<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 15:29:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 15:29:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں پر اختلافات، جی 20 اجلاس میں کشیدگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293304/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ پر زور دیا کہ وہ جغرافیائی سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بحرانوں کے ایک سلسلے سے عالمی معاشی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اٹلانٹا میں ہونے والے دو روزہ اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت نے جی 20 کے متعدد وزرائے خارجہ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اور سفارت کاروں کے مطابق اس سے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں پر پہلے سے موجود اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں جس کے باعث اجلاس میں ٹھوس پیشرفت کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند، جو لاوروف کی اجلاس میں شرکت پر تنقید کرچکی ہیں، افتتاحی عمومی اجلاس میں شریک نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی ترجمان نے بتایا کہ وہ مونٹریال میں کینیڈا اور یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد تاخیر سے پہنچ رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کے وزیر بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، کیونکہ اس سال جی 20 کی گردشی صدارت رکھنے والے امریکا نے انہیں مدعو نہیں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو کے سرکاری شیڈول میں جی 20 کی روایتی گروپ فوٹو کو شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ بعض یورپی عہدیداروں نے لاوروف کے ساتھ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک مغربی سفارت کار کے مطابق آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت ایک تہائی شرکا نے اس پر اعتراض کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ گروپ فوٹو مکمل طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی شراکت داروں اور مسٹر لاوروف کی ایک ساتھ کسی صورت گروپ فوٹو نہیں بنے گی، کیونکہ جیسا کہ میں نے کل کہا تھا، روس کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے اپنے اتحادیوں کی توجہ تجارتی عدم توازن پر مرکوز کرنے اور اہم معدنیات پر چین کے کنٹرول کے مقابلے کے لیے اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کی ہے، تاہم جنگیں اور ان کے معاشی اثرات جی 20 کے بیشتر ارکان کی اولین تشویش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دنیا کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہے جو عالمی توانائی اور خوراک کی فراہمی، تجارت اور آزادانہ جہاز رانی کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اپنی قوموں کی نمائندگی کرتے ہوئے باہمی تعاون کے ذریعے ابھرتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینی اور اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا ہے، ہم جغرافیائی سیاسی استحکام کے فروغ اور وسیع تر معاشی خوشحالی کے ایجنڈے کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جس پر ہمارے رہنما غور کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی 20 کے ارکان روس، چین اور برازیل و بھارت جیسی درمیانی طاقتیں امریکا اور چین کے درمیان تزویراتی مسابقت کے تناظر میں اپنی پوزیشن متعین کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اوباما انتظامیہ کے دور میں امریکی محکمہ خارجہ کی چیف اکانومسٹ رہنے والی ہیدی کریبو ریڈیکر نے کہا کہ اس وقت اختلافات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران جی 7 ممالک کم از کم جی 20 اجلاس میں شرکت سے پہلے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کر لیا کرتے تھے لیکن اب ایسی کوئی مشترکہ حکمت عملی بھی موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ رواں سال وزارتی سطح کے چار اجلاسوں میں بعض امور پر اتفاق رائے حاصل ہوا ہے، تاہم 14 سے 16 دسمبر تک میامی میں ہونے والی رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس سے قبل مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے ’پیکس سلیکا‘ اقدام کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد نایاب ارضی عناصر اور دیگر اہم معدنیات پر چین کے غلبے کے حوالے سے تشویش رکھنے والے جی 20 ممالک کو متحد کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین کے مطابق اس معاملے پر پیشرفت کا امکان اجلاس کے بعد ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی 20 کے وزرائے تجارت میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد بعض ارکان نے صنعتی اضافی پیداواری صلاحیت سے متعلق امریکا کی قیادت میں جاری کردہ بیان پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کی ایلین ڈیزنسکی نے کہا کہ موجودہ حالات میں محدود ممالک کے گروپوں کی جانب سے ایسے بیانات پیش رفت کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا امریکا اس وقت اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون قائم کر سکتا ہے جب تمام ارکان کا اتفاق رائے حاصل کرنا ممکن نظر نہ آ رہا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل سکیورٹی اتحاد ’کواڈ‘ کا اجلاس بھی آنے والے دنوں میں اٹلانٹا میں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس سے متعلق امریکی اقدامات پر اختلافات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے متعلق حالیہ فیصلے بھی اجلاس میں بحث پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ان میں روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ اور بعض پابندیوں میں چھوٹ دینا شامل ہے۔ یوکرین کو اپنی اسٹارشیلڈ سیٹلائٹ سروسز کے حوالے سے درپیش مسائل بھی زیر بحث آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیدی کریبو ریڈیکر نے کہا کہ اگر اس معاملے کو زیر بحث نہ بھی لایا گیا تو یہ ایک اہم اور نظرانداز نہ کیا جاسکنے والا مسئلہ رہے گا کہ امریکا، بالخصوص ٹرمپ، نے (روسی صدر) ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے اور یوکرین کے خلاف کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ وہ یوکرین کے لیے مزید حمایت پر زور دیں گی جبکہ خصوصی ٹریبونل اور کلیمز کمیشن کے ذریعے احتساب کے اقدامات پر پیش رفت کی بھی کوشش کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ روس کو جواب دہ ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ پر زور دیا کہ وہ جغرافیائی سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بحرانوں کے ایک سلسلے سے عالمی معاشی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔</strong></p>
<p>تاہم، اٹلانٹا میں ہونے والے دو روزہ اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت نے جی 20 کے متعدد وزرائے خارجہ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اور سفارت کاروں کے مطابق اس سے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں پر پہلے سے موجود اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں جس کے باعث اجلاس میں ٹھوس پیشرفت کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔</p>
<p>کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند، جو لاوروف کی اجلاس میں شرکت پر تنقید کرچکی ہیں، افتتاحی عمومی اجلاس میں شریک نہیں ہوئیں۔</p>
<p>ان کی ترجمان نے بتایا کہ وہ مونٹریال میں کینیڈا اور یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد تاخیر سے پہنچ رہی تھیں۔</p>
<p>جنوبی افریقہ کے وزیر بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، کیونکہ اس سال جی 20 کی گردشی صدارت رکھنے والے امریکا نے انہیں مدعو نہیں کیا تھا۔</p>
<p>روبیو کے سرکاری شیڈول میں جی 20 کی روایتی گروپ فوٹو کو شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ بعض یورپی عہدیداروں نے لاوروف کے ساتھ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک مغربی سفارت کار کے مطابق آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت ایک تہائی شرکا نے اس پر اعتراض کیا تھا۔</p>
<p>جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفول نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ گروپ فوٹو مکمل طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی شراکت داروں اور مسٹر لاوروف کی ایک ساتھ کسی صورت گروپ فوٹو نہیں بنے گی، کیونکہ جیسا کہ میں نے کل کہا تھا، روس کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں ہیں۔</p>
<p>امریکا نے اپنے اتحادیوں کی توجہ تجارتی عدم توازن پر مرکوز کرنے اور اہم معدنیات پر چین کے کنٹرول کے مقابلے کے لیے اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کی ہے، تاہم جنگیں اور ان کے معاشی اثرات جی 20 کے بیشتر ارکان کی اولین تشویش ہیں۔</p>
<p>روبیو نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ دنیا کو مختلف بحرانوں کا سامنا ہے جو عالمی توانائی اور خوراک کی فراہمی، تجارت اور آزادانہ جہاز رانی کے لیے خطرہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اپنی قوموں کی نمائندگی کرتے ہوئے باہمی تعاون کے ذریعے ابھرتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینی اور اپنے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا ہے، ہم جغرافیائی سیاسی استحکام کے فروغ اور وسیع تر معاشی خوشحالی کے ایجنڈے کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جس پر ہمارے رہنما غور کریں گے۔</p>
<p>جی 20 کے ارکان روس، چین اور برازیل و بھارت جیسی درمیانی طاقتیں امریکا اور چین کے درمیان تزویراتی مسابقت کے تناظر میں اپنی پوزیشن متعین کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اوباما انتظامیہ کے دور میں امریکی محکمہ خارجہ کی چیف اکانومسٹ رہنے والی ہیدی کریبو ریڈیکر نے کہا کہ اس وقت اختلافات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران جی 7 ممالک کم از کم جی 20 اجلاس میں شرکت سے پہلے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کر لیا کرتے تھے لیکن اب ایسی کوئی مشترکہ حکمت عملی بھی موجود نہیں۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ رواں سال وزارتی سطح کے چار اجلاسوں میں بعض امور پر اتفاق رائے حاصل ہوا ہے، تاہم 14 سے 16 دسمبر تک میامی میں ہونے والی رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس سے قبل مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>روبیو نے ’پیکس سلیکا‘ اقدام کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد نایاب ارضی عناصر اور دیگر اہم معدنیات پر چین کے غلبے کے حوالے سے تشویش رکھنے والے جی 20 ممالک کو متحد کرنا ہے۔</p>
<p>تاہم ماہرین کے مطابق اس معاملے پر پیشرفت کا امکان اجلاس کے بعد ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جی 20 کے وزرائے تجارت میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد بعض ارکان نے صنعتی اضافی پیداواری صلاحیت سے متعلق امریکا کی قیادت میں جاری کردہ بیان پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>واشنگٹن میں قائم فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کی ایلین ڈیزنسکی نے کہا کہ موجودہ حالات میں محدود ممالک کے گروپوں کی جانب سے ایسے بیانات پیش رفت کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا امریکا اس وقت اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون قائم کر سکتا ہے جب تمام ارکان کا اتفاق رائے حاصل کرنا ممکن نظر نہ آ رہا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل سکیورٹی اتحاد ’کواڈ‘ کا اجلاس بھی آنے والے دنوں میں اٹلانٹا میں ہوگا۔</p>
<p>روس سے متعلق امریکی اقدامات پر اختلافات</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے متعلق حالیہ فیصلے بھی اجلاس میں بحث پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ان میں روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ اور بعض پابندیوں میں چھوٹ دینا شامل ہے۔ یوکرین کو اپنی اسٹارشیلڈ سیٹلائٹ سروسز کے حوالے سے درپیش مسائل بھی زیر بحث آسکتے ہیں۔</p>
<p>ہیدی کریبو ریڈیکر نے کہا کہ اگر اس معاملے کو زیر بحث نہ بھی لایا گیا تو یہ ایک اہم اور نظرانداز نہ کیا جاسکنے والا مسئلہ رہے گا کہ امریکا، بالخصوص ٹرمپ، نے (روسی صدر) ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے اور یوکرین کے خلاف کھڑے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ وہ یوکرین کے لیے مزید حمایت پر زور دیں گی جبکہ خصوصی ٹریبونل اور کلیمز کمیشن کے ذریعے احتساب کے اقدامات پر پیش رفت کی بھی کوشش کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ روس کو جواب دہ ہونا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293304</guid>
      <pubDate>Sat, 31 Oct 2026 13:32:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/3112214456233e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/3112214456233e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
