<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 05 Nov 2026 15:52:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 05 Nov 2026 15:52:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وسط مدتی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد ریپبلکن رہنماؤں کا ٹرمپ سے پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293536/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیا، جبکہ اہم انتخابی حلقوں میں ووٹرز نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو مسترد کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن اتحادیوں اور سیاسی حکمتِ عملی سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ میں بڑی تبدیلیاں کریں، نظم و ضبط بحال کریں اور ان پالیسیوں کو ختم کریں جنہیں انتخابی شکست کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ ان پالیسیوں میں ایران جنگ اور درآمدی محصولات (ٹیرف) بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ کی صدارتی مدت کے باقی سال شروع ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن پارٹی کے سینئر سیاسی حکمتِ عملی ساز جان فیہری نے انتخابی نتائج کو ٹرمپ کے لیے ’’بڑی تباہی‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جان فیہری نے کہا انہیں وائٹ ہاؤس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور ناکام لوگوں کو عہدوں سے ہٹانا چاہیے۔ اب آنے والا ہر دن انہیں مزید کمزور صدر بناتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ نے ایسے کوئی آثار ظاہر نہیں کیے کہ وہ انتخابی نتائج کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے منگل کی شب فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں اسے اپنے خلاف کوئی دھچکا نہیں سمجھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں کو روکنے، ان کی انتظامیہ کی تحقیقات کرنے اور ان کے نامزد کردہ عہدیداروں کی تقرریوں کو چیلنج کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے باعث توقع ہے کہ ٹرمپ، جو پہلے ہی صدارتی اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے رہے ہیں، اب اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے یکطرفہ صدارتی اقدامات پر مزید انحصار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنے اسی سیاسی ایجنڈے پر قائم رہیں گے جسے بعض ریپبلکن رہنما سیاسی نقصان کا سبب سمجھنے لگے ہیں، خصوصاً وہ رہنما جو 2028ء کے صدارتی انتخابات میں وائٹ ہاؤس پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب صدر جے ڈی وینس، جنہیں ٹرمپ کا ممکنہ سیاسی جانشین تصور کیا جاتا ہے، نے بدھ کے روز صدر سے کسی حد تک فاصلہ اختیار کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن سیاسی حکمتِ عملی سازوں اور پارٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر جماعت کے رہنماؤں کو محسوس ہونے لگا کہ ووٹرز پر ٹرمپ کی دیرینہ گرفت کمزور پڑ رہی ہے تو پارٹی کے دیگر رہنما بھی ان سے فاصلہ اختیار کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے اندر اعلیٰ حکام عملے کے بعض ارکان کی ممکنہ رخصتی، کابینہ میں تبدیلیوں اور ڈیموکریٹس کی جانب سے تحقیقات کی تیاری کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا اس وقت یہاں کام کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ عملے کے حوصلے پست ترین سطح پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق انتخابات سے چھ ہفتے قبل ہونے والے داخلی جائزوں میں خبردار کردیا گیا تھا کہ ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں نشستیں کھو سکتی ہے، لیکن ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر اپنا مؤقف تبدیل کرنے سے انکار کردیا، حالانکہ انہیں اس کے سیاسی نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا آخرکار انہیں اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ انہوں نے کسی کی بات سننے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے منگل کی شب تسلیم کیا کہ آٹھ ماہ سے جاری ایران جنگ نے ریپبلکن امیدواروں کو نقصان پہنچایا، تاہم انہوں نے جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن رہنماؤں کے تحفظات صرف ایران جنگ تک محدود نہیں تھے۔ پارٹی کے ایک سیاسی مشیر کے مطابق مشی گن اور آئیووا جیسی اہم ریاستوں میں سینیٹ کے انتخابی حلقوں کے لیے کیے گئے جائزوں میں اس موسمِ گرما کے دوران ریپبلکن مشیروں کی تشویش بڑھتی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ تھی کہ زیادہ تعداد میں ریپبلکن اور آزاد ووٹرز نے صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر اور واشنگٹن میں سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر توجہ دینے کی مخالفت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی مشیر نے کہا اگر ٹرمپ اگلے دو سال بھی اسی فضول معاملے پر بات کرتے رہے تو اگلے انتخابات میں ہمیں ایک بار پھر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بدھ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو اچانک وائٹ ہاؤس کے زیرِ تعمیر بال روم کا دورہ کرایا اور اس منصوبے پر صرف کیے جانے والے اپنے وقت کا دفاع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا میرے لیے یہ ذہنی سکون کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے بھی سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی ایک تصویر جاری کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا اور لکھا عوامی اطلاع : ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابی شکست کے باوجود ٹرمپ کے پاس اب بھی وسیع صدارتی اختیارات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کئی ماہ سے امیگریشن، درآمدی محصولات، ہاؤسنگ اور وفاقی اخراجات سے متعلق ایسے صدارتی اقدامات کی تیاری کررہا ہے جن کے ذریعے ٹرمپ ڈیموکریٹس کی مخالفت کے باوجود اپنے ایجنڈے کے بعض حصوں پر عمل درآمد کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صدارتی اختیارات کانگریس کی جانب سے ممکنہ تحقیقات سے انتظامیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار نے کہا کوئی بھی ان تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیا، جبکہ اہم انتخابی حلقوں میں ووٹرز نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کو مسترد کردیا۔</strong></p>
<p>ریپبلکن اتحادیوں اور سیاسی حکمتِ عملی سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ میں بڑی تبدیلیاں کریں، نظم و ضبط بحال کریں اور ان پالیسیوں کو ختم کریں جنہیں انتخابی شکست کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ ان پالیسیوں میں ایران جنگ اور درآمدی محصولات (ٹیرف) بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ کی صدارتی مدت کے باقی سال شروع ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ریپبلکن پارٹی کے سینئر سیاسی حکمتِ عملی ساز جان فیہری نے انتخابی نتائج کو ٹرمپ کے لیے ’’بڑی تباہی‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>جان فیہری نے کہا انہیں وائٹ ہاؤس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور ناکام لوگوں کو عہدوں سے ہٹانا چاہیے۔ اب آنے والا ہر دن انہیں مزید کمزور صدر بناتا جائے گا۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ نے ایسے کوئی آثار ظاہر نہیں کیے کہ وہ انتخابی نتائج کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سمجھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے منگل کی شب فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں اسے اپنے خلاف کوئی دھچکا نہیں سمجھتا۔</p>
<p>اب ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں کو روکنے، ان کی انتظامیہ کی تحقیقات کرنے اور ان کے نامزد کردہ عہدیداروں کی تقرریوں کو چیلنج کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔</p>
<p>اس صورتحال کے باعث توقع ہے کہ ٹرمپ، جو پہلے ہی صدارتی اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے رہے ہیں، اب اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے یکطرفہ صدارتی اقدامات پر مزید انحصار کریں گے۔</p>
<p>انہیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنے اسی سیاسی ایجنڈے پر قائم رہیں گے جسے بعض ریپبلکن رہنما سیاسی نقصان کا سبب سمجھنے لگے ہیں، خصوصاً وہ رہنما جو 2028ء کے صدارتی انتخابات میں وائٹ ہاؤس پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔</p>
<p>نائب صدر جے ڈی وینس، جنہیں ٹرمپ کا ممکنہ سیاسی جانشین تصور کیا جاتا ہے، نے بدھ کے روز صدر سے کسی حد تک فاصلہ اختیار کرتے ہوئے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کا ذمہ دار ایران جنگ کو قرار دیا۔</p>
<p>ریپبلکن سیاسی حکمتِ عملی سازوں اور پارٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر جماعت کے رہنماؤں کو محسوس ہونے لگا کہ ووٹرز پر ٹرمپ کی دیرینہ گرفت کمزور پڑ رہی ہے تو پارٹی کے دیگر رہنما بھی ان سے فاصلہ اختیار کرسکتے ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے اندر اعلیٰ حکام عملے کے بعض ارکان کی ممکنہ رخصتی، کابینہ میں تبدیلیوں اور ڈیموکریٹس کی جانب سے تحقیقات کی تیاری کررہے ہیں۔</p>
<p>ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا اس وقت یہاں کام کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ عملے کے حوصلے پست ترین سطح پر ہیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق انتخابات سے چھ ہفتے قبل ہونے والے داخلی جائزوں میں خبردار کردیا گیا تھا کہ ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں نشستیں کھو سکتی ہے، لیکن ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر اپنا مؤقف تبدیل کرنے سے انکار کردیا، حالانکہ انہیں اس کے سیاسی نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا آخرکار انہیں اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ انہوں نے کسی کی بات سننے سے انکار کردیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے منگل کی شب تسلیم کیا کہ آٹھ ماہ سے جاری ایران جنگ نے ریپبلکن امیدواروں کو نقصان پہنچایا، تاہم انہوں نے جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا۔</p>
<p>ریپبلکن رہنماؤں کے تحفظات صرف ایران جنگ تک محدود نہیں تھے۔ پارٹی کے ایک سیاسی مشیر کے مطابق مشی گن اور آئیووا جیسی اہم ریاستوں میں سینیٹ کے انتخابی حلقوں کے لیے کیے گئے جائزوں میں اس موسمِ گرما کے دوران ریپبلکن مشیروں کی تشویش بڑھتی گئی۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ تھی کہ زیادہ تعداد میں ریپبلکن اور آزاد ووٹرز نے صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر اور واشنگٹن میں سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر توجہ دینے کی مخالفت کا اظہار کیا۔</p>
<p>سیاسی مشیر نے کہا اگر ٹرمپ اگلے دو سال بھی اسی فضول معاملے پر بات کرتے رہے تو اگلے انتخابات میں ہمیں ایک بار پھر بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>تاہم بدھ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو اچانک وائٹ ہاؤس کے زیرِ تعمیر بال روم کا دورہ کرایا اور اس منصوبے پر صرف کیے جانے والے اپنے وقت کا دفاع کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا میرے لیے یہ ذہنی سکون کا باعث ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے بھی سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی ایک تصویر جاری کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا اور لکھا عوامی اطلاع : ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔</p>
<p>انتخابی شکست کے باوجود ٹرمپ کے پاس اب بھی وسیع صدارتی اختیارات موجود ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کئی ماہ سے امیگریشن، درآمدی محصولات، ہاؤسنگ اور وفاقی اخراجات سے متعلق ایسے صدارتی اقدامات کی تیاری کررہا ہے جن کے ذریعے ٹرمپ ڈیموکریٹس کی مخالفت کے باوجود اپنے ایجنڈے کے بعض حصوں پر عمل درآمد کرسکیں گے۔</p>
<p>تاہم صدارتی اختیارات کانگریس کی جانب سے ممکنہ تحقیقات سے انتظامیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرسکیں گے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار نے کہا کوئی بھی ان تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293536</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Nov 2026 15:17:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/05143752c8ba184.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/05143752c8ba184.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
