<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 23:18:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 23:18:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کررہا ہے، وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293317/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسعد الشیبانی نے کہا کہ شام کی مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ان کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان حملوں میں رواں ماہ ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے، جس کے باعث ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دو ہفتوں تک بند رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ترکیہ نے حوثی باغیوں کے خلاف کسی حملے کا اعلان نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے اوائل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اچانک ریاض کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فرانس نے حوثی حملوں سے سعودی عرب کی ایک اہم آئل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے فوجی دستے بھیجے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اکتوبر میں برطانوی حکومت نے بھی سعودی عرب کو حوثی حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے برطانوی لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔</strong></p>
<p>بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسعد الشیبانی نے کہا کہ شام کی مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ان کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان حملوں میں رواں ماہ ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے، جس کے باعث ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دو ہفتوں تک بند رہا۔</p>
<p>رواں سال اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان اور ترکیہ نے حوثی باغیوں کے خلاف کسی حملے کا اعلان نہیں کیا ہے۔</p>
<p>اس ماہ کے اوائل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اچانک ریاض کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فرانس نے حوثی حملوں سے سعودی عرب کی ایک اہم آئل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے فوجی دستے بھیجے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح اکتوبر میں برطانوی حکومت نے بھی سعودی عرب کو حوثی حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے برطانوی لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293317</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 19:13:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/31191020709195a.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/31191020709195a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
