<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 29 Oct 2026 22:40:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 29 Oct 2026 22:40:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ مستعفی، یورپ کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293246/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے جمعرات کے روز مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کے مستقبل سے متعلق کئی ماہ سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ کو معاشی بے یقینی میں اضافے اور سیاسی تقسیم کا باعث بننے والے انتخابی ماحول کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹین لیگارڈ 7 فروری کو عہدہ چھوڑ دیں گی، جس سے یورپی یونین کے موجودہ رہنماؤں کو فرانسیسی صدارتی انتخابات سے کافی پہلے ان کے جانشین کے انتخاب کا وقت مل جائے گا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لے پین کو انتخابات میں برتری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ای سی بی ایران سے پیدا ہونے والے تیل کے بحران کے باعث مہنگائی کے خطرات سے نمٹ رہا ہے، جبکہ بانڈز پر منافع کی شرح میں تیز اضافے، بالخصوص فرانس میں، معاشی نمو متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹین لیگارڈ نے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں کہا، ’’میں اس ادارے کو یہ اطمینان لے کر چھوڑ رہی ہوں کہ میں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا ہے اور ای سی بی مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے براہِ راست آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ کرسٹین لیگارڈ نے استعفیٰ اس لیے دیا ہے تاکہ وہ اپنے آبائی ملک فرانس اور عالمی سطح پر سیاسی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔ ای سی بی کی صدر کی حیثیت سے ان سے توقع تھی کہ وہ ادارے کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے غیر جانب دار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرسٹین لیگارڈ کے جانشین کی تلاش کا عمل فوری طور پر شروع کردیا جائے گا۔ نیدرلینڈز اور اسپین کے مرکزی بینکوں کے سابق گورنرز کلاز ناٹ اور پابلو ہرنانڈیز دے کوس کو اس عہدے کے لیے نمایاں امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ڈانسکے بینک کے ماہرِ معاشیات پیٹ ہینز کرسٹینسن نے کہا، ’’جانشین کے طور پر جن دو ناموں کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، وہ دونوں انتہائی قابل اور مستحکم ساکھ کے حامل مرکزی بینکرز ہیں، اس لیے منڈیوں پر اس تبدیلی کے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان کے بعد مالیاتی منڈیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ ای سی بی اب تک ایسی ساکھ قائم کرچکا ہے جو اس کے سربراہوں کی مدتِ عہدہ سے آگے برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس میں فکسڈ انکم میکرو انویسٹنگ کے سربراہ سائمن ڈانگور نے کہا، ’’ای سی بی اب ایک مستحکم ادارہ بن چکا ہے اور منڈی اس کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے واقف ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ادارے کا طرزِ عمل کرسٹین لیگارڈ کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان ہے اور ان کی جگہ کوئی بھی آئے، اس میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹین لیگارڈ کی مدتِ عہدہ اکتوبر 2027 کے اختتام تک مقرر تھی، تاہم ان کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق قیاس آرائیاں کئی ماہ سے زور پکڑ رہی تھیں۔ عالمی اقتصادی فورم کو ان کی ممکنہ اگلی منزل قرار دیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شرحِ سود میں اضافہ اور بانڈز کی منڈی میں بے چینی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی بی اس وقت شرحِ سود میں اضافے کے ایک سلسلے پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد ایران جنگ سے منسلک تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کو دیگر اشیا کی قیمتوں اور اجرتوں تک پھیلنے سے روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسے سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح میں تیزی سے اضافے کا سامنا بھی ہے، خصوصاً قرضوں کے بوجھ تلے دبے فرانس میں۔ اس اضافے کے باعث گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے قرض لینا مہنگا ہوگیا ہے۔ کرسٹین لیگارڈ کہہ چکی ہیں کہ اس صورتِ حال سے معاشی نمو اور مہنگائی دونوں کی رفتار متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی لاگت میں تازہ اضافے سے مہنگائی مسلسل بلند رہنے اور مالیاتی حالات مزید سخت ہونے کے درمیان ای سی بی سے بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جمعرات کے روز اپنی ڈپازٹ شرحِ سود 2.5 فیصد پر برقرار رکھے گا، تاہم اس اشارے کے ساتھ کہ شرح میں ایک اور اضافہ، ممکنہ طور پر دسمبر میں، اب بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;آکسفورڈ اکنامکس کے اولیور ریکاؤ نے کہا، ’’دسمبر میں شرحِ سود میں ایک اور اضافے کی راہ میں رکاوٹ زیادہ ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث ای سی بی کی جانب سے مہنگائی کی پیش گوئی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی بی جمعرات کے روز گرینچ معیاری وقت کے مطابق 13:15 بجے شرحِ سود سے متعلق فیصلہ سنائے گا، جس کے بعد 13:45 بجے کرسٹین لیگارڈ معمول کی پریس کانفرنس کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیاں فی الحال توقع کر رہی ہیں کہ ای سی بی آئندہ سال کے اختتام تک شرحِ سود میں مزید تین اضافے کرے گا، جس سے ڈپازٹ شرحِ سود بڑھ کر 3.25 فیصد ہوجائے گی۔ اس سطح کو بڑے پیمانے پر معاشی نمو محدود کرنے والی شرح سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس میں مالیاتی بے چینی پر توجہ، تاہم فوری اقدام کا امکان نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کے لیے زیادہ فوری چیلنج بانڈز کی منڈی میں بڑھتی ہوئی بے چینی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجوہ میں معاشی نمو کے بہتر امکانات، قرضوں کے اجرا میں اضافہ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شامل ہیں۔ اس صورتِ حال سے حکومتوں، گھرانوں اور کاروباری اداروں، سب کے لیے قرض لینا مہنگا ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں رواں سال کے انتخابات کے بعد سرمایہ کار ملک پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ اور مالیاتی پالیسی کے غیر یقینی مستقبل کے حوالے سے زیادہ فکرمند ہوگئے ہیں۔ سیاسی بائیں بازو کے بعض حلقوں کی جانب سے ای سی بی کے پاس موجود قرضوں کو منسوخ کرنے کی تجاویز نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں فرانس کے لیے قرض لینے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فرانس اب بانڈز کی منڈی سے رقوم حاصل کرنے کے لیے گزشتہ 25 برس کے بلند ترین منافع کی شرحوں میں سے بعض ادا کر رہا ہے، جبکہ جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی قرض پر سرمایہ کار جو اضافی منافع طلب کرتے ہیں، وہ یورو زون کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ ای سی بی کو مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے، خواہ فی الحال یہ مداخلت صرف زبانی بیانات تک محدود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس کے سائمن ڈانگور نے کہا، ’’ای سی بی عموماً ایسے حالات کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کراتا رہا ہے جو ان مخصوص حالات کے مطابق تیار کیا گیا ہو۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی بی کا پہلا دفاعی قدم غالباً گزشتہ دہائی میں بڑے پیمانے پر اثاثے خریدنے کے پروگراموں کے تحت حاصل کیے گئے بانڈز سے ملنے والی رقوم کو لچکدار انداز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ای سی بی اپنے اس آلے کو فعال کرسکتا ہے جسے اب تک کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ اسے ٹرانسمیشن پروٹیکشن انسٹرومنٹ کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد ایسے بازاری دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے جسے پالیسی ساز غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے جمعرات کے روز مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کے مستقبل سے متعلق کئی ماہ سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپ کو معاشی بے یقینی میں اضافے اور سیاسی تقسیم کا باعث بننے والے انتخابی ماحول کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>کرسٹین لیگارڈ 7 فروری کو عہدہ چھوڑ دیں گی، جس سے یورپی یونین کے موجودہ رہنماؤں کو فرانسیسی صدارتی انتخابات سے کافی پہلے ان کے جانشین کے انتخاب کا وقت مل جائے گا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میرین لے پین کو انتخابات میں برتری حاصل ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ای سی بی ایران سے پیدا ہونے والے تیل کے بحران کے باعث مہنگائی کے خطرات سے نمٹ رہا ہے، جبکہ بانڈز پر منافع کی شرح میں تیز اضافے، بالخصوص فرانس میں، معاشی نمو متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>کرسٹین لیگارڈ نے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں کہا، ’’میں اس ادارے کو یہ اطمینان لے کر چھوڑ رہی ہوں کہ میں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا ہے اور ای سی بی مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘‘</p>
<p>معاملے سے براہِ راست آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ کرسٹین لیگارڈ نے استعفیٰ اس لیے دیا ہے تاکہ وہ اپنے آبائی ملک فرانس اور عالمی سطح پر سیاسی معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔ ای سی بی کی صدر کی حیثیت سے ان سے توقع تھی کہ وہ ادارے کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے غیر جانب دار رہیں گی۔</p>
<p>یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرسٹین لیگارڈ کے جانشین کی تلاش کا عمل فوری طور پر شروع کردیا جائے گا۔ نیدرلینڈز اور اسپین کے مرکزی بینکوں کے سابق گورنرز کلاز ناٹ اور پابلو ہرنانڈیز دے کوس کو اس عہدے کے لیے نمایاں امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p><br>ڈانسکے بینک کے ماہرِ معاشیات پیٹ ہینز کرسٹینسن نے کہا، ’’جانشین کے طور پر جن دو ناموں کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، وہ دونوں انتہائی قابل اور مستحکم ساکھ کے حامل مرکزی بینکرز ہیں، اس لیے منڈیوں پر اس تبدیلی کے زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔‘‘</p>
<p>اعلان کے بعد مالیاتی منڈیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں دیکھا گیا۔ بعض تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ ای سی بی اب تک ایسی ساکھ قائم کرچکا ہے جو اس کے سربراہوں کی مدتِ عہدہ سے آگے برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس میں فکسڈ انکم میکرو انویسٹنگ کے سربراہ سائمن ڈانگور نے کہا، ’’ای سی بی اب ایک مستحکم ادارہ بن چکا ہے اور منڈی اس کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے واقف ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ادارے کا طرزِ عمل کرسٹین لیگارڈ کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان ہے اور ان کی جگہ کوئی بھی آئے، اس میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔‘‘</p>
<p>کرسٹین لیگارڈ کی مدتِ عہدہ اکتوبر 2027 کے اختتام تک مقرر تھی، تاہم ان کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق قیاس آرائیاں کئی ماہ سے زور پکڑ رہی تھیں۔ عالمی اقتصادی فورم کو ان کی ممکنہ اگلی منزل قرار دیا جا رہا تھا۔</p>
<p><strong>شرحِ سود میں اضافہ اور بانڈز کی منڈی میں بے چینی</strong></p>
<p>ای سی بی اس وقت شرحِ سود میں اضافے کے ایک سلسلے پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد ایران جنگ سے منسلک تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کو دیگر اشیا کی قیمتوں اور اجرتوں تک پھیلنے سے روکنا ہے۔</p>
<p>تاہم اسے سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح میں تیزی سے اضافے کا سامنا بھی ہے، خصوصاً قرضوں کے بوجھ تلے دبے فرانس میں۔ اس اضافے کے باعث گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے قرض لینا مہنگا ہوگیا ہے۔ کرسٹین لیگارڈ کہہ چکی ہیں کہ اس صورتِ حال سے معاشی نمو اور مہنگائی دونوں کی رفتار متاثر ہوگی۔</p>
<p>توانائی کی لاگت میں تازہ اضافے سے مہنگائی مسلسل بلند رہنے اور مالیاتی حالات مزید سخت ہونے کے درمیان ای سی بی سے بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جمعرات کے روز اپنی ڈپازٹ شرحِ سود 2.5 فیصد پر برقرار رکھے گا، تاہم اس اشارے کے ساتھ کہ شرح میں ایک اور اضافہ، ممکنہ طور پر دسمبر میں، اب بھی متوقع ہے۔</p>
<p><br>آکسفورڈ اکنامکس کے اولیور ریکاؤ نے کہا، ’’دسمبر میں شرحِ سود میں ایک اور اضافے کی راہ میں رکاوٹ زیادہ ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث ای سی بی کی جانب سے مہنگائی کی پیش گوئی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔‘‘</p>
<p>ای سی بی جمعرات کے روز گرینچ معیاری وقت کے مطابق 13:15 بجے شرحِ سود سے متعلق فیصلہ سنائے گا، جس کے بعد 13:45 بجے کرسٹین لیگارڈ معمول کی پریس کانفرنس کریں گی۔</p>
<p>مالیاتی منڈیاں فی الحال توقع کر رہی ہیں کہ ای سی بی آئندہ سال کے اختتام تک شرحِ سود میں مزید تین اضافے کرے گا، جس سے ڈپازٹ شرحِ سود بڑھ کر 3.25 فیصد ہوجائے گی۔ اس سطح کو بڑے پیمانے پر معاشی نمو محدود کرنے والی شرح سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p><strong>فرانس میں مالیاتی بے چینی پر توجہ، تاہم فوری اقدام کا امکان نہیں</strong></p>
<p>پالیسی سازوں کے لیے زیادہ فوری چیلنج بانڈز کی منڈی میں بڑھتی ہوئی بے چینی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بانڈز پر منافع کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجوہ میں معاشی نمو کے بہتر امکانات، قرضوں کے اجرا میں اضافہ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شامل ہیں۔ اس صورتِ حال سے حکومتوں، گھرانوں اور کاروباری اداروں، سب کے لیے قرض لینا مہنگا ہورہا ہے۔</p>
<p>فرانس میں رواں سال کے انتخابات کے بعد سرمایہ کار ملک پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ اور مالیاتی پالیسی کے غیر یقینی مستقبل کے حوالے سے زیادہ فکرمند ہوگئے ہیں۔ سیاسی بائیں بازو کے بعض حلقوں کی جانب سے ای سی بی کے پاس موجود قرضوں کو منسوخ کرنے کی تجاویز نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں فرانس کے لیے قرض لینے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فرانس اب بانڈز کی منڈی سے رقوم حاصل کرنے کے لیے گزشتہ 25 برس کے بلند ترین منافع کی شرحوں میں سے بعض ادا کر رہا ہے، جبکہ جرمن بانڈز کے مقابلے میں فرانسیسی قرض پر سرمایہ کار جو اضافی منافع طلب کرتے ہیں، وہ یورو زون کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔</p>
<p>اس صورتِ حال نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ ای سی بی کو مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے، خواہ فی الحال یہ مداخلت صرف زبانی بیانات تک محدود رہے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس کے سائمن ڈانگور نے کہا، ’’ای سی بی عموماً ایسے حالات کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کراتا رہا ہے جو ان مخصوص حالات کے مطابق تیار کیا گیا ہو۔‘‘</p>
<p>ای سی بی کا پہلا دفاعی قدم غالباً گزشتہ دہائی میں بڑے پیمانے پر اثاثے خریدنے کے پروگراموں کے تحت حاصل کیے گئے بانڈز سے ملنے والی رقوم کو لچکدار انداز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔</p>
<p>اس کے بعد ای سی بی اپنے اس آلے کو فعال کرسکتا ہے جسے اب تک کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ اسے ٹرانسمیشن پروٹیکشن انسٹرومنٹ کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد ایسے بازاری دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے جسے پالیسی ساز غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293246</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Oct 2026 21:20:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/29211404060f8f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/29211404060f8f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
