<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 04 Nov 2026 12:34:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 04 Nov 2026 12:34:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ایس پی پلس کوئی تحفہ نہیں، پاکستان یہ سہولت کھو سکتا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293470/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے لیے سب سے اہم تجارتی انتظام کی تجدید ایسی شرائط پر کی جا رہی ہے جن کا سامنا ملک کو پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا۔ گزشتہ 12 برس سے جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان سے بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم 2027 سے یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ان کنونشنز پر حقیقت میں عمل درآمد بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔ یہ ایک مختلف نوعیت کا امتحان ہے اور موجودہ شواہد کی روشنی میں پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے میں داؤ پر لگی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یورپی یونین پاکستان کی مجموعی برآمدات کا ایک چوتھائی سے زائد حصہ خریدتی ہے۔ 2024 میں جی ایس پی پلس کے تحت ڈیوٹی سے مستثنیٰ تقریباً 7.5 ارب یورو مالیت کی مصنوعات یورپ بھیجی گئیں، جن میں زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ملبوسات شامل تھے، جبکہ ڈیوٹی فری رسائی کے باعث برآمد کنندگان کو تقریباً 732 ملین یورو کی بچت ہوئی۔ اس سہولت کے بغیر پاکستانی ملبوسات پر تقریباً 12 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ ایسی تجارت میں جہاں آرڈرز کا فیصلہ چند سینٹ کے فرق سے ہوتا ہے، یہی بچت طے کرتی ہے کہ کاروبار کس کو ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں یورپی یونین نے ترجیحات کی ایک نئی جنرلائزڈ اسکیم (جی ایس پی) شائع کی، جس کا اطلاق جنوری 2027 سے 2036 تک ہوگا۔ جی ایس پی پلس سے مستفید ہونے والے تمام موجودہ ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔ پاکستان کو 2028 کے اختتام تک ترجیحی تجارتی سہولت حاصل رہے گی، تاہم برسلز نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی منظوری خودکار نہیں ہوگی۔ کنونشنز کی فہرست 27 سے بڑھا کر 32 کر دی گئی ہے، جس میں عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے 2 کنونشنز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق لیبر انسپکشن جبکہ دوسرے کا حکومت، آجروں اور کارکنوں کے درمیان سہ فریقی مشاورت سے ہے۔ پیرس معاہدے نے کیوٹو پروٹوکول کی جگہ لے لی ہے۔ اب کوئی بھی مزدور یونین، غیر سرکاری تنظیم (این جی او) یا کارکن براہ راست شکایت درج کرا سکتا ہے، جبکہ ہنگامی طور پر سہولت واپس لینے کے طریقہ کار کی مدت 6 ماہ سے کم کرکے 2 ماہ کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی جولائی میں جاری ہونے والی مانیٹرنگ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں نئے قوانین کا خیرمقدم کیا گیا، تاہم نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زیادہ تر پیش رفت قانون سازی یا انتظامی اقدامات تک محدود رہی اور نئے ایکشن پلانز کے باوجود چائلڈ لیبر کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ پاکستان قانون سازی تو کرتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کراتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹریوں کی سطح پر یہ فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ لیبر انسپکشن، جو اب جی ایس پی پلس کی ایک واضح ذمہ داری ہے، کئی برسوں سے غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ پنجاب نے ایک وقت میں سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے معمول کے معائنے پر مکمل پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ صوبائی محکموں میں انسپکٹروں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے اور وہ تقریباً کوئی معلومات بھی شائع نہیں کرتے۔ غیر ملکی برانڈز کی جانب سے مقرر کردہ آڈیٹرز معمول کے مطابق یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ کارکنوں کے نام سوشل سیکیورٹی اور پنشن کے ریکارڈ میں شامل نہیں ہیں۔ صنعتی فضلے کے اخراج کے معیار موجود ہیں، لیکن زیادہ تر رنگائی کے یونٹس کا سرکاری سطح پر شاذونادر ہی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر بات اس امر کا ثبوت ہے کہ قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے، اور اب یورپی یونین ان شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے میں دلچسپ تضاد یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدی صنعت پہلے ہی قانون کی تعمیل کے حوالے سے کسی بھی نگران ادارے سے زیادہ شواہد تیار کر رہی ہے۔ ایک بڑی ٹیکسٹائل مل اپنے خریداروں کے لیے سالانہ 20 یا اس سے زائد سماجی آڈٹس سے گزرتی ہے، جن میں بی ایس سی آئی، ایس ایم ای ٹی اے، ڈبلیو آر اے پی اور ایس ایل سی پی کے معیارات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہِگ انڈیکس اور زیڈ ڈی ایچ سی کے ذریعے توانائی، پانی اور کیمیائی مادوں کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار بھی فراہم کرتی ہے۔ اس تمام معلومات کا تقریباً کوئی حصہ سرکاری اداروں تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی یہ یورپی یونین کے جائزے میں شامل ہوتا ہے۔ صنعت قانون کی تعمیل کو اگلا آرڈر حاصل کرنے کی قیمت سمجھتی ہے، جبکہ حکومت جی ایس پی پلس کو ایک ایسی سفارتی فائل تصور کرتی ہے جس کا ہر 2 سال بعد دفاع کرنا ہوتا ہے۔ دونوں میں سے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ فیکٹریوں کی سطح پر قانون کی تعمیل اب قومی تجارتی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حریف ممالک انتظار نہیں کر رہے۔ بھارت نے جنوری میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے اور اس کے نافذ العمل ہونے کے بعد بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات یورپ میں ڈیوٹی فری داخل ہو سکیں گی۔ بنگلہ دیش کو کم ترقی یافتہ ملک کا درجہ ختم ہونے کے باوجود 2029 کے اواخر تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل رہے گی۔ اگر پاکستان جی ایس پی پلس سے محروم ہو جاتا ہے تو اس کی مصنوعات پر 12 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، جبکہ اس کے 2 قریبی حریفوں کو کوئی ڈیوٹی ادا نہیں کرنا پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ درخواست دینے کا موقع صرف کاغذی کارروائی بہتر بنانے کے بجائے شواہد میں تبدیلی لانے کا موقع ہے، اور پاکستان کو بیک وقت 3 محاذوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، فیکٹریوں میں پہلے سے موجود اعداد و شمار کو قومی سطح کے شواہد میں تبدیل کیا جائے۔ صنعتی انجمنوں اور صوبائی محکمۂ محنت کو چاہیے کہ تصدیق شدہ آڈٹ نتائج کو یکجا کرکے قانون کی تعمیل کا ایک مشترکہ ریکارڈ تیار کریں، جس میں کارکنوں کی شناخت کو محفوظ رکھا جائے۔ اس ریکارڈ کے ذریعے برسلز کو بتایا جا سکے کہ کتنی فیکٹریاں اجرتوں، کام کے اوقات اور حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہیں اور ہر سال اس تعداد میں کس طرح اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، جہاں نئے کنونشنز کا اطلاق ہوتا ہے وہاں قانون پر عمل درآمد کے نظام کو دوبارہ مضبوط بنایا جائے۔ لیبر انسپکشن کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں، معائنے کے نتائج ڈیجیٹل ذرائع سے مرتب کرکے عوام کے سامنے شائع کیے جائیں، برآمد کنندگان کے پے رول ریکارڈ سے منسلک سادہ آن لائن طریقہ کار کے ذریعے سوشل سیکیورٹی رجسٹریشن کو آسان بنایا جائے اور سہ فریقی کونسلز کو کارکنوں کی حقیقی نمائندگی کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا پابند بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، خریداروں کو محض آڈیٹرز کے بجائے شراکت دار بنایا جائے۔ یورپی برانڈز کو پاکستان کی ڈیوٹی فری رسائی سے براہ راست فائدہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ آڈٹ کے نتائج قومی کوششوں کے ساتھ شیئر کریں اور ان فیکٹریوں میں اصلاحاتی اقدامات کے لیے مشترکہ طور پر مالی معاونت فراہم کریں جہاں سے وہ مصنوعات خریدتے ہیں۔ مشترکہ ذمہ داری کا یہی تصور ہے جسے آلٹرنیٹ ڈیولپمنٹ سروسز اپنی شیئرڈ ٹرانزیشن ریسپانسبلٹی موومنٹ (ایس ٹی آر ایم) کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے دوبارہ درخواست دینے کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اگر اس کمیٹی کا کام صرف بہتر دستاویزات تیار کرنا ہے تو وہ اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام رہے گی۔ یورپی یونین اب یہ نہیں پوچھ رہی کہ پاکستان نے کیا وعدے کیے ہیں، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ فیکٹری کے پیداواری شعبے میں کام کرنے والے مزدور کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس پی پلس اس امید پر دیا گیا تھا کہ پاکستان اصلاحات کرے گا۔ 2027 میں یورپ ان اصلاحات کے نتائج کا جائزہ لینا شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے لیے سب سے اہم تجارتی انتظام کی تجدید ایسی شرائط پر کی جا رہی ہے جن کا سامنا ملک کو پہلے کبھی نہیں کرنا پڑا۔ گزشتہ 12 برس سے جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان سے بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم 2027 سے یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ان کنونشنز پر حقیقت میں عمل درآمد بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔ یہ ایک مختلف نوعیت کا امتحان ہے اور موجودہ شواہد کی روشنی میں پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے۔</strong></p>
<p>اس معاملے میں داؤ پر لگی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یورپی یونین پاکستان کی مجموعی برآمدات کا ایک چوتھائی سے زائد حصہ خریدتی ہے۔ 2024 میں جی ایس پی پلس کے تحت ڈیوٹی سے مستثنیٰ تقریباً 7.5 ارب یورو مالیت کی مصنوعات یورپ بھیجی گئیں، جن میں زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ملبوسات شامل تھے، جبکہ ڈیوٹی فری رسائی کے باعث برآمد کنندگان کو تقریباً 732 ملین یورو کی بچت ہوئی۔ اس سہولت کے بغیر پاکستانی ملبوسات پر تقریباً 12 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ ایسی تجارت میں جہاں آرڈرز کا فیصلہ چند سینٹ کے فرق سے ہوتا ہے، یہی بچت طے کرتی ہے کہ کاروبار کس کو ملے گا۔</p>
<p>جون میں یورپی یونین نے ترجیحات کی ایک نئی جنرلائزڈ اسکیم (جی ایس پی) شائع کی، جس کا اطلاق جنوری 2027 سے 2036 تک ہوگا۔ جی ایس پی پلس سے مستفید ہونے والے تمام موجودہ ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔ پاکستان کو 2028 کے اختتام تک ترجیحی تجارتی سہولت حاصل رہے گی، تاہم برسلز نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی منظوری خودکار نہیں ہوگی۔ کنونشنز کی فہرست 27 سے بڑھا کر 32 کر دی گئی ہے، جس میں عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے 2 کنونشنز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق لیبر انسپکشن جبکہ دوسرے کا حکومت، آجروں اور کارکنوں کے درمیان سہ فریقی مشاورت سے ہے۔ پیرس معاہدے نے کیوٹو پروٹوکول کی جگہ لے لی ہے۔ اب کوئی بھی مزدور یونین، غیر سرکاری تنظیم (این جی او) یا کارکن براہ راست شکایت درج کرا سکتا ہے، جبکہ ہنگامی طور پر سہولت واپس لینے کے طریقہ کار کی مدت 6 ماہ سے کم کرکے 2 ماہ کر دی گئی ہے۔</p>
<p>یورپی یونین کی جولائی میں جاری ہونے والی مانیٹرنگ رپورٹ میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ پہلے ہی پیش کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں نئے قوانین کا خیرمقدم کیا گیا، تاہم نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زیادہ تر پیش رفت قانون سازی یا انتظامی اقدامات تک محدود رہی اور نئے ایکشن پلانز کے باوجود چائلڈ لیبر کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ پاکستان قانون سازی تو کرتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کراتا۔</p>
<p>فیکٹریوں کی سطح پر یہ فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ لیبر انسپکشن، جو اب جی ایس پی پلس کی ایک واضح ذمہ داری ہے، کئی برسوں سے غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ پنجاب نے ایک وقت میں سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے معمول کے معائنے پر مکمل پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ صوبائی محکموں میں انسپکٹروں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے اور وہ تقریباً کوئی معلومات بھی شائع نہیں کرتے۔ غیر ملکی برانڈز کی جانب سے مقرر کردہ آڈیٹرز معمول کے مطابق یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ کارکنوں کے نام سوشل سیکیورٹی اور پنشن کے ریکارڈ میں شامل نہیں ہیں۔ صنعتی فضلے کے اخراج کے معیار موجود ہیں، لیکن زیادہ تر رنگائی کے یونٹس کا سرکاری سطح پر شاذونادر ہی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر بات اس امر کا ثبوت ہے کہ قانون صرف کاغذوں تک محدود ہے، اور اب یورپی یونین ان شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔</p>
<p>اس معاملے میں دلچسپ تضاد یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدی صنعت پہلے ہی قانون کی تعمیل کے حوالے سے کسی بھی نگران ادارے سے زیادہ شواہد تیار کر رہی ہے۔ ایک بڑی ٹیکسٹائل مل اپنے خریداروں کے لیے سالانہ 20 یا اس سے زائد سماجی آڈٹس سے گزرتی ہے، جن میں بی ایس سی آئی، ایس ایم ای ٹی اے، ڈبلیو آر اے پی اور ایس ایل سی پی کے معیارات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہِگ انڈیکس اور زیڈ ڈی ایچ سی کے ذریعے توانائی، پانی اور کیمیائی مادوں کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار بھی فراہم کرتی ہے۔ اس تمام معلومات کا تقریباً کوئی حصہ سرکاری اداروں تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی یہ یورپی یونین کے جائزے میں شامل ہوتا ہے۔ صنعت قانون کی تعمیل کو اگلا آرڈر حاصل کرنے کی قیمت سمجھتی ہے، جبکہ حکومت جی ایس پی پلس کو ایک ایسی سفارتی فائل تصور کرتی ہے جس کا ہر 2 سال بعد دفاع کرنا ہوتا ہے۔ دونوں میں سے کسی نے بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ فیکٹریوں کی سطح پر قانون کی تعمیل اب قومی تجارتی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے حریف ممالک انتظار نہیں کر رہے۔ بھارت نے جنوری میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے اور اس کے نافذ العمل ہونے کے بعد بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات یورپ میں ڈیوٹی فری داخل ہو سکیں گی۔ بنگلہ دیش کو کم ترقی یافتہ ملک کا درجہ ختم ہونے کے باوجود 2029 کے اواخر تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل رہے گی۔ اگر پاکستان جی ایس پی پلس سے محروم ہو جاتا ہے تو اس کی مصنوعات پر 12 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، جبکہ اس کے 2 قریبی حریفوں کو کوئی ڈیوٹی ادا نہیں کرنا پڑے گی۔</p>
<p>دوبارہ درخواست دینے کا موقع صرف کاغذی کارروائی بہتر بنانے کے بجائے شواہد میں تبدیلی لانے کا موقع ہے، اور پاکستان کو بیک وقت 3 محاذوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔</p>
<p>اول، فیکٹریوں میں پہلے سے موجود اعداد و شمار کو قومی سطح کے شواہد میں تبدیل کیا جائے۔ صنعتی انجمنوں اور صوبائی محکمۂ محنت کو چاہیے کہ تصدیق شدہ آڈٹ نتائج کو یکجا کرکے قانون کی تعمیل کا ایک مشترکہ ریکارڈ تیار کریں، جس میں کارکنوں کی شناخت کو محفوظ رکھا جائے۔ اس ریکارڈ کے ذریعے برسلز کو بتایا جا سکے کہ کتنی فیکٹریاں اجرتوں، کام کے اوقات اور حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہیں اور ہر سال اس تعداد میں کس طرح اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>دوم، جہاں نئے کنونشنز کا اطلاق ہوتا ہے وہاں قانون پر عمل درآمد کے نظام کو دوبارہ مضبوط بنایا جائے۔ لیبر انسپکشن کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں، معائنے کے نتائج ڈیجیٹل ذرائع سے مرتب کرکے عوام کے سامنے شائع کیے جائیں، برآمد کنندگان کے پے رول ریکارڈ سے منسلک سادہ آن لائن طریقہ کار کے ذریعے سوشل سیکیورٹی رجسٹریشن کو آسان بنایا جائے اور سہ فریقی کونسلز کو کارکنوں کی حقیقی نمائندگی کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا پابند بنایا جائے۔</p>
<p>سوم، خریداروں کو محض آڈیٹرز کے بجائے شراکت دار بنایا جائے۔ یورپی برانڈز کو پاکستان کی ڈیوٹی فری رسائی سے براہ راست فائدہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ آڈٹ کے نتائج قومی کوششوں کے ساتھ شیئر کریں اور ان فیکٹریوں میں اصلاحاتی اقدامات کے لیے مشترکہ طور پر مالی معاونت فراہم کریں جہاں سے وہ مصنوعات خریدتے ہیں۔ مشترکہ ذمہ داری کا یہی تصور ہے جسے آلٹرنیٹ ڈیولپمنٹ سروسز اپنی شیئرڈ ٹرانزیشن ریسپانسبلٹی موومنٹ (ایس ٹی آر ایم) کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہے۔</p>
<p>حکومت نے دوبارہ درخواست دینے کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اگر اس کمیٹی کا کام صرف بہتر دستاویزات تیار کرنا ہے تو وہ اصل مقصد کو سمجھنے میں ناکام رہے گی۔ یورپی یونین اب یہ نہیں پوچھ رہی کہ پاکستان نے کیا وعدے کیے ہیں، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ فیکٹری کے پیداواری شعبے میں کام کرنے والے مزدور کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔</p>
<p>جی ایس پی پلس اس امید پر دیا گیا تھا کہ پاکستان اصلاحات کرے گا۔ 2027 میں یورپ ان اصلاحات کے نتائج کا جائزہ لینا شروع کرے گا۔</p>
<hr />
<p>یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293470</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Nov 2026 10:38:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اشفا اشرف)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/04103702c758fc7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/04103702c758fc7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
