<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 18:04:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 30 Oct 2026 18:04:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیان کی خصوصی ایلچی کی میانمار کے وزیر خارجہ سے ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293272/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کی میانمار کے لیے خصوصی ایلچی نے اپنے دورہ میانمار کے دوران وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جس میں ملک میں جاری خانہ جنگی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیانات کے مطابق فلپائن کی وزیر خارجہ اور میانمار کے لیے آسیان کی خصوصی ایلچی ماریا ٹریسا لازارو نے جمعرات کو دارالحکومت نیپیداو میں اپنے میانمار کے ہم منصب ٹن ماؤنگ سوے سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ حکومت آسیان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتی ہے۔ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد تنازع کم کرنے میں ناکامی پر میانمار کی قیادت کو تنظیم کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار نے جمعے کو بتایا کہ لازارو نے آسیان میں میانمار کا سابقہ کردار اور حقوق بحال کرنے کے طریقوں پر بات کی۔ تاہم، لازارو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس موضوع پر گفتگو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میانمار کی حکومت نے اگست میں کہا تھا کہ اب آسیان کے خصوصی ایلچی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار بدامنی کا شکار ہے، جہاں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اندازاً ایک لاکھ افراد ہلاک اور 35 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کی میانمار کے لیے خصوصی ایلچی نے اپنے دورہ میانمار کے دوران وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جس میں ملک میں جاری خانہ جنگی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</strong></p>
<p>سرکاری بیانات کے مطابق فلپائن کی وزیر خارجہ اور میانمار کے لیے آسیان کی خصوصی ایلچی ماریا ٹریسا لازارو نے جمعرات کو دارالحکومت نیپیداو میں اپنے میانمار کے ہم منصب ٹن ماؤنگ سوے سے ملاقات کی۔</p>
<p>میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ حکومت آسیان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتی ہے۔ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد تنازع کم کرنے میں ناکامی پر میانمار کی قیادت کو تنظیم کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔</p>
<p>سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار نے جمعے کو بتایا کہ لازارو نے آسیان میں میانمار کا سابقہ کردار اور حقوق بحال کرنے کے طریقوں پر بات کی۔ تاہم، لازارو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس موضوع پر گفتگو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔</p>
<p>میانمار کی حکومت نے اگست میں کہا تھا کہ اب آسیان کے خصوصی ایلچی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔</p>
<p>2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار بدامنی کا شکار ہے، جہاں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اندازاً ایک لاکھ افراد ہلاک اور 35 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293272</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:55:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/30135410f31abdd.webp" type="image/webp" medium="image" height="712" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/30135410f31abdd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
