<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 07 Nov 2026 11:53:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 07 Nov 2026 11:53:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیشگی ادائیگیوں پر سیلز ٹیکس انوائسز کا اجرا لازمی قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293611/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کیلئے سپلائی کے عوض موصول ہونے والی پیشگی ادائیگیوں کا حساب رکھنے کیلئے ایڈوانس رسیدیں جاری کرنے کا طریقہ کار مقرر کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کے لیے ایس آر او 2063(I)/2026 جاری کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے طریقہ کار کے تحت اگر کوئی رجسٹرڈ شخص یا ایسے افراد کا کوئی طبقہ جن پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 23 کا اطلاق ہوتا ہے، کسی سپلائی کے عوض مکمل یا جزوی پیشگی ادائیگی یا ایک سے زائد اقساط میں رقم وصول کرتا ہے تو رجسٹرڈ شخص ہر ادائیگی وصول کرتے وقت ایڈوانس رسید انوائس جاری کرنے کا پابند ہوگا۔ اس رسید میں ایکٹ کی دفعہ 23 میں درج ضروری تفصیلات، جہاں تک قابل اطلاق ہوں، شامل کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ موصولہ پیشگی ادائیگی پر واجب الادا آؤٹ پٹ ٹیکس کا حساب کرکے اسے اسی ٹیکس مدت کے گوشوارے میں ظاہر کرنا ہوگا جس کے دوران پیشگی رقم وصول کی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ایڈوانس رسید انوائسز کو ایکٹ کی دفعات 7 اور 8 کے مقاصد کے لیے ٹیکس انوائس تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایک ہی سپلائی کے عوض ایک سے زائد پیشگی ادائیگیاں وصول کی جائیں تو ہر ادائیگی کے لیے الگ ایڈوانس رسید انوائس جاری کرنا ہوگی۔ بعد میں جاری کی جانے والی ہر ایڈوانس رسید انوائس کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق الیکٹرانک طور پر اس سے پہلے جاری کردہ رسید یا رسیدوں کے ساتھ منسلک کرنا لازمی ہوگا، تاکہ متعلقہ سپلائی کے عوض وصول کی جانے والی تمام پیشگی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ اور سراغ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں جب مذکورہ پیشگی ادائیگی یا ادائیگیوں کے عوض سپلائی کی جائے گی تو متعلقہ ذیلی قاعدے کے تحت پہلے جاری کردہ ایڈوانس رسید انوائس یا انوائسز کے حوالے کے ساتھ حتمی سیلز ٹیکس انوائس جاری کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ایڈوانس رسید انوائس یا انوائسز کے تحت جس مالیت اور سیلز ٹیکس کا پہلے ہی حساب ظاہر کیا جا چکا ہو، اسے دوبارہ حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ سپلائی کی باقی ماندہ مالیت پر، اگر کوئی سیلز ٹیکس واجب الادا ہو تو اس کا حساب صرف اس مالیت پر لگایا جائے گا جسے پیشگی ادائیگی یا ادائیگیوں کے عوض پہلے حساب میں شامل نہ کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر پیشگی ادائیگی پر سیلز ٹیکس کی شرح وہی لاگو ہوگی جو ادائیگی وصول ہونے کے وقت نافذ العمل ہوگی جبکہ سپلائی کی باقی ماندہ مالیت پر ایکٹ کے مطابق سپلائی کے وقت نافذ العمل سیلز ٹیکس کی شرح کا اطلاق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوانس رسید انوائس جاری ہونے کے بعد اگر پیشگی ادائیگی کی رقم یا متعلقہ سپلائی کی مالیت میں اضافہ، کمی یا رقم کی واپسی ہو یا کسی دوسری وجہ سے اس میں ردوبدل درکار ہو، یا سپلائی مکمل یا جزوی طور پر منسوخ کردی جائے تو متعلقہ ایڈجسٹمنٹ ایکٹ کی دفعہ 9 اور قواعد 19 سے 22 کے تحت مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے مزید کہا کہ ہر ایڈوانس رسید انوائس، اس سے متعلق جاری کردہ ڈیبٹ یا کریڈٹ نوٹ اور متعلقہ ذیلی قاعدے کے تحت جاری ہونے والی حتمی سیلز ٹیکس انوائس کو ان قواعد یا ایکٹ کی دفعہ 23 کے تحت بورڈ کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق الیکٹرانک طور پر منسلک اور محفوظ رکھنا ہوگا، تاکہ لین دین کی شناخت، باہمی حوالہ جات اور مکمل ریکارڈ کی نگرانی ممکن بنائی جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کیلئے سپلائی کے عوض موصول ہونے والی پیشگی ادائیگیوں کا حساب رکھنے کیلئے ایڈوانس رسیدیں جاری کرنے کا طریقہ کار مقرر کردیا ہے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کے لیے ایس آر او 2063(I)/2026 جاری کردیا ہے۔</p>
<p>نئے طریقہ کار کے تحت اگر کوئی رجسٹرڈ شخص یا ایسے افراد کا کوئی طبقہ جن پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 23 کا اطلاق ہوتا ہے، کسی سپلائی کے عوض مکمل یا جزوی پیشگی ادائیگی یا ایک سے زائد اقساط میں رقم وصول کرتا ہے تو رجسٹرڈ شخص ہر ادائیگی وصول کرتے وقت ایڈوانس رسید انوائس جاری کرنے کا پابند ہوگا۔ اس رسید میں ایکٹ کی دفعہ 23 میں درج ضروری تفصیلات، جہاں تک قابل اطلاق ہوں، شامل کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ موصولہ پیشگی ادائیگی پر واجب الادا آؤٹ پٹ ٹیکس کا حساب کرکے اسے اسی ٹیکس مدت کے گوشوارے میں ظاہر کرنا ہوگا جس کے دوران پیشگی رقم وصول کی گئی ہو۔</p>
<p>ایسی ایڈوانس رسید انوائسز کو ایکٹ کی دفعات 7 اور 8 کے مقاصد کے لیے ٹیکس انوائس تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>اگر ایک ہی سپلائی کے عوض ایک سے زائد پیشگی ادائیگیاں وصول کی جائیں تو ہر ادائیگی کے لیے الگ ایڈوانس رسید انوائس جاری کرنا ہوگی۔ بعد میں جاری کی جانے والی ہر ایڈوانس رسید انوائس کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق الیکٹرانک طور پر اس سے پہلے جاری کردہ رسید یا رسیدوں کے ساتھ منسلک کرنا لازمی ہوگا، تاکہ متعلقہ سپلائی کے عوض وصول کی جانے والی تمام پیشگی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ اور سراغ رکھا جا سکے۔</p>
<p>بعد ازاں جب مذکورہ پیشگی ادائیگی یا ادائیگیوں کے عوض سپلائی کی جائے گی تو متعلقہ ذیلی قاعدے کے تحت پہلے جاری کردہ ایڈوانس رسید انوائس یا انوائسز کے حوالے کے ساتھ حتمی سیلز ٹیکس انوائس جاری کرنا ہوگی۔</p>
<p>ایسی ایڈوانس رسید انوائس یا انوائسز کے تحت جس مالیت اور سیلز ٹیکس کا پہلے ہی حساب ظاہر کیا جا چکا ہو، اسے دوبارہ حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ سپلائی کی باقی ماندہ مالیت پر، اگر کوئی سیلز ٹیکس واجب الادا ہو تو اس کا حساب صرف اس مالیت پر لگایا جائے گا جسے پیشگی ادائیگی یا ادائیگیوں کے عوض پہلے حساب میں شامل نہ کیا گیا ہو۔</p>
<p>ہر پیشگی ادائیگی پر سیلز ٹیکس کی شرح وہی لاگو ہوگی جو ادائیگی وصول ہونے کے وقت نافذ العمل ہوگی جبکہ سپلائی کی باقی ماندہ مالیت پر ایکٹ کے مطابق سپلائی کے وقت نافذ العمل سیلز ٹیکس کی شرح کا اطلاق ہوگا۔</p>
<p>ایڈوانس رسید انوائس جاری ہونے کے بعد اگر پیشگی ادائیگی کی رقم یا متعلقہ سپلائی کی مالیت میں اضافہ، کمی یا رقم کی واپسی ہو یا کسی دوسری وجہ سے اس میں ردوبدل درکار ہو، یا سپلائی مکمل یا جزوی طور پر منسوخ کردی جائے تو متعلقہ ایڈجسٹمنٹ ایکٹ کی دفعہ 9 اور قواعد 19 سے 22 کے تحت مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔</p>
<p>ایف بی آر نے مزید کہا کہ ہر ایڈوانس رسید انوائس، اس سے متعلق جاری کردہ ڈیبٹ یا کریڈٹ نوٹ اور متعلقہ ذیلی قاعدے کے تحت جاری ہونے والی حتمی سیلز ٹیکس انوائس کو ان قواعد یا ایکٹ کی دفعہ 23 کے تحت بورڈ کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق الیکٹرانک طور پر منسلک اور محفوظ رکھنا ہوگا، تاکہ لین دین کی شناخت، باہمی حوالہ جات اور مکمل ریکارڈ کی نگرانی ممکن بنائی جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293611</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Nov 2026 11:24:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/07111505992c7b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/07111505992c7b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
