<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 15:58:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 30 Oct 2026 15:58:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اڈلفائی کا آئندہ ماہ پی ایس ایکس میں آئی پی او لانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293273/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی ڈیجیٹل قرضہ فراہم کرنے والا پلیٹ فارم اور ٹیک لاجکس کا ذیلی ادارہ اڈلفائی (AdalFi) آئندہ ماہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) لانے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کا مقصد اسلامی اور چھوٹے کاروبار کیلئے قرضوں کی خدمات کو وسعت دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے حصص جاری کرکے 65 کروڑ 20 لاکھ روپے (2.35 ملین ڈالر) تک سرمایہ جمع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اڈلفائی ڈیجیٹل فنانسنگ کے شعبے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ کمپنی کا مقصد ڈیٹا اور اے آئی کی مدد سے قرضوں کی فراہمی سے متعلق فیصلے کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں کیلئے قرضوں تک یکساں رسائی ممکن بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنی کاروبار سے کاروبار اور پھر صارفین تک (B2B2C) خدمات فراہم کرنے والی ایک مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک) کمپنی ہے جو اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکوں کے پاس پہلے سے موجود مالی لین دین کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے صارفین کی قرض حاصل کرنے کی اہلیت کا تعین کرتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم اہل صارفین تک ان کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ فوری قرضے بھی مہیا کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ بینکوں کے قرضوں کے پورٹ فولیو کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے قرض لینے والوں کی اہلیت جانچنے کا ایک سخت اور جامع نظام بھی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2023 میں اڈلفائی نے 75 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ اس سرمایہ کاری کے مرحلے کی قیادت متحدہ عرب امارات میں قائم کوٹو وینچرز اور چیمیرا وینچرز، پاکستان کی فاطمہ گو بی وینچرز اور زین کیپٹل کے علاوہ انفرادی سرمایہ کاروں نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فن ٹیک کمپنی پاکستان میں قرضوں تک محدود رسائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے جہاں صرف 30 فیصد بالغ افراد کو باضابطہ بینکاری خدمات تک رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں سال 2026 کے دوران ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کی مارکیٹ میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی ہے جس سے مارکیٹ میں سرگرمیوں اور حصص کی فہرست میں شمولیت کے بعد ان کی کارکردگی میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ اس عرصے کے دوران آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان نے مارکیٹ کو تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ نے 7.77 ارب روپے جمع کیے جو پی ایس ایکس کی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او ہے۔ کمپنی کے حصص کی بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے مقررہ حصص کی مکمل طلب صرف 5 سیکنڈ میں حاصل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غنی ڈیریز لمیٹڈ نے 3.44 ارب روپے جمع کیے اور پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہونے والا پہلا کارپوریٹ ڈیری فارم بن گیا۔ سلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے بھی 2.489 ارب روپے جمع کرنے کے لیے آئی پی او لانے کا منصوبہ ظاہر کیا جس کے تحت بک بلڈنگ جون 2026 اور عوامی سبسکرپشن جولائی 2026 میں شیڈول تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی او مارکیٹ میں اس مضبوط پیش رفت کی بنیادی وجوہات میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت معاشی استحکام میں بہتری، سرمایہ کاروں کا مثبت رجحان، مارکیٹ میں وافر نقدی، شرح سود میں کمی اور سیاسی استحکام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی ڈیجیٹل قرضہ فراہم کرنے والا پلیٹ فارم اور ٹیک لاجکس کا ذیلی ادارہ اڈلفائی (AdalFi) آئندہ ماہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) لانے کا منصوبہ رکھتا ہے جس کا مقصد اسلامی اور چھوٹے کاروبار کیلئے قرضوں کی خدمات کو وسعت دینا ہے۔</strong></p>
<p>بلومبرگ کے مطابق کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے حصص جاری کرکے 65 کروڑ 20 لاکھ روپے (2.35 ملین ڈالر) تک سرمایہ جمع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔</p>
<p>اڈلفائی ڈیجیٹل فنانسنگ کے شعبے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ کمپنی کا مقصد ڈیٹا اور اے آئی کی مدد سے قرضوں کی فراہمی سے متعلق فیصلے کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں کیلئے قرضوں تک یکساں رسائی ممکن بنانا ہے۔</p>
<p>یہ کمپنی کاروبار سے کاروبار اور پھر صارفین تک (B2B2C) خدمات فراہم کرنے والی ایک مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک) کمپنی ہے جو اپنی تیار کردہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکوں کے پاس پہلے سے موجود مالی لین دین کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے صارفین کی قرض حاصل کرنے کی اہلیت کا تعین کرتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم اہل صارفین تک ان کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ فوری قرضے بھی مہیا کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ بینکوں کے قرضوں کے پورٹ فولیو کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے قرض لینے والوں کی اہلیت جانچنے کا ایک سخت اور جامع نظام بھی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>فروری 2023 میں اڈلفائی نے 75 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ اس سرمایہ کاری کے مرحلے کی قیادت متحدہ عرب امارات میں قائم کوٹو وینچرز اور چیمیرا وینچرز، پاکستان کی فاطمہ گو بی وینچرز اور زین کیپٹل کے علاوہ انفرادی سرمایہ کاروں نے کی تھی۔</p>
<p>یہ فن ٹیک کمپنی پاکستان میں قرضوں تک محدود رسائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے جہاں صرف 30 فیصد بالغ افراد کو باضابطہ بینکاری خدمات تک رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں سال 2026 کے دوران ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کی مارکیٹ میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی ہے جس سے مارکیٹ میں سرگرمیوں اور حصص کی فہرست میں شمولیت کے بعد ان کی کارکردگی میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ اس عرصے کے دوران آئی پی اوز کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان نے مارکیٹ کو تقویت دی ہے۔</p>
<p>سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ نے 7.77 ارب روپے جمع کیے جو پی ایس ایکس کی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او ہے۔ کمپنی کے حصص کی بک بلڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے مقررہ حصص کی مکمل طلب صرف 5 سیکنڈ میں حاصل ہوگئی۔</p>
<p>غنی ڈیریز لمیٹڈ نے 3.44 ارب روپے جمع کیے اور پاکستان کا اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہونے والا پہلا کارپوریٹ ڈیری فارم بن گیا۔ سلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے بھی 2.489 ارب روپے جمع کرنے کے لیے آئی پی او لانے کا منصوبہ ظاہر کیا جس کے تحت بک بلڈنگ جون 2026 اور عوامی سبسکرپشن جولائی 2026 میں شیڈول تھی۔</p>
<p>آئی پی او مارکیٹ میں اس مضبوط پیش رفت کی بنیادی وجوہات میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت معاشی استحکام میں بہتری، سرمایہ کاروں کا مثبت رجحان، مارکیٹ میں وافر نقدی، شرح سود میں کمی اور سیاسی استحکام شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293273</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:55:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/30133637ddfa8d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="383" width="477">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/30133637ddfa8d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
