<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 10:08:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 10:08:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 5 سالہ عمر کی پابندی ختم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293411/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت تجارت نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد 5 سالہ عمر کی پابندی یکم جولائی 2026 سے ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے، تاہم مقامی آٹوموبائل صنعت نے ذاتی استعمال کے لیے گاڑیاں درآمد کرنے کی اسکیموں کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت نے 30 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آفس میمورنڈم کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو آگاہ کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر لاگو عمر کی حد 30 جون 2026 کے بعد ختم ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت ایف بی آر کے 23 اکتوبر 2026 کے مراسلے کے جواب میں جاری کی گئی، جس میں جون 2026 کے بعد کمرشل درآمدات پر عمر کی پابندی کے اطلاق سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ نے پاکستان کسٹمز ٹیرف کے تحت کوڈز 8702، 8703، 8704 اور 8711 میں شامل استعمال شدہ گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ 5 سالہ عمر کے ساتھ کمرشل درآمد کی اجازت 30 جون 2026 تک دی تھی۔ یہ اجازت وزارت صنعت و پیداوار کے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے مقرر کردہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد سے مشروط تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے واضح کیا کہ یکم جولائی 2026 سے 5 سالہ عمر کی پابندی ختم ہے، تاہم درآمد کنندگان کو امپورٹ پالیسی آرڈر اور دیگر متعلقہ ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے حکومت سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے گفٹ اسکیم پر نظرثانی اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری تجارت کو لکھے گئے خط میں پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے کہا کہ گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ مقامی صنعت، روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں کی تعداد مئی 2026 میں 7 تھی، جو جون میں بڑھ کر 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 ہوگئی۔ پاما کا دعویٰ ہے کہ ستمبر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں گفٹ اسکیم کا حصہ تقریباً 98 فیصد رہا، جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاما نے کہا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حقیقی سہولت کے لیے متعارف کردہ ایس آر او 61(I)/2026 کی حمایت کرتی ہے، تاہم گاڑیوں کی تصدیق، منظوری اور نگرانی کے نظام کا جامع جائزہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کی آٹوموبائل صنعت نے مقامی پیداواری صلاحیت اور پرزہ جات کی تیاری کے فروغ پر ایک ہزار ارب روپے سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔ اس شعبے میں 31 سے زیادہ برانڈز، 100 سے زائد ماڈلز اور 13 پیداواری پلانٹس کام کررہے ہیں، جبکہ گاڑیوں کی مختلف اقسام میں مقامی پرزہ جات کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاما نے مزید کہا کہ درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور استعمال شدہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر 60 فیصد تک فرسودگی کی رعایت سے مقامی صنعت کی مسابقت متاثر ہورہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ گفٹ اسکیم کو صرف اس کے اصل مقصد تک محدود رکھنے کے لیے تصدیق اور نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت تجارت نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر عائد 5 سالہ عمر کی پابندی یکم جولائی 2026 سے ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے، تاہم مقامی آٹوموبائل صنعت نے ذاتی استعمال کے لیے گاڑیاں درآمد کرنے کی اسکیموں کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارت تجارت نے 30 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ آفس میمورنڈم کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو آگاہ کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر لاگو عمر کی حد 30 جون 2026 کے بعد ختم ہوچکی ہے۔</p>
<p>یہ وضاحت ایف بی آر کے 23 اکتوبر 2026 کے مراسلے کے جواب میں جاری کی گئی، جس میں جون 2026 کے بعد کمرشل درآمدات پر عمر کی پابندی کے اطلاق سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔</p>
<p>وزارت تجارت کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ نے پاکستان کسٹمز ٹیرف کے تحت کوڈز 8702، 8703، 8704 اور 8711 میں شامل استعمال شدہ گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ 5 سالہ عمر کے ساتھ کمرشل درآمد کی اجازت 30 جون 2026 تک دی تھی۔ یہ اجازت وزارت صنعت و پیداوار کے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے مقرر کردہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد سے مشروط تھی۔</p>
<p>وزارت نے واضح کیا کہ یکم جولائی 2026 سے 5 سالہ عمر کی پابندی ختم ہے، تاہم درآمد کنندگان کو امپورٹ پالیسی آرڈر اور دیگر متعلقہ ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے حکومت سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے گفٹ اسکیم پر نظرثانی اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>سیکریٹری تجارت کو لکھے گئے خط میں پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے کہا کہ گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد میں غیر معمولی اضافہ مقامی صنعت، روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔</p>
<p>خط کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں کی تعداد مئی 2026 میں 7 تھی، جو جون میں بڑھ کر 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 ہوگئی۔ پاما کا دعویٰ ہے کہ ستمبر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں گفٹ اسکیم کا حصہ تقریباً 98 فیصد رہا، جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔</p>
<p>پاما نے کہا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حقیقی سہولت کے لیے متعارف کردہ ایس آر او 61(I)/2026 کی حمایت کرتی ہے، تاہم گاڑیوں کی تصدیق، منظوری اور نگرانی کے نظام کا جامع جائزہ ضروری ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کی آٹوموبائل صنعت نے مقامی پیداواری صلاحیت اور پرزہ جات کی تیاری کے فروغ پر ایک ہزار ارب روپے سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔ اس شعبے میں 31 سے زیادہ برانڈز، 100 سے زائد ماڈلز اور 13 پیداواری پلانٹس کام کررہے ہیں، جبکہ گاڑیوں کی مختلف اقسام میں مقامی پرزہ جات کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>پاما نے مزید کہا کہ درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور استعمال شدہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر 60 فیصد تک فرسودگی کی رعایت سے مقامی صنعت کی مسابقت متاثر ہورہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ گفٹ اسکیم کو صرف اس کے اصل مقصد تک محدود رکھنے کے لیے تصدیق اور نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ مقامی صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293411</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Nov 2026 09:26:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/030924352d7b201.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/030924352d7b201.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
