<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 14:33:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 14:33:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکتوبر، تجارتی خسارہ 20 فیصد بڑھ کر 3.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293591/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادارہ شماریات کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ  گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد اضافے کے ساتھ 3.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی تجارتی توازن یعنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق، اکتوبر 2025 میں 3.24 ارب ڈالر خسارے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2026 میں تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجوہات درآمدات میں اضافہ اور برآمدات کی سست رفتار نمو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2026 میں برآمدات کا حجم 2.93 ارب ڈالر رہا جو اکتوبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 2.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.8 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا درآمدات کا حجم 6.81 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے  میں 6.09 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں پر بھی اکتوبر 2026 میں تجارتی خسارہ ستمبر 2026 کے 3.52 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد سے زائد بڑھ گیا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ تھا جبکہ برآمدات بڑی حد تک جمود کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران  تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 12.61 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد اضافے کے ساتھ 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے میں درآمدات 12 فیصد سے زائد بڑھ کر 25.96 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ان کا حجم 23.06 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں برآمدات 8 فیصد اضافے کے ساتھ 11.34 ارب ڈالر رہیں جو مالی سال 2025-26 کے اسی عرصے میں 10.45 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنی بنیادی ضروریات مثلاً ایندھن، مشینری، کیمیکلز اور غذائی اشیا کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ ہیں جس سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ روایتی اور صارفین کے زیرِ استعمال اشیا پر مشتمل ہے جن میں چاول، خام کپاس، ٹیکسٹائل مصنوعات اور چمڑے کی اشیا شامل ہیں۔ ملک کا پیداواری شعبہ زیادہ تر کم قدر افزوده مصنوعات کی تیاری تک محدود ہے۔ بلند توانائی نرخوں، بڑھتے ٹیکسز، مہنگی مالیاتی سہولتوں، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور مسابقتی صلاحیت میں کمی جیسے عوامل نے برآمدات کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادارہ شماریات کے مطابق اکتوبر 2026 کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ  گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد اضافے کے ساتھ 3.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔</strong></p>
<p>ملکی تجارتی توازن یعنی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق، اکتوبر 2025 میں 3.24 ارب ڈالر خسارے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>اکتوبر 2026 میں تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجوہات درآمدات میں اضافہ اور برآمدات کی سست رفتار نمو رہیں۔</p>
<p>اکتوبر 2026 میں برآمدات کا حجم 2.93 ارب ڈالر رہا جو اکتوبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 2.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.8 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>دریں اثنا درآمدات کا حجم 6.81 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے  میں 6.09 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں پر بھی اکتوبر 2026 میں تجارتی خسارہ ستمبر 2026 کے 3.52 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد سے زائد بڑھ گیا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ تھا جبکہ برآمدات بڑی حد تک جمود کا شکار رہیں۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران  تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 12.61 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد اضافے کے ساتھ 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اس عرصے میں درآمدات 12 فیصد سے زائد بڑھ کر 25.96 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ان کا حجم 23.06 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں برآمدات 8 فیصد اضافے کے ساتھ 11.34 ارب ڈالر رہیں جو مالی سال 2025-26 کے اسی عرصے میں 10.45 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
<p>پاکستان اپنی بنیادی ضروریات مثلاً ایندھن، مشینری، کیمیکلز اور غذائی اشیا کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ ہیں جس سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ روایتی اور صارفین کے زیرِ استعمال اشیا پر مشتمل ہے جن میں چاول، خام کپاس، ٹیکسٹائل مصنوعات اور چمڑے کی اشیا شامل ہیں۔ ملک کا پیداواری شعبہ زیادہ تر کم قدر افزوده مصنوعات کی تیاری تک محدود ہے۔ بلند توانائی نرخوں، بڑھتے ٹیکسز، مہنگی مالیاتی سہولتوں، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور مسابقتی صلاحیت میں کمی جیسے عوامل نے برآمدات کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293591</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 14:10:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/0614003760012f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/0614003760012f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
