<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 07 Nov 2026 22:11:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 07 Nov 2026 22:11:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا بھاری فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ بلند ترین مقام پر اتارنے کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293641/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی فضائیہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے چین کی سرحد سے متصل دور افتادہ علاقے لداخ میں بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ دنیا میں سب سے زیادہ بلندی پر کامیابی سے اتارا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چار انجنوں والا روسی ساختہ ٹربوفین فوجی طیارہ آئی ایل 76 ایم ڈی، جسے گجراج بھی کہا جاتا ہے، چین کی سرحد کے قریب سطح سمندر سے 4,154 میٹر (13,629 فٹ) کی بلندی پر واقع ایک ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IAF_MCC/status/2118960412414935294'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IAF_MCC/status/2118960412414935294"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا، ’’بھارتی فضائیہ کے آئی ایل 76 ایم ڈی طیارے نے نیوما میں کامیاب لینڈنگ کے ساتھ تاریخ رقم کردی ہے، جو دنیا میں اس طیارے کی اب تک کی بلند ترین مقام پر لینڈنگ ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضائیہ نے اس کامیابی کو ’’ایک اہم سنگ میل قرار دیا جو بھارت کی تزویراتی فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا ہے‘‘ اور اسے ’’فضائی تاریخ میں ایک نئی بلندی‘‘ سے تعبیر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فضائیہ کی سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر میں طیارے کو سرد صحرائی علاقے میں بنے رن وے پر اترتے اور دوبارہ پرواز کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ رن وے بنجر پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوما میں فوجی ہوائی اڈے کی تعمیر گزشتہ سال مکمل ہوئی تھی۔ یہ منصوبہ 2020ء میں سرحدی جھڑپ کے بعد اس سرد اور دشوار گزار خطے میں فوجی بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اس جھڑپ میں 20 بھارتی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کے حصول کے لیے سخت مسابقت رکھتے ہیں۔ اس جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے اور اعلیٰ سطح پر سیاسی رابطے بھی بحال ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی بدستور گہری ہے اور سرحدی تنازعات حل نہ ہونے کے باعث تبت کے ساتھ تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل بلند پہاڑی سرحد پر دونوں جانب فوجی تعیناتیاں برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھاری فوجی سازوسامان لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے گجراج طیارے کی نیوما میں لینڈنگ سے بلند پہاڑی علاقوں میں بھارت کی فوجی دستوں اور سازوسامان کی تیز رفتار نقل و حرکت اور تزویراتی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی فضائیہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے چین کی سرحد سے متصل دور افتادہ علاقے لداخ میں بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والا فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ دنیا میں سب سے زیادہ بلندی پر کامیابی سے اتارا ہے۔</strong></p>
<p>چار انجنوں والا روسی ساختہ ٹربوفین فوجی طیارہ آئی ایل 76 ایم ڈی، جسے گجراج بھی کہا جاتا ہے، چین کی سرحد کے قریب سطح سمندر سے 4,154 میٹر (13,629 فٹ) کی بلندی پر واقع ایک ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IAF_MCC/status/2118960412414935294'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IAF_MCC/status/2118960412414935294"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی فضائیہ نے ایک بیان میں کہا، ’’بھارتی فضائیہ کے آئی ایل 76 ایم ڈی طیارے نے نیوما میں کامیاب لینڈنگ کے ساتھ تاریخ رقم کردی ہے، جو دنیا میں اس طیارے کی اب تک کی بلند ترین مقام پر لینڈنگ ہے۔‘‘</p>
<p>فضائیہ نے اس کامیابی کو ’’ایک اہم سنگ میل قرار دیا جو بھارت کی تزویراتی فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا ہے‘‘ اور اسے ’’فضائی تاریخ میں ایک نئی بلندی‘‘ سے تعبیر کیا۔</p>
<p>بھارتی فضائیہ کی سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر میں طیارے کو سرد صحرائی علاقے میں بنے رن وے پر اترتے اور دوبارہ پرواز کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ رن وے بنجر پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔</p>
<p>نیوما میں فوجی ہوائی اڈے کی تعمیر گزشتہ سال مکمل ہوئی تھی۔ یہ منصوبہ 2020ء میں سرحدی جھڑپ کے بعد اس سرد اور دشوار گزار خطے میں فوجی بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اس جھڑپ میں 20 بھارتی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>بھارت اور چین جنوبی ایشیا میں اثر و رسوخ کے حصول کے لیے سخت مسابقت رکھتے ہیں۔ اس جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے اور اعلیٰ سطح پر سیاسی رابطے بھی بحال ہوئے ہیں۔</p>
<p>تاہم، دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی بدستور گہری ہے اور سرحدی تنازعات حل نہ ہونے کے باعث تبت کے ساتھ تقریباً 3,500 کلومیٹر طویل بلند پہاڑی سرحد پر دونوں جانب فوجی تعیناتیاں برقرار ہیں۔</p>
<p>بھاری فوجی سازوسامان لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے گجراج طیارے کی نیوما میں لینڈنگ سے بلند پہاڑی علاقوں میں بھارت کی فوجی دستوں اور سازوسامان کی تیز رفتار نقل و حرکت اور تزویراتی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293641</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Nov 2026 21:33:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/072129522fe59c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/072129522fe59c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
