<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 17:53:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 17:53:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مبینہ پولیس مقابلوں کی طویل تاریخ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293312/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی خبریں روزانہ صبح میری نظر سے گزرتی ہیں۔ بعض اوقات خبریں بالکل واضح ہوتی ہیں، لیکن کبھی ان کے پیچھے چھپی حقیقت تک پہنچنے کے لیے خبر کے متن سے آگے دیکھنا پڑتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ عرصے سے میں محسوس کررہا ہوں کہ پہلے جہاں ایسی خبریں سامنے آتی تھیں کہ شہریوں کو موبائل فون، موٹر سائیکلیں اور حتیٰ کہ گاڑیاں چھیننے کی کوشش کرنے والے ڈاکو انہیں لوٹنے کے دوران قتل بھی کردیتے ہیں، اب تقریباً روزانہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈاکوؤں کے درمیان پولیس مقابلوں کی خبریں آتی ہیں، جن میں مشتبہ ملزمان باقاعدگی سے ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں لگتا ہے کہ کراچی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر سے براہ راست اور سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قانون نافذ کرنے کے شعبے میں یہ کوئی نیا طریقہ نہیں اور مختلف ممالک میں اسے آزمایا جاچکا ہے۔ اعداد و شمار خود اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ سال کے پہلے چھ ماہ میں پولیس مقابلوں کی تعداد 2,214 رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 1,630 تھی۔ ان مقابلوں میں ہلاک ہونے والے مشتبہ ملزمان کی تعداد 200 رہی، جو گزشتہ سال 136 تھی۔ صرف رواں ہفتے تین روز کے دوران 11 مشتبہ ملزمان مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک پولیس مقابلوں کے زیادہ واقعات والے علاقوں کا تعلق ہے تو اس وقت ضلع وسطی اور ضلع غربی توجہ کا مرکز دکھائی دیتے ہیں۔ ایک کارکردگی رپورٹ کے مطابق ضلع وسطی میں اپریل کے دوران 56 پولیس مقابلے ہوئے، جن کے نتیجے میں 11 مشتبہ ملزمان ہلاک اور 57 گرفتار کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بعض علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں اور ان علاقوں کے رہائشی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ضلع غربی اس حوالے سے سرفہرست ہے، جبکہ گلشنِ معمار اور سرجانی ٹاؤن کو مسلح موٹر سائیکل سوار لٹیروں کی وارداتوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ پولیس مقابلے موبائل فون چھیننے والے ملزمان کے خلاف ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ان کارروائیوں کے مراکز بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں پولیس مقابلے گڈاپ، ملیر اور لیاری میں ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کا مرکز سرجانی، نارتھ کراچی اور سہراب گوٹھ بن گئے ہیں، کیونکہ جرائم پیشہ عناصر نے ان علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احسن آباد میں بھی پولیس کارروائیاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ علاقہ اب نیا بفر زون بن چکا ہے، جیسا کہ دس سال پہلے لیاری ہوا کرتا تھا۔ اسی علاقے میں اس ڈاکٹر کو تنخواہ لوٹ لی گئی تھی جس نے بعدازاں اپنے پورے خاندان سمیت خودکشی کرلی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ واقعہ اس کے لیے آخری صدمہ ثابت ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پولیس کے تمام مقابلے حقیقی نہیں ہوتے۔ بعض مقابلے فرضی بھی ہوتے ہیں جنہیں ان میں ملوث اہلکاروں کو بچانے کے لیے گھڑا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دو واقعات میرے ذہن میں ہیں۔ اپریل 2026 میں سانگھڑ کی ایک عدالت نے قرار دیا کہ پولیس نے ایک مقابلہ خود ساختہ طور پر کیا تھا، جس میں ایاز نامی شخص کو گولی ماری گئی اور اس کی ٹانگ ضائع ہوگئی۔ عدالت نے ڈی ایس پی کو حکم دیا کہ اس میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے اور متاثرہ شخص کو مصنوعی ٹانگ فراہم کرنے کے اخراجات بھی ادا کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دوسرے واقعے میں گلشنِ اقبال کے مجسٹریٹ نے دو زخمی مشتبہ ملزمان کا ریمانڈ مسترد کرتے ہوئے اے ایس پی سطح کے افسر کو یہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا کہ آیا ان کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی تھی۔ بظاہر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی گنجائش تو موجود ہے، لیکن انہیں سزا دلوانے کے لیے ایسے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے جو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف گواہی دینے کے لیے شاذ ہی سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات گواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ خود ان کا رویہ بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرائم سے متاثرہ علاقوں کے رہائشی روزانہ کے تشدد، ڈکیتیوں اور موبائل فون چھیننے کی وارداتوں سے اس قدر تنگ آچکے ہیں کہ ان مقابلوں کے عینی شاہد ہونے کے باوجود گواہی دینے سے انکار کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں پولیس مقابلے کوئی غیر معمولی بات نہیں، اسی طرح پولیس کا تشدد بھی کوئی نیا معاملہ نہیں۔ برازیل کی پولیس دنیا کی انتہائی سفاک پولیس فورسز میں شمار ہوتی ہے۔ 2019 میں برازیلی پولیس کے ہاتھوں ریکارڈ 6,160 افراد ہلاک ہوئے۔ کراچی کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا جائے تو یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والے پولیس مقابلوں میں فلپائن میں منشیات کے خلاف کارروائیاں سرفہرست ہیں۔ وہاں حکومت نے 6,248 ہلاکتوں کا اعتراف کیا، تاہم غیر سرکاری تنظیمیں اس تعداد کو چیلنج کرتے ہوئے ہلاکتوں کا تخمینہ 12 ہزار سے 30 ہزار تک لگاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپائن کے صدارتی دفتر نے جولائی سے نومبر کے دوران 20,322 ہلاکتیں ریکارڈ کی تھیں۔ ملک کے سابق صدر اس وقت بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنے کے انتظار میں جیل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالات جیسے بھی ہوں، پولیس مقابلے قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ بے لگام لاقانونیت کس طرح نظامِ انصاف کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ موقع پر ہی فیصلے سنانا اور سزائے موت دے دینا تہذیب کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے اور اس نظام کو بھی کمزور کرتا ہے جسے صدیوں کی محنت سے تشکیل دیا اور پروان چڑھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی خبریں روزانہ صبح میری نظر سے گزرتی ہیں۔ بعض اوقات خبریں بالکل واضح ہوتی ہیں، لیکن کبھی ان کے پیچھے چھپی حقیقت تک پہنچنے کے لیے خبر کے متن سے آگے دیکھنا پڑتا ہے۔</strong></p>
<p>کچھ عرصے سے میں محسوس کررہا ہوں کہ پہلے جہاں ایسی خبریں سامنے آتی تھیں کہ شہریوں کو موبائل فون، موٹر سائیکلیں اور حتیٰ کہ گاڑیاں چھیننے کی کوشش کرنے والے ڈاکو انہیں لوٹنے کے دوران قتل بھی کردیتے ہیں، اب تقریباً روزانہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈاکوؤں کے درمیان پولیس مقابلوں کی خبریں آتی ہیں، جن میں مشتبہ ملزمان باقاعدگی سے ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں۔</p>
<p>یوں لگتا ہے کہ کراچی پولیس نے جرائم پیشہ عناصر سے براہ راست اور سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قانون نافذ کرنے کے شعبے میں یہ کوئی نیا طریقہ نہیں اور مختلف ممالک میں اسے آزمایا جاچکا ہے۔ اعداد و شمار خود اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ سال کے پہلے چھ ماہ میں پولیس مقابلوں کی تعداد 2,214 رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 1,630 تھی۔ ان مقابلوں میں ہلاک ہونے والے مشتبہ ملزمان کی تعداد 200 رہی، جو گزشتہ سال 136 تھی۔ صرف رواں ہفتے تین روز کے دوران 11 مشتبہ ملزمان مارے گئے۔</p>
<p>جہاں تک پولیس مقابلوں کے زیادہ واقعات والے علاقوں کا تعلق ہے تو اس وقت ضلع وسطی اور ضلع غربی توجہ کا مرکز دکھائی دیتے ہیں۔ ایک کارکردگی رپورٹ کے مطابق ضلع وسطی میں اپریل کے دوران 56 پولیس مقابلے ہوئے، جن کے نتیجے میں 11 مشتبہ ملزمان ہلاک اور 57 گرفتار کیے گئے۔</p>
<p>کراچی کے بعض علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں اور ان علاقوں کے رہائشی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ضلع غربی اس حوالے سے سرفہرست ہے، جبکہ گلشنِ معمار اور سرجانی ٹاؤن کو مسلح موٹر سائیکل سوار لٹیروں کی وارداتوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ پولیس مقابلے موبائل فون چھیننے والے ملزمان کے خلاف ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ان کارروائیوں کے مراکز بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ماضی میں پولیس مقابلے گڈاپ، ملیر اور لیاری میں ہوا کرتے تھے، لیکن اب ان کا مرکز سرجانی، نارتھ کراچی اور سہراب گوٹھ بن گئے ہیں، کیونکہ جرائم پیشہ عناصر نے ان علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احسن آباد میں بھی پولیس کارروائیاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ علاقہ اب نیا بفر زون بن چکا ہے، جیسا کہ دس سال پہلے لیاری ہوا کرتا تھا۔ اسی علاقے میں اس ڈاکٹر کو تنخواہ لوٹ لی گئی تھی جس نے بعدازاں اپنے پورے خاندان سمیت خودکشی کرلی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ واقعہ اس کے لیے آخری صدمہ ثابت ہوا ہو۔</p>
<p>تاہم پولیس کے تمام مقابلے حقیقی نہیں ہوتے۔ بعض مقابلے فرضی بھی ہوتے ہیں جنہیں ان میں ملوث اہلکاروں کو بچانے کے لیے گھڑا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دو واقعات میرے ذہن میں ہیں۔ اپریل 2026 میں سانگھڑ کی ایک عدالت نے قرار دیا کہ پولیس نے ایک مقابلہ خود ساختہ طور پر کیا تھا، جس میں ایاز نامی شخص کو گولی ماری گئی اور اس کی ٹانگ ضائع ہوگئی۔ عدالت نے ڈی ایس پی کو حکم دیا کہ اس میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے اور متاثرہ شخص کو مصنوعی ٹانگ فراہم کرنے کے اخراجات بھی ادا کیے جائیں۔</p>
<p>ایک دوسرے واقعے میں گلشنِ اقبال کے مجسٹریٹ نے دو زخمی مشتبہ ملزمان کا ریمانڈ مسترد کرتے ہوئے اے ایس پی سطح کے افسر کو یہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا کہ آیا ان کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی تھی۔ بظاہر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی گنجائش تو موجود ہے، لیکن انہیں سزا دلوانے کے لیے ایسے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے جو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف گواہی دینے کے لیے شاذ ہی سامنے آتے ہیں۔ بعض اوقات گواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ خود ان کا رویہ بھی ہوتا ہے۔</p>
<p>جرائم سے متاثرہ علاقوں کے رہائشی روزانہ کے تشدد، ڈکیتیوں اور موبائل فون چھیننے کی وارداتوں سے اس قدر تنگ آچکے ہیں کہ ان مقابلوں کے عینی شاہد ہونے کے باوجود گواہی دینے سے انکار کردیتے ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں پولیس مقابلے کوئی غیر معمولی بات نہیں، اسی طرح پولیس کا تشدد بھی کوئی نیا معاملہ نہیں۔ برازیل کی پولیس دنیا کی انتہائی سفاک پولیس فورسز میں شمار ہوتی ہے۔ 2019 میں برازیلی پولیس کے ہاتھوں ریکارڈ 6,160 افراد ہلاک ہوئے۔ کراچی کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا جائے تو یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والے پولیس مقابلوں میں فلپائن میں منشیات کے خلاف کارروائیاں سرفہرست ہیں۔ وہاں حکومت نے 6,248 ہلاکتوں کا اعتراف کیا، تاہم غیر سرکاری تنظیمیں اس تعداد کو چیلنج کرتے ہوئے ہلاکتوں کا تخمینہ 12 ہزار سے 30 ہزار تک لگاتی ہیں۔</p>
<p>فلپائن کے صدارتی دفتر نے جولائی سے نومبر کے دوران 20,322 ہلاکتیں ریکارڈ کی تھیں۔ ملک کے سابق صدر اس وقت بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنے کے انتظار میں جیل میں ہیں۔</p>
<p>حالات جیسے بھی ہوں، پولیس مقابلے قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ بے لگام لاقانونیت کس طرح نظامِ انصاف کو کھوکھلا کردیتی ہے۔ موقع پر ہی فیصلے سنانا اور سزائے موت دے دینا تہذیب کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کے مترادف ہے اور اس نظام کو بھی کمزور کرتا ہے جسے صدیوں کی محنت سے تشکیل دیا اور پروان چڑھایا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293312</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 16:06:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/311604014bb0049.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/311604014bb0049.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
