<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 15:46:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 15:46:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم قیمتوں میں روزانہ ردوبدل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293423/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹک ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے مطابق حکومت کی جانب سے موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمتوں کے تعین میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے قبل کے پریمیم اور دیگر ضمنی اخراجات شامل کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں فی لٹر 35 روپے کا مالی نقصان ہوگا جب کہ پٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ریکوری سے مزید 14 روپے فی لٹر کا بوجھ پڑے گا۔ اس طرح مقامی آئل ریفائنریوں پر مجموعی طور پر 49 روپے فی لٹر کا مالی بوجھ عائد ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صنعت سے مشاورت نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ایسے وقت میں جب ریفائنریز اپنے منصوبوں کیلئے مالی وسائل کے حصول کی کوشش کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ہدفی ایندھن سبسڈیز کے ذریعے کامیابی حاصل کی جن سے ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار، معمولی ردوبدل کے ساتھ، درج ذیل اجزا پر مشتمل ہے:(1) ایکس ریفائنری/درآمدی قیمت: اس میں ایندھن کی خریداری کی قیمت، عالمی منڈی میں اس کی قیمت، شپنگ کے اخراجات اور ملک کے اندر ریفائننگ پر آنے والی لاگت شامل ہوتی ہے۔ اس مد کا مجموعی پمپ قیمت میں حصہ 71.8 فیصد ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی ریفائنریوں کا بنیادی ڈھانچہ دیگر ممالک کے مقابلے میں فرسودہ ہے۔ (2) آئی ایف ای ایم (ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن): اس کا حصہ 2.08 فیصد ہے۔ یہ نظام ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں کو یکساں رکھنے کی غیر واضح کوشش سے مشابہت رکھتا ہے۔ بجلی شعبے میں یہی طریقہ کار رواں سال ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تقریباً 600 ارب روپے کی سبسڈیز دینے کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے مزید 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔(3) آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا منافع: دونوں کے لیے الگ الگ 2 فیصد مارجن مقرر ہے، یوں مجموعی طور پر پمپ قیمت میں ان کا حصہ 4 فیصد بنتا ہے۔ (4) پیٹرولیم لیوی اور کاربن لیوی: پیٹرولیم لیوی کا حصہ پمپ قیمت کا 20.3 فیصد ہے جبکہ کاربن لیوی 1.3 فیصد ہے۔ کاربن لیوی کا اطلاق آئی ایم ایف کے آر ایس ایف کے تحت کیے گئے معاہدے کے مطابق کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 جولائی کو حکومت نے پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا۔پرویز ملک نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اس اقدام سے ریاست کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہوگا جبکہ عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق پیٹرولیم  قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقہ کار کے تحت عالمی بینچ مارک پلیٹس کی گزشتہ سات روز کی متحرک اوسط کو بنیاد بنایا جائے گا۔ چنانچہ قیمتوں کا ہفتہ وار تعین زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ امریکی انتظامیہ ریٹیل پمپ قیمتوں کے بجائے امریکی فیوچرز مارکیٹ میں کامیابی سے مداخلت اور قیمتوں میں ردوبدل کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بلند تر شپنگ چارجز اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرحِ تبادلہ میں تبدیلی کے باعث درآمد سے متعلق اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، مؤخرالذکر شرح حیرت انگیز طور پر مستحکم رہی ہے، اور بعض ماہرینِ معاشیات بھی حیران کن طور پر اسے مستقل قرار دیتے ہیں، حالانکہ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے حکومت کی جانب سے عائد بھاری ٹیکسوں کا ذکر نہیں کیا جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.677 ٹریلین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جو اس سال ایف بی آر کے مجموعی محصولات کے ہدف کا 11 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے مؤثر نفاذ کو مزید مشکل بنانے والا ایک عنصر جماعتِ اسلامی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ شروع کرنے کی دھمکی بھی ہے جس کا اعلان حکومت کی جانب سے لیوی میں کمی نہ کرنے کی صورت میں کیا گیا ہے۔ تاہم، لیوی میں کمی سے محصولات کے ہدف میں پیدا ہونے والی کمی پوری کرنے کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہوگی جسے اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کی جانب سے درج ذیل اقدامات پر مجبور کیا جا سکتا ہے: (1) زیادہ ٹیکس عائد کرنا اور/یا پہلے سے نافذ ٹیکسوں کا دائرہ کار وسیع کرنا۔ ایف بی آر کا بالواسطہ ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے کا رجحان دیکھتے ہوئے، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، اس اقدام سے غریب اور کمزور طبقات کو حاصل ہونے والے ہر روپے کی قدر میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں ہوگا؛ اور/یا (2) اب تک تین اشیا، یعنی چینی، سیمنٹ اور کھاد پر نفاذی اقدامات کے ذریعے ٹیکس وصولی بڑھانا۔ ان اقدامات کے تحت فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس کا بوجھ صارفین کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہ متبادل اقدامات مہنگائی میں شدید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ موجودہ پیٹرولیم لیوی غریب طبقے کے معیارِ زندگی کو ان متبادل اقدامات کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرے گی یا نہیں، جنہیں بصورتِ دیگر اختیار کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غریب اور نچلے متوسط طبقے کی آمدن سے حاصل ہونے والے ہر روپے کی قدر کو محفوظ رکھنے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کرے جن کا تخمینہ مجموعی اخراجات کا 93 فیصد ہے۔ حکومتی اخراجات کا یہ بھاری حجم اسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر قرض لینے پر مجبور کرتا ہے جس کے نتیجے میں قرضوں پر سود اور اصل زر کی ادائیگیوں پر رواں سال کے مجموعی سالانہ بجٹ کا تقریباً 46 فیصد خرچ ہو رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ٹیکسوں میں اضافے کا ایک متبادل فراہم کرتی ہے کیونکہ ٹیکسوں کا اضافی بوجھ عام عوام پر پڑتا ہے اور صنعتی پیداوار بھی منفی طور پر متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹک ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے مطابق حکومت کی جانب سے موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمتوں کے تعین میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے قبل کے پریمیم اور دیگر ضمنی اخراجات شامل کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں فی لٹر 35 روپے کا مالی نقصان ہوگا جب کہ پٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ریکوری سے مزید 14 روپے فی لٹر کا بوجھ پڑے گا۔ اس طرح مقامی آئل ریفائنریوں پر مجموعی طور پر 49 روپے فی لٹر کا مالی بوجھ عائد ہوگا۔</strong></p>
<p>انہوں نے صنعت سے مشاورت نہ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ایسے وقت میں جب ریفائنریز اپنے منصوبوں کیلئے مالی وسائل کے حصول کی کوشش کررہی ہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ہدفی ایندھن سبسڈیز کے ذریعے کامیابی حاصل کی جن سے ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوئے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار، معمولی ردوبدل کے ساتھ، درج ذیل اجزا پر مشتمل ہے:(1) ایکس ریفائنری/درآمدی قیمت: اس میں ایندھن کی خریداری کی قیمت، عالمی منڈی میں اس کی قیمت، شپنگ کے اخراجات اور ملک کے اندر ریفائننگ پر آنے والی لاگت شامل ہوتی ہے۔ اس مد کا مجموعی پمپ قیمت میں حصہ 71.8 فیصد ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی ریفائنریوں کا بنیادی ڈھانچہ دیگر ممالک کے مقابلے میں فرسودہ ہے۔ (2) آئی ایف ای ایم (ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن): اس کا حصہ 2.08 فیصد ہے۔ یہ نظام ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں کو یکساں رکھنے کی غیر واضح کوشش سے مشابہت رکھتا ہے۔ بجلی شعبے میں یہی طریقہ کار رواں سال ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تقریباً 600 ارب روپے کی سبسڈیز دینے کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے مزید 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔(3) آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کا منافع: دونوں کے لیے الگ الگ 2 فیصد مارجن مقرر ہے، یوں مجموعی طور پر پمپ قیمت میں ان کا حصہ 4 فیصد بنتا ہے۔ (4) پیٹرولیم لیوی اور کاربن لیوی: پیٹرولیم لیوی کا حصہ پمپ قیمت کا 20.3 فیصد ہے جبکہ کاربن لیوی 1.3 فیصد ہے۔ کاربن لیوی کا اطلاق آئی ایم ایف کے آر ایس ایف کے تحت کیے گئے معاہدے کے مطابق کیا گیا ہے۔</p>
<p>17 جولائی کو حکومت نے پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا۔پرویز ملک نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اس اقدام سے ریاست کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہوگا جبکہ عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق پیٹرولیم  قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپی جائے گی۔</p>
<p>اس طریقہ کار کے تحت عالمی بینچ مارک پلیٹس کی گزشتہ سات روز کی متحرک اوسط کو بنیاد بنایا جائے گا۔ چنانچہ قیمتوں کا ہفتہ وار تعین زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ امریکی انتظامیہ ریٹیل پمپ قیمتوں کے بجائے امریکی فیوچرز مارکیٹ میں کامیابی سے مداخلت اور قیمتوں میں ردوبدل کررہی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ بلند تر شپنگ چارجز اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرحِ تبادلہ میں تبدیلی کے باعث درآمد سے متعلق اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، مؤخرالذکر شرح حیرت انگیز طور پر مستحکم رہی ہے، اور بعض ماہرینِ معاشیات بھی حیران کن طور پر اسے مستقل قرار دیتے ہیں، حالانکہ دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے حکومت کی جانب سے عائد بھاری ٹیکسوں کا ذکر نہیں کیا جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.677 ٹریلین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جو اس سال ایف بی آر کے مجموعی محصولات کے ہدف کا 11 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے مؤثر نفاذ کو مزید مشکل بنانے والا ایک عنصر جماعتِ اسلامی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ شروع کرنے کی دھمکی بھی ہے جس کا اعلان حکومت کی جانب سے لیوی میں کمی نہ کرنے کی صورت میں کیا گیا ہے۔ تاہم، لیوی میں کمی سے محصولات کے ہدف میں پیدا ہونے والی کمی پوری کرنے کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہوگی جسے اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کی جانب سے درج ذیل اقدامات پر مجبور کیا جا سکتا ہے: (1) زیادہ ٹیکس عائد کرنا اور/یا پہلے سے نافذ ٹیکسوں کا دائرہ کار وسیع کرنا۔ ایف بی آر کا بالواسطہ ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے کا رجحان دیکھتے ہوئے، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے، اس اقدام سے غریب اور کمزور طبقات کو حاصل ہونے والے ہر روپے کی قدر میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ نہیں ہوگا؛ اور/یا (2) اب تک تین اشیا، یعنی چینی، سیمنٹ اور کھاد پر نفاذی اقدامات کے ذریعے ٹیکس وصولی بڑھانا۔ ان اقدامات کے تحت فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس کا بوجھ صارفین کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہ متبادل اقدامات مہنگائی میں شدید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ موجودہ پیٹرولیم لیوی غریب طبقے کے معیارِ زندگی کو ان متبادل اقدامات کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرے گی یا نہیں، جنہیں بصورتِ دیگر اختیار کرنا پڑے گا۔</p>
<p>غریب اور نچلے متوسط طبقے کی آمدن سے حاصل ہونے والے ہر روپے کی قدر کو محفوظ رکھنے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کرے جن کا تخمینہ مجموعی اخراجات کا 93 فیصد ہے۔ حکومتی اخراجات کا یہ بھاری حجم اسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر قرض لینے پر مجبور کرتا ہے جس کے نتیجے میں قرضوں پر سود اور اصل زر کی ادائیگیوں پر رواں سال کے مجموعی سالانہ بجٹ کا تقریباً 46 فیصد خرچ ہو رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ٹیکسوں میں اضافے کا ایک متبادل فراہم کرتی ہے کیونکہ ٹیکسوں کا اضافی بوجھ عام عوام پر پڑتا ہے اور صنعتی پیداوار بھی منفی طور پر متاثر ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293423</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 14:17:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/03141806c7f8f58.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/03141806c7f8f58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
