<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 29 Oct 2026 18:16:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 29 Oct 2026 18:16:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کیلئے فضائی حدود دوبارہ کھول دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40293237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کے اجازت نامے دوبارہ جاری کردیے۔ مختصر مدت کے لیے رسائی معطل کیے جانے کے بعد، ایوا ایئر کی پرواز پابندیوں کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والا پہلا تائیوانی تجارتی طیارہ بن گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق تائی پے سے ویانا جانے والی ایوا ایئر کی پرواز نمبر 65 جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے تین بجے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔ عالمی مالیاتی خبر رساں ادارے نے یہ اطلاع فلائٹ ریڈار 24 کے پروازوں کی نگرانی سے متعلق ڈیٹا کے حوالے سے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو اجازت ناموں کی تجدید کی جو 27 مارچ تک مؤثر رہیں گے۔ یہ بات بلومبرگ کے دیکھے گئے دستاویزات میں سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ کے مطابق، ایوا ایئر اور چائنا ایئرلائنز کی یورپ جانے والی دیگر پروازیں، جو بدھ کی رات گئے اور جمعرات کی صبح روانہ ہوئیں، پاکستانی فضائی حدود سے گریز کرتی رہیں اور روس کے اوپر سے گزرنے یا بھارت کے راستے سفر کرنے کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ہفتے کے اختتام پر تائیوان کی مسافر اور مال بردار پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ یہ اقدام بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں اسلام آباد کے مؤقف سے منسلک تھا۔ پابندیوں کے باعث ایئرلائنز کو اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑے جن میں روسی فضائی حدود سے گزرنے والے راستے بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس سے قبل بلومبرگ کو بتایا تھا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے صرف سرزمین چین کی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان کی وزارت خارجہ نے بدھ کو اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد نے بیجنگ کا مؤقف اختیار کیا اور فضائی حدود تک رسائی کو دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے جمعرات کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تائی پے کو شبہ ہے کہ اس اقدام کے پیچھے چین کا ہاتھ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان جزیرے پر چین کے حقِ خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوا ایئر نے تبصرے سے گریز کیا جبکہ چائنا ایئرلائنز نے بلومبرگ کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کے اجازت نامے دوبارہ جاری کردیے۔ مختصر مدت کے لیے رسائی معطل کیے جانے کے بعد، ایوا ایئر کی پرواز پابندیوں کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والا پہلا تائیوانی تجارتی طیارہ بن گئی۔</strong></p>
<p>بلومبرگ کے مطابق تائی پے سے ویانا جانے والی ایوا ایئر کی پرواز نمبر 65 جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے تین بجے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔ عالمی مالیاتی خبر رساں ادارے نے یہ اطلاع فلائٹ ریڈار 24 کے پروازوں کی نگرانی سے متعلق ڈیٹا کے حوالے سے دی۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو اجازت ناموں کی تجدید کی جو 27 مارچ تک مؤثر رہیں گے۔ یہ بات بلومبرگ کے دیکھے گئے دستاویزات میں سامنے آئی ہے۔</p>
<p>تاہم رپورٹ کے مطابق، ایوا ایئر اور چائنا ایئرلائنز کی یورپ جانے والی دیگر پروازیں، جو بدھ کی رات گئے اور جمعرات کی صبح روانہ ہوئیں، پاکستانی فضائی حدود سے گریز کرتی رہیں اور روس کے اوپر سے گزرنے یا بھارت کے راستے سفر کرنے کو ترجیح دی۔</p>
<p>پاکستان نے ہفتے کے اختتام پر تائیوان کی مسافر اور مال بردار پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ یہ اقدام بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں اسلام آباد کے مؤقف سے منسلک تھا۔ پابندیوں کے باعث ایئرلائنز کو اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا پڑے جن میں روسی فضائی حدود سے گزرنے والے راستے بھی شامل تھے۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس سے قبل بلومبرگ کو بتایا تھا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے صرف سرزمین چین کی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>تائیوان کی وزارت خارجہ نے بدھ کو اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد نے بیجنگ کا مؤقف اختیار کیا اور فضائی حدود تک رسائی کو دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کیا۔</p>
<p>تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے جمعرات کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تائی پے کو شبہ ہے کہ اس اقدام کے پیچھے چین کا ہاتھ تھا۔</p>
<p>چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان جزیرے پر چین کے حقِ خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>ایوا ایئر نے تبصرے سے گریز کیا جبکہ چائنا ایئرلائنز نے بلومبرگ کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40293237</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Oct 2026 15:23:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/10/29152158a278fcc.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/10/29152158a278fcc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
