<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 04 Nov 2026 18:27:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 18:27:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ایس جی سی نے موسم سرما کیلئے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293488/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے بدھ کو موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیڈول کے تحت گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے لیے روزانہ تین اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی نے کہا کہ رواں موسم سرما میں حکومت پاکستان کی ہدایات کے مطابق گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی اور کھانا پکانے کے مقررہ اوقات میں گیس کی دستیابی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SSGC_Official/status/2117859850629927248?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SSGC_Official/status/2117859850629927248?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شیڈول کے مطابق ناشتے کے لیے صبح 6 بج کر 30 منٹ سے 9 بجے تک، دوپہر کے کھانے کے لیے 12 بجے سے 2 بج کر 30 منٹ تک، جبکہ رات کے کھانے کے لیے شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک گیس فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی پاکستان کی بڑی گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو سندھ اور بلوچستان میں قدرتی گیس کی ترسیل اور تقسیم کی ذمہ دار ہے۔ کمپنی کا نیٹ ورک تقریباً 55 ہزار کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کے صارفین کی تعداد 32 لاکھ ہے، جن میں 4 ہزار 500 صنعتی صارفین بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں ایس ایس جی سی کو کئی اہم مسائل کا سامنا رہا ہے، جن میں کئی سال سے مالیاتی گوشواروں کو حتمی شکل نہ دیا جانا، بڑھتے ہوئے خسارے، گیس کے غیر حساب شدہ استعمال (یو ایف جی) یا لائن لاسز پر قابو پانے میں ناکامی اور اداروں کے درمیان واجبات میں اضافہ شامل ہیں، جنہوں نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے میں بھی حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے بدھ کو موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا۔</strong></p>
<p>شیڈول کے تحت گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے لیے روزانہ تین اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ایس ایس جی سی نے کہا کہ رواں موسم سرما میں حکومت پاکستان کی ہدایات کے مطابق گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی اور کھانا پکانے کے مقررہ اوقات میں گیس کی دستیابی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SSGC_Official/status/2117859850629927248?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SSGC_Official/status/2117859850629927248?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شیڈول کے مطابق ناشتے کے لیے صبح 6 بج کر 30 منٹ سے 9 بجے تک، دوپہر کے کھانے کے لیے 12 بجے سے 2 بج کر 30 منٹ تک، جبکہ رات کے کھانے کے لیے شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک گیس فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>ایس ایس جی سی پاکستان کی بڑی گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو سندھ اور بلوچستان میں قدرتی گیس کی ترسیل اور تقسیم کی ذمہ دار ہے۔ کمپنی کا نیٹ ورک تقریباً 55 ہزار کلومیٹر پر محیط ہے اور اس کے صارفین کی تعداد 32 لاکھ ہے، جن میں 4 ہزار 500 صنعتی صارفین بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ماضی میں ایس ایس جی سی کو کئی اہم مسائل کا سامنا رہا ہے، جن میں کئی سال سے مالیاتی گوشواروں کو حتمی شکل نہ دیا جانا، بڑھتے ہوئے خسارے، گیس کے غیر حساب شدہ استعمال (یو ایف جی) یا لائن لاسز پر قابو پانے میں ناکامی اور اداروں کے درمیان واجبات میں اضافہ شامل ہیں، جنہوں نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے میں بھی حصہ ڈالا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293488</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Nov 2026 15:27:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/04152502b096f7b.webp" type="image/webp" medium="image" height="375" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/04152502b096f7b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
