<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 16:57:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 16:57:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ایم ایز کی ترقی میں حائل رکاوٹیں برقرار، اصلاحات ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293306/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ پالیسی فیصلوں کے ایک سلسلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ  حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے مالی معاونت کے ذرائع اور کاروباری سہولتوں میں اضافے کی کوششیں دوبارہ تیز کردی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی مجوزہ تنظیمِ نو، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ڈیجیٹل فنانسنگ پورٹل کا اجرا اور برآمدی قرضوں کی سہولت میں توسیع کے منصوبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت کی توجہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے مالی وسائل اور ادارہ جاتی معاونت تک رسائی بڑھانے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان تمام اقدامات کے آغاز کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا حکومت واقعی ان وجوہات کو سمجھتی ہے جنہوں نے ابتدا ہی سے اس شعبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں؟ پالیسی سازوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ان گہرے معاشی اور ضابطہ جاتی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، جنہوں نے کئی دہائیوں سے اس شعبے کی ترقی کو محدود کر رکھا ہے، ان اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا مسئلہ ایم ایس ایم ای شعبے میں غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں کے حجم اور ان کے اثرات کو سمجھنے میں ناکامی ہے۔ پاکستان کے مجموعی کاروباروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا حصہ تقریباً 99 فیصد جبکہ روزگار کی فراہمی میں ان کا حصہ 78 فیصد ہے۔ اقتصادی مردم شماری کے مطابق ملک کے 95 فیصد کاروبار مائیکرو انٹرپرائزز ہیں جن میں 10 سے کم افراد کام کرتے ہیں۔ یہ کاروبار لاکھوں افراد کے روزگار اور معاش کا ذریعہ ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر اب بھی غیر رسمی معیشت کا حصہ ہیں، جس کے باعث وہ خود کو رسمی بینکاری نظام سے قرضوں اور مالی معاونت کے حصول کے قابل نہیں بنا پاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستند حسابات اور قابلِ تصدیق مالی ریکارڈ نہ ہونے کے باعث چھوٹے کاروباری اداروں کو بینکوں کے قرضوں کے حصول کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود پالیسی سطح پر بحث کا محور مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے پر ہے جبکہ اس بنیادی سوال کو نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ آخر اتنے زیادہ کاروبار غیر رسمی حیثیت میں کیوں کام کر رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے کاروباری اداروں کے لیے غیر رسمی حیثیت محض رجسٹریشن کرانے میں عدم دلچسپی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایسے کاروباری اور معاشی ماحول کا ردعمل بھی ہے جہاں کاروبار کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرانے کی لاگت، اس کے متوقع فوائد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلند مہنگائی، بجلی اور گیس کے حد سے زیادہ نرخ، مہنگے خام مال اور کمزور قوتِ خرید پہلے ہی کاروباری اداروں کے منافع کو برقرار رکھنا مشکل بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کے نتیجے میں اضافی ٹیکس واجبات، محنت کشوں سے متعلق ضوابط، سوشل سکیورٹی کی ادائیگیاں اور انتظامی تقاضے بھی عائد ہوتے ہیں۔ پالیسی سازوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان حالات کو نظرانداز کرتے ہوئے کاروباری اداروں کو رسمی معیشت کا حصہ بننے پر آمادہ کر لیں گے، جو اس فیصلے کو مالی اعتبار سے مشکل بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر 10 سے زائد ملازمین رکھنے والے کاروبار پر عائد ضابطہ جاتی بوجھ کو دیکھیں۔ محنت کشوں سے متعلق قوانین، سوشل سکیورٹی کے تقاضے اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی ذمہ داریاں محدود انتظامی صلاحیت رکھنے والے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے تعمیل کے بھاری اخراجات کا سبب بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ مخصوص حدیں جن کے عبور کرنے پر اضافی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، کاروباروں کے لیے ایک منفی ترغیب پیدا کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری ادارے مزید کارکن بھرتی کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے بجائے محدود پیمانے پر کام جاری رکھنے یا ملازمین کی تعداد کو سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ لہٰذا، اس امر کا جائزہ لینے کی واضح ضرورت ہے کہ آیا موجودہ ضابطہ جاتی ڈھانچہ کاروباروں کو وسعت دینے پر سزا دینے کے مترادف تو نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ودہولڈنگ ٹیکس کا پیچیدہ نظام بھی اسی نوعیت کی پالیسی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ کاروباری لین دین کے مختلف مراحل پر متعدد ٹیکس شرحوں اور ودہولڈنگ کی ذمہ داریوں کے باعث تعمیل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور کاروباری سرمائے کا بڑا حصہ ان ادائیگیوں میں پھنس جاتا ہے جس کا غیر متناسب بوجھ چھوٹے کاروباری اداروں پر پڑتا ہے۔ اس نظام کی ایک وجہ ملک کی نازک مالی صورتِ حال بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل محصولات کی کمی اور محدود ٹیکس بیس کے باعث ایف بی آر نے آمدن جمع کرنے کے نسبتاً آسان ذریعے کے طور پر ودہولڈنگ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے، تاہم اس کی قیمت کاروبار دوست ٹیکس ماحول کو نقصان پہنچا کر چکانا پڑی ہے۔ اس حکمتِ عملی نے دستاویزی معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی ہے جبکہ غیر رسمی طور پر کام کرنے والے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں بھی کوئی خاص مدد نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت ایک طرف بڑے پیمانے پر غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار اور دوسری طرف ایسا ٹیکس نظام برقرار نہیں رکھ سکتی جو رسمی معیشت کا حصہ بن کر کاروبار کرنے کو مزید پیچیدہ اور مہنگا بنا دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی پاکستان کی ایم ایس ایم ای پالیسی کا بنیادی تضاد ہے۔ پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ کاروباری ادارے رسمی معیشت کا حصہ بنیں، بینکوں سے مالی معاونت حاصل کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ٹیکس محصولات میں حصہ ڈالیں۔ تاہم وہ کاروبار کے وسیع تر ناموافق ماحول کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں جس کی تشکیل نامساعد معاشی حالات، پیداواری لاگت میں اضافے اور ضابطہ جاتی بوجھ نے کی ہے جو کاروباروں کو رسمی معیشت میں شامل ہونے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیڈا کی تنظیمِ نو اور اعلان کردہ دیگر اقدامات کے ساتھ چھوٹے کاروباری اداروں سے متعلق قوانین، ٹیکسوں اور معاشی پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر، ادارہ جاتی اصلاحات بنیادی رکاوٹوں کو جوں کا توں چھوڑ دیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ پالیسی فیصلوں کے ایک سلسلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ  حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے مالی معاونت کے ذرائع اور کاروباری سہولتوں میں اضافے کی کوششیں دوبارہ تیز کردی ہیں۔</strong></p>
<p>اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی مجوزہ تنظیمِ نو، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ڈیجیٹل فنانسنگ پورٹل کا اجرا اور برآمدی قرضوں کی سہولت میں توسیع کے منصوبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت کی توجہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے مالی وسائل اور ادارہ جاتی معاونت تک رسائی بڑھانے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>تاہم ان تمام اقدامات کے آغاز کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا حکومت واقعی ان وجوہات کو سمجھتی ہے جنہوں نے ابتدا ہی سے اس شعبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں؟ پالیسی سازوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ان گہرے معاشی اور ضابطہ جاتی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، جنہوں نے کئی دہائیوں سے اس شعبے کی ترقی کو محدود کر رکھا ہے، ان اقدامات کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔</p>
<p>پہلا مسئلہ ایم ایس ایم ای شعبے میں غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں کے حجم اور ان کے اثرات کو سمجھنے میں ناکامی ہے۔ پاکستان کے مجموعی کاروباروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا حصہ تقریباً 99 فیصد جبکہ روزگار کی فراہمی میں ان کا حصہ 78 فیصد ہے۔ اقتصادی مردم شماری کے مطابق ملک کے 95 فیصد کاروبار مائیکرو انٹرپرائزز ہیں جن میں 10 سے کم افراد کام کرتے ہیں۔ یہ کاروبار لاکھوں افراد کے روزگار اور معاش کا ذریعہ ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر اب بھی غیر رسمی معیشت کا حصہ ہیں، جس کے باعث وہ خود کو رسمی بینکاری نظام سے قرضوں اور مالی معاونت کے حصول کے قابل نہیں بنا پاتے۔</p>
<p>مستند حسابات اور قابلِ تصدیق مالی ریکارڈ نہ ہونے کے باعث چھوٹے کاروباری اداروں کو بینکوں کے قرضوں کے حصول کے لیے مقررہ شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود پالیسی سطح پر بحث کا محور مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے پر ہے جبکہ اس بنیادی سوال کو نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ آخر اتنے زیادہ کاروبار غیر رسمی حیثیت میں کیوں کام کر رہے ہیں؟</p>
<p>بہت سے کاروباری اداروں کے لیے غیر رسمی حیثیت محض رجسٹریشن کرانے میں عدم دلچسپی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایسے کاروباری اور معاشی ماحول کا ردعمل بھی ہے جہاں کاروبار کو باقاعدہ رجسٹرڈ کرانے کی لاگت، اس کے متوقع فوائد سے زیادہ ہے۔</p>
<p>بلند مہنگائی، بجلی اور گیس کے حد سے زیادہ نرخ، مہنگے خام مال اور کمزور قوتِ خرید پہلے ہی کاروباری اداروں کے منافع کو برقرار رکھنا مشکل بنا رہے ہیں۔</p>
<p>کاروبار کو باقاعدہ قانونی حیثیت دینے کے نتیجے میں اضافی ٹیکس واجبات، محنت کشوں سے متعلق ضوابط، سوشل سکیورٹی کی ادائیگیاں اور انتظامی تقاضے بھی عائد ہوتے ہیں۔ پالیسی سازوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ان حالات کو نظرانداز کرتے ہوئے کاروباری اداروں کو رسمی معیشت کا حصہ بننے پر آمادہ کر لیں گے، جو اس فیصلے کو مالی اعتبار سے مشکل بناتے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر 10 سے زائد ملازمین رکھنے والے کاروبار پر عائد ضابطہ جاتی بوجھ کو دیکھیں۔ محنت کشوں سے متعلق قوانین، سوشل سکیورٹی کے تقاضے اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی ذمہ داریاں محدود انتظامی صلاحیت رکھنے والے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے تعمیل کے بھاری اخراجات کا سبب بن سکتی ہیں۔</p>
<p>وہ مخصوص حدیں جن کے عبور کرنے پر اضافی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، کاروباروں کے لیے ایک منفی ترغیب پیدا کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری ادارے مزید کارکن بھرتی کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے بجائے محدود پیمانے پر کام جاری رکھنے یا ملازمین کی تعداد کو سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ لہٰذا، اس امر کا جائزہ لینے کی واضح ضرورت ہے کہ آیا موجودہ ضابطہ جاتی ڈھانچہ کاروباروں کو وسعت دینے پر سزا دینے کے مترادف تو نہیں۔</p>
<p>ودہولڈنگ ٹیکس کا پیچیدہ نظام بھی اسی نوعیت کی پالیسی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ کاروباری لین دین کے مختلف مراحل پر متعدد ٹیکس شرحوں اور ودہولڈنگ کی ذمہ داریوں کے باعث تعمیل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور کاروباری سرمائے کا بڑا حصہ ان ادائیگیوں میں پھنس جاتا ہے جس کا غیر متناسب بوجھ چھوٹے کاروباری اداروں پر پڑتا ہے۔ اس نظام کی ایک وجہ ملک کی نازک مالی صورتِ حال بھی ہے۔</p>
<p>مسلسل محصولات کی کمی اور محدود ٹیکس بیس کے باعث ایف بی آر نے آمدن جمع کرنے کے نسبتاً آسان ذریعے کے طور پر ودہولڈنگ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے، تاہم اس کی قیمت کاروبار دوست ٹیکس ماحول کو نقصان پہنچا کر چکانا پڑی ہے۔ اس حکمتِ عملی نے دستاویزی معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی ہے جبکہ غیر رسمی طور پر کام کرنے والے کاروبار کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں بھی کوئی خاص مدد نہیں دی۔</p>
<p>حکومت ایک طرف بڑے پیمانے پر غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار اور دوسری طرف ایسا ٹیکس نظام برقرار نہیں رکھ سکتی جو رسمی معیشت کا حصہ بن کر کاروبار کرنے کو مزید پیچیدہ اور مہنگا بنا دے۔</p>
<p>یہی پاکستان کی ایم ایس ایم ای پالیسی کا بنیادی تضاد ہے۔ پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ کاروباری ادارے رسمی معیشت کا حصہ بنیں، بینکوں سے مالی معاونت حاصل کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ٹیکس محصولات میں حصہ ڈالیں۔ تاہم وہ کاروبار کے وسیع تر ناموافق ماحول کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں جس کی تشکیل نامساعد معاشی حالات، پیداواری لاگت میں اضافے اور ضابطہ جاتی بوجھ نے کی ہے جو کاروباروں کو رسمی معیشت میں شامل ہونے سے روکتا ہے۔</p>
<p>سمیڈا کی تنظیمِ نو اور اعلان کردہ دیگر اقدامات کے ساتھ چھوٹے کاروباری اداروں سے متعلق قوانین، ٹیکسوں اور معاشی پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر، ادارہ جاتی اصلاحات بنیادی رکاوٹوں کو جوں کا توں چھوڑ دیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293306</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 14:11:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/311401569e57f8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/311401569e57f8e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
