<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 07 Nov 2026 13:01:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 07 Nov 2026 13:01:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی ایل پی جی پالیسی، 90 فیصد ملکی پیداوار کی بولیاں لگیں گی، 10 فیصد دور دراز علاقوں کیلئے مختص</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293615/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت پٹرولیم نے ہفتے کو بتایا کہ پاکستان مقامی طور پر پیدا ہونے والی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی 90 فیصد پیداوار نئے مختص کردہ طریقہ کار کے تحت نیلام کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد مسابقتی بولی کے عمل کو فروغ دینا اور مقامی طور پر تیار کردہ ایندھن کی تقسیم میں شفافیت بہتر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ بیان کے مطابق منظور شدہ ڈی ریگولیٹڈ نظام کے تحت ایل پی جی کمیٹی کا پہلا اجلاس سیکریٹری پٹرولیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی دستیابی اور غیر منصفانہ قیمتوں سے متعلق عوامی شکایات دور کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیاں اپنی پیداوار کا 10 فیصد سرکاری ملکیتی ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو دشوار گزار علاقوں میں فراہمی کے لیے مختص کریں گی جبکہ باقی 90 فیصد پیداوار ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں شفاف نیلامی کے ذریعے پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیلامی میں حصہ لینے والی ہر کمپنی کو یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی مختص کی جاسکے گی، تاکہ تمام اہل بولی دہندگان کو منصفانہ موقع فراہم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید فیصلہ کیا گیا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور رسد کی صورتحال پر مؤثر نظر رکھنے کے لیے پیداوار کے اعدادوشمار وزیراعظم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام عوامی مفاد میں کیا جارہا ہے، بالخصوص ان صارفین کی مشکلات دور کرنے کیلئے جو سستی قیمتوں پر ایل پی جی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلامی کا نیا طریقہ کار رسد کے نظام کو مزید مستحکم، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور مقامی ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کمزور طبقات کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی سیکریٹری پیٹرولیم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جس کے ارکان میں چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، منیجنگ ڈائریکٹر آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، صدر یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (یو ای پی) اور ڈائریکٹر جنرل (لیکویفائیڈ گیسز) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد تمام شریک کمپنیوں کو یکساں مواقع اور منصفانہ مقابلے کا ماحول فراہم کرنے کے ساتھ صارفین کے لیے ایل پی جی تک رسائی بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت پٹرولیم نے ہفتے کو بتایا کہ پاکستان مقامی طور پر پیدا ہونے والی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی 90 فیصد پیداوار نئے مختص کردہ طریقہ کار کے تحت نیلام کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد مسابقتی بولی کے عمل کو فروغ دینا اور مقامی طور پر تیار کردہ ایندھن کی تقسیم میں شفافیت بہتر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>جاری کردہ بیان کے مطابق منظور شدہ ڈی ریگولیٹڈ نظام کے تحت ایل پی جی کمیٹی کا پہلا اجلاس سیکریٹری پٹرولیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی دستیابی اور غیر منصفانہ قیمتوں سے متعلق عوامی شکایات دور کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>نئے طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والی کمپنیاں اپنی پیداوار کا 10 فیصد سرکاری ملکیتی ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو دشوار گزار علاقوں میں فراہمی کے لیے مختص کریں گی جبکہ باقی 90 فیصد پیداوار ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں شفاف نیلامی کے ذریعے پیش کی جائے گی۔</p>
<p>اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیلامی میں حصہ لینے والی ہر کمپنی کو یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی مختص کی جاسکے گی، تاکہ تمام اہل بولی دہندگان کو منصفانہ موقع فراہم کیا جاسکے۔</p>
<p>مزید فیصلہ کیا گیا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور رسد کی صورتحال پر مؤثر نظر رکھنے کے لیے پیداوار کے اعدادوشمار وزیراعظم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام عوامی مفاد میں کیا جارہا ہے، بالخصوص ان صارفین کی مشکلات دور کرنے کیلئے جو سستی قیمتوں پر ایل پی جی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلامی کا نیا طریقہ کار رسد کے نظام کو مزید مستحکم، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور مقامی ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کمزور طبقات کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی سیکریٹری پیٹرولیم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جس کے ارکان میں چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، منیجنگ ڈائریکٹر آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، صدر یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (یو ای پی) اور ڈائریکٹر جنرل (لیکویفائیڈ گیسز) شامل ہیں۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد تمام شریک کمپنیوں کو یکساں مواقع اور منصفانہ مقابلے کا ماحول فراہم کرنے کے ساتھ صارفین کے لیے ایل پی جی تک رسائی بہتر بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293615</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Nov 2026 12:07:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/07115527aa48ea9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/07115527aa48ea9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
