<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 13:14:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 13:14:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کی پالیسی سازی غیر یقینی کا شاہکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293572/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں کاروباری اداروں کو تیزی سے ایسے ٹیکس انتظامی نظام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو غیر یقینی صورتحال کو ایک پالیسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کسی اصلاحات کا اعلان کرتا ہے، تعمیل کے طریقہ کار میں تبدیلیاں لاتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ نجی شعبہ اس سے پیدا ہونے والی مشکلات خود برداشت کرے۔ جب ان اقدامات پر اعتراضات سامنے آتے ہیں تو اکثر انہیں اصلاحات کی مخالفت قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کاروباری سہولت کاری کے دعوؤں اور ان کاروباری اداروں کے عملی تجربات کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے، جن کی خدمت کرنا دراصل ایف بی آر کی ذمہ داری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ (ایف سی اے) کا معاملہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ایف بی آر نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی جانب سے کلیئرنس میں تاخیر، اشیا کی مالیت کے تعین سے متعلق تنازعات اور لیبارٹری بھیجنے کے معاملات پر اٹھائے گئے تحفظات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار زیادہ تر اس نظام کے ابتدائی نفاذ کے مہینوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کا اوسط دورانیہ 40.2 گھنٹے سے کم ہو کر 20.57 گھنٹے رہ گیا ہے جبکہ 83 فیصد کھیپوں کی کلیئرنس 48 گھنٹوں کے اندر کی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار پیش رفت کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر صنعتی شعبے کی شکایات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تجارتی تنظیموں کو انفرادی گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) نمبرز فراہم کرنے کی دعوت دینا اس بات کا جائزہ لینے کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ آیا خود یہ نظام غیر ضروری مسائل پیدا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹرل اپریزرنگ یونٹ (سی اے یو) کو اسلام آباد منتقل کرنا کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کو اعتماد میں لیے بغیر اس نوعیت کی تنظیمِ نو کیوں کی جا رہی ہے، حالانکہ اس کے اثرات براہِ راست انہی کاروباری حلقوں کو برداشت کرنا ہوں گے؟ اگرچہ اشیا کا فزیکل معائنہ اور بندرگاہ کے انتظامی امور کراچی ہی میں برقرار رہ سکتے ہیں، تاہم کسٹمز اسیسمنٹ کے عمل کو بندرگاہ سے الگ کرنے کے نتیجے میں تاخیر اور رابطہ کاری کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا یہ اصرار کہ سینٹرل اپریزرنگ یونٹ کی منتقلی کا فیصلہ حتمی اور ناقابلِ واپسی ہے جبکہ ساتھ ہی آپریشنل مشکلات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جا رہی ہے، اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ تمام شواہد اور اعتراضات سنے جانے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اصلاحات کے ذریعے کارکردگی بہتر بنانے کے دعوے کے باوجود اعتماد پیدا کرنے کا یہ ایک عجیب طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی نوعیت کے سوالات اسٹیل مینوفیکچررز کی جانب سے کیپٹو پاور یا بجلی کی اپنی پیداوار کے ذریعے استعمال کی جانے والی بجلی پر اضافی سیلز ٹیکس کے نئے طریقہ کار سے متعلق بھی سامنے آتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت خصوصی ادائیگی چالان، کمپیوٹرائزڈ رسیدیں، بجلی کی پیداوار اور کھپت کا ریکارڈ مرتب کرنا اور سیلز ٹیکس گوشواروں میں اس سے متعلقہ اندراجات کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، 30 اکتوبر کو جاری ہونے والا جنرل آرڈر یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کاروباری اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے طریقہ کار پر ماضی سے عمل درآمد کریں جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اس کی مؤثر تاریخ گزرنے کے کئی ماہ بعد جاری کیا گیا۔ اس طرزِ عمل سے کاروباری منصوبہ بندی اور قانونی تقاضوں کی تکمیل آسان ہونے کے بجائے مزید مشکل ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل، چمڑے، انجینئرنگ اور دیگر متفرق برآمدات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک (کسٹم ڈیوٹی کی واپسی) کی شرح میں نظرثانی نے پہلے سے پیچیدہ پالیسی ماحول کو مزید الجھا دیا ہے۔ برآمد کنندگان کو کسٹم ڈیوٹی کی واپسی کے حصول کے لیے تفصیلی شیڈولز پر عمل کرنا، درآمد شدہ خام مال اور دیگر اشیا کے استعمال کا ریکارڈ فراہم کرنا اور مقررہ مدت کے اندر تمام تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوٹی ڈرا بیک برآمدات کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، تاہم پیچیدہ طریقہ کار اور مناسب پیشگی تیاری کے بغیر تبدیلیاں متعارف کرانے سے اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو سرمایہ کاری اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی اشد ضرورت ہے، حکومت کو پیداوار اور تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں، نہ کہ ان میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مثالیں ادارہ جاتی سطح پر فیصلہ سازی کی ایک گہری ناکامی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایف بی آر بار بار محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، لیکن اس کا ردعمل اب بھی مزید ہدایات، پابندیوں اور کاروباری اداروں پر تعمیلی تقاضوں کا بوجھ بڑھانے تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ٹیکس مشینری میں بدعنوانی کے الزامات اور واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جس سے ایسے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے جو خود ٹیکس دہندگان سے زیادہ شفافیت کا تقاضا کرتا ہے۔ کاروباری اداروں پر نگرانی اور جانچ پڑتال کا ایک اور بوجھ ڈالنے سے پہلے ایف بی آر کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس کا اپنا نظام جوابدہ، قابلِ پیش گوئی اور بدعنوانی و اختیارات کے ناجائز استعمال سے پاک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں نجی سرمایہ کاری کی بحالی کیونکر ممکن ہے؟ سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی شرح، کسٹمز کے طریقہ کار اور کسی بھی منصوبے پر لاگو ہونے والے قواعد و ضوابط کے حوالے سے واضح پالیسی درکار ہوتی ہے۔ جب سرکاری طریقہ کار من مانے دکھائی دیں، فیصلوں پر ماضی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری ہوں اور متعلقہ فریقوں کے اعتراضات کو نظرانداز کیا جائے تو سرمایہ کار طویل المدتی سرمایہ کاری کے وعدے نہیں کرسکتے۔ غیر یقینی صورتحال کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے اور سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری مؤخر کرنے، اس کا حجم محدود کرنے یا اپنا سرمایہ کسی دوسرے ملک منتقل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹلائزیشن اور کسٹمزنظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا بلاشبہ جائز اور ضروری مقاصد ہیں، تاہم ٹیکنالوجی ناقص مشاورت، کمزور عملدرآمد یا ایسے ادارہ جاتی کلچر کا متبادل نہیں بن سکتی جو تنقید کو اصلاح کی کوشش کے بجائے رکاوٹ تصور کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی اصلاحات اس وقت تک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہیں گی جب تک وہ ہدایات جاری کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کی رائے نہیں لیتا، طریقہ کار نافذ کرنے سے قبل ان کی آزمائش نہیں کرتا اور ناکامی کی صورت میں اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔پاکستان کو ایسے ٹیکس ادارے کی ضرورت ہے جو معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے اور اعتماد و رضاکارانہ تعمیل کے ذریعے محصولات جمع کرے، نہ کہ ایسے ادارے کی جو سرمایہ کاری کو صبر و برداشت کا امتحان بنا دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں کاروباری اداروں کو تیزی سے ایسے ٹیکس انتظامی نظام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو غیر یقینی صورتحال کو ایک پالیسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کسی اصلاحات کا اعلان کرتا ہے، تعمیل کے طریقہ کار میں تبدیلیاں لاتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ نجی شعبہ اس سے پیدا ہونے والی مشکلات خود برداشت کرے۔ جب ان اقدامات پر اعتراضات سامنے آتے ہیں تو اکثر انہیں اصلاحات کی مخالفت قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ کاروباری سہولت کاری کے دعوؤں اور ان کاروباری اداروں کے عملی تجربات کے درمیان خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے، جن کی خدمت کرنا دراصل ایف بی آر کی ذمہ داری ہے۔</strong></p>
<p>فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ (ایف سی اے) کا معاملہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ایف بی آر نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی جانب سے کلیئرنس میں تاخیر، اشیا کی مالیت کے تعین سے متعلق تنازعات اور لیبارٹری بھیجنے کے معاملات پر اٹھائے گئے تحفظات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار زیادہ تر اس نظام کے ابتدائی نفاذ کے مہینوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کا اوسط دورانیہ 40.2 گھنٹے سے کم ہو کر 20.57 گھنٹے رہ گیا ہے جبکہ 83 فیصد کھیپوں کی کلیئرنس 48 گھنٹوں کے اندر کی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار پیش رفت کی نشاندہی تو کر سکتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر صنعتی شعبے کی شکایات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تجارتی تنظیموں کو انفرادی گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) نمبرز فراہم کرنے کی دعوت دینا اس بات کا جائزہ لینے کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ آیا خود یہ نظام غیر ضروری مسائل پیدا کر رہا ہے۔</p>
<p>سینٹرل اپریزرنگ یونٹ (سی اے یو) کو اسلام آباد منتقل کرنا کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور صنعت کاروں کو اعتماد میں لیے بغیر اس نوعیت کی تنظیمِ نو کیوں کی جا رہی ہے، حالانکہ اس کے اثرات براہِ راست انہی کاروباری حلقوں کو برداشت کرنا ہوں گے؟ اگرچہ اشیا کا فزیکل معائنہ اور بندرگاہ کے انتظامی امور کراچی ہی میں برقرار رہ سکتے ہیں، تاہم کسٹمز اسیسمنٹ کے عمل کو بندرگاہ سے الگ کرنے کے نتیجے میں تاخیر اور رابطہ کاری کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کا یہ اصرار کہ سینٹرل اپریزرنگ یونٹ کی منتقلی کا فیصلہ حتمی اور ناقابلِ واپسی ہے جبکہ ساتھ ہی آپریشنل مشکلات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جا رہی ہے، اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ تمام شواہد اور اعتراضات سنے جانے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اصلاحات کے ذریعے کارکردگی بہتر بنانے کے دعوے کے باوجود اعتماد پیدا کرنے کا یہ ایک عجیب طریقہ ہے۔</p>
<p>اسی نوعیت کے سوالات اسٹیل مینوفیکچررز کی جانب سے کیپٹو پاور یا بجلی کی اپنی پیداوار کے ذریعے استعمال کی جانے والی بجلی پر اضافی سیلز ٹیکس کے نئے طریقہ کار سے متعلق بھی سامنے آتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت خصوصی ادائیگی چالان، کمپیوٹرائزڈ رسیدیں، بجلی کی پیداوار اور کھپت کا ریکارڈ مرتب کرنا اور سیلز ٹیکس گوشواروں میں اس سے متعلقہ اندراجات کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم، 30 اکتوبر کو جاری ہونے والا جنرل آرڈر یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کاروباری اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے طریقہ کار پر ماضی سے عمل درآمد کریں جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اس کی مؤثر تاریخ گزرنے کے کئی ماہ بعد جاری کیا گیا۔ اس طرزِ عمل سے کاروباری منصوبہ بندی اور قانونی تقاضوں کی تکمیل آسان ہونے کے بجائے مزید مشکل ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل، چمڑے، انجینئرنگ اور دیگر متفرق برآمدات کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک (کسٹم ڈیوٹی کی واپسی) کی شرح میں نظرثانی نے پہلے سے پیچیدہ پالیسی ماحول کو مزید الجھا دیا ہے۔ برآمد کنندگان کو کسٹم ڈیوٹی کی واپسی کے حصول کے لیے تفصیلی شیڈولز پر عمل کرنا، درآمد شدہ خام مال اور دیگر اشیا کے استعمال کا ریکارڈ فراہم کرنا اور مقررہ مدت کے اندر تمام تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔</p>
<p>ڈیوٹی ڈرا بیک برآمدات کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، تاہم پیچیدہ طریقہ کار اور مناسب پیشگی تیاری کے بغیر تبدیلیاں متعارف کرانے سے اس کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کو سرمایہ کاری اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کی اشد ضرورت ہے، حکومت کو پیداوار اور تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں، نہ کہ ان میں مزید اضافہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>یہ مثالیں ادارہ جاتی سطح پر فیصلہ سازی کی ایک گہری ناکامی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایف بی آر بار بار محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، لیکن اس کا ردعمل اب بھی مزید ہدایات، پابندیوں اور کاروباری اداروں پر تعمیلی تقاضوں کا بوجھ بڑھانے تک محدود ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، ٹیکس مشینری میں بدعنوانی کے الزامات اور واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جس سے ایسے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے جو خود ٹیکس دہندگان سے زیادہ شفافیت کا تقاضا کرتا ہے۔ کاروباری اداروں پر نگرانی اور جانچ پڑتال کا ایک اور بوجھ ڈالنے سے پہلے ایف بی آر کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس کا اپنا نظام جوابدہ، قابلِ پیش گوئی اور بدعنوانی و اختیارات کے ناجائز استعمال سے پاک ہے۔</p>
<p>ایسے حالات میں نجی سرمایہ کاری کی بحالی کیونکر ممکن ہے؟ سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی شرح، کسٹمز کے طریقہ کار اور کسی بھی منصوبے پر لاگو ہونے والے قواعد و ضوابط کے حوالے سے واضح پالیسی درکار ہوتی ہے۔ جب سرکاری طریقہ کار من مانے دکھائی دیں، فیصلوں پر ماضی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری ہوں اور متعلقہ فریقوں کے اعتراضات کو نظرانداز کیا جائے تو سرمایہ کار طویل المدتی سرمایہ کاری کے وعدے نہیں کرسکتے۔ غیر یقینی صورتحال کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے اور سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری مؤخر کرنے، اس کا حجم محدود کرنے یا اپنا سرمایہ کسی دوسرے ملک منتقل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹلائزیشن اور کسٹمزنظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا بلاشبہ جائز اور ضروری مقاصد ہیں، تاہم ٹیکنالوجی ناقص مشاورت، کمزور عملدرآمد یا ایسے ادارہ جاتی کلچر کا متبادل نہیں بن سکتی جو تنقید کو اصلاح کی کوشش کے بجائے رکاوٹ تصور کرتا ہو۔</p>
<p>ایف بی آر کی اصلاحات اس وقت تک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہیں گی جب تک وہ ہدایات جاری کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کی رائے نہیں لیتا، طریقہ کار نافذ کرنے سے قبل ان کی آزمائش نہیں کرتا اور ناکامی کی صورت میں اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔پاکستان کو ایسے ٹیکس ادارے کی ضرورت ہے جو معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے اور اعتماد و رضاکارانہ تعمیل کے ذریعے محصولات جمع کرے، نہ کہ ایسے ادارے کی جو سرمایہ کاری کو صبر و برداشت کا امتحان بنا دے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293572</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Nov 2026 11:31:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/061117348502100.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/061117348502100.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
