<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 21:19:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 21:19:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’وقت ختم ہونے والا ہے‘ بم کی دھمکیوں سے یورپ بھر کے ٹی وی چینلز کی نشریات متاثر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293602/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ بھر کے متعدد ٹی وی چینلز کو جمعے کے روز بم حملوں کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’’وقت ختم ہونے والا ہے‘‘۔ ان دھمکیوں کے بعد نشریاتی اداروں کی عمارتیں خالی کرا لی گئیں اور بعض مقامات پر نشریات عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ اداروں کے مطابق دھمکیاں آئرلینڈ کے نشریاتی ادارے آر ٹی ای، برطانیہ کے اسکائی اور بلغاریہ کے نجی ٹی وی چینل نووا ٹی وی سمیت دیگر اداروں کو موصول ہوئیں۔ تاہم، متاثرہ مقامات میں سے کسی پر بھی بم نہیں ملا۔ آر ٹی ای کی نشریات کی جگہ موسیقی اور پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام نشر کیا گیا، جبکہ بعض اوقات یہ تعطل تین گھنٹے تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب حالیہ دنوں میں سربیا سے فن لینڈ اور اسپین سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بم کی جھوٹی اطلاعات موصول ہونے کے باعث پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا، ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے طیاروں کی تلاشی لی۔ تاہم، اب تک کسی بھی مقام سے دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعات حالیہ ہفتوں میں ہیکنگ اور آن لائن دھوکا دہی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں، جن میں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملے بھی شامل ہیں، کے باعث پیدا ہونے والی تشویش کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نووا ٹی وی اور آر ٹی ای کو جمعے کے روز موصول ہونے والی ایک ای میل میں کہا گیا تھا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا ہمارے بارے میں جانے، اسی لیے ہمارے ایک کارکن نے آپ کی عمارت میں دھماکا خیز مواد نصب کر دیا ہے۔ یہ 45 منٹ میں پھٹ جائے گا۔ وقت ختم ہونے والا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مغرب-کے-نام-پیغام-کے-عنوان-سے-ای-میلز" href="#مغرب-کے-نام-پیغام-کے-عنوان-سے-ای-میلز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’مغرب کے نام پیغام‘ کے عنوان سے ای میلز&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز موصول ہونے والی دھمکیوں کے پیچھے کون تھا، اس بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی ای اور نووا ٹی وی کو بھیجی گئی ای میلز کے آخر میں میخائل آندروپوف کا نام درج تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ای میل بھیجنے والا اس گروہ کے رہنماؤں میں شامل ہے جو رواں ہفتے طیاروں کو بم کی جھوٹی دھمکیاں دینے کا ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیغام میں مزید کہا گیا، ’’لیکن یہ تو صرف آغاز ہے۔ اس ہفتے جو کچھ ہوا، وہ مستقبل قریب میں یورپ کو درپیش خطرات کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای میل بھیجنے والے کے نام کا آخری حصہ سابق سوویت رہنما یوری آندروپوف کے نام سے ملتا ہے، جو سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری تھے۔ ای میل کا عنوان ’’مغرب کے نام پیغام‘‘ بھی یوری آندروپوف کی سوانح عمری ’’مغرب کے لیے نیا چیلنج‘‘ سے مماثلت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس مماثلت سے روس کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ ملتا ہے یا اس کا مقصد تحقیقات کا رخ ماسکو کی جانب موڑنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں پولیس نے نووا ٹی وی کے نیوز روم کا دورہ کیا، جہاں عمارت خالی کرانے کے بعد تلاشی لی گئی اور اسے محفوظ قرار دے دیا گیا۔ نشریاتی ادارے کے مطابق نشریات معطل نہیں ہوئیں اور ملازمین اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی ای کے عملے نے بھی عمارتوں کی تین گھنٹے سے زائد تلاشی مکمل ہونے کے بعد اپنے دفاتر میں واپسی اختیار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ یورپ کے سیکیورٹی ادارے تاحال یہ تعین نہیں کر سکے کہ فضائی سفر اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے پیچھے انفرادی افراد ہیں یا یہ کسی منظم حملے کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ٹی ای ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے، نشریات کی بحالی کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے کہا، ’’یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی غیر روایتی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کے معمول کے نظام کو متاثر کرنا اور اس میں خلل ڈالنا نسبتاً کتنا آسان ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد بدامنی پیدا کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور لوگوں کو ذہنی اضطراب میں مبتلا کرنا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں پُرسکون رہنا ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ بھر کے متعدد ٹی وی چینلز کو جمعے کے روز بم حملوں کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’’وقت ختم ہونے والا ہے‘‘۔ ان دھمکیوں کے بعد نشریاتی اداروں کی عمارتیں خالی کرا لی گئیں اور بعض مقامات پر نشریات عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔</strong></p>
<p>متعلقہ اداروں کے مطابق دھمکیاں آئرلینڈ کے نشریاتی ادارے آر ٹی ای، برطانیہ کے اسکائی اور بلغاریہ کے نجی ٹی وی چینل نووا ٹی وی سمیت دیگر اداروں کو موصول ہوئیں۔ تاہم، متاثرہ مقامات میں سے کسی پر بھی بم نہیں ملا۔ آر ٹی ای کی نشریات کی جگہ موسیقی اور پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام نشر کیا گیا، جبکہ بعض اوقات یہ تعطل تین گھنٹے تک جاری رہا۔</p>
<p>یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب حالیہ دنوں میں سربیا سے فن لینڈ اور اسپین سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بم کی جھوٹی اطلاعات موصول ہونے کے باعث پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا، ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے طیاروں کی تلاشی لی۔ تاہم، اب تک کسی بھی مقام سے دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔</p>
<p>یہ واقعات حالیہ ہفتوں میں ہیکنگ اور آن لائن دھوکا دہی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں، جن میں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملے بھی شامل ہیں، کے باعث پیدا ہونے والی تشویش کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>نووا ٹی وی اور آر ٹی ای کو جمعے کے روز موصول ہونے والی ایک ای میل میں کہا گیا تھا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا ہمارے بارے میں جانے، اسی لیے ہمارے ایک کارکن نے آپ کی عمارت میں دھماکا خیز مواد نصب کر دیا ہے۔ یہ 45 منٹ میں پھٹ جائے گا۔ وقت ختم ہونے والا ہے۔‘‘</p>
<h2><a id="مغرب-کے-نام-پیغام-کے-عنوان-سے-ای-میلز" href="#مغرب-کے-نام-پیغام-کے-عنوان-سے-ای-میلز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>’مغرب کے نام پیغام‘ کے عنوان سے ای میلز</h2>
<p>جمعے کے روز موصول ہونے والی دھمکیوں کے پیچھے کون تھا، اس بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں ہو سکا۔</p>
<p>آر ٹی ای اور نووا ٹی وی کو بھیجی گئی ای میلز کے آخر میں میخائل آندروپوف کا نام درج تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ای میل بھیجنے والا اس گروہ کے رہنماؤں میں شامل ہے جو رواں ہفتے طیاروں کو بم کی جھوٹی دھمکیاں دینے کا ذمہ دار ہے۔</p>
<p>پیغام میں مزید کہا گیا، ’’لیکن یہ تو صرف آغاز ہے۔ اس ہفتے جو کچھ ہوا، وہ مستقبل قریب میں یورپ کو درپیش خطرات کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔‘‘</p>
<p>ای میل بھیجنے والے کے نام کا آخری حصہ سابق سوویت رہنما یوری آندروپوف کے نام سے ملتا ہے، جو سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق جنرل سیکریٹری تھے۔ ای میل کا عنوان ’’مغرب کے نام پیغام‘‘ بھی یوری آندروپوف کی سوانح عمری ’’مغرب کے لیے نیا چیلنج‘‘ سے مماثلت رکھتا ہے۔</p>
<p>تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس مماثلت سے روس کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ ملتا ہے یا اس کا مقصد تحقیقات کا رخ ماسکو کی جانب موڑنا تھا۔</p>
<p>بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں پولیس نے نووا ٹی وی کے نیوز روم کا دورہ کیا، جہاں عمارت خالی کرانے کے بعد تلاشی لی گئی اور اسے محفوظ قرار دے دیا گیا۔ نشریاتی ادارے کے مطابق نشریات معطل نہیں ہوئیں اور ملازمین اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔</p>
<p>آر ٹی ای کے عملے نے بھی عمارتوں کی تین گھنٹے سے زائد تلاشی مکمل ہونے کے بعد اپنے دفاتر میں واپسی اختیار کی۔</p>
<p>آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے کہا ہے کہ یورپ کے سیکیورٹی ادارے تاحال یہ تعین نہیں کر سکے کہ فضائی سفر اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے پیچھے انفرادی افراد ہیں یا یہ کسی منظم حملے کا حصہ ہیں۔</p>
<p>آر ٹی ای ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے، نشریات کی بحالی کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے کہا، ’’یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی غیر روایتی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کے معمول کے نظام کو متاثر کرنا اور اس میں خلل ڈالنا نسبتاً کتنا آسان ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد بدامنی پیدا کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور لوگوں کو ذہنی اضطراب میں مبتلا کرنا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں پُرسکون رہنا ہوگا۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293602</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 20:19:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/06201650de5f088.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/06201650de5f088.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
