<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 04 Nov 2026 12:33:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 12:33:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل، 100 انڈیکس 1 لاکھ 70 ہزار کی سطح عبور کرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293472/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو زبردست خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے جہاں سرمایہ کار امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات پر ان کے ممکنہ اثرات کے منتظر ہیں۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,200 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 70 ہزار کی سطح عبور کرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 10 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,216.64 پوائنٹس یا 1.32 فیصد اضافے سے 170,235.50 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو بھی پی ایس ایکس میں تیزی دیکھی گئی  جس کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے امیدوں کے باعث سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے ہوئے اعتماد کو قرار دیا گیا۔گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,454.80 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے سے 168,018.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیوں میں بدھ کو امریکی اسٹاک فیوچرز میں نمایاں کمی، امریکی ٹریژری بانڈز میں تیزی اور ڈالر کی قدر میں نرمی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ ڈیموکریٹس کی جانب سے سینیٹ کی نشستوں پر ابتدائی کامیابی تھی جس سے یہ توقعات بڑھ گئیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت سے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں، تاہم حتمی نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے میڈیا کی پیش گوئیوں کے مطابق ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو واضح شکست دے کر ریپبلکن جماعت کی زیرقبضہ سینیٹ کی نشست جیت لی۔ اس کامیابی کے ساتھ ڈیموکریٹس نے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار 4 اضافی نشستوں میں سے ایک حاصل کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ امیدوار جون اوسوف نے جارجیا میں دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جارہا ہے جبکہ سینیٹ کا مقابلہ مختلف ریاستوں میں سخت اور کانٹے دار ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بے یقینی میں مبتلا رکھا ہے کیونکہ وہ واشنگٹن میں طاقت کے توازن پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیش گوئیوں پر مبنی مارکیٹس میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات بڑھتے دکھائی دیے جبکہ ان وسط مدتی انتخابات پر 1.48 ارب ڈالر سے زائد کی شرطیں لگائی جاچکی ہیں۔ یہ نئی نوعیت کی مارکیٹس کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.8 فیصد جبکہ نیس ڈیک فیوچرز میں 1.8 فیصد کمی ہوئی۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ پر منافع 6 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.906 فیصد پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے انتخابی نتائج کے مارکیٹ سے حساس کئی شعبوں پر وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جن میں اے آئی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، امریکا کی مالیاتی صورتحال، دفاعی اخراجات اور صحت، بینکاری اور کرپٹو کرنسیز جیسے شعبوں میں ضابطہ سازی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں بھی حصص کی قیمتوں نے ابتدائی تیزی کے بعد رخ تبدیل کیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے چِپ ساز کمپنی اے ایم ڈی کے مضبوط مالی نتائج کو نظرانداز کیے جانے کے باعث مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئیں۔ ان نتائج سے اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحان کی پائیداری کے حوالے سے بعض خدشات کم ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایم ڈی کی جانب سے آئندہ مدت کے لیے پیش کردہ توقعات اور تیسری سہ ماہی کے مارکیٹ کی پیش گوئیوں سے بہتر نتائج نے ان خدشات کا مضبوط جواب دیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی ماند پڑ رہی ہے۔ یہ خدشات گزشتہ ہفتے حریف کمپنی انٹیل کی جانب سے کمزور کاروباری تخمینے جاری کیے جانے کے بعد بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کی وسیع ترین نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.6 فیصد جبکہ تعطیل کے بعد دوبارہ کھلنے والی جاپان کی نکیئی مارکیٹ 3 فیصد نیچے آ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خبر دورانِ کاروبار موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو زبردست خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے جہاں سرمایہ کار امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات پر ان کے ممکنہ اثرات کے منتظر ہیں۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے روز  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,200 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 70 ہزار کی سطح عبور کرگیا۔</strong></p>
<p>صبح 10 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,216.64 پوائنٹس یا 1.32 فیصد اضافے سے 170,235.50 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو بھی پی ایس ایکس میں تیزی دیکھی گئی  جس کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے امیدوں کے باعث سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے ہوئے اعتماد کو قرار دیا گیا۔گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,454.80 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے سے 168,018.87 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی منڈیوں میں بدھ کو امریکی اسٹاک فیوچرز میں نمایاں کمی، امریکی ٹریژری بانڈز میں تیزی اور ڈالر کی قدر میں نرمی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ ڈیموکریٹس کی جانب سے سینیٹ کی نشستوں پر ابتدائی کامیابی تھی جس سے یہ توقعات بڑھ گئیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت سے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں، تاہم حتمی نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔</p>
<p>شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے میڈیا کی پیش گوئیوں کے مطابق ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو واضح شکست دے کر ریپبلکن جماعت کی زیرقبضہ سینیٹ کی نشست جیت لی۔ اس کامیابی کے ساتھ ڈیموکریٹس نے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار 4 اضافی نشستوں میں سے ایک حاصل کرلی۔</p>
<p>ڈیموکریٹ امیدوار جون اوسوف نے جارجیا میں دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جارہا ہے جبکہ سینیٹ کا مقابلہ مختلف ریاستوں میں سخت اور کانٹے دار ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو بے یقینی میں مبتلا رکھا ہے کیونکہ وہ واشنگٹن میں طاقت کے توازن پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>پیش گوئیوں پر مبنی مارکیٹس میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے امکانات بڑھتے دکھائی دیے جبکہ ان وسط مدتی انتخابات پر 1.48 ارب ڈالر سے زائد کی شرطیں لگائی جاچکی ہیں۔ یہ نئی نوعیت کی مارکیٹس کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہے۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.8 فیصد جبکہ نیس ڈیک فیوچرز میں 1.8 فیصد کمی ہوئی۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ پر منافع 6 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.906 فیصد پر آ گیا۔</p>
<p>منگل کے انتخابی نتائج کے مارکیٹ سے حساس کئی شعبوں پر وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جن میں اے آئی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، امریکا کی مالیاتی صورتحال، دفاعی اخراجات اور صحت، بینکاری اور کرپٹو کرنسیز جیسے شعبوں میں ضابطہ سازی شامل ہیں۔</p>
<p>ایشیا میں بھی حصص کی قیمتوں نے ابتدائی تیزی کے بعد رخ تبدیل کیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے چِپ ساز کمپنی اے ایم ڈی کے مضبوط مالی نتائج کو نظرانداز کیے جانے کے باعث مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئیں۔ ان نتائج سے اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحان کی پائیداری کے حوالے سے بعض خدشات کم ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔</p>
<p>اے ایم ڈی کی جانب سے آئندہ مدت کے لیے پیش کردہ توقعات اور تیسری سہ ماہی کے مارکیٹ کی پیش گوئیوں سے بہتر نتائج نے ان خدشات کا مضبوط جواب دیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی ماند پڑ رہی ہے۔ یہ خدشات گزشتہ ہفتے حریف کمپنی انٹیل کی جانب سے کمزور کاروباری تخمینے جاری کیے جانے کے بعد بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کی وسیع ترین نمائندگی کرنے والا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.6 فیصد جبکہ تعطیل کے بعد دوبارہ کھلنے والی جاپان کی نکیئی مارکیٹ 3 فیصد نیچے آ گئی۔</p>
<p>یہ خبر دورانِ کاروبار موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات پر مبنی ہے۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293472</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Nov 2026 11:07:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/04110235e48c390.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/04110235e48c390.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
