<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 21:19:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 21:19:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ڈیموکریٹس کی کامیابی سے پاکستانی قیادت فکرمند، عوام کو ریلیف کی امید، رائٹرز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293601/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی قیادت کو ٹرمپ سے قریبی روابط اور معاہدوں کی ممکنہ جانچ پڑتال کا خدشہ، شہریوں کو امید ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی سے ایران جنگ کے اثرات، مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے دو سال تک قربت بڑھانے کی کوششوں کے بعد پاکستان کی قیادت امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پر اب وائٹ ہاؤس تک اپنی رسائی اور روابط کی جانچ پڑتال کے خدشات سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، عام پاکستانی اس انتخابی نتیجے کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مزید شدت اختیار کرنے والے مہنگائی کے بحران میں کمی آ سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابات کے بعد رائٹرز سے گفتگو کرنے والے شہریوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی دارالحکومت میں تبدیلی کے اثرات جلد پاکستان تک پہنچیں گے۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل اس جنوبی ایشیائی ملک کا انحصار درآمدات پر ہے، جہاں جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بیشتر گھرانوں کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے رہائشی سجاد علی نے کہا، ’’ہمارا خیال ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں اور جاری خونریزی اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک امریکی حکومت تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’ہم امن، معاشی بہتری اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی ہی کے ایک اور رہائشی عاصم ظفر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ انتخابی نتائج ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے میں مدد دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ’’اس سے اہم پالیسیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ مسلم ممالک کے خلاف ہونے والی بعض ناانصافیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حکومت اور طاقتور عسکری قیادت کے لیے انتخابی نتائج کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ سے قربت بڑھانے کی پاکستانی کوششوں، جنہیں ایران جنگ میں ثالثی کے کردار سے مزید تقویت ملی، نے اسلام آباد کو ان کی انتظامیہ تک قریبی رسائی فراہم کی۔ تاہم، اس رسائی سے اب تک کوئی واضح معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا، جبکہ ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ساتھ اسلام آباد کے معاملات کی امریکی کانگریس میں ممکنہ جانچ پڑتال سے ان فوائد کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے جن کی پاکستانی قیادت توقع کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ایک-شخصیت-پر-انحصار" href="#ایک-شخصیت-پر-انحصار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایک شخصیت پر انحصار&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز ہی میں ان سے قربت بڑھانے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں، جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس تک اسلام آباد کے مرکزی رابطے کا ذریعہ بنے۔ ٹرمپ انہیں بارہا اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2025ء میں دونوں کے درمیان ظہرانے کی ملاقات غیر معمولی طور پر کسی پاکستانی سویلین عہدیدار کی موجودگی کے بغیر ہوئی، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے عمل میں عسکری قیادت کا مرکزی کردار نمایاں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فوج کے مطابق، ان ملاقاتوں میں سیکیورٹی کے علاوہ کان کنی، توانائی اور کرپٹو کرنسی کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا اور انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ پاکستان نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ تنازع ختم کرانے میں کردار ادا کرنے پر ٹرمپ کو اس اعزاز کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم نئی دہلی اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ امریکی ثالثی نے دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی رکوانے میں کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے اوائل میں ایران جنگ میں ثالثی نے اس قربت کو تزویراتی اہمیت بھی فراہم کی۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا اور اپریل میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی، تاہم بعد ازاں طے پانے والا اسلام آباد معاہدہ جلد ہی غیر مؤثر ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے صارفین کے لیے ملک کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ نے جنگ کے معاشی اثرات سے کوئی خاص تحفظ فراہم نہیں کیا، جبکہ ریاست کو بھی اس قربت سے محدود فوائد حاصل ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025ء میں پاکستان کے ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی۔ تاہم، امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی خصوصی مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی اہم درخواست تاحال جواب کی منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="معاہدے-جانچ-پڑتال-کی-زد-میں" href="#معاہدے-جانچ-پڑتال-کی-زد-میں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;معاہدے جانچ پڑتال کی زد میں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے سرکاری اور نجی سطح پر روابط بڑھانے کی کوششیں اب سیاسی خطرات کا باعث بن رہی ہیں، کیونکہ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں ٹرمپ کے خاندان یا قریبی ساتھیوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کی جانب سے جاری کردہ مستحکم ڈیجیٹل کرنسی ’یو ایس ڈی 1‘ کے ذریعے ادائیگیوں کے امکانات تلاش کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ جنوری میں اس معاہدے پر دستخط کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ جدت کو ضابطہ کاری، استحکام اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مین ہیٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مذاکرات کیے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے پاورَس نامی کمپنی سے محدود تعداد میں ڈرونز کا آرڈر بھی دیا ہے، جس کے سرمایہ کاروں میں ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور ایرک بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ستمبر میں پاورَس کے حوالے سے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوال پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ ’’مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر اور ابوظبی میں قائم انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے سینئر فیلو حسین حقانی نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ’’لین دین پر مبنی تعلقات‘‘ استوار کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، امریکی صدر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے متعلق بعض انتظامات ’’شاید برقرار نہ رہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان بظاہر اس ممکنہ جانچ پڑتال کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں قائم اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینیئل مارکے نے خبردار کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ تاثر سامنے آیا کہ معاملات نجی مفادات کے تحت طے کیے گئے تھے تو اس سے دونوں ملکوں کے وسیع تر تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق، تاہم پاکستان کے پاس اب بھی کچھ سفارتی امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران کے حوالے سے سفارت کاری کو امریکا میں دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق، ڈیموکریٹس متنازع معاہدوں کا ذمہ دار پاکستان کے بجائے ٹرمپ کو ٹھہرانے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مائیکل کوگل مین نے کہا، ’’پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اتنے زیادہ سفارتی انڈے وائٹ ہاؤس کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں کہ اب ڈیموکریٹس کے لیے اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچا۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی قیادت کو ٹرمپ سے قریبی روابط اور معاہدوں کی ممکنہ جانچ پڑتال کا خدشہ، شہریوں کو امید ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی سے ایران جنگ کے اثرات، مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے دو سال تک قربت بڑھانے کی کوششوں کے بعد پاکستان کی قیادت امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پر اب وائٹ ہاؤس تک اپنی رسائی اور روابط کی جانچ پڑتال کے خدشات سے دوچار ہے۔</p>
<p>تاہم، عام پاکستانی اس انتخابی نتیجے کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مزید شدت اختیار کرنے والے مہنگائی کے بحران میں کمی آ سکے گی۔</p>
<p>انتخابات کے بعد رائٹرز سے گفتگو کرنے والے شہریوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی دارالحکومت میں تبدیلی کے اثرات جلد پاکستان تک پہنچیں گے۔ 24 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل اس جنوبی ایشیائی ملک کا انحصار درآمدات پر ہے، جہاں جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بیشتر گھرانوں کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>کراچی کے رہائشی سجاد علی نے کہا، ’’ہمارا خیال ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں اور جاری خونریزی اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک امریکی حکومت تبدیل نہیں ہوتی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’ہم امن، معاشی بہتری اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں۔‘‘</p>
<p>کراچی ہی کے ایک اور رہائشی عاصم ظفر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ انتخابی نتائج ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنے میں مدد دیں گے۔</p>
<p>ان کے بقول، ’’اس سے اہم پالیسیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ مسلم ممالک کے خلاف ہونے والی بعض ناانصافیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے۔‘‘</p>
<p>تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حکومت اور طاقتور عسکری قیادت کے لیے انتخابی نتائج کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ سے قربت بڑھانے کی پاکستانی کوششوں، جنہیں ایران جنگ میں ثالثی کے کردار سے مزید تقویت ملی، نے اسلام آباد کو ان کی انتظامیہ تک قریبی رسائی فراہم کی۔ تاہم، اس رسائی سے اب تک کوئی واضح معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا، جبکہ ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ساتھ اسلام آباد کے معاملات کی امریکی کانگریس میں ممکنہ جانچ پڑتال سے ان فوائد کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے جن کی پاکستانی قیادت توقع کر رہی تھی۔</p>
<h2><a id="ایک-شخصیت-پر-انحصار" href="#ایک-شخصیت-پر-انحصار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>ایک شخصیت پر انحصار</h2>
<p>ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز ہی میں ان سے قربت بڑھانے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں، جس میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس تک اسلام آباد کے مرکزی رابطے کا ذریعہ بنے۔ ٹرمپ انہیں بارہا اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔</p>
<p>جون 2025ء میں دونوں کے درمیان ظہرانے کی ملاقات غیر معمولی طور پر کسی پاکستانی سویلین عہدیدار کی موجودگی کے بغیر ہوئی، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے عمل میں عسکری قیادت کا مرکزی کردار نمایاں ہوا۔</p>
<p>پاکستانی فوج کے مطابق، ان ملاقاتوں میں سیکیورٹی کے علاوہ کان کنی، توانائی اور کرپٹو کرنسی کے شعبوں میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔</p>
<p>بعد ازاں پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا اور انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ پاکستان نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ تنازع ختم کرانے میں کردار ادا کرنے پر ٹرمپ کو اس اعزاز کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم نئی دہلی اس دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ امریکی ثالثی نے دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی رکوانے میں کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>رواں سال کے اوائل میں ایران جنگ میں ثالثی نے اس قربت کو تزویراتی اہمیت بھی فراہم کی۔ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا اور اپریل میں دونوں ملکوں کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی، تاہم بعد ازاں طے پانے والا اسلام آباد معاہدہ جلد ہی غیر مؤثر ہو گیا۔</p>
<p>پاکستان کے صارفین کے لیے ملک کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ نے جنگ کے معاشی اثرات سے کوئی خاص تحفظ فراہم نہیں کیا، جبکہ ریاست کو بھی اس قربت سے محدود فوائد حاصل ہوئے ہیں۔</p>
<p>امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025ء میں پاکستان کے ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے 1.25 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی۔ تاہم، امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی خصوصی مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی اہم درخواست تاحال جواب کی منتظر ہے۔</p>
<h2><a id="معاہدے-جانچ-پڑتال-کی-زد-میں" href="#معاہدے-جانچ-پڑتال-کی-زد-میں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>معاہدے جانچ پڑتال کی زد میں</h2>
<p>پاکستان کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے سرکاری اور نجی سطح پر روابط بڑھانے کی کوششیں اب سیاسی خطرات کا باعث بن رہی ہیں، کیونکہ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں ٹرمپ کے خاندان یا قریبی ساتھیوں کے مفادات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کی جانب سے جاری کردہ مستحکم ڈیجیٹل کرنسی ’یو ایس ڈی 1‘ کے ذریعے ادائیگیوں کے امکانات تلاش کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ جنوری میں اس معاہدے پر دستخط کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ جدت کو ضابطہ کاری، استحکام اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان نے مین ہیٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مذاکرات کیے تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے پاورَس نامی کمپنی سے محدود تعداد میں ڈرونز کا آرڈر بھی دیا ہے، جس کے سرمایہ کاروں میں ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ جونیئر اور ایرک بھی شامل ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ستمبر میں پاورَس کے حوالے سے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوال پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ ’’مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔‘‘</p>
<p>واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر اور ابوظبی میں قائم انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے سینئر فیلو حسین حقانی نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ’’لین دین پر مبنی تعلقات‘‘ استوار کیے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق، امریکی صدر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے متعلق بعض انتظامات ’’شاید برقرار نہ رہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان بظاہر اس ممکنہ جانچ پڑتال کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔‘‘</p>
<p>واشنگٹن میں قائم اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینیئل مارکے نے خبردار کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ تاثر سامنے آیا کہ معاملات نجی مفادات کے تحت طے کیے گئے تھے تو اس سے دونوں ملکوں کے وسیع تر تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق، تاہم پاکستان کے پاس اب بھی کچھ سفارتی امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران کے حوالے سے سفارت کاری کو امریکا میں دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق، ڈیموکریٹس متنازع معاہدوں کا ذمہ دار پاکستان کے بجائے ٹرمپ کو ٹھہرانے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، مائیکل کوگل مین نے کہا، ’’پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اتنے زیادہ سفارتی انڈے وائٹ ہاؤس کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں کہ اب ڈیموکریٹس کے لیے اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچا۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293601</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 20:06:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/06200557e7f5ef8.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/06200557e7f5ef8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/0620074951483de.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/0620074951483de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
