<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 02 Nov 2026 14:05:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 14:05:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس او نے مالی سال 2027 سے 2030 تک کے کاروباری اہداف کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293374/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے مالی سال 2027 سے مالی سال 2030 تک کے لیے بڑے کاروباری اہداف اور اسٹریٹجک ترجیحات کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں بنیادی ایندھن کے کاروبار کو مزید مستحکم کرنا، ریٹیل نیٹ ورک کو وسعت دینا اور جدید بنانا، نیز نان فیول ریٹیل (این ایف آر)، کارڈز اور دیگر زیادہ منافع بخش کاروباری شعبوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ تاہم ان اقدامات پر عملدرآمد کمپنی کے بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس او کی بورڈ اسٹریٹجی کمیٹی نے کمپنی کے مارکیٹ شیئر میں بہتری کو سراہا اور انجن ون بنیادی کاروبار کو فروغ دینا کے تحت کمرشل بی ٹو سی کے لیے پیش کیے گئے اہداف اور اسٹریٹجک ستونوں کی منظوری دے دی۔ ان میں مارکیٹ شیئر میں اضافہ، ریٹیل نیٹ ورک کی توسیع اور جدید کاری، نان فیول ریٹیل، توانائی کی منتقلی، کارڈز اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ کمیٹی نے متعدد ہدایات اور سفارشات سے مشروط کرتے ہوئے ان اہداف اور اسٹریٹجک ستونوں کو بورڈ کی منظوری کے لیے پیش کرنے کی سفارش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025 ایک مشکل سال رہا، کیونکہ علاقائی تنازعات اور بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات نے پاکستان میں توانائی کی ترسیل کے نظام کو متاثر کیا۔ تاہم، پورے سال ملک میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہی جس میں پی ایس او نے اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور پٹرول (پی ایم جی) کے شعبوں میں سب سے زیادہ مارکیٹ شیئر برقرار رکھا جبکہ جیٹ فیول کی مارکیٹ میں اس کا حصہ 99 فیصد رہا۔ اس کے علاوہ، کمپنی نے زرمبادلہ  ذخائر میں 378 ملین ڈالر کا حصہ ڈالا، جو گزشتہ سال کے 247 ملین ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس او نے 44 ہزار میٹرک ٹن لبریکنٹس (چکنا کرنے والے تیل) اور 5,200 میٹرک ٹن کیمیکلز کی فروخت بھی رپورٹ کی۔ کیمیکلز کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا، جو پہلے 1,060 میٹرک ٹن تھی۔ کمپنی کے ریٹیل نیٹ ورک میں توسیع کے بعد آؤٹ لیٹس کی تعداد 3,688 ہو گئی، جبکہ 4 کروڑ 80 لاکھ سے زائد محفوظ افرادی اوقات کے دوران حادثات کے نتیجے میں کسی ہلاکت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے مالی سال 2027 سے مالی سال 2030 تک کے لیے بڑے کاروباری اہداف اور اسٹریٹجک ترجیحات کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں میں بنیادی ایندھن کے کاروبار کو مزید مستحکم کرنا، ریٹیل نیٹ ورک کو وسعت دینا اور جدید بنانا، نیز نان فیول ریٹیل (این ایف آر)، کارڈز اور دیگر زیادہ منافع بخش کاروباری شعبوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ تاہم ان اقدامات پر عملدرآمد کمپنی کے بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔</strong></p>
<p>پی ایس او کی بورڈ اسٹریٹجی کمیٹی نے کمپنی کے مارکیٹ شیئر میں بہتری کو سراہا اور انجن ون بنیادی کاروبار کو فروغ دینا کے تحت کمرشل بی ٹو سی کے لیے پیش کیے گئے اہداف اور اسٹریٹجک ستونوں کی منظوری دے دی۔ ان میں مارکیٹ شیئر میں اضافہ، ریٹیل نیٹ ورک کی توسیع اور جدید کاری، نان فیول ریٹیل، توانائی کی منتقلی، کارڈز اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ کمیٹی نے متعدد ہدایات اور سفارشات سے مشروط کرتے ہوئے ان اہداف اور اسٹریٹجک ستونوں کو بورڈ کی منظوری کے لیے پیش کرنے کی سفارش بھی کی۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2025 ایک مشکل سال رہا، کیونکہ علاقائی تنازعات اور بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات نے پاکستان میں توانائی کی ترسیل کے نظام کو متاثر کیا۔ تاہم، پورے سال ملک میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہی جس میں پی ایس او نے اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>کمپنی نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور پٹرول (پی ایم جی) کے شعبوں میں سب سے زیادہ مارکیٹ شیئر برقرار رکھا جبکہ جیٹ فیول کی مارکیٹ میں اس کا حصہ 99 فیصد رہا۔ اس کے علاوہ، کمپنی نے زرمبادلہ  ذخائر میں 378 ملین ڈالر کا حصہ ڈالا، جو گزشتہ سال کے 247 ملین ڈالر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔</p>
<p>پی ایس او نے 44 ہزار میٹرک ٹن لبریکنٹس (چکنا کرنے والے تیل) اور 5,200 میٹرک ٹن کیمیکلز کی فروخت بھی رپورٹ کی۔ کیمیکلز کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا، جو پہلے 1,060 میٹرک ٹن تھی۔ کمپنی کے ریٹیل نیٹ ورک میں توسیع کے بعد آؤٹ لیٹس کی تعداد 3,688 ہو گئی، جبکہ 4 کروڑ 80 لاکھ سے زائد محفوظ افرادی اوقات کے دوران حادثات کے نتیجے میں کسی ہلاکت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293374</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Nov 2026 12:21:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/11/02121918508afe0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/11/02121918508afe0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
