیں۔ جیسے ہی ہم دفتر سے نکلنے لگیں، میں نے دیکھا کہ ان کے فون کی گھنٹی بجی اور وہ رک گئیں۔ میں نے سوچا کہ وہ چلتے چلتے بات کر لیں گی، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے بے صبری سے انہیں اشارہ کیا کہ جلدی آئیں، کیونکہ ہمیں پہلے ہی دیر ہو رہی تھی۔ لیکن انہوں نے سکون سے میرے اشارے کو نظر انداز کیا اور پوری توجہ کے ساتھ فون پر بات کرتی رہیں۔ میں دیکھ رہی تھی کہ ان کے چہرے پر تشویش کے آثار تھے اور وہ دوسری طرف موجود شخص کی بات انتہائی انہماک سے سنے جا رہی تھیں۔ آخرکار میں اکتا کر گاڑی میں جا بیٹھی۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ آئیں۔ میں غصے کا اظہار کرنے ہی والی تھی کہ وہ مسکرائیں اور بولیں: ”ہمیں بڑی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔“ ہوا یہ کہ ہمارے ایک ایسے کلائنٹ کا فون آیا تھا جسے سنبھالنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ وہ غصے میں اپنی شکایات کیے جا رہا تھا۔ میری ساتھی نے فون پر بھی اسے پوری توجہ، خلوص اور بلاشرکتِ غیرے اپنا وقت دیا۔ یہی رویہ کارگر ثابت ہوا۔ اس ایک واقعے نے مجھے تعلقاتی ذہانت کا وہ سبق سکھایا جو شاید کوئی کتاب بھی نہ سکھا سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلقاتی استعداد (آر کیو)، محض ذہنی صلاحیت (آئی کیو) سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ جیسا کہ تھیوڈور روزویلٹ نے کہا تھا: ”لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ آپ کتنا جانتے ہیں، جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ آپ ان کی کتنی پروا کرتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ عنصر موجود بھی ہے اور گویا موجود نہیں بھی۔ اس کا فیصلہ بھی ہو چکا ہے، اسے سمجھا بھی گیا ہے اور غلط بھی سمجھا گیا ہے۔ یہ سب دراصل اُس گمشدہ عنصر کی تلاش کی مختلف صورتیں ہیں۔ وہ عنصر جس کی کمی کا احساس تو سب کو ہے، مگر بہت سی تنظیمیں آج بھی اسے واضح طور پر متعین کرنے میں ناکام ہیں۔ اس پر گفتگو بھی ہوتی ہے، لیکن اسے کامیابی کے بنیادی عوامل میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ کئی دوسری صلاحیتوں اور اوصاف میں شامل تو ہے، مگر اپنی الگ اور مستقل حیثیت میں اسے شاذ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ایک رہنما میں دوسروں کو متاثر اور حوصلہ دینے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔</strong></p>
<p>ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ منتظمین کو اپنی ٹیموں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ہم اس پر بھی بحث کرتے ہیں کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ دانش مندی سے تعلقات استوار رکھنا کس قدر اہم ہے۔ ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ صارفین کا اعتماد اور وفاداری حاصل کی جائے۔ ان تمام معاملات میں ایک چیز مشترک ہے: مضبوط اور مثبت تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت۔</p>
<p>اگر صارفین کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں تو لاکھوں روپے کی اشتہاری مہم بھی بے اثر ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح، اگر کسی ملازم کے اپنے منیجر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوں تو تنخواہ میں فراخ دلانہ اضافہ بھی اسے دل سے کام کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا۔</p>
<p>قیادت کسی عہدے کا نام نہیں، بلکہ تعلقات استوار کرنے کا ہنر ہے۔ رہنماؤں کے پاس کتنے ہی پرکشش عہدے کیوں نہ ہوں، اصل سوال یہ ہے کہ لوگ ان کی پیروی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ مجبور ہیں یا اس لیے کہ وہ خوش دلی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر جواب پہلا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس رہنما کی تعلقاتی استعداد (ریلیشنل کوشنٹ-آر کیو) کمزور ہے۔ یعنی اس میں وہ تعلقاتی ذہانت موجود نہیں جو لوگوں سے مؤثر تعلق قائم کرنے، انہیں سمجھنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔</p>
<p>درحقیقت یہی صلاحیت مؤثر قیادت، کامیاب نظم و نسق اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ تعلقاتی ذہانت سے مراد تعلقات کی نوعیت اور پیچیدگیوں کو سمجھنے، ان کی درست تعبیر کرنے اور انہیں دانش مندی سے اس انداز میں استوار رکھنے کی صلاحیت ہے کہ اعتماد، ہم آہنگی اور بامقصد تعاون فروغ پائے۔</p>
<p>تقریباً ہر تحقیق یہی بتاتی ہے کہ پیشہ ورانہ یا تکنیکی مہارتیں ملازمت حاصل کرنے میں ضرور مدد دیتی ہیں، لیکن جیسے جیسے آپ اعلیٰ ذمہ داریوں کی طرف بڑھتے ہیں، آپ کے کام کا تقریباً 80 فیصد حصہ لوگوں سے مؤثر رابطہ، ان کی سمجھ بوجھ، تعلقات استوار کرنے، اعتماد پیدا کرنے، اثرورسوخ قائم کرنے اور باہمی تعاون پر منحصر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بطور کوچ کام کرنے کے تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ نہایت ذہین کوچز کی ایک بڑی کمزوری ان کا تعلقاتی استعداد (آرکیو) ہوتا ہے۔ وہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی اہمیت کو تو بخوبی سمجھتے ہیں، مگر انسانی ذہانت اور انسانی تعلقات کی اہمیت کو سمجھنے میں اکثر نوآموز ثابت ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سے افراد میں موجود قیادت کی غیر معمولی صلاحیت صرف اس لیے ضائع ہو جاتی ہے کہ وہ تعلقاتی استعداد (آرکیو) کے کردار اور اہمیت کا ادراک نہیں کر پاتے۔</p>
<p>تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ صلاحیت سیکھی بھی جا سکتی ہے اور نکھاری بھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ کیئر(سی آے آر ای) ماڈل پر توجہ دی جائے، جس کے چار بنیادی ستون ہیں: اعتبار (کریڈیبلٹی)، آگاہی (آویئرنیس)، باہمی ہم آہنگی (راپورٹ) اور بااختیار بنانا (ایمپاورمنٹ)۔</p>
<p><strong>آر کیو نمبر 1: اعتبار — شخصیت کی ساکھ</strong></p>
<p>تعلقاتی ذہانت کی بنیاد کسی فرد کی اعتبار اور ساکھ پر استوار ہوتی ہے۔ ہر تعلق کا سب سے اہم ستون اعتماد ہے۔ کسی بھی ادارے کی بقا اور ترقی کے لیے اعتماد وہ بیج ہے جسے سب سے پہلے بونا ضروری ہوتا ہے۔ جن اداروں میں اعتماد کی فضا مضبوط ہو، وہ کم اعتماد والی تنظیموں کے مقابلے میں 250 فیصد تک بہتر نتائج حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، کسی بھی فرد، خواہ وہ منیجر ہو یا رہنما، کی اصل پہچان اس کی اعتبار اور ساکھ ہوتی ہے۔ اگر لوگ کسی پر اعتماد کرتے ہوں تو وہ اس سے تعلق استوار کرتے ہیں، اس کا احترام کرتے ہیں، اس پر بھروسا کرتے ہیں اور اس پر انحصار بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>کیئر(سی اے آر ای) ماڈل کا پہلا جزو یہی ہے کہ کسی شخص کے اعتبار کا جائزہ لیا جائے۔ اعتبار دو بنیادی عناصر پر قائم ہوتا ہے: دیانت داری (انٹیگریٹی) اور اہلیت (کیپبلٹی)۔</p>
<p>کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جو کہتا ہے، اس پر خود بھی عمل کرتا ہے؟ کیا وہ اسے سچا اور راست گو انسان تصور کرتے ہیں؟ کیا اس کی قابلیت، مہارت اور علم کا احترام کرتے ہیں؟ یہ تمام عوامل مل کر کسی شخص کو قابلِ اعتماد اور بھروسا کرنے کے لائق بناتے ہیں۔</p>
<p>جس شخص میں اعتبار کی کمی ہو، وہ اپنی شاندار گفتگو اور مؤثر اندازِ بیان سے وقتی طور پر لوگوں کو ضرور متاثر کر سکتا ہے، مگر اس کے تعلقات دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ جب لوگوں پر اس کے متذبذب یا متضاد طرزِ عمل کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو وہ اس سے دور رہنے لگتے ہیں اور اس پر شک کرنے لگتے ہیں۔شک تعلقات کا سرطان ہے۔</p>
<p><strong>آرکیو نمبر 2: آگاہی — تعلق کی بنیاد</strong></p>
<p>آگاہی، تعلقات کو سمجھنے اور مضبوط بنانے کی بنیادی شرط ہے۔ کسی بھی صورتِ حال کو اس کی مکمل تصویر کے ساتھ سمجھنے کے لیے آگاہی ناگزیر ہوتی ہے۔ انسان کو کسی دوسرے شخص کی طرف سب سے زیادہ اس احساس سے کشش ہوتی ہے کہ اسے سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں لوگوں کو یہ احساس ملتا ہے کہ انہیں سمجھا گیا ہے، وہاں انہیں اپنائیت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہی احساسِ فہم و وابستگی مضبوط اور پائیدار تعلقات کی بنیاد بنتا ہے۔ آگاہی میں خود شناسی، خود احتسابی اور اپنے رویے کی اصلاح کا مسلسل عمل شامل ہے۔ ضروری ہے کہ انسان خود کو پہچانے اور یہ تسلیم کرے کہ بعض مواقع پر وہ اپنے جذبات پر قابو کھو دیتا ہے۔ دوسروں سے رائے لینے کا حوصلہ اور ان محرکات کو پہچاننے کی صلاحیت، جو جذباتی ردِعمل کو بھڑکاتے ہیں، تعمیری خود آگاہی کی بنیادی علامتیں ہیں۔ اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے ماحول اور سماجی حالات سے کس حد تک باخبر ہیں۔ آپ کسی صورتِ حال کے تناظر کو کس انداز میں سمجھتے ہیں، اور یہ فہم آپ کے تعلقات کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟ اس ضمن میں دو صلاحیتیں نہایت اہم ہیں: پہلی، خود کو دوسرے شخص کی جگہ رکھ کر اس کے حالات اور احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت (ہمدردانہ فہم)؛ اور دوسری، فوری فیصلہ صادر کرنے کے بجائے اس کے رویے کے پس منظر میں موجود خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔ اسی درجے کی آگاہی انسان میں دوسروں کے لیے کشادگی، قبولیت اور تعلق کا احساس پیدا کرتی ہے، جو ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں طرح کے تعلقات کو مضبوط اور مؤثر بناتی ہے۔</p>
<p><strong>آرکیو نمبر 3: راپورٹ — مؤثر رابطہ اور مضبوط تعلق</strong></p>
<p>راپورٹ سے مراد وہ باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور اپنائیت ہے جو لوگوں کے درمیان رابطے، ابلاغ اور تعلق کو آسان اور مؤثر بنا دیتی ہے۔ راپورٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ سامنے والے شخص میں حقیقی دلچسپی لیں، خواہ وہ آپ کی ٹیم کا رکن ہو یا کوئی ساتھی۔ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بڑے اقدامات سے زیادہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں اہم ہوتی ہیں جو آپ کی حقیقی دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں۔ مثلاً لوگوں کے نام اور چہرے یاد رکھنا فوری طور پر قربت اور تعلق کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح مثبت تجسس بھی تعلقات مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے سوالات کریں جو سامنے والے کو گفتگو میں شریک کریں، مثلاً: ”میں نے لنکڈ اِن پر آپ کی پوسٹ پڑھی، آپ کا تجزیہ بہت فکرانگیز تھا۔ اس موضوع پر آپ کی مزید کیا رائے ہے؟“ اس طرح کے سوالات لوگوں کو کھل کر بات کرنے اور تعلق کو مزید مضبوط بنانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ البتہ صرف الفاظ ہی کافی نہیں ہوتے، آپ کی جسمانی زبان (جسمانی حرکات و سکنات/ باڈی لینگویج) بھی انہی کی ترجمانی کرے۔ گفتگو کے دوران پوری توجہ سامنے والے پر مرکوز رکھیں، بار بار موبائل فون کی طرف نہ دیکھیں، نظریں ادھر اُدھر نہ دوڑائیں، اور اپنے اندازِ گفتگو سے یہ احساس دلائیں کہ آپ واقعی اس کی بات کو سمجھ رہے ہیں۔ یہ چھوٹی مگر مؤثر عادتیں باہمی احترام، اعتماد اور مضبوط تعلقات کی ایسی بنیاد رکھتی ہیں جو دیرپا اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔</p>
<p><strong>آرکیو نمبر 4: بااختیار بنائیں، تاکہ دوسروں کو ترغیب ملے</strong></p>
<p>دوسروں کو بااختیار بنانا (ایمپاورمنٹ) مضبوط تعلقات استوار کرنے کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔ ٹیم کے ارکان کو ذمہ داریاں سونپنا، انہیں فیصلے کرنے کا اختیار دینا اور ان پر اعتماد کا اظہار کرنا اس بات کا واضح پیغام ہوتا ہے کہ آپ ان کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ بااختیار بنانے کا مطلب اپنے اختیارات میں دوسروں کو بھی شریک کرنا اور ضرورت سے زیادہ کنٹرول چھوڑنا ہے۔ اس طرزِ عمل سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور انہیں ایک ایسا ماحول میسر آتا ہے جہاں وہ خود کو ذہنی طور پر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ فطری طور پر لوگ انہی افراد سے تعلق استوار کرنا پسند کرتے ہیں جو انہیں تحفظ، اعتماد اور حوصلہ فراہم کریں۔ دوسروں کو بااختیار بنانا ان کے حوصلے بلند کرتا ہے، ان کی خود اعتمادی میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں بہتر کارکردگی دکھانے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مشکل حالات میں ٹیم کے ارکان کی رہنمائی کی جائے، ان کی تربیت کی جائے اور انہیں مسائل سے نکلنے میں مدد دی جائے۔ جب رہنما ایسے ساتھیوں کا ہاتھ تھامتے ہیں جو کسی مشکل میں پھنس گئے ہوں تو ان کے دل میں اپنے قائد کے لیے قدر، اعتماد اور وفاداری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بااختیار بنانے کا مطلب لوگوں کی کاوشوں کا برملا اعتراف اور انہیں عوامی سطح پر سراہنا بھی ہے۔ جب آپ لوگوں کو محض اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی صلاحیتیں محدود کر دیتے ہیں، لیکن جب آپ انہیں بااختیار بناتے ہیں تو ان کی شخصیت اور صلاحیت، دونوں کو نکھارتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنتا ہے، آپ کا اثرورسوخ بڑھاتا ہے اور باہمی اعتماد پر مبنی مضبوط شراکت داری کی بنیاد رکھتا ہے۔</p>
<p>مجھے آج بھی تعلقاتی استعداد کا پہلا سبق یاد ہے۔ ایک روز دفتر سے واپسی پر میری اور میری ایک ساتھی کی ایک ہی گاڑی میں گھر جانے کی منصوبہ بندی تھی۔ ہم دونوں دیر بھی کر چکی تھیں اور تھکی ہوئی بھی تھیں۔ جیسے ہی ہم دفتر سے نکلنے لگیں، میں نے دیکھا کہ ان کے فون کی گھنٹی بجی اور وہ رک گئیں۔ میں نے سوچا کہ وہ چلتے چلتے بات کر لیں گی، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے بے صبری سے انہیں اشارہ کیا کہ جلدی آئیں، کیونکہ ہمیں پہلے ہی دیر ہو رہی تھی۔ لیکن انہوں نے سکون سے میرے اشارے کو نظر انداز کیا اور پوری توجہ کے ساتھ فون پر بات کرتی رہیں۔ میں دیکھ رہی تھی کہ ان کے چہرے پر تشویش کے آثار تھے اور وہ دوسری طرف موجود شخص کی بات انتہائی انہماک سے سنے جا رہی تھیں۔ آخرکار میں اکتا کر گاڑی میں جا بیٹھی۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ آئیں۔ میں غصے کا اظہار کرنے ہی والی تھی کہ وہ مسکرائیں اور بولیں: ”ہمیں بڑی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔“ ہوا یہ کہ ہمارے ایک ایسے کلائنٹ کا فون آیا تھا جسے سنبھالنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ وہ غصے میں اپنی شکایات کیے جا رہا تھا۔ میری ساتھی نے فون پر بھی اسے پوری توجہ، خلوص اور بلاشرکتِ غیرے اپنا وقت دیا۔ یہی رویہ کارگر ثابت ہوا۔ اس ایک واقعے نے مجھے تعلقاتی ذہانت کا وہ سبق سکھایا جو شاید کوئی کتاب بھی نہ سکھا سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلقاتی استعداد (آر کیو)، محض ذہنی صلاحیت (آئی کیو) سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ جیسا کہ تھیوڈور روزویلٹ نے کہا تھا: ”لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ آپ کتنا جانتے ہیں، جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ آپ ان کی کتنی پروا کرتے ہیں۔“</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288178</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 16:47:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/01153546f7d01fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/01153546f7d01fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دانستہ چشم پوشی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288171/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک  یونانی المیہ  ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف  مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو  حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں  مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا  منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ  شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود  نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن  بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا  ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی،  اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔</strong></p>
<p>ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔</p>
<p>اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک  یونانی المیہ  ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف  مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔</p>
<p>رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو  حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں  مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا  منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ  شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔</p>
<p>ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود  نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔</p>
<p>ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔</p>
<p>مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔</p>
<p>لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن  بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔</p>
<p>تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا  ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔</p>
<p>دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی،  اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288171</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 14:47:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/01134548c8cf2ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/01134548c8cf2ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ایکویٹی سرمایہ کاری کی گنجائش، مگر مالکان کو کنٹرول کھونے کا خوف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288120/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان برسوں سے سرمایہ کی کمی کا رونا روتا آ رہا ہے۔ کاروباری ادارے کہتے ہیں کہ بینکوں سے قرض لینا حد درجہ مہنگا ہو چکا ہے، حکومت نجی سرمایہ کاری کی سست روی پر تشویش کا اظہار کرتی ہے، جبکہ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ملک کا مالیاتی نظام قرض پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب جب بھی کوئی معتبر کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنے حصص عوام کے لیے پیش کرتی ہے تو سرمایہ کار بڑھ چڑھ کر اس میں سرمایہ لگانے کے لیے سامنے آ جاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے اب یہ تاثر چھوڑ دینا چاہیے کہ مسئلہ صرف سرمایہ کی کمی کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی خواہش موجود ہے، مگر فروخت کے لیے معیاری ایکویٹی دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ درست الفاظ میں کہا جائے تو پاکستان میں ایسے کاروباری مالکان کی کمی ہے جو اپنے کاروبار میں بامعنی حصہ فروخت کرنے، کنٹرول میں شراکت داری قبول کرنے اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کو اپنانے پر آمادہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ عرصے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی نئی لسٹنگز اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ جب مضبوط کاروباری بنیاد رکھنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں تو سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی دکھائی۔ ٹائرز، تکافل، ڈیری، پولٹری، لاجسٹکس، پیٹرولیم ریٹیل اور آرای آئی ٹیز(REITs) سے متعلق کمپنیوں کے آئی پی اوز میں سرمایہ کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ متعدد ایشوز حد سے زیادہ سبسکرائب ہوئے، جبکہ بعض میں طلب پیش کردہ حصص سے کئی گنا زیادہ رہی۔ مارکیٹ نے منہ نہیں موڑا، بلکہ اصل ہچکچاہٹ کمپنیوں کے مالکان نے دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی نمایاں مثال سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) ہے۔ کمپنی ایک مضبوط صنعتی منصوبہ لے کر مارکیٹ میں آئی، جس کی بنیاد مقامی پیداوار، درآمدی متبادل، برآمدات، بڑے پیمانے پر پیداوار، ٹیکنالوجی شراکت داری اور ترقی کے واضح امکانات پر تھی۔ کمپنی نے تقریباً 38 کروڑ 97 لاکھ حصص فروخت کرکے لگ بھگ 7.77 ارب روپے جمع کیے۔ اطلاعات کے مطابق سرمایہ کاروں کی طلب پیشکش سے کئی گنا زیادہ تھی، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق مجموعی دلچسپی تقریباً 70 ارب روپے تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود کمپنی نے آئی پی او کے بعد اپنے مجموعی حصص کا صرف 5 فیصد ہی عوام کو فروخت کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سرمایہ کار اتنی آسانی سے اس پیشکش کو جذب کرنے کے لیے تیار تھے تو پھر صرف 5 فیصد حصص ہی کیوں فروخت کیے گئے؟ 10، 15 یا 20 فیصد کیوں نہیں؟ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی کو حقیقی معنوں میں ایک وسیع عوامی ملکیت والی کمپنی کیوں نہ بنایا گیا؟ آخر بازار میں دعوت تو بھرپور دی گئی، مگر پلیٹ میں چند لقمے ہی کیوں رکھے گئے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب سادہ ہے۔ پاکستان کے کاروباری خاندان اسٹاک مارکیٹ کے فوائد تو چاہتے ہیں، مگر اس کے تقاضے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں اپنی کمپنی کی بہتر قدر (ویلیوایشن) چاہیے، حصص میں لیکویڈیٹی چاہیے، وقار چاہیے، نسبتاً کم لاگت پر سرمایہ چاہیے اور لسٹڈ کمپنی ہونے کی ساکھ بھی درکار ہے۔ لیکن وہ اپنی ملکیت میں کمی (ڈائلوشن) نہیں چاہتے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ آزاد شیئر ہولڈرز سخت سوالات کریں، تجزیہ کار ان کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں، ادارہ جاتی سرمایہ کار نظم و ضبط پر زور دیں، بورڈ آف ڈائریکٹرز حقیقی معنوں میں بااختیار ہو جائے، یا کاروبار کا کنٹرول ڈرائنگ روم سے نکل کر بورڈ روم تک منتقل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیشتر اسپانسر گروپس کے نزدیک اسٹاک ایکسچینج ملکیت میں شراکت داری کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ محض سرمایہ اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ لسٹنگز کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ سروس لانگ مارچ ٹائرز نے آئی پی او کے بعد صرف تقریباً 5 فیصد ایکویٹی عوام کو فروخت کی۔ ستارہ پیٹرولیم نے اپنے عوامی آئی پی او میں تقریباً 10 فیصد حصص پیش کیے، اگرچہ پری آئی پی او پلیسمنٹ سمیت مجموعی ایشو اس سے بڑا تھا۔ بلو-ایکس کی مین بورڈ پر منتقلی کے دوران صرف 3.5 فیصد سرمایہ عوام کو پیش کیا گیا۔ وحدت پولٹری نے تقریباً 15.8 فیصد، غنی ڈیریز نے 24.3 فیصد، جبکہ پاک قطر فیملی تکافل اور پاک قطر جنرل تکافل نے بالترتیب 21.7 فیصد اور 29.7 فیصد حصص عوام کے لیے جاری کیے۔ آرای آئی ٹیز کے معاملے میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی، جہاں امیج آرای آئی ٹی نے 33.4 فیصد جبکہ جے ایس رینٹل آرای آئی ٹی اور سگنیچر ریذیڈنسی آرای آئی ٹی نے تقریباً 25، 25 فیصد فری فلوٹ فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ان حالیہ لسٹنگز کے ذریعے تقریباً 18.6 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جبکہ پیشکش کی قیمتوں کے مطابق ان کمپنیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 220 ارب روپے بنتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ الفاظ میں، تقریباً 220 ارب روپے مالیت کے کاروبار اسٹاک ایکسچینج میں آئے، مگر عوام کو ان میں سے صرف 18.6 ارب روپے کے حصص خریدنے کا موقع ملا۔ یعنی مارکیٹ میں آنے والی ہر 100 روپے مالیت میں سے بمشکل 8 روپے کے حصص بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب تھے، جبکہ باقی 92 روپے کی ملکیت اسپانسرز، اصل مالکان یا کنٹرولنگ شیئر ہولڈرز کے پاس ہی برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ فرق ہے جو ایک حقیقی کیپیٹل مارکیٹ اور محض علامتی لسٹنگ والی مارکیٹ کے درمیان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حقیقی کیپیٹل مارکیٹ ملکیت کا دائرہ وسیع کرتی ہے۔ یہ ایسی کمپنیوں کو جنم دیتی ہے جن کے حصص میں مناسب خرید و فروخت ممکن ہو، ادارہ جاتی نگرانی کو فروغ دیتی ہے، معلومات کے انکشاف (ڈسکلوزر) کو بہتر بناتی ہے اور اقلیتی شیئر ہولڈرز کو مؤثر آواز فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے پنشن فنڈز، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں اور عام سرمایہ کار ترقی کرتی ہوئی کمپنیوں میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو بینک قرضوں پر انحصار بڑھانے کے بجائے ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ انہیں اپنی حکمت عملی کی وضاحت، کارکردگی کا دفاع اور کارپوریٹ گورننس بہتر بنانے کا بھی پابند ہونا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، محض علامتی لسٹنگ اس کے الٹ نتائج دیتی ہے۔ اس سے کمپنی کو تو مارکیٹ ویلیو مل جاتی ہے، مگر حقیقی معنوں میں مارکیٹ کا احتساب نہیں ہوتا۔ اسپانسرز کو لیکویڈیٹی تو حاصل ہو جاتی ہے، مگر جوابدہی نہیں آتی۔ مارکیٹ میں صرف اتنے ہی حصص لائے جاتے ہیں جن کی محدود خرید و فروخت ممکن ہو، جبکہ کنٹرول بدستور مالکان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ یوں کمپنی لسٹڈ ہونے کی ساکھ تو حاصل کر لیتی ہے، لیکن اس کا طرزِ عمل ایک نجی خاندانی کاروبار جیسا ہی رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال کم شرح سود کے مسلسل مطالبے کی حقیقت بھی بے نقاب کرتی ہے۔ کاروباری حلقے بارہا کہتے ہیں کہ مہنگے قرضوں کی وجہ سے سرمایہ کاری ممکن نہیں رہی۔ اس شکایت میں کچھ وزن ضرور ہے، مگر پوری حقیقت یہی نہیں۔ اگر قرض لینا واقعی اتنا ناقابلِ برداشت ہے تو پھر کاروباری مالکان زیادہ مقدار میں ایکویٹی کیوں نہیں فروخت کرتے؟ اگر بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہے تو کمپنی کے 20 یا 30 فیصد حصص مارکیٹ میں فروخت کرکے توسیعی منصوبوں کے لیے سرمایہ کیوں نہیں اکٹھا کیا جاتا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب قدرے تلخ ہے: بہت سے مالکان کنٹرول میں شراکت قبول کرنے کے بجائے سود ادا کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ قرض لینا، حکومتی رعایتیں مانگنا، رعایتی شرح پر قرض حاصل کرنے کی کوشش کرنا، مالی سہولتوں کا مطالبہ کرنا اور تمام ذمہ داری مانیٹری پالیسی پر ڈالنا تو قبول کر لیتے ہیں، مگر اپنی ملکیت میں بامعنی کمی (ڈائلوشن) برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ قرض کی قیمت پر تو اعتراض کرتے ہیں، مگر جس قیمت سے وہ سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں، وہ کنٹرول میں کمی ہے۔ پاکستان میں حقیقی شرح سود شاید بلند ہو، لیکن بظاہر کاروباری مالکان کے نزدیک کنٹرول بانٹنے کی ”جذباتی قیمت“ اس سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے پاکستان میں ایکویٹی کی فراہمی محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔ حالیہ لسٹنگز اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔ سرمایہ کاروں نے صنعتی، مالیاتی، خدمات اور رئیل اسٹیٹ سے منسلک کمپنیوں میں نمایاں دلچسپی دکھائی ہے۔ طلب موجود ہے، کمی صرف اسپانسرز کی جانب سے حصص کی فراہمی میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا محدود حجم اور اس کی ساختی کمزوریاں بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ اب بھی نسبتاً چھوٹی، جذباتی رجحانات سے متاثر اور حکومتی پالیسیوں، زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، ٹیکس قوانین میں تبدیلی، سیاسی بے یقینی اور شرح سود سے متعلق توقعات میں اچانک تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ چند شعبے اور بڑی کمپنیاں ہی زیادہ تر لین دین پر حاوی رہتی ہیں، جبکہ متعدد لسٹڈ کمپنیوں کے حصص طویل عرصے تک غیر فعال رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے۔ اسپانسرز حصص کا بڑا حصہ مارکیٹ میں لانے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سیکنڈری مارکیٹ کی محدود گہرائی کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ مارکیٹ اسی لیے اتھلی رہتی ہے کہ اسپانسرز صرف معمولی مقدار میں حصص فروخت کرتے ہیں۔ نتیجتاً آئی پی او کے وقت تو مارکیٹ میں جوش و خروش دکھائی دیتا ہے، مگر طویل المدتی سرمایہ سازی کے لیے درکار گہرائی، وسعت اور استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔ محدود فری فلوٹ اتار چڑھاؤ کو بڑھاتا ہے، اور یہی اتار چڑھاؤ مزید محدود فری فلوٹ کا جواز بن جاتا ہے۔ پاکستان برسوں سے اسی دائرے میں پھنسا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کا مالیاتی نظام شدید عدم توازن کا شکار ہے۔ کارپوریٹ فنانسنگ پر بینکوں کا غلبہ ہے، حکومتی قرض گیری نجی شعبے کے لیے سرمایہ کی دستیابی محدود کر دیتی ہے، کمپنیاں قرض پر انحصار کرتی رہتی ہیں، نجی سرمایہ کاری کمزور رہتی ہے، اسٹاک مارکیٹ مطلوبہ وسعت حاصل نہیں کر پاتی، جبکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی، فعال اور بہتر کارپوریٹ گورننس رکھنے والی کمپنیوں کی تعداد محدود رہتی ہے۔ دوسری جانب عام بچت کنندگان کے پاس بھی ایسی سنجیدہ سرمایہ کاری کے مواقع کم رہ جاتے ہیں جن کے ذریعے وہ کارپوریٹ ترقی میں شریک ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ سازی کیوں کمزور ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ایسا مالیاتی نظام تشکیل دیا ہے جہاں کاروباری مالکان سرمایہ تو چاہتے ہیں مگر ملکیت بانٹنے پر آمادہ نہیں، بینک نجی شعبے کے بجائے حکومت کو قرض دینا زیادہ پسند کرتے ہیں، اور اسٹاک مارکیٹ کو اسپانسرز کی میز سے صرف بچا کھچا حصہ ہی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ریگولیٹرز اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اپنی کامیابی صرف نئی لسٹنگز کی تعداد سے نہیں ناپنی چاہیے۔ زیادہ اہم سوالات یہ ہیں: کمپنی نے حقیقت میں کتنی ایکویٹی عوام کو فروخت کی؟ حاصل ہونے والا کتنا سرمایہ کمپنی میں گیا اور کتنا فروخت کنندہ شیئر ہولڈرز کو ملا؟ فری فلوٹ کتنا ہے؟ کیا اس لسٹنگ سے کارپوریٹ گورننس بہتر ہوگی؟ کیا اقلیتی شیئر ہولڈرز کا کردار مؤثر ہوگا؟ کیا بورڈ آف ڈائریکٹرز مزید مضبوط ہوگا؟ کیا معلومات کے انکشاف کا معیار بہتر ہوگا؟ اور کیا ابتدائی چند تجارتی سیشنز کے بعد بھی حصص میں حقیقی لیکویڈیٹی برقرار رہے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو کمپنی اپنے صرف 5 فیصد حصص عوام کو فروخت کرتی ہے، اسے اس کمپنی کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا جو 25 یا 30 فیصد حصص مارکیٹ میں پیش کرتی ہے۔ دونوں کو مارکیٹ کی ترقی میں یکساں کردار ادا کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محدود فری فلوٹ شاید آئی پی او کی سرخیاں تو بنا دے، لیکن اس سے ایک مضبوط اور حقیقی سرمایہ بازار وجود میں نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسٹنگ سے متعلق مراعات بھی ایسی ہونی چاہییں جو حقیقی معنوں میں عوام کو زیادہ حصص فروخت کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جو کمپنیاں اپنے کاروبار کا بڑا حصہ عوام کے لیے پیش کریں، انہیں لسٹنگ کی تیز تر منظوری، زیادہ نمایاں مقام، اشاریوں (انڈائسز) میں شامل ہونے کے بہتر مواقع اور مسلسل تعمیل (کمپلائنس) کی کم لاگت جیسی سہولتیں ملنی چاہییں۔ اس کے برعکس، جو کمپنیاں محض علامتی مقدار میں حصص فروخت کریں، انہیں بھی صرف علامتی پذیرائی ہی ملنی چاہیے۔ مارکیٹ کو نمائشی لسٹنگز کی نہیں، بلکہ ایسی کمپنیوں کی ضرورت ہے جن میں حقیقی سرمایہ کاری کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی اصول کا اطلاق نجکاری پر بھی ہونا چاہیے۔ سرکاری اثاثے خاموشی سے چند پہلے سے طاقتور نجی کاروباری گروپوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہییں۔ جہاں بھی ممکن ہو، نجکاری وسیع عوامی شیئر آفرنگ، لازمی لسٹنگ، حصص کی وسیع تقسیم اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کی شرائط کے تحت کی جانی چاہیے۔ بصورت دیگر، ملک صرف سرکاری اجارہ داری کو نجی ارتکاز میں تبدیل کرے گا۔ یہ اصلاحات نہیں، بلکہ صرف مالک کی تبدیلی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو خاندانی کنٹرول کے کلچر کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندانی کاروبار بہترین کمپنیاں قائم کر سکتے ہیں، اور پاکستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن جو کمپنیاں عوامی سرمایہ حاصل کرنا چاہتی ہیں، انہیں عوامی احتساب بھی قبول کرنا ہوگا۔ ملکیت کے تصور کو کارپوریٹ گورننس میں ڈھالنا ہوگا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہوگا۔ آزاد ڈائریکٹرز صرف نام کے نہیں بلکہ عملی طور پر بھی آزاد ہونے چاہییں، نہ کہ رشتے داروں کو مختلف عنوانات دے کر یہ تقاضا پورا کیا جائے۔ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق صرف کاغذی نہیں بلکہ قابلِ نفاذ ہونے چاہییں۔ پیشہ ور انتظامیہ کو حقیقی اختیارات ملنے چاہییں، جبکہ معلومات کے انکشاف (ڈسکلوزر) کو محض رسمی کارروائی کے بجائے ایک مستقل ادارہ جاتی ذمہ داری بنایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار میں ملکیت کا کچھ حصہ فروخت کرنا کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اکثر یہی کسی کمپنی کے بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کی قیمت ہوتی ہے۔ سنجیدہ کاروباری افراد وسعت کے لیے اپنی ملکیت میں کمی قبول کرتے ہیں۔ مضبوط کمپنیاں سرمایہ، باصلاحیت افراد اور ساکھ حاصل کرنے کے لیے ایکویٹی فروخت کرتی ہیں، جبکہ ترقی یافتہ سرمایہ بازار چند ہاتھوں میں مرتکز ملکیت کو وسیع عوامی خوشحالی میں تبدیل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو کاروباری مالک اپنی ملکیت میں کمی قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ شاید اپنا کنٹرول تو برقرار رکھ لے، مگر اکثر اس کی قیمت کمپنی کی ترقی کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی کمپنیاں عوامی کمپنی جیسی قدر (ویلوایشن) تو چاہتی ہیں، مگر ان کا انتظام نجی خاندانی کاروبار ہی کی طرز پر چلانا چاہتی ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ جدید سرمایہ بازار تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) کی لسٹنگ ایک لحاظ سے حوصلہ افزا اور دوسرے لحاظ سے چشم کشا ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ سرمایہ کار مضبوط صنعتی منصوبوں پر اعتماد کرتے ہیں، پاکستان میں ایکویٹی سرمایہ حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے اور بچت کرنے والے سرمایہ کار ترقی کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس نے یہ حقیقت بھی آشکار کی کہ پاکستان کی بہترین کمپنیوں کی ملکیت کا بہت معمولی حصہ ہی عوام کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو صرف زیادہ لسٹنگز کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے سرمایہ بازار کی ضرورت ہے جہاں فری فلوٹ زیادہ ہو، کارپوریٹ گورننس مضبوط ہو، حصص میں گہری لیکویڈیٹی موجود ہو، پیشہ ور انتظامیہ کو اختیارات حاصل ہوں اور کاروباری مالکان مارکیٹ کو حقیقی معنوں میں اپنا شراکت دار بنانے پر آمادہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ سرمایہ کاروں میں سرمایہ کاری کا جذبہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے کاروباری مالکان میں جوابدہی قبول کرنے کا جذبہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ ، بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان برسوں سے سرمایہ کی کمی کا رونا روتا آ رہا ہے۔ کاروباری ادارے کہتے ہیں کہ بینکوں سے قرض لینا حد درجہ مہنگا ہو چکا ہے، حکومت نجی سرمایہ کاری کی سست روی پر تشویش کا اظہار کرتی ہے، جبکہ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ملک کا مالیاتی نظام قرض پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب جب بھی کوئی معتبر کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنے حصص عوام کے لیے پیش کرتی ہے تو سرمایہ کار بڑھ چڑھ کر اس میں سرمایہ لگانے کے لیے سامنے آ جاتے ہیں۔</strong></p>
<p>اس لیے اب یہ تاثر چھوڑ دینا چاہیے کہ مسئلہ صرف سرمایہ کی کمی کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی خواہش موجود ہے، مگر فروخت کے لیے معیاری ایکویٹی دستیاب نہیں۔</p>
<p>زیادہ درست الفاظ میں کہا جائے تو پاکستان میں ایسے کاروباری مالکان کی کمی ہے جو اپنے کاروبار میں بامعنی حصہ فروخت کرنے، کنٹرول میں شراکت داری قبول کرنے اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کو اپنانے پر آمادہ ہوں۔</p>
<p>حالیہ عرصے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی نئی لسٹنگز اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ جب مضبوط کاروباری بنیاد رکھنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں تو سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی دکھائی۔ ٹائرز، تکافل، ڈیری، پولٹری، لاجسٹکس، پیٹرولیم ریٹیل اور آرای آئی ٹیز(REITs) سے متعلق کمپنیوں کے آئی پی اوز میں سرمایہ کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ متعدد ایشوز حد سے زیادہ سبسکرائب ہوئے، جبکہ بعض میں طلب پیش کردہ حصص سے کئی گنا زیادہ رہی۔ مارکیٹ نے منہ نہیں موڑا، بلکہ اصل ہچکچاہٹ کمپنیوں کے مالکان نے دکھائی۔</p>
<p>اس کی نمایاں مثال سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) ہے۔ کمپنی ایک مضبوط صنعتی منصوبہ لے کر مارکیٹ میں آئی، جس کی بنیاد مقامی پیداوار، درآمدی متبادل، برآمدات، بڑے پیمانے پر پیداوار، ٹیکنالوجی شراکت داری اور ترقی کے واضح امکانات پر تھی۔ کمپنی نے تقریباً 38 کروڑ 97 لاکھ حصص فروخت کرکے لگ بھگ 7.77 ارب روپے جمع کیے۔ اطلاعات کے مطابق سرمایہ کاروں کی طلب پیشکش سے کئی گنا زیادہ تھی، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق مجموعی دلچسپی تقریباً 70 ارب روپے تک جا پہنچی۔</p>
<p>اس کے باوجود کمپنی نے آئی پی او کے بعد اپنے مجموعی حصص کا صرف 5 فیصد ہی عوام کو فروخت کیا۔</p>
<p>اگر سرمایہ کار اتنی آسانی سے اس پیشکش کو جذب کرنے کے لیے تیار تھے تو پھر صرف 5 فیصد حصص ہی کیوں فروخت کیے گئے؟ 10، 15 یا 20 فیصد کیوں نہیں؟ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی کو حقیقی معنوں میں ایک وسیع عوامی ملکیت والی کمپنی کیوں نہ بنایا گیا؟ آخر بازار میں دعوت تو بھرپور دی گئی، مگر پلیٹ میں چند لقمے ہی کیوں رکھے گئے؟</p>
<p>اس کا جواب سادہ ہے۔ پاکستان کے کاروباری خاندان اسٹاک مارکیٹ کے فوائد تو چاہتے ہیں، مگر اس کے تقاضے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔</p>
<p>انہیں اپنی کمپنی کی بہتر قدر (ویلیوایشن) چاہیے، حصص میں لیکویڈیٹی چاہیے، وقار چاہیے، نسبتاً کم لاگت پر سرمایہ چاہیے اور لسٹڈ کمپنی ہونے کی ساکھ بھی درکار ہے۔ لیکن وہ اپنی ملکیت میں کمی (ڈائلوشن) نہیں چاہتے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ آزاد شیئر ہولڈرز سخت سوالات کریں، تجزیہ کار ان کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں، ادارہ جاتی سرمایہ کار نظم و ضبط پر زور دیں، بورڈ آف ڈائریکٹرز حقیقی معنوں میں بااختیار ہو جائے، یا کاروبار کا کنٹرول ڈرائنگ روم سے نکل کر بورڈ روم تک منتقل ہو۔</p>
<p>بیشتر اسپانسر گروپس کے نزدیک اسٹاک ایکسچینج ملکیت میں شراکت داری کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ محض سرمایہ اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔</p>
<p>حالیہ لسٹنگز کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ سروس لانگ مارچ ٹائرز نے آئی پی او کے بعد صرف تقریباً 5 فیصد ایکویٹی عوام کو فروخت کی۔ ستارہ پیٹرولیم نے اپنے عوامی آئی پی او میں تقریباً 10 فیصد حصص پیش کیے، اگرچہ پری آئی پی او پلیسمنٹ سمیت مجموعی ایشو اس سے بڑا تھا۔ بلو-ایکس کی مین بورڈ پر منتقلی کے دوران صرف 3.5 فیصد سرمایہ عوام کو پیش کیا گیا۔ وحدت پولٹری نے تقریباً 15.8 فیصد، غنی ڈیریز نے 24.3 فیصد، جبکہ پاک قطر فیملی تکافل اور پاک قطر جنرل تکافل نے بالترتیب 21.7 فیصد اور 29.7 فیصد حصص عوام کے لیے جاری کیے۔ آرای آئی ٹیز کے معاملے میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی، جہاں امیج آرای آئی ٹی نے 33.4 فیصد جبکہ جے ایس رینٹل آرای آئی ٹی اور سگنیچر ریذیڈنسی آرای آئی ٹی نے تقریباً 25، 25 فیصد فری فلوٹ فراہم کیا۔</p>
<p>مجموعی طور پر ان حالیہ لسٹنگز کے ذریعے تقریباً 18.6 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جبکہ پیشکش کی قیمتوں کے مطابق ان کمپنیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 220 ارب روپے بنتی تھی۔</p>
<p>سادہ الفاظ میں، تقریباً 220 ارب روپے مالیت کے کاروبار اسٹاک ایکسچینج میں آئے، مگر عوام کو ان میں سے صرف 18.6 ارب روپے کے حصص خریدنے کا موقع ملا۔ یعنی مارکیٹ میں آنے والی ہر 100 روپے مالیت میں سے بمشکل 8 روپے کے حصص بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب تھے، جبکہ باقی 92 روپے کی ملکیت اسپانسرز، اصل مالکان یا کنٹرولنگ شیئر ہولڈرز کے پاس ہی برقرار رہی۔</p>
<p>یہی وہ فرق ہے جو ایک حقیقی کیپیٹل مارکیٹ اور محض علامتی لسٹنگ والی مارکیٹ کے درمیان ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک حقیقی کیپیٹل مارکیٹ ملکیت کا دائرہ وسیع کرتی ہے۔ یہ ایسی کمپنیوں کو جنم دیتی ہے جن کے حصص میں مناسب خرید و فروخت ممکن ہو، ادارہ جاتی نگرانی کو فروغ دیتی ہے، معلومات کے انکشاف (ڈسکلوزر) کو بہتر بناتی ہے اور اقلیتی شیئر ہولڈرز کو مؤثر آواز فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے پنشن فنڈز، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں اور عام سرمایہ کار ترقی کرتی ہوئی کمپنیوں میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو بینک قرضوں پر انحصار بڑھانے کے بجائے ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ انہیں اپنی حکمت عملی کی وضاحت، کارکردگی کا دفاع اور کارپوریٹ گورننس بہتر بنانے کا بھی پابند ہونا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس، محض علامتی لسٹنگ اس کے الٹ نتائج دیتی ہے۔ اس سے کمپنی کو تو مارکیٹ ویلیو مل جاتی ہے، مگر حقیقی معنوں میں مارکیٹ کا احتساب نہیں ہوتا۔ اسپانسرز کو لیکویڈیٹی تو حاصل ہو جاتی ہے، مگر جوابدہی نہیں آتی۔ مارکیٹ میں صرف اتنے ہی حصص لائے جاتے ہیں جن کی محدود خرید و فروخت ممکن ہو، جبکہ کنٹرول بدستور مالکان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ یوں کمپنی لسٹڈ ہونے کی ساکھ تو حاصل کر لیتی ہے، لیکن اس کا طرزِ عمل ایک نجی خاندانی کاروبار جیسا ہی رہتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال کم شرح سود کے مسلسل مطالبے کی حقیقت بھی بے نقاب کرتی ہے۔ کاروباری حلقے بارہا کہتے ہیں کہ مہنگے قرضوں کی وجہ سے سرمایہ کاری ممکن نہیں رہی۔ اس شکایت میں کچھ وزن ضرور ہے، مگر پوری حقیقت یہی نہیں۔ اگر قرض لینا واقعی اتنا ناقابلِ برداشت ہے تو پھر کاروباری مالکان زیادہ مقدار میں ایکویٹی کیوں نہیں فروخت کرتے؟ اگر بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہے تو کمپنی کے 20 یا 30 فیصد حصص مارکیٹ میں فروخت کرکے توسیعی منصوبوں کے لیے سرمایہ کیوں نہیں اکٹھا کیا جاتا؟</p>
<p>اس کا جواب قدرے تلخ ہے: بہت سے مالکان کنٹرول میں شراکت قبول کرنے کے بجائے سود ادا کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔</p>
<p>وہ قرض لینا، حکومتی رعایتیں مانگنا، رعایتی شرح پر قرض حاصل کرنے کی کوشش کرنا، مالی سہولتوں کا مطالبہ کرنا اور تمام ذمہ داری مانیٹری پالیسی پر ڈالنا تو قبول کر لیتے ہیں، مگر اپنی ملکیت میں بامعنی کمی (ڈائلوشن) برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ قرض کی قیمت پر تو اعتراض کرتے ہیں، مگر جس قیمت سے وہ سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں، وہ کنٹرول میں کمی ہے۔ پاکستان میں حقیقی شرح سود شاید بلند ہو، لیکن بظاہر کاروباری مالکان کے نزدیک کنٹرول بانٹنے کی ”جذباتی قیمت“ اس سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>اسی لیے پاکستان میں ایکویٹی کی فراہمی محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔ حالیہ لسٹنگز اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔ سرمایہ کاروں نے صنعتی، مالیاتی، خدمات اور رئیل اسٹیٹ سے منسلک کمپنیوں میں نمایاں دلچسپی دکھائی ہے۔ طلب موجود ہے، کمی صرف اسپانسرز کی جانب سے حصص کی فراہمی میں ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا محدود حجم اور اس کی ساختی کمزوریاں بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ اب بھی نسبتاً چھوٹی، جذباتی رجحانات سے متاثر اور حکومتی پالیسیوں، زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، ٹیکس قوانین میں تبدیلی، سیاسی بے یقینی اور شرح سود سے متعلق توقعات میں اچانک تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ چند شعبے اور بڑی کمپنیاں ہی زیادہ تر لین دین پر حاوی رہتی ہیں، جبکہ متعدد لسٹڈ کمپنیوں کے حصص طویل عرصے تک غیر فعال رہتے ہیں۔</p>
<p>اس سے ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے۔ اسپانسرز حصص کا بڑا حصہ مارکیٹ میں لانے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سیکنڈری مارکیٹ کی محدود گہرائی کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ مارکیٹ اسی لیے اتھلی رہتی ہے کہ اسپانسرز صرف معمولی مقدار میں حصص فروخت کرتے ہیں۔ نتیجتاً آئی پی او کے وقت تو مارکیٹ میں جوش و خروش دکھائی دیتا ہے، مگر طویل المدتی سرمایہ سازی کے لیے درکار گہرائی، وسعت اور استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔ محدود فری فلوٹ اتار چڑھاؤ کو بڑھاتا ہے، اور یہی اتار چڑھاؤ مزید محدود فری فلوٹ کا جواز بن جاتا ہے۔ پاکستان برسوں سے اسی دائرے میں پھنسا ہوا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کا مالیاتی نظام شدید عدم توازن کا شکار ہے۔ کارپوریٹ فنانسنگ پر بینکوں کا غلبہ ہے، حکومتی قرض گیری نجی شعبے کے لیے سرمایہ کی دستیابی محدود کر دیتی ہے، کمپنیاں قرض پر انحصار کرتی رہتی ہیں، نجی سرمایہ کاری کمزور رہتی ہے، اسٹاک مارکیٹ مطلوبہ وسعت حاصل نہیں کر پاتی، جبکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی، فعال اور بہتر کارپوریٹ گورننس رکھنے والی کمپنیوں کی تعداد محدود رہتی ہے۔ دوسری جانب عام بچت کنندگان کے پاس بھی ایسی سنجیدہ سرمایہ کاری کے مواقع کم رہ جاتے ہیں جن کے ذریعے وہ کارپوریٹ ترقی میں شریک ہو سکیں۔</p>
<p>پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ سازی کیوں کمزور ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ایسا مالیاتی نظام تشکیل دیا ہے جہاں کاروباری مالکان سرمایہ تو چاہتے ہیں مگر ملکیت بانٹنے پر آمادہ نہیں، بینک نجی شعبے کے بجائے حکومت کو قرض دینا زیادہ پسند کرتے ہیں، اور اسٹاک مارکیٹ کو اسپانسرز کی میز سے صرف بچا کھچا حصہ ہی ملتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے ریگولیٹرز اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اپنی کامیابی صرف نئی لسٹنگز کی تعداد سے نہیں ناپنی چاہیے۔ زیادہ اہم سوالات یہ ہیں: کمپنی نے حقیقت میں کتنی ایکویٹی عوام کو فروخت کی؟ حاصل ہونے والا کتنا سرمایہ کمپنی میں گیا اور کتنا فروخت کنندہ شیئر ہولڈرز کو ملا؟ فری فلوٹ کتنا ہے؟ کیا اس لسٹنگ سے کارپوریٹ گورننس بہتر ہوگی؟ کیا اقلیتی شیئر ہولڈرز کا کردار مؤثر ہوگا؟ کیا بورڈ آف ڈائریکٹرز مزید مضبوط ہوگا؟ کیا معلومات کے انکشاف کا معیار بہتر ہوگا؟ اور کیا ابتدائی چند تجارتی سیشنز کے بعد بھی حصص میں حقیقی لیکویڈیٹی برقرار رہے گی؟</p>
<p>جو کمپنی اپنے صرف 5 فیصد حصص عوام کو فروخت کرتی ہے، اسے اس کمپنی کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا جو 25 یا 30 فیصد حصص مارکیٹ میں پیش کرتی ہے۔ دونوں کو مارکیٹ کی ترقی میں یکساں کردار ادا کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محدود فری فلوٹ شاید آئی پی او کی سرخیاں تو بنا دے، لیکن اس سے ایک مضبوط اور حقیقی سرمایہ بازار وجود میں نہیں آتا۔</p>
<p>لسٹنگ سے متعلق مراعات بھی ایسی ہونی چاہییں جو حقیقی معنوں میں عوام کو زیادہ حصص فروخت کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جو کمپنیاں اپنے کاروبار کا بڑا حصہ عوام کے لیے پیش کریں، انہیں لسٹنگ کی تیز تر منظوری، زیادہ نمایاں مقام، اشاریوں (انڈائسز) میں شامل ہونے کے بہتر مواقع اور مسلسل تعمیل (کمپلائنس) کی کم لاگت جیسی سہولتیں ملنی چاہییں۔ اس کے برعکس، جو کمپنیاں محض علامتی مقدار میں حصص فروخت کریں، انہیں بھی صرف علامتی پذیرائی ہی ملنی چاہیے۔ مارکیٹ کو نمائشی لسٹنگز کی نہیں، بلکہ ایسی کمپنیوں کی ضرورت ہے جن میں حقیقی سرمایہ کاری کی جا سکے۔</p>
<p>اسی اصول کا اطلاق نجکاری پر بھی ہونا چاہیے۔ سرکاری اثاثے خاموشی سے چند پہلے سے طاقتور نجی کاروباری گروپوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہییں۔ جہاں بھی ممکن ہو، نجکاری وسیع عوامی شیئر آفرنگ، لازمی لسٹنگ، حصص کی وسیع تقسیم اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کی شرائط کے تحت کی جانی چاہیے۔ بصورت دیگر، ملک صرف سرکاری اجارہ داری کو نجی ارتکاز میں تبدیل کرے گا۔ یہ اصلاحات نہیں، بلکہ صرف مالک کی تبدیلی ہوگی۔</p>
<p>پاکستان کو خاندانی کنٹرول کے کلچر کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندانی کاروبار بہترین کمپنیاں قائم کر سکتے ہیں، اور پاکستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن جو کمپنیاں عوامی سرمایہ حاصل کرنا چاہتی ہیں، انہیں عوامی احتساب بھی قبول کرنا ہوگا۔ ملکیت کے تصور کو کارپوریٹ گورننس میں ڈھالنا ہوگا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہوگا۔ آزاد ڈائریکٹرز صرف نام کے نہیں بلکہ عملی طور پر بھی آزاد ہونے چاہییں، نہ کہ رشتے داروں کو مختلف عنوانات دے کر یہ تقاضا پورا کیا جائے۔ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق صرف کاغذی نہیں بلکہ قابلِ نفاذ ہونے چاہییں۔ پیشہ ور انتظامیہ کو حقیقی اختیارات ملنے چاہییں، جبکہ معلومات کے انکشاف (ڈسکلوزر) کو محض رسمی کارروائی کے بجائے ایک مستقل ادارہ جاتی ذمہ داری بنایا جانا چاہیے۔</p>
<p>کاروبار میں ملکیت کا کچھ حصہ فروخت کرنا کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اکثر یہی کسی کمپنی کے بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کی قیمت ہوتی ہے۔ سنجیدہ کاروباری افراد وسعت کے لیے اپنی ملکیت میں کمی قبول کرتے ہیں۔ مضبوط کمپنیاں سرمایہ، باصلاحیت افراد اور ساکھ حاصل کرنے کے لیے ایکویٹی فروخت کرتی ہیں، جبکہ ترقی یافتہ سرمایہ بازار چند ہاتھوں میں مرتکز ملکیت کو وسیع عوامی خوشحالی میں تبدیل کرتے ہیں۔</p>
<p>جو کاروباری مالک اپنی ملکیت میں کمی قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ شاید اپنا کنٹرول تو برقرار رکھ لے، مگر اکثر اس کی قیمت کمپنی کی ترقی کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی کمپنیاں عوامی کمپنی جیسی قدر (ویلوایشن) تو چاہتی ہیں، مگر ان کا انتظام نجی خاندانی کاروبار ہی کی طرز پر چلانا چاہتی ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ جدید سرمایہ بازار تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>اسی لیے سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) کی لسٹنگ ایک لحاظ سے حوصلہ افزا اور دوسرے لحاظ سے چشم کشا ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ سرمایہ کار مضبوط صنعتی منصوبوں پر اعتماد کرتے ہیں، پاکستان میں ایکویٹی سرمایہ حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے اور بچت کرنے والے سرمایہ کار ترقی کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس نے یہ حقیقت بھی آشکار کی کہ پاکستان کی بہترین کمپنیوں کی ملکیت کا بہت معمولی حصہ ہی عوام کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو صرف زیادہ لسٹنگز کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے سرمایہ بازار کی ضرورت ہے جہاں فری فلوٹ زیادہ ہو، کارپوریٹ گورننس مضبوط ہو، حصص میں گہری لیکویڈیٹی موجود ہو، پیشہ ور انتظامیہ کو اختیارات حاصل ہوں اور کاروباری مالکان مارکیٹ کو حقیقی معنوں میں اپنا شراکت دار بنانے پر آمادہ ہوں۔</p>
<p>پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ سرمایہ کاروں میں سرمایہ کاری کا جذبہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے کاروباری مالکان میں جوابدہی قبول کرنے کا جذبہ موجود نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ ، بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288120</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 16:07:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد ستارڈاکٹر ندیم الحق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/3015403197a12ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/3015403197a12ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گورننس میں نئی راہیں ہموار کرنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ ہمیشہ سے بہترین کارکردگی، جدت اور عالمی تعاون کی علامت رہا ہے۔ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے لیے فیفا نے ٹریونڈا متعارف کرائی، جو اب تک تیار کی جانے والی جدید ترین اور ٹیکنالوجی سے آراستہ فٹ بالز میں شمار ہوتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر ٹریونڈا ایک عام فٹ بال دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ذہین اور باہم مربوط گیند ہے، جس میں ایسے سینسرز نصب ہیں جو ہر سیکنڈ میں سینکڑوں بار اس کی حرکت کا ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ریفریز کو زیادہ درست فیصلے کرنے، سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ نظام کو مؤثر بنانے اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیند میں الیکٹرانک پرزے اور مواصلاتی نظام نصب ہونے کی وجہ سے اسے میچ سے پہلے چارج بھی کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جدید ڈیزائن نہ صرف گیند کی پرواز، درستگی اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ کھیل کے دوران مسلسل قیمتی ڈیٹا بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ باعثِ فخر بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی کئی فٹ بالز سیالکوٹ میں تیار کی جاتی ہیں، جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ روایتی دستکاری کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے عالمی معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ٹریونڈا“ دو الفاظ، ”ٹری“ (تین) اور ”اونڈا“ (ہسپانوی زبان میں ”لہر“)، سے مل کر بنایا گیا ہے، جو تین میزبان ممالک،کینیڈا، میکسیکو اور امریکا، کے درمیان یکجہتی اور کھیل کی متحرک روح کی علامت ہے۔ تاہم اس کا نام اور ڈیزائن ہی اس کی اصل اہمیت نہیں، بلکہ ٹریونڈا مستقبل کی جدت اور اختراع کی علامت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریونڈا کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ نہیں کہ یہ ایک فٹ بال ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک ایسی چیز، جس کی بنیادی ساخت ایک صدی سے زیادہ عرصے تک تقریباً تبدیل نہیں ہوئی، اسے ایک ذہین نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فیفا اور ایڈیڈاس نے صرف ایک بہتر فٹ بال تیار نہیں کی، بلکہ انہوں نے اس تصور کو ازسرِنو تشکیل دیا کہ ڈیجیٹل دور میں ایک فٹ بال کیا کچھ بن سکتی ہے۔ سینسرز، باہمی رابطے، حقیقی وقت کے تجزیاتی نظام اور فیصلہ سازی میں معاون ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے انہوں نے ایک روایتی کھیل کی گیند کو معلومات اور بصیرت کے قیمتی ذریعے میں بدل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریونڈا اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ جدت صرف نئی مصنوعات ایجاد کرنے کا نام نہیں۔ کئی بار سب سے بڑی کامیابیاں اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب ہم موجودہ مصنوعات کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ان میں نئی قدر پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی رہنماؤں، پالیسی سازوں، منتظمین اور پیشہ ور افراد کے سامنے کئی اہم سوالات بھی رکھتی ہے۔ اگر دنیا کی قدیم ترین اور سادہ ترین مصنوعات میں سے ایک کو ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی شکل دی جا سکتی ہے تو پھر ہماری تنظیموں کو اپنی مصنوعات، خدمات اور طریقۂ کار پر نئے انداز سے غور کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ اگر ایک فٹ بال میدان میں بہتر فیصلوں کے لیے ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے تو کیا ہماری تنظیمیں بھی اپنے اداروں میں بہتر فیصلوں کے لیے ڈیٹا سے مؤثر فائدہ اٹھا رہی ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے اداروں اور افرادی قوت کو ایسے مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں جہاں کامیابی صرف سخت محنت پر نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، مسلسل سیکھنے، جدت اور ٹیکنالوجی کے دانشمندانہ استعمال پر منحصر ہوگی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت ٹریونڈا کی کہانی صرف ایک فٹ بال کی نہیں بلکہ تبدیلی اور ارتقا کی کہانی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی روایتی ترین مصنوعات کو بھی نئی زندگی دے سکتی ہے اور ان میں ایسی نئی قدر پیدا کر سکتی ہے جس کا پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔ یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ اب جدت کوئی اختیاری چیز نہیں رہی۔ جو ادارے مسلسل اختراع کرتے رہیں گے وہی ترقی کریں گے، جبکہ تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کرنے والوں کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعات، خدمات اور کاروباری عمل سب کے سب ذہین بنتے جا رہے ہیں۔ گاڑیاں محض سواری کے بجائے سافٹ ویئر پلیٹ فارم میں تبدیل ہو رہی ہیں، کارخانے ڈیٹا پیدا کرنے والے نظام بن رہے ہیں، صحت کا شعبہ پیش گوئی پر مبنی خدمات کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اب فٹ بال بھی ایک ایسی اسمارٹ پراڈکٹ بن چکی ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل نظاموں سے رابطہ قائم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کے شہری اور صارفین ایسی مصنوعات اور خدمات چاہتے ہیں جو باہم مربوط، ڈیٹا پر مبنی، انفرادی ضروریات سے ہم آہنگ، فوری ردِعمل دینے والی اور مسلسل بہتر ہوتی رہیں۔ اس لیے آج قائدین کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ان کے شعبے کو بدل دے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کی تنظیم اس تبدیلی کی قیادت کرے گی یا خود اس کا شکار بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ ہمیں بے شمار سبق دیتی ہے۔ کوڈک کبھی فوٹوگرافی کی دنیا پر حکمرانی کرتا تھا، مگر ڈیجیٹل دور کا ساتھ نہ دے سکا۔ نوکیا ایک زمانے میں موبائل فون کی عالمی منڈی کا سب سے بڑا نام تھا، لیکن اسمارٹ فون انقلاب کی رفتار کا درست اندازہ نہ لگا سکا۔ اس کے برعکس وہ ادارے جو مسلسل سیکھتے، جدت اختیار کرتے اور خود کو بدلتے رہتے ہیں، نہ صرف اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں بلکہ مسلسل نئی قدر بھی پیدا کرتے ہیں۔ ٹریونڈا اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر ایک فٹ بال بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی شکل اختیار کر سکتی ہے تو ہر ادارے کو خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا وہ بھی اتنی ہی تیزی سے ترقی کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہین مصنوعات اور خدمات کے اس نئے دور میں افرادی قوت کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ مستقبل کے پیشہ ور افراد کو ٹیکنالوجی، کاروبار اور ڈیٹا کے سنگم پر کام کرنا ہوگا۔ چونکہ علم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پرانا ہو رہا ہے، اس لیے سیکھنے کا عمل زندگی بھر کی عادت بنانا ہوگا۔ ہر شخص کے لیے پروگرامر بننا ضروری نہیں، لیکن ہر کسی کو یہ ضرور سمجھنا ہوگا کہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور تجزیاتی ٹیکنالوجی اس کے پیشے کو کس طرح بدل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے معمول کے کام خودکار ہوتے جائیں گے، انسان کی اصل اہمیت پیچیدہ مسائل حل کرنے، نئے خیالات پیدا کرنے، بہتر فیصلہ کرنے اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ہوگی۔ اسی کے ساتھ اخلاقی بصیرت بھی ناگزیر رہے گی تاکہ جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرے کے مفاد میں اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام اسباق پاکستان کے سرکاری شعبے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج کا شہری پہلے سے کہیں زیادہ باخبر، باہم مربوط اور باشعور ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بدولت وہ نہ صرف دوسرے ممالک بلکہ نجی شعبے کی خدمات سے بھی سرکاری اداروں کی کارکردگی کا موازنہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توقعات پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ، معلومات پر مبنی اور سخت ہو چکی ہیں۔ لوگ بروقت خدمات، شفافیت، فوری ردِعمل اور قابلِ پیمائش نتائج چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے سرکاری اداروں کو روایتی دفتری نظام سے آگے بڑھ کر سیکھنے والے ادارے بننا ہوگا۔ ہر منصوبہ، ہر پالیسی، ہر کامیابی، ہر ناکامی اور ہر شہری سے ہونے والا رابطہ ایسا تجربہ ہونا چاہیے جس سے حاصل ہونے والا علم مستقبل کی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ اسی طرح سرکاری اداروں کو زیادہ چستی، بہتر باہمی تعاون اور تیز رفتار فیصلہ سازی اپنانا ہوگی، جبکہ غیر ضروری درجہ بندی اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچے کو کم کرنا ہوگا، کیونکہ یہی رکاوٹیں اکثر نئے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرتی اور فیصلوں میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی وسائل کے بارے میں ہماری سوچ میں بھی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں تک بیشتر اداروں نے ایسے ملازمین تیار کیے جو صرف احکامات پر عمل کریں اور خطرات مول لینے سے گریز کریں۔ مگر مستقبل ان اداروں کا ہے جو تخلیقی، تجزیاتی اور جدت پسند پیشہ ور افراد تیار کریں۔ سرکاری ملازمین کو صرف قواعد کی پابندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں فرسودہ طریقوں کو چیلنج کرنے، نئے خیالات پیش کرنے، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور عوامی مفاد میں نئی قدر پیدا کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدت اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب باصلاحیت افراد پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اختیارات دیے جائیں۔ خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ جدت، مؤثر کارکردگی اور نئی قدر پیدا کرنے کے بنیادی ستون ہیں۔ جب اہل ملازمین کو فیصلے کرنے، نئے طریقے آزمانے اور نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے تو ادارے زیادہ لچکدار، زیادہ مؤثر اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کو بھی حکمرانی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ جس طرح ٹریونڈا میدان میں بہتر فیصلوں کے لیے سینسرز اور حقیقی وقت کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاتی ہے، اسی طرح سرکاری اداروں کو بھی اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور شواہد پر مبنی نظم و نسق کو بروئے کار لا کر پالیسی سازی، خدمات کی فراہمی، وسائل کی تقسیم اور احتساب کو بہتر بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا ایک ایسے سرکاری نظام کا تصور کیجیے جہاں ٹریفک کا انتظام، صحت کے وسائل کی تقسیم، شہری خدمات اور پالیسی سازی حقیقی وقت کے ڈیٹا اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر انجام پائیں۔ ایسا نظام نہ صرف عوام کو بہتر خدمات فراہم کرے گا بلکہ سرکاری وسائل کو بھی کہیں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سرکاری شعبے کا مستقبل عمارتوں، بجٹ یا روایتی طریقۂ کار سے کم اور سیکھنے، جدت، اعتماد، بااختیار بنانے اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صلاحیتوں سے زیادہ وابستہ ہوگا۔ کامیاب ادارے وہ ہوں گے جو سخت درجہ بندی کی جگہ تعاون، غیر ضروری کنٹرول کی جگہ دانشمندانہ احتساب، اور محض قواعد کی پابندی کی جگہ تخلیقی سوچ اور مسلسل بہتری کی ثقافت کو فروغ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ٹیکنالوجی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ حقیقی تبدیلی وہ لوگ لاتے ہیں جنہیں سوچنے، تجربہ کرنے، سیکھنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ مستقبل کے کامیاب ادارے وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ قواعد و ضوابط ہوں، بلکہ وہ ہوں گے جن میں سیکھنے، خود کو بدلنے اور حالات سے ہم آہنگ ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریونڈا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک فٹ بال بھی ڈیٹا، باہمی رابطے اور جدت کی بدولت ایک ذہین نظام میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اب اصل سوال تنظیمی قائدین، پالیسی سازوں اور سرکاری منتظمین کے سامنے یہ ہے: اگر ایک فٹ بال ذہین بن سکتی ہے، تو کیا ہمارے ادارے بھی ذہانت کی اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ ہمیشہ سے بہترین کارکردگی، جدت اور عالمی تعاون کی علامت رہا ہے۔ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے لیے فیفا نے ٹریونڈا متعارف کرائی، جو اب تک تیار کی جانے والی جدید ترین اور ٹیکنالوجی سے آراستہ فٹ بالز میں شمار ہوتی ہے۔</strong></p>
<p>بظاہر ٹریونڈا ایک عام فٹ بال دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ذہین اور باہم مربوط گیند ہے، جس میں ایسے سینسرز نصب ہیں جو ہر سیکنڈ میں سینکڑوں بار اس کی حرکت کا ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ریفریز کو زیادہ درست فیصلے کرنے، سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ نظام کو مؤثر بنانے اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیند میں الیکٹرانک پرزے اور مواصلاتی نظام نصب ہونے کی وجہ سے اسے میچ سے پہلے چارج بھی کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کا جدید ڈیزائن نہ صرف گیند کی پرواز، درستگی اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ کھیل کے دوران مسلسل قیمتی ڈیٹا بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ باعثِ فخر بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی کئی فٹ بالز سیالکوٹ میں تیار کی جاتی ہیں، جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ روایتی دستکاری کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے عالمی معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>”ٹریونڈا“ دو الفاظ، ”ٹری“ (تین) اور ”اونڈا“ (ہسپانوی زبان میں ”لہر“)، سے مل کر بنایا گیا ہے، جو تین میزبان ممالک،کینیڈا، میکسیکو اور امریکا، کے درمیان یکجہتی اور کھیل کی متحرک روح کی علامت ہے۔ تاہم اس کا نام اور ڈیزائن ہی اس کی اصل اہمیت نہیں، بلکہ ٹریونڈا مستقبل کی جدت اور اختراع کی علامت بن چکی ہے۔</p>
<p>ٹریونڈا کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ نہیں کہ یہ ایک فٹ بال ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک ایسی چیز، جس کی بنیادی ساخت ایک صدی سے زیادہ عرصے تک تقریباً تبدیل نہیں ہوئی، اسے ایک ذہین نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فیفا اور ایڈیڈاس نے صرف ایک بہتر فٹ بال تیار نہیں کی، بلکہ انہوں نے اس تصور کو ازسرِنو تشکیل دیا کہ ڈیجیٹل دور میں ایک فٹ بال کیا کچھ بن سکتی ہے۔ سینسرز، باہمی رابطے، حقیقی وقت کے تجزیاتی نظام اور فیصلہ سازی میں معاون ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے انہوں نے ایک روایتی کھیل کی گیند کو معلومات اور بصیرت کے قیمتی ذریعے میں بدل دیا ہے۔</p>
<p>ٹریونڈا اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ جدت صرف نئی مصنوعات ایجاد کرنے کا نام نہیں۔ کئی بار سب سے بڑی کامیابیاں اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب ہم موجودہ مصنوعات کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ان میں نئی قدر پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی رہنماؤں، پالیسی سازوں، منتظمین اور پیشہ ور افراد کے سامنے کئی اہم سوالات بھی رکھتی ہے۔ اگر دنیا کی قدیم ترین اور سادہ ترین مصنوعات میں سے ایک کو ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی شکل دی جا سکتی ہے تو پھر ہماری تنظیموں کو اپنی مصنوعات، خدمات اور طریقۂ کار پر نئے انداز سے غور کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ اگر ایک فٹ بال میدان میں بہتر فیصلوں کے لیے ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے تو کیا ہماری تنظیمیں بھی اپنے اداروں میں بہتر فیصلوں کے لیے ڈیٹا سے مؤثر فائدہ اٹھا رہی ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے اداروں اور افرادی قوت کو ایسے مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں جہاں کامیابی صرف سخت محنت پر نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، مسلسل سیکھنے، جدت اور ٹیکنالوجی کے دانشمندانہ استعمال پر منحصر ہوگی؟</p>
<p>درحقیقت ٹریونڈا کی کہانی صرف ایک فٹ بال کی نہیں بلکہ تبدیلی اور ارتقا کی کہانی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی روایتی ترین مصنوعات کو بھی نئی زندگی دے سکتی ہے اور ان میں ایسی نئی قدر پیدا کر سکتی ہے جس کا پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔ یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ اب جدت کوئی اختیاری چیز نہیں رہی۔ جو ادارے مسلسل اختراع کرتے رہیں گے وہی ترقی کریں گے، جبکہ تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کرنے والوں کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔</p>
<p>دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعات، خدمات اور کاروباری عمل سب کے سب ذہین بنتے جا رہے ہیں۔ گاڑیاں محض سواری کے بجائے سافٹ ویئر پلیٹ فارم میں تبدیل ہو رہی ہیں، کارخانے ڈیٹا پیدا کرنے والے نظام بن رہے ہیں، صحت کا شعبہ پیش گوئی پر مبنی خدمات کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اب فٹ بال بھی ایک ایسی اسمارٹ پراڈکٹ بن چکی ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل نظاموں سے رابطہ قائم کر سکتی ہے۔</p>
<p>آج کے شہری اور صارفین ایسی مصنوعات اور خدمات چاہتے ہیں جو باہم مربوط، ڈیٹا پر مبنی، انفرادی ضروریات سے ہم آہنگ، فوری ردِعمل دینے والی اور مسلسل بہتر ہوتی رہیں۔ اس لیے آج قائدین کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ان کے شعبے کو بدل دے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کی تنظیم اس تبدیلی کی قیادت کرے گی یا خود اس کا شکار بن جائے گی۔</p>
<p>تاریخ ہمیں بے شمار سبق دیتی ہے۔ کوڈک کبھی فوٹوگرافی کی دنیا پر حکمرانی کرتا تھا، مگر ڈیجیٹل دور کا ساتھ نہ دے سکا۔ نوکیا ایک زمانے میں موبائل فون کی عالمی منڈی کا سب سے بڑا نام تھا، لیکن اسمارٹ فون انقلاب کی رفتار کا درست اندازہ نہ لگا سکا۔ اس کے برعکس وہ ادارے جو مسلسل سیکھتے، جدت اختیار کرتے اور خود کو بدلتے رہتے ہیں، نہ صرف اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں بلکہ مسلسل نئی قدر بھی پیدا کرتے ہیں۔ ٹریونڈا اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر ایک فٹ بال بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی شکل اختیار کر سکتی ہے تو ہر ادارے کو خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا وہ بھی اتنی ہی تیزی سے ترقی کر رہا ہے؟</p>
<p>ذہین مصنوعات اور خدمات کے اس نئے دور میں افرادی قوت کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ مستقبل کے پیشہ ور افراد کو ٹیکنالوجی، کاروبار اور ڈیٹا کے سنگم پر کام کرنا ہوگا۔ چونکہ علم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پرانا ہو رہا ہے، اس لیے سیکھنے کا عمل زندگی بھر کی عادت بنانا ہوگا۔ ہر شخص کے لیے پروگرامر بننا ضروری نہیں، لیکن ہر کسی کو یہ ضرور سمجھنا ہوگا کہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور تجزیاتی ٹیکنالوجی اس کے پیشے کو کس طرح بدل رہے ہیں۔</p>
<p>جیسے جیسے معمول کے کام خودکار ہوتے جائیں گے، انسان کی اصل اہمیت پیچیدہ مسائل حل کرنے، نئے خیالات پیدا کرنے، بہتر فیصلہ کرنے اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ہوگی۔ اسی کے ساتھ اخلاقی بصیرت بھی ناگزیر رہے گی تاکہ جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرے کے مفاد میں اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ تمام اسباق پاکستان کے سرکاری شعبے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج کا شہری پہلے سے کہیں زیادہ باخبر، باہم مربوط اور باشعور ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بدولت وہ نہ صرف دوسرے ممالک بلکہ نجی شعبے کی خدمات سے بھی سرکاری اداروں کی کارکردگی کا موازنہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توقعات پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ، معلومات پر مبنی اور سخت ہو چکی ہیں۔ لوگ بروقت خدمات، شفافیت، فوری ردِعمل اور قابلِ پیمائش نتائج چاہتے ہیں۔</p>
<p>ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے سرکاری اداروں کو روایتی دفتری نظام سے آگے بڑھ کر سیکھنے والے ادارے بننا ہوگا۔ ہر منصوبہ، ہر پالیسی، ہر کامیابی، ہر ناکامی اور ہر شہری سے ہونے والا رابطہ ایسا تجربہ ہونا چاہیے جس سے حاصل ہونے والا علم مستقبل کی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ اسی طرح سرکاری اداروں کو زیادہ چستی، بہتر باہمی تعاون اور تیز رفتار فیصلہ سازی اپنانا ہوگی، جبکہ غیر ضروری درجہ بندی اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچے کو کم کرنا ہوگا، کیونکہ یہی رکاوٹیں اکثر نئے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرتی اور فیصلوں میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔</p>
<p>انسانی وسائل کے بارے میں ہماری سوچ میں بھی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں تک بیشتر اداروں نے ایسے ملازمین تیار کیے جو صرف احکامات پر عمل کریں اور خطرات مول لینے سے گریز کریں۔ مگر مستقبل ان اداروں کا ہے جو تخلیقی، تجزیاتی اور جدت پسند پیشہ ور افراد تیار کریں۔ سرکاری ملازمین کو صرف قواعد کی پابندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں فرسودہ طریقوں کو چیلنج کرنے، نئے خیالات پیش کرنے، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور عوامی مفاد میں نئی قدر پیدا کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔</p>
<p>جدت اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب باصلاحیت افراد پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اختیارات دیے جائیں۔ خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ جدت، مؤثر کارکردگی اور نئی قدر پیدا کرنے کے بنیادی ستون ہیں۔ جب اہل ملازمین کو فیصلے کرنے، نئے طریقے آزمانے اور نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے تو ادارے زیادہ لچکدار، زیادہ مؤثر اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل بن جاتے ہیں۔</p>
<p>اسی کے ساتھ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کو بھی حکمرانی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ جس طرح ٹریونڈا میدان میں بہتر فیصلوں کے لیے سینسرز اور حقیقی وقت کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاتی ہے، اسی طرح سرکاری اداروں کو بھی اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور شواہد پر مبنی نظم و نسق کو بروئے کار لا کر پالیسی سازی، خدمات کی فراہمی، وسائل کی تقسیم اور احتساب کو بہتر بنانا ہوگا۔</p>
<p>ذرا ایک ایسے سرکاری نظام کا تصور کیجیے جہاں ٹریفک کا انتظام، صحت کے وسائل کی تقسیم، شہری خدمات اور پالیسی سازی حقیقی وقت کے ڈیٹا اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر انجام پائیں۔ ایسا نظام نہ صرف عوام کو بہتر خدمات فراہم کرے گا بلکہ سرکاری وسائل کو بھی کہیں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرے گا۔</p>
<p>پاکستان کے سرکاری شعبے کا مستقبل عمارتوں، بجٹ یا روایتی طریقۂ کار سے کم اور سیکھنے، جدت، اعتماد، بااختیار بنانے اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صلاحیتوں سے زیادہ وابستہ ہوگا۔ کامیاب ادارے وہ ہوں گے جو سخت درجہ بندی کی جگہ تعاون، غیر ضروری کنٹرول کی جگہ دانشمندانہ احتساب، اور محض قواعد کی پابندی کی جگہ تخلیقی سوچ اور مسلسل بہتری کی ثقافت کو فروغ دیں گے۔</p>
<p>صرف ٹیکنالوجی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ حقیقی تبدیلی وہ لوگ لاتے ہیں جنہیں سوچنے، تجربہ کرنے، سیکھنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ مستقبل کے کامیاب ادارے وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ قواعد و ضوابط ہوں، بلکہ وہ ہوں گے جن میں سیکھنے، خود کو بدلنے اور حالات سے ہم آہنگ ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہوگی۔</p>
<p>ٹریونڈا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک فٹ بال بھی ڈیٹا، باہمی رابطے اور جدت کی بدولت ایک ذہین نظام میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اب اصل سوال تنظیمی قائدین، پالیسی سازوں اور سرکاری منتظمین کے سامنے یہ ہے: اگر ایک فٹ بال ذہین بن سکتی ہے، تو کیا ہمارے ادارے بھی ذہانت کی اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288124</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 16:56:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ندیم احمد خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/301624578b5cb67.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/301624578b5cb67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
