<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 12:49:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 30 Oct 2026 12:49:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 200 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293260/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی چند منٹوں میں 200 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 9 بجکر 50 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 236.26 پوائنٹس یا 0.14 فیصد کمی سے 166,957.17 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ حبکو، ماری، پی پی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی منفی زون میں کاروبار کرتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے ملک میں توانائی اور غذائی اشیا کی بلند قیمتوں اور عالمی رجحانات کے پیش نظر اکتوبر 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی کا رجحان برقرار رہا، مشرق وسطیٰ میں ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے امیدواری نے خریداری کو تقویت دی، تاہم ایران کے ایک عہدیدار کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کے مجوزہ معاہدے کو مبینہ طور پر مسترد کیے جانے کے بعد غیر یقینی صورتحال بھی برقرار رہی۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,456.68 پوائنٹس یا 0.88 فیصد اضافے سے 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، ین کی قدر میں اضافہ ہوا جبکہ بانڈز کی قیمتیں تقریباً تین سال کے دوران اپنی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری کی جانب گامزن رہیں۔ سرمایہ کاروں نے اس خدشے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کا رخ کیا کہ اے آئی پر بھاری اور مسلسل بڑھتے اخراجات سے متوقع منافع حاصل نہیں ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے حصص وال اسٹریٹ میں 12.6 فیصد گر گئے اور بعد از کاروباری اوقات میں مزید کمی ہوئی جس سے کمپنی کی مارکیٹ مالیت میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ اے آئی پر بھاری اخراجات کے باعث کمپنی کا کیش فلو منفی ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اوقات کے بعد انٹیل کے حصص میں 23 فیصد کی شدید گراوٹ اور ایمیزون کے حصص میں 7 فیصد کمی نے نیسڈیک 100 فیوچرز کو 1.4 فیصد نیچے دھکیل دیا جبکہ ایشیا بھر میں چپ ساز کمپنیوں کے حصص بھی شدید دباؤ کا شکار ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر ممکنہ طور پر تاریخ کے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کی اطلاعات نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھا دی۔ اس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں کے ساتھ حریف ایکسچینج کوائن بیس کے حصص بھی گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 5 فیصد گرگیا جس کے نتیجے میں اکتوبر کے دوران اس کی مجموعی کمی 17 فیصد سے تجاوز کرگئی۔ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 3 فیصد نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں بلیو چپ سی ایس آئی 300 انڈیکس ایک دہائی کی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ کی جانب گامزن رہا۔ اس کی وجہ اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تقریباً چار ماہ سے جاری مندی ہے جس کے پیچھے یہ خدشات کارفرما ہیں کہ چپس اور ڈیٹا سینٹرز کے دیگر آلات کی طلب میں سست روی سے کمپنیوں کی آمدنی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی چند منٹوں میں 200 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔</strong></p>
<p>صبح 9 بجکر 50 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 236.26 پوائنٹس یا 0.14 فیصد کمی سے 166,957.17 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ حبکو، ماری، پی پی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی منفی زون میں کاروبار کرتے دکھائی دیے۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے ملک میں توانائی اور غذائی اشیا کی بلند قیمتوں اور عالمی رجحانات کے پیش نظر اکتوبر 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بحالی کا رجحان برقرار رہا، مشرق وسطیٰ میں ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے امیدواری نے خریداری کو تقویت دی، تاہم ایران کے ایک عہدیدار کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کے مجوزہ معاہدے کو مبینہ طور پر مسترد کیے جانے کے بعد غیر یقینی صورتحال بھی برقرار رہی۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 1,456.68 پوائنٹس یا 0.88 فیصد اضافے سے 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، ین کی قدر میں اضافہ ہوا جبکہ بانڈز کی قیمتیں تقریباً تین سال کے دوران اپنی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری کی جانب گامزن رہیں۔ سرمایہ کاروں نے اس خدشے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کا رخ کیا کہ اے آئی پر بھاری اور مسلسل بڑھتے اخراجات سے متوقع منافع حاصل نہیں ہو سکے گا۔</p>
<p>گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے حصص وال اسٹریٹ میں 12.6 فیصد گر گئے اور بعد از کاروباری اوقات میں مزید کمی ہوئی جس سے کمپنی کی مارکیٹ مالیت میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ اے آئی پر بھاری اخراجات کے باعث کمپنی کا کیش فلو منفی ہوگیا۔</p>
<p>کاروباری اوقات کے بعد انٹیل کے حصص میں 23 فیصد کی شدید گراوٹ اور ایمیزون کے حصص میں 7 فیصد کمی نے نیسڈیک 100 فیوچرز کو 1.4 فیصد نیچے دھکیل دیا جبکہ ایشیا بھر میں چپ ساز کمپنیوں کے حصص بھی شدید دباؤ کا شکار ہوگئے۔</p>
<p>دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر ممکنہ طور پر تاریخ کے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کی اطلاعات نے بھی سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھا دی۔ اس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں کے ساتھ حریف ایکسچینج کوائن بیس کے حصص بھی گر گئے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 5 فیصد گرگیا جس کے نتیجے میں اکتوبر کے دوران اس کی مجموعی کمی 17 فیصد سے تجاوز کرگئی۔ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 3 فیصد نیچے آگیا۔</p>
<p>چین میں بلیو چپ سی ایس آئی 300 انڈیکس ایک دہائی کی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ کی جانب گامزن رہا۔ اس کی وجہ اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تقریباً چار ماہ سے جاری مندی ہے جس کے پیچھے یہ خدشات کارفرما ہیں کہ چپس اور ڈیٹا سینٹرز کے دیگر آلات کی طلب میں سست روی سے کمپنیوں کی آمدنی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293260</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Oct 2026 11:37:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/30110154c5eb38a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/30110154c5eb38a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
