<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 17:47:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 30 Oct 2026 17:47:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سعودی عرب کو تیل ذخیرہ کرنے کی ٹیکس فری سہولتیں فراہم کرنے کی پیشکش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293275/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پاکستان نے ٹیکس سے مستثنیٰ بانڈڈ پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سعودی کمپنیاں مقامی ٹیکس واجبات کے بغیر ملک میں تجارتی بنیادوں پر تیل کے ذخائر قائم کرسکیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر  ڈاکٹر راجح بن تامی البقامی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی جس میں کان کنی، پٹرولیم اور توانائی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام، ریفائنریوں کی استعداد میں بہتری، ایل پی جی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے سعودی سفیر کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے ٹیکس سے مستثنیٰ بانڈڈ پالیسی کی منظوری دے دی ہے جسے فجیرہ اور سنگاپور جیسے بین الاقوامی توانائی مراکز کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اس پالیسی کے تحت سعودی کمپنیاں پاکستان میں مقامی ٹیکس واجبات کے بغیر تجارتی بنیادوں پر تیل کے ذخائر قائم کرسکیں گی۔ اس سے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے وابستہ بحری نقل و حمل کے خطرات کو متنوع بنانے کے ساتھ ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں بھی سہولت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی اسٹریٹجک سہولتیں سعودی عرب کو تیل کی ترسیل کے راستوں کے انتظام اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے زیادہ لچک فراہم کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ٹیکنپ انرجیز یو کے کی رہنمائی میں بلوچستان کے علاقے حب میں پیٹرولیم ذخیرہ کرنے اور ریفائننگ کا ایک بڑا کمپلیکس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ کمپلیکس میں بہت بڑے خام تیل بردار جہازوں (ویری لارج کروڈ کیریئرز) کے لنگرانداز ہونے اور تیل کی ترسیل کی گنجائش ہوگی جس سے وسطی ایشیائی اور چینی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے والے علاقائی توانائی راہداری کے طور پر پاکستان کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے پاکستان کے جاری ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی اجاگر کیا جس کا مقصد ملکی ریفائننگ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا اور یورو 5 ایندھن کے معیار کی جانب منتقلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام سعودی سرمایہ کاری اور پاکستان کے ریفائننگ شعبے میں شراکت داری کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سعودی آرامکو کے ساتھ رابطوں اور اشتراک پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ خام تیل کی مزید کھیپوں اور ایل پی جی کی مخصوص ترسیل کے حصول کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی سفیر نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے ویزا درخواستوں پر اسی روز کارروائی کا نظام متعارف کرادیا ہے جس کا مقصد سفر میں آسانی پیدا کرنے اور کاروباری، ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے سعودی عرب کے نائب وزیر برائے کان کنی خالد المدیفر کو 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پاکستان نے ٹیکس سے مستثنیٰ بانڈڈ پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سعودی کمپنیاں مقامی ٹیکس واجبات کے بغیر ملک میں تجارتی بنیادوں پر تیل کے ذخائر قائم کرسکیں گی۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر  ڈاکٹر راجح بن تامی البقامی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی جس میں کان کنی، پٹرولیم اور توانائی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام، ریفائنریوں کی استعداد میں بہتری، ایل پی جی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے سعودی سفیر کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے ٹیکس سے مستثنیٰ بانڈڈ پالیسی کی منظوری دے دی ہے جسے فجیرہ اور سنگاپور جیسے بین الاقوامی توانائی مراکز کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق اس پالیسی کے تحت سعودی کمپنیاں پاکستان میں مقامی ٹیکس واجبات کے بغیر تجارتی بنیادوں پر تیل کے ذخائر قائم کرسکیں گی۔ اس سے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے وابستہ بحری نقل و حمل کے خطرات کو متنوع بنانے کے ساتھ ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں بھی سہولت ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی اسٹریٹجک سہولتیں سعودی عرب کو تیل کی ترسیل کے راستوں کے انتظام اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے زیادہ لچک فراہم کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ٹیکنپ انرجیز یو کے کی رہنمائی میں بلوچستان کے علاقے حب میں پیٹرولیم ذخیرہ کرنے اور ریفائننگ کا ایک بڑا کمپلیکس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>مجوزہ کمپلیکس میں بہت بڑے خام تیل بردار جہازوں (ویری لارج کروڈ کیریئرز) کے لنگرانداز ہونے اور تیل کی ترسیل کی گنجائش ہوگی جس سے وسطی ایشیائی اور چینی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے والے علاقائی توانائی راہداری کے طور پر پاکستان کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے پاکستان کے جاری ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی اجاگر کیا جس کا مقصد ملکی ریفائننگ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا اور یورو 5 ایندھن کے معیار کی جانب منتقلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام سعودی سرمایہ کاری اور پاکستان کے ریفائننگ شعبے میں شراکت داری کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے سعودی آرامکو کے ساتھ رابطوں اور اشتراک پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ خام تیل کی مزید کھیپوں اور ایل پی جی کی مخصوص ترسیل کے حصول کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنا ہے۔</p>
<p>سعودی سفیر نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے ویزا درخواستوں پر اسی روز کارروائی کا نظام متعارف کرادیا ہے جس کا مقصد سفر میں آسانی پیدا کرنے اور کاروباری، ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے سعودی عرب کے نائب وزیر برائے کان کنی خالد المدیفر کو 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293275</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 14:47:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/301441397f9b0c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1476">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/301441397f9b0c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
