<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 19:13:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 19:13:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی مالی معاونت کی آمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293447/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادائیگیوں کے توازن میں جاری کھاتے کے خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے اور دوطرفہ، کثیرالجہتی قرض دہندگان، بین الاقوامی کمرشل بینکوں اور بانڈ ہولڈرز کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار رقوم کا انتظام کرنے میں بیرونی مالی معاونت کی آمد کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مناسب مقدار میں بیرونی مالی معاونت حاصل کرنے کی صلاحیت کا انحصار بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، مثلاً موڈیز اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز کی جانب سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر اور درآمدات کے مقابلے میں ان کی سطح بھی ممکنہ قرض دہندگان کی جانب سے ملک کو قرض دینے کے خطرات کا جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، آئی ایم ایف کا جاری پروگرام بھی بیرونی مالی معاونت کے حصول کے امکانات بہتر بناتا ہے، بالخصوص اس صورت میں جب پاکستان پروگرام کے تحت ہونے والے وقتاً فوقتاً جائزے کامیابی سے مکمل کرتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے ہم مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی جانب سے بیرونی مالی معاونت کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں کامیابی کا جائزہ لیتے ہیں۔ مالی سال کے آغاز پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 14.4 ارب ڈالر تھے، جو دو ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال کے آغاز میں ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کم سطح پر تھی، تاہم سال کے دوران اس میں بہتری آئی۔ پاکستان 7 ارب ڈالر سے زائد کے تین سالہ توسیعی فنڈ سہولت پروگرام میں شامل ہو چکا تھا اور مالی سال 2025-26 کے دوران ہر چھ ماہ بعد ہونے والے تمام جائزے کامیابی سے مکمل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزارت خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے بیرونی مالی معاونت کی مجموعی سالانہ آمد کا ہدف 19.9 ارب ڈالر مقرر کیا تھا۔ اس میں سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کی تجدید بھی شامل تھی۔ چنانچہ دیگر ذرائع سے مالی معاونت کی متوقع آمد کا ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے مثبت پیش رفت یہ رہی کہ مالی سال 2025-26 کے دوران دیگر ذرائع سے مالی معاونت کی مجموعی آمد 14.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے پورے 4 ارب ڈالر زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ ذرائع، بالخصوص چین اور سعودی عرب سے 1.4 ارب ڈالر کی آمد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ حقیقی آمد تقریباً 1.3 ارب ڈالر رہی۔ اسی طرح کثیرالجہتی اداروں سے مالی معاونت کی آمد بھی 5 ارب ڈالر کے ہدف کے مطابق رہی۔ بانڈز کے اجرا کے ذریعے بھی ایک ارب ڈالر حاصل ہوئے، جو مقررہ ہدف سے 20 کروڑ ڈالر زیادہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں غیرمعمولی سرمایہ کاری کے ذریعے 2.6 ارب ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ اس مد میں ہدف صرف 60 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی معاونت کی آمد میں کمی صرف بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے معاملے میں رہی۔ اس مد میں 3.1 ارب ڈالر کا ہدف مقرر تھا، تاہم مالی سال 2025-26 کے دوران حقیقی آمد صرف 1.9 ارب ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کو بیرونی مالی معاونت کے حصول کے حوالے سے غیرمعمولی طور پر کامیاب سال قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں 19.9 ارب ڈالر کے مجموعی ہدف کے مقابلے میں 4 ارب ڈالر اضافی مالی معاونت حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 14.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 19.5 ارب ڈالر ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی بھی اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ ذیل میں اس سال کے لیے بیرونی مالی معاونت کی سالانہ آمد کا ہدف اور پہلی سہ ماہی کے دوران اس کی تخمینی مقدار کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے بیرونی مالی معاونت کی آمد کا سالانہ ہدف 24 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، جس میں سعودی عرب اور چین سے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کی تجدید بھی شامل ہے۔ اس میں جاری کھاتے کے خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 4 ارب ڈالر اور ممکنہ قرضوں کی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کے لیے 20.4 ارب ڈالر کی ضرورت شامل ہے۔ تاہم ان دونوں مدات کی الگ الگ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے دوران اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت پاکستان کی جانب سے 3 ستمبر 2023 کو دو مرحلوں پر مشتمل یورو بانڈز کے اجرا کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کرنا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے عالمی اعتماد میں مزید بہتری کی واضح عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں 1.75 ارب ڈالر مالیت کے ساڑھے پانچ سالہ بانڈز جاری کیے گئے، جن پر شرح سود 7.5 فیصد مقرر کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں 1.25 ارب ڈالر مالیت کے 10 سالہ بانڈز جاری کیے گئے، جن پر شرح سود 7.9 فیصد ہے۔ اس طرح ان بانڈز پر سالانہ سود کی ادائیگی تقریباً 23 کروڑ ڈالر ہو گی۔ پاکستان کو قرض دینے سے متعلق خطرات کے تاثر کے برقرار رہنے کے باعث ان بانڈز پر شرح سود بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3 ارب ڈالر کے بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم سمیت مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں نئی بیرونی مالی معاونت کی مجموعی آمد 5.2 ارب ڈالر رہی۔ اس طرح دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم نسبتاً کم، یعنی 2.2 ارب ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزارت اقتصادی امور نے مالی سال 2026-27 کے لیے بیرونی مالی معاونت کی مختلف اقسام کے الگ الگ اہداف جاری کرنا بند کر دیے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان اہداف کی دوبارہ وضاحت کی جائے اور انہیں بیرونی مالی معاونت سے متعلق ماہانہ گوشواروں میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ذرائع سے مالی معاونت کی آمد کا جائزہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں حاصل ہونے والی رقوم سے موازنہ کرتے ہوئے لیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے دوطرفہ ذرائع سے مجموعی آمد تقریباً اسی سطح پر رہی اور 30 کروڑ ڈالر کے قریب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن امر کثیرالجہتی اداروں سے مالی معاونت کی آمد میں 26 فیصد کمی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک جیسے ترقیاتی بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں ہچکچاہٹ بڑھ رہی ہے، جس کی وجوہات میں ترقیاتی منصوبوں پر ناکافی عمل درآمد اور اہم پالیسی اقدامات و اصلاحات کی تیاری اور ان پر مؤثر عمل درآمد میں ناکامی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 5.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت میں سے 60 فیصد سے زائد رقم 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کے ذریعے حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو بانڈز کے بڑے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2025-26 کے اختتام پر 19.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر ستمبر 2026 کے اختتام تک 21.7 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ یہ سطح تین ماہ کی درآمدات کے لیے درکار محفوظ حد سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہتی ہے تو جاری کھاتے کا خسارہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے، جس سے ایک بار پھر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈز کے اجرا اور کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے نتیجے میں پاکستان پر قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس امر کی ہے کہ دوطرفہ ذرائع سے نسبتاً کم لاگت اور طویل مدت کے قرضوں کے حصول پر توجہ دی جائے اور ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک جیسے کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ روابط اور تعاون کو بہتر بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ساختی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر اور بروقت تکمیل پر توجہ دینا ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پاکستان کو آئندہ سال تک آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے مرحلے کے لیے بھی خود کو تیار کرنا ہو گا۔ اس منتقلی کے دوران زرمبادلہ کے مناسب ذخائر قائم کرنا ضروری ہو گا تاکہ آئی ایم ایف کی معاونت ختم ہونے کے باعث بعض ٹائم ڈپازٹس کی پاکستان سے واپسی کے ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادائیگیوں کے توازن میں جاری کھاتے کے خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے اور دوطرفہ، کثیرالجہتی قرض دہندگان، بین الاقوامی کمرشل بینکوں اور بانڈ ہولڈرز کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار رقوم کا انتظام کرنے میں بیرونی مالی معاونت کی آمد کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔</strong></p>
<p>مناسب مقدار میں بیرونی مالی معاونت حاصل کرنے کی صلاحیت کا انحصار بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، مثلاً موڈیز اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز کی جانب سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر اور درآمدات کے مقابلے میں ان کی سطح بھی ممکنہ قرض دہندگان کی جانب سے ملک کو قرض دینے کے خطرات کا جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، آئی ایم ایف کا جاری پروگرام بھی بیرونی مالی معاونت کے حصول کے امکانات بہتر بناتا ہے، بالخصوص اس صورت میں جب پاکستان پروگرام کے تحت ہونے والے وقتاً فوقتاً جائزے کامیابی سے مکمل کرتا رہے۔</p>
<p>سب سے پہلے ہم مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی جانب سے بیرونی مالی معاونت کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں کامیابی کا جائزہ لیتے ہیں۔ مالی سال کے آغاز پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 14.4 ارب ڈالر تھے، جو دو ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔</p>
<p>سال کے آغاز میں ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کم سطح پر تھی، تاہم سال کے دوران اس میں بہتری آئی۔ پاکستان 7 ارب ڈالر سے زائد کے تین سالہ توسیعی فنڈ سہولت پروگرام میں شامل ہو چکا تھا اور مالی سال 2025-26 کے دوران ہر چھ ماہ بعد ہونے والے تمام جائزے کامیابی سے مکمل کیے۔</p>
<p>وفاقی وزارت خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے بیرونی مالی معاونت کی مجموعی سالانہ آمد کا ہدف 19.9 ارب ڈالر مقرر کیا تھا۔ اس میں سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کی تجدید بھی شامل تھی۔ چنانچہ دیگر ذرائع سے مالی معاونت کی متوقع آمد کا ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>اس حوالے سے مثبت پیش رفت یہ رہی کہ مالی سال 2025-26 کے دوران دیگر ذرائع سے مالی معاونت کی مجموعی آمد 14.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مقررہ ہدف سے پورے 4 ارب ڈالر زیادہ تھی۔</p>
<p>دوطرفہ ذرائع، بالخصوص چین اور سعودی عرب سے 1.4 ارب ڈالر کی آمد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جبکہ حقیقی آمد تقریباً 1.3 ارب ڈالر رہی۔ اسی طرح کثیرالجہتی اداروں سے مالی معاونت کی آمد بھی 5 ارب ڈالر کے ہدف کے مطابق رہی۔ بانڈز کے اجرا کے ذریعے بھی ایک ارب ڈالر حاصل ہوئے، جو مقررہ ہدف سے 20 کروڑ ڈالر زیادہ تھے۔</p>
<p>نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں غیرمعمولی سرمایہ کاری کے ذریعے 2.6 ارب ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ اس مد میں ہدف صرف 60 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>مالی معاونت کی آمد میں کمی صرف بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے معاملے میں رہی۔ اس مد میں 3.1 ارب ڈالر کا ہدف مقرر تھا، تاہم مالی سال 2025-26 کے دوران حقیقی آمد صرف 1.9 ارب ڈالر رہی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کو بیرونی مالی معاونت کے حصول کے حوالے سے غیرمعمولی طور پر کامیاب سال قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں 19.9 ارب ڈالر کے مجموعی ہدف کے مقابلے میں 4 ارب ڈالر اضافی مالی معاونت حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 14.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 کے اختتام تک 19.5 ارب ڈالر ہو گئے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی بھی اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ ذیل میں اس سال کے لیے بیرونی مالی معاونت کی سالانہ آمد کا ہدف اور پہلی سہ ماہی کے دوران اس کی تخمینی مقدار کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے بیرونی مالی معاونت کی آمد کا سالانہ ہدف 24 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، جس میں سعودی عرب اور چین سے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کی تجدید بھی شامل ہے۔ اس میں جاری کھاتے کے خسارے کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 4 ارب ڈالر اور ممکنہ قرضوں کی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کے لیے 20.4 ارب ڈالر کی ضرورت شامل ہے۔ تاہم ان دونوں مدات کی الگ الگ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے دوران اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت پاکستان کی جانب سے 3 ستمبر 2023 کو دو مرحلوں پر مشتمل یورو بانڈز کے اجرا کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کرنا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے عالمی اعتماد میں مزید بہتری کی واضح عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>پہلے مرحلے میں 1.75 ارب ڈالر مالیت کے ساڑھے پانچ سالہ بانڈز جاری کیے گئے، جن پر شرح سود 7.5 فیصد مقرر کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں 1.25 ارب ڈالر مالیت کے 10 سالہ بانڈز جاری کیے گئے، جن پر شرح سود 7.9 فیصد ہے۔ اس طرح ان بانڈز پر سالانہ سود کی ادائیگی تقریباً 23 کروڑ ڈالر ہو گی۔ پاکستان کو قرض دینے سے متعلق خطرات کے تاثر کے برقرار رہنے کے باعث ان بانڈز پر شرح سود بلند ہے۔</p>
<p>3 ارب ڈالر کے بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم سمیت مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں نئی بیرونی مالی معاونت کی مجموعی آمد 5.2 ارب ڈالر رہی۔ اس طرح دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم نسبتاً کم، یعنی 2.2 ارب ڈالر رہیں۔</p>
<p>وفاقی وزارت اقتصادی امور نے مالی سال 2026-27 کے لیے بیرونی مالی معاونت کی مختلف اقسام کے الگ الگ اہداف جاری کرنا بند کر دیے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان اہداف کی دوبارہ وضاحت کی جائے اور انہیں بیرونی مالی معاونت سے متعلق ماہانہ گوشواروں میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>مختلف ذرائع سے مالی معاونت کی آمد کا جائزہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں حاصل ہونے والی رقوم سے موازنہ کرتے ہوئے لیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے دوطرفہ ذرائع سے مجموعی آمد تقریباً اسی سطح پر رہی اور 30 کروڑ ڈالر کے قریب تھی۔</p>
<p>حیران کن امر کثیرالجہتی اداروں سے مالی معاونت کی آمد میں 26 فیصد کمی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک جیسے ترقیاتی بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں ہچکچاہٹ بڑھ رہی ہے، جس کی وجوہات میں ترقیاتی منصوبوں پر ناکافی عمل درآمد اور اہم پالیسی اقدامات و اصلاحات کی تیاری اور ان پر مؤثر عمل درآمد میں ناکامی شامل ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 5.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت میں سے 60 فیصد سے زائد رقم 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا کے ذریعے حاصل ہوئی۔</p>
<p>یورو بانڈز کے بڑے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 2025-26 کے اختتام پر 19.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر ستمبر 2026 کے اختتام تک 21.7 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ یہ سطح تین ماہ کی درآمدات کے لیے درکار محفوظ حد سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>تاہم اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رہتی ہے تو جاری کھاتے کا خسارہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے، جس سے ایک بار پھر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>بانڈز کے اجرا اور کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے نتیجے میں پاکستان پر قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔</p>
<p>ضرورت اس امر کی ہے کہ دوطرفہ ذرائع سے نسبتاً کم لاگت اور طویل مدت کے قرضوں کے حصول پر توجہ دی جائے اور ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک جیسے کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ روابط اور تعاون کو بہتر بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ساختی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر اور بروقت تکمیل پر توجہ دینا ہو گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ پاکستان کو آئندہ سال تک آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے مرحلے کے لیے بھی خود کو تیار کرنا ہو گا۔ اس منتقلی کے دوران زرمبادلہ کے مناسب ذخائر قائم کرنا ضروری ہو گا تاکہ آئی ایم ایف کی معاونت ختم ہونے کے باعث بعض ٹائم ڈپازٹس کی پاکستان سے واپسی کے ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293447</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 17:06:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/031702185749312.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/031702185749312.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
