<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 13:14:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 13:14:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293573/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اور ریجنل انچارج (کراچی ریجن) محمد رضوان لاکھانی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو ترجیحی بنیادوں پر گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں کو خطے کے حریف ممالک میں صنعتی شعبے کو دستیاب توانائی کی لاگت کے مطابق مسابقتی سطح پر لانے کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی بھی تشکیل دی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت اس وقت گیس اور پانی کی مسلسل قلت جبکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اور صنعت کے لیے ضروری بنیادی سہولیات کی غیر یقینی فراہمی کے باعث پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات حریف ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی منڈی میں پٹرولیم  قیمتوں میں اضافے کے باعث رنگ سازی میں استعمال ہونے والے رنگوں اور کیمیکلز کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جس سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ خام مال اور دیگر پیداواری اشیا کی بڑھتی قیمتیں صنعت پر اضافی مالی دباؤ ڈال رہی ہیں اور عالمی منڈی میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضوان لاکھانی نے کہا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت ملکی برآمدات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں صنعت کاروں کے لیے پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا اور عالمی خریداروں کے آرڈرز مسابقتی قیمتوں پر پورے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے لیے توانائی کے نرخ طویل مدت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ ان میں استحکام اور پیش گوئی کی جاسکے۔ صنعتی بجلی کے بلوں میں شامل اضافی سرچارجز اور غیر ضروری مالی بوجھ کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے جبکہ صنعتوں کو قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، بالخصوص شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع اختیار کرنے میں سہولت فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹس قائم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور گندے پانی کو صاف کرنے کے نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے آسان شرائط پر قرضوں اور مراعات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے پی ٹی پی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت اور صنعتی شعبے کے درمیان مؤثر مشاورت کے ذریعے طویل المدتی صنعتی پالیسی تشکیل دینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضوان لاکھانی نے مزید زور دیا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو جدید مشینری کی درآمد پر مناسب ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ، برآمدات سے متعلق ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر حکومت گیس، پانی اور بجلی سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور صنعت کو پالیسیوں میں استحکام اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے تو پاکستان عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں چین، بنگلہ دیش، بھارت اور دیگر حریف ممالک کا مؤثر مقابلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اور ریجنل انچارج (کراچی ریجن) محمد رضوان لاکھانی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو ترجیحی بنیادوں پر گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں کو خطے کے حریف ممالک میں صنعتی شعبے کو دستیاب توانائی کی لاگت کے مطابق مسابقتی سطح پر لانے کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی بھی تشکیل دی جائے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت اس وقت گیس اور پانی کی مسلسل قلت جبکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔</p>
<p>توانائی اور صنعت کے لیے ضروری بنیادی سہولیات کی غیر یقینی فراہمی کے باعث پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات حریف ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب عالمی منڈی میں پٹرولیم  قیمتوں میں اضافے کے باعث رنگ سازی میں استعمال ہونے والے رنگوں اور کیمیکلز کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جس سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ خام مال اور دیگر پیداواری اشیا کی بڑھتی قیمتیں صنعت پر اضافی مالی دباؤ ڈال رہی ہیں اور عالمی منڈی میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کررہی ہیں۔</p>
<p>رضوان لاکھانی نے کہا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت ملکی برآمدات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں صنعت کاروں کے لیے پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا اور عالمی خریداروں کے آرڈرز مسابقتی قیمتوں پر پورے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے لیے توانائی کے نرخ طویل مدت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ ان میں استحکام اور پیش گوئی کی جاسکے۔ صنعتی بجلی کے بلوں میں شامل اضافی سرچارجز اور غیر ضروری مالی بوجھ کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے جبکہ صنعتوں کو قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، بالخصوص شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع اختیار کرنے میں سہولت فراہم کی جائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹس قائم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور گندے پانی کو صاف کرنے کے نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے آسان شرائط پر قرضوں اور مراعات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔</p>
<p>اے پی ٹی پی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت اور صنعتی شعبے کے درمیان مؤثر مشاورت کے ذریعے طویل المدتی صنعتی پالیسی تشکیل دینا ضروری ہے۔</p>
<p>رضوان لاکھانی نے مزید زور دیا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو جدید مشینری کی درآمد پر مناسب ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ، برآمدات سے متعلق ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر حکومت گیس، پانی اور بجلی سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور صنعت کو پالیسیوں میں استحکام اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے تو پاکستان عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں چین، بنگلہ دیش، بھارت اور دیگر حریف ممالک کا مؤثر مقابلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں آسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293573</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 11:43:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/06113811dd03b57.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/06113811dd03b57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
