<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 19:33:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 19:33:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران،امریکا معاہدہ؟ سفارتی کوششوں کے باوجود پیش رفت نہ ہو سکی، ایرانی عہدیدار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293450/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ تاحال ممکن نظر نہیں آتا، تاہم ثالثی کا کردار ادا کرنے والا قطر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کشیدگی میں دوبارہ اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز رائٹرز کو بتایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے رات گئے ایران کے جزیرے قشم پر ’دفاعی‘ حملے کیے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ان حملوں میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا، جو امریکی اثاثوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ ایک دوسرے عہدیدار نے کہا کہ یہ حملے محدود نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں اور ان سے بڑی فوجی کارروائیوں کی بحالی کا عندیہ نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے سفارتی کوششیں اس خدشے کے پیش نظر تیز کر دی ہیں کہ منگل کے روز امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے ثالث بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان قطری ثالثوں کے پیر کی شب تہران پہنچنے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ آٹھ روز سے زیرِ غور ایران امریکا مجوزہ معاہدے کے مسودے پر بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے تو اسے تہران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں ثالثوں کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تہران جانے والا قطری وفد دوحہ واپس آچکا ہے، تاہم مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے خطے کے ممالک کی مشترکہ اور بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کو اب بھی امید ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو آئندہ مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماجد الانصاری نے کہا، ’’اگر امید کی کوئی کرن نہ ہوتی تو مذاکرات ہی نہ ہو رہے ہوتے اور ثالث کی حیثیت سے ہم امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے آئندہ 36 گھنٹوں میں ردعمل موصول ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کا دونوں فریق فی الحال جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سخت ردعمل‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گمنامی کی شرط پر بات کرنے والے سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے ’غیرمعمولی مطالبات‘ قبول نہیں کرے گا اور جوہری مذاکرات صرف ایران کی شرائط پوری ہونے کے بعد ہی شروع ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران خطے کے اندر اور اس سے باہر سخت ردعمل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سفارتی پیش رفت کی امید پر گزشتہ روز 7 فیصد سے زائد کمی کے بعد منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب فضا میں ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون اور دو لوکس ڈرون مار گرائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اب گیند واشنگٹن کے کورٹ میں ہے، کیونکہ تہران اپنا وہ ردعمل دے چکا ہے جسے انہوں نے ’مضبوط اور معقول‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قالیباف نے کہا، ’’دشمن دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایرانی قوم کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہے؛ ایران کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی کسی بھی غلط مہم جوئی کا ایران کا جواب غیر متوقع ہوگا اور جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے کے ممالک اس امکان کے پیش نظر تیاریاں کر رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ نے پیر کے روز اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا کہ آیا وہ انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی حملے کرنے کی دھمکی پر عمل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تہران جلد از جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا کہ ایران اپنی اہداف کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے، جن میں امریکی اور اسرائیلی اثاثے شامل ہیں، جبکہ کسی بھی خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مسلح افواج کو دشمن کے کسی بھی خطرے کا فوری اور ’جغرافیائی حدود سے ماورا‘ جواب دینے کے حکم کے بعد ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ میں خطے سے باہر ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بات بڑھ گئی ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سخت گیر اخبار کیہان نے منگل کے روز کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں برطانیہ، اٹلی، یونان، رومانیہ، البانیہ اور قبرص میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران سعودی مذاکرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کے ساتھ ساتھ خطے کی طاقتیں بھی کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں۔ جنگ کا دائرہ پھیل چکا ہے اور یمن کے حوثی جنگجو سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد خطے میں سلامتی کے ایسے نئے انتظامات وضع کرنا ہے جن میں غیر ملکی فوجی مداخلت شامل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات کی تھی۔ اگست کے بعد یہ اپنی نوعیت کے پہلے اعلیٰ سطح کے رابطے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں اس وقت شدت آئی ہے جب یہ طاقتور مسلح گروہ جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب واقع اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ یہ آبنائے ہرمز کے بالمقابل واقع ہے اور عالمی جہاز رانی کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے باعث پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ تاحال ممکن نظر نہیں آتا، تاہم ثالثی کا کردار ادا کرنے والا قطر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کشیدگی میں دوبارہ اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز رائٹرز کو بتایا ہے۔</strong></p>
<p>امریکا نے رات گئے ایران کے جزیرے قشم پر ’دفاعی‘ حملے کیے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ان حملوں میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا، جو امریکی اثاثوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ ایک دوسرے عہدیدار نے کہا کہ یہ حملے محدود نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں اور ان سے بڑی فوجی کارروائیوں کی بحالی کا عندیہ نہیں ملتا۔</p>
<p>قطر نے سفارتی کوششیں اس خدشے کے پیش نظر تیز کر دی ہیں کہ منگل کے روز امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p>سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے ثالث بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان قطری ثالثوں کے پیر کی شب تہران پہنچنے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ آٹھ روز سے زیرِ غور ایران امریکا مجوزہ معاہدے کے مسودے پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p>ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے تو اسے تہران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں ثالثوں کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تہران جانے والا قطری وفد دوحہ واپس آچکا ہے، تاہم مذاکرات جاری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے خطے کے ممالک کی مشترکہ اور بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کو اب بھی امید ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو آئندہ مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
<p>ماجد الانصاری نے کہا، ’’اگر امید کی کوئی کرن نہ ہوتی تو مذاکرات ہی نہ ہو رہے ہوتے اور ثالث کی حیثیت سے ہم امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘</p>
<p>مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کی جانب سے آئندہ 36 گھنٹوں میں ردعمل موصول ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ثالثوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کا دونوں فریق فی الحال جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>’سخت ردعمل‘</p>
<p>گمنامی کی شرط پر بات کرنے والے سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے ’غیرمعمولی مطالبات‘ قبول نہیں کرے گا اور جوہری مذاکرات صرف ایران کی شرائط پوری ہونے کے بعد ہی شروع ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران خطے کے اندر اور اس سے باہر سخت ردعمل دے گا۔</p>
<p>ادھر سفارتی پیش رفت کی امید پر گزشتہ روز 7 فیصد سے زائد کمی کے بعد منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب فضا میں ایک امریکی ایم کیو 9 ڈرون اور دو لوکس ڈرون مار گرائے ہیں۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اب گیند واشنگٹن کے کورٹ میں ہے، کیونکہ تہران اپنا وہ ردعمل دے چکا ہے جسے انہوں نے ’مضبوط اور معقول‘ قرار دیا۔</p>
<p>قالیباف نے کہا، ’’دشمن دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایرانی قوم کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہے؛ ایران کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی کسی بھی غلط مہم جوئی کا ایران کا جواب غیر متوقع ہوگا اور جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ہوگا۔</p>
<p>یہ انتباہات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے کے ممالک اس امکان کے پیش نظر تیاریاں کر رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ نے پیر کے روز اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا کہ آیا وہ انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی حملے کرنے کی دھمکی پر عمل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تہران جلد از جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔</p>
<p>صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا، ’’نہیں۔‘‘</p>
<p>ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا کہ ایران اپنی اہداف کی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے، جن میں امریکی اور اسرائیلی اثاثے شامل ہیں، جبکہ کسی بھی خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مسلح افواج کو دشمن کے کسی بھی خطرے کا فوری اور ’جغرافیائی حدود سے ماورا‘ جواب دینے کے حکم کے بعد ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ میں خطے سے باہر ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بات بڑھ گئی ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>ایران کے سخت گیر اخبار کیہان نے منگل کے روز کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں برطانیہ، اٹلی، یونان، رومانیہ، البانیہ اور قبرص میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>ایران سعودی مذاکرات</strong></p>
<p>تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کے ساتھ ساتھ خطے کی طاقتیں بھی کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہیں۔ جنگ کا دائرہ پھیل چکا ہے اور یمن کے حوثی جنگجو سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد خطے میں سلامتی کے ایسے نئے انتظامات وضع کرنا ہے جن میں غیر ملکی فوجی مداخلت شامل نہ ہو۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات کی تھی۔ اگست کے بعد یہ اپنی نوعیت کے پہلے اعلیٰ سطح کے رابطے تھے۔</p>
<p>حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں اس وقت شدت آئی ہے جب یہ طاقتور مسلح گروہ جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب واقع اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ یہ آبنائے ہرمز کے بالمقابل واقع ہے اور عالمی جہاز رانی کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔</p>
<p>حوثیوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ ان حملوں کے باعث پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملے کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293450</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 18:55:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/031852172b2c6ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/031852172b2c6ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
