<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 02 Nov 2026 17:28:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 17:28:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زیادہ تر معاملہ مالیاتی پالیسیوں کا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293390/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجویز کردہ پالیسیوں پر تنقید کوئی نئی بات نہیں۔ نوبیل انعام یافتہ ماہرینِ معیشت جوزف اسٹگ لٹز اور پال کرگمین کے علاوہ قرض لینے والے ممالک کے آزاد ماہرینِ معیشت بھی طویل عرصے سے ان پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ اس تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہر ملک پر یکساں پالیسی لاگو کرنے کا طریقہ کار قابلِ عمل نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے تناظر میں اس بات کی ایک مثال آئی ایم ایف کے عملے کا ایک معاشی اصول پر مسلسل اصرار ہے، جس پر آج بھی عمل کیا جا رہا ہے۔ یہ اصول پالیسی ریٹ اور مہنگائی کے درمیان الٹا تعلق قائم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سات ارب ڈالر کے جاری توسیعی فنڈ سہولت پروگرام سمیت آئی ایم ایف کے 24 پروگراموں میں اس تعلق کا تعین بنیادی مہنگائی (اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں کو نکال کر) کی بنیاد پر کیا گیا، کیونکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر ملکی عوامل سے ہوتا ہے۔ تاہم 2019ء کے پروگرام میں اس کے بجائے صارف قیمت اشاریے کو بنیاد بنایا گیا تھا، جب رضا باقر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاشی اصول کے مطابق قرض لینے کی لاگت بڑھنے سے قرض کا حصول محدود ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، جبکہ شرح سود میں کمی خودبخود قرض کے حجم میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک محتاط اندازے کے مطابق مجموعی قرضوں کا تقریباً 75 فیصد حکومت حاصل کرتی ہے، جس کا بیشتر حصہ جاری اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ رواں سال بجٹ کے مجموعی حجم کا 93 فیصد جاری اخراجات کے لیے مختص کیا گیا ہے، تاہم سال کے اختتام تک یہ تناسب مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ پائیدار مالیاتی خسارہ برقرار رکھنے کے لیے ترقیاتی اخراجات میں مختص رقم معمول کے مطابق کم کر دی جاتی ہے۔ یہ ایسے اخراجات ہیں جن کے مقابلے میں کوئی پیداواری پیداوار سامنے نہیں آتی، اس لیے ان کا اثر مہنگائی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری اخراجات میں تین بڑے مدات شامل ہیں۔ پہلی مد شہری حکومت کے انتظامی اخراجات ہیں، جن کے لیے مالی سال 2027ء میں 1.071 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اسی طرح دفاعی خدمات کے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے 967.548 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دونوں مدات کو ملا کر یہ رقم مجموعی جاری اخراجات کا 13 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اخراجات میں سرکاری شعبے کے ملازمین اور دفاعی اہلکاروں کی سالانہ تنخواہوں میں اضافہ بھی شامل ہے، جو مجموعی افرادی قوت کا محض 7 فیصد ہیں۔ ان کی تنخواہوں میں مہنگائی کے برابر یا اس سے زیادہ اضافہ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس باقی 93 فیصد افرادی قوت 2020ء میں کووڈ 19 کے بعد سے تقریباً مسلسل تنخواہوں میں اضافے سے محروم ہے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سامنا کر رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار بھی اس صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں، جن کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 44.7 فیصد ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری مد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور دفاعی اہلکاروں کو دی جانے والی پنشن ہے، جس پر ٹیکس دہندگان کے وفاقی حکومت کے مجموعی جاری اخراجات کا مزید 7 فیصد خرچ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین پنشن فنڈ میں کوئی حصہ نہیں ڈالتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ملازمین کو بھی دوسرے ممالک کی طرح اپنے پنشن فنڈز میں حصہ ڈالنے کا پابند بنانے کا دیرینہ مطالبہ بالآخر اصلاحات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ تاہم ان اصلاحات کے اثرات کا اندازہ اس وقت ہو سکے گا جب گزشتہ سال سے بھرتی ہونے والے ملازمین ریٹائر ہوں گے، جس میں اوسطاً کم از کم 35 سال لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ملازمین اپنی پنشن کے لیے قابلِ شمار تنخواہ کا 10 فیصد حصہ جمع کرا رہے ہیں اور انہیں ملازمت کے پہلے روز سے اپنے کھاتوں تک رسائی حاصل ہے۔ دوسری جانب حکومت اب پہلے کی 20 فیصد شراکت کے بجائے 12 فیصد حصہ ڈال رہی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ جمع ہونے والی رقم کہاں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جائے گی، اگر اسے کہیں سرمایہ کاری کے لیے لگایا بھی جاتا ہے۔ اس صورت میں حکومت کا 12 فیصد حصہ بھی بالآخر ٹیکس دہندگان ہی کے خرچ پر فراہم کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلح افواج میں ان اصلاحات کے نفاذ کا عمل ابھی جاری ہے، کیونکہ اس سلسلے میں مشاورت اور سیکیورٹی سے متعلق امور زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری اور آخری بڑی مد قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو دوبارہ معیشت میں گردش کر سکتی تھی، تاہم رواں سال کے بجٹ میں اس مد کے لیے مجموعی اخراجات کا 46 فیصد مختص کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت بنیادی طور پر تین ذرائع سے قرض حاصل کرتی ہے۔ اول، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا اجرا، جس کی شرح منافع پالیسی ریٹ سے منسلک ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پالیسی ریٹ بڑھنے سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص رقم بھی بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ پالیسی ریٹ میں ہر اضافہ سود کی ادائیگیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے۔ یہ پالیسی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا ذریعہ قومی بچت اسکیمیں ہیں، جن میں جمع ہونے والی رقم حکومت حاصل کر کے اپنی واجب الادا ادائیگیوں کے لیے دوبارہ معیشت میں شامل کرتی ہے۔ نجی شعبے کے بچت کنندگان کو ان اسکیموں کی جانب راغب کرنے کے لیے پرکشش شرح منافع دی جاتی ہے، جسے وہ اپنی کھپت پر خرچ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا ذریعہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں اور قرض کے عوض جاری کیے جانے والے مالیاتی سکیورٹیز، مثلاً یورو بانڈز اور سکوک پر منافع ہے۔ ان قرضوں کی ادائیگیاں زرِمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت کے ذریعے قابو میں رکھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک واضح تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت نجی شعبے کو قومی بچت مراکز میں جمع رقوم تک رسائی دے اور قرضوں میں کمی کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے کی روایتی پالیسی کے بجائے جاری اخراجات میں نمایاں کٹوتی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت آئی ایم ایف کی توجہ بنیادی مالیاتی سرپلس پر مرکوز ہے، جس کا تعین قرضوں کی واجب الادا اصل رقم کی ادائیگی کو منہا کرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ تاہم اس پالیسی نے تشویش میں مبتلا مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ گویا حکومت کو جہاں سے بھی دستیاب ہو، مزید قرض لینے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پال کرگمین نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا مطلب دراصل ’’اٹس موسٹلی فسکل‘‘ (یہ زیادہ تر مالیاتی امور کا معاملہ ہے) ہے۔ پاکستان کے تناظر میں بھی یہ بات درست محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کے لیے سخت اقدامات پر توجہ کو ٹیکس چوری کرنے والوں اور ٹیکس سے بچنے والوں کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان اقدامات کا زیادہ تر زور سیلز ٹیکس کی وصولی پر ہے۔ یہ بالواسطہ ٹیکس ہے جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے اور اس کا پورا بوجھ صارفین کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال ایف بی آر نے تین ذیلی شعبوں، یعنی چینی، کھاد اور سیمنٹ کی صنعتی پیداواری اکائیوں میں ٹیکس وصولیوں کے لیے سخت اقدامات پر توجہ مرکوز کی تھی۔ اس کے نتیجے میں ان تینوں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اگرچہ مشرق وسطیٰ کا تنازع بھی اس اضافے کی ایک بڑی وجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کی طرح گزشتہ تین پروگراموں میں بھی غریب دشمن اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی سب سے بڑی شرط یہ رہی کہ جاری اخراجات میں کمی کے بجائے ایف بی آر کے لیے سالانہ ٹیکس وصولیوں کا حد سے زیادہ بلند ہدف مقرر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوزف اسٹگ لٹز کا کہنا تھا کہ ’’وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کو پالیسی سازی کی میز پر جگہ ملتی ہے، لیکن مزدور یونینوں یا محنت کشوں کے وزرا کو نہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنر اپنے ممالک کی مالیاتی برادریوں سے منسلک ہوتے ہیں، اس لیے وہ ایسی پالیسیاں آگے بڑھاتے ہیں جو مالیاتی شعبے کے نقطہ نظر اور مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔ نتیجتاً وہ ان لوگوں کی آواز بمشکل ہی سنتے ہیں جو مسلط کردہ پالیسیوں کے سب سے پہلے متاثرین ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بیشتر بڑے پیداواری شعبوں اور ان کے ذیلی شعبوں پر اشرافیہ کا غلبہ ہے۔ بڑی صنعتی پیداواری اکائیاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں باضابطہ رجسٹریشن کے ذریعے مختلف تنظیموں کی شکل میں متحد ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، سیمنٹ مینوفیکچررز اور شوگر مینوفیکچررز۔ اس طرح بڑی تعداد میں پیداواری ادارے نامکمل مسابقت کے ماحول میں اپنے مفادات کے مطابق کاروبار جاری رکھتے ہیں، جس کا نقصان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی پیداوار کا بڑا حصہ آڑھتیوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے، جو حتی المقدور منڈی میں قیمتوں کو اپنے حق میں متاثر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے اس وقت کے سربراہ جیفری سیکس کے 1997ء میں کہے گئے الفاظ آج بھی اتنے ہی موزوں دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’’کوریا میں آئی ایم ایف نے اصرار کیا کہ صدارتی انتخاب لڑنے والے تمام امیدوار فوری طور پر ایک ایسے معاہدے کی توثیق کریں جس کی تیاری یا مذاکرات میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور نہ ہی انہیں اسے سمجھنے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال قابو سے باہر ہے۔۔۔ یہ بات منطق سے بالاتر ہے کہ واشنگٹن کی 19ویں اسٹریٹ پر موجود ایک ہزار ماہرینِ معیشت کا ایک چھوٹا سا گروہ 75 ترقی پذیر ممالک کے تقریباً 1.4 ارب عوام کی زندگیوں کے معاشی حالات کا تعین کرے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 26 کروڑ آبادی میں سے 44.7 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی معاشی ٹیم کے قائدین، جو تمام قرض معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں، بالخصوص وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں اور روایتی سوچ سے ہٹ کر جدید اور اختراعی اقدامات تجویز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات میں نہ صرف اشرافیہ کے وسائل کی سالانہ تقسیم میں مزید بڑے حصے کے مطالبات کی مزاحمت شامل ہونی چاہیے بلکہ قرض فراہم کرنے والے اداروں کی ان شرائط کو بھی چیلنج کرنا چاہیے جو عام آدمی کے معیارِ زندگی کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026ء&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجویز کردہ پالیسیوں پر تنقید کوئی نئی بات نہیں۔ نوبیل انعام یافتہ ماہرینِ معیشت جوزف اسٹگ لٹز اور پال کرگمین کے علاوہ قرض لینے والے ممالک کے آزاد ماہرینِ معیشت بھی طویل عرصے سے ان پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ اس تنقید کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہر ملک پر یکساں پالیسی لاگو کرنے کا طریقہ کار قابلِ عمل نہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان کے تناظر میں اس بات کی ایک مثال آئی ایم ایف کے عملے کا ایک معاشی اصول پر مسلسل اصرار ہے، جس پر آج بھی عمل کیا جا رہا ہے۔ یہ اصول پالیسی ریٹ اور مہنگائی کے درمیان الٹا تعلق قائم کرتا ہے۔</p>
<p>سات ارب ڈالر کے جاری توسیعی فنڈ سہولت پروگرام سمیت آئی ایم ایف کے 24 پروگراموں میں اس تعلق کا تعین بنیادی مہنگائی (اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں کو نکال کر) کی بنیاد پر کیا گیا، کیونکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر ملکی عوامل سے ہوتا ہے۔ تاہم 2019ء کے پروگرام میں اس کے بجائے صارف قیمت اشاریے کو بنیاد بنایا گیا تھا، جب رضا باقر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر تھے۔</p>
<p>اس معاشی اصول کے مطابق قرض لینے کی لاگت بڑھنے سے قرض کا حصول محدود ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، جبکہ شرح سود میں کمی خودبخود قرض کے حجم میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>ایک محتاط اندازے کے مطابق مجموعی قرضوں کا تقریباً 75 فیصد حکومت حاصل کرتی ہے، جس کا بیشتر حصہ جاری اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ رواں سال بجٹ کے مجموعی حجم کا 93 فیصد جاری اخراجات کے لیے مختص کیا گیا ہے، تاہم سال کے اختتام تک یہ تناسب مزید بڑھ سکتا ہے، کیونکہ پائیدار مالیاتی خسارہ برقرار رکھنے کے لیے ترقیاتی اخراجات میں مختص رقم معمول کے مطابق کم کر دی جاتی ہے۔ یہ ایسے اخراجات ہیں جن کے مقابلے میں کوئی پیداواری پیداوار سامنے نہیں آتی، اس لیے ان کا اثر مہنگائی میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>جاری اخراجات میں تین بڑے مدات شامل ہیں۔ پہلی مد شہری حکومت کے انتظامی اخراجات ہیں، جن کے لیے مالی سال 2027ء میں 1.071 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اسی طرح دفاعی خدمات کے ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے 967.548 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دونوں مدات کو ملا کر یہ رقم مجموعی جاری اخراجات کا 13 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>ان اخراجات میں سرکاری شعبے کے ملازمین اور دفاعی اہلکاروں کی سالانہ تنخواہوں میں اضافہ بھی شامل ہے، جو مجموعی افرادی قوت کا محض 7 فیصد ہیں۔ ان کی تنخواہوں میں مہنگائی کے برابر یا اس سے زیادہ اضافہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس باقی 93 فیصد افرادی قوت 2020ء میں کووڈ 19 کے بعد سے تقریباً مسلسل تنخواہوں میں اضافے سے محروم ہے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا سامنا کر رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار بھی اس صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں، جن کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 44.7 فیصد ہو چکی ہے۔</p>
<p>دوسری مد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور دفاعی اہلکاروں کو دی جانے والی پنشن ہے، جس پر ٹیکس دہندگان کے وفاقی حکومت کے مجموعی جاری اخراجات کا مزید 7 فیصد خرچ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین پنشن فنڈ میں کوئی حصہ نہیں ڈالتے۔</p>
<p>سرکاری ملازمین کو بھی دوسرے ممالک کی طرح اپنے پنشن فنڈز میں حصہ ڈالنے کا پابند بنانے کا دیرینہ مطالبہ بالآخر اصلاحات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ تاہم ان اصلاحات کے اثرات کا اندازہ اس وقت ہو سکے گا جب گزشتہ سال سے بھرتی ہونے والے ملازمین ریٹائر ہوں گے، جس میں اوسطاً کم از کم 35 سال لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>سول ملازمین اپنی پنشن کے لیے قابلِ شمار تنخواہ کا 10 فیصد حصہ جمع کرا رہے ہیں اور انہیں ملازمت کے پہلے روز سے اپنے کھاتوں تک رسائی حاصل ہے۔ دوسری جانب حکومت اب پہلے کی 20 فیصد شراکت کے بجائے 12 فیصد حصہ ڈال رہی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ جمع ہونے والی رقم کہاں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جائے گی، اگر اسے کہیں سرمایہ کاری کے لیے لگایا بھی جاتا ہے۔ اس صورت میں حکومت کا 12 فیصد حصہ بھی بالآخر ٹیکس دہندگان ہی کے خرچ پر فراہم کرنا پڑے گا۔</p>
<p>مسلح افواج میں ان اصلاحات کے نفاذ کا عمل ابھی جاری ہے، کیونکہ اس سلسلے میں مشاورت اور سیکیورٹی سے متعلق امور زیر غور ہیں۔</p>
<p>تیسری اور آخری بڑی مد قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو دوبارہ معیشت میں گردش کر سکتی تھی، تاہم رواں سال کے بجٹ میں اس مد کے لیے مجموعی اخراجات کا 46 فیصد مختص کیا گیا ہے۔</p>
<p>حکومت بنیادی طور پر تین ذرائع سے قرض حاصل کرتی ہے۔ اول، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا اجرا، جس کی شرح منافع پالیسی ریٹ سے منسلک ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پالیسی ریٹ بڑھنے سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص رقم بھی بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ پالیسی ریٹ میں ہر اضافہ سود کی ادائیگیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے۔ یہ پالیسی مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>دوسرا ذریعہ قومی بچت اسکیمیں ہیں، جن میں جمع ہونے والی رقم حکومت حاصل کر کے اپنی واجب الادا ادائیگیوں کے لیے دوبارہ معیشت میں شامل کرتی ہے۔ نجی شعبے کے بچت کنندگان کو ان اسکیموں کی جانب راغب کرنے کے لیے پرکشش شرح منافع دی جاتی ہے، جسے وہ اپنی کھپت پر خرچ کرتے ہیں۔</p>
<p>تیسرا ذریعہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیاں اور قرض کے عوض جاری کیے جانے والے مالیاتی سکیورٹیز، مثلاً یورو بانڈز اور سکوک پر منافع ہے۔ ان قرضوں کی ادائیگیاں زرِمبادلہ کی مارکیٹ میں مداخلت کے ذریعے قابو میں رکھی جاتی ہیں۔</p>
<p>معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک واضح تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت نجی شعبے کو قومی بچت مراکز میں جمع رقوم تک رسائی دے اور قرضوں میں کمی کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کرنے کی روایتی پالیسی کے بجائے جاری اخراجات میں نمایاں کٹوتی کرے۔</p>
<p>اس وقت آئی ایم ایف کی توجہ بنیادی مالیاتی سرپلس پر مرکوز ہے، جس کا تعین قرضوں کی واجب الادا اصل رقم کی ادائیگی کو منہا کرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ تاہم اس پالیسی نے تشویش میں مبتلا مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ گویا حکومت کو جہاں سے بھی دستیاب ہو، مزید قرض لینے کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔</p>
<p>پال کرگمین نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا مطلب دراصل ’’اٹس موسٹلی فسکل‘‘ (یہ زیادہ تر مالیاتی امور کا معاملہ ہے) ہے۔ پاکستان کے تناظر میں بھی یہ بات درست محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کے لیے سخت اقدامات پر توجہ کو ٹیکس چوری کرنے والوں اور ٹیکس سے بچنے والوں کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ان اقدامات کا زیادہ تر زور سیلز ٹیکس کی وصولی پر ہے۔ یہ بالواسطہ ٹیکس ہے جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے اور اس کا پورا بوجھ صارفین کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال ایف بی آر نے تین ذیلی شعبوں، یعنی چینی، کھاد اور سیمنٹ کی صنعتی پیداواری اکائیوں میں ٹیکس وصولیوں کے لیے سخت اقدامات پر توجہ مرکوز کی تھی۔ اس کے نتیجے میں ان تینوں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اگرچہ مشرق وسطیٰ کا تنازع بھی اس اضافے کی ایک بڑی وجہ تھا۔</p>
<p>موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کی طرح گزشتہ تین پروگراموں میں بھی غریب دشمن اور معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی سب سے بڑی شرط یہ رہی کہ جاری اخراجات میں کمی کے بجائے ایف بی آر کے لیے سالانہ ٹیکس وصولیوں کا حد سے زیادہ بلند ہدف مقرر کیا جائے۔</p>
<p>جوزف اسٹگ لٹز کا کہنا تھا کہ ’’وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کو پالیسی سازی کی میز پر جگہ ملتی ہے، لیکن مزدور یونینوں یا محنت کشوں کے وزرا کو نہیں۔‘‘</p>
<p>ان کے مطابق وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنر اپنے ممالک کی مالیاتی برادریوں سے منسلک ہوتے ہیں، اس لیے وہ ایسی پالیسیاں آگے بڑھاتے ہیں جو مالیاتی شعبے کے نقطہ نظر اور مفادات کی عکاسی کرتی ہیں۔ نتیجتاً وہ ان لوگوں کی آواز بمشکل ہی سنتے ہیں جو مسلط کردہ پالیسیوں کے سب سے پہلے متاثرین ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں بیشتر بڑے پیداواری شعبوں اور ان کے ذیلی شعبوں پر اشرافیہ کا غلبہ ہے۔ بڑی صنعتی پیداواری اکائیاں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں باضابطہ رجسٹریشن کے ذریعے مختلف تنظیموں کی شکل میں متحد ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن، سیمنٹ مینوفیکچررز اور شوگر مینوفیکچررز۔ اس طرح بڑی تعداد میں پیداواری ادارے نامکمل مسابقت کے ماحول میں اپنے مفادات کے مطابق کاروبار جاری رکھتے ہیں، جس کا نقصان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p>زرعی پیداوار کا بڑا حصہ آڑھتیوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے، جو حتی المقدور منڈی میں قیمتوں کو اپنے حق میں متاثر کرتے ہیں۔</p>
<p>ہارورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے اس وقت کے سربراہ جیفری سیکس کے 1997ء میں کہے گئے الفاظ آج بھی اتنے ہی موزوں دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا:</p>
<p>’’کوریا میں آئی ایم ایف نے اصرار کیا کہ صدارتی انتخاب لڑنے والے تمام امیدوار فوری طور پر ایک ایسے معاہدے کی توثیق کریں جس کی تیاری یا مذاکرات میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور نہ ہی انہیں اسے سمجھنے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔</p>
<p>صورتحال قابو سے باہر ہے۔۔۔ یہ بات منطق سے بالاتر ہے کہ واشنگٹن کی 19ویں اسٹریٹ پر موجود ایک ہزار ماہرینِ معیشت کا ایک چھوٹا سا گروہ 75 ترقی پذیر ممالک کے تقریباً 1.4 ارب عوام کی زندگیوں کے معاشی حالات کا تعین کرے۔‘‘</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 26 کروڑ آبادی میں سے 44.7 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی معاشی ٹیم کے قائدین، جو تمام قرض معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں، بالخصوص وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں اور روایتی سوچ سے ہٹ کر جدید اور اختراعی اقدامات تجویز کریں۔</p>
<p>ان اقدامات میں نہ صرف اشرافیہ کے وسائل کی سالانہ تقسیم میں مزید بڑے حصے کے مطالبات کی مزاحمت شامل ہونی چاہیے بلکہ قرض فراہم کرنے والے اداروں کی ان شرائط کو بھی چیلنج کرنا چاہیے جو عام آدمی کے معیارِ زندگی کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026ء</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293390</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Nov 2026 16:07:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/021604198966425.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/021604198966425.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
